Aanchal Sep-16

آینئہ

شہلا عامر

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! اللہ تعالیٰ کے پاک وبابرکت نام سے ابتدا ہے جو وحدہ لاشریک ہے۔ زندگی کی گاڑی اپنے سفر پر رواں دواں ہے اور اس سفر میں ہماری کوشش ہوتی ہے کہ سب قارئین کو ساتھ لے کر چلیں لیکن وقت ظالم۔ کچھ ڈاک تاخیر سے موصول ہونے پر آئینہ میں شامل ہونے سے رہ جاتی ہے۔ امید ہے آپ ہماری مجبوری سمجھ کر اپنا دل وسیع کریں گے‘ آیئے اب چلتے ہیں آئینہ کی جانب جہاں آپ کے خوب صورت تبصرے جھلملارہے ہیں۔
انعم زرین‘ سارہ زرین… چکوال۔ السلام علیکم! ڈئیر شہلا آپی! آنچل اسٹاف‘ رائٹرز اینڈ ریڈرز کیسے ہیں آپ سب؟ امید ہے سب خیریت سے ہوں گے‘ اب تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آنچل کے ساتھ دل کا رشتہ جڑچکا ہے۔ ایک ماہ خط نہ لکھوں تو لگتا ہے آنچل مجھے بھول ہی نہ جائے۔ اسی لیے ہر ماہ باقاعدگی سے خط لکھتی ہوں کبھی ایک دفعہ نہ لکھ سکوں تو بے چینی سی رہتی ہے تو بات ہوجائے اگست کے شمارے کی۔ تو جناب اس شمارہ کے ہاتھ میں آتے ہی خوشی دوبالا ہوگئی جب میری چھوٹی سسٹر سارہ زرین کا میٹرک کا رزلٹ آیا‘ 85% مارکس لیے ہیں‘ ماشاء اللہ سے۔ آپ سب کی دعائوں کی ضرورت ہے آئندہ بھی وہ ایسا رزلٹ برقرار رکھے اور میڈیکل میں داخلہ آسانی سے ہوجائے۔ جی تو ڈائجسٹ ہاتھ میں لیتے ہی آئینہ دیکھتے ہوئے‘ اپنا خط پاکر بے پناہ خوشی کا احساس گھیر لیتا ہے کہ آپ نے مجھے یاد رکھا۔ اس کے ساتھ سب بہنوں کے خطوط پڑھتی ہوں‘ جس نے میری تعریف کی ہوتی ہے پڑھ کر دل خوشی کے احساس میں گھر جاتا ہے۔ اس کے بعد دوست کا پیغام آئے پر نظر ڈالتی ہوں۔ ثوبیہ سحر‘ مدیحہ نورین‘ مونا قریشی‘ نجم انجم‘ اقراء ماریہ‘ تحریم اکرم‘ طیبہ نذیر کے پیغامات پسند آئے۔ اس دوران ایک سرگوشی خوشخبری دیتی ہوئی محسوس ہوئی کہ اقرأ صغیر کا نیا ناول آنچل کی زینت بڑھانے ستمبر کے شمارہ میں موجود ہوگا‘ وائو! سمیرا شریف طور میری طرف سے ’’یہ چاہتیں یہ شدتیں‘‘ کے آن ائر ہونے پر بہت بہت مبارکباد۔ ’’دانش کدہ‘‘ ایک ایسا مسلسل سلسلہ ہے جسے ہر ماہ پڑھ کر نئے سرے سے ایمان تازہ ہوتا ہے۔ ہمارا آنچل میں صائمہ ملک‘ عفیرہ مظفر‘ صائمہ حجاب‘ نیلم سب ہی کے تعارف پسند آئے۔ ’’موم کی محبت‘‘ اب بوریت کا شکار ہے۔ شائستہ جٹ نے کہا کہ موم کی محبت اب پتھر کی محبت ہوچکا ہے تو میرے خیال میں بالکل ایسی بات ہے۔ ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ میں زاویار کے رویے پر بہت افسوس ہوا‘ اُف یہ عبدالہادی کتنا چالاک ہے اور شہرزاد اوور کانفیڈنٹ ہونے کے چکر میں بے وقوف بنتی جارہی ہے۔ مجھے لگتا ہے سدید اب بھی زندہ ہے اور کہانی کے اہم موڑ پر سامنے آجائے گا۔ ’’چراغ خانہ‘‘ میں مشہود کی آمد کسی سرپرائز سے کم نہیں لگ رہی‘ لگتا ہے ابھی اور بھی بہت سے سرپرائز باقی ہیں۔ دانیال اور پیاری اب ایک تو ہوگئے ہیں لیکن کوئی نہ کوئی آزمائش اب بھی منتظر بیٹھی ہے ان کے لیے۔ ’’تیرے نام کردی زندگی‘‘ کچھ متاثر نہ کرسکی بہت فلمی سی لگی کہانی۔ اس ماہ کے ناولٹ سب ہی زبردست تھے۔ ’’عید کے رنگ اناڑی پیا کے سنگ‘‘ صائمہ قریشی اس بار تو فاطمہ اناڑی نہیں نکلی؟ اور رس ملائی کا جو حشر کیا اس نے اُف‘ ہنس ہنس کے برا حال ہوگیا۔ ایسی تازہ ہوا کے جھونکے جیسی تحریر ہر ماہ کے شمارے میں ضرور ہونی چاہیے۔ ذرا مسکرا میرے گمشدہ اجیہ کا کردار مجھے بہت پسند آیا ہے وہ ایک ایسی لڑکی ہے جسے چاروں طرف سے اذیت مل رہی ہے صرف ماں کی ٹھنڈی چھائوں اور بہن کی محبت حاصل ہے اسی سے وہ ثابت قدم ہے مایوس نہیں ہے ایسی ہی ملتی جلتی آزمائشوں سے کبھی نہ کبھی ہر لڑکی گزرتی ہے۔ مشکل گھڑی میں کس طرح سروائیو کرنا ہے یہ سمجھانا ہر لڑکی کو بہت ضروری ہے۔ بہت سی ینگ ریڈرز فاخرہ آپی کی ہیروئن کو آئیڈلائز کرتی ہیں۔ فاخرہ گل! آپی آپ کا بہت شکریہ۔ ’’عید ہوگئی زندگی‘‘ بھی پسند آیا۔ ’’چاند‘ چندا اور چاندنی‘‘ ایک ہلکی پھلکی تحریر بہت پُرمزہ تھی۔ سباس آپی یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ اصل میں چاند پسند کس کو کرتا تھا چندا کو یا چاندنی کو؟ پہلے وہ چندا کے ساتھ بھی خوش تھا پھر چاندنی کے ساتھ بھی۔ ’’تیرے سوا نہیں دیکھا‘‘ میں نزہت جبیں آپ نے عبرہ اور اسجد کے ساتھ کچھ زیادتی نہیں کی لیکن وہی جو جس کا نصیب ٹھہرے۔ عشبہ کو باسق کی ہی دلہن بننا تھا سو اتنے حادثات کے باوجود بھی وہ اس کا نصیب ٹھہری۔ ’’دل بدل دے‘‘ بھی رمضان کے حوالے سے ایک پرفیکٹ تحریر تھی۔ ’’خیانت‘‘ میں علینا نے بالکل ٹھیک فیصلہ کیا‘ بندہ بشر ہے غلطی ہوجاتی ہے لیکن انسان وہی ہے جسے غلطی کا فوراً احساس ہوجائے کیونکہ عقل تو اللہ نے عطا کر رکھی ہے۔ ہم سب اپنے اپنے اعمال لے کر دنیا سے جائیں گے۔ علینا اپنے فرائض پورے کرتی ہے اس کا ضمیر مطمئن ہے شاید سمیر کو زندگی کے کسی موڑ پر احساس ہوجائے یا شاید یہ علینا کے لیے آزمائش ہو۔ ’’نہلے پہ دہلا‘‘ شروع میں سنجیدہ تحریر تھی لیکن آخر میں ہنسنے پر مجبور ہوگئی جینے کا یہ انداز واقعی من کو بھا گیا۔ ’’چاند رات‘‘ پڑھ کر احساس ہوا کہ کتنے ہی گھروں کی چاند رات ایسی ہوتی ہوگی اللہ ہم سب پر رحم کرے۔ ’’ایسا کہاں سے لائیں‘‘ حرا قریشی کا ایک ایک لفظ سچ‘ پڑھ کر بے اختیار آنسو چلے آئے۔ اللہ ہمارے ملک کی حفاظت کرے‘ آمین۔ ’’ہومیو کارنر‘‘ کا اس دفعہ کا مضمون بے حد کارآمد ہے یہ باتیں نوجوان لڑکیوں کو معلوم ہونی چاہئیں۔ آنچل اور حجاب کا سفر ہمیشہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو‘ آپ سب اپنا بہت خیال رکھیے گا‘ آپ کی دعائوں کی طلب گار۔
سامعہ ملک پرویز… خان پور‘ ہزارہ۔ مائی ڈئیر آنچل اسٹارز‘ مائی لولی ریڈرز اور ہیپی پاکستان کے چلبلے لوگوں السلام علیکم! امید ہے سب خیریت سے ہوں گے۔ آنچل ہاتھ میں ہے‘ نظر نظر صفحے صفحے کو پڑھتے ہوئے خود کو سیراب کیے جارہی ہے۔ ساون کی بارشیں ہیں زوروں پر مگر فی الوقت ہلکی ہلکی بوندا باندی کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ آسمان کی وسعتوں پر رقص کرتے گہرے نیلے و کالے بادل پانی سے ہیں بھرے ہوئے اور برسنے کو ہیں بے تاب۔ میرا من پسند منظر بارش کے سنگ میں اور آنچل جیسے سب کچھ مکمل۔ چلیں چھوڑیں‘ آتے ہیں آنچل کے سلسلوں کی جانب تو جناب عالی! آنچل کو کھولتے ہی حمدونعت سے خود کو مستفید کیا پھر بڑھے قسط وار اقساط پر مبنی ’’موم کی محبت‘‘ راحت وفا کا ناول‘ راحت جی پلیز ہیپی اینڈ کیجیے گا۔ بس کردیں عارض و شرمین کو ملادیں‘ آپ ان کو ملا نہیں رہیں اور یہاں صبر کا پیمانہ میرا لبریز ہوا جارہا ہے۔ ایک طرف غصہ شرمین پر کہ مان کیوں نہیں جاتی۔ عارض کی بات اتنی محبت کے آگے سر تسلیم کرلینا چاہیے دوسری جانب شرمین کی قسمت پر رشک آتا ہے ہائے کوئی اتنا چاہنے والا کیسے مل جاتا ہے۔ اتنی محبت‘ اتنی چاہت‘ اتنا انتظار کاش کوئی ایسا عارض میرا بھی ہو‘ ہاہاہا۔ اپنے تو ہیں پَر لگتے نہیں عارض جیسے… ہونہہ۔ ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ بہت خوب صورت انداز تحریر آگے کے راز سے پردہ اٹھنے کا شدت سے دل منتظر ہے آپی۔ رفعت سراج کا ناول ’’چراغ خانہ‘‘ زبردست‘ گڈ لک۔ اس کے علاوہ سبھی مکمل ناول‘ ناولٹ اور افسانے زبردست رہے۔ حرا قریشی صاحبہ آپ کا آرٹیکل میرے دل کی آواز تھا‘ مجھے لگا آپ نے میرے لفظوں کو خوب صورتی کے ساتھ پیراہن اُڑھا دیا۔ مستقل سلسلے سبھی زبردست تھے‘ بیاض دل نے دل لوٹ لیا۔ نیرنگ خیال میں سبھی کا کلام اعلیٰ تھا‘ دوست کا پیغام میں میرے نام کہیں کوئی پیغام ہی نہیں تھا۔ آئینہ میں سب کے جامع و شیریں تبصرے زبردست لگے‘ آخر میں اس دعا کے ساتھ اجازت چاہوں گی کہ رب العزت ہمیں دنیا و آخرت میں عزت کی زندگی دے اور اپنی ذات کے سوا کسی کا محتاج نہ کرے‘ آمین‘ والسلام۔
شائستہ جٹ… چیچہ وطنی۔ میری طرف سے مدیرہ آپا آپ کو‘ شہلا جی آپ کو اور رائٹرز اور پڑھنے والوں کو سلام قبول ہو۔ امید ہے کہ سب کے مزاج گرمی ساتویں آسماں پر ہوں گے‘ ارے بھئی مذاق کررہے تھے ہم تو… تو جی بات ہوجائے ذرا آنچل کی تو جناب سب سے پہلے قیصر آرأ جی کی سرگوشیوں سے لطف اندوزہوئے کہ اچانک بھاگتے ہوئے قدموں کو بریک لگا کر پھر سے واپس مڑے اور ماڈل کے دیدار کو پہنچے بھئی واہ شبنم جی کی پرانی فین لگتی ہے۔ بہرحال ٹھیک لگ رہی تھی‘ ہولے ہولے‘ چپکے چپکے حمدونعت سے لطف اندوز ہوئے۔ دانش کدہ کی تو کیا بات ہے ’’موم کی محبت‘‘ اب اگر نہ پگھلی تو یقینا ہماری غصیلی نظروں سے ضرور پگھل جائے گی پلیز کچھ تو ٹوئسٹ اچھالے کر آئیں۔ نازیہ جی کیا بات ہے ناول سپر جارہا ہے راز و نیاز سے بھرپور کیا واقعی سدید مرچکا ہے‘ یقین نہیں آتا۔ ’’تیرے نام کردی زندگی‘‘ کچھ خاص نہیں لگا۔ افسانے ’’خیانت‘ چاند رات‘ نہلے پہ دہلا‘‘ پسند آئے۔ فاخرہ گل کا ’’میرے خیال سے‘‘ تو اچھا رہا اور ’’چراغ خانہ‘‘ میں مشہود کی واپسی ہوئی شکر ہے اب بس دانیال اور پیاری کا رشتہ بھی واضح کردیں باقی عالی جاہ کا کڑھنا اچھا لگتا ہے۔ باقی تمام سلسلے اپنی مثال آپ ہیں لائبہ دوستی کی آفر دل سے قبول ہے جناب! اللہ ہمارے ملک کو قائم و دائم رکھے اور ہر بد نظر سے بچائے اور ہمارے آنچل کو ترقیوں کے وہ مقام عطا فرمادے کہ دنیا رشک کرے اور اللہ تعالیٰ اس کامیابی کو قائم و دائم رکھے‘ آمین‘ اللہ حافظ۔
موم جٹ… کالج روڈ۔ السلام علیکم! ڈئیر آنچل اسٹاف‘ ریڈرز اینڈ رائٹرز امید ہے سب ٹھیک ہوں گے۔ آنچل آتے ہی چھلانگ لگائی ’’موم کی محبت‘‘ کی طرف مگر کہانی جوں کی توں ہے صفدر کا ملک چھوڑنے کا فیصلہ سراسر حماقت ہے۔ پلیز شرمین کو بھی اس کی محبت تک اب پہنچا ہی دیں۔ ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ خوب صورت تحریر‘ خوب صورت الفاظ کا چنائو‘ جذبات کی عکاسی‘ کرداروں کی پختگی سب شاندار‘ زاویار نے اپنی ماں کو تکلیف دے کر بہت برا کیا‘ اسے ایک دفعہ پوری بات سن لینی چاہیے تھی۔ ’’عید کے رنگ اناڑی پیا کے سنگ‘‘ ہمیشہ کی طرح بہت انجوائے کیا۔ افسانے سب ہی اچھے تھے۔ عید سروے میں دونوں عید نمبر میں اپنا نام نہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا‘ آنچل اور حجاب دونوں ہی بیسٹ ہیں‘ اجازت دیں‘ اللہ حافظ۔
شفقت شاہین… کھوکھربالا۔ السلام علیکم! شہلا آپی‘ قارئین اینڈ رائٹرز اور آنچل اسٹاف کو پُرخلوص سلام قبول ہو۔ ارے واہ کیا بات ہے سمجھ تو آگئی ہوگی ہے نا… ہاہا۔ جی سہی سمجھیں آنچل کی پریوں! میں ’’ٹوٹا ہوا تارا‘‘ کی بات کررہی ہوں جو مکمل ہوگیا ہے‘ تارا بھی اور ناول بھی۔ گریٹ ماشاء اللہ سمیرا شریف طور کیا بات ہے آپ کی‘ کتنی خوب صورتی سے پوری فیملی کو لے کر چلیں ہیں آپ۔ اُف بھائی! اتنا بھی کوئی تنگ کرتا ہے؟ انا کا دم نکل جاتا تو… بھائی پہلی ایسی شادی ہوگی جو دلہا دوسری گاڑی میں بیٹھ کر آیا۔ شادی کو بہت انجوائے کیا‘ کسی کے ساتھ اچھا کرو گے تو اچھا ہوگا اور برا کرو گے تو وہی انجام ہوگا جو اس ناول میں عبدالقیوم اور اس کی فیملی کا ہوا۔ میری چچا زاد بہن کو بھی یہ ناول بڑا پسند آیا اور مصطفی شہوار‘ ولید اور انا کا کردار بڑا پسند آیا اسے۔ میری اور میری کزن کی طرف سے سمیرا شریف طور کے لیے بہت سی دعائیں‘ اللہ پاک آپ کو صحت کاملہ عطا فرمائے اور زور قلم اور زیادہ ہو‘ آمین‘ اللہ حافظ۔
شگفتہ پروین… خانیوال۔ السلام علیکم! میں آنچل کو بہت شوق سے پڑھتی ہوں اس کے سب سلسلے مجھے بہت پسند ہیں خصوصاً ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ بہت اچھی جارہی ہے۔ نازی آپی بہت اچھی رائٹر ہیں‘ عائشہ نور محمد جب بھی لکھتی ہیں لاجواب لکھتی ہیں۔ فاخرہ گل کی کاوش بھی اچھی تھی‘ نازی آپی باقی رسالوں میں اپنا قلم کیوں نہیں آزماتی۔ عبدالستار ایدھی صاحب ہمارے ملک کی عظیم شخصیت تھے جو کام انہوں نے پاکستانی عوام کے لیے کیا شاید ہی کوئی اور کرسکے۔
پرنسز اقو… تلہ گنگ۔ السلام علیکم! کیسے مزاج ہیں آنٹی شہلا جی! پہلی بار آپ کی بزم میں شامل ہوں اگرچہ ملیحہ جی‘ شمائلہ جانو‘ مائی نیو فرینڈ قیصر آنٹی کی بزم میں پہلے شرکت کرچکی ہوں وہاں اقرأ مسرت اقو کے نام سے جانی گئی۔ تو اب بات ہوجائے اگست کے شمارے کی تو سرورق اچھا تھا اگرچہ عشاء نور کو پہچاننے میں تھوڑی دقت ہوئی کہ ان کا پوز کچھ اس طرح تھا کہ پہچانی نہیں گئیں وہ‘ مگر نام پڑھا تو وہ عشا جی تھیں۔ اب جب آنچل کے اندر جھانکا تو سب سے پہلے حمدونعت سے روح و قلب کو روشن اور منور کیا پھر اپنی فرینڈز کی سرگوشیاں سنیں۔ درجواب آں میں اپنا نام دیکھا اور دوستی کو قبولیت کا درجہ ملا دل بلیوں اچھلا۔ اتنی خوش ہوئی کہ باقاعدہ چھلانگیں لگانا شروع کردیں پلیز فرینڈ دوستی قائم رکھیے گا۔ اس کے بعد چھلانگ لگائی موسٹ فیورٹ رائٹر اور ناول ’’موم کی محبت‘‘ پہ‘ ارے یہ کیا ظلم کیتا نے… صفدر صاحب ملک سے باہر جانے کی تگ ودو میں ہیں‘ واہ جی۔ خیر ٹینشن سے بچنے کا طریقہ ہے مگر یوں حالات سے بھاگنا بزدلوں کا کام ہے‘ حالات کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ اب شرمین جب عارض کے لیے دل میں نرم گرم جذبات رکھتی ہے تو اظہار کردے کہ اب تو اس کا آخری سہارا اذان بھی چھن گیا اس سے۔ اب پہاڑ جیسی زندگی گزارے گی‘ پلیز آپی عارض اور شرمین کو ایک کردیں۔ عارض تو ویسے بھی مجھے بہت پسند ہے‘ آگے بڑھے ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ تو کہانی ابھی الجھی ہوئی ہے مگر ہے بہت انٹرسٹنگ کہانی نازیہ جی کی ہو اور دلچسپ نہ ہو ناممکن پھر افسانے پڑھے اور افسانوں میں سباس آپی کے ’’چاند‘ چندا اور چاندی‘‘ سبقت لے گئے یقینا چندا جیسی لڑکیاں معاشرے اور خاندان کا ناسور ہیں جو محبت کو چھوڑ کر دولت کو پوجتی ہیں۔ پھر چھلانگ لگائی ’’عید ہوگئی زندگی‘‘ نظیر فاطمہ کی تحریر پُراثر اور دل پر نقش ہوگئی مختصر مگر بااثر۔ ’’اناڑی پیا‘‘ کے کیا کہنے‘ اناڑی پیا کے اناڑی پن پہ بے ساختہ مسکراہٹ لبوں کا احاطہ کرلیتی ہے جیو اناڑی پیا پھر عائشہ نور محمد صاحبہ کو آخر میں پڑھا کہ نام ہی کافی ہے۔ بہت عمدہ ناول تحریر کیا بہنا! باقی ’’چراغ خانہ‘‘ اور ’’ذرا مسکرا میرے گمشدہ‘‘ پر تبصرہ ادھار رہا۔ ہمارا آنچل میں چاروں بہنوں سے ملاقات اچھی لگی۔ نیرنگ خیال میں سونیا قریشی‘ سحر کرن شہزادی‘ نوشین اقبال اور سندس رفیق بازی لے گئیں۔ یادگارلمحے میں پینو آپی‘ اقصیٰ آزاد‘ امشاج جنت کی تحریر پسند آئیں۔ بیاض دل میں اقرأ ماریہ‘ کبریٰ مہتاب کے اشعار پسند آئے۔ باقی رسالہ زیر مطالعہ ہے‘ اچھا جی رب راکھا‘ دعائیں۔
نیلم شہزادی… کوٹ مومن۔ آنچل کی پُررونق بزم میں تشریف فرما تمام عزت مآب‘ قابل احترام شخصیات کو نیلم شہزادی کا سلام قبول ہو۔ ماہ اگست کا آنچل بہت عمدہ مگر اگست کے حوالے سے کوئی پُرلطف تحریر نہ پاکر تھوڑی رنجیدگی ضرور ہوئی۔ ’’چراغ خانہ‘‘ اتنی زبردست تحریر کہ جواب نہیں بلاشبہ یہ تحریر آنچل کی بہترین تحریر ہے۔ بلا ضرورت رومینس سے پرہیز‘ خوب صورت الفاظ‘ جاندار کردار‘ بہت بے مثال‘ بہت عمدہ‘ بہت اعلیٰ۔ صائمہ قریشی کے ’’اناڑی پیا‘‘ تو خوب اناڑی ہیں‘ مسکرانے پر مجبور کردیتے ہیں۔ ’’تیرے نام کردی زندگی‘‘ بھی بہت اچھی رہی‘ افسانے بھی شاندار تھے گویا پورا ڈائجسٹ اس یار من کو بھاگیا‘ چلتی ہوں پھر آنے کے لیے‘ دعائوں میں یاد رکھیے گا‘ دعاگو۔
اقصیٰ کشش… محمد پور دیوان۔ السلام علیکم! آنچل پڑھنے والوں کو دل کی گہرائیوں سے پیار بھرا سلام قبول ہو۔ ڈئیر قارئین امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گی‘ مختصر عرصے کے بعد ہم ایک بار پھر آئینہ میں اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے لیے حاضر ہیں۔ اس ماہ آنچل 24 تاریخ کو مل گیا تھا سب سے پہلے مسکراتی ہوئی ٹائٹل گرل کو ہم نے مسکراتے ہوئے سراہا۔ حمدونعت سے مستفید ہوکر ابتدائیہ پر نگاہ دوڑائی عائشہ نور محمد‘ صائمہ قریشی‘ فاخرہ گل‘ نزہت جبیں کو دیکھ کر سمجھ نہیں آئی کہ پہلے کس کی اسٹوری پڑھیں۔ دل نے عائشہ نور محمد کی دہائی دی تو سب سے پہلے اسے پڑھا بہت اچھی اسٹوری تھی۔ میری طرف سے مبارک باد اس کے بعد ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ پڑھی‘ نازی آپی یہ قسط تو بہت ہی جاندار تھی۔ صیام کی بے بسی پر بہت دکھ ہوا وہیں دری پر بھی بے حد غصہ آیا۔ سدید کی کمی بہت محسوس ہوئی‘ اس کے بعد ’’چراغ خانہ‘‘ کی طرف دوڑ لگائی‘ شکر ہے مشہود واپس آگیا‘ اب پیاری کے رونے کے دن ختم ہوگئے۔ ’’موم کی محبت‘‘ راحت آپی خدا کے لیے اب تو شرمین کو پریشانیوں سے نکال دیں‘ ہر قسط میں ایک نئی پریشانی اس کی منتظر ہوتی ہے اور صفدر کے کردار کو تو آپ نے الجھا کے رکھ دیا ہے۔ کنارے پر آہی نہیں رہا۔ ’’عید کے رنگ اناڑی پیا کے سنگ‘‘ اس بار تو اناڑی پیا کے انداز ہی نرالے تھے‘ پڑھ کے مزہ آیا لیکن صائمہ آپی اگلی قسط میں زرفین کی شادی کریں بہت مزہ آئے گا۔ ’’ذرا مسکرا میرے گمشدہ‘‘ فاخرہ گل آپ کی ہر تحریر کی طرح یہ تحریر بھی لاجواب تھی۔ اگلی قسط کا شدت سے انتظار ہے‘ افسانے سبھی کے بیسٹ تھے۔ نیرنگ خیال میں سید مبشر عظیم کی نظم بہت پسند آئی۔ بیاض دل میں بھی سبھی نے خوب لکھا‘ دوست کا پیغام میں کسی نے میرے نام پیغام نہیں لکھا چلو کوئی گل نئیں۔ ہم سے پوچھئے میں ہمیشہ کی طرح پروین آپی ٹاپ پر رہیں۔ عید نمبر دو بھی ہر لحاظ سے بیسٹ تھا۔ عائشہ پرویز مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ آپ شادی شدہ نہیں میں آپ کو شادی شدہ سمجھی تھی‘ اچھا اب اجازت‘ اللہ حافظ۔
عائش کشمالے… رحیم یار خان۔ السلام علیکم! پیارے آنچل کے پیارے اسٹاف‘ رائٹرز اور ریڈرز سنایئے آپ سب کیسے ہیں؟ چلیں جی دکھی دل سے تبصرے کی طرف آتے ہیں‘ اس بار حیران کن بات یہ ہوئی کہ آنچل 22 جولائی کو مل گیا اس بار شاید روبی کی روزانہ ڈیٹ پوچھنے پر عاجز آگیا تھا اور آج 24 ہے‘ الحمدللہ ہم تینوں بہن بھائیوں نے آنچل کا ایک ایک لفظ حفظ کرلیا ہے شاید اس کی وجہ امی سسٹر کے گھر گئی ہوئی ہیں کچھ دنوں کے لیے‘ خوشی سے ابتدائیہ پر نظر دوڑائی‘ ماشاء اللہ‘ اولڈ رائٹرز کے ساتھ نیو رائٹرز کا اضافہ ہورہا ہے جو ہم سب کے لیے خوش آئند ہے‘ ویلکم موسٹ ویلکم سب کو ہماری طرف سے۔ درجواب آں میں پیاری مدیرہ آپی ہمیں پہلے سے ہی خوش خبری دے دیتی ہیںکہ کس رائٹر کی کہانی ہم جلد پڑھنے والے ہیں‘ تھینکس آپی! دانش کدہ میں مشتاق انکل بہت ہی سبق آموز باتوں سے آگاہ کرتے ہیں جو کہ گھر بیٹھے نہیں جان سکتے شکریہ انکل۔ ہمارا آنچل میں ملیحہ آپی نے ہمیں چار پریوں کے بارے میں بتایا جن کے بارے میں اور عادتیں جان کر ہمیں اچھا لگا اور عید سروے ماشاء اللہ سب بہنوں نے بہت اچھا لکھا‘ کتنی خوشی ہوتی ہے کسی کی روٹین‘ خوشیاں اور زندگی جان کر۔ سحرش ڈئیر آپ کافی ہنس مکھ لگتی ہیں‘ عرشیہ ہمیں جان کر حیرانی ہوئی آپ غیر شادی شدہ ہیں بہرحال آپ اسٹوریز بہت اچھی لکھتی ہیں۔ عائشہ پرویز آپ شادی شدہ ہیں؟ آپ نے سچ کہا سادگی میں خوب صورتی ہے۔ افشاں علی آپ کیسے اتنی دور بہن بھائیوں اور امی ابو کے بغیر رہتی ہیں؟ رئیلی بہت اچھی ہیں آپ اگر سب بہنوں کے نام لکھنے بیٹھی تو یہ تبصرہ شاید ختم نہ ہو اس لیے سوری ڈئیر مگر یقین مانیں آپ سب کے بارے میں جان کر بے حد اچھا لگا۔ ’’تیرے نام کردی زندگی‘‘ عائشہ میری ہم نام ڈئیر آپ کو میرے بہن بھائی بہت شوق سے پڑھتے ہیں‘ ہمیں بھی جان کر بے حد اچھا لگا۔ ’’چراغ خانہ‘‘ رفعت آپا یقین مانیں آپ کی باتیں بہت اچھی ہوتی ہیں اور اب تو پیاری اور دانیال کا پاکیزہ رشتہ بن گیا ہے‘ کہانی مزے دار ہوگئی ہے۔ ’’نہلے پہ دہلا‘‘ بڑا اچھا افسانہ تھا۔ ’’موم کی محبت‘‘ زیبا کے ساتھ بہت برا ہوا ہے اور پلیز اذان کو شرمین سے جدا مت کریں۔ مجھے بہت پیارا ہے اذان‘ عارض اور شرمین کو جلد ملادیں۔ ’’چاند رات‘‘ طلعت آپا آپ ہر بار جداگانہ انداز میں پیش ہوتی ہیں‘ اچھا لگتا ہے آپ کا منفرد انداز۔ زہرہ کے کردار میں عورتوں کے لیے بہت سبق ہے۔ ’’خیانت‘‘ رضوانہ پرنس نام تو پہلی بار سنا ہے مگر چھا گیا ہے‘ ڈئیر ویلکم! علینا ایک سمجھ دار لڑکی تھی۔ ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ ٹائٹل پہ سجل بہت پیاری لگ رہی تھی میری بہن نے کہا یہ پری ہے میں نے کہا درمکنون ہے‘ آپ بہتر فیصلہ کریں؟ بہرحال اسٹوری بہت اچھے انداز سے آگے بڑھ رہی‘ مجھے لگتا ہے ننھے عبدالہادی کی چھوٹی سی شرارتوں کی ذمہ داری ہے مگر کیا کریں آپی پورا ماہ انتظار رہتا ہے۔ ’’عید کے رنگ اناڑی پیا کے سنگ‘‘ صائمہ یقین مانیں اتنا پیارا کپل کہیں آپ کا تو نہیں‘ بہت ہی اچھی اسٹوری تھی کاش زرفین جیسی نند سب ہی کی ہو۔ ’’تیرے سوا نہیں دیکھا‘‘ نزہت آنٹی آپ بہت نائس انداز میں لکھتی ہیں پتا ہے میری بہن کہتی ہے آپ کو اپنے سے جڑے رشتوں سے بے حد پیار ہے کیونکہ آپ کی کہانیاں یہ تاثر دیتی ہیں‘ ہم دونوں بہنیں بہت تبصرہ کرتی ہیں اسٹوریز پر۔ ’’دل بدل دے‘‘ عروسہ ڈئیر واقعی آپ کی چاندنی نے گمراہی سے بھرے گھر کو اپنے مضبوط ایمان سے بدل ڈالا‘ ڈئیر بہت مبارک ہو۔ ’’ذرا مسکرا میرے گمشدہ‘‘ فاخرہ آپی ایک نئے سلسلے وار ناول میں شریک ہیں جان کر خوشی ہوئی‘ اجیہ کے باپ کا اتنا سرد رویہ دکھی کر گیا مگر اجیہ اور حنین کی محبت دل سے خوش کرگئی۔ مجھے لگتا ہے حنین غزنی کو پسند کرتی ہے؟ ’’چاند‘ چندا اور چاندنی‘‘ سباس ڈئیر آپ کافی ہنس مکھ ہیں۔ آپ کی کہانیوں سے نہیں ویسے مجھے ایسے لگتا ہے مگر زندگی صرف خو اہشوں کا نام ہی تو نہیں ہے۔ خوشیاں بانٹنے کا بھی تو ہے جو چندا کو نظر نہیں آیا‘ اچھا سبق تھا۔ ’’عید ہوگئی زندگی‘‘ نظیر فاطمہ ہر دفعہ میں نے آپ کا صرف افسانہ پڑھا لیکن اس بار ناولٹ میں آپ کا نام دیکھ کر بے انتہا خوشی ہوئی کیونکہ زبردست لکھتی ہیں مگر فریحہ کو ایسے منان کے ساتھ نہیں کرنا چاہیے تھا عورت کی سیلف رسپیکٹ ہوتی ہے جو فریحہ نے اپنے عمل سے کھودی۔ حرا قریشی کا آرٹیکل ہر ماہ کی طرح جداگانہ اور منفرد تھا۔ طلعت آپی ہومیو کارنر میرے خیال میں حجاب میں ہوتا ہے ادھر بھی پڑھ لیا اور معلومات میں اضافہ کیا۔ بیاض دل ابھی پڑھا نہیں مگر میرے بھائی کو یہ اشعار اچھے لگتے ہیں وہ سب سے پہلے ہی نوٹ کرتا ہے۔ بیوٹی گائیڈ رئیلی یہ میں کبھی نہیں پڑھتی‘ سوری روبین آپی! نیرنگ خیال بھی زبردست رہا مگر اس بار میں کوئی غزل ڈائری کی زینت نہ بناسکی۔ دوست کا پیغام آئے سب نے ہی اپنے دوستوں کو یاد کیا خوشی ہوئی مگر ہمیں کوئی یاد نہ کرسکا پھر بھی خوش ہوئی ویسے طیبہ نذیر ڈئیر ہمیں ہمارے بھائی کا نام تو آپ نے بتایا نہیں؟ یادگارلمحے کو ہمارے پیارے دوستوں نے اور بھی یادگار بنادیا۔ بہت سارے فرینڈز کی یادگار باتوں کو ڈائری میں بمعہ نام کے یادگار بنادیا‘ ہے ناں آپ کے لیے خوشی کی بات۔ ہم سے پوچھئے‘ شمائلہ آپی آپ کیسے پیارے جواب دیتی ہیں (یہ تو انہیں ہی پتا ہے جو شرکت کرتے ہیں) ہم بھی ان شاء اللہ جلد ہی آپ کے روبرو حاضر ہوں گے۔ کام کی باتیں واقعی اس بار کام کی باتیں تھیں‘ اچھا اب اجازت دیجیے‘ فی امان اللہ۔
مونا شاہ قریشی… کبیر والہ۔ السلام علیکم عزیزی بجو جان! وجودِ نازک کے حال احوال بشاش ہوں گے یقینا‘ سحاب ندارد‘ شمس کی تمازت اور افق کی نیلی چھتری سے پھوٹتی گرمی کی وارفتگی میں آمد آنچل گویا ابرِ رحمت سا لطف دے گئی۔ سرگوشیوں سے ہوتے ہوئے حمدونعت پر نظر ثانی کی۔ مدح خداوندی و محبوب مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے روح سرشار کردی۔ دانش کدہ میں سورۃ مریم کے ترجمے و تفسیر سے فیض یاب ہونے کے بعد عید سروے پر جھلملاتی نظریں ٹک گئیں۔ خوب صورت سے سوال و جوابات سے بعد از فراغت ’’چراغ خانہ‘‘ پہ ٹھہرائو کیا۔ جان دل بھائی کی آمد کا مژدہ پیاری کے نکاح ڈے کو مزید قمر سی روشنی دان کرگیا۔ صاحب فراموش مشہود کی ناگفتہ بہ حالت کو پڑھ کر صدمہ سے کم‘ دکھ سے کچھ زیادہ کی سی کیفیت طاری ہوگئی‘ ناول بے حد پسند ہے مجھے یہ۔ ’’موم کی محبت‘‘ اذان کی ایسی مغلظات قابل شاک ہے۔ شرمین کی محبت پر ایسی بے یقینی‘ کہانی یکسانیت اور سست روی سے ہمکنار ہے۔ ’’اناڑی پیا‘‘ از صائمہ قریشی (پورا نام نہیں لکھا معذرت) زبردست دلچسپ و تروتازگی سے بھرپور کاوش۔ رس ملائی کی برف اور شاپنگ کی خواری نے تحریر کو مزید جلا بخشی‘ ویل ڈن۔ ’’نہلے پہ دہلا‘‘ بقلم راشدہ رفعت‘ سسرال میں رہنا ہو تو سیر چشمی دکھانی پڑتی ہے ہما اور شازمین کی ذہنی موافقت نے ہما پہ دھرا بوجھ کم کردیا۔ ’’خیانت‘‘ از رضوانہ پرنس‘ افسانہ قابل ستائش تھا۔ علینا کو سمیر کی حرکت شاق گزرتی تھی اور کچھ ایسا غلط بھی نہ تھا اس میں‘ جس خیانت کی مرتکب وہ ہوئی وہ بہت کرب سے وابستہ خیانت تھی۔ ’’چاند رات‘‘ طلعت نظامی کا افسانہ بہترین تھا‘ اپنی ضروریات و آسائشات سے شان استغنا برت کرہی تو زہرہ اپنے نصف بہتر کی زندگانی سدھار پائی تھی وگرنہ وہ خود کہاں اس کے اہل تھے کہ پیسہ جوڑتے‘ حاشا وکلاء۔ ’’دل بدل دے‘‘ عروسہ عالم نے واقعی دل بدل دیئے۔ بوسیدہ مسلمانیت کے لبادے کو اتار کر سب گھر والوں کو خجل کردیا‘ درس دین کی کوشش کامیاب ٹھہری خوب۔ ’’چاند‘ چندا اور چاندنی‘‘ کیا ملاپ خاص رکھا سباس آپی نے۔ اجمال پسندی سے جذبات و خیالات کو قلمبند کردیا‘ چندا نے کماحقہ حق ادا نہ کیا۔ دھڑلے سے امارات کی تیز روشنی میں خود کو‘ اپنے رشتے کو گم کرلیا نتیجتاً صحیح معنوں میں خود کو کھو ڈالا‘ باقی آنچل ابھی نظروں کے عتاب میں نہیں آیا۔ سلسلات میں اب کی دفعہ نیرنگ خیال میں سب غزلیں‘ نظمیں لاجواب لگیں۔ دوست کا پیغام آئے میں جن دوستوں نے یاد رکھا ازحد نوازش و کرم احباب۔ یادگارلمحے سے اللہ کی محبت فرام مریم منور کا لکھا بہت جچا۔ دعائوں کی یلغار میں اجازت نامہ طلب ہے۔ وہ ذات واحد‘ کون و مکاں کا مالک اپنا سایہ رحمت بدستور آنچل پر قائم رکھے اور اسے درخشندہ تر ستارہ بنادے عرش پر بھی‘ فرش پر بھی۔ آمین۔
٭ ڈیئر مونا خوب صورت لفظوں سے سجا آپ کا تبصرہ پسند آیا۔
مون… گجرات۔ السلام علیکم! زندگی میں پہلی بار شریک محفل ہوں‘ آنچل کی پرانی قاری ہونے کے باوجود کبھی آئینہ میں شرکت کا نہیں سوچا۔ آنچل کے سارے سلسلے زبردست ہیں مگر مجھے سب سے زیادہ پسند ناول ’’ٹوٹا ہوا تارا‘‘ اور ’’تیرے عشق نچایا‘‘ تھے اب وہ بھی ختم ہوگئے ہیں‘ وہ ناول کی شکل میں کب آئیں گے میرے پاس ’’ٹوٹا ہوا تارا‘‘ کی شروع والی اقساط نہیں ہیں آنچل تمام ڈائجسٹ سے زبردست ہے۔ شروع میں میری آپی پڑھتی تھیں تو مجھے بڑا غصہ آتا تھا کہ یہ کیا ہر وقت پڑھتی رہتی ہیں اس سے کیا ملتا ہے مگر جب میں نے پڑھنا شروع کیا تو پھر پتا چلا کہ آنچل میں تفریح کے ساتھ ساتھ بہت ساری سبق آموز باتیں بھی ملتی ہیں۔ مجھے ’’بیاض دل‘‘ اور یادگارلمحے یہ سلسلے بڑے زبردست لگتے ہیں۔ اب آتے ہیں ناولز پر تبصرے کی طرف تو جی سب سے پہلے ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ کی تو کیا ہی بات ہے‘ مجھے اس طرح کی کہانیاں بڑی اچھح لگتی ہیں۔ اللہ سب کو صحت اور ایمان کی دولت نصیب فرمائے۔
٭ ڈئیر پہلی بار شرکت پر خوش آمدید۔
ماہ نور نعیم… بھکر۔ السلام علیکم! ایک طویل عرصہ کے بعد آئینہ میں حاضر ہونے کی جسارت کی ہے‘ پڑھائی کی مصروفیات کی وجہ سے کوئی بھی تبصرہ نہ کرسکی جس کے لیے معذرت۔ سب سے پہلے آپی سمیرا شریف طور کو اتنا خوب صورت ناول لکھنے پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد۔ ایک مرتبہ ولی نے انا کو چمکتی نگاہوں سے دیکھا تو اندازہ ہوگیا کہ جو انا سمجھ رہی ہے وہ ہرگز نہیں ہورہا۔ اس کے علاوہ شہوار اور مصطفی کی اسٹوری بھی بہت اچھی رہی۔ پورے ناول میں تمام کردار‘ بہت اچھے تھے۔ اچھے اور برے کا انجام‘ ہمیشہ ایک سا نہیں ہوتا‘ بدی کو مٹ جانا ہوتا ہے۔ رفعت سراج کا ’’چراغ خانہ‘‘ بہت خوب صورت ہے۔ مشہود کی واپسی دانیال کی محبت کے لیے امتحان نہ بن جائے۔ سب سے پیارا کردار مانو آپا کا لگتا ہے۔ پُرخلوص اور سادہ سی مانو آپا کی گہری باتیں‘ دل میں یوں اترتی چلی جاتی ہیں جیسے خشک مٹی میں بارش کا پانی۔ ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ آہ کیا کہنے‘ اتنی آسانی سے سدید پھسل کر گرا اور ہمیشہ کے لیے اس رنگین دنیا سے منہ موڑ گیا۔ بہت خوش قسمت ہوتے ہیں ایسے لوگ جو وطن سے محبت کا ثبوت اپنی جان دے کر کرتے ہیں۔ سباس گل آپی کی ’’چاند‘ چندا اور چاندنی‘‘ ہنستی مسکراتی تحریر نے دل کو چھو لیا‘ خوش رہیے۔ باقی تمام سلسلے بھی بہت اچھے ہیں‘ دانش کدہ‘ بیاض دل اور آئینہ تمام بہت خوب ہوتے ہیں۔ نیرنگ خیال میں سب کی شاعری بہت معیاری ہوتی ہے جو سب کے اعلیٰ ذوق کی نشاندہی کرتی ہے۔ آنچل کے پورے اسٹاف کی ترقی و خوشحالی کے لیے ڈھیروں دعائیں‘ اللہ تعالیٰ پاکستان کو دن دگنی‘ رات چوگنی ترقی عطا فرمائے‘ آمین‘ آپ سب کو یوم آزادی مبارک ہو‘ اللہ حافظ۔
وثیقہ زمرہ… سمندری۔ السلام علیکم! سب قاری اور لکھاری بہنوں کو پیار بھرا سلام قبول ہو‘ اب شادی کیا ہوئی آنچل 23 کو ملنا تو جیسے خواب ہی ہوگیا ہے اب لیٹ ہی آتا ہے جس کی وجہ سے خط بھی مقررہ تاریخ تک مشکل سے لکھ پاتی ہوں سب سے پہلے ’’موم کی محبت‘‘ پڑھا اذان کا رویہ حقیقت سننے کے بعد کچھ عجیب سا لگا جو بھی تھا جتنی محبت وہ شرمین سے کرتا تھا اسے اپنی ماں سمجھتا تھا اب اس دور رہنا عجیب تھا۔ ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ عبدالہادی بدلہ لینے کے لیے شہرزاد کو نقصان ہی نہ پہنچا دے۔ ’’تیرے نام کردی زندگی‘‘ عفنان شاہ پارس کی طرف لوٹ آیا پڑھ کر اچھا لگا۔ ’’چراغ خانہ‘‘ مشہود پیاری اور دانیال کے نکاح کا سن کر دیکھو‘ کیا ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ چاند رات اگر شوہر شاہ خرچ ہو تو ہر بیوی کو زہرہ جیسا ہونا چاہیے بیوی کی سمجھ داری سے ہی گھر بنتے ہیں افسانہ اچھا تھا۔ ’’ذرا مسکرا میرے گمشدہ‘‘ اجیہ کے والد کا رویہ اس کے ساتھ ایسا کیوں حنین کے ساتھ تو بالکل ٹھیک ہے‘ اگلی قسط کا شدت سے انتظار ہے۔ ’’دل بدل دے‘‘ نیک ارادے ہوں تو سب کچھ ممکن ہوتا ہے چاندنی نے سب گھر والوں کو سیدھا رستہ دکھایا‘ اللہ ہم سب کو ایسا بنا دے‘ آمین۔ باقی آنچل ابھی پڑھا نہیں اس لیے معذرت اللہ حافظ۔
نجم انجم اعوان… کراچی۔ السلام علیکم! تمام آنچل اسٹاف‘ قارئین‘ رائٹرز ہمیشہ خوش رہو‘ تیز چلچلاتی دھوپ کے بعد بادلوں کا آنا بارش کی ہلکی ہلکی پھوار نے کراچی کے موسم میں چار چاند لگا دیئے (آج تک سمجھ نہیں آیا کہ چاند تو ایک ہے پھر چار چاند کیسے لگ گئے‘ ہاہاہا)۔ اس خوشگوار موسم میں کس چیز کی کمی محسوس ہورہی ہے‘ جیسے کوئی محبوب چیز ہم سے جدا ہو‘ اتنے میں ڈور بیل کی آواز سے گھر کے عمیق ماحول میں جیسے گھنگھرو بجا دیئے دروازہ کھولا‘ ارے یہ آنچل کسی محبوب کی طرح گھر آچکا تھا۔ آج 23 تاریخ ہے دل چاہا کہ آنچل لانے والے بابا کی بلائیں لوں مگر برا ہو اس زمانے کا کہ کچھ بھی نہ کرسکے۔ خوامخواہ محلے میں بدنام ہونے کا ڈر ہے۔ سرورق پر نگاہ شوق ڈالی‘ جاذبیت و نزاکت سے تمام تر استعاری لیے خوش نما‘ دلکش چہرے کے ساتھ عائشہ نور براجمان تھی سرگوشیاں پڑھ کر حمدونعت پڑھنے بیٹھ گئے اس امید کے ساتھ کہ شاید اس میں میری لکھی ہوئی نعت موجود ہوگی مگر اس مرتبہ بھی انتظار ہی رہا۔ درجواب آں میں مدیرہ صاحبہ کو بے حد مصروف پاکر آگے کی جانب کھسکے۔ ہمیشہ کی طرح دانش کدہ میں بے حد قیمتی معلومات سے دل منور‘ مسرور ہوگیا۔ مشتاق بھائی جان اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے‘ ہمارا آنچل میں بہنوں کی ملاقات اچھی رہی‘ ہر کسی کی اپنی اپنی مصروفیات تھیں۔ آج تک بہت دوستوں سے ملاقات ہوئی مگر دعائے سحر کا مزاج انداز مجھے اپنے جیسا لگا شاید اسٹار کی وجہ سے۔ راحت وفا اور نازیہ اپنی جگہ ٹھیک جارہی ہیں۔ مجھے کشمیر بے حد پسند ہے اور جس ناول میں آرمی ہو تو وہ بھی بے حد پسند آتا ہے۔ مکمل ناول میں عائشہ نور محمد ہو یا رفعت سراج دونوں بہت پسند آئے پلیز رفعت سراج کو بہنوں کی عدالت کے روبرو لے آئیں‘ کافی عرصہ ہوا ہے ان سے بات نہیں ہوئی۔ ’’ذرا مسکرا میرے گمشدہ‘‘ فاخرہ گل ہو یا نزہت جبیں ضیاء‘ سباس گل‘ طلعت نظامی ان کے افسانے بے حد اچھے لگے اور رضوانہ پرنس آنچل میں آنے پر بہت شکریہ۔ صائمہ قریشی کا عید کے رنگ اناڑی پیا کے سنگ بھی اچھی لگی بس ایک بات سمجھ میں نہیں آئی جس گھر میں دو خواتین ہوں وہاں اتنے عرصے تک رس ملائی فریزر میں کیسے رہ گئی؟ معذرت کے ساتھ صائمہ قریشی مگر یہ چھوٹے چھوٹے افسانے ہماری زندگی میں بہت کچھ کرتے ہیں آپ بے حد اچھا لکھتی ہیں مگر یہ تنقید آپ کے لیے مشعل راہ ثابت ہوگی۔ نظیر فاطمہ‘ راشدہ رفعت‘ عروسہ عالم نے بھی اچھا لکھا‘ حرا قریشی کا آرٹیکل بھی پسند آیا۔ ڈاکٹر طلعت نظامی کا ہومیو کارنر میں کافی معلومات مل جاتی ہے۔ یہ بتایئے کہ رائٹر اور ڈاکٹر طلعت نظامی ایک ہی ہیں یا یہ دونوں الگ الگ ہیں؟ بیاض دل میں نورین انجم‘ مدیحہ نورین‘ نجم انجم‘ نبیلہ ناز‘ امبر گل‘ حمیرا قریشی۔ نیرنگ خیال میں برکت راہی‘ لائبہ میر کی پسند اچھی لگی۔ پیغام میں جن جن بہنوں نے یاد کیا ان کا شکریہ۔ نور الہدیٰ مغل آپ کا پیغام آپ نے ہمیں یاد کیا‘ اللہ تعالیٰ ہمیشہ آباد رکھے‘ یادگارلمحے میں نزہت جبیں‘ سمیرا منور نے اچھا لکھا۔ نزہت جبیں ضیاء آپ کے لیے دل کی گہرائی سے دعائیں سلام۔ آپ کے قلم سے لکھی تحاریر بہت پسند ہیں‘ اللہ تعالیٰ آپ کو خوش رکھے‘ آئینہ میں کافی بہنیں چھائی رہیں۔ ہم سے پوچھئے میں ہر بہن کے سوالات اچھے تھے کسی ایک کی تعریف کرنا مناسب نہیں ہے‘ آخر تمام بہنوں کے لیے دعائیں‘ شمائلہ کاشف کے لیے بے حد پیار زندگی رہی تو پھر ملیں گے۔
رہے پھول چمن میں تو پھر بھی کھلیں گے
اگر رہی زندگی تو پھر بھی ملیں گے
٭ یوں ہی آتے رہنا خوشی ہوگی۔
عنبر مجید… کوٹ قیصرانی۔ السلام علیکم! سب سے پہلے میری جانب سے آپ سب لوگوں کو جشن آزادی مبارک ہو۔ آزادی کا ایک نیا سال امید کرتی ہوں آئندہ برس ہم حقیقی معنوں میں آزاد قوم کے طور پر سامنے آئیں گے‘ اپنی کفالت خود کریں گے اور صحیح معنوں میں پاکستانی کہلائیں گے‘ آمین۔ جی تو ہم ایک ماہ کی غیر حاضری کے بعد پھر حاضر محفل ہیں‘ 23 تاریخ کو جیسے ہی آنچل ہاتھ لگا تو آنکھیں ایک پل کے لیے مسرت سے چمک اٹھتیں‘ آنچل آگیا تے چھا گیا ٹھاہ کرکے‘ ہاہاہا۔ حسب عادت ٹائٹل سے شروعات سے کروں گی ماڈل کا میک اپ اچھا لگا بالکل فریش فریش سب سے پہلے سرگوشیاں سنیں پھر حمدونعت سے دل کو منور کیا۔ درجواب آں میں پہلے پہلے سمیرا آپی کو دیکھا ’’یہ چاہتیں یہ شدتیں‘‘ ڈرامائی شکل اختیار کرگیا‘ مبارک باد۔ دانش کدہ میں پہنچے مشتاق احمد قریشی بہت اچھی معلومات ہم تک پہنچارہے ہیں۔ ہمارا آنچل میں سب بہنوں سے مل کر اچھا لگا ویری نائس۔ اب بات ہوجائے کہانیوں کی جی تو سب سے پہلے نمبر پر ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ نازی آپی پلیز تھوڑی لمبی کہانی لکھا کریں‘ اتنی چھوٹی سی لکھتی ہیں‘ پلیز اب اگلے ماہ بہت زیادہ صفحات لکھنا اوکے‘ شہرزاد پر بہت افسوس ہورہا ہے وہ کہیں عبدالہادی کی باتوں میں نہ آجائے‘ کبھی کبھی انسان نادانستگی میں ان دیکھے جال میں پھنس جاتا ہے اور خاص طور پر ذہین و فطین لوگ‘ اس تحریر نے بہت بے چین کیا۔ کیا دنیا میں اس طرح کے لوگ بھی ہوتے ہیں؟ خدا ہمارے ملک کو ایسے لوگوں سے پاک کرے اور دشمنوں کی نظر بد سے بچائے اور ہمیں اتنی توفیق و ہمت دے کہ ہم اس کی حفاظت کریں‘ آمین۔ شہرزاد میڈیم تم بچ کے رہنا عبدالہادی سے‘ شدید کا بہت دکھ ہوا۔ خیر اسے تو جانا ہی تھا کیونکہ عائلہ کا ہیرو تو زایار ہے نا اور صمید حسن نے زاویار کو اس کی ماں سے بدگماں کرکے اچھا نہیں کیا ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا خیر اب جو ہوگیا سو ہوگیا۔ مجھے صیام اور دری کا کردار بہت اچھا لگا‘ اس کے بعد بات کی ہوجائے ’’موم کی محبت‘‘ شرمین کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے‘ کچھ خاص رنگ نہیں جماسکی یہ کہانی بس ایک ہی جگہ اٹک گئی ہے لہٰذا اب اس اسٹوری کا دی اینڈ ہو ہی جانا چاہیے اب اس کو ختم کرکے کوئی نیا دلچسپ سلسلہ شروع کریں۔ اذان کی پھوپی پر بہت حیرت ہوئی کتنی لالچی قسم کی عورت ہے دولت کے پیچھے پڑگئی ہے‘ کشف کا کردار بالکل حقیقت لگا کیونکہ ہر دور میں زیادہ تر لڑائیاں دولت و جائیداد پر ہی ہوتی ہیں جس پر بھی دولت و جائیداد کا بھوت سوار ہو تو اس نے کسی کی بھی قدر نہیں کرنی۔ ماں باپ‘ بہن بھائی ہی کیوں نہ ہو‘ اللہ ہم سب کو اس مرض سے بچائے‘ آمین۔ مکمل ناول ’’چراغ خانہ‘‘ ارے واہ آپی اچھی رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے‘ ویل ڈن۔ عائشہ نور محمد ویلکم جی کافی عرصہ ہوگیا ہے آپ کی جھلک نہیں دیکھی سو اب دیکھ لی ہے ’’تیرے نام کردی زندگی‘‘ بہت ہی اچھا انداز تحریر ہے آپ کا (مبارکاں بھئی مبارکاں) آپ نے ایسے انداز سے سب بیان کیا مزہ آگیا۔ بہت ہی عمدہ تحریر تھی۔ عفنان شاہ اور پری کا کردار پسند آیا‘ مجھے یہ کہانی بالکل ویسے لگی ’’جھیل کنارہ کنکر‘‘ نازیہ کنول نازی کے ناول جیسی عفنان کا کردار میکال جیسا اور پری کا کردار ہانیہ جیسا لگا‘ ویری فنٹاسٹک۔ عائشہ آپی مکمل ناول آپ کا زبردست لگا‘ پہلے جو بھی مکمل ناول آنچل میں لکھے بہت ہی زبردست لکھے‘ ویل ڈن آپی جی۔ ناولٹ کی بات ہوجائے ’’عید کے رنگ اناڑی پیا کے سنگ‘‘ درست لگا۔ ’’عید ہوگئی زندگی‘‘ نظیر فاطمہ اچھا لگا ناولٹ آپ کا‘ فریحہ نے منان کے ساتھ بہت بری حرکت کی فریحہ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ ’’ذرا مسکرا میرے گمشدہ‘‘ فاخرہ گل کے ناولٹ کے درشن کیے نسبتاً بہترین جاری ہے وہ نیند میں ڈوبی لڑکی کوئی اور نہیں بلکہ وہ اجیہ ہی ہے اگلی قسط کا شدت سے انتظار ہے۔ افسانے میں صرف ایک ہی افسانہ پڑھا ’’چاند‘ چندا اور چاندنی‘‘ سباس گل بڑے دلکش پیرائے میں ڈھالا ہے ویری نائس۔ سباس آپ کوئی مکمل ناول لے کر حاضر ہوجائو‘ اب۔ پیاری کیوٹ سویٹ سی شہلا آپی آپ نے کہا تھا کہ اگلے ماہ سمیرا آپی کا ناول شائع ہوجائے گا تو آپ لوگوں نے کیوں نہیں کیا ہمم… شہلا آپی ایک بات کہنی تھی آپ سے پلیز میری بات مانیں گی نا آپ؟ آپی پلیز ام مریم کو کہیں کہ کوئی مکمل ناول لکھیں‘ اوکے میری بات یاد رکھنا بھولنا مت اوکے سویٹ آپی! بیاض دل میں ارم کمال بالکل سچ کہا آپ نے واقعی محبت ایک چوڑی کی مانند ہے‘ فوزیہ سلطانہ‘ طلعت نظامی آپ دونوں کے اشعار پسند آئے اور سب کے بھی اچھے لگے۔ نیرنگ خیال میں نوشین اقبال نوشی زبردست جی۔ یادگارلمحے کو سب کڑیوں نے یادگار بنادیا‘ کسی ایک کا نام نہیں لوں گی سب نے ہی اچھا لکھا۔ آئینہ میں شمع مسکان‘ کوثر ناز اُف اتنا لمبا تبصرہ اچھا لگا۔ ہم سے پوچھئے واہ واہ کیا بات ہے بہت ہنسی آئی سب کے سوالات و جوابات پڑھ کر۔ اب اس دعا کے ساتھ ہی اجازت‘ اللہ تعالیٰ آنچل کے پورے اسٹاف کو لمبی زندگی دے اور آنچل کو اور زیادہ ترقی اور عروج دے‘ آمین‘ اللہ حافظ۔
فائزہ بھٹی… پتوکی۔ السلام علیکم پاکستان! کیا حال ہیں سب کے؟ اس بار شمارہ 31 تاریخ کو ملا‘ اب بھلا بتائیں جب شمارہ اتنا دیر سے ملے گا تو پھر تبصرہ بھی تو اتنی ہی دیر سے کیا جائے گا نا مگر اب مصیبت یہ ہے کہ دیر ہوجائے تو خط غائب‘ اب یہ تو اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان خطوں پر کس کی نظر ہے۔ سرورق سچی بتائوں متاثر نہیں کرسکا۔ لڑکی کے میک اپ نے بے چاری کی مت ماری ہوئی تھی اگر میک اپ پر دھیان دیا جاتا تو بڑا فرق ہوتا۔ فہرست پر نظر دوڑائی تو بہت سے نام دیکھنے کو ملے مگر پھر بھی خالی پن کا احساس ہوا وجہ ’’ٹوٹا ہوا تارا‘‘ کا اختتام پذیر ہونا۔ یقین جانئے اب فہرست ادھوری معلوم ہوتی ہے‘ ان کو پھر جلدی سے پکڑیئے کسی نئے ناول کے ساتھ‘ ڈرامے کی مبارک باد سمیرا جی۔ عید سروے آنچل وہ واحد جریدہ ہے جو قارئین کی اتنی بڑی تعداد کو شامل ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ جب ہم پڑھنے والوں کو اتنی عزت دی جاتی ہے تو دل خوش و آباد ہوجاتا ہے اور آنچل کی قدر و قیمت میں بے پناہ اضافہ ہوجاتا ہے (لگے رہیں) سب نے اپنے منفرد انداز تحریر کا دیا جلایا اچھا لگا۔ ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ نازی کے ناولوں کی ایک خامی جو کہ بعض دفعہ ان کی خوبیوں پر بھاری پڑتی دکھائی دیتی ہے وہ ان گنت کرداروں کو شامل کرنا ہے (میری نظر یں) ذہن الجھائو کا شکار ہوجاتا ہے۔ ’’موم کی محبت‘‘ راحت وفا سے پوچھیں تو سہی وہ اور کیا کرنا چاہتی ہیں اس ناول کے ساتھ۔ یہ ناول ایک جگہ ٹھہرا ہوا محسوس ہوتا ہے ‘ کچھ ہل جل پیدا کریں راحت جی۔ اقرأ صغیر کے ناول کی خوش خبری دی گئی اللہ کرے یہ ناول کرن‘ حمزہ لوگوں کی کہانی کی طرح نہ ہو کہ طغرل‘ پری وغیرہ (سچے دل کی آواز جہاں تک پہنچے)۔ عائشہ نور محمد کافی عرصے بعد حاضر ہوئی‘ وہ بھی اپنے اندر انفرادیت رکھتی ہیں‘ ان کا منفرد انداز دور سے ہی دکھائی دیتا ہے‘ عائشہ تمہیں پڑھنا اچھا لگا۔ فاخرہ گل بھی آج کل چھائی ہوئی ہیں ہر طرف جدھر نظر کرو دکھائی دیں گی (سمجھ گئی نا)۔ ارے کوئی عشناء کوثر کو بھی پکڑ لائے‘ ہمیں بادلوں کے ساتھ اڑے عرصہ ہوگیا۔ رفعت سراج بھی کہانی کو اچھے سے لے کر چل رہی ہیں لگتا ہے کچھ اور ہی سوچے ہوئے ہیں‘ چلیں دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ اب بات ہوجائے سلسلوں کی دوست کا پیغام آئے جس جس نے یاد کیا جزاک اللہ۔ بیاض دل کے ہر شعر نے عید کو دوبارہ زندہ کردیا۔ نیرنگ خیال یہ سلسلہ بھی کامیابی سے جاری و ساری ہے۔ اس بار کافی عرصے بعد آئینہ میں شرکت کی ہے‘ کوشش یہی رہی ہے کہ کہانیوں کے کرداروں کی بجائے مجموعی طور پر پورے پورے ناول پر اظہار خیال کیا جائے۔ اللہ حافظ۔
٭ ڈیئر فائزہ! آئندہ بھی شامل محفل رہیے گا۔
حافظہ صائمہ کشف… فیصل آباد۔ السلام علیکم! شہلا آپی کیسی ہیں آپ؟ امید کرتی ہوں خیریت سے ہوں گی میری دعا ہے آپ ہمیشہ خوش و خرم رہیں اور تمام آنچل اسٹاف اور قارئین کو پیار بھرا سلام قبول ہو۔ اگست کا آنچل 25 کو ملا سب سے پہلے سرگوشیاں سنیں‘ اقرأ صغیر آپی سلسلہ وار ناول کے ساتھ آرہی ہیں جان کر خوشی ہوئی۔ حمدونعت پڑھی دل کو سکون ملا‘ دانش کدہ میں مشتاق انکل بہت اچھا درس دیا اس کے بعد ہمارا آنچل چاروں بہنوں کے تعارف بہت پسند آئے۔ عفیرہ مظہر کا نام بہت پسند آیا اور صائمہ حجاب کے لیے میری دعا ہے اللہ تعالیٰ ان کی خواہشیں جلد پورا کرے‘ قرآن پاک صحیح معنوں میں سمجھنے کی توفیق دے‘ آمین۔ نیلم جی آپ کا تعارف بھی پسند آیا اور آپ کی سوچ بھی‘ میں آپ سے دوستی کرنا چاہتی ہوں اور اللہ تعالیٰ آپ کو ہر بیماری سے شفاء دے‘ آمین۔ اس کے بعد چھلانگ لگائی رفعت آپی کا ناول ’’چراغ خانہ‘‘ پہ مشہود کے آنے کی خوشی تو بہت ہوئی لیکن ڈر لگ رہا ہے جب اسے پتا چلے گا میری بہن کا نکاح بھی ہوگیا‘ پتا نہیں کیسا بی ہیو کرے گا۔ اس کے بعد ’’موم کی محبت‘‘ شرمین کے لیے بہت دکھ ہوتا ہے اذان شرمین سے بدظن ہوگیا‘ کشف نے بہت غلط باتیں اس کے ذہن میں ڈال دی ہیں پتا نہیں لوگ دولت کے لیے اتنا کچھ کیوں کرجاتے ہیں۔ صفدر پر تو بہت غصہ آتا ہے اور ترس بھی آتا ہے کہ جذبات میں آکر کتنا غلط قدم اٹھالیا۔ ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ نازیہ آپی بہت اچھا لکھ رہی ہیں‘ زاویار نے اچھا نہیں کیا ماں کے ساتھ بدتمیزی کی اسے ماں کی بات سننی تو چاہیے تھی آخر کو ماں تھی جنم دیا تھا اور درمکنون کو بھی لگتا ہے صیام سے دلی لگائو ہوگیا ہے بس اس میں اکڑ بہت ہے اچھا کیا درمکنوں نے ساویز کو صاف جواب دے دیا۔ درمکنون کی ساویز سے ہونی بھی نہیں چاہیے شادی‘ ساویز نے بہت برا کیا پرہیان کے ساتھ اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ پرہیان کا کیا قصور بھلا سدید بھی شہید ہوگیا عائلہ کا کیا بنے گا وہ بہت دکھی ہوگی۔ ’’تیرے سوا نہیں دیکھا‘‘ نزہت جبین نے بہت اچھا لکھا عطیہ بیگم کی سوچ پر بہت افسوس ہوا جو قسمت میں لکھا ہوتا ہے وہی ہوتا ہے رشتے تو آسمان پر بنتے ہیں اس میں عشبہ کا کیا قصور ہے۔ شفیقہ بیگم نے اچھا کیا عطیہ کو صحیح باتیں سنائی اللہ ایسے لوگوں کو عقل دے۔ عروسہ عالم کا افسانہ بہت پسند آیا چاندنی نے واقعی سب کے دل بدل دیئے‘ سب چاندنی کی دعائوں کا نتیجہ تھا اللہ نے سب کو ہدایت بخشی اور عمرہ کی سعادت نصیب ہوئی۔ فاخرہ گل کا ناولٹ ’’ذرا مسکرا میرے گمشدہ‘‘ بہت پسند آیا‘ اجیہ کا کردار اچھا لگا بہت دکھ ہوا یہ پڑھ کر اجیہ کا باپ اسے دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا۔ حنین کا اتنا خیال رکھتا ہے بہت رونا آیا اجیہ کیسے برداشت کرتی ہے‘ اللہ اس کے باپ کو عقل دے یہ شکر ہے دونوں بہنوں کا آپس میں بہت پیار ہے آئندہ ماہ دیکھ کر منہ بن گیا‘ چلو جی پورا ماہ انتظار کرو۔ سباس گل کا افسانہ ’’چاند‘ چندا اور چاندنی‘‘ بہت اچھا لگا واقعی ہر وقت میچنگ کی رٹ لگانے والی لڑکی نے بے جوڑ شادی کرلی‘ کیا حاصل ہوا دولت تو آنے جانے والی چیز ہے ویسے بھی رزق تو عورت کی قسمت سے ملتا ہے اگر عورت کی قسمت اچھی ہو تو غریب گھر بھی امیر بن جائے۔ ’’عید ہوگئی‘‘ نظیر فاطمہ نے بہت اچھا لکھا‘ فریحہ نے بہت برا کیا۔ منان کے ساتھ انڈین ڈراموں نے آج کل کے بچوں کا بیڑہ غرق کردیا ہے‘ اللہ سب کو عقل دے۔ فریحہ معافی کی حق دار نہیں تھی‘ چلو معاف کردیا اچھا کیا سزا تو فریحہ نے پالی تھی۔ ’’خیانت‘‘ رضوانہ کا افسانہ ’’نہلے پہ دہلا‘‘ بھی بہت پسند آئے‘ ہنسی بھی آئی۔ ’’تیرے نام کردی زندگی‘‘ بہت اچھا لگا ناول جتنی تعریف کروں کم ہے‘ عفنان نے ماں باپ کو دھوکہ دیا‘ اچھا نہیں کیا ہیپی اینڈ ہوگیا بہت اچھا لکھا۔ عائشہ نور کو اللہ اور زیادہ اچھا لکھنے کی توفیق دے‘ آمین۔ نیرنگ خیال میں برکت راہی‘ نگین افضل‘ لائبہ میر‘ سیدہ مبشر عظیم‘ مدیحہ مدو‘ سندس رفیق‘ تمثیلہ نے اچھا لکھا۔ دوست کا پیغام آئے میں نجم انجم نے دعائوں میں یاد رکھا بہت شکریہ‘ ہمیشہ شاد رہو نجم انجم جی اور ثناء رسول نے مبارک باد دی خیر مبارک جی آپ بھی خوش رہو۔ یادگارلمحے میں گل مینا‘ پروین افضل‘ رابعہ زیدی‘ سدرہ کشف‘ ساریہ‘ امشاج جنت‘ مسکان جاوید‘ سمیرا نے اچھا لکھا۔ آئینہ میں رانی کوثر‘ کنول خان‘ اقرأ ماریہ‘ شمع مسکان‘ کوثر ناز اچھا لکھا۔ کام کی باتیں تو واقعی کام کی تھی اب اجازت چاہتی ہوں‘ میری دعا ہے اللہ سب کو پریشانیوں سے مصائب سے بچائے اور اپنی رحمت نازل فرمائے‘ آمین۔ آنچل دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے‘ فی امان اللہ۔
مہوش فاطمہ بٹ… دینہ‘ جہلم۔ السلام علیکم شہلا آپی! کیسی ہیں آپ؟ امید ہے خیریت سے ہوں گی۔ آنچل اسٹاف اور قارئین کو میرا سلام‘ بڑے عرصے بعد شرکت کررہی ہوں آئینہ میں وجہ آنچل دیر سے ملتا ہے۔ آنچل کے تمام سلسلے اچھے جارہے ہیں میرا فیورٹ ناول میری پسندیدہ رائٹر کا ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ ہے۔ نازیہ آپی سے درخواست ہے کہ وہ زیادہ لکھا کریں‘ ادھر کہانی شروع ہوئی اور اُدھر ختم‘ پلیز زیادہ صفحات لکھا کریں نازیہ آپی! اقرأ آپی کا نیا سلسلہ وار ناول شروع ہوچکا پڑھ کر تبصرہ کروں گی۔ راحت آپی ’’موم کی محبت‘‘ کا اچھا سا اینڈ کردیں پلیز اور ’’چراغ خانہ‘‘ میں رفعت آپی آپ پلیز دانیال اور پیاری کو الگ مت کرنا ورنہ میں ناراض ہوجائوں گی اور مجھے یاد ہی نہیں رہا میری طرف سے سب کو عید الاضحی مبارک ہو اور میں تعارف بھیجنا چاہتی ہوں‘ کتنا انتظار کرنا پڑے گا‘ اللہ حافظ۔
منیبہ نواز… صبور شریف۔ السلام علیکم شہلا آپی! آنچل اسٹاف اور تمام قارئین کو عقیدت مندانہ سلام‘ دو سال کی غیر حاضری کے بعد ایک بار پھر سے حاضر ہوں۔ سب سے پہلے تو سمیرا جی کو مبارک باد ’’ٹوٹا ہوا تارا‘‘ مکمل ہونے پر۔ نازیہ آپی کا ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ بھی بہت اچھا جارہا ہے۔ ’’تیرے نام کردی زندگی‘‘ اس دفعہ ٹاپ پر تھا‘ واقعی عائشہ نور محمد آپ کا لکھنے کا انداز منفرد ہے‘ ویل ڈن۔ ہمارا آنچل میں مجھے صائمہ حجاب سے مل کر اچھا لگا‘ ویل ڈن صائمہ! اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے ارادوں میں کامیابی عطا فرمائے۔ بیاض دل میں اپنی شرکت نہ دیکھ کر دل ٹوٹا خیر شاید لیٹ تھی اور آخر میں پروین افضل شاہین کو سلام‘ آپ تو مجھے بھول گئی تھیں مگر میں آپ کو ہر دفعہ ضرور پڑھتی ہوں‘ صوبیہ‘ بنارس‘ نوشابہ‘ اقرأ‘ آفرینش‘ مہوش کو سلام اینڈ الحفیظ الامان۔
مدیحہ نورین مہک… برنالی۔ السلام علیکم! 23 کو آنچل ملا اور بہت ہی خوشی ہوئی ٹائٹل بھی اچھا تھا۔ حمدونعت اور درجواب آں سے ہوتے ہوئے عید سروے کے بقایا حصے کی طرف آئی جہاں اپنا نام دیکھ کر بہت خوشی ہوئی‘ دل گارڈن گارڈن ہوگیا پھر بیاض دل کھولا اپنا انتخاب دیکھا خوشی ہوئی اور بیاض دل میں طلعت نظامی‘ نورین انجم‘ ارم کمال‘ طیبہ نذیر کے اشعار بہت اچھے لگے۔ ڈش مقابلہ میں جویریہ ضیاء کی ڈش ’’ایگ بریڈ‘‘ پسند آئے۔ نیرنگ خیال میں سب کی شاعری بہت اچھی تھی‘ عمدہ لاجواب۔ یادگارلمحے میں میرا کوئی انتخاب شامل نہیں تھا۔ رابعہ زیدی‘ راشدہ جمیل‘ مسکان جاوید کے انتخاب پسند آئے۔ آئینہ میں سب کے تبصرے بہت اچھے تھے‘ شمائلہ آپی تو اپنی ہی محفل جمائے بیٹھی تھیں میرے بغیر ہی افسوس۔ سلسلے وار ناولز کے بعد عائشہ نور محمد کی تحریر دیکھ کے دل خوش ہوگیا‘ واہ اور افسانے سب کے اچھے تھے۔ صائمہ قریشی کی تحریر ’’عید کے رنگ اناڑی پیا کے سنگ‘‘ مزے کی تھی‘ باقی تمام قارئین کو بہت سارا سلام اور دعا ہے ہمارا وطن تمام ناگہانی آفات سے بچا رہے‘ آمین۔
تمنا بلوچ… ڈی آئی خان۔ السلام علیکم! جناب کیسی ہیں آپ سب؟ لگتی تو اچھی ہی ہیں باقی خدا جانے۔ شہلا آپی بڑے عرصے بعد آپ کی محفل میں تشریف فرما ہوئے ہیں۔ ہاں تو جناب بات ہوجائے آنچل کی تو اس بار 29 کو ملا‘ سب سے پہلے سروے دیکھا تو فوراً خود کی تلاش میں نظریں دوڑائیں مگر یہ کیا ایک دو تین اور پھر آخر (8) پہ آکے تلاش ختم ہوئی ویسے کیا خیال ہیں آپ سب کے‘ ہم کافی جگمگارہے تھے پوری محفل میں (آہم)۔ پھر ’’چراغ خانہ‘‘ کی طرف بڑھے جہاں پیاری اور دانیال کے نکاح کی خوشی ہوئی وہیں مشہود بھائی کی واپسی پہ خوشی دگنی ہوگئی پھر نازی آپی کا ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ پڑھا سدید بھائی کی موت کا بڑا دکھ ہوا دعا ہے کہ اللہ کرے وہ زندہ بچ جائے‘ آمین۔ اس کے بعد عائشہ نور محمد کا ناول ’’تیرے نام کردی زندگی‘‘ پڑھا‘ مزہ آیا‘ اچھا ناول تھا پھر فاخرہ گل کا ’’ذرا مسکرا میرے گمشدہ‘‘ اچھا تھا۔ سباس گل کا افسانہ ’’چاند‘ چندا اور چاندنی‘‘ پڑھا اور ’’عید ہوگئی زندگی‘‘ نظیر فاطمہ کا ناول بھی‘ سب اچھی تحریریں تھیں۔ دوست کا پیغام آئے میں سبھی کے پیغام اچھے تھے۔ نجم باجی آپ نے مجھے یاد رکھا بہت شکریہ۔ یادگارلمحے واقعی زبردست تھے ہر بار کی طرح کسی ایک کی تعریف باقی کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔ کام کی باتیں تو کام کی تھیں‘ باقی ابھی زیر مطالعہ ہے اور اقرأ صغیر جی آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے میری نظم کو اتنی عزت دی اسے اپنے ناول میں شامل کرکے آپ کی بہت ممنون ہوں‘ بہت شکریہ۔ سمیرا آپی آپ کی کمی بہت محسوس ہوئی پلیز جلدی سے انٹری دیں‘ اچھا جی اب اجازت زندگی رہی اور اللہ نے چاہا تو پھر ملاقات ہوگی‘ اللہ حافظ۔
حمدہ چوہدری… گجرات۔ السلام علیکم! آپ ہمیں پہچان گئی ہوں گی مدیرہ آپا! جی ہم حمدہ ہی ہیں۔ تمام پڑھنے والوں کو ڈھیر سارا پیار‘ اس دفعہ سارا آنچل ہی خوب صورت تحاریر سے سجا ہوا تھا لیکن جو تحریریںدل کو چھوگئیں جو دل کے قریب محسوس ہوئیں وہ ہیں ’’خیانت‘‘ ویل ڈن رضوانہ جی۔ آپ نے عورت کے جذبات و احساسات کو مختصر سی کہانی میں پرو دیا یقینا یہ ایک اچھی رائٹر ہونے کی نشانی ہے۔ مرد عورت کو وہ محبت نہیں دے سکتا جو ایک عورت مرد کو دیتی ہے۔ مرد عورت کو تحفظ تو دیتا ہے پھر بھی عورت مرد کی طرف سے عدم تحفظ کا شکار رہتی ہے تو یہ ایک مرد کا ہی قصور ہے کیونکہ وہ اپنے عمل سے عورت کو منتشر کردیتا ہے۔ دوسری کہانی ہے پیاری سی رائٹر فاخرہ جی کی‘ فاخرہ آپ ہمیشہ ایک باپ اور بیٹی کی محبت پر شاندار لکھتی ہیں تو یقینا یہ آپ کے والد محترم کی بے پناہ شفقت اور محبت کی وجہ سے ہے۔ دوسری طرف آپ نے باپ کو اصول پسند دکھایا ہے یقینا اس کی کوئی وجہ ہوگی کہ ایک بیٹی کے لیے تو باپ محبت کا سمندر ہے تو دوسری بیٹی کو چند قطرے بھی میسر نہیں یقینا کوئی ریزن ہے جو کہانی کے آگے بڑھنے پر پتا چلے گا۔ ’’چراغ خانہ‘‘ بہن بھائی کی ایک دوسرے کے لیے محبت دیکھ کر دل بھر آیا۔ رشتوں میں محبت ضروری ہے ورنہ دیمک کی طرح رشتے کھوکھلے ہوجایا کرتے ہیں۔ ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ بہت اچھی طرح آگے بڑھ رہا ہے‘ اب بات کرتے ہیں ’’چاند‘ چندا اور چاندنی‘‘ سباس گل جی نے بہت اچھا لکھا۔ زندگی میں دولت ہی سب کچھ نہیں بلکہ محبت سرفہرست ہوتی ہے‘ باقی سلسلے بھی بہت اچھے تھے۔ حرا قریشی جی واقعی ہم ایسا کہاں سے لائیں جو صرف ملک کے لیے کام کرے نا کہ ملک اس کے لیے کام کرے۔ ہمارے حکمران عجیب ہیں‘ پہلے حکمران قوم کی خدمت کرتے تھے اب قوم حکمرانوں کی خدمت کرتی ہے‘ اللہ رحم کرے‘ دعائوں اور محبتوں میں یاد رکھیے گا‘ اللہ حافظ۔
بی بی اسماء… راولپنڈی۔ السلام علیکم! پریوں کے سچے موتیوں جیسے الفاظ سے سجے آئینہ میں اپنا نام سرفہرست پاکر ہم پر تو شادیٔ مرگ کی سی کیفیت طاری ہوگئی تبصرہ حاضر ہے۔ ٹائٹل پر براجمان ماڈل کی بندیا نے تو دل باندھ لیا۔ درجواب آں میں اپنے ادھورے نام مقام نے جہاں مایوس کیا وہاں اتنی ادبی و علمی شخصیت کے الفاظ ہمارے دل کا چراغ بن گئے ہم تاحیات موصوفہ کے احسان مند رہیں گے‘ گاہے بگاہے رہنمائی کے لیے۔ قسط وار سلسلوں میں نازیہ سے انصاف کی اپیل ہے تو راحت وفا کوئی تو پھول کھلا۔ ’’چراغ خانہ‘‘ دانیال کی جسارت نے جہاں حیران کیا وہیں مشہود میاں کی واپسی خوشی کا موجب تھی۔ عالی جاہ سے ہمیں کوئی گلہ نہیں اتنی اچھی بازی ہار کے اتنا جلاپا تو بنتا ہے ناں۔ باقی عائشہ نور محمد نے اپنے نام کی لاج رکھ لی اور میرے حبیب بے نیاز حرا قریشی کی تحریر نے من آنگن میں روشنی کردی۔ حرا میری جان وہ ان جیسوں کو صدیوں میں پیدا کرتا ہے اور بے مثل بناتا ہے۔ ایسے محمد علی جناح بھی بے مثل ہیں۔ خوب بہت خوب آج کے جوانوں میں ان کے لیے محبت ملک کے لیے کم از کم حوصلہ افزا ہے اور تحریر کے پُراثر اور پُرتاثیر الفاظ پر عزیزی یارم حرا آپ کو صدہا مبارک باد۔ اب اجازت چاہیں گے اگر آپ کی عنایتیں بڑھتی رہیں تو یہ جسارتیں بھی بڑھتی رہیں گی‘ اللہ کی امان میں۔
٭ ڈیئر سائمہ! آپ کا تبصرہ پسند آیا آئندہ بھی یہ جسارت ضرور کیجیے گا۔
ارم کمال… فیصل آباد۔ پیاری سی شہلا جی! سدا ہنستی مسکراتی رہیں‘ آمین۔ السلام علیکم! امید ہے خیریت سے ہوں گی‘ آنچل کا شمارہ بروقت ملا۔ ٹائٹل کچھ خاص تاثر نہیں قائم کرسکا۔ سلسلہ وار ناول ’’موم کی محبت‘‘ نے دوبارہ جگہ بنانی شروع کردی بہرحال شرمین بی! اب بس کریں عارض کو معافی دے دیں۔ ’’چراغ خانہ‘‘ ٹاپ آف دی لسٹ جارہی ہے پیاری اور دانیال کے نکاح کی مجھے ان دونوں سے زیادہ خوشی ہوئی اور خوشیوں دوبالا کرتے مشہود صاحب بھی آن پہنچے۔ آنچل کے تمام سلسلے مجھے بہت پسند ہیں‘ آنچل کی کہانیاں ہمارے کردار کی تعمیر کا کام کرتی ہیں‘ اللہ کرے ہمارا آنچل ہمیشہ چمکتا‘ دمکتا رہے‘ آمین۔
ارم ناز… مشرف کالونی‘ کراچی۔ السلام علیکم! آپ اور تمام بہنوںکو بہت سلام‘ ہر ماہ بہت سال سے آنچل کو پڑھتے تمام بہنوں کے لکھے خطوط پڑھتی ہوں لیکن آج پہلی مرتبہ شرکت کی۔ سب سے پہلے حمدونعت سے دل منور کرتے ہوئے اپنے پسندیدہ ناول ’’شب ہجر کی پہلی بارش‘‘ پڑھا‘ ویل ڈن نازیہ بہن! اس کے بعد فاخرہ گل ’’ذرا مسکرا میرے گمشدہ‘‘ ناول میں جلوہ گر نظر آئیں‘ اگلی قسط کا شدت سے انتظار ہے کیونکہ فاخرہ میری پسندیدہ رائٹر ہیں پھر ایک دم افسانوں کی طرف بھاگے مجھے مختصر لیکن سبق آموز پُراثر افسانے بے حد پسند ہوتے ہیں۔ راشدہ رفعت ’’نہلے پہ دہلا‘‘ مسکرانے پر مجبور کر گئیں کہ ہر مرتبہ غلطی پر خاموشی بھی صحیح نہیں۔ ’’دل بدل دے‘‘ میں عروسہ عالم واقعی اگر آپ سیدھے راستے پر ہو تو بالآخر کامیابی آپ کا مقدر بن ہی جایا کرتی ہے کا سبق دیتی آپ بہت اچھی لگیں۔ بقیہ کا مطالعہ باقی ہے‘ اس کے علاوہ تمام سلسلے بھی پسند آئے‘ اس کے ساتھ ہی اجازت چاہوں گی‘ اللہ حافظ۔
٭ڈیئر ارم! خوش آمدید۔
انعم… برنالی۔ آنچل فرینڈز کو میرا سلام‘ اس دفعہ آنچل 24 کو ملا۔ ٹائٹل بالکل اچھا نہیں تھا‘ سوری۔ یادگارلمحے میں سباس گل کا چلی سوس اچھا رہا۔ امشاج جنت کی تلخ حقائق پسند آئی‘ پری طور‘ نزہت جبین‘ مریم منور بٹ اور ساریہ چوہدری کی باتیں پسند آئیں۔ نیرنگ خیال میں سحر کرن شہزادی‘ صبا الیاس‘ تمثیلہ الیاس اور مدیحہ مدو کی غزلیں پسند آئی۔ بیاض دل میں نبیلہ ناز‘ فوزیہ سلطانہ‘ نادیہ احمد اور مدیحہ نورین مہک کی شاعری پسند آئی۔ افسانے سارے ہی اچھے تھے مگر چاند رات کی کیا ہی بات ہے۔ ناولٹ میں ’’عید کے رنگ اناڑی پیا کے سنگ‘‘ ویری نائس‘ باقی ناولٹ بھی زبردست تھے۔ ’’موم کی محبت‘‘ ابھی پڑھا نہیں سو سوری‘ مکمل ناول میں ’’تیرے نام کردی زندگی‘‘ ویری ویری نائس۔ ’’چراغ خانہ‘‘ بھی اچھا رہا‘ باقی تمام سلسلے بھی اچھے تھے ‘ دعائوں میں یاد رکھیے گا۔
لائبہ میر… حضرو۔ السلام علیکم اہل پاکستان! دعا ہے آپ سب ہمیشہ ہنستے مسکراتے رہیں‘ آمین۔ غالباً چار ماہ کے بعد شرکت کررہی ہوں آئینہ میں بہت سی دوستوں نے یاد رکھا سو آپ کی بے حد مشکور ہوں اگر اپنے حال احوال سے آگاہ کروں تو گزشتہ تین ماہ نہایت ناگوار اور کٹھن گزرے کہ 21 اپریل کو میرے ابو کی ڈیتھ ہوگئی اور کیا کہوں تو اب یار دعائوں کی زیادہ ضرورت ہے تو یاد رکھنا اور مدیرہ جی آپ سے تو میں پکی ناراضگی کی تیاری میں ہوں (بنتی ہے نا)۔ اب مینجمنٹ سے کچھ فرمائشیں کرلیں تو ام مریم کے دو سلسلے وار ناولز میں سے ایک کو آنچل میں ہونا چاہیے پلیز اور نمرہ احمد سے ایک طویل سلسلے وار ناول لکھوائیں آنچل کے لیے۔ اب تبصرے کی طرف چلیں‘ میں نے جب سروے کے سوالات پڑھے تو کچھ مزہ نہیں آیا تھا لیکن پہلے حصے کے جوابات دلچسپ تھے سب بہت اچھے لگے۔ صائمہ قریشی کے زیادہ اچھے تھے اور تعارف میں صائمہ‘ عفیرہ‘ نیلم‘ صائمہ حجاب سے مل کر اچھا لگا میرا بھی لگا ہی دیں اب۔ ’’تیرے نام کردی زندگی‘‘ لمبی اسٹوری تھی اور اچھی تھی۔ ’’چراغ خانہ‘‘ میں دانیال پیاری کے پیچھے اور تیری خیر ہو اگر مشہود نے دیکھا نا مزہ آئے گا اُف۔ ’’نہلے پہ دہلا‘ چاند رات‘ خیانت‘ دل بدل دے‘‘ اچھی اور ’’موم کی محبت‘‘ میں عارض کی باتیں یعنی ڈائیلاگ بہت برے لگتے ہیں۔ ہلکے پھلکے سے اور شرمین کو بھی دل کرتا دو تین تھپڑ لگائوں کے یار کوئی فیصلہ کرلو اور نازیہ آپی سدیہ کا گزشتہ قسط میں بھی پڑھا تھا بہت افسوس ہوا‘ نجانے ایسے کتنے ہی ہیرو ہیں ہمارے ہم جن کے ناموں اور قربانیوں سے ناواقف ہیں اس ناول میں یار فائنلی! زاویار میرا پسندیدہ کردار ہے اور لیکن اس کو کیوں دو لوگوں میں پھنسایا ہوا ہے پہلے صمید حسن نے جھوٹ کا سہارا لیا اور اب مریرہ رحمن بڑھا چڑھا کر پیش کررہی ہیں لیکن ہاں الجھے ہوئے مسئلے اتنی آسانی سے سلجھتے بھی کب ہیں اور عبدالہادی شہرزاد کو درست کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ امید ہے خود ہی لائن پر آئے گا اور صائمہ قریشی جی پلیز اگر مائنڈ نہ کریں تو بڑی معذرت کے ساتھ یہ کہوں گی کہ ’’اناڑی پیا ون‘‘ زبردست تھی جبکہ ٹو اور تھری نارمل سی لگی ہیں تو بقول آپ کے کچھ پارٹ ابھی باقی ہیں تو ان پر خصوصی توجہ دیجیے گا چونکہ حسنین اور فاطمہ سلجھتے جارہے ہیں جبکہ ہمیں وہی اناڑی پن ہی پسند تھا دونوں کا‘ نزہت بی گڈ اور ’’ذرا مسکرا میرے گمشدہ‘‘ اچھی تھی پر تھوڑی سی بور بھی لگی امید ہے آگے دلچسپ ہوگی آپ کی دوسری تحریروں کی طرح اور سباس گل آپ کا اینڈ فٹ تھا اور پوائنٹ کے حوالے سے آخری پیراگراف زبردست بھی کہ میچنگ میچنگ کی رٹ لگائے رکھنے والی لڑکی ان میچڈ بے جوڑ شادی کرنے جارہی ہے والا… فنٹاسٹک یار! ’’عید ہوگئی زندگی‘‘ میں حنان پر پیار آیا اور فریحہ پر غصہ پاگل کہیں کی بٹ چلو اب آگئی عقل تو خدا سلامت رکھے میرے سمیت آمین اور حرا قریشی یار بہترین قائد سے ہم سب کو بہت بہت پیار ہے۔ ہر پاکستانی ایسے لیڈر پر فخر کرتا ہے اللہ پاکستان کو مزید ایسے لیڈروں سے نوازے جو کہ ناممکن ہی لگتا ہے کہ قائد جیسے عظیم انسان صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں لیکن اللہ کے ہاں کچھ بھی ناممکن نہیں سو ہمیں مانگتے رہنا چاہیے۔ اور یار تم سب کو عید الاضحی مبارک‘ ہمیشہ خوش رہو پھر ملیں گے ابھی کے لیے اللہ حافظ۔
٭ لائبہ اللہ تعالیٰ آپ کے والد کی مغفرت کریں اور ان کے درجات کو بلند کرکے ان کو جنت عطا کریں آمین۔
فریدہ فری… لاہور۔ سویٹ شہلا جی السلام علیکم! اگست کا آنچل ملا ٹائٹل اچھا لگا اس مرتبہ ہماری شاعری نہیں لگی میں بہت سخت بیمار ہوں یہ خط بھی ہسپتال سے لکھ رہی ہوں۔ سب قارئین اور رائٹرز میرے لیے دعا کریں شکریہ۔ افسانوں میں ’’چاند‘ چندا اور چاندنی‘‘ نے کمال کردیا‘ واہ سباس گل جی آنچل میں چار چاند لگا دیئے۔ ’’تیرے سوا نہیں دیکھا‘‘ نزہت جی بہترین افسانہ لے کر آئیں۔ رضوانہ پرنس تو افسانوں کی ملکہ عالیہ ہیں‘ کیا کمال کا لکھتی ہیں خوش‘ بہت بہت سلام دعا۔ ’’دل بدل دے‘‘ اور ’’چاند رات‘‘ بھی اچھی تحریریں تھیں۔ باقی ناول اور ناولٹ ابھی پڑھنا باقی ہیں‘ دوست کے نام ہم نے بھیجا تھا پیغام مگر شائع نہ ہوا۔ نیرنگ خیال میں راشد بھائی کی غزل‘ عارفانہ یاسمین کی شاعری اور تمثیلہ لطیف کی شاعری پسند آئی۔ مدیحہ کی غزل بھی پسند آئی اچھا جی سب کو سلام دعا اور پیار۔
٭ڈیئر فریدہ! اﷲ آپ کو صحت و تندرستی عطا فرمائے‘ آمین۔
ثانیہ مسکان… گوجر خان۔ سلام ٹو آل پاکستان‘ میری جانب سے پورے پاکستان کو یوم آزادی مبارک ہو۔ اللہ میرے ملک میں امن قائم رکھے‘ آمین۔ بھئی اس ماہ تو کوئی ناول‘ ناولٹ‘ افسانہ یا سلسلہ نہیں مجھے تو بات کرنی ہے صرف دی موسٹ بیسٹ ’’ٹوٹا ہوا تارا‘‘ کی۔ امیزنگ آپی! شاندار اختتام پر بے حد مبارک باد‘ اس ناول نے آغاز سے لے کر اختتام تک اپنے سحر میں جکڑے رکھا اور اب جب اختتام ہوچکا ہے اس کا سحر اب تک ویسے ہی برقرار ہے۔ ولید اور انا میرے فیورٹ کردار ہیں‘ روٹھتے‘ لڑتے‘ جھگڑتے اور بچھڑتے ہوئے دونوں مل ہی گئے۔ بہت اچھا لگا‘ جس طرح آپ نے کردار کے ساتھ انصاف کیا اور کہیں کوئی کمی نہیں چھوڑی‘ لائق تحسین ہے۔ مصطفی شہوار‘ عباس رابعہ اور فیضان لالہ رخ‘ ہیپی اینڈنگ۔ آپی آپ یہ جادوگری اسی طرح جاری رکھیے اور جلد ایک نئے شاہکار کے ہمراہ آنچل کے صفحات پر جلوہ گر ہوجایئے کیونکہ آپ سے زیادہ دن کی دوری مجھے تو گوارہ نہیں‘ پاکستان زندہ باد‘ پاک فوج پائندہ باد‘ اللہ حافظ۔
حرا قریشی… بلال کالونی‘ ملتان۔ شب کا فسوں بکھیرتے چپ کی چادر اوڑھے فلک اس کے تابندہ ستاروں اور چاند کی چاندنی کے سنگ صاحب من حرا یار من سے مخاطب ہے۔
چوم لیتا گر میں پاتا دستِ نقاش ازل
صفحۂ عالم پہ کس کس رنگ کی تصویر ہے…!
جس طرح چاند شب کی تیرگی کو چہار سو نور عطا کررہا ہے جس طرح سورج سربِ کائنات کو مساوی طور پر اپنی کرنوں سے جلا بخش رہا ہے جس طرح جمادات و نباتات تک ہر شے قرینے میں ڈھل رہی ہے جس طرح ہوا کے رخ متعین ہیں وہ بادلوں کو لاتی اور دھرتی کی پیاس بجھا کر ہر ذی روح کو پُرسکون امن سے پُرفضا عطا کررہی ہے بالکل اسی طرح یار من (آنچل) سوچنے والا ذہن فکر کی دل آویز سطح اور اوراق کے قرینے میں مخفی ادراک کی بھر پور چاشنی و شستگی علم بڑھانے علم پھیلانے اور علم سے عمل کی طرف لے لا نے والوں کو مستقبل میں اپنے آپ کو منوانے کا سلیقہ زیست مہیا کررہا ہے پھر جو اس جریدے میں عیاں تحریروں کا حسن ہے وہ قابل رشک انداز میں قاری کو بدل رہا ہے۔ چاندنی کس کے تبسم کی در آئی اس میں…! عائشہ نور محمد آپ کا اسم محبتوں کے دیار میں پہلے ہی جائے بنا چکا ہے ’’تیرے نام کردی زندگی‘‘ کو دیکھ اس دیار کی روشنی چکا چوند بڑھ گئی۔ نانی کا غیبی کردار تحریر میں رنگ بھرتا رہا۔ پارس نے نہ صرف ولید‘ طوبی‘ کلثوم‘ عالم شاہ کا دل جیت لیا بلکہ عفنان شاہ کے دل کی بھی فاتح بن گئی جہاں خلوص سے لبریز رشتوں میں وفا کی سوندھی مٹی شامل ہو جائے وہاں بس محبت اگتی ہے۔ پارس کی ناک اور لونگ دونوں نے لطف در لطف قاری کو کشید از جان کیا اتنی پیاری تحریر… آفرین! ’’عید ہو گئی زندگی‘‘ عزت نفس کے عمدہ سبق سے لبریز تھی۔ بری دوستی ہو یا نظروں کا بہت کچھ برا دیکھنا دونوں ہی انسان کو کہیں کا نہیں رہنے دیتے پھر ضمیر کی دہلیز پر سدا دستکیں جاری رہتی ہیں بالکل ایسا ہی فریحہ کے ساتھ ہوا۔ شکر کہ حنان نے بھائی کا اعتبار کیا کہ جب اعتماد کی دھجیاں بکھر جائیں اور بکھیرے بھی جان سے عزیز ترین ہستی تو شدید درد لاحق ہوتا ہے بہرکیف توبہ کا در کھولا اور فریحہ کو حسن نیت کی توفیق ہوئی سو باقی سب کے رویوں میں بھی بعد معافی تلافی لچک آگئی ’’صرف پاک باز عورت پر تہمت لگانا ہی گناہ نہیں ہے بلکہ پاک باز مرد پر تہمت لگانا بھی اتنا ہی بڑا گناہ ہے‘‘ تحریر کے کوزے میں یہ خوب پیغام تھا عجلت اکثر ہی مرواتی ہے۔ آہا! جی آیاں نو سباس جی میٹھی عید اور نمکین سویوں سا ’’چاند‘ چندا اور چاندنی‘‘ آپ لے کر آئیں‘ بہاروں نے پھول برسائے اور خوشی کے گیت گائے بے جوڑ تعلق بے جوڑ خوشیاں بے جوڑ خواب عنایت کرتے ہیں۔ چندا کے لیے خدا بخش کا جوڑ ایسا ہی تھا پھر اگر روپیہ پیسہ ہی سکون و اطمینان کا باعث ہوتا تو غرباء کی جھونپڑیوں سے کبھی بچوں کے قہقہوں کی آوازیں نہ آتیں۔ ’’دل بدل دے‘‘ عروسہ عالم کی تحریر ان تمام لوگوں کے لیے معاون ہوئی جو کامیابی کے ادوار نماز و دیگر عبادات سے غفلت برتے ہوئے ہیں۔ دولت کے زعم میں انہیں عیش و نشاط سے بھرپور لذتیں تو یاد ہیں مگر وہ دینی احکامات کو یکسر بھولا چکے ہیں۔ چاندنی کی آمد ہر ایک کے لیے ہدایت کا روزن ثابت ہوئی ویل ورک ڈئیر عروسہ جی! راشدہ رفعت کی تعریفیں کب سے سنتے آرہے ہیں۔ ’’نہلے پہ دہلا‘‘ کو پڑھا تو فی الفور ستائش کے بلند اوطاق پر رکھ دیا‘ ساسو ماں کی طنزیہ نقاط سے بھری گفتگو ہما کے لیے جلتی پر تیل کا کام کرتیں بالخصوص اس وقت جب اپنے رو برو ہوتے۔ وہ تو شازمین کی تشریف آوری نے انہیں دن میں تارے دکھائے اور نہلے پہ دہلا والا کام ہوگیا‘ خوب تر! راشدہ جی۔ ’’چاند رات‘‘ طلعت نظامی کی تحریر بھی عمدہ سبق کا پیش خیمہ تھی اس تحریر کی ورق گردانی کرتے پنچابی زمیندار کی کہانی یاد آگئی جو دنیا دکھاوے کی مد قرض کے وبال میں جکڑا جاتا ہے۔ زہرہ بیگم کے ڈیڑھ لاکھ روپے نے تو کرشمہ ہی کردیا‘ واللہ بیگم ہو تو ایسی! گڈ جاب۔ رضوانہ جی کی تحریر نام ’’خیانت‘‘ کے اندر گہرا اسرار لیے ہوئے تھی پھر قابل ذکر کیونکر نہ ہوتی بھلا! یہ مدعا آج پہلی دفعہ سمجھ آیا کہ اپنی ایک عدد خوب صورت‘ تعلیم یافتہ بیوی کے ہوتے ہوئے بھی حضرت مرد دوسری خواتین کو یک ٹک کیوں تاکتے رہتے ہیں۔ خوب پلاٹ‘ خوب کہانی اور خوب قلم کار! نزہت آپی کی خوبیوں کے تو آہستہ آہستہ قائل ہوتے جارہے ہیں۔ ’’تیرے سوا نہیں دیکھا‘‘ تفکر کا پہلو لیے احسن تحریر تھی۔ اگر کسی لڑکی کو طلاق ہوجائے عین شادی پر کوئی مر جائے تو جانے کیوں اسے منحوس اور نحوستی جیسے القابات سے نواز دیا جاتا ہے۔ ایسی تحریریں سوچوں کا دائرہ صحیح سمت موڑ سکتی ہیں۔ بریو او! ’’ذرا مسکرا میرے گمشدہ‘‘ پہلی قسط ہی خوب تھی مزید ہم منتظر فردا‘ اناڑی پیا کے سنگ رس ملائی کی ترکیب اور نادانی بہت محظوظ ہوئی۔ عید سروے پڑھتے ہمیشہ ہی مزا آتا ہے۔ ’’شب ہجر کی پہلی بارش’’ اور ’’چراغ خانہ‘‘ بہترین انداز میں چل رہی ہیں۔ رب سوہنا قلم کا روپ اور نکھارے آمین۔ ’’ہمارا آنچل‘‘ میں آنچل لہراتی ماہ جبینوں سے ملے اچھا لگا۔ ’’دانش کدہ‘‘ کسی بھی طرح اپنی اہمیت کم ہونے نہیں دیتا۔ ’’درجواب آں‘‘ میں مہناز‘ تحریم‘ رابعہ افتخار اور حرا قریشی کا نام دیکھ کر خوشی ہوئی۔ شمائل کے جواب ’’ہم سے پوچھئے‘‘ کی بدولت خوب دل بہلاتے رہے۔ ہم بھی پڑھ کر مسکراتے رہے‘ آئینہ میں رانی‘ مہناز‘ کنول‘ شمع‘ فرحت اور کوثر ناز نے بزم کا رنگ جلترنگ بنادیا۔ یادگار لمحوں سے موتی اکٹھے کیے اور دوست کا پیغام کے بحر میں اپنے نام کے سیپ کی جستجو کی۔ تحریم نے یاد رکھا اس محبت کے لیے شکریہ۔ نیرنگ خیال عید کے رنگوں سے مزین تھا اور ڈش مقابلوں کی تو بات ہی کیا ہے‘ سدا شاد آباد رہیں‘آمین۔
شبنم… گوجر خان‘ ای میل۔ السلام علیکم! اس دفعہ کا آنچل کا ٹائٹل بہت پسند آیا۔ سب سے پہلے نازیہ کنول کے ناول کی طرف آئی اور یہ قسط بھی پچھلی قسط کی طرح بہترین تھی‘ مجھے لگتا ہے سدید زندہ ہوگا‘ دیکھتے ہیں کیا بنتا ہے بہرحال نازیہ بہت اچھا آگے بڑھا رہی ہیں۔ پھر رفعت سراج کا ناول پڑھا اس دفعہ کی اسٹوری بہت دلچسپ تھی اور عائشہ نور جب آئیں چھا گئیں ناول زبردست تھا پھر جب اناڑی پیا کا نیا سلسلہ دیکھا پڑھ کے بہت لطف آیا‘ اسپیشلی ہیرو کا اینڈ پر مہندی لگانا صائمہ جی یہ تو بڑا یونیک کام کروایا۔ فاخرہ گل نئے ناول کے ساتھ انٹری بڑی خوشگوار لگی اور پہلی قسط نے دل کو جکڑ لیا اور افسانے سبھی اچھے تھے اسپیشلی ’’چاند رات‘‘ طلعت نظامی کی حقیقت پسندی بہت اچھی لگ رہی تھی باقی سب سلسلے اچھے تھے۔ پہلے اپنی سسٹرز وجیہہ ارشاد کے ساتھ تبصرہ کرتی تھی اس دفعہ سوچا کیوں نہ آنچل میں تبصرہ بھیجوں اور وجیہہ کو حیران کردوں‘ ان شاء اللہ اب حاضر ہوتی رہوں گی اللہ حافظ۔
٭ اب اس دعا کے ساتھ اجازت چاہوں گی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے وطن سے محبت کرنے والا بنادے اور پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلامی ریاست بنائے‘ آمین۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close