Aanchal Dec-18

الکوثر(دانش کدہ)

مشتاق احمد قریشی

جہاں محبت و شفقت کی توقع ہو وہاں اگر نفرت و عداوت کا لاوا پھوٹ پڑے جہاں تائید و اعانت کی امید ہو وہاں مخاصمت و مخالفت کا طوفان امڈ پڑے تو یقیناً یہ سب کچھ نا صرف غیر متوقع اور تکلیف دہ بھی ہو گا کیونکہ ابو لہب اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے والد حضرت عبداللہ ایک ہی باپ کی اولاد اور سگے حقیقی بھائی تھے۔ اس لیے بجا طور پر امید کی جاسکتی تھی کہ وہ اپنے سگے بھائی کے یتیم بیٹے کی تائید و حمایت میں اس کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا۔ اُن کی تائید و نصرت میں بھرپور مددگار و حمایتی ہو گا۔ جب کہ اس کے برعکس اس کا پورا قبیلہ بنی ہاشم جس کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چشم و چراغ تھے‘ نے اس کے باوجود کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے تھے لیکن جی جان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے محافظ و حمایتی تھے۔ عرب کے تمام قبائل میں یہ رواج تھا کہ وہ ہر حال و صورت میں اپنی قوم‘ قبیلے‘ اپنے خاندان کے فرد کی حمایت و حفاظت ہر قیمت پر کرتے تھے۔ چاہے وہ کتنا ہی ظالم کیوں نہ ہو۔
ابولہب تو خونی اور خاندانی رشتے کے علاوہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمسایہ بھی تھا۔ دونوں گھروں کے درمیان صرف ایک دیوار حائل تھی۔ پڑوسی کا حق دنیا کے تمام معاشروں میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ پڑوسی ہونے اور چچا ہونے کے ناتے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی زندگی و حالات سے بھی بخوبی آگاہی رکھتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بے داغ کردار سے پوری طرح باخبر تھا۔ اس کے باوجود جب اس نے اسلام دشمنی میں انتہا کردی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر ہر طرح پریشان اور تکلیف پہنچاتا تھا۔ اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی اس کی ہر طرح مدد کرتی۔ دین حق سے اس کا بغض و عناد اتنا شدید تھا کہ وہ ہر وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لگا رہتا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتا رہتا۔ اس لیے ہی اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کو اس کے نام سے منسوب فرمایا۔ اس سورۃ کے مطالعے سے ہمیں بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ بارگاہِ رسالت میں معمولی سے معمولی گستاخی بھی رب کائنات کو کس قدر ناگوار گزرتی ہے۔ یہ سورۃ مبارکہ رہتی دنیا تک اگر ابولہب اور اس کی بیوی کے لیے بددعا کی حیثیت رکھتی ہے۔ تو اہلِ ایمان کے لیے ایک واضح تنبیہہ بھی ہے کہ حبیب اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں معمولی سی بے ادبی کے بھی کتنے بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں کہ کب غضب الٰہی کی بجلی کوندے اور بے ادب گستاخ کو جلا کر رکھ دے۔
اس سورہ میں ابولہب کا نام لے کر اس کی مذمّت کی گئی ہے۔ ایسا اس لیے کیا گیا کہ مکہ کے باہر کے عرب جب حج کے موقع پر آتے اور مختلف بازاروں میں جمع ہوتے تو ان کے سامنے ابولہب جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سگا چچا تھا وہ ان کی سرعام مخالفت اور برائی کرتا جب کہ یہ عرب کی معروف روایات کے بالکل خلاف بات تھی کہ کوئی اپنا خونی رشتہ دار اس کی مخالفت کرے اور خاص طور پر چچا جو باپ کی جگہ سمجھا جاتا تھا۔ وہ خود سب کے سامنے اپنے بھتیجے کو برا بھلا کہے اور اسے پتھر مارے۔ اس پر الزامات عائد کرے لوگ ابو لہب کی باتوں سے متاثر ہو کر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں شک میں پڑ جاتے لیکن جب یہ سورہ نازل ہوئی تو ابو لہب نے مارے غصے کے اول فول بکنا شروع کردیا تو لوگوں نے از خود سمجھ لیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں اس شخص کے قول کا کوئی اعتبار نہیں ہے کیونکہ یہ شخص اپنے سگے بھتیجے کی دشمنی میں پاگل ہو گیا ہے۔
ابو لہب کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا۔ابو لہب اسے اس کے رنگ کے باعث کہا جاتا تھا جو سرخ و سفید چمکتا ہوا تھا۔ لہب آگ کے شعلے کو کہتے ہیں۔ ابو لہب کے معنی شعلہ رُو کے ہوتے ہیں۔ یہاں اس کے نام کے بجائے اس کی کنیت سے پکارا گیا ہے۔ اس لیے کہ وہ زیادہ تر اپنی کنیت ابولہب سے ہی پکارا جاتا تھا۔ دوسرے اس کا اصل نام تو ایک خالص مشرکانہ نام تھا۔ عبدالعزیٰ یعنی عزیٰ کا بندہ اور عزیٰ کفار قریش کے ایک بُت کا نام تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کیسے پسند کرتا کہ اس کے کلام میں اسے اس مشرکانہ نام سے پکارا جائے ۔ تیسری اور سب سے اہم یہ کہ سورۃ میں جو انجام اس کا بیان کیا گیا ہے اس کے لیے اس کی کنیت ہی زیادہ مناسب ہے۔ علاوہ ازیں اسے اپنے انجام کے اعتبار سے جہنم کی آگ کا ایندھن بننا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی بیوی ام جمیل بھی دشمنی میں اپنے خاوند سے کسی طرح کم نہیں تھی۔
اس آیت کے نزول کے سبب میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم الٰہی ہوا کہ اپنے رشتے داروں کو ڈرائو اور ان سے تبلیغ کا آغاز کرو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ کی پہاڑی پر چڑھ کر آواز لگانے لگے۔ ’’یاصباحاہ‘‘ اس طرح کی آواز قبائل میں خطرے کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ چنانچہ اس آواز پر آپ کے تمام رشتہ دار جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ذرا بتلائو اگر میں تمہیں یہ خبر دوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر ایک گھڑ سوار لشکر ہے جو حملہ آور ہوا چاہتا ہے تو کیا تم میری بات کی تصدیق کرو گے؟ تو سب نے مل کر کہا کیوں نہیں ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کبھی جھوٹا نہیں پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر سن لو کہ میں تمہیں ایک بہت بڑے عذاب سے ڈرانے آیا ہوں (اگر تم اسی طرح کفر و شرک میں مبتلا رہے) یہ سن کر سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سگے چچا ابولہب نے کہا ’’تبالک‘‘ تیرے لیے ہلاکت ہو‘ کیا تُو نے ہمیں یہاں یہی سنانے کے لیے جمع کیا تھا؟ جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورۃ نازل فرمائی۔ (صحیح بخاری‘ تفسیر سورۃ تبت مسند احمد ‘ مسلم‘ ترمذی‘ ابن جریر)
حضرت ابن زید رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ابو لہب نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک روز دریافت کیا کہ اگر میں تمہارے دین کو مان لوں تو مجھے کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اور سب ایمان لانے والوں کو ملے گا۔ اس پر اس نے کہا میرے لیے کوئی خاص فضیلت نہیں ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آپ کیا چاہتے ہیں؟ اس پر وہ بولا ناس جائے اس دین کا جس میں‘ میں اور دوسرے لوگ برابر ہوں (ابن جریر)
حضرت ربیعہ بن عبادالدیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نو عمر تھا میں اپنے والد کے ساتھ ذوالحجاز کے بازار میں گیا تو وہاں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے۔ ’’لوگو کہو اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے فلاح پائو گے۔‘‘ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے ایک شخص یہ کہتا جارہا تھا کہ ’’یہ جھوٹا ہے‘ اپنے آبائی دین سے پھر گیا ہے۔‘‘ میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے تو انہوں نے بتایا کہ یہ ان کا چچا ابولہب ہے۔ (مسند احمد۔ بہیقی) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جہاں جہاں بھی اسلام کی دعوت دینے جاتے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے وہاں پہنچ جاتا اور لوگوں کو بات سننے سے روکتا۔ ان ہی حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری روایت بھی ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک ایک قبیلے کے پڑائو پر جاتے اور فرماتے ’’اے بنی فلاں بنی فلاں میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ میں تمہیں ہدایت کرتا ہوں کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو تم میری تصدیق کرو اور میرا ساتھ دو تاکہ میں وہ کام پورا کروں جس کے لیے اللہ نے مجھے بھیجا ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے ایک اور شخص آتا اور وہ کہتا کہ بنی فلاں یہ تم کو لات اورعزیٰ سے پھیر کر اس بدعت و گمراہی کی طرف لے جانا چاہتا ہے جسے یہ لے کر آیا ہے۔ اس کی بات ہرگز ہرگز نہ مانو اور اس کی پیروی نہ کرو۔ میں نے اپنے باپ سے پوچھا یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا یہ ان کا چچا ابولہب ہے۔ (مسند احمد۔طبرانی)
حضرت طارق بن عبداللہ المحاربی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ذوالحجاز کے بازار میں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے کہتے جاتے ہیں کہ ’’لوگوں لاالہ الا اللہ کہو فلاح پائو گے اور پیچھے ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھر مار رہا ہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایڑیاں تک خون سے تر ہو گئیں اور وہ شخص ساتھ ساتھ یہ بھی کہتا جاتا ہے کہ یہ جھوٹا ہے اس کی بات نہ مانو۔ میں نے لوگوں سے دریافت کیا یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا یہ ان کا چچا ابو لہب ہے۔ (ترمذی۔ مسند احمد۔ طبرانی)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے ساتویں سال میں قبیلہ قریش کے تمام خاندانوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے کی پاداش میں بنی ہاشم اور بنی المطلب کا معاشرتی اور معاشی مقاطعہ (بائیکاٹ) کیا اور یہ دونوں خاندان اپنی اخلاقی خاندانی عرب روایات کو نبھاتے ہوئے اس کے باوجود کہ وہ دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت پر ثابت قدم رہتے ہوئے ان کے ساتھ شعب ابی طالب میں محصور ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں تنہا یہی شخص ابو لہب تھا جس نے عرب اور اپنی خاندانی اخلاقی روایات کے خلاف کفار قریش کا ساتھ دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے خاندان کے افراد کا یہ بائی کاٹ یعنی مقاطعہ تین سال تک جاری رہا۔ اس عرصے میں دونوں خاندانوں بنی ہاشم اور بنی المطلب پر فاقوں کی بھی نوبت آگئی مگر ابولہب کا یہ حال تھا کہ جب کوئی تجارتی قافلہ مکہ میں آتا اور شعب ابی طالب سے کوئی فرد محصورین کے لیے خوراک کا سامان خریدنے آتا تو ابولہب تاجروں سے پکار پکار کر کہتا کہ ان کے ہاتھ سامان نہ بیچو ان سے اتنی قیمت مانگو کہ یہ خرید نہ سکیں۔ اس طرح تمہیں جو نقصان ہو گا وہ میں پورا کروں گا۔ چنانچہ وہ ان محصورین شعب ابی طالب سے اتنی قیمت طلب کرتے جسے وہ ادا نہ کرسکتے اور خالی ہاتھ لوٹ جاتے حالانکہ ان کے بچے بھوک سے بلک اور تڑپ رہے ہوتے تھے پھر وہ ان تاجروں سے وہ چیز بازارکے بھائو سے خرید لیتا۔ (ابن سعد و ابن ہشام)
ابو لہب کی ان ہی تکلیف دہ باتوں اور اعمال کے باعث اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں اس کا نام لے کر اس کی مذمّت کی ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ اسلام کی مخالفت اور کفر پر اصرار کی وجہ سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کی بھی کوئی اہمیت نہیں تاکہ لوگوں کے دلوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہ بات صاف ہو جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خاندانی رشتے کی وجہ سے دین کے معاملے میں کوئی رعایت مل جائے گی۔ جب علی الاعلان اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے پر ان کے سگے چچا کی خبر لے لی تو اوروں کی کیا حیثیت و اہمیت اس دین اسلام میں کسی لاگ لپیٹ کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ ایمان لے آنے پر غیر اپنا ہو سکتا ہے اور ایمان نہ لانے سے اپنا غیر ہو جاتا ہے اگر وہ کفر کرے اور کفر پر قائم رہے اسلام کے معاملے میں کوئی نسبت‘ کوئی تعلق اہمیت نہیں رکھتا۔ صرف دین اسلام میں داخل ہو کر ایک اللہ ایک رسول کی اطاعت و اتّباع سے ایسے رشتے بن جاتے ہیں جو خونی اور موروثی رشتوں سے کہیں مضبوط اور اہم ہوتے ہیں اس کی سب سے اہم اور بڑی مثال غزوات میں ملتی ہے جب باپ بیٹے کے سامنے‘ بیٹا باپ کے سامنے‘ بھائی بھائی کے آمنے سامنے تمام رشتوں ناتوں کو بھول کر مدمقابل آجاتے رہے ہیں۔
۔تَبت کا لفظ خسران‘نامرادی و بربادی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ (قرطبی) ‘تبت یدا یہ بددعا ہے۔ یہاں وتب فرمایا گیا ہے جس کے معنی ہیں وہ تباہ ہو گیا۔ ٹوٹ پھوٹ کر رہ گیا۔ اس کا جسم ریزہ ریزہ ہو گیا۔ یہ جملہ جزائیہ ہے۔ اس سے مراد بد دعاکے ہیں اور ابو لہب نے تڑپ تڑپ کر جان دی۔ اس کے جسم کا گوشت گھل گھل کر گرنے لگا۔ اس کے بیٹوں نے جن پر اسے بہت ناز تھا‘ اسے گھر سے باہر نکال دیا۔ جہاں اس نے نامرادی ‘ مایوسی کے عالم میں جان دی۔
یدا‘ ید (ہاتھ) کاتثنیہ ہے معنی ہاتھ کے ہیں۔ اس سے مراد نفس بھی ہے جز کہہ کر کل مراد لیا گیا ہے۔ یعنی ہلاک و برباد ہو جائے یہ بددعا ان الفاظ کے جواب میں ہے جو ابولہب نے غصے اور عداوت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہے تھے (اور وہ ہلاک ہو گیا) آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اسے بددعا کے ساتھ ساتھ اس کی ہلاکت و بربادی کی خبر بھی دی ہے۔ اس آیت میں ابولہب کے ہلاک ہونے کی خبر ‘ پیش گوئی ہے کوئی کوسنا نہیں یا ہلاک کیے جانے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا گیا۔ اس کے معنی ہیں۔ ’’وہ ہلاک ہو گیا‘‘ آئندہ پیش آنے والے واقعے کو ماضی کے صیغے میں بیان کیا گیا ہے گویا اس کا ہلاک ہونا ایسا یقینی امر ہے جیسے وہ ہو چکا ہو اور پھر ایسا ہی ہوا اس سورہ کے نزول کے چند سال بعد جنگ بدر کے چند روز بعد ابولہب طاعون سے بدتر بیماری عدسیہ میں مبتلا ہو کر مرا۔ تین دن تک اس کی لاش بے گور و کفن پڑی رہی۔ اس کے گھر والوں نے اسے یوں ہی چھوڑ دیا۔ کیونکہ انہیں چھوت لگنے کا خوف تھا مرنے کے بعد بھی تین روز تک کوئی اس کے قریب نہیں جا سکا اس کی لاش پڑے پڑے سڑ گئی۔ سخت بدبو پھیلنے لگی تو لوگوں نے اس کے بیٹوں کو طعنے دینا شروع کردیئے ۔ ایک روایت یہ ہے کہ انہوں نے کچھ حبشیوں کو اجرت دے کر اس کی لاش اٹھوائی اور ان ہی مزدوروں نے اسی طرح بے کفن گڑھا کھود کر ڈنڈوں کی مدد سے لاش کو دھکیل کر گڑھے میں پھینک دیا اور اوپر سے مٹی اور پتھر ڈال کر قبر کو بند کردیا۔ (اسیر التفاسیر)
اللہ اکبر کیسی عبرت ناک موت نصیب ہوئی کہ اس کے دونوں بیٹے زندہ تھے اور اس کے باوجود انہوں نے اپنے باپ کی لاش کے قریب جانا قبول نہیں کیا جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزدگان تو رحلت فرما گئے تھے۔ تب اس نے اور اس کے ساتھیوں نے کہا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جڑ کٹ گئی۔ وہ بے نشان ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام عربوں کو ہی نہیں بلکہ آنے والے زمانوں تک کے لوگوں کو دکھا دیا کہ جڑیں مضبوط اور نشاوروں کی موجودگی کے باوجود وہ کیسے اور کس طرح اپنے گمراہوں کو سزا دے کر نشانِ عبرت بنا دیتا ہے اور کس طرح اس کی جڑ کٹ گئی۔ اس کی سب سے بڑی شکست اس وقت ہوئی جب اس کی بیٹی ’’درہ‘‘ ہجرت کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ حاضر ہوئی اور اسلام قبول کرلیا جس دین کی راہ میں اس کے باپ نے روڑے اٹکائے‘ اس کی راہ روکنے میں اپنی پوری زندگی گزار دی تھی اور پھر فتح مکہ کے موقع پر اس کے دونوں بیٹوں عُتہ اور مُعّتب‘ حضرت عباس ؓ جو ان کے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے‘ کی وساطت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی اور اپنے باپ کی ساری زندگی کی مخالفت اور گمراہی جس میں انہوں نے اس کا بھرپور ساتھ دیا تھا یک لخت بھلا دیا اور دین اسلام کو اپنا لیا۔

(جاری ہے)

 

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
Close