Aanchal Nov-18

اکائی

عشنا کوثر سردار

پھر سن رہا ہوں گزرے زمانے کی چاپ کو
بھولا ہوا تھا دیر سے میں اپنے آپ کو
رہتے ہیں کچھ ملول سے چہرے پڑوس میں
اتنا نہ تیز کیجیے ڈھولک کی تھاپ کو

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)

تاج بیگم بیٹے کے فیصلے سے انتہائی دلبرداشتہ ہوجاتی ہیں اور خود کو الگ تھلگ کمرے میں مقید کرلیتی ہیں وہ کھانے پینے سے بھی انکاری ہوجاتی ہیں۔ ناظم الدین ماں کو سمجھانے کی ہر مممکن کوشش کرتے ہیں اور ایک مجبور باپ کی کیفیت ان کے سامنے بیان کرتے ہیں لیکن وہ انا کا پرچم بلند کیے کسی کی بات کو اہمیت دینے پر آمادہ نظر نہیں آتیں۔ نواب زمان الحق ان سے ملنے کی خاطر آتے ہیں اور انہیں منانے کی سعی کرتے ہیں لیکن وہ سخت غصے میں انہیں بھی وہاں سے جانے کا کہتی ہیں سخاوت بیگم ان کے سامنے بے حد شرمندگی محسوس کررہی ہوتی ہیں۔ نواب وقار الحق جنت سے اپنی محبت کا اعتراف کرلیتے ہیں اور یہ بات سن کر فاطمہ شاکڈ رہ جاتی ہے۔ اسی لیے وہ اپنے رشتے کو بھی سب پر ظاہر کرنا نہیں چاہتے تاکہ جنت کی دل آزاری نہ ہو اور اس طرح فاطمہ کے دکھوں میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے لیکن نواب صاحب کو ان کے دل تک بالکل رسائی نہیں ہوتی۔ رجت سنگھ حویلی کی نوکری ترک کرکے چھوٹے نواب سے نوکری کی درخواست کرتا ہے جبکہ وہ اس کے انداز پر ٹھٹک جاتے ہیں آخرکار فاطمہ کر درس گاہ لانے لے جانے کی ذمہ داری رجت سنگھ کو سونپ دی جاتی ہیں اور بطور ڈرائیور اسے رکھ لیتے ہیں۔ رجت سنگھ بھی اس نوکری سے بے حد خوش ہوتا ہے فاطمہ کا دکھ اسے بھی مضطرب کیے رکھتا ہے اور وہ فاطمہ کے لیے سچے دل سے دعا گو رہتا ہے کہ اس کی زندگی خوشیوں سے بھر جائے۔ توقیر صاحب کی اہلیہ رشتے سے انکار پر شدید برہم ہوتی ہیں اور جب ریحان میاں کو بھی اس بات کی خبر ملتی ہے تو وہ بھی بھڑک اٹھتے ہیں اور فاطمہ سے بدلہ لینے کی خاطر ہر اچھے برے کو نظر انداز کردینے کا عزم کرتے ہیں۔ نواب زمان الحق اپنے دوست انوار الحق سے ملتے ہیں تو وہ جلد جنت کے رشتہ طے کرنے کی بات کرتے ہیں لیکن نواب صاحب کے لیے اس موضوع پر بات کرنا بے حد مشکل ہوتا ہے جب ہی وہ خاموشی سے چلے آتے ہیں۔ نواب صاحب چھوٹے نواب کے ولیمہ کی تقریب کرنا چاہتے ہیں تاکہ سب کو فاطمہ اور چھوٹے نواب کے نکاح کا علم ہوسکے چھوٹے نواب بادل نخواستہ رضا مندی دے دیتے ہیں۔ کرم دین رجت سنگھ کے رویے کے بدلائو پر حیران ہوتا ہے وہ اپنے اندر کے اضطراب سے خود بھی بے قرار ہوتا ہے ایسے میں کرم دین اسے مسلمان ہونے اور کلمہ پڑھنے کا کہتا ہے جس پر رجت سنگھ نا سمجھی میں انہیں دیکھتا رہ جاتا ہے۔

(اب آگے پڑھیے)

یہ کون سا نقطہ تھا جس کی تلاش میں وہ دیوانہ ہورہا تھا‘ کیا جستجو تھی اسے‘ کس بات کی تمنا تھی کرم دین سمجھ نہ پایا تھا یہ سودائی عجیب تھا۔
رجت سنگھ پُر اعتمادی سے چلتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا کرم دین اس کے قدموں کی مضبوطی سے اس کے ارادوں کو بھانپ گیا تھا۔
[…r…[
فاطمہ راہداری سے گزر رہی تھی جب سامنے سے وقار آتے دکھائی دیے تھے وہ اپنے ہی دھیان میں چل رہی تھی جب وقار پر نگاہ پڑی تو وہ قریب آچکا تھا وہ راہ بدلنے کی کوشش کرچکی ہوتی اگر نظر پہلے پڑ جاتی مگر اسی اثنا میں وہ قریب آچکا تھا اور اس سے قبل کہ وہ پلٹی… وقار نے ہاتھ تھام لیا اور فاطمہ حیرت زدہ سی انہیں دیکھنی لگی تھی وقار جانتا تھا کہ اس روز کے واقعے کے باعث یہ کشیدگی در آئی تھی مگر وہ فوری طور پر کچھ بولے نہ تھے۔
’’ہم آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ دھیمے لہجے میں مدعا بیان کیا تو فاطمہ نے نظریں پھیرتے ہوئے سر نفی میں ہلا دیا۔
’’ہم کوئی بات بھی کرنا نہیں چاہتے۔‘‘ فاطمہ نے قطعی لہجے میں انکار کیا۔ وقار اس انداز پر دیکھ کر رہ گئے پھر جانے کا کیا ہوا تھا کہ ایک لمحے میں جھٹکے سے کھینچ کر فاطمہ کو قریب کیا اور اس کے اطراف بازوئوں کا گھیرا تنگ کرتے ہوئے مضبوط لہجے میں گویا ہوئے۔
’’ہم صلح کے راستے ہموار کرنے کے خواہاں ہیں سمجھنے کی ضرورت آپ کو ہے فاطمہ؟‘‘ وہ چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے جتاتے ہوئے انداز میں بولے۔ فاطمہ نے اس قدر قریب ہونے کے باوجود ان کی سمت دیکھنے سے مکمل گریز کیا اگرچہ اس قربت پر ان کا حق تھا مگر وہ جس طرح کے حالات سے گزر رہی تھیں ایسے حق پر کوئی معرکہ آرائی کرنا نہیں چاہتی تھیں وہ پوری طرح دست بردار ہوتی دکھائی دے رہی تھیں سو ان کے قریب آجانے پر بھی کوئی ہلچل وجود کے اندر محسوس نہ ہوئی‘ نہ ہی دل کی دھڑکنوں میں کوئی طلاطم بپا ہوا‘ کوئی احساس جیسے رگ و پے میں جاگا ہی نہ تھا‘ وہ آنکھیں وقار کی سمت اٹھی ضرور تھیں مگر ان آنکھوں میں بہت ویرانی تھی اور وقار اس کیفیت پر ساکت رہ گئے تھے۔
’’ویرانیوں میں گھر آباد نہیں ہوتے وقار الحق، آپ کو نئی راہیں تلاش لینے کا مکمل حق ہے۔‘‘ وہ سرد لہجے میں گویا ہوئی تو وقار کو یہ بات جانے کیوں اپنی عزت نفس پر کسی تازیانے کی طرح لگی۔
’’آپ اس طرح بات کیسے کرسکتی ہیں فاطمہ بی بی… آپ ہمارے نکاح میں ہیں اور ہم مکمل اختیار رکھتے ہیں آپ پر۔‘‘ وہ جیسے جتاتے ہوئے اپنی انا کو تسکین دے رہے تھے مگر فاطمہ تلخی سے مسکرا دیں۔
’’فقط پرچم لگا دینے سے علاقے مفتوح نہیں ہوجاتے نواب زادہ وقار الحق‘ روح فتح کرنے کے لیے دلوں کو فتح کرنا ضروری ہوا کرتا ہے۔‘‘ فاطمہ ان کو باور کراتی ہوئی اپنا وجود ان کی گرفت سے نکال کر دو قدم پیچھے ہٹی اور بغور ان کی سمت تکتے ہوئے بولیں۔
’’محبت کے بنا کسی فتح کا کوئی وجود نہیں وقار الحق‘ محبت کے بنا کوئی حکومت رائج نہیں ہوسکتی۔ آپ اس تجربے سے گزرنا چاہتے ہیں تو بصد شوق گزریے مگر اس میں کامرانی مقدر نہیں بنے گی، ہمیں افسوس ہے نواب زادہ ہم آپ کو کوئی امید دلا نہیں سکیں گے مگر بہرکیف محبت اسی طور بسر ہوتی ہے اور اس کے سوا کوئی متبادل راہ نہیں ہے کیونکہ محبت کی کوئی متبادل راہ نہیں ہوتی محبت ہوتی ہے یا پھر نہیں ہوتی، آپ تو محبت سے گزرے ہیں خوب جانتے ہوں گے کہ کیا ممکن ہے اور کیا ناممکن؟‘‘ فاطمہ نے پُر اعتمادی سے جتایا‘ ان کی خود اعتمادی دیکھنے لائق تھی اور وقار الحق کے چہرے کی تاریکی صاف دکھائی دی تھی مگر فاطمہ ایسی بے حس ہوچکی تھیں کہ انہیں جیسے اس سے کوئی واسطہ نہ ہو‘ وہ پلٹ کر وہاں سے نکلتی چلی گئیں نواب زادہ وقار الحق اس صورت حال پر ششدر سے فاطمہ کو دیکھتے رہ گئے تھے۔
[…r…[
ناظم الدین کھانے کے دستر خوان پر آئے تو اشتہاء انگیز خوشبوئوں نے استقبال کیا۔ میز کی سربراہی نشست پر اماں جان براجمان تھیں مگر وہ ناظم الدین کی آمد سے لاتعلق رہیں جیسے انہوں نے ان کی جانب سرے سے دیکھا ہی نہ ہو ناظم الدین کا دل اس رویے پر کٹ کر رہ گیا مگر انہوں نے اماں جان کو آداب کرنا ضروری خیال کیا‘ چاہے اس کا کوئی جواب آئے یا نہیں‘ سخاوت بیگم جو ماں بیٹے میں ثالث کا کردار ادا کررہی تھیں اس کیفیت کو سمجھتے ہوئے مسکرا کر گویا ہوئیں۔
’’آج کا کھانا بوجھیے تو کس نے پکایا؟‘‘ ناظم الدین اشتہاء انگیز خوشبوئوں سے جان گئے تھے تب ہی نرمی سے بولے۔
’’یہ طعام اماں جان کے علاوہ اور کون بنا سکتا ہے سخاوت بیگم… ایسے لذیذ پکوان جو میلوں تک اپنی خوشبوئوں سے خود کو متعارف کرائیں فقط اماں جان کا ہی خاصہ ہوا کرتے ہیں۔‘‘ ناظم الدین نے اماں جان کی جانب عقیدت سے دیکھتے ہوئے کہا‘ سخاوت بیگم کھانا نکالنے لگیں اماں جان کوئی تاثر دیے بنا کھانا کھانے میں مصروف ہوگئی تھیں۔
’’ہم سب سے پہلے یہ سویاں چکھنا چاہیں گے سخاوت بیگم… اماں جان کے ہاتھ کی سویوں سے ہمارے بچپن کی کئی یادیں وابستہ ہیں ایک بار ہم نے اماں سے سویاں بنانے کی فرمائش کی اور پھر کھیل میں مشغول ہوکر ہم یکسر بھول گئے جب گھر لوٹے تو اماں جان ایسی برہم ہوئیں مگر انہوں نے ہماری پٹائی نہیں کی فقط دو دن تک ہم سے بات چیت مکمل بند رکھی اور ہم اپنی ماں کی اس چپ پر زار و قطار روئے کان پکڑ کر اماں جان سے معافی طلب کی‘ تب چونکہ ہم ناسمجھ تھے سو اس لیے اماں جان کی ناراضگی ایسی بھرپور نہ تھی مگر بالغ ہوکر سمجھ آیا کہ کچی عمر کی خطائیں جس قدر قابل معافی ہوتی ہیں پکی عمر کی نہیں۔‘‘ ناظم صاحب مدہم لہجے میں کہتے بہت افسردہ دکھائی دیے‘ اماں جان نے لمحہ بھر کو کھانے سے ہاتھ روکا مگر متوجہ تب بھی نہ ہوئیں سخاوت بیگم نے اماں جان کی طرف دیکھا تھا۔
’’ناظم الدین صاحب ناسمجھی کی خطائیں قابل معافی اس لیے بھی ہوتی ہیں کہ وہ دل اس درجہ نہیں دکھاتیں مگر جب کوئی سمجھ بوجھ رکھتے ہوئے دل دکھاتا ہے تو زیادہ دکھ ہوتا ہے۔‘‘ سخاوت بیگم مدہم لہجے میں بولیں‘ اماں جان نے کوئی توجہ نہ دی اور کھانا ختم کرکے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑہ گئیں‘ ناظم صاحب کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی سخاوت بیگم نے تسلی دینے کو ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔
’’اتنا بہت ہے کہ اماں جان ہم سب کے ساتھ بیٹھ کر طعام کرنے کے لیے رضا مند ہوگئی ہیں۔ آپ حالات کو دیکھتے ہوئے رشتوں کو اپنی راہ ہموار کرنے کا وقت دیں۔‘‘ سخاوت بیگم نے مدہم لہجے میں کہا مگر ناظم الدین ماں کی بے اعتنائی پر ایسے غمزدہ دکھائی دیے کہ دستر خوان سے اٹھ کر چل دیے‘ سخاوت بیگم دیکھتی ہی رہ گئی تھیں۔
[…r…[
آنسو آنکھوں سے بہہ رہے تھے جب فاطمہ کی نگاہ نے سامنے لگے آئینے میں اپنا عکس دیکھا… چند لمحوں تک نگاہیں اپنے عکس کو خاموشی سے تکتی رہیں پھر جانے کیا ہوا کہ آنکھیں رگڑ دیں۔
’’ہم ایسے کمزور نہیں پڑ سکتے… ہم ایسے ناتواں نہیں کہ اپنے آپ کو ان آنسوئوں کے ریلے میں بہا دیں۔ ہم ہمت ہارنے والوں میں سے نہیں ہیں‘ نا امید وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی زندگی کا مقصد ختم ہوجاتا ہے‘ جن کو زندگی گزارنے کا کوئی سبب دکھائی نہیں دیتا‘ ہم تو ایک مقصد رکھتے ہیں‘ ہم اس سب کو نظر انداز کیسے کرسکتے ہیں۔ نجی زندگی کی ناکامی ہمارے حوصلوں کو پسپا نہیں کرسکتی‘ ہم جو مقصد لے کر چلے تھے وہ ان معاملات سے کہیں بڑھ کر تھا پھر ہم ان معاملات میں الجھ کر خود کو ایسے بے وقعت کیوں کر جاننے لگے۔‘‘ فاطمہ نے نئے سرے سے خود کو منظم کیا اور ایک نئی ہمت اپنے رگ و پے میں دوڑتی محسوس کی تھی۔
’’زندگی میں ہم ہر مقام پر فاتح نہیں ٹھہر سکتے… شاید یہ فتح ہمارے لیے نہیں ہے‘ ہم اپنی نجی زندگی کو ایک طرف رکھتے ہوئے خود کو یکسر نظر انداز کردیں گے۔ ہم سوچیں گے تو صرف اپنی قوم کے متعلق جس طرح ہمارے رہنمائوں نے خود کی ذات کو نظر انداز کرکے صرف اپنی قوم کے بارے میں سوچا۔ ہم بھی وطن بنانے کی جدوجہد میں خود کو بھلا دیں گے۔‘‘ ایک عزم سے فاطمہ نے سوچا اور خود کو نئی ہمت دلائی‘ وہ خود کو نئے حوصلوں سے روشناس کرانے میں کامیاب رہی تھیں۔ اپنی ذات کی نفی کرنا اگرچہ آسان نہیں ہوتا مگر فاطمہ نے ٹھان لی تھی کہ وہ اپنی نجی زندگی کی ناکامیوں پر کبھی خود ترسی میں مبتلا نہیں ہوں گی تب ہی اس شام جب وہ وقار الحق کے ہمراہ بیٹھیں قہوہ سے لطف اندوز ہورہی تھیں تو انہوں نے خود اعتمادی سے کہا۔
’’معذرت چاہتے ہیں‘ ہم نے ایسا رویہ روا رکھا مگر وہ ایک وقتی کیفیت سے زیادہ کچھ نہ تھا۔ ایسا انتشار اندر بپا ہونا کوئی عجب بات نہیں‘ ہماری کم فہمی اور ناسمجھی کی دلیل سمجھ لیجیے‘ ہم شرمندہ ہیں آپ کو اجازت ہے آپ اپنے ارمانوں کی زندگی جس طرح جینا چاہیں جی سکتے ہیں ہم آپ کے راہ کی رکاوٹ نہ بنیں گے مگر شرط بس یہ ہوگی کہ آپ ہمیں اپنی زندگی سے خارج نہیں کریں گے اور ہماری زندگی کو اپنے معاملات سے اثر انداز نہیں ہونے دیں گے۔‘‘ لاتعلق لہجہ اس بات کا غماز تھا کہ رشتے میں دراڑ آچکی ہے۔ گویا وہ اپنے اس رشتے سے دستبردار ہورہی تھیں۔ وقار الحق نے خاموشی سے انہیں دیکھا پھر جانے کیا سوچ کر ان کا ہاتھ تھام کر ان کو بٹھایا اور مدہم لہجے میں گویا ہوئے۔
’’ہمیں علم ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے فاطمہ‘ ہم اپنے معاملات کی خبرداری رکھنا جانتے ہیں اس کے لیے اگر مشاورت درکار ہوئی تو آپ سے ضرور رجوع کریںگے۔ دوسری بات ہم اور آپ جس رشتے کے پابند ہوچکے ہیں اس سے انکار ممکن نہیں‘ ہم اس رشتے سے دستبردار ہونے کو کبھی تیار نہ ہوں گے یہ نواب خاندان کی روایت نہیں‘ آپ ہماری بیگم ہیں اور بیگم کا مرتبہ اور عزت ہمیشہ آپ کے پاس رہے گا، ہم اپنے حقوق کی ادائیگی میں کوئی غفلت نہ برتیں گے نہ اپنے فرائض سے کوتاہی کے مرتکب ہوں گے‘ آپ ان سب باتوں کو از سر نو ذہن نشین کرلیجیے جو حقوق واجب الادا ہیں وہ ہر صورت ادا ہوں گے۔‘‘ انہوں نے مضبوط لہجے میں کہا تو فاطمہ نے ان کی طرف دیکھنے کی غرض سے نگاہ اٹھائی اور نگاہ جھکتی چلی گئی‘ فطری احساس کے تحت عارض سرخ ہوئے تھے۔ جب وہ یک دم اٹھ کھڑی ہوئی اور سرعت سے وہاں سے نکل آئی‘ کمرے میں آکر کئی لمحوں تک وہ اپنی کیفیت کو سنبھالنے میں لگی رہی تھیں۔
’’ہم ان سے اس قدر الجھ کیوں رہے ہیں‘ اس کا سبب کیا ہے؟ یہ محض ہمارا رشتہ ہے یا اس سے بڑھ کر بھی کچھ اور ہے؟‘‘ انہوں نے دل ہی دل میں خود سے پوچھا مگر جواب میں دھڑکنوں کے شور کے علاوہ کوئی واضح جواب سنائی نہیں دیا تھا۔
[…r…[
فاطمہ موٹر کار کا دروازہ کھول کر بیٹھی تو رجت سنگھ نے عقبی آئینے میں انہیں ایک نگاہ دیکھا‘ سیاہ چادر میں اپنا وجود اور چہرہ چھپائے وہ پُر اعتماد دکھائی دی تھیں‘ رجت نے موٹر کار اسٹارٹ کرتے ہوئے روز مرہ کے معمول کے مطابق کالج کی راہ لی جب فاطمہ نے کہا۔
’’ہمیں کالج نہیں جانا آپ موٹر کا رخ تاج محل کی طرف موڑ دیجیے۔‘‘ فاطمہ کے کہنے پر رجت نے سر ہلاتے ہوئے موٹر کا رخ تاج محل کی طرف کردیا تھا۔
’’کرم دین چاچا سے ملاقات ہوئی تھی کل شب‘ خبر ہوئی ناظم الدین صاحب لکھنو روانہ ہوئے ہیں۔‘‘ فاطمہ چونکیں۔
’’ابا جان لکھنو گئے ہیں… خیریت؟‘‘ ان کا انداز خود کلامی کا سا تھا رجت سنگھ نے عقبی آئینے سے انہیں دیکھا۔
’’یہ تو خبر نہیں بی بی صاحبہ مگر سنا ہے کہ کسی ضروری امور سے روانہ ہوئے ہیں۔‘‘ رجت سنگھ نے کہا تو وہ خاموشی سادھ گئی‘ جب سے نکاح ہوا تھا وہ ایک بار بھی میکے نہ آئی تھیں اب ایک عجیب سا احساس بھی تھا کہ جانے دادی جان کیسا رویہ اختیار رکھیں جس طرح یہ نکاح وقوع پذیر ہوا تھا اس کے متعلق وہ آگاہ تھیں دادی جان کی خفگی اور غصے سے بھی وہ خوب واقف تھیں۔ ان کا مزاج جس طور برہم تھا‘ ان کے غصے کا شکار ہونے والا ہی جانتا تھا وہ عتاب روح فرساں ہوتا‘ ابا جان کی غیر موجودگی میں وہاں جانا گویا اپنی شامت کو آواز دینا تھا مگر وہ تاج محل کے قریب تھیں اور اب موٹر کار کا رخ مڑوانا مناسب نہ لگا وہ نہیں چاہتی تھیں کہ کوئی بدمزگی مزید ہو مگر اس طرح گھر کے قریب آکر پلٹ جانا بھی مناسب نہ تھا سو وہ چپ سی بیٹھی رہیں‘ جب تک موٹر کار تاج محل کے سامنے رک گئی اور ان کے لیے اترنا نا گزیر ہوگیا تھا مگر کسی بھی ممکنہ صورت حال کے پیش نظر فاطمہ نے رجت سنگھ کو دیکھا۔
’’آپ یہیں باہر موجود رہیے اور ہمارا انتظار کیجیے۔‘‘ فاطمہ کہہ کر گھر کے دربان کے تعظیم بھرے سلام کا جواب دیتی محل کے داخلی دروازے سے اندر داخل ہوگیں دھڑکنوں میں جو زیر و بم تھا وہ کس باعث تھا وہ جانتی تھیں۔ ٹانگیں کپکپا رہی تھیں‘ قدم جیسے راستوں پر چلنے کی سکت نہ رکھتے تھے۔ راہداری کے اختتام پر رک کر اس نے اماں جان کے کمرے کا رخ کیا مگر اس سے قبل کہ وہ دستک دیتی سخاوت بیگم نے ان کو متوجہ کرلیا۔
’’فاطمہ آپ…! آنے سے قبل کوئی اطلاع بھی نہ دی؟‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بیٹی کو ساتھ لگا کر پیار کرنے لگیں، فاطمہ نے ہلکی سی رسمی مسکراہٹ سے ان کی طرف دیکھا۔ سخاوت بیگم اس کا ہاتھ تھام کر فوراً اپنے کمرے کی طرف چل دیں‘ فاطمہ نے سراسمیگی میں دادی جان کے کمرے کی طرف اشارہ کیا۔
’’امی جان… وہ دادی جان۔‘‘ سخاوت بیگم نے بیٹی کے کہنے پر صرف سر ہلایا اور فاطمہ کو اپنے کمرے میں لاکر بٹھاتے ہوئے اس کا چہرہ محبت سے تھام کر پیشانی کو بوسا دیا۔
’’میری بچی حالات کی نزاکت کو سمجھنا ضروری ہے آپ اپنی دادی جان سے ملاقات کا شرف حاصل کرسکتی ہیں مگر فی الحال آپ کے ابا جان گھر پر نہیں اور ان کی غیر موجودگی میں اماں جان سے ملاقات مناسب نہ ہوگی، آپ سمجھ رہی ہیں ناں فاطمہ وقار الحق؟‘‘ امی جان نے اسے باور کرایا کہ وہ کن حالات میں اس گھر سے سسرال روانہ ہوئی تھیں۔ فاطمہ ان کی بات کا مطلب سمجھ گئیں مگر سسرال سے پہلی بار میکے آنا اور دادی جان سے ملے بغیر چلے جانا بھی یقینا بڑی بے ادبی ہوتی اس لیے اس نے اماں جان کے کمرے کا رخ اختیار کیا تھا وہ محل کے تقاضوں سے باخبر تھیں۔ اماں جان اس گھر کی اہم ترین فرد اور سربراہ تھیں وہ اس گھر میں آکر ایسی بے ادبی کی مرتکب نہیں ہوسکتی تھیں اسی باعث وہ دادی جان سے ملنا ضرور تصور کررہی تھیں مگر سخاوت بیگم کا خدشہ بھی جائز تھا کہ وہ بھی ساس کے مزاج سے واقف تھیں۔
’’آپ کے ابا جان کی غیر موجودگی میں اماں جان کے غصہ کو آواز دینا یقینا کڑا تجربہ ہوگا آپ کو حکم دوں گی کہ یہیں سے واپس پلٹ جائیے، اس سے قبل کہ گھر کے ملازمین کو آپ کی آمد کا علم ہو اور کسی کے توسط سے اماں جان کو خبر ہوجائے… آپ کا لوٹ جانا مناسب ہوگا۔‘‘ سخاوت بیگم جلدی سے بیٹی کا ہاتھ تھام کر کمرے سے باہر نکلیں‘ دِدھر اُدھر دیکھ کر تسلی کی اور پھر قدم تیزی سے آگے بڑھانے لگیں فاطمہ ان کے ساتھ کھنچتی چلی آرہی تھیں۔ کسی بیٹی کا اپنے میکے میں ایسا خیر مقدم شاید پہلی بار ہوا ہوگا۔ فاطمہ کا سانس رکا ہوا تھا جب امی جان نے دہلیز سے باہر قدم نکالا تھا۔
’’آپ اس وقت تک اس گھر میں قدم نہیں رکھیں گی جب تک آپ کے ہمراہ نواب زادہ وقار الحق اور آپ کے والد محترم گھر میں موجود نہ ہوں۔‘‘ اماں جان نے کہہ کر فاطمہ کو موٹر کار میں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ مودب کھڑے رجت سنگھ نے موٹر کار کا دروازہ کھول دیا تھا۔
فاطمہ نے ایک نگاہ ماں کی طرف دیکھا… نگاہ ڈبڈبائی مگر وہ فوراً موٹر کار میں بیٹھ گئیں۔ رجت نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے ہوئے فوراً گاڑی آگے بڑھا دی تھی۔ فاطمہ چہرے کا رخ پھیر کر آنکھوں کی نمی کو اپنے اندر اتارنے لگی تھیں۔ رجت سنگھ نے عقبی آئینے میں سب کچھ دیکھا مگر وہ کچھ پوچھنے کی جسارت نہیں کرسکتا تھا۔
[…r…[
’’پرندے بہت دقتوں سے گھونسہ بناتے ہیں اور وہ گھونسلہ گھر بنتا ہے جب چھوٹے چھوٹے بچے دنیا میں آنکھ کھولتے ہیں اس چھوٹے سے گھونسلے میں رونق سی ہوجاتی ہے مگر وہی بچے جب گھونسلے سے پرواز کر جاتے ہیں تو پھر گھونسلے میں سناٹا بھی چھا جاتا ہے اور وہ سناٹا بہت بھیانک ہوتا ہے‘ ایسا روح فرسا کہ سارا وجود اس خاموشی کو سنتا ہے۔‘‘ سخاوت بیگم بہت افسردہ دکھائی دے رہی تھیں ناظم الدین صاحب ان کو دیکھ کر رہ گئے۔
’’ہم اماں جان کے خوف میں کب تک اپنی خواہشوں کا گلہ گھونٹتے رہے ہیں گے یعنی اگر آپ گھر میں نہیں تو اس گھر پر ہمارا کوئی حق ہی نہیں‘ کیسے اس بچی کا ہاتھ پکڑ کر دہلیز پار چھوڑ آئے‘ ندامت اب تک دامن گیر ہے‘ ایسے چھوٹے اقدام پر خود کو اب تک کوس رہے ہیں ہم۔ ہماری فاطمہ نکاح کے بعد پہلی بار اس گھر میں آئی اور ہم نے اماں جان کے خوف سے انہیں پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پینے دیا‘ چلتا کردیا جیسا ہم نے کیا ویسا تو کوئی دشمن بھی نہیں کرتا ہوگا۔‘‘ سخاوت بیگم بہت غمگین دکھائی دے رہی تھیں۔
ان کے آنسو جھرنے کی مانند آنکھوں سے بہہ رہے تھے جنہیں وہ اپنے دوپٹے میں گاہے بگاہے سمیٹ رہی تھیں۔ سفید ساٹن کے غرارے کے ساتھ فیروزی کریپ کا دوپٹا وہ ایک نفیس خاتون تھیں پہناوے کا خاص دھیان رکھتی تھیں۔ اماں جان سے ایک بات سیکھی تھی موقع کوئی بھی ہو پہناوے میں نفاست اور وقار برقرار رکھو۔ سادگی میں بھی ایک خاص وصف دکھائی دینا چاہیے۔ اماں جان نے کئی اوصاف کی طرح یہ وصف بھی بہو میں خوب منتقل کی تھی۔
’’دیکھیے سخاوت بیگم… ہم اماں جان کے خلاف جا کر پہلے ہی خاصے شرمندہ ہیں‘ ہم آپ کا دکھ سمجھتے ہیں مگر اس معاملے میں ہم خاموش ہی رہیں تو بہتر ہوگا۔ فاطمہ ہماری بھی بیٹی ہیں ان کے ساتھ اس طرح روا رکھے جانے والے رویہ کا ہمیں بھی اندازہ ہے اور افسوس بھی ہے مگر ہم بے بس ہیں۔‘‘ ناظم الدین شرمندہ دکھائی دیے۔
’’اگر فاطمہ بیٹی آنے سے قبل مطلع کرکے آتیں تو ہم لکھنو جانے کا منصوبہ بعد کے لیے اٹھا رکھتے مگر ہم آگاہ نہیں تھے۔ اگر آپ فاطمہ بیٹی کو روک لیتیں تو ایک نیا تنازع جنم لیتا اماں جان کے عتاب کا نشانہ ایک بار پھر فاطمہ بنتی اور یہ کسی بھی طور مناسب نہ ہوتا بہرحال اس بات کی امید ضروری ہے کہ اماں جان کے کانوں تک فاطمہ کی آمد کی خبر نہ پہنچے سو آپ بھی آنسو پونچھ لیجیے فاطمہ اپنے گھر کی ہوئی اور ان کا بر ہر لحاظ سے ایک معقول انسان ہے ہمیں اس بات پر شکرانہ ادا کرنا چاہیے۔‘‘ ناظم صاحب سمجھداری سے گویا تھے۔
’’آنسو پونچھ لیجیے سخاوت بیگم آپ روتی ہوئی اچھی نہیں لگتیں۔‘‘ ناظم صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا اور سخاوت بیگم بھیگی آنکھوں سے ناظم صاحب کو دیکھ کر رہ گئی تھیں۔
[…r…[
’’مارچ کے مہینے میں لاہور میں ایک بڑی قرار داد منظور ہونے جا رہی ہے ہم چاہتے ہیں کہ اس موقع پر آپ مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کریں اور آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیں۔‘‘ نواب صاحب نے کہا تو خاموش بیٹھی فاطمہ نے سر ہلا دیا۔
’’1936-37 کی کانگریس کی کامیابی نے ثابت کردیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے نمائندہ نہیں ہیں اور اقتدار پر فقط قابض ہونا چاہتے ہیں سو اب مسلمانوں کی جدوجہد مزید تیز ہونے لگی ہے ہم نے جان لیا ہے کہ اگر الگ وطن حاصل کرنا ہے تو اس کے لیے ہمیں خود اپنی اپنا نمائندہ بننا ہوگا۔ ہندو ہمارے نمائندہ قطعاً نہیں ہوسکتے یہ فقط 1906 سے جوں کا توں اسی طور اپنی دلالت کررہا ہے تب ہی 1937ء کے لکھنو سیشن کے بعد مسلم لیگ نے اپنی راہ متعین کی ورنہ ہم کانگریس پر ہی تکیہ کیے بیٹھے رہتے‘ کانگریس نے جس طرح مسٹر جناح اور مسلم لیگ کو نظر انداز کیا ہے وہ ہندوئوں کی منفی سوچ کا عکاس ہے اور مسلمانوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے کہ اب ہم ہندوئوں پر انحصار نہیں کرسکتے۔‘‘ نواب صاحب نے تفصیل سے سمجھایا اور فاطمہ نے سر ہلا کر تائید بھی کی۔
’’ابا حضور ہم بھرپور شرکت اس جدوجہد آزادی میں کریں گے ان شاء اللہ ہم ایک الگ وطن لے کر رہیں گے جس میں مسلمانوں کی نمائندگی بھرپور انداز میں ہوتی دکھائی دے گی‘ ہندوئوں کی ذہنیت اول دن جیسی ہے وہ بظاہر خود کو ہمارے نمائندہ ثابت کرنے پر تلے ہیں مگر سارے فوائد ان کے حصے میں آنا اس بات کی قلعی صاف کھولتا ہے۔ بہرحال مسلم لیگ پہلے سے زیادہ منظم ہے۔ گئے برسوں کی باتیں ایک طرف رکھ کر ہمیں اس وقت کے حالات پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اب جب کچھ ہی دنوں میں قرار داد منظور ہونے جا رہی ہے تو مثبت سوچوں کو اکٹھا کرکے جدوجہد کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے مقاصد حاصل کرسکیں۔ فرنگی ہمارے مدعے کو سمجھنے سے قاصر تھے کیونکہ ہم خود صورت حال کو سمجھنے میں دقت محسوس کررہے تھے یہ ایک بھیانک کھیل تھا جو کھل کر سامنے آگیا تب ہی تو سندھ، سرحد، مدراس اور مرکزی صوبوں کے مسلمانوں نے بھاری تعداد میں مسلم لیگ میں شامل ہوکر جماعت کو مضبوط کیا‘ مسٹر جناح نے مسلم لیگ کو مزید منظم کیا ورنہ ہندوئوں نے تو اپنے طور پر سمجھ لیا تھا کہ ’’جناح کا خاتمہ ہوگیا ہے‘‘ اور قبول کرلیا تھا کہ ’’مسٹر جناح کا کوئی کردار نہیں‘‘ یہ تجزیہ جلتی کا کام کر گیا۔ مسٹر نہرو کا اندازہ تھا کہ کانگریس اور فرنگی ہی دو جماعتیں ہیں اور باقی دوسروں کو ان ہی کے ساتھ اپنی راہ متعین کرلینی چاہیے مگر جناح صاحب نے صاف جتا دیا کہ وہ کانگریس کی پالیسی سے متفق نہیں کے صوبائی الیکشن کے دوران مسلم لیگ ایک کمزور جماعت ثابت ہوئی مگر اس کے بعد مسلم لیگ نے اپنی کمزوریوں کو جان لیا اور حقیقت سے روشناس ہوکر اس مقام تک پہنچے کہ اب قرار داد پیش کرنے کا وقت آگیا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ یہ قرار داد منظور ہوجائے اور مسلمانوں کی جدوجہد رنگ لائے ہمیں خوشی ہوگی کہ ہم بھی اس عظیم جدوجہد کا حصہ بنے۔‘‘ فاطمہ نے سر فخر سے بلند کرکے کہا تو نواب صاحب نے مسکراتے ہوئے ان کے سر پر دست شفقت رکھ دیا تھا۔
[…r…[
نواب زادہ وقار الحق نے شدید غصے سے دیوار پر ہاتھ مارا تھا۔ ان دنوں وہ شدید ذہنی دبائو کا شکار تھے افراتفری میں اپنا رشتہ فاطمہ سے جڑ جانے کے باعث ان کا جنت بی بی کے ساتھ رشتہ الجھتا دکھائی دے رہا تھا۔ وہ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ کس طرح اس رشتے کو قبول کریں اور کس طرح جنت بی بی کو اس سب سے آگاہ کریں جو بھی تھا ایک بات تو واضح تھی کہ ان کی انسیت اپنی جگہ مگر وہ فاطمہ کو قبول نہیں کر پا رہے تھے۔ اگرچہ انہیں فاطمہ سے ہمدردی ضرور تھی مگر یہ ہمدردی شدید ذہنی کوفت میں تبدیل ہوجاتی تھی جب انہیں اندازہ ہوتا تھا کہ وہ عمر بھر کے لیے ان کے اوپر مسلط کردی گئی ہیں تو ان کا رویہ بجائے ہمدردی کے مزید غضب ناک ہوجاتا تھا وہ کچھ ذہنی کشمکش میں تھے اگرچہ اپنے رویے پر شرمندہ بھی تھے مگر الجھنیں بڑھتی جارہی تھیں۔
’’ہم جنت سے دستبردار نہیں ہوسکتے اور فاطمہ کی ذمہ داری سے بھی چوکنا نہیں چاہتے مگر ان دونوں معاملوں میں جو انتشار ہمارے ذہن میں برپا ہوتا ہے ہم اس سے متعلق کوئی تذکرہ کھل کر نہیں کرسکتے نا فاطمہ سے کہ وہ ابھی ناسمجھ اور کم سن ہیں اور نہ جنت سے کہ وہ پڑھی لکھی باشعور دوشیزہ ہیں مگر محبت کے معاملات عقل کے دروازے بند کرنے کو کافی ہیں۔ فاطمہ کی ناسمجھی ہمارے لیے معاملہ فہمی کا ادراک کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے اور جنت کی سمجھداری ان معاملات کو عقل و خرد ایک طرف دیکھنے کی قائل دکھائی دیتی ہے۔ جنت کی محبت جنونی ہے اور کچھ دیکھنا اور سننا نہیں چاہتی اور فاطمہ جیسے بھی ہماری زندگی میں داخل ہوئی مگر حق زوجیت رکھتی ہیں اور ان سے انحراف ممکن نہیں۔ ہم کسی کو کسی پر مسلط کرنا نہیں چاہتے مگر ہم کسی ایک سے دستبردار بھی نہیں ہو پا رہے۔ ہم جس دوراہے پر کھڑے ہیں اور دو راستوں میں بٹ گئے ہیں کسی راہ کو چنیں اور کس کو مسترد جیسے کچھ بھی ہمارے اختیار میں نہیں رہا۔‘‘ نواب زادہ عجیب کشمکش میں گھرے ہوئے تھے مگر سمجھ کچھ نہ آرہا تھا۔ فاطمہ قہوے کا پیالہ دینے آئیں تو نواب زادہ وقار الحق نے دانستہ انہیں روک لیا۔
’’کسی شے کی ضرورت ہے آپ کو‘ دیگر لوازمات ہم ملازمہ کے ہاتھ بھجوا دیتے ہیں۔‘‘ فاطمہ اٹھنے لگی تب ہی نواب زادہ وقار الحق نے انکار میں سر ہلاتے ہوئے ان کا ہاتھ تھام کر دوبارہ بٹھا لیا۔
’’ہم اپنے تلخ اور سخت رویے کے لیے شرمندہ ہیں‘ بخدا ہمارا ایسا ارادہ نہیں تھا مگر…‘‘ وہ الجھ کر خاموش ہوگئے۔ فاطمہ نے الجھ کر ان کی سمت بغور دیکھا‘ شاید وہ انہیں سمجھنے کی کوشش کررہی تھی اور ان کی الجھنوں کو سلجھانا چاہتی تھی۔
’’آپ پریشان ہیں؟‘‘ فاطمہ نے دریافت کیا۔ وقار خاموشی سے نگاہ پھیر گئے۔
’’ہم جس صورت حال سے الجھ رہے ہیں آپ کو کیا بتائیں اور آپ کس قدر نہ سمجھ اور کم سن ہیں شاید آپ صورت حال کو سمجھنے کی کوشش بھی نہ کریں۔‘‘ وقار الحق نے ان کی سمجھ بوجھ کو کم جانا تھا۔
’’اور آپ کو جنت بی بی سے عشق ہے۔‘‘ وہ جو خاموشی سے دیکھ رہی تھی یک دم گویا ہوئی‘ وقار الحق نے چونک کر دیکھا۔
’’کیا یہ عشق ایسا شدید ہے کہ آپ جی نہیں پا رہے یا آپ کی زندگی میں ہمارے آجانے سے آپ خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں‘ کیا آپ کا دل اور عشق اس قدر خوف زدہ ہے۔‘‘ فاطمہ کے پوچھنے پر وہ خاموش رہے جبکہ فاطمہ ان کو بغور دیکھتی رہیں۔
’’عشق مکمل کرنے کا ارادہ ہے؟‘‘ تب فاطمہ نے جواب چاہا۔
’’ہم جانتے ہیں یہ سب آپ کے لیے تکلیف دہ ہے۔‘‘ وقار الحق نے مدہم لہجے میں کہا۔
’’مگر سچائی تو یہی ہے ناں؟‘‘ وہ ان کی آنکھوں میں جھانکتی ہوئی بولیں اور جواب میں وقار جیسے چاروں شانے چت دکھائی دیے۔
’’عشق کو مکمل کرنا آسان نہیں… یہ آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے‘ عشق میں ڈوبنے والے کنارے پر مشکل سے ہی لگتے ہیں۔‘‘ وقار الحق نے کہا تو فاطمہ خاموش ہوگئیں‘ ان کی گہری آنکھوں کی چمک جیسے ماند ہونے لگی تھی۔
’’ایسا عشق مکمل نہ ہو تو ناسور بن جاتا ہے ناں؟‘‘ وہ ناچاہتے ہوئے بھی پوچھ گئیں‘ وقار الحق فوری طور پر کچھ نہ بول سکے‘ تب ہی وہ کسی نتیجے پر پہنچتے ہوئے گویا ہوئیں۔
’’اس عشق کو مکمل کرنا ضروری ہے تو کر ڈالیے۔‘‘ وہ بنا کچھ سوچے سمجھے بولیں۔
’’ہم نہیں جانتے۔‘‘ وقار نے گہری سانس خارج کی۔
’’یہ آسان نہیں؟‘‘ فاطمہ نے پوچھا انہوں نے نفی میں سر ہلا دیا۔
’’کیا آپ ایسا کرنا نہیں چاہتے؟‘‘ وقار الحق خاموش رہے‘ وہ خاموشی سے ان کی طرف دیکھنے لگیں اور تب ہی وہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔
’’اگر آپ کو عشق کی تکمیل ضروری لگتی ہے تو کہانی کو مکمل کردیجیے اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔‘‘ وہ کہہ کر پلٹیں‘ جب وقار نے انہیں پکارا۔
’’فاطمہ…‘‘ وہ رک گئی مگر پلٹ کر نہ دیکھا۔
’’کہانی کو مکمل کرنا ایسا آسان ہوتا تو ہم مکمل کردیتے‘ ہم کسی کو تکلیف دے کر کوئی خوشی نہیں حاصل کرسکتے۔ وہ خوشی جو کسی اور کو درد دے وہ جائز نہیں ہوتی۔‘‘ وقار الحق کی بھاری آواز پر فاطمہ نے پلٹ کر دیکھا دونوں کی نگاہیں خاموشی سے ملیں اور پھر فاطمہ نگاہ بدل گئی تھیں۔
’’دوسروں کے لیے قربانی دینے والے کبھی خوش نہیں رہتے۔‘‘ فاطمہ بی بی کو کم سن جاننے والے وقار الحق قدرے حیران رہ گئے‘ فاطمہ نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔
’’ہم نہیں چاہیں گے کہ آپ کسی ایسی قربانی سے گزریں، آپ کو حق ہے کہ آپ اپنی مرضی کی زندگی جئیں۔‘‘ فاطمہ نے مدعا بیان کیا اور وقار الحق کے لبوں پر بہت دھیمی سی مسکراہٹ پھیلی اور وہ آہستگی سے گویا ہوئے۔
’’فاطمہ کاش یہ اس قدر آسان ہوتا مگر ہم خود غرض نہیں بن سکتے۔‘‘ مدہم لہجہ ٹوٹتا بکھرتا سا تھا فاطمہ خاموش ہوکر بغور دیکھنے لگیں۔
’’آپ ایسا نہیں کرسکیں گے۔‘‘ وہ وثوق سے بولیں‘ وقار الحق چونک کر رہ گئے تب ہی بولے تو ان کے لہجے میں بھرپور حیرت تھی۔
’’آپ کو کیسے علم ہے کہ ایسا نہیں ہوسکے گا؟‘‘ فاطمہ مسکرا دی تھیں۔
’’کیونکہ آپ ایسا ہونے نہیں دیں گے۔‘‘ وہ بھرپور اعتماد سے بولیں اور پلٹ کر وہاں سے نکل گئیں۔ وقار الحق شدید حیرت میں گھرے دیکھتے رہ گیے تھے۔
[…r…[
23 مارچ کو لاہور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تین روزہ سالانہ اجلاس کے اختتام پر وہ تاریخی قرار داد منظور کرلی گئی تھی اور فاطمہ اس بات پر اس لیے بھی زیادہ خوش تھی کہ اس نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرلی تھی اور اب وہ باقاعدہ مسلم لیگ کا حصہ تھی۔ 23 مارچ کی قرار داد کی صورت میں مسلمانوں کی کوششوں کو منظوری مل گئی تھی۔ برصغیر میں مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کے حصول کے لیے جو تحریک شروع ہوئی تھی سات برس بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی تھی۔ جہاں فاطمہ خوش تھیں وہیں انوار صاحب کا ٹیلی فون بھی آگیا تھا اور وہ اپنے قریبی رفیق کو مبارک باد دے رہے تھے۔
’’مبارک ہو جناب، مسلمانوں کی کوششیں رنگ لائیں۔‘‘ انوار صاحب نے کہا تو نواب صاحب مسکرا دیے تھے۔
’’یہ تو ہونا ہی تھا میاں… برصغیر میں برطانوی راج کی طرف سے اقتدار عوام کو سونپنے کے عمل کے پہلے مرحلے میں 1936ء 1937ء میں جو پہلے عام انتخابات ہوئے تھے ان میں مسلم لیگ کی بری طرح ہزیمت کے بعد یہ تو طے تھا کہ اب مسلمان حقیقت سے روشناس ہوچکے ہیں اور مزید دھوکہ نہیں کھائیں گے‘ اس وقت اگرچہ ایک بھرم ٹوٹ گیا تھا اور مسلمانوں کے اس دعویٰ کو شدید دھچکا لگا تھا کہ وہ برصغیر کی واحد نمائندہ جماعت ہیں اس وقت اگرچہ مسلمانوں کے حوصلے ٹوٹ گئے تھے مگر اس کا مثبت پہلو یہ نکلا کہ پھر مسلمانوں کو منظم ہونے کا خیال آیا۔‘‘ نواب صاحب نے تجزیہ پیش کیا تو انوار صاحب دوسری طرف مسکرا دیے تھے۔
’’اس وقت بستر پر ہوں اٹھ کر آ نہیں سکتا ورنہ دو بدو بیٹھ کر گفتگو ہوتی تو آپ کے خیالات سے مزید مستفید ہوتا۔ آپ سے براہ راست بات کرنے کا لطف ہی کچھ اور ہے۔ نواب صاحب آپ کی بات سے صد فی صد متفق ہوں کانگریس کو مدراس، یوپی، سی پی بہار اور اڑیسہ میں واضح اکثریت حاصل ہوئی تھی سرحد اور بمبئی میں اس نے دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت تشکیل دی تھی اور سندھ اور آسام میں بھی جہاں مسلمان حاوی تھے کانگریس کو نمایاں کامیابی ملی تھی یہ بات مسلمانوں کے حوصلے توڑنے کو کافی تھی ہندوستان کے 11 صوبوں میں سے کسی ایک صوبہ میں بھی مسلم لیگ اقتدار حاصل نہ کرسکا۔ ان حالات میں واقعی ایسا محسوس ہوتا تھا کہ مسلم لیگ برصغیر کے سیاسی دھار سے الگ ہوتی جا رہی ہے۔ کانگریس اس وقت اقتدار کے نشے میں سرشار تھی مگر درحقیقت یہی نقطہ آغاز تھا مسلم لیگ کی قیادت میں دو جد اقواموں کے احساس کی بیداری کا۔‘‘ انوار صاحب جوش سے بولے۔
’’درست فرمایا انوار صاحب… جنگ عظیم دوم بہت کارگر رہی کیونکہ دوسری جنگ عظیم کی حمایت کے عوض اقتدار کی مکمل منتقلی کے مسئلے پر برطانوی راج اور کانگریس کے درمیان منافشہ نہ ہوتا تو کانگریس اقتدار سے کبھی الگ نہ ہوتی، یہ غیب کی مدد تھی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ کانگریس کے اقتدار سے الگ ہونے کے بعد مسلم لیگ کے لیے امید کے دروازے کھلتے دکھائی دیے اور اسی پس منظر میں لاہور کا تاریخی اجلاس بھی ہوا اگر وہ ہزیمت نہ سہنا پڑتی تو شاید یہ تاریخ ساز کامیابی بھی ہاتھ نہ لگتی۔‘‘ نواب صاحب نے کہا۔
’’بجا فرمایا نواب صاحب اللہ کرے آگے بھی سب اچھا ہو… ہم نے ایک کامیابی پائی ہے مگر مزید کامیابیوں کے تمنائی ہیں۔ آپ سے گفتگو کا لطف آجاتا ہے نواب صاحب پھر بھی ایک قلق سا ہے اگرچہ ٹیلی فون پر گفتگو کو آدھی ملاقات بھی کہا جاتا ہے مگر کم بخت نیت ہے کہ سیر نہیں ہوتی اور طبیعت ذرا سی بھی سنبھلی ہوتی تو آپ کے حضور حاضر ہوتا اور ہم ایک طویل نشست میں قہوے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے گفتگو کا لطف لیتے۔‘‘ انوار صاحب نے کہا۔
’’فکر مت کیجیے‘ اللہ آپ کو شفائے کاملہ عطا فرمائے آپ جلد صحت یاب ہوں گے اور ہم دوبارہ چسکیوں کے ساتھ حالات حاضرہ پر بھرپور تجزیہ و تبصرہ کیا کریں گے جلد ہی ہم وقت نکال کر آپ کی طرف چکر لگائیں گے۔ معمولی باتوں کو دل پر مت لیا کریں۔‘‘ نواب صاحب مسکرائے۔
’’بس دل پر بوجھ سا ہے نواب صاحب ایک بڑی ذمہ داری ہے وہ پوری ہوجاتی تو ہم بھی دل کڑا کیے ملک عدم سدھار جاتے مگر بیٹی کی ذمہ داری بہت بڑی ذمہ داری ہے آپ سمجھ رہے ہیں ناں نواب صاحب؟‘‘ انوار صاحب نے پوچھا تو نواب صاحب کی خاموشی بلاجواز نہ تھی وہ کسی قدر نادم دکھائی دیے اور الفاظ جیسے کہیں کھو گئے تھے۔
[…r…[
’’ہم آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتے تھے بی بی صاحب۔‘‘ موٹر کار چلاتے ہوئے رجت سنگھ نے کہا۔
’’کہیے۔‘‘ کچھ سوچ کر فاطمہ نے اجازت دی۔
’’روشنی کی تلاش کیسے ممکن ہے؟‘‘ رجت سنگھ کا سوال غیر متوقع تھا وہ ایسے عامل فاضل سوال کی توقع نہیں کر رہی تھیں۔ اُن کے علم میں نہیں تھا کہ رجت سنگھ ایک پڑھا لکھا معقول شخص ہے تب ہی وہ چونکتے ہوئے بولیں۔
’’اس سوال کی وجہ جان سکتے ہیں ہم؟‘‘ فاطمہ نے دریافت کیا۔
’’علم نہیں بی بی صاحبہ مگر ہم اکثر اپنے اندر ایک غیب کی آواز سنتے ہیں جیسے کوئی آواز ہمیں بلا رہی ہو‘ جھنجوڑ رہی ہو، بیدار کررہی ہو اور ہم گہری نیند سے جاگنے کی تمنا رکھتے ہوئے بھی اٹھ نہ پا رہے، جیسے گہری غنودگی ہم پر طاری ہو۔‘‘ رجت سنگھ نے اپنی کیفیت بیان کی تو فاطمہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگیں۔
’’آپ کو اپنے اندر کی آواز کو سننا چاہیے رجت سنگھ ایسی پکار بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔‘‘ اس نے مدہم آواز میں کہا۔ رجت سنگھ نے عقبی آئینے میں ایک نگاہ فاطمہ بی بی کو دیکھا۔
’’آپ جانتی ہیں روشنی کا حوالہ کیا معنی رکھتا ہے؟‘‘ رجت سنگھ نے پوچھا وہ لمحہ بھر کو خاموش رہیں پھر آہستگی سے کہا۔
’’آپ خوش نصیب ہیں محترم‘ روشنی آپ کی تلاش میں سرگرداں ہے‘ اس سے زیادہ ہم کیا کہہ سکتے ہیں‘ آپ اس روشنی کو ضرور تلاش کیجیے۔‘‘ فاطمہ نے کہا۔
’’اور یہ روشنی کہاں ملتی ہے بی بی صاحبہ؟‘‘ وہ بے قراری سے پوچھنے لگا فاطمہ خاموش رہیں‘ موٹر کار کالج کے سامنے رکی تو فاطمہ چپ چاپ اتر گئیں۔ رجت سنگھ نے ایک نگاہ ان پر ڈالی اور گاڑی آگے بڑھا دی تھی۔
[…r…[
ریحان نے بوتل میں موجود آخری قطروں کو زبان پر ٹپکایا اور ہچکی لیتے ہوئے عزم سے کہا۔
’’ہم زندگی میں ہر ناکامی کو بھول سکتے ہیں مگر اس ناکامی کو فراموش نہیں کرسکتے کہ قسمت نے ہمارے منہ کا نوالا چھین کر کسی اور کو دے ڈالا‘ ہم ہر لمحہ بے چین اور بے قرار رہتے ہیں اور یہ اضطرابی کیفیت تب ہی ختم ہوگی جب ہم اپنی اس توہین کا بدلہ لیں گے۔‘‘ ریحان کا لہجہ پُر عزم تھا۔ بیگم توقیر نے بیٹے کو گھورا۔
’’ارے میاں آپ کسی قابل ہوتے تو ہم ایسی شکست سہتے ہی کیوں؟ آپ کی بدولت ہی تو منہ کی کھانا پڑی ہمیں‘ ایسی بے عزتی ہوئی کہ بھولے نہیں بھولتی۔‘‘ ریحان بجائے شرمندہ ہونے کے ہنس دیے تھے۔
’’اماں ہم آپ کو وہ کر دکھائیں گے کہ آپ ہم پر فخر کرنے لگیں گی۔‘‘ ریحان عزم سے بولا تو بیگم توقیر نے ہاتھ کا ہتھوڑا ریحان کے کاندھے پر برسایا۔
’’کم بخت اب اور ناک نہ کٹوا دیجئے گا جو رہی سہی عزت ہے اسے بھی رخصت کروانے کا ارادہ ہے کیا؟ اللہ کسی کو ایسی نالائق اولاد سے نہ نوازے‘ ایسی اولاد کے ہوتے ہوئے کسی دشمنی کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔‘‘ بیگم توقیر نے بیٹے کو کڑے تیوروں سے دیکھا مگر ریحان سُرور سے مسکرا رہے تھے۔
’’کہیں تو ابھی اٹھا کر لے آئوں، آپ کے قدموں کی باندی نہ بنا دیا تو نام بدل دیجئے گا… اماں اللہ قسم اندر جو لاوا پک رہا ہے وہ کوئی طوفان ضرور لائے گا اور جب تک ہم اپنے عزائم پورے نہ کرلیں چین سے نہیں بیٹھیں گے۔‘‘ ریحان انتہائی پُر عزم دکھائی دیے تھے بیگم توقیر نے سلگتی نظروں سے انہیںگھورا۔
’’ریحان اللہ کی قسم ہم آپ کو زندہ نہیں چھوڑیں گے اگر اب آپ نے ایسا کوئی قدم اٹھایا۔ جانے کن کرموں کی سزا ہیں آپ۔ ایسی اولاد کسی کام کی نہیں ہوتی جو ماں باپ کی حکم عدولی کرے۔ اگر آپ ایسے فرماں بردار اور نیک اولاد ہوتے تو ہمیں چاہیے ہی کیا تھا اور یہ سب اس لیے ہوا کیونکہ آپ ایک بگڑی ہوئی اولاد ہیں اور ایسی اولاد بد دعا جیسی ہوتی ہے۔‘‘ بیگم توقیر نے جلے دل سے کہا تو ریحان ہنس دیے تھے اور اٹھ کر لڑکھڑاتے ہوئے باہر نکل گئے تو بیگم توقیر زار و قطار رونے لگی تھیں۔
[…r…[
’’رہ رہ کر ایسا قلق گزرتا ہے کہ کلیجہ منہ کو آتا ہے‘ ایسا اجل کا صدمہ پہنچا کر ہم سائے سے وحشت کرنے لگے۔ ایسی تکاسل تھی طبیعت میں کہ کسی کی پرواہ نہ کرتے تھے مگر اب کے آنکھوں پر ایسے غفلت کے پردے پڑے کہ عقل کی کوتاہی کا ادراک ہوگیا۔‘‘ تاک بیگم کی مدہم آواز ابھری‘ اماں بی معاملہ فہم تھیں جانتی تھیں کہ بات نکلے گی تو دور تک جائے گی سو وہ بات کو وہیں ختم کرتے ہوئے بولیں۔
’’تاج بیگم… گھروں میں گھرانے ہوتے ہیں‘ تمہارا گھر ہے‘ اس کے افراد تمہارے اپنے ہیں‘ چھوٹی بڑی غلطیاں معاف کرنا پڑتی ہیں۔ بڑے درگزر کرتے ہیں‘ بڑوں کا دل بڑا ہوتا ہے۔ آپ کسی کی خطائیں معاف کریں اللہ تعالیٰ آپ کی غلطیوں کو معاف فرمائے گا۔‘‘ اماں بی نے پتے کی بات کی تھی تاج بیگم خاموشی سے دیکھتی رہی تھیں۔
’’تاج بیگم ان رنجشوں سے رشتوں کا حسن ماند ہوجاتا ہے‘ جیسے گرہن چاند کے حسن کو گہنا دیتا ہے ایسے ہی فساد رشتوں کی مٹھاس اڑا کر رشتوں کو بھدا اور بدنما کردیتا ہے یوں بھی سیانے کہتے ہیں بھینسے لڑے جھونڈوں کا نقصان۔‘‘ اماں بی نے نصیحت کی تو تاج بیگم مدہم لہجے میں بولیں۔
’’ہم دراصل معاملات کے الجھائو پر حیران ہیں۔‘‘
’’ارے تاج بیگم آپ دانش مند خاتون ہیں‘ ایسی معمولی باتوں پر کیا حیرت کرنا، رشتوں میں عجلت پسندی ٹھیک نہیں تعلقات کے فیصلوں کو وقت دینا چاہیے۔ چھری خربوزے پر گری یا خربوزہ چھری پر نقصان خربوزے کا ہی ہوگا۔ آپ کا دل ایک ماں کا دل ہے کیا آپ اولاد کو سزا دے کر خوش رہ پائیں گی‘ سچ بتائیے‘ کیا آپ کے دل میں اطمینان باقی رہا ہے؟‘‘ اماں بی کے پوچھنے پر تاج بیگم نے خاموشی سے دیکھا۔
’’باطن سے عداوت رکھنا ٹھیک نہیں تاج بیگم۔‘‘
’’مگر ہم معاف نہیں کرسکتے۔‘‘ تاج بیگم سر نفی میں ہلانے لگیں تو اماں بی نے انہیں افسوس سے دیکھا۔
’’بیٹا سخی سخاوت سے پھیلتا ہے‘ عد و عداوت سے جلتا ہے اپنے آپ کو سرسبز گھنے پیڑ جیسا بنائو جس کی چھائوں میں ہر بشر سکون محسوس کرتا ہے اس پیڑ کو واسطہ نہیں ہوتا کہ کس کے دل میں بغض ہے اور کس کا دل صاف‘ لڑائی جھگڑے رشتوں کو گھن کی طرح کھاجاتے ہیں۔‘‘ اماں بی نے سمجھایا مگر تاج بیگم خاموش رہیں، اماں بی نے گہری سانس لی اور گویا ہوئیں۔
’’بیٹا تاج بیگم ہم آپ کو آج سے نہیں جانتے برسوں کی جان پہچان ہے۔ جس طرح آپ زندگی میں ثابت قدم رہیں اس سے انسان کے مثبت ہونے کا پتا چلتا ہے۔ ایک اکیلی جوان عورت بنا شوہر کے بچوں کو کیسے تن تنہا پالتی ہے ایسا آپ نے ثابت کیا۔ آپ ایک مضبوط عورت ہیں اور آپ کی دلیری کے متعلق ہر کوئی جانتا ہے‘ آپ نے شوہر کی وفات کے بعد جس طرح خود کو مضبوطی سے کھڑا رکھا ایسا وصف بہت کم عورتوں میں ہوتا ہے‘ کئی تو ہمت ہار کر اپنی ذمہ داریاں تک بھلا بیٹھتی ہیں۔ آج اگر اولاد اپنے فیصلے بہتر انداز میں کرسکتی ہے تو اس میں آپ کا ہی ہاتھ ہے آپ نے بچوں کو ایسی تربیت کی ورنہ وہ تو فاقوں سے ہی مر جاتے بنا باپ کے۔‘‘ اماں بی نے ان کی تربیت کے مثبت پہلو کو بہت سہولت سے اجاگر کیا تو تاج بیگم نے سر نفی میں ہلایا۔
’’اولاد کے ہاتھوں اپنے وجود کو مسمار ہوتے دیکھنا کس قدر پُر ملال ہوتا ہے اس کا اندازہ ہوا ہے۔ ہمیں حیرت ہے کہ ناظم میاں جس کے متعلق ہم نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا وہ ایسا کر گئے۔ ہم اولاد سے امید نہیں رکھتے اگرچہ ہم نے محنت کرکے ان کو پالا مگر ہم ایسا نہیں سمجھتے کہ ایسا کرکے کوئی احسان کردیا ہمارا جو فرض تھا ہم نے پورا کیا اولاد کا ظرف ہوگا تو جواب میں اجر دے گی وگرنہ ہم کوئی توقع نہیں باندھنے… توقیر میاں چھوڑ گئے اور وہ بڑے صاحب زادے ہم نے ملال نہیں کیا ملال کیوں کر کرتے ماں کا جو فرض تھا وہ پورا کیا کوئی احسان نہ کیا کہ وہ رک کر اجر دیتے اور قرض اتارتے، ہم اس بات کا ملال رکھتے ہیں کہ ہم نے جو حق ناظم الدین پر رکھا‘ جو توقع لگائی وہ اس میں پورا نہ اترے خیر کوئی شکوہ نہیں ہم کیا عداوت رکھیں گے اور کیا مخاصمت کریں گے‘ جھگڑا تو اس بات کا ہے کہ کوئی جھگڑا ہی نہیں۔ عناد دل میں ہوتا ہے‘ اندر سے پھوٹتا ہے اور نشانہ دشمن ہوتا ہے۔ ہم کس کی مخالفت کریں گے‘ جس کے خلاف بغض دل میں پالیں۔ رنجشش غیروں سے ہوتی ہے اپنوں سے نہیں‘ اماں بی اپنا پیسا کھوٹا تو پرکھنے والے کا کیا دوش بجا نقارہ کوچ کا اکھڑن لاگی چخ‘ چلنے ہارے چل بسے کھڑا ہوا تو دیکھ… ہم کسی سے شکوہ نہیں کرتے‘ کسی کو الزام نہیں دیتے۔ جس کو جو کرنا تھا کیا۔ جس کو جو کرنا ہے کرے۔ ہماری جو سبکی ہونا تھی ہوچکی‘ جو جگ ہنسائی ہونا تھی ہوچکی۔‘‘ تاج بیگم بہت رنجیدہ دکھائی دیں‘ اماں بی ان کو دیکھ کر رہ گئیں وہ سمجھ گئی کہ انہیں مزید سمجانا بے کار ہے۔
[…r…[
فاطمہ کو فرصت میسر آئی تو دھیان وقار الحق کی سمت چلا گیا‘ جانے کیوں سوچوں میں ایک فشار سا آن وارد ہوا تھا۔
’’اگر ہم یہ سوچ بھی لیں کہ ان کی محبت اہم ہے اور اس کی تکمیل ہونا چاہیے تب بھی ہم اس سچائی سے آنکھیں بند کرنے میں یکسر ناکام رہیں گے کہ وہ ہماری زندگی کا اہم ترین حصہ ہیں اور ان کے ایسے اقدام سے ہمیں نا چاہتے ہوئے بھی فرق پڑے گا اور یہ کہ ہم چاہتے ہوئے بھی ان کے اقدامات کی پروا کرتے ہیں چاہے وہ کوئی ہمارے حق میں اٹھایا گیا قدم ہو‘ کوئی دانستہ کی گئی احتیاط ہو یا ہمارے مخالف اٹھایا جانے والا کوئی قدم‘ ہم چاہ کر بھی اس سے لاتعلق نہیں رہ سکتے، ایسا کیوں ہے، ہم نہیں جانتے مگر شاید اس ایک رشتے سے ہماری ذہنی ہم آہنگی ہے اور ہم مکمل عقل و شعور سے اس رشتے کو تسلیم کرچکے ہیں‘ ہمیں آپ کی دلی کیفیت کا اندازہ ہے۔ ہمیں آپ کے نقصان کا اور افسردگی کا افسوس بھی ہے مگر ہم چاہتے ہوئے بھی آپ کی حمایت نہیں کر پا رہے‘ کیا کریں ہم سمجھ نہیں پا رہے۔ آپ کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں مگر آپ کی خوشی کے متعلق سوچ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔‘‘ فاطمہ سوچتے ہوئے جس بے دھیانی سے چلتی جا رہی تھیں اس سے اندازہ تھا کہ وہ بری طرح ستون سے ٹکرا جائیں گی مگر یک دم وقار الحق نے ان کو سنبھال لیا‘ وہ ان کی مضبوط بانہوں میں تھی‘ وقار الحق کی گرم سانسیں چہرے سے قریب ترین تھیں‘ وہ سنبھلنے کی کوشش میں تھی جب جنت بی بی کی آواز قریب سے ابھری۔
’’وقار آپ یہاں اور ہم کہاں کہاں ڈھو…‘‘ وہ جو بولتی آرہی تھی منظر دیکھ کر زبان جیسے تالو سے جا چپکی تھی۔ فاطمہ کو وقار الحق کے قریب دیکھ کر وہ ششدر کھڑی رہ گئیں۔ فاطمہ حواس باختہ سی دور ہوئیں‘ وہ جو مکمل حقوق رکھتی تھی اس لمحہ ایسی شرمندہ تھی جیسے کوئی گناہ کبیرہ کی مرتکب ہوگئی ہوں اور وقار الحق ایسے نگاہ پھیرے کھڑے تھے جیسے فاطمہ سے کوئی واسطہ نہ رکھتے ہوں، وہ فوری طور پر کوئی وضاحت نہ دے سکے مگر برہم سی جنت اس منظر کو دیکھ کر واپس پلٹ گئی تھی وقار الحق اُن کے عقب میں دوڑے اور فاطمہ ایسے گناہ گار کی مانند خود کی نظروں میں شرمندہ تھیں جیسے انہوں نے دونوں کے درمیان آکر کوئی قبیح فعل کردیا ہو‘ فاطمہ نے وقار الحق کو جنت کے پیچھے جاتا دیکھا اور گہری سانس بھرتیں پلٹ کر کمرے میں آگئیں۔
’’یہ کیسی صورت حال میں گھر گئے ہیں ہم۔‘‘ الجھے ذہن کے ساتھ وہ یہی سوچ سکیں‘ یہ سوال خود سے تھا اور بہت غیر معقول تھا مگر وہ کوئی وضاحت نہ رکھتی تھیں۔
[…r…[
’’ہم آپ سے پوچھتے سکتے ہیں وقار… یہ کیا تھا وہ لڑکی آپ کی بانہوں میں آپ سے اس درجہ قریب کیوں تھی؟‘‘ جنت نے خشمگین نظروں سے بھرپور غصے کے ساتھ وقار الحق کو دیکھا تو وقار الحق عجب کشمکش میں گھر گیے تھے‘ گہری سانس خارج کرتے مدہم لہجے میں گویا ہوئے۔
’’جنت ہم آپ کو پہلے ہی مطلع کرچکے ہیں۔‘‘ ان کا مختصر جواب جیسے ان کی تشفی نہ کرسکا تھا تب ہی وہ بولیں۔
’’کیا مطلع کرچکے ہیں آپ… وہ کم سن دوشیزہ جو بلا کی حسین ہے‘ اس کو بانہوں میں تھامے کیوں کھڑے تھے آپ؟‘‘ جنت کڑے تیوروں سے وقار الحق کو دیکھ رہی تھیں وقار الحق کے لیے یہ عجیب صورت حال تھی‘ اپنے ایک جائز رشتے کو چھپا کر تاویلیں دینا پڑ رہی تھیں ان کو یہ فعل بہت شرمندہ کررہا تھا۔
’’دیکھیے جنت ہم آپ کو ان دوشیزہ کے متعلق پہلے ہی بتا چکے ہیں وہ ابا جان کے دوست کی صاحب زادی ہیں‘ ابا جان ان کی سیاسی تربیت کررہے ہیں‘ انہوں نے مسلم لیگ میں شمولیت ابا حضور کے ایما پر ہی کی ہے‘ ابا حضور فاطمہ کو بہت عزیز اس لیے رکھتے ہیں کہ ان کو بیٹی کی خواہش تھی جو اب فاطمہ کی صورت پوری ہوگئی ہے۔ یہ محض اتفاق ہے کہ وہ وہاں سے گزر رہی تھیں اور ہم بھی وہیں موجود تھے ان کو ٹھوکر لگی اور اس سے قبل کہ وہ ستون سے ٹکراتیں ہم نے سہارا دے کر سنبھال لیا جیسا آپ سمجھ رہی ہیں ویسا کچھ نہیں ہے۔‘‘ وقار الحق شرمندہ سے نگاہ جھکائے کھڑے تھے‘ جنت نے انہیں بغور دیکھا۔
’’ان کو صاحب زادی آپ کے ابا حضور سمجھتے ہیں‘ ان کے بیٹی سمجھنے سے وہ آپ کی ہمشیرہ نہیں ہوجاتی جس طرح وہ آپ کے قریب تھیں اس سے ان کی نیت صاف ظاہر تھی۔ آپ نہیں جانتے آج کل کی لڑکیوں کو‘ بظاہر معصوم ہوتی ہیں مگر مردوں پر ڈورے ڈالنا خوب آتا ہے۔ آپ ان موصوفہ کو معصوم جان کر ان کی حمایت مت کیجیے جانے کیا ارادے ہیں ان کے۔ جس طرح آپ سے قریب تھیں وہ شریفانہ لچھن تو نہیں لگتے۔ آپ چاہے جتنی بھی حمایت کریں ان کی مگر ہم ان کو معصوم نہیں سمجھتے کوئی شریف زادی ایسے افعال انجام نہیں…‘‘ اس سے قبل کہ جنت کی بات مکمل ہوتی وقار الحق نے ہاتھ اٹھا کر ان کو بولنے سے باز رکھا‘ ان کے چہرے کی رگیں تن گئی تھیں اور آنکھوں میں سرخی اتر آئی تھی یہ کیفیت ان کے اندرونی اضطراب کی ترجمان تھی وہ یقینا اس وقت شدید غصہ میں تھے مگر ضبط کیے کھڑے تھے۔
’’آپ فاطمہ بی بی کے کردار کے متعلق کوئی بات نہیں کہہ سکتی جنت۔‘‘ انہوں نے باور کرایا تو جنت چونکیں۔
’’کیوں… کیوں نہیں کہہ سکتے ہم‘ آپ کو ایسا برا کیوں لگ رہا ہے؟ سچ ہی تو کہہ رہے ہیں ہم‘ وہ شریف زادی ہوتی تو اپنے ابا جان کے ہاں قیام پذیر ہوتی یہاں رہ کر آپ نواب زادے پر ڈورے نہ ڈال رہی ہوتی۔‘‘ جنت نے روانی سے زہر اگلا۔
’’بس جنت بی بی… ہم آپ سے محبت کرتے ہیں یہ الگ معاملہ ہے‘ آپ ہم سے محبت کرتی ہیں ہم اس کے معترف ہیں مگر ہم آپ کو فاطمہ بی بی کی کردار کشی کی اجازت نہیں دیں گے۔ وہ ایک نیک اور انتہائی باکردار لڑکی ہیں۔ وہ ایک جائز رشتے میں ہوتے ہوئے بھی ہمارے قریب آنے کی کوشش نہیں کرتیں۔ سننا چاہتی ہیں آپ… تو سن لیجیے وہ ہماری منکوحہ ہیں‘ ہماری بیگم ہیں‘ اس گھر کی بہو ہیں‘ مالکن ہیں وہ اس محل کی۔‘‘ وقار الحق نے بہت غصے سے سچائی اگلی اور جنت ششدر سی رہ گئیں۔ فضا میں ایک سناٹا چھا گیا تھا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وقار الحق کا نکاح ہوچکا ہے، اس سچ کو سن کر وہ جیسے پتھر کی ہوگئی تھیں‘ وقار الحق نے گہری سانس بھرتے ہوئے نگاہ پھیرلی تھی۔
’’ہم آپ کو شاید اس راز کے متعلق آگاہ نہ کرتے کیونکہ ہم آپ کو تکلیف دینا نہیں چاہتے تھے‘ آپ سے محبت کرتے تھے اس لیے آپ کا دل توڑنا نہیں چاہتے تھے۔ آپ کو ایک اذیت اور انتہائی تکلیف سے بچانا چاہتے تھے۔ ابا حضور کی خواہش پر اور اپنی غلطی کا ازالہ کرنے کے لیے ہم نے فاطمہ سے نکاح کرلیا تھا مگر ہم نے شرعی رشتہ اور تمام حقوق کو بالائے طاق رکھ دیا کیونکہ ہم آپ سے محبت کے پابند تھے‘ ہم اس محبت سے مخلص تھے‘ اس لیے ہم نے ایک جائز رشتے کے حقوق پورا کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا‘ ہم فرائض کی ادائیگی سے منکر ہوئے کیونکہ ہم آپ کو دھوکہ دینا نہیں چاہتے تھے۔ فاطمہ ایک انتہائی نیک دوشیزہ ہیں وہ ہماری آپ سے انسیت سے واقف ہیں مگر انہوں نے ہماری بے اعتنائی اور کھردرا رویہ سہہ کر بھی کبھی کوئی شکایت نہیں کی‘ انہوں نے لاتعلقی والا رویہ اپنایا اور کبھی ہمارے درمیان در آنے والے فاصلوں کو سمیٹنا نا چاہا صرف اس لیے کہ ہم آپ سے وفاداری نبھانا چاہتے تھے۔ محبت کا رشتہ ایسا اہم تھا ہمارے لیے کہ ہم نے ایک جائز رشتے کو پس پشت ڈال دیا مگر ہم ان نیک دوشیزہ کے کردار پر کیچڑ لگتا نہ دیکھ پائے اور سچ بتانا ناگزیر ہوگیا۔ سچ تو یہ ہے کہ فاطمہ آپ کے اور ہمارے درمیان نہیں آرہی۔‘‘ انہوں نے واضح کیا تو جنت کی آنکھوں سے نمکین سمندر بہہ کر عارض بھگونے لگے‘ وقار الحق کے سچ نے ان کو انتہائی درجہ غمگین کردیا تھا۔ وہ انتشار میں گھر گئی تھیں ان کے لب آہستگی سے ہلے۔
’’فاطمہ بی بی آپ کے اور ہمارے درمیان نہیں آئیں یہ ہم ہیں جو آپ کے اور فاطمہ بی بی کے درمیان کھڑے ہیں۔‘‘ انہوں نے انتہائی غمگین ہوکر کہا‘ وقار الحق کو اپنے لہجے کی سختی کا اندازہ ہوا اور انہوں نے جنت کا ہاتھ تھام لیا۔
’’ہم نے یہ نہیں کہا جنت مگر…‘‘ انہوں نے بولنا چاہا۔
’’اگر مگر رشتوں کے اختتام کی طرف اشارہ کرتی ہے وقار الحق آپ کو ہمیں حقیقت سے بے خبر نہیں رکھنا چاہیے تھا۔‘‘ وہ بہتے اشکوں کے ساتھ شکوہ کرتی ہوئی بولیں۔
’’ہم ایک جائز رشتے کے درمیان آتے رہے۔ یہ حقیقت شرمندگی میں مبتلا کررہی ہے۔ گھڑوں پانی پڑ رہا ہے ہم پر یہ جان کر ہم ایک ایسے تعلق کے حوالے سے آپ سے وابستہ تھے جس کا کوئی نام نہیں تھا‘ محبت کوئی بڑا حوالہ نہیں‘ نکاح رشتے کی عزت بڑھاتا ہے‘ رشتے کو ایک خاص حوالہ اور نام دیتا ہے‘ اس رُو سے ہم ایک جائز رشتے کی راہ میں حائل ایک رکاوٹ بنے رہے مگر اس میں قصور آپ کا بھی ہے کہ آپ نے ہمیں کبھی مطلع ہی نہیں کیا۔‘‘ وہ کہہ کر پلٹیں اور وہاں سے نکلتی چلی گئیں۔ وقار الحق ان کو جاتا دیکھتے رہے تھے۔
[…r…[
’’محبت کے بنا کوئی رشتہ آباد نہیں ہوتا‘ محبت جیسے ایک خالی رشتے کو بھرتی ہے اور بنا محبت کے ہر رشتہ جیسے ایک خالی برتن جیسا ہے۔‘‘ فاطمہ نے تالاب کے پانی میں آڑی ترچھی لکیریں بناتے ہوئے خود کلامی کی‘ وہ انتہائی الجھن کا شکار دکھائی دے رہی تھیں۔
’’کیا سوچ رہی ہوں گی جنت‘ ہم کیسی لڑکی ہیں ان کے اور وقار الحق کے درمیان آنے کی کوشش کررہے ہیں، کیسی بری لڑکی تصور کر رہیں ہوں گی وہ ہمیں‘ کاش ہم ان کو بتا سکتے کہ اس مثلث نما رشتے کی حقیقت کیا ہے یا پھر انہیں اسی قدر جتا سکتے کہ ان کا رشتہ کس درجہ اہم اور کس قدر خاص ہے کیونکہ اس رشتے میں محبت ہے اور ہمارا رشتہ کس قدر کھوکھلا اور بے معنی ہے۔ سجنی وہی جو پیا من بھائے… سیانے بجا فرماتے ہیں ہم دونوں کے درمیان کیوں آئے خود سے نفرت ہونے لگی ہے ہمیں۔‘‘ وہ ایک انتشار میں گھری ہوئی تھیں‘ ذہن سے وہ واقعہ چپک کر رہ گیا تھا… شکوہ کرتی شک میں ڈوبی جنت کی آنکھیں۔
’’ہاں سچ ہی تو ہے ہم کیا حق رکھتے ہیں اس رشتے پر اس قربت پر ہمارا کوئی حق نہیں… ہم غیر ہیں‘ ایسے اجنبی ہیں جو دو پیار کرنے والوں کے درمیان دراڑ کا باعث بن رہے ہیں‘ سوچتے ہیں تو شرمندگی آن گھیرتی ہے مگر یہی سچ بھی ہے ہمارے درمیان جو رشتہ ہے وہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ وقار الحق پر زبردستی مسلط کیا گیا رشتہ ہے اور وہ گلے پڑا ڈھول چپ چاپ بجا رہے ہیں اگر کوئی قلق ان کو تھا تو ازالہ کرنے کو یہ بڑی راہ چنی ہے نواب زادہ وقار الحق نے۔ ہم کیسے ازالہ کریں اس کا؟‘‘ وہ اپنی جگہ خود کو بہت چھوٹا محسوس کررہی تھیں‘ ایک شرمندگی دامن گیر تھی اپنا اور خود کا رشتہ وقار الحق پر بوجھ لگ رہا تھا۔
’’کیا ہم واپس لوٹ جائیں مگر لوگ کیا کہیں گے‘ دادی جان پہلے ہی رنجیدہ اور خفا ہیں اگر ہم واپس وہیں لوٹ گئے تو زمانے کی انگلیاں اٹھیں گی ان پر۔ نہیں ہم ایسا نہیں کرسکتے… ایسا نہیں ہوسکے گا ہم سے۔‘‘ وہ انتہائی الجھ کر رہ گئی تھیں۔
وہ اپنے خاندان کی بدنامی نہیں چاہتی تھی سو اب قدم واپس نہیں لے سکتی تھی جو بھی ہوتا مگر انہیں اس رشتے کو قائم رکھنا تھا‘ نام کو سہی اس تعلق کو باقی رکھنا تھا پھر چاہے یہ تعلق کتنا بھی بے جان اور بنجر کیوں نہ ہوتا انہیں اس تعلق میں رہنا ضروری تھا وہ کسی بھی طرح اب اس تعلق سے ہاتھ نہیں چھڑا سکتی تھی چاہے یہ رشتہ کتنا بھی دکھ اور اذیت دیتا وہ اس لمحے خود کو کمزور محسوس نہیں کررہی تھیں مگر وہ جن بندشوں کی پابند تھیں اس سے انحراف ممکن نہ لگا۔
’’ہم بے بس نہیں مگر پابند وفا ہیں نواب زادہ وقار الحق‘ ہم آپ سے تعلق نبھانے پر پابند ہیں کیونکہ ہم اب قدم واپس نہیں لے سکتے۔‘‘ انہوں نے با آواز بلند جیسے خود کلامی کی… قریب سے گزرتا رجت سنگھ رکا تھا۔ بی بی صاحبہ بہت غمگین اور الجھی دکھائی دے رہی تھیں مگر وہ مالکن کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتا تھا۔ اتنا تو وہ جان گیا تھا کہ فاطمہ بی بی کسی تکلیف سے گزر رہی ہیں مگر وہ براہ راست پوچھنے کی گستاخی نہیں کرسکتا تھا۔ دوسرے دن جب فاطمہ بی بی کالج جانے کے لیے موٹر کار کی پچھلی سیٹ پر براجمان ہوئیں تو رجت سنگھ نے فاطمہ بی بی کی سوجی آنکھوں کو بغور ایک نظر دیکھا تھا۔ وہ شب بیداری کی غماز تھیں اور جس درجہ سرخ تھیں وہ اس بات کی عکاس تھیں کہ بی بی شب بیداری کے ساتھ روتی بھی رہی ہیں۔
رجت سنگھ حقیقت نہیں جانتا تھا‘ اس کے علم میں نہ تھا کہ اس دکھ کی وجہ کیا ہے مگر وہ اس قدر جان گیا تھا کہ میاں بیوی کے باہمی تعلقات میں سب ٹھیک نہیں ہے۔ فاطمہ بی بی لاتعلق بے خبر اور خاموش سی دکھائی دے رہی تھیں۔ رجت سنگھ نے موٹر کار کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے ہوئے فاطمہ بی بی کو دیکھا اور گاڑی اسٹارٹ کرکے آگے بڑھا دی تھی پھر جانے کیوں اس خاموشی میں ایک کنکر پھینکتے ہوئے بولا۔
’’کرم دین چاچا سے بات ہوئی تھی ناظم الدین صاحب لکھنو سے واپس تشریف لے آئے ہیں آنا تو ان کو ایک ہفتہ بعد تھا مگر سخاوت بیگم کی طبیعت ناساز تھی سو وہ مقررہ مدت سے قبل ہی لوٹ آئے۔‘‘ رجت سنگھ کی بات پر فاطمہ چونکیں۔
’’امی… امی جان کو کیا ہوا؟‘‘ وہ بے حد پریشان ہو اٹھیں۔
’’وہ تو نہیں جانتے کہ کیا ہوا مگر کرم دین چاچا بتا رہے تھے کہ ناظم الدین صاحب لوٹ آئے ہیں اگر آپ چاہیں تو ہم درسگاہ کے بعد آپ کو تاج محل پہنچا دیں گے۔‘‘ رجت سنگھ نے مدہم لہجے میں کہا۔
’’نن… نہیں ہمیں ابھی تاج محل جانا ہے… آپ موٹر کار کا رخ تاج محل کی طرف موڑ لیجیے۔‘‘ فاطمہ کی بے چینی سوا ہوگئی تھی پہلے ہی دماغ الجھا ہوا تھا اور اب امی جان کی طبیعت کا سن کر جیسے کلیجہ منہ کو آرہا تھا۔
’’آپ پریشان نہ ہوں بی بی صاحبہ ایسی کوئی پریشانی والی بات نہیں ہوگی موسم بدل رہا ہے اس لیے یقینا موسمی اثرات ہوں گے اگر ایسی تشویشناک بات ہوتی تو آپ کو ضرور مطلع کردیا جاتا۔‘‘ رجت سنگھ نے ان کی پریشانی کی غرض سے انہیں مطمئن کرنا چاہا مگر فاطمہ کچھ نہیں بولیں جب رجت سنگھ آہستگی سے بولا۔
’’آپ کی طبیعت ٹھیک ہے بی بی صاحبہ؟ آپ ہمیں ٹھیک نہیں لگ رہیں‘ براہ کرم خود کو سنبھالیں ہمیں یقین ہے کہ معاملہ ایسا سنگین نہیں ہوگا‘ یوں بھی ہمارا دماغ اور دل جس قدر اپنوں سے جڑا ہوتا ہے ان کی معمولی تکلیف بھی ہمیں بے چین کرکے رکھ دیتی ہے دراصل ہم محبت کے ہاتھوں کمزور پڑ جاتے ہیں‘ رشتوں کی محبت بندے کو جس قدر مضبوط بناتی ہے اسی قدر کمزور بھی کردیتی ہے۔‘‘ رجت سنگھ دانستہ ہی کہہ رہا تھا مگر فاطمہ نے جواب دینا ضروری خیال نہیں کیا۔ رجت سنگھ نے تاج محل کے سامنے موٹر گاڑی کو روکا اور فاطمہ سرعت سے اتر کر اندر بڑھ گئیں‘ رجت سنگھ موٹر گاڑی سے باہر نکل کر فاطمہ بی بی کا انتظار کرنے لگا تھا۔
[…r…[
نواب زادہ وقار الحق بہت الجھے ہوئے سے ٹہل رہے تھے جس صورت حال نے آن گھیرا تھا وہ اس کا اندازہ نہیں کر پارہے تھے۔ وہ بیک وقت دو کشتیوں کے سوار تھے اور دونوں تعلقات کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے تھے اگرچہ ایک تعلق دل کا تھا اور دوسرا سمجھوتے کا مگر کسی ایک کا بھی دل دکھانا نہیں چاہتے تھے وہ جب ہی فاطمہ کا چہرہ نگاہوں میں آیا تھا۔
وہ اپنی کیفیت کو سمجھ نہ پا رہے تھے انہیں جنت کے متعلق افسوس تھا جس طرح جنت کو سچائی سے آگاہ کیا تھا وہ ضرور بہت افسردہ ہوئی ہوں گی مگر وہ جنت کے متعلق سوچنے کا ارادہ کرتے تو ذہن و دل فاطمہ کو کھینچ لاتا توجہ ایسی بٹتی کہ وہ الجھ کر رہ جاتے انہوں نے جنت سے بات کرنے کی کوشش کی تھی مگر انہوں نے انکار کردیا تھا اور رابطہ منقطع کردیا تھا۔
’’ہم جنت کو کیسے فراموش کرسکیں گے… ان کو جو تکلیف ہوئی اس کا باعث ہم ہیں مگر ہم فاطمہ کی کردار کشی بھی کیسے برداشت کرتے۔ فاطمہ کا اس میں کوئی قصور نہیں‘ اس رشتے میں ان کو باندھنے والے درحقیقت تو ہم ہی ہیں… ہم ہی نے اس رشتے کو اس نہج تک پہنچایا۔ نہ ہم فاطمہ سے ملنے کی گستاخی کرتے نا ان سے نکاح کی نوبت آتی، ہم نے اپنی بے وقوفی میں رشتے کو اس نہج تک پہنچایا ہے آج ہم فاطمہ سے اس کا شکوہ نہیں کرسکتے دوسری بات فاطمہ کی طرف سے نکاح قائم کرنے کے لیے ہم پر کوئی دبائو نہیں رہا ہم نے خود اس رشتے کے لیے خود کو پیش کیا تھا۔ اس لیے ہم اس کا الزام ان پر نہیں رکھ سکتے۔‘‘ وہ فاطمہ کی اپنے طور بھرپور حمایت کررہے تھے اور خود حیران تھے کہ ایسا کیوں کر تھا۔ انہیں تو جنت کی حمایت کرنا چاہیے تھی وہ ان سے محبت کرتی تھیں اور وہ خود اس کی محبت میں ڈوبے ہوئے تھے پھر محبت کی جگہ کسی اور اجنبی کی حمایت کرنا کیا معنی رکھتا تھا؟
انہوں نے ایک عزم سے فون نمبر ملایا تسلی کرکے کہ دوسری طرف جنت ہیں وہ مضبوط لہجے میں بولے۔
’’آپ جانتی ہیں جنت ہم آپ سے محبت کرتے ہیں چاہے آپ رابطہ منقطع کردیجیے مگر ایسا کرنے سے آپ ہمارے دل سے خارج نہیں ہوں گی… نا ہم آپ سے محبت ترک کریں گے۔‘‘ وہ دو ٹوک انداز میں واضح کررہے تھے‘ جنت کی طرف کچھ لمحوں تک خاموشی رہی پھر مدہم آواز ابھری۔
’’محبت اور مصلحت میں فرق ہوتا ہے نواب زادہ وقار الحق… جہاں مصلحت جیتنے لگے وہاں محبت دم توڑ دیتی ہے‘ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ اور ہم جسے مصلحت سمجھ رہے ہوں وہ در حقیقت کچھ اور ہو۔‘‘ ان کا مدہم لہجہ تھکن زدہ تھا ان کی آواز سے وقار الحق نے اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ مسلسل روتی رہی ہیں۔ وقار الحق کا دل مزید بے چین ہوگیا تھا۔
’’ہم شرمندہ ہیں جنت مگر ہم آپ سے سچائی چھپانا نہیں چاہتے تھے مگر ہماری بے وقوفی کے باعث یہ ساری صورت حال بن گئی وگرنہ ہم ایسا کام کیوں کرتے تو سیدھی تھی ہم آپ سے محبت کرتے تھے…‘‘ وقار الحق نے کہا جب جنت ان کی بات منقطع کرتے ہوئے بولیں۔
’’قطع کلامی کی معذرت چاہتے ہیں نواب زادہ وقار الحق لیکن اگر محبت ہوتی تو آپ کسی اور طرف مائل نہ ہوتے۔‘‘
’’ہم مائل نہیں ہوئے مگر…‘‘ وہ کوئی وضاحت کوئی تاویل نہ ڈھونڈ سکے اور جنت آہستگی سے گویا ہوئیں۔
’’حسن سب سے بڑی دلیل ہے وقار الحق اور حسن سے بڑی دلیل محبت ہے۔‘‘ وہ باور کرا رہی تھیں اور وقار الحق الجھ رہے تھے۔
’’لیکن ہم فاطمہ سے محبت نہیں کرتے جنت، آپ یہ بات کیوں نہیں سمجھ رہیں؟ ہم آپ کی محبت کا دم بھرتے ہیں محبت تو ہمیں آپ سے ہے۔‘‘ وہ جتاتے ہوئے بولے۔
’’اور جس نے آپ کو اپنی طرف مائل کیا وہ کیا تھا؟‘‘ جنت نے عجب سوال اٹھایا… وہ خاموشی رہ گئے اور دوسری طرف جنت نے رابطہ منقطع کردیا تھا۔
[…r…[
’’آپ اس درجہ پریشان ہوکر بجائے درسگاہ جانے کے یہاں کیوں چلیں آئیں؟ فاطمہ آپ کا بچپنا کب جائے گا‘ یہ کیوں بھول جاتی ہیں آپ کہ اب آپ ایک ذمہ دارشادی شدہ خاتون ہیں اور آپ پر رشتوں کے کئی حقوق واجب ہوتے ہیں۔‘‘ سخاوت بیگم نے ڈپٹا۔
’’حقوق اس عائلی زندگی اور ازدواجی ذمہ داریوں سے جڑے ہیں فاطمہ اب آپ بے فکر دوشیزہ نہیں ہیں ایک ذمہ داری اپنے کاندھوں پر رکھتی ہیں اور یہ ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے جب محل میں آپ کے علاوہ کوئی اور خاتون موجود نہیں‘ یہی بہت ہے کہ نواب صاحب نے آپ کو پڑھائی کی اجازت دی ہے‘ آپ کو مزید من مانی نہیں کرنی چاہیے۔‘‘ سخاوت بیگم نے دختر کو خوب لتاڑا۔
’’امی جان، ہم کوئی ہمیشہ کے لیے محل چھوڑ کر نہیں آئے درسگاہ جانے کے لیے نکلے تھے مگر آپ کی طبیعت ناساز ہے سن کر رہ نہ سکے۔‘‘ فاطمہ نے وضاحت دی۔
’’فاطمہ سوچ سمجھ کر بولا کیجیے اللہ نہ کرے کہ آپ ہمیشہ کے یہاں آئیں‘ ہمارا معتبر اور عزت دار گھرانہ ہے‘ ہمارے یہاں بیٹیاں جس گھر ڈولی میں بیٹھ کر جاتی ہیں، وہاں سے ان کا جنازہ ہی نکلتا ہے‘ آپ کو ایک بات ذہن میں بیٹھا لینی چاہیے آپ کا نکاح ہوچکا ہے اور اب آپ ایک کنبے کی ذمہ داری کاندھوں پر رکھتی ہیں۔ گھر کو کس طرح چلانا ہے یہ عورت طے کرتی ہے کوئی ساس یا نند نہیں ہیں آپ کی‘ اس لیے آپ کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ رہی بات ہماری طبیعت کی ناسازی کی تو موسمی اثرات ہیں اس کے سوا کچھ نہیں۔ ہماری تیمار داری اور دیکھ بھال کو آپ کے محترم ابا جان اور دادی جان یہاں موجود ہیں۔‘‘ سخاوت بیگم نے سمجھایا تو فاطمہ خاموش بیٹھی رہیں۔
’’اب ایسے منہ سجائے کیوں بیٹھی ہیں والدین کے گھر آئی ہیں کوئی جرم تھوڑا نہ کیا ہے ابھی آپ کی دادی اماں نے آپ کا ایسا اترا چہرہ دیکھ لیا تو سمجھئے شامت آجائے گئی۔‘‘ سخاوت بیگم نے ساس کے خیال سے ڈپٹا تو فاطمہ مسکرا دیں اور سر آہستگی سے امی جان کی گود میں رکھ دیا۔
’’امی نکاح کے دو بول سے بیٹی پرائی کیسے ہوجاتی ہے یہ بات آج کھلی ہم پر۔‘‘ فاطمہ نے آہستگی سے کہا تو سخاوت بیگم اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی ہوئی چونک کر دیکھنے لگیں۔
’’آپ خوش تو ہیں نا فاطمہ؟‘‘ امی جان نے کسی قدر فکر مندی سے دریافت کیا تو فاطمہ نے بنا ان کی طرف دیکھے سر ہلا دیا۔
’’ہماری طرف دیکھ کر کہیے ایسے نگاہ چرائے کیوں بات کر رہی ہیں؟‘‘ امی جان نے ڈپٹا تو فاطمہ ان کی سمت دیکھتی زبردستی مسکرا دیں۔
’’خوش ہیں ہم امی جان اب کیا لکھ کر دیں آپ کو ایسا بڑا محل ہے‘ ایسی شان و شوکت‘ یہ ملازمین کی لمبی فوج اور ہمیں کیا کرنا ہے‘ بیگم ہیں اس محل کی‘ سو زبان ہلا کر فقط حکم صادر کرتے ہیں اور کبھی کبھی تو حکم بھی صادر نہیں کرتے ابرو کے اشارے سے حکم دے دیتے ہیں بولنے سے گھس تو نہیں جاتی زبان‘ مگر ہم ٹھہرے بیگم سو تفاخر سے تنی گردن کے ساتھ ابرو بھی ہلا دیں تو سب زیر و زبر ہوجاتا ہے۔‘‘ وہ انہیں مطمئن کرنے کے لیے ہنسیں‘ سخاوت بیگم نے خاموشی سے انہیں دیکھا اور محبت سے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
’’ہم چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کا دامن ہمیشہ خوشیوں سے بھرے دے‘ ہم واقعی بہت مطمئن ہیں کہ آپ کا نکاح وقار الحق سے ہوا ورنہ جو اماں جان نے طے کیا تھا اسے سوچ کر ہی کلیجہ منہ آتا تھا‘ خیر آپ خوش ہیں سن کر خوشی ہوئی۔ ماں کا خون تو فقط یہ جان کر ہی منوں کے حساب سے بڑھ جاتا ہے۔‘‘ سخاوت بیگم ان کا چہرہ محبت سے تھامتے ہوئے بولیں‘ فاطمہ نے ان کی طرف خاموشی سے دیکھا پھر نگاہ پھیرتے ہوئے بولیں۔
’’خوشی عجیب گمبھیرتا لیے آگئی ہے امی جان‘ بظاہر ایک فرحت بخش احساس ہے اور روح سے جڑی ہوتی ہے مگر اس میں دل کا باہم آہنگ ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔‘‘ فاطمہ نے کہا اور پھر امی جان کے خیال سے فوراً ہی بات بدل دی۔
’’آپ کا آرام کرنا بہت ضروری ہے امی جان۔ ایک ہفتہ تک آپ گھر کے کسی کام کو ہاتھ نہیں لگائیں گی ہم ذرا ملازمین سے باز پرس کرلیں اور ساتھ ہی دادی جان سے بھی مل لیں۔‘‘ فاطمہ اٹھیں تب ہی ناظم الدین اندر داخل ہوئے تو فاطمہ نے بے حد ادب سے انہیں سلام کیا۔
’’اکیلی آئی ہو بیٹا… وقار میاں تشریف نہیں لائے؟‘‘ ابا جان نے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا۔
’’نہیں ابا جان درسگاہ سے سیدھا اس طرف آئی ہوں نواب زادے کو اس بات کی خبر نہیں ہم یہاں آئے ہیں۔ سوچا دادی جان سے بھی مل لیں۔‘‘ فاطمہ نے کہا تو ابا جان ہمراہ چل دیے۔
’’چلیے ہم بھی اماں جان سے ملاقات کا شرف حاصل کرلیتے ہیں… بیٹا آئندہ آئیے تو اپنے شوہر نامدار اور سسر میاں کی اجازت سے آئیے گا۔‘‘ ابا جان نے نصیحت کرنا ضروری خیال کیا‘ فاطمہ نے سر ہلا دیا اور ابا جان کی ہمراہی میں دادی جان کے کمرے کی جانب جاتی فاطمہ خاصی گھبراہٹ کا شکار تھیں بہرحال انہوں نے جھک کر ادب سے دادی جان کو سلام کیا تو دادی جان نے سر پر ہاتھ رکھا مگر ان کا لہجہ خاصا کڑوا تھا۔
’’تشریف آوری ہوگئی آپ کی… زخم پر مرہم رکھنے کا خیال خاصی دیر سے آیا اتنے دنوں میں تو زخم پر نئی جلد بھی جم جاتی ہے‘ سنا تھا تلوار کا زخم بھر جاتا ہے زبان کا نہیں بھرتا مگر یہاں تو عمل بھی گہرے زخم سے نوازے جاتے ہیں‘ کہیں اب بھی آپ کی تشریف آوری زخموں پر آئی جلد کو کھرچنے کی غرض سے تو نہیں ہوئی۔‘‘ تاج بیگم نے پوچھا تو فاطمہ نے کوئی جواب نہ دیا۔
’’فاطمہ آپ کی خیریت معلوم کرنے آئی ہیں اماں جان۔‘‘ ناظم الدین نے کہا تو اماں نے جواباً خاموشی اختیار رکھی تب ہی ناظم الدین بولے۔
’’اماں جان غصہ آپ کی صحت کے لیے ٹھیک نہیں۔‘‘ ابا جان کے کہنے پر فاطمہ نے خاموشی سے دادی جان کو دیکھا۔
’’جان جو صدمہ اٹھاتی ہے وہ جگر نہیں جانتا والا معاملہ ہے آپ کی سمجھ میں نہیں آئے گا، پکا پھوڑا تھا جو ٹیس لگتے ہی پھوٹ پڑا۔ یوں بھی آج کل علم کا آفتاب عروج پر ہے کوئی نیا فتنہ اٹھانے کی کوشش نہ کیجیے تو بہتر ہوگا۔‘‘ اماں جان کا لہجہ تنبیہ لیے ہوئے تھا ان کا لہجہ کچھ نحیف مگر اسی طور گرج دار تھا۔ وہ ازلی حکمرانی والا وصف گیا نہ تھا فاطمہ کا دل جانے کیوں دہل گیا تھا دادی جان کے غیض و غضب سے ایسا لگا ابھی سب تہس نہس کردیں گی۔
’’دروغ مصلحت آمیز بہ از راستی فتنہ انگیز ایسا وہ عمل جو آمادہ سرکشی پر اکسائے اس سے عجز بہتر ہے۔‘‘ دادی جان کا لہجہ گرج دار تھا جو اس بات کا غماز تھا کہ ان کا غصہ کم نہیں ہوا اگرچہ فاطمہ نے براہ راست اماں جان کی مرضی سے انحراف نہیں کیا تھا مگر وہ جانتی تھی وہ غصہ کرنے میں حق بجانب ہیں، ناظم الدین اماں جان کے قدموں میں بیٹھے گئے۔
’’اماں جان… جو ہوا اس میں فقط ہماری غلطی ہے‘ ہم سر جھکاتے ہیں آپ سر قلم بھی کردیں گی تو ہم شکوہ نہیں کریں گے مگر فاطمہ اس گھر کی مہمان ہے۔ اب اس معاملے میں کوئی بے انصافی ہونا مناسب نہیں۔‘‘ ناظم الدین نے کہا تو اماں جان مسکرا دیں مگر اس مسکراہٹ میں طنز تھا۔
’’امیری اور فقیری کی بو چالیس برس تک نہیں جاتی بچے خود کو سیانے جاننے لگتے ہیں مگر دھوکہ دینا آسان نہیں۔ دنوں کو دھکا دینے سے خطرہ ٹل نہیں جاتا۔ عقل کسی کی محتاج نہیں اور خرد باندی بننا گوارا نہیں کرتی‘ رہی بات ریخت کی تو اس کا اندازہ کرنے والے احمق ہوسکتے ہیں آپ نے جوگی گیڈری کاٹے نیو تن جائے بیٹا چور اور سانپ کی بہت دھاک ہوتی ہے مگر دونوں کا ہی سر ایک لاٹھی سے کچلا جا سکتا ہے گرے ہوئے کو کمزور جاننا بے وقوفی ہوتی ہے سیانے کہہ گئے اجڑے ہوئے میکے میں تھی مگر وہی طنطنہ۔ زخمی شیر سے ڈرنا ضروری ہے آتشی قہر سے جلا دینا راکھ سے بھی کمسن ہے۔‘‘ وہ مسکرائیں اور ان کی مسکراہٹ میں ایک عجیب پراسراریت تھی فاطمہ کی جان تک لزر گئی، فاطمہ نے ابا جان کا کاندھا سختی سے جکڑ لیا ابا جان نے بیٹی کا خوف محسوس کرتے ہوئے اٹھنے میں ہی عافیت جانی تھی۔
[…r…[
رجت سنگھ کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی ایک سکون تھا جو رخصت ہوچکا تھا اور وجود خاک کی مانند فضا میں تحلیل ہوتا جارہا تھا۔
’’میرے رب میرے کھوئے ہوئے سکون کو لوٹا دے۔‘‘ اس نے سجدے میں گر کر بے ساختہ دعا مانگی‘ آنکھیں نم تھیں اور یک دم ان بند آنکھوں میں ایک چہرہ نمودار ہوا‘ رجت سنگھ نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں اور اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ ایک لمحے میں پسینے میں شرابور ہوگیا تھا وجود ایسے بھیگ گیا تھا جیسے کسی نے گھڑا بھر کر پانی انڈیل دیا ہو۔
’’میرے رب میں تیرا گناہ گار بندہ ہوں اپنے سائیں بابا کے توسط سے تجھ سے سکون طلب کرتا ہوں یہ آزمائش کڑی ہے اور بندہ بشر کا ظرف چھوٹا ہے میرے رب ایسے نہ آزما۔‘‘ رجت سنگھ نے دل ہی دل میں کہا اور گہری سانس خارج کی۔
پھڑ نقطہ چھوڑ حساباں نوں
چھوڑ دوزخ، گور عذاباں نوں
کر بند، دلے دیاں خواہاں نوں
گل ایسے گھر وچ ڈھکدی اے
اک نقطے وچ گل مکدی اے
کوئی اندر ہی اندر بولنے لگا اور رجت کسی ان دیکھے وجود کو آسمان کی وسعتوں میں دیکھنے لگا تھا۔
انوں متھا زمین گھنسائی دا
لمان یا محراب دکھائی دا
پڑھ کلمہ لوک ہسائی دا
دل اندر سمجھ ہسائی دا
کدی بات سچی بی لگدی اے
اک نقطے وچ گل مکدی ہے
اس کے اندر گونج رہا تھا اور وہ تیز تیز چلنے لگا مگر یک دم قدموں کو رک جانا پڑا تھا مقابل فاطمہ بی بی تھی اور اس نے رکتے ہوئے سر جھکا دیا تھا۔
’’جی بی بی صاحبہ… کوئی کام ہے آپ کو‘ کہیں باہر جانا ہے اس وقت؟‘‘ اس نے نگاہ اٹھائے بنا پوچھا تو فاطمہ نے انکار کردیا۔
’’نہیں ہم بے چینی محسوس کررہے تھے اس لیے باہر چلے آئے۔‘‘ فاطمہ نے کہا تو وہ ایک نگاہ بامشکل اس روشن چہرے کو دیکھ پایا اور نگاہ دوبارہ جھکانا پڑی۔
’’آپ پریشان ہیں بی بی صاحبہ؟‘‘ رجت سنگھ نے پوچھا تو فاطمہ نے نفی میں سر ہلا دیا اور اسے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی۔
’’آپ اتنے ہونق کیوں لگ رہے ہیں، کہیں سے فرار ہوکر آئے ہیں؟‘‘ رجت سنگھ نے سر نفی میں ہلا دیا۔
’’بی بی صاحبہ فرار کے لیے کسی کا تعاقب کرنا ضروری نہیں ہوتا‘ کبھی کبھی انسان ایک مقام پر رکتا ہے تب بھی اندر بھاگتا دوڑتا رہتا ہے اور یہ فرار سے زیادہ کوئی اشتیاق ہوتا ہے جیسے وجود کسی راز کو تلاش رہا ہو‘ جیسے کوئی تلاش چین سے بیٹھنے نہ دے رہی ہو۔‘‘ رجت سنگھ کا لہجہ مدہم تھا فاطمہ اسے خاموشی سے دیکھنے لگیں۔
’’آپ کو کس شے کی تلاش ہے؟ آپ کی گفتگو عام فہم نہیں‘ اس سے علم ہوتا ہے کہ آپ جو دکھتے ہیں وہ ہیں نہیں‘ آپ کا ظاہر آپ کے باطن کا غماز نہیں۔ آپ کون ہیں؟‘‘ فاطمہ نے اسے الجھی نظروں سے دیکھا تو رجت سنگھ مسکرا دیا۔
’’بی بی صاحبہ ہم کیا ہماری بساط کیا‘ ہمارا ظاہر اور باطن تو ایک ہی رنگ میں رنگا ہے۔‘‘ اس کی آنکھوں میں ایک یاسیت دکھائی دی تھی فاطمہ اسے دیکھ کر رہ گئیں۔
’’آپ کسی کے تعاقب میں ہیں؟‘‘ فاطمہ نے پوچھا۔
’’شاید یہ تعاقب نہیں‘ کھوج کا سفر ہے۔‘‘ رجت سنگھ نے جواب دیا۔
’’کھوج… کس کی کھوج‘ کس کی تلاش میں ہیں آپ؟‘‘ رجت سنگھ نے بنا ان کی سمت دیکھے سر نفی میں ہلا دیا۔
’’ہم نہیں جانتے، جانتے تو آپ کو آگاہ ضرور کرتے مگر معمہ جیسے جان کو آتا ہے۔‘‘ ان کا مدہم لہجہ بہت الجھا ہوا تھا۔
’’کہیں معاملات دل تو نہیں۔‘‘ فاطمہ نے رجت سنگھ کو دیکھا اور وہ مسکرا دیا۔
’’ہم جیسے خود سے بچھڑے لوگ معاملات دل سنبھالنے کی حیثیت نہیں رکھتے‘ عشق کے معاملات سمجھنے کو عقل ناکافی ہے اور رسائی کے لیے ذات چھوٹی… دامن چھوٹا ہو تو چاند کی تمنا نہیں کرتے۔‘‘ اس کے لہجے کی یاسیت صاف محسوس کی جاسکتی تھی فاطمہ نے اسے بغور دیکھا اور وہ معذرت کرتا ہوا آگے بڑھ گیا فاطمہ الجھے انداز میں اسے دیکھنے لگی تھیں۔
[…r…[
’’جنت ہم مشکل میں گھر رہے ہیں مگر سرا ہاتھ نہیں آرہا ہم نہیں جانتے کیا کریں مگر یہ مشکل صورت حال ہے جس سے دل کو واسطہ ہے۔‘‘ وقار الحق گویا ہوئے تو جنت نے نم آنکھوں سے انہیں دیکھا۔
’’لوٹ جائیے اور کبھی دوبارہ اس طرف کا رخ مت کیجیے گا۔‘‘ وہ قطعی لہجے میں بولیں‘ وقار الحق بے چین ہو اٹھے۔
’’آپ کا دکھ سمجھتے ہیں جنت‘ مگر فی الحال ہم سمجھ نہیں پا رہے کہ صحیح راہ کیا ہے۔‘‘ وقار الحق غمزدہ تھے جنت نے ان کا ہاتھ تھاما اور مدہم لہجے میں بولیں۔
’’آپ کا یہ ہاتھ تھام کر چلنا ہمارے نصیب میں نہیں ہے… آپ کا ہاتھ فاطمہ کے ہاتھوں کو تھامنے کے لیے بنا ہے ان کے مرمریں ہاتھ کو تھام کر آگے بڑھنے کے لیے بنا ہے وہی آپ کا سفر ہے اور وہی منزل بھی۔ ہم تو بس راہ کی دھول ہیں اور دھول سفر کا حصہ ہے منزل نہیں ہم ستارہ ہوتے تو منزل کی نشاندہی کرتے مگر ہم تو خاک ہیں۔‘‘ وہ انتہائی غمزدہ تھیں۔
’’ایسا مت کہیے… خود کو ایسے مت کہیے‘ جنت ہمیں تکلیف دے رہی ہیں آپ۔‘‘ وقار الحق نے کہا۔
’’ہم آپ کو اس سفر میں گرد سمجھ کر چھوڑ نہیں سکتے۔‘‘
’’آپ کے لیے محبت کا دروازہ کھولنا ممکن نہیں۔‘‘ وہ طنز سے ہنس دیں۔
’’ایسا مت کہیے۔‘‘ وقار الہق پُر ملول لہجے میں گویا ہوئے۔
’’ہمارے کہنے نہ کہنے سے صورت حال بدل نہیں جائے گی وقار… سچ تو یہ ہے کہ ہماری ذات ایسی ہی بے وقعت ہو کر رہ گئی ہے اور رہی محبت تو اس کا کوئی وجود نہیں رہا محبت سر کا تاج بنتی ہے اگر تاج نہ بن سکے تو اس کی وقعت کچھ نہیں رہتی۔‘‘ جنت درد کی شدت سے گویا تھیں۔
حالات دونوں کے اختیار سے باہر تھے کوئی سرا ہاتھ نہ لگ رہا تھا دونوں غمگین تھے اور اسی غم کے ساتھ وقار الحق گھر لوٹ آئے۔ فاطمہ نے ان کا چہرہ دیکھا… وقار نے دانستہ نگاہ نہیں ملائی تھی فاطمہ سے۔ وہ قریب آئی اور فیصلہ کن انداز میں بولیں۔
’’ہم جنت بی بی سے ملنے کے خواہاں ہیں تب ہی ہم کسی فیصلے پر پہنچ سکتے ہیں۔‘‘
’’کیسا فیصلہ؟‘‘ وقار الحق چونکے… فاطمہ ان کا چہرہ دیکھ کر نگاہ پھیر گئیں۔
’’ہم آپ کو غمزدہ نہیں دیکھ سکتے اس لیے ہم نے فیصلہ لیا ہے کہ آپ جنت سے نکاح کرلیں‘ ہم آپ کی اس محبت کو مکمل ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘ فاطمہ کا انداز اور لہجہ قطعی تھا اور وقار الحق حیران رہ گئے۔
’’یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ جانتی بھی ہیں؟‘‘ وقار الحق ششدر تھے جب وہ پُر سکون انداز میں مسکرائیں اور مدہم لہجے میں کہا۔
’’عشق نہیں دیکھا… عشق کی تکمیل ہی دیکھ لینے دیجیے۔‘‘ ان کے لہجے میں ایک لطیف سا طنز تھا وقار الحق پُر ملال سے سر جھکا گئے۔
’’ایسے مذاق مت کیجیے۔‘‘ انہوں نے درخواست کی تو فاطمہ مسکرا دیں۔
’’ہم مذاق نہیں کررہے… ہم نے تو طغیانی بھی نہیں دیکھی سمندر کی اتھاہ گہرائی کا اندازہ کیوں کر کر پائیں گے‘ ہم سمندر کے اس بے پناہ شور کو کیوں کر سن سکتے ہیں‘ ہم تو اس نمی سے بھی واقف نہیں جو پیروں کو ساحل پر آکر بھگوتی ہے‘ ہم کیوں کر تیرنے کا فن جان پائیں گے… عشق تو آگ کا دریا ہے ناں اور ہمیں تو تیرنے کا فن معلوم ہی نہیں سو جن کو علم ہے انہیں اس سفر سے گزرتے دیکھنا ایک دلچسپ امر ہوگا ناں کیوں کہ کنارے پر رہ کر عشق کی اس منزلیت کو دیکھا جائے؟‘‘ فاطمہ پُر سکون انداز میں بول رہی تھیں ان کا لہجہ کوئی ہلچل نہ رکھتا تھا مگر وقار الحق کے اندر ایک طوفان برپا ہوچکا تھا۔
’’ایسا کچھ ممکن نہیں… آپ ہماری بیگم ہیں اور اس محل اور ہمارے دل پر راج کرنے کا حق آپ کے پاس ہے۔‘‘ اب کے فاطمہ بے ساختہ ہنس دیں۔
’’آپ جنت بی بی سے نکاح کریں گے وقار الحق؟‘‘ بے تحاشہ ہنسنے سے فاطمہ کی آنکھوں میں نمی ٹھہر گئی تھی مگر ان کا لہجہ پُر اعتماد تھا۔

(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
× How can I help you?
Close