Aanchal Feb 2019

الکوثر(دانش کدہ)

مشتاق احمد قریشی

ترجمہ۔ اور ان کفار نے بڑی زور دار قسم کھائی تھی کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آئے تو وہ ہر ایک امّت سے زیادہ ہدایت قبول کرنے والے ہوں گے۔ پھر جب ان کے پاس پیغمبر آپہنچے تو بس ان کی نفرت ہی میں اضافہ ہوا۔ (سورۃ فاطر۔۴۲)
تفسیر۔عرب قوم کا یہ بیان و خواہش اس آیت مبارکہ کے ساتھ ساتھ سورۃ الانعام ۱۵۶ اور ۱۵۷ میں بھی ہے اور سورۃ الصافات کی ۱۶۷‘۱۷۰ میں بھی ہے لیکن جب انہیں خبردار کرنے والے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو ان کی آمد نے ان کے اندر حق سے فرار کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہیں کیا۔ زمین میں اور زیادہ سرکشی کرنے کی خاطر اور بُری چالیں چلنے لگے۔
جزیرہ نما عرب میں سب سے پہلے دین حق کی روشنی حضرت ہود علیہ السلام اور حضرت صالح علیہ السلام کے ذریعے پہنچی تھی‘ جو زمانہ قبل از تاریخ میں گزرے‘ جب ان کے بعد پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام تشریف لائے جن کا زمانہ بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ڈھائی ہزار سال قبل گزرا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل حضرت شعیب علیہ السلام آئے تھے۔ اس کے بعد سرزمین عرب میں آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ یعنی جزیرہ نما عرب میں کل پانچ پیغمبر گزرے ہیں۔
اہلِ عرب دیکھتے تھے کہ یہودی جو جزیرہ نما عرب میں ان کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کو ایک کتاب ملی ہوئی ہے اور وہ اپنے دین سے منحرف اور بے عمل ہو چکے ہیں۔ عرب ان کی تاریخ پڑھتے تھے کہ انہوں نے بے شمار رسولوں کو قتل کیا اور جب جب ان کے پاس سچائی آئی انہوں نے اس سے منہ پھیرا ہے۔ اس وقت عرب یہودیوں کے مقابلے میں خود کو بڑا سمجھتے ہوئے قسمیں کھایا کرتے تھے کہ اگر اللہ نے ہمیں کوئی پیغمبر دیا اور وہ عربوں میں مبعوث ہوا تو ہم دنیا کی تمام اُمّتوں سے بڑھ کر نیک ہوں گے۔ اس سے مراد ان کی یہ تھی کہ ہم یہودیوں سے بڑھ کر دین کی ہدایات پر قائم رہیں گے۔ یہ تھا عربوں کا حال و عقیدہ لیکن جب خود ان میں سے ایک نبی ان کی خواہشات کے عین مطابق مبعوث ہوا تو انہوں نے انہیں تسلیم کرنے سے انکار ہی نہیں کیا بلکہ یہودیوں کی روش پر چل کر انہیں ختم کرنے‘ انہیں قتل کرنے تک کی کوشش کی۔ کہاں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل وہ راہ راست پانے کے لیے قسمیں کھایا کرتے تھے اور پھر انہوں نے اپنی قسموں کے برعکس یہ رویہ اختیار کیا۔ تکبّر و غرور کی وجہ سے اور اپنی بری سازشوں کی وجہ سے قرآن حکیم کی آیات سے ہی نہیں خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے انکار کرنے لگے۔ ان کے ان اعمال و افکار کو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ریکارڈ کردیا ہے اور ان کی مکاریوں اور فریب کا جواب قرآن حکیم میں دے دیا گیا ہے جو لوگ ایسی قبیح حرکت کریں ان کا ایمان کیا ہو گا۔ ان کا انجام کیا ہو گا۔ ان پر وہی مصائب آجائیں جو ان سے پہلی اقوام پر آئے تھے۔
عرب قوم قسمیں کھا کھا کر یہ دہائی دے رہی تھی کہ کاش ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا آجائے اور ہمیں سیدھے راستے کا پتا بتا دے تو ہم ثابت کردیں گے کہ دنیا بھر میں صرف ہم عرب ہی سب سے بہترین اُمّت ہیں۔ یہ خواہش و دعا وہ قوم کررہی تھی جو صدیوں سے سخت جہالت و پستی‘ بدحالی میں مبتلا تھی اورجب اللہ تعالیٰ نے ان کی دعائوں کے جواب میں ان کے اندر ان ہی میں سے ایک بہترین رہنما کو منتخب فرمایا اور جہالت کی تاریکیوں سے نکلنے کے لیے خود اپنا کلام اس رہنمائے عظیم پر نازل فرمایا تاکہ وہ غفلت سے بیدار ہو کر اپنے جاہلانہ اوہام کے چکر سے نکل سکیں اور صحیح راستہ اختیار کرسکیں تو اس قوم کے نادان لوگوں اور ان کے خود غرض قبائلی سرداروں نے اس عظیم رہنما کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئے اور اسے ناکام کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا پورا زور لگا دیا‘ یہاں تک کہ ان کی جان کے درپے ہو گئے۔ اس حالت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوتا ہے کہ۔
کیا تمہاری نالائقی کی وجہ سے ہم تمہاری اصلاح کی کوشش چھوڑ دیں‘ اس درسِ نصیحت کو روک دیں اور تمہیں اسی پستی میں پڑا رہنے دیں جس میں تم صدیوں سے گرے ہوئے ہو؟ کیا تمہارے نزدیک واقعی ہماری رحمت کا تقاضہ یہی ہونا چاہیے؟ تم نے کچھ سوچا بھی کہ اللہ کے فضل کو ٹھکرانا اور حق سامنے آجانے کے بعد باطل پر اصرار کرنا تمہیں کس انجام سے دو چار کرے گا۔ (سورہ زخرف۔۵)
اور اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی کیا۔ جن لوگوں نے دعوتِ حق کو قبول کرلیا اور سیدھے راستے کو اپنا لیا وہ نجات پا گئے اور جنہوں نے دعوتِ حق کو قبول نہ کیا اور اس کی مخالفت پر کمربستہ رہے ان سب کا حشر ابولہب سے کسی طرح کم نہیں ہوا۔ ان کی دنیا تو غارت ہوئی تھی آخرت بھی انہوں نے اپنے عمل سے غارت کر لی اور اپنے لیے دائمی ٹھکانے کے طور پر جہنم کا انتظام کرلیا۔ یقیناً سورۃ الکوثر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش خبری دی گئی کہ انہیں حوض کوثر (نہر کوثر) عطا کردی گئی تاکہ وہ روز قیامت اپنی اُمّت کو ناصرف اس حوض سے سیراب فرمائیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار سے بھی فیض یاب ہوں اور اپنی دائمی بخشش کا اہتمام بھی دیکھ لیں اور اپنے اعمال کی جزا حاصل کر کے جنت میں اپنی دائمی قیام گاہوں میں داخل ہو جائیں۔ بے شک یہ اللہ کا سب سے بڑا انعام اُمّت مسلمہ پر ہے کہ ان کی بخشش کی جو جو دعائیں نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مالک و پروردگار سے مانگیں وہ اس کی بارگاہ میں قبول ہوئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دلجوئی و تسلی و تشفی کے لیے اس نے نہر کوثر‘ حوض کوثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام کدورت و تشویش کو ختم فرما دیا۔ اب یہ اہتمام و انتظام کرنا ہر مومن مسلمان کا فرض ہے کہ وہ کس طرح حوض کوثر پر پہنچتا ہے اور اس سے کس طرح فیض یاب ہوتا ہے۔ اللہ ہم سب مسلمانوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے بہرہ مند فرمائے اور حوض کوثر پر حاضر ی اور دیدار محبوب الٰہی صلی اللہ علیہ وسلم سے سرفراز فرمائے‘ آمین۔

بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
دعائے تکمیل تفسیر الکوثر
اللہ تبارک و تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر و احسان ہے کہ اس نے سورۃ الکوثر کی تشریح مجھ ناچیز‘ کم علم سے مکمل کرا دی آج بروز اتوار ۲۹ جمادی الاوّل ۱۴۲۵ھ کو میں اپنے رب کے حضور سر بسجود ہوں کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے اپنے اس عاجز بندے کو اس کام کے لیے توفیق خاص عطا فرمائی۔ قرآن حکیم کی چھوٹی سے چھوٹی خدمت بھی اللہ تعالیٰ کے فضل و اعانت کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ میرے رب کا کرم خاص ہے کہ اس نے مجھ کم فہم‘ کم علم کو میری بساط سے کہیں بڑے کام کے لیے منتخب فرمایا۔ بارگاہ الٰہی میں دست بہ دعا ہوں کہ وہ میری اس ناچیز کوشش کو قبول فرمائے اور لوگوں کے لیے اسے نافع بنائے۔ (آمین)
اے میرے مالک!‘ میرے آقا‘ اے ربّ العزت تیرے کرم کا‘ تیرے احسانات کا جتنا بھی شکر ادا کروں وہ کم ہے۔ تُو نے ہی اپنے فضل و کرم سے مجھ ناچیز کو اپنے حبیب سید الانبیاء و اشرف المرسلین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا امّتی ہونا نصیب فرمایا۔ اے اللہ اپنے کرم و فضل سے میرے علم میں اضافہ فرما۔ مجھے توفیق مزید عطا فرما کہ تیرے کلام کو تیرے بندوں تک پہنچانے‘ انہیں سمجھانے کے لیے آسان طریقوں سے اور آسانی سے ادا کرسکوں۔
اے اللہ اپنے رحم و کرم سے مجھے ‘ میری اولادوں کو‘ میری آنے والی نسلوں کو صراطِ مستقیم پر چلنے والا بنا اور ہمیں نبی مکرم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا وفادار امّتی بنا اور ہم سب کو حوض کوثر پر پہنچا اور اس سے سیراب ہونا نصیب فرما اور جس طرح آپ نے اس سورۃ عظیم الکوثر میں دشمنانِ اسلام اور اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو نیست و نابود کرنے کی وعید دی ان سب کو جو اور جس جس طرح دین اسلام کی احیاء و بقا کے راستے میں مزاحمت کرتے ہیں یا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کوبے نشان کر اور اسلام کو رہتی دنیا تک سربلند فرما۔ اسلام کو غلبہ و شوکت عطا فرما۔ یااللہ اسلام اور تمام مسلمانوں کو عزت غلبہ و نصرت عطا فرما اور دین پر ثابت قدم رہنے والا بنا اور ہر حال میں استقامت عطا فرما۔ ہمارا جینا‘ ہمارا مرنا سب دین اسلام اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں اور اپنے احکام کے مطابق کردے۔ ہمیں دین دنیا کا چین و سکون عطا فرما اور ہمیں قرآن حکیم کا علم عطا فرما۔ ہماری اولادوں اور آنے والی نسلوں کو قرآن حکیم پڑھنے کا اس پر عمل کرنے کا ذوق و شوق عطا فرما‘ یااللہ بے شک ہدایت آپ کے دستِ قدرت میں ہی ہے‘ آپ جس کو چاہیں ہدایت نصیب فرمائیں‘ یااللہ اپنی ہدایت ہمارے لیے مقدر فرما اور ہمیں اُسی ہدایت پر چلنے والا‘ جینے مرنے والا بنا اے اللہ آپ نے جو مال و دولت اس دنیا میں عطا کیا ہے اُس کے حقوق کی ادائیگی کا ہر حال میں اہل بنا مال و دولت کے فتنے سے بچا اپنی رضا کے لیے اُسے خرچ کرنے کی توفیق عطا فرما۔
مجھے‘ میرے والدین‘ بھائی‘ بہن اور اولادوں کو میرے اساتذہ و شیوخ کو اور اُن تمام افراد کو جنہوں نے اس کتاب کی تکمیل میں میری مدد کی اُن سب کو اپنی رحمت سے نواز اور ہماری بخشش کا سامان فرما دے۔
آمین یاربّ العالمین۔

(جاری ہے)

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close