Aanchal Jul-17

الکوثر

مشتاق احمد قریشی

ترجمہ۔ ثابت ہونے والی ہے۔ ثابت ہونے والی کیا ہے؟ اور تجھے کیا معلوم کہ وہ ثابت شدہ کیا ہے؟ (سورہ الحاقۃ۔۱ تا ۳)
تفسیر۔اس سورہ مبارکہ الحاقہ جس کی یہ آیات ہیں اس کا موضوع اور محور ہولناک مشاہدِ قیامت ہے۔ اس سورہ کا آغاز بھی قیامت کے ایک نام سے کیا گیا ہے۔ یہ نام قیامت کا اظہار اپنے تلفظ اور مفہوم دونوں سے کرتا ہے۔ الحاقہ اس آفت کو کہا جاتا ہے جس کا آنا لازماً مقرر ہو چکا ہو۔ جس کا نزول لازمی ہو جس کا ہونا اٹل ہو۔ یہ تمام مفہوم ایسے ہیں جن کے اندر قطعیتِ مفہوم ہے۔ لہٰذا قیامت کے لیے اس سورہ مبارکہ میں الحاقہ کا استعمال اس کے موضوع اور مضمون کے اعتبار سے نہایت مناسب ہے۔ اس میں امرِ الٰہی ثابت ہے اور یہ بھی کہ قیامت ہر صورت وقوع پذیر ہونے والی ہے اس لیے اسے الحاقہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اسی سورہِ مبارکہ میں آگے چل کر قیامت واقع ہونا بتایا جارہا ہے کہ قیامت کس طرح واقع ہو گی۔
ترجمہ۔ پس جب کہ صور میں ایک پھونک پھونکی جائے گی۔ اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے اور ایک ہی چوٹ میں ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے۔ اس دن وہ ہو پڑنے والی (قیامت) ہو پڑے گی۔ اور آسمان پھٹ جائے گا اور اس دن بالکل بودا ہو جائے گا۔ (سورۃ الحاقۃ۔ ۱۳ تا ۱۶)
تفسیر۔ ان آیاتِ مبارکہ میں یہ بتایا جارہا ہے کہ قیامت کس طرح واقع ہو گی۔ حضرت اسرافیل علیہ السلام کی ایک ہی پھونک سے یہ برپا ہو جائے گی۔ زمین اور پہاڑ قدرتِ الٰہی سے اپنی اپنی جگہوں سے اٹھا لیے جائیں گے اور انہیں ان کی جگہ سے اکھاڑ دیا جائے گا۔ ان کی تمام مضبوطی ریزہ ریزہ ہو جائے گی اور ہر چیز پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی۔ آسمان بھی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ آج بھی ہم اگر اپنے گرد و پیش دیکھیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ ذرا سی زمین کی جنبش یعنی زلزلہ کس طرح بستیوں کی بستیاں تہس نہس کر کے رکھ دیتا ہے۔ نہ پانی‘ نہ خوراک‘ تمام حیات نظام زندگی درہم برہم ہو جاتا ہے۔ جب بروزِ قیامت اللہ تبارک و تعالیٰ کے حکم سے صور پھونکا جائے گا تو زمین آسمان پہاڑ دریا بہت کچھ دھنکی ہوئی روئی کی مانند دھنک جائے گا اُس تباہی و بربادی کا ہم تصور تک نہیں کرسکتے سورۃ النمل میں اس طرح آیا ہے۔
ترجمہ۔ جس دن صور پھونکا جائے گا تو سب کے سب آسمانوں والے اور زمین والے گھبرا اٹھیں گے مگر جسے اللہ تعالیٰ چاہے‘ اور سارے کے سارے عاجز و پست ہو کر اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔ اور آپ پہاڑوں کو دیکھ کر اپنی جگہ جمے ہوئے خیال کرتے ہیں لیکن وہ بھی بادل کی طرح اڑتے پھریں گے یہ ہے صنعت اللہ کی جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا ہے جو کچھ تم کرتے ہو اس سے وہ باخبر ہے۔ (سورۃ النمل۔ ۸۷۔۸۸)
تفسیر۔ صور سے مراد وہی قرن ہے جس میں حضرت اسرافیل علیہ السلام اللہ کے حکم سے پھونک ماریں گے یہ نفخے دو یا دو سے زیادہ ہوں گے۔ پہلے نفخے (پھونک) میں ساری دنیا گھبرا کر بے ہوش ہو جائے گی اور دوسرے نفخے میں موت سے ہم کنار ہو جائے گی۔ تیسرے نفخے میں سب کے سب اپنی اپنی قبروں سے زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے اور بعض کے نزدیک ایک چوتھا نفخہ ہو گا جس سے سب کے سب میدانِ محشر میں اکٹھے ہو جائیں گے۔ اس آیتِ مبارکہ میں مستثنیٰ لوگوں کا ذکر بھی ہے بعض کے نزدیک یہ انبیاء‘ شہداء بعض کے نزدیک فرشتے۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ ممکن ہے اہلِ ایمان حقیقی گھبراہٹ سے محفوظ ہوں۔ قیامت والے دن پہاڑ جو اپنی جگہ جمے نظر آتے ہیں اپنی جگہوں پر نہیں رہیں گے بلکہ وہ بادلوں کی مانند چلیں گے اور ہوا میں اڑتے پھریں گے۔ یعنی یہ اللہ کی قدرت عظیم سے ہوگا۔ ہر وہ چیز جسے اس نے مضبوط بنایا ہے وہ تمام کی تمام روئی کے گالوں کی طرح ہوا میں تیرتی پھرے گی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ تو ہر چیز پر ہر ہر طرح سے قادر ہے‘ ایسے دن جب ہر طرف تباہی بربادی ہو گی‘ ہر چیز تہس نہس ہو گی‘ لوگوں پر گھبراہٹ طاری ہو گی‘ آج بھی اگر ہم خوف کی سی کیفیت کا شکار ہوتے ہیں تو ہمارے حلق میں کانٹے پڑ جاتے ہیں‘ ہمیں شدید پیاس لگ جاتی ہے‘ تو قیامت کے دن جب ہر کسی پر حقیقی گھبراہٹ‘ خوف کا غلبہ ہو گا‘ ہر کوئی شدید پیاس میں مبتلا ہو گا‘ سوائے ان کے جنہیں اللہ محفوظ رکھے گا‘ تب اس وقت پانی کی قدر و قیمت کا اندازہ ہو گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایسے ہی وقت اور موقع کے لیے اپنے محبوب اور پیارے نبی کو ان کی امّت کے لیے حوضِ کوثر عطا فرمایا ہے تاکہ اس روز اللہ کے آخری اور محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم جو ہر وقت اپنی امّت کے لیے فکرمند و پریشان رہتے تھے‘ کسی قسم کی فکر و پریشانی میں مبتلا نہ ہوں اور اپنی امّت کو اپنے حوضِ کوثر سے سیراب کریں‘ کوثر کا انعام اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی کو ہی عطا فرمایا ہے۔ ان سے پہلے کسی نبی کو ایسا عظیم الشان‘ جلیل القدر تحفہ نہیں بخشا گیا۔ دنیا کی آخیر اور قیامِ قیامت کے بارے میں کچھ اقتباسات قرآن و احادیث سے جو علامہ جلال الدین سیوطی ؒ کی کتاب ’’البدور السافرہ‘‘ سے یہاں نقل کیے جارہے ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیان فرمایا کہ ’’جب اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے فارغ ہوئے تو صور کو پیدا کیا اور حضرت اسرافیل علیہ السلام کو دے دیا۔ چنانچہ حضرت اسرافیل علیہ السلام اس کو اپنے منہ پر رکھے ہوئے ہیں اور اپنی نگاہ عرش کی طرف ٹکائے ہوئے ہیں اور انتظار میں ہیں کہ کب حکم مل جائے (کہ صور پھونکوں)۔‘‘ میں نے عرض کیا۔ ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صور کیا ہے؟‘‘ فرمایا۔ ’’ایک سینگ ہے۔‘‘ میں نے عرض کیا۔ ’’کیسا ہے؟‘‘ فرمایا۔ ’’بہت بڑا ہے۔ اس کے منہ کے دائرے کی وسعت آسمانوں اور زمین کی چوڑائی کے مثل ہے۔ اس میں تین مرتبہ پھونک (نفخا) ماری جائے گی۔ پہلی پھونک گھبراہٹ کے لیے ہو گی‘ دوسری پھونک موت کے لیے ہو گی اور تیسری پھونک اللہ رب اللعالمین کے حضور پیش ہونے کے لیے ہوگی۔ اللہ تعالیٰ حضرت اسرافیل کو پہلے نفخہ کا حکم دے کر فرمائیں گے کہ گھبراہٹ کا نفخہ پھونکو‘ اس سے سارے آسمانوں اور زمین والے گھبرا اٹھیں گے مگر جس کو اللہ تعالیٰ اس سے محفوظ رکھنا چاہیں گے‘ اللہ تعالیٰ ان کو حکم دیں گے تو وہ اس نفخہ کو طویل کردیں گے‘ کوئی وقفہ نہیں کریں گے۔ البدور السافرہ فی امور الاخرہ اس کے مطابق اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن حکیم میں ارشاد فرماتے ہیں۔
ترجمہ۔ اور یہ لوگ بس ایک زور کی چیخ کے منتظر ہیں جس میں دَم لینے کو گنجائش نہ ہو گی۔ (سورۃ ص۔ ۱۵)
یعنی صور پھونکنے کے ساتھ ہی قیامت برپا ہوجائے گی اور صور پھونکنے کے بعد اتنا وقفہ بھی نہیں ملے گا جتنا کہ کسی گائے یا بھینس کا دودھ دوہنے کے درمیان میں وقفہ دیا جاتا ہے اس روز پہاڑ بادلوں کی طرح چلیں گے حتیٰ کہ سیراب ہو جائیں گے اور زمین اپنے باسیوں سمیت خوب حرکت کرے گی اور مثل سمندر میں بھنور کی کشتی کے ہو گی جس کو موجیں تھپیڑے مارتی ہوں جو اپنے بیٹھنے والوں کو لے کر گھوم رہی ہو۔ اس کے متعلق اللہ عزوجل اس طرح فرماتے ہیں۔
ترجمہ۔ جس روز ہلا دینے والی چیز ہلا ڈالے گی‘ جس کے بعد ایک پیچھے آنے والی چیز آئے گی۔ (سورۃ النزِعٰت۔ ۶۔۷)
ہلا دینے والی چیز نفخہ اولیٰ جسے نفخہ فنا بھی کہتے ہیں‘ جس سے ساری کائنات کاپنے گی اور لرز اٹھے گی اور ہر چیز فنا ہوجائے گی اور اُس کے پیچھے آنے والی چیز دوسرا نفخہ ہوگا جس سے سب لوگ جو پہلے نفخہ سے فنا ہوگے تھے زندہ ہوکر قبروں سے نکل آئیں گے یہ دوسرا نفخہ پہلے نفخہ سے چالیس سال کے وقفے سے ہوگا آیت مبارکہ میں رادفۃ اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ پہلے نفخے کے بعد ہی ہوگا یعنی نفخہ ثانی نفخہ اولیٰ کا ردیف ہے۔
جب زمین لوگوں کو اپنی پشت پر لے کر گھومے گی تو دودھ پلانے والیاں (اپنے بچوں سے) غافل ہو جائیں گی اور حاملہ کے حمل گر جائیں گے۔ بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور شیاطین گھبراہٹ سے بھاگنے کے لیے اڑتے پھرتے ہوں گے حتیٰ کہ زمین کے کونوں پر پہنچیں گے تو ان کو سامنے فرشتے ملیں گے جو ان کے چہروں کو ماریں گے۔ اس کے متعلق اللہ عزوجل قرآن حکیم میں اس طرح فرما رہا ہے۔
ترجمہ۔ اور مجھے تم پر ہانک پکار کے دن کا بھی ڈر ہے۔ جس دن تم پھیر کر لوٹوں گے‘ تمہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا اور جسے اللہ گمراہ کردے اُس کا ہادی کوئی نہیں۔ (سورۃ المومن۔۳۲۔۳۳)
تنادی کے معنی ہیں ایک دوسرے کو پکارنا یہاں قیامت کو یومِ تناد اس لیے کہا گیا ہے کہ اُس دن لوگ ایک دوسرے کو پکاریں گے اہلِ جنت اہلِ نار کو اور اہلِ نار اہلِ جنت کو آوازیں دیں گے جیسا کہ سورۃ الاعراف کی آیت نمبر ۴۸ اور ۴۹ میں بھی آیا ہے بعض مفسرین کے مطابق محشر میں میزان کے پاس ایک فرشتہ جوگا جو بدبخت لوگوں کو چیخ کر بلائے گا۔ (ابن کثیر)
اُس روز لوگ اس حالت میں ہوں گے کہ زمین پھٹ جائے گی۔ ایک حصہ دوسرے میں دھنس جائے گا یہ لوگ ایک امر عظیم کو دیکھیں گے‘ پھر یہ آسمان کی طرف دیکھیں گے تو وہ تیل کی تلچھٹ کی طرح ہو گا‘ پھر پھٹ جائے گا اور ستارے جھڑ جائیں گے۔ سورج چاند بے نور ہو جائیں گے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس دن مرنے والے کچھ نہ جانتے ہوں گے۔ میں نے عرض کیا یارسول صلی اللہ علیہ وسلم ’’الا ماشاء‘‘ اللہ تعالیٰ نے کس کو مستثنیٰ کیا ہے؟ ارشاد فرمایا یہ شہداء ہوں گے۔ یہ گھبراہٹ اس وقت کے زندہ لوگوں کے لیے ہو گی جب کہ شہداء تو اللہ کے یہاں زندہ ہیں اور رزق پاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو اس دن کے شر سے محفوظ رکھے گا۔ یہ ایک عذاب ہو گا جس کو اللہ تعالیٰ اپنی نافرمان مخلوق پر مسلط کریں گے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ (تفسیر ابن کثیر‘ تفسیر ابن جریر‘ فتح الباری‘ ابن ابی حاتم)
ترجمہ۔ اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو۔ یقینا قیامت کا زلزلہ بڑی بھاری چیز ہے۔ جس روز تم اس کو دیکھو گے اس روز تمام دودھ پلانے والیاں اپنے دودھ پیتے بچے بھول جائیں گی اور تمام حمل والیوں کے حمل گر جائیں گے اور لوگ نشے کی سی حالت میں دکھائی دیں گے حالانکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے۔ لیکن اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت ہے۔ (سورہ الحج۔۱۔۲)
آیت مبارکہ میں جس زلزلے کا ذکر ہے‘ اُس کے نتائج دوسری آیت میں بیان کردیے گئے ہیں جس کا مطلب ہے کہ لوگوں پر سخت خوف‘ دہشت اور گھبراہٹ طاری ہوجائے گی۔ ایسا قیامت سے قبل ہوگا اس کے ساتھ ہی دنیا فنا ہوجائے گی اور یہ کیفیت اُس وقت بھی ہوسکتی ہے جب لوگوں کو قبروں سے اٹھا کر میدانِ حشر میںجمع کیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ جب تک چاہیں گے لوگ اس عذاب میں رہیں گے پھر اللہ تعالیٰ حضرت اسرافیل علیہ السلام کو حکم دیں گے تو وہ دوسرا یعنی موت کا نفخہ (صور) پھونکیں گے تو سب آسمان اور زمین والے سوائے ان کے جن کو اللہ چاہے مر جائیں گے جب مر چکیں گے تو ملک الموت اللہ کے پاس حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے کہ یارب آسمانوں اور زمین والے سب مر گئے ہیں سوائے ان کے جن کو آپ نے چاہا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے جب کہ ان کو بہ خوبی علم ہوگا۔ باقی کون بچا ہے؟ وہ عرض کریں گے یارب آپ حئی و قیوم ہیں جس کو (کبھی موت) نہیں آتی اور عرش اٹھانے والے فرشتے باقی ہیں جبرائیل باقی ہیں‘ میکائیل باقی ہیں‘ میں باقی ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے جبریل اور میکائل بھی مر جائیں تو وہ بھی مر جائیں گے۔ پھر ملک الموت اللہ جبار کے پاس حاضر ہو کر عرض کریں گے جبرائیل و میکائیل بھی مر چکے‘ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے کہ عرش کو اٹھانے والے فرشتے بھی مر جائیں تو وہ بھی مر جائیں گے‘ پھر اللہ تعالیٰ عرش کو حکم دیں گے کہ اسرافیل سے صور لے لے‘ پھر حکم دیں گے کہ اسرافیل بھی مر جائے تو وہ بھی مر جائیں گے پھر ملک الموت اللہ جبار کے پاس حاضر ہو کر عرض کریں گے یارب عرش اٹھانے والے بھی مر گئے‘ تو اللہ تعالیٰ پوچھیں گے جب کہ وہ خوب اچھی طرح جانتے ہوں گے کہ اب باقی کون بچا؟ وہ عرض کریں گے آپ حی و قیوم باقی ہے جس کو کبھی موت نہیں اور میں باقی ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ تو بھی میری مخلوق میں سے ہے میں نے جب چاہا تجھے پیدا کیا تو بھی مر جا تو وہ بھی مر جائیں گے۔ جب کوئی باقی نہیں رہے گاسوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے (تو اللہ کے حکم سے) آسمان و زمین کو لپیٹ لیا جائے گا جس طرح لکھے ہوئے مضمون یا کاغذ کو لپیٹ لیا جاتا ہے اور ارشاد فرمائیں گے میں جبار ہوں‘ آج کس کی حکومت ہو گی‘ تین مرتبہ یہی فرمائیں گے جب اس کا کوئی جواب نہ دے گا اپنے لیے خود فرمائیں گے اللہ واحد قہار کی حکومت ہو گی اور اس زمین و آسمان کو دوسری زمین سے بدل کر بچھا دیا جائے گا اور اس کو عکاظی چمڑے کی مانند پھیلا دیا جائے گا نہ اس میں کوئی کجی نظر آئے گی نہ نشیب و فراز پھر اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کو ایک دفعہ خلق کی ڈانٹ دیں گے تو سب کچھ بدلی ہوئی زمین پر اسی حالت میں منتقل ہو جائیں گے جس طرح کہ پہلی والی زمین پر تھے جو اس کے پیٹ میں ہوں گے پیٹ میں اور جو پشت پر ہوں گے وہ پشت پر منتقل ہو جائیں گے پھر اللہ تعالیٰ عرش کے نیچے سے ان کے لیے پانی اتاریں گے پھر آسمان کو حکم دیں گے کہ وہ بارش برسائے تو وہ چالیس دن تک برساتا رہے گا حتیٰ کہ لوگوں سے بارہ ہاتھ اونچا ہو جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ اجسام کو حکم دیں گے کہ وہ اگیں تو وہ اس طرح اگیں گے جس طرح سبزہ اگتا ہے حتیٰ کہ اجسام پورے اگ جائیں گے اور ایسے ہو جائیں گے جس طرح پہلی دنیا میں تھے۔ تو اللہ تعالیٰ عرش اٹھانے والوں کو حکم دے گا تو وہ زندہ ہو جائیں گے پھر اللہ تعالیٰ اسرافیل کو حکم دیں گے تو وہ صور لے کر اپنے منہ میں رکھ لیں گے پھر اللہ تعالیٰ حکم دیں گے کہ جبرائیل اور میکائیل زندہ ہو جائیں تو وہ زندہ ہو جائیں گے پھر اللہ تعالیٰ ارواح کو بلائیں گے تو وہ حاضر ہو جائیں گی مومنین کی ارواح سے نور کی چمک اٹھتی ہو گی اور دیگر ارواح تاریک ہوں گی۔ پھر اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھے اپنی مٹھی میں لیں گے پھر ان کو صور میں ڈالیں گے پھر اللہ تعالیٰ اسرافیل کو حکم دیں گے کہ قبروں سے اٹھنے کا نفخہ پھونکیں تو وہ نفخہ پھونکیں گے تو روحیں اس طرح سے نکلیں گی جیسے شہد کی مکھیاں ہوں جنہوں نے آسمان و زمین کے درمیان فضا کو بھر دیا ہو۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میرے غلبے اور جلال کی قسم ہر روح اپنے اپنے جسم میں لوٹے چنانچہ ہر روح زمین میں اپنے اپنے جسم میں ناک کے راستے سے داخل ہو جائے گی اور پورے جسم میں دوڑ جائے گی۔ ایسے جس طرح سانپ کے ڈسے ہوئے میں زہر سرائیت کرتا ہے‘ پھر تم لوگوں سے زمین کھلے گی اور زمین سے سب سے پہلے میں (حضور صلی اللہ علیہ وسلم) نکلوں گا پھر تمام بھی قبروں سے نکل کر جلدی جلدی اپنے رب کے پاس پہنچو گے۔
بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو رحمت اللعالمین ہیں انہیں سارے جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے اُس سخت دن یعنی قیامت کے دن محشر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت کے نیک و صالح لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سایہ رحمت میں ہوں گے سورۃ الحج کی تفسیر میں بخاری شریف میں ایک حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ اُس روز حضرت آدم علیہ السلام کو حکم دیں گے کہ وہ اپنی ذریت میں سے ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے (۹۹۹) افراد جہنم کے لیے نکال دیں یہ بات سن کر حمل والیوں کے حمل گرجائیں گے‘ بچے بوڑھے ہوجائیں گے لوگ مدہوش نظر آئیں گے حالانکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے صرف عذاب کی شدت ہوگی یہ بات سن کر صحابہ کرامؓ گھبرا گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ۹۹۹ یاجوج ماجوج میں سے ہوں گے اور تم میں صرف ایک ہوگا تمہاری تعداد لوگوں میں اس طرح ہوگی جیسے سفید رنگ کی بیل کے پہلو میں کالے بال یا کالے رنگ کی بیل کے پہلو میں سفید بال مجھے امید ہے کہ اہلِ جنت میں تم چوتھائی یا تہائی یا نصف ہوگے یہ بات سن کر صحابہ کرام رضوان اجمعین کے چہرے کھل اٹھے اور مسرت سے اللہ اکبر کے نعرے بلند کرنے لگے۔ (صحیح بخاری تفسیر سورۃ الحج)
ترجمہ۔ پکارنے والے کی طرف دوڑے چلے جارہے ہوں گے‘ کافر کہتے ہوں گے یہ دن بڑا سخت ہے۔ (سورۃ القمر۔۸)
اس روز لوگ ننگے بدن‘ ننگے پائوں‘ نامختون ہوں گے۔ پھر تم ایک ہی جگہ ستر سال کے برابر اُگے رہو گے (اللہ تعالیٰ) نہ تمہاری طرف دیکھے گا اور نہ ہی تمہارے درمیان کوئی فیصلہ کرے گا پس تم روئو گے حتیٰ کہ تمہارے آنسو ختم ہو جائیںگے پھر تم خون کے آنسو بہائو گے‘ پھر تم پسینہ بہائو گے جو تمہارے منہ تک پہنچے گا یا ٹھوڑی تک تو تم چیخ و پکار کرو گے اور کہو گے کہ ہمارے رب کے سامنے ہمارے لیے کون شفاعت کرے گا تاکہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ کرنا شروع کریں؟ پھر کہیں گے تمہارے باپ آدم علیہ السلام کے علاوہ اس کا کون حقدار ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا ہے۔ ان میں اپنی روح پھونکی ہے اور اپنے سامنے ان سے بات کی ہے چنانچہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے‘ تقاضا کریں گے‘ مگر وہ انکار کردیں گے اور کہیں گے‘ میں اس لایق نہیں ہوں۔ وہ ایک ایک کرکے تمام انبیاء کرام کے پاس جائیں گے جب بھی کسی نبی کے پاس جائیں گے وہ انکار کردیں گے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حتیٰ کہ وہ میرے پاس آئیں گے تو میں چل پڑوں گا یہاں تک کہ لحص کے مقام پر آکر سجدہ ریز ہو جائوں گا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ لحص کیا ہے؟ ارشاد فرمایا عرش کے سامنے ایک جگہ ہے اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجیں گے جو میرے بازو پکڑ کر کہے گا اے محمد‘ میں عرض کروں گا جی لبیک یارب (اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر) وہ فرمائیں گے آپ کا کیا حال ہے؟ جب کہ وہ مجھ سے بہتر جانتے ہوں گے۔ میں عرض کروں گا یارب آپ نے مجھ سے شفاعت کا وعدہ فرمایا تھا اور اپنی مخلوق کی شفاعت کرنے کا حق دیا تھا آپ ان کے درمیان فیصلہ فرمایئے۔ پس اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں نے آپ کی شفاعت قبول کی میں ان کے پاس آتا ہوں اور ان کے درمیان فیصلہ کرتا ہوں۔ جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پھر میں لوٹ کر لوگوں کے پاس آ ٹھہروں گا چنانچہ سب اسی حالت میں ٹھہرے ہوں گے کہ ہم اچانک ایک آواز سنیں گے پھر آسمان والے زمین کے جنات و انسانوں کے پاس نازل ہوں گے جب وہ زمین کے قریب پہنچیں گے تو زمین ان کے نور سے جگمگا اٹھے گی یہ صف باندھ کر کھڑے ہو جائیں گے ہم ان سے کہیں گے کیا ہمارا رب تم میں سے ہے؟ وہ کہیں گے نہیں وہ ابھی آتے ہیں۔ پھر ہر آسمان والے اسی طرح سے یکے بعد دیگرے دوگنے ہو ہو کر نازل ہوتے رہیں گے۔
ترجمہ۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ بادل کے سایوں اور فرشتوں میں اُتریں گے۔ (سورۃ البقرۃ۔ ۲۱۰)
ترجمہ۔ اور تیرے پروردگار کے عرش کو اُس دن آٹھ فرشتوں نے اُٹھا رکھا ہوگا۔ (سورۃ الحاقۃ۔ ۱۷)
ان میں سے چار کے قدم زمین کی جڑ پر اور زمین و آسمان اُن کی کمر پر ہیں اور عرش ان کے کندھوں پر ہے۔ وہ بلند آواز سے۔ اللہ تعالیٰ کی تسبیح ادا کررہے ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ جہاں چاہیں گے اپنی کرسی بچھائیں گے پھر اونچی آواز میں فرمائیں گے۔ ’’اے گروہ جن و انس! میں نے جس دن سے تمہیں پیدا کیا ہے اُس دن سے اِس دن تک تمہاری خاطر خاموش رہا‘ تمہاری باتوں کو سنتا رہا اور تمہارے اعمال دیکھتا رہا اب تم میری طرف خاموشی سے توجہ کرو یہ تمہارے اعمال اور صحیفے ہیں ان کو خود پڑھو‘ جو خیر پائے اللہ کا شکر ادا کرے اور جو اس کے علاوہ پائے وہ اپنے نفس کے علاوہ کسی کو ملامت نہ کرے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ جہنم کو حکم دیں گے تو اس سے ایک بلند تاریک گردن نکلے گی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ حکم دیں گے۔
ترجمہ۔ اے مجرمو! آج الگ ہو جائو‘ اے اولاد آدم کیا میں نے تم کو تاکید نہیں کردی تھی کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا۔ (سورۃ یسیٰن۔ ۶۰)
بس اللہ تعالیٰ تمام گمراہ لوگوں کو الگ کردیں گے اور ایک پکارنے والا ہر امّت کو اس کی کتاب کی طرف پکارے گا اور ہر امّت الگ الگ ہو جائے گی تمام امتیں اس وقت ہولناکی کے باعث گھٹنوں کے بل گری ہوں گی (اس کا ذکر قرآن میں اس طرح کیا گیا ہے۔)
ترجمہ۔ اور آپ دیکھیں گے کہ ہر امّت رانوں کے بل گری پڑی ہو گی۔ ہر گروہ اپنے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا۔ (سورۃ الجاثیہ۔ ۲۸)
آیتِ مبارکہ میں وضاحت کی جارہی ہے کہ میدانِ حشر کا ایسا ہول اور عدالتِ الٰہی کا ایسا رعب لوگوں پر طاری ہوگا کہ لوگ عاجزی و انکساری سے گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے اور جو جو اعمال دنیا میں کئے ہوں گئے وہ سب کو تھمادئیں جائیں گے اور تمام لوگ اپنے اپنے فیصلے کے منتظر ہوں گے۔
پھر اللہ تعالیٰ جن و انسان کے علاوہ اپنی تمام مخلوق کے درمیان فیصلہ فرمائیں گے اور وحشی جانوروں اور غیر وحشی جانور میں فیصلہ کریں گے۔ یہاں تک کہ بے سینگ اور سینگ والے جانوروں کا حساب کردیں گے۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ تمام دیگر مخلوقات سے فارغ ہو جائیں گے تو ان کو حکم دیں گے کہ مٹی ہو جائو اس وقت کافر تمنا کرے گا کاش میں بھی مٹی ہو جائوں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ شروع کریں گے۔ سب سے پہلے خون کا فیصلہ ہو گا پھر جہاد کا ہر مقتول پیش ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ہر مقتول (کافر) کو حکم دے گا تو وہ اپنا سر اٹھائے ہوئے ہو گا جس سے خون بہہ رہا ہو گا۔ وہ استغاثہ کرتے ہوئے کہے گا یارب اس نے مجھے کس وجہ سے قتل کیا تو اللہ تعالیٰ قاتل سے پوچھیں گے جب کہ وہ خوب جانتے ہوں گے تو نے اس کو کیوں قتل کیا؟ تو وہ عرض کرے گا یارب میں نے اس کو اس لیے قتل کیا کہ تیرے دین کا غلبہ ہو۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو نے سچ کہا تو اللہ تعالیٰ اس کا چہرہ آسمانوں کے نور سے منور کردیں گے پھر فرشتے اس کو جنت میں لے جائیں گے پھر اللہ تعالیٰ ہر اس مقتول کو حکم دیں گے جو اس وجہ کے علاوہ قتل کیا گیا ہو گا۔ چنانچہ وہ مقتول بھی اپنا سر اٹھا کے پیش ہو گا۔ اس کے سر سے خون بہتا ہو گا اور عرض کرے گا یارب اس نے مجھے کس وجہ سے قتل کیا تھا؟ تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو نے اسے کیوں قتل کیا تھا؟ وہ کہے گا یارب اس کو اس لیے قتل کیا تھا کہ مجھے عزت و غلبہ حاصل ہو‘ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو ہلاک ہو گیا پھر ہر شخص جس کو کسی نے ناحق قتل کیا ہو گا اس کو بدلے میں قتل کیا جائے گا اور ہر ظلم کا بدلہ لیا جائے گا پھر اللہ تعالیٰ کی مرضی ہو گی اگر چاہے تو عذاب دے چاہے تو رحم فرمائے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنی باقی ماندہ مخلوق کے درمیان فیصلہ کرے گا یہاں تک کہ کسی پر کسی کا کوئی ظلم باقی نہیں رہے گا۔ ظالم سے مظلوم کا حساب چکا دیا جائے گا۔ حتیٰ کہ دودھ میں پانی ملانے والے کو حکم دیا جائے گا کہ وہ دودھ کو پانی سے الگ کرے‘ پھر جب اللہ تعالیٰ اس سے فارغ ہوں گے تو ایک منادی ایسی ندا کرے گا جس کو سب مخلوقات سنیں گی وہ کہے گا ہر قوم اپنے اپنے خدائوں کے ساتھ جن کی وہ اللہ کے سوا عبادت کرتی تھیں مل جائیں۔ چنانچہ جس شخص نے بھی اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کی عبادت کی ہو گی اس کے لیے اس کے سامنے اس معبود کی صورت بنا دی جائے گی۔ اس دن فرشتوں میں سے ایک فرشتے کی شکل حضرت عَذیر علیہ السلام کی بنا دی جائے گی اور ایک فرشتے کی شکل حضرت عیسیٰ ابن مریم کی بنا دی جائے گی چنانچہ یہودی اور عیسائی ان کے پیچھے چل پڑیں گے پھر ان کے یہ معبود انہیں جہنم کی طرف لے جائیں گے ان ہی کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
ترجمہ۔ اگر واقعی یہ معبود ہوتے تو اس دوزخ میں کیوں جاتے اور یہ سب کے سب اسی میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ (سورۃ الانبیاء۔۹۹)
پھر جب کوئی (مشرک ظالم) نہیں بچے گا صرف مومن رہ جائیں گے اس میں منافق بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے پاس جس حالت میں چاہیں گے آئیں گے اور فرمائیں گے۔ ’’اے لوگو! سب لوگ چلے گئے تم بھی اپنے خدائوں کے ساتھ مل جائو جن کی تم عبادت کرتے تھے۔ وہ عرض کریں گے اللہ کی قسم اللہ کے سوا ہمارا کوئی معبود نہیں ہم غیر اللہ کی عبادت نہیں کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ ان سے منہ موڑ لیں گے وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات ہی ہو گی۔ پھر اللہ تعالیٰ جتنی دیر چاہیں گے اسی حالت میں رہیں گے پھر ان کے پاس آکر فرمائیں گے اے لوگو! باقی لوگ چلے گئے تم بھی اپنے معبودوں کے پاس چلے جائو جن کی تم عبادت کرتے تھے وہ کہیں گے اللہ کی قسم اللہ کے سوا ہمارا کوئی معبود نہیں ہم غیر اللہ کی پوجا نہیں کرتے تھے پھر اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی مبارک سے پردہ ہٹائیں گے اور ان کے سامنے تجلی فرمائیں گے اور ان کے لیے اپنی عظمت کا اظہار فرمائیں گے جس سے وہ لوگ پہچان لیں گے وہ ان کا رب ہے پھر وہ اپنے چہروں کے بل سجدہ ریز ہوں گے اور پھر منافق اپنی گدی کے بل گر جائے گا اور اللہ تعالیٰ ان کی پشتوں کو بیل کے سینگ کی طرح سخت کردیں گے‘ پھر اللہ تعالیٰ مومنین کو حکم دیں گے تو وہ اپنے سر اٹھائیں گے اللہ تعالیٰ جہنم کی پشت پر پل صراط نصب کریں گے جو بال کی طرح یا تلوار کی دھار کی مانند ہو گا اس پر لوہے کے کنڈے اچک لینے والے اور سعدان (ایک کانٹے دار جھاڑی جسے اونٹ شوق سے کھاتے ہیں) کے کانٹوں کی طرح کانٹے ہوں گے اس کے نیچے پھسلنے والا پل ہو گا اس سے مومن پلک جھپکتے یا بجلی چمکنے یا ہوا کے جھونکے کی طرح یا عمدہ گھوڑے یا عمدہ تیز رفتار دوڑنے والے شخص کی طرح سے گزریں گے اور کوئی زخم زخم لہولہان ہو کر منہ کے بَل جہنم میں جاگرے گا۔ جب جنتی جنت تک پہنچ جائیں گے تو کہیں گے ہمارے رب کے پاس کون ہماری شفاعت کرے گا تاکہ ہم جنت میں داخل ہو جائیں؟ پھر کہیں گے اس شفاعت کرنے کا تمہارے باپ حضرت آدم علیہ السلام سے زیادہ کون حقدار ہے جس کو اللہ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا۔ ان میں اپنی طرف سے روح پھونکی ان سے دو بدو گفتگو کی‘ اپنے فرشتوں سے انہیں سجدہ کرایا چنانچہ سب حضرت آدم کے پاس آئیں گے اور شفاعت کا مطالبہ کریں گے تو وہ اپنی لغزش یاد کریں گے اور کہیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں تم حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جائو وہ اللہ کے سب سے پہلے رسول ہیں چنانچہ پھر سب حضرت نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور اس کا مطالبہ کریں گے تو وہ اپنی لغزش یاد کریں گے اور کہیں گے میں اس کا اہل نہیں ہوں۔ تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائو اللہ نے ان کو اپنا دوست بنایا تھا چنانچہ وہ سب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے ان سے مطالبہ کریں گے تو وہ اپنی لغزش یاد کریں گے اور کہیں گے میں اس کا اہل نہیں ہوں تم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا قرب عطا کیا تھا ان سے سرگوشی کی ان سے کلام فرمایا آپ پر تورات اتاری تو وہ سب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور مطالبہ کریں گے تو وہ فرمائیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں تم روح اللہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کے پاس جائو تو وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے مطالبہ کریں گے تو وہ فرمائیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں۔ تم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر وہ لوگ میرے پاس آئیں گے اور میری پروردگار کے پاس تین شفاعتیں ہوں گی۔ جن کی قبولیت کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے۔ چنانچہ میں جنت کے پاس آئوں گا اس کے حلقۂ در کو پکڑوں گا پھر اس کو کھلوائوں گا میرے لیے دروازہ کھولا جائے گا اور مجھے خوش آمدید اور مرحبا کہا جائے گا جب میں جنت میں داخل ہوئوں گا تو اپنے رب عز وجل شانہ کو دیکھوں گا تو میں سجدہ ریز ہو جائوں گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ مجھے اپنی تعریف اور بزرگی بیان کرنے کی اجازت دیں گے ایسی اجازت اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں دی‘ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے محمد! اپنا سر اٹھائو شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ سوال کرو عطا کیے جائو گے‘ جب میں سر اٹھائوں گا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے جب کہ ان کو خوب علم ہے تیری کیا ضرورت ہے؟ میں عرض کروں گا یارب آپ نے مجھ سے شفاعت کا وعدہ فرمایا تھا پس آپ جنتیوں کے لیے میری شفاعت قبول فرمائیں تاکہ وہ جنت میں داخل ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں نے ان کے حق میں آپ کی شفاعت قبول کرلی اور ان کو جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی۔ (تفسیر ابن جریر طبرانی‘ تفسیر ابن کثیر‘ ابن ابی حاتم‘ مسند ابولعلی‘ البدور السافرہ‘ امام جلال الدین سیوطی)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا۔ ’’اے لوگوں تم روز قیامت اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش ہونے کے لیے ننگے پائوں‘ بے لباس اور نامختون اٹھو گے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی کما بدأنا اول خلق نعیدہ (ترجمہ) جس طرح سے ہم نے ابتدائی تخلیق کی تھی اسی طرح سے (دوبارہ قبروں سے) اٹھائیں گے۔ پھر مخلوقات میں سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پوشاک پہنائی جائے گی۔ ایک اور حدیث حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا روز قیامت لوگ ننگے پائوں اور غیر مختون (بغیر ختنہ کے) اٹھیں گے۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ مرد اور عورتیں ایک دوسرے کی طرف دیکھتے نہیں ہوں گے؟ فرمایا اے عائشہ معاملہ اس دن بہت سخت ہو گا ایک اور حدیث حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو قیامت میں ننگے پائوں‘ ننگے بدن اٹھایا جائے گا۔ ایک عورت نے عرض کیا یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسے ہو گا بعض بعض کو دیکھے گا نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا اس طرح آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ (مسند احمد‘ بخاری‘ مسلم‘ نسائی‘ ترمذی‘ درامی‘ البدور السافرۃ)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کافر کو پچاس ہزار سال تک قیامت میں کھڑا کیا جائے گا جس طرح سے اس نے دنیا میں کوئی قابلِ قبول عمل اللہ کے لیے نہیں کیا اور وہ کافر جہنم کو دیکھ رہا ہو گا اور سمجھ رہا ہو گا کہ وہ چالیس سال کی مسافت سے مجھے گھیرنے والی ہے۔ (مسند احمد۔ الحاکم۔ ابن جریر)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دن کے متعلق پوچھا گیا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے کہ وہ کتنا طویل دن ہو گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اس کو مومن کے لیے مختصر کیا جائے گا اتنا کہ وہ جتنی دیر میں دنیا میں فرض نماز ادا کرتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ آسان ہوگا۔ (مسند احمد۔ ابن جبان)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ ربّ العالمین کے سامنے مومین کھڑے ہوں گے تو مومن پر قیامت کا دن ظہر اور عصر کے درمیانی وقت کے برابر ہو گا۔ (اخرجہ احمد‘شعب الایمان‘ ابن جریر‘ درمنشور‘ البدور السافرہ‘ امام سیوطی)

ترجمہ۔ بے شک ہم نے آپ کو کوثر عطا فرمائی ہے۔ سو آپ اپنے پروردگار کی نماز پڑھیے اور قربانی دیجیے۔ بالیقین آپ کا دشمن ہی بے نام و نشان ہے۔
اس سورہِ مبارکہ سے متعلق سببِ نزول اور کچھ تفصیل ابتدائی صفحات میں آپ ملاحظہ کر چکے ہیں۔ حضرت اَنس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف فرما تھے اتنے میں آپ پر کچھ اونگھ طاری ہوئی‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے سرِ مبارک اُٹھایا۔ بعض روایات میں ہے کہ لوگوں نے پوچھا کہ آپ کس بات پر تبسم فرما رہے ہیں؟ اور بعض میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود لوگوں سے فرمایا اِس وقت میرے اوپر ایک سورۃ نازل ہوئی ہے۔ پھر بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ الکوثر پڑھی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جانتے ہو کوثر کیا ہے؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ معلوم ہے۔ فرمایا وہ ایک نہر ہے جو میرے ربّ نے مجھے جنت میں عطا کی ہے۔ (امام احمد‘ مسلم‘ ابو دائود‘ نسائی‘ ابن ابی شعیب‘ ابن الُمنذر‘ ابن مردُویہ‘ بیہقی) یہ سورہ مبارکہ ایک رکوع تین آیات‘ دس کلمات اور اکتالیس حروف پر مشتمل ہے۔ یہ سورہ مکی ہے۔ علامہ سیوطی تحریر فرماتے ہیں کہ اس سورہ کا نام اسی لفظ کوثر سے ماخوذ ہے۔ یہ سورہ قرآن حکیم کی سب سے چھوٹی‘ مختصر سورہ ہے۔ اس سورہ کے تین حصے ہیں جنہیں ہم تین آیات پر منحصر بھی کہہ سکتے ہیں یہ سورہ مبارکہ ایک قرآنی معجزے کی بہترین مثال ہے گو کہ قرآن حکیم خود ایک الٰہی معجزہ ہے اس سورہ مبارکہ کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے محبوب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ صرف تسلی دے رہا ہے بلکہ بُی خوش خبری کی اطلاع دے رہا ہے‘ دوسری آیت شریف میں وہ اپنے محبوب کو انعام حاصل کرنے پر شکر گزاری کے طریقے سے بھی آگاہ کررہا ہے کہ ’’تم اپنے رب کی نماز پڑھو اور قربانی کرو۔‘‘ یہ سورۃ مبارک اپنے اندر بہت وسعت و معنی لیے ہوئے ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی و تشفی کے وقت جب کہ محبوب آزردہ و پریشانی کے عالم میں تھے ایسے وقت میں حرفِ تسلی کو بھی اپنی عبادت کو ایثار و قربانی سے مشروط کر کے امت مسلمہ کے لیے یہ چراغ روشن فرما دیا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ سے کچھ انعامات و جزا پانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر مسلمان جو اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتّباع کرتے ہوئے صراط مستقیم پر چلنے میں ثابت قدم ہو اسے چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ احکامِ الٰہی کی پابندی کرتے ہوئے معبود حقیقی اللہ واحد کی عبادت کرے اور راہ حق میں آنے والی مشکلات و مصائب میں ایثار و قربانی سے کام لے۔ ذاتی مفادات کو ذاتی اغراض کو احکامِ الٰہی اور مخلوقِ الٰہی پر ترجیح نہ دے اور صبر و نماز کو اپنا شعائر بنا لے تیسری اور آخری آیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی و تشفی کے بعد خوش خبری دی جارہی ہے کہ آپ کا دشمن نیست و نابود ہو جائے گا۔ اُسے جڑ سے ہی اکھاڑ دیا جائے گا۔ یہ سورہ مبارکہ تین آیات پر مشتمل ہے انہیں الگ الگ تفصیل سے بیان کیا جائے گا۔
ترجمہ۔ بے شک ہم نے آپ کو کوثر عطا کردی۔
اللہ تعالیٰ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب فرما کر ارشاد فرما رہا ہے کہ ہم نے تم کو کوثر عطا کی۔ اللہ تعالیٰ کی اس عطا اس انعام عظیم کو سمجھنے کے لیے ہمیں سورہ الضحیٰ کی طرف لوٹنا پڑے گا۔ سورہ الضحیٰ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب و پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو وعدہ کیا تھا جو خوش خبری سنائی تھی وہ تھی۔
ترجمہ۔ اور عنقریب اللہ تعالیٰ آپ کو (اتنا) دے گا (انعام) سو آپ خوش ہو جائیں گے۔ (سورۃ الضحٰی۔ ۵)
تفسیر۔ اس آیتِ مبارکہ کے بارے میں حدیث شریف میں آیا ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین سے فرمایا۔ ’’میں کبھی ہرگز راضی نہیں ہوں گا جب تک کہ اپنی امّت سے ایک ایک کو جنت میں داخل نہ کرا لوں۔‘‘ یہ آیت مبارکہ اللہ کے محبوب و پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اس فرمائش و خواہش کو پورا کرنے کی نوید دے رہی ہے کہا جارہا ہے ’’آپ کا رب آپ کو اتنا دے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔‘‘ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے محبوب کے لیے ایک بڑا اہم اور وسیع وعدہ ہے حق سبحانہ کی طرف سے ایک عظیم خلعت ہے اپنے محبوب کے لیے۔ اللہ تعالیٰ نے جو بخششیں اور عنایتیں‘ انعامات رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک کے پیدا ہونے سے لے کر ابتداے بہشت میں داخل ہونے تک جو عطا ہوئے ہیں۔ وہ بیان کی حد سے باہر ہیں۔ کوئی قلم‘ کوئی تحریر ایسی نہیں جو اس کا ادراک کر سکے۔ احاطہ تحریر میں لاسکے۔ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اس آیت مبارکہ کے بارے میں تحریر کرتے ہیں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جو خصوصیات اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے عطا فرمائی گئیں وہ دو قسم کی ہیں۔ پہلی قسم تو وہ ہے جس میں دوسرے انبیاء علیہم السلام بھی شریک ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ نعمت سب سے زیادہ عطا کی گئی ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء و رسل میں سب سے ممتاز اور محبوب ہیں۔ دوسری قسم خصوصیات کی وہ ہیں جو صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہی مخصوص ہیں۔ دوسرا کوئی اس میں آپ کا شریک نہیں۔ حضرت شاہ صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ یہاں مختصراً ان دونوں اقسام سے کچھ تھوڑا سا بیان کررہے ہیں تاکہ اس آیت مبارکہ کے معنی اچھی طرح ذہن نشین ہو سکیں۔ ان خصوصیات میں ایک خصوصیت حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پشت پر بھی ایسے ہی دیکھ سکتے تھے جیسا ارد گرد دیکھتے تھے۔ ایسے ہی رات کے وقت اور اندھیرے میں ایسے دیکھتے تھے جیسا کہ دن کی روشنی میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب مبارک کھارے کڑوے پانی کو میٹھا کردیتا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز مبارک اتنی دور تک سنائی دیتی تھی کہ عام آدمی کی آواز اس کے دسویں حصہ تک نہیں پہنچتی تھی۔ نیند کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سوتی تھیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قلب مبارک مصروف ذکر رہتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری عمر جمائی نہیں آئی۔ پسینہ مشک سے زیادہ خوشبودار تھا جس راستے سے گزرتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینے کی خوشبو کافی دیر ہوا میں پھیلی رہتی۔ جس سے لوگوں کو پتا چل جاتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر اس طرف سے ہوا ہے۔ دھوپ کے وقت ہمیشہ بادل آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کیے رہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوشاک مبارک پر کبھی مکھی نہیں بیٹھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عالمِ ارواح میں سب سے پہلے پیدا کیے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انبیاء و رسل میں یہ فوقیت و اہمیت حاصل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج اور براق کی سواری میسر آئی۔ آسمانوں پر جانا‘ وہاں کی سیر کرنا صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہوئی۔ قاب قوسین تک پہنچنا اور دیدار الٰہی سے مشرف ہونا یہ بھی شرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی ہے چاند کو دو ٹکڑے کرنا اور روز آخرت جب صور پھونکا جائے گا اور مردے اپنی قبروں سے اٹھائے جائیں گے تو سب سے پہلے اٹھائے جانے والے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہوں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم میدان حشر میں براق پر سوار ہو کر تشریف لائیں گے۔ ستر ہزار فرشتے آپ کے چاروں اطراف مامور ہوں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرش عظیم کے داہنی طرف کرسی پر بیٹھائے جائیں گے اور حمد کا جھنڈا آپ کے دست مبارک میں ہو گا۔ حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی تمام اولاد اس جھنڈے تلے اور تمام انبیاء السلام اپنی اپنی امتوں کے ساتھ آپ کے پیچھے ہوں گے اور دیدار الٰہی سب سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سب سے پہلے صراط مستقیم سے گزریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سب سے پہلے بہشت کا دروازہ کھولیں گے اور روز قیامت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی ’’وسیلہ‘‘ کے مرتبے پر فائز کیا جائے گا۔ (وسیلہ ایسا بلند ترین مرتبہ ہے جو تمام مخلوقات میں سے کسی کو میسر نہیں ہوا)
تمام شریعتوں‘ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت جن باتوں میں مخصوص ہے ان کی گنتی بہت طویل ہے۔ آپ کی شریعت میں کافروں کی غنیمت کا مال حلال کیا گیا ہے۔ تمام زمین کو مسجد بنا دیا گیا یعنی جس جگہ چاہیں نماز پڑھیں۔ زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی ہے یعنی تیمم مشروع ہوا۔ وضو‘ پانچ وقت کی نماز‘ اذان‘ اقامت‘ سورہ فاتحہ‘ آمین‘ جمعہ کا دن‘ مقبولیت کی ساعت جمعہ کے دن میں ہے‘ رمضان‘ شریعت‘ شب قدر کی برکتیں یہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے لیے مخصوص ہیں۔
وہ فضائل و خصوصیات اور کمالات جو اللہ جل شانہ نے خاص اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائے اور انبیاء کرام میں سے کسی اور نبی کو ان میں شریک نہیں فرمایا ان کے متعلق حدیث شریف میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے چند چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی پیغمبر کو نہیں دی گئیں۔
(۱) میری بعثت تمام دنیا کی طرف ہوئی۔ مجھ سے پہلے انبیاء صرف اپنی اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوئے اور میں تمام دنیا کے لیے مبعوث ہوا ہوں۔
(۲) میں خاتم النبین ہوں۔ میری ذات پر سلسلہ انبیاء ختم ہوا۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
(۳) مجھ کو جو امع الکلم عطا کیے گئے یعنی ایسے مختصر اور جامع کلمات کہ الفاظ تو تھوڑے ہوں اور معنی بے شمار (جیسا کہ احادیث نبوی کا مجموعہ)
(۴) مجھے رعب و ہیبت کے ذریعے فتح و نصرت عطا کی گئی۔ بلا اسباب ظاہری کے ایک مہینے کی مسافت تک کے میرے دشمن مجھ سے مرعوب و خوفزدہ رہتے ہیں۔
(۵) تمام روئے زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور مطہر بنا دی گئی یعنی میری امت کو ہر جگہ نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ خواہ مسجد ہو یا غیر مسجد اور میرے لیے پاک مٹّی سے تیمم کا حکم نازل ہوا کہ مجھے ہر جگہ تیمم کی اجازت ہے اور میرے لیے مٹّی کو پانی کی طرح مطہر پاک کرنے والی چیز بنا دیا گیا۔
(۶) مال غنیمت میرے لیے حلال کردیا گیا جو مجھ سے پہلے کسی پیغمبر کے لیے حلال نہیں تھا۔
(۷) میرے پیرو تمام انبیاء و مرسلین کے پیروں سے زیادہ ہوں گے چنانچہ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن جنتیوں کی ۱۲۰ صفیں ہوں گی جن میں سے ۸۰ صفیں امت محمدیہ کی ہوں گی۔
(۸) مجھے شفاعت کبریٰ کا مرتبہ عطا کیا گیا کہ قیامت کے دن اولین اور آخرین میری طرف رجوع کریں گے اور میں ان کے لیے بارگاہ الٰہی میں شفاعت کروں گا۔
(۹) سب انبیاء و مرسلین سے پہلے میں اپنی امت کو پل صراط سے لے کر گزروں گا۔
(۱۰) سب سے پہلے میں جنت میں داخل ہوں گا اور ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنھا میرے دائیں اور بائیں ہوں گے اور جنت میں ہر نبی کے لیے حوض ہو گی اور میری حوض سب سے وسیع اور پررونق ہو گی۔
اس آیت مبارکہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے محبوب سے وعدہ فرما رہا ہے۔ ’’عنقریب تمہارا رب تم کو اتنا دے گا کہ تم خوش ہو جائو گے۔‘‘ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہہ کر خوش خبری دی جارہی ہے اور یہ واضح کیا جارہا ہے کہ اے محبوب تم فکرمند نہ ہو۔ دینے میں اگرچہ کچھ دیر لگے گی لیکن وہ وقت دور نہیں جب تم پر تمہارے رب کی عطا و بخشش کی وہ بارش ہو گی کہ تم خوش ہو جائو گے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ جو اس نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی اس طرح پورا ہوا کہ سارے عرب سے لے کر جنوب کے سواحل تک اور شمال میں سلطنت روم اور سلطنت فارس کی عراقی سرحدوں تک اور مشرق میں خلیج فارس سے لے کر مغرب میں بحر احمر تک کا علاقہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر نگیں آگیا تھا‘ عرب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ سرزمین ایک قانون ایک ضابطۂ حیات کی تابع ہو گئی تھی۔ جو طاقت بھی اس سے ٹکرائی وہ پاش پاش ہو کر رہ گئی اور کلمہ حق لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ کی گونج سے پورا خطہ گونج اٹھا جب کہ تمام مشرکین اور اہل کتاب اپنے جھوٹے کلمے بلند رکھنے کے لیے آخر دم تک پوری ایڑی چوٹی کا زور لگا چکے تھے۔ اس کلمہ طیبہ سے لوگوں کے صرف سر ہی اطاعت الٰہی میں نہیں جھک گئے بلکہ ان کے دل بھی مسخّر ہو گئے اور عقائد‘ اخلاق اور اعمال میں ایک عظیم انقلاب برپا ہو گیا۔ پوری انسانی تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی کہ جاہلیت میں پوری طرح ڈوبی ہوئی ایک قوم صرف ۲۳ برس میں اتنی بدل جائے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تحریک اس طاقت سے اٹھی کہ عرب تو عرب‘ ایشیا‘ افریقہ اور یورپ کے بڑے حصے پر چھا گئی اور دنیا کے گوشے گوشے میں اس کے اثرات پھیل گئے۔ یہ کچھ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں دیا اور آخرت میں جو کچھ عطا فرمائے گا اس کی عظمت کا کوئی کسی بھی طرح سے تصور نہیں کرسکتا۔ نعمت کا لفظ عام ہے جس سے مراد وہ نعمتیں بھی ہیں جو اس سورہ مبارکہ الضحیٰ کے نزول کے وقت تک اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی تھیں اور وہ نعمتیں بھی جو بعد میں اللہ نے اپنے وعدوں کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیں جن کا اظہار اس سورہ مبارکہ میں کیا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے پورا کیا اور پھر اللہ نے اپنے پیارے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ جو نعمتیں آپ کو عطا کی گئیں ہیں ان کا ذکر کرو اظہار کرو‘ ان نعمتوں کے اظہار کی زبانی صورت تو یہ ہے کہ اللہ کا شکر ادا کیا جائے اور اقرار کیا جائے کہ جو نعمتیں بھی حاصل ہیں وہ سب اللہ کا فضل و احسان ہے ورنہ کوئی چیز بھی میرے کسی ذاتی کمال کا نتیجہ نہیں۔ نعمتِ نبوت کا اظہار اس طریقے سے ہوا کہ دعوت و تبلیغ کا حق ادا کیا گیا۔ نعمتِ قرآنِ حکیم کے اظہار کی صورت یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں میں اس کی اشاعت کی جائے اور اس کی تعلیمات لوگوں کے ذہن نشین کی جائیں۔ نعمتِ ہدایت کا اظہار اس طرح ہو سکتا ہے کہ اللہ کی بھٹکی ہوئی مخلوق کو سیدھا راستہ بتایا جائے اور اس کی ساری تلخیوں‘ ترشیوں کو صبر کے ساتھ برداشت کیا جائے۔ یتیمی میں دستگیری کا جو احسان اللہ تعالیٰ نے کیا اس کا تقاضہ ہے کہ یتیموں کے ساتھ احسان کا سلوک کیا جائے۔ نادار سے مالدار بنانے کا جو احسان اللہ تعالیٰ نے کیا اس کا اظہار اس صورت ہو سکتا ہے کہ محتاج و نادار افراد کی مدد کی جائے۔ غرض یہ کہ ایک بڑی جامع ہدایت ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے انعامات اور احسانات بیان کرنے کے بعد اس مختصر سے فقرے میں اپنے حبیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی ہے۔
علامہ سید محمود آلوسی ؒ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کریمانہ وعدہ ہے جو ان تمام عطیات کے لیے ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دنیا میں سرفراز فرمایا ہے یعنی کمال نفس‘ اوّلین و آخرین کے علوم‘ اسلام کا غلبہ‘ دین کی سربلندی‘ ان فتوحات کے باعث جو عہد رسالت مآب میں ہوئیں۔ خلفائے راشدین کے زمانے میں ہوئیں یا ان کے بعد دوسرے مسلمان بادشاہوں کے زمانے میں ہوئیں اور اسلام دنیا کے مشرق و مغرب میں پھیلتا چلا گیا۔ یہ وعدہ ان عنایات اور عزت افزائی میں شامل ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حبیبِ مکرم کے لیے آخرت کے لیے محفوظ رکھی ہیں جن کی حقیقت کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جاتا۔
حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں اپنی امت کے لیے شفاعت کرتا رہوں گا۔ یہاں تک کہ میرا رب مجھے ندا کرے گا اور پوچھے گا اے محمد آپ راضی ہو گئے؟ میں عرض کروں گا ہاں میرے پروردگار میں راضی ہو گیا۔
علامہ آلوسی ؒ نے حضرت امام باقر ؓ کی ایک روایت نقل کی ہے۔ حرب بن شریح کہتے ہیں کہ میں نے امام مذکور سے پوچھا کہ جس شفاعت کا ذکر اہل عراق کرتے ہیں کیا یہ حق ہے آپ نے فرمایا بخدا حق ہے مجھ سے محمد بن حنیفہ نے حضرت علی کرم اللہ وجہ سے روایت کی امام باقر نے کہا ہم اہل بیت کتاب الٰہی میں سب سے زیادہ امید افزا آیت کو سمجھتے اور کہتے ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جو انعامات عالیہ عطا فرمائے ان میں سب سے بڑا عطیہ یا انعام تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ہے۔ نبوت چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی آخر الزماں بنا کر مبعوث کیا گیا یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کی خاص الخاص عطا تھی۔ انبیاء کرام کے سلسلے کی آخری کڑی جس سے یہ سلسلہ مکمل ہوا اور پایہ تکمیل کو پہنچا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بارے میں قرآن کریم میں نہایت صراحت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نئے نبی نہیں ہیں بلکہ جماعت انبیاء کے ایک فرد ہیں اور اس سلسلے نبوت کی ایک کڑی جو ابتدائے آفرنیش سے لے کر آپ کی بعثت تک جاری رہی جس میں ہر قوم ہر زمانے کے انبیاء و رسل شامل ہیں۔ ان ہی پیغمبروں اورڈرانے والوں میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں جیسا کہ سورہ آل عمران میں کہا جارہا ہے۔
ترجمہ۔ محمد کچھ نہیں ہیں مگر ایک رسول ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے۔ (سورۃ آل عمران۔۱۴۴)
اس طرح قرآن حکیم اپنے لانے والے کی صحیح حیثیت واضح کرنے کے بعد ان کاموں کی تفصیل بیان کررہا ہے جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی کو بھیجا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کام بحیثیت مجموعی دو شعبوں سے تعلق رکھتا ہے۔ ایک تعلیمی شعبہ دوسرا عملی شعبہ۔
تعلیمی شعبے میں سب سے پہلے تلاوتِ آیات‘ تزکیۂ نفس اور تعلیم کتاب و حکمت جیسا کہ سورہ آل عمران میں خود اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
ترجمہ۔ درحقیقت ایمان لانے والوں پر اللہ کا بڑا احسان ہے کہ اس نے ان کے درمیان خود انہی میں سے ایک ایسا رسول اٹھایا جو انہیں اس کی آیات سناتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے ورنہ اس سے پہلے وہ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔ (سورۃ آل عمران۔۱۶۴)
ترجمہ۔ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمہارے لیے اسلام کے طریقے کو پسند کیا۔ (سورۃ المائدہ۔۳)
ان آیات میں قرآن کریم کے بھیجنے والے نے اس کے لانے والے (حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم) سے صرف اتنی ہی خدمت نہیں لی کہ وہ اس کی آیات کی تلاوت کر کے نفوس کا تزکیہ کرے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دے بلکہ اس نے (اللہ تبارک و تعالیٰ) اپنے نیک بندے کے ذریعے اُس کام کو بھی پایۂ تکمیل تک پہنچا دیا بلکہ جو آیات نوع انسانی تک بھیجنی تھیں وہ بھی اس کے واسطے سے بھیج دیں۔ جن خرابیوں سے انسانی زندگی کو پاک کرنا مقصود تھا وہ بھی اس کے ہاتھوں سے کراکے دکھا دیا۔ جن خوبیوں کی نشوونما جس شان کے ساتھ معاشرے میں ہونا چاہیے تھی اس کا بہترین نمونہ اس کی رہنمائی میں پیش کردیا اور کتاب و حکمت کی ایسی تعلیم اس کے ذریعے سے دلوا دی کہ آنے والے تمام زمانوں میں مقصودِ کتاب کے مطابق انسانی زندگی کی تشکیل و تعمیر کی جاسکے یہ نعمتِ الٰہی اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ایسے ہی کچھ اور نعمت الٰہی کا ذکر سورۃ الاحزاب میں اس طرح کیا گیا ہے۔
ترجمہ۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم نے تم کو گواہ اور خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا۔ اور اللہ کے حکم سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور ایک روشن گر آفتاب بنا کر بھیجا ہے۔ (سورۃ الاحزاب۔ ۴۵۔۴۶)
ترجمہ۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم نے تم پر حق کے ساتھ یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ تم اللہ کے بتائے ہوئے قوانین کے مطابق لوگوں کے فیصلے کرو اور خیانت کرنے والوں کے وکیل نہ بنو۔ (النساء۔۱۰۵)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے سیاست‘ عدالت‘ اصلاحِ اخلاق و تمدن اور قیام تہذیبِ صالح کے تمام پہلوئوں پر کام لیا۔ بے شک اللہ تعالیٰ کی یہ عطا ایسی ہے جو تمام اسلامی معاشرے اور نظامِ حیات پر حاوی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام یعنی دین حق کی تبلیغ کسی ایک قوم یا ملک یا دَور کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ تو تمام نوع انسانی کے لیے اور تمام زمانوں کے لیے عام ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی خصوصیت اور ربِ کائنات کی عطا جس کی قرآنِ حکیم ہمیں تعلیم دے رہا ہے یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلسلہ نبوت و رسالت ختم کردیا گیا اور اس کے بعد دنیا میں پھر کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور نبی کی ضرورت و حاجت باقی ہی نہیں رہے گی جیسا کہ سورہ الاحزاب میں فرمایا گیا ہے۔
ترجمہ۔ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں مگر وہ اللہ کے رسول ہیں اور نبیوں کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہیں۔ (سورۃ الاحزاب۔۴۰)
اس آیتِ مبارکہ میں یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ایک عالم گیر اور ابدی نبوت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے ہی دین کی تکمیل ہوئی ہے۔ چونکہ قرآنِ حکیم کے احکام کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت تمام دنیا کے انسانوں کے لیے ہے یہ کسی ایک قوم قبیلے کے لیے نہیں تمام عالم انسانی کے لیے ہی نہیں بلکہ تمام کائنات کے لیے ہے اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمۃ اللعالمین بنا کر مبعوث فرمایا ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے وہ عظیم کام پایۂ تکمیل تک پہنچ چکا ہے جس کی ابتداء حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی اور جس کے لیے ہر دور میں انبیاء اکرام کی ضرورت رہی اور انبیائے کرام آتے رہے تاکہ دین کا تسلسل برقرار و قائم رہے چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختمِ نبوت ہونا تھی اس لیے کہ دین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہی توسط سے پایۂ تکمیل کو پہنچایا گیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت کے لیے بھی بہتبڑا انعام اور اس کی عطا ہے۔
اس آیتِ مبارکہ کی تشریح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک حدیث سے واضح فرمائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری مثال نبیوں میں ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک نہایت خوب صورت مکان بنایا اور تمام عمارت بنا کر صرف ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ اب جو لوگوں نے اس کے گرد چکر لگایا تو انہیں وہ خالی جگہ کھٹکنے لگی اور وہ کہنے لگے کہ اگر یہ آخری اینٹ بھی رکھ دی جاتی تو مکان بالکل مکمل ہو جاتا۔ سو وہ آخری اینٹ جس کی جگہ نبوت کے محل میں باقی رہ گئی تھی وہ میں ہی ہوں۔ اب میرے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مثال سے ختمِ نبوت کی وجہ صاف سمجھ میں آجاتی ہے۔ جب دین کامل ہو چکا۔ آیاتِ الٰہی پوری وضاحت و حکمت کے ساتھ بیان کی جاچکیں۔ او امر ونواہی‘ عقائد و عبادات‘ تمدن و معاشرت‘ حکومت و سیاست غرض انسانی زندگی کے ہر ہر شعبے سے متعلق پورے پورے احکامِ الٰہی بیان کردیئے گئے اور دنیا کے سامنے اللہ کا کلام اور اللہ کے رسول کا اسوۂ حسنہ اس طرح پیش کردیا گیا کہ ہر قسم کی تحریف و تلبیس سے وہ پاک ہے اور ہر عہد میں اس سے ہدایت حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس لیے مزید کسی نبوت کی ضرورت باقی ہی نہیں رہتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی ایک اور عنایت اور انعام آپ کی پوری امّت کے لیے آپ کا رحمت بنانا بھی ہے جیسا کہ قرآن حکیم میں واضح کہا گیا ہے۔
ترجمہ۔ اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو تمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔ (سورۃ الانبیاء۔۱۰۷)
اس آیتِ مبارکہ میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ کی جانب سے ایک عظیم عطا کا ذکر کیا گیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ نے جو یہ عطا کی ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام امّت کی فلاح و بہتری کے لیے ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ذاتِ مبارکہ سے کہیں زیادہ بلکہ ساری فکر و غم اپنی امت کے لیے ہی رہتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی آخر الزماں کی دل جوئی اور دلداری کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام عالموں کے لیے رحمت بنا دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لے آئے گا اس نے گویا اس رحمت کے سائے کو قبول کرلیا اور اللہ تعالیٰ کی اس نعمتِ عظیم کا شکر ادا کیا۔ نتیجتاً وہ دنیا و آخرت کی تمام سعادتوں سے بہرمند ہو گا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت چونکہ پورے جہان کے لیے ہے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات بھی تمام جہان کے لیے ہیں ان تعلیمات کو دین و دنیا کے لیے رحمت قرار دیا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے امت پوری طرح سے تباہی و بربادی سے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دی گئی۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے پہلے کی امتیں‘ قومیں حرف غلط کی طرح مٹا دی جاتی تھیں لیکن امّت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم جو اجابت‘ دعوتِ حق کے اعتبار سے پوری نوع انسانی پر مشتمل ہے اس پر اس طرح کا کلی عذاب نہیں آئے گا۔ ایک حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مشرکین کے لیے بددعا نہ کرنا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کا ایک حصہ ہے۔ (صحیح مسلم) ایسے ہی غصے کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی مسلمان کو لعنت یا سب وشتم کرنے کو بھی قیامت والے دن رحمت کا باعث قرار دینا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کا حصہ ہے۔ (مسند احمد۔ ابو دائود) ایک اور حدیث شریف میں یوں بیان فرمایا۔ ’’میں رحمتِ مجسم بن کر آیا ہوں جو اللہ کی طرف سے اہلِ جہان کے لیے ایک ہدیہ ہے۔‘‘ (صحیح جامع الصغیر) ایسے ہی ایک اور عطاء و عنایت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی تمام جہانوں کی رہنمائی اور ہدایت کی کتاب کا نزول ہے جس کے لیے خود قرآن کریم یوں فرما رہا ہے۔
ترجمہ۔ اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو ‘ تو دیکھتا کہ خوفِ الٰہی سے وہ پست ہو کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہم ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور و فکر کریں۔ (سورۃ الحشر۔۲۱)
اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم اور اپنی عطاء کا ذکر فرما کر اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت و ادراک کا اظہار فرما رہا ہے کہ ہم نے اپنے محبوب کو کتنا قوی کتنا ادراک فہم عطا کیا۔ وہ اتنا عظیم ہے کہ پہاڑ جو اپنی سختی و مضبوطی میں دنیا میں سب سے زیادہ ہے وہ بھی میرے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت و ادراک کے سامنے بالکل پست ہے اگر ہم قرآن کو اتارنے کے لیے پہاڑ میں بھی فہم و ادراک پیدا کردیتے وہ صلاحیت جو ہم نے انسان میں رکھی ہے وہ بھی پیدا کردیتے تو قرآن حکیم کی بلاغت و فصاحت قوت و استدلال اور وعظ تذکرے کے ایسے پہلو ہیں جنہیں سن کر پہاڑ بھی باوجود اتنی سختی اور وسعت و بلندی کے خوف الٰہی سے ریزہ ریزہ ہو جاتا۔ اس آیتِ مبارکہ میں خطاب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ قرآن مجید نازل کیا جو ایسی عظمت و شان کا حامل ہے کہ اگر ہم اسے کسی پہاڑ پر نازل کردیتے تو وہ ریزہ ریزہ ہو جاتا لیکن یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ہمارا احسان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا قوی اور مضبوط کردیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز (قرآن حکیم) کی قوت کو برداشت کرلیا جس کی طاقت پہاڑ میں نہیں ہے۔ (فتح القدیر) یہ آیت مبارکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ہر فرد کے سمجھنے کے لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو عقل و فہم کی صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں تاکہ وہ قرآن حکیم کے مواعظ سے نصیحت حاصل کریں اور نافرمانیوں سے اجتناب کریں یہاں عام انسانوں کے لیے نصیحت ہے انہیں سمجھایا ڈرایا جارہا ہے کہ وہ کلام الٰہی کو خوب سمجھ لیں اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح صحیح پیروی کریں اور رحمت اللعالمین کی رحمت کے سائے میں اپنی آخرت کا سامان کر لیں۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا انعامِ عام ہے کہ انہوں نے اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کچھ عطا کر کے مبعوث فرمایا جو اس سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کیا گیا۔ ایک اور بڑی عظیم الشان نعمت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہونے والی معراج کی سعادت ہے۔ یہ انعام حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک پر ایک مرصّع تاج کی مانند چمکتا دمکتا نظر آتا ہے۔ ایسا تاج جو تمام انبیاء السلام سمیت تمام تاریخ انسانی کے کسی اور فرد کی حیات و سیرت میں نظر نہیں آتا۔ اس کا ذکر اللہ ربّ العّزت نے قرآنِ حکیم میں سورہ بنی اسرائیل کے آغاز میں فرمایا ہے۔ معراج کا واقعہ درحقیقت تاریخ انسانی کے ان بڑے اہم واقعات میں سے ہے جنہوں نے زمانے کی رفتار ہی بدل ڈالی اور تاریخ پر اپنا مستقل اثر چھوڑا ہے۔ یہ امّتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم پر اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے۔
ترجمہ۔ پاک ہے وہ (اللہ تعالیٰ) جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے‘ اس لیے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض مشاہدے دکھائیں یقینا اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے دیکھنے والا ہے۔ (سورۃ بنی اسرائیل۔۱)
اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندے اور برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج کا ذکر فرمایا ہے جو ناصرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے ایک عظیم الشان واقعہ ہے۔ اس آیتِ مبارکہ میں بھی واقعہ معراج دراصل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دل جوئی و تسلی کا ذریعہ ہی ہے کیونکہ جس روز اللہ کے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا کی چوٹی پر کھڑے ہو کر اہل مکہ اور قریش کو دعوت حق دی تھی اسی روز سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف دشمنانِ حق اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور ہر طرف سے مصائب و آلام کا سیلاب امڈ آیا تھا اور ہر روز رنج و غم میں اضافہ ہوتا جارہا تھا بعثتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے دسویں سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شفیق و مہربان سر پرست چچا ابو طالب وفات پا گئے۔ ابھی اس صدمے کو زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مونس و ہمدم رفیقۂ حیات ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ نے بھی اِسی سال اس جہانِ فانی سے کوچ فرما لیا۔ (ابن البّر کے مطابق مقاطعہ اور محصوری کے خاتمے کے بعد شعیب سے نکلنے کے چھ ماہ بعد ہوئی اور ان کے تین دن بعد اُمّ المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا جبکہ ابن سعد لکھتے ہیں ابوطالب کی عمر انتقال کے وقت اسی برس تھی ان کے ایک مہینہ پانچ دن بعد اُمّ المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا وفات پاگئی اس وقت اُن کی عمر ۶۵ برس تھی۔ حکیم بن حزام کے حوالے سے بلاذری نے ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکی تاریخ وفات سن ۱۰ رمضان ۱۰ بعد بعثت نبوی لکھی ہے) اس سے قبل آپ کے دونوں صاحبزادے یکے بعد دیگرے کمسنی میں وفات پا گئے تو ان جانکاہ حادثوں پر اہلِ مکہ کو ذرا رنج نہ ہوا بلکہ انہوں نے اطمینان کا سانس لیا اور خوشی کے شادیانے بجائے اور انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا ان کا لڑکا تو کوئی رہا نہیں جب آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) دنیا میں نہیں رہیں گے تو یہ سلسلہ خود بہ خود ختم ہو جائے گا۔ اس طرح انہوں نے اپنے اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ اہلِ مکہ کے ایسے ہی رویوں‘ ماحول اور حالات سے مایوس ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے طائف تشریف لے گئے کہ شاید وہاں کے لوگ دعوتِ حق کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہو جائیں۔ لیکن وہاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظالمانہ اور بہیمانہ سلوک اختیار کیا گیا اس نے سابقہ زخموں پر نمک پاشی کا کام کیا۔ ان حالات میں جب ہر طرف سے بہ ظاہر مایوسی ناامیدی کا سامنا ہورہا تھا تب رحمتِ الٰہی نے اپنی عظمت و کبریائی کا مشاہدہ کرانے کے لیے اپنے محبوب بندے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم بالا کی سیر کے لیے بلا لیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طبیعت پر جو تکدّر کا غبار محسوس فرما رہے ہیں اسے دُور کردیا جائے اگر غور و فکر کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ سفرِ معراج کے لیے اس سے موزوں وقت کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ (معراج کا واقعہ داقدی کے مطابق جسے ابن سعد نے نقل کیا ہے ۱۷ رمضان المبارک ۱۲ بعد بعثت نبوی یعنی ہجرت سے اٹھارہ مہینے پہلے پیش آیا ابن سعدؓ کے حوالے سے ہی ایک اور روایت ہے جس میں معراج کا واقعہ ۱۷ ربیع الاول بعد بعثت یعنی ہجرت سے ایک سال قبل بیان کیا ہے۔ بہقی نے موسیٰ وب عقبہ اور انہوں نے امام زُہری کے حوالے سے معراج کی ہی تاریخ بیان کی ہے)
سبحٰن‘ سبح کا مصدر ہے اس کے معنی تسبیح یعنی پاکی بیان کرنے کے ہیں امام سیوطیؒ الاتقان میں لکھتے ہیں سبحٰن اللہ (اللہ پاک ہے) اور سبحان الذی اسریٰ پاک ہے وہ ذات جو لے گیا۔ سبحٰن اللہ یعنی کہ میں اللہ کی ہر نقص سے تنزیہ اور برأت کرتا ہوں۔ اسریٰ کے معنی رات کو لے جانا اور ’’لیل‘‘ اس لیے استعمال ہوا تاکہ رات کی قلت واضح ہو جائے اس لیے وہ نکرہ ہے۔ یعنی رات کے ایک حصے میں یا کچھ حصے میں۔ تقریباً چالیس راتوں کا طویل ترین سفر پوری رات میں بھی نہیں بلکہ رات کے ایک قلیل حصے میں طے ہوا۔ یہاں واقعہ معراج کو انتہائی اختصار سے پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ویسے تو یہ مسافت بہت طویل ہے اس پر محققین نے بہت کچھ اور بہت سا تحریر کیا ہے۔ اس سفر میں پیش آنے والا ہر واقعہ بلاشبہ اپنی جگہ بڑا عجیب و غریب ہے۔ سفرِ معراج کا واقعہ ہجرت سے ایک سال قبل اور بعض روایت کے مطابق اٹھارہ ماہ قبل پیش آیا۔ اس سفرِ مبارک کے بارے میں مسلمانوں کا ایک گروہ اس بات سے انکار کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج جسمانی طور پر ہوئی۔ وہ اسے حالتِ خواب سے تعبیر کرتے ہیں۔ معراج جسمانی تھی یا روحانی اس سلسلے میں بڑی تفصیلی بحث کتب میں موجود ہے۔ جبکہ اہلِ مکہ کفارِ قریش اس کا مضحکہ اڑاتے اور اس کی تکذیب کرتے اور ثبوت طلب کرتے تھے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ یہ بنی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم پر اور اُس توسط سے پوری مسلم اُمّت پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام بھی ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت اور علم و دانائی اہلِ ایمان پر آشکارہ کرنے کے لیے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سفرِ معراج کرایا۔ کیونکہ آپصلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ سے ہجرت سے قبل جو آیاتِ قرآنی آپ پر نازل کی گئیں اُن کی تعداد ۶۵ ہیں اور وہ سب کی سب اللہ کی وحدانیت اللہ کی قوت و حکمت و اقتدار سے متعلق ہیں یہی وجہ ہے کہ مکی اور مدنی سورتوں کا پس منظر‘ طرز بیان‘ اسلوب و آہنگ ایک دوسرے سے مختلف ہے مکی سورتیں عموماً اصولی تعلیمات پر مشتمل ہیں ان میں زیادہ زور عقائد اور اخلاق پر دیا گیا ہے۔ چنانچہ ان میں توحید‘ رسالت‘ آخرت‘ تقویٰ‘ صبر و ثبات‘ فدا کاری‘ انفاق فی سبیل اللہ‘ راہِ حق سے منہ موڑنے والوں کا انجام اس کی مثالیں کفار و مشرکین کے الزامات کے جوابات بڑی خوبصورتی اور خوبی سے دئے گئے ہیں۔ یہ تمام سورتیں مختصر اور پر جوش ہیں ان میں چھوٹے چھوٹے جملوں میں مطالب ادا کئے گئے ہیں اور ان میں پوری انسانیت کو مخاطب کیا گیا ہے۔
چونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عملی نمونے کے طور پر بھی ہر چیز کا مشاہدہ کرانا تھا اور قرآنِ حکیم میں آگے آنے والی آیات جن میں لوگوں کو قوانینِ الٰہی سکھانے اور سمجھانے تھے اور اُن کو نہ ماننے کی سزا سے اور ماننے کی جزا سے آگاہی کے ساتھ ساتھ خوف بھی پیدا کرنا مقصود تھا۔ جنت‘ دوزخ اور ہر اعمال کی تفصیلی جزا و سزا کا ادراک بھی کرانا تھا۔ جن کا ذکر اس سفرِ معراج کے بعد قرآنِ حکیم میں آیا۔ وہ تمام واقعات و اعمال جن کا ذکر قرآنِ حکیم میں آیا اللہ تبارک و تعالیٰ نے سفرِ معراج میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چشم دید کراکے اس پر آپ کو گواہ بھی بنا دیا۔ جیسا کہ قرآنِ حکیم میں سورۃ الاحزاب کی آیات ۴۵ اور ۴۶ میں کہا گیا ہے۔ ’’اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم نے تم کو گواہ اور خوش خبری دینے والا ڈرانے والا اور اللہ کے حکم سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا ایک روشن گر آفتاب بنا کر بھیجا ہے۔‘‘ اس سے بھی یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کا سفر ان کے پورے ہوش و حواس اور توانائیوں کے ساتھ کرایا۔ تاکہ جب آپ اس سفر کی تفصیل سے اہلِ مکہ اور کفارِ قریش کو آگاہ کریں تو وہ اس پر اپنے ردِ عمل کا فوری اظہار کریں اور پھر جب وقتاً فوقتاً وہ تمام باتیں جو سالوں بعد قرآنِ حکیم کی آیات کے ذریعے ان تک پہنچیں تو وہ ذہنی طور پر پہلے سے تیار ہوں اور اُن کی صداقت پر انہیں کوئی وسوسہ‘ شک و شبہہ نہ رہے۔ آیاتِ قرآنی احکامِ الٰہی کی ہیبت و قوت اُن پر طاری ہوجائے اور قرآنی احکام کی چشم دید گواہی کا احوال وہ پہلے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفرِ معراج میں سن چکے تھے۔ یہاں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اُن احادیث مبارکہ کا ایک جامع خلاصہ پیش کردیا جائے جن میں معراجِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس محیرالعقول سفر کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں اور یہ بھی کہ معراج سے واپسی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو پیغام اللہ کی جانب سے ملا تھا وہ دنیا کے سامنے کس طرح پیش کیا۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منصبِ پیغمبری پر فائز ہوئے تقریباً بارہ سال گزرے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارکہ اس وقت باون برس کی تھی۔ ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم حرم کعبہ میں استراحت فرما رہے تھے کہ اچانک حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کیا اور نیم غنودگی کے عالم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چاہ زم زم پر لے گئے۔ وہاں حکمِ الٰہی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ مبارک چاک کر کے آب زم زم سے دھویا اور علم برد باری‘ دانائی اور ایمان و یقین سے بھر دیا۔ (بخاری‘ مسلم‘ مسند احمد‘ حاکم‘ ابن جریر‘ ابن ابی حاتم‘ طبرانی‘ راوی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے لیے ایک سفید رنگ کا جانور براق پیش کیا گیا جو قد میں گو گدھے سے بڑا تھا اور خچر سے کسی قدر چھوٹا جو برق کی رفتار سے چلتا تھا برّاق کا لفظ برق (بجلی) سے ماخوذ ہے اس کی رفتار برق کی مانند تھی اس لیے اسے برّاق کہا گیا محقیقن کے مطابق اس کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ تھی۔ اس کا ہر قدم حد نگاہ پر پڑتا تھا۔ (جہاں تک ہماری نگاہ کام کرتی ہے یعنی ننگی آنکھوں سے ہم چاند‘ سورج‘ ستارے دور دور تک دیکھ سکتے ہیں۔ اس سے براق کی رفتار کا اندازہ کیا جاسکتا ہے اسے ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ آج جو مصنوعی سیارے خلا میں بھیجے جاتے ہیں ان سے بھی کہیں زیادہ اس کی رفتار ہے) اسی نسبت سے اس کا نام براق تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس پر سوار ہونے لگے تو وہ چمکا جس پر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اسے تھپکی دے کر کہا۔ ’’دیکھ کیا کرتا ہے‘ آج تک محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے بڑی شخصیت کا کوئی انسان تجھ پر سوار نہیں ہوا۔‘‘ اس پر براق شرمندہ ہو کر پسینے پسینے ہو گیا۔ (مسند احمد‘ ترمذی‘ ابن حبان‘ ابن جریر‘ ابن اسحاق‘ ابن سعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے تو وہ چلا حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ چلے (ابن جریر‘ بیہقی‘ نسائی‘ حاکم‘ ابن ابی حاتم‘ طبرانی‘بزار اور ابن سعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس سفر کی پہلی منزل مدینہ منورہ کی تھی جہاں اتر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا اس جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے آئیں گے دوسری منزل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طور سینا کی تھی جہاں اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہم کلام ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیسری منزل بیت اللحم کی تھی جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تھے‘ چوتھی منزل پر بیت المقدس تھا جہاں براق کا یہ سفر ختم ہوا۔ واقعاتِ معراج میں سواری یعنی براق کا استعمال سے یہ ثابت ہورہا ہے کہ یہ سفر جسمانی تھا اور خود سورۃ بنی اسرائیل کی پہلی آیت جو سفرِ معراج پر سند ہے اس میں اللہ تعالیٰ خود فرما رہا ہے۔ ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجدِ حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا اور سورۃ میں عبد کا استعمال اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ کو روح مع الجسد یہ سفر کرایا گیا۔ ورنہ تو لفظ عبد کی جگہ روح یا اس کے مماثل کوئی لفظ استعمال کیا جاتا۔ ایسی برق رفتار سواری کا سوار بھی ایسا ہی قوی اور مضبوط ہونا چاہیے تب ہی تو ایک کڑور گیارہ لاکھ ساٹھ ہزار فی گھنٹہ رفتار رکھنے والی سواری پر سفر کرسکتا ہے۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت اور مضبوطی کا اظہار اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورۃ الحشر کی آیت ۲۱ میں بیان فرمایا ہے۔ ’’اگر ہم اس قرآن کی کسی پہاڑ پر اُتارتے تو‘ تو دیکھتا کہ وہ خوفِ الٰہی سے پست ہوکر ریزہ ریزہ ہو جاتا۔ اس سے بھی یہ بات واضح اور ثابت ہوجاتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذاتِ خود مکمل جسمانی طور پر یہ سفرِ معراج فرمایا اس کے علاوہ بھی اگر ذیل کی احادیثِ مبارکہ پر غور کیا جائے تو بات صاف ہوجاتی ہے اللہ کے لیے سب کچھ کرنا ممکن ہے اللہ جو صرف اپنے ارادے سے سب کچھ کرسکتا ہے۔
اسی سفر کے دوران ایک جگہ کسی نے پکارا ’’ادھر آئو‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توجہ نہیں کی تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا یہ آپ کو یہودیت کی طرف بلا رہا تھا۔ پھر دوسری طرف سے آواز آئی ادھر آئو‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرف بھی توجہ نہیں کی۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا یہ عیسائیت کا داعی تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت خوب صورت بنی سنوری عورت نظر آئی اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف بلایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر پھیر لی تب حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بتایا یہ دنیا تھی پھر ایک بوڑھی عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئی تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا آپ دنیا کی باقی ماندہ عمر کا اندازہ اس عورت کی باقی ماندہ عمر سے لگایئے۔ پھر ایک اور شخص ملا جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جانب متوجہ کرنا چاہا مگر آپ اسے بھی نظر انداز کر کے آگے بڑھ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ یہ شیطان تھا جو آپ کو راستے سے ہٹانا چاہتا تھا۔ (طبرانی‘ ابن جریر‘ ابن ابی حاتم‘ ابن اسحاق‘ ابن مردویہ) بیت المقدس پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم براق سے اتر گئے اسے اسی مقام پر باندھا جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبیاء کرام باندھا کرتے تھے۔ حضرت ابراہیمؑ جب حضرت حاجرہ اور اپنے شیر خوار لخت جگر حضرت اسماعیلؑ کو مکہ لے کر گئے تھے تو اسی براق پر گئے تھے (ابن جریر‘ ابن ابی حاتم‘ ابن اسحاق‘ ابن مردویہ‘ نسائی‘سُہیلی‘ مسند احمد‘ مسلم سے راویت ہے) بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ایک چٹان میں انگلی مار کر سوراخ کیا اور براق کو باندھا (ترمذی‘ حاکم‘ ابن ابی حاتم‘ مسند احمد‘ ابن سعد) براق کو باندھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیکل سلیمانی میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب پیغمبروں کو وہاں موجود پایا جو ابتدائے آفرنیش سے اس وقت تک دنیا میں آکر جا چکے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہاں پہنچتے ہی نماز کی صفیں بندھ گئیں سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منتظر تھے اور یہ کہ امامت کے لیے کون آگے بڑھتا ہے تب جبرائیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھا کر امامت کے لیے کھڑا کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی امامت فرمائی۔ (نسائی‘ ابن ابی حاتم‘ مسند احمد‘ ابن سعد) نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تین پیالے پیش کیے گئے ایک میں پانی دوسرے میں دودھ اور تیسرے میں شراب تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا پیالہ اٹھا لیا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فطرت کی راہ پا گئے۔ (طبرانی میں حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابن اسحاق سے مسند احمد اور مسلم میں حضرت انس رضی اللہ عنہ‘ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اور بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے)
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک سیڑھی پیش کی گئی اور جبرائیل علیہ السلام اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمان کی طرف لے چلے۔ عربی زبان میں سیڑھی کو معراج کہتے ہیں۔ اسی نسبت سے یہ واقعہ معراج کے نام سے مشہور ہوا جب کہ ابن مردویہ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ خدری سے اور ابن ابی حاتم حضرت انسؓ سے یہ روایت نقل کرتے ہیں حضرت جبرائیل علیہ السلام حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر آسمان پر چڑھ گئے۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے آسمان پر پہنچ گئے تو اس کا دروازہ بند تھا‘ محافظ فرشتوں نے پوچھا کہ کون آیا ہے؟ تب حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اپنا نام بتایا تو فرشتوں نے پھر پوچھا کہ تمہارے ساتھ کون آیا ہے تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم‘ تب پوچھا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے‘ کہا گیا ہاں تب فرشتوں نے دروازہ کھول دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔ (معراج سے متعلق یہ بات تمام احادیث میں متفق علیہ ہے) یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعارف فرشتوں اور انسانی ارواح کی ان بڑی شخصیتوں سے کرایا گیا جو وہاں مقیم تھیں۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام ملے ان کے ساتھ بہت سے فرشتے تھے اور وہ ان فرشتوں کی سرداری کر رہے تھے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے بغل گیر ہوئے آگے بڑھے ایک ایسے بزرگ سے ملے جو انسانی ساخت کا مکمل نمونہ تھے۔ چہرے مہرے اور جسم کی ساخت میں کسی پہلو سے کوئی نقص نہ تھا جبرائیل علیہ السلام‘ نے بتایا یہ حضرت آدم علیہ السلام ہیں آپ کے مورث اعلیٰ‘ ان کے دائیں بائیں جانب بہت سے لوگ تھے۔ جب وہ دائیں جانب کے لوگوں کو دیکھتے تو خوش ہوتے اور جب بائیں جانب دیکھتے تو وہ رونے لگتے۔ پوچھا کیا ماجرا ہے؟ بتایا گیا یہ نسل آدم علیہ السلام ہے۔ حضرت آدم اپنی اولاد کے نیک لوگوں کو دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اور برے لوگوں کو دیکھتے ہیں تو روتے ہیں۔ (بخاری‘ مسلم‘ مسند احمد‘ ترمذی)
آگے بڑھے تو ایک فرشتہ نظر آیا جس کا آدھا جسم آگ کا اور آدھا جسم برف سے بنا ہوا تھا مگر نہ آگ برف کو پگھلاتی تھی اور نہ برف آگ بجھاتی تھی۔ اس کے ارد گرد بہت سے فرشتے کھڑے تھے۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا تو اس نے جواب دیا کہ یارسول اللہ یہ بادل و بجلی کا فرشتہ ہے دنیا میں پانی اولے برساتا ہے۔ وہاں سے ایک دریا کے پاس پہنچے وہاں کنارے پر کچھ لوگ کھیتی باڑی کررہے تھے۔ وہ زمین میں دانے بوتے اسی وقت فصل تیار ہو جاتی اور وہ اسے اسی وقت کاٹ لیتے‘ میں نے دیکھا کہ ایک ایک دانے کے بدلے سو سو دانے اُگتے۔ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ وہ نیک لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ اللہ کے لیے تکالیف اور مشقت برداشت کی۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا میں لوگوں کی بے لوث خدمت اللہ کی خوشنودی اور رضا کے لیے کی۔ محتاجوں کی ضرورتیں پوری کیں‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی روزی میں برکت دی ہے اور ایک دانے کے بدلے سو دانے عطا فرماتا ہے۔ (مسلم‘ بخاری‘ مسند احمد)
پھر دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جن کے سر پتھروں سے کچلے جارہے ہیں اور مسلسل یہ عمل ہورہا ہے ان کا سر کچلا جاتا ہے وہ پھر صحیح ہو جاتا ہے پھر کچلا جاتا ہے۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا۔ یہ کون لوگ ہیں تو جبرائیل علیہ السلام نے بتایا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ لوگ تارک جماعت ہیں یہ لوگ نماز وقت پر ادا نہیں کرتے تھے اور پنج وقتہ نماز میں سستی برتتے تھے۔ ایک اور گروہ نظر آیا جسے فرشتے جانوروں کی طرح ہانکتے ہوئے دوزخ میں لیے جارہے تھے یہ لوگ سخت بھوکے پیاسے تھے اور جانوروں کی طرح جھاڑیاں گھاس اور کانٹے کھا رہے تھے ان لوگوں کے بارے میں جبرائیل علیہ السلام نے بتایا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے مال سے زکوٰۃ ادا نہیں کی نہ کوئی صدقہ‘ خیرات اور قربانی دی یہ لوگ فقیروں محتاجوں پر رحم نہیں کھاتے تھے ان کو ان کا حق نہیں ادا کرتے تھے۔ آگے بڑھے تو مردوں اور عورتوں کا گروہ نظر آیا جن کے ایک طرف دنیا بھر کی نعمتیں رکھی ہوئی تھیں اور دوسری طرف مردار نجس گوشت رکھا تھا جس سے سڑاند اٹھ رہی تھی یہ گروہ نعمتوں سے منہ موڑ کر مردار اور نجس گوشت کھانے میں مصروف تھا۔ (مسلم‘ ابن جریر‘ بخاری)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ یہ دیکھ کر مجھے تعجب ہوا تو میں نے جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ مرد اور عورتیں آپس میں میاں بیوی ہیں لیکن مردوں نے اپنی بیویوں کو چھوڑ کر دوسری عورتوں سے حظ اٹھایا۔ اسی طرح ان عورتوں نے اپنے شوہروں کے ہوتے ہوئے غیر مردوں سے حرام کاری کی۔ انہوں نے بے حیائی برتی حرام کی روزی کمائی چوری دغا بازی سے مال و دولت حاصل کیا۔ پھر ایک اور گروہ نظر آیا جنہیں فرشتوں نے آگ کی سولی پر چڑھا رکھا تھا۔ دریافت کرنے پر جبرائیل علیہ السلام نے بتایا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ وہ لوگ ہیں جو راہ چلتے لوگوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ ان کی شکل و صورت ان کے معمولی کپڑوں پر ہنستے تھے ان پر لعن طعن کرتے تھے اور انہیں برے اور مضحکہ خیز ناموں سے پکارتے تھے۔ (ابن ماجہ‘ مسند احمد‘ حاکم‘ ابن جریر)
ایک گروہ کی گردنیں بوجھ کی وجہ سے جھکی ہوئی تھیں۔ ان کا سر وزن کی وجہ سے اوپر نہ اٹھتا تھا اور ان پر اور بوجھ لادا جارہا تھا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں امانت میں خیانت کرتے تھے۔ لوگوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے اور ان کے مال کو ہضم کر جاتے تھے۔ ان کی گردنوں پر دوسروں کے حقوق کا بوجھ ہے۔
ایک اور گروہ کو عذاب میں مبتلا دیکھا۔ ان کا حال یہ تھا کہ خود ان کا گوشت کاٹ کر انہیں کھلایا جارہا تھا۔ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ لوگ وہ ہیں جو مسلمان ہو کے دوسرے مسلمان بھائی کی غیبت کرتے تھے۔ دوسروں کی غیر موجودگی میں ان سے بے سروپا باتیں منسوب کرتے تھے۔ ایسا ہی ایک گروہ آدمیوں کا نظر آیا۔ جن کے ہونٹ اور زبانیں آگ کی قینچی سے کاٹی جارہی تھیں۔ جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو بادشاہوں‘ امیروں‘ وزیروں کو خوش کرنے کے لیے ان کی جھوٹی تعریف کرتے تھے اور اس کے صلے میں انعام و اکرام حاصل کرتے تھے۔ (مسلم‘ ابن ابی حاتم‘ابن اسحاق)
چند آدمی اس صورت میں نظر آئے کہ ان کے چہرے سیاہ تھے اور آنکھیں نیلی‘ ان کا اوپر کا ہونٹ سر پر اور نیچے کا پیروں تک لٹکا ہوا تھا۔ وہ گدھوں کی طرح رینک رہے تھے ان سے خون اور پیپ جاری تھا۔ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ لوگ نشہ پینے کے عادی تھے۔ (بخاری‘ مسلم‘ مسند احمد)
ایک گروہ جس کا منہ سورئوں کے مانند تھا اور زبانیں ان کی کھینچ کر باہر نکالی گئی تھیں اور انہیں آگ میں ڈالا جارہا تھا۔ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ عذاب ان پر اس لیے نازل ہورہا ہے کہ یہ مقدموں میں جھوٹی گواہیاں دیتے تھے۔ (مسلم‘ مسند احمد‘ طبرانی)
آگے چلے تو ایک گروہ نظر آیا جن کے پیٹ گنبد کی مانند پھولے ہوئے تھے۔ رنگ ان کا زرد ہورہا تھا۔ گلے میں آتشی طوق اور ہاتھ پائوں میں آتشی زنجیریں تھیں۔ پیٹ کے اندر سانپ‘ بچھو بھرے نظر آتے تھے وہ اٹھنے کی کوشش کرتے تو اتنے بھاری پیٹ کے وزن سے گر پڑتے اور آگ میں جلنے لگتے۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ یہ لوگ سود کھاتے اور رشوت لیتے تھے۔ (بخاری‘ مسند احمد‘ابن ماجہ)
عورتوں کا ایک گروہ نظر آیا۔ جن کا یہ حال تھا کہ ان کے منہ کالے سیاہ تھے‘ آنکھیں نیلی نیلی تھیں۔ ان کے بدن پر آگ کے دہکتے کپڑے تھے اور فرشتے انہیں آتشی گرزوں سے مار رہے تھے اور وہ کتوں کے مانند چلا رہی تھیں۔ دریافت کرنے پر جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ عورتیں اپنے شوہروں کی نافرمانی کرتی تھیں اور انہیں خوش نہیں رکھتی تھیں۔ اپنے شوہروں کے بغیر مرضی اور بغیر اجازت جہاں چاہتی تھیں چلی جاتی تھیں اور احکام خداوندی اور سنت نبوی کی پابندی نہیں کرتی تھیں۔
ایک گروہ ہوا میںالٹا لٹکا نظر آیا۔ اسے فرشتے گرزوں سے ماررہے تھے۔ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ گروہ منافقوں کا ہے جو بظاہر مسلمان نظر آتے تھے مگر ان کے دل میں شیطان گھسا ہوا تھا۔ یہ لوگ مسلمان بن کر مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے تھے۔
پھر ایک فرقہ ایسا دکھائی دیا جس کے چاروں طرف آگ ہی آگ تھی۔ آگ نے ان کے جسموں کو جلا جلا کے بری طرح زخمی کردیا تھا۔ ان کی کھال سڑ گئی تھی اور اندر سے گوشت کے سفید سفید لوتھڑے دکھائی دیتے تھے جیسے انہیں کوڑھ اور جزام ہو گیا ہو۔ جبرائیل علیہ السلام نے اس فرقے کے بارے میں بتایا کہ ان کا تعلق اس نالائق گروہ سے ہے جو اپنے ماں باپ کی نافرمانی کرتا اور انہیں تکلیف پہنچاتا تھا۔ (ابن ماجہ‘ مسند احمد‘ ابن جریر‘ حاکم)
معراج کے اس مبارک موقع پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے آسمان پر وہ تمام مناظر دکھا دیئے جو اللہ کی نا فرمانی کرنے‘ شرک و کفر کرنے اور احکامِ الٰہی سے بغاوت کرنے کے جرم میں دئے جائیںگے۔ یہ مناظر دراصل دوزخ کے مناظر تھے کیونکہ پہلے آسمان کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقاتیں حسبِ مراتب پیغمبران کرام علیہ السلام سے ہوئیں۔ وہاں پہلے آسمان کی مانند کسی کو زیر عتاب‘ زیر سزا نہیں دیکھا۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کے روزِ حساب یعنی آخرت سے قبل ہر انسان اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق اپنی دنیاوی پسندیدہ زندگی کے مطابق جزا و سزا کے عالم میں اپنا بقایہ وقت گزارے گا جب تک قیامت واقع نہیں ہوجاتی اور میدانِ حشر آراستہ نہیں ہوجاتا تمام انسان دنیا میں اپنے کئے ہوئے اعمال کے مطابق جیسا کہ بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کے مبارک موقع پر دیکھایا گیا زندگی گزاریں گے معراج البنیصلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت اور دانائی‘ اقتدار و قوت کے اظہار کے ساتھ ساتھ تمام انسانیت پر یہ واضح کرنا بھی ہے کہ دنیا میں کئے گئے اعمال و افعال کا ہمیں کیسا اور کتنا صلہ ملے گا تاکہ انسانوں میں خصوصاً اُمتِ مسلمہ میں خوفِ الٰہی پیدا ہو اور وہ ہر وقت اپنے اعمال وا فعال سے چوکنا رہے اور کسی بھی لمحے شیطان کے بہکائے میں آکر کسی غلطی کے مرتکب نہ ہوں اور ہر لمحہ ہر آن اپنی آخرت کی خیر مناتے رہیں اور اللہ کے احکام پر پوری پابندی سے عمل پیرا رہیں۔ کیونکہ انسانی نفسیات میں یہ بات شامل ہے کہ اگر ہمیں اپنے کام کے صلے کی خبر نہ ہو تو ہم وہ کام دل جمعی سے نہیںکرتے اور اگر ہمیں یہ بات معلوم ہو کہ ہم جو عمل کررہے ہیں اگر اسے نہ کیا توہمیں کتنی اور کیسی سزا مل سکتی ہے‘ کیسا نقصان ہوسکتا ہے‘ اور اگر کام کرلیا توہمیں کیسا انعام اور کیسی جزا ملے گی۔ انسان کی فطرت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ انسان کسی بھی کام کو دو طرح سے انجام دیتا ہے یا تو اسے کسی کا یا کسی طرح کا خوف ہو یا پھر اسے اس کام کرنے کا شوق ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے پیارے بنی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ تمام اہلِ ایمان کو واقعہ معراج کے ذریعے یہ بات سمجھائی ہے۔ اب یہ سوچنا‘ سمجھنا اور اللہ سے ڈرنا اور برے‘ بد اعمال سے بچنا نیک اور اچھے اعمال کرنا ہماری ذمہ داری ہے جبکہ ہم جان چکے ہیں کہ ہماری لاپروائی‘ بداعمالی ہمیں کس عذاب سے دو چار کرسکتی ہے۔ یہی معراج کی روح ہے۔ یہ دنیا انسانوں کے لیے ایک امتحان گاہ بھی اور دائمی زندگی اختیار کرنے سے پہلے زندگی گزارنے کا طریقہ طے کرنے کی جگہ بھی ہے۔ جس طرح کی زندگی ہم اس دنیا میں اختیار کریں گے ویسی ہی زندگی بھی دائمی طور پر روزِ آخرت‘ حساب کتاب کرکے دے دی جائے گی۔ جیسی تیاری ہم نے اس دنیا میں کی ہوگی ویسی ہی زندگی ہم انسان عالمِ برزخ میں گزاریں گے۔ جس کا احوال واقعہ معراج کے ذریعے تمام امت کے سامنے پیش کردیا گیا ہے۔ اس کے بعد یہ ذمہ داری اہلِ ایمان کی ہے کہ وہ نماز میں سستی نہ کریں اور جماعت ترک نہ کریں۔ زکوٰۃ پوری ادا کریں اور صدقات و خیرات کا اہتمام کریں‘ میاں بیوی ہونے کے باوجود دوسری عورتوں مردوں کے ساتھ زنا نہ کریں‘ کسی پر لعن طعن نہ کریں اور امانت میں خیانت نہ کریں‘ کسی کی غیبت نہ کریں‘ جھوٹی خوشامد نہ کریں اور نہ جھوٹی گواہی دیں اور سود سے قطعی پرہیز کریں‘ عورتیں اپنے شوہروں کی نافرمانی نہ کریں‘ منافقت نہ اختیار کریں‘ اولاد ماں باپ کی نافرمانی نہ کرے کیونکہ ان سب کا احوال پہلے ہی آسمان پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے دکھا دیا یہ عمل خالصتاً امتِ مسلمہ کی اصلاح و فلاح کے لیے ہے تاکہ وہ اس سے نصیحت حاصل کریں اور برائیوں اور برے اعمال سے بچیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ پھر وہاں سے ہم آگے بڑھے تو ایک وسیع میدان نظر آیا۔ اس سرسبز اور شاداب میدان میں ہر طرف مشک و عنبر کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی اور ایک آواز بار بار آرہی تھی۔ ’’یا الٰہی جو وعدہ تو نے مجھ سے کیا وہ پورا کر۔‘‘
جبرائیل علیہ السلام سے دریافت فرمایا کہ یہ کیا اسرار ہے تو انہوں نے بتایا کہ یہ خوشبو بہشت سے آرہی ہے۔ جہاں طرح طرح کی نعمتیں ہیں۔ باغ‘ پھل‘ پھول رنگ برنگ کے خوش ذائقہ ہوتے ہیں۔ بہشت میں چاندی‘ سونے‘ یاقوت اور مروارید کے مکان بنے ہیں۔ یہ آواز بہشت سے آرہی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس آواز کے جواب میں فرماتا ہے کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے گا۔ قرآنِ حکیم اور حدیث کے بتائے ہوئے اصولوں پر چلے گا اور خود کو شرک اور بدعت سے بچائے رکھے گا۔ اسے تجھ میں (بہشت) داخل کیا جائے گا پھر اس کے جواب میں جنت کہتی ہے۔ ’’میں راضی ہوں۔‘‘ یکایک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر کے سامنے سے پردہ اٹھا اور جنت آپ کے سامنے عیاں ہو گئی۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے بعد ہم ایک میدان میں پہنچے۔ وہاں سخت بدبو پھیلی ہوئی تھی اور چیخ پکار اور گریہ زاری کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں جب جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ بدبو دوزخ سے آرہی ہے اور یہ آوازیں ان دوزخیوں کی ہیں جو اپنے اعمال کی وجہ سے عذاب میں گرفتار ہیں۔ وہ طوق و زنجیر میں جکڑے ہوئے ہیں اور جب وہ جنبش کرتے ہیں تو زنجیریں اور لوہے کے طوق بجتے اور کھڑ کھڑاتے ہیں۔ ان آوازوں میں سانپ اور بچھوئوں کی آوازیں بھی شامل ہیں جو ان کے جسم سے چمٹے ہوتے ہیں اور انہیں کاٹ رہے ہیں۔ ڈس رہے ہیں۔ دوزخ اللہ تعالیٰ سے فریاد کررہی ہے کہ اے خداوند تو نے وعدہ کیا تھا کہ تو دوزخ کا پیٹ بھرے گا سو اب وہ وعدہ پورا کر تاکہ میرا پیٹ بھرے اور ارشاد خداوندی ہوتا ہے کہ جو شخص شرک کرے گا کفر میں مبتلا ہو گا یا میرے احکام کی نافرمانی کرے گا اسے اے دوزخ میں تیرے حوالے کروں گا۔ جو میرے رسول کی توہین کرے گا انہیں جھٹلائے گا ان سب کو تیرے پیٹ میں بھیجوں گا۔ آپ کے سامنے سے اچانک پردہ اٹھا اور آپ نے دوزخ کو تمام ہولناکیوں سمیت دیکھ لیا۔ (مسند احمد‘ بخاری‘ ابن ماجہ‘ حاکم)
دوسرا آسمان
پھر ہم دوسرے آسمان پر پہنچے۔ جبرائیل علیہ السلام نے دوسرے آسمان کے دروازے پر دستک دی؟ اندر سے کسی نے دریافت کیا؟ ’’کون ہے؟‘‘
جبرائیل علیہ السلام نے کہا۔ میں جبرائیل ہوں اور میرے ہمراہ اللہ کے محبوب رسول محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
یہ جواب سنتے ہی دروازہ فوراً کھل گیا اور فرشتے ہمیں بہت تعظیم و تکریم سے اندر لے گئے۔ دوسرے آسمان کے فرشتوں کا سردار قابیل نامی فرشتہ ہے۔ قابیل نے ہمیں سلام کیا اور بغل گیر ہوا۔ ہم اس آسمان کی سیر کرتے ہوئے ذرا آگے بڑھے تو ہمارے پاس حضرت یحییٰ علیہ السلام اور ان کے خالہ زاد بھائی حضرت عیسیٰ روح اللہ آئے جبرائیل علیہ السلام نے کہا انہیں سلام کریں میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے تعظیم کرتے ہوئے کہا مرحبا یااَخ الصالح و النبی الصالح۔
اور آگے بڑھے تو ایک مہیب و خوف ناک شکل کا فرشتہ نظر آیا۔ اس کے ستر ہزار سر تھے اور ان کے ستر ہزار منہ ستر ہزار زبانیں تھیں۔ جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ کون ہے۔ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ اس فرشتے کا نام قاسم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقِ عالم کی روزی اس کے سپرد کی ہے جس مخلوق کی جس وقت اور جس مقدار میں روزی مقرر کی گئی ہے یہ اسے پہنچاتا ہے۔ (مسلم‘ بخاری)
تیسرا آسمان
پھر ہم تیسرے آسمان پر پہنچے۔ جبرائیل علیہ السلام نے حسب دستور دروازے پر دستک دی۔ اندر سے کسی نے دریافت کیا کہ کون ہے۔ جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں جبرائیل علیہ السلام ہوں اور میرے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ دروازہ کھلا اور وہاںکے فرشتوں کے سردار مائیل نے سلام کیا اور تعظیم بجا لایا۔ کچھ آگے بڑھے تو ایک ایسے بزرگ ملے جن کا حسن عام انسانوں کے مقابلے میں ایسا تھا جیسے تاروں کے مقابلے میں چودھویں کا چاند یہ حضرت یوسف علیہ السلام تھے جبرائیل علیہ السلام نے کہا انہیں سلام کریں میں نے سلام کیا انہوں نے جواب دیا صالح بھائی صالح نبی مرحبا۔
چوتھا آسمان
تیسرے آسمان کی سیر اور حضرت یوسف علیہ السلام کی ملاقات کے بعد ہم چوتھے آسمان پر پہنچے۔ اس آسمان کے فرشتوں کا سردار معطائیل ہے۔ اس نے سلام کیا اور بغل گیر ہوا۔ اس آسمان پر حضرت ادریس علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے مرحبا یااَخ الصالح و النبی الصالحیں کہہ کر استقبال کیا۔ (بخاری‘ مسند احمد‘ ابن ابی حاتم)
وہاں ایک فرشتہ نظر آیا۔ اس کے چاروں طرف چار منہ تھے اور بڑی خوفناک اور ہیبت ناک شکل و صورت تھی۔ وہ ایک کرسی پر بیٹھا تھا اور ایک بڑا سا تخت اس کے سامنے کھڑا ہوا تھا۔ اس کا بایاں منہ مشرق اور دایاں مغرب کو تھا اور تمام دنیا اس کے سامنے دکھائی دیتی ہے۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا۔ ’’یہ کون ہے؟‘‘
جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا یہ عزرائیل ہے۔
میں نے اس کے سامنے جاکر کہا۔ السلام علیکم یا ملک الموت
لیکن عزرائیل نے سکوت کیا اور سلام کا جواب نہ دیا اسی وقت حکم باری تعالیٰ پہنچا اے عزرائیل میرے محبوب کے سلام کا جواب دے۔ تب عزرائیل نے سر اٹھا کر کہا وعلیکم السلام یا حبیب اللہ۔ اور وہ بغل گیر ہوا۔ پھر اس نے بڑی عزت و تکریم کے ساتھ مجھے تخت پر بٹھایا اور کہا۔ اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ نے جب سے مجھے پیدا کیا ہے میرے سپرد مخلوق کے بہت زیادہ کام ہیں۔ مجھے ایک لمحے کی بھی فرصت نہیں ملتی۔ یہاں تک کہ میں اس قدر مصروف رہتا ہوں کہ کسی سے ایک بات تک نہیں کر سکتا۔ آج اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا ہے اس لیے آپ سے بات کررہا ہوں۔‘‘
میں نے پوچھا۔ ’’اے عزرائیل‘ تم لوگوں کی روح کس طرح قبض کرتے ہو؟‘‘
عزرائیل نے جواب دیا۔ ’’یارسول اللہ میرے سامنے جو یہ درخت لگا ہے یہ اتنا بڑا اور گھنا ہے کہ اس کے ہر پتے پر مخلوق خدا کا نام اور اس کا پتہ درج ہے۔ جب کسی کی موت قریب ہوتی ہے تو اس کے نام کے پتے کا چالیس دن پہلے سے رنگ زرد ہونے لگتا ہے اور ٹھیک چالیس دن بعد وہ پتا شاخ سے گر جاتا ہے۔ میری نگاہ ان پتوں پر ہر وقت جمی رہتی ہے۔ جب پتا گرتا ہے اگر میں دیکھتا ہوں کہ اس کا شمار اہل رحمت میں ہے تو میں اپنی دائیں جانب کے فرشتوں کو رحمت کے ساتھ اس کے پاس بھیجتا ہوں اور اگر وہ لعنتی ہوا تو بائیں طرف کے فرشتوں کو مع عذاب کے اس کے گھر بھیجتا ہوں۔‘‘ پھر میں نے عزرائیل سے سوال کیا۔ ’’اے عزرائیل! روح کی حقیقت بیان کر کہ یہ کیا چیز ہے؟‘‘ اس نے جواب دیا۔ ’’یارسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم ‘ میں نہیں جانتا کہ روح کی حقیقت کیا ہے اور یہ کون سی چیز ہے‘ میں تو صرف یہ جانتا ہوں کہ جب میں کسی کی روح قبض کرتا ہوں تو مجھے اپنی ہتھیلی پر ایک بوجھ سا محسوس ہوتا ہے۔‘‘ پھر میں نے اس سے پوچھا۔ ’’اے عزرائیل یہ چار منہ ہونے کا کیا راز ہے؟‘‘ عزرائیل نے جواب دیا۔ ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں دائیں طرف کے منہ سے صرف مومنوں کی روح قبض کرتا ہوں اور بائیں طرف کے منہ سے کافروں اور مشرکوں کی روح قبض کرنے کا کام لیتا ہوں۔‘‘ پھر عزرائیل نے خود ہی بتایا۔ ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو مبارک ہو اور یہ خوش خبری ہے کہ مجھے جس دن خداوند کریم نے پیدا کیا تھا اسی دن حکم دیا تھا کہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روح اس قدر آرام سے قبض کرو جس طرح بچہ اپنی ماں کی چھاتیوں سے دودھ کھینچتا ہے اور ماں کو احساس نہیں ہوتا۔‘‘
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بات جب میں نے عزرائیل کی زبان سے سنی تو میں فوراً ہی سجدہ شکر بجا لایا۔ پھر میں نے عزرائیل سے پوچھا۔ ’’اے عزرائیل! کیا کبھی اس کرسی سے اٹھنے کی ضرورت پیش آئی؟‘‘ انہوں نے جواب دیا۔ ’’ہاں یارسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم ‘مجھے تین بار اس کرسی سے اٹھنا پڑا۔‘‘ پھر انہوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔ ’’ایک بار میں اس کرسی سے اس وقت اٹھا تھا جب مجھے حضرت آدم کا پتلا بنانے کے لیے مٹّی لانے کا حکم ہوا تھا۔ دوسری بار جب مجھے حضرت آدم علیہ السلام کی روح قبض کرنے کا حکم ہوا تھا تو میں اس کرسی سے اٹھا تھا۔ اسی طرح تیسری بار مجھے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی روح قبض کرنے کے لیے کرسی سے اٹھ کر جانا پڑا تھا۔‘‘ پھر میں نے عزرائیل سے پوچھا۔ ’’اے عزرائیل کبھی روح قبض کرتے وقت تمہیں کسی پر رحم آیا؟‘‘ عزرائیل نے جواب دیا۔ ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو موقعوں پر مجھے بڑا رحم آیا‘ مجھے غم ہوا ایک مرتبہ تو جب ایک عورت اپنے بچے کو لیے دریا میں ایک تختے پر بہتی جارہی تھی اور مجھے اس کی روح قبض کرنے کا حکم ہوا تھا اور دوسری دفعہ مجھے اس وقت غم ہوا تھا جب مجھے شدّاد کی روح قبض کرنے کا اس وقت حکم ہوا تھا اس کا ایک قدم باغِ ارم کے اندر تھا اور ایک باہر اُس وقت اُس کی عمر نو سو سال تھی۔ شداد نے یہ جنت چار سو سال کی مدت میں بنوائی تھی اور اس میں جنت کے مانند سونے چاندی کے مکانات تھے۔‘‘
پانچواں آسمان
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چوتھے آسمان کے بعد ہم پانچویں آسمان پر پہنچے۔ حسب دستور جبرائیل علیہ السلام نے دستک دی اور جب انہوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہیں تو آسمان کا دروازہ فوراً کھل گیا۔ اس آسمان کے فرشتوں کے سردار عائیل تھے۔ انہوں نے میری تعظیم کی اور مجھ سے معانقہ کیا۔ ہم آگے بڑھے تو ہماری ملاقات حضرت ہارون علیہ السلام سے ہوئی۔ انہوں نے کہا۔ ’’مرحبا یااَخ الصالح و النبی الصالحیں‘‘
چھٹا آسمان
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھٹے آسمان پر ہمارا استقبال ہابیل نے کیا جو وہاں کے ملائکہ کے رب النوع اور سردار ہیں۔ ہابیل نے کہا۔ ’’مرحبا یارسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ وہاں سے ہم آگے بڑھے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام ہم سے ملاقات کے لیے آئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا۔ ’’مرحبا یااَخ الصالح و النبی الصالح‘‘
پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا۔ ’’یارسول اللہ! اللہ تعالیٰ جو کچھ فرائض آپ کی اُمّت کے لیے مقرر کرے اس پر غور کر کے اور سمجھ کر قبول فرمایئے گا کیونکہ اُمّت کمزور‘ ناتواں ہے اور اس کی عمر بھی مختصر ہے۔‘‘
وہاں سے آگے بڑھے تو ہیبت ناک فرشتہ نظر آیا۔ وہ اس قدر دہشت ناک تھا کہ عقل اسے دیکھ کر حیران رہ جاتی تھی۔ وہ اس قدر جسیم تھا کہ اس کے دائیں اور بائیں شانوں کا درمیانی فاصلہ ایک سال کی مسافت کا تھا۔ اس کے ارد گرد ایسی شکل و صورت کے اور بھی فرشتے جمع تھے۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا۔ ’’یارسول اللہ!یہ فرشتہ مالک ہے۔ اسے دوزخ پر مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے ماتحت انیس اور فرشتے ایسے ہی دہشت اور وحشت ناک ہیں۔ جو حکم اسے اللہ کی طرف سے ملتا ہے اسے بجا لاتا ہے۔‘‘
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں دوزخ کے سردار مالک کے پاس گیا اور میں نے اسے سلام کیا لیکن اس نے میرے سلام کا کوئی جواب نہ دیا۔ اس وقت ندا آئی کہ ’’اے مالک یہ محمد مصطفیٰ‘ خاتم الانبیاء اور میرے محبوب ہیں۔ تو نے ان کی تعظیم کیوں نہ کی۔ ان کے سلام کا جواب کیوں نہیں دیا۔‘‘
مالک اپنا نام سن کر فوراً اٹھ کھڑا ہوا اور نہایت عزت و تعظیم سے مجھ کو بٹھایا اور کہا۔ ’’یارسول اللہ! آپ تمام انبیاء میں افضل ہیں۔ آپ کی اُمّت بھی سب سے افضل ہے۔ تمام انبیاء کی اُمتیں‘ آپ کی اُمّت کی پیروی کریں گی۔‘‘
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک سے کہا۔ ’’اے مالک دوزخ کی حقیقت بیان کرو تاکہ میں اس کے حال سے واقف ہو جائوں۔‘‘
مالک نے فوراً کہا۔ ’’یارسول اللہ! دوزخ کے حالات سننے کی نہ آپ میں طاقت ہے اور نہ اسے دیکھنے کی آپ میں ہمت ہے۔‘‘
اسی وقت حکم الٰہی ہوا کہ ’’اے مالک میرا محبوب جو کچھ دریافت کرے تو اسے تفصیل سے بیان کر۔‘‘ تب دوزخ کے مالک نے بیان کرنا شروع کیا۔ ’’یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے اپنے غضب سے سات دوزخ تیار کیے ہیں۔ ان میں سے ہر دوزخ کی لمبائی چوڑائی‘ زمین و آسمان کے مانند ہے اور ان میں اللہ نے طرح طرح کی آگ پیدا کی ہے۔ ایک دوزخ میں ستر ہزار میدان آگ کے ہیں۔ ہر میدان میں ستر ہزار پہاڑ آگ کے ہیں۔ ہر پہاڑ کے ستر ہزار دروازے ہیں اور یہ دروازے ستر ہزار آگ کے شہروں کے دروازے ہیں۔ اسی طرح ہر شہر میں ستر ہزار محل آگ کے ہیں اور ہر محل کے اندر ستر ہزار مکانات آگ کے ہیں۔ ہر مکان میں ستر ہزار آگ کی کوٹھریاں ہیں اور ہر کوٹھری میں ستر ہزار آگ کے صندوق ہیں اور ہر صندوق میں ستر ہزار آگ کے سانپ اور بچھو ہیں اور وہ آگ بھی ایسی ہے کہ اگر اس کی ایک چنگاری روئے زمین پر آجائے تو اس کی گرمی سے دنیا کے تمام آدمی اور درخت جل کر خاکستر ہو جائیں۔‘‘
مالک نے پھر بتایا کہ ’’یارسول اللہ! ایک دوزخ اللہ تعالیٰ نے برف کی پیدا کی ہے۔ یہ دوزخ سال میں دو مرتبہ سانس لیتی ہے۔ اس سے چھ ماہ گرمی اور چھ ماہ سردی ہوتی ہے۔‘‘
رسول اللہ‘ محمد مصطفی ٰصلی اللہ علیہ وسلم دوزخ کے یہ حالات سن کر بہت غمگین ہوئے۔
ساتواں آسمان
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھٹے آسمان کی سیر کے بعد ہم ساتویں آسمان پر گئے۔ وہاں یہ دیکھ کر دل بہت خوش ہوا کہ بہت سے فرشتے عبادت الٰہی میں مصروف ہیں۔ وہاں سے کچھ آگے بڑھے تو حضرت ابراہیم خلیل اللہ ملاقات کے لیے تشریف لائے۔
پھر ہم وہاں سے اور آگے بڑھے تو دیکھا ایک بڑی عظیم الشان کرسی پر ایک فرشتہ بیٹھا ہے۔ اس کی شکل صورت سے نیکی اور خوش خلقی ٹپکتی تھی۔ اس کے دائیں بائیں بھی بہت سے فرشتے تھے۔ وہ بھی نیک صورت اور خوش سیرت نظر آئے تھے۔
دریافت کرنے پر جبرائیل علیہ السلام نے بتایا۔ ’’یارسول اللہ! اس فرشتے کا نام رضوان ہے اور یہ بہشت کا داروغہ ہے۔‘‘
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس فرشتے کے سامنے گیا اور میں نے کہا۔ ’’السلام علیکم یا رضوان الجنت۔‘‘
رضوان نے مجھے فوراً جواب دیا اور اٹھ کر مجھ سے بغل گیر ہوا اور بولا۔ ’’مرحبا یارسول اللہ‘‘ اسی وقت رضوان کے پاس حکم الٰہی پہنچا کہ اے رضوان میرے محبوب کو مالک دوزخ نے دوزخ کی باتیں سنا کر غمگین کردیا ہے اب تو انہیں جنت کا حال سنا کر خوش کر۔‘‘
حکم الٰہی موصول ہوتے ہی رضوان نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا۔ ’’یارسول اللہ! آپ کی صفت اور شان تو خود اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں بیان فرمائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت تمام امتوں سے اعلیٰ اور افضل ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی امت سب سے پہلے جنت میں داخل ہو گی۔‘‘ یہ کہتے ہوئے جنت کا داروغہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر جنت کی سیر کرانے لے گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت الفردوس میں رکھی ہوئی طرح طرح کی نعمتیں ملاحظہ فرمائیں۔ اسی وقت ندائے ربی آئی۔ ’’اے میرے محبوب بہشت کی یہ تمام نعمتیں تیری اُمّت کے لیے رکھی گئی ہیں۔ تیری اُمّت جنت میں ہمیشہ عزت و احترام اور محفوظ طریقے سے رہے گی۔‘‘
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشادِ ربی سنا تو فوراً سجدے میں گئے اور اللہ کا شکر بجا لائے۔
جنت الفردوس کی سیر کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت الاقصیٰ میں پہنچے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مکان کو یاقوت‘ موتی اور سبز زمرد سے بنوایا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ فرشتوں کے ساتھ دو رکعت نماز ادا کی۔ نماز سے فارغ ہوئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تین پیالے بھیجے گئے۔ ان میں سے ایک میں شہد‘ دوسرے میں شراب اور تیسرے میں دودھ بھرا تھا۔
ایک اور روایت میں کہا گیا ہے کہ ایک اور چوتھا پیالہ بھی تھا جس میں پانی بھرا ہوا تھا۔
حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا۔ ’’یارسول اللہ! اس میں سے آپ جس پیالے کو چاہیں قبول فرما لیں۔‘‘حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرشتے کے ہاتھ سے دودھ کا پیالہ لے کر پی لیا۔ فرشتوں نے آفرین کہا۔ پھر بولے۔ ’’یارسول اللہ! اگر آپ پانی کا پیالہ پسند فرماتے تو ساری اُمّت آپ کی پانی میں غرق ہوتی اگر شراب پسند کرتے تو اُمّت نشے میں مصروف رہتی اگر شہد پسند کرتے تو ساری اُمّت لذت دنیا میں مشغول رہتی (دنیا سے محبت کرتی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھا کیا کہ دودھ کا پیالہ لے کر پیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت دنیا میں ہر بلا اور آفت سے نجات پائے گی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالے میں چند قطرے جو دودھ کے چھوڑے ہیں اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت میں تھوڑا سا گناہ بھی باقی رہے گا۔‘‘
حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ پیالے میں جو دودھ باقی رہ گیا ہے اسے بھی پی لیں تاکہ اُمّت میں گناہ باقی نہ رہ جائے۔ اسی وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا۔ ’’یارسول اللہ! اب وقت گزر چکا ہے۔ جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔ حکم الٰہی رد نہیں ہوا کرتا اگر آپ باقی دودھ کو پی بھی گئے تو بھی کوئی فائدہ نہ ہو گا۔‘‘ حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام کی یہ بات سن کر بہت غمگین ہوئے۔ (مسند احمد‘ مسلم‘ بخاری‘ ابن ابی حاتم‘ متفق علیہ)
سدرۃ المنتہیٰ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ساتوں آسمانوں کی سیر کے بعد ہم سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچے۔ یہ مقامِ جبرائیل علیہ السلام ہے۔ اس سے آگے جانے کی نہ ان میں ہمت و طاقت اور نہ حکم الٰہی ہے اگر اس سے آگے قدم بڑھائیں تو ان کے پر جل جائیں۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا۔ ’’یارسول اللہ! یہ مقام میری آخری حد ہے۔ یہاں سے میں آگے نہیں بڑھ سکتا۔
سدرۃ المنتہیٰ دراصل پیش گاہِ رب العزت اور عالم خلق کے درمیان حد فاصل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس مقام پر تمام خلائق کا علم ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے ماورا جو کچھ ہے وہ غیب ہے‘ جس کا علم نہ کسی نبی کو ہے نہ کسی مقرب فرشتے کو‘ سوائے ان کے جسے اللہ تبارک و تعالیٰ اس میں سے کوئی علم عطا فرمائے۔ یہ وہ حد ہے جہاں نیچے سے جو کچھ جاتا ہے یہاں لے لیا جاتا ہے اور جو کچھ اوپر سے آتا ہے یہاں دے دیا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت کا مشاہدہ کرایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک صالح بندوں کے لیے کیا کچھ یہاں مہیا کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی ذہن کے تصور میں اس کا گزر ہو سکا۔ سدرۃ المنتہیٰ پر حضرت جبرائیل علیہ السلام رک گئے اور کہا۔ ’’آپ آگے تشریف لے جایئے۔‘‘
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’اے جبرائیل‘ کیا تم یہاں مجھے تنہا چھوڑ دو گے؟‘‘
حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا۔ ’’یا حبیب اللہ‘ آپ بالکل فکر مند نہ ہوں۔ یہاں سے دوسرے فرشتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگے لے جائیں گے۔ ہاں آپ سے میری ایک درخواست ہے وہ یہ کہ جب آپ دربارِ ربی میں پہنچیں اور ذاتِ باری تعالیٰ سے ہم کلام ہوں تو میری ایک آرزو وہاں بیان فرمایئے گا۔‘‘
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’کہو جبرائیل کون سی آرزو تم دربارِ الٰہی میں پیش کرنا چاہتے ہو؟‘‘
جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا۔ ’’اے حبیب اللہ‘ میری یہ آرزو ہے کہ قیامت کے روز مجھے اجازت دی جائے کہ میں پل صراط پر اپنے پر بچھائوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت کو پار اتاروں۔‘‘
اللہ اللہ‘ اُمّت محمدی کی کیا شان ہے کہ جبرائیل امین علیہ السلام بھی اسے پل صراط پار کرانے کی آرزو رکھتے ہیں لیکن ہمارا کیا حال ہے؟ ہم یہ نہیں دیکھتے کہ ہم کدھر جارہے ہیں۔
اسی وقت اسرافیل فرشتہ حکم الٰہی کے تحت ایک تخت نورانی لے کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس تخت نورانی کو رف رف کہتے ہیں۔ اس سے آگے یکے بعد دیگرے ستر ہزار پردے جواہرات کے تھے اور ایک پردے سے دوسرے پردے تک کی درمیانی مسافت پانچ سو برس تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہ راہ طے کر کے مقام رف رف میں پہنچے۔ یہ جگہ اسرافیل فرشتے کی ہے اور پھر مقام رف رف سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو عرش نے اٹھا لیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بلند اور ہموار سطح پر پہنچے تو بارگاہ جلال سامنے تھی ہم کلامی کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شرف بخشا گیا۔ (بخاری‘ مسلم‘ بروایت ابو ذرؓ‘ نسائی‘ ترمذی‘ بہیقی بروایت عبداللہ بن مسعودؓ‘ ابن ابی حاتم)
سدرۃ المنتہیٰ کے بارے میں قرآن حکیم میں سورۃ النجم میں ارشاد ربانی ہے۔
ترجمہ۔ اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا۔ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔ اسی کے پاس جنت الماویٰ ہے۔ جب کہ سدرہ کو چھپائے لیتی تھی وہ چیز جو اس پر چھا رہی تھی۔ نہ تو نگاہ بہکی نہ حد سے بڑھی۔ یقینا اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بعض نشانیاں دیکھ لیں۔ (سورۃ النجم۔۱۳ تا ۱۸)
تفسیر۔ ان آیات مبارکہ میں شبِ معراج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچنے کی تصدیق کی گئی ہے اور اس مقامِ اعلیٰ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دوبارہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل شکل میں ظاہر کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ اُن کے چھ سو پر ہیں ایک پر مشرق ب مغرب کے درمیانی فاصلے جتنا تھا اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دل نے جھٹلایا نہیں بلکہ اللہ کی اس عظیم قدرت کو تسلیم کرلیا بات کو ہی آیت مبارکہ میں ’’اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا‘‘ کہہ کر واضح کیا گیا ہے اس ملاقات کا مقام سدرۃ المنتہیٰ بتایا گیا ہے جو ساتویں آسمان کی آخری حدور پر واقعہ ہے اس سے اوپر کوئی بھی فرشتہ نہیں جاسکتا فرشتے احکامِ الٰہی یہیں سے وصول کرتے ہیں‘ اور ساتھ ہی یہ فرمایا گیا ہے کہ اُس کے قریب جنت الماویٰ واقع ہے سدرہ عربی زبان میں بیری کے درخت کو کہتے ہیں اور منتہٰی کے معنی آخری سرا کے ہیں اس طرح سدرہ المتہٰی کے لغوی معنی ہوں گے ’’وہ بیری کا درخت انتہائی جو سرے پر واقع ہے‘‘ علامہ آلوسی نے اپنی کتاب روح المانی میں اس کی تشریح میں لکھا ہے کہ ’’اس پر ہر عالم کا علم ختم ہوجاتا ہے آگے جو کچھ ہے اُسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس سے ملتی جلتی تشریح ابنِ حریر نے اپنی تفسیر میں اور ابنِ اَثیر نے ’’النہایہ فی غریب الحدیث وا لاثر‘‘ میں کی ہے۔ ہمارے لیے یہ جانا بہت مشکل ہے کہ اس عالم مئادّی کی آخری سرحد پر وہ بیری کا درخت کیسا ہے اور اُس کی حقیقی نوعیت و کیفیت کیا ہے یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے وہ اسرار ہیں جن تک ہماری فہم کی رسائی نہیں ہے۔
یہ بات اپنی جگہ اٹل ہے کہ وہ کوئی ایسی چیز یا جگہ ہے جس کے لیے انسانی زبان کے الفاظ میں ’’سدرہ‘‘ سے زیادہ موزوں اور بہتر اللہ تعالیٰ کی نزدیک کوئی اور نہیں۔
آیت مبارکہ میں جنت الماویٰ کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کے لغوی معنی ہیں ’’وہ جنت جو قیام گاہ بنے‘ اسی جنت الماویٰ اس لیے کہتے ہیں کہ حضرت آدم السلام کا ماویٰ و مسکن یہی تھا بعض کے نزدیک روحیں یہاں آکر جمع ہوتی ہیں۔ (فتح القدیر) حضرت حسن بصری ؒ کہتے ہیں کہ یہ وہی جنت ہے جو آخرت میں اہلِ ایمان و تقویٰ کو ملنے والی ہے۔ قتاوہؒ کے مطابق یہ وہ جنت ہے جس میں شہداء کو رکھا جاتا ہے۔
اس سے اگلی آیت میں ایسی چیز کا ذکر ہے جو سدرہ پر چھا رہی تھی اور اُسے چھپا رہی تھی یہ سدرۃ المنتہیٰ کی اُس کیفیت کا بیان ہے جب شبِ معراج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کا مشاہدہ کیا‘ سونے کے پروانے اُس کے گرد منڈ لارہے تھے‘ فرشتوں کا عکس اس پر پڑ رہا تھا اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی تجلیات کا مظہر بھی وہی تھا (ابنِ کثیر) اسی مقام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین عظیم عنایاتِ الٰہی سے نوازا گیا۔ پانچ وقت کی نمازیں۔ سورۃ البقرہ کی آخری آیات اور اس مسلمان کی مغفرت کا وعدہ جو شرک سے پاک ہو۔ (صحیح مسلم کتاب الایمان) ’’یعنی اُس کی شان و شوکت اس قدر تھی کہ کہ اُس کیفیت کو بیان کرنا ان تجلیات کا زبان سے ذکر کرنا ممکن نہیں نہ انسانی زبان اس کے وصف کی متحمل ہے۔
ترجمہ۔ دل نے جھوٹ نہیں کہا جسے (پیغمبر نے) دیکھا۔ کیا تم جھگڑا کرتے ہو اس پر جو (پیغمبر) دیکھتے ہیں۔ (سورۃ النجم۔۱۱۔۱۲)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب پہلی مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہوتے ہوئے اتنے قریب ہو گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور ان کے درمیان دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا۔ اسی وقت انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی پہنچائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مشاہدہ دن کی روشنی اور پوری بیداری کی حالت میں کھلی آنکھوں سے کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں یہ خیال و گمان تک نہیں آیا کہ یہ میری نظر کا دھوکا ہے یا یہ شیطان کا کوئی حربہ ہے یا میرے سامنے کوئی خیالی صورت آگئی ہے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل نے ٹھیک ٹھیک وہی کچھ سمجھا جو آنکھوں نے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام کے چھ سو پر ہیں ان کی لمبائی مشرق و مغرب کے فاصلے کے برابر ہے یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل نے اسے جھٹلایا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت و قدرت کو تسلیم کیا‘ پھر وہی شکل و ہیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سدرۃ المنتہیٰ پر دیکھی جس کا ذکر ان آیات مبارکہ میں کیا گیا ہے۔ اس سے یہ بھی پایہ ثبوت کو پہنچتا ہے کہ معراج النبی جس پر مشرکین و کفار کے علاوہ کئی فرقے شک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں دوسرے معنوں میں قرآن حکیم کی آیات کی نفی کرتے ہیں ان تمام آیات سے نا صرف معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق ہورہی ہے بلکہ اس سفر کی تفصیل کا پتا بھی چل رہا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچنے کی قرآنی شہادت بھی مل رہی ہے۔ (مسند احمد بروایت زربن حبیش‘ ابن مسعود ؓ‘ بخاری‘ مسلم‘ ترمذی)
لامکاں
جب مقام رف رف سے عرش نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھایا تو جس بلند ہموار سطح پر آپ پہنچے اسے لامکاں کہا گیا ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میں وہاں سے تنہا لامکاں پر گیا اور اللہ کے جلال و ہیبت سے مجھ میں خوف پیدا ہوا۔ اسی وقت ایک آواز جو ابو بکر صدیق ؓ کی آواز کے مانند تھی‘ مجھے سنائی دی۔ آواز کہہ رہی تھی کہ اے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) تو خوف نہ کھا۔ بے شک تیرا پروردگار اس وقت صلوٰۃ میں مشغول ہے۔ اس وقت مجھے بہت تعجب ہوا اور میں نے دل میں کہا یااللہ اس جگہ یہ ابوبکر کی آواز کہاں سے آئی لیکن یہ ضرور ہوا کہ اس آواز کے آنے سے میرا خوف دور ہو گیا۔ پھر میں نے جناب باری کے حضور عرض کیا۔ ’’یاالٰہی تو نماز سے منزہ و پاک ہے اور آواز ابو بکر کی کہاں سے آئی؟‘‘
حکم ہوا۔ ’’اے حبیب‘ صلوٰۃ تو میری رحمت ہے۔ تجھ پر اور تیری اُمّت پر اور ابو بکر کی آواز اس لیے سنائی تھی کہ وہ تیرا یار غار‘ مونس اور وفادار ہے۔ مونس کی آواز سن کر تیری دہشت ختم ہو گئی۔
جو باتیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمائیں ان میں سب سے اہم چند باتیں تھیں۔
(۱) ہر روز پچاس نمازیں فرض کی گئیں اور چھ ماہ کے روزے فرض کیے گئے۔ جب آپ دربار الٰہی سے واپس نیچے اترے تو آپ کی ملاقات حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہوئی۔ انہوں نے روداد سن کر فرمایا‘ مجھے اپنی اُمّت کا تجربہ ہے، میرا خیال ہے کہ آپ کی اُمّت پچاس نمازوں کی پابندی نہیں کرسکے گی۔ آپ جائیں اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیجیے۔ آپ واپس پلٹے اور اللہ تعالیٰ سے سفارش فرمائی تو اللہ نے دس نمازیں کم کردیں‘ واپسی پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پھر وہی بات کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار اوپر جاتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے کم کر کے پانچ وقت کی نماز اور ایک ماہ کے روزے فرض کردیئے‘ لیکن ان کا اجر و ثواب اتنا ہی ملے گا یعنی پانچ نمازوں کا ثواب پچاس نمازوں کے برابر ملے گا۔ ایک ماہ کے فرض روزوں کا ثواب چھ ماہ کے روزوں کے برابر ملے گا۔ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ان کی اُمّت کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے معراج کا تحفہ خاص ہے۔ (یہ بات تمام احادیث میں متفق علیہ ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کہنے پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بار بار بارگاہ الٰہی میں جاکر تخفیف کے لیے عرض کرتے رہے یہاں تک کہ نمازیں پانچ رہ گئیں اور ایک ماہ کے روزے)
(۲) سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتیں سورۃ ۲۸۵ اور ۲۸۶ آپ کو تعلیم فرمائی گئیں۔

ترجمہ۔ رسول ایمان لایا اُس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اُتری اور مومن بھی ایمان لائے‘ یہ سب اللہ تعالیٰ اور اُس کے فرشتوں پر اور اُس کی کتابوں پر اور رسولوں پر ایمان لائے‘ اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم فرق نہیں کرتے‘ انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی‘ ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں‘ اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ (سورۃ البقرہ۔ آیت ۲۵۸)
ترجمہ۔ اللہ تعالیٰ کسی جان کو اُس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا‘ جو نیکی وہ کرے وہ اُس کے لئے اور جو برائی و ہ کرے وہ اس پر ہے‘ اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا‘ اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا’ اے ہمارے رب! ہم پر وہ وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما! اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر! تو ہی ہمارا مالک ہے‘ ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما۔ (سورۃ البقرہ۔ آیت۔ ۲۸۶)
پہلی آیت میں ایمانیات کا ذکر ہے جن پر اہل ایمان کو ایمان رکھنے کا حکم دیا گیا ہے اور دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت و شفقت اور اُس کے فضل و کرم کا تذکرہ ہے کہ اُس نے انسانوں کو کسی ایسی بات کا مکلف نہیں کیا جو اُس کی طاقت میں نہ ہو۔ ان دونوں آیات کی احادیث میں بڑی فضلیت آئی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’جو شخص سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتیں رات کو پڑھ لیتا ہے تو یہ اُس کو کافی ہیں۔ (صحیح بخاری‘ ابن کثیر) یعنی ان آیات کے پڑھنے کے اثر کے باعث اللہ تعالیٰ اُس کی حفاظت فرماتا ہے۔ ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ معراج کی رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو تین چیزیں ملیں ان میں سے یہ البقرہ کے دو آخری آیات بھی ہیں۔ (صحیح مسلم باب ذکر سدرۃ المنتہٰی) کئی روایات میں یہ بھی آیا ہے یہ آیات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ایک خزانے سے عطا فرمائیں جو عرشِ الٰہی کے نیچے ہے یہ آیاتِ مبارکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور نبی کو نہیں دی گئیں۔ (احمد‘ نسائی‘ طبرانی‘ بیہقی‘ حاکم‘ دارمی) حضرت معاذ رضی الہ تعالیٰ عنہ اس سورۃ کے خاتمہ پر آمین کہا کرتے تھے۔ (ابنِ کثیر)
(۳) شرک کے سوا دوسرے تمام گناہوں کی بخشش کا امکان ظاہر کیا گیا۔
(۴) ارشاد ربانی ہوا کہ جو شخص نیکی کا ارادہ کرتا ہے اس کے حق میں ایک نیکی لکھ لی جاتی ہے اور جب وہ اس پر عمل کرتا ہے تو دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ مگر جو شخص برائی کا ارادہ کرتا ہے اس کے خلاف اس وقت تک کچھ نہیں لکھا جاتا جب تک وہ اس برائی پر عمل نہیں کرلیتا۔ اس وقت بھی ایک ہی برائی لکھی جاتی ہے۔ (مسلم‘ نسائی‘ ترمذی‘ مسند احمد)
واپسی کا سفر
واپسی کے سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی سیڑھی سے اتر کر بیت المقدس تشریف لے آئے۔ یہاں تمام پیغمبر موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی اور پھر براق پر سوار ہو کر واپس مکہ تشریف لے آئے۔ (طبرانی‘ ابن اسحاق‘ ابن سعد)
صبح سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چچا زاد بہن حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کو یہ روداد سنائی پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر نکلنے لگے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر پکڑ لی اور کہا کہ اللہ کے واسطے یہ قصہ لوگوں کو نہ سنایئے گا ورنہ وہ آپ کا مذاق اڑائیں گے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے ہوئے باہر نکل گئے کہ میں ضرور سنائوں گا۔ (طبرانی‘ ابن اسحاق‘ ابن سعد بروایت حضرت ام ہانی رضی اللہ عنھا) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حرم کعبہ میں پہنچے تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سامنا ابوجہل سے ہوا تو اس نے پوچھا ’’کوئی تازہ خبر؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔ ’’ہاں میں آج رات بیت المقدس گیا تھا اس پر حیران ہو کر اس نے پوچھا کیا راتوں رات ہو آئے اور اب صبح کو یہاں موجود ہو۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’ہاں۔‘‘ اس پر اس نے کہا۔ ’’کیا میں قوم کو جمع کروں؟ سب کے سامنے یہی بات کہو گے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’بے شک۔‘‘ تو ابوجہل نے آوازیں دے کر سب کو جمع کرلیا اور بولا۔ ’’اب کہو۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کے سامنے پورا واقعہ بیان کردیا۔ تو لوگوں نے مذاق اڑانا شروع کردیا کہ دو مہینے کا سفر ایک رات میں کیسے ممکن ہے۔ آناً فاناً یہ خبر پورے مکہ شہر میں پھیل گئی کچھ لوگوں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس جاکر پوچھا تو انہوں نے کہا۔ ’’اگر یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی ہے تو درست ہے۔ اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے۔ کیونکہ ان کے پاس تو آسمانوں سے پیغام آتے ہیں۔‘‘ پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خود حرم کعبہ میں تشریف لے آئے تو دیکھا کہ لوگ مذاق اڑا رہے ہیں تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ واقعی آپ نے ایسا کہا ہے۔ انہوں نے کہا ہاں اس پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں کا نقشہ بتائیں وہ میرا دیکھا ہوا ہے اور بھی کئی لوگوں نے دیکھا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری تفصیل سے اس کا احوال بتایا ایسا محسوس ہورہا تھا کہ دیکھ دیکھ کر تفصیل بتائی جارہی ہے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اس کی تصدیق کرتے جاتے‘ ان کی اس تدبیر سے وہاں موجود لوگ جو جھٹلا رہے تھے ان کو شدید ضرب پہنچی اور ان کے منہ بند ہو گئے‘ (ابن کثیر) وہاں کثرت سے ایسے لوگ بھی موجود تھے جو مال تجارت لے کر بیت المقدس جایا کرتے تھے۔ وہ سب کے سب قائل ہو گئے کہ نقشہ بالکل ٹھیک ٹھیک بیان کیا گیا ہے۔ (ابن ابی حاتم‘ طبرانی‘ بہیقی)
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حبیب حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر جو انعامات و عنایات فرمائیں ان ہی میں ایک عطا ایک تحفہ معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہے یہ تحفہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے حوالے سے عطا ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطمینان قلب حاصل ہو سکے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اُمّت کے لیے دل گرفتہ رہتے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اطمینان و تسلی کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت کی نجات و بخشش کے لیے نماز‘ روزہ کا تحفہ خاص عطا فرمایا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت ان اعمال کو اپنا کر اپنی نجات و بخشش کا سامان کر سکے اور عبادات الٰہی کے ذریعے قرب الٰہی حاصل کر کے جنت میں اعلیٰ مقام حاصل کر سکے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے بے پناہ بے حد و حساب انعاماتِ الٰہی سے نوازا ہے۔

ترجمہ۔ بے شک ہم نے آپ کو بے حد و حساب عطا کیا۔

اس آیتِ مبارکہ کی ابتداء ’’انا‘‘ سے کی گئی ہے جو تاکید پر دلالت کرتا ہے۔ پھر ضمیر جمع ذکر کی گئی ہے جو تعظیم کا مفہوم دیتی ہے اور یہاںاعطاء کا لفظ استعمال ہوا ہے کیونکہ اعطاء میں ملکیت پائی جاتی ہے یہاں ماضی کا صیغہ آیا ہے جو تحقیق پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی یہ کام ہو گیا ہے۔ علامہ آلوسی لکھتے ہیں اس آیت میں اعطاء کا اسناد ضمیر متکلم کی طرف کیا گیا ہے۔ ایتاء کا نہیں‘ اس سے اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو الکوثر کا مالک بنادیا۔
علامہ آلوسی الکوثر کے بارے میں لکھتے ہیں کہ کسی چیز کا اتنا کثیر ہونا کہ اس کا اندازہ ہی نہ لگایا جاسکے جب کہ علامہ قرطبی کے مطابق جو چیزتعداد میں‘ قدر و قیمت میں اور اہمیت کے لحاظ سے بہت زیادہ ہو اسے کوثر کہتے ہیں۔ ایک چیز جو بڑی اہم اور قابل غور و فکر ہے وہ یہ کہ قاعدہ ہے کہ موصوف اور صفت دونوں کا ذکر ایک ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن یہاں صرف صفت کا ذکر ہے موصوف کا ذکر نہیں ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی کیا حکمت ہے یہ وہی جانتا ہے۔ علماء کرام فرماتے ہیں کہ اگر کوئی ایک چیز اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی ہوتی تو اس کا ذکر ہوتا یا چند چیزیں ہوتیں تو ان کا ذکر ہوتا‘ یہاں معاملہ یہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا ہے وہ بے حدو حساب عطا فرمایا ہے۔ کس کس کا ذکر کیا جائے اور کس کا ذکر نہیں کیا جائے۔ علم‘ حلم‘ جودو کرم‘عفو و درگزر‘ غرض جن انعامات و نوازشات سے اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نوازا وہ تو بے پناہ بے حد و حساب ہیں۔
بے شک ہم نے تمہیں کوثر عطا کردیا۔ کوثر کے معنی جیسا کے پہلے بھی آچکے ہیں کثرت کے ہیں جس کے معنی بے حد و بے حساب کے ہیں یعنی جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا ہے وہ ایک عظیم اور لامحدود فیض ہے۔ جو مسلسل جاری ہے اور رہے گا جس کا سلسلہ کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے۔
سب سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو منصبِ رسالت سے نوازا گیا۔ یہ وہ خیرِ کثیر ہے جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُس عظیم وجود سے رابطہ ہوا جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ یعنی ایک عظیم ترین سچائی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رابطہ قائم ہوا اور جس کا تعلق اُس ذاتِ باری سے ہوجائے اُسے پھر اور کیا چاہیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوملنے والا خیرِ کثیر قرآنِ حکیم کی شکل میں آج بھی دیکھا جاسکتا ہے جو قیامت تک محفوظ رہنے والا ہے۔ جس کی ایک ایک آیت ایک ایک سورۃ خیرِ کثیر ہے قرآنِ کریم کی ہر ہر سورت ایسا سر چشمۂ رحمت ہے جس کا فیض کبھی ختم نہیں ہونے والا۔ ایسی جامع کتاب اس سے پہلے کسی دوسرے نبی پر نہیں اتاری گئی۔ خیرِ کثیر کی صورت یہ بھی ہے کہ تمام عالمِ بالا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اُن لوگوں پر بھی درود و سلام بھیجتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجتے ہیں ہر نماز کے لیے دی جانے والی اذان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بلند کیا جاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی ربِ کائنات اور پورے عالم کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفعتِ ذکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد نیک نامی اور محبت و عقیدت کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہے گی۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر ہر عمل سنت کی صورت میں خیرِ کثیر کے طور پر موجود ہے اور رہے گا اور یہ سنت دنیا کے اطراف و اکناف میں زندہ و جاوید ہے لاکھوں کروڑوں انسان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر چل رہے ہیں۔ لاکھوں کروڑوں افراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثار پروانے ہیں اور قیامت تک اُمّتِ مسلمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کرتی رہے گی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجتی رہے گی۔
خیرِ کثیر یہ بھی ہے کہ پوری انسانیت کے لیے آپ کو مبعوث کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ عالی مرتبت کے فیض سے پوری دنیا فیض یاب ہوئی اور پوری انسانی تاریخ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیض جاری ہے چاہے کسی کو اس کا شعور ہو یا نہ ہو چاہے وہ ایمان لایا ہو یا نہ لایا ہو لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت لائے ہوئے دین کے اثرات سب پر پڑے ہیں کسی نہ کسی طرح سب ہی فیض یاب ہوئے ہیں اور ہورہے ہیں اور رہتی دنیا تک فیض یاب ہوتے رہیں گے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ملنے والا خیرِ کثیر اس قدر عظیم اور بے پناہ و بے حد و حساب ہے جس کا شمار ممکن ہی نہیں اس کے علوم معارف کی کوئی حدود و قیود نہیں یہی وجہ ہے کہ قرآنِ حکیم میں ربِ کائنات نے کوثر کہہ کر مجمل چھوڑ دیا اور ہر خیر اس کے دائرے میں آجاتا ہے۔
خیرِ کثیر یہ بھی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی اولاد اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جسمانی دختری اولاد بھی بکثرت دنیا کے ممالک میں پھیلی ہوئی ہے۔ خیرِ کثیر یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت میں علماء صالح اور اہلِ کمال بھی کثرت سے ہوں گے جو دوسرے ابنیاء علیہم السلام کی اُمّت کو نصیب نہ تھے کوثر سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلقِ عظیم ہے۔
کوثر سے مراد مقامِ محمود ہے جو آخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا جائے گا جس کا ذکر سورۃ بنی اسرائیل کی آیت نمبر ۷۹ میں کیا گیا ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’کوثر جنت کی ایک نہر ہے‘ جس کے دونوں کنارے سونے کے ہیں ‘ اس کا فرش موتیوں اور یاقوت کا ہے‘ اس کی مٹی کستوری سے زیادہ خوشبودار اور پانی شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے زیادہ ٹھنڈا اور شفّاف ہے۔‘‘
یہ ایک ایسا حوض ہے جس سے روزِ محشر میدانِ حشر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت سیراب ہو گی۔ اس کے کناروں پر اس قدر کوزے رکھے ہوں گے جتنے آسمان پر ستارے ہیں تاکہ کوئی پیاسا انتظار کی زحمت نہ اٹھائے۔ یہ اعزاز و انعام صرف نبی آخر زماں کی اُمّت کو ہی ملا ہے۔ کچھ علماء کے قیاس کے مطابق کوثر سے مراد قرآن حکیم بھی ہے کیونکہ قرآن حکیم وہ واحد کتاب ہے جس میں ابدیت ہے‘ یعنی جو روز آخر تک کے لیے کارآمد ہے۔ یہ علوم و معارف کا خزینہ ہے۔ رشد و ہدایت کا آئینہ ہے‘ انسانی زندگی کا ہر ہر شعبہ اس کتاب سے منور و معمور ہورہا ہے۔ اس کی بصیرت عام ہے۔ کوثر سے مراد دین اسلام بھی ہے۔ کیونکہ یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی عطا ہے۔ کوثر سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ ہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی بھی نبی کے اتنے زیادہ اصحاب جانثار نہیں تھے۔ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے مطابق یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کا نور ہے جس کے باعث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسائی اللہ تعالیٰ تک ہوئی۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ کوثر سے مراد مقام محمود بھی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا جائے گا۔ جہاں آپ اپنی اُمّت کی شفاعت فرمائیں گے۔ علامہ اسماعیل حقی‘ علامہ قرطبی‘ علامہ آلوسی کے مطابق کوثر سے مراد خیر کثیر ہے اور دنیوی و آخروی نعمتیں اور فضائل سب شامل ہیں۔ اس میں اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ احادیث میں کوثر کو نہر کے معنی بطور تمثیل کے بتایا گیا ہے۔ کوثر کے بارے میں بکثرت احادیث تھوڑے تھوڑے لفظی اختلافات کے ساتھ موجود ہیں۔ (بخاری کتاب الرقاق‘ مسلم‘کتاب الطہارت و کتاب الفضائل‘ مسند احمد‘ مردیات ابن مسعود ؓ‘ ابن عمرؓ و عبداللہ ابن عمر و بن العاص‘ ترمذی‘ ابن ماجہ‘ ابو دائود)
عطیۂ کوثر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائص میں سے ہے۔ اس کے تحت دنیا و عقبیٰ کی ساری نعمتیں سارے انعامات الٰہی آجاتے ہیں۔ اس آیت مبارکہ کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں فرزندوں کے انتقال کے باعث دشمنانِ دین اور مخالفین خوشیاں منا رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر طنز کررہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اب ان کا نام لینے والا کوئی نہیں رہا۔ اس کے باعث اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دلجوئی اس طرح فرمائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی ابدالآباد تک روشن و تابندہ رہے گا۔

ترجمہ۔پس تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔

تفسیر۔ صلوۃ عربی کا لفظ ہے جس کے معنی نماز کے ہیں اس کی جمع صلوات ہے۔ لغوی معنی دعا تسبیح‘ استغفار‘ رحمۃ‘ ثناء طلب کرنے کے ہیں۔ یہ لفظ جب اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو تو اس کے معنی رحمت کے ہوںگے‘ اور جب مخلوق یعنی ملائکہ جن و انس سے منسوب ہو تو اس کے معنی قیام‘ رکوع و سجود کے ہیں‘ اور اگر پرندہ کیڑے مکوڑوں کے لیے استعمال ہو تو اس کا مطلب تسبیح ہوگا۔
اصطلاحاً نماز اُس مخصوص عبادت کا نام ہے جو اسلام کے ارکان میں ایک اہم رکن ہے۔ اس کو صلوۃ اس لیے کہا گیا ہے کہ اس کے اصل معنی تعظیم کے ہیں‘ اور ایک مخصوص عبادت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کی ہے۔ قرآنِ حکیم میں لفظ صلوۃ کا استعمال سو بار ہوا ہے اور مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے۔ ابن الاثیر نے الہناید میں صلوۃ کے دو معنی لکھے ہیں۔ ایک دعا کے چونکہ دعا نماز کا جز ہے دوسرے لغوی معنی تعظیم کے ہیں کیونکہ اس عبادت میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی تعظیم مقصود ہے۔
نماز اسلام کا وہ فریضہ ہے جسے کوئی با ہوش و حواس مسلمان کسی بھی حالت میں چھوڑ نہیں سکتا۔ یہ ہر عاقل بالغ پر فرض کی گئی ہے اس کی فرضیت کا حکم توحید کے بعد سب سے پہلا حکم ہے یہ فرض موکدہ ہے اس کی فرضیت شبِ معراج میں باقاعدہ ہوئی۔ قرآنِ حکیم میں بار بار نماز قائم کرنے کی تاکید کی گی ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام نے دریافت کیا کہ کونسا عمل سب سے بہترین ہے تو آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’نماز وقت مقررہ پر ادا کرنا‘‘ نماز کے بارے میں احادیث کا ایک پورا باب موجود ہے۔ قرآنِ حکیم میں ہے کہ اہلِ دوزخ سے دریافت کیا جائے گا کہ تمہیں کون سی چیز دوزخ میں لائی تو وہ کہیں گے ہم نماز نہیں پڑھتے تھے۔
نماز اسلام کی ایک مرکزی عبادت ہے یہ ایک ایسی عبادت ہے جس میں انسان کی ساری شخصیت جذب ہوجاتی ہے۔ نماز انسان کے باطن میں ایک پاسبان کی حیثیت رکھتی ہے‘ جو بدی کے خلاف رکاوٹ بنتی ہے۔ نماز انسان میں نہایت پاکیزگی کا ذوق پیدا کرتی ہے۔ مسلمانوں میں اجتماعی نظم کی صورت تشکیل کرتی ہے اور بندے کو اپنے رب کے قریب کرتی ہے اس میں عبدیت عاجزی انکساری کے تمام عناصر موجود ہیں جو اللہ تبارک و تعالیٰ کو پسند ہے اس لئے اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے محبوب نبی کو وہ طریقہ‘ قاعدہ سکھا رہا ہے جو بندّے کو اللہ کے کسی احسان‘ کوئی نعمت مل جانے پر اختیار کرنا چاہیے تاکہ انسان کی عاجزی‘ اطاعت و بندگی کا اظہار ہو اور وہ نعمت پانے پر اپنے رب کا شکر گزار بندہ ہونے کا اقرار کرے۔ یہاں شکر گزاری کا وہ طریقہ بتایا جارہا ہے جس سے اللہ کے محبوب نبی بھی مستثنیٰ نہیں تھے۔ یعنی اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی دو۔ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب پر بے پایاں انعامات و عنایات ہونے کے باوجود انہیں احسانات کا شکر ادا کرنے کی تلقین فرما رہا ہے۔ ’’اے نبی جب تمہارے رب نے تمہیں کثیر اور عظیم نعمتیں بھلائیاں عطاء کی ہیں تو تم اسی کے لیے نماز پڑھو اور اسی کے لیے قربانی کرو۔‘‘ یہ حکم اس ماحول میں دیا گیا تھا جب مشرکین قریش ہی نہیں تمام عرب کے مشرکین اور دنیا بھر کے مشرکین اپنے اپنے خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرتے تھے اور انہی کے آستانوں پر قربانیاں چڑھایا کرتے تھے۔ اس لیے یہاں تاکیداً یہ کہا جارہا ہے کہ تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی دو۔ تمہاری نماز بھی اللہ ہی کے لیے ہو اور تمہاری قربانی بھی صرف اللہ کے لیے ۔ چونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے تمام احکامات و پیغامات کی عملی طور پر تعلیم دینے والے بھی تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تاکید فرمائی کہ وہ توحید الٰہی کی عملی صورت میں تبلیغ کریں۔ جب انسان اپنے رب پر ایمان لے آئے اور اس کی بڑائی میں یکتائی کبریائی کو تسلیم کرلے تو پھر اس کی طرف سے ملنے والی تمام اقسام کی نعمتوں اور احسانات کا اپنی بندگی محتاجی عاجزی ‘ انکساری کا اپنے قلب و روح اور پورے اخلاص سے شکر ادا کرے اور اللہ تعالیٰ کی مزید رضا و رحمت حاصل کرنے کی کوشش کرے کیونکہ نماز ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو بندے کو براہ راست اپنے رب کے حضور لا کھڑا کرتی ہے اور نماز ہی وہ ذریعہ ہے جس میں انسان اپنے دل و زبان سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کررہا ہوتا ہے۔ اپنی عاجزی اور اللہ کی کبریائی کا اقرار کرتا ہے اپنی حرکات و سکنات سے اپنی عاجزی انکساری کا اظہار اپنے اعضاء سے کرتا ہے۔ یعنی قیام رکوع سجدہ یہ ایسے تعظیمی افعال ہیں جن سے انسان اپنی عاجزی کا عملی اظہار کرتا ہے اور ان اعمال کے دوران زبان و دل سے اپنی بندگی اور اپنے رب کی بڑائی و عظمت کا اقرار کررہا ہوتا ہے اور شیطان کے بہکانے اور ورغلانے سے بچا رہتا ہے اور نماز کے دوران انسان کو قربِ الٰہی حاصل رہتا ہے کیونکہ ایمان کا تقاضا ہے کہ اہلِ ایمان اپنے رب کی ہر ہر عظمت کا اپنے ہر ہر سانس کے ساتھ شکر ادا کرتا رہے اور نماز اپنے رب کے حضور شکر گزاری کا ایک بہترین عمل ہے۔ جیسا سورۃ الانعام میں کہا جارہا ہے۔
ترجمہ۔ آپ فرما دیجیے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہاں کا مالک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں میں سب سے پہلا ہوں۔ (سورۃ الانعام۔۱۶۲۔۱۶۳)
تفسیر۔ آیتِ مبارکہ میں قل کہہ کر بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اقرار کرایا ہے کہ میری ہر قسم‘ عبادت یہاں تک میرا مرنا جینا تک سب کا سب ایک اللہ کے لیے ہے یہ اقرار ایسے ماحول اور حالات میں کرایا جارہا ہے جب ہر سو کفر و شرک کی تاریکی پھیلی ہوئی تھی کوئی بھی یہاں تک کے اہلِ کتاب یہود و نصاریٰ تک ایک اللہ کی عبادت سے منحرف تھے انہوں نے اپنے اپنے نبیوں کو اللہ کا شریک ٹھہرا رکھا تھا جبکہ کفار اپنی ہر ضرورت و حاجت کے لیے الگ الگ دیوی دیوتائوں کی پرستش کررہے تھے۔ یہاں تک کہ کعبہ میں تین سو ساٹھ بت موجود تھے یہ سب اللہ کو تو مانتے تھے لیکن اللہ کی وحدانیت پر یقین نہیں رکھتے تھے اور اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک عبادات کرتے تھے جب دنیا میں اللہ کی وحدانیت کا کوئی ماننے والا نہیں رہا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو معبوث فرمایا تاکہ گمراہ انسانیت کو راہِ راست پر لایا جاسکے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے حکم سے اعلانِ نبوت فرمایا تو غیر تو غیر اُن کے اپنی قوم‘ قبیلے کے لوگ جو اب تک ان کی عزت و احترام کرتے رہے تھے انہیں صادق و امین کے لقب سے پکارتے رہے تھے وہ سب کے سب مخالف ہوگے ایسے شدید مخالفت کے ماحول میں اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے محبوب کو حکم دے رہا ہے کہ کہہ دو میری نماز میری تمام تر عبادات سب کچھ ایک اللہ کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے۔
چونکہ اسلام کو ماننے والی اسلام پر عمل کرنے والی سب سے پہلی شخصیت خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی۔ یہی بات اس آیتِ مبارکہ میں بھی کہی گئی ہے۔ ’’قل‘‘ کہہ کر اللہ تبارک و تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ اقرار کرایا ہے (اور یہ اقرار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پوری اُمّتِ مسلّمہ سے کرایا جارہا ہے) کہ میری نماز میرے تمام مراسمِ عبودیت‘ میرا جینا میرا مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے‘ جس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے سرِ اطاعت جھکانے والا احکام الٰہی کو ماننے والا میں ہوں۔ یہ توحید کا نغمہ ہے۔ مطلق توحید اور ہمہ گیر بندگی کا اظہار جس میں نماز‘ اعتکاف زندگی اور موت سب امور اللہ کے لیے مختص کردیئے گئے ہیں۔ رب العالمین‘ جو سنبھالنے والا واحد متصرف اور نگہبان ہے۔ مربی اور عالمین کا حاکم اور رب ہے۔ اس میں مکمل اسلام کا اعلان ہے۔ مکمل اسلام امر الٰہی ہے محض رضا کارانہ فعل نہیں ہے اس لیے سب سے پہلے مسلم خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔
توحید الوہیت کی یہی دعوت تمام انبیاء علیہم السلام نے دی جس طرح یہاں آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے کہلوایا گیا ہے کہ ’’مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب ماننے والوں میں پہلا ہوں۔‘‘ یہی بات قرآن حکیم میں سورۃ الانبیاء میں اس طرح فرمائی گئی ہے۔
ترجمہ۔ آپ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو۔ (سورۃ الانبیاء۔ ۲۵)
تفسیر۔ اللہ تعالیٰ نے جب سے لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے رسول بھیجے ہیں ان کی دعوت اور تعلیمات کا قاعدہ اور اساسی عقیدہ توحید ہی رہا ہے۔ آخر تک اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی یعنی اللہ اور معبود ایک ہی ہے ۔ وہی رب ہے۔ الوہیت اور ربوبیت کے درمیان جدائی ممکن نہیں ہے۔ جو الٰہ ہے وہی رب ہے۔ ان تعلیمات میں اللہ کی الوہیت‘ حاکمیت اور بندگی میں کوئی شریک نہیں اور یہ عقیدہ اسی طرح مستحکم ہے جس طرح اس کائنات کا عظیم نظام مستحکم اور مضبوط ہے۔ کیونکہ رسولوں کی تعلیمات دراصل اس کائنات کے قوانین کا فطری حصہ ہے۔ ایسا ہی اعلان حضرت نوح علیہ السلام نے بھی کیا ہے۔
ترجمہ۔ اور مجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلمانوں میں رہوں۔ (سورۃ یونس۔۷۲)
اس سے ثابت ہوا کہ حضرت نوح علیہ السلام کا دین بھی اسلام ہی تھا اور تمام انبیاء کا دین بھی اسلام ہی تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے جب اللہ تعالیٰ نے کہا۔ ’’فرما نبردار ہو جا‘‘ تو انہوں نے فرمایا۔
ترجمہ۔میں رب العالمین کا فرماں بردار ہو گیا۔ (سورۃ البقرہ۔۱۳۱)
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی اولادوں کو وصیت کی۔
ترجمہ۔تمہیں موت اسلام پر آنی چاہیے۔ (سورۃ البقرہ ۔۱۳۲)
حضرت یوسف علیہ السلام نے دعا فرمائی۔
ترجمہ۔مجھے اسلام کی حالت میں دنیا سے اٹھا۔ (سورۃ یوسف۔ ۱۰۱)
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا۔
ترجمہ۔ اگر تم مسلمان ہو تو اسی اللہ پر بھروسہ کرو۔ (سورۃ یونس۔۸۴)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے کہا۔
ترجمہ۔ آپ شاہد رہیے کہ ہم پورے مسلمان ہیں۔ (سورۃ المائدہ۔۱۱۱)
اسی طرح اور بھی انبیاء اور ان کے مخلص پیرو کاروں نے اسی اسلام کو اپنایا جس میں توحید الوہیت کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔
یہی مضمون قرآن حکیم میں سورۃ الاعراف آیت:۱۲۶‘ سورۃ النحل آیت:۴۴‘ سورۃ المائدہ:۴۴ اور سورۃ الانعام:۱۶۲۔۱۶۳ میں بھی آیا ہے۔
نماز اطاعت وفرمانبرداری عبادت الٰہی کا ذریعہ ہے اور اس کے ہی ذریعے اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری بھی ادا ہوتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ سورۃ الکوثر کی دوسری آیت مبارکہ میں کوثر عطا کرنے پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شکر گزاری کے لیے نماز اور قربانی کی تاکید فرما رہا ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ نماز انسان کا خصوصی تعلق اللہ تعالیٰ سے قائم کرتی ہے جس سے انسان کو اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوتی ہے۔ جو زندگی کے ہر ہر موڑپر اس کے عزم و ثبات کا باعث بنتی ہے اور ہدایت کا ذریعہ بھی ثابت ہوتی ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں کہا گیا ہے۔ ’’اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔‘‘ (سورۃ البقرہ۔۱۵۳) اس آیت مبارکہ میں صبر اور نماز کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ اس طرح انسان کا اپنے رب کے ساتھ خصوصی تعلق پیدا ہوتا ہے۔ اللہ قدم قدم پر اپنے بندے کی دستگیری اور رہنمائی فرماتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نماز کی تاکید کی گئی ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ جو عظیم کام سونپا گیا ہے اس میں بھی اللہ کی مدد و دستگیری کی بڑی ضرورت ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اُمّت کے لیے عملی نمونہ بھی تھے۔ اس لیے عملی رہنمائی کے لیے اور اُمّت کی تربیت کے لیے بھی نماز کا اہتمام ضروری ہے۔ (مسند احمد۔ ابو دائود)
نماز ہی وہ پاکیزہ عمل ہے جو انسان کو بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے جس طرح بیمار جسم کی شفاء کے لیے مختلف ادویات کے مختلف خواص اور تاثیریں ہوتی ہیں ایسے ہی نماز میں بھی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایسی روحانی تاثیر رکھی ہے کہ یہ انسان کو بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان پورے خلوص اور نیک نیتی سے سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق پورے آداب و شرائط کے ساتھ اسے ادا کرے۔ نماز کی صحت و قبولیت کے لیے ضروری ہے اسے پوری طرح طہارتِ قلب سے ادا کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف التفات نہ ہو۔ رکوع سجود پوری توجہ سے درست ادا کریں اور کوشش کر کے خشوع و خضوع کی کیفیت اپنا لیں۔ بے حیائی اور برائی سے روکنے میں نماز اس لیے موثر ہے کہ جب تک انسان نماز میں مصروف ہوتا ہے وہ ہر قسم کی برائی سے رکا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پوری اُمّت کے ہر ہر فردپر یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ وہ نا صرف خود نماز پابندی سے ادا کرے بلکہ اپنے گھر والوں اور متعلقین کو بھی نماز کی تاکید کرے جیسا کہ سورۃ طہ میں کہا جارہا ہے۔
ترجمہ۔ اپنے گھرانے کے لوگوں پر نماز کی تاکید رکھ اور خود بھی اس پر جما رہے۔ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے بلکہ ہم خود تجھے روزی دیتے ہیں‘ آخر میں بول بالا پرہیز گاری ہی کا ہے۔ (سورۃ طہٰ۔۱۳۲)
تفسیر۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس آیتِ مبارکہ میں اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت کے ہر ہر فرد کو پابند فرما رہا ہے کہ وہ خودبھی نماز پڑھے اور اپنے گھر والوں کو اور ایسے تمام افراد کو جو اس کے طابع ہوں انہیں بھی تاکید کرے کہ وہ بھی نماز پابندی سے ادا کریں۔ ایک مسلمان کا پہلا فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنے گھر کو واقعی ایک مسلمان کا گھر بنائے۔ اپنے اہل و عیال کو نماز اد ا کرنے کی ترغیب دے جو انہیں اللہ سے مربوط کرتی ہے۔ جس سے اس کے گھر میں یکجہتی پیدا ہو گی اور گھر خوشیوں کا گہوارہ بن جائے گا۔ نماز فحاشی اور منکرات سے بچاتی ہے۔ جب کوئی گھرانہ نماز پر جم جاتا ہے تو پھر اس کے شعور میں اس کے طرز عمل میں نماز کے آثار نمایاں نظر آنے لگتے ہیں۔ نماز ہی وہ عبادت ہے جو بندے کا اللہ سے براہ راست رابطہ قائم کرتی ہے۔ نماز ادا کرنے سے انسان کا ہی فائدہ ہے اللہ کو تو اس کی ضرورت نہیں وہ تو غنی ہے۔ رازق ہے۔ رحیم و کریم ہے۔ وہی ہمیں پالتا ہے‘ ہمیں کھانے کو دیتا ہے‘ ہمارے لیے زندگی کے تمام اسباب پیدا کرتا ہے۔ وہی ہے جو ہماری ہر حال میں پرورش کرتا ہے‘ چاہے انسان اس کی اطاعت کرے یا نافرمانی وہ رب ہماری نافرمانی پر بھی ہماری پرورش سے غافل نہیں ہوتا۔ انسان ہی اسے بھولتا ہے۔ وہ انسانوں کو نہیں بھولتا تمام تر عبادات و اطاعت کا فائدہ انسان کو ہی پہنچتا ہے۔ نماز ایسی عبادت ہے جو انسان کی فلاح و بھلائی کے لیے ہے۔ نماز سے انسان کے دل میں اللہ کا خوف پیدا ہوتا ہے۔ انسان اپنی عبادات سے ہی دنیا و آخرت میں فائدہ اٹھاتا ہے۔ نماز ادا کر کے مسلمان مطمئن اور سکون سے رہتا ہے۔ اسے بے چینی ‘ بے کلی نہیں ہوتی نہ اسے احساس ندامت ہوتا ہے۔ نہ اس کا ضمیر ملامت کرتا ہے۔ اس لیے کہ ان تمام عبادات جن میں نماز سر فہرست ہے اس کا اجر بھی ادا کرنے والے انسان کو ہی ملتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو تمام انسانوں کے لیے ایک عملی نمونہ بن کر تشریف لائے تھے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بطوراتمام حجت بھیجا ہے تاکہ روز آخرت کوئی انسان یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں تو خبر ہی نہیں تھی ہمیں تو کوئی خبر دینے والا آیا ہی نہیں‘ حالانکہ ابتدا سے ہی دین اسلام ایک ہی ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کرو وہی پیغام نبی آخر ی الزماں لے کر تشریف لائے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اتمام حجت اور تکمیلِ دین کا کام لیا ہے۔
نماز ہے کیا اور اس کی کیا اہمیت ہے ‘ اس پر تھوڑا سا غور کرلیا جائے تو اس کی اہمیت اور حقیقت واضح ہو جائے گی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کیوں اپنے بندوں کو نماز کی تلقین فرما رہا ہے اور اس کے دنیاوی اور دینی کیا فوائد ہیں۔ نماز کو قرآن حکیم نے صلوٰۃ کے نام سے یاد کیا ہے اور قرآن حکیم میں سات سو مرتبہ اس کی ادائیگی کی تلقین کی گئی ہے۔ صلوٰۃ کو فارسی میں نماز کہتے ہیں یہی اردومیں رائج ہے۔ اسلام میں سب سے اہم عبادت ہے۔ لغوی اعتبار سے اس کا مطلب دعا‘ مغفرت‘ رحمت‘ درود ہے۔ نماز اسلام کا رکنِ اعظم ہے۔ نماز کی ادائیگی سے جسم و جان دل کی ہی صفائی نہیں ہوتی اس سے قرب الٰہی بھی حاصل ہوتا ہے۔ اس عبادت میں انسان کے تمام ظاہری اور باطنی قویٰ شریکِ عبادت ہوتے ہیں۔ وضو سے لے کر نماز کی نیت اور سلام پھیرنے تک انسانی جسم کا ایک ایک عضو ایک ایک جوڑ متحرک رہتا ہے اور شریک عبادت ہوتا ہے۔ جب انسانی جسم نماز میں مصروف ہوتا ہے تو اس کا ایک ایک ریشہ‘ ایک ایک جوڑ‘ ایک ایک عضو شریک عبادت ہوتا ہے اس طرح حالت نماز میں متحرک ہونے سے ان اعضاء کی ورزش بھی ہو جاتی ہے۔ جو انسان کی ظاہری صحت و تندرستی کا باعث ہوتا ہے اور ظاہری قویٰ کے ساتھ ساتھ تمام باطنی قویٰ بھی شامل عبادت ہوتے ہیں۔ اسی لیے عبودیت کے چاروں ارکان اسی عبادت نماز میں پائے جاتے ہیں۔ نماز کی ادائیگی کا منشا دل و دماغ اور جسم کی صفائی کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کاقرب بھی حاصل کرنا کا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثِ مبارک حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ’’میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ بتائو اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر ایک نہر ہو جس میں وہ پانچ مرتبہ روزانہ نہاتا ہو تو کیا ایسے شخص پر میل کچیل کا کوئی اثر باقی رہے گا؟ لوگوں نے کہا نہیں یارسول صلی اللہ علیہ وسلم ایسے شخص پر میل کچیل کا کوئی اثر باقی نہیں رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی مثال پانچوں نمازوں کی ہے۔ ان کے ذریعے سے بھی اللہ تعالیٰ بندے کے گناہوں کو دھوتا رہتا ہے۔‘‘ (متفق علیہ)
ایک اور حدیث مبارکہ یوں روایت ہوئی ہے۔
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص سو جاتا ہے تو شیطان اس کے سر کے پچھلے حصے میں تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ پھونک مار دیتا ہے کہ ابھی بڑی رات پڑی ہے۔ سوتے رہو۔ پھر اگر وہ جاگ جاتا ہے اور اللہ کو یاد کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے۔ اس کے بعد اگر وہ وضو کرلیتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے اور اگر وہ نماز پڑھ لیتا ہے تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں اور انسان بالکل ہشاش بشاش اور چاق و چوبند ہو جاتا ہے۔ اس کی پژمردگی اور سستی دور ہو جاتی ہے۔ (متفق علیہ)
نماز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے شب معراج کا عظیم تحفہ ہے۔ قیامت کے روز سب سے پہلے نماز کا ہی حساب ہو گا۔ نماز نہ پڑھنا یا نماز کی طرف سے غفلت برتنا‘ جان بوجھ کر نماز ترک کرنا یہ سب کافرانہ روش اختیار کرنا ہے۔ نماز ہر بالغ مسلمان مرد عورت پر فرض ہے۔ خواہ جوان ہو کہ بوڑھا‘ امیر ہو کہ غریب‘ بیمار ہو کہ تندرست یہاں تک کہ حالتِ جنگ میں بھی نماز معاف نہیں‘ ہاں اگر ہوش و حواس ہی نہ رہے تو باز پرس نہ ہو گی۔ نماز کی ادائیگی سے انسان میں وقت کی پابندی آتی ہے۔ اس میں روح اور جسم کی پاکیزگی آتی ہے‘ تھکن دور ہوتی ہے‘ دوران خون درست رہتا ہے‘ چہرہ ترو تازہ رہتا ہے‘ ایمان کی دولت حاصل ہوتی ہے‘ اللہ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔ بری باتوں اور برائیوں سے انسان بچتا ہے‘ اس کے دل میں اللہ کا خوف پیدا ہوتا ہے۔ نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے جماعت سے نماز ادا کرنے میں امام کے پیچھے رکوع و سجود کرنے سے اطاعت اور تنظیم مستحکم ہوتی ہے اس سے زندگی میں بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اگر ہم ایک نظر نماز کی ہیئت پر ڈالیں تو بہت سی باتیں آسانی سے ہماری سمجھ میں آجائیں گی۔ انسانی جسم میں تقریباً تین سو مختلف جوڑ اور ہڈیاں ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ انسانی کھال کے نیچے اور ہڈیوں کے اوپر انسانی جسم میں جو گوشت کی تہیں ہوتی ہیں وہ سب ملا کر چار سو اٹھانوے (۴۹۸) ہیں۔ حالتِ نماز میں جب انسان اپنے رب کے سامنے عبادت کی نیت کر کے کھڑا ہوتا ہے تو یہ تمام اعضاء بھی اس کے ساتھ مصروفِ عبادت ہو جاتے ہیں۔ نیت کے لیے دونوں ہاتھ اٹھا کر کانوں تک بلند کرنے‘ سینے پر باندھنے‘ قیام کرنے‘ رکوع و سجود کے بعد سلام پھیرنے تک اگر ہم غور کریں تو ایک ایک عضو‘ ایک ایک جوڑ متحرک رہتا ہے اور ہماری عبادت کی نیت کو عملی شکل دینے میں ہمارا معاون و مددگار ہوتا ہے۔ ان اعضاء کا متحرک ہونا انسانی صحت و زندگی کے لیے کس قدر ضروری اور اہم ہے اس کی تفصیل میں جائے بغیر صرف اتنا سمجھ لینا کافی ہو گا کہ چاق و چوبند رہنے کے لیے حکماء اور ڈاکٹر ورزش کا مشورہ دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جو اپنے بندوں کی بہتری اور فلاح کو خوب جانتا ہے۔ اس نے بطور خاص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت کے لیے نماز کا یہ تحفہ عطا فرمایا تاکہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت اپنے رب کی عبادت کے ساتھ ساتھ اپنی صحت و توانائی بھی اس عبادتی ورزش سے بحال رکھے اور اپنے دنیا کے کام کاج کرنے کے لیے چاق و چوبند رہے۔ بے شک نماز اُمّت مسلمہ کے لیے رب کائنات کا سب سے اہم اور بڑا تحفہ و عطیہ ہے۔ آج کے دور میں غیر مسلم یوگا اور کئی طرح کی ورزش کرتے ہیں اگر ہم ایک نظر ان پر ڈالیں اور اپنی حالت نماز کا ادراک کریں تو وہ تمام اہم آسن اور عمل ہماری نماز میں از خود موجود ملیں گے۔
جب انسان نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو وہ عجز و نیاز مندی کی تصویر بن کر کھڑا ہوتا ہے۔ ہاتھ باندھے ہوئے‘ نگاہیں نیچی کیے ہوئے‘ گردن جھکائے ہوئے‘ دونوں پائوں برابر کیے ہوئے‘ ہر طرف سے بے تعلق ہو کر خاموش پوری طرح سنجیدہ ہو کر عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔ کبھی عجز و نیاز مندی میں کمر کو جھکا کر آدھا جھک جاتا ہے۔ جو انسان کے عجز و نیاز کی علامت ہے اور کبھی اپنی پیشانی زمین پر رکھ دیتا ہے۔ ناک زمین سے لگا دیتا ہے۔ غرض عاجزی و تذلیل کی جتنی شکلیں ممکن ہوتی ہیں وہ انسان اختیار کرتا ہے اور تمام تر ادب و وقار کو ملحوظ رکھتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے کوئی ملزم کسی بڑی عدالت میں کھڑا حاضری دے رہا ہو۔ ویسے بھی نماز کے لیے یہ حکم ہے کہ ’’حالت نماز میں اس طرح کھڑے رہو جیسے تم رب کو دیکھ رہے ہو اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے وہ تو یقیناً تمہیں دیکھ رہا ہے۔‘‘ نماز درحقیقت نماز پڑھنے والے کے باطن کا عکس ہوتی ہے۔ نماز میں انسان کی کمر ہی نہیں جھکتی بلکہ اس کا دل بھی جھکتا ہے۔ صرف انسان کی پیشانی اور ناک خاک آلود نہیں ہوتی بلکہ اس کی روح بھی سجدہ ریز ہوتی ہے۔ ایک حدیث شریف میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’تم میں سے کوئی انسان جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو گویا وہ اپنے معبود سے راز و نیاز کی باتیں کرتا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری) اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نماز اللہ اور اس کے بندے کے درمیان مکالمے کی حیثیت رکھتی ہے۔ انسان جس قدر اخلاص سے خشوع و خضوع سے نماز ادا کرے گا۔ اتنا ہی وہ اپنے مالک و آقا اپنے رب کے قریب ہو گا۔ اسلامی زندگی کا سب سے بڑا اور بنیادی مقصد بھی یہ ہے کہ انسان کا اپنے رب سے قرب ہو جائے۔ درحقیقت نماز عبدیت کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔ اس سے بندے کو اپنے مالک و آقا کے دربار میں حاضری کا شرف حاصل ہوتا ہے اور تمام کائنات میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ شرف انسان ہی کو عطا فرمایا اور انسانوں میں بھی نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت کو حاصل ہے یہ شرف بندہِ مومن دن میں کم از کم پانچ بار ضرور حاصل کرلیتا ہے۔ نماز انسان کو معراجِ عبدیت پر پہنچا دیتی ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ’’حجۃ البالغہ‘‘ میں نماز کے بارے میں یوں تحریر فرماتے ہیں۔ ’’نماز اپنی عظمت و شان اور عقل و فطرت کے تقاضے کے مطابق تمام دیگر عبادات میں ممتاز مقام رکھتی ہے اور اللہ کے بندوں میں تزکیہ نفس کی تربیت کے لیے سب سے زیادہ نفع مند ہے۔ اس لیے ہی شریعت میں اس کی بڑی فضیلت ہے۔ نماز دین کا عظیم ترین شعار اور امتیازی نشان ہے۔ نماز کے اصل عناصر تین ہیں۔ ایک قلب کو پورے اخلاص اور توجہ سے اللہ تبارک و تعالیٰ کی عظمت و جلال کے ساتھ متوجہ رکھنا۔ دوسرے اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی اور اپنی عاجزی و انکساری اور اطاعت کا بہتر سے بہتر الفاظ میں زبان سے اقرار کرنا۔ تیسرے تمام ظاہری‘ باطنی اعضاء کو اللہ تعالیٰ کی عظمت و جبروت اور اپنی عاجزی و بندگی کی شہادت کے لیے پوری توجہ و اخلاص سے استعمال کرنا۔ نماز کی حقیقت بھی تین اجزاء سے مرکّب ہے۔ ایک اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی کا پوری طرح ادراک۔ دوسرے چند ایسی دعائیں اور اذکار جن سے بندے کی بندگی اور اس کے اعمال کا خالص اللہ کے لیے ہونا اور یہ کہ بندہ اپنی پوری توجہ اخلاص اور یکسوئی سے اپنے رب‘ اپنے مالک و آقا کی طرف کر چکا ہے اور اپنی تمام اور ہر قسم کی حاجات کے لیے صرف اللہ تعالیٰ سے ہی مدد چاہتا ہے۔ تیسرے نماز کے تعظیمی افعال یعنی رکوع‘ سجدہ‘ قیام و سلام۔ ان سب کی تکمیل توجہ اور پوری طرح صحیح صحیح ترتیب سے ادا کرے۔‘‘ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ نماز اہل ایمان کی معراج ہے اور آخرت میں تجلیاتِ الٰہی کے جو نظارے اہلِ ایمان کو نصیب ہونے والے ہیں ان کی استعداد و صلاحیت پیدا کرنے کا خاص ذریعہ ہے اور اللہ کی محبت اور رحمت کے حصول کا وسیلہ ہے۔ نماز اہل ایمان کو برائیوں‘ برے کاموں‘ شیطان کے شر سے بچا کر اسے پاک صاف کردیتی ہے۔ کفر و شرک‘ فسق و فجور سے محفوظ رکھتی ہے اور مسلمان اور کافر کو واضح شناخت دیتی ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بندے کے اور کفر کے درمیان نماز چھوڑ دینے ہی کا فاصلہ ہے۔ (صحیح مسلم) اس کا مطلب یہ ہوا کہ نماز دینِ اسلام کا شعائر اور حقیقتِ ایمان سے اس کا ایسا گہرا تعلق ہے کہ مسلمان اگر اسے چھوڑ دے تو گویا کفر کی سرحد پر پہنچ جائے گا۔ ایک اور حدیث حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہمارے اور اسلام قبول کرنے والے عام لوگوں کے درمیان نماز کا عہد و میثاق ہے۔ (یعنی ہر ایمان لانے والے سے ہم نماز کا عہد لیتے ہیں جو ایمان کی خاص نشانی ہے اور اسلام کا شعائر) پس جو کوئی نماز چھوڑ دے تو گویا اس نے اسلام کی راہ چھوڑ کے کافرانہ طریقہ کو اختیار کرلیا۔ نماز سے کردار میں پختگی اور دین میں استقامت حاصل ہوتی ہے۔ جیسا کہ سورۃ البقرہ آیت ۴۵ میں ربّ کائنات فرما رہا ہے۔
ترجمہ۔ اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو۔ یہ چیز شاق ہے‘ مگر ڈر رکھنے والوں پر۔ (سورۃ البقرہ۔ ۴۵)
تفسیر۔ صبر اور نماز ہر اللہ والے بندے کے لیے دو بڑے ہتھیار ہیں۔ اس بات کو یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ اگر نیکی کے راستے پر چلنے میں دشواری محسوس ہوتی ہے تو اس دشواری کا علاج صبر اور نماز ہے۔ ان دو چیزوں سے بندے کو وہ طاقت ملتی ہے جس سے یہ راہ آسان ہو جاتی ہے۔
صبر کے لغوی معنی روکنے اور باندھنے کے ہیں۔ اس سے مراد ارادے کی وہ مضبوطی‘ عزم کی وہ پختگی اور خواہشاتِ نفس کا وہ انضباط ہے جس سے کوئی بھی محض نفسانی اور بیرونی مشکلات کے مقابلے میں اپنے ضمیر و قلب کے پسندیدہ راستے پر بڑھتا چلا جائے۔ اس لیے اس آیتِ مبارکہ میں انسان میں اخلاقی صفت‘ اپنے اندر پرورش کرنے اور باہر سے طاقت پہنچانے کے لیے نماز کی پابندی کا حکم دیا جارہا ہے۔ کیونکہ نماز کے ذریعے ایک مومن کا رابطہ و تعلق اللہ تعالیٰ سے استوار ہوتا ہے جس سے اسے اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت حاصل ہوتی ہے اور صبر کے ذریعے اس کے کردار میں مضبوطی اور دین میں استقامت پیدا ہوتی ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کوئی اہم معاملہ درپیش ہوتا آپ فوراً نماز کا اہتمام فرماتے۔
نماز کی پابندی عام لوگوں کے لیے گراں ہے‘ لیکن خشوع و خضوع کرنے والوں کے لیے نہایت آسان بلکہ اطمینان و راحت کاباعث ہے۔ نماز پڑھنے والے روزِ قیامت و آخرت اور اس کے بعد کی دائمی زندگی پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ یقین انسان کے اعمالِ خیر کو آسان کردیتا ہے اور آخرت کی فکر نہ کرنے والے بے فکر‘ بے عمل انسان کو باعمل بنا دیتی ہے۔ نہ اسے قیامت کی فکر رہتی ہے نہ آخرت کے بعد کی دائمی زندگی کی۔ نماز مسلمان کی دائمی زندگی کا زینہ ہے۔ نماز انسان کو بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے اور برائی کو دور کرتی ہے جیسا کہ سورۃ العنکبوت میں فرمایا جارہا ہے۔
ترجمہ۔ جو کتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھیں اور نماز قائم کریں‘ یقینا نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے بے شک اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے۔ تم جو کچھ کررہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے۔ (سورۃ العنکبوت۔۴۵)
تفسیر۔ اس آیتِ مبارکہ میں نماز کی فضیلت و اہمیت کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرما رہا ہے کہ اللہ کا ذکر یعنی نماز کی تاثیر صرف یہی نہیں کہ برائیوں سے روکے بلکہ اس سے بڑھ کر ہے کہ وہ نیکیوں پر ابھارنے والی اور سبقت الی الخیرات پر آمادہ کرنے والی چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ کی یاد بذات خود بہت بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ خیر الاعمال میں ہے۔ انسان کا کوئی عمل اس سے افضل نہیں اللہ کو یاد کرنا سب سے بہتر اور بڑا عمل ہے جیسا کہ سورۃ بقرہ کی آیت ۱۵۲ میں فرمایا جارہا ہے کہ ’’تم مجھے یاد کرو‘ میں تمہیں یاد کروں گا۔‘‘ جب بندہ نماز کی حالت میں اپنے رب کو یاد کرے گا تو ضروری ہے کہ اس کا رب بھی اسے یاد کرے گا اوریہ کتنی بڑی فضیلت ہے کہ اللہ اپنے بندے کو یاد کرے۔
قرآن حکیم کی تلاوت کئی مقاصد کے لیے مطلوب ہے۔ محض اجر و ثواب کے لیے اس کے معانی و مطالب پر تدبر و تفکر کے لیے تعلیم و تدریس کے لیے وعظ و نصیحت کے لیے۔ لیکن نماز میں تلاوت سے اللہ تعالیٰ سے تعلق خاص پیدا ہو جاتا ہے جس سے انسان کو اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے قرآن حکیم میں سورۃ البقرہ آیت ۱۵۳ میں فرمایا جارہا ہے۔ ’’اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔‘‘ اگر عمومی طور پر دیکھاجائے تو نماز اور صبر کوئی مرئی چیز نہیں کہ انسان اس کا سہارا پکڑے۔ اس سے مدد حاصل کرے چونکہ نماز میں انسان براہ راست اپنے خالق و مالک کے حضور حاضر ہوتا ہے اور اس کا اپنے رب کے ساتھ خصوصی رابطہ و تعلق پیدا ہوتا ہے اور اللہ قدم قدم پر اپنے بندے کی دستگیری اور رہنمائی کرتا ہے۔ اسی لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کی تنہائی میں تہجد کی نماز ادا کیا کرتے اور اپنی اُمّت کو بھی تاکید فرماتے۔ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو عظیم ذمے داری سونپی گئی تھی اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی مدد کی بہت زیادہ ضرورت رہتی تھی‘ یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب جب کوئی اہم مرحلہ درپیش ہوتا تو نماز کا اہتمام فرماتے۔ (مسند احمد و ابو دائود)
نماز بے حیائی اور برائی کو روکنے کا سبب اور ذریعہ ہے۔ جس طرح مختلف داوئوں کی مختلف افادیت ہوتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ فلاں دوائی فلاں بیماری یا مرض کا علاج کرتی ہے اور واقعتا ایسا ہوتا ہے۔ ایسا اس وقت ہی ہوتا ہے جب ڈاکٹر ‘ حکیم یا معالج جیسا اور جس وقت دوا کا استعمال بتائے اور جیسا پرہیز بتائے ویسا اس پر اگر عمل کیا جائے اور ہر ایسی چیز سے اجتناب کیا جائے جو اس دوائی کے اثرات کو زائل کرنے والی ہو۔ بالکل اسی طرح نماز میں بھی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایسی ہی تاثیر رکھی ہے کہ یہ انسان کو بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے اگر نماز کو سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے اور سلیقے اور تمام تر آداب و شرائط کو ملحوظ رکھ کر پڑھا جائے جو اس کی صحت و قبولیت کے لیے ضروری ہیں یعنی سب سے اہم اور پہلی چیز اخلاص‘ دوسری طہارت قلب یعنی نماز میں اللہ کے سوا کسی اور کی طرف التفات نہ ہو اور باجماعت اور مقررہ اوقات میں ادا کی جائے اور ارکان صلوٰۃ یعنی قرأت‘ رکوع ‘ قومہ‘ سجدہ وغیرہ سب کے سب نہایت اطمینان و اعتدال‘ خشوع و خضوع اور رقّت کی کیفیت میں ادا کیے جائیں اور انسان اپنے لیے‘ اپنی آل اولاد کے لیے‘ رزق حلال کا اہتمام کرے۔ چونکہ ہماری آج کی نمازیں ان آداب و سلیقوں سے عاری ہیں اور ان میں ظاہر پن اور دکھاوا شامل ہو گیا ہے۔ اس لیے وہ تاثر ہمیں محسوس نہیں ہوتا نہ ہی وہ تاثر دکھائی دیتا ہے کہ ہم کہہ سکیں کہ نماز نے برائی بے حیائی سے روکا لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ بڑی اہم ہے کہ انسان جب تک نماز میں مشغول ہوتا ہے وہ ہر قسم کی برائی‘ بے حیائی سے بچا رہتا ہے اور ہر وقت ذکر الٰہی اسے ہر برائی سے روکتی ہے۔
اس آیتِ مبارکہ کا عمومی نگاہ سے جائزہ لیں تو اس آیتِ مبارکہ میں نماز کی دو خوبیاں یا دو پہلو بیان کیے گئے ہیں۔ ایک وصف لازم اور دوسرا وصف مطلوب۔ وصف لازم تو یہ ہے کہ نماز فحش اور منکرات سے روکتی ہے اور وصف مطلوب یہ ہے کہ نماز پڑھنے والا واقعی فحش اور منکرات سے رک جائے۔ جہاں تک روکنے کا تعلق ہے نماز لازماً یہ کام کرتی ہے جو شخص بھی نماز کی نوعیت پر غور کرے تو وہ تسلیم کر لے گا کہ نماز برائیوں سے روکتی ہے کیونکہ بندہ ہر روز پانچ وقت اللہ کو یاد کرنے کے لیے بلایا جائے اور اس کے ذہن میں یہ بات تازہ ہو جائے کہ وہ اس دنیا میں آزاد خود مختار نہیں ہے بلکہ اللہ کا بندہ ہے اور وہی مالک و مولا ہے جو ہر ایک انسان کے کھلے اور چُھپے اعمال حتیٰ کہ اس کے دل کے ارادوں اور نیتوں تک سے پوری طرح واقف ہے۔ نماز کے ذریعے عملاً ہر نماز کے وقت انسان کو اس بات کی بھی مشق کرالی جاتی ہے کہ وہ چُھپ کر بھی اللہ کے حکم کی خلاف ورزی نہ کرے کیونکہ نماز پڑھنے کے لیے اٹھنے سے لے کر نماز ختم کرنے تک اسے مسلسل وہ کام کرنا پڑتے ہیں جن سے اس انسان اور اللہ کے سوا کوئی تیسرا واقف نہیں ہوتا کہ اس شخص نے اللہ کے قانون کی پابندی کی ہے یا نہیں۔ مثلاً اگر کوئی شخص بغیر وضو کے نماز پڑھنے کھڑا ہو جائے تو اس شخص اور اللہ کے سوا کون ہے جسے یہ معلوم ہو کہ یہ شخص بغیر وضو کے نماز کے لیے کھڑا ہوا ہے اور اگر وہ شخص نماز کی نیت ہی نہ کرے اور بظاہر رکوع‘ سجود و قیام کرے اور اذکارِ نماز پڑھنے کے بجائے خاموش کھڑا رہے یا چپکے چپکے کچھ اور پڑھے‘ کوئی گیت یا کچھ اور اول فول تو بھی اس شخص اور اللہ کے سوا کون ہے جسے یہ معلوم ہو کہ وہ کیا کررہا ہے۔ اس کا راز اللہ کے سوا کس پر فاش ہو سکتا ہے اور اگر نماز کو نماز کے درست طریقے سے پڑھے‘ جسم اور لباس کی طہارت سے لے کر نماز کے ارکان و اذکار قانونِ الٰہی کے مطابق تمام تر شرائط و قواعد کے مطابق ہر روز پانچ وقت ادا کرتا ہے تو یوں وہ نماز کے ذریعے روزانہ کئی بار اپنے ضمیر میں زندگی پیدا کرتا ہے اور ذمہ داری کا احساس کرتا ہے یوں اس میں فرض شناسی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ نماز انسان کو اس بات کی بھی مشق کراتی ہے۔ انسان میں جذبہ اطاعت وبندگی پیدا ہو اور وہ اعلانیہ اور خفیہ ہر حال میں قانونِ الٰہی کی پابندی کرنے والا بنے۔ کیونکہ نماز پڑھنے والے شخص پر لازم ہے کہ وہ اپنے ارادے کے اختیار کو استعمال کر کے اپنی اصلاحِ نفس کرے اور اپنے ارادے سے قانونِ الٰہی کی پابندی و پاسداری کرے اگر کوئی شخص نماز پڑھنے کے لیے تیار ہی نہیں ہو گا تو پھر اللہ تعالیٰ اسے اپنے حکم سے نماز پڑھنے پر مجبور نہیں کرے گا۔ نماز کے لیے نیک اعمال کے لیے قانونِ الٰہی پر چلنے کے لیے انسان کو خود کوشش کرنا ہو گی تب ہی وہ اپنی اصلاح کرسکے گا تب ہی اس پر نماز کے مفید اثرات اثر انداز ہو سکیں گے۔
حدیث شریف میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’جسے اس کی نماز نے فحش اور برے کاموں سے نہ روکا اس کی نماز نہیں ہے۔‘‘ (ابن ابی حاتم)۔ ایسا ہی ایک مضمون حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے نماز کی اطاعت نہ کی اور نماز کی اطاعت یہ ہے کہ آدمی فحش و منکر سے رک جائے۔ ‘‘ (ابن جریر۔ابن ابی حاتم)۔ حضرت جعفر صادقؓ کا قول ہے کہ اگر کوئی شخص یہ معلوم کرنا چاہے کہ اس کی نماز قبول ہوئی کہ نہیں‘ اسے یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کی نماز نے اسے فحش و منکر سے کہاں تک باز رکھا اگر نماز پڑھنے سے وہ برائی کرنے سے رک گیا تو اس کی نماز قبول ہوئی ورنہ نہیں۔ (روح المعانی)
نماز کے لیے جمع ہونے یا بلانے کے لیے ہر نماز سے پہلے اذان دی جاتی ہے جو اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ آئو اپنے رب کی طرف‘ ہم سب مل کر عبادت کریں‘ آئو کہ یہی فلاح کی راہ ہے‘ یہی بھلائی کی راہ ہے‘ اللہ کی کبریائی و بڑائی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی شہادت کا اعلان بھی ہر بار کیا جاتا ہے تاکہ نماز پڑھنے والے کا ذہن تیار ہو جائے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کرنے کی تیاری کررہا ہے جو ہمارا پروردگار اور مالک و آقا ہے کوئی دوسرا نہ تو اس کی مانند عبادت کے لائق ہے اور نہ ہی کوئی دوسرا اس کی طرح ہر چیز پر قادر ہر چیز سے ہر وقت باخبر ہے۔ اذان سننے کے بعد انسان روحانی اور ذہنی طور پر نماز کے لیے اپنے آپ کو تیار کرلیتا ہے اور پھر اس تیاری کی تکمیل کے لیے پہلا عملی قدم اٹھاتے ہوئے وضو کر کے اپنے تمام اعضاء کو پاک صاف کرلیتا ہے گو کہ وہ بحیثیت ایک مسلمان ہر قسم کی ناپاکی سے پہلے ہی صاف ستھرا ہوتا ہے لیکن ہر نماز کی تیاری کے لیے سنتِ نبوی اور احکامِ الٰہی کے مطابق جیسا کہ قرآن حکیم میں سورۃ المائدہ کی آیت میں طریقہ وضو بتایا جارہا ہے۔
ترجمہ۔ اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے منہ کو اور اپنے ہاتھوںکو کہنیوں سمیت دھو لو‘ اپنے سروں کا مسح کرلو اور اپنے پائوں کو ٹخنوں سمیت دھو لو اور اگر جنابت کی حالت میںہو تو غسل کرلو۔ (سورۃ المائدہ۔ ۶)
نماز کے لیے وضو کرنے سے انسان عملی طور پر خود کو نماز کے لیے تیار کرلیتا ہے۔ اب وہ ذہنی و جسمانی طور پر خود کو تیار کر کے اپنے رب کے حضور اپنی اطاعت تابعداری اور فرمانبرداری کے اظہار کے لیے پوری طرح تیار ہو کر قبلہ رو ہو کر کھڑا ہوجاتا ہے پھر نماز کے لیے تیار ہو کر نماز کی نیت کے لیے تیاری کرلیتا ہے اور ہر فرض نماز جماعت سے ادا کرتا ہے تو اس جماعت سے قبل اقامت کی اذان دی جاتی ہے ایک بار پھر اللہ کی کبریائی اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی شہادت دے کر ہر نمازی کو مزید ذہنی اور جسمانی طور پر اللہ کے حضور حاضری کے لیے تیار کردیا جاتا ہے اس کے بعد تکبیر تحریمہ کہی جاتی ہے جس کے بعد نیت مکمل ہو جاتی ہے اور انسان نماز میں مشغول ہوجاتا ہے۔ تکبیر تحریمہ کے معنیٰ ہیں حرام کرنا‘ عزت کرنا اور نماز کی نیت باندھنے کے وقت پہلی دفعہ ہاتھ اٹھا کر اللہ اکبر کہنا۔ تکبیر تحریمہ کہنے کے بعد ہر وہ عمل جو اس سے پہلے حلال تھا اب حرام ہو گیا جب تک کہ نماز مکمل نہیں ہو جاتی اور نمازی سلام نہیں پھیر لیتا۔ وہ کون سی چیزیں ہیں جو تکبیر تحریمہ کہنے سے حرام ٹھہرتی ہیں‘وہ یہ ہیں۔ ادھر ادھر دیکھنا‘بولنا‘ چلنا‘ آگے پیچھے ہٹنا‘ کسی کی باتیں سننا۔ یہ سب عمل حالت نماز میں قطعی نہیں کرنا چاہئیں کیونکہ اللہ نے انہیں کرنے سے منع فرمایا ہے تاکہ نمازی پوری توجہ اور اخلاص سے اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہو سکے اور جب وہ ان تمام باتوں کا دانستہ خیال کرے گا تو یقینا نماز کا فیض بھی اسے حاصل ہو گا اور وہ اپنے ارادے کو استعمال کر کے ہر قسم کی فحش اور منکرات سے بچے گا یہی نماز کا اعجاز ہے۔ نماز کو اس کے پورے آداب اور طریقے سے ادا کرنے سے ہی نماز ادا ہوتی ہے اور اس کا اثر نمازی پر براہ راست ہوتا ہے اور اس کا تعلق اپنے رب سے ہو جاتا ہے اسی لیے حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب تم نماز پڑھ رہے ہو تو یہ سمجھو کہ تم اللہ کو دیکھ رہے ہو اور اگر تم نہیں دیکھ رہے تو اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اگر ہم اپنے ارد گرد نظر ڈالیں اور دیکھیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہم جب کسی زمینی حاکم یا بڑے آفیسر سے ملتے ہیں یا ملنے جاتے ہیں تو کس کس طرح کی تیاریاں کرتے ہیں، نہا دھو کر‘ صاف ستھرے کپڑے پہن کر جاتے ہیں‘ خوب بن سنور کر جاتے ہیں اور اس کے سامنے بڑے ادب سے ڈرتے ڈرتے پیش ہوتے ہیں اور اس کا خوف دل پر طاری رہتا ہے۔ ذرا سوچیے کہ جب ہم سب حاکموں کے حاکم اللہ ربّ العزت کے سامنے پیش ہوتے ہیں تو کیا ہم کسی قسم کا اہتمام کرتے ہیں؟ کیا ہمارے دلوں میں خوفِ الٰہی ہوتا ہے؟ اکثر تو صرف مجبوراً فرض ادا کرنے کے لیے نماز کو ادا کرتے ہیں اور کچھ تو قطعی پروا نہیں کرتے نہ نماز پڑھتے ہیں نہ اپنے خالق و مالک‘ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور کھلی گمراہی میں مبتلا رہتے ہیں۔ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی بہت زیادہ تاکید و ہدایت فرمائی ہے اس لیے کہ نماز ہی وہ ذریعہ ہے جس سے بندہ مومن صراطِ مستقیم پر چلتا ہے اور تمام احکامِ الٰہی پر عمل کرتا ہے اور اللہ سے ایسے ہی ڈرتا ہے جیسا کہ ڈرنے کا حکم ہے۔
سورۃ الکوثر کی دوسری آیت مبارکہ کی تشریح کے سلسلے میں اب تک ہم پہلے حصے پر روشنی ڈالتے رہے ہیں اب اس آیت مبارکہ کے دوسرے حصے وانحر یعنی قربانی کرو کے سلسلے میں غور و فکر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کوثر عطا کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بہت بڑی نعمت سے سرفراز فرمایا‘ اس نعمت کی شکر گزاری کا حکم اس آیتِ مبارکہ میں دیا جارہا ہے۔ آیت کے پہلے حصے میں نماز پڑھنے کی تاکید کی ہے اور اس حصے میںقربانی کرنے کی تاکید کی جارہی ہے جس طرح نماز ایک اہم عبادت ہے ایسے ہی قربانی بھی اہم عبادت ہے۔ قربانی کے معنی ہیں تقربِ الٰہی حاصل کرنے کی کوشش اور سعی کرنا شریعتِ اسلام میں اصطلاحاً عبادت کی نیت سے ایک خاص وقت میں حیوان (ذیبحہ اور حلال) کو ذبح کرنے کو کہتے ہیں قربانی جائز اور حلال جانور کی ہوتی ہے لیکن ایسے جانور جو حلال تو ہیں لیکن اُن کی قربانی نہیں ہوتی مثلاً ہرن‘ بارہ سنگھا اور نیل گائے وغیرہ قربانی کے لیے چھ جانور مقرر ہیں گائے‘ اونٹ‘ بکرا‘ مینڈھا‘ دبنہ ان میں نر مادہ کی کوئی پابندی نہیں۔
اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب میں بھی قربانی کو عبادت کا درجہ حاصل ہے یہودیوں کے ہاں توکثرت سے قربانی کے احکام بیان کے گئے ہیں کہ شاید کسی اور عبادت کے متعلق اتنی تفصیل نہیں بیان کی گئی۔ عیسائیوں کے مذہب کی بنیاد ہی قربانی پر ہے اُن کے یہاں قربانی ہی اصل ذریعہ نجات ہے۔ ہندو مذہب کی معتبر کتب میں بھی قربانی کی تفصیل ملتی ہے ایسے ہی دیگر مذاہب میں بھی قربانی عام ہے۔ دیوی دیوتائوں کی خوشنودی کے لیے کہیں کہیں تو نوخیز لڑکیوں‘ لڑکوں تک کو بھی قربان کیا جاتا ہے اسلام میں اور دیگر مذاہب میں قربانی میں بڑا فرق ہے اسلام میں قربانی خالص اللہ کی رضا و خوشنودی کے حصول کے لیے کی جاتی ہے جبکہ دیگر مذاہب میں غیر اللہ یعنی دیوی دیوتائوں کی خوشنودی کے نام پر شرک کے طور پر کی جاتی ہے جس کی اسلام نے ممانعت کی ہے۔ کیونکہ قربانی کا شمار بھی اہم ترین عباداتِ الٰہی میں ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خود اُن کے لیے اور اُن کی اُمّت کے لیے جتنا بڑا انعام عطا فرمایا ہے اس کا شکر و احسان بھی اتنا ہی بڑا ہونا چاہیے۔ اس لیے آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو اپنی اُمّت کے لیے کامل نمونہ تھے اور جن کی ہر ہر بات و حرکت اور عمل کی اتّباع کا حکم ہے وہ اپنی روح‘ بدن اور مال و اسباب سے ہر ہر طریقے سے اپنے رب کی عبادت میں مصروف رہتے‘ بدنی و روحی عبادت میں سب سے بڑی چیز اور شکر گزاری نماز کے ذریعے ادا ہوتی ہے اور مالی عبادت میں قربانی ایک ممتاز حیثیت رکھتی ہے۔ قربانی کی اصل حقیقت جان کر قربانی کرنا ہی اصل قربانی ہے۔ جانوروں کی قربانی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی بعض حکمتوں اور مصلحتوں کی بنا پر اصل قربانی کے قائم مقام کے طورپر مقرر کردی ہے۔
دنیا میں سب سے پہلی قربانی بطور نذر حضرت آدم علیہ السلام کے دونوں بیٹوں ہابیل اور قابیل نے پیش کی پھر حضرت نوح علیہ السلام نے ایک قربان گاہ بنائی اور بہت سے جانوروں کی سوختنی قربانی دی پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قربانی پیش کی بقول یہودی علماء کے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پہلے روٹی اور شراب بطور قربانی پیش کی پھر حسب وحی بچھیا‘ بکرا‘ مینڈھا اور کبوتر ذبح کیا (سفر النکوین ۹ تا ۱۷) پھر حسب الحکم بیٹے کو قربانی کے لیے پیش کیا۔ اسلام سے پہلے بھی عرب میں یہ سنتِ ابراہیم جاری تھی‘ قربانیاں کیں جاتی تھیں اور گوشت فقرا کو بانٹ دیا جاتا تھا لیکن سوختنی قربانی کا دستور صرف یہودیوں میں تھا کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام دونوں قسم کی قربانیاں کیا کرتے تھے۔ عیسائیوں میں قربانی کا دستور نہیںتھا۔ ان کے عقیدے کے مطابق مسیح نے اپنی قربانی دے کر سارے عالم کے گناہوں کا کفارہ ادا کردیا تھا۔ لیکن مسیح کے خون کے بدلے شراب اور گوشت کے بدلے روٹے دینے کا اُن میں دستور تھا۔ یونانی قربانی میں جو اور نمک دیتے تھے۔ جسے وہ ایک ٹوکری میں رکھ کر تھوڑا تھوڑا حاضریں میں تقسیم کرتے تھے جرمنی اور پرتگال کے بعض علاقوں میں انسانی قربانی دی جاتی تھی۔ (لغات القرآن عبدالرشید نعمانیؒ)
قربانی کے سلسلے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بہت ہی ممتاز اور اہم ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام تو خواب میں اشارہ ملنے پر اپنے اکلوتے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہو گئے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اطاعت اور تسلیم و رضا سر تسلیم خم کرنے کا اعلیٰ ترین معیار کیا ہوتا ہے یہ واقعہ اطاعتِ امرِ رب کی اعلیٰ ترین مثال ہے اور اعلیٰ اور بلند ترین مرتبہ پر وہی لوگ پہنچتے ہیں جنہوں نے اپنے نفوس کی تربیت اعلیٰ مقاصد کے لیے کی ہو اور ان کی نظر احکام الٰہی اور اس کی تعمیل پر ہو جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واقعات میں اطاعتِ ربی اپنے عروج پر نظر ٓتی ہے۔ یہی وجہ ہے یہ واقعی تسلیم و رضا کی اعلیٰ ترین مثال قرار پایا۔ یہ بہت ہی مشکل تعمیل تھی قرآن حکیم میں سورۃ الصّفّت میں اس واقعے کو بیان کیا گیا ہے۔ اس سے اندازہ ہو گا کہ قربانی کیا ہے اور اس کے معنے کیا ہیں۔
ترجمہ۔ اے میرے رب مجھے نیک بخت اولاد عطا فرما۔ تو ہم نے اسے ایک برد بار بچے کی بشارت دی۔ پھر جب وہ (بچہ) اتنی عمر کو پہنچا کہ اس کے ساتھ چلے پھرے تو اس (ابراہیم علیہ السلام) نے کہا میرے پیارے بیٹے! میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ اب بتا کہ تیری رائے کیا ہے؟ بیٹے نے جواب دیا کہ ابا! جو حکم ہوا ہے اسے بجا لایئے انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔ غرض جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے (باپ نے) اس کو (بیٹے کو) پیشانی کے بَل گرا دیا۔ تو ہم نے آواز دی اے ابراہیم! یقینا تو نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا‘ بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔ درحقیقت یہ کھلا امتحان تھا۔ اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے دیا۔ (الصفت۔ ۱۰۰ تا ۱۰۷)
تفسیر۔ ان آیاتِ مبارکہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بیان فرمایا گیا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام چھیاسی ۸۶ برس کی عمر تک اولاد کی نعمت سے محروم تھے اور اس عرصے میں آپ کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ شام پہنچ کر آپ نے ایک صالح بیٹے کی التجا کی جو قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک صالح و حلیم بیٹے کی پیدائش کی خوش خبری دی۔ جب وہ بیٹا جس کا نام اسماعیل رکھا تھا اس وقت وہ ان کا اکلوتا بیٹا تھا جب اسماعیل علیہ السلام کی عمر چودہ سال کی ہوئی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر تقریباً سو سال کی تو آپ کے یہاں حضرت سارہ کے بطن سے دوسرا بیٹا حضرت اسحاق علیہ السلام پیدا ہوئے۔ لیکن حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدائش سے ایک سال قبل ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے پیارے بیٹے کو ذبح کررہے ہیں۔ کیونکہ پیغمبر کا خواب بھی وحیِ الٰہی اور حکمِ الٰہی ہوتا ہے جس پر عمل ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے آپ سمجھ گئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنا فرزند قربان کرنے کا حکم دے رہا ہے۔ آپ نے اپنا خواب اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو سنایا۔ اس سے آپ کا مقصد بیٹے کا امتحان بھی تھا اور امر ربی سے اسے آگاہ بھی کرنا تھا۔ انہوں نے بیٹے سے پوچھا اب تم بتائو تمہاری کیا رائے ہے جواب میں حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کہا۔ ’’ابا جان جو کچھ آپ کو حکم ہوا ہے اس کی تعمیل کیجیے آپ انشاء اللہ مجھے صابروں میں پائیں گے۔
یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی اور ان کا وہ طرزِ عمل سامنے آتا ہے جو پوری انسانی تاریخ میں ایک منفرد طرزِ عمل ہے۔ ان کی زندگی میں تو وہ بہرحال ایک یادگار طرزِعمل تھا۔ ان کا یہ عمل اللہ تبارک و تعالیٰ کو اس قدر پسند آیا کہ قیامت تک کے لیے اُمّتِ مسلمہ کے لیے ایک اعلیٰ و ارفع مثال بن گیا۔
ہم اگر ان کے اس عمل پر غور و فکر کریں تو حیرت ہوتی ہے۔ ایک ایسا بوڑھا سا شخص جسے اس کے اقرباء اور رشتے داروں نے چھوڑ دیا ہو اور جو اپنے وطن سے دور ہو۔ اس بڑھاپے اور کسمپرسی میں بڑی منتوں اور مرادوں اور دعائوں کے بعد اللہ نے ایک بیٹا عطا کیا جس کا انہوں نے برسوں انتظار کیا تھا۔ جب اللہ نے انہیں ایک ذی صلاحیت اور ممتاز صالح بیٹا عطا کیا جس کے مرتبے و مقام کی شہادت بھی دی۔ وہ بچہ ابھی پوری طرح جوان بھی نہیں ہوا تھا۔ ماں باپ ابھی پوری طرح مانوس بھی نہیں ہوئے تھے۔ بس وہ ان کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ضرور ہو گیا تھا۔ تب ہی اللہ کی طرف سے انہیں خواب میں وحی ہوئی کہ اپنے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کردو۔ اس خواب سے آپ کسی تردود یا خلجان میں نہیں پڑے نہ ہی کسی قسم کے شک و شبہہ میں مبتلا ہوئے بس جذبہ اطاعتِ الٰہی پیش نظر تھا آپ فوراً تسلیم امر ربی پر آمادہ ہو گئے۔ حالانکہ یہ تو محض ایک اشارہ تھا کیونکہ براہ راست کوئی وحی نہیں آئی تھی۔ لیکن آپ نے اپنے رب کی طرف سے اشارے کو ہی کافی جانا اور اسی اشارۂ الٰہی پر لبیک کہتے ہوئے تعمیل پر آمادہ ہو گئے۔ بغیر کسی اعتراض و سوال کے۔ اپنے اکلوتے اور لاڈلے بیٹے کو قربان کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ا ن پر نہ تو کسی قسم کی اضطرابی کیفیت طاری ہوئی نہ کسی وسوسے میں پڑے بلکہ اس تسلیم و رضا کے پیکر نے نہایت اطمینان سے پورے وقار سے ٹھہرائو اور تسلیم و رضا کے ساتھ یہ تجویز اپنے بیٹے کے سامنے رکھ دی۔ ان کے اس وقار تسلیم رضا کا اندازہ یہاں آیت نمبر ۱۰۲ سے بخوبی ہو رہا ہے جس میں وہ اپنے بیٹے کو اپنا خواب سنا رہے ہیں اور اس کی رائے معلوم کررہے ہیں یہ الفاظ اس محترم شخصیت کے ہیں جن کو اپنے اعصاب پر پوری طرح قابو ہے اور درپیش اہم ترین معاملے کے بارے میں پوری طرح مطمئن ہیں اور یقین ہے کہ وہ اپنا فرض ادا کریں گے یہ ایک مومن کا عمل ہے جسے اپنے رب پر پورا پورا یقین و اعتماد ہے وہ یہ خوب اچھی طرح جانتے تھے اور سمجھ رہے تھے جو میں کرنے جارہا ہوں وہ عین اللہ کی مرضی و منشا کے مطابق ہے۔ اسی وجہ سے نہ وہ کسی طرح خوف زدہ ہوئے اور نہ اس عمل سے گزر جانے کے لیے کسی قسم کی جلد بازی یا گھبراہٹ کا اظہار کیا بے شک یہ مرحلہ ان کے لیے انتہائی سخت اور جان لیوا ہو سکتا تھا کہ ان کے ایسے اکلوتے پیارے بیٹے کی قربانی کا مسئلہ تھا جو عمر کے آخری حصے یعنی ضعیفی میں انہیں ملا تھا اور یہ قربانی بھی کوئی ایسی قربانی نہیں تھی کہ بیٹے کو کہیں کسی محاذ پر جانے کو کہا جارہا ہو نہ ہی کسی ایسے کام کے لیے کہا گیا ہو جس سے ان کی زندگی کو خطرہ درپیش ہو سکتا ہو۔ یہاں تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے پیارے بیٹے کو ذبح کرنے کا قطعی حکم صادر فرمایا تھا اور وہ بھی اپنے ہاتھ سے۔ یہ حکم جب وہ اپنے بیٹے کے سامنے رکھتے ہیں کیونکہ انہوں نے محسوس کیا تھا کہ میرے رب کی یہی مرضی ہے۔ وہ چونکہ اللہ کی رضا میں راضی رہنے والے تھے لہٰذا انہوں نے سوچا کہ بچے کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے ساتھ کیا ہونے جارہا ہے۔ بیٹا بھی آخر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بیٹا تھا۔ اس نے اللہ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کردیا۔ آخر جب ان دونوں نے امر وحی کو تسلیم کرلیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کو ماتھے کے بَل لٹا دیا۔ ایک بار پھر اطاعت یہاں سربلند ہوتی ہے۔ ایک انسان اپنے پیارے اکلوتے بیٹے کو منہ کے بَل گراتا ہے تاکہ اسے ذبح کرسکے اور بیٹا بھی ذبح ہونے کو تیار‘ بے حس و حرکت گرا ہوا ہے۔ بات اب عمل تک آن پہنچی بس چُھری چلنے کی دیر ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے حق بندگی ادا کردیا اور پوری طرح تسلیم و رضا کا اظہار کردیا۔ امر الٰہی کو وہ روبعمل لے ہی آئے اور اپنا فرض پورا کردیا۔ چُھری چلتی خون بہتا اور روح پرواز کر جاتی۔ اللہ کے یہاں روح کی کوئی اہمیت نہیں۔ اللہ تو اپنے بندے کی نیت اور اخلاص دیکھتا ہے۔ اللہ کے اپنے ناپنے کے پیمانے ہیں جس میں ان دونوں باپ بیٹے نے اپنے اخلاص نیت اور بندگی‘ عزم و ارادے کا وزن رکھ دیا۔ اللہ تعالیٰ خوب اچھی طرح جانتا تھا کہ ان کی شعوری کوشش کیا ہے۔ ان کا جذبہ کیا ہے۔
یہ ایک امتحان تھا جو گزر گیا۔ اس میں اس کے بندے فتح یاب ٹھہرے۔ عبادت کے معنی اسلام میں ابتلا اور تعذب نہیں ہے۔ اللہ کے لیے خون اور جسم کی کوئی نہ اہمیت ہے نہ وقعت بس بندہ اپنے رب کی رضا کے لیے پورے اخلاص سے مشکل حکم کی تعمیل کے لیے اپنے دل و جان سے تیار ہوجائے تو اس کا فرض پورا ہو جاتا ہے اور وہ امتحان میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اللہ خوب اچھی طرح جانتا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام دونوں سچے ہیں‘ اس لیے اللہ نے ان کی تیاری کو ہی ان کا سچا عمل سمجھ لیا اور اگلی آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے۔ ’’اور ہم نے ندا دی اے ابراہیم تو نے خواب سچ کر دکھایا۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ یقیناً یہ ایک کھلی آزمائش تھی اور ہم نے ایک بڑی قربانی فدیے میں دے کر اس بچے کو چھڑا لیا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اس عظیم قربانی کو اللہ تعالیٰ نے اتنا پسند فرمایا کہ اسے سنتِ جاریہ بنا دیا۔ اُمّتِ مسلمہ ہر عیدالاضحی پر اس عظیم واقعے کی دائمی یادگار کے طور پر اس پر عمل کرتی ہے۔ اس عمل میں ایمان اپنے عروج پر نظر آتا ہے۔ اس میں اطاعت ‘ حسن ‘ تسلیم و رضا کی بلندی و عظمت نظر آتی ہے۔ اُمّتِ مسلمہ اس عظیم قربانی کی یاد تازہ کرتی رہتی ہے تاکہ یہ اُمّتِ اپنے جدِّ امجد کی عظمت و معرفت کو تازہ کرے اور ان کے عقائد و ایمانیات کا اچھی طرح سے ادراک کرسکے جو ملّتِ ابراہیمی کی میراث ہیں اور ہر مسلمان کو یہ معلوم ہو کہ مسلمان وہی ہوتا ہے جو احکامِ الٰہی پر بے چون و چرا عمل کرے اور خوشی خوشی پورے اخلاص و محبت سے اللہ کی بندگی و اطاعت اس طرح کرے جس طرح سے حکم ملا ہے۔ نہ اپنا کوئی اسلوب اختیار کرے نہ کوئی ایسا طور طریقہ اپنائے جو اللہ کی مرضی و منشا کے خلاف ہو۔
قربانی اسلام میں ایک اہم عبادت اور شعائر اسلام کا درجہ رکھتی ہے۔ زمانہ جاہلیت میں بھی اس کو عبادت ہی سمجھا جاتا تھا۔ لوگ بتوں کے نام پر قربانی کیا کرتے تھے۔ آج بہت سے مذاہب میں قربانی رسم کے بطور ادا کی جاتی ہے۔ مشرکین اور بتوں کے نام پر عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نام پر قربانی کرتے ہیں۔ کیونکہ عیسائی مذہب میں حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا اور شریک مانتے ہی اس لیے اُن کی قربانی میں اللہ کے ساتھ ساتھ حضرت عیسیٰ اور روح القدس میں شریک ہوتے ہیں اسی طرح یہودی اللہ کے ساتھ حضرت عذیر علیہ السلام کو اللہ کا شریک مانتے ہیں ان کی قربانی بھی خالص اللہ کے لیے نہیں ہوتی لیکن سورۃ کوثر جس کی ہم یہاں تشریح کررہے ہیں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ جس طرح نماز صرف اللہ کے لیے ہے اور کسی کے لیے نہیں ہو سکتی۔ ایسے ہی قربانی بھی صرف اللہ کے ہی نام پر ہونی چاہیے۔ سورۃ الانعام میں بھی تاکید کی جارہی ہے۔
ترجمہ۔ آپ فرما دیجئے کہ میری نماز میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ ہی کے لیے ہے جو سارے جہان کا پالنے والا ہے۔ (الانعام۔۱۶۲)
تفسیر۔ گو کہ اس آیتِ مبارکہ میں خطاب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے دین حق کے تمام پیرو کار اس کے مخاطب ہیں۔ ایک اللہ کو ماننے والے اور اسے ہی اپنا رب ماننے والے اللہ کی ذات و صفات و اختیار اور حقوق میں کسی کو بھی کسی طرح شریک نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے آپ کو جوابدہ سمجھتے ہوئے آخرت پر ایمان رکھتے ہیں‘ مسلمان کی نماز قربانی سب اللہ کے لیے ہوں چونکہ آیت مبارکہ میں لفظ نسک استعمال ہوا ہے جس کے معنی قربانی کے بھی ہیں اور اس کا اطلاق عمومیت کے ساتھ بندگی اور پرستش کی دوسری تمام صورتوں پر بھی ہوتا ہے اور اللہ کے لیے قربانی بذات خود ایک عظیم اور اہم عبادت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد دس سال مدینہ طیبہ میں قیام فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال قربانی کرتے تھے۔ (ترمذی) اس سے معلوم ہوا کہ قربانی صرف مکہ مکرمہ میں حج کے موقع پر ہی واجب نہیں بلکہ ہر صاحبِ نصاب شخص پر ہر شہر میں واجب ہو گی۔ بشرطیکہ شریعت نے قربانی کے واجب ہونے کے لیے جو شرائط اور قیود بیان کی ہیں۔ وہ پائی جاتی ہوں چونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو اس کی تاکید فرماتے تھے۔ اس لیے علمائے اسلام کے نزدیک قربانی واجب ہے۔ (شامی) (آپ کے مسائل ان کا حل جلد سوم شہیدِ اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی)
اللہ کی راہ میں جان و مال کی قربانی دینا ہر حال میں قابل قدر اور افضل ہے مگر ان کی قدر و قیمت کا تعین موقع کی مناسبت سے ہوتا ہے۔ ایک موقع وہ ہوتا ہے جب کفر کی بڑی طاقت ہو اور خطرہ ہو کہ کہیں اسلام کے مقابلے میں کفر غالب نہ ہو جائے اور دوسرا موقع وہ ہوتا ہے جب کفر کے مقابلے میں اسلام غالب ہو اور اہل ایمان کو کفر کے مقابلے میں فتح و نصرت حاصل ہورہی ہو۔ ان دونوں حالتوں میں اہمیت کے لحاظ سے بڑا فرق ہے۔ جو لوگ دین کے ضعف کی حالت میں اس کی سربلندی کے لیے اپنی جانیں اپنا مال صرف کریں گے۔ ان کا درجہ یقینا بلند ہو گا جنہوں نے راہ حق میں اسلام کے غلبے کی حالت میں مزید فروغ وتعمیر کے لیے قربانیاں اور مال خرچ کیا ہو گا۔ راہ حق میں جو مال خرچ کیا جاتا ہے وہ اللہ کے ذمہ قرض ہے اور اللہ اپنے ذمہ قرض نہیں رکھتا۔ وہ اس مال کو کئی گنا بڑھا کر اپنی طرف سے اجر کے ساتھ لوٹاتا ہے۔ آخرت میں نور الٰہی انہی اہل ایمان کو حاصل ہو گا جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کیا ہو گا اور قربانی دی ہو گی۔ جیسا کہ سورۃ البقرہ میں فرمایا گیا ہے۔
ترجمہ۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو اور سلوک و احسان کرو‘ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ (سورۃ البقرہ۔ ۱۹۵)
تفسیر۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے مراد اللہ کے دین کو قائم کرنے کی سعی و جہد میں مالی قربانیاں کرنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر انسان اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے اپنا مال خرچ نہ کرے اور اپنے ذاتی مفادات کو عزیز رکھے تو یہ دنیا میں ہلاکت کا موجب ہو گا اور آخرت میں بھی ذلیل و رسوا ہو گا‘ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا دین قائم کرنے کے لیے خرچ کرنا ہے کیونکہ اللہ کی راہ میں خرچ ہونے والے مال سے اسلامی معاشرے اور اسلامی نظامِ حیات کو تقویت ملتی ہے۔ اللہ اپنے ضرورت مند بندوں مساکین‘ غربا و فقرا‘ والدین‘ رشتہ داروں کی ضروریات کا اس طرح بندوبست فرماتا ہے کیونکہ اسلام صرف عبادت کا مذہب نہیں بلکہ انسانی معاشرے کی ترقی و استحکام اور معاشرتی انصاف کا بھی اہتمام کرتا ہے۔ اس آیت مبارکہ میں احسان کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی کسی غیر کے ساتھ بھلائی کرنا‘ نیک کام کو انجام دینا اور کسی کام کو خوبی کے ساتھ کرنے کے ہیں۔ کسی بھی عمل کو پورا کرنے کے دو طریقے ہوتے ہیں ایک تو اسے بس پورا کردیا جائے اور ایک اسی کام کو احسن طریقے سے پوری قابلیت و اہمیت اور اپنے تمام تر وسائل کو کام میں لاتے ہوئے دل و جان سے کیا جائے پہلا درجہ اطاعت کا ہے جب کہ دوسرا درجہ تقویٰ‘ خوف الٰہی ہے۔ دوسرے درجے میں احسان قلبی‘ لگائو اور محبت کا گہرا ہونا ظاہر ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کی یہی ادا سب سے پیاری ہے۔ سورہ الحدید میں اللہ تعالیٰ اس طرح فرما رہا ہے۔
ترجمہ۔ کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھی طرح قرض دے۔ پھر اللہ تعالیٰ اسے اس کے لیے بڑھاتا چلا جائے اور اس کے لیے پسندیدہ اجر ثابت ہوجائے۔ (سورۃ الحدید۔۱۱)
تفسیر۔ اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دینے کا مطلب ہے اللہ کی راہ میں صدقہ و خیرات کرنا۔ جو مال انسان اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے وہ اللہ ہی کا دیا ہوا ہے‘ اس کے باوجود اللہ کو قرض دینا یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر فضل و احسان ہے کہ وہ اس انفاق پر اسی طرح اجر دے گا جس طرح قرض کی ادائیگی کرنا ضروری ہے۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی شانِ کریمی ہے کہ اگر کوئی انسان اللہ کے دیئے ہوئے مال میں سے اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرے تو اسے وہ اپنے ذمہ قرض قرار دے رہا ہے۔بشرطیکہ وہ قرض حسن یعنی اچھا قرض ہو یعنی پورے اخلاص نیت کے ساتھ ذاتی اغراض کے بغیر دیا جائے۔ اس میں کسی قسم کی ریا کاری‘ نام وَری‘ شہرت ‘ دکھاوا نہ ہو اور اسے دے کر کسی پر احسان بھی نہ جتایا جائے۔ دینے والا صرف اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لیے دے رہا ہو کسی اجر و ثواب کالالچ و خواہش نہ رکھتا ہو۔ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ اپنے مخلص اہل ایمان سے دو وعدے فرما رہا ہے۔ ایک یہ کہ وہ اس کو کئی گنا بڑھا کر لوٹائے گا دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے بہترین اجر بھی عطا فرمائے گا۔
حدیث میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اسے لوگوں نے سنا تو حضرت ابوالدحداح رضی اللہ عنہ انصاری نے عرض کیا یارسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا اللہ تعالیٰ ہم سے قرض چاہتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا۔ ’’ہاں اے ابو الدحداح‘‘ جواب سن کر انہوں نے کہا ذرا اپنا ہاتھ مجھے دکھایئے یارسول صلی اللہ علیہ وسلم آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھا دیا تو انہوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا۔ میں نے اپنے رب کو اپنا باغ قرض دے دیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس باغ میں کھجور کے چھ سو درخت تھے۔ اس میں ان کا گھر تھا وہیں ان کے بال بچے رہتے تھے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات کہہ کر وہ سیدھے گھر پہنچے اور بیوی کو پکار کر کہا۔ دحداح کی ماں نکل آئو میں نے یہ باغ اپنے رب کو قرض دے دیا ہے۔ وہ بولیں ’’تم نے نفع کا سودا کیا دحداح کے باپ۔‘‘ اور اسی وقت اپنا سامان اور اپنے بچے لے کر باغ سے نکل گئیں۔ (ابن ابی حاتم)
اس واقعے سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مخلص اہل ایمان کا طرز عمل اپنے رب کے احکام کو بجا لانے کے لیے کیسا ہوتا ہے۔ اس سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ وہ کیسا قرض حسنہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ کئی گنا بڑھا کر واپس دینے اور ساتھ ہی اجرِ عظیم عطا کرنے کا وعدہ فرما رہا ہے۔
قربانی دراصل اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور شکر کا نذرانہ ہے اور یہ شکرانہ و نذرانہ اللہ تعالیٰ نے دو عظیم الشان عبادتوں کی تکمیل پر ضروری قرار دیا ہے تاکہ مسلمان اپنی عبادتوں کی ادائیگی پر اللہ تعالیٰ کے حضور نذرانہ پیش کریں جس کا نام قربانی ہے۔ وہ دو عظیم عبادتیں رمضان کے روزے جن کی تکمیل پر اللہ تعالیٰ نے عید الفطر کو رکھا اور عیدالاضحی کو اس وقت رکھا جب حج کی عظیم الشان عبادت کی تکمیل ہورہی ہے۔ عیدالفطر پر اپنی خوشی کا اظہار صدقۂ فطر ادا کر کے کرو اور عیدالاضحی کے موقع پر اپنی خوشی کا اظہار اللہ تعالیٰ کے حضور قربانی پیش کر کے کرو۔
قربانی خالص عبادت الٰہی ہے۔ اسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے منسوب فرما کر اسے سنت ابراہیمی کا درجہ عطا فرما دیا۔ قربانی دراصل ہے کیا؟ اسے سمجھنے کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کفار مکہ جو خود کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آل کہتے تھے وہ اپنے دیوی دیوتا کو خوش کرنے کے لیے بطور نذر قربانی کیا کرتے تھے۔ کفار مکہ اور اہل قریش اپنے معبودوں کے لیے قربانی کیا کرتے تھے اور قربانی جیسا کہ اوپر کی سطور میں اظہار کیا گیا ہے کہ اظہار تشکر کا ایک انداز ہے جسے اللہ نے اُمّت مسلمہ کے لیے سنت ابراہیمی کے بطور مسنون کردیا۔
سب سے پہلی قربانی حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے دو بیٹوں کے درمیان جھگڑا نمٹانے اور ان کے درمیان مفاہمت کے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کی۔ جس طرح ابتداء سے تمام انسانیت کا ایک ہی مذہب ایک ہی دین اسلام ہے جو شیطان مردود کی کارستانیوں کے باعث زمانے کے ساتھ ساتھ بدلتا رہا اور توحید الٰہی کو بھول کر لوگ شرک و کفر کا شکار ہو گئے اور وہ قربانی جو اپنے معبود حقیقی کے حضور پیش کرنا تھی اسے بھی اپنے معبود ان باطل کو پیش کرنے لگے۔ سورۃ المائدہ میں حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کا واقعہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانوں کو نصیحت اور تنبیہ کے لیے دیا ہے اسے سمجھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ قربانی کی ابتداء کیسے ہوئی جسے کفار نے بعد میں کیا سے کیا رنگ دے دیا۔
ترجمہ۔ اور ذرا انہیں آدم کے دو بیٹوں کا قصہ بے کم و کاست سنا دو۔ جب ان دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی نہ کی گئی۔ اس نے کہا میں تجھے مار ڈالوں گا اس نے جواب دیا اللہ تو متّقیوں ہی کی نذریں قبول کرتا ہے۔ (سورۃ المائدہ۔۲۷)
تفسیر۔ قرآن کریم میں حضرت آدم کے ان دونوں بیٹوں کے نام اور زمان و مکان کے بارے میں تفصیلات نہیں دی ہیں۔ البتہ مشہور یہ ہے کہ ان کے نام ہابیل اور قابیل تھے یہ دونوں حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ ان کے درمیان انسانیت کا پہلا تنازعہ پیدا ہوا جو دو بہنوں کے بارے میں تھا۔ ابتداء میں حضرت آدم علیہ السلام اور اماں حوا علیہ السلام کے ملاپ سے حکم ربی سے بیک وقت ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوتی تھی اسی طرح دوسرے حمل سے پھر ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوتی۔ ایک حمل کے بہن بھائی کا نکاح دوسرے حمل کے بہن بھائی سے کردیا جاتا لیکن ہابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی بدصورت تھی جب کہ قابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی خوب صورت تھی۔ اس وقت کے اصول کے تحت ہابیل کا نکاح قابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی کے ساتھ ہونا تھا اور قابیل کا نکاح ہابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی سے ہونا تھا۔ لیکن قابیل چاہتا تھا کہ اس کا نکاح ہابیل کی بہن کے بجائے اپنی بہن یعنی اپنے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی سے ہو کیونکہ وہ خوب صورت تھی۔ حضرت آدم علیہ السلام نے اسے سمجھایا لیکن وہ نہ سمجھا بالآخر حضرت آدم علیہ السلام نے دونوں کو بارگاہ الٰہی میں قربانیاں پیش کرنے کا حکم دیا اور فرمایا جس کی قربانی قبول ہوجائے گی اسی کے ساتھ قابیل کی بہن کا نکاح کردیا جائے گا۔ (یہ واقعہ تاریخ انسانیت کا پہلا تنازعہ بھی ہے اور پہلی قربانی کا ذریعہ بھی ہے) دونوں بھائیوں نے اپنے اپنے طور پر اللہ کی بارگاہ میں قربانی پیش کی ہابیل نے ایک عمدہ دنبے کی قربانی پیش کی اور قابیل نے گندم کی بالیوں کی قربانی پیش کی۔ ہابیل کی قربانی قبول ہو گئی اس طرح کہ آسمان سے آگ آئی اور دنبے کو کھا گئی جو اس کے قبول ہونے کی دلیل تھی ہابیل کی قربانی قبول ہونے پر قابیل حسد کا شکار ہو گیا اور اس نے بغاوت کردی اور اپنے بھائی کو قتل کرنے کی دھمکی دی اور بعد میں اسے قتل کر ڈالا۔ (اس قصے کے بارے میں نہ تو قطعی روایات یا ثبوت ہیں نہ ہی احادیث میں اس کا ذکر ہے لیکن اکثر مفسرین کرام نے اسے تحریر کیا ہے یہ قصہ دراصل اہل کتاب کے عہد نامۂ قدیم میں آیا ہے جہاں پوری تفصیل سے اسے درج کیا گیا ہے) یہاں اس واقعے کو نقل کرنے کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ اللہ کی بارگاہ میں قربانی کا رواج کیسے اور کب ہوا جو بتدریج بگڑتے بگڑتے کفر کی حد میں داخل ہو گیا پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی رحمت اللعالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے توسط سے بطور عبادتِ خاص رائج فرمایا اور اس کی فضیلت یہ بتائی گئی جب کوئی شخص اللہ کی راہ میں جانور قربان کرتا ہے تو اس قربانی کے نتیجے میں اس جانور کے جسم پر جتنے بھی بال ہوں گے اس کے ہر ہر بال کے عوض ایک ایک گناہ معاف کردیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ تو اپنے بندوں کو اجر و ثواب سے نوازنے کے لیے حیلے بہانے ڈھونڈتا ہے۔ جب بندہ کوئی جانور قربان کرتا ہے تو جانور کا خون ابھی زمین پر گرتا بھی نہیں ہے کہ اس سے پہلے قربانی اللہ تعالیٰ کے یہاں پہنچ جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جب یہ دیکھتے ہیں کہ میرا بندہ یہ دیکھے بغیر کہ یہ بات عقل میں آرہی ہے یا نہیں اور یہ دیکھے بغیر کہ اس کے مال کا فائدہ ہورہا ہے یا نقصان صرف اللہ کے حکم کو مانتے ہوئے صرف ایک اللہ کے لیے جانور کے گلے پر چھری پھیر رہا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی جوش میں آجاتی ہے اور وہ اپنے بندے کو اجرِ عظیم عطا فرماتا ہے۔
قربانی ہر امت کے نظام عبادت کا ایک لازمی جزو رہی ہے جیسا کہ قرآن حکیم میں سورۃ الحج میں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے۔
ترجمہ۔ اور ہر اُمّت کے لیے ہم نے قربانی کے طریقے مقرر کردیے ہیں تاکہ وہ ان چوپایے جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں دے رکھے ہیں۔ سمجھ لو کہ تم سب کا معبود برحق صرف ایک ہی ہے تم اسی کے تابع فرمان ہو جائو عاجزی کرنے والوں کو خوش خبری سنا دیجیے۔ (الحج۔۳۴)
تفسیر۔ اس آیت مبارکہ سے دوباتیں سامنے آتی ہیں ایک یہ کہ قربانی تمام شرائع الٰہیہ کے نظامِ عبادت کا ایک لازمی حصہ ہے اور توحید فی العبادت کے بنیادی تقاضوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان نے جن جن صورتوں سے غیر اللہ کی بندگی کی ہے ان سب کو غیر اللہ کے لیے ممنوع کر کے صرف اللہ کے لیے مختص کردیا جائے۔ جیسے انسان نے عبادت کے لیے غیر اللہ کے آگے رکوع و سجود کئے شرائع الٰہیہ نے اسے صرف اللہ کے لیے خاص کردیا۔ انسان نے غیر اللہ کے سامنے مالی نذرانے پیش کیے۔ شرائع الٰہیہ نے انہیں قطعی روک دیا اور زکوٰۃ و صدقات صرف اللہ کے لیے واجب کردیئے۔ انسان نے ان غیر اللہ معبودانِ باطل کی تیرتھ یاترا (مقدس دریا کے کنارے زیارت کرنا) کی شرائع الٰہیہ نے بیت اللہ کو مقدس قرار دے کر اس کی زیارت اور طواف کا حکم دے دیا۔ انسان نے غیر اللہ کے نام کے روزے رکھے شرائع الٰہیہ نے انہیں بھی اللہ کے لیے مختص کردیا۔ ٹھیک اسی طرح خود ساختہ معبودوں کے لیے جانوروں کی قربانی بھی انسان کرتا تھا شرائع الٰہیہ نے اس کو بھی غیر اللہ کے لیے قطعی حرام قرار دے کر اللہ کے لیے واجب کردیا۔
اس آیت مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اصل چیز صرف اللہ کے نام پر قربانی دینا ہے۔ تمام انبیاء علیہم السلام کی شریعتوں میں حالات کے لحاظ سے فرق رہا ہے لیکن سب کی روح سب کا مقصد ایک ہی رہا کہ ایک اللہ کے لیے اس کی رضا و منشا کے لیے قربانی کی جائے کب کہاں اور کس طرح کی جائے اس کی تفصیلات مختلف زمانوں میں ضرور مختلف رہیں مگر مقصد صرف اللہ کے حضور قربانی پیش کرنا ہی رہا۔ قربانی چونکہ عبادت شمار کی جاتی ہے اس لیے اللہ کے نام پر قربانی کرنا اللہ کی اطاعت و عبادت کے لیے رضائے الٰہی حاصل کرنے کے لیے جانور کی قربانی کرنا عبادت ہے اسی لیے غیر اللہ کے نام پر ان کی خوشنودی کے لیے جانور ذبح کرنا حرام ہے قربانی ہر طرح سے ہر قسم کی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے اور یہ ہر ملت و قوم میں رائج رہی ہے۔
اسلامی نظام زندگی یہ ہے کہ وہ انسان کے احساسات اور رحجانات کو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات سے وابستہ کرتا ہے۔ اسلام میں ہر حرکت‘ ہر عادت ہر عمل و سرگرمی کو شعوری طور پر ایک سمت دی جاتی ہے اور ہر چیز کو اسلامی نظریۂ حیات کے رنگ میں رنگ دیا جاتا ہے۔ اسی نکتہ نظر سے اسلام نے ایسے تمام مذبوحہ جانوروں کو حرام قرار دے دیا‘ جن پر ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو یا کسی غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔ اسلام میں یہ ضروری ہے کہ ہر ذبح کے وقت قربانی کی نیت صرف اللہ کے لیے کی جائے اور ذبح کے وقت بلند آواز میں اللہ اکبر کہا جائے۔ اسلام میں تمام بنیادی شعائر میں ربط پیدا کر کے ذات باری تعالیٰ کو ہر چیز کا محور بنا دیا جائے اس طرح اسلام کا نظامِ عبادت‘ اس کے عقائد و نظریات اور قوتِ عمل میں کوئی تضاد نہیں رہتا اور نفسِ انسانی اور عملِ انسانی کے درمیان کوئی ابہام‘ کوئی تضاد و کشمکش نہیں رہتی۔
اسلام وہ دین کامل ہے جو آفرنیش سے لے کر اپنی تکمیل تک تمام ادوار میں ایک ہی رہا۔ مختلف ادوار میں گمراہ ہو جانے والوں کی ہدایت کے لیے رب ذوالجلال اپنی رحمت و کریمیَّت کے اظہار کے لیے بار بار اپنے رسول و پیغمبر بھیجتا رہا ہے تاکہ اس نے جس مخلوق کو اپنا نائب بنایا ہے وہ کسی وجہ سے گمراہی میں گر کر اپنی دائمی زندگی کو خراب نہ کرلے اس لیے تمام ادیان کے داعی صرف ایک اللہ کی عبادت و اطاعت کا پیغام دیتے رہے‘ یہی پیغام نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر تشریف لائے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے لائے ہوئے دین اسلام میں تمام ادیان اور ان کے داعیوں ان کی کتابوں کو تسلیم کرنے کا حکم دیا گیا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اطاعت و تسلیم و رضا کی ادا بہت زیادہ پسند آئی۔ اس لیے اسے رہتی دنیا تک کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے قائم فرما دیا۔
سورۃ الکوثر کی دوسری آیت کی تشریح کررہے تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دل جوئی‘ دلداری کے لیے اللہ تعالیٰ نے انعام فرمائی چونکہ قربانی اطاعت کا ذریعہ ہے۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ انہیں انعام الٰہی پر نماز ادا کرنے اور شکر کے طور پر قربانی کرنے کی ہدایت فرما رہا ہے۔ یہ ہدایت نبی آخر زماں صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ان کی تمام اُمّت کے لیے بھی ہے کہ وہ اپنی ہر کامیابی‘ اپنی ہر مسرت و خوشی اور اپنی ہر ناکامی و نامرادی پر اپنے رب کا شکر اداکرتے رہیں ۔ نماز پڑھیں اور اپنے مال کی قربانی اللہ کی راہ میں دیں تاکہ اللہ ان کے اخلاص و اطاعت کا انہیں بھرپور اجر عطا فرمائیں۔ اس طرح ایک مومن اہل ایمان کا اپنے رب سے تعلق و قربت بھی ہو گی اور حقِ بندگی بھی ادا ہو سکے گا۔

یقینا تمہارا دشمن ہی بے نام نشان ہے

یہ سورۃ کوثر کی تیسری اور آخری آیت ہے۔ اس میں لفظ شانئک استعمال ہوا ہے۔ شانی شن سے ہے جس کے معنی ایسے بغض اور عداوت کے ہیں جس کی وجہ سے کوئی شخص کسی دوسرے کے ساتھ بدسلوکی کرتا ہے۔ یہاں شانئک سے مراد ہر وہ شخص ہے جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی اور عداوت پر کمربستہ تھا اور کرے گا اپنی دشمنی میں ایسا اندھا ہو گیا تھا اور آج بھی ہورہا ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر عیب لگاتا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلا ف بدگوئی کرتا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف طرح طرح کی الزام تراشی کر کے دل کا بخار نکالتا تھا یا آج کے زمانے میں بھی ایسا کررہا ہو۔
سورۃ الکوثر جن حالات میں نازل ہوئی وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے شدید ترین مشکلات کا دور تھا۔ پوری کی پوری قوم دشمنی پر تلی ہوئی تھی۔ عزیز رشتہ دار اور دوست‘ دشمن بن چکے تھے۔ مزاحمتوں کے پہاڑ کے پہاڑ راستے میں حائل تھے۔ مخالفت کا طوفان ہر طرف برپا تھا۔ حضور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے چند مٹھی بھر ساتھیوں کو دور دور کامیابی کے آثار نظر نہیں آرہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تقاضۂ بشریت نے پریشان کر رکھا تھا۔ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے اور محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینے‘ ان کی ہمت بندھانے کے لیے سورۃ کوثر کا نزول فرمایا۔ اس سورۃ مبارکہ سے اللہ تباک و تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی بھی دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین دشمنوں کی تباہی و بربادی کی پیشن گوئی بھی فرما دی۔ کیونکہ کفار قریش کہتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ساری قوم سے کٹ گئے۔ ان کی حیثیت ایک بے کس و بے یارو مددگار کی سی ہو گئی ہے۔ حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت عطا کی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو اسلام کی دعوت دی تو کفار قریش کہنے لگے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم سے کٹنے کی وجہ سے ایسے ہو گئے ہیں جیسے کوئی جڑ کٹا درخت جو کچھ عرصے بعد خود بہ خود سوکھ کر پیوند خاک ہو جائے گا۔ (نعوذ باللہ)
’’وہی ابتر ہے‘‘ آیت شریف کے اس حصے میں فرمایا جارہا ہے وہی ابتر ہے۔ درحقیقت جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتر کہتا ہے وہی خود ابتر ہے۔ یہ لفظ بتر سے صفت ہے جس کے معنی کاٹنے کے ہیں مگر محاورے میں یہ بہت وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ حدیث شریف میں نماز کی اس رکعت کو جس کے ساتھ کوئی دوسری رکعت نہ پڑھی جائے بتیراء کہا گیا ہے۔ یعنی اکیلی رکعت‘ ایک اور حدیث میں ہے ہر وہ کام جو کوئی بھی اہمیت رکھتا ہو وہ اللہ تعالیٰ کی حمد کے بغیر شروع کیا جائے تو وہ بھی ابتر ہے‘ یعنی اس کی جڑ کٹی ہوئی ہے۔ اسے کوئی استحکام نصیب نہیں ہو گا یا اس کا انجام اچھا نہیں ہو گا۔ نامراد انسان کو بھی ابتر کہتے ہیں۔ ذرائع و وسائل سے محروم ہو جانے والے کوبھی ابتر کہتے ہیں۔ جس شخص کے لیے کبھی خیر اور بھلائی کی توقع باقی نہ رہے اور کامیابی کی ساری امیدیں ختم ہو چکی ہوں وہ بھی ابتر ہے۔ جو فرد اپنے کنبے‘ برادری‘ اعوان و انصار سے کٹ کراکیلا رہ گیا ہو وہ بھی ابتر ہے اور جس شخص کی اولاد نرینہ یعنی بیٹا نہ ہو یا مر گیا ہو وہ بھی ابتر ہے کیونکہ اس کے پیچھے اس کا کوئی نام لیوا باقی نہیں رہتا اور مرنے کے بعد وہ بے نام و نشان ہو جاتا ہے۔ تقریباً ان سب ہی معنوں میں کفار قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتر کہتے تھے اس پر ربّ کائنات نے اپنے محبوب نبی سے فرمایا کہ ’’تم ابتر نہیں ہو بلکہ تمہارے دشمن ابتر ہیں۔ یہ کوئی جوابی حملہ نہیں تھا بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کی بڑی اہم پیشن گوئی تھی جو حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی۔ جس وقت یہ پیشن گوئی کی گئی تھی اس وقت کفار حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتر سمجھ رہے تھے اور بہ ظاہر دور دور کوئی تصور نہیں کر سکتا تھا کہ قریش کے یہ بڑے بڑے سردار کیسے ابتر ہو جائیں گے جو نہ صرف مکہ میں بلکہ پورے عرب میں بڑے ہی نام ور تھے ۔ کامیاب ‘ مال و دولت اور اولاد والے تھے۔ بہت سی نعمتیں رکھتے تھے۔ سارے ملک میں جگہ جگہ ان کے اعوان و انصار موجود تھے‘ تجارت میں اجارہ دار تھے اور حج کے منتظم ہونے کی وجہ سے تمام عرب قبائل سے ان کے وسیع تعلقات تھے لیکن چند سال نہیں گزرے تھے کہ کایا پلٹ گئی۔ کہاں تو یہ حالات تھے کہ سن ۵ ہجری میں غزوہ احزاب کے موقع پر جب قریش بہت سے عرب اور یہودی قبائل لے کر مدینے پر چڑھ آئے تھے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو محصور ہو کر شہر کے گرد خندق کھود کر مدافعت کرنا پڑی تھی وقت گزرتے دیر نہیں لگتی۔ تین سال بعد ہی وہ وقت آگیا جب سن ۸ ہجری کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ پر چڑھائی کی تو قریش کا کوئی حامی و مددگار نہیں تھا اور انہیں بے بسی سے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ اس کے بعد ایک سال کے اندر اندر پورا عرب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ نگر تھا۔ ملک کے گوشے گوشے سے قبائل کے وفود آ آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کررہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام دشمن بے بس و بے یارو مددگار ہو کر رہ گئے تھے۔ پھر وہ ایسے بے نشان ہوئے کہ ان کی اولاد اگر دنیا میں باقی رہی بھی تو ان میں سے آج کوئی نہیں جانتا کہ وہ ابوجہل یا ابولہب یا عاص بن وائل یا عقبہ بن ابی معیط وغیرہ دشمنان اسلام کی اولاد ہیں اور اگر جانتا بھی ہو گا تو کوئی اپنی نسبت ان سے کہنے کے لیے تیار نہ تھا کہ ان کے اسلاف یہ لوگ تھے۔ جب کہ اس کے برعکس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر آج دنیا بھر میں درود سلام بھیجا جاتا ہے کروڑوں کیا اربوں مسلمانوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت پر فخر ہے۔ لاکھوں انسان حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے خاندانوں سے اپنی نسبت و انتساب پر فخر کرتے ہیں اور باعث شرف سمجھتے ہیں۔ کوئی سید ہے‘ کوئی علوی ہے‘ کوئی عباسی تو کوئی ہاشمی اور صدیقی ہے اور کوئی فاروقی‘ عثمانی‘ زبیری‘ انصاری مگر کبھی کہیں بھی کوئی ابو جہلی یا ابولہبی نہیں ملا نہ سنا۔ تاریخ نے ثابت کردیا کہ کہ ابتر کون تھا‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو نہیں ہاں ان کے دشمن ضرور ابتر تھے۔
دشمنان اسلام میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی میں سب سے پیش پیش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی چچا ابولہب تھا۔ زمانہ قدیم میں جب کہ پورے عرب میں بدامنی غارت گری اور طوائف الملوکی کا دور دورہ تھا اور صدیوں سے یہ حالت تھی کہ کسی شخص کے لیے اس کے اپنے خاندان اور خونی رشتے داروں کی حمایت کے سوا جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کی کوئی ضمانت نہ تھی۔ اس لیے عرب معاشرے میں اخلاقی قدروں‘ صلہ رحمی (رشتے داروں کے ساتھ حسن سلوک) کو بڑی اہمیت حاصل تھی اور قطع رحمی کو بڑا گناہ سمجھا جاتا تھا۔ عرب کی انہی روایات کا یہ اثر تھا کہ جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت حق دی تو قریش کے دوسرے خاندانوں اور سرداروں نے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی مگر بنی ہاشم اور بنی المطلب (ہاشم کے بھائی مطلب کی اولاد) نے نا صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت نہیں کی بلکہ وہ کھلم کھلا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کرتے رہے حالانکہ ان میں سے اکثر افراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایمان نہیںلائے تھے۔ قریش کے دوسرے خاندان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ان خونی رشتہ داروں کی حمایت کو عرب کی اخلاقی روایات کے عین مطابق سمجھتے تھے۔ اسی وجہ سے کبھی انہوں نے بنی ہاشم اور بنی المطلب کو یہ طعنہ نہیں دیا کہ تم ایک دوسرا دین پیش کرنے والے کی کیوں حمایت کر کے اپنے آبائی دین کے خلاف ہو گئے ہو۔ کیونکہ وہ بخوبی جانتے تھے کہ کوئی بھی خاندان اپنے کسی فرد کو کسی بھی حالت میں دشمن کے سامنے اکیلا نہیں چھوڑتا۔ اپنے عزیز کی ہر حال میں پشت پناہی کرنا اہل عرب کا ایک فطری امر تھا۔
عربوں کے اس اخلاقی اصول کو زمانہ جاہلیت میں بھی تمام عرب بڑی قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ پورے عرب معاشرے میں صرف ایک شخص ہی ایسا تھا جو اسلام دشمنی میں اس قدر آگے بڑھ گیا کہ اس نے عربوں کی تمام اخلاقی اقدار کو پس پشت ڈال دیا اور تمام اخلاقی حدود و قیود کو پھلانگ گیا۔ وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب کا بیٹا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سگا چچا ابو لہب تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ماجد عبداللہ اور ابولہب ایک ہی باپ کی اولاد تھے۔ لیکن دونوں کی مائیں الگ الگ تھیں حضرت عبداللہ کی والدہ فاطمہ بنت عمر تھیں جبکہ ابوالہب کی والدہ لبنیٰ بنت عامہ تھیں۔ عرب معاشرے میں چچا کو باپ کی جگہ سمجھا جاتا تھا خصوصاً جب کہ بھتیجے کا باپ انتقال کر چکا ہو تو عرب معاشرے میں چچا سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ بھتیجے کو اپنی اولاد کی طرح عزیز رکھے گا لیکن اس شخص ابو لہب نے اسلام دشمنی اور کفر کی محبت میں تمام عرب روایات کو پامال کردیا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے چچا ابو طالب نے اپنی تمام تر عرب اقدار و روایات کے عین مطابق اپنے والد عبدالمطلب کے انتقال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کہ صرف آٹھ برس کے تھے تو چچا ابوطالب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش کی ذمہ داری سنبھال لی اور چچا ابو طالب نے اپنے بچوں سے بڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزیز رکھا۔ ایک چچا ابولہب تھا اور ایک چچا ابوطالب‘ دونوں میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ ابو طالب نے بھی گو کہ اسلام قبول نہیں کیا تھا لیکن وہ ہمیشہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سینہ سپر رہے۔ کفار قریش اگر آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شکایت کرتے تب بھی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی حمایت و تائید کرتے جب کہ ابو لہب جی جان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور دشمنی پر کمربستہ رہتا۔ اس کی اس دشمنی کے باعث اللہ تعالیٰ نے اس کی زندگی میں ہی اس کے لیے قرآن کریم میں رہتی دنیا تک کے لیے ہی نہیں بلکہ آخرت کے زندگی کے لیے بھی بددعا فرمائی اور قرآن حکیم میں سورۃ اللھب نازل فرمائی جس سے وہ ہمیشہ ہمیشہ معتوب اور ذلیل ہوتا رہے گا۔ قرآن حکیم میں ایک ہی مقام ہے جہاں دشمنان اسلام میں سے کسی شخص کا نام لے کر اس کی مذمّت کی گئی ہے۔ حالانکہ مکہ میں اور مدینے میں بھی بہت سے لوگ ایسے تھے جو اسلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت میں ابو لہب سے کسی طرح کم نہیں تھے۔ تو پھر کیوں ابولہب کو خصوصیت سے نام لے کر اس کی مذمت کی گئی۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم عربی معاشرے کو سمجھیں اور سورۃ اللھب کی تشریح اور تفسیر پر غور کریں۔یہ سورہ مبارکہ ایک طرف اللہ تعالیٰ کی اپنے پیارے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا اظہار ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کے خلاف پُر اثر سزا بھی ہے۔ اس سورہ میں سزا کا دو ٹوک اعلان ہے۔
ترجمہ۔ ٹوٹ گئے ابولہب کے ہاتھ اور نامراد ہو گیا وہ۔ اس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا وہ اس کے کسی کام نہ آیا۔ ضرور شعلہ زن آگ میں ڈالا جائے گا اور (اس کے ساتھ) اس کی بیوی بھی لگائی بجھائی کرنے والی‘ اس کی گردن میں مونجھ کی رسی ہو گی۔ (سورۃ تبت۔ آیات ۱ تا ۵)
یہ سورۃ مبارکہ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ یہسورۃ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور دین اسلام کے دشمن ابو لہب کے نام سے منسوب ہے۔ جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ اور مدینہ کے علاوہ دیگر قبائل عرب میں دشمنوں کی کمی نہیں تھی۔ دین اسلام کے بدخواہوں کی اذیت رسانیاں‘ دل آزاریاں اور اسلام کو بحیثیت دین ناکام کرنا ہی ان سب کا مقصد حیات تھا۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے خصوصیت سے اس سورۃ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ہی دشمن سے کیوں منسوب فرمایا؟ جہاں یہ سورۃ ابولہب اور اس کی بیوی ام جمیل کے لیے دائمی بددعا ہے وہیں اپنے محبوب نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و نسبت کا اظہار بھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دل جوئی کا مژدہ بھی ہے۔
جہاں محبت و شفقت کی توقع ہو وہاں اگر نفرت و عداوت کا لاوا پھوٹ پڑے جہاں تائید و اعانت کی امید ہو وہاں مخاصمت و مخالفت کا طوفان امڈ پڑے تو یقیناً یہ سب کچھ نا صرف غیر متوقع اور تکلیف دہ بھی ہو گا کیونکہ ابو لہب اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے والد حضرت عبداللہ ایک ہی باپ کی اولاد اور سگے حقیقی بھائی تھے۔ اس لیے بجا طور پر امید کی جاسکتی تھی کہ وہ اپنے سگے بھائی کے یتیم بیٹے کی تائید و حمایت میں اس کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا۔ اُن کی تائید و نصرت میں بھرپور مددگار و حمایتی ہو گا۔ جب کہ اس کے برعکس اس کا پورا قبیلہ بنی ہاشم جس کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چشم و چراغ تھے‘ نے اس کے باوجود کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے تھے لیکن جی جان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے محافظ و حمایتی تھے۔ عرب کے تمام قبائل میں یہ رواج تھا کہ وہ ہر حال و صورت میں اپنی قوم‘ قبیلے‘ اپنے خاندان کے فرد کی حمایت و حفاظت ہر قیمت پر کرتے تھے۔ چاہے وہ کتنا ہی ظالم کیوں نہ ہو۔
ابولہب تو خونی اور خاندانی رشتے کے علاوہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمسایہ بھی تھا۔ دونوں گھروں کے درمیان صرف ایک دیوار حائل تھی۔ پڑوسی کا حق دنیا کے تمام معاشروں میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ پڑوسی ہونے اور چچا ہونے کے ناتے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی زندگی و حالات سے بھی بخوبی آگاہی رکھتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بے داغ کردار سے پوری طرح باخبر تھا۔ اس کے باوجود جب اس نے اسلام دشمنی میں انتہا کردی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر ہر طرح پریشان اور تکلیف پہنچاتا تھا۔ اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی اس کی ہر طرح مدد کرتی۔ دین حق سے اس کا بغض و عناد اتنا شدید تھا کہ وہ ہر وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لگا رہتا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتا رہتا۔ اس لیے ہی اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کو اس کے نام سے منسوب فرمایا۔ اس سورۃ کے مطالعے سے ہمیں بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ بارگاہِ رسالت میں معمولی سے معمولی گستاخی بھی رب کائنات کو کس قدر ناگوار گزرتی ہے۔ یہ سورۃ مبارکہ رہتی دنیا تک اگر ابولہب اور اس کی بیوی کے لیے بددعا کی حیثیت رکھتی ہے۔ تو اہلِ ایمان کے لیے ایک واضح تنبیہہ بھی ہے کہ حبیب اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں معمولی سی بے ادبی کے بھی کتنے بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں کہ کب غضب الٰہی کی بجلی کوندے اور بے ادب گستاخ کو جلا کر رکھ دے۔
اس سورہ میں ابولہب کا نام لے کر اس کی مذمّت کی گئی ہے۔ ایسا اس لیے کیا گیا کہ مکہ کے باہر کے عرب جب حج کے موقع پر آتے اور مختلف بازاروں میں جمع ہوتے تو ان کے سامنے ابولہب جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سگا چچا تھا وہ ان کی سرعام مخالفت اور برائی کرتا جب کہ یہ عرب کی معروف روایات کے بالکل خلاف بات تھی کہ کوئی اپنا خونی رشتہ دار اس کی مخالفت کرے اور خاص طور پر چچا جو باپ کی جگہ سمجھا جاتا تھا۔ وہ خود سب کے سامنے اپنے بھتیجے کو برا بھلا کہے اور اسے پتھر مارے۔ اس پر الزامات عائد کرے لوگ ابو لہب کی باتوں سے متاثر ہو کر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں شک میں پڑ جاتے لیکن جب یہ سورہ نازل ہوئی تو ابو لہب نے مارے غصے کے اول فول بکنا شروع کردیا تو لوگوں نے از خود سمجھ لیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں اس شخص کے قول کا کوئی اعتبار نہیں ہے کیونکہ یہ شخص اپنے سگے بھتیجے کی دشمنی میں پاگل ہو گیا ہے۔
ابو لہب کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا۔ابو لہب اسے اس کے رنگ کے باعث کہا جاتا تھا جو سرخ و سفید چمکتا ہوا تھا۔ لہب آگ کے شعلے کو کہتے ہیں۔ ابو لہب کے معنی شعلہ رُو کے ہوتے ہیں۔ یہاں اس کے نام کے بجائے اس کی کنیت سے پکارا گیا ہے۔ اس لیے کہ وہ زیادہ تر اپنی کنیت ابولہب سے ہی پکارا جاتا تھا۔ دوسرے اس کا اصل نام تو ایک خالص مشرکانہ نام تھا۔ عبدالعزیٰ یعنی عزیٰ کا بندہ اور عزیٰ کفار قریش کے ایک بُت کا نام تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کیسے پسند کرتا کہ اس کے کلام میں اسے اس مشرکانہ نام سے پکارا جائے ۔ تیسری اور سب سے اہم یہ کہ سورۃ میں جو انجام اس کا بیان کیا گیا ہے اس کے لیے اس کی کنیت ہی زیادہ مناسب ہے۔ علاوہ ازیں اسے اپنے انجام کے اعتبار سے جہنم کی آگ کا ایندھن بننا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی بیوی ام جمیل بھی دشمنی میں اپنے خاوند سے کسی طرح کم نہیں تھی۔
اس آیت کے نزول کے سبب میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم الٰہی ہوا کہ اپنے رشتے داروں کو ڈرائو اور ان سے تبلیغ کا آغاز کرو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ کی پہاڑی پر چڑھ کر آواز لگانے لگے۔ ’’یاصباحاہ‘‘ اس طرح کی آواز قبائل میں خطرے کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ چنانچہ اس آواز پر آپ کے تمام رشتہ دار جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ذرا بتلائو اگر میں تمہیں یہ خبر دوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر ایک گھڑ سوار لشکر ہے جو حملہ آور ہوا چاہتا ہے تو کیا تم میری بات کی تصدیق کرو گے؟ تو سب نے مل کر کہا کیوں نہیں ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کبھی جھوٹا نہیں پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر سن لو کہ میں تمہیں ایک بہت بڑے عذاب سے ڈرانے آیا ہوں (اگر تم اسی طرح کفر و شرک میں مبتلا رہے) یہ سن کر سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سگے چچا ابولہب نے کہا ’’تبالک‘‘ تیرے لیے ہلاکت ہو‘ کیا تُو نے ہمیں یہاں یہی سنانے کے لیے جمع کیا تھا؟ جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورۃ نازل فرمائی۔ (صحیح بخاری‘ تفسیر سورۃ تبت مسند احمد ‘ مسلم‘ ترمذی‘ ابن جریر)
حضرت ابن زید رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ابو لہب نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک روز دریافت کیا کہ اگر میں تمہارے دین کو مان لوں تو مجھے کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اور سب ایمان لانے والوں کو ملے گا۔ اس پر اس نے کہا میرے لیے کوئی خاص فضیلت نہیں ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آپ کیا چاہتے ہیں؟ اس پر وہ بولا ناس جائے اس دین کا جس میں‘ میں اور دوسرے لوگ برابر ہوں (ابن جریر)
حضرت ربیعہ بن عبادالدیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نو عمر تھا میں اپنے والد کے ساتھ ذوالحجاز کے بازار میں گیا تو وہاں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے۔ ’’لوگو کہو اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے فلاح پائو گے۔‘‘ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے ایک شخص یہ کہتا جارہا تھا کہ ’’یہ جھوٹا ہے‘ اپنے آبائی دین سے پھر گیا ہے۔‘‘ میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے تو انہوں نے بتایا کہ یہ ان کا چچا ابولہب ہے۔ (مسند احمد۔ بہیقی) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جہاں جہاں بھی اسلام کی دعوت دینے جاتے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے وہاں پہنچ جاتا اور لوگوں کو بات سننے سے روکتا۔ ان ہی حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری روایت بھی ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک ایک قبیلے کے پڑائو پر جاتے اور فرماتے ’’اے بنی فلاں بنی فلاں میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ میں تمہیں ہدایت کرتا ہوں کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو تم میری تصدیق کرو اور میرا ساتھ دو تاکہ میں وہ کام پورا کروں جس کے لیے اللہ نے مجھے بھیجا ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے ایک اور شخص آتا اور وہ کہتا کہ بنی فلاں یہ تم کو لات اورعزیٰ سے پھیر کر اس بدعت و گمراہی کی طرف لے جانا چاہتا ہے جسے یہ لے کر آیا ہے۔ اس کی بات ہرگز ہرگز نہ مانو اور اس کی پیروی نہ کرو۔ میں نے اپنے باپ سے پوچھا یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا یہ ان کا چچا ابولہب ہے۔ (مسند احمد۔طبرانی)
حضرت طارق بن عبداللہ المحاربی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ذوالحجاز کے بازار میں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے کہتے جاتے ہیں کہ ’’لوگوں لاالہ الا اللہ کہو فلاح پائو گے اور پیچھے ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھر مار رہا ہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایڑیاں تک خون سے تر ہو گئیں اور وہ شخص ساتھ ساتھ یہ بھی کہتا جاتا ہے کہ یہ جھوٹا ہے اس کی بات نہ مانو۔ میں نے لوگوں سے دریافت کیا یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا یہ ان کا چچا ابو لہب ہے۔ (ترمذی۔ مسند احمد۔ طبرانی)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے ساتویں سال میں قبیلہ قریش کے تمام خاندانوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے کی پاداش میں بنی ہاشم اور بنی المطلب کا معاشرتی اور معاشی مقاطعہ (بائیکاٹ) کیا اور یہ دونوں خاندان اپنی اخلاقی خاندانی عرب روایات کو نبھاتے ہوئے اس کے باوجود کہ وہ دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت پر ثابت قدم رہتے ہوئے ان کے ساتھ شعب ابی طالب میں محصور ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں تنہا یہی شخص ابو لہب تھا جس نے عرب اور اپنی خاندانی اخلاقی روایات کے خلاف کفار قریش کا ساتھ دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے خاندان کے افراد کا یہ بائی کاٹ یعنی مقاطعہ تین سال تک جاری رہا۔ اس عرصے میں دونوں خاندانوں بنی ہاشم اور بنی المطلب پر فاقوں کی بھی نوبت آگئی مگر ابولہب کا یہ حال تھا کہ جب کوئی تجارتی قافلہ مکہ میں آتا اور شعب ابی طالب سے کوئی فرد محصورین کے لیے خوراک کا سامان خریدنے آتا تو ابولہب تاجروں سے پکار پکار کر کہتا کہ ان کے ہاتھ سامان نہ بیچو ان سے اتنی قیمت مانگو کہ یہ خرید نہ سکیں۔ اس طرح تمہیں جو نقصان ہو گا وہ میں پورا کروں گا۔ چنانچہ وہ ان محصورین شعب ابی طالب سے اتنی قیمت طلب کرتے جسے وہ ادا نہ کرسکتے اور خالی ہاتھ لوٹ جاتے حالانکہ ان کے بچے بھوک سے بلک اور تڑپ رہے ہوتے تھے پھر وہ ان تاجروں سے وہ چیز بازارکے بھائو سے خرید لیتا۔ (ابن سعد و ابن ہشام)
ابو لہب کی ان ہی تکلیف دہ باتوں اور اعمال کے باعث اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں اس کا نام لے کر اس کی مذمّت کی ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ اسلام کی مخالفت اور کفر پر اصرار کی وجہ سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کی بھی کوئی اہمیت نہیں تاکہ لوگوں کے دلوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہ بات صاف ہو جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خاندانی رشتے کی وجہ سے دین کے معاملے میں کوئی رعایت مل جائے گی۔ جب علی الاعلان اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے پر ان کے سگے چچا کی خبر لے لی تو اوروں کی کیا حیثیت و اہمیت اس دین اسلام میں کسی لاگ لپیٹ کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ ایمان لے آنے پر غیر اپنا ہو سکتا ہے اور ایمان نہ لانے سے اپنا غیر ہو جاتا ہے اگر وہ کفر کرے اور کفر پر قائم رہے اسلام کے معاملے میں کوئی نسبت‘ کوئی تعلق اہمیت نہیں رکھتا۔ صرف دین اسلام میں داخل ہو کر ایک اللہ ایک رسول کی اطاعت و اتّباع سے ایسے رشتے بن جاتے ہیں جو خونی اور موروثی رشتوں سے کہیں مضبوط اور اہم ہوتے ہیں اس کی سب سے اہم اور بڑی مثال غزوات میں ملتی ہے جب باپ بیٹے کے سامنے‘ بیٹا باپ کے سامنے‘ بھائی بھائی کے آمنے سامنے تمام رشتوں ناتوں کو بھول کر مدمقابل آجاتے رہے ہیں۔
۔تَبت کا لفظ خسران‘نامرادی و بربادی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ (قرطبی) ‘تبت یدا یہ بددعا ہے۔ یہاں وتب فرمایا گیا ہے جس کے معنی ہیں وہ تباہ ہو گیا۔ ٹوٹ پھوٹ کر رہ گیا۔ اس کا جسم ریزہ ریزہ ہو گیا۔ یہ جملہ جزائیہ ہے۔ اس سے مراد بد دعاکے ہیں اور ابو لہب نے تڑپ تڑپ کر جان دی۔ اس کے جسم کا گوشت گھل گھل کر گرنے لگا۔ اس کے بیٹوں نے جن پر اسے بہت ناز تھا‘ اسے گھر سے باہر نکال دیا۔ جہاں اس نے نامرادی ‘ مایوسی کے عالم میں جان دی۔
یدا‘ ید (ہاتھ) کاتثنیہ ہے معنی ہاتھ کے ہیں۔ اس سے مراد نفس بھی ہے جز کہہ کر کل مراد لیا گیا ہے۔ یعنی ہلاک و برباد ہو جائے یہ بددعا ان الفاظ کے جواب میں ہے جو ابولہب نے غصے اور عداوت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہے تھے (اور وہ ہلاک ہو گیا) آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اسے بددعا کے ساتھ ساتھ اس کی ہلاکت و بربادی کی خبر بھی دی ہے۔ اس آیت میں ابولہب کے ہلاک ہونے کی خبر ‘ پیش گوئی ہے کوئی کوسنا نہیں یا ہلاک کیے جانے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا گیا۔ اس کے معنی ہیں۔ ’’وہ ہلاک ہو گیا‘‘ آئندہ پیش آنے والے واقعے کو ماضی کے صیغے میں بیان کیا گیا ہے گویا اس کا ہلاک ہونا ایسا یقینی امر ہے جیسے وہ ہو چکا ہو اور پھر ایسا ہی ہوا اس سورہ کے نزول کے چند سال بعد جنگ بدر کے چند روز بعد ابولہب طاعون سے بدتر بیماری عدسیہ میں مبتلا ہو کر مرا۔ تین دن تک اس کی لاش بے گور و کفن پڑی رہی۔ اس کے گھر والوں نے اسے یوں ہی چھوڑ دیا۔ کیونکہ انہیں چھوت لگنے کا خوف تھا مرنے کے بعد بھی تین روز تک کوئی اس کے قریب نہیں جا سکا اس کی لاش پڑے پڑے سڑ گئی۔ سخت بدبو پھیلنے لگی تو لوگوں نے اس کے بیٹوں کو طعنے دینا شروع کردیئے ۔ ایک روایت یہ ہے کہ انہوں نے کچھ حبشیوں کو اجرت دے کر اس کی لاش اٹھوائی اور ان ہی مزدوروں نے اسی طرح بے کفن گڑھا کھود کر ڈنڈوں کی مدد سے لاش کو دھکیل کر گڑھے میں پھینک دیا اور اوپر سے مٹی اور پتھر ڈال کر قبر کو بند کردیا۔ (اسیر التفاسیر)
اللہ اکبر کیسی عبرت ناک موت نصیب ہوئی کہ اس کے دونوں بیٹے زندہ تھے اور اس کے باوجود انہوں نے اپنے باپ کی لاش کے قریب جانا قبول نہیں کیا جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزدگان تو رحلت فرما گئے تھے۔ تب اس نے اور اس کے ساتھیوں نے کہا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جڑ کٹ گئی۔ وہ بے نشان ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام عربوں کو ہی نہیں بلکہ آنے والے زمانوں تک کے لوگوں کو دکھا دیا کہ جڑیں مضبوط اور نشاوروں کی موجودگی کے باوجود وہ کیسے اور کس طرح اپنے گمراہوں کو سزا دے کر نشانِ عبرت بنا دیتا ہے اور کس طرح اس کی جڑ کٹ گئی۔ اس کی سب سے بڑی شکست اس وقت ہوئی جب اس کی بیٹی ’’درہ‘‘ ہجرت کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ حاضر ہوئی اور اسلام قبول کرلیا جس دین کی راہ میں اس کے باپ نے روڑے اٹکائے‘ اس کی راہ روکنے میں اپنی پوری زندگی گزار دی تھی اور پھر فتح مکہ کے موقع پر اس کے دونوں بیٹوں عُتہ اور مُعّتب‘ حضرت عباس ؓ جو ان کے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے‘ کی وساطت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی اور اپنے باپ کی ساری زندگی کی مخالفت اور گمراہی جس میں انہوں نے اس کا بھرپور ساتھ دیا تھا یک لخت بھلا دیا اور دین اسلام کو اپنا لیا۔
نہ تو اس کا مال اس کے کسی کام آیا اور نہ ہی اس کی کمائی اس کے کسی کام آئی۔ کمائی میں مال و دولت اور اولاد سب شامل ہے۔ ابولہب ایک مال دار صاحب حیثیت شخص تھا۔ اس کی مالداری کے بارے میں قاضی رشید بن زبیر اپنی کتاب الذخائرو القطفہ میں لکھتے ہیں کہ ابولہب مکہ کے ان چار مالدار لوگوں میں سے ایک تھا جو ایک قنطار سونے کے مالک تھے۔ (تقریباً آٹھ سیر سونا) ابو لہب انتہائی زر پرست اور بخیل انسان تھا۔ مکہ کے لوگ اس کے بارے میں قطعی اچھی رائے نہیں رکھتے تھے۔ عاص بن ہشام کی طرف اس کے چار ہزار درہم قرضے کے نکلتے تھے‘ جب کہ وہ بالکل دیوالیہ ہو چکے تھے۔ ان سے قرض وصول کرنے کی اس نے یہ ترکیب نکالی کہ جنگ بدر کے موقع پر قبیلہ قریش کے تمام سردار لڑنے کے لیے گئے مگر ابولہب نے اپنی جگہ عاص بن ہشام کو یہ کہہ کر بھیجا کہ میرے چار ہزار درہم تمہاری طرف واجب ہیں اگر تم میری جگہ جنگ کرنے جائو تو میرا قرضہ وصول ہو جائے گا۔ جیسا کہ پہلے آچکا ہے کہ وہ جنگ بدر جس میں قریش کے بڑے بڑے سردار مارے گئے جو اسلام دشمنی میں پیش پیش اور ابولہب کے ساتھی تھے۔ مکہ میں جب جنگ بدرمیں قریش کی شکست کی خبر پہنچی تو ابو لہب اس صدمے کو برداشت نہ کرسکا اور ایک ہفتے کے اندر اندر عبرت ناک موت سے ہم کنار ہو گیا۔ اس کی دولت اس کے کسی کام نہ آسکی۔ نہ اپنی زندگی بچانے میں نہ اسلام کو شکست سے دو چار کرنے میں‘ نہ اس کی چالاکی و مکاری اسے عبرت ناک موت سے بچا سکی۔ یہ تو تھا دنیا میں اس کا انجام۔ آخرت میں کیا ہو گا یہ اللہ ہی جانتا ہے۔
اس سورہ مبارکہ اللھب کا طرزِ ادا اس کے موضوعات اور معنی سب کے سب ہم آہنگ ہیں۔ سورہ میں قضا کے اعتبار سے مناسب طرز تعبیر اختیار کیا گیا ہے۔ اس سورۃ کے نزول سے ابو لہب کی بیوی ام جمیل جس کا اصلی نام اروی بنت حرب ابن امیہ تھا۔ وہ ابو سفیان کی بہن تھی۔ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت حق کے خلاف ابولہب کی معاون و مددگار تھی۔ اس سورہ کے نزول پر وہ برافروختہ ہو کر پاگل ہو کر رہ گئی۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت اسماء رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب یہ سورہ نازل ہوئی اور ام جمیل نے اسے سنا تو وہ بپھری ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلی۔ اس کی مٹھی میں پتھر بھرے ہوئے تھے اور وہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں اپنے ہی کچھ اشعار پڑھتی جاتی تھی۔ جب وہ حرم میں پہنچی تو وہاں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف فرما تھے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آرہی ہے ۔ مجھے اندیشہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر یہ کوئی بے ہودگی ضرور کرے گی۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مجھے دیکھ نہیں سکے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے موجود ہونے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ ہی نہیں سکی اور وہ حضرت ابو بکر صدیق سے بولی میں نے سنا ہے کہ تمہارے صاحب نے میری ہجو کی ہے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا اس گھر کے رب کی قسم انہوں نے تمہاری ہجو نہیں کی۔ اس پر ام جمیل نے کہا خدا کی قسم اگر وہ مجھے ملتا تو میں ان پتھروں سے اسے مارتی۔ خدا کی قسم میں بھی تو شاعرہ ہوں۔ اس کے بعد اس نے ہجو کے اپنے اشعار پڑھے اور واپس چلی گئی۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ اس نے مجھے نہیں دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی نظر کو مجھ سے کھینچ لیا تھا اور فرشتے مجھ پر‘ پر پھیلائے رہے جب تک وہ نہیں گئی۔ (ابن حاتم۔ سیرۃ ابن ہشام)
ام جمیل ایک انتہائی خود پسند اور مغرور عورت تھی۔ وہ ایک بڑے اونچے گھرانے سے تعلق رکھتی تھی لیکن قرآن حکیم نے اس کی جو تصویر کشی کی وہ اپنے بے پناہ اثر کی وجہ سے فوراً ہی مکہ میں ہر طرف پھیل گئی۔ جس سے اس خود پسند عورت کا دل چُور چُور ہو کر رہ گیا۔ اُسے اپنے حسب نسب پر بڑا ہی غرور تھا اس کی ایسی بھیانک تصویر کشی کی گئی کہ ابولہب اور ام جمیل پریشان ہو کر رہ گئے۔
سید قطب شہید اپنی کتاب ’’مناظر قیامت‘‘ میں تحریر کرتے ہیں۔ ’’ابو لہب (شعلوں کاباپ) ایک ایسی آگ میں تپایا جائے گا جو شعلہ زن ہو گی اور اس کی عورت جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں خار دار جھاڑیاں لا کر ڈالا کرتی تھی وہ جہنم میں اس حال میں گرائی جائے گی کہ اس کے گلے میں مونجھ کی رسی بندھی ہو گی۔‘‘
اس کے الفاظ باہم متناسب اور صوتی ہم آہنگی رکھنے والے ہیں جس جہنم میں اسے گرایا جائے گا وہ شعلہ بار ہے۔ اس میں شعلوں کے باپ (ابولہب) کو گرایا جائے گا۔ اس کی عورت لکڑیاں لا کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے میں ڈالتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دیتی ہے۔ اس کے خواہ حقیقی معنی لیے جائیں یا استعارہ کے لکڑیوں سے آگ بھی بھڑکائی جاتی ہے اور ان لکڑیوں کو رسیوں سے باندھ کر لایا جاتا ہے۔ اس لیے جہنم شعلہ زن میں اسے مونجھ کی رسّی سے باندھ دیا جائے گا۔ یہ وہی رسّی ہو گی جس سے وہ لکڑیاں باندھ کر لاتی تھی تاکہ سزا ایسی ہو جیسا جرم کیا تھا۔
ابو لہب اور اس کی بیوی ام جمیل دعوتِ اسلام کے شدید دشمن تھے اور یہ جنگ انہوں نے اپنی پوری زندگی جاری رکھی۔ کسی وقت بھی اس میں انہوں نے کوئی کمی‘ کوئی رُو رعایت نہیں کی۔ ابولہب کا گھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے ساتھ ہی تھا۔ اس لیے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دینے کے مواقع بھی زیادہ حاصل تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ ام جمیل کانٹے جمع کر کے لاتی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے دروازے اور راستے میں بچھا دیتی تاکہ صبح جب فجر کی نماز کے لیے اندھیرے میں آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پائوں میں کانٹے چبھ جائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچے۔ (ابن ہشام)
مرنے کے بعد سخت شعلہ زن آگ میں پہنچنے والا ہے۔ شاید اسی نسبت سے اس کی کنیت ابولہب قائم رکھی گئی۔ دنیا اسے ابولہب اس لیے کہتی تھی کہ اس کے رخسار شعلے کی طرح چمکدار تھے لیکن قرآن کریم نے بتا دیا کہ اپنے انجام کے اعتبار سے بھی واقعی ابولہب کہلانے کا مستحق تھا چونکہ اسے جہنم کی آگ کا ایندھن بننا تھا۔ اس لیے نہ تو اس نے دعوتِ حق قبول کی نہ دینِ حق کی مخالفت سے باز آیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خونی رشتہ تھا سگا چچا ہونے کے باوجود اس کا یہ تعلق اسے جہنم سے نہ بچا سکا۔ اس سے یہ حقیقت عیاں ہو گئی کہ مرد ہو کہ عورت‘ اپنا ہو کہ بیگانہ‘ چھوٹا ہو کہ بڑا جو حق سے عداوت رکھے گا وہ تباہ و برباد ہو کر ذلیل و رسوا ہو جائے گا۔ جب پیغمبر برحق کی قرابت داری بھی اس کے کام نہ آئی اور حق سے بغاوت اور کفر پر اڑے رہنے کا انجام وہی ہے جو کسی عام انسان کا ہو سکتا ہے۔ اسلام میں سب سے مضبوط رشتہ ایمان کا ہے۔ باقی سب رشتے ناتے اس کے بعد قائم ہوتے ہیں۔ ان کی اہمیت و حیثیت دین اسلام پر جمع ہونے سے ہی بنتی ہے۔
ابولہب کی بیوی ام جمیل کے بارے میں اس آیتِ مبارکہ میں وعید کا اعلان ہے۔ ام جمیل ایک مالدار سردار کی بیوی ہونے کے باوجود بڑی بخیل عورت تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا و تکلیف پہنچانے کے لیے وہ خود جنگل میں جاکر کانٹے دار لکڑیاں چن چن کر لاتی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ‘ حضرت ابن زید رضی اللہ عنہ‘ حضرت ضحاک رضی اللہ عنہ اور ربیع بن انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام جمیل راتوں کو خار دار ٹہنیاں لا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر ڈال دیتی تھی۔ اس لیے اسے لکڑیاں ڈھونڈنے والی کہا گیا ہے۔ قتادہ‘ عکرمہ‘ حسن بصری‘ مجاہد اور سفیان ثوری رضوان اللہ اجمعین کہتے ہیں کہ وہ لوگوں میں فساد ڈلوانے میں بڑی ماہر تھی۔ لوگوں کی چغلیاں کھاتی پھرتی تھی۔ اس لیے اسے عربی محاورے کے مطابق لکڑیاں ڈھونڈنے والی کہا گیا ہے۔ عرب میں یہ عام رواج تھا کہ جو شخص اِدھر کی بات اُدھر لگاتا اور دنگے فساد کی آگ بھڑکاتا اسے لکڑیاں ڈھونے والا کہتے۔ ہماری اردو میں ہم ایسے شخص یا عورت کو بی جمالو کہتے ہیں۔ مفسیرین نے اس کے معنی گناہوں کا بوجھ ڈھونے والی بھی کئے ہیں اور یہ بھی کئے کہ آخرت میں اس کا حال یہ ہو گا کہ وہ لکڑیاں لا لا کر اس آگ میں ڈالتی جائے گی جس میں ابولہب جل رہا ہو گا۔ یوں وہ اپنے شوہر پر ہونے والے عذاب الٰہی کی آگ کو تیز کرتی رہے گی (ابن اثیر) جس طرح اس نے دنیا میں اپنے خاوند کی مدد کی‘ کانٹے دار لکڑیاں لا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے میں بچھاتی رہی‘ ایسے ہی وہ اپنے شوہر ابولہب کی آگ کو مزید تیز تر کرنے کے لیے لکڑیاں لا لا کرڈالتی رہے گی۔
ام جمیل کی گردن کے لیے جید کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ عربی میں یہ لفظ ایسی گردن کے لیے بولا جاتا ہے جس میں زیور پہنا گیا ہو۔ حضرت سعید بن الُمسیّب رضی اللہ عنہ‘ حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ‘ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام جمیل اپنی گردن میں ایک بہت ہی قیمتی ہار پہنا کرتی تھی اور کہا کرتی تھی کہ لات و عزیٰ کی قسم میں اپنا یہ ہار بیچ کر اس کی قیمت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی عداوت پر خرچ کردوں گی۔ اسی بناء پر جید کا لفظ یہاں بطور طنز کے استعمال ہوا ہے۔ وہ دنیا میں اپنے گلے میں پڑے ہوئے ہار پر فخر کیا کرتی تھی‘ جیسا کہ قرآن حکیم میں ایسے افراد کے لیے متعدد جگہ فرمایا گیا ہے۔ ’’ان کو دردناک عذاب کی خوش خبری دے دو۔‘‘
جید گردن کو اور مسد مضبوط بٹی ہوئی رسّی کو کہتے ہیں۔ وہ مونجھ کی یا کھجور کے پوست کی ہو یا آہنی تاروں کی یا اونٹ کی کھال یا اس کے صوف سے بنی ہوئی رسّی‘ بعض نے کہا کہ وہ دنیا میں جو رسّی لکڑیاں باندھ کر لانے کے لیے ڈالے رکھتی تھی لیکن صحیح یہ اندازہ ہے کہ جہنم میں جو طوق و سلاسل اس کے گلے میں پڑا ہو گا وہ آہنی تاروں سے بٹا ہوا ہو گا۔ مسد تشبیہہ ہے اس کی شدت اور مضبوطی کی چونکہ زندگی میں جو ہار وہ پہنتی تھی جس کے لیے وہ کہتی تھی کہ اسے بیچ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت پر خرچ کردے گی اس لیے ہی اللہ تعالیٰ نے اس کی گردن جہنم میں بھی خالی نہیں رکھی اور ہار کی جگہ طوق نے لے لی اور لکڑیوں کے گٹّھے کی رسی اس کے گلے میں آ پڑی۔ جس سے اس کا دَم گھٹ گیا اور وہ مرگئی دنیا اور آخرت دونوں جگہ میاں بیوی کا انجام انتہائی عبرت ناک ہوا۔
اس آیت مبارکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوّلین دشمن کا جو حشر بیان کیا گیا ہے وہ اللہ تعالیٰ نے دائمی طور پر قرآن حکیم میں رقم فرما دیا ہے۔ جس طرح اللہ کی کتاب لازوال ہے ایسے ہی ان دونوں کی مذمّت بھی لازوال ہے۔ یہ وہ سزا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت حق کے خلاف سازش کرنے اور اس کی مذمّت کرنے کی انہیں ملی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جو لوگ بھی دعوتِ اسلام اور داعیانِ حق کے خلاف کسی بھی قسم کی سازش کرتے ہیں ان کی قسمت میں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ناکامی اور ہلاکت لکھی ہوئی ہے۔ وہ یہاں بھی ہلاک و برباد ہوں گے اور آخرت میں بھی سخت سزا سے دوچار ہوں گے۔
سورہ الکوثر میں اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رنجیدگی‘ اداسی کو خوشی میں بدلنے ‘ انہیں حوصلہ دینے کے لیے خوش خبری کی بشارت دی ۔ ایسے ہی اس سورہ اللھب میں بھی۔ اگر بہ غور دیکھا جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش خبری دی گئی ہے تاکہ آپ کی دل جوئی ہوسکے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن نیست و نابود ہو کر رہے گا اس کے وہ ہاتھ جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچاتا رہا ہے ٹوٹ جائیں گے اور اس کی ایسی جڑ کٹے گی جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔ لوگوں کی جڑ تو ان کا مال لٹ جانے سے‘ دیوالیہ ہو جانے سے‘ اولاد نرینہ کے مر جانے سے کٹتی ہے لیکن ابولہب کی جڑ تو ایسی کٹی کہ سب کچھ اس کے پاس تھا۔ مال و دولت بھی‘ بیوی بچے‘ جوان لڑکے۔ سب موجود تھے لیکن اس کے کچھ کام نہ آیا اور بڑی ذلت آمیز اور عبرت ناک موت سے دو چار کر دیا گیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے محبوب و پیارے نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بڑے کرم و محبت کا اظہار بھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دلجوئی کا سامان بھی ہے۔
یہی عرب جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد ان کے مخالف ہو گئے‘ ان کی بات سننے کو تیار نہیں تھے اور مخالفت میں انتہا کو پہنچ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل تک کی منصوبہ بندی کی گئی اور یہی وہ لوگ تھے جن کے بارے میں قرآن حکیم سورۃ فاطر میں یوں فرما رہا ہے کہ یہی عرب بعثت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر ہماری طرف کوئی رسول آیا تو ہم اس کا خیر مقدم کریں گے اور اس پر ایمان لانے میں ایک مثالی کردار ادا کریں گے۔
ترجمہ۔ اور ان کفار نے بڑی زور دار قسم کھائی تھی کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آئے تو وہ ہر ایک امّت سے زیادہ ہدایت قبول کرنے والے ہوں گے۔ پھر جب ان کے پاس پیغمبر آپہنچے تو بس ان کی نفرت ہی میں اضافہ ہوا۔ (سورۃ فاطر۔۴۲)
تفسیر۔عرب قوم کا یہ بیان و خواہش اس آیت مبارکہ کے ساتھ ساتھ سورۃ الانعام ۱۵۶ اور ۱۵۷ میں بھی ہے اور سورۃ الصافات کی ۱۶۷‘۱۷۰ میں بھی ہے لیکن جب انہیں خبردار کرنے والے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو ان کی آمد نے ان کے اندر حق سے فرار کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہیں کیا۔ زمین میں اور زیادہ سرکشی کرنے کی خاطر اور بُری چالیں چلنے لگے۔
جزیرہ نما عرب میں سب سے پہلے دین حق کی روشنی حضرت ہود علیہ السلام اور حضرت صالح علیہ السلام کے ذریعے پہنچی تھی‘ جو زمانہ قبل از تاریخ میں گزرے‘ جب ان کے بعد پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام تشریف لائے جن کا زمانہ بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ڈھائی ہزار سال قبل گزرا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل حضرت شعیب علیہ السلام آئے تھے۔ اس کے بعد سرزمین عرب میں آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ یعنی جزیرہ نما عرب میں کل پانچ پیغمبر گزرے ہیں۔
اہلِ عرب دیکھتے تھے کہ یہودی جو جزیرہ نما عرب میں ان کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کو ایک کتاب ملی ہوئی ہے اور وہ اپنے دین سے منحرف اور بے عمل ہو چکے ہیں۔ عرب ان کی تاریخ پڑھتے تھے کہ انہوں نے بے شمار رسولوں کو قتل کیا اور جب جب ان کے پاس سچائی آئی انہوں نے اس سے منہ پھیرا ہے۔ اس وقت عرب یہودیوں کے مقابلے میں خود کو بڑا سمجھتے ہوئے قسمیں کھایا کرتے تھے کہ اگر اللہ نے ہمیں کوئی پیغمبر دیا اور وہ عربوں میں مبعوث ہوا تو ہم دنیا کی تمام اُمّتوں سے بڑھ کر نیک ہوں گے۔ اس سے مراد ان کی یہ تھی کہ ہم یہودیوں سے بڑھ کر دین کی ہدایات پر قائم رہیں گے۔ یہ تھا عربوں کا حال و عقیدہ لیکن جب خود ان میں سے ایک نبی ان کی خواہشات کے عین مطابق مبعوث ہوا تو انہوں نے انہیں تسلیم کرنے سے انکار ہی نہیں کیا بلکہ یہودیوں کی روش پر چل کر انہیں ختم کرنے‘ انہیں قتل کرنے تک کی کوشش کی۔ کہاں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل وہ راہ راست پانے کے لیے قسمیں کھایا کرتے تھے اور پھر انہوں نے اپنی قسموں کے برعکس یہ رویہ اختیار کیا۔ تکبّر و غرور کی وجہ سے اور اپنی بری سازشوں کی وجہ سے قرآن حکیم کی آیات سے ہی نہیں خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے انکار کرنے لگے۔ ان کے ان اعمال و افکار کو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ریکارڈ کردیا ہے اور ان کی مکاریوں اور فریب کا جواب قرآن حکیم میں دے دیا گیا ہے جو لوگ ایسی قبیح حرکت کریں ان کا ایمان کیا ہو گا۔ ان کا انجام کیا ہو گا۔ ان پر وہی مصائب آجائیں جو ان سے پہلی اقوام پر آئے تھے۔
عرب قوم قسمیں کھا کھا کر یہ دہائی دے رہی تھی کہ کاش ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا آجائے اور ہمیں سیدھے راستے کا پتا بتا دے تو ہم ثابت کردیں گے کہ دنیا بھر میں صرف ہم عرب ہی سب سے بہترین اُمّت ہیں۔ یہ خواہش و دعا وہ قوم کررہی تھی جو صدیوں سے سخت جہالت و پستی‘ بدحالی میں مبتلا تھی اورجب اللہ تعالیٰ نے ان کی دعائوں کے جواب میں ان کے اندر ان ہی میں سے ایک بہترین رہنما کو منتخب فرمایا اور جہالت کی تاریکیوں سے نکلنے کے لیے خود اپنا کلام اس رہنمائے عظیم پر نازل فرمایا تاکہ وہ غفلت سے بیدار ہو کر اپنے جاہلانہ اوہام کے چکر سے نکل سکیں اور صحیح راستہ اختیار کرسکیں تو اس قوم کے نادان لوگوں اور ان کے خود غرض قبائلی سرداروں نے اس عظیم رہنما کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئے اور اسے ناکام کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا پورا زور لگا دیا‘ یہاں تک کہ ان کی جان کے درپے ہو گئے۔ اس حالت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوتا ہے کہ۔
کیا تمہاری نالائقی کی وجہ سے ہم تمہاری اصلاح کی کوشش چھوڑ دیں‘ اس درسِ نصیحت کو روک دیں اور تمہیں اسی پستی میں پڑا رہنے دیں جس میں تم صدیوں سے گرے ہوئے ہو؟ کیا تمہارے نزدیک واقعی ہماری رحمت کا تقاضہ یہی ہونا چاہیے؟ تم نے کچھ سوچا بھی کہ اللہ کے فضل کو ٹھکرانا اور حق سامنے آجانے کے بعد باطل پر اصرار کرنا تمہیں کس انجام سے دو چار کرے گا۔ (سورہ زخرف۔۵)
اور اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی کیا۔ جن لوگوں نے دعوتِ حق کو قبول کرلیا اور سیدھے راستے کو اپنا لیا وہ نجات پا گئے اور جنہوں نے دعوتِ حق کو قبول نہ کیا اور اس کی مخالفت پر کمربستہ رہے ان سب کا حشر ابولہب سے کسی طرح کم نہیں ہوا۔ ان کی دنیا تو غارت ہوئی تھی آخرت بھی انہوں نے اپنے عمل سے غارت کر لی اور اپنے لیے دائمی ٹھکانے کے طور پر جہنم کا انتظام کرلیا۔ یقیناً سورۃ الکوثر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش خبری دی گئی کہ انہیں حوض کوثر (نہر کوثر) عطا کردی گئی تاکہ وہ روز قیامت اپنی اُمّت کو ناصرف اس حوض سے سیراب فرمائیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار سے بھی فیض یاب ہوں اور اپنی دائمی بخشش کا اہتمام بھی دیکھ لیں اور اپنے اعمال کی جزا حاصل کر کے جنت میں اپنی دائمی قیام گاہوں میں داخل ہو جائیں۔ بے شک یہ اللہ کا سب سے بڑا انعام اُمّت مسلمہ پر ہے کہ ان کی بخشش کی جو جو دعائیں نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مالک و پروردگار سے مانگیں وہ اس کی بارگاہ میں قبول ہوئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دلجوئی و تسلی و تشفی کے لیے اس نے نہر کوثر‘ حوض کوثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام کدورت و تشویش کو ختم فرما دیا۔ اب یہ اہتمام و انتظام کرنا ہر مومن مسلمان کا فرض ہے کہ وہ کس طرح حوض کوثر پر پہنچتا ہے اور اس سے کس طرح فیض یاب ہوتا ہے۔ اللہ ہم سب مسلمانوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے بہرہ مند فرمائے اور حوض کوثر پر حاضر ی اور دیدار محبوب الٰہی صلی اللہ علیہ وسلم سے سرفراز فرمائے‘ آمین۔

بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
دعائے تکمیل تفسیر الکوثر

اللہ تبارک و تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر و احسان ہے کہ اس نے سورۃ الکوثر کی تشریح مجھ ناچیز‘ کم علم سے مکمل کرا دی آج بروز اتوار ۲۹ جمادی الاوّل ۱۴۲۵ھ کو میں اپنے رب کے حضور سر بسجود ہوں کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے اپنے اس عاجز بندے کو اس کام کے لیے توفیق خاص عطا فرمائی۔ قرآن حکیم کی چھوٹی سے چھوٹی خدمت بھی اللہ تعالیٰ کے فضل و اعانت کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ میرے رب کا کرم خاص ہے کہ اس نے مجھ کم فہم‘ کم علم کو میری بساط سے کہیں بڑے کام کے لیے منتخب فرمایا۔ بارگاہ الٰہی میں دست بہ دعا ہوں کہ وہ میری اس ناچیز کوشش کو قبول فرمائے اور لوگوں کے لیے اسے نافع بنائے۔ (آمین)
اے میرے مالک!‘ میرے آقا‘ اے ربّ العزت تیرے کرم کا‘ تیرے احسانات کا جتنا بھی شکر ادا کروں وہ کم ہے۔ تُو نے ہی اپنے فضل و کرم سے مجھ ناچیز کو اپنے حبیب سید الانبیاء و اشرف المرسلین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا امّتی ہونا نصیب فرمایا۔ اے اللہ اپنے کرم و فضل سے میرے علم میں اضافہ فرما۔ مجھے توفیق مزید عطا فرما کہ تیرے کلام کو تیرے بندوں تک پہنچانے‘ انہیں سمجھانے کے لیے آسان طریقوں سے اور آسانی سے ادا کرسکوں۔
اے اللہ اپنے رحم و کرم سے مجھے ‘ میری اولادوں کو‘ میری آنے والی نسلوں کو صراطِ مستقیم پر چلنے والا بنا اور ہمیں نبی مکرم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا وفادار امّتی بنا اور ہم سب کو حوض کوثر پر پہنچا اور اس سے سیراب ہونا نصیب فرما اور جس طرح آپ نے اس سورۃ عظیم الکوثر میں دشمنانِ اسلام اور اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو نیست و نابود کرنے کی وعید دی ان سب کو جو اور جس جس طرح دین اسلام کی احیاء و بقا کے راستے میں مزاحمت کرتے ہیں یا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کوبے نشان کر اور اسلام کو رہتی دنیا تک سربلند فرما۔ اسلام کو غلبہ و شوکت عطا فرما۔ یااللہ اسلام اور تمام مسلمانوں کو عزت غلبہ و نصرت عطا فرما اور دین پر ثابت قدم رہنے والا بنا اور ہر حال میں استقامت عطا فرما۔ ہمارا جینا‘ ہمارا مرنا سب دین اسلام اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں اور اپنے احکام کے مطابق کردے۔ ہمیں دین دنیا کا چین و سکون عطا فرما اور ہمیں قرآن حکیم کا علم عطا فرما۔ ہماری اولادوں اور آنے والی نسلوں کو قرآن حکیم پڑھنے کا اس پر عمل کرنے کا ذوق و شوق عطا فرما‘ یااللہ بے شک ہدایت آپ کے دستِ قدرت میں ہی ہے‘ آپ جس کو چاہیں ہدایت نصیب فرمائیں‘ یااللہ اپنی ہدایت ہمارے لیے مقدر فرما اور ہمیں اُسی ہدایت پر چلنے والا‘ جینے مرنے والا بنا اے اللہ آپ نے جو مال و دولت اس دنیا میں عطا کیا ہے اُس کے حقوق کی ادائیگی کا ہر حال میں اہل بنا مال و دولت کے فتنے سے بچا اپنی رضا کے لیے اُسے خرچ کرنے کی توفیق عطا فرما۔
مجھے‘ میرے والدین‘ بھائی‘ بہن اور اولادوں کو میرے اساتذہ و شیوخ کو اور اُن تمام افراد کو جنہوں نے اس کتاب کی تکمیل میں میری مدد کی اُن سب کو اپنی رحمت سے نواز اور ہماری بخشش کا سامان فرما دے۔
آمین یاربّ العالمین۔

حوالہ جات
(۱) صحیح بخاری شریف۔
(۲) صحیح مسلم شریف۔
(۳) صحیح ترمذی شریف۔
(۴) بیان القرآن۔ حکیم الامت حضرت اشرف علی تھانویؒ
(۵) ضیاء القرآن از حضرت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ۔
(۶) موضوعِ القرآن از حضرت شاہ عبدالقادر محدث دہلویؒ۔
(۷) القرآن کریم ترجمہ مولانا محمد جونا گڑھی تفسیر مولانا صلاح الدین یوسف۔
(۸) تفہیم القرآن از مولانا ابولامودودیؒ۔
(۹) تفسیر عزیزی از حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ۔
(۱۰) فی ظلال القرآن سید قطب شہید ترجمہ سید معروف شاہ شیرازی۔
(۱۱) آثار سعید از حضرت مولانا احمد سعید دہلویؒ۔
(۱۲) مناظر قدرت از سید قطب شہیدؒ۔
(۱۳) قیامت کے ہولناک مناظر از امام جلال الدین سیوطیؒ۔
(۱۴) لغاتِ القرآن۔ از حضرت مولانا عبدالرشید نعمانی ؒ۔