Hijaab Apr-17

ادھوری سوچ

ماورا طلحہ

وہ پاگلوں کی طرح کوریڈور میں بھاگ رہی تھی‘ حتیٰ کہ دو تین کلاس کی لڑکیاں بھی پوچھ چکی تھیں کہ اسے کیا مسئلہ ہے۔ اس کی شکل پر بجنے والے بارہ سب کو متوجہ کررہے تھے آخر تھک کر وہ لان میں آکر بیٹھ گئی۔ کالج میں ان کا لاسٹ ڈے تھا‘ کچھ دنوں بعد ان کے امتحانات کا آغاز ہوجانا تھا۔ عروسہ اور زرمین بچپن سے کالج تک ساتھ ہی پڑھتی آرہی تھیں۔ عروسہ کو اپنے نوٹس دے کر خود وہ انگلش پروفیسر کے پاس کام سے گئی تھی اور اب پاگلوں کی طرح عروسہ کو ڈھونڈ رہی تھی‘ اس کی وین والا بھی آنے والا تھا اور گھر کا ماحول بھی ایسا تھا کہ دوستوں سے ملنا ملانا کالج کی حد تک تھا۔ اس لیے ہمیشہ عروسہ ہی اس کے گھر آئی تھی۔
’’ہائے اللہ جی…‘‘ ایک زوردار مکا کھا کر اس کی چیخ ہی تو نکل گئی تھی۔ ’’عروسہ کی بچی میں کب سے تمہیں ڈھونڈ رہی تھی کہاں گئی تھی تم؟‘‘ اس کی شکل دیکھ کر عروسہ بھی ہنس پڑی۔
’’تم تو بلاوجہ ہی پریشان ہوجاتی ہو‘ دوسرے ڈیپارٹمنٹ میں گئی تھی۔ مجھے پتا تھا نوٹس کے بغیر مر جائو گی گھر نہیں جائو گی۔‘‘
’’مرے میرے دشمن‘ ابھی تو زندگی کی رنگینیاں دیکھنی ہیں۔‘‘
’’اوہ میرے اللہ… باتوں میں لگالو مجھے وین والا کب کا آگیا ہوگا۔‘‘ وین والے کا خیال آتے ہی زرمین تیزی سے کالج کے گیٹ کی طرف بھاگی۔
ء…/…ء
گھر کا دروازہ کھولتے اور بڑا سا صحن عبور کرتے ہی اسے گھر میں ہونے والی ہلچل کا احساس ہوگیا تھا‘ اس لیے فوراً سامنے سے آتی عائشہ بھابی سے پوچھ لیا۔
’’بھابی… خیر ہے نا یہ اتنا سامان کیوں بکھرا ہوا ہے اور آپ بھی تیار ہیں۔‘‘ بھابی بھی جلدی میں تھیں اس لیے فوراً بولیں۔
’’تم آج لیٹ ہوگئی ہو۔ نرمین کا منگیتر آگیا ہے پاکستان تو آج سب گھر والوں کی دعوت ہے ان کی طرف۔ اب جلدی سے تیار ہوجائو ورنہ ابا جان چھوڑ جائیں گے۔‘‘
’’زرمین…! جس دن تم وقت پر تیار ہوجائو گی اس دن سورج مغرب سے نکلے گا۔‘‘ سب کے آوازیں دینے کے باوجود بھی وہ سکون سے تیار ہورہی تھی اور نرمین اس کو جلدی تیار ہونے کا کہہ رہی تھی۔ تیار ہونے کے بعد زرمین نے آئینہ میں اپنا جائزہ لیا‘ کیپری اور گھٹنوں تک آتی شرٹ کے ساتھ ہم رنگ لپ اسٹک لگائے وہ تیار تھی۔ اس کی سفید رنگت میں گلابیاں گھلی ہوئی تھی‘ کسی مصنوعی سہارے کی اسے ضرورت ہی نہیں تھی۔
ء…/…ء
آپی کے ہونے والے سسرال میں ان کا بہت اچھا استقبال ہوا تھا اور تو سب کچھ اچھا تھا پر زیاد بھائی کو دیکھنے کے لیے وہ جتنی پُرجوش تھی اب ایک طرف خاموشی سے بیٹھی تھی۔ زیاد بھائی خوب صورت تھے لیکن ان کا قد درمیانہ تھا اور لمبا قد اس کی کمزوری تھی وہ بہت ہائٹ کانشس تھی‘ گھر والے خوش تھے۔ زیاد بھائی کو پیار بھی دیا گیا جو کہ نقدی کی صورت میں تھا۔ باقی سارا وقت اس نے خاموشی سے گزارا‘ بھابی کے بلانے پر ہوں یا ہاں سے جواب دے دیا۔
ء…/…ء
کالج سے فری ہونے کے باعث وہ گھر ہی ہوتی تھی‘ سارا دن بولائی ہوئی پھرتی۔ پیپرز کی تیاری کرنا یا سونا دو ہی کام تھے۔ اب تو وہ آپی کی شادی کے لیے بھی پُرجوش نہیں تھی‘ وہ صحن میں گلاب کی کیاری کے پاس بیٹھی تھی جب اس کے پاس بھابی آئیں۔
’’زری کب سے ڈھونڈ رہی ہوں‘ تمہیں پھر اتنی آوازیں بھی دیں کوئی جواب ہی نہیں دے رہی تھی۔‘‘
’’سوری بھابی… مجھے کوئی آواز سنائی ہی نہیں دی۔ کیوں‘ کیا ہوا‘ کوئی کام تھا کیا؟‘‘
’’ہاں‘ امی جان پوچھ رہی ہیں تمہیں‘ اپنے کمرے میں ہیں ان کی بات سن آئو۔‘‘ اچھا کہتے ہوئے اٹھی اور بے دلی سے امی کے کمرے کی طرف چل دی۔
ء…/…ء
اس کا بس نہیں چل رہا تھا ہر چیز تہس نہس کردے‘ امی کے کمرے سے آکے وہ اسی حالت میں تھی۔ آپی بھی سمجھا کر تھک گئی تھیں تب ہی انہوں نے کال کرکے عروسہ کو بلایا اور پچھلے پندرہ منٹ سے عروسہ اس سے رونے کا سبب پوچھ رہی تھی پر زرمین صاحبہ کی آنکھوں کا سیلاب خشک ہی نہیں ہورہا تھا۔
’’بس بھی کردو رونا‘ اب بھی اگر تم نے وجہ نہ بتائی تو میں واپس گھر جارہی ہوں۔‘‘ یہ دھمکی اثر بھی کر گئی کیونکہ زرمین آنسو پونچھ رہی تھی۔
’’اب بتائو کیا مسئلہ ہے‘ کیوں بنا بادلوں کے بارش ہورہی ہے؟‘‘ عروسہ نے زرمین کا ہاتھ پکڑتے ہوئے پوچھا۔
’’میں یہاں مشکل میں ہوں اور تمہیں ہری ہری سوجھ رہی ہے۔‘‘ زرمین نے غصے سے عروسہ کو دیکھا۔
’’وہ الگ بات ہے۔‘‘ آنکھوں میں غصے کی بجائے نمی تھی۔
’’میں امی اور گھر والوں پر بوجھ ہوں‘ ابھی میں بہت سارا پڑھنا چاہتی ہوں اور ان کو میری شادی کی پڑی ہے۔‘‘
’’ہائے اللہ… زرمین تم کتنی خوش قسمت ہو تمہارے گھر والے تمہاری شادی کا سوچ رہے ہیں اور ایک میں ہوں کسی کو فکر ہی نہیں۔‘‘ اس نے مصنوعی آہ بھرتے ہوئے ماحول کو خوشگوار کرنے کی کوشش کی۔
’’عروسہ تم میرا مسئلہ نہیں سمجھ رہی ہو‘ تمہیں میری عادات میری پسند ناپسند سب پتا ہے۔ گھر والے اتنی جلدی کوئی نمونہ ہی ڈھونڈیں گے۔‘‘
’’تو ڈئیر‘ تمہارے گھر والے تمہاری پسند کے مطابق ہی تمہارا ہمسفر ڈھونڈیں گے‘ تم بھروسہ رکھو ان پر۔‘‘ عروسہ نے ایک مرتبہ پھر سمجھانے کی کوشش کی۔
’’جی بالکل‘ جیسے بھائی کی پسند دیکھی تھی‘ بھائی کی سفید رنگت کے ساتھ سانولی سی عائشہ بھابی ہم سب کے درمیان بھی عجیب ہی لگتی ہیں۔ نرمین آپی کے لمبے قد کے ساتھ زیاد بھائی درمیانے قد کے‘ کیسی لگے گی ان کی جوڑی اور زیاد بھائی کا چھوٹا بھائی ان ہی جیسا ہوگا اور مجھے ہر وہ چیز بری لگتی ہے جس میں ذرا سی بھی خامی ہو۔ مجھے ہر چیز پرفیکٹ چاہیے اور میرا شوہر تو ایسا ہو کہ دنیا دیکھتی رہ جائے۔ بالکل پرفیکٹ انسان جیسی میں خود ہوں۔‘‘ یہ سب باتیں کہتے ہوئے اس کے چہرے پر مغرورانہ چمک تھی۔
عروسہ اسے دیکھتی ہی رہ گئی‘ اس ٹاپک پر عروسہ ہمیشہ ہی بے بس ہوجاتی تھی کیونکہ زرمین اپنی پسند کے معاملے میں کسی کی نہیں سنتی تھی۔ اسے آج بھی یاد تھا جب زرمین کے بھائی کی شادی ہوئی تھی تو اس نے شادی کی تصویریں نہیں دکھائی تھیں‘ اس کے بار بار پوچھنے پر زرمین نے کہا۔
’’یار… بھابی بہت کالی ہیں اور مجھے بالکل پسند نہیں آئیں۔ میں سب کو تصویریں دکھائوں گی تو سب میرا مذاق اڑائیں گی۔‘‘ عروسہ چپ کر گئی تھی‘ عائشہ بھابی کو دیکھنے کے بعد وہ زرمین کی سوچ پر افسوس ہی کرسکی تھی۔ سانولی سی پرکشش چہرے والی عائشہ بھابی اتنی ہنس مکھ اور خوش اخلاق تھیں کہ کوئی بھی عقل مند انہیں ناپسند نہیں کرسکتا تھا اور آج بھی وہ اسے نہیں سمجھا سکی تھی کیونکہ زرمین حیات کو سمجھانا آسان نہیں تھا۔
ء…/…ء
تیرے باجرے دی راکھی‘ تیرے باجرے دی راکھی
کیسے میں کرپائوں گی‘ ساجن میں گھبرائوں گی
ساجن میں گھبرائوں گی
تیرے باجرے دی راکھی کیسے میں کرپائوں گی
جانجھر تجھ کو یاد کرے گی‘ رو رو کر فریاد کرے گی
ڈھولک کی تھاپ پر گیت گاتی لڑکیاں ماحول کو خوشگوار بنارہی تھیں۔ آج نرمین اور زرمین کی مہندی تھی‘ رسموں کے بعد لڑکیاں ڈھولک لے کر بیٹھی تھیں۔ ساری رسموں کے دوران بھی عروسہ بہت بے چین تھی کیونکہ اسے اس کایا پلٹ کی وجہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ نرمین کے دیور کے ساتھ شادی کے لیے زرمین کیسے مان گئی۔ رسموں کے بعد جب زرمین اپنے کمرے میں گئی تو عروسہ بھی پیچھے ہی آگئی اور اب اس اقرار کی وجہ پوچھ رہی تھی۔ زرمین کے جواب نہ دینے پر اس نے نرمین آپی سے پوچھا تو وہ ہنستے ہوئے بتانے لگی۔
’’جس دن گھر والے زیاد کو دیکھنے گئے تھے‘ اس دن عباد نے اس کو دیکھا اور دیکھتے ہی پسند کرلیا۔ اس کی پسند کی وجہ سے ہی آناً فاناً رشتہ ہوا اس کا خدشہ بے بنیاد تھا اگر یہ خوب صورت ہے تو وہ بھی شہزادوں سی آن بان والا ہے۔ مکمل طور پر پرفیکٹ انسان‘ جیسی خصوصیات والا ہمسفر اس کو چاہیے تھا وہ ساری عباد میں موجود ہیں۔‘‘
’’شکر ہے اس کو ویسا انسان مل گیا‘ مجھے تو لگتا تھا یہ کنواری ہی رہے گی۔‘‘ عروسہ کی بات پر زوردار قہقہہ گونجا۔
ء…/…ء
سارے گھر میں افراتفری کا عالم تھا‘ نرمین اور زرمین دونوں تیار ہوچکی تھیں۔ عائشہ بھابی نے ان کو لینے کے لیے عروسہ کو بھیج دیا تھا۔ عروسہ کے ساتھ ان دونوں نے ہال میں ہی پہنچنا تھا گھر والے بھی ہال کے لیے نکل چکے تھے۔ نکاح کے بعد دونوں دلہنوں کو ان کے دلہوں کے برابر بٹھایا گیا تو ہر ایک کی نظر میں ستائش تھی۔ نرمین اور زیاد کی جوڑی بھی بہت پیاری تھی لیکن زرمین اور عباد نظر لگ جانے کی حد تک حسین لگ رہے تھے۔ سرخ رنگ کے لہنگے اور اس پر درمیانے سائز کی شرٹ جس پر بلیک اور گولڈن کام تھا‘ پہنے ہوئی تھی اور مغلیہ سلطنت کی شہزادی لگ رہی تھی جب کہ سفید اور سرخ کنٹراسٹ کی شیروانی کے ساتھ عباد بھی پرستان کا شہزادہ لگ رہا تھا۔ عروسہ بھی ستائش اور رشک بھری نظروں سے اپنی عزیز دوست کو دیکھ رہی تھی جس کے چہرے پر اپنے خوابوں کی تعبیر پالینے کی خوشی تھی۔
ء…/…ء
رسموں کے بعد دونوں کو ان کے کمرے میں بٹھادیا گیا تھا۔ تنہائی ملتے ہی اس نے کمرے کا جائزہ لیا تو حیران رہ گئی۔ پورے کمرے میں ہر چیز گلاب کی پتیوں سے ڈھکی ہوئی تھی‘ دیواروں سے گلاب کی کلیاں یوں چسپاں تھیں جیسے بیل نے دیواروں کو ڈھانپ لیا ہو‘ یہ سب دیکھ کر اس کو واقعی اپنی خوش قسمتی کا احساس ہونے لگا تھا۔ اپنے خیالات میں وہ اتنی گم تھی کہ اسے عباد کے آنے کا احساس بھی نہیں ہوا تھا‘ عباد نے ہاتھ بڑھا کر اس کے ٹھنڈے ہاتھوں کو تھام لیا۔ زرمین نے سر اٹھا کر عباد کو دیکھا وہ ہو بہو اس کی سوچ کا عکس تھا۔
’’زری جس دن تم سارے گھر والے بھائی کو دیکھنے آئے تھے میں اس دن ہی تمہیں دیکھ کر اپنا دل ہار بیٹھا تھا اور آج تم میرے کمرے میں میری بیوی کی حیثیت سے موجود ہو۔ میری محبت کی صداقت کے لیے یہ کافی ہے نا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے عباد نے نفیس سا بریسلیٹ زرمین کی کلائی میں پہنا دی۔ زرمین تو اس کے مخاطب کرنے کے انداز پر ہی فدا ہوگی تھی‘ وہ کیا بول رہا تھا یہ تو اس نے سنا نہیں تھا اس کے گھر والے دوستیں اسے زری کہہ کر بلاتی تھیں لیکن عباد کا زری کہہ کر بلانا اسے بے تحاشا پسند آیا تھا اور عجیب سی خوشی سے ہمکنار کرگیا تھا۔
ء…/…ء
اگلے بہت سارے دن ملنے ملانے اور دعوتوں کی نذر ہوگئے‘ عباد کی فیملی بہت بڑی تھی۔ آپی تو جلدی سب میں گھل مل گئی تھیں پر اسے کچھ سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ اتنی بڑی فیملی کو کیسے ہینڈل کرے۔ آج دونوں بہنوں کا ارادہ میکے جانے کا تھا‘ آپی اور زیاد بھائی تیار ہوکر بیٹھے تھے‘ زرمین بھی تیار عباد کا انتظار کررہی تھی۔ وہ کمرے میں آئی تو عباد تیار ہورہا تھا‘ زرمین پاس کھڑی اس کو تیار کروانے کی کوشش کررہی تھی۔ جلدی سے تیار ہوتے عباد نے ساکت کھڑی زرمین کو دیکھا جو ہاتھ میں پرفیوم پکڑے کھڑی تھی۔ عباد کو اس کی نظریں عجیب سی لگیں۔
’’کیا ہوا زری… ایسے کیوں کھڑی ہو؟‘‘
’’یہ کیا ہے؟‘‘ اسے زرمین کی سرسراتی ہوئی آواز سنائی دی۔ وہ اس کی گردن کی طرف اشارہ کررہی تھی جہاں دو تین چھوٹے چھوٹے داغ تھے۔
’’یہ برص کے نشان ہیں‘ ٹانگوں پر بھی ہیں تھوڑے سے۔‘‘ تیار ہوتے ہوئے عباد اسے ان نشانوں کا بھی بتارہا تھا جو ’’برص‘‘ کی وجہ سے تھے۔
ء…/…ء
شادی کے بعد دونوں بہنیں پہلی بار اتنی فرصت سے میکے آئی تھیں۔ عائشہ بھابی نے اچھا خاصا انتظام کیا تھا‘ سب کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے عباد نے محسوس کیا تھا کہ زرمین خاموش سی ہے لیکن اس نے خاص توجہ نہ دی۔ جھٹکا تو اسے تب لگا جب واپسی پر زرمین نے ساتھ جانے سے انکار کردیا کہ وہ کچھ دن میکے رہنا چاہتی ہے وہ گھر سے یہ طے کرکے آئے تھے کہ شام میں ساتھ واپس آجائیں گے لیکن زرمین کا پختہ ارادہ دیکھ کر عباد اسے چھوڑ گیا تھا۔
ء…/…ء
اسے میکے میں آئے ہوئے ایک ہفتہ ہوگیا تھا‘ امی اور عائشہ بھابی اس کا رویہ دیکھ رہی تھیں لیکن چپ تھیں کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ زرمین اپنی مرضی ہی کرے گی۔ آج نرمین بھی ملنے آئی تو عائشہ بھابی نے اصرار کرکے اسے رات رکنے کے لیے منالیا۔ رات میں دونوں سونے کے لیے لیٹیں تو مناسب وقت دیکھتے ہوئے نرمین نے بات کا آغاز کیا۔
’’دیکھو زرمین‘ ہم دونوں بہنیں ہیں‘ اگر کوئی مسئلہ ہے تو مجھ سے کہہ سکتی ہو۔ تمہارا یہ رویہ میرے لیے کتنی مشکلات کا باعث بن رہا ہے تمہیں اندازہ ہے یا تم جان بوجھ کر نظر انداز کررہی ہو۔ سب کی سوالیہ نظریں میری طرف اٹھتی ہیں‘ عباد بھی لاعلم ہے۔ تمہیں بے شمار کالز کی اس نے پر تم اس سے بات ہی نہیں کررہی‘ جو بات دل میں ہے بتائو تو سہی۔‘‘ زرمین نے خاموشی سے بڑی بہن کی باتیں سنیں‘ نرمین اس کے جواب کی منتظر تھی۔
’’مجھے اب اس گھر میں نہیں جانا‘ میرے ساتھ دھوکہ ہوا ہے آپی‘ آپ جانتی ہیں مجھے آدھی ادھوری چیزیں پسند نہیں۔ کوئی کمی ہو یا داغ تو میں وہ چیز استعمال نہیں کرتی۔ عباد کو برص کی بیماری ہے ساری زندگی اعلیٰ سے اعلیٰ چیز پانے والی زرمین حیات کو ایسا ہمسفر ملا جس کو جسمانی بیماری ہے۔‘‘ بہت سا رونے کے بعد اس نے سوچا تھا کہ وہ اب نہیں روئے گی لیکن آپی کو ساری بات بتاتے ہوئے وہ پھر سے رو دی تھی۔ نرمین بالکل ساکت بیٹھی اپنی چھوٹی بہن کی باتیں سن رہی تھی۔ آج بھی ہمیشہ کی طرح اسے اپنی بہن کی سوچ پر افسوس ہوا تھا۔
’’بس… بہت بول لیا تم نے‘ تم ہمیشہ سے اپنی اسی سوچ کا مظاہرہ کرتی آئی ہو۔ تم نے ہمیشہ ظاہر کو دیکھا ہے‘ سیرت کا اندرونی خوب صورتی کا کبھی سوچا ہے تم نے۔ تمہیں وہ لوگ پسند ہیں جو تن کے اجلے ہوں‘ من کے بے شک وہ کالے اور داغ دار ہوں۔ آدھی ادھوری چیزیں اور انسان نہیں بلکہ خرابی تمہاری سوچ میں ہے۔ تمہاری سوچ تمہارے نظریات گندے اور ادھورے ہیں۔ تم نے عائشہ بھابی کو صرف ان کے سانولے رنگ کی وجہ سے ناپسند کیا تھا‘ ان کی دل آزاری کی‘ ان کے رنگ کی وجہ سے باقی ساری خصوصیات کو نظر انداز کردیا تھا۔ اب دیکھو ہم دونوں کے جانے کے بعد وہ اس گھر کو کتنے احسن طریقے سے چلا رہی ہیں‘ امی ابو کا کتنا احترام کرتی ہیں۔ تم نے زیاد کو ان کے قد کی وجہ سے ناپسند کیا تھا اور آج وہ میرے سے زیادہ فکر مند ہیں کہ تم گھر کیوں نہیں آرہیں اور عباد کے تو صرف جسم پر چند داغ ہیں تمہاری تو پوری سوچ اور شخصیت ہی دا غ دار ہے۔ اگر تمہارا یہ چہرہ اور سوچ عباد کے سامنے آگئی تو تم واقعی اس گھر میں آنے کے قابل نہیں رہوگی۔ ابھی بھی وقت ہے تم گھر لوٹ آئو اور عباد کو منالو اس سے پہلے کہ سب کچھ تمہارے ہاتھ سے نکل جائے۔‘‘ زرمین حیران نظروں سے اپنی بڑی بہن کو دیکھ رہی تھی جس کو پہلی مرتبہ اس نے اتنا زیادہ بولتے سنا تھا۔ آپی کی باتوں نے اسے شرمندگی اور ندامت کی گہرائیوں میں دھکیل دیا تھا۔ اپنے سے وابستہ لوگوں کو اس نے بہت دکھی کیا تھا۔ ہمیشہ سے وہ یہ ہی سوچتی رہی کہ وہ بالکل پرفیکٹ ہے‘ اس میں کوئی کمی اور خامی نہیں لیکن آپی کی باتوں نے اسے اپنی ہی نظروں میں گرادیا تھا۔
عباد کی یہ چھوٹی سی خامی اس کی آزمائش تھی‘ اس پر اس کی حقیقت آشکار کردی گئی تھی۔ اسے اس کی ادھوری سوچ کا احساس دلایا گیا تھا اور اسے اس ٹھوکر سے ہی سنبھلنا تھا کیونکہ اللہ اپنے بندوں کو گر کر سمبھلنے کا موقعہ ضرور دیتا ہے لیکن جب اللہ اپنے بندوں کے ہاتھوں ٹھوکر لگواتا ہے تو انسان اٹھنے کے قابل نہیں رہتا۔ اس نے اللہ کی طرف سے لگنے والی ٹھوکر سے سبق سیکھ لیا تھا۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ کل آپی کے ساتھ ہی واپس چلی جائے گی اور اپنے رویے کی تلافی کرے گی۔ وہ اپنی ادھوری سوچ کے باعث ایک مکمل انسان کو کھونا نہیں چاہتی تھی۔
وہ جانتی تھی کہ عباد اس سے ناراض ہوگا لیکن اسے یہ بھی یقین تھا کہ وہ اس پیارے انسان کو منالے گی۔ اسے عباد کے سامنے یہ اعتراف بھی کرنا ہے کہ اسے بھول جانے کی ہزار کوششوں کے بعد بھی بھولا نہیں سکی کیونکہ ان چند دنوں نے اس کو بہت شدت سے یہ احساس دلایا تھا کہ وہ اس کے دل کی گہرائیوں میں بسا تھا۔
دل میں ہوتا تو ممکن تھا نکل بھی جاتا
اب تو وہ شخص بہت دور تلک ہے مجھ میں

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
Close