Hijaab Feb 2019

آنگن کی چڑیا

طیبہ خاور سلطان

س ۱:۔ کیا آپ کے گھر میں صنفی امتیازبرتا جاتا ہے، اگر ہاں تو کیا آپ اس پر احتجاج کرتی ہیں؟
ج۱:۔ ہمارے گھر کا ماحول بہت اچھا تھا جب بہن بھائیوں کی شادی نہیں ہوئی تھی اور میرے ابو کو ہم بہنوں سے بہت پیار تھا اور ہماری امی کو بھائیوں سے بہت پیار تھا۔ وہ دن بہت اچھے تھے کیونکہ میرے ابو زندہ تھے۔ اب میرے ابو نہیں رہے تو ان کا پیار، ان کی کمی بہت محسوس ہوتی ہے۔ بے شک امی بھی پیار کرتی ہیں لیکن ابو کی کمی ہمیشہ رہے گی کیونکہ وہ میرے بہت اچھے دوست بھی تھے۔ میری زندگی میں میرے ابو جان نے مجھے بہت پرموٹ کیا۔ ہر کام میں ہر بات پر بہت حوصلہ دیا۔ میرے ابو ایسے تھے کہ ہم سب بہن بھائیوں کو لگتا ہے کہ ابو کو مجھ سے زیادہ پیار تھا کیونکہ انہوں نے سب کو بہت اہمیت دی۔ اللہ تعالیٰ میرے ابو کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازے، آمین۔
س ۲:۔ اکثر گھرانوں میں لڑکیوں کا تعلیم حاصل کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے اس ضمن میں آپ کا کیا تجربہ ہے؟
ج۲:۔ میری امی پڑھی لکھی نہیں ہیں۔ انہیں پڑھنے کا بہت شوق تھا لیکن میرے نانا ابو لڑکیوں کو پڑھانے کے حق میں نہیں تھے۔ میرے ابو پڑھے لکھے تھے۔ امی کو بہت دلچسپی تھی علم سیکھنے میں تو امی نے ہمیں بہت سپورٹ کیا۔ سب بہن بھائیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ آج مجھے بہت خوشی ہوتی ہے کہ شکر ہے اللہ کا اور بعد میں امی جان کا جنہوں نے ہمیں پڑھایا لکھایا۔ پڑھائی لکھائی لڑکی اور لڑکا دونوں کے لیے انتہائی ضروری ہے لیکن کچھ گھرانوں میں ایسے رسم و رواج ہیں کہ تعلیم کو برا سمجھاجاتا ہے۔ لیکن تعلیم حاصل کرنا ہر ایک کے لیے بہت اہم ہے۔اس سے ہمیں اچھے برے میں فرق محسوس ہوتا ہے ۔دین و دنیا کا پتا چلتا ہے۔
س۳:۔ آپ کے نزدیک علم حاصل کرنے کا کیا مقصد ہے؟ شخصیت کو سنوارنا، اچھے گھرانے میں شادی یا اچھی ملازمت کا حصول؟
ج۳:۔ آپ کے سوال میں ہی جواب ہے۔ آج کل ضروری ہوگیا ہے یہ سب، شخصیت کو نکھارتی بھی ہے تعلیم، اور اچھے گھرانوں میں شادیاں بھی ہوجاتی ہیں۔ ظاہر سی بات ہے جس کی مجبوری ہوگی ملازمت کرنا تو کرے گا ہی لیکن تعلیم ضرورت ہے سب کی، تعلیم انسان کے لیے بہت سی راہیں۔ ہموار کرتی ہیں اپنی تعلیم کے بل بوتے پر انسان بہت کچھ کرسکتا ہے۔
س ۴:۔ کیا آپ خواتین کے ملازمت کرنے کے حق میں ہیں؟
ج ۴:۔ ویسے مجھے شوق تو نہیں لیکن اگر کسی کی مجبوری ہو یا شوق ہو تو وہ کرسکتی ہے لیکن ویسے مجھے اچھا نہیں لگتا (اللہ کرے کسی کی مجبوری نہ ہو)
س ۵:۔ آپ کے نزدیک روشن خیال اور لبرل ہونے کا کیا مطلب ہے؟
ج۵:۔ ایک حد تک لبرل ہونا ٹھیک ہے کہ انسان اپنی سوسائٹی میں آسانی سے موو کرسکے۔ اسلام کے دائرہ کار میں رہ کر اتنا تنگ نظریہ نہیں ہونا چاہیے کہ سانس لینا بھی محال ہوجائے۔ ہر چیز ایک لمٹ حدمیں ہی اچھی لگتی ہے۔
س ۶:۔ آپ اپنی مذہبی و ثقافتی اقدار سے آگاہ ہیں، ان کی پیروی کرتی ہیں؟
ج۶:۔ جی بالکل ہر، ایک چیز کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔ عورت کو سب سے پہلے گھر گھر کو ترجیح دینی چاہیے۔ گھر کی زیادہ ذمہ داری عورت پر ہوتی ہے تو عورت کو ہر کام میں ثابت قدم رہنا چاہیے۔ جو عورت خاندان کو جوڑ کے رکھے گی اپنے گھر کو اچھے سے سنبھالے گی وہ دنیا کے لیے بھی ایک مثال بن جائے گی اور معاشرہ اسے عزت کی نگاہ سے دیکھے گا۔
س۷:۔ آپ کا کیا خیال ہے لڑکیوں کو اپنے خواب پورے کرنے کا موقع ملنا چاہیے؟
ج۷:۔ جی بالکل لڑکیوں کو موقع ملنا چاہیے اپنے خواب پورے کرنے کا لیکن غلط نظریے سے نہیں ہر ایک لڑکی کو اپنی لمٹ کا پتا ہونا چاہیے۔ غلط سوچ نہ رکھے، غلط طریقہ نہ اپنائے اپنی نیت صاف رکھے تو کوئی ٹینشن نہیں ہوگی۔
س ۸:۔ زندگی گزارنے کے لیے آپ نے کیا اہداف مقرر کیے ہیں؟
ج ۸:۔ میری زندگی کا مقصد تو یہی ہے کہ میری وجہ سے کسی کا دل نہ دکھے، ہر رشتہ ایک ساتھ لے کے چلوں، کسی کو شکایت کا موقع نہ دوں۔ شکر ہے اللہ کا اس نے سب کچھ نوازا ہے میں ہر چھوٹی چھوٹی بات پہ بھی بہت دھیان دیتی ہوں۔ کوشش یہی ہوتی ہے ہر کام خوش اسلوبی اورذمہ داری سے نبھائوں۔
س ۹:۔ گھر کے کاموں میں کس حد تک دلچسپی لیتی ہیں؟
ج۹:۔ میں گھر کے کاموں میں بہت دلچسپی رکھتی ہوں پہلے گھر کو دیکھتی ہوں پھر کچھ اور سوچتی ہوں۔ جب تک گھر کا کام ختم نہ کرلوں چین نہیں آتا۔ پوری کوشش یہی ہوتی ہے کہ کسی کو شکایت کا موقع نہ دوں۔
س ۱۰:۔ کس رشتے سے سب سے زیادہ محبت ہے؟
ج۱۰:۔ ہاہاہاہاہا …پٹوانے کا ارادہ ہے کیا؟ ایک کا نام لوں تو سب برے بن جائیں گے۔ مجھے اپنے میکے والوں اور سسرال والوں سے بہت پیار ہے۔
بٹ، آئی لو کشور سلطانہ پھول۔
س ۱۱:۔ سسرال کے حوالے سے آپ کی کیا توقعات و خدشات ہیں؟
ج۱۱:۔ شکر ہے اللہ کا مجھے شادی سے پہلے بھی کوئی ٹینشن نہیں ہوتی تھی کہ جانے کیسا سسرال ملے گا الحمدللہ، اللہ کا بہت احسان ہے میری سوچ سے بھی بڑھ کے مجھے اچھا سسرال ملا۔ میں خود کو بہت خوش قسمت تصور کرتی ہوں رئیلی اور مجھے اپنی ساسو ماں سے بہت پیار ہے بالکل میری ماں جیسی ہیں۔ اللہ تعالیٰ میری دونوں مائوں کو ہمیشہ سلامت رکھے، آمین۔ جیسا میرا سسرال ہے اللہ ہر لڑکی کے نصیب میں ایسا سسرال لکھ دے۔
س ۱۲:۔ کس طرح کے لوگوں سے دوستی کرتی ہیں؟
ج۱۲:۔ جس پہ میں آنکھ بند کر کے اعتماد کرسکوں۔ ایسی کوئی دوست ہونی چاہیے اور کیئرنگ بھی ،پہلے میں ہر انسان کا اخلاق دیکھتی ہوں پھر بات شروع کرتی ہوں۔
س ۱۳:۔ آپ ڈائجسٹ کیوں پڑھتی ہیں؟
ج۱۳:۔ شاید زیادہ تر لڑکیوں کا جواب ہو ٹائم پاس کرنا ہو، لیکن میں نے بہت کچھ سیکھا آنچل سے۔ میں اپنی معلومات میں اضافہ کرتی ہوں اور کچھ اچھا سیکھنے کی کوشش کرتی ہوں اور اس میں دین و دنیا کا بھی پتا چلتا ہے۔ ہمیں زندگی گزارنے کے ڈھنگ سکھاتا ہے آنچل۔ اللہ تعالیٰ آنچل کو ہمیشہ سلامت رکھے، آمین۔
س ۱۴:۔ کوئی یادگار شرارت؟
ج۱۴:۔ شرارت (سوچ سوچ کے) جی میں تو شروع سے ہی سلجھی سی بچی ہوں تو میں نے کبھی کسی کو تنگ نہیں کیا نہ ہی کوئی شرارت کی ہے۔ سیدھی سادی سی لڑکی ہوں (آہہمم) رئیلی۔
س ۱۵:۔ کس شخصیت یا واقعہ نے آپ کی شخصیت پر مثبت اثر ڈالا؟
ج۱۵:۔ ایسی بہت سی شخصیت ہیں اور بہت سے واقعات ہیں جنہوں نے میری شخصیت پر مثبت اثر ڈالا کیونکہ ہر وہ بات جو اچھی ہو، جس سے کسی کی دل آزاری نہ ہو میں وہ جاننا چاہوں گی۔ سیکھنا چاہوں گی۔ ہمارے ارد گرد بہت سے لوگ ہوتے ہیں جو ہماری شخصیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ انسان کے اپنے اختیار میں ہے کہ وہ مثبت سوچے یا منفی سوچے۔ میں کسی ایک انسان کا نام نہیں لے سکتی نہ ہی میری زندگی کا ایک واقعہ ہے بلکہ بہت سے واقعات ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے زندگی میں دو راستے دکھائے ہیں ایک برا اور ایک اچھا اور انسان کو عقل بھی دی ہے کہ وہ اپنے لیے راستہ چنے۔ یہ انسان کی سوچ ہے کہ وہ سیدھے راستے چلتا ہے یا الٹے راستے پر چلتا ہے۔ اگر انسان کی سوچ اچھی ہوگی ، نیت اچھی ہوگی تو وہ کسی کے ساتھ کچھ برا نہیں کرے گا۔ اگر وہ کسی کے ساتھ برا نہیں کرے گا تو ظاہر سی بات ہے اس کے ساتھ بھی برا نہیں ہوسکتا۔ اگر سوچ اچھی ہوگی تو انسان کے اندر خود بخود مثبت تبدیلی رونما ہوگی جو دوسروں پر بھی اچھا تاثر چھوڑے گی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close