Aanchal Feb 2019

اکائی(قسط ۱۰)

عشنا کوثر سردار

آج یوں موسم نے دی جشن محبت کی خبر
پھوٹ کر رونے لگے ہیں میں محبت اور تم
ہم نے جونہی کرلیا محسوس منزل ہے قریب
راستے کھونے لگے ہیں میں محبت اور تم

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)

وقارالحق فاطمہ بی بی کو اپنے ساتھ لاتے ہیں اور جہاں انہیں محترمہ فاطمہ جناح سے ملاقات کا موقع ملتا ہے‘ فاطمہ ان سے مل کر بے حد خوش ہوتی ہیں کیونکہ وہ تو پہلے بھی ان سے کافی متاثر تھیں اور آج یہ بالمشافہ ملاقات انہیں بہت پر جوش کردیتی ہیں ‘وہ انہیں اپنے عزائم سے آگاہ کرتیں فاطمہ جناح کو حیرت و خوشی سے دوچار کرتی ہیں۔ غرض فاطمہ جناح سے یہ ملاقات ان کے دیرینہ خواب کو تکمیل بخشتی ہے اور اس پر وہ نواب صاحب کی بے حد ممنون ہوتی ہیں۔ ریحان تاج بیگم سے بات کرکے انہیں اپنے دلی آنے کی بابت بتاتے ہیں تاج بیگم ان کی آمد کا سن کر تشویش میں مبتلا ہوجاتی ہیں اور ان کے آنے کے مقصد سے بے خبر ہوتی ہیں۔ سخاوت بیگم کو جب اس بات کا علم ہوتا ہے تو انہیں بھی ریحان کی آمد کچھ اچھی نہیں لگتی اور ان کا دل مختلف خدشات میں گھر جاتا ہے لیکن ناظم الدین ان باتوں کو ان کا وہم قرار دیتے ہیں۔ جنت بی بی فاطمہ بی بی سے ملنے محل میں آتی ہیں اور فاطمہ کی باتوں پر کافی برہم ہوتی ہیں۔ ویسے بھی نواب صاحب کو وہ بھیک میں حاصل کرنے کے بجائے چھین لینا زیادہ بہتر تصور کرتی ہیں ان کی یہ طنزیہ باتیں فاطمہ کو عجیب کرب میں مبتلا کردیتی ہیں اگرچہ وہ خود بھی نواب صاحب کو جنت بی بی سے نکاح کرنے کا کہتی ہیں لیکن جنت کے منہ سے یہ باتیں سن کر گہرے صدمے کا شکار نظر آتی ہیں۔ نواب زمان الحق فاطمہ کو سمجھاتے ہیں وہ دونوں کے رشتے میں کوئی دراڑ نہیں آنے دینا چاہتے اسی لیے وہ جنت بی بی کے حوالے سے فاطمہ کو تنبیہہ کرتے ہیں کہ وہ نواب صاحب کے سامنے یوں نکاح کا تذکرہ مت کریں۔ نواب صاحب ضروری کام سے بنگال جاتے ہیں تو فاطمہ اپنے گھر چلی آتی ہیں وہاں ریحان ان کا راستہ روکنے کی کوشش کرتے کافی بدتمیزی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ ریحان کا یہ عمل فاطمہ کو انجانے خوف میں مبتلا کردیتا ہے جب ہی وہ کسی سے کچھ بھی کہے بغیر خاموشی سے واپس لوٹ آتی ہیں۔ رجت سنگھ ان کی حالت پر متفکر ہوتا ہے لیکن ان سے کچھ پوچھنے کی ہمت نہیں کرپاتا۔ نواب صاحب واپس لوٹتے ہیں تو جنت کے فون کے ذریعے انہیں انوار چچا کی بگڑتی طبیعت کا پتا چلتا ہے ایسے میں وہ فوراً وہاں پہنچتے ہیں۔ انوار چچا اسپتال جانے کے بجائے نکاح خواں کو بلانے کا کہتے ہیں تاکہ وہ جنت کے ذمہ داری اپنی زندگی میں ادا کرسکیں اور نواب صاحب انوار چچا کے آخری لمحات میں ان کی امید نہیں توڑ پاتے جب ہی مجبوری کے عالم میں جنت بی بی سے نکاح کے لیے رضا مندی دے دیتے ہیں۔ انوار چچا اس فریضہ کی ادائیگی کے بعد سکون سے دنیا سے منہ موڑ لیتے ہیں جبکہ جنت بی بی نواب صاحب کی بیگم بن کر ان کے ہمراہ محل میں چلی آتی ہیں۔ فاطمہ جو ریحان کی وجہ سے خوف میں مبتلا ہوتی ہیں نواب صاحب کو اچانک روبر دیکھ کر ان کی جانب بڑھتی ہیں لیکن جنت بی بی کے استحقاق بھرے انداز پر چونک جاتی ہیں۔ ایسے میں جنت اپنا تعارف نواب صاحب کی نئی بیگم کے حوالے سے کروا کر انہیں مزید بے چین کردیتی ہیں۔

(اب آگے پڑھیے)

میں حیران تھا اس تپتی جھلستی دوپہر میں بوا کو کیا پڑی تھی جانے کی۔ گیلے کپڑے تو ماتا جی نے اس سے قبل ہی سکھا کر اتار لیے تھے۔ پرندوں کو دانہ دنکا بھی صبح ہی ڈال دیا گیا تھا۔ ماتا کے حکم نامے پر داسیوں نے گرم مصالحہ جات بھی پہلے ہی کوٹ لیے تھے۔ ماتا جی نے اپنی نگرانی میں ململ کے دوپٹوں کو بھی رنگوا لیا تھا۔ ماتا کی خاص ملازمہ نے چھت پر جھاڑو لگا کر صفائی ستھرائی بھی کردی تھی تاکہ شام میں چھت پر چارپائیاں لگا کر بیٹھا جاسکے۔ یہ روز مرہ کی زندگی کا معمول تھا۔ دن چڑھتے ہی ملازمائیں اپنے کام میں جت جاتی تھیں۔ گندم، چاول اور دیگر اناج کو سمیٹنے سے لے کر پیسنے تک کا کام ماتا جی اپنی نگرانی میں چھت پر ہی کرایا کرتی تھیں۔ یہ معمول کے عمل تھے۔ سو اس میں چونکنے کی بات نہ تھی۔
پھر بوا کو اس جلتی تپتی دوپہر میں نجانے کیا سوجھی کہ جھلسنے کو چھت کی اور جا رہی تھیں۔ میں اٹھ کر ان کے تعاقب میں زینہ چڑھنے لگا۔ بوا زینہ عبور کرکے چھت پر پہنچ چکی تھیں‘ میں دبے قدموں سے ان کے پیچھے گیا، مگر منظر دیکھ کر ساکت رہ گیا۔ تپتی دوپہر میں بوا اپنی چھت کی دیوار پھلانگ کر دوسری چھت پر اتر رہی تھیں، جو ہماری چھت کی دیوار جڑی ہوئی تھی۔ ان کے انداز میں عجیب سرعت تھی اور انہوں نے پلٹ کر دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ میں نے آگے بڑھ کر چھت کے کنارے پر بنی اس دیوار کے پار دیکھا مگر وہاں بوا کا نام و نشان نہ تھا میں حیرت سے اپنی چھت سے ملحقہ چھتوں کا جائزہ لے رہا تھا۔ جب اپنے پیچھے پتا جی کی گرجدار آواز سنائی دی۔
’’اوئے رجت، اتنی دوپہر میں چھت پر کیا کررہا ہے‘ وہ بھی ننگے پائوں؟ تیری پتنگ بازی کے شوق کے سر پر مٹی تے سوا، چل اتر سیڑھیاں اور جاکے سوجا اپنی ماتا جی کی بگل میں پڑھنا لکھنا آوے نہ اور بننے چلے ہیں میاں سقراط بقراط۔‘‘ پتا جی نے ڈپٹا تو میں نے بنا ان کی طرف دیکھے کان لپیٹ کر سیڑھیوں کی طرف دوڑ لگا دی۔ تپتی زمین سے پائوں واقعی جھلسنے لگے تھے۔ میرا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا، اپنے لیے نہیں بلکہ بوا کے پکڑے جانے کے خوف سے، پتا جی غصے والے تھے یہ بات سب جانتے تھے۔ اس کے باوجود بوا ایسے اقدامات کی مرتکب ہورہی تھیں، یہ بات میری سمجھ سے باہر تھی۔ بہرحال میں اس دوپہر ماتا جی کے پہلو میں دبک کر لیٹ گیا اور دھیان جانے کیوں بھٹک بھٹک کر بوا کی طرف جاتا رہا تھا۔

موٹر گاڑی گھر کے احاطے میں رکی تو نوابزادہ وقارالحق گاڑی سے اتر کر محل کے اندرونی حصے میں داخل ہوئے۔ بھاری قدم زمین کے سینے پر مضبوطی سے اٹھ رہے تھے۔ چال میں ایک خاص تمکنت تھی۔ راہداری میں تیزی سے اٹھتے قدم ایک دروازے کے سامنے جا رکے تھے۔ ہاتھ دروازے کی ہتھی پر رکھ کر دبائو ڈالا اور دروازہ کھلتا چلا گیا۔ کمرے میں تاریکی تھی۔
فاطمہ وقارالحق کی موجودگی اور آمد سے یکسر بے خبر اوندھے منہ پلنگ پر پڑی تھیں۔ خواب گاہ کا ماحول مکمل تاریکی میں ڈوبا تھا۔ نوابزادہ نے اندر قدم رکھا اور برقی قمقموں کو روشن کردیا‘ کمرے میں روشنی ہوئی تو فاطمہ کا وجود واضح دکھائی دیا۔ وقار خاموشی سے آگے بڑھے اور فاطمہ کے قریب جا رکے۔ نوابزادہ کل سے اب تک فاطمہ کا سامنا نہیں کرسکے تھے مگر وہ ہمیشہ اپنی بیگم کے وجود سے غافل نہیں رہ سکتے تھے۔
’’فاطمہ…‘‘ نوابزادہ وقارالحق کی بھاری آواز نے کمرے کا سکوت توڑا۔ فاطمہ نے فوری طور پر کوئی حرکت نہ کی۔
’’فاطمہ…‘‘ وقارالحق نے ایک بار پھر پکارا۔ فاطمہ کے وجود میں اب بھی کوئی حرکت نہ ہوئی، تب انہوں نے فکر مندی سے جھک کر دیکھا۔ ان کی سانس کی رفتار بہت سست تھی۔ وقارالحق نے پیشانی کو چھو کر دیکھا تو وجود بخار سے پھنک رہا تھا۔ وقارالحق کی پیشانی پر فکر مندی کی لکیریں واضح ہوئیں۔
’’فاطمہ…‘‘ انہوں نے اس کے وجود کو ہلایا مگر وہ جیسے بے ہوشی کی حالت میں تھیں۔ وقارالحق فکر مندی سے پلٹے اور فون اسٹینڈ کی طرف بڑھے۔ عجلت میں ریسیور سے اٹھا کر مطلوبہ نمبر گھمایا اور فون کان سے لگا کر دوسری طرف سے فون اٹھائے جانے کا انتظار کرنے لگے۔ گھنٹی بج رہی تھی مگر کوئی فون نہیں اٹھا رہا تھا۔ وقارالحق کی پریشانی دو چند ہوئی، لائن منقطع کرکے دوبارہ وہی نمبر گھمایا۔ خوش قسمتی سے اس بار فون دوسری طرف سے اٹھا لیا گیا۔ وقارالحق عجلت میں گویا ہوئے۔
’’ڈاکٹر سراج، برائے کرم محل تشریف لے آئیے، یہاں آپ کی اشد ضرورت پڑ گئی ہے۔‘‘ وقارالحق نے پریشانی سے ریسیور کریڈل پر رکھا اور پلٹ کر فاطمہ کی طرف آئے۔ اسے بازو کا سہارا دے کر اٹھایا مگر اس کا وجود ایک طرف لڑھکنے لگا، تب وقارالحق کی پریشانی مزید بڑھ گئی۔ ان کی ناک کے قریب ہاتھ کرکے ان کی سانسوں کو محسوس کیا۔ ان کی نبض ٹٹولی۔ وقارالحق نے سائیڈ کی میز سے جگ سے پانی ہاتھ میں لے کر ان کے منہ پر چھینٹے مارے۔ وہ انتہائی پریشانی میں گھر چکے تھے کیونکہ فاطمہ کو کسی طور ہوش نہیں آرہا تھا۔

دادی جان نے ریحان میاں کو کسرت کرتے بغور گھورا تھا۔
’’کون سے اکھاڑے میں اترنے کی منصوبہ سازی کررہے ہو ریحان میاں… ایسی کسرت سے تمہیں کیا سروکار؟ تمہارے ابا سے تو سنا تھا کہ نشہ کیے پڑے رہتے ہو‘ یہاں آتے ہی عقل کو پر لگ گئے۔ میاں کن رنگ ڈھنگ میں ہو؟‘‘ ریحان کپڑے سے پسینہ پونچھتے ہوئے مزید کسرت کا ارادہ ترک کرتے دادی جان کے قریب آن بیٹھے تھے۔
’’سنا ہے دادا جان خوب کسرت کیا کرتے تھے؟ شاید یہ عادت انہی سے ورثے میں مل گئی۔‘‘ ریحان میاں کی باچھیں کانوں سے جا لگیں۔ دادی جان نے گھورنے پر اکتفا کیا اور ملازمہ کو بلا کر حقہ گرم کرنے کو کہا‘ پھر ریحان میاں کو دیکھا۔
’’میاں دادا جان سے کیا مقابلہ آپ کا‘ کہاں راجہ بھوج کہاں گنگو تیلی؟ مقابلہ تو برابری میں ہوتا ہے۔‘‘ دادی جان نے گھرکا‘ ریحان میاں چکنا گھڑا بنے مسکرا دیے۔ قمیص پہنی پھر بٹن بند کرتے ہوئے مسکرائے۔
’’اللہ مہربان تو گدھا سلطان، خاندان کے چشم و چراغ ہیں‘ دادا جان کا خون ہماری رگوں میں دوڑ رہا ہے۔‘‘ ریحان میاں مسکرائے‘ دادی جان نے بغور دیکھا۔
’’میاں اوچھا برتن ابلتا ہے۔ آپ کی تعریف میں اتنا کہنا بہتر ہے کہ آپ کا مقابلہ اور موازنہ فقط خود سے ممکن ہے اور اس سے سوا کچھ نہیں۔ اپنے دادا جان کو ایک طرف کردیجیے آپ کے کارناموں کی تفصیل متقاضی ہے کہ آپ کا موازنہ سقراط بقراط سے ہو۔‘‘ دادی جان نے طنز کا تیر چلایا اور ریحان میاں بجائے شرمندہ ہونے کے مسکرا دیے۔
’’دادی جان ہم بھی خاندان کا نام خوب روشن کریں گے ہمیں ایسا گیا گزرا بھی نہ جانیے۔‘‘ ریحان میاں بھی ایک نمبر کے کائیاں تھے۔
’’موا جو اتنے برسوں میں نہ ہوا اب کیا ہووے گا۔ بہرطور آپ سے گزارش ہے میاں خاندانی حسب نسب کا کچھ خیال کر لیجیے۔ نام روشن کرنے کا ارادہ فی الفور ملتوی کردیجیے آپ کا احسان ہوگا۔‘‘ دادی جان نے درخواست کی اور پھر ہاتھ اٹھا کر جتانے والے انداز میں بولیں۔
’’ریحان میاں… آپ کی صلاحیتوں پر شک نہیں بس خاندانی حسب نسب کی فکر ہوئی جاتی ہے۔ ہماری مانیے، کوئی عقل کا کام کیجیے۔ نام روشن کرنے کی ذمہ داری باقی کے کاندھوں پر ڈال دیجیے۔‘‘ ان کے سمجھانے پر ریحان میاں مسکرا دیے۔
’’چلیے دادی جان‘ آپ کی خوشی کے لیے آپ کی بات مانے لیتے ہیں۔ اچھا یاد دلایا آپ نے‘ ہم دادا جان کے کاروبار کو آگے بڑھانے میں آپ کا ہاتھ بٹانا چاہتے ہیں۔‘‘ ان کی بات پر تاج بیگم نے ناگواری سے گھورا۔
’’میاں بوریا بستر اٹھائیے اور اپنی راہ لیجیے‘ ایسا کوئی مذاق مزید فرمایا تو آپ کا سر دو کانوں میں کردیں گے۔ آپ میاں صوبے دار، گھر میں بیوی جھونکے بھاڑ۔ آرام سے سمجھا رہے ہیں۔ بات عقل میں نہ آوے تو جان لیجیے ہمیں سمجھانا آتا ہے۔ اٹھیے اور چلتے پھرتے نظر آئیے۔ خاندانی کاروبار میں ہاتھ بٹائیں گے پہلے کچھ عقل کے ناخن تو لیجیے۔‘‘ دادی جان نے ڈپٹا تو وہ اٹھ کر برا سا منہ بنا کر چل دیے۔

ڈاکٹر صاحب تشریف لے آئے اور ان کی آمد کا فائدہ یہ ہوا کہ فاطمہ کو ہوش آگیا تھا مگر وہ آنکھیں بند کیے وقارالحق کے وجود سے غافل پڑی تھیں۔ ان کو محض نظر انداز کرنا مقصود تھا یا پھر وہ نقاہت کے باعث ہی آنکھیں کھول نہ پا رہی تھیں، نوابزادہ سمجھ نہ پائے مگر وہ فاطمہ کی اس کیفیت پر تشویش میں مبتلا ضرور ہوگئے تھے۔
’’ڈاکٹر صاحب پریشانی کی کوئی بات تو نہیں؟‘‘ ڈاکٹر صاحب نسخہ لکھ رہے تھے جب وقارالحق نے دریافت کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے کہا۔
’’ایسا کمزوری کے باعث ہوا۔ میں نسخہ لکھ رہا ہوں، دوائیاں منگوا لیجیے اور ان کو اچھی خوراک کے ساتھ آرام کرنے دیجیے۔‘‘ ڈاکٹر صاحب نے نسخہ لکھ کر ان کی طرف بڑھایا جسے وقارالحق نے تھام لیا۔
’’پریشانی کی کوئی بات نہیں نوابزادہ وقارالحق صاحب۔‘‘ ڈاکٹر نے وقارالحق کا پریشان چہرہ دیکھ کر کہا اور ان کے شانے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی۔
’’ان کا بخار اتر جانا ضروری ہے، ٹھنڈے پانی کی پٹیاں ان کی پیشانی پر رکھیے، امید ہے بخار جلد رفع ہوجائے گا۔‘‘ ڈاکٹر نے مشورہ دیتے ہوئے اپنا سامان سمیٹا۔ وقارالحق نے ہاتھ کے اشارے سے ملازم کو ان کے ہمراہ جانے کا کہا۔ ملازم تابعداری سے ڈاکٹر صاحب کا بیگ تھام کر ان کے پیچھے چل دیا۔ تب وقارالحق نے جھک کر فاطمہ کی پیشانی کو چھوا‘ ان کی پیشانی بدستور جل رہی تھی۔ ملازمہ چاندی کے برتن میں پانی لے آئی اور فاطمہ کی پیشانی پر پھاہے رکھنے لگی۔
ڈاکٹر نے چونکہ ابتدائی طبی امداد دے دی تھی سو فوری طور پر مزید دوائیں دینے کی ضرورت نہیں تھی تب ہی وقارالحق خاموشی سے پاس بیٹھ گئے اور جانے ایک لمحے میں کس احساس نے گھیرا کہ انہوں نے آہستگی سے ہاتھ بڑھا کر فاطمہ کا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ میں لیا اور فاطمہ کے چہرے کو بغور دیکھنے لگے تھے۔

ملازمہ کھیر پر چاندی کا ورق لگا کر رکھ رہی تھی جب جنت بی بی نے ایک کٹوری اٹھا کر کھیر کا ذائقہ چکھا اور فوراً کچرا دان میں تھوک دیا۔
’’یہ شکر کی جگہ نمک کس نے شامل کردیا؟ محل کے طور طریقے بدل گئے یا مٹھاس میں کمی واقع ہوگئی۔‘‘ جنت بی بی نے طنز سے کہا تو ملازمہ شرمندہ ہوگئی۔ شکر کا استعمال تو حسب معمول اندازے سے درست ہی کیا گیا تھا نمک کا تو دور دور تک واسطہ نہ تھا مگر وہ جنت بی بی کے کہے سے اختلاف نہیں کرسکتی تھی سو خاموشی کو بہتر جانا۔
’’اٹھائو اور باہر پھینک دو اسے‘ محل میں کوئی خاتون موجود ہوتی تو باز پرس کرتی ناں مگر تم ملازمین کو تو کوئی ڈر خوف ہے نہیں سو اپنی من مانیاں کرتے پھرتے ہو۔‘‘ سارا الزام خاتون کے وجود کے ناپید ہونے پر لگا۔
’’جنت بیگم گھر میں عورت نہ ہونے سے گھر کا شیرازہ بکھر کر رہ جاتا ہے، درست اور بجا فرمایا آپ نے مگر اس گھر میں وجود زن کی موجودگی سے انکار ممکن نہیں۔ فاطمہ بیگم نے اس گھر کو خوب اچھے سے سنبھالا ہوا ہے‘ جب سے ان کی آمد ہوئی ہے گھر میں جیسے زندگی کی رمق دوڑ گئی ہے۔‘‘ ہاجرہ اماں نے کہا جو کہ اس گھر کی بہت پرانی اور عمر رسیدہ ملازمہ تھیں۔ جنت بی بی کی رعونت کو کسی نے تو کچلنا تھا سو ہاجرہ اماں نے ان کی بات کا جواب دینا ضروری خیال کیا اور جنت بی بی جو تپی بیٹھی تھیں ہاجرہ اماں کو دیکھ کر رہ گئیں۔
’’ہاجرہ اماں ہم آپ کا احترام کرتے ہیں‘ آپ اس گھر کی بہت قابل عزت اور قابل تعظیم شخصیت ہیں۔ آپ سے اختلاف نہیں رکھ سکتے مگر ان ملازمین کی فوج کو یوں بے لگام بھی تو نہیں چھوڑا جاسکتا ناں‘ دیکھیے باورچی خانے کا ماحول کیا تلپٹ کر رکھا ہے۔ کوئی شے آپ کو اپنی جگہ پر دکھائی دے رہی ہے؟ لگتا ہے گھر کی مالکہ فاطمہ بی بی فقط ناز نخرے اٹھوانے میں لگی رہتی ہیں اور گھر کے امور سے انہیں جیسے کوئی واسطہ ہی نہیں۔ ایسے لاتعلقی برتیں گی تو گھر کی حالت ایسی ہی دکھائی دے گی ناں؟‘‘ جنت بی بی نے اندر کی بھڑاس نکالنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی۔ ہاجرہ اماں ملائمت سے مسکرا دیں۔
’’جنت بیگم ہم مشکور ہیں کہ آپ عزت دیتی ہیں۔ محل کی خواتین کا ہی تو وطیرہ ہے کہ ملازمین کو بھی برابری کا درجہ دیتی ہیں۔ اللہ بخشے آپ کی ساس بیگم بھی ایسی ہی طبیعت رکھتی تھیں ماشاء اللہ ایسے ہی گن فاطمہ بہو میں بھی ہیں اور خیر آپ تو اس محل کے ماحول اور روایات سے آغاز سے ہی واقف ہیں چونکہ آپ کے بچپن کا زمانہ بھی اسی گھر میں گزرا ہے۔‘‘ انہوں نے مسکراتے ہوئے آگے بڑھ کر کھیر کی شیرینی کو چکھا اور مسکرا دیں۔
’’حمیدہ بیگم میٹھا تو خوب بنایا تم نے۔ کچھ یاد ہے تمہیں یہ کھیر بنانا کس نے سیکھایا تھا؟‘‘ ہاجرہ اماں مسکرائیں تو حمیدہ بیگم نے سر ہلا دیا۔
’’جی ہاجرہ اماں بہت چھوٹی سی تھی میں غالباً یہی کوئی تیرہ چودہ برس عمر ہوگی جب محترمہ تارا بیگم بیاہ کر اس محل میں تشریف لائی تھیں یہ ان کے ہاں کی خاص روایت تھی اور انہوں نے اپنی شاہی ملازم سے سیکھا تھا اور انہی کی بدولت ایسی کھیر بنانا ہمیں آئی۔‘‘ حمیدہ بیگم کے کہنے پر ہاجرہ اماں مسکرا دیں۔
’’کیا کمال کی یادداشت پائی ہے آپ نے حمیدہ بیگم۔ آپ کے ہاتھ میں وہی خاص ذائقہ ہے جو تارہ بہو کے ہاتھ میں تھا۔‘‘ ہاجرہ اماں مسکرائیں تو جنت بی بی اپنی جگہ شرمندہ سی ہوگئیں۔ وہ اپنے اندر کی بھڑاس محل کے ملازمین پر نکال کر جیسے اپنے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے بہانے ڈھونڈ رہی تھیں مگر اب اپنے اس اقدام پر ان پر گھڑوں پانی پڑ گیا تھا سو انہوں نے وہاں سے ہٹ جانے میں بہتری جانی۔ ہاجرہ اماں نے انہیں دیکھا اور پھر ملازمہ کو فاطمہ بی بی کے لیے بطور خاص کھیر بجھوانے کا حکم دیا۔
’’یہ کھیر نوابزادہ اور بہو بیگم کو پیش کی جائے اور ساتھ ہی فاطمہ بہو کی علالت کے پیش نظر ان کے لیے خصوصی طعام پکایا جائے اور جنت بی بی کے لیے کھانا کمرے میں ہی بھجوایا جائے شاید وہ رات کا کھانا کھانے اپنے کمرے سے باہر نہ آسکیں۔‘‘ ہاجرہ اماں حکم دیتی ہوئی مسکرائیں اور پھر باورچی خانے سے باہر نکل گئی تھیں۔

صبح ناشتے کی ٹیبل پر جنت بی بی کھانستی اور پھر ساتھ ہی بے تحاشا چھینکتی دکھائی دیں تو نوابزادہ وقارالحق نے چونک کر دیکھا۔
’’آپ کی طبیعت ناساز تھی تو مطلع کردیا ہوتا۔‘‘ جو فرائض ان کے ذمہ آن پڑے تھے ان کی ادائیگی بہر طور ضروری تھی تب ہی وہ گویا ہوئے تو جنت بی بی نے انہیں شکوہ کناں نظروں سے گھورا۔
’’کیسے مطلع کرتے، آپ کے پاس وقت تھا؟ آپ تو کسی اور کی تیمار داری میں پہلے سے مصروف ہیں۔‘‘ جنت بی بی نے جلے لہجے میں کہا تو وقارالحق گہری سانس لے کر رہ گئے۔
’’معالج کو دکھائیے… معذرت چاہتے ہیں، آپ کو نظر انداز نہیں کیا مگر…‘‘ نوابزادہ وقارالحق نے وضاحت دینی چاہی مگر جنت بی بی نے ٹوک دیا۔
’’رہنے دیجیے نوابزادہ… ہمیں ہمدردی کی ضرورت نہیں۔ آپ پھاہے انہی کے زخموں پر رکھیے جن کو اشد ضرورت ہے‘ ہم اپنی دیکھ بھال خود کرسکتے ہیں۔‘‘ جنت بی بی نے تلخی سے کہا تو نوابزادہ خاموش ہوگئے پھر قدرے توقف سے کہا۔
’’ہم آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں جنت بی بی، ہمارا نکاح جس باعث ہوا آپ اس سے واقف ہیں اور بہرحال آپ…!‘‘ نوابزادہ وقارالحق نے کچھ کہنے کا ارادہ باندھا ہی تھا کہ جنت بی بی فوری مداخلت کرتی ہوئی بول پڑیں۔
’’ہم معذرت چاہتے ہیں نوابزادہ وقارالحق آپ کی بات منقطع کررہے ہیں مگر اس رشتے کی حقیقت بہت اچھے سے خود ہی واضح ہورہی ہے اسے وضاحتوں کی ضرورت نہیں۔ ہمارا اور آپ کا رشتہ جن حالات میں بنا ہے اس بات کو از سر نو دہرانے کی ضرورت نہیں‘ نہ یہ معاملہ اس قدر پرانا ہے کہ عقل سے محو ہوجائے۔‘‘ جنت بی بی کا لہجہ کاری وار کرتا ہوا تھا۔ نوابزادہ پُر سکون انداز میں ان کو دیکھ کر رہ گئے پھر نرمی سے گویا ہوئے۔
’’آپ باتوں کو خوامخواہ طول دے رہی ہیں جنت بی بی اور وہ سب اخذ کررہی ہیں جو درحقیقت موجود نہیں۔ آپ ہمیں سننا پسند نہیں کررہیں یہ اطوار محل کی روایات سے انحراف کرتے ہیں۔ ہم آپ کی آزادی پر کوئی کاری ضرب نہیں لگا رہے مگر آپ پر اخلاقاً دوسرے فریق کی سننا واجب ہے۔‘‘ نوابزادہ وقارالحق نے نرمی سے جتایا تو جنت بی بی شرمندہ سی ہوکر سر جھکا گئیں۔
’’معذرت چاہتے ہیں ہم محل کے قوانین سے واقف ہیں۔ گستاخی کے مرتکب ہونے پر معذرت چاہتے ہیں، مگر سچ کہیں تو ہم بہت الجھ کر رہ گئے ہیں بہت خوف زدہ اور غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں اس رشتے میں آئے زیادہ دیر نہیں گزری مگر جیسے اس عمل نے ہماری تمام شخصیت کو بدل کر رکھ دیا ہے… ہم وہ رہے ہی نہیں جو کبھی تھے۔‘‘ جنت بی بی خاصی الجھی دکھائی دیں، انہوں نے دونوں ہاتھوں میں سر تھام لیا۔ وہ واقعی گہری کشمکش سے دوچار تھیں۔ خود اپنے رویے پر حیران تھیں یا نوابزادہ وقارالحق کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کا کوئی نیا طریقہ ڈھونڈا تھا۔ نوابزادہ وقارالحق نے بغور انہیں دیکھا پھر نرمی سے بولے۔
’’جنت ہمارا نکاح ابا جان کی رضا مندی سے نہیں ہوا۔ وہ اس متعلق قطعاً لاعلم ہیں آپ جانتی ہیں۔ ہم نے یہ اقدام لینا کیوں ضروری خیال کیا؟‘‘ انہوں نے جنت بی بی کو دیکھا شاید وہ ان کی ذہنی کیفیت سمجھنے کی کوشش کررہے تھے جب جنت بی بی نے ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا اور ملتجی انداز میں گویا ہوئیں۔
’’وعدہ کریں آپ ہمیں تنہا نہیں چھوڑیں گے نواب زادہ وقارالحق۔ ہم بہت اکیلے رہ گئے ہیں۔ ابا جان کے گزر جانے کے بعد اس دنیا میں ہمارا کوئی نہیں رہا، دنیا ایک پل میں ویران ہوکر رہ گئی ہے ہمارے لیے۔‘‘ جنت بی بی کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور نوابزادہ وقارالحق ایک لمحے میں پگھل گئے۔
’’ہم آپ کو تنہا نہیں چھوڑ رہے… اگر ہم نے آپ کی ذمہ داری لی ہے تو نبھانا بھی جانتے ہیں مگر یہ بات ابا حضور کے علم میں نہیں اور ہم یہی سوچ کر متفکر ہورہے ہیں… ابا حضور اگرچہ مخالفت نہیں کریں گے مگر پھر بھی ان کی واپسی سے قبل ہم ان سے اس بارے میں بات نہیں کرسکتے، دوسری بات…‘‘ وہ کہہ کر لمحہ بھر رکے تو جنت بی بی کی جان مشکل میں گھر گئی۔
’’دوسری بات کیا؟‘‘ ان کا دم جیسے سینے میں اٹک گیا تھا۔ وقارالحق لمحہ بھر کو خاموش رہے پھر جنت بی بی کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالتے ہوئے گویا ہوئے۔
’’ہم چلتے ہیں… وکیل صاحب سے ملاقات ہے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی وہ عجلت سے اٹھ کھڑے ہوئے اور تیز قدموں سے دہلیز پار کر گئے اور جنت بی بی حیران نظروں سے دیکھتی ہی رہ گئی تھیں۔

سخاوت بیگم بیسن کے لڈو چاندی کی طشتری میں رکھے زینہ چڑھ کر چھت پر آئیں تو ریحان میاں کو بڑی رغبت سے پرندوں کو دانہ ڈالتے پایا۔ سخاوت بیگم نے لڈو کی طشتری ریحان کی طرف بڑھائی تو وہ مسکرا دیے۔
’’آپ آرام سے بیٹھ کر لڈو کھائیں ہم پرندوں کو دانہ ڈالتے ہیں۔‘‘ سخاوت بیگم اپنی فطری طبیعت سے مسکرائیں، ریحان میاں فوراً لڈو کھانے میں مشغول ہوگئے سخاوت بیگم پرندوں کو دانہ ڈالنے لگیں۔
’’چچی جان… آپ کے ہاتھ کے ذائقے نے اماں بیگم کی یاد دلا دی۔ اماں بیگم بالکل ایسے ہی لڈو بناتی ہیں۔‘‘ ریحان میاں نے پورا کا پورا لڈو منہ میں رکھتے ہوئے کہا تو سخاوت بیگم مسکرا دیں۔
’’شاید مائوں کے ہاتھ کا ذائقہ اور مامتا ایک سی ہوتی ہے۔‘‘ سخاوت بیگم نے کہا تو ریحان میاں نے سر ہلایا۔
’’ویسے ہمیں خوشی ہوتی اگر آپ ہمیں اپنا بیٹا بنا لیتیں۔‘‘ ریحان میاں نے شکوہ کیا تو سخاوت بیگم چونک کر رہ گئیں۔
’’آپ ہمارے بیٹے ہی تو ہیں ریحان میاں، ہم آپ کی بڑی اماں بیگم ہیں۔‘‘ سخاوت بیگم نے بات بنائی تو ریحان میاں مسکرا دیے۔
’’سو تو ہیں بڑی اماں بیگم… مگر اگر رشتہ بھی گہرا ہوجاتا تو اچھا ہوتا ناں؟‘‘ وہ ریحان میاں کو ایک ہی بات پر بضد دیکھ کر ساکت رہ گئیں۔
’’رشتے آسمانوں پر بنتے ہیں ریحان میاں، مالک کی مرضی شامل نہ ہو تو ساحل پر بھی کشتی ڈوب جاتی ہے۔ مرد و زن کو ایک دوسرے کے لیے منتخب کرنے کا کام اللہ نے کچھ سوچ سمجھ کر ہی اپنے ذمہ لیا ہے… ہم یا کوئی بھی اس میں اپنے طور پر مداخلت کرسکتا ہے نا ہی کوئی ترمیم۔‘‘ سخاوت بیگم نے سمجھایا تو ریحان میاں مسکرا دیے۔
’’جانے دیجیے بڑی اماں بیگم‘ ان باتوں میں بھی بھلا کوئی صداقت ہے؟ وہ اپنے طرم خان چچا کہتے تھے کہ ہم اپنی من مرضی کے قصے گھڑنے میں ماہر ہوتے ہیں جہاں ہمارا فائدہ بنتا ہے وہیں اپنی مرضی ٹھونک بجا کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ چلیے مان لیا کہ قسمت کے فیصلے ہوتے ہیں تو قسمت بدلتی بھی تو ہے ناں؟‘‘ ریحان میاں کے لبوں پر بڑی پراسرار مسکراہٹ تھی اور آنکھوں میں عجیب سی چمک۔
سخاوت بیگم کا دل دہلا مگر انہوں نے ریحان میاں سے الجھنا ضروری نہیں سمجھا اور نرمی سے بولیں۔
’’بیٹا قسمت کا لکھا کون جانے؟ بہرحال اتنے نیک سیرت نوجوان ہو تم خیر سے خوبرو بھی، کوئی اچھی لڑکی دیکھ کر بھابی بیگم تمہارا نکاح کیوں نہیں کردیتیں۔ اب کہ توقیر بھیا اور بھابی سے بات ہوئی تو ان سے اس متعلق بات کروں گی۔‘‘ سخاوت بیگم نے بات بنائی ریحان میاں ہنس دیے۔
’’بہت بھولی ہیں بڑی اماں بیگم آپ۔ ہم جس سمت کی بات کرتے ہیں اس سمت آپ کا دھیان جانے کو تیار نہیں۔ بہرحال ہم بھی قسمتوں کے پھیر کو دیکھ لیتے ہیں۔ ویسے آپ کی صاحب زادی کے مزاج خاصے اوپر کی اڑان رکھتے ہیں ہمیں تو انہوں نے گھاس ہی نہیں ڈالی۔ وہ تو یہ بھی بھلا بیٹھیں کہ ہم ان کے منگیتر رہ چکے ہیں۔ ملاقات ہوئی نہ تو بغور دیکھا نہ ہی ڈھنگ سے بات کی اور…‘‘ ریحان میاں کہہ رہے تھے جب سخاوت بیگم نے ان کی بات کاٹی۔
’’وہ آپ کی منگیتر نہیں رہیں‘ بس رشتے کی بات چلی تھی مگر انہی دنوں نوابزادہ وقارالحق کا رشتہ بھی آیا ہوا تھا اور آپ کے بڑے ابا جان نے نوابزادہ وقارالحق کو فاطمہ کے لیے چن لیا۔ آپ کو مسترد یا چننے کا عمل فاطمہ کی مرضی سے طے نہیں ہوا۔‘‘ سخاوت بیگم نے بیٹی کو اس مقدمے سے جیسے بری الذمہ قرار دیا تو ریحان میاں لڈو کھاتے ہوئے مسکرا دیے۔
’’جو لوگ مٹھاس جیسے ہوں ان کی کڑواہٹ بہت کھلتی ہے بڑی اماں بیگم۔‘‘ ریحان میاں کا لہجہ جتاتا ہوا تھا۔
’’کھلتا ہی ہے کہ جو لوگ مٹھاس سے ہوں ان کو زندگی کا حصہ بن کر رہنا چاہیے اگر نہ بن سکیں تو اپنی سی کوشش کرلینا چاہیے خوف زدہ مت ہوئیے جو قسمت کا لکھا ہے وہ تو ہوکر رہے گا یہی کہتی ہیں آپ اگر آپ کو قسمت کے ہونے نہ ہونے پر یقین ہے تو یہی سہی۔ چلیے قسمت بھی آزما کر دیکھ لیتے ہیں تاکہ ہم قسمت کو اور قسمت ہمیں الزام نہ دے سکے۔‘‘ ریحان میاں بولے اور پھر مسکراتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے جبکہ سخاوت بیگم ساکت سی رہ گئی تھیں۔

فاطمہ بی بی نے آنکھوں پر رکھا بازو ہٹایا تو نوکروں کی فوج کو اپنے گرد مستعد پایا۔
’’شکر اللہ کا کہ آپ کو ہوش آیا اور بخار کم ہوا ہم تو فکر مند ہوئے جا رہے تھے۔‘‘ ہاجرہ اماں نے جھک کر ان کی پیشانی پر ہاتھ رکھا اور محبت سے پیشانی پر بوسہ دیا۔
’’جائیے بخت بیگم، فاطمہ بہو کے لیے دلیہ لے آئیے اور انار کا وہ مشروب بھی لے آئیے جو ہم نے نگرانی میں بطور خاص اپنی بہو بیگم کے لیے نکلوایا ہے۔ وہ ان کو جلد صحت یابی میں مدد دے گا۔ یونہی تو نہیں کہتے کہ ایک انار اور سو بیمار انار کا رس بیماری میں اکسیر ہے۔‘‘ ہاجرہ اماں نے مسکراتے ہوئے فاطمہ بی بی کو تھام کر تکیے کو پشت پر لگا کر بیٹھنے میں مدد دی مگر فاطمہ نے سر انکار میں ہلا دیا۔
’’نہیں ہاجرہ اماں ہم نہیں کھا پائیں گے… یقین جانیے ہماری طبیعت بالکل مائل نہیں۔‘‘ فاطمہ نے انکار کیا تو ہاجرہ اماں نے سر ہلا دیا۔
’’اچھا ٹھیک ہے‘ ہماری بہو بیگم کی مرضی کے بنا اس محل میں کوئی پتا بھی نہ سرکے گا‘ آپ نے حکم دیا تو سمجھیے ہوگیا۔ جائیے ہماری بہو کے لیے پھلوں کا خاص مربہ لائیے‘ بہو بیگم اب اس سے منع مت کیجیے گا۔ اللہ بخشے ابا جان کہا کرتے تھے کہ پھلوں کا مربہ کھا کر تو بوڑھا گھوڑا بھی میلوں کے حساب سے فرلانگیں بھرنے لگتا ہے‘ اب ابا جی نے کہا تو ٹھیک ہی کہا ہوگا ناں، چلیے آج آزمائے لیتے ہیں۔‘‘ ہاجرہ اماں نے مسکراتے ہوئے کہا تو فاطمہ بی بی ان کے کہے کا مان رکھنے کو خاموشی سادھ گئیں اور چپ چاپ کھا بھی لیا۔ ہاجرہ اماں اتنے مان اور پیار سے اپنے ہاتھوں سے کھلانے پر بضد تھیں اور ایسے میں ان کو انکار کرنا مناسب نہ ہوتا۔
’’بیٹا… زندگی میں جو مشکلیں آتی ہیں وہی اپنے سنگ سکھ چین بھی لاتی ہیں، کسی مشکل سے گھبرانا خود اپنے حوصلوں کو پسپا کرنا ہے‘ کسی بھی محاذ پر فتح اور شکست کا فیصلہ ہم خود کرتے ہیں، کوئی جیت ہار میں کیسے بدلتی ہے اور کوئی ہار جیت میں کیسے؟ ہم کس محاذ پر کہاں بہت مضبوطی سے تن کر کھڑے ہوتے ہیں اور کہاں خود کو ہار کے لیے تنہا چھوڑ دیتے ہیں، اس کا فیصلہ در حقیقت ہم آپ کرتے ہیں۔‘‘ ہاجرہ اماں کی باتوں میں ان کی عمر کا تجربہ بول رہا تھا۔ فاطمہ بی بی بے توجہی برت کر ان باتوں کو رد نہیں کرسکتی تھی نہ ہی نظر انداز۔
’’بیٹا خود کو اس طور ارزاں نہ جانو، اس طرح کمزور نہ کرو، جو مشکل پڑتی ہے اس کو حل کرنے کی کوشش کرو، اپنی پوری عقل سے اور تمام فہم و فراست سے… آپ نہ تو کم ہمت ہیں‘ نہ ہی بے حوصلہ‘ نہ ہی کمزور سو ان حالات کو قسمت کا لکھا سمجھ کر ہار مان لینا دانش مندی نہ ہوگی۔ اللہ ہمارے حوصلوں کو دراصل دو گنا کردیتا ہے۔ جب ہم پر مشکل وقت یا آزمائش بھیجتا ہے۔‘‘ ہاجرہ اماں کی باتوں میں صداقت تھی فاطمہ بی بی بغور سن رہی تھیں۔

وقارالحق عجب شش و پنج میں مبتلا تھے ابا حضور کو اس نکاح کے متعلق بتانا ضروری تھا اور ان کی آمد سے قبل اس فعل کا انجام پا جانا بھی ضروری تھا مگر وقارالحق خود میں ہمت نہ پا رہے تھے۔ وہ اسی شش و پنج میں مبتلا فون کی طرف آئے تو یک دم فون کی بجتی گھنٹی نے ان کی سوچوں کا تسلسل توڑا۔ انہوں نے فون اٹھایا تو دوسری طرف نواب صاحب کی آواز سن کر فوراً ادب سے سلام کیا اور گویا ہوئے۔
’’ابا حضور ہم آپ ہی کو فون کرنے والے تھے دراصل مدعا یہ تھا کہ…‘‘ وہ کہتے ہوئے چپ ہوئے تب ہی دوسری طرف سے ابا حضور کی آواز سنائی دی۔
’’ہم جانتے ہیں آپ کس متعلق بات کرنا چاہتے ہیں ہماری بات بہو بیگم سے ہوئی۔ انہوں نے ہماری غیر موجودگی میں جو اقدام کرنے کی ٹھانی‘ اگرچہ اس پر ہم خوش نہیں ہیں مگر ہم فی الحال اس متعلق کوئی بات چیت کرنا نہیں چاہتے۔ ہم نے فاطمہ کو بیٹی کہا ہے اور سمجھا بھی ہے وہ ہمارے گھر کی بہو نہیں بیٹی ہیں مگر یہ اقدام ہمیں پسند نہیں آیا۔‘‘ نواب صاحب بولے تو وقارالحق چونک گئے۔
’’ابا حضور آپ کس متعلق گفتگو فرما رہے ہیں، ہم سمجھے نہیں۔‘‘ وقارالحق الجھ کر بولے تو دوسری طرف نواب صاحب گویا ہوئے۔
’’ہم جان گئے ہیں‘ فاطمہ بی بی نے آپ کا نکاح زبردستی جنت بی بی سے کرا دیا ہے اگرچہ ہم اس اقدام کے خلاف تھے ہم نہیں چاہتے تھے کہ ایسا کوئی رشتہ بنے کیونکہ ہم اپنی بہو بیگم کے حمایتی ہیں ہم ان کو کوئی تکلیف پہنچتے نہیں دیکھ سکتے‘ ہم بہو بیگم کے اس اقدام پر خفا ہیں اس متعلق ہم آکر بات کریں گے۔‘‘ ابا حضور نے کہا تو نوابزادہ وقارالحق انگشت بدنداں رہ گئے یہ کیا کردیا تھا فاطمہ بی بی نے تمام الزام اپنے سر لے لیا فقط ان کو مشکل سے نکالنے کے لیے۔
’’خود پر سوتن لے آنا آسان نہیں ہوتا بیٹا… اگر فاطمہ نے یہ فیصلہ لیا ہے تو اس میں قصور وار آپ بھی رہے ہیں۔ بہرحال قصہ مختصر ہم کل واپس آرہے ہیں سو باقی باتیں روبرو ہوں گی۔‘‘ ابا حضور نے قصہ سمیٹتے ہوئے کہا تو وقارالحق نے خود کو جیسے جھنجوڑتے ہوئے تمام حسیات کو بیدار کیا اور مدہم لہجے میں بولے۔
’’بہتر ابا حضور… ہم منتظر ہیں آپ کی آمد کے اپنا خیال رکھیے گا اللہ حافظ۔‘‘ انہوں نے کہہ کر فون رکھا اور فاطمہ کے کمرے کی طرف آگئے۔ دماغ میں جھکڑ سے چلنے لگے تھے۔ سوچوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ان کے دماغ میں ول رہا تھا اور ان سوچوں سے نبرد آزما ہونے کی کوشش کرتے وقارالحق مزید الجھتے گئے۔
فاطمہ بی بی کی طبیعت قدرے بہتر تھی وہ اٹھ کر بیٹھی ہوئی تھیں اور ملازمہ ان کے بالوں میں کنگھا کررہی تھی دوسری ملازمہ آئینہ لیے کھڑی تھی تاکہ آرائش گیسو کا عمل بخوبی اور فاطمہ بی بی کے حسب منشا ادا ہوسکے مگر فاطمہ کی توجہ آئینہ پر بالکل نہ تھی مگر ملازمین اپنا کام جانتے تھے وہ اپنی مالکن کو اسی عزت احترام سے نواز رہے تھے جس کی وہ مستحق تھیں۔ وقارالحق اندر داخل ہوئے تو ملازمائیں فوراً اپنے افعال کو جوں کا توں چھوڑ کر چلتی بنیں وقارالحق کی آمد تخلیہ کی متقاضی تھی اور ملازمین تمام آداب سے واقف تھے۔
ملازمین کے جانے کے بعد وقارالحق نے فاطمہ بی بی کو بغور دیکھا اور ان کے قریب چلے آئے۔ ان کے گیسو ان کی کمر پر بکھرے عجیب آبشار کا منظر پیش کررہے تھے اور آنکھوں میں تیرتی اداسی ان کے حسن کو جیسے اور بھی دلکشی عطا کررہی تھی۔ وقارالحق جو باز پرس کے ارادے سے آئے تھے اس گھڑی ان کے حسن کے تانوں بانوں میں الجھ کر رہ گئے تھے۔
’’آپ کسی ضروری کام سے آئے تھے؟‘‘ فاطمہ کو انہیں یاد دلانا پڑا‘ وہ چونکے اور سر بے دھیانی میں نفی میں ہلایا‘ وہ حسن کا پیکر ان کے سامنے موجود انہیں عجیب صورت حال میں مبتلا کررہا تھا۔ وہ اپنی جگہ شرمندہ بھی تھے اور پُرملال بھی۔ جو اقدام ان سے سرزد ہوا اس کا تمام الزام فاطمہ بی بی نے اپنے سر لے لیا تھا اس متعلق سوچ کر ہی وہ مزید مجرم بنے جارہے تھے۔
’’آپ نے ابا حضور سے بات کی تھی؟‘‘ وقارالحق نے ان کو متوجہ کرنے کو پوچھا تو وہ چونکیں پھر دانستہ نگاہ جھکالی اور سر اثبات میں ہلا دیا۔ وقارالحق خاموشی سے دیکھتے رہے پھر نرمی سے بولے۔
’’فاطمہ بی بی… آپ نے یہ الزام اپنے سر لے کر اچھا نہیں کیا ہمیں ہماری نظروں میں اور بھی مجرم بنا دیا ہے… ہم خود سے نظر ملانے کے قابل نہیں رہے‘ ہم نہیں جانتے آپ نے ایسا کیوں کیا مگر آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ آپ ابا حضور کی نظروں میں اس اقدام سے سرخرو ہوگئیں کہ آپ نے ہمارا نکاح ہماری منشا کے مطابق جنت بی بی سے کرا دیا مگر اس عمل سے ہمیں ہماری نظروں میں بہت چھوٹا کردیا۔‘‘ وہ برف کے سے سرد لہجے میں بولے تو فاطمہ ان کو چونک کر دیکھنے لگیں۔
’’فاطمہ بی بی کبھی کبھی آپ رشتوں کو خود بھی کھوکھلا کرتے ہیں جیسے آپ نے اپنے گھر کو خود نذر آتش کیا ہے اب آپ کسی کو الزام دیں گی تو یہ باعث تعجب ہوگا۔‘‘ وہ سرد لہجے میں بولے اور پھر پلٹ کر باہر نکل گئے۔ فاطمہ نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے ہی تھے لیکن اسی طور کھلے لبوں سے کھڑی حیرت سے انہیں جاتا دیکھنے لگیں، یہ کیا ہوا تھا؟ انہوں نے جو اقدام نیک نیت سے کیا تھا وہ ان کے خلاف کیسے چلا گیا تھا۔ وقارالحق کو کیا پسند نہیں آیا تھا ان کے کیے کا الزام اپنے سر لیا یا ان کو یہ اقدام خود کی نفی کرتا محسوس ہوا تھا۔ گویا ان کے مردانہ وقار پر کاری ضرب پڑی تھی۔ فاطمہ بی بی نے ایسا ہرگز نہ چاہا تھا وہ فقط نوابزادہ کی مدد کرنا چاہتی تھیں اور نہیں چاہتی تھیں کہ وہ نواب صاحب کے عتاب کا شکار ہوں مگر ان کا کیا گیا اچھا اقدام بھی ان کے خلاف رہا تھا۔ وہ اشک بار آنکھوں سے وقارالحق کو خود سے دور جاتا دیکھ رہی تھیں۔

’’ہم کہاں کھو سکتے تھے وقارالحق کو اتنی ہمت کہاں تھی ہم میں… ہماری تو یہ سن کر ہی جان پر بن گئی تھی کہ وہ کسی اور کے ہوگئے۔ اف یہ عشق کیسا دقت آمیز ہے۔ ایسا پیچیدہ کہ روح میں قیامت سی مچا دے، ایسا شاق کہ روح و دل کو کچوکے بھی لگاتا ہے تو کوئی رگ جان سے قریب ترین رہے… کسی کی دوری سہنے کے خیال سے ہی جسم سے جان نکلتی محسوس ہو اور ایک لمحہ گزارنا مشکل لگے عشق کیا ہے بس سیدھے سیدھے فتنہ ہے۔‘‘ جنت بی بی کہتے ہوئے ہنسیں تو ملازمہ نے انہیں بغور دیکھا۔
’’ایسے کیا دیکھ رہی ہو رقیہ، ہم کیا کہہ رہے ہیں‘ کوئی سمجھ بوجھ بھی ہے کہ نہیں؟ ویسے ہم سمجھتے ہیں عشق کی سمجھ سب کو پوری ہوتی ہے چاہے عقل بے شک آدھی ہو یا سرے سے ہو ہی نہیں، چھونے کو رفیق سا اور محسوس کرنے میں آتش خو، جلانے میں شعلہ آتش اور آزمانے کو امتحان‘ اف مگر پھر بھی چاہتے رہنے کی تمنا اور چاہے جانے کی حسرت ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔‘‘ جنت بی بی عجب سرمست لہجے میں بولی۔
’’مگر جنت بی بی وہ بات بھی ہے ناں کہ دلہن وہی جو پیا من بھائے۔‘‘ عقب سے ہاجرہ اماں کی آواز آئی تو جنت بی بی نے پلٹ کر دیکھا ہاجرہ اماں کھڑی مسکرا رہی تھیں۔
’’ارے کیا کہتے ہیں وہ براتیوں کو کھانے کی چاہ دلہا کو دلہن کی چاہ‘ اصل معاملہ تو دو فریقین کا ہوتا ہے بس، دلہا دلہن مل گئے جھوٹی پڑی برأت۔‘‘ ہاجرہ اماں کی بات کے سامنے کون کچھ کہہ سکتا تھا جنت بی بی ان کی اہمیت سے واقف تھیں اس لیے ماسوائے جھک کر ادب سے سلام کرنے کے کچھ اور نہ کہہ سکی۔
’’آداب ہاجرہ اماں‘ چچی جان کی ایک ہلکی سی شبیہہ ذہن میں آگئی اگر وہ سلامت ہوتیں تو آپ کی طرح ڈانٹ ڈپٹ کرتیں، اللہ سلامت رکھے آپ کو۔‘‘ جنت بی بی نے شہد آگیں انداز اپناتے ہوئے کہا تو ہاجرہ اماں سر پر پیار اور شفقت سے ہاتھ رکھتے ہوئے مسکرا دیں۔
’’تسلیمات بیٹا جیتی رہو… ناچیز کے درجے کو کہاں ملا دیا اللہ بخشے تارا بیگم کو کیا کمال کی خاتون تھیں، ایسی فراخ دل اور متلون مزاج کہ مثال نہیں ملتی‘ انہوں نے ایسی عزت بخشی کہ ہم ملازمہ ہوتے ہوئے بھی ان کی برابری میں بیٹھ کر وقار میاں کا پالنا جھولایا کرتے تھے اور وہ شفقت سے کہتیں ہاجرہ اماں ہم آپ کا احترام دل و جان سے کرتے ہیں، آپ کا احترام ہمیشہ اس گھر میں رہے گا۔ تارہ بہو کے گن ہم یونہی نہیں گاتے وہ اس لائق تھیں۔‘‘ ہاجرہ اماں مسکرائیں۔
’’بے شک ہاجرہ اماں آپ درست فرماتی ہیں ہم خود کو خوش قسمت سمجھیں گے اگر کل کو کوئی ہمارا ذکر بھی محل میں اس طرح کرے… انسان کی اچھائی اور اچھے اوصاف درحقیقت اس کے جانے کے بعد کھلتے ہیں کوئی اچھے لفظوں میں یاد رکھے تو اس سے بڑھ کر کوئی امر نہیں۔‘‘ جنت مسکرائیں‘ ہاجرہ اماں نے اس ضمن میں خاموشی اختیار رکھی، پھر بغور دیکھتے ہوئے گویا ہوئیں۔
’’آپ کے محترم چچا نواب زمان الحق کی آمد ہوگئی ہے ہم آپ کو مطلع کرنے آئے تھے کہ فی الحال ان کے سامنے جانے کا قصد مت کیجیے گا یہ پیغام وقار میاں نے بھجوایا ہے‘ دراصل ابھی انہوں نے اس ضمن میں نواب صاحب سے کوئی بات نہیں کی جب تک وہ تمام مدعا نواب صاحب سے نہ کہہ دیں آپ محل کے ایک حصے تک محدود رہیے‘ آپ ہماری بات سمجھ رہی ہیں ناں جنت بی بی؟‘‘ ہاجرہ اماں نے سمجھایا تو جنت بی بی نے سر ہلا دینے میں عافیت جانی۔

’’ابا حضور حالات ایسے تھے کہ اس کے بنا کوئی راہ نہ تھی انوار چچا آپ کے دیرینہ دوست تھے اور ہم ان کی بات ٹال نہیں سکے ان کی آخری خواہش یہی تھی کہ ہم جنت بی بی کی ذمہ داری اٹھالیں اور ہم نے اس وقت وہی کیا جو اس وقت مناسب لگا ہم آپ کا خون ہیں یہ کیسے ممکن تھا کہ کوئی مدد چاہ رہا ہو اور ہم پیچھے ہٹ جائیں؟‘‘ وقارالحق نے سر جھکائے مدہم لہجے میں کہا تو نواب صاحب دیکھتے رہ گئے پھر مدہم لہجے میں گویا ہوئے۔
’’اگرچہ یہ بات شرعی اعتبار سے درست ہے مگر آپ جانتے ہیں کہ ہم کسی طرح کی ناانصافی اس گھر میں نہیں چاہتے تھے‘ اس گھر کی بہو بیگم کا حق جن کو حاصل ہے وہ صرف فاطمہ ناظم الدین ہیں وہی آپ کی زوجہ اور بیگم ہونے کا درجہ رکھتی ہیں۔ ہمیں جنت بی بی سے ہمدردی ہے مگر ہم انہیں اس محل کی بہو اور آپ کی دوسری بیگم کے طور پر قبول نہیں کرسکتے‘ اگرچہ وہ اس محل میں قیام پزیر رہ سکتی ہیں مگر ہم ان کو اپنے مرحوم دوست اور انوار صاحب کی بیٹی کا درجہ دیتے ہوئے ان کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کبھی نہیں کریں گے آپ اپنے فرائض پورے کرتے رہیے کہ یہ آپ کے فرائض میں شامل ہے مگر ہم جنت بی بی کو اپنے مرحوم دوست کی بیٹی کے سوا کچھ اور رشتہ نہیں دے سکیں گے ہماری بات حتمی ہے‘ ہم نے ناظم الدین سے ان کی دختر کا ہاتھ مانگ کر جو ذمہ داری اٹھائی ہے ہم اس پر قائم رہیں گے اس معاملے میں نہ کوئی کوتاہی ہوگی نا ہی ناانصافی قبول کریں گے۔‘‘ نواب صاحب کہہ کر اٹھ کھڑے ہوئے‘ وقارالحق جو سانس روکے بیٹھے تھے ان کے جانے پر سر اٹھا کر دیکھا اور ایک گہری سانس خارج کی اور اٹھ کھڑے ہوئے۔

فاطمہ روز مرہ کی زندگی کی طرف لوٹ آئی تھیں مگر دل جس دھچکے سے گزرا تھا اس کے باعث آنکھوں میں اداسی کے بادل اتر آئے تھے اور گاہے بگاہے بارش ہوتی رہتی۔ وہ غالباً اسی اقدام کے متعلق سوچ رہی تھیں جب لائبریری میں بیٹھے آنکھیں بھیگنے لگیں۔ آنسو دیوان غالب پر گرے تو کسی کی ہتھیلی نے صفحات کی سطح پر آکر ان آنسوئوں کو سمیٹ لیا فاطمہ بی بی نے چونک کر دیکھا وہ اپنی سوچوں میں اس درجہ مگن تھیں کہ انہیں وقارالحق کے وہاں آنے کا احساس تک نہ ہوا۔

بڑے تپاک سے
رٹ رہا تھا تیرے لہجے کو
غضب ہوا
ہٹا دھیان اور
تیری آنکھوں میں
اٹک کر رہ گیا
کہنے کو بس قطرہ تھا
مگر
جب عارض پر بہا تو
سمندر کو پی کے رہ گیا

وقارالحق کا مدہم لہجہ اور نگاہ عجیب گرمئی شوق رکھتی تھی۔ وہ بدستور چہرہ دیکھ رہے تھے فاطمہ بی بی نگاہ جھکا گئی تب ہی انہوں نے ہاتھ بڑھا کر عارض پر بہتے آنسوؤں کو اپنے ہاتھ کی پوروں پر لے لیا، فاطمہ بی بی اس اقدام پر انتہائی چونکتے ہوئے دیکھنے لگیں مگر وقارالحق بہت سرسری انداز میں ان آنسوئوں کو دیکھنے لگے۔
’’آنسو بھی عجیب پیامبر ہوتے ہیں فاطمہ بیگم بولتے ہیں مگر پھر بھی آدھا سچ اور آدھا جھوٹ کہتے ہیں اور اس آدھے سچ اور آدھے جھوٹ کے درمیان اعتبار اپنی موت آپ مرتا دکھائی دیتا ہے۔ ویسے الزام آپ پر نہیں قصور ان فریبی آنسوئوں کا ہے جو آداب اور قرینے نظر انداز کرتے ہوئے آنکھوں سے بہہ نکلتے ہیں اور موقع پرستی کے تحت فوائد چاہتے ہیں۔‘‘ لہجہ بہت کڑوا اور تلخ تھا فاطمہ بی بی کچھ کہہ نہ سکیں بس آہستگی سے اٹھ کر وہاں سے نکل جانے کا قصد کیا مگر وقارالحق نے کلائی تھام لی گرفت سخت تھی جس سے وقارالحق کے اندرونی خلفشار کا مکمل پتا چلتا تھا‘ کئی کانچ کی سرخ چوڑیاں اس گرفت کی سختی کی نظر ہوئیں‘ ان ٹوٹی چوڑیوں کا کرب فاطمہ کے چہرے پر ابھرا مگر وقارالحق چہرہ نہیں دیکھ سکے اور نہ ان کو اس تکلیف کا کوئی احساس تھا فاطمہ بی بی کی پشت ان کی طرف تھی اور وقارالحق کو شاید اس تکلیف کا اندازہ نہ تھا یا وہ جان بوجھ کر فاطمہ بی بی کو اس تکلیف سے روشناس کرا رہے تھے فاطمہ بی بی کی آنکھوں سے خاموشی سے آنسو بہہ کر رخساروں کو بھگو رہے تھے۔ وہ آنکھیں میچ گئیں۔

ہم کہ کیف عشق میں ہجور
دست تاسف ملتے بہ یک دگر
آرام رسان جان رنجور
تیرے عشق میں چور
نصف شب کے جاگے ہوئے مسرور
رشتہ دل میں گرہ لگاتے
باز آمدہ، غیر مشروع، غیر مباح، ممنوع
تیرے چارہ ساز، تیرے رفو گر
کیف عشق میں ہجور
چاند کے تمنائی

وقارالحق ان کے مد مقابل آکر فاطمہ بی بی کے چہرے کو بغور دیکھا۔ پھر ہولے سے مسکرائے۔
’’فاطمہ بیگم آپ کے باعث ہم نے ابا حضور کے سامنے جو سبکی اٹھائی اس کے سامنے شاید یہ تکلیف بہت معمولی ہے‘ آپ نے تصویر کا غلط رخ ابا حضور کو دکھایا اس کے لیے ہم آپ کو معاف نہیں کرسکتے۔‘‘ وقارالحق کا لہجہ سپاٹ تھا فاطمہ بی بی نے بے یقینی سے نواب زادہ وقارالحق کو دیکھا جیسے وہ اپنا قصور جاننے کی متمنی ہوں مگر وقارالحق کے لبوں پر مسکراہٹ کھیل گئی۔
’’آپ بہت دلکش ہیں فاطمہ… اتنی دلکش کہ سب بھلا دیں مگر اس دلکشی میں چھپا جھوٹ اور مکاری جب واضح ہوتی ہے تو حسن کا چاند گہنانے لگتا ہے‘ حسن بہت بڑی دلیل ہوتی تو بھی کافی نہ ہوتی فاطمہ ناظم الدین۔‘‘ وقارالحق کی گرفت کلائی پر مضبوط ہوئی تو کانچ کی بچی کچھی چوڑیاں بھی ٹوٹ کر کلائی میں چبھنے لگیں کلائی سے خون رسنے لگا مگر وقارالحق کو احساس تک نہ ہوا۔
’’ہم نے آپ کو سمجھنے میں شاید غلطی کی فاطمہ‘ ہم سمجھے تھے ہم اہل نظر ہیں‘ زمانہ شناس ہیں مگر آپ کا حسن بڑا فسادی نکلا بالآخر دھوکہ دے گیا۔‘‘ وہ مسکرائے اور پھر ایک جھٹکے سے ان کی کلائی کو چھوڑ کر وہاں سے نکل گئے۔ فاطمہ بی بی اشک بہاتی ان کے رویے پر غور کرتی رہ گئی تھیں۔

رجت سنگھ نے گہری سانس خارج کرکے جیسے اپنے اندر کے فشار کو راہ دینا چاہی تھی۔ لائبریری کے دروازے پر کھڑے اس نے فاطمہ بی بی کے ساتھ نوابزادہ وقارالحق کو دیکھا اور پھر نگاہ خون رستی کلائی پر جم کر رہ گئی تھی۔ وقارالحق مدہم لہجے میں کچھ کہہ رہے تھے فاطمہ بی بی کی آنکھوں سے اشک رواں تھے گفتگو کیا تھی؟ وہ یہ سن نہیں پایا مگر وہ فاطمہ بی بی کی آنکھوں سے بہتے اشک دیکھ رہا تھا اور چہرے سے جھلکتی تکلیف بہت کچھ واضح کررہی تھی اور وہ فوراً وہاں سے ہٹ گیا مگر ذہن بھٹک بھٹک کر اس طرف جا رہا تھا۔
فاطمہ نواب صاحب کی بیگم اور قابل احترام تھیں‘ رجت دل سے ان کی عزت کرتا تھا وہ نہیں جانتا تھا کہ زوجہ خاوند کے درمیان معاملہ کیا رہا تھا مگر وہ اس منظر کو زیادہ دیر دیکھ نہ سکا تھا۔ جہاں تک اسے لوگوں کی پہچان تھی فاطمہ بی بی انتہائی نرم خو اور نرم مزاج تھیں وہ کسی کے ساتھ غلط نہیں کرسکتی تھیں پھر وقارالحق اس درجہ سختی کے مرتکب کیوں ہورہے تھے جب کہ وہ کوئی غیر نہیں ان کے خاوند تھے اور وہ ان کی عزت کی پاسداری کے ضامن تھے اور فاطمہ کی خوشیوں اور خیال رکھنے کی ذمہ داری انہی موصوف کے کاندھوں پر آتی تھی جو ان کو اس لمحے تکلیف پہنچانے کے مرتکب ہورہے تھے۔ رجت سنگھ کے ذہن سے وہ منظر نکل نہیں رہا تھا اگرچہ وہ محض ملازم تھا جو مالک کے اندرونی اور ذاتی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہ رکھتا تھا مگر وہ ایک انسان ہونے کے ناطے بے حس بن کر نہیں رہ سکتا تھا سو عجیب بے چینی میں یہاں سے وہاں تا دیر چکر کاٹتا رہا اور اندر کوئی طوفان تھا برستی تیز بارش اور بادلوں کا شور، بجلی کی گھن گرج اس فشار کو بڑھاتی رہی۔

میں نے بارش کو پاس بلا کر رکھ دی حرارت سی ایک پہلو میں
بوند بوند شرارہ تھی پھر قطرہ قطرہ انگارہ تھا بس

سخاوت بیگم کو فاطمہ کی طبیعت کی ناسازی کی خبر ملی تو وہ بے چین سی ہوگئیں فوراً فون اٹھایا اور وہاں کا نمبر گھما ڈالا۔
’’ارے ہم کیا ایسے گئے گزرے تھے کہ ہمیں ایسی تاخیر سے اطلاع دی۔ ہاجرہ اماں آپ کا احترام ایک طرف مگر آپ کو مطلع تو کرنا چاہیے تھا ناں؟‘‘ سخاوت بیگم نے شکوہ کیا تو دوسری طرف ہاجرہ اماں ملائمت سے مسکرا دیں۔
’’غصہ مت کیجیے سخاوت بیگم‘ آپ کی بٹیا کوئی غیروں کے گھر تھوڑی ناں ہیں یہاں سب کو فاطمہ بی بی کی فکر ہے اور خیال رکھنے کو ہم سمیت بہت سے لوگ ہیں۔ ہم نے خوب تیمار داری کی ہے ماشاء اللہ فاطمہ بہو اب تو خیریت سے ہیں۔ فکر کی کوئی بات نہیں اگر فکر کی کوئی بات ہوتی تو ہم خود مطلع کرتے آپ کو۔ فاطمہ بہو اس محل کی بیگم ہیں‘ بہو بیگم کی اہمیت یہ محل سمجھتا ہے اور ان کا خیال رکھنا بھی خوب جانتا ہے۔‘‘ ہاجرہ اماں نے نرم لہجے میں کہا تو سخاوت بیگم نے گہری سانس خارج کی اور گویا ہوئیں۔
’’بہرحال ہم فاطمہ بی بی کی خیریت معلوم کرنے ضرور آئیں گے۔‘‘ دوسری طرف ہاجرہ اماں مسکرا دیں۔
’’آپ کا اپنا گھر ہے سخاوت بیگم‘ ہماری بہو بیگم کی امی جان ہیں آپ‘ جب چاہیں تشریف لا سکتی ہیں۔ ہماری مجال کہاں کہ ہم زبان کھولیں؟ نوابزادہ وقارالحق کی ساس صاحبہ کے لیے خصوصی استقبال کی خاص ہدایت درج ہے محل کے قوانین میں۔ نواب صاحب کی سمدھن ہونے کا اعزاز حاصل ہے آپ کو‘ ہم نے منہ کھول کر محل کی ملازمت سے ہاتھ دھونا ہے کیا؟‘‘ ہاجرہ اماں دوسری طرف مسکرائیں تو اس طرف سخاوت بیگم بھی مسکرا دیں۔
’’ہاجرہ اماں شرمندہ کرنا تو کوئی آپ سے سیکھے‘ خیر ہم آج شام ہی چکر لگاتے ہیں فاطمہ بی بی کو مطلع مت کیجیے گا وہ فکر مند ہوجائیں گی۔‘‘ سخاوت بیگم نے سمجھاتے ہوئے فون کا سلسلہ منقطع کردیا قریب بیٹھی اماں جان نے بغور بہو کو دیکھا۔
’’آپ خاصی متفکر لگ رہی ہیں سخاوت بیگم سب خیر ہے ناں؟‘‘ اماں جان پوچھے بغیر نہ رہ سکیں۔
’’خیریت ہی ہے اماں جان‘ فاطمہ بی بی کی طبیعت کچھ ناساز تھی مگر ہمیں کسی نے مطلع کرنا ضروری نہیں سمجھا۔‘‘ سخاوت بیگم نے کہا تو اماں جان کے لبوں پر ایک طنز بھری مسکراہٹ ابھری۔
’’موسمی بخار آن گھیرے تو اس میں کچھ عجب نہیں… نہ ہی پریشانی کا باعث ہووے ہے۔ بخار آنا کیا بڑی بات ہے۔‘‘ سخاوت بیگم نے مجبوراً سر ہلا دیا۔
’’بجا فرمایا اماں جان… خیر ہم والدین ہیں‘ خیریت معلوم کرنا تو بنتا ہے۔‘‘ سخاوت بیگم نے دبے دبے لہجے میں کہا۔
’’بیمار کی تیمار داری کرنا تو فرض ہے… دادی جان‘ بڑی اماں بیگم ہم بھی آپ کے ہمراہ جائیں گے فاطمہ بی بی کی خیریت معلوم کرنے۔‘‘ تب ہی وہاں ریحان میاں آن دھمکے اور مسکراتے ہوئے بولے تو اماں جان نے گھورنا ضروری جانا ریحان مسکرا دیے۔
’’دادی جان ہمیں تو اب کمانے کا موقع ہاتھ لگ رہا ہے خدارا ایسی سختی کا مظاہرہ نہ کیجیے۔‘‘ ریحان میاں نے بات کو مزاح کا رنگ دیا تو اماں جان نے کڑے تیوروں سے گھورا۔
’’محترم ریحان میاں… اس سے قبل کہ برا وقت آوے آپ کو عقل کے ناخن لینا چاہیے حد ہوگئی‘ اپنی سمت درست کرنے کی ضرورت ہے آپ کو، بصورت دیگر ہم آپ کو چلتا کردیں گے۔‘‘

(ان شاء اللہ کہانی کا بقیہ حصہ آئندہ شمارے میں)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close