Naeyufaq Nov-17

اندھرے کے مسافر

زرین قمر

اسٹور روم کا دروازہ ایک زور دار آواز کے ساتھ کھلا تھا اور اسٹور روم سے باہر آتی ہوئی ٹرالی سے کئی ڈبے باہر راہداری کے سفید فرش پر بکھرگئے تھے اسی شور سے کمرے میں لیٹی سمنتھا کی آنکھ کھل گئی تھی اس نے خواب آلود آنکھوں سے دروازے کی طرف دیکھا تھا اور اسے نائٹ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر کادھندلا ساچہرہ دکھائی دیاتھا۔
’’آنے والے زخمیوں کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ ڈاکٹر نے کہااور سمنتھا بارلیٹ اپنے بیڈ سے اٹھ کرتیزی سے ایمرجنسی روم کی طرف دوڑی۔
’’کیاہوا ہے ؟ اس نے قریب سے گزرتی ہوئی ایک نرس سے پوچھا۔
’’نیویارک میں فائرنگ کاواقعہ ہوا ہے کئی زخمی آئے ہیں ابھی ابھی ایمبولینس زخمیوں کو لائی ہیں ایک زخمی کی حالت بہت نازک ہے ۔‘‘
سمنتھا تقریباً بھاگتی ہوئی استقبالیہ ڈیسک سے قریب سے گزرتی ایمرجنسی روم میں پہنچی تھی‘ جہاں خون اور پسینے کی بوپھیلی ہوئی تھی کئی بیڈز پرزخمی لیٹے ہوئے تھے جو کراہ رہے تھے‘ کچھ لوگوں کوآکسیجن لگائی جارہی تھی او رکچھ کو کارڈیک مانیٹرز …کمرے میں مریضوں اور ڈاکٹروں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔
’’مجھے سسٹر ٹرے کی ضرورت ہے۔‘‘ ایک ڈاکٹر نے کہاجوایک مریض کے بیڈ کے قریب کھڑاتھا۔
’’اس کا کیامسئلہ ہے ؟‘‘ ایک سسٹر نے پوچھا۔
’’اس کابلڈ پریشر تیزی سے گررہاہے۔‘‘
’’اس کی آستین اوپر کروبلکہ کاٹ دو۔‘‘ ڈاکٹر نے کہااور اسی وقت سمنتھا اور ٹیم کے ساتھ آگے بڑھی وہ دستانے پہنتی جارہی تھی وہ تیزی سے مریض کی طرف بڑھی۔
’’یہ کون ہے ؟‘‘ سمنتھا نے قریب آتے ہوئے پوچھا۔
’’یہ زخمی ہے اس کی عمر پچاس سال ہے اسے سینے اور گلے پرگولیاں لگی ہیں۔‘‘ سسٹر نے کہا۔
’’کچھ پتہ چلا کہ کیاہوا ہے ؟‘‘
’’ایک ہوٹل میں فائرنگ ہوئی ہے وہاں کچھ نوجوان ڈانس کرتی ہوئی لڑکیوں سے بدتمیزی پراتر آئے تھے جس پر ہنگامہ ہوگیااور پھرفائرنگ شروع ہوگئی کافی لوگوں کوگولیاں لگی ہیں۔‘‘
’’اس کابلڈ ٹائپ کیاہے؟‘‘ سمنتھا نے زخمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔
’’اے پوزیٹیو۔‘‘
’’بلڈپریشر؟‘‘
‘’وہ ویک ہے لیکن ایک جگہ رک گیا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ سمنتھا نے زخمی کی گردن پرلگی گولی کے نشان کاجائزہ لیتے ہوئے کہا۔
’’زخم زیادہ گہرا نہیں ہے لیکن اس کے سینے اور گردن کااسکین کرواس کی سرجری کرناہوگی۔‘‘
’’یس ڈاکٹر برلیٹ۔‘‘ سسٹر نے کہااور سمنتھا دوسرے زخمیوں کی طرف متوجہ ہوئی اس وقت تک کئی پولیس آفیسرز بھی وہاں آگئے تھے اور زخمیوں سے سوالات کررہے تھے اچانک سمنتھا کی نظر ایمرجنسی ہال کی دیوار سے لگی ایک بوڑھی عورت پرپڑی جس کی گود میں ایک جوان لڑکی لیٹی تھی اس پرسفید چادر پڑی تھی جس پرخون کے دھبے تھے وہ شدید تکلیف سے کراہ رہی تھی۔ سمنتھا تیزی سے اس کی طرف بڑھی اس نے چادر ہٹا کردیکھا تو اس کادل دہل گیا اس لڑکی کے جسم پر جابجا زخموں کے نشان تھے جن سے خون بہ رہاتھا اس کے ہاتھ رسی سے بندھے ہوئے تھے جنہیں ابھی تک کسی نے نہیں کھولا تھا۔ سمنتھا نے ایک ریزر سے اس کی رسی کاٹی اور سسٹر کی طرف مڑی۔
’’جلدی کرو اس کی نس ڈھونڈوفوراً انجکشن دینا ہے پھراس نے لڑکی کو انجکشن لگایا لیکن سرجری کاوقت نہیں تھا وہ جانتی تھی کہ وہ لڑکی زندہ نہیں بچے گی پھر بھی اس نے لڑکی کے کٹے ہوئے حصوں پر ٹانکے لگانا شروع کردیئے۔
’’ڈاکٹر برلیٹ مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔‘‘ڈاکٹر گبن جووہاں موجود تھااس نے سمنتھا کو آواز دی۔
’’میرے زخمی کی حالت بہت نازک ہے سر۔‘‘ سمنتھا نے ٹانکے لگاتے ہوئے کہا۔
’’ڈاکٹر برلیٹ میری بات سنواور ابھی میرے پاس آئو۔‘‘ڈاکٹرگبن نے کہا لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔زخمی لڑکی کو لگی ہوئی کارڈیک مونیٹر مشین کے اسکرین پرایک فلیٹ لائن نظر آنے لگی اور اسی وقت قریب کھڑی نرس نے دل کوجھٹکا لگانے والے پیڈلز اسے تھمادیئے۔
’’کلیئر!‘‘
لڑکی کاجسم تھوڑا اچھلااور زخموں سے مزید خون باہر آیا۔ سمنتھا نے دوبارہ جھٹکا دیالیکن کچھ نہیں ہوا سسڑ نے ایک اور ا نجکشن تیار کرلیاتھا اور سمنتھا نے وہ انجکشن لڑکی کو لگادیاتھا وہ دعائیں مانگ رہی تھی کہ اس کادل دھڑکنا شروع کردے لیکن ایسا نہیں ہواتھا۔
کچھ دیر بعد وہ ڈاکٹر گبن کے آفس میں موجود تھی جہاں ان کے کارکردگی کے اور تعلیمی سرٹیفکیٹس کمرے کی دیواروں پر لگے تھے لیکن میڈیکل کی دنیا میں ان کے تجربے اور ان کی خدمات کے باوجود ان کے دل میں انسانوں سے ہمدردی کا جذبہ پیدا نہیں ہواتھا وہ کسی کی مجبوری کوسمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے‘ اس وقت بھی وہ اپنی سیٹ پر بیٹھے غصے سے سمنتھا کی طرف دیکھ رہے تھے۔
’’مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میرے سکینڈ ایئر اسٹوڈنٹس میں سے تمہاری پرفارمنس سب سے زیادہ اچھی ہے لیکن اس ہاسپٹل میں ایسے لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے جو اپنے سنیئرز کاحکم نہیں مانتے۔‘‘
’’سر‘ جب آپ نے مجھے بلایا تومیں اس وقت ایک اور شدید زخمی کے ساتھ تھی میں کیا کرتی اسے مرنے کے لیے تنہا چھوڑ دیتی؟‘‘
’’وہ جب آئی تھی تب ہی مرچکی تھی۔‘‘
’’لیکن اس کی نبض چل رہی تھی‘ آپ نے مونیٹر کی آواز نہیں سنی تھی ؟‘‘
’’نہیں‘ تم ہمیشہ کی طرح غلط تاویلیں دے رہی ہو اس کے زندہ رہنے کاکوئی چانس نہیں تھا۔‘‘
’’میں تاویلیں نہیں دے رہی جب میں نے اسے دیکھا تووہ زندہ تھی۔‘‘
’’بحث مت کرو۔‘‘ ڈاکٹر گبن نے میز پر مکا مارتے ہوئے کہاغصے کی شدت سے اس کاچہرہ سرخ ہو رہاتھا۔
’’میں نے یہ عہدہ سنبھالتے ہوئے قسم کھائی تھی کہ میں اپنے تمام مریضوں کو یکساں توجہ دوں گی ایسا نہیں ہوگا کہ صرف ان پرتوجہ دوں جن کی دیکھ بھال کرنے سے میرا عہدہ اور شہرت بڑھے۔‘‘
’’تم اس اسپتال سے جاسکتی ہو گیٹ آئوٹ۔‘‘ ڈاکٹر گبن نے غصے سے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔
{…٭…}
اسپتال سے باہر آنے کے بعد سمنتھا سڑک سے گزرنے والے مجمع کاحصہ بن گئی تھی لیکن اس بات سے بے خبر تھی کہ دور فٹ پاتھ پر کھڑا ایک شخص اسے بغور دیکھ رہاتھا‘ اس کے ہاتھ میں کیمرا تھا جو اس نے اٹھا کرسمنتھا کوفوکس کیاتھ اوہ دل میں دعائیں مانگ رہاتھا کہ کاش سمنتھا اپنا چہرہ اوپر اٹھائے اس کی آنکھوں پر اسپیشل قسم کے سن گلاسس لگے تھے جن کی مدد سے اسے رات میں بھی منظر دن کی طرح صاف نظر آرہاتھا۔
’’اوہ‘ اوپر دیکھو… اوپر…تم کیا سوچ رہی ہو؟‘‘ اس نے دل ہی دل میں کہااور کیمرے کے لینس میں اس کاامیج بڑا کرلیااور پھرزوم کرکے صرف اس کے چہرے پرمرکوز کردیا اور پھرملنے والے کسی اچانک موقع کاانتظار کرنے لگا اور پھراچانک ہی سمنتھا نے اپناسراوپر اٹھایاتھا اور آگے بڑھی تھی۔
’’بالکل اپنی ماںجیسی ہے۔‘‘ اس شخص نے زیر لب کہا‘ کیمرے کے لینس میں اس کے گال پرپڑا ہوا زخم کانشان صاف نظر آرہاتھا جس کی اس شخص کو تلاش تھی اور جو سمنتھا کی خاص نشانی بھی تھااس شخص نے سمنتھا کی تصویر کھینچنے میں دیر نہیں کی تھی اس نے اپنے کان میں لگے آلے پرڈبل ٹیپ کیا تھااور وہاں سے اندھیرے کی جانب بڑھتے ہوئے بولاتھا۔
’’یہ وہی ہے۔‘‘ پھروہ اندھیرے میں غائب ہوگیاتھا۔ سمنتھا اس سے بے خبر تھی او رٹرین میں بیٹھنے کے لیے سب وے کی طرف جارہی تھی وہ سوچ رہی تھی کہ اگر اس کی نانی کوپتا چلا کہ اس نے اپنے غصے پرقابو نہیں کیا اور نیویارک جیسے شہر میں ایک بڑے اسپتال میں ملازمت کے موقع کو کھودیا ۔ نانی کاخیال دل میں آتے ہی سمنتھا کوشدت سے احساس ہوا کہ وہ اپنی نانی سے کافی عرصے سے نہیں ملی ہے وہ کافی عرصے سے ان سے ملنے بھی نہیں گئی جبکہ وہ جانتی تھی کہ اس کی نانی ہوائی جہاز میں بیٹھنے سے گھبراتی ہیں ۔ دس سال پہلے یہاں آئی تھی‘ شروع میں وہ ایک دوبار نانی سے ملنے گئی لیکن پھراس کے ساتھ ہونے والے ناپسندیدہ تعلقات کی وجہ سے اس نے وہاں جانا چھوڑ دیا اب اس کاگھرنیویارک ہی تھا۔ ہفتہ وار کالز اس کے اور نانی کے درمیان ایک رابطہ تھیں۔
گھرپہنچنے کے بعد سمنتھا نے آج کی ڈاک کے لفافے اٹھائے تھے اور کمرے کی لائٹس آن کی تھیں اور ہاتھ میںپکڑے ہوئے خطوں پرنظر ڈالی تھی ان میں سے ایک پراس کی نظریں مرکوز ہوگئی تھیں‘ یہ خط مسٹر ایڈی نے بھیجاتھا جواس کے شہر ونچسٹا میں ایک وکیل تھے اس کے دل میں اچانک خیال آیا کہ شاید اس کے والدین کی چھوڑی ہوئی جائیداد میں کوئی خاص چیز انہوں نے دریافت کی ہوگی تو اسے خط لکھا ہوگا اس نے لفافہ کھولا جس میں سے پانچ ہزار ڈالر کاایک چیک برآمد ہوا جس پر سمنتھا کو بہت خوشی ہوئی‘ اللہ نے اسے نوازنے کے لیے کتنا مناسب وقت منتخب کیاتھا۔ آج ہی اس کی ملازمت ختم ہوئی تھی او روہ رقم کے لیے پریشان تھی ۔ یہ چیک دیکھ کر اسے بہت خوشی ہوئی تھی لیکن دوسرے ہی لمحے وہ خوشی تجسس میں تبدیل ہوگئی تھی چیک کے ساتھ ایک کاغذ اور تھا جس پر لکھا تھا۔ ’’تمہاری نانی فوت ہوگئی ہیں فوراً پہنچو۔‘‘
سمنتھا کودوسرے ہی دن فلائیٹ سے روانہ ہوناتھا اس نے بہت کم وقت میں روانگی کی تیاری کی تھی او رصبح ہی ائر پورٹ پہنچ گئی تھی پھرفلائیٹ میں بیٹھنے کے بعد اس نے نیند کی گولیاں کھالی تھیں‘ فلائٹ لمبی تھی او روہ کچھ وقت سکون سے گزارناچاہتی تھی اس کے ساتھ ہونے والے پے درپے غم انگیز واقعات نے اسے پریشان کردیاتھا پہلے اسپتال سے نکالے جانا پھر نانی کی موت کی خبراور اتنی ایمرجنسی میں روانگی وہ اپنی سیٹ پربیٹھتے ہی نیند کی آغوش میں پہنچ گئی تھی۔
{…٭…}
اس کی نظریں جہاز کی کھڑکی کے شیشے پرجمی تھیں جس میں اسے اپنا عکس نظر آرہا تھا‘ وہ اس وقت پانچ سال کی تھی اس کی نانی کے ہاتھ میں بالوں میں لگائے جانے والے ہیئربینڈ تھے برائون‘ سرخ‘ پیلے اور گلابی‘ نانی نے اس کے لیے گلابی ہیئر بینڈ پسندکیاتھا ان کاخیال تھا کہ لڑکیوں کے لیے یہی کلر بہت اچھا رہتا ہے‘ وہ خوشی سے ناچ رہی تھی اسے اپنی فراک بہت اچھی لگ رہی تھی جواس کی والدہ نے اس کے لیے بنائی تھی۔
’’سمنتھا ڈانس بند کرواور کھڑی ہوجائو تاکہ میں تمہیں یہ ہیئر بینڈ لگاسکوں۔‘‘ نانی نے کہا پھر تیار ہو کر وہ نانی کے ساتھ ائرپورٹ گئی تھی جہاں اسے اپنے والدین کی آمد کاانتظار تھا۔
’’تمہارے ڈیڈی تمہیں میرے پا س چھوڑ گئے تھے‘ تب تم بہت چھوٹی تھیں۔‘‘ نانی نے اسے بتایاتھا۔
’’کیا آپ کامطلب ہے کہ میں کنساس میں پید اہوئی تھی؟‘‘ سمنتھا نے پوچھا۔
’’ہاں پیاری سیم۔‘‘ نانی نے پیار سے کہااور اسی وقت فضا میں اڑتاہوا جہاز نظر آیا تھا۔
’’دیکھو تمہارے ممی ڈیڈی آگئے۔‘‘ نانی نے بڑی کھڑکی کے شیشے کی طرف اشارہ کیا‘ سمنتھا نے دیکھا جہاز نیچے آرہاتھا پھر اس کارخ اس ہال کی طرف ہوگیا جہاں سمنتھا اور اس کی نانی بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ موجود تھیں۔ فضامیں ایک شور بلند ہواتھالوگوں کی چیخیں سنائی دے رہی تھیں ہال کے سامنے لگاشیشہ زوردار آواز کے ساتھ ٹوٹاتھا اوراس کے ٹکڑے فضا میں دور دور تک پھیل گئے تھے ایمرجنسی سائر نوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں اور آگ بجھانے والی گاڑیاں تیزی سے جہاز کی طرف بڑھی تھیں اور آگ بجھانے لگی تھیں۔سمنتھا کوبھی بازو اورگال پر شیشے لگے تھی اور خون بہہ کر اس کے لباس پرپھیل گیاتھا تب ہی سے اسے سرخ رنگ سے نفرت ہوگئی تھی اس روز اس کے والدین فوت ہوگئے تھے اوراس نے پھر خوف کی وجہ سے کبھی جہاز میں سفر نہیں کیاتھا۔
{…٭…}
جہاز کے کنساس پہنچنے پر اس کی لینڈنگ کے دوران سمنتھا کی آنکھ کھلی تھی اور اس نے آنکھیں کھول کر کھڑکی سے باہر دیکھاتھا یہ وہ جگہ تھی جہاں اس کی نانی نے اس کی پرورش کی تھی۔
وہ ٹیکسی لے کر ونچسٹا پہنچی تھی اور نانی کے گھر کے باہر ان کے وکیل ایڈی نے اس کااستقبال کیاتھا۔ ٹیکسی ڈرائیور نے ٹیکسی سے اس کے سوٹ کیس اتار کرنیچے رکھے تھے اور اس نے ٹیکسی کاکرایہ ادا کیاتھا۔ اس کی نانی کے ہاتھ کے لگائے ہوئے سرخ گلاب ایک کیاری میں بہار دکھارہے تھے۔ اس نے ایک نظر لان پرڈالی جہاں اس کی پسندیدہ لکڑی کی بینچ اپنی جگہ موجود تھی جہاں بیٹھ کراس نے بہت بار اپنی نانی کے ساتھ آئس کریم کھائی تھی اور یہی وہ جگہ تھی جہاں جورابرٹ نے اسے زندگی کاپہلا بوسہ دیاتھایہ خیال آتے ہی اس کے چہرے پرسرخی پھیل گئی تھی‘ ایڈی اسے گھر کی چابیاں دے کر پھرآنے کاکہہ کرچلاگیاتھا۔
سمنتھا نے لکڑی کابڑا دروازہ کھولا تو یہ دیکھ کرحیران رہ گئی کہ ہرچیز اپنی جگہ موجود تھی‘ لکڑی کافرنیچر‘ کھڑکیوں اور دروازوںپرپڑے ہوئے لیس دار پردے‘ گلدان‘ تصویریں‘ لیکن ڈرائنگ روم سے سبز قالین اٹھالیاگیاتھا۔ وہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپری منزل میں گئی جہاں اس کااپنا پسندیدہ کمرہ موجود تھا وہاں ہر چیز جوں کی توں موجود تھی نانی نے کچھ بھی تبدیل نہیں کیاتھااسے یاد تھاوہاں اکثر اس کے دوست بھرے رہتے تھے اب بھی دیواروں پر اس کے لگائے ہوئے پوسٹرز موجود تھے۔ فٹ بال میچ‘ باسکٹ بال کے گیم اور ہر طرح کے اسپورٹس کے پوسٹرز سے دیواریں بھری تھیں اس نے اپنے آنسو پی لیے وہ بہت اداس تھی لیکن آنسو بہنے نہیں دیئے تھے اس نے اپنے سوٹ کیس اپنے بیڈ کے پاس رکھے اور تیزی سے واپس نیچے آگئی۔
اس کی نانی کے کمرے میں تھوڑی سی تبدیلی آئی تھی پھولوں والے پردوں کی جگہ کھڑکیوں پر سادے پردے آویزں تھے گلدان میں سوکھے گلاب موجود تھے جن کی خوشبو کمرے میں پھیلی ہوئی تھی۔ وہ اپنی نانی کے بیڈ پر بیٹھ گئی وہ کافی دیر ان کے بارے میں سوچتی رہی تھی پھراٹھ کر کچن میں گئی تھی وہ واحد جگہ تھی جو بالکل تبدیل ہوچکی تھی اسے نئے انداز میں سجایاگیاتھا اچانک اسے احساس ہوا کہ اس کی نانی اس کے بغیر تنہا زندگی گزار رہی تھیں اور انہیں اپنی بڑھتی ہوئی عمر اور کمزوری کے باوجود اپنے بہت سے کام تن تنہا ہی کرناپڑتے ہوں گے یہ خیال آتے ہی سمنتھا کوشرمندگی کا احساس ہواتھا۔
نئے ریفریجریٹر میں ڈاکٹر پیپر کی دوائوں کانیاسیٹ رکھاتھا جوایکسپائر ہوچکاتھاوہ واپس ڈرائنگ روم میں آگئی تھی‘ جہاں ایک الماری میں کتابوں کے درمیان کچھ ایلبمز بھی رکھی تھیں اس نے وہ اٹھائیںاور صوفے پر آبیٹھی پھر وہ ان کی ورق گردانی کرتے ہوئے گزرے وقت کویاد کرنے لگی تھی اور اس کی سسکیاں کمرے میں گونج رہی تھیں۔
’’میں بالکل تنہا رہ گئی ہوں۔‘‘
{…٭…}
اپنی نانی کی تدفین کے موقع پر سمنتھا اگلی صف میں موجود تھی وہ اداسی سے دور تک پھیلے سمندر کو دیکھ رہی تھی اسے یوں محسوس ہورہاتھاجیسے اس کی پشت پرموجود پرسادینے والوں کی نظریں اس پرجمی ہوئی ہیں اوراس کے سامنے سلور کے ایک بکس میں اس کی نانی جلی ہوئی موجود تھیں اس کادل بیٹھنے لگا اس نے اپنی زندگی میں بہت سی جلی ہوئی لاشیں دیکھی تھیں اور ان کی بو بھی سونگھی تھی لیکن اس وقت وہ بہت دلبرداشتہ تھی آخری رسومات کے وقت مسٹر ایڈی نے لاش کوبکس میں بند کروادیاتھااس کی نانی کار کے حادثے میں فوت ہوئی تھیں ان کی کار ایک ٹرک سے ٹکرا کرشعلوں کی زد میں آگئی تھی اس حادثے کے بعد پولیس ڈپارٹمنٹ کوتحقیقات کرنا چاہیے تھی اسے افسوس تھا کہ وہ اپنی نانی سے آخری بار مل بھی نہیں سکی تھی لیکن اس میں اس کاہی قصور تھا وہ ان سے پہلے ملنے آئی ہی نہیں تھی۔
’’یہ آپ کے پسندیدہ گلاب ہیں اورمیں آپ کے لیے لائی ہوں۔‘‘ اس نے اپنے ہاتھوں میںپکڑے سرخ گلاب نانی کے تابوت پرڈالتے ہوئے زیرلب کہا تھااور سسک پڑی تھی۔ مسٹر ایڈی نے اسے سہارا دے کرمجمع سے دور کردیا تھا انہوں نے ہمیشہ اس کی فیملی کو سہارا دیاتھا۔ اس وقت بھی وہ اسے اس کی کار تک لے گئے تھے اور اسے بٹھانے کے لیے دروازہ کھولاتھا۔
’’اس وقت ڈرامہ کررہی ہو کتنا اچھا ہوتا اگر تم سلویا کی زندگی میں آکر اس سے ملتیں؟‘‘ اس کی نانی کی ایک پڑوسی دوست نے سمنتھا پرطنز کیا۔‘‘تم خود کو اس کی نواسی کیسے کہتی ہو؟‘‘
’’مسز پال یہ بات کرنے کایہ کوئی موقع نہیں ہے یہ باتیں کسی اور وقت کے لیے اٹھارکھیں۔‘‘ مسٹر ایڈی نے درمیان میں آتے ہوئے کہااور مسز پال براسامنہ بنا کروہاں سے ہٹ گئی تھیں۔ سمنتھا کبھی بھی انہیں پسند نہیں کرتی تھی اور وہ یہی سوچتی تھی کہ اس کی نانی نے انہیں ودست کیوں بنایاتھا‘ مسٹر ایڈی ایک بار پھر تعزیت کرکے اسے کارمیں بٹھا کردروازہ بند کردیاتھا اور وہ ایک بار پھر تنہا رہ گئی تھی۔ اس نے کھڑکی سے باہر جھانک کر دیکھا دو ردرخت کے سائے میں سیاہ کپڑوں میں ملبوس ایک شخص کھڑاتھا اس کی نظریں سمنتھا کی کار پرلگی تھیں اور گھر جاتے ہوئے سارے راستے سمنتھا سوچتی رہی تھی کہ وہ شخص کون تھا جو وہاں موجود تھا اس کاکوئی تعلق سمنتھا کی فیملی سے تھا؟ اس نے دن کے وقت سن گلاسس پہنے ہوئے تھے جبکہ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے اور دھوپ کانام ونشان نہیں تھا۔
’’رکو۔‘‘ اچانک اس نے ڈرائیور سے کہا وہ کچھ و قت اپنی گزری ہوئی یادوں کے ساتھ گزارنا چاہتی تھی۔
’’میں بس چند منٹ میں آتی ہوں۔‘‘ سمنتھا نے ڈرائیور سے کہااور کار سے اتر کردرختوں کی طرف بڑھ گئی جہاں دو قبریں بنی ہوئی تھیں جو اس کے والدین کی قبریں تھیں وہ ان کے نزدیک سخت زمین پر دوزانو بیٹھ گئی۔
’’ممی‘ ڈیڈی۔‘‘ اس نے سسکی لی۔ ’’بہت لمبا عرصہ گزر گیاہے… میں آپ کی اچھی بیٹی ثابت نہیں ہوئی کیونکہ میں آپ کی والدہ کاخیال نہیں رکھ سکی جیسے کہ مجھے رکھنا چاہیے تھا‘ میں جانتی ہوں اگر آپ زندہ ہوتے تو ان کابہت خیال رکھتے۔‘‘ پھر وہ رونے لگی تھی۔
’’میں جانتی ہوں جو کچھ ہوچکامیں اسے تبدیل نہیں کرسکتی لیکن میں وعدہ کرتی ہوں میں یہ معلوم کرکے رہوں گی کہ میری نانی کو کس نے مارااور انہیں قانون کے حوالے کروں گی چاہے اس کے لیے مجھے کتنی ہی مشکلات کاسامنا کیوں نہ کرناپڑے۔‘‘ اس نے اٹھتے ہوئے وعدہ کیا۔
{…٭…}
سراغرساں جورابرٹ اپنے آفس میں میز پررکھی فائل کی ورق گردانی میں مصروف تھا پینسل کے پیچھے لگی ربر اس کے منہ میں دبی تھی یہ اس کی بری عادت تھی وہ کچھ لکھنے کے دوران کبھی کبھی اپنی پینسل کی ربر منہ میں لے لیتاتھا اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ بہت زیادہ سیریس کیسز پرکام کرتے ہوئے باآواز بلند خود کلامی سے بچ جاتاتھااسے سمنتھا کی فیملی سے ہمدردی تھی اس فیملی نے بہت دکھ جھیلے تھے وہ تدفین کے موقع پر شرکت کرنا چاہتاتھا لیکن نہیں کرسکاتھا کیونکہ اسے پتہ تھا کہ سمنتھا بھی وہاں ہوگی اور نہ جانے کس انداز میں اس کااستقبال کرے اسے معلوم تھا کہ سمنتھا موڈی تھی اس کا رویہ پلک جھپکتے میں بدل جاتاتھا وہ اس موقع پر کوئی بدمزگی نہیں چاہتاتھا اس نے کام کرتے کرتے نظریں اوپر کیں اور وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ سمنتھا اس کے سامنے کھڑی تھی‘ اسے امید تو تھی کہ وہ اس سے ملنے ضرور آئے گی لیکن اتنی جلدی آئے گی اس کااسے اندازہ نہیں تھا۔ اتنے عرصے بعد وہ پہلے سے بہت زیادہ خوبصورت ہوگئی تھی۔
جب وہ بچے تھے اور ہائی اسکول میں پڑھتے تھے تب بھی وہ خوبصورت تھی لیکن جونے کبھی اس چیز کومحسوس نہیں کیاتھااسے وہ جینز اور سادی شرٹ میں اچھی لگتی تھی جونے سیم کو دیکھتے ہی فائل بند کردی اور سیدھا ہو کربیٹھ گیا۔
’’ہائے جو۔‘‘ سیم نے کہا۔
’’تمہیں دیکھ کر خوشی ہوئی سیم۔‘‘ جونے اپنی کرسی سے کھڑے ہوتے ہوئے کہااوراس کے نزدیک آکر اس کی کمر کے گرد بانہیں ڈال کراسے اپنے نزدیک کرلیا۔
’’تمہاری نانی کامجھے افسوس ہے۔‘‘ جونے کہا۔
’’شکریہ۔‘‘سیم نے آہستگی سے کہااوراس کی بانہوں سے نکل گئی۔
’’میں آج تمہارے پاس آنے کے بارے میں سوچ ہی رہاتھا۔‘‘
’’تو پھر آئے کیوں نہیں ؟‘‘ سیم نے حیرت سے کہا۔
’’دراصل میں تمہیں …‘‘
’’پریشان کرنا نہیں چاہتاتھا۔‘‘ سیم نے اس کی ادھوری بات مکمل کی۔
’’دراصل میرے پاس اظہار کے لیے الفاظ نہیں تھے۔‘‘
’’خود کو دھوکامت دو۔‘‘ سیم نے کہا وہ جانتی تھی کہ جو اسے پسند کرتاہے لیکن اس کی ملازمت نے اسے اپنے گرد حفاظتی خول چڑھانے کی تربیت دے دی ہے۔
’’تم تو یہاں سے دور تھیں لیکن میں یہاں تھا چنانچہ اکثر نانی کے پاس جاتارہتاتھا وہ مجھ سے اپنی فیملی جیسا ہی برتائو کرتی تھیں۔‘‘ جونے کہا۔
’’کیا یہ سچ ہے ؟‘‘
’’ہاں‘ بالکل سچ ہے۔‘‘ جونے کہااور سمنتھا نے آنکھیں بند کرکے ایک گہری سانس لی ساتھ ہی اس نے اپنے گال پر موجود زخم کے نشان کو آہستہ سے سہلایاتھا۔
’’انہوں نے مجھے تمہارے بارے میں بتایاتھا کہ تم ان سے ملنے جاتے تھے دیکھومیں یہاں تم سے کوئی بحث کرنے کے لیے نہیں آئی ہوں۔‘‘ سمنتھا نے کہا تو واپس اپنی سیٹ پربیٹھ گیا۔
’’توپھر میں تمہارے لیے کیا کرسکتاہوں۔‘‘ اس نے پروفیشنل انداز میں کہا۔
’’یہ فائل میری دادی کی ہے؟‘‘ سمنتھا نے پوچھااور فائل اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا لیکن جونے اسے روک لیا۔
’’یہ ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ اس نے سمنتھا سے کہا۔
’’تم جانتے ہو میں ایک ڈاکٹر ہوں۔‘‘
’’ہاں میں جانتاہوں ڈاکٹر برلیٹ لیکن شاید تم نے کبھی فیملی یافرینڈ کے کیس پرکام نہیں کیا ہوگا۔‘‘
’’ان کاتابوت بند کیوں تھا؟‘‘ سمنتھا نے پوچھا۔
’’اس کے لیے مسٹر ایڈی نے درخواست کی تھی۔‘‘ جونے جواب دیااور سیم نے فائل چھوڑ دی پھروہ ایک کرسی پربیٹھ گئی تھی۔
’’مجھے ایک بات بتائو‘ سچ بتانا۔‘‘ سیم نے کہا۔
’’میں کوشش کروں گا۔‘‘
’’کیا جو حادثہ میری نانی کو پیش آیا وہ واقعی محض دوگاڑیوں کے ٹکرانے کاسادا ساحادثہ تھا؟‘‘
’’ہاں… دیکھنے سے تو ایسا ہی لگتا تھا… کیوں؟‘‘
’’اگرایساہے تو تم تحقیقات کس لیے کررہے ہو؟‘‘
’’سیم مجھ سے یہ کرنے کو کہا گیا ہے ۔‘‘
’’کیا اس کیس میں FBI کے دلچسپی لینے کی کوئی وجہ ہے؟‘‘ سیم نے پوچھا۔
’’نہیں ان کے دلچسپی لینے کی کوئی وجہ نہیں۔‘‘ جونے حیرت سے کہا۔
’’لیکن ان میں کچھ تمہارے دوست بھی ہیں… ہیں نا؟‘‘ سیم نے پوچھا۔
’’ہاں… لیکن بھلا اس سے تمہاری نانی کاکیا تعلق؟‘‘
’’آج نانی کی تدفین کے موقع پر وہاں ایک شخص تھا جومجھے ایسا ہی لگا… اور بس‘ میں نے سوچا شاید اس کوتم نے بھیجا ہوگامجھ سے سوالات کرنے کے لیے لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔‘‘
’’ہوسکتا ہے کہ وہ تدفینی ادارے کے ساتھ ہو۔‘‘جونے کہا۔
’’ہوں… ممکن ہے۔‘‘ سیم نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔ اسی وقت فون کی گھنٹی بجی اور جو نے ریسیور اٹھایا دوسر ی طرف سے اس کاچیف بول رہاتھا پھراس نے تفصیل سے بات کی تھی اور جب ریسیور رکھا تھا توسیم اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
’’چیف کچھ گپ شپ کے موڈ میں تھا کیاتم کچھ اور پوچھنا چاہتی ہو؟‘‘ جونے کہا۔
’’نہیں… بس یونہی تم سے ملنے آگئی تھی۔‘‘
’’اگر اس کیس میں کوئی نئی بات معلوم ہوئی تو سب سے پہلے تم سے شیئر کروں گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے جو۔‘‘
’’تمہیں دیکھ کر خوشی ہوئی سیم۔‘‘
’’مجھے بھی۔‘‘ سیم نے کہا اورواپسی کے لیے مڑگئی جواسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا وہ اس سے تنہائی میں ملنا چاہتاتھا پھراس نے فیصلہ کیا کہ کل صبح وہ اپنے دوستوں سے رابطہ کرے گاجو اس کیس پرکام کررہے ہیں اوراگراسے کوئی نئی خبر ملے گی تووہ سیم سے مل کراسے ڈنر پرمدعو کرے گااوریوںاس کی ملاقات بھی اس کے بچپن کی ساتھی سے ہوجائے گی۔
{…٭…}
’’اگر تم چاہوتو تمہیں اس گھر کی اچھی قیمت مل سکتی ہے۔‘‘ مسٹر ایڈی نے سمنتھا کومشورہ دیا اس طرح وہ اس کے خاندان سے وفاداریاں نبھارہے تھے اور اپنی نانی کی جائیداد کوصحیح ڈھنگ سے فروخت کرکے مستقبل کی زندگی کواچھے انداز میں گزارنے کا گر بتارہے تھے جبکہ سمنتھا ذہنی طور پر اس کے لیے تیار نہیں تھی وہ اپنی نانی کی جائیداد فروخت کرکے واپس نیویارک نہیں جاناچاہتی تھی اگر وہ نانی کاگھر فروخت کردیتی تو اس کے پاس اپنا کوئی گھر نہیں تھا نیویارک میں اس کی ملازمت بھی ختم ہوچکی تھی اس کے علاوہ گھر اور جائیداد بیچنے کے بعد کنساس سے اس کاتعلق ٹوٹ جاتاجہاں اس کے والدین اور نانی کی یادیں تھیں مسٹر ایڈی اس بات سے واقف تھے وہ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اس کے قریب رکھی کرسی پرآبیٹھے اور انہوں نے اس کاہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر ہمدردی سے اسے تھپکا بالکل ایسے جیسے نانی کرتی تھیں۔
’’معافی چاہتاہوں ڈیئر… میراخیال ہے آج کے لیے اتناہی کافی ہے تم جب تک چاہو یہاں رہ سکتی ہو اورمیں باقی اسٹیٹ کی ذمہ داری نبھاتارہوں گا جب تک تم مناسب وقت دیکھ کر یہاں سے جانے کافیصلہ نہ کرلو اور پھر نیویارک میں جاکر اپنی میڈیکل کی ٹریننگ پوری کرنے کافیصلہ کرو۔‘‘ انہوں نے ایک ٹشو پیپر اس کی طرف بڑھایاکیونکہ اس کی آنکھیں آنسوئوں سے لبریز تھیں۔
’’مجھے نیویارک جانے کی اتنی جلدی نہیں ہے۔‘‘ سمنتھا نے ان کے ہاتھ سے ٹشو لیتے ہوئے کہا۔
’’دراصل سچی بات یہ ہے کہ وہاں میرے لیے کچھ مسائل ہیںلیکن وہ لوگ چھ ماہ تک میرا انتظار کرسکتے ہیں۔‘‘
’’اگر کوئی ایسا معاملہ ہو کہ میں ہینڈل کرلوں گا مجھے بتائو۔‘‘ مسٹر ایڈی نے کہا۔
’’نہیں… ابھی میں نے خود کوئی فیصلہ نہیں کیا۔‘‘
’’میراخیال ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ تم اپنی نانی کی موت کو حادثہ نہیں سمجھتیں اور قاتل تک پہنچنا چاہتی ہو۔‘‘
’’شاید یہی بات ہے۔‘‘ سمنتھا نے اٹھتے ہوئے کہاوہ واپس گھر جانا چاہتی تھی۔
’’اگر کہو تو میں اپنی بیوی سے رات کے کھانے پرتمہارے لیے انتظام کرنے کاکہوں کچھ وقت اچھا گزرجائے گا۔‘‘ایڈی نے پیش کش کی۔
’’نہیں میں کچھ وقت تنہائی میں گزارنا چاہتی ہوں۔‘‘ سمنتھا نے جوا ب دیاپھر وہ اس کے دفتر سے نکل گئی تھی واپسی پر وہ اپنی نانی اور والدین کی قبروں پربھی گئی تھی اوراسے کچھ دیر کے لیے ایسامحسوس ہواتھاجیسے وہ اپنی ماں کی بانہوں میں آگئی ہو وہ دھیرے سے ماں کی قبر کے پاس بیٹھ گئی تھی۔
’’کہنے کومیرے پاس کچھ نیانہیں ہے میں کام کررہی ہوں لیکن ابھی تک مجھے کوئی سراغ نہیں ملا ہے اور میری طرح پولیس کے پا س بھی کچھ نہیں ہے ۔‘‘
کچھ دیر وہاں بیٹھنے کے بعد وہ واپسی کے لیے کھڑی ہوگئی ہوائیں تیز چلنے لگی تھیں اور آسمان پرکالے کالے بادل چھاگئے تھے۔ بارش کی آمد آمد تھی واپس مڑتے ہوئے اچانک اس کی نظریں دور ایک درخت کے نیچے کھڑے ہوئے شخص پرپڑیں اور وہ چونک گئی۔
’’ہوسکتا ہے کوئی میری طرح اپنے کسی عزیز کی قبر پرآیاہو۔‘‘ اس نے دل کوسمجھایاوہ تیزی سے اپنی کار میں آبیٹھی تھی اور وہاں سے روانہ ہوگئی تھی وہ طوفان کی آمد سے پہلے گھر پہنچنا چاہتی تھی۔
{…٭…}
گھرپہنچنے کے بعد سمنتھا نے جیسے ہی دروازہ کھولا تھا ایک لفافہ اسے فرش پرپڑاملا تھاجس پرموجود تحریر کو وہ پہچانتی تھی وہ جو کی تحریر تھی وہ وہاں آیا تھا اور سمنتھا اس سے ملنے سے محروم رہی تھی اس نے افسردگی کے ساتھ وہ لفافہ اٹھایااور ڈرائنگ روم میں جابیٹھی۔ اسے بچپن میں جو کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات یاد آنے لگے وہ دونوں ہروقت ساتھ رہتے تھے‘ جوسے اس کی بہت سی اچھی یادیں وابستہ تھیں وہ اسے پسند کرتی تھی لیکن تعلیمی سلسلے کی وجہ سے دور چلی گئی تھی اور کافی عرصے سے جوسے ملاقت نہیں ہوسکی تھی اس نے لفافہ کھولا اور اس میں موجود کاغذات کومیز پرڈال دیا جونے اس کی نانی کے کیس کے کاغذات کی فوٹواسٹیٹ اسے فراہم کردی تھی وہ ایک ایک پیپر کابغور جائزہ لینے لگی اسے دوتصویریں پریشان کررہی تھیں جو اس کی نانی کے حادثے کی جگہ کی تھیں اور دونوں تصویروں میں ایک شخص موجود تھا جسے وہ پہچاننے کی کوشش کررہی تھی لیکن ناکام رہی تھی تھک کروہ بیڈ پر لیٹ گئی اور ایک کتاب کی ورق گردانی کرنے لگی اسے نیند نہیں آرہی تھی اور طوفان تیز ہوگیا تھااس نے تھک کر کتاب رکھ دی پھر کچھ ہی دیر گزری تھی ایک خیال اس کے ذہن میں کوندا تھا وہ چھلانگ لگا کر بیڈ سے اتری تھی اور ڈرائنگ روم میں جاکر پھر وہی دو تصویریں اٹھالی تھیں اس بار وہ میگنی فائن گلاس کی مدد سے انہیں دیکھ رہی تھی اور پھر اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی سی پھیل گئی تھی جب اس نے ایک تصویر میں اسے جائے حادثہ کے پاس آگ لگے ٹرک کے پیچھے سے جھانکتے دیکھاتھااس نے اس وقت بھی سن گلاسس لگائے ہوئے تھے اور دوسری تصویر میں وہ ٹوٹی ہوئی کار کے پاس موجود تھا۔
’’ہیلومسٹر پراسرار۔‘‘ سمنتھا نے سرگوشی میں کہا یہ وہی تھا جسے وہ دوبار قبرستان میں دیکھ چکی تھی اوراس کی شناخت کے بارے میں جاننا چاہتی تھی۔
{…٭…}
’’جو تم سمجھتے کیوں نہیں‘ میں جو کہہ رہی ہوں وہ بالکل ٹھیک ہے میں پاگل نہیں ہوں۔‘‘ سمنتھا زور زور سے بول رہی تھی وہ تصویر میں اس پراسرار شخض کو دیکھ کر جو کے د فتر پہنچ گئی تھی۔
’’میری بات سنو سمنتھا۔‘‘جو اسے سمجھانے کی کوشش کررہاتھا۔’’شور مت کرو اگر چیف کو پتہ لگ گیا کہ میںنے تمہیں یہ تصویریں فراہم کی تھیں یارپورٹ کی کاپی دی تھی تو میری نوکری بھی جاسکتی ہے میرے لیے مشکلات پیدا مت کرو میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ میں نے ایسا کیوں کیا؟‘‘
’’میں نہیں جانتی کہ میں تم سے یہ امید کیوں رکھتی ہوں کہ تم اس سلسلے میں میری مدد کروگے؟‘‘ اس نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔
’’تمہیں رپورٹ میں درج کرنا چاہیے کہ یہی آدمی ٹھیک ایک ہفتے بعد نانی کی تدفین کے موقع پرموجود تھا۔‘‘
’’لیکن تم یقین سے کیسے کہہ سکتی ہو کہ یہ وہی آدمی ہے ؟‘‘
’’دیکھو اس کے سیاہ بالوں میں صرف ایک لٹ برائون ہے اور اس کاجبڑا چوکور ہے اس کی ناک دیکھو یوں لگتا ہے جیسے کبھی اس کی ناک کی ہڈی ٹوٹی تھی اور ہر وقت یہ دھوپ کاچشمہ کیوں لگاتا ہے چاہے دن ہو یارات نانی کی تدفین پر بھی جب آسمان پر بادل چھائے تھے یہ دھوپ کاچشمہ لگائے ہوئے تھااور حادثے کے وقت بھی جب اندھیرا چھارہاتھا اس نے دھوپ کاچشمہ لگایاہوا ہے تصویروں میں دیکھو۔‘‘ سمنتھا نے تصویروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’کیاتم اسے پہچان سکی ہو کون ہوسکتا ہے ؟‘‘
’’اگر میں پہچانتی تو تمہارے پاس نہ آتی۔‘‘
’’میں جانتاہوں اتنابڑاصدمہ تم برداشت نہیں کرسکی ہو۔‘‘
’’تم میری بات نہیں سمجھوگے۔‘‘ سمنتھا نے غصے سے کہا اور جو کی میز پر سے تمام کاغذ اور تصویریں جمع کرکے اپنے پرس میں رکھیں اور آفس سے نکل گئی تھی واپسی پراس نے مسٹر ایڈی سے ملنے کا فیصلہ کیااور پراسرار شخص کے بارے میں بھی وہ انہیں بتانا چاہتی تھی چنانچہ وہ ان کے دفتر پہنچ گئی لیکن دفتر میں داخل ہونے سے پہلے اس نے اپنے عقب میں ایک بارپھر اس شخص کی جھلک دیکھی تھی او روہ تیزی سے دفتر میں داخَل ہوگئی تھی۔ پھرجب اس نے مسٹر ایڈی کو اس کے بارے میں بتایا تھاتوانہوں نے اسے مشورہ دیاتھا کہ وہ اپنی سیکورٹی کے لیے کسی فرم کی خدمات لے لے اور اگر وہ چاہے تو مسٹر ایڈی بھی اس کے لیے سیکورٹی کابندوبست کردیں گے انہوں نے ایک بارپھراسے گھرفروخت کرنے کامشورہ دیا تھا لیکن وہ انکار کرنے کے بعد ان کے دفتر سے بھی نکل گئی تھی اسے اس موقع پر شدت سے اپنے والدین کی یاد آرہی تھی چنانچہ گھرجانے سے پہلے وہ قبرستان گئی تھی اور اپنی ماں کی قبر کے پاس بیٹھ کر ان سے باتیں کرتی رہی تھی پھراس کی آنکھ لگ گئی تھی۔
جب اس کی آنکھ کھلی تو کافی دیر ہوچکی تھی وہ واپس کار میں آبیٹھی کارمیں بیٹھتے ہوئے اس نے بے دھیانی میں اپنی جیکٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا تو اس میں ایک پرچے کومحسوس کیااسے یاد نہیں تھا کہ اس نے کوئی پرچہ جیب میں رکھاتھااس نے نکال کر دیکھا وہ ایک چھوٹا ساپرچہ تھااور اس پرلکھاتھا’’چابی تلاش کرو‘‘ وہ حیران تھی کہ یہ پرچہ اس کی جیب میںکہاں سے آیا پھر نہ جانے کیوں اسے احساس ہونے لگا تھا کہ وہ وہاں پرتنہا نہیں تھی اس کے آس پاس کہیں وہ پراسرار شخص بھی موجود تھا اس نے تیزی سے کار آگے بڑھادی تھی۔
اس واقعے کے بعد سمنتھا نے نانی کے گھر میں مختلف جگہوں پر چابی کی تلاش شروع کردی تھی اور پھر ایک دن ان کے جیولری بکس میں ایک چابی مل ہی گئی تھی جس پرایک نمبر لکھاتھا 2386 وہ جانتی تھی کہ اس کی نانی کااکائونٹ ایک مقامی بینک میں تھااور وہیں ان کالاکر بھی تھا اس نے اس اکائونٹ اور لاکر کوچیک کرنے کاپروگرام بنایا۔ اس مقصد کے لیے وہ مسٹر ایڈی سے ملی جنہوں نے اسے ایک تصدیق نامہ بنا کردیا جس کی رو سے وہ اپنی نانی کے لاکرز چیک کرسکتی تھی۔ بینک میں اسے کوئی مشکل پیش نہیں آئی ان کے لاکرز میں کچھ جیولری تھی اس کے علاوہ ایک فائل بھی تھی جو اس نے اپنے پرس میں ڈال لی تھی اور پھر جیولری واپس رکھ کر لاکربند کردیاتھا۔
گھر پہنچنے کے بعد اس نے اپنے پرس سے فائل نکالی تھی اور اس میں لگے کاغذات کاجائزہ لیاتھا‘ اس پرحیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ گئے تھے اس فائل میں مختلف کاغذات کے ساتھ ایک ایسا کاغذ بھی تھا جس نے اس کے دل کی دنیا ویران کردی تھی وہ ایک بلڈ رپورٹ تھی جس میں بلڈ ٹسٹ کی تفصیل لکھی تھی اس پر26مئی کی تاریخ پڑی تھی جو اس کی پیدائش سے دس دن بعد کی تھی جس میں ایک لائن لکھی تھی کہ اس کے اوراس کے والد کے خون ٹیسٹ کی رپورٹ سے ثابت ہوتاہے کہ وہ ان کی بیٹی نہیں۔
{…٭…}
امریکہ کے چیف آف آرمی اسٹاف فورڈیل ہاتھ میں ایک فائل لیے بیضوی کمرے میں داخل ہوئے جو امریکی صدر کادفتر تھااور ہاتھ میںپکڑی ہوئی فائل امریکی صدر وارنر کے سامنے رکھ دی۔
’’کیابات ہے؟‘‘ وارنر نے پوچھا۔
’’آج دوپہر وائس پریذیڈنٹ ڈرکن کے آفس میں میٹنگ ہے۔‘‘
’’اس کے علاوہ ؟‘‘
’’ہمیں ننانوے فیصد یقین ہے کہ سیکورٹی فورسسزپھرکام کررہی ہیں یہ بات کانگریس ممبر رائن نے بتائی ہے۔‘‘ فورڈیل نے کہا اوروارنر کے چہرے پرغصے کے آثار نظر آنے لگے۔
’’اب وہ کس کی تلاش میں ہیں؟ انہیں کہاں دیکھاگیاہے؟‘‘
’’پچھلے چند مہینوں میں نیویارک اور کنساس میں دیکھاگیا ہے۔‘‘وارنر نے فورڈیل کے جواب پر کچھ دیر آنکھیں بند کیں وہ کچھ سوچ رہاتھااسے سیاسی زندگی میں اپنے کیریئر کی بہت پروا تھی وہ اپنی کوتاہیوں کوعام لوگوں سے چھپا کررکھنا چاہتاتھا تاکہ اس کی سیاسی زندگی متاثر نہ ہو۔
’’یقینا وہ اس لڑکی تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہوں گے۔‘‘ وارنر نے کہااور چیف آف اسٹاف نے فائل کے چند ورق الٹ کروارنر کے سامنے رکھ دیے اس میں ایک تصویر لگی تھی جسے وارنر نے بغور دیکھا ۔
’’اس معاملے کوتم ہی سنبھالو فورڈیل۔‘
’’یس مسٹرپریذیڈنٹ‘‘ فورڈیل نے کہااور فائل لے کر کمرے سے نکل گیا پھروہ سکرٹیریل روم میں گیاتھا او روہاں موجود کلرک کومخاطب کیاتھا۔ ’’مجھے اؔیک محفوظ لائن کے ذریعے FBI سے بات کروائو۔‘‘
{…٭…}
دوسرے روز جب سمنتھا بارلیٹ اپنے والدین کی قبر پر گئی اوراس نے اپنی ماں کی قبر پر پھول رکھے تو برابر والی قبر کاکتبہ دیکھ کراس کی آنکھیں آبدیدہ ہوگئیں۔
’’جان ولیم بارلیٹ۔‘‘ اب وہ تذبذب میں تھی کہ وہ ڈیڈی کالفظ ادا کرے یانہیں۔ وہ سوچ رہی تھی کہ کیا وہ یہ بات جانتے تھے اس خیال کے آتے ہی اسے لگاجیسے کوئی کانچ کاٹکڑا اس کے دل میں چبھ گیاہواسے اپنی ماں کی بات یاد آنے لگی وہ اکثر کہا کرتی تھیں کہ باپ تو کوئی بھی ہوسکتا ہے لیکن اصل اور اسپیشل باپ ہونے کے لیے کچھ خاص کوالٹی ہونا ضروری ہوتی ہے اس نے کبھی ان الفاظ کی گہرائی پرغور نہیں کیاتھا لیکن اب جب اس پرایک حقیقت کھل چکی تھی تو اسے ان الفاظ کے مطلب کااندازہ ہواتھا۔
’’آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتیں ماما۔‘‘ اس نے سسکتے ہوئے کہا۔ ’’آپ نے اپنے شوہر سے بے وفائی کی؟ اور مسٹر ایڈی بھی یہ سچائی جانتے ہیں؟‘‘ اس کادماغ پھٹاجارہاتھاوہ سوچ رہی تھی کہ کیااس کی والدہ کا کسی کے ساتھ کوئی فلرٹ تھایاوہ کسی اور سے محبت کرتی تھیں کیا یہی وجہ تھی کہ اسے کنساس سے دور کردیاگیاتھایااس کی ماں اپنے شوہر سے کوئی سچائی چھپارہی تھی۔
’’ماما آپ نے مجھے اس بارے میں کیوں نہیں بتایا؟‘‘ اس نے شکوہ کیا ’’مجھے اس بات سے بہت دکھ ہواہے کہ میرے بارے میں اتنی بڑی حقیقت کے بارے میں سب جانتے تھے لیکن میں نہیں جانتی تھی؟‘‘ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اچانک اس کی نظر اپنی والدہ کے کتبے پرپڑی اس کے نیچے زمین سے ایک دھات کاٹکڑا جھانک رہاتھا اس نے اسے کریدا تو لگا کہ کوئی دھات کی چیز ہے اس نے مزید مٹی ہٹائی تووہاں سے ایک چھوٹا سابکس نکلا جسے اس نے تیزی سے اپنے پرس میں ڈال لیاتھا‘ وہ نہیں جانتی تھی کہ اس میں کیا ہے لیکن وہ حیران تھی کہ اسے وہاں کس نے اور کیوں چھپایا ہے وہ تیزی سے اٹھی اور اپنی کار میں بیٹھ کر وہاں سے روانہ ہوگئی۔
وہ گھر میں پچھلے دروازے سے داخل ہوئی تھی گھراندھیرے میں ڈوباہواتھااورگھر میں اسے دیواروں کے ساتھ ساتھ سائے حرکت کرتے محسوس ہو رہے تھے سمنتھا نے سب کھڑکیوں کے پردے ڈال دیئے وہ خود کو پرسکون رکھنے کی کوشش کررہی تھی اس کے کان ہر آواز کوسننے کی کوشش کررہے تھے‘ گھر کے چاروں طرف خاموشی تھی وہ گھر کی لائٹیں جلانے سے بھی گریز کررہی تھی نہ جانے کیوں اسے خوف سا محسوس ہو رہاتھااوریوں لگ رہاتھا کہ جیسے اس کا تعاقب کرنے والا سایہ کہیںقریب ہی موجود ہو۔
اس نے پرس سے دھات کاچھوٹا سا بکس نکال کر میز پررکھا وہ حیران تھی کہ ایسی کیااہم چیز ہے جو کسی نے اس بکس میں اس کی ماں کے کتبے کے نیچے چھپائی ہے اس کی آنکھوں کے سامنے آگ کاوہ منظر آگیاجوبچپن میں اس نے دیکھاتھااوراس کے والدین اس حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے وہ جب سے یہاں آئی تھی عجیب وغریب حادثات کاشکار ہو رہی تھی اس کاجی چاہا کہ کاش نیویارک میں گزاری ہوئی زندگی کے دن واپس آجائیں لیکن ایسا ممکن نہیں تھا۔
اس نے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ بکس کاڈھکن کھولااس کے اندر کچھ کاغذات موجود تھے جوطویل عرصہ گزرنے کے بعد زردی مائل ہوگئے تھے سمنتھا نے احتیاط سے انہیں باہر نکالااس میں پیدائشی سرٹیفکیٹ ‘شادی کی دستاویز‘ ڈرائیونگ لائسنس اور پاسپورٹ تھے ان پر اس کے والدین کی تصاویر تھیں لیکن نام کسی اور کے تھے اچانک اس کے دل میں خیال آیا کہ اس کے والدین نے ایسا کیوں کیا‘ کیاوہ خود کو کسی سے چھپارہے تھے یاان کاتعلق کسی مافیا گروپ سے تھا؟ یاشاید CIA سے ہو؟ سمنتھااس بات پراپنے والدین سے کتنا ہی ناراض ہوتی لیکن وہ انہیں چور یادھوکے باز سمجھنے کے لیے تیار نہیں تھی آخر میں اس بکس میں ایک لفافہ رہ گیاتھا اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ اسے بھی کھولا اوراس میں موجود کاغذ نکال کرپڑھنے لگی جوں جوں وہ پڑھتی جارہی تھی اسے اپنے کانوں میں اپنی ماں کی آواز گونجتی محسوس ہورہی تھی۔
’’ میری پیاری سمنتھا!‘‘
اگر تم یہ خط پڑھ رہی ہو تومیری خواہش پوری ہوگئی ہے اگرہم باحفاظت واپس نہ آسکیں تو سیکورٹی کے لوگ تمہیں ایک دستاویز بھیجیں گے جس سے تمہیں پتہ چلے گا کہ ہم بے گناہ ہیں اورہم اپنے وطن کے لیے ایک بڑی قربانی دے رہے ہیں لیکن اس کے بدلے میں ہمیں صرف اور صرف مشکلات اور پریشانیاں ملی ہیں‘ ہم نے کبھی یہ ذمہ داری اٹھانے سے انکار نہیں کیا ہم تم سے محبت کرتے ہیں تم بھی ہم سے بدگمان مت ہونا تم نے ہماری زندگی کوخوشیوں سے بھردیاتھا میری خواہش ہے کہ ہماری قربانیاں رائیگاں نہ جائیں اب وقت آگیاہے کہ تمہیں حقیقت بتادی جائے۔
تمہارے والد اور میں اس قابل نہیں تھے کہ ہمارے ہاں اولاد ہو‘ ہم اس نعمت سے محروم تھے شادی کو کافی عرصہ گزرنے کے بعد بھی ہمیں اولاد نہیں ہوئی تھی تب میری ملاقات ایک شخص سے ہوئی جواس وقت کسی بڑے عہدے پرفائز نہیں تھا لیکن گورنر کے لیے انتخاب لڑرہاتھا‘ میں نے اس کی انتخابی مہم میں حصہ لیا اور ایک موقع پر اس نے تنہائی سے فائدہ اٹھالیا میں بہت روئی‘ بہت شور مچایا لیکن کچھ نہ ہوا‘ تمہارے والد اسے قتل کردینا چاہتے تھے‘ کوئی حکومتی ادارہ ہماری بات سننے کوتیار نہیں تھا او رپھرمجھے پتہ چلا کہ تم دنیا میں آنے والی ہو‘ ہماری زندگیوں میں روشنی کی کرن داخل ہوگئی لیکن میرے ٹیسٹ سے پتہ چلا کہ تم ہماری اولاد نہیں ہو۔
سمنتھا اس شخص سے ہمیشہ دور رہنا اوراس سے کبھی ملنے کی کوشش مت کرنا میں سوچنا بھی نہیں چاہتی وہ تمہیں کتنا نقصان پہنچا سکتا ہے لیکن تمہیں حقیقت بتانا ضروری تھا تمہارے والد جان بار لیٹ ہمیشہ تمہارے والد رہیں گے لیکن درحقیقت تم گورنر ڈرکن نارمن کی بیٹی ہو۔‘‘ سمنتھا کاچہرہ یہ تحریر پڑھ کر سفید ہوگیا اس کے جسم سے سارا خون نچوڑلیاگیا ہووہ اس سے زیادہ نہیں پڑھ سکتی تھی اسے لگا وہ بے ہوش ہو کرگرپڑے گی اب ڈرکن نارمن امریکا کاوائس پریذیڈنٹ تھا۔ اسے یوں لگا جیسے یہ سب ڈرائونا خواب ہو اس نے اپنے آپ کو پرسکون رکھنے کے لیے کئی گہرے گہرے سانس لیے اس کی آنکھیں دھات کے بکس اور کاغذات کوگھوررہی تھیں اچانک اس کے ذہن میں خیال آیا کہ اس شخص نے بھی اسے وہ بکس اپنی ماں کی قبر کے کتبے کے نیچے سے نکالتے دیکھاہوگا جو کسی بدروح کی طرح اس کے تعاقب میں رہتاتھاممکن ہے وہ تعاقب کرتاہوا اس کے پیچھے گھر تک بھی آیا ہو اور گھر کے آس پاس موجود ہو… وہ لوگ اسے مارڈالیں گے اسی طرح جس طرح انہوں نے اس کے والدین کوہمیشہ کے لیے خاموش کردیاتھا۔
سمنتھا تیزی سے لیونگ روم میں آگئی تھی اوراس نے فرش پربچھاہوا قالین ایک کونے سے پکڑ کراٹھایا تھا وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ پراسرار سایہ اسے گھر سے نکلتے ہوئے دیکھے وہ یقینا گھر کے باہر اس کے نکلنے کامنتظر ہوگا اوراس کے نکلتے ہی اسے گولی مار دے گا لیکن وہ اسے بے وقوف بناسکتی تھی فرش سے قالین ہٹانے سے وہاں ایک سوراخ نمودار ہواتھاجس سے سمنتھا اکثر نیچے تہہ خانے میں چلی جاتی تھی یہ تہہ خانہ طوفانوں میں چھپنے کے لیے بنایا گیا تھا یہ تہہ خانہ آخر میں جاکر گھر کے سامنے پورچ میں کھلتاتھا جہاں سیڑھیوں کے نیچے ایک تاریک پوشیدہ کونہ تھا جوعام آنکھوں سے پوشیدہ تھااچانک اس کے کانوں میں ایک دھماکے کی آواز سنائی دی تھی اور شدید گرمی کااحساس ہواتھا پھروہ تاریکی میں ڈوبتی چلی گئی تھی۔
{…٭…}
جو حیران پریشان ایک کھنڈر پرکھڑاتھا جہاں کبھی سمنتھا کا گھرتھا جگہ جگہ آگ لگی ہوئی تھی اور کئی فائر ا نجن آگ بجھانے کی کوشش کررہے تھے اطراف کے گھروں کوبھی نقصان پہنچاتھا اور جوبالکل نزدیک گھرسے وہ بھی آگ کی لپیٹ بھی آئے تھے ‘سڑک کے پار جو گھر بنے تھے ان کے رہائشیوں نے اپنی کھڑکیاں اور دروازے بند کرلیے دھماکا کرنے والوں کے بارے میں کوئی کچھ نہیں جانتاتھا۔
جو‘تحقیقات کے لیے ضروری پوائنٹ لکھ رہاتھا لیکن اس کے دماغ میں مسلسل سیم کاخیال تھا اس کاکوئی نشان نہیں مل رہاتھا لیکن اس کی کار باقیات برابر والے گھر کے ڈائننگ روم کی دیوار میں گھس گئی تھیں وہاں بھی سمنتھا کا کوئی نشان نہیں تھا وہ سوچ رہاتھا کہ اگر سمنتھا وہاں نہیں تھی تووہ شاید چہل قدمی کرنے باہر گئی ہو لیکن دھماکا ہونے کے بعد اسے اب تک واپس آجاناچاہیے تھااس کے کوئی ایسے دوست بھی نہیں تھے جن کی ساتھ وہ وقت گزارنے کہیں دور گئی ہو‘ سوائے مسٹر ایڈی کے لیکن ایڈی اوراس کے گھروالے بھی سمنتھا سے کئی دنوں سے نہیں ملے تھے اگروہ واپس نیویارک گئی ہوتی تب بھی ایڈی اس کے بارے میں ضرور جانتا لیکن اسے بھی کوئی علم نہیں تھا۔
اچانک جو کے ذہن میں اس سوراخ کاخیال آیا جولونگ روم کے فرش کے قالین کے نیچے تھااور جہاں اس کے جانے پرہمیشہ پابندی تھی اس نے سوچا ممکن ہے سمنتھا درست کہہ رہی کو کہ اسے اورا س کی فیملی کو کسی سے خطرہ ہے اس نے اس پراسرار شخص کابھی ذکر کیاتھا جودھوپ کاچشمہ لگائے رکھتاتھا اورا س کے تعاقب میں تھا کہیں کسی نے جان بوجھ کر اس کے گھر کونشانہ تو نہیں بنایا؟ کہیں یہ دھماکا اس لیے تو نہیں کیا گیا کہ جونے جو تصویریں اور ثبوت سمنتھا کودیئے تھے انہیں ضائع کردیاجائے اس خیال کے آتے ہی اس نے ایک فلیش لائٹ اٹھائی اور آگے بڑھ گیااسے امید کم ہی تھی کہ اتنے شدید دھماکے کے بعد اگر سمنتھا گھرمیں تھی تو زندہ بچی ہوگی اسے پچھلی یادیں بھی ستارہی تھیں جب ایک بار اس پرانے تہہ خانے میں وہ سمنتھا کے ساتھ اکیلاتھا اوراس نے سمنتھا کو پیار کیاتھا۔
جونے فلیش لائٹ کی روشنی میں آہستہ آہستہ سیڑھیاں اترنا شروع کیں اس کے ساتھ اس کی مدد کرنے کے لیے دوپولیس آفیسر بھی موجود تھے ۔ تہہ خانے کی دیواریں بہت خستہ حالت میں تھیں بہت حد تک جھڑ بھی گئی تھیں۔
’’سیم… سیم!‘‘ جو تھوڑی تھوڑی دیر بعد سمنتھا کو پکار رہاتھا لیکن جواب میں خاموشی تھی وہ سوچ رہاتھا کہ اگر سمنتھا وہاں ہوئی بھی تب بھی اس کی حالت نہ جانے کیا ہوگی۔
’’سیم!؛‘‘ اس نے پھر پکارا ۔’’مجھے جواب دوسیم۔‘‘ اس کی بے چینی بڑھتی جارہی تھی لیکن وہاں مکمل خاموشی تھی کچھ دیر وہاں رکنے کے بعد وہ واپس پلٹ آیا تھا سیڑھیوں کے دہانے پر ایک اور پولیس آفیسر فلیش لائٹ لیے کھڑاتھا۔
’’کچھ ملا؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’نہیں‘ یہاں کوئی نہیں ہے۔‘‘ جو نے اداسی سے کہا۔
{…٭…}
روشنی سے اس کی آنکھیں چندھیا گئی تھیں‘ کمرہ چکراتا محسوس ہو رہاتھا اسے محسوس ہوا اس کے منہ اورناک پر آکسیجن ماسک لگاہوا ہے ایک چہرہ اس پرجھکاہواتھاجس کے سرپر بال سیاہ تھے اور نیلی آنکھیں اس پرمرکوز تھیں سمنتھا کو لگاجیسے اس میں کوئی چیز سمنتھا کے لیے جانی پہچانی ہے۔
’’میںکہاں ہوں؟‘‘ سمنتھا نے بولنے کی کوشش کی لیکن الفاظ ماسک کی وجہ سے مبہم تھے وہ شخص شاید سمنتھا کی بات سمجھ گیاتھا۔
’’تم نے زندہ رہنے کافیصلہ کرلیاہے شاید خدا کاشکر ہے تمہیں ہو ش آگیا۔‘‘ اس نے کہااور پھراپنے ہاتھ میں موجود فائل میں کچھ نوٹ کرنے لگا پھراس نے بیڈ کے قریب رکھے ہوئے مانیٹر کوبغور دیکھاتھا اس نے سمنتھا کے ماتھے پرہاتھ رکھاتواس کاسفید کوٹ ہوا میں لہرایا جس کے ساتھ ہی سمنتھا کے ذہن میں تتلیوں کاخیال آیا اوروہ جیسے اپنے بچپن کی یادوں میں پہنچ گئی اس کو لگا جیسے وہ اپنی ماں کے ساتھ ایک سبزہ زار میں موجود ہے اس کے اطراف میں تتلیاں اڑرہی ہیں اور وہ دوڑ دوڑ کر انہیں پکڑنے کی کوشش کررہی ہے اس کی والدہ بھی اس کام میں اس کی مدد کرتی ہیں لیکن تتلیاں ان کے ہاتھ نہیں آتیں پھر ان کے خوبصورت نکھرے ہوئے رنگ پھیکے پڑنے لگتے ہیں اور وہ سرمئی ہو کر سیاہ ہوجاتی ہیں پھریہ سیاہی ایک اندھیرے سوراخ میں تبدیل ہوجاتی ہے اور سمنتھااس بلیک ہول میں گرتی چلی جاتی ہے ۔
’’سمنتھا!‘‘ اچانک وہ اپنا نام سن کرپھر جاگ جاتی ہے۔وہ اب بھی گہری نیلی آنکھوں سے اسے دیکھ رہاہوتاہے۔
’’کیاتم ڈاکٹر ہو؟‘‘ وہ پوچھتی ہے۔
’’تم مجھے ڈاکٹر مرکس کہہ سکتی ہو۔‘‘اس نے کہا اور سمنتھا کو لگاجیسے وہ نیویارک کے کسی اسپتال میں ہو لیکن وہ جانتی تھی کہ وہ تو کنساس میں تھی۔
’’میں کہاں ہوں؟کیاہوا ہے ؟‘‘ اس نے پوچھا اسے لگا جیسے اس کی زبان لڑکھڑارہی ہواور الفاظ کی ادائیگی میں اس کاساتھ نہ دے رہی ہو اس کے ساتھ ہی اسے اپنی نانی کی موت کامنظر یاد آگیا‘ موت کے منظر کے ساتھ ہی بالترتیب قبرستان ‘بکس اور پھر دھماکے کاخیال آتے ہی وہ تیزی سے بیڈ سے اٹھنے کی کوشش کرنے لگی اس نے اپنے اوپر پڑی ہوئی چادر ہٹا ئی اور اٹھتے اٹھتے ایک بار پھر گرتے گرتے اسے اپنے بازو میں درد کی شدید لہر بھی محسوس ہوئی تھی۔
’’تم ونچیٹا کے قریب واقع ایک اسپتال میں ہو۔‘‘ ڈاکٹر مرکس نے کہااس کے ساتھ ہی اس نے سمنتھا کی کلائی پکڑ کر نبض چیک کی تھی۔
’’کسی نے تہہ خانے کی تعمیر کے وقت اپنا کام ٹھیک طرح نہیں کیاتھا وہاں ایک جھری موجود تھی جس سے دھواں تہ خانے میں چلاگیاتھا اور ہمیں تم تک پہنچنے میں دیر لگ گئی تھی۔‘‘وہ بول رہاتھااور سمنتھا خالی خالی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی وہ کچھ جاگی او ر کچھ سوئی ہوئی حالت میں تھی۔
’’تہہ خانہ ؟‘‘ اس نے سوچا۔
’’تمہیں تہہ خانے کے بارے میں کیسے پتہ ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’دراصل اسے ہم نے ہی تعمیر کیاتھا۔‘‘ ڈاکٹر نے جواب دیااور سمنتھا مزید حیرت سے دوچار ہوئی۔
{…٭…}
جب جو اپنی تحقیقات کے دوران کاسٹرکنٹریکشن ایڈمنسٹر ٹیو کے آفس پہنچا تو وہاں خاصی گہما گہمی تھی اور میڈیا کاسرکس شروع ہوچکاتھا مختلف ذرائع ابلاغ کی ایجنسیاں وہاں ویڈیو بنارہی تھیں ان کے نمائندے نوٹس جمع کررہے تھے کیونکہ کچھ ہی دیر پہلے اس کمپنی کے CEO کوقتل کردیاگیاتھا اسے دن کی روشنی میں اس کے آفس میں گولی مار دی گئی تھی اس کے چیف سنونے اسے ہدایت کی تھی کہ وہ اپنی گاڑی بلڈنگ کی سائڈ میں میں پارک کرے۔
’’تم اوپر جائو میں میڈیا والوں سے نمٹ کرآتاہوں۔‘‘ اس کے چیف نے کہا۔
’’اوکے چیف۔‘‘ جونے جوا ب دیااور بلڈنگ کی طرف بڑھ گیاوہ جب سے اس محکمے میں آیا تھا موت اس کے تعاقب میں تھی وہ بہت مواقع پرموت کودھوکا دے چکاتھا لیکن اسے کبھی بھی خوف محسوس نہیں ہواتھاوہ اکثر سوچاکرتاتھا کہ اس کام میں دو ہی چیزیں ہیں زندگی یاموت چنانچہ اسے ڈرنا نہیں چاہیے لیکن سمنتھا کی موت نے اسے توڑ کررکھ دیاتھا اس کی موت کوایک ہفتہ گزرچکاتھا لیکن وہ صدمے سے نہیں نکل سکاتھا اسے سمنتھا کی موت کاجتنا صدمہ تھا اتنا اپنی والدہ کی موت کابھی نہیں ہواتھا جو چھ سال پہلے اللہ کوپیاری ہوئی تھیں کیونکہ انہیں کینسر تھااورانہوں نے اس کی تکلیف میں ایک لمبا عرصہ گزاراتھا ان کی موت کاسب کو علم تھا کہ بالاخر ان کاانجام وہی ہونا تھا اس کے لیے ذہن پہلے سے تیارتھااسے اپنی ماں کے ساتھ بہت وقت گزارنے کاموقع ملاتھا اس نے اپنے دل کی تمام باتیں ان سے کرلی تھیں انہیں الوداع کہہ دیاتھا لیکن سمنتھا کا معاملہ مختلف تھا وہ اس سے شدید محبت کرنے کے باوجود بچپن سے اب تک دل کی بات نہیں کہہ سکاتھااور سمنتھا کی نانی کی موت کے بعد جب وہ کنساس واپس آئی تھی تب اس کاارادہ تھا کہ وہ اس سے اظہار محبت کردے لیکن وہ مناسب وقت کی تلاش میں تھا لیکن وقت کی یہ تلاش اور اس کاانتظار سمنتھا کو اس سے دور کرگئے تھے۔
البرٹ کاسٹر(CEO) کے آفس میں پہنچ کراس نے لاش کامعائنہ کیاتھاوہ ابھی تک کرسی پرتھی اس کی پشت پرموجود کھڑکی کے شیشے میں گولی کاسوراخ تھا گویا کسی نے پشت پر سے فائر کیاتھا‘ لاش اوراطراف کاجائزہ لینے کے بعد جو نے کچھ نوٹس جمع کیے تھے اور موقع کی تصاویر بنوائی تھیں پھر باڈی اٹھانے والوں کواشارہ کردیاتھاور انہوں نے باڈی کو ایک بڑے بیگ میں رکھ کر وہاں سے ہٹالیاتھا کاسٹر کی ٹیبل پرموجود چیزیں اپنی جگہ پر تھیں انہیں کسی نے ہاتھ بھی نہیں لگایاتھا۔
واپسی پرجو نے ہال سے گزرتے ہوئے کاسٹر کے بیٹے کودیکھا جومیڈیا والوں کے کچھ سوالات کے جواب دے رہاتھا لیکن اس کی آنکھیں جوپر لگی ہوئی تھیں وہ کاسٹرکابڑابیٹاتھا۔
’’ہیلو مینی کاسٹرمیں سراغرساں جوہوں۔‘‘ اس نے مصافحے کے لیے اپناہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔
’’سراغرساں؟‘‘ جواب میں کاسٹر نے کہا لیکن اس نے مصافحے کے لیے اپنا ہاتھ نہیں اٹھایاتھا۔
’’جب تمہارے والد کوقاتل مارنے آئے تو کیاتم یہاں تھے؟‘‘ جو نے پوچھا۔
’’نہیں اتفاق سے میں یہاں نہیں تھا۔‘‘
’’تمہارے والد کی سیکرٹری کاکہناہے کہ تم کچھ دیر پہلے ہی ان سے مل کر گئے تھے اوران سے کسی بات پرشدید غصے کااظہار بھی کیاتھا؟‘‘ جونے اپنے ہاتھ میں پکڑی نوٹ بک کودیکھتے ہوئے کہا۔
’’ہاں‘میں ایک پروجیکٹ کے سلسلے میں ان سے بات کررہاتھادراصل میں اس پروجیکٹ کی ایک اور بلو پرنٹ ان سے مانگ رہاتھا تاکہ اس کوچیک کرسکوں۔‘‘
’’دوسرابلوپرنٹ کہاں ہے ؟‘‘
’’مجھے نہیں معلوم ؟ میں نے اپنے والد کے کمرے سے آنے والے فائروں کی آواز سنی تھی۔‘‘
’’اور تم نے قاتلوں کو ان کے کمرے سے نکلتے نہیں دیکھا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
جو کو اس کے جواب پرحیرت تھی وہ جان گیاتھا کہ مینی کاسٹر کچھ چھپارہا ہے وہ اس بارے میں کچھ نہ کچھ انفارمیشن رکھتاہے لیکن بتانے سے گریزاں ہے۔
{…٭…}
سمنتھا کو جب دوبارہ ہوش آیا تھاتو اس کی حالت خاصی بہتر ہوگئی تھی اب وہ لوگوں کو پہچاننے کے قابل تھی۔
’’تم اب کیسامحسوس کررہی ہو؟‘‘
’’بہت بہتر۔‘‘ سمنتھا نے کہاڈاکٹر مرکس اس کی آنکھوں میں جھانک رہاتھا اوراس کے ہونٹوں پرمسکراہٹ تھی۔
’’میراخیال ہے یہ بہتری کی طرف آرہی ہے۔‘‘ڈاکٹر نے جھک کر ایک شخص سے کہاجوسمنتھا کے سرہانے کی طرف کھڑاتھا اوراس کاچہرہ نظر نہیں آرہاتھا۔
’’کوئی مجھے بتائے گا کہ کیاہو رہاہے … مجھے یہاں کون لایا؟‘پلیز میری مدد کرو۔‘‘ سمنتھا نے کہاتب اس کے سرہانے کھڑا شخص اس کے سامنے آکھڑاہوا۔
’’تم مجھے ڈبرل کہہ سکتی ہو۔‘‘ اس نے کہااور بیڈ کے قریب رکھی کرسی پربیٹھ گیا۔
’’میں ایک لمبے سفر سے واپس آیا ہوں اور تمہیں زندگی میں ایک بار ملنے والا خوبصورت موقع دینا چاہتا ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے ڈبرل پہلے مجھے یہ بتائو کہ میں کہاں ہوں میں اس اسپتال کوپہچاننے سے قاصر ہوں۔‘‘سمنتھا نے کہا۔
’’تم میری ر یاست میں ہو جہاں بہت سی سہولیات موجود ہیں۔‘‘ ڈبرل نے مسکراتے ہوئے کہا۔’’اور میری اس طرح کی بہت سی ریاستیں دنیا میں دوسرے مقامات پر بھی ہیں یہاں پرمیں نے پچھلے سالوں میں بہت کام کیاہے۔‘‘
’’میں کچھ سمجھی نہیں ؟‘‘
’‘’اس کی وضاحت میں کچھ وقت لگے گادراصل میں نے اپنی ساری زندگی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وقف کردی ہے اس مقصد کے لیے میں نے زمین دوز تجربہ گاہیں ‘میڈیکل سینٹرز‘ رہائشی منصوبے اور مواصلاتی نظام بنایاہے اور اس پربے دریغ اخراجات کیے ہیں پھر ان سب کاتعلق اوپر کی دنیا سے قائم کیا ہے میں اپنے ساتھ بہترین دماغ والوں اور ماہرین کودیکھناپسند کرتاہوں اورہم لوگ دنیا میں ہرشعبہ زندگی پر دستر س رکھتے ہیں عام اور غریب لوگوں کوامیر اور ظالم دہشت گردوں سے بچاتے ہیں اور پھر اپنا نشان چھوڑے بغیر رات کے اندھیرے میں غائب ہوجاتے ہیں ہم تب ہی نظر آتے ہیں جب ہم نظر آنا چاہتے ہیں۔‘‘ وہ بول رہاتھا اور سمنتھا حیرت سے آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی۔
’’کیاتم پسند کروگی کہ تمہیں اس بیڈ پرڈالنے کاذمہ دار جو شخص ہے اس سے اپنا بدلہ لے سکو؟‘‘
’’تم کیا کہہ رہے ہو؟ کیاتم جانتے ہو کہ دھماکا کس نے کیاتھا؟‘‘ سمنتھا نے پوچھااور ڈبرل نے ڈاکٹر مرکس کواشارہ کیا جس پراس نے ایک تصویر سمنتھا کو دکھائی۔
’’کیاتم اس شخص کوپہچانتی ہو؟‘‘ ڈبرل نے پوچھااور سمنتھا نے اس کے ہاتھ سے تصویر چھین کر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردئے وہ روتی جارہی تھی وہ تصویر ڈرکن نارمن کی تھی اس کے والد کی۔
’’تمہیں اس بات کاپتہ کیسے چلا ؟ تمہیں کیسے پتہ چلا کہ میں کون ہوں ؟تمہیں کیسے پتہ چلا کہ دھماکے کے بعد تم کومیں کہاں ملوں گی ؟‘‘
’’کیونکہ تم جہاں سے ملیں اس تہہ خانہ کی تعمیر کاحکم میں نے ہی دیاتھا۔‘‘ ڈبرل نے کرسی پرسیدھا بیٹھتے ہوئے کہا۔ ’’تمہارے والدین میرے لیے کام کرتے تھے… اس نے تمہارے والدین اور تمہاری نانی کو مار دیااور اس نے ہی تمہاری موت کاحکم دیا اب تمہیں میرے ساتھ کام کرنا ہوگا کیونکہ وہ کسی قیمت پرخاموش نہیں بیٹھے گا وہ ہر حالت میں تمہیں خاموش کرنا چاہے گا۔‘‘ ڈبرل نے کہااور سمنتھا کواپنی والدہ کاخط یاد آگیا جس میں اس نے کہاتھا کہ تمہیں سیکورٹی والے بچائیں گے وہ تم سے رابطہ کریں گے۔
’’تم سیکورٹی سے تعلق رکھتے ہو؟‘‘
’اوہ… تمہار اذہن بھی تمہاری ماں کی طرح تیز ہے ممکن ہے اس جیسی تیزی بھی تم میں ہو۔‘‘ ڈبرل نے کہا۔
’’میں ابھی تک نہیں سمجھی کہ تم میرے بارے میں اتنا کیسے اور کیوں جانتے ہو؟‘‘
’’ہم کچھ چیزوں کو خودبخود سمجھتے ہیں اوران کے بارے میں جانتے ہیں ہم بہت عرصے سے تمہاری حفاظت کررہے ہیں۔‘‘
’’میری حفاظت ؟ کس چیز سے ؟‘‘
’’تمہارے حقیقی والد سے ۔‘‘
’’اسے آئندہ کبھی میرا والد مت کہنا۔‘‘ سمنتھا نے غصے سے کہا۔
’’مجھے اس کاغصہ اور جوش پسند آیا۔’’ڈبرل نے ڈاکٹرمرکس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’اس کاغصہ بھی اس کے باپ جیسا ہی ہے۔‘‘ سمنتھا نے اس سے نہیں پوچھا تھا کہ اس کے باپ سے ڈبرل کی کیا مراد ہے ؟
’’ڈیئر‘ ہم بہت سالوں سے تمہاری حرکات وسکنات پرنظررکھے ہوئے ہیں او رتمہیں اس کی پہنچ سے بچائے ہوئے ہیں ۔ تمہارے نشانات کوپوشیدہ رکھتے ہیں اسے نہیں پتہ چلا کہ تم نیویارک کااسکول چھوڑ چکی ہو لیکن جب تم یہاں واپس آئیں تب اسے تمہارے بارے میں پتہ چلا وہ تمہیں اپنے راستے کاپتھر سمجھتا ہے اور ہرقیمت پر تم سے نجات چاہتا ہے اسی لیے اس نے دھماکا کروایااور اب اسے یقین ہے کہ تم مرچکی ہو اس کے علاوہ دوسروں کوبھی جوتمہیں جانتے تھے یہ یقین ہے کہ اب تم اس دنیا میں نہیں ہو۔‘‘
’’میں مرچکی ہوں؟ میں اس دنیا میں نہیں ہوں؟‘‘ سمنتھا نے حیرت سے کہا۔
’’لیکن یقینا کسی نے تو تمہیں دیکھا ہوگاجب تم مجھے آگ سے نکال کر لائے ہوگے؟‘‘ سمنتھا نے کہاوہ سوچ رہی تھی کہ بہت لوگوں نے دھماکاسناہوگا آگ دیکھی ہوگی وہاں جمع ہوگئے ہوں گے فائر ڈپارٹمنٹ کے لوگ بھی ہوں گے اور علاقے کی پولیس کے ساتھ جوبھی ہوگا جو کاخیال آتے ہی اس کے دل میں درد کی کسک اٹھی تھی۔ لیکن دنیا اسے مردہ سمجھ رہی تھی توجو بھی اسے مردہ سمجھ بیٹھا ہوگا گویااس کاناتہ زندہ لوگوں کی دنیا سے ٹوٹ چکا۔
’’تمہیں کیسے پتہ چلا کہ میں تہہ خانے میں موجود ہوں؟‘‘
’’تم بھی اپنی ماں کی طرح تیز ہو۔‘‘ ڈبرل نے مسکرا کر کہا۔ ’’یہ بات تمہاری ماں کے ہی دماغ میں آئی تھی کہ اگر کوئی خطرہ ہوا تو جان کیسے بچائی جائے گی اس نے یہ تہہ خانہ بنوایا اور وہی ہوا یہ سمجھنا تو بڑی آسان سی بات تھی۔‘‘ ڈبرل نے کہااورایک سگریٹ جلا کر گہرے گہرے کش لینے لگا۔
’’اب جب کہ باہر کی دنیا سے تمہار اکوئی تعلق نہیں ہے توہم تمہیں اپنی یہ دنیا پیش کرتے ہیں تم بھی ہماری سیکورٹی فورس میں شامل ہوجائو۔‘‘ ڈبرل نے اس سے کہا۔ ’’ہم تمہارے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دیں گے۔‘‘
’’لیکن مجھے بہت سے بقایاجات ادا کرنے ہیں … میری نیویارک میں رہائش کے‘ تعلیم کے‘ نانی کی زمینوں کے ‘ ٹیکسوں کے۔‘‘ سمنتھا نے گنوانا شروع کیا۔
’’وہ سب ادا کردیئے گئے ہیں ڈیئراور یہ تمہیں اپنے ساتھ رکھنے کی قیمت ہم نے ادا کردی ہے اب ڈاکٹر مرکس تمہاری مدد کریں گے اور میڈیکل کی فیلڈ میں تمہیں جو مزید ٹریننگ کی ضرورت ہے وہ دیں گے۔‘‘ ڈبرل نے کہا۔ڈاکٹر مرکس اس کی طرف دیکھ رہاتھا اس کی گہری نیلی پرسکون آنکھیں اس کا چوکور جبڑا سمنتھا کو جاناپہچانا لگا۔
’’سمنتھا ہمیں تمہاری او رتمہیں ہماری ضرورت ہے یہ وقت ہے کہ تم اپنے دشمن سے بدلہ لے سکو‘ اس شخص سے جس نے تمہاری ماں سے کھلواڑ کیااور تمہاری ساری فیملی کوختم کردیااور اب تمہیں مارنا چاہتا ہے۔‘‘ ڈبرل کہہ رہاتھااور سمنتھا اسے خالی خالی نظروں سے تک رہی تھی ۔
’’مجھے منظور ہے۔‘‘ سمنتھا نے دھیمے مگر کسی قدر برہم لہجے میں کہا اس کی نظریں اب نارمن کی چیدہ چیدہ تصویروں پر تھیں‘ معاملہ طے ہوتے ہی ڈبرل کرسی سے اٹھ گیا پھرایک گارڈ کے ساتھ وہ کمرے سے نکل گیا تھا ڈاکٹر مرکس نے سمنتھا کی ڈرپ تبدیل کی تھی اوراس کی رپورٹ میں کچھ نوٹس کا اضافہ کیاتھا۔
’’میںنے تمہاری ڈرپ میں سکون بخش دوا ڈال دی ہے تاکہ تم کچھ دیر سوجائو اس طرح تمہارے زخمی بازو اورتھکے ہوئے دماغ کو بھی سکون ملے گا۔‘‘
’’میں آرام کی اہمیت کوسمجھتی ہوں ڈاکٹر اور مجھے یقین ہے کہ آپ جانتے ہیں کہ میڈیکل کی طالبہ ہونے کے ناتے میں ہمیشہ اپنی کلاس میں بہترین طالب علموں کی فہرست میں اول رہی ہوں۔‘‘
’’میں ا س بارے میں سوچ رہاہوں کہ تمہاری میڈیکل کی ٹریننگ کو آگے بڑھایا جائے تاکہ مستقبل ایک اچھے ڈاکٹر سے محروم نہ رہے۔‘‘ ڈاکٹر مرکس نے کہا اور کمرے سے نکل گیا سمنتھا آہستہ آہستہ نیند کی وادی میں جارہی تھی اس کی نظروں کے سامنے اپنی نانی کے ڈرائنگ روم کامنظر ناچ رہاتھا جس میں دوچہرے نمایاں تھے ایک ڈاکٹر مرکس اور دوسرا پراسرار سایہ !
{…٭…}
چند روز بعد سمنتھا ایک کار میں بیٹھی اپنے آبائی قبرستان پہنچی تھی اس نے کالا لباس زیب تن کیاہواتھا اور چہرے پرسیاہ نقاب تھا جس کی وجہ سے دور سے اسے نہیں پہچان سکتے تھے ‘ڈاکٹر مرکس اس کے ساتھ کار میں موجود تھا سمنتھا کی نظریں جیسے ہی تازہ تیار کی گئی قبر پرپڑی اس کے بدن نے ایک جھرجھری سی لی جس پرایک نیا سنگ مرمرکاکتبہ لگاتھا۔ ’’سمنتھا جان بارلیٹ‘‘ جہاں اس کی باقیات دفنائی جاناتھیں اس نے اپنے کان کی لو کو انگلی سے چھوا جہاں اس کی بے ہوشی کے دوران ایک آلہ نصب کردیاگیاتھا جس سے وہ فون کی طرح کسی کی گفتگو سن سکتی تھی اوراس کے بولے جانے والے الفاظ دوسری طرف موجود شخص سن سکتاتھا او روہ شخص مسٹر ڈبرل تھا۔
’’تم اس کی عادی ہوجائوگی۔‘‘ڈاکٹر مرکس نے کہا جس نے اسے کان کی لوچھوتے ہوئے دیکھاتھا۔ جب سمنتھا نے Elite(سیکورٹی فورس) میں شمولیت کااقرار کیاتھا تب اسے پتہ نہیں تھا کہ اس کے کان میں مائیکرو چپ رکھ دیا جائے گا لیکن اب وہ ایک چلتا پھرتا سٹلائیٹ ٹرانسمیٹر تھی جس کی موجودگی ڈبرل ہر جگہ محسوس کرسکتاتھا اس کی ہر حرکت سے واقف رہ سکتاتھااور جب چاہے اپنی ناگوار آواز اسے سناسکتاتھا اور یہ بات سمنتھا کوپسند نہیں تھی۔ وہ ہر وقت اس کے ساتھ تھا اوراسے اپنی ہر حرکت کی وضاحت کرنا پڑتی تھی وہ سب سے پہلے اس کی نانی کی تدفین کے موقع پر نظر آیا تھا اوراس بارے میں اس نے سمنتھا کو یہ بتایاتھا کہ وہ یہ دیکھنے کے لیے وہاں موجود تھا کہ کہیں سمنتھا کوکوئی نقصان نہ پہنچے وہ جانتاتھا کہ سمنتھا کی نانی کواس لیے ماراگیا کہ سمنتھا کھل کر سامنے آجائے اس نے ہی ڈاکٹرمرکس سے اس کی جیکٹ کی جیب میں کاغذ کاپرزہ رکھوایاتھا تاکہ وہ حقیقت جان سکے۔
جیسے ہی کار قبرستان کے قریب پہنچ کررکی ڈاکٹر مرکس نے اتر کر اس کے لیے دروازہ کھولااور وہ باہر آگئی اس نے کئی ہفتوں بعد سورج کی روشنی دیکھی تھی۔
’’یاد رکھنا‘ سمنتھا بارلیٹ مرچکی ہے۔‘ ڈاکٹر مرکس نے آہستہ سے کہا۔
’’ہوں۔‘‘
’’پریشان مت ہو سب کچھ جلد ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ ڈاکٹر مرکس نے کہا‘ سمنتھا آہستہ آہستہ اپنی قبر کی طرف بڑھ رہی تھی جہاں ان کی باقیات کو دفن ہوناتھا جومسٹر ایڈی نے مکان کے ملبے سے جمع کی تھیں اس نے اپنی ماں کی قبر کی طرف دیکھا۔
’’اوہ ماما… میں یہاں ہوں … میں زندہ ہوں۔‘‘ اس نے دل ہی دل میں اپنی ماں کوپکارا اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ ’میں آپ کے نقش قدم پر چل رہی ہوں… میری فکر مت کرنا‘ مجھے حالات ٹھیک کرنے کاایک موقع ملا ہے اس مقصد کوپورا کرنے کے لیے مجھے کچھ وقت کے لیے آپ سے دور رہنا ہوگا۔ بہت لمبے وقت کے لیے … میں خود نہیں جانتی کہ میں کب واپس آئوں گی… آئوں گی بھی یانہیں۔‘‘ اس نے اپنی ماں کے کتبے پرہاتھ پھیرااور ڈاکٹر مرکس نے اس کے کاندھے پرتھپکی دی جس کامطلب تھا کہ اگر وہ وہاں سے نہیں ہٹی تو اسے الیکٹرک شاک دیاجاسکتاہے جس کاتجربہ اسے پہلے بھی ہوچکاتھا‘ وہ ایکدم سیدھی ہوگئی۔
’’میں اس وقت آپ کی شدید کمی محسوس کررہی ہوں ماما کاش آپ اس وقت میری مدد کے لیے یہاں ہوتیں اور مجھے کچھ چیزوں کے بارے میں بتاتیں‘ میںنارمن کونہیں چھوڑوں گی مامااس نے آپ کے اور میرے ساتھ جو کچھ کیاہے اس کااسے حساب دینا ہوگا میں اسے اس قابل نہیں چھوڑوں گی کہ وہ کسی اور کے ساتھ یہ حرکت کرسکے۔‘‘ سمنتھا دل ہی دل میں اپنی ماں سے عہد کررہی تھی پھر تدفین کی تقریب ختم ہوتے ہی وہ ڈاکٹر مرکس کے ساتھ کار کی طرف مڑگئی تھی اورسوچ رہی تھی کہ وہ واقعی مرچکی تھی اس کی پچھلی زندگی ختم ہوچکی تھی اب اسے ایک نئے نام اور نئی پہچان کے ساتھ نئی زندگی کاآغاز کرنا تھا جہاں کی دنیا بہت مختلف تھی اور جس کاسمنتھا نیا نیا تجربہ کررہی تھی اب وہ جہاں تھی وہاں کوئی کسی کانہیں تھا کوئی کسی کے لیے محبت کاجذبہ محسوس نہیں کرتاتھا۔
جیسے ہی سمنتھا کی کار قبرستان سے روانہ ہوئی تھی جو کی نظروں نے اس کاتعاقب کیاتھا وہ حیران تھا کہ سمنتھا کی تدفین کی تقریب میں سیاہ کپڑوں میں ملبوس کون خاتون تھی جو اس فیملی سے اتنی قریب تھی کہ تدفین میں شرکت کے لیے آئی تھی اور جواسے نہیں جانتاتھا جبکہ وہ سمنتھا کابچپن کاساتھی تھا یہ چیز اسے بے چین کررہی تھی وہ سوچ رہاتھا کہ کیاوہ سمنتھا کی کوئی دوست تھی جو نیویارک سے آئی ہوتاکہ تدفین میں شرکت کرے یااس کے ساتھ کام کرنے والی نرس؟
جوہاتھ میں پکڑے پھول لے کر سمنتھا کی قبر کی طرف بڑھااور پھول قبر پررکھ دیئے اسے سمنتھا شدت سے یاد آرہی تھی۔
{…٭…}
جیسے ہی سمنتھا نے انڈرگرائونڈ ٹرین سے نیچے قدم رکھا اس نے اطمینان کا سانس لیا اس زمین دوز دنیا میں اسے سکون ملتاتھااوروہ خود کومحفوظ سمجھتی تھی وہ اس وقت جس بڑے ہال میں داخل ہوئی تھی وہاں دیواروں پرنقش ونگار والی ٹائلز لگے تھے جوپرانے زمانے کے آرٹ کے نمونوں سے مزین تھے جس سرنگ سے گزر کر وہ ہال تک آئی تھی اس سے ایک دریابھی گزرتاتھا‘ ڈاکٹر مرکس کے ساتھ کئی راہداریوں سے گزرتی وہ ایک دروازے کے سامنے رکی تھی اوراسی وقت اس کے کان میں موجود ڈیوائس سے آواز آئی تھی۔
’’تم اندر آسکتی ہو۔‘‘ وہ لاشبہ ڈبرل کی آواز تھی سمنتھا کویوں محسوس ہواجیسے اس نے ایک وائرلیس ریڈیو ریسیور کی آواز سنی ہو ‘ دروازہ ایک ہال میں کھلاتھا جہاں چھت میں ایک بڑا فانوس نصب تھا پھرہال کاایک دروازہ کھلاتھااور ڈبرل مسکراتا ہوا شاہانہ انداز میں ہال میں داخل ہواتھا۔
’’اوہ ڈیر تمہیں دیکھ کرخوشی ہوئی۔‘‘ ڈبرل نے کہا اندازہ ایسا ہی تھا جیسے وہ اپنے کسی ساتھی سے برسوں بعد ملا ہو۔
’’ہم اس وقت کہاں ہیں؟‘‘ سمنتھا نے پوچھا۔ ’’ہم نے ونچسٹا سے اب تک ایک گھنٹہ کا سفر کیا ہے اور اتنے وقت کسی دور دراز علاقے تک تو نہیں پہنچاجاسکتا؟‘‘
’’ہم اس وقت ’’میرے چیمبر‘‘ میں ہیں یہ میرا ذاتی آفس ہے جو چیس پیک بےChasapeake Bay میں واقع ہے۔
’یعنی گلف کے قریب؟‘‘ سمنتھا نے حیرت سے کہا۔’’میں سوچ بھی نہیں سکتی کہ ٹرین نے اتنا تیز سفر کیا ہے؟‘‘
’’میراخیال ہے تم اپنے کام کا آغاز کرو۔‘‘ ڈبرل نے سمنتھا کی بات کونظرانداز کرتے ہوئے ڈاکٹر مرکس سے کہا پھروہ سمنتھا کی طرف مڑاتھا۔
’’ہم جہاں ہیں یہ جگہ ایک طرف الیگزینڈریااور دوسری طرف واشنگٹن سے ملتی ہے ۔‘‘
’’واشنگٹن سے؟‘‘ سمنتھا نے حیرت سے کہا‘ اسے لگا جیسے اس کا دل اچھل کر حلق میں آگیاہو اس کادشمن اس سے بہت قریب تھا نارمن واشنگٹن ہی میںرہتاتھا۔
’’ہاںتقریباً۔‘‘ ڈبرل نے جواب دیا پھر اس نے بات کارخ موڑ دیاتھا۔
’’جیسا کہ تم جانتی ہو کہ اب سمنتھا بارلیٹ موجود نہیں ہے اور تم Elite کاحصہ بن چکی ہو اب تم ہماری ہو تمہارے کان میں موجود مائیکرو چپ ہمیں سیٹلائٹ کے ذریعے کسی بھی جگہ تمہاری موجودگی کاپتہ دے سکتی ہے۔‘‘
’’ہاںمیں جانتی ہوں ڈاکٹر نے مجھے بتایاتھا۔‘‘
’’آئندہ کبھی گفتگو کے دوران میری بات مت کاٹنا۔‘‘ ڈبرل نے غصے سے کہا۔
’’سوری۔‘‘ سمنتھا نے کہااوراسے محسوس ہوا کہ وہ باقاعدہ ان کی قیدی بن چکی ہے وہ اسے اپنامعمول بناچکے ہیں وہ اب ان کی ملکیت ہے۔
’’مرکس تمہیں تمہاری ٹریننگ سے متعلق تمام کورسز کے بارے میں بتادے گا وہ تمہیں آنے والے آٹھ مہینوں میں مکمل ٹرینڈ کردے گا تمہارا ذہن اور جسم تربیت کے بعد پرفیکٹ ہوں گے اور اگر اس عرصے میں یہ مطمئن نہیں ہواتو تمہاری ٹریننگ ختم کردی جائے گی۔‘‘ ڈبرل نے کہا سمنتھا سرجھکائے سن رہی تھی۔
{…٭…}
صدر وارنر نیومیکسیکو اسٹیٹ میں ایک تقریب میں تقریر کررہاتھا وہ وائس پریذیڈنٹ نارمن کی دعوت پر وہاں آیاتھا وہ نارمن کو ان دنوں سے جانتاتھا جب وہ دونوں ہارورڈ یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے وہ دن ان کی زندگی کابہترین سرمایہ تھے ان دنوں نارمن بھی مستقبل میں عالی شان زندگی کے خواب دیکھتاتھا دونوں کاارادہ ملکی سیاست میں حصہ لینے کاتھا پھرایک موقع پراس نے جب گورنر کے عہدے کے لیے الیکشن میں حصہ لیاتب اس کی ملاقات سمنتھا کی والدہ سے ہوئی جسے اس نے اپنے جھوٹے عشق کایقین دلایا اور ایک کمزور لمحے میں اس کی عزت سے کھیل بیٹھا پھر وہ واپس اپنی ریاست چلا گیا تھا کافی عرصے بعد وارنر نے اسے واپس بلایا اوراسے اپنے وائس پریذیڈنٹ کاعہدہ پیش کیا یہ ذمہ داری اس نے خوش اسلوبی سے ادا کی او راب وہ دوبارہ یہ الیکشن لڑرہاتھااس تقریب میں بہت سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے وارنر مجمع سے خطاب کررہاتھا یہ تقریر وہ ڈرکن نارمن کے لیے کررہاتھا۔
’’جیسا کہ آپ لوگوں نے دیکھا کہ ڈرکن وارنر نے اس اسٹیٹ کے لیے اپنی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے ادا کی ہیں انہوں نے اپنی اسٹیٹ میں معیشت کو ترقی دی ہے جس سے بہت زیادہ ملازمتیں لوگوں کو ملی ہیں ‘ آپ کی فیملیز کو بہت سے مفادات حاصل ہوئے ہیں۔ آپ کے بچوں کے لیے اسکولوں میں فنڈ بڑھا کردیئے گئے ہیں اور میں نے خود نیومیکسیکو کے لوگوں کے لیے زیادہ فائدہ مند منصوبوں پر دستخط کیے ہیں ‘ ڈرکن نارمن آپ کے مفاد میں اسی طرح کام کرتے رہنا چاہتے ہیں تاکہ سکینڈ ٹرم میں بھی آپ انہیں اپنے ووٹ کے ذریعے منتخب کرکے خدمت کاموقع دیں‘ اسے میری پوری سپورٹ حاصل ہے او ر میں اس کے لیے دعاگو ہوں۔‘‘ وارنر کچھ دیر کے لیے رکاپھراس نے مجمع پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی لوگ نارمن کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔
’’مجھے امید ہے کہ آپ ڈرکن نارمن کودوبارہ خدمت کاموقع دیں گے او رنیومیکسیکو کو امریکہ بھر میں روشنی کاسرچشمہ بنادیں گے شکریہ۔‘‘ وارنر نے تقریر ختم کی تو مجمع نارمن کے حق میں پھرنعرے لگانے لگا فوٹوگرافر تصویریں بنارہے تھے نارمن خوش نظر آرہاتھا۔
’’میں اس تقریر کے لیے تمہارا شکر گزار ہوں وارنر۔‘‘ نارمن نے دوستانہ انداز میں کہا۔ ’’تم نے ہارورڈ میں بھی ہمیشہ اپنی دوستی کا ثبوت دیامیں چاہتاہوں تم ڈنر میں بھی شرکت کرو۔‘‘
’’میں مجبور ہوں ڈنر میں شرکت نہیں کرسکتا مجھے واپس D.C پہنچنا ہے وہاں کچھ ذمہ داریاں میری منتظر ہیں۔‘‘
’’میں جانتا ہوں۔‘‘ نارمن نے کہااسی وقت کئی سمتوں سے فائرنگ شروع ہوگئی اور کئی لوگ زمین پرڈھیر ہوگئے سیکورٹی گارڈز نے نارمن اور وارنر کو اپنے حلقے میں لے کر وہاں سے نکال لیاتھا اور قریبی بلڈنگ میں لے گئے تھے۔
{…٭…}
سمنتھا کو ٹریننگ کرتے ہوئے تین ماہ گزر گئے تھے ڈاکٹر مرکس ہر وقت اس کے دماغ میں یہی بات گھساتا رہاتھا کہ میں مرچکی ہے … سمنتھا مرچکی ہے ۔
’’توپھر میں کون ہوں؟‘‘ ایک دن سمنتھا نے اس سے پوچھا۔
’’ایک مشین۔‘‘ ڈاکٹر مرکس نے سرد مہری سے کہا۔ ’’صرف ایک مشین … جسے میں جنم دے رہاہوں‘ اس کی تربیت کررہاہوں۔‘‘
’’تمہیں بیڈ پر جانے سے پہلے تین مشقیں اور کرناہیں پھررات کا کھانا ملے گا اوراس کے بعد تم سو سکوگی۔‘‘ ڈاکٹر مرکس نے کہا۔
’’مجھے کھانے کی پروا نہیں ہے لیکن میں سونا چاہتی ہوں۔‘‘ سمنتھا نے کہا۔
’’نہیں آج رات تم نہیں سوگی ابھی بہت کام باقی ہے۔‘‘
’’میری بات سنو ۔‘‘ سمنتھا کو اچانک غصہ آگیا تھا۔ ’’میں تم سے تنگ آگئی ہوں اور تمہاری رات بھر کی ٹریننگ کی مشقوں سے بھی… تین مہینے سے میں دن رات مشقیں کررہی ہوں اور کبھی شکایت نہیں کی لیکن میری نیند پوری نہیں ہوئی‘ میں تنگ آچکی ہوں۔‘‘سمنتھا نے کہااور ڈاکٹر مرکس کے جواب کاانتظار کیے بغیر کمرے سے نکل گئی اس کو اپنے پیچھے ڈاکٹر مرکس کے ہنسنے کی آواز سنائی دیتی رہی تھی۔
دوسری صبح اس کی آنکھ کان میں لگے چپ کی آواز سے کھلی تھی اس کے کان کی لو اتنی گرم ہورہی تھی جیسے آگ سے جل گئی ہو۔
’’ڈبرل… خداتمہیں پوچھے۔‘‘ وہ غصے سے چیخی اور وائٹ ہائوس ہسٹری پر لکھی گئی ایک کتاب اٹھا کردروازے پردے ماری‘ اسے یہ کتابیں بھی ڈبرل کے کہنے پر پڑھنا پڑتی تھیں او ر وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ آخر نارمن کو اس کے انجام تک پہنچانے کے لیے وائٹ ہائوس ہسٹری پڑھنا کیوں ضروری ہے ۔
’’تم آخر مجھ سے کیا چاہتے ہو۔‘‘ اس نے کہاوہ جانتی تھی کہ اس کی آواز ڈبرل بخوبی سن سکتاتھا۔
’’تمہیں جوکام کرنا ہے اس میں آرام نہیں ہے فوراً میرے چیمبر میں پہنچو۔‘‘ ڈبرل نے تحکمانہ انداز میں کہا اور سمنتھا روبوٹ کی طرح تیار ہو کرکمرے سے نکل گئی۔
ذبرل کے آفس میں ڈاکٹر مرکس بھی موجود تھا جس کے ہونٹوں پر زہریلی مسکراہٹ تھی‘ سمنتھا سمجھ گئی تھی کہ اس نے پچھلی رات کی شکایت ڈبرل سے ضرور کی ہوگی۔
’’تم نے کل رات ڈاکٹر مرکس کی ہدایت پر عمل نہیں کیااور سونے سے پہلے اپنی رات کی مشقیں پوری نہیں کیں کیاتم چاہتی ہو کہ میں تمہیں سزا دوں؟ تم جانتی ہو کہ تمہارے کان میں لگے ہوئے چپ کے ذریعے میِں تمہیں کیسی سزا دے سکتاہوں۔‘‘ اس نے دھمکی دی اور سمنتھا کانپ گئی‘ کیونکہ اسے اس سزا کاتجربہ ہوچکاتھا جب اس چپ کوایکٹویٹ کرکے ڈبرل سمنتھا کے سر میں اور بازو میں شدید درد پیدا کرسکتاتھا‘ جس سے وہ تڑپ اٹھتی تھی اوراس کی حکم عدولی کاتصور بھی نہیں کرسکتی تھی۔
’’تم بھول رہے ہومیں سمنتھا ہوںسمنتھا بارلیٹ جس کی حفاظت کی ذمہ داری میرے والدین نے تمہیں سونپی تھی۔‘‘ سمنتھا نے کہا۔
’’پہلی بات تو یہ ہے کہ تم اب سمنتھا بارلیٹ نہیںہو وہ مرچکی ہے اسے دفن کردیاگیا تمہیں ہم نے نئی زندگی دی ہے اب تمہارا نام الیگزینڈر یا ہے تم امریکی شہری نہیں اب تم روسی شہریت رکھتی ہو تمہیں جلد ہی اپنی ٹریننگ کے ساتھ ساتھ روسی زبان بھی سیکھنا ہوگی اور ڈاکٹر مرکس اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے تمہیں ایک خوبصورت روسی دوشیزہ بنادیں گے تمہارے نقوش تمہارے خدوخال تمہاری بول چال حد تو یہ کہ تمہارے جسم کی رنگت بھی تبدیل کردی جائے گی تم خود کو کبھی بھی سمنتھا نہیں کہوگی اگر زندہ رہنا چاہتی ہو۔‘‘
’’میرا مقصد اس تنظیم میں شرکت کرنا اس لیے تھا کہ میں وائس پریذیڈنٹ سے اپنی ماں کاانتقام لے سکوں یہ سب کچھ کیے بغیر بھی انتقام لیا جاسکتاہے میں جانتی ہوں تمہارے ذرائع کتنے ہیں تم لوگ جس جگہ چاہو اور جب چاہو پہنچ سکتے ہو۔‘‘
’’بس‘ میں کسی کو اتنی بات کرنے کی اجازت نہیں دیتاہم جو کچھ کررہے ہیں اس کے کچھ مقاصد ہیں اور ہم ہر بات کے لیے تمہیں جواب دہ نہیں ہیں تمہیں بھی کوئی سوال کرنے کی اجازت نہیں۔‘‘ ڈبرل نے ناگواری سے کہااور پھر ڈاکٹر مرکس کو اشارہ کیا کہ وہ سمنتھا کووہاں سے لے جائے ۔
’’مجھے دوبارہ شکایت نہ ملے کہ تم نے ڈاکٹر مرکس کی حکم عدولی کی ہے تم نے Elite میں شمولیت کی ہے او رتم اس کے قواعد وضوابط پرعمل کرنے کی پابند ہو۔‘‘ ڈبرل نے کہااور ہاتھ سے انہیں جانے کااشارہ کیا۔
کچھ دیر بعد وہ ڈاکٹر مرکس کے سامنے اس کی لیب میں کھڑی تھی اس کے چہرے پرپریشانی نمایاں تھی۔
’’جب تم لوگ مجھے ملے تو مجھے یوں لگا جیسے میں کچھ محفوظ ہاتھوں میں پہنچ گئی ہوں لیکن میری یہ زندگی تومیرے لیے سوہان روح بن گئی ہے ۔
’’تم ڈرکن نارمن سے انتقام لینا چاہتی ہو؟‘‘ ڈاکٹر مرکس نے کہا۔
’بالکل لینا چاہتی ہوں۔‘‘
’’تو کیا تم اصلی شکل میں رہ کر یہ کام کرسکوگی؟جبکہ سب تم سے واقف ہیں انہوںنے اپنی طرف سے تو تمہیں موت کی نیند سلادیاہے لیکن اگر پھرتم اسی طرح منظر عام پر آئیں تو وہ دوبارہ سرگرم ہوجائیں گے اور تمہارے لیے کہیں پناہ نہ ہوگی اس لیے ڈبرل کے مشورے پرعمل کرنا بے حد ضروری ہے تمہارا حلیہ بدل جانے کے بعد تمہارامنظر عام پر ایک نئی شناخت کے ساتھ آنا تمہاری کامیابی کے دروازے کھول دے گا‘ ڈبرل کے پاس بہت ذرائع ہیں وہ تمہیں ڈائریکٹ وائس پریذیڈنٹ سے متعارف کرائے گاچند ملاقاتوں میں اسے اعتماد میں لے لینااور پھر تمہارا کام آسان ہوجائے گا۔‘‘ڈاکٹر مرکس نے اسے سمجھایا۔
’’نارمن سے انتقام لینے کے لیے میں کچھ بھی کرسکتی ہوں۔‘‘ سمنتھا نے زیرلب کہا۔
’’نارمن اپنی وائس پریذیڈنٹ کی مدت پوری کرچکا ہے اور اب دوبارہ اگلے پانچ سال کے لیے اسی عہدے کے لیے الیکشن میں حصہ لے رہا ہے‘ صدر وارنر اسے سپورٹ کررہا ہے۔ وہ اس کابچپن کادوست ہے ‘ہماری پلاننگ ہے کہ تمہیں بالکل تمہاری ماں کی طرح نارمن سے متعارف کرایا جائے تم امریکا میں رہنے والی روسی شہری ہوگی اور نارمن کی انتخابی مہم میں شرکت کے دوران تمہارا تعارف اس سے ہوگا پھر تمہیں اپنی مہارت دکھانا ہوگی اوراس سے اس حد تک قریب ہونا ہوگا کہ تم تنہائی میں اس پرکاری وار کرسکو۔‘‘
’’میں کوشش کروں گی کہ اس مقصد میں کامیاب ہوسکوں۔‘‘ سمنتھا نے کہا جس کے بعد اس کی اس دن کی مشقوں کاآغاز ہوگیاتھا۔
رات کو جب وہ اپنے بیڈ پر لیٹی تو اس کے ذہن میں پچھلی یادیں گھوم رہی تھیں اس کے والدین کی محبت‘ اس کی نانی کی بہترین توجہ اور جو کی بے تکلفی اور پیار… وہ کچھ بھی نہیں بھولی تھی اس کے والدین اور نانی اس دنیا سے رخصت ہوچکے تھے لیکن جو موجود تھا وہ اس سے پیار کرتاتھا لیکن وہ بھی اس کی تدفین کے وقت قبرستان میں موجود تھا سمنتھا نے ایک نظر اسے دیکھا تھا وہ بہت اداس تھا جو کا خیال آتے ہی اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا اسے جو کے ساتھ گزارے ہوئے بچپن کے دن یاد آنے لگے جب وہ دنیاومافیہا سے بے خبر سمنتھا کے کنساس کے گھر کے لان میں گھنٹوں کھیلتے رہتے تھے اس کی نانی جو سے بہت خوش تھیں کیونکہ وہ سمنتھا کا واحد دوست تھا اس کاجی چاہا کہ کسی طرح وہ ساری دوریاں پار کرکے جو کے پاس پہنچ جائے لیکن وہ جانتی تھی کہ ایسا ممکن نہیں ہے اور شاید اب کبھی بھی ایسا نہ ہوسکے۔
{…٭…}
سمنتھا کے گھر کے دھماکے اوراس کی موت اور تدفین کے بعد جو کے چہرے سے مسکراہٹ روٹھ گئی تھی وہ دوستوں کی گفتگو میں بھی حصہ نہیں لیتاتھااس کا زیادہ وقت دفتر کی فائلوںکی ورق گردانی میں گزرتاتھا اس نے سمنتھا کے تباہ شدہ گھر کے کئی چکر لگائے تھے‘ کوئی چیز تھی جو اسے پرسکون نہیں ہونے دیتی تھی اس کابس نہیں چلتاتھا کہ وہ اس گھر کے کھنڈرات میں سے جیتی جاگتی سمنتھا کونکال لے اس نے کیس کی فائل بند ہوجانے کے باوجود بھی اپنی تحقیقات جاری رکھی تھی وہ جانناچاہتاتھا کہ سمنتھا کے گھر میں دھماکا کس نے کیاتھا اوراس کے پیچھے کیا وجوہات تھی پھرجوچیز اسے زیادہ پریشان کررہی تھی وہ سمنتھا کی لاش کانہ ملناتھا‘ وہ حیران تھا کہ سمنتھا کہاں غائب ہوگئی تھی ‘ سمنتھا کی باقیات جو دفنائی گئی وہ بھی اس نے نہیں دیکھی تھیں شروع میں اس کے چیف انسو نے اس کی مخالفت کی تھی لیکن پھر جو نے اسے قائل کرلیاتھا اور اس نے جو کو اپنے اسسٹنٹ بل کے ساتھ مل کر خاموشی سے سمنتھا کی موت کی تحقیقات کی اجازت دے دی تھی۔ پھر سمنتھا کی موت کے بعد مسٹر ایڈی کی موت اور کاسٹر کی موت نے اسے چونکا دیاتھا مسٹر ایڈی سمنتھا کے خاندانی وکیل تھے اور کاسٹر اس کنسٹرکشن کمپنی کامالک تھا جس نے سمنتھا کے گھر کی تعمیر کی تھی جو کو ان تینوں اموات کے تانے بانے ملتے ہوئے محسوس ہورہے تھے۔ سمنتھا کوبم دھماکے میں ماراگیاتھا اور مسٹر ایڈی اور کاسٹر کو گولیوں کانشانہ بنایاگیاتھا۔
جونے احتیاطی تدبیر کے طور پر اپنے اسسٹنٹ بل کو ہدایت کردی تھی کہ وہ تحقیقات کے دوران کسی بھی قسم کی معلومات کو تحریری شکل نہیں دے گا کیونکہ اس طرح کوئی اور ان کی تحقیقات تک پہنچ سکتاہے اس نے ہدایت کی تھی کہ وہ تمام معلومات اپنے ذہن میں محفوظ رکھے گا اور بالمشافہ ملاقات میں ہی جو کوبتائے گا ایسی ہی ایک ملاقات کے دوران جب بل اسے کچھ معلومات دے رہاتھا تب وہ ایک ریستوران مین بیٹھے تھے جو نے محسوس کیا کہ ریستوراں میں کچھ اجنبی اور ناپسندیدہ قسم کے افراد موجود تھے صرف شک کی بنا پر جو نے بل کووہاں سے اٹھنے کااشارہ کیا وہ ریستوران سے نکل کر چند قدم آگے ہی گئے تھے کہ اچانک ان کے عقب سے ایک تیز دھماکے کی آواز آئی جو نے پلٹ کر دیکھاتو ریستواں سے شعلے بلند ہو رہے تھے اور لوگ افراتفری کے عالم میں وہاں سے باہر نکل رہے تھے باہر کھڑی کئی کاروں کے شیشے ٹوٹ گئے تھے جو نے فوراًاپنے چیف اسنو کو اپنے فون پر اس واقعے کی اطلاع دی۔
’’ٹھیک ہے جو احتیاط سے کام کرو اس حادثے کامطلب ہے کہ تم دشمن کی نظر میں آچکے ہو کوئی اس بات سے واقف ہوچکاہے کہ تم سمنتھا کی موت کی تحقیقات کررہے ہو تمہیں چاہیے کہ تم اپنے سیل پرمختصر بات کرو اور کسی پبلک بوتھ سے مجھ سے رابطہ کرو فوراً اپنا فون بند کردو۔‘‘
’’اوکے‘‘ جونے کہااور فون بند کردیااس دھماکے کے بعد اسے یقین ہوگیا تھا کہ ناصرف اس کی تحقیقات درست ہیں بلکہ وہ صحیح سمت میں جارہاتھا اور دشمن کے لیے خطرہ بن گیاہے اس نے بل کی طرف دیکھاتھا جسے معمولی خراشیں آئی تھیں اوراسے فوراً وہاں سے چلے جانے کاکہاتھا پھروہ بھی مختلف چھوٹی چھوٹی گلیوں سے گزرتا ہوا کافی دیر تک شہر میں چکراتا رہاتھا اور جب اسے یہ یقین ہوگیا تھاکہ اس کاتعاقب نہیں کیاجارہاہے تو وہ ایک لمبا چکر کاٹ کر اس جگہ پہنچاتھا جہاں اس نے اپنی کار کھڑی کی تھی پھراطراف کاجائزہ لینے کے بعد وہ اپنی کار میں بیٹھ کروہاں سے روانہ ہوگیاتھا وہ اپنے گھر جانے کی حماقت نہیں کرناچاہتاتھا کیونکہ اس کے گھر اوراس کے دفتر میں اس کے دشمن اس تک باآسانی پہنچ سکتے تھے اس کو اب ایک ایسے ہوٹل کی تلاش تھی جہاں اس کے دشمنوں کاخیال بھی نہ پہنچ سکے پھرشہرسے باہر اس نے ایک مضافاتی علاقے میں پانچ منزلہ ہوٹل کاانتخاب کیاتھا جس کے زمین دوز کارپارکنگ میں اس نے اپنی کار پارک کی تھی اور اپنے کمرے میں پہنچ گیاتھا جو اس نے فون پرہی بک کرایاتھا۔
اس ہوٹل میں پہنچنے کے بعد وہ اپنے دشمنوں سے تو دور ہوہی گیاتھالیکن وہ اپنے ونچٹا کے دوستوں سے بھی دور ہوگیاتھا اس وقت اسے مستقبل کی فکر تھی کہ اب اسے کیا کرنا ہے وہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اپنے دشمنوں کو ان کے انجام تک پہنچانے کامنصوبہ بنانا چاہتا تھا اسی وقت اس کی جیب میں موجود سیل فون کی گھنٹی بجی دوسری طرف سے پھراس کاچیف بول رہاتھا۔
’’مجھے خوشی ہے کہ تم ریسلنگ میچ سے باہر نکل گئے ہو۔‘‘ چیف نے کہااور ریسلنگ میچ کے لفظ کامطلب سمجھ کر جوکے ہونٹوں پرمسکراہٹ آگئی اس کے چیف کامطلب ’’دھماکے ‘‘ سے تھا۔
’’میں ہمیشہ ہی ریسلنگ میچ سے باہر رہنے کی کوشش کرتا ہوں جناب۔‘‘ جو نے اس کے انداز میں جواب دیا۔فون کی لائن کھلی مت رکھنا میں نہیں جاننا چاہتا کہ تم کہاں ہومیں بھی تمہارا لوجیک سگنل آف کردیاہے اس وقت تک جب تک تم خود مجھے کوئی تفصیل بتانا نہ چاہو میرے لیے یہ جاننا کافی ہے کہ تم محفوظ ہو کیاتمہیں کوئی سراغ ملا؟‘‘
’’جی ہاں جناب۔‘‘
’’یہ جان کرخوشی ہوئی اب سے تمہیں ایک اچھے فوجی کی طرح کام کرناہے اور کبھی بھی ایک جگہ قیام مت کرنا۔‘‘
’’سر؟‘‘
’’اب تم نشانے پر ہو وہ تمہیں ڈھونڈنے کے موبائل سگنل کے علاوہ بھی بہت سے ذرائع رکھتے ہیں‘ اگر تم محتاط نہیں ہوگے تو جلد ہی مشکل میں پھنس جائوگے چنانچہ اپنے اطراف پرنظررکھنااور دشمن کی بوسونگھنے رہنا میری بات سمجھ گئے ؟‘‘
’’یس سر!‘‘ جونے کہااور جیسے ہی لائن آف ہوئی اسے لگاجیسے اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سردی کی لہر دوڑ گئی ہو۔
پھرجونے تین دن میں چار ہوٹل تبدیل کیے تھے وہ اپنی تحقیقات کے دوران اس بات تک توپہنچ گیاتھا کہ اس کے دشمنوں کے ٹھکانے اس شہر میں زمین دوز ہیں لیکن ان تک پہنچنے کے راستوں سے وہ واقف نہیں تھااس کے علاوہ بھی اس پربہت سے انکشافات ہوئے تھے جن میں سے کچھ کی سچائی جاننے کے لیے وہ کام کررہاتھا وہ اب تک ونچسٹا میں سمنتھا کے گھر میں بنے تہہ خانے اور سرنگ کونہیں بھولاتھا اوراس کی معلومات میں آیا تھا کہ ایسی بہت سی سرنگیں لندن میں بھی موجود ہیں جو دوسری جنگ عظیم کے دوران نازیوں نے بنائی تھیں اور بہت ممکن تھا کہ جنگ کے بعد ان سرنگوں کو امریکا تک طویل کردیاگیاہو کیونکہ دوسری جنگ عظیم کے بہت سے مجرم ان کے ذریعے فرار بھی ہوئے تھے یہ سب معلومات اسے دوسری جنگ عظیم کے ریکارڈ سے ملی تھیں۔ اس رات جب وہ سونے کے لیے لیٹا تو اسے پھر وہی خواب نظر آیا جو ہمیشہ نظر آتاتھا۔
وہ سرنگ میں موجود تھااور ہتھوڑی سے سرنگ کابند راستہ کھولنے کی کوشش کررہاتھااس کے بازو شل ہوچکے تھے ٹوٹنے والے کنکریٹ کی کرچیاں اسے لگ رہی تھیں پھر بند دیوار میں ایک سوراخ ہوگیاتھا اور سمنتھا کے چیخنے کی آوازیں اس کے کانوں سے ٹکرانے لگی تھیں وہ کسی کومدد کے لیے پکار رہی تھی اس نے ہمیشہ کی طرح ہتھوڑا پھینک دیا اوراپنے ہاتھوں سے ہی سیمنٹ ہٹانے لگا اس کے ہاتھ زخمی ہوگئے اوران سے خون بہنے لگا جب دیوار کاسوراخ اتنابڑاہوگیا کہ وہ اس میں سرڈال کر دوسری طرف دیکھ سکے تو اس نے سوراخ میں جھانک کر سمنتھا کو آواز دی۔
’’سمنتھا!‘‘ لیکن ہمیشہ کی طرح اسے دیر ہوچکی تھی دیوار کے دوسری طرف موجود کھائی میں سمنتھا گرتی چلی گئی تھی اور اس کی آواز آہستہ آہستہ معدوم ہوگئی تھی پھر سرنگ کی دیوار بھی ہمیشہ کی طرح اس کے گلے کے گرد تنگ ہوگئی تھی جس سے آزاد ہونا اس کے لیے ممکن نہیں تھا‘ اوراسے سمنتھا کی معدوم ہوتی ہوئی چیخیں سنائی دے رہی تھیں۔
دوسری صبح جب وہ سو کر اٹھا تو اسے اپنا رات کاخواب اچھی طرح یاد تھا سمنتھا کی چیخیں اب بھی اس کے ذہن میں گونج رہی تھیں اور اچانک اس کے ذہن میں خیال آیا تھا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس کے دشمنوں نے اسے اغوا کرلیاہو یاوہ ان کے ساتھ اپنی مرضی سے گئی ہو لیکن یہ محض خیال تھااس کی وضاحت کے لیے اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا اچانک دروازے کی بیل بجی تھی جو نے چونک کر گھڑی کی طرف دیکھا تھا‘ صبح کے تین بجے تھے اسے اچھی طرح یاد تھا کہ اس نے کھانے کاآرڈر نہیں دیاتھا وہ چوکنا ہوگیا اس نے اپنا پستول نکالااور کمرے کے دروازے کے سوراخ سے باہر جھانکا سامنے ہی کھانے کی ٹرالی پڑی تھی لیکن وہاں کوئی موجود نہیں تھا جونے آہستہ سے دروازہ کھولااوراسے ایک ہلکی سی کلک کی آواز سنائی دی وہ تیزی سے پلٹاتھااور باتھ روم میں جاکر اس کادروازہ بند کرتے ہوئے نہانے کے ٹب میں گر گیاتھا دوسرے ہی لمحے زور دار دھماکاہواتھا اور باتھ روم کادروازہ ٹوٹ کر ٹب کے اوپر آگراتھا اس طرح بن جانے والے تابوت نے اس کی جان بچالی تھی۔
جو تیزی سے اٹھاتھا‘ دروازے کو اپنے اوپر سے اٹھاتے ہوئے اس نے اپنی گن ڈھونڈی تھی اور پھرایک تولیہ بھگو کر اپنے چہرے کے گرد لپیٹاتھا کیونکہ کمرے میں دھواں اور آگ کے شعلے ناچ رہے تھے‘ اس نے کمرے کی پچھلی جانب کھلنے والی کھڑکی کھولی تھی اورباہر چھلانگ لگادی تھی کہیں سے کسی نے فائر کیاتھا گولی اس سے کچھ ہی فاصلے سے گزری تھی اور جونے خود کوتیزی سے خودرو جھاڑیوں میں چھپادیاتھا وہ اندھیرے میں آنکھیں پھاڑے دیکھنے کی کوشش کررہاتھااس کے دشمن بہت چالاک تھے وہ اس تک پہنچنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے وہ ہرحالت میں اس سے نجات حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن کیوں؟ یہی بات جومعلوم کرنا چاہتاتھا۔
کافی دیر خاموشی رہی تھی تو جونے آہستہ آہستہ جھاڑیوں میں حرکت کی تھی اور باہر کھلی فضا میں آنا چاہاتھا اسی وقت پھر لگاتار کئی فائرہوئے تھے لیکن جو رکانہیں تھا وہ زمین پررینگتا ہوا کار پارکنگ تک آیا تھا لیکن اس نے اپنی کار تک جانے کی حماقت نہیں کی تھی بلکہ وہ دوسری کاروں کے دروازے بڑی خاموشی سے چیک کررہاتھا پھرایک کار کادروازہ اسے کھلا مل گیاتھا اور وہ ڈرائیونگ سیٹ پرجھک کربیٹھ گیاتھا چابی کے بغیر اس نے انجن کے تاروں کو ٹچ کرکے کار اسٹارٹ کی تھی اور سیٹ پرسیدھا بیٹھاتھااسی وقت فائرنگ دوبارہ شروع ہوگئی تھی جونے کار کو ریورس میں ڈالا تھا اور پھر تیزی سے پیچھے کی طرف ڈرائیونگ کرتا ہوا کار کو ہائی وے پر لے آیاتھا اسی وقت کار پارکنگ میں موجود اس کی کار میں دھماکا ہواتھا اور آگ لگ گئی تھی جس کے شعلوں کی روشنی میں دور دور تک منظر صاف نظر آرہاتھا۔
{…٭…}
آٹھ ماہ بعد سمنتھا کی ٹریننگ مکمل ہوتے ہی ڈبرل نے بڑے ڈرامائی انداز میں اس کی ملاقات ڈرکن نارمن سے کروادی تھی اسے Elite ہی کی ایک لڑکی نے نارمن سے ملوایاتھا جو اس کی انتخابی مہم کا پہلے سے حصہ تھی اور سمنتھا اپنی ٹریننگ اور اپنے حسن کی بدولت چند ہی ملاقاتوں میں نارمن کو اپنا گرویدہ بناچکی تھی وہ اکثر نارمن سے اس کی ذاتی رہائش گاہ پر ملنے جاتی تھی نارمن کے سیکورٹی گارڈ بھی اس کی اہمیت سے واقف ہوچکے تھے چنانچہ اس کے کسی بھی وقت آنے جانے پر کوئی پابندی نہیں تھی۔
گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے کے لیے جب ڈرکن نارمن صدر وارنر کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ گیا تواس کی بیوی کی جگہ سمنتھا ہی الیگزینڈریا کے روپ میں اس کے ساتھ تھی او روہ سوچ رہی تھی کہ کیا ڈبرل کی رسائی یہاں بھی ممکن تھی؟ ایک لمحے کو اس کے دل میں خیال آیاتھا کہ وہ نارمن کی بے خبری میں اسے ہلاک کرکے یہاں سے فرار ہوجائے لیکن یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ اس کے سیکورٹی گارڈ کی نظروں سے پوشیدہ رہے حالانکہ اس نے ایک کار کے ایگی نیشن میں چابیاں لگی چھوڑ دی تھیں دوسرے ہی لمحے اسے اپنے کان میں لگے ایئرچپ کاخیال آیا تھا جس کی وجہ سے بھی اس کافرار ممکن نہیں تھا Elite کے لوگ اسے کسی ایسے کتے کی طرح ڈھونڈھ نکالتے جیسے ایک کتا لومڑیوں کے شکار میں اپنے شکار کو جادبوچتا ہے وہ ایک گھنٹے کے اندر اندر اسے ڈھونڈھ کر اس کے کان میں لگے چپ کو کسی بم کی طرح پھاڑ سکتے تھے جس سے اس کاسر اس کے جسم سے ایسے الگ ہوجاتا جیسے کسی خودکش بمبار کا سرہوجاتاہے اس خیال سے ہی اس کے جسم میں جھرجھری سی پیدا ہوئی تھی۔
وہ نارمن کے کمرے میں موجود تھی اس وقت نارمن نیند کے مزے لے رہاتھا اور نیند سمنتھا کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی وہ کھڑکی کے پاس کھڑی دور اندھیرے میں سراٹھائے لمبے لمبے درختوں کی قطار کو دیکھ رہی تھی وہ جانتی تھی کہ اس اندھیرے میں درختوں کے پیچھے کہیں نہ کہیں Elite کے لوگ بھی موجود ہوں گے جن کی نظریں ادھرہی لگی ہوں گی اس نے سوچا کہ اگر Elite کے لوگ نارمن کو مارنا چاہتے ہیں تو ان کے لیے بہت اچھا موقع ہے کہ وہ سمنتھا کے کان میں لگے چپ کی مدد سے ایک ہی وقت میں دونوں کوختم کردیں لیکن انہوں نے سمنتھا کو چارے کے طور پر استعمال کیاہے اس کی بھی کوئی وجہ ہوگی اس کادل چاہا کہ وہ خود یہ کام کرگزرے اور نارمن کے ساتھ خود کوبھی ختم کرلے لیکن شاید اس میں اتنی ہمت نہیں تھی۔
’’الیگزینڈریا!‘‘ نارمن نے اسے پکارا اور وہ چونک کر اس کی طرف مڑی وہ خوابیدہ آنکھوں سے اسے دیکھ رہاتھا اور وہ اب بھی یہی سوچ رہی تھی کہ اگر اس نے نارمن کاکام تمام کردیا تووہ یہاں سے کیسے فرار ہوگی اور جب نارمن ختم ہوجائے گا توElite کے لیے اس کی اہمیت بھی ختم ہوجائے گی۔
’’کیابات ہے ؟ کیاتم پریشان ہو؟‘‘ نارمن نے دوبارہ پوچھا اور وہ آہستہ آہستہ چلتی اس کے بیڈ کے قریب آگئی پھروہ اس کے پاس بیٹھ گئی تھی چاند کی روشنی نارمن کے چہرے پر پڑرہی تھی او روہ اس کی طرف دیکھ رہاتھا سمنتھا نے سوچا کیا کبھی نارمن نے اس کی ماں کی طرف بھی اسی طرح دیکھا ہوگا؟
’’کیاتم اپنی بیوی سے محبت کرتے ہو؟‘‘ سمنتھا نے پوچھا لیکن نارمن نے جواب نہیں دیا۔
’’میں نے محسوس کیا ہے کہ تم دونوں ایک ودسرے کو نہیں چاہتے۔‘‘
’’تم یہ کیسی باتیں کرنے لگیں الیگزینڈریا‘ بھلااس سے تمہارا کیاتعلق؟‘‘
’’کیاتم نے اپنی زندگی میں واقعی کبھی کسی عورت سے محبت کی ہے؟‘‘ سمنتھا نے پھر پوچھا۔
’’تم ٹھیک تو ہو؟ کیسی بہکی بہکی باتیں کررہی ہو؟‘‘
’’میں جاننا چاہتی ہوں کیاواقعی تم نے کبھی پیار کیا ہے؟ سچا پیار؟‘‘
‘’’کیاتم سنجیدہ ہو؟‘‘ نارمن نے پوچھا۔
’’ہاں۔‘‘
’’ہاں‘ میری زندگی میں ایک عورت آئی تھی۔‘‘ نارمن نے اداسی سے کہا۔ ’’لیکن ہماری ملاقات بہت دیر سے ہوئی تھی۔‘‘
’’کیاہواتھا؟‘‘
’’میں بھی شادی شدہ تھا اور وہ بھی شادی شدہ تھی اور میرے سامنے میری پوری سیاسی زندگی تھی اگر میں اس وقت عقلمندی کامظاہرہ نہ کرتا تو میرا کیریئر تباہ ہوجاتا۔‘‘
’’تم نے اپنے پیار پراپنے کیریئر کو ترجیح دی ؟‘‘ سمنتھا نے کہاوہ اپنا غصہ چھپانے کی پوری کوشش کررہی تھی۔
’’ہاں ؟ اور میرا یہ فیصلہ ساری زندگی مجھے دکھ دیتارہا ہے ۔‘‘
’’کیوں ؟تم نے اپنی مرضی سے فیصلہ کیا ہوگا نا ؟‘‘
’’ہاں لیکن مجھے دکھ ہے کہ میں کبھی اپنی بیٹی سے نہیں مل سکا۔‘‘ نارمن نے کہا وہ اٹھ کر بیٹھ گیا تھا۔
’’پھر تمہاری موجودہ بیوی سے تمہارے بچے نہیں ہوئے ؟‘‘
’’وہ کبھی بچوں کی تمنا نہیں رکھتی تھی۔‘‘
’’توجب تم اپنی بیوی سے محبت نہیں کرتے تو اس سے شادی کیوں کی ؟‘‘
’’اس کاتعلق ایک اچھی فیملی سے ہے اس کے بہت لوگوں سے اچھے تعلقات ہیں اس کاباپ مجھے پسند کرتاتھا اور حالات نے ہمیں ملادیا۔‘‘
’’میں شرط لگا سکتی ہوں کہ وہ خوشی سے کنساس نہیں آئی ہوگی؟‘‘ سمنتھا نے مزید کریدا۔
’’میںنے اسے بہت مجبور کیاتھا۔‘‘ نارمن نے کہااور سمنتھا نے اندازہ لگایا کہ وہ اس کی ماں کی محبت میں کنساس آیاہوگا لیکن وہ یہ سوال پوچھ نہیں سکتی تھی کیونکہ وہ اپنی شنا

خت اس سے چھپارہی تھی۔
’’بس وہی عورت تھی جس سے میں نے محبت کی تھی۔‘‘ نارمن نے کہااور سمنتھا نے اثبات میں سرہلایا۔
’’اس کی آنکھیں گہری سیاہ تھیں جوزندگی کی چمک سے لبریز تھیں۔ اس کے بال اخروٹ جیسی رنگت کے تھے اس کے چہرے پراداسی چھائی رہتی تھی۔‘ ‘ نارمن اپنے ہی خیالات میں مگن بول رہاتھا ۔’’اس نے کنساس میں میری ایک انتخابی مہم میں کام کیاتھا میں اس وقت گورنر کاالیکشن لڑرہاتھا اورہم ایک بس کے سفر پر گئے تھے تب ہی … تب ہی۔‘‘ وہ کہتے کہتے رک گیا اور سمنتھا سوچ رہی تھی کہ وہ کتنابدنصیب ہے کہ بغیر کسی کے پیار کے زندگی گزار رہا ہے ۔ اس کی زندگی کاکوئی مقصد نہیں اس کی قسمت میں کوئی فیملی نہیں‘ کوئی اولاد نہیں اور یہ بھی اس کی بدقسمتی ہے کہ وہ اسے دیکھ رہا ہی اس سے باتیں کررہاہے اور یہ نہیں جانتا کہ وہ اس کی بیٹی ہے جسے دیکھنے کی حسرت اس کے دل میں ہے۔
’’پھر اس عورت اور تمہاری بیٹی کا کیاہوا؟‘‘ سمنتھا نے پوچھا۔
’’وہ دونوں مرگئیں۔‘‘ نارمن نے اداسی سے کہااور اس کی آواز میں بے انتہا کرب تھااور آنکھوں میں آنسو جھلملارہے تھے اچانک سمنتھا کو احساس ہوا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ اسے جو خط اپنی ماں کی قبر کے کتبے کے نیچے سے ملا تھاوہ جعلی ہو اس کی ماں کی طرف سے نہ رکھا گیا ہو بلکہ کسی اور نے اسے غلط رستے پر ڈالنے کے لیے لکھا ہواس کامطلب تھا کہ اس خط میں موجود باتیں بھی غلط ہوسکتی تھیں اسے نارمن سے ہمدردی محسوس ہونے لگی اوراس نے نارمن کو مارنے کاارادہ ملتوی کردیا۔
کیمپ ڈیوڈ سے واپسی کے دوسرے روز سمنتھا کی ملاقات ڈاکٹر مرکس سے ہوئی وہ پچھلے دنوں بہت مصروف رہاتھا اور ڈبرل کے لیے کسی پروجیکٹ پرکام کررہاتھا وہ اسے اپنے ساتھ ڈبرل کے پاس لے گیا۔
’’تم کہاں تھے ؟‘‘ سمنتھا نے پوچھا۔
’’تمہارے لیے ایک خاص لباس کی تیاری کررہاتھا جسے پہن کرتم کسی کونظر نہیں آئوگی۔ڈاکٹر مرکس کے بجائے ڈبرل نے کہا۔
’’اس کی کیا ضرورت ہے ؟‘‘
’’اس طرح تمہیں سین سے فرار ہونے میں آسانی ہوگی۔‘‘
’’سین سے فرار ہونے سے تمہارا کیا مطلب ہے ؟‘‘
’’میرامطلب ہے کہ قتل کے بعد تمہیں وہاں سے فرار ہونے میں آسانی ہوگی۔‘‘ڈاکٹر ڈبرل نے وضاحت کی۔
’’ کس کا قتل ؟‘‘ سمنتھا سمجھ تو گئی تھی لیکن اس نے انجان بنتے ہوئے پوچھا۔
’’ظاہر ہے نارمن کا قتل۔‘‘ڈاکٹر مرکس نے کہا اور سمنتھانے سوچا کہ اسے Elite کے لوگوں ہی نے بتایا تھا کہ نارمن نے اس کے والدین کوقتل کروایااس کی نانی کو قتل کروایا خود اس کی زندگی لینے کی کوشش کی اس وجہ سے وہ بھی نارمن کی دشمن ہوگئی تھی لیکن اب اس کے ساتھ کئی ماہ گزارنے کے بعد اس پرجو حقیقت کھلی تھی وہ یہ تھی کہ اس کی ماں کے ساتھ نارمن کے جو تعلقات تھے وہ ان پرشرمندہ نہیں تھااسے اس کی ماں سے بچھڑنے کادکھ تھا ممکن تھا کہ Elite والے غلط بیانی کررہے ہوں وہ حقیقت جاننا چاہتی تھی ‘یہ بھی ہوسکتا تھا کہ یہElite کی شرارت ہو اور نارمن بے قصور ہو لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ کون سچا ہے ؟ اور اس سب کچھ کا کون ذمہ دار ہے؟
’’میں یہ نہیں کرسکتی۔‘‘ سمنتھا نے ڈبرل کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا وہ نہیں جانتی تھی کہ اس میں اتنی طاقت کہاں سے آگئی تھی کہ اسے ڈبرل کی ناراضگی کابھی خیال نہیں رہاتھا وہ جانتی تھی کہ اس کے اس رویے پر وہ ڈاکٹر مرکس کو اسے شوٹ کرنے کاحکم بھی دے سکتاتھا لیکن اس کی توقع کے خلاف ڈبرل کے چہرے پرمسکراہٹ پھیل گئی تھی۔
’’اوہ‘ لیکن تمہیں یہ کرنا ہوگا مائی ڈیئر۔‘‘
’’ڈبرل تم مجھے قتل کرسکتے ہو اور کسی اور کو لے کرنئے سرے سے کام کرسکتے ہو لیکن تم نارمن کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے وہ ایسی جگہ پر ہے جہاں پہنچنے کا تمہارا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔‘‘
’’میں دیکھ رہاہوں کہ اس نے تمہارے خیالات پربھی قبضہ کرلیاہے۔‘‘ڈبرل نے ناراضگی سے کہا۔
’’یہ تمہارا وہم ہے ۔‘‘
’’تمہیں نارمن کومارناہوگا۔‘‘ ڈبرل نے اس کے نزدیک آتے ہوئے کہا۔
’’تم مجھ سے ایسا کچھ بھی نہیں کرواسکتے۔‘‘ سمنتھا نے بھی اس کے انداز میں جواب دیا۔
’’توپھر ہمیں مجبوراً تمہارے پرانے دوست کو ختم کرنا ہوگا۔‘‘ڈبرل کالہجہ دھمکی آمیز تھااورسمنتھا سوچ رہی تھی کہ اس کااشارہ کس کی طرف ہے اس کاتوکبھی کوئی ایسا دوست ہی نہیں تھا۔
’’میر اکوئی دوست نہیں ہے ۔‘‘
’’کیاتم اتنی بھلکڑ ہو کہ اپنی زندی کے پہلے پیار کو بھول گئی ہو تم سراغرساں جو رابرٹ کوبھول گئی ہو جو ایک ایجنٹ بھی ہے۔‘‘ ڈبرل نے کہا۔
’’ایجنٹ؟‘‘
’’ہاں‘ اس کاہمیشہ FBI میں شمولیت کاخواب پورا ہوگیا ہے او روہ ایک امتحان پاس کرکے اب ہمارے سروں پر آبیٹھا ہے۔‘‘
’’وہ یہاں ہے ؟ واشنگٹن میں؟‘‘ سمنتھا نے حیرت سے کہا۔
’’تم بھی اپنی ماں کی طرح بہت تیز اندازے لگانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔‘‘ ڈبرل نے کہااور ڈاکٹر مرکس کو کچھ اشارہ کرتا ہوا کمرے کے دروازے کی طرف بڑھا۔
’’رابرٹ کوڈھونڈو مرکس۔‘‘ ڈبرل نے جاتے جاتے دانت پیس کرکہا۔
’’ساشا اس پرکام کررہی ہے ریکارڈز سے پتہ چلتا ہے کہ وہ آج صبح بھی سرنگ میں داخل ہواتھا۔‘‘ ڈاکٹر مرکس نے جواب دیا۔
’’ساشا سے کہو کہ آج ہی اسے ڈھونڈے میں بھی کچھ مدد بھیج رہاہوں اور ایرک سے بھی رابطہ کرو۔‘‘
’’کیااسے اپنے پیچھے لگانا عقلمندی ہوگی؟‘‘ ڈاکٹر مرکس نے کہا۔
’’ہمیں اس شخص کوبہت جلدی ڈھونڈنا ہوگاورنہ ہماری ساری محنت بے کارہوجائے گی اور ہدایت کردینا کہ وہ کسی بھی طرح سمنتھا سے نہ مل سکے۔‘‘
’’یس سر۔‘‘ ڈاکٹر مرکس نے کہا۔
’’اورہاں مرکس…‘‘
’’یس؟‘‘
’’آئندہ کبھی مجھ سے سوال مت کرنا۔‘‘ ڈبرل نے کہااور کمرے سے نکل گیا۔
سمنتھا کی آنکھوں میں آنسو تھے اسے اپنی پروا نہیں تھی لیکن وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی وجہ سے جو بھی مصیبت میں پھنسے وہ ونچسٹا جانے سے پہلے جو سے بہت عرصے دور رہی تھی لیکن جب وہ اس سے اس کے آفس میں ملی تھی تو اس نے بچپن کی محبت کومحسوس کیاتھا وہ سوچ رہی تھی کہ جو کب سے DC میں ہے ؟ وہ اس سے بہت قریب ہے لیکن اس کی پہنچ سے باہر ہے ممکن ہے وہ اس کی آواز پہچان جائے لیکن کاسٹمیٹک کے سرجری کے بعد اس کی بدلی ہوئی شکل اور شخصیت سے وہ اسے نہیں پہچان سکے گااسے احساس ہوا کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ایک گہری دلدل میں پھنستی جارہی ہے اس نے سوچا کہ اسے ڈبرل کے کہنے پرنارمن کوختم کردینا چاہیے کیونکہ وہ نہیں چاہتی کہ اس کی خاطر جو کی زندگی خطرے میں پڑے ۔
{…٭…}
یہ جو کی حماقت ہی تھی لیکن وہ ایسا کرنے کے لیے مجبور تھا کسی کوبھی توقع نہیں کہ جو اچانک ہی آفس میں نمودار ہوجائے گا وہ زخمی تھا اس کے پیروں میں جوتے نہیں تھے کپڑے جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے تھے اور وہ لنگڑاتا ہوا لفٹ کی طرف بڑھ گیا تھا آفس کے سیکیورٹی گارڈز نے اس کی معمولی سی تلاشی لی تھی لیکن سب ہی اسے حیرت سے دیکھ رہے تھے جب وہ دوسری منزل پر واقع اپنے چیف اسنوکے دفتر میں پہنچا تھا تو اسنوبھی اسے دیکھ کر اپنی سیٹ سے کھڑا ہوگیاتھا۔
’’اوہ خدایا جو… تم نے کال کیوں نہیں کی؟ میں صبح تین بجے سے یہاں بیٹھا ہوں۔‘‘
’’اس کامطلب ہے خبر مجھ سے پہلے یہاں پہنچ گئی ہے۔‘‘ جو نے ایک کرسی پرڈھیرہوتے ہوئے کہا۔
’’ہاں بالکل … لیکن تمہیں میرے اور اپنے درمیان رابطہ رکھنا چاہیے تھا۔‘ اسنو نے تیزی سے اپنے کمرے کادروازہ بند کرتے ہوئے کہا وہ نہیں چاہتاتھا کہ کوئی انہیں ڈسٹرب کرے پھراس نے کھڑکیوں کے پردے بھی گرادیئے تھے اور اپنی میز پر رکھا فون اٹھایاتھا۔
’’فوراً اسٹاف آفس اور میرے کمرے کے درمیان کی جگہ صاف کرو کوئی دھبہ نظر نہیں آنا چاہیے۔‘‘ اسنو نے جوکے پیروں سے ٹپکتے خون کو دیکھ کر کہا۔
’’دکھائو تمہارے توپائوں زخمی ہیں۔‘‘ اسنو نے جھکتے ہوئے کہا پھر اس نے ایک گیلے کپڑے سے اس کے پائوں صاف کیے تھے اور جونے تکلیف کی شدت سے دانت بھینچ لیے تھے تاکہ منہ سے کوئی آواز نہ نکلے۔
’’جوکار میں لایاہوں اسے غائب کروادو… میری کار حادثے میں تباہ ہوگئی ہے۔‘‘ جو نے کہا۔
’’میں جانتا ہوں مجھے بتایاگیاہے کہ وہ شعلوں کی لپیٹ میں تھی تمہارے جسم کے زخم بھی کہیں کہیں سے جلے ہوئے ہیں۔‘‘
’’چاردنوں میں یہ تیسرا دھماکا کیاگیاہے۔‘‘ جو نے کہا۔
’جس کار میں تم آئے ہووہ کہاں کھڑی کی ہے ؟‘‘ اسنونے پوچھا۔
’’یہاں سے آدھا میل کے فاصلے پر ۔‘‘جونے جواب دیا پھراس نے کار کی لوکیشن بھی بتائی تھی ۔
’’یہاں بھی زیادہ دیر ٹھہرناٹھیک نہیں ہے۔‘‘اسنو نے فکرمندی سے کہا۔
’’میں جانتاہوں لیکن جب میں نے کھڑکی سے چھلانگ لگائی تو میرا فون نیچے گر کر ٹوٹ گیاتھا میں تمہیں کال نہیں کرسکتاتھا۔‘‘ جونے کہا اسنو نے اس کے پیروں کے زخم صاف کرکے دوا لگائی تھی اور بینڈیج کردی تھی پھراس کے آفس کادروازہ کھول کرباہر جھانکاتھا۔
’’گڈ… سب صاف ہوگیا۔‘‘ اس نے کہا۔
’’کیاصاف ہوگیا؟‘‘ جو نے پوچھا۔
’’تمہارے خون آلود پیروں کے نشانات۔‘‘ اسنو نے جواب دیا۔
’’اس کامطلب ہے وہ سمجھ گئے ہوں گے کہ میں یہاں ہوں۔‘‘ جونے فکرمندی سے کہا۔
’’ہاں بہت ممکن ہے …آئو میرے ساتھ آئو۔‘‘ اسنو نے کہااور اپنی کی رنگ میں لگاایک بٹن دبایا اس کے ساتھ ہی اس کے کمرے کی پچھلی دیوار ایک طرف کھسک گئی اور دوسری سمت ایک کمرہ نظر آنے لگا جس کے بارے میں اس کو پہلے کبھی کوئی علم نہیں تھا وہ جو کوساتھ لے کر اس کمرے میں داخل ہوگیا اور دوبارہ بٹن دبانے پردیوار واپس اپنی جگہ پر آگئی۔ کمرے میں مدھم نیلی روشنی پھیلی ہوئی تھی چاروں دیواروں کے ساتھ مانیٹر ز لگے تھے وہاں موجود افراد خاموشی سے اپنے کام میں مصروف تھے وہ ایک دوسرے سے بات بھی نہیں کررہے تھے۔
’’کیا میں ناسا کے مشن کنٹرول روم میں آگیا ہوں؟‘‘ جو نے حیرت سے کہا۔
’’ہمارا ارادہ بہترین ہے۔ میں تمہیں FBIکے اسپیشل ڈیژن میں خوش آمدید کہتاہوں۔‘‘ اسنو نے کہا۔’’آئو… تمہیں کپڑے اور جوتے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘
جو دیوار میں لگے بڑے بڑے اسکرینر کو دیکھ رہاتھا جن میں دنیا کے مختلف شہروں کے لائیو مناظر نظر آرہے تھے۔
’’یہ کیا ہے ؟‘‘ جونے پوچھا۔
’’یہ سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والے مناظر ہیں اس میں سے کچھ تمہارے موجودہ کیس سے بھی تعلق رکھتے ہیں ۔‘‘ اسنو نے کہااور ایک الماری سے کپڑے اور جوتے نکال کر جو کی طرف بڑھادیئے۔ پھراس سے پہلے کہ جو کچھ بولتا آفس کا دروازہ کھلاتھااور بل اندر داخل ہواتھا۔
’’اوہ جو تم زندہ ہو؟‘‘ اس نے حیرت سے کہا جونے اس کی بات کاکوئی جواب نہیں دیااور اسنو نے ایک نیا سیل فون جو کی طرف بڑھادیا۔
’’دیکھو اس سلسلے میں کچھ نئی پیش رفت ہوئی ہے۔‘‘ بل نے کہااور ایک تصویر جیب سے نکال کر اسنو کی میز پررکھ دی۔
’’مرکس اسٹنسن یہ MIT اسپیشلسٹ ہے اس کے پاس میڈیکل کی ڈگری بھی ہے بہت ذہین شخص ہے اس نے ریسرچ کابہت کام کیا ہے یہ پانچ سال پہلے اپنی بیوی اور بچی کے ساتھ ایک حادثے میں ماراگیا لیکن دوسال بعد ہی اس کی ماں نے اسے دیکھاتھا۔‘‘
’’ممکن ہے وہ کوئی غلط فہمی ہووہ اس کاکوئی ہمشکل ہو جسے دیکھاگیاتھا۔‘‘ جو نے کہا۔
’’اگرتم اپنے بیٹے کو گیس اسٹیشن سے باہر آتے دیکھوگے تو کیا نہیں پہچانوگے؟‘‘ بل نے اور ایک تصویر میز پررکھ دی۔
’’یہ اب سے چند ماہ پہلے کی ہے۔‘‘ بل نے کہادونوں تصویروں میں مماثلت تھی۔
’’ممکن ہے یہ مرکس کا کوئی قریبی رشتہ دار ہو؟‘‘ اسنو نے کہا۔
’’اس کاہماری تحقیقات سے کیا تعلق ہے؟‘‘ جو نے پوچھا۔
’’میراخیال ہے کہ یہ ایک خفیہ تنظیم کا سربراہ ہے جو امریکہ کوتباہ کرنا چاہتی ہے۔‘‘ بل نے کہا۔
{…٭…}
سمنتھا ایک بارپھر الیگزینڈریا کے روپ میں نارمن سے ملنے اس کی خواب گاہ میں پہنچ چکی تھی اس بار وہ مہلک سرنچ بھی لائی تھی جو ڈاکٹر مرکس نے اس کے حوالے کی تھی سرنچ اس کے منہ میں تھی اور وہ سیکورٹی سے گزر کر نارمن کی خواب گاہ میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئی تھی پھرنارمن کی گردن میں اس سرنچ کی سوئی چبھونا اس کے لئے کوئی مسئلہ نہیں تھا نارمن کی خواب گاہ میں داخل ہونے کے پندرہ منٹ بعد ہی اس نے کامیابی سے یہ کام کردیاتھا اور نارمن پرسکون ہوتا چلاگیاتھا یوں جیسے نیند نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا ہو‘ سمنتھا ہمیشہ کی طرح بڑے اطمینان سے اس کی خواب گاہ سے نکلی تھی اور گارڈز پرالوداعی نظر ڈالتی اپنی کار کی طرف بڑھ گئی تھی رات کا پچھلا پہر تھا ہر طرف خاموشی تھی اور سب کچھ معمول کے مطابق تھا‘ سمنتھا کی کوشش تھی کہ وہ کم سے کم وقت میں زمین دوز دنیا میں واقع اپنے ٹھکانے تک پہنچ جائے۔
جب وہ ڈاکٹر مرکس کے پاس اس کی لیبارٹری میں پہنچی تھی اس وقت تک نارمن کی موت کی خبر عام ہوچکی تھی اور شہر میں الیگزینڈریا کی تلاش شروع ہوچکی تھی ٹی وی چینلز سے اس کی تصاویر دکھائی جارہی تھیں اور شہر میں ریسرچ آپریشن شروع ہوچکاتھا۔
’’سمنتھا جلدی کر وتم خود کو خفیہ سرنگوں میں چھپالو‘ انہیں ہم پر شک ہوسکتاہے وہ ہماری تلاش میں یہاں بھی آسکتے ہیں شاید ہم یہاں محفوظ نہ رہیں جلدی کرو۔‘‘ ڈاکٹر مرکس نے کہااور سمنتھا تیزی سے اس کی لیبارٹری سے نکل گئی۔
{…٭…}
چیف اسنو کی میز پررکھے رفون کی بیل بجی اوراس نے تیزی سے ریسیور اٹھایااس نے تھوڑی دیر دوسری طرف سے آنے والی آواز سنی تھی اور پھر تیزی سے ریسیور کریڈل پرمار دیاتھا۔
’’ہمیں بہت دیر ہوگئی ہے مجھے جلدی ایک کار دو۔‘‘ اس نے دروازے کی طرف بھاگتے ہوئے کہا جو کی توجہ ابھی تک میز پرپڑی تصویروں کی طرف تھی۔
’’مرکس کے ساتھ یہ جو عورت ہے اس کانام کیاہے؟‘‘ جونے تصویر میں موجود عورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا اس کی نظریں اس کے سرخ بالوں پرمرکوز تھیں۔
’’الیگزینڈریا‘ لیکن میرا خیال ہے کہ یہ ایک کوڈ نیم ہے کیونکہ ہمیں اس کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ملی ہیں صرف اس کا قد ‘ وزن معلوم ہوسکاہے جو کہ ایک بین الاقوامی اسٹینڈرڈ کے مطابق ہے۔‘‘ بل نے کہا۔
’’یعنی 5.7قد اور 125وزن ؟‘‘ جو نے کہا۔
’’ہاں… اچھا مجھے ابھی جانا ہے مزید تحقیق کے لیے۔‘‘ بل نے بتایا تو جو بھی کھڑا ہوگیا۔
’میں بھی تمہارے ساتھ چلوں گا۔‘‘ اس نے کہااور بل کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے لگا FBI کے دفتر سے باہر آنے کے بعد ووہ کار میں بیٹھے تھے فضا میں تفتیشی ہیلی کاپٹرز کی پروازیں شروع ہوچکی تھیں بل کافی دیر تک شہر کی مختلف سڑکوں پرکار دوڑاتا رہاتھا پھراس نے ایک پرانی سی بلڈنگ کے سامنے جاکر کار روک دی تھی اور کار سے اتر گیاتھا جو نے بھی اس کی تقلید کی تھی۔
’’تم نے یہی کہاتھانہ کہ وہ عورت اس بلڈنگ کے مشرقی کونے کی طرف جاکرغائب ہوگئی۔‘‘ بل نے موقع پر کھڑے سیکرٹ سروس ایجنٹ سے پوچھا۔
’’جی جناب۔‘‘
’’اس کامطلب ہے کہ ہمیں ویئر ہائوس ڈسٹرکٹ جانا ہوگا۔‘‘ جونے جلدی سے کہا۔
’’کیوں ؟‘‘
’’کیوں ؟‘‘ بل نے تیزی سے پوچھا۔
’’کیونکہ اس بلڈنگ کے مشرق کی طرف ویئر ہائوس ڈسٹرکٹ ہے ممکن ہے ہمارے دشمنوں کے ٹھکانے وہاں ہی ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے میں بھی تمہارے ساتھ چلتاہوں۔‘‘ بل نے کہااور وہ دونوں ویئر ہائوس کی طرف بڑھ گئے تھے۔ ویئر ہائوس کے علاقے میں خاموشی تھی۔ یہاں پولیس کی کاروں کے سائرن بھی سنائی نہیں دے رہے تھے اور ہیلی کاپٹرز کی آوازیں بھی دور سے آرہی تھیں رات کی تاریکی پھیلتی جارہی تھی جو تیزی سے سڑک کے دوسری طرف ایک گلی کی طرف بڑھااور بل کومخالف سمت میں جانے کی ہدایت کی ان دونوں کی نظریں اور کان تاریکی میں کچھ دیکھنے اور سننے کے لیے بے چین تھے۔
جو گلی کا کونہ مڑ کر ایک محرابی دروازے کے سامنے پہنچ گیاتھا جہاں خاصااندھیراتھا اس نے اپنی آنکھوں کو اندھیرے کاعادی کرنے کے لیے کچھ دیر کے لیے آنکھیں بند کیں اور ایک گہرا سانس لے کر دروازے کی تاریکی میں غائب ہوگیا کچھ آگے جانے کے بعد اسے تھکی تھکی سانسوں کی آواز سنائی دی اس کوخیال آیا کہ شاید کوئی چہل قدمی کرتے ہوئے گزررہاہوگا پھر سانسوں اور قدموں کی آوازیں قریب آتی گئی قریب… اور قریب… جو نے اپنی کمر میں لگی پستول اپنے ہاتھ میں پکڑ لی اور انتظار کرنے لگاچند ہی سیکنڈ میں کوئی زور سے اس سے ٹکرایاتھا اور اپنے اوپر گرنے والے کے وزن سے خود بھی پیچھے کو گرتا چلاگیاتھا۔
’’جو؟‘‘ اسے سمنتھا کی جانی پہچانی آواز سنائی دی تھی۔ اس کے سامنے اندھیرے میں ایک عورت نیچے گری ہوئی تھی لیکن کاچہرہ نظر نہیں آرہاتھا لیکن جو اس آواز کو ہزاروں آوازوں میں بھی پہچان سکتاتھا۔
’’سیم؟‘‘ جوکے منہ سے بے ساختہ نکلاجبکہ وہ جانتاتھا کہ سمنتھا مرچکی ہے لیکن اس نے ذہنی طور پر اس کی موت کوتسلیم نہیں کیاتھا وہ اس کی سوچوں میں زندہ تھی اس کے خوابوں میں روز آتی تھی اور اب اس کے سامنے سڑک پر پڑی تھی اسے اپنی آنکھوں پریقین نہیں آرہاتھا۔ اس کی پستول اس کے ہاتھ سے چھوٹ کرنیچے گر گئی تھی اوراس نے سمنتھا کااپنی طرف بڑھا ہواہاتھ تھام لیاتھا جس کے ساتھ ہی اس کے جسم میں ایک بجلی سی دوڑی تھی اوراس نے سمنتھا کواپنی طرف کھینچا تھا دوسرے ہی لمحے وہ اس کے سینے سے لگی تھی۔
’’جو…! جوتم کہاں تھے ؟‘‘ سمنتھا نے بے قراری سے کہا لیکن جو والہانہ انداز میں اسے پیار کررہاتھا وہ برسوں کی دوریاں ختم کردینا چاہتاتھا اس کی انگلیاں سمنتھا کے بالوں میں گردش کررہی تھیں پھراچانک ہی وہ اس سے جدا ہوگیاتھا۔
’’تم… تم تومرچکی ہو۔‘‘ اس نے اچھنبے سے کہااب اس کی نظریں سمنتھا کے اخروٹی بالوں اور ہری آنکھوں پرمرکوز تھیں اس کے گالوں کی ہڈیاں خاصی ابھری ہوئی تھیں اور وہ کسی طرح بھی سمنتھا سے مشابہہ نہیں تھی سوائے آواز کے ۔‘ جونے تیزی سے زمین پرپڑا اپنا پستول اٹھایا اور اسے اس عورت کی گردن پرلگادیا۔
’’بتائو تم کون ہو؟‘‘ جونے کہا لیکن اس عورت کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور ہونٹوں پر ایک اداس مسکراہٹ تھی۔
’’مجھے یقین نہیں آرہا جو کہ تم میرے سامنے موجود ہو۔‘‘ اس نے کہا۔ ’’تم مجھے نہیں پہچان سکتے کیونکہ انہوں نے مجھے تبدیل کردیا ہے انہوں نے پلاسٹک سرجری کے ذریعے میری بہت سی چیزیں بدل دی ہیں یہ جسم اب مکمل طور پرمیرا نہیں ہے لیکن تم مجھ پریقین کرو میں سمنتھا ہی ہوں۔‘‘
’’میں تم پر کیسے یقین کرلوں؟‘‘ جونے کہا۔
’’تمہیں وہ دن یاد ہے جب میری نانی کے گھر کے تہ خانے میںتم نے مجھے پہلا پیار کیاتھا؟‘‘ اس نے کہااور جو کی آنکھوں میں برسوں پرانا وہ منظر گھوم گیاجس کے بارے میں ان دونوں کے علاوہ کوئی نہیں جانتاتھا اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں وہ بغوراس کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا او راپنی یادوں میں محفوظ چہرے سے اسے ملانے کی کوشش کرنے لگا اس کاپستول والاہاتھ نیچے گر گیا۔
’’تمہارے ساتھ کیاہوا؟‘‘
’’میراخیال ہے میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے۔‘‘ سمنتھا نے اداسی سے زمین کودیکھتے ہوئے کہا پھر وہ اس کی طرف اجنبی انداز میں دیکھنے لگی۔
’’میں جن لوگوں سے پیار کرتی تھی انہوں نے ان سب کو مار دیا‘ میں اب تمہارے لیے ایسا نہیں ہونی دوں گی‘ میں انہیں تمہیں مارنے کی اجازت نہیں دوں گی تم مجھے جانے دو ورنہ وہ تمہیں بھی مار دیں گے۔‘‘
ؔ’’وہ کون ؟ ان سے تمہاری کیامراد ہے ؟‘‘جو نے پوچھا اور اسی وقت ہیلی کاپٹرز کی آواز قریب آتی سنائی دی سمنتھا کے چہرے پر خوف کے سائے لہرانے لگے۔
’’جو پلیز‘ تم مجھ سے دور چلے جائو… اگرمیں جلدی واپس نہ گئی تووہ ایک بٹن دبائیں گے اور مجھے ایک دھماکے سے اڑادیں گے ہم دونوں مرجائیں گے…‘‘ سمنتھا نے کہا تو جوکے ذہن میں اس تصویر کا خیال آیا جس میں وہ ڈاکٹر مرکس کے ساتھ موجود تھی۔
’’کیا ڈاکٹر مرکس کااس سے کوئی تعلق ہے؟‘‘ جونے پوچھااور اسی وقت ہیلی کاپٹرز کی نیچی پرواز کے باعث فضا میں مٹی اور گردوغبار چھاگیاسمنتھا ایک بار پھر جو سے لپٹ گئی۔
’’تم Elite کو ڈھونڈو تم مجھے ڈھونڈھ لوگے۔‘‘ سمنتھا نے کہا اور تیزی سے سڑک پار کرکے اندھیرے میں غائب ہوگئی اسی وقت ایک دھماکا ہوااور ہر طرف دھوئیں کے بادل چھاگئے۔
{…٭…}
مرکس اپنی لیبارٹری میں کھلنے والی لفٹ کی طرف بڑھاتھا ہر طرف سے چیخنے اور قدموں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں زینی کے دروازے بھی کھلے تھے اور لوگ اندر داخل ہوئے تھے ان میں سے کچھ زخمی تھی اور کچھ لاشیں تھیں جنہیں لوگ اٹھائے ہوئے تھے‘ مرکس کی لیبارٹری کی لفٹ کادروازہ کھلاتھااور لفٹ میں سمنتھا بے ہوش پڑی تھی وہ زخمی تھی مرکس نے اسے کھینچ کرنکالا تھا اوراسے ایک بیڈ پرلٹادیاتھا اس کی سانسیں بہت دھیمی تھیں لفٹ کادروازہ بند ہوگیاتھا اور مرکس نے سمنتھا کو طبی امداد دینا شروع کردی تھی۔
مانیٹر کی سیٹی کی مستقل آواز ڈاکٹر مرکس کے کانوں سے ٹکر ارہی تھی۔ سمنتھا زندہ رہنے کی جدوجہد کررہی تھی اور سمنتھا کی زندگی مرکس کے لیے بھی اہمیت اختیار کرگئی تھی اس کی سیدھی ٹانگ بری طرح زخمی تھی مرکس نے اس کے زخم کوٹانکے لگائے تھے اسے کئی گھنٹے لگ گئے تھے وہ ٹانگ کے زخم کاعلاج کرنے کے ساتھ ساتھ سمنتھا کی زندگی کوبھی یقینی بنانا چاہتاتھااور چاہتاتھا کہ اس کی ٹانگ بھی ناکارہ نہ ہوجائے۔ ٹانگ کے ٹشوز میں دوران خون برقرار رکھنابہت مشکل مرحلہ تھا اس کے ساتھ کئی اسسٹنٹ اس کام میں مشغول تھے پھراچانک ہی لیبارٹری کادروازہ زور دار آواز کے ساتھ کھلاتھا اور ڈبرل غصے کے عالم میں اندر داخل ہواتھا اس نے کوئی دستانے یاماسک نہیں پہناہواتھا جو اسے جراثیم سے محفوظ رکھے جبکہ پہلے وہ اس کابہت خیال رکھتاتھا۔
’’آخر تم کرکیارہے ہو کہیںتم پاگل تو نہیں ہو؟‘‘ ڈبرل نے غصے سے کہا۔
’’میں اس کی زندگی بچانے کی کوشش کررہاہوں۔‘‘ ڈاکٹر مرکس نے دھیمی آواز میں جواب دیا۔
’’تمہارا خیال ہے کہ میں تمہاری اس ہمدردانہ کوشش کی تعریف کروں گا کہ تم اسے بچانے کی کوشش کررہے ہو۔‘‘ اس نے کہا مرکس نے کوئی جواب نہیں دیاتھا۔
’’تم ہمارے قیمتی اثاثے اس پرضائع کررہے ہو ہمارا مشن مکمل ہوچکا ہے اوراب اس کی زندگی کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں ہم اس مشن کی تکمیل کی اس آخری گواہی کو بھی ختم کردینا چاہتے ہیں۔‘‘ مرکس اب بھی خاموش تھا وہ جانتاتھا کہ اگراس نے ذر ابھی مزاحمت کی تو ڈبرل اسے بھی گولی مار دے گا وہ پہلے بھی ایسا کرچکاتھا اور اپنی مرضی کے خلاف کام کرنے والوں کوختم کردیاکرتاتھااس کی تمام وہ مجبوریاں اب ختم ہوچکی تھیں جن کی وجہ سے اس نے بہت سال پہلے Elite میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس نے ڈبرل کوبہترین فارمولوں پرکام کرکے دیاتھا لیکن اس کے بدلے میںکبھی اس کی تعریف نہیں کی گئی بلکہ اسے ہمیشہ ذلیل کیاگیا۔ ڈبرل کاسلوک مرکس کے ساتھ نوکروں جیساتھاجبکہ اس نے ایک شراکت دار کے طو ر پر اسے اپنے ساتھ شامل کیاتھا۔
’’میں یقین سے کہہ سکتاہوں کہ انہوں نے DNA کے سیمپلز لیے ہوں گے اور چند ہی دنوں میں انہیں حقیقت پتہ چل جائے گی وہ اس کااصل نام ڈھونڈھ نکالیں گے میرا خیال ہے تم اسے زندہ رکھنے کی جو کوشش کررہے ہو وہ غلط ہے۔‘‘ ڈبرل نے کہالیکن مرکس بغور سمنتھا کی ٹانگ کامعائنہ کررہاتھا۔
’’اس کی سرجری یہاں سے شروع کرنا۔‘‘ ڈبرل نے اپنی انگلی اپنے چہرے پرپھیرتے ہوئے کہا۔ ’’لیکن جیسے ہی یہ صحت یاب ہو اسے یہاں سے کہیں دور بھیج دینا میں آئندہ نہ اس کی آواز سننا چاہتاہوں اور نہ اس کی شکل دیکھنا چاہتاہوں۔‘‘
’’یس سر۔‘‘ مرکس نے آہستہ سے کہا۔
پھرجیسے ہی ڈبرل لیبارٹری سے گیاتھا مرکس نے اپناکام شروع کردیاتھا۔ پھراچانک اس کے ذہن میں ایک خیال آیاتھااوراس نے اس پرعمل کرنے کافیصلہ کرلیاتھا۔ وہ سمنتھا کوزندہ رکھنے کی ہرممکن کوشش آزمانا چاہتاتھا اور توقع سے بھی کم وقت میں اسے اس کے پیروں پرکھڑا کرنا چاہتاتھا تاکہ وہ یہاں سے فرار ہوسکے۔
{…٭…}
’’یہ ناممکن ہے ۔‘‘ چیف اسنو نےDNA کے رزلٹ کی کاپی جو کو دیتے ہوئے کہا۔
’’تم خود دیکھ لو۔‘‘
’’یہ کیسے ممکن ہے؟‘‘ جو نے رپورٹ دیکھتے ہوئے کہا جس میں سمنتھا رابرٹ کانام لکھاہواتھا۔
’’وہ تو دھماکے میں ماری گئی تھی۔‘‘ جو نے کہا۔
’’ہاں‘ لیکن تم اس سرنگ کوبھول جائوگے جو اس کے گھر سے باہر کی طرف جاتی تھی تم نے خود وہاں کے کئی چکر لگائے تھے۔‘‘ اسنو نے یاددلایااور جو نے سوچا اس سرنگ کو وہ کبھی نہیں بھول سکتا اس نے سوچا ممکن ہے وہ سرنگ صرف خود کو کسی طوفان سے بچانے کے لیے احتیاطی طور پر بنائی گئی ہو لیکن پھراسے سمنتھا کی تدفین کے موقع پر اس سیاہ لباس والی عورت کا خیال آیا جس کی حقیقت وہ آج تک نہ جان سکاتھاوہ سمنتھا کے والدین کی قبر وں پر بھی کچھ لمحے کے لیے رکی تھی جیسے دعا کررہی ہو کاش وہ اس روز اس عورت پرخاص توجہ دیتااس کی نظریں چیف اسنو کے پرائیویٹ روم میں لگے اسکرینر پرجمی ہوئی تھیں جہاں سمنتھا کے جسم اور چہرے کی پلاسٹک سرجری کے مختلف مراحل کی تصاویر دکھائی جارہی تھیں ایک اور اسکرین پر وائس پریذیڈنٹ نارمن کی تدفین کے مناظر چل رہے تھے اور جو سوچ رہاتھا کہ سمنتھا قاتل نہیں ہوسکتی وہ اب پولیس کومطلوب تھی ایک قاتل کی حیثیت سے اگر جو اسے بچانے کی کوشش بھی کرتاتو نہیں بچاسکتاتھا اسے کہیں نہ کہیں شناخت کرلیاجاتااسے یوں لگاجیسے سمنتھا کو ایک بارپھر کھودینے کے خوف سے اس کا دل ڈوبتاجارہا ہے۔
{…٭…}
ڈبرل پھر سمنتھاسے ملنے نہیں آیا تھا ڈاکٹر مرکس نے اس کی بہترین دیکھ بھال کی تھی اور بہت کم وقت میں وہ چلنے پھرنے کے قابل ہوگئی تھی لیکن اسے حیرت تھی کہ وہ ڈاکٹر مرکس ڈبرل کے مشن میں اس کاساتھی تھا اب سمنتھا سے اتنی ہمدردی کیوں کررہاتھاوہ اب وہاں زیادہ دیرٹھہرنا نہیں چاہتی تھی کیونکہ مشن کی تکمیل کے بعد وہ ان کے لیے ایک بے کار پرزے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی تھی۔ اسے موقع کی تلاش تھی تاکہ وہاں سے فرار ہوسکے وہ مرکس کی غیر موجودگی میں اپنی ٹانگ کومضبوط بنانے کے لیے مختلف ورزشیں کرتی رہتی تھی۔
ایک شام جب وہ تنہاتھی تومرکس اس کے کمرے میں آیا اور اس کامعائنہ کرنے کے بعد اس نے اپنے اوور کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک نوٹ بک اور پین نکالا اوراس پرکچھ لکھنے لگا پھراس نے وہ پیپر پھاڑ کر سمنتھا کی طرف بڑھادیاتھا۔
’’کیااب میرا آئی ٹیسٹ لے رہے ہو؟‘‘ اس نے پوچھا تو ڈاکٹر مرکس نے ہونٹُوں پرانگلی رکھ کراسے خاموش رہنے کااشارہ کیااور سمنتھا پیپر پر لکھی تحریر پڑھنے لگی۔
’’فرار کامنصوبہ ‘کسی کوپتہ نہ چلے کہ تم چل سکتی ہو خاموشی سے غائب ہوجانا۔‘‘
’’کیوں ؟‘‘ سمنتھا نے کاغذ پرلکھا وہ اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی۔
’’ڈبرل تمہیں ختم کروادینا چاہتا ہے۔‘‘ مرکس نے کاغذ پرلکھا۔
’’میرے کان کی چپ کا کیاہوگا؟‘‘ سمنتھا نے کاغذ پر پھر لکھا۔’’اس سے نجات پائے بغیر میں کیسے آزاد ہوسکتی ہوں۔‘‘
’’میں تمہیں اس سے نجات دلادوں گا۔‘‘ مرکس نے کہااور پھر اس نے سارے کاغذ جمع کرکے ایک پلیٹ میں رکھے اور ان پرہائیڈروکلورک ایسڈ ڈال دیادیکھتے ہی دیکھتے وہ کاغذ اس ایسڈ میں گھل گئے تھے۔ اوران کی گفتگو کاثبوت مٹ گیاتھا۔
دوسری رات ڈاکٹر مرکس نے سمنتھا کوسوتے سے جگایاتھا۔
’’سمنتھا! سمنتھا اٹھو اب وقت آگیا ہے ۔‘‘اس نے سرگوشی کی اور سمنتھا کروٹ لے کراٹھ گئی کمرے میں آتے ہی ڈاکٹرز نے بڑی مہارت سے کمرے میں لگا کیمرہ ٹیپ سے چھپادیاتھا پھراس نے ایک چھوٹا سا پیکٹ سمنتھا کو دیاتھا۔
’’یہ کیا ہے ؟‘‘
’’اس میں کچھ چھوٹے اوزار ہیں۔‘‘
’’ کس لیے ؟‘‘
’’میں تمہیں ابھی یہاں سے نکالنا چاہتاہوں۔‘‘
’’میری ٹانگ میں ابھی درد ہے۔‘‘
’’میں جانتاہوں لیکن ہمارے پاس وقت نہیں ہے مجھے امید نہیں تھی کہ وہ اتنی جلدی سمنتھااور الیگزینڈریا کا راز جان جائیں گے‘ لیکن وہ جان گئے ہیں وہ تمہیں پہچان گئے ہیں کہ تم سمنتھاہواور تم ہی الیگزینڈریا ہو انہیں یقین ہوگیا ہے کہ ایک سال پہلے ہونے والے دھماکے میں تم نہیں ماری گئی تھیں وہ تمہاری تلاش کررہے ہیں ڈبرل کو FBI کی معلومات مل چکی ہیں وہ ابھی ملک سے باہر ہے لیکن جلد ہی واپس آنے والا ہے اور اس کے آنے سے پہلے تمہیں یہاں سے نکلنا ہے۔‘‘ مرکس نے کہااور سمنتھا کو فوراً ہی جو کا خیال آیا صرف جوہی اس کی مدد کرسکتاتھا وہ اسے قانون سے نصاف دلاسکتاتھا۔
’’لو یہ کچھ رقم ہے اسے تم رکھ لو تمہیں ضرورت پڑسکتی ہے۔‘‘ مرکس نے اسے کچھ رقم دیتے ہوئے کہا۔
’’تم یہ سب کیوں کررہے ہو؟‘‘
’’مجھے احساس ہوگیاہے کہ میں ڈبرل کے ساتھ غلط راستے پر جارہاتھااس نے میری بیوی اور بچی کو بھی مار دیاتھا میں اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنا چاہتاہوں میں جانتا ہوں کہ تم بے قصور ہو میں اس لیے تمہاری مدد کررہاہوں ۔‘ مرکس نے کہا پھراس نے سمنتھا کے کان کی لو میں ایک انجکشن لگایا ۔
’’جیسے ہی دوا کام کرے گی یہ حصہ سن ہوجائے گا۔‘‘ اس نے لو پر ایک کالا نشان بناتے ہوئے کہا۔
’’تم اس چپ کونکال پھینکنا پھرتم آزاد ہوگی۔‘‘
’’اور تم؟ تم کیا کروگے ؟‘‘
’’میں بعد میں تمہارے پاس آجائوں گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘
’’تم شہر کے بڑے گرجا گھرچلی جانا او روہاں میراانتظار کرنا میں دوگھنٹے میں پہنچ جائوں گا لیکن اگر نہ پہنچوں تو تم وہاں سے چلی جانا۔‘‘
’’کہاں ؟‘‘ سمنتھا نے پوچھا۔
’’تم سمجھدار ہو… خود فیصلہ کرسکتی ہو۔‘‘ مرکس نے مسکراتے ہوئے کہا۔’’ میں جانتاہوں تم میں ایسی صلاحتیں ہیں کہ اگر تم چاہو تو ان سے ایک قدم آگے چل سکتی ہو۔‘‘
’’تم نے اس وقت کاہی کیوں انتخاب کیا؟‘‘ سمنتھا نے پوچھا۔
’’تمہیں ابھی تک اندازہ نہیں ہوا؟ میں تمہیں چاہتاہوں مجھے احساس ہواہے کہ تمہارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور میں نے جیسے پہلے کہا میں اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنا چاہتا ہوں تم تین نمبر سرنگ سے جانا میں نے وہاں کے کیمرے ناکارہ کردیئے ہیں اور کنٹرول کو آٹو پر لگادیاہے تمہارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔‘‘ مرکس نے کہااور دوسرے ہی لمحے اسے تنہا چھوڑ کر وہاں سے چلاگیا‘ سمنتھا کومحسوس ہوا کہ اس کے کان کی لو انجکشن کے اثر سے سن ہوگئی ہے اس نے ہول پنچ اٹھایااور آئینے میں دیکھتے ہوئے لو پرلگے کالے نشان پر ہول پنچ رکھ کردبادیا اس کے منہ سی ایک ہلکی سی سسکی نکلی تھی اس نے چپ سے جڑی ہوئی تمام تاروں کوایک بارہی میں کاٹ دیاتھا ورنہ وہ دھماکے سے مرسکتی تھی چپ سے نجات ملنے پرسمنتھا نے آنکھیں بند کرکے ایک گہرا سانس لیاتھااور لفٹ میں چلی گئی تھی۔
کچھ دیر بعد ڈبرل اس کے کمرے میں آیا تھا اور سمنتھا کووہاں نہ پاکر اس کاغصہ عروج پرپہنچ گیاتھا۔
’’میں چاہتا ہوں اسے فوراً تلاش کرو۔‘‘ اس نے غصے سے کہا۔ مرکس نے کبھی اسے اتنے غصے میں نہیں دیکھاتھا وہ دل ہی دل میں دعا مانگ رہاتھا کہ غصے کی شدت سے ڈبرل کوہارٹ اٹیک ہوجائے تو بہت سی زندگیاں اس کے ظلم سے نجات پالیں گی اور سمنتھا بھی اس کی پہنچ سے دور نکل جائے گی اور پھر وہ بھی اپنے پروگرام کے مطابق موقع دیکھ کرفرارہوجائے گا اس کا دل چاہا کہ کسی طرح وہ وقت کوواپس لاسکے اور اس وقت میں پہنچ جائے جب اس کی بیوی اور بیٹی اس کے ساتھ تھیں اسے اب تک ڈبرل کے ساتھ گزارا ہواوقت ایک ڈرائوناخواب نظر آرہاتھا وہ اپنی زندگی کو نئے انداز سے گزارنے کامنصوبہ بنا چکاتھا۔
’’شمالی جانب کے چیمبرز چیک کروائو اور اسے ڈھونڈو یہ بھی پتہ کرو کہ اس سب کے پیچھے کون ہے ؟‘‘
ڈبرل نے غصے سے کہا۔ ’’اس کے کمرے سے ایک ہول پنچ ملا ہے کسی نے اس کی مدد کی ہے اس کی ٹانگ زخمی ہے وہ زیادہ دور نہیں گئی ہوگی۔‘‘ ڈبرل غصے میں بولے جارہاتھا۔
’’تم فکرمت کرو میںپتہ کرتاہوں۔‘‘مرکس نے کہا۔
’’جوبھی اطلاع ملے فوراً مجھے بتانا۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ مرکس نے کہا پھراس نے سرچ ٹیم کودوحصوں میں بانٹ دیاتھااور زمین دوز دنیا میں کئی گھنٹے تک سمنتھا کی تلاش ہوتی رہی تھی‘ خود مرکس کو کسی ایسے لمحے کاانتظار تھا کہ وہ اپنے کمرے تک جاسکے اور پھراسے موقع مل ہی گیاتھا۔
’ڈاکٹر مرکس مجھے کچھ ملا ہے۔‘‘ ایک سیکورٹی گارڈ نے کہا۔
’’کیاہے ؟‘‘
’’ایک سادہ نوٹ بک ہے لیکن اس کے صفحات پر لکھے جانے کے نشانات مل سکتے ہیں۔‘‘
’’یہ سادہ ہے اس میں کیا ملے گا۔‘‘ مرکس نے تھوک نگلتے ہوئے کہا۔
’’لیکن سر یہ کچرے دان میں تھی اور ڈبرل نے کہا ہے کہ ہرچیز چیک کرو۔‘‘
’’اچھاٹھیک ہے۔‘‘مرکس نے وہاں موجود دوسرے سیکورٹی گارڈ کوبھی بلایا۔ ’’تم دونوں جائو اور ڈبرل کویہ نوٹ بک دکھائو ممکن ہے اس سے کوئی سراغ مل سکے۔‘‘
’’ٹھیک ہے جناب۔‘‘
’’میں بھی ڈبرل سے ملوں گا کچھ ضروری بات کرناہے میں دس منٹ میں آتاہوں۔‘‘ مرکس نے کہااور وہ بھی وہاںسے اپنے کمرے کی طرف چلاگیا اپنے کمرے میں جاکر اس نے دروازہ بند کرلیاتھا اس نے اپنے کمرے کاکیمرہ چھپانے میں وقت ضائع کرنے کے بجائے کمرے کی لائٹ آف کردی تھی اور اندازے سے کمرے میں حرکت کررہاتھا اس نے بھی ایک درواز سے ہول پنچ نکالاتھا اوراپنے کان کی لو میں لگے چپ کو سمنتھا کی طرح مہارت سے نکال دیاتھا اس کے ساتھ ہی تین درد کی گولیاں بھی کھائی تھیں۔ یہ بہت بڑاخطرہ تھا جو مرکس اور سمنتھا نے لیاتھا اس طرح دھماکے میں وہ ہلاک بھی ہوسکتے تھے لیکن دونوں نے مہارت سے خود کوچپس سے آزاد کرلیاتھا پھرمرکس نے کان کی زخمی لو پر ٹیپ کی مدد سے بینڈیج لگائی تھی پھراس نے اپنا پستول لے کر کمر میں لگایا تھا اور کمرے سے نکل گیاتھا وہ زمین دور دنیا سے اوپر کی دنیا میں جانے والی لفٹ کی طرف بڑھا تھا لفٹ کادروازہ کھلاتھااور لفٹ میں اس کے سامنے ڈبرل موجود تھا جو اسے حیرت سے دیکھ رہاتھا لیکن مرکس گھبرایا نہیں تھا۔
’’مرکس تم …؟ میں تو سوچ بھی نہیں سکتاتھا کہ تم یہ کام کرسکتے ہو؟‘‘ ڈبرل نے کہا اور مرکس نے بغیر سوچے سمجھے اپنی پستول نکالی اور ڈبرل پرگولیاں چلادیں پھراس نے اپنے سر میں بھی گولی مار لی تھی وہ نہیں چاہتاتھا کہ کوئی سمنتھا تک پہنچ سکے چنانچہ اپنی جان کانذرانہ پیش کردیاتھا۔
{…٭…}
مرکس کابتایاہوا وقت گزرچکاتھا۔ سمنتھا چرج میں اس کاانتظار کررہی تھی لیکن مرکس نہیں آیا تھا۔ سمنتھا نے اپنے بالوں کوسیاہ رنگ لیاتھا کپڑے تبدیل کیے تھے بالوں کا اسٹائل بدلاتھا‘ وہ چرچ میں ہر دوگھنٹے بعد اپنے چھپنے کی جگہ بدل رہی تھی اسے شدت سے مرکس کاانتظار تھا اس کے نہ آنے پر وہ بدگمان ہوگئی تھی اوراسے خیال آیا تھا کہ ممکن ہے وہ کسی مصیبت کاشکار ہوگیاہو اس خیال کے ساتھ ہی آنسو اس کے گالوں پربہہ نکلے تھے اس بار اس نے چھپنے کے لیے پادری کی بیٹھک والی جگہ کو چناتھا۔ پھرکافی دیر وہاں چھپے رہنے پر وہ تھک گئی تھی اوراسے نیند آگئی تھی۔
کچھ دیر بعد اس کی آنکھ کسی کے پیروں کی آہٹ سے کھلی تھی‘ کوئی اس پارٹیشن میں آیا تھا جہاں بیٹھ کر پادری لوگوں کی فریاد سنا کرتاتھا۔
’’یہ تو بہت جلدی ہے لیکن کوئی بات نہیں ہم تو خدا کے لیے اس کے وقت کے مطابق کام کرتے ہیں۔‘‘ کسی نے نرم آواز میں کہا‘سمنتھا حیران تھی کہ وہاں سے بھاگ جائے یااس پادری کی بات کا جواب دے۔
’’اگر تم چاہو تو میں تمہاری فریاد سننے کے لیے تیار ہوں۔‘‘ پادری نے کہا۔
’’فریاد؟‘‘سمنتھا نے اچانک کہا۔
’’اس وقت کسی کو یہاں کھینچ لانے کامقصد یہ ہے کہ تمہاری فریاد بہت دکھ بھری ہے۔‘‘
’’میں بہت عرصے سے چرچ میں نہیں گئی۔‘‘
’’کوئی بات نہیں‘ خدا سب کی سنتاہے۔‘‘
’’لیکن شاید میری نہیں سنتا۔‘‘ سمنتھا نے دکھ سے کہا۔
’’تمہاری یہاں موجودگی کامطلب یہی ہے کہ تم وہاں آگئی ہو جہاں خداسب کی سنتاہے ۔‘‘ پادری نے کہااور اس کے لہجے میں نہ جانے کیابات تھی کہ سمنتھا بے ساختہ اسے سب کچھ بتاتی چلی گئی اس کی پیدائش ‘اس کی موت‘ اس کی دوبارہ نئی زندگی‘ Elite سے تعلق‘ مرکس اور ڈبرل کے بارے میں ‘نارمن کاقتل‘ نانی اور فیملی کاقتل ‘ غرض اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کے بارے میں اسے جو یاد تھا اس نے بتادیا۔ اس میں کافی وقت گزرگیاپادری نے اسے دعا دی اور جب وہ اس جگہ سے نکلی تو وہ کسی تتلی کی طرح ہلکی پھلکی تھی اس کے دل سے ایک بڑا بوجھ ہٹ گیاتھا وہ چرچ کی سیڑھیوں پر کھڑی تھی۔ اورات کی سرد ہوا اس کے بالوں سے اٹھکیلیاں کررہی تھی جلد ہی سورج طلوع ہونے وال اتھا‘ اسے علم نہیں تھا کہ کچھ ہی فاصلے پر جو اس کے انتظار میں کھڑاتھا‘ کیونکہ پادری نے فون پر اسے بتادیاتھا کہ سمنتھا چرچ سے باہر آرہی ہے سمنتھا سیڑھیوں سے اتری اور تاریکی میں آگے بڑھ گئی۔
پادری کھڑا نظروں سی دور ہوتی ہوئی سمنتھا کو دیکھتارہاتھااس کے لباس کاکالر اس کے گلے میں چبھ رہاتھا اس نے کالر نکال دیا اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی اس نے نقلی داڑھی ہٹائی تو وہ جو کادوست او راسسٹنٹ بل تھا جو سمنتھا کاتعاقب کرتا کرتایہاں پہنچا تھا اور سمنتھا کے بارے میں جو کواطلاع دے چکاتھا اسے سمنتھا اور جو کی محبت کاعلم تھا او روہ ایک دوست اور ہمدرد ہونے کے ناتے ان کی مدد کرنا چاہتاتھا جو اس نے کردی تھی اور اندھیرے میں اس نے بغوردیکھا سورج طلوع ہونے والا تھااور دوسائے ایک دوسرے سے گلے مل رہے تھے۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
× How can I help you?
Close