Naeyufaq Oct-17

اقرا

طاہرقریشی

الجبار
(سب سے زبردست)

جبار:مبالغہ کاصیغہ ہے‘ اہلِ لغت کی تصریح کے مطابق’’جبر‘‘ کے معنی دراصل زبردستی کسی شے کی اصلاح کرنے کے ہیں‘ جبکہ جبرکااستعمال صرف اصلاح یا محض زبردستی کے لئے بھی ہوتاہے۔ لغت میں اس کے معنی سرکش‘ زور کرنے والا‘ زبردست دبائووالا‘ معاملات کو درست کرنے والا‘ قوت واقتدار کے ساتھ نقصان کو پورا کرنے والا‘ جس کے ارادے کے سامنے سب مجبور ہوں۔
صفاتِ باری تعالیٰ میں صفتِ جبار کے معنی ہیں باریِ تعالیٰ کے فیضانِ نعمت سے سب لوگوں کی حالت درست کرنااوران کے نقصانات کوپورا کرنا ہے اس لئے اللہ کی یہ صفتِ جبار ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی قادرِ مطلق ہے اور وہی ذاتِ الٰہی اپنی مخلوقات کے تمام نقصانات پورا کرنے پر پوری طرح قادر ہے‘ وہی فقیر کو تونگر کرنے والا ہے۔
امام بیہقی ؒ نے محمد بن کعبؒ سے روایت کی ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ اس لئے جبار ہے کہ وہ اپنی مخلوق کو اپنے ار ادے سے مجبور کردیتا ہے۔‘‘
اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی حکمتِ الٰہی سے بندوں کو بہت سی چیزوں پرمجبور کررکھا ہے جن سے ان کی رہائی ممکن نہیں ہے جیسے بیماری‘ موت‘حشر پر سب مجبور وبے بس ہیں۔ پھراللہ تعالیٰ نے اپنے ہرہر بندے کو ایک خاص فطرت اور خاص طریقے سے اخلاق واعمال پرمسخر کررکھاہے۔ وہ اسی کی انجام دہی میں مصروف اوراسی دھن میں مگن رہتا ہے‘ وہ اسے چھوڑناہی نہیں چاہتااوراگرکوئی شخص اپنی روزی روٹی کے حصول کے لئے جوکام کررہاہوتا ہے اس سے بے زار ہونے کے باوجود اسے نہیں چھوڑتا ہے وہ سوچتا رہتا ہے اس کے معیار کا کوئی دوسرا کام اسے دکھائی ہی نہیں دیتا ہے جیسا کہ قرآنِ حکیم میں ارشاد ہے’’ہم نے دنیا کی زندگی میں ان کے درمیان ان کی روزی کوتقسیم کیا اور بعض کوبعض پر فوقیت دی۔
امام ابوسلیمان خطابیؒ فرماتے ہیں کہ جبار وہ ذات ہے جس نے اپنی مخلوق کو اپنے امرونہی پرجس طرح چاہا مجبور کردیا اور بعض کے نزدیک ’’جبار‘‘ وہ ذات ہے جس نے اپنی مخلوق کی ضرورتوں حاجتوں کو پورا کیااوران کے معاش او ر روزی کے اسباب کابندوبست کیا جبکہ کچھ دیگر علماکے خیال کے مطابق’’جبار‘‘ کے معنی اس ذات کے ہیں جومخلوق سے اوپر ہے۔(لغات القرآن)
ترجمہ:۔یہ تھی قومِ عادجنہوں نے اپنے رب کی آیتوں کاانکار کیااور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہرسرکش نافرمان کے حکم کی تابعداری کی۔ (ھود۔۵۹)
ترجمہ:۔اورانہوں نے فیصلہ طلب کیا(تو یوں ان کا فیصلہ ہوا) اور تمام سرکش ضدی لوگ نامراد ہوگئے۔ (ابراہیم۔۱۵)
جب اہلِ حق اور اہلِ باطل کے درمیان مکمل جدائی ہوجاتی ہے تو پھر سرکشوں اور آمروں کی اس حقیردنیاوی قوت کے مقابلے میں اللہ جبار وقہاراور مکمل گھیرلینے والے کی عظیم ترین قوت سامنے آتی ہے۔ آیات مبارکہ سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ وہ لوگ جو اللہ کے احکام کو اپنے غروروتکبر کے باعث رد کرتے ہیں اس سے انحراف وکفر کرتے ہیں اور اپنی سرکشی وبغاوت کا برملا اظہار کرتے ہیں اور وہ دنیا میں دی گئی رعایت ومہلت میں جتناچاہے سرکشی وضد کا روّیہ اپنالیں لیکن ایک روز مرناانہیں بھی ہوگااور مرکرجب وہ اللہ جبار کے حضور حاضر ہوں گے تو وہاں انہیںجس عذاب کاسامنا کرنا ہوگا‘وہ بھی اللہ تعالیٰ نے بتادیاہے۔ اللہ جوتمام زبردستوں سے زبردست وقوی ہے۔ جب وہ کسی کو سزا دے گا تو کون ہوگا جو انہیںبچاسکے گا۔ ان ہی آیات میں وہ منظر بھی پیش کردیاگیاہے۔دنیا کے شکست خوردہ جباروسرکشوں کے اُخروی انجام کی خوفناک تصویر کشی کردی گئی ہے کہ انہیں جہنم رسید کردیا جائے گا۔وہاں انہیں غلیظ بدبودار خون آلود پانی پینے کوملے گا جو گرم کھولتاہوا ہوگاوہ اگر نہ پیناچاہیں تو بھی انہیں وہی زخموں سے رستاہوا مادہ پینا ہی پڑے گا‘ اللہ جبار وقہار کا دیا ہوا فیصلہ ہوگا جس کی وہ اپنی دنیا کی زندگی میں طلب کیا کرتے تھے جسے وہ ہنس کر اڑادیا کرتے تھے۔ اپنے آپ کو ہی سب کچھ سمجھاکرتے تھے۔
ترجمہ:۔(ان کا روّیہ)اللہ کے نزدیک اور مومنوں کے نزدیک بہت سخت ناراضگی کی چیز ہے‘اسی طرح اللہ تعالیٰ ہر مغرور اور سرکش کے دل پرمہرلگادیتاہے۔ (المومن۔۳۵)
آیتِ کریمہ میں ارشاد ِباری تعالیٰ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ا حکام سے انحراف کرتے ہیں اور غروروتکبر کا رویہ اختیار کرتے ہوئے احکامِ الٰہی سے کفر کرتے ہیں اور انہیں معروف‘ معروف اور منکر‘ منکر نظر نہیں آتا‘ تکبر سے مراد انسان کاجھو ٹاپندار اور جھوٹی انا ہے جس کی بنا پروہ حق کے آگے سرنہیں جھکاتا اوراس کواپنی حیثیت سے کم تر سمجھتا ہے اور جباریت یا سرکشی سے مراد خلقِ الٰہی پرظلم کرنااور اللہ کا خوف دل سے نکل جانا ایسا انسان شریعتِ الہیہ کی پابندی قبول کرنے سے بھاگتاہے۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں یہاں وعیدسنائی جارہی ہے کہ ان کے دلوں پرلعنت کی مہرلگادی جاتی ہے‘ پھران کے دل میں ہدایت پانے کی کوئی جگہ ہی نہیں ر ہتی او ران کادماغ حقیقت کے ادراک سے محروم ہوجاتاہے۔
ترجمہ:۔سب پرغالب‘ اپنا حکم بزور نافذ کرنے والا اور تمام بڑائی والا‘پاک ہے اللہ ان چیزوں سے جنہیں یہ اُس کا شریک بناتے ہیں۔ (الحشر۔۲۳)
تفسیر:۔اللہ تبارک وتعالیٰ کی یہ ایسی عظیم الشان صفات ہیں جس سے اللہ تعالیٰ کی گرفت‘ غلبے اور جبر کااظہار ہوتا ہے جس سے ایسی برتری‘قوتِ علوکااظہار ہوتا ہے جس کااور کوئی شریک نہ ہو اور حقیقت بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تمام تر صفات میں اس کے اقتدار وحکمرانی میں یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات وصفات میں کوئی بھی کسی طرح شریک نہیں ہے صرف وہی عزیز ہے وہی جبار ہے اور وہی متکبر ہے۔ ان صفاتِ الٰہی کااطلاق اللہ تعالیٰ کی ذاتِ عالی کے سوا کسی پر قطعی نہیں ہوتا‘وہ سب پرغالب ہے سب پر اپناحکم نافذ کرنے والا ہے اور سب سے بڑا ہوکر رہناہی اس کی صفت اور شان ہے۔
فضائل:الجبار‘ اس صفتِ باری تعالیٰ کا جو شخص روزانہ صبح وشام بعد نماز۲۲۶ بار ورد کرے گا ان شاء اللہ تعالیٰ وہ ظالموں کے ظلم وقہر سے محفوظ رہے گا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close