Hijaab Apr-17

آغوش مادر

ملالہ اسلم

السلام علیکم آغوش مادر میں آنے کی جسارت تو کر ہی لی ہے قلم تھامے بیٹھی سوچ رہی ہوں کہ کیا لکھوں؟ کیا میں اس قابل ہوں کہ ماں جیسی عظیم ہستی کے لیے کچھ لکھ سکوں، لیکن پھر بھی میں لکھنا چاہتی ہوں اپنی ماں کے لیے میں اپنے احساسات شیئر کرنا چاہتی ہوں مگر خود کو اس قابل نہیں گردانتی البتہ کوشش ضرور کرسکتی ہوں میں نہیں جانتی ماں کے شایان شان کن الفاظ کا انتخاب کروں میں خود کو نابلد سمجھتی ہوں لیکن میرے پاس میری ماں کے لیے ڈھیر ساری محبتیں ہیں، ڈھیر ساری چاہتیں اور بہت زیادہ پیار جو میرے لفظ لفظ میں موجود ہے۔ میری ماں کو میں نے بہت سے چہروں میں دیکھا ہے سنجیدہ روپ دکھا کر کبھی نصیحت کرتی تو کبھی ڈانٹ ڈپٹ کرتی…
کبھی کبھی اتنی نرم مزاج کہ انگ انگ سے شگفتگی پھوٹتی ہو میں نے بعض اوقات اپنی ماں کو تلخ حالات کا بڑی دلیری اور بہادری سے مقابلہ کرتے دیکھا ہے، میرے بابا جان ایک زندہ دل انسان ہیں جب بابا جان شدید علالت کا شکار ہوگئے تھے تو میری ماں نے خود کو اپنی اولاد کے لیے بے مہر زمانہ کے تھپڑوں کے حوالے کردیا تھا کم سن بچوں کی پرورش بچوں کے اسکول کی تمام تر ذمہ داریاں گھر بھر کی کفالت میری ماں بڑی ہمت اور جرأت مندی سے اپنی پیشانی پر سلوٹ لائے بغیر پوری کر رہی تھیں میرے بابا جان کی طویل بیماری میں ہمیں اپنی ماں انوکھے روپ میں ملتی، ہمہ وقت بچوں کے ساتھ لگی رہتی کبھی ہمارے ساتھ کھیلتی تو کبھی ڈانٹ ڈپٹ کر پڑھنے کے لیے بٹھا دیتی۔
ماں کا سایہ تو ٹھنڈی چھائوں کی مانند ہے اگر ماں گھر پر نہ ہو تو یہی گھر کاٹنے کو دوڑتا ہے عجب سی بے رونقی احاطہ کیے رکھتی ہے ایسا سناٹا جو دل کو چیرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
ماں تو اس پھول کی مانند ہے جس میں سے خوشبو ہی خوشبو آتی ہے میری ماں بھی میرے لیے وہی پھول ہے ماں کے لمس کو محسوس کر کے عجیب سی خوشی، عجیب سی طمانیت اور سکون اپنے اندر اتار لیتا ہے۔
ہم اپنے بہن بھائیوں میں، میں تھوڑی ضدی ہوں اور اپنی منوا بھی لیتی ہوں کچھ وجوہات کی وجہ سے، مجھے میٹرک کرنے مخدوم پور جانا پڑا لیکن راستے میں میری مما آگئی وہ مجھے بھیجنا نہیں چاہتی تھیں طرح طرح کے خیال، وسوسے ان کے دل میں آتے لیکن میں ضد کر کے چلی گئی اور فائنل یہی ہوا کہ ہر ویک پر میں گھر ملنے ضرور آئوں گی میں ہر ویک پر آتی تو میری مما میرے لیے کچھ نہ کچھ بنوا کر رکھتی کبھی گاجر کا حلوہ تو کبھی سوہن حلوہ…
مجھے اپنے لیے اتنا اہتمام دیکھ کر بہت خوشی ہوتی اندر تک سرشار ہو کر میں اس امید پر واپسی کا انتظار کرتی کہ میری ماں میرے بہن بھائی میرے منتظر ہیں میرے لیے یہ دو دن بہت خاص ہوتے تھے آج جب ان دنوں کو یاد کرتی ہوں تو رونا آجاتا ہے میں ان کے جذبات نہیں سمجھتی تھی بس اپنے لا ابالی پن میں وقت گزارتی چلی آئی میرے ایگزام ہونے والے تھے جب ایک شام سر محسن نے ایک لیٹر مجھے تھما دیا وہ اوبجیکشن لیٹر تھا تب مجھے اپنے دل و دماغ میں اپنی ماں ہی محسوس ہوئی دل کیا اڑ کر پہنچ جائوں کہ یہ نیو کورس کا کیسا چکر ہے میرا سال تباہ ہوگیا میرے وہاں حسین دن جو گزرے تھے وہ کہیں پس میں منظر چلے گئے یاد رہا تو اتنا کہ میری ماں تڑپتی تھیں وہ میرے یہاں آنے پر خوش نہیں تھیں میں واپس آئی تو ان کے گلے لگتے ہی ایک ہی شکوہ پھسلا کہ آپ اگر مجھے دل سے دعا دیتیں تو شاید میرا سال ضائع نہیں ہوتا میری مما نے میرا ماتھا چوما اور کہا ’’پگلی میں تمہارے جانے پر خوش نہیں تھی لیکن میرے دل سے اپنی گڑیا کے لیے دعائیں ہی نکلتی ہیں۔‘‘ میری ماں کے یہ الفاظ مجھے اندر تک سرشار کر گئے آج میں کامیاب ہوں الحمدللہ میری مما کی تمام دعائیں تمام ریاضتیں بے کار نہیں گئیں مائیں اپنی اولاد کو جان لیتی ہیں اس لیے وہ اپنی اولاد کے لیے ہر مشکل مصیبت میں چٹان کی طرح کھڑی رہتی ہیں۔
میری ماں میری جنت
میرا سکون…
ماں کے دم سے کتنی رونق ہے
گھر میں…
ذرا محسوس تو کرو
زندگی کتنی خوب صورت ہے
یہ جان کر دیکھو
ماں کے زیر سایہ
میری ماں وہ خاتون ہیں جنہوں نے اپنی اولاد کے لیے خود کو مارا، ان کی اولاد کے راستے میں جو رکاوٹ بنا میری ماں نے اس سے کنارہ کشی کرلی۔ وہ خود تو گولڈ میڈلسٹ نہیں ہیں لیکن اپنی اولاد کی چھوٹی سی چھوٹی کامیابی بھی گولڈ میڈلسٹ کے برابر محسوس کرتی ہے آج بھی بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں تعلیم جسٹ وقت کا ضیاع ہے میرا ننھیال انہی لوگوں میں شامل ہے جب وہ ہمارے راستوں میں رکاوٹ بنے میری ماں سامنے آگئی میری مما تھوڑی سخت ہیں لیکن ان کی سختیوں میں جو پیار ہے وہ میں محسوس کرسکتی ہوں میری ماں پاکیزہ نفس، نیک طنیت خاتون ہیں جنہوں نے اپنی اولاد کے لیے بہت سی قربانیاں دیں انہوں نے میرا ہر موڑ پر ساتھ دیا۔ گلاب کی پنکھڑیوں میں نزاکت تو بڑی ہوتی ہے لیکن مامتا کے آبگینے کی لطافت کے آگے کچھ نہیں۔
میری ماں میرا چین، میرا سکون، میرا کل اثاثہ ہے جن کے پاس مائیں نہیں ان سے قدر پوچھو، ان کے درد کو جان کر دیکھو، ہر چیز آپ کو مل جائے گی لیکن ماں نہیں نسیم نیازی کی ’’اے ماں‘‘ کا ایک ایک لفظ درد لیے ہوئے ہے۔
ستارے بھی گم ہوگئے
چاند بھی ہے سو گیا
سارا جہاں
اے ماں!
تیرے بغیر اداس ہوگیا
دل لمحہ لمحہ پگھل رہا ہے
جیسے میرے اندر سب ہی
کچھ مر رہا ہے
میرے چار سو
تنہائی ہے ویرانی ہے
زندگی اپنی نہیں جیسے پرائی ہے
تیرے بعد میں ہر لمحہ جیتی
ہر لمحہ مری
کوئی اسم تو مجھے بتا جاتی
کوئی ہنر تو مجھے سکھا جاتی
کہ…
جن کی مائیں مرجاتی ہیں
وہ پھر کیسے خوش رہ پاتے ہیں
وہ پھر…
کیسے جی پاتے ہیں
جن کے پاس مائیں ہیں ان کی قدر کرو لیکن ہم غلطیاں کرجاتے ہیں مگر ماں بھول جاتی ہے میری ماں کا دل کنول کے پھول سے زیادہ شفاف ہے۔
میرے گھر کی رونق میری ماں ہے مما کہتی ہیں میری بیٹیاں میرے آنگن کی وہ چڑیاں ہیں جو ہر وقت اپنی چہچہاہٹ سے میرے آنگن کو رونق بخشتی ہیں۔ مائوں کا دل تو سمندر کی گہرائیوں سے زیادہ گہرا ہے اس سمندر میں اتر کر دیکھو گے تو اس کی گہرائی کا پتا چلے گا میں ملالہ اسلم چاہے جتنی بڑی ہوجائوں رہوں گی اپنی مما کی گڑیا میری مما کو کبھی کبھی مجھ پر بے تحاشا پیار آتا ہے خصوصاً وہ جب بھی اپنے پیار کا اظہار کر کے میرا ماتھا چومتی ہیں تو میں اکتا کر کہتی ہوں ’’مما پلیز میں اب بڑی ہوچکی ہوں۔‘‘ تب ان کا فقرہ یہی ہوتا ہے کہ میں چاہے جتنی بڑی ہوجائوں رہوں گی گڑیا میری ماں نے انگلی تھام کر تب چلنا سکھایا جب میں بالکل نا سمجھ تھی چلتے چلتے گر جاتی تھی اور وہ انگلی تھام کر کہتی تھیں پائوں پائوں آجائو آجائو۔ بہت رونا آتا ہے جب ایسی کوئی یاد آتی ہے میرا قلم ماں نے پہلی بار میرے ہاتھ میں تھمایا اور میں ٹیڑھی میڑھی لائنیں کھینچتی تھی آج آپ کے سامنے ہوں… یہ سب میری ماں کی محنت ہے میری شخصیت کو سنوارا میری ماں نے ہے ہم چاروں بہنیں اپنی ماں کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہیں ایسی تربیت کی کہ آج ہم معاشرے میں سر اٹھا کر چل سکتے ہیں ہم اس قابل ہیں کہ دنیا کی اونچ نیچ کو پرکھ سکتی ہیں جانچ سکتی ہیں آپی کی شادی کے بعد بھی میری ماں کو سکون نہیں آیا وہ ہر پندرہ دن بعد لدی پھندی آپی کے پاس پہنچ جاتی ہیں کہتے ہیں اولاد سے زیادہ اولاد کی اولاد توجہ کھینچ لیتی ہے میری آپی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے ماں ٹمٹماتا وہ ستارہ ہے جو کبھی بجھتا نہیں، ماں دنیا کی خوب صورت حقیقت، ماں وہ گھنا درخت جو اپنی اولاد کو دنیا کی تلخ حقیقتوں سے بچاتا ہے منزہ بتول کچھ نہیں وہ جو کچھ ہے اپنی ماں کی دعائوں کا ثمر ہے آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ منزہ کون ہے یہ میری حقیقت ہے میری شناس جس کو میں جھٹلا نہیںسکتی لیکن ملالہ بھی اس عظیم ہستی نے رکھا جسے میں نظر انداز نہیں کرسکتی اس لیے مجھے ان دونوں ناموں سے پیار ہے جو ایک ماں نے دیا تو ایک استاد نے… میں بہت سی محبتوں کے گڑھے میں خود کو دیتی ہوئی دیکھتی ہوں جن میں میری ماں کی محبت بہت اونچی دکھائی دیتی ہے اور میں تا عمر اپنی ماں کے احسانوں کا بدلہ نہیں چکا سکتی لکھتی چلی جاتی ہوں ہماری مائوں کا سایہ اے خدا ہم پر قائم رکھ بچپن میں روتی تھی تو ماں لوری سناتی تھی اور میں ماں کے لمس کو محسوس کر کے لوری سنتے سو جاتی تھی آج کبھی کبھی دل چاہتا ہے وہی لوری سننے کو لیکن بڑے ہوگئے ہیں نا… سوہنے رب سے دعا ہے میری ماں کا یہ سایہ مجھ پر سلامت رکھے آمین۔ ملالہ اسلم اپنی ماں کے بغیر ادھوری ہے وصی شاہ کی ماں لوری سنادو نا میری فیورٹ ہے جیسے میرے جذبات کی عکاسی کرتی ہو۔
ماں مجھے نیند نہیں آتی ہے، اک مدت سے مجھے نیند نہیں آتی ہے
ماں مجھے لوری سنائو نا، سلا دو نا مجھے، ماں مجھے نیند نہیں آتی ہے
رت جگے اب تو مقدر ہیں میری پلکوں کا، نیند آئے تو لیے آتی ہے بغداد کی یاد
آنکھ لگتے ہی کوئی بیوہ اٹھا دیتی ہے پیٹ کتنا ہی بھروں بھوک نہیں مٹتی ہے
جلتے بصرہ کی مجھے پیاس جگا دیتی ہے
کوئی قندھار کی وادی سے بلاتا ہے مجھے، ذکر قندوز کا آئے مجھے لگتا ہے
ماں میری آنکھیں تو پتھر کی ہوئی جاتی ہیں
نوجوان لاشے پر رونے نہیں دیتے ہیں مجھے
میرے سینے پر رکھو ہاتھ رلا دو نا مجھے
ماں مجھے لوری سنا دو نا، سلائو نا مجھے
ماں مجھے نیند نہیں آتی ہے، اک مدت سے مجھے نیند نہیں آتی ہے

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close