Naeyufaq Oct-17

ایکس ون(آخری حصہ)

زرین قمر

میں جافری کے ساتھ ایک ہوٹل میں داخل ہوااور سیدھا استقبالیہ کی طرف بڑھ گیا۔ جافری نے اپنابیگ اب بھی اپنے سینے کے ساتھ مضبوطی سے لگایاہواتھا۔
’’مجھے ایک کمرہ چاہیے۔‘‘ میں نے استقبالیہ کلرک سے کہا۔
’’اس کے لیے آپ کو اپنا شناختی کارڈ… ‘‘ اس کی بات ابھی ادھوری ہی تھی کہ اچانک ایک عورت تیزی سے ہماری طرف آئی تھی اسے دیکھتے ہی میرے ذہن نے وارننگ دی تھی میرے خیال میں اس عورت نے جافری پرحملہ کیاتھا میں نے تیزی سے جافری کودھکادیاتھااور وہ اپنے بیگ سمیت گھسٹتا ہوا دوسری سمت چلا گیاتھا۔ عورت اپنے نقوش سے انگریز لگ رہی تھی۔ ہوٹل میں موجود لوگ حیرت سے یہ سب د یکھ رہے تھے۔ عورت نے دوسری چھلانگ مجھ پرلگائی تھی۔ میں نے تیزی سے اس کے حملے کو روکاتھا اوراسے زمین پر گر اکر اس کو قابو کرلیاتھا پھرمیں نے اس کی تلاشی لی تھی کہ کہیں اس کے پاس کوئی ہتھیار تو نہیں ‘میرے تلاشی لینے پر وہ چراغ پاہوگئی تھی۔
’’تم یہ کیا کررہے ہو؟‘‘ اس نے غصے سے پوچھا۔’’میرے اوپر سے ہٹو۔‘‘
’’تم یہ بتائو کہ تمہیں کیا مسئلہ ہے ۔‘‘میں نے اسی طرح بیٹھے بیٹھے کہا۔
’تم…تم نے قطار توڑی تھی ‘لائن میں میرا نمبر تھا تم آگے بڑھ گئے۔‘‘ اس نے کہا اور مجھے اپنی غلطی کااحساس ہوا‘میں جلدی میں تھا اورمیں نے نوٹ نہیں کیا کہ استقبالیہ پرلائن لگی تھی جس کامیں نے خیال نہیں کیا تھا۔ میں اسے چھوڑ کر کھڑاہوگیا لوگ ہمیں دیکھ رہے تھے وہ مجھے برابھلا کہتی وہاں سے چلی گئی تھی اور میں نے مڑ کر جافری کی طرف دیکھا تھالیکن وہ وہاں نہیں تھا۔
’’میرے ساتھ جو آدمی تھا کسی نے اسے دیکھا؟‘‘ میں نے وہاں موجود لوگوں سے پوچھا۔
’’وہ دو آدمیوں کے ساتھ باہر گیاہے۔‘‘ ایک لڑکی نے باہر کی سمت اشارہ کیااورمیں تیر کی تیزی سے ہوٹل سے باہر نکل گیا‘ میری پسلیوں کے نیچے موجود زخم کے ٹانکوں میں تکلیف ہو رہی تھی‘ باہر نکل کرمیری نظر ایک نیلے رنگ کی کار پرپڑی جو تیزی سے میرے سامنے سے نکل گئی تھی اوراس کی پچھلی سیٹ پر جافری ایک شخص کے ساتھ بیٹھاتھااس نے ہاتھ کی پستول جافری کی کنپٹی پر رکھا ہوا تھا۔ اب تک وہ صحیح سلامت تھالیکن اس کاامکان موجود تھا کہ اگلے دس منٹ میں اسے اغوا کرنے والے اس کی کھوپڑی میں گولی مار کر اس کی لاش کار سے کہیں پھینک دیں‘ میںنے جافری کابیگ کاندھے پرڈالا جو ہوٹل سے نکلتے وقت میں نے فرش سے اٹھایاتھا اور نیلی کار کے پیچھے بھاگنا شروع کردیاتھاساتھ ہی میں نے اپنے pay phoneسے چیئرلوٹ کو بھی کال ملائی تھی۔
’’کیابات ہے ؟‘‘ چیرلوٹ نے پوچھا۔
’’جافری اغوا ہوگیاہے اسے دوافراد اٹھا کر ایک کار میں لے گئے ہیں بس میں اتنا ہی جانتاہوں۔‘‘ میں نے کہااس کے ساتھ ہی میں نے اپنے ذہن میں ایک منصوبہ بنایاتھااوراپنا رخ پھرساحل کی طرف کردیا تھا جہاں دور سے مجھے کورٹس کی لانچDancing Braveنظر آرہی تھی لیکن وہ خالی تھی یوں لگ رہاتھاجیسے وہاں کوئی نہ ہو‘ میرے خیال میں کورٹس نے سمندر میں سارا دن گزارنے کے لیے لانچ تیار کرلی تھی جیسا کہ اس نے مجھے بتایاتھا۔
’’کیاتم نے کار کارجسٹریشن نمبر نوٹ کیا؟‘‘ چیرلوٹ نے پوچھا۔
’’ہاں میں نے کہا اور اسے یاد کرکے نمبر لکھوایا۔ ’’یہ ایک مقامی نمبر ہے اور کار کرائے پر لی گئی ہوگی اگر یہ کارواقعی کرائے پر لی گئی ہے تو لینے والوں نے شاید ہی اصل ایڈریس لکھوایا ہوگا۔‘‘
’’میں چیک کرتی ہوں ‘ تم بتائو تمہارے ذہن میں کیا پلان ہے ؟‘‘ چیرلوٹ نے پوچھااس عرصے میں اپنی کار چیک کررہاتھا جومیں نے ساحل پر چھوڑ دی تھی وہ اپنی پہلی حالت میں تھی کسی نے اسے نہیں چھیڑا تھا‘ میںنے جافری کابیگ سیٹ پررکھا او رکاراسٹارٹ کی۔
’’ہاں میرے ذہن میں ایک پلان ہے ہم اس کوڈھونڈنے کے لیے اس کاہی فون استعمال کریں گے جو اس کی جیب میں ہے ۔‘‘
’’کیامطلب ؟‘‘ چیرلوٹ نے پوچھا۔
’’جب میں نے جافری کے فون سے تمہیں کال کی تو دشمنوں نے اسے ٹریس کیااور پتہ لگالیا کہ جافری اور میں کہاں ہیں اب یہی طریقہ ہم بھی استعمال کریں گے۔‘‘
’’ٹھیک ہے میں اسے کال کرکے تمہیں اس کی پوزیشن بتاسکتی ہوں۔‘‘ چیرلوٹ نے کہا۔
’’نہیں‘ میں خود اپنے K106 سے جافری کوکال کروں گا اوراس تک پہنچنے کی کوشش کروں گا۔‘‘ میں نے کہا پھر میں نے اپنا ریوالور لوڈ کیا تھااور کار کی رفتار بڑھادی تھی میرا رخ اسی سمت تھا جس سمت میں جافری کولے کر نیلی کار روانہ ہوئی تھی پھرمیں نے جافری کو کال کی تھی جسے ریسیو کیا گیاتھا مجھے اس کی لوکیشن پتہ چل گئی تھی۔ وہ مجھ سے صرف پانچ منٹ کے فاصلے پر تھا۔
’’میں تمہیں پھر کال کرتاہوں۔‘‘میں نے چیئرلوٹ سے کہااور فون بند کردیاجب میں لوکیشن پرپہنچا تو وہ ایک پرانی طرز کا بناولاتھا جوایک ٹیلے پرموجود تھا اس ولا کے چاروں طرف ایک اونچی دیوار بنی تھی لیکن وہاں کسی قسم کے سکیورٹی کیمرے موجود نہیں تھے میں نے ولا سے کچھ فاصلے پرکارروک دی تھی او رپیدل ہی ولا تک گیاتھا۔ پھردیوار پھلانگ کر میں دوسری طرف اتر گیاتھا‘ ہر طرف سناٹا تھااور رات کااندھیرا پھیل رہاتھا۔ میں دبے قدموں عمارت میں داخل ہوگیا‘تمام دروازے کھلے ہوئے تھے اچانک مجھے ایک کمرے سے کسی کے بولنے کی آواز آئی یہ آواز میرے لیے جانی پہچانی تھی‘ لیکن یاد نہیں آرہاتھا کہ کہاں سنی ہے لیکن یہ کسی برطانوی کی آواز تھی میں کچھ اور آگے بڑھااور ایک شیشے کے دروازے کی اوٹ سے اندر جھانکا وہاں ایک شخص کھڑاتھا جس کی پشت میری طرف تھی دوسرا شخص دوسری جانب تھا لیکن ایک پلر کی آڑ میں تھا جس کی وجہ سے میں اس کاچہرہ نہیں دیکھ سکاتھا جس شخص کی میری طرف پشت تھی وہ اچانک بولا۔
’’ہم یہاں تمہاری مدد کرنے آئے ہیں اس لیے یہ ضروری ہے کہ تم میرے سوالات کا جواب دو۔‘‘ اس نے کہااور مجھے اچانک یاد آگیا کہ میں نے یہ آواز پہلے کہاں سنی تھی وہ شخص بات کرتے کرتے چند قدم آگے بڑھا او رپھر گھوما اب میں اس کاچہرہ دیکھ سکتاتھا وہ بریڈ شا تھا جس سے میری ملاقات وائٹ ہال کے روم نمبر سکس میں ہوئی تھی اس کے سامنے ایک کرسی پر جافری بیٹھاتھا وہ صحیح سلامت تھالیکن چہرے سے پریشان لگ رہاتھا پھرتیسرا شخص سامنے آیا جسے میں پہچان گیا اوراس کے بعد پلر کے قریب شخص کابھی مجھے اندازہ ہوگیا کہ کون ہوسکتاہے وہ دونوں ٹریڈویل اور بینس تھے جو مجھ سے پہلی بار جافری کے اپارٹمنٹ میں ملے تھے۔
میں پیچھے ہٹ کر دیوار سے لگ گیا‘میرے لیے یہ غیر متوقع تھا میرا خیال تھا کہ شاید جافری کو روسی ایجنٹوں یاچائنیز نے اغوا کیاہوگا لیکن یہاں معاملہ ہی مختلف تھا یہ برطانوی تھے جنہوںنے مجھے جافری کی حفاظت کے لیے بھیجاتھا لیکن ٹریڈویل اور بینس کی موجودگی کچھ اور کہہ رہی تھی پھرمیں نے ایک اور فیصلہ کیا اپنا ریوالور اپنی بیک پرپتلون میں گھسایا اور خود مسکراتا ہوا ان کے سامنے جاکھڑا ہوا۔
’’ہیلومسٹر بریڈ شاہ تم یہاں کیا کررہے ہو؟ جافری کیساہے؟‘‘ میں نے کہا اور کمرے میں موجود چاروں افراد نے میری طرف دیکھا ان کے چہروں پر حیرت تھی۔
’’تم یہاں کیا کررہے ہو؟‘‘ بریڈ شاہ نے میری بات دہرائی۔
’’میں تو جافری کوڈھونڈتا ہوا آیا ہوں تمہیں پتہ ہے چیئرلوٹ نے مجھے ذمہ داری دی ہے کہ میں اس پرنظررکھوں۔‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہا میری بات کے دوران ٹریڈ ویل اور بینس اپنی جگہ سے نہیں ہلے تھے۔
’’ارے کیا چیئرپوٹ نے تمہیں نہیں بتایا ہے کہ اسائمنٹ تبدیل ہوگیا ہے اور تمہیں یہاں سے واپس جاناہوگا؟‘‘ بریڈ شا نے کہا۔
’’حیرت کی بات ہے ابھی میری اس سے بات ہوئی ہے اس نے تومجھ سے ایسا کچھ نہیں کہابلکہ اس نے کہا کہ میں جافری کابہت خیال رکھوں اسے کوئی نقصان نہ پہنچنے دووں۔‘‘
’’ہوسکتا ہے لیکن میں نے ذاتی طور پر یہاں ٹریڈویل اور بینس کی مدد سے اس مسئلے کوحل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ بریڈ شا نے کہا۔’’چنانچہ اب تمہارے یہاں رکنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘ بریڈ شاہ کی بات مکمل ہونے پرمیں نے جافری کی طرف دیکھا اس کے چہرے پر ایسے تاثرات تھے جیسے وہ مجھے تنبیہ کررہاہو کہ میں بریڈ شاہ کی بات پریقین نہ کروں۔
’’تم نے جافری کوہوٹل سے اغوا کیوں کیا؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’تم اس چائنیز عورت کے ساتھ فرش پرالجھے ہوئے تھے۔‘‘ اچانک ٹریڈ ویل بولا لیکن بریڈ شا نے اس کی بات کاٹ دی۔
’’میں خود وہاں موجود نہیں تھا ٹریڈ ویل اور بینس تھے اور تمہیں پتہ ہے انہیں تو عقل نہیں ہے۔‘‘ بریڈ شا نے کہامیں اس وقت تک اپنے ذہن میں منصوبہ بناچکاتھا کہ اب میرا اگلا قدم کیاہوگا چنانچہ میں آہستہ آہستہ جافری کی طرف بڑھا۔
’کیاسب ٹھیک ٹھاک ہے ؟‘‘ میںنے جافری سے پوچھا۔
’’ہاں سب ٹھیک ہے۔‘‘ جافری کے بجائے بریڈ شا نے جواب دیااور میں اس کی طرف مڑا۔
’’اچھا‘ اگر سب ٹھیک ٹھاک ہے تومیں سب تمہارے کنٹرول میں دیتاہوں۔‘‘ میں نے کہااور دوستانہ انداز میں مصافحہ کے لیے ہاتھ اس کی طرف بڑھایا وہ میری چال کونہ سمجھ سکااس نے بھی مصافحہ کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایااور میں نے ماہرانہ پھرتی سے اس کاہاتھ پکڑ کر اس کی کمر کے پیچھے موڑ دیاتھا اور اسے پکڑ کر اپنے سامنے یوں کرلیاتھا کہ ٹریڈ ویل اور بینس مجھے نشانہ نہیں بناسکتے تھے وہ میری ڈھال بن چکاتھا اور اسی اثنا میں میرا ریوالور بھی میری کمر سے نکل کر میرے ہاتھ میں آچکاتھا ٹریڈ ویل اور بینس جومیری طرف بڑھے تھے میرے ہاتھ میں ریوالور دیکھ کرجہاں تھے وہیں رک گئے تھے میرا ریوالور اب بریڈ شاہ کی گردن پرتھااور بریڈ شا بے بس ہوچکاتھا۔
’’سب کوپرسکون رہنے کی ضرورت ہے۔‘‘ میں نے اطمینان سے کہا۔ ’’اور میرا کسی کو مارنے کاارادہ نہیں ۔‘‘
’’میں بھی یہی سمجھتاہوں۔‘‘ بریڈ شا نے میری توقع کے خلاف کہا۔
’’جافری میرے ساتھ جارہا ہے۔‘‘میںنے کہااور جافری اپنی جگہ سے اٹھ کھڑاہوگیا۔
’’اگر تم اچھے انسان ہو تو تم مجھے جافری کو لے جانے سے نہیں روکوگے۔ میں بہرحال اسکی حفاظت کررہاہوں اور اگرتم برے آدمی ہو تو تم مجھے روکوگے اورمیں تمہیں مارنے میں بالکل نہیں ہچکچائوں گا ۔ ‘‘ میںنے کہا۔
’’میں تمہیں نہیں روکوں گا۔‘‘ بریڈ شا نے کہا۔ ’’گن ہٹالو اس کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ میں نے اس کی بات نہیں سنی تھی اور اس کی گردن سے ریوالور لگائے لگائے باہر کی طرف بڑھ گیاتھا۔
’’اگر تم دونوں نے کوئی حرکت کی تو میں اسے گولی مار دوں گا تم ہمارے پیچھے نہیں آئوگے۔‘‘ میں نے ٹریڈ ویل اور بینس سے کہاچنانچہ وہ اندرہی رہے تھے۔
’’‘کیاباہر کے گیٹ میں لاک ہے؟‘‘ میں نے بریڈ شا سے پوچھا۔
’’ہاں۔‘‘
’’چابی کہاں ہے ؟‘‘
’’میرے پاس۔‘‘
’’لائو چابی دو۔‘‘ میںنے کہا تواس نے جیب سے چابی نکالی جو جافری نے آگے بڑھ کر لے لی۔
’’اپنی کار کی چابی بھی دو۔‘‘ میں نے بریڈ شا سے کہااوراس نے چابی جافری کی طرف بڑھادی‘جافری چابی لے کر آگے چلاگیاتھا پھرکچھ ہی لمحوں میں وہ میری کار وہاں لے آیا تھااورمیں نے بریڈ شاہ کوچھوڑ دیاتھالیکن میرے ریوالور کا رخ اب بھی اس کی طرف تھا۔
’’اگر میرا پیچھا کیاتومیں تمہیں مارڈالوں گا۔‘‘ میں نے کہااور جافری نے گاڑی آگے بڑھادی۔
’’تم نے فون کاجواب کیسے دیا؟‘‘ میں نے جافری سے پوچھا۔
’’مجھے معلوم تھا کہ تمہارے پاس مجھے ڈھونڈنے کاواحد ذریعہ فون ہی تھا چنانچہ میںنے کار میں بیٹھتے ہوئے اپنا موبائل اپنے موزے میں چھپالیاتھا وہ وائبریٹ پرتھااور جب اس میں وائبریشن ہوئی تومیں نے کھجانے کے بہانے کال ریسیو کرنے کابٹن دبادیاتھا۔‘‘ جافری نے کہااور میرے ہونٹوں پرمسکراہٹ بکھر گئی۔
کچھ دورجانے کے بعد میں نے چیئرلوٹ کوفون کیاتھااوراسے بتایاتھا کہ جافری ٹھیک ہے اور میرے ساتھ ہے وہ خاصی مطمئن ہوئی تھی۔
’’تمہیں پتہ ہے اسے اغوا کرنے والے کون تھے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’نہیں ۔‘‘
’’اسے بریڈ شاہ نے اغوا کروایاتھا اور ٹریڈ ویل اور بینس بھی اس کے ساتھ تھے۔‘‘ میں نے کہا میر اخیال تھا کہ چیئرلوٹ اس خبر پر حیران ہوگی لیکن ایسا نہیں ہواتھا۔
’’اس پرمجھے حیرت نہیں ہے۔‘‘ اس نے کہا۔
’’چیئرلوٹ مجھے بتائو کہ سب کیاہورہاہے تم جو کچھ بھی جانتی ہووہ مجھے بتائو۔‘‘ میںنے کہا۔
’’جافری کو آزاد کرواتے وقت تم نے کسی کوقتل تو نہیں کیا؟‘‘ میری بات کے جواب میں پوچھا۔
’’نہیں‘ کیا کوئی مسئلہ ہے تم نے مجھ سے کہاتھا کہ جافری کی زندگی بچانے کے لیے اگر مجھے کسی کومارنا بھی پڑے تو میں مار سکتاہوں۔‘‘
’’ہاں‘ میں نے کہاتھا‘ تم جانتے ہو کہ جب ہم ملے تومیں نے بتایاتھا کہ میں sisکے لیے کام کررہی ہوں۔‘‘
’’ہاں مجھے یاد ہے اور تمہارا باس میری ویدر؟‘‘
’’وہ بھی sisکے لیے ہی کام کرتاتھا لیکن اب وہ سینٹرل آرگنائزیشن میں خود مختار ہوگیاہے اور وہ ایک ایسا آپریشن کررہاہے جو بہت حساس ہے اور وہ موقع کی مناسبت سے صورت حال تبدیل کرتا رہتاہے۔‘‘
’’جیسے کہ یہ آپریشن؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’لیکن میں کافی حد تک کنفیوز ہوں تم نے مجھے پہلے جافری کوقتل کرنے کے لیے کہاپھر حفاظت کرنے کے لیے ؟‘‘
’’سنو‘ ہمیں اطلاع ملی تھی کہ جافری کی زندگی خطرے میں ہے چنانچہ میں نے اور میری ویدر نے فیصلہ کیا کہ اسے بچائیں چنانچہ ہم نے ایک منصوبہ بنایااور تمہاری خدمات حاصل کیں اور پھر ہم قاتل سے محافظ میں بدل گئے او راب تک ہمار امنصوبہ کامیابی سے چل رہا ہے۔‘‘
’’پھر اب جافری والے معاملے میں معاہدے کی خلاف ورزی کیوں ہو رہی ہے ؟‘‘
’’میراخیال ہے درمیان میں کوئی ڈبل ایجنٹ ہے جو ہمارے راز افشا کررہاہے اور یہی وجہ ہے کہ روسی اور چائنیز بھی میدان میں اتر آئے ہیں اور جافری کومارنا چاہتے ہیں۔‘‘
’’اور ہماری انٹیلی جنس اسے کیوں مارنا چاہتی ہے ؟‘‘
’’اس کی بھی وہی ایک وجہ ہے وہ ایک معاشیاتی جینئس ہے میں تمہیں مشورہ دوں گی کہ تم اسے اپنی رہائش گاہ پر مت لے جانا کہیں اور غائب ہوجائو جہاں تمہیں کوئی ڈھونڈ نہ سکے۔‘‘
’’ٹھیک ہے… کیامیں بریڈشاہ کو قتل کرسکتا ہوں؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’نہیں… جب تک کہ ایسا کرنا ناگزیر نہ ہو یعنی وہ جافری کو قتل کرنے کی کوشش کرے تب ہی تم اسے مار سکتے ہو۔‘‘ چیئرلوٹ نے کہااور میں نے فون بند کردیا۔
’’وہ کیا کہہ رہی تھی؟‘‘ جافری نے مجھ سے پوچھا۔
’’اس کاکہناہے کہ تم ایک معاشیاتی جینئس ہو۔‘‘
’’نہیں ایسا نہیں ہے وہ تو معاشیات کی ایک تھیوری ہے جس پرمیں کام کررہاہوں۔‘‘ اس نے ہنس کرکہا۔
’’تھیوری یافارمولا… ایسا فارمولا جس کی خاطر کسی کوقتل کردیاجائے؟‘‘ میں نے حیرت سے کہا۔
’’ہاں‘ تم ٹھیک کہتے ہو۔‘‘
’’لیکن معاشیات تو محض طلب اور رسد کا مضمون ہے اس میں کسی کی جان لینا نہیں ہوتی۔‘‘ میں نے کہا۔
’’دراصل میری تھیوری طلب اور رسد پرمبنی نہیں ہے بلکہ میری تھیوری ایسی ہے کہ اسے استعمال کرنے والا ملک اپنی تمام تجارتی ملکوں پر برتری حاصل کرلے گااور سب سے زیادہ فائدہ حاصل کرے گا۔‘‘ جافری نے کہا اورجب میں نے ا س کے لفاظ کی گہرائی کااندازہ لگایا تومیری سمجھ میں آیا کہ تجارتی میدان میںبرتری اور منافع حاصل کرنے کے لیے تو ہرملک ایک دوسرے سے سبقت لے جانا چاہے گااوراس مقصد کوحاصل کرنے کے لیے روپیہ پیسہ اورانٹیلی جنس کے اداروں کوبھی استعمال کیاجانا ناممکن نہیں ہے اس طرح ملکوں کے درمیان معاشی جنگ چھڑ سکتی ہے چاہے وہ سب پر سبقت لے جانے کے لیے ہو یا دوسروں کو سبقت حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ہو اگر واقعی جافری کوئی ایسا فارمولا ایجادکرچکاہے یااس پرکام کررہاہے تواس کی جان کوبھی خطرہ ہوسکتا ہے مجھے احساس ہوا کہ چیئرلوٹ نے اس کی حفاظت کے لیے میری خدمات حاصل کرکے غلطی نہیں کی۔
’’یہ فارمولاکام کیسے کرے گا؟‘‘ میں نے جافری سے پوچھا۔
’’یہ ایکسچینج ریٹ میکنزم کے ذریعے کام کرے گااوراسے انٹرنیشنل مارکیٹ میں بولیاںلگانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔‘‘ جافری نے کہااور مجھے یہ سمجھنے میںدیر نہیں لگی کہ اس فارمولے کو UKکی حکومت استعمال کرنا چاہتی تھی اس نے جافری کی خدمات حاصل کی تھیں او راب چیئرلوٹ کے ذریعے اس کی جان کی حفاظت کی جارہی تھی۔
’‘’کیا تم برطانوی انٹیلی جنس کے لیے کام کررہے ہو؟‘‘ جافری نے مجھ سے سوال کیا۔
’’تم نے ایسا کیوں سوچا۔‘‘
’’تم چیئرلوٹ اور میری ویدر کے لیے کام کررہے ہو اس لیے۔‘‘
’ہاں تم ٹھیک سمجھے ہو۔‘‘میں نے جواب دیا پھرمیں نے اسے اپنے بارے میں بتایاتھا کہ میری کس طرح چیئرلوٹ سے ملاقات ہوئی اور میں پہلے آرمی میں اسپیشل برانچ میں تھا میری بات مکمل ہونے پر کچھ دیر خاموشی رہی تھی۔
’’اب یہ سب کچھ اپنے انجام تک کیسے پہنچے گا؟‘‘ کچھ دیر بعد جافری نے خاموشی کوتوڑا۔
’’تم فکر مت کرو ہم اس مشکل سے نکل جائیںگے میں نے تمہارے ساتھ اڑتالیس گھنٹے گزارے ہیں اور میں ابھی تک تمہیں بچانے میں کامیاب رہاہوں اور آئندہ بھی رہوںگا۔‘‘میں نے کہا وہ رات ہم نے کار ہی میں گزاری تھی‘ شروع کی آدھی رات جافری نے جاگ کر ڈیوٹی دی تھی اور باقی رات میری باری تھی ہم ساحل کے قریب مرینہ کے علاقے میں تھے اور مارکیٹ چند قدم کے فاصلے پرہی تھی یہاں دو پولیس افسرہمیں چیک کرچکے تھے وہ جاننا چاہتے تھے کہ ہم اتنی رات گئے وہاں کیوں ٹھہرے ہوئے ہیں‘ میں نے انہیں راستہ بھٹکنے کابہانہ بنادیاتھاوہ چلے گئے تھے لیکن پھر وہاں رکنا میں نے مناسب نہیں سمجھاتھا پھراس سے پہلے کہ میں کار آگے بڑھائوں دومزید پولیس اہلکار وہاں پہنچ گئے تھے‘ کار میں سے ایک پولیس افسر ہمارے قریب آیاتھااوراس نے بھی پہلے پولیس افسر کی طرح ہم سے سوالات کیے تھے‘ میں نے اس کے سوالوں کے بھی جوابات دیئے تھے وہ مطمئن ہو کر پیچھے ہٹ گیاتھا میں کار سے باہر آگیاتھااوراس سے مصافحہ کرکے واپس کار میں بیٹھنے لگاتھا کہ اس کے ساتھ کھڑے دوسرے پولیس افسر نے اچانک ہی ریوالور نکال کر جافری پرفائر کیاتھا جو کار میں بیٹھاتھا حسن اتفاق اسے گولی نہیں لگی تھی کیونکہ میں نے فائر ہونے سے ایک سیکنڈ پہلے ہی پولیس افسر کے ریوالور پرہاتھ ماراتھا جس سے اس کانشانہ خطا ہوگیاتھا اوراس پولیس افسر نے جھلا کرمجھ پر چھلانگ لگادی تھی لیکن میں اس حملے کے لیے پہلے ہی تیار تھا میں نے اس کا وار خالی دیتے ہوئے اس پر جوابی حملہ کیا تھااوراس کونیچے گرادیاتھا میں نے اس کے بازو سختی سے پکڑے ہوئے تھے تب مجھے احساس ہوا کہ پولیس آفیسر کی وردی میں ایک عورت تھی لیکن اس کاجسم سخت اور مضبوط تھااس کے ہاتھ سے گرے ریوالور کو میں نے دور اچھال دیاتھااوراپنے دوسرے ہاتھ سے اس کاگلا مضبوطی سے پکڑ لیاتھا لیکن اس نے تیزی سے قلابازی کھائی تھی اورایک زور دار کک میرے پیٹ میں ماری تھی لیکن اس سے پہلے کہ وہ میری پہنچ سے نکلتی میں نے بھی ایک زوردار مکا اس کے جبڑے پرماراتھا مجھے حیرت تھی وہ نہایت بہادری اور مردانہ انداز میں میرا مقابلہ کررہی تھی میں نے ابھی تک اس کی کلائی پکڑی ہوئی تھی اس کے باوجود اس نے دونوں پیروں پر اچھلتے ہوئے فضا میں چھلانگ لگائی تھی اور دونوں پائوں میرے پیٹ پر مارے تھے اس کے جوتوں کی نوکدار ایڑیاں میرے پیٹ میں چبھی تھیں اور مجھے شدید درد کااحساس ہواتھا لڑائی کے دوران اس کے سر سے ہیٹ اترگیاتھااوراس کے سیاہ لمبے بال بکھرگئے تھے جن سے مہنگے ہیئر کنڈیشنر کی خوشبو آرہی تھی میں اب تک اس کاچہرہ نہیں دیکھ سکاتھا کیونکہ رات اندھیری تھی اور خاصے فاصلے پرلگے بجلی کے پول کی روشنی وہاں تک پوری نہیں پہنچ رہی تھی۔ میں نے اسے گرا کراس کے دونوں بازو اس کی پشت پر پکڑلیے تھے میں نے اپنا گھٹنا اس کی پشت پرگڑھایا ہواتھااورمیں ایسی پوزیشن میں تھا کہ ایک اشارے سے اس کی ریڑھ کی ہڈی توڑ سکتاتھا وہ شاید میرے ارادے بھانپ گئی تھی اچانک اس نے نرم مگر غیر جذباتی انداز میں مخاطب کیا۔
’’کیاتم فوجی ہو؟ میرا نام ایکس رنگ ہے میں جانتی ہوں تم اس کی حفاظت کررہے ہو اگرتم مجھے چھوڑ دو گے تو میں تمہاری مدد کروں گی… میرے پاس اہم انفارمیشن ہے…‘‘ اس نے کہالیکن میں نے اس کی بات سن کراس پراپنی گرفت ڈھیلی نہیں کی تھی اچانک میری نظر سامنے کی طرف پڑی جہاں ایکس رنگ کاساتھی پولیس افسر جافری کوپکڑے کھڑاتھا اس کے ہاتھ میںبھی ریوالور تھا۔
’’اسے چھوڑ دو…‘‘ اس نے ایکس رنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا‘ میرے لیے کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ جافری اس کے قابو میں تھامیں نے ایکس رنگ کواس طرح چھوڑا کہ اسے چھوڑتے چھوڑتے ایک چھلانگ لگائی اورایکس رنگ کا ریوالور جو کچھ فاصلے پرپڑاتھا وہ اٹھا کر پولیس افسر کانشانہ لیالیکن ایکس رنگ نے زیادہ پھرتی دکھائی تھی اس سے پہلے کہ میں فائر کروں وہ دوڑ کر سامنے کھڑی اپنی سفید رنگ کی وین میں بیٹھی تھی اور وین دوڑادی تھی۔
’’اپنی گن پھینک دو ورنہ میں فائر کردوں گا۔‘‘ میں نے پولیس افسر کودھمکی دی اوراس نے گن پھینک دی۔
’’کارمیں بیٹھو۔‘‘ میں نے جافری سے کہااور وہ کار کی طرف دوڑااس وقت میری نظر بجلی کے پول میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے پرپڑی اورمجھے اپنی غلطی کااحساس ہوا میں نے پہلے اس کی موجودگی وہاں محسوس نہیں کی تھی میں بھی تیزی سے جافری کے ساتھ کار میں بیٹھااور جافری نے کار تیزی سے آگے بڑھادی ہم ایک سرخ رنگ کی وین کاپیچھا کررہے تھے۔
’’یہ سب کیا ہے؟‘‘ اچانک جیسے جافری کوہوش آگیا۔
’’ایکس رنگ تمہیں ہیلو کہنے آئی تھی۔‘‘ میں نے کہا۔
’’کون ایکس رنگ؟‘‘ اس نے پوچھا لیکن میں نے اس کاجواب دینے کے بجائے چیئر لوٹ کو کال ملائی۔
’’ہیلو تم نے کیوں فون کیاہے؟‘‘ دوسری طرف سے چیئرلوٹ کی آواز سنائی دی۔
’’ضروری بات تھی۔‘‘
’’کیا جافری خیریت سے ہے…وہ زندہ ہے؟‘‘ چیئر لوٹ نے پوچھا۔
’’ہاں وہ ٹھیک ہے میرا خیال ہے میں اس چائنیز قاتلہ سے ملا ہوں‘ جس کانام ایکس رنگ ہے۔‘‘
’’وہ بہت سے نام استعمال کرتی ہے اس کاحلیہ کیساتھا؟‘‘ چیئر لوٹ نے پوچھا۔
’’بہت خوبصورت ‘پھول‘ دل لبھانے والی کالے گھنے لمبے بال اور چیتے جیسی پھرتیلی وہ جوڈو کراٹے کی ماہر ہے اور کسی گرگٹ کی طرح چھلانگیں لگاتی ہے۔‘‘
’’ہوں… یہ وہی لگتی ہے جسے جافری کوقتل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے کیاتم نے اسے مار دیا۔‘‘
’’نہیں … وہ بچ نکلی ہے۔‘‘
’’تووہ دوبارہ حملہ کرے گی؟‘‘
’’میں جانتاہوں اور تمہیں بتاتاچلوں کہ یہاں کی پولیس بھی اس معاملے میں دلچسپی لے رہی ہے لیکن میرا خیال ہے کہ انہیں معاملے کی حقیقت کااندازہ نہیں لیکن ایکس رنگ کسی نہ کسی طرح ان سے مدد لے رہی ہے اور شاید ان کے ذریعے ہی وہ ہمیں ڈھونڈنے میں کامیاب ہوئی ہے اور پولیس اپنے احکامات اپنے کسی سینٹر سے لیتی ہے کسی ایسے افسر سے جو سانتا کروزمیں موجود ہے اور جس کارابطہ برطانوی سفارت خانے سے ہے اگر تم یہ معلوم کرسکوں کہ وہ شخص کون ہے تووہ لندن میں موجود تمہارے غدار تک تمہاری رہنمائی کرسکتا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے میں تمہیں پھر کال کروں گی۔‘‘چیئرلوٹ نے کہااور فون بند کردیاایکس رنگ کی سفید وین ہماری نظروں سے اوجھل ہوگئی تھی اور اب سامنے سے مجھے ایک اور پولیس کار آتی نظر آرہی تھی پھر وہ ہمارے برابر سے گزرگئی تھی اس کی چھت پر لگی وارننگ لائٹس آن تھیں‘ انہوں نے ہمیں دیکھ لیاتھا کار کے اندر دو پولیس افسر موجود تھے کار پھر پلٹ کرآئی تھی مجھے ہرحال میں جافری کی حفاظت کرناتھی میرے پاس دو ہی راستے تھے ان سے لڑوں یا فرار ہوجائوں میںجانتاتھا کہ ان کے پاس گنیں ہیں اور میں دو مقامی پولیس والوں کومارنا نہیں چاہتاتھا ‘ اس سے میری مشکلات میں اضافہ ہوسکتاتھا میں نے ایک فیصلہ کیا اور کار کی رفتار بڑھادی اب میں تیزی سے کار مختلف سڑکوں پر دوڑارہاتھا اور پولیس کار کو دھوکادینے کی کوشش کررہاتھا‘ آخر ایک موقع پر ہم نے کار چھوڑ دی اور اپنے اپنے بیگ لے کر کار سے چھلانگ لگادی۔ اب ہم لمبی ویران سڑک پر دوڑ رہے تھے‘ ہمیں دورایک دیوار بنی نظر آرہی تھی۔
’’جافری دوڑتے رہو ہمیں اس دیوار تک پہنچنا ہے۔‘‘ میں نے جافری سے کہااور پھر جب ہم اس دیوار تک پہنچے تھے تو مجھے احساس ہوا تھا کہ ایک پولیس افسر بھی ہماری طرح دوڑتے ہوئے ہمارا تعاقب کررہاتھااوران کی کار بھی کچھ فاصلے پر تھی میں نے دیوار کے پیچھے جافری کوبیگوں سمیت چھپنے کے لیے کہااور خود ان پولیس افسران کامقابلہ کرنے کافیصلہ کیا۔ پھر میں نے اسے مہلت نہیں دی تھی اوراس کے قریب پہنچنے سے پہلے اس پرچھلانگ لگادی تھی اورایک رولنگ بیرل کی طرح اس کو اپنے ساتھ لیتا دور تک لڑھکتا چلا گیاتھا پھرجیسے ہی وہ زمین پر گراتھا میں اس کے اوپر تھاپھراس سے پہلے کہ وہ سنبھلتا میں نے ایک زور دار مکا اس کے جبڑؑے پر ماراتھااوراس کاسر ایک طرف لڑھک گیاتھا میں نے اس کی گن اپنے قبضے میں کی اور جافری کی طرف اچھال دی جسے اس نے اپنے بیگ میں رکھ لیااب مجھے دوسرے پولیس افسر کاانتظار تھا جو کچھ فاصلے پر کار میں ہماراانتظار کررہاتھااور اس واقعے سے بے خبر تھا۔
میںنے جافری کو وہیں چھپنے کااشارہ کیااور دیوار کے دوسری طرف بڑھا مجھے دیوار کے پیچھے سے کسی کار کے انجن کی آواز سنائی دے رہی تھی جب میں نے چھلانگ کر دیکھا تو دوسرا پولیس آفیسر کار میں بیٹھا تھا دوسری طرف سڑک سنسان تھی اور کچھ فاصلے پرچار کاریں کھڑی تھیں سڑک پر لگے ہوئے بجلی کے کھمبوں کی روشنی مدھم تھی لیکن دیکھنے کے لیے کافی تھی پولیس کار کچھ ہی فاصلے پر موجود تھی اس کارخ ساحل سمندر کی طرف تھا کار کادروازہ کھلاتھا میں نے ہاتھ میں پہلے سے پکڑے ہوئے دو پتھروں میں سے ایک سمندر کی طرف اچھال دیا پتھر کے نیچے گرتے ہی چھپاکا ہوااور پولیس افسر کار سے باہر آگیا وہ آواز کی سمت کااندازہ لگانے کی کوشش کررہاتھا پھرمیں نے دوسرا پتھر بھی اچھال دیاتھا اور پولیس افسر اس کی آواز کی سمت بڑھا تھا میں اندھیرے میں تیزی سے اس کی طرف بڑھا اور پیچھے سے اس پرچھلانگ لگاکر اسے اپنی مضبوط گرفت میں جکڑ لیا پھراس سے پہلے کہ وہ کوئی آواز نکالے میں نے اپنے ہاتھ میںموجود ریوالور کے بٹ سے اس کی کنپٹی پردوضربیں لگائی تھیں اور وہ بے ہوش ہوگیاتھا۔ میں تیزی سے جافری کے پاس جانے کے لیے پلٹاتھا اوراس وقت میری نظر اس سفید وین پرپڑی تھی جس میں ایکس رنگ فرار ہوئی تھی میر ی ریڑھ کی ہڈی میں سردی کی سرد لہر محسوس ہوئی اورمجھے خطرے کااحساس ہوا، میں نے فوراً اپنے ریوالور پر اپنی گرفت مضبوط کرلی اوراسی لمحے مجھے اندھیری سڑک پر ایک سیاہ ہیولا نظر آیا وہ ایکس رنگ ہی تھی اس نے میری طرف رائفل تانی ہوئی تھی میںنے پھرتی سے اس پرفائر کیا اوردوسرے ہی لمحے ایکس رنگ کے ہاتھ سے رائفل چھوٹ کر دور جاگری اس کے ساتھ ہی ایکس رنگ پیچھے کی طرف گری تھی اور اس سے پہلے کہ میں دوسرا فائر کروں وہ اٹھ کرتیزی سے اندھیرے میں غائب ہوگئی تھی۔ میں نے چند لمحے اسے ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی لیکن ناکام رہاتھا مجھے اس کے قدموں کی آواز تک سنائی نہیں دی تھی شاید یہ بھی اس کی کنگ فو ٹریننگ کاحصہ تھا میں نے اس کی رائفل اٹھائی اور پھراس کی سفید وین کی تلاشی لی لیکن وہاں کچھ نہیں تھا میں پھر جافری کے پاس پہنچ گیاتھا۔
’’کیاہوا؟ میں نے فائر کی آواز سنی تھی کیاتم نے پولیس مین پرگولی چلائی تھی؟‘‘
’’نہیں چلو یہاں سے چلو جلدی۔‘ میں نے کہا۔
’’تمہیں یہ رائفل کہاں سے ملی؟‘‘ اس نے میرے ہاتھ میں پکڑی رائفل کے بارے میں پوچھا۔
’’میں پھر بتائوں گا۔‘‘میں نے کہااور پولیس کار کی طرف بڑھا۔
’’ہم پولیس کار میں جائیں گے۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’میرے ساتھ دوڑ کر اس کار میں سوار ہوجائو بہت پھرتی سے۔‘‘ میں نے جافری سے کہااور پھر اس نے ایسا ہی کیاتھا میں نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی تھی اور جافری میرے برابر والی سیٹ پر آبیٹھا تھا۔ہم نے پہلے اپنے بیگ اور رائفل پیچھے ڈالے تھے تب ہمیں پتہ چلا کہ کار کی پچھلی سیٹ پرایکس رنگ بے ہوش پڑی تھی اس نے سیاہ لباس پہناہواتھااوراس کے سیاہ بال اس کے چہرے پر پھیلے ہوئے تھے اس کاکالے رنگ کابیگ اس کے قریب پڑاتھا‘ میں نے وہ اٹھا کر جافری کی طرف بڑھادیا۔
’’چیک کرو اس میں کیا ہے ؟‘‘ میں نے کہااور وہ بیگ چیک کرنے لگا میں نے دیکھا کہ ایکس رنگ کے پہلو میں گولی لگی تھی اور زخم سے خون بہہ رہاتھا۔
’’اس کے بیگ میں تین پاسپورٹ ہیں ایک اسپینی ہے ‘ ایک برٹش ہے او رایک ہانگ کانگ کاہے اور اس کے علاوہ بہت زیادہ رقم بھی ہے۔‘‘ جافری نے مجھے بتایا اس نے ہاتھ میں جو نوٹ اٹھائے ہوئے تھے وہ مختلف ملکوں کی کرنسی میں تھے۔
’’اس کے پاس ایک فون بھی ہے جس میں ٹریک کرنے والاریسیور لگا ہے اس کے فون کی کال بیٹری بڑی دلچسپ ہے۔ ‘‘ جافری مستقل بول رہاتھا۔ ’’اس نے پچھلے چوبیس گھنٹے میں پانچ کالیں ریسیو کی ہیں او روہ سب ایک ہی نمبر سے کی گئی ہیں اور یہ سینٹر ل لندن کانمبر ہے۔‘‘
’’کیا؟‘‘
’’ہاں‘ دیکھو۔‘‘ جافری نے فون میری طرف بڑھایااور میں نے ہسٹری چیک کی وہ درست کہہ رہاتھا‘ اس کامطلب تھا کہ سینٹرل لندن سے کوئی اسے کالیں کررہاتھا جس کامطلب تھا کہ وہ ہمارے غدار کواطلاعات دے رہی تھی یہ بات ہمارے لیے فائدہ مند ہوسکتی تھی اورہم اس کے ذریعے غدار تک پہنچ سکتے تھے اس خیال کے آتے ہی میں نے ایکس رنگ کومارنے کاارادہ ترک کردیااور اب میں اس کوبچانے کے بارے میں سوچ رہاتھا۔ میں نے کار اسٹارٹ کی اور آگے بڑھادی میراارادہ کورٹش کی لانچ پر جانے کاتھااس نے پہلے بھی میری مدد کی تھی اور وہ یقینا اب بھی میری مدد کرسکتی تھی جافری حیران تھا کہ ایکس رنگ کے بارے میں میر ارویہ بدل گیاتھا۔
جب میں کورٹس کی لانچ پرپہنچا تووہاں وہ موجود تھی اور کھلے سمندر میںجانے کی تیاریاں کررہی تھی۔ میںنے اسے ایکس رنگ کے بارے میں بتایاتھا اور اپنی اور جافری کی پوزیشن بھی واضح کی تھی اور بتایاتھا کہ میںجافری کی زندگی بچانے کی کوشش کررہاہوں چنانچہ اس نے میری مدد کرنے کی ہامی بھرلی تھی او رایک لیڈی ڈاکٹر کو لانچ پر لائی تھی اور ایکس رنگ کے جسم سے گولی نکلوائی تھی میں اس کابے حد ممنون تھا پھرمیںنے چیئر لوٹ کوفون کرکے بتایاتھا کہ ایکس رنگ لندن میں کس رابطے سے بات کرتی ہے اوراس کافون نمبر کیاہے چیئر لوٹ بہت حیران ہوئی تھی وہ جاننا چاہتی تھی کہ مجھے ایکس رنگ کافون کہاں سے ملا لیکن یہ بات میں نے اسے نہیں بتائی تھی۔
ایکس رنگ میری شکرگزار تھی کہ میں نے اس کی زندگی بچائی تھی لیکن اسے بہت کمزوری تھی اور وہ آرام کررہی تھی‘ لیڈی ڈاکٹر جنیفر اس کی دیکھ بھال کرنے کے لیے لانچ ہی پر رک گئی تھی وہ کورٹش کی اچھی دوست تھی ‘میں نے ایک پورا دن سب کے ساتھ لانچ پر گزارا۔ ایکس رنگ کے ہاتھوں میں میں نے ہتھکڑیاں ڈالی ہوئی تھیں جن کے بارے میں ڈاکٹر جنیفر اور کورٹش کوبتادیاتھا‘ جافری ساری صورت حال میں پراعتماد رہاتھا میں موقع کے انتظار میں تھا کہ ایکس رنگ سے بات کرسکوں۔آخر یہ موقع مجھے مل ہی گیا۔
’’میں تمہارے ساتھ ایک سودا کرنا چاہتاہوں۔‘‘ میںنے ایکس رنگ کے بیگ سے اس کافون نکالتے ہوئے کہا۔
’’ہاں‘ کیسا سودا’؟‘‘اس نے پوچھا۔
’’اب لندن میں موجود شخص جب تمہیں کال کرے تو اسے بتانا کہ تم نے مجھے اور جافری کو قتل کردیاہے۔‘‘
’’کیوں ؟‘‘
’’غلط اطلاع دینا بھی سچائی پتہ کرنے کاایک ذریعہ ہوسکتا ہے۔‘‘
’’بدلے میں مجھے کیاملے گا؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’تم واپس اپنے گھر جاسکتی ہو۔‘‘
’’میرا کوئی گھر نہیں ہے۔‘‘ اس نے کہا وہ میری آنکھوں میں جھانک رہی تھی۔
’’تمہارے والد برطانوی تھے جس کی رو سے تم برطانوی شہری ہو میری مدد کرو جب یہ معاملہ نمٹ جائے گا تو میں انہیں بتائوں گا کہ تم نے کیسے میری مدد کی تم برطانیہ میں نیاگھر بناسکوگی او رنئی زندگی شروع کرسکوگی۔‘‘
’’اور اگر میں مدد کرنے سے انکار کردوں؟‘‘
’’توتمہیں زندہ رکھنا میرے لیے خطرناک ہوگا۔‘‘ میں نے کہااس کی نظریں میرے چہرے سے نہیں ہٹی تھیں ۔
’’مجھے مار کرتمہیں کیاملے گا؟‘‘
’’میں تمہیں بھلا نہیں سکوں گا۔‘‘ میں نے کہااور وہ دھیرے سے مسکرادی۔
’’میں تمہاری مدد کروں گی۔‘‘ اس نے کہااور اسی وقت مجھے کسی دوسری لانچ کے انجن کی آواز سنائی دی‘ میں نے سمندر میں نظریں دوڑائیں کچھ ہی دور ایک پولیس کی لانچ تیزی سے ہماری لانچ کی طرف آرہی تھی۔
’’یہ میرے والد ہیں وہ پولیس کے چیف ہیں۔‘‘ کورٹش نے کہا جومیرے قریب ہی کھڑی تھی میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
’’میرے والد نے مجھے کئی بار کال کی وہ جانتے تھے تم میری لانچ میں ہو‘ وہ چاہتے تھے کہ میں تمہیں واپس لے جائوں۔‘‘
’’تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟‘‘
’’میں بتانے والی تھی میر اخیال نہیں تھا کہ وہ یہاں تک آئیں گے۔‘‘
’’لیکن وہ آگئے ہیں۔‘‘ کورٹش نے کہا اور ایکس رنگ کی طرف دیکھا جوہماری باتیں سن رہی تھی۔
’’میرے ہاتھ کھول دو اور مجھے گن دے دو میں تمہیں بچالوں گی۔‘‘ ایکس رنگ نے کہا لیکن میں اس پربھروسہ نہیں کرسکتاتھا۔
’’تم سیکورٹی فرم سے کیسے ملیں؟‘‘ میں نے ایکس رنگ سے پوچھا۔
’’یہ بات مجھے لندن سے آنے والی کال میں کہی گئی تھی کہ میں ان سے رابطہ کروں انہیں انفارم کردیاگیاہے۔‘‘
’’لندن سے تم سے کون بات کرتاتھا؟‘‘
’’وہ ایک مشینی آواز ہے جو صرف پیغام مجھ تک پہنچاتی ہے میں کسی شخص سے واقف نہیں۔‘‘
’’میں تم پر بھروسہ نہیں کرسکتا۔‘‘
’’توپھرتم یہاں سے کیسے بچ کرنکلوگے؟‘‘ ایکس رنگ نے پوچھااور میں نے جافری کی طرف دیکھا وہ موقع کی نزاکت کو سمجھ گیاتھا اوراس نے اپنابیگ اپنے کاندھوں پر ڈال لیاتھا گویا سمندر میں چھلانگ لگانے کے لیے بالکل تیار تھاپھرجیسے ہی وہ بوٹ قریب آئی تھی اس میں سے تین پولیس آفیسرز ہماری لانچ پرآئے تھے جن میں ایک کورٹش کاوالد تھا میںنے سب سے پہلے اسے زمین پر ڈھیر کیاتھااور پھر دوسرے پولیس افسر کوزخمی کرنے کے بعد تیسرے کی طرف پلٹا تھا اوراسے سمندر میں گرادیاتھا پھرجافری کے ساتھ میں نے پولیس لانچ پرچھلانگ لگادی تھی او رلانچ چلاتا ہوا کورٹش کی لانچ سے دور نکل گیاتھا‘ اس کے بعد میں نے اپناK106 نکالاتھا اور سمندر میں قریب ترین جزیرے کامحل وقوع معلوم کیا تھا وہ ہم سے دس میل کے فاصلے پر تھامیں نے لانچ کا رخ اس سمت موڑ دیاتھا‘ اس کے بعد میںنے چیئر لوٹ سے رابطہ کیاتھا اوراسے نئی صورت حال سے آگاہ کیاتھا اس نے مجھ سے نئی رہائش کاانتظام کرنے کاوعدہ کیاتھالیکن اس میں وقت لگ سکتاتھا جبکہ فی الوقت مجھے ہی کچھ کرناتھا میںنے اپنے ذہن میں نیا منصوبہ بناناشروع کردیا پھرK106 کے ذریعے میں نے اپنی لانچ کوایک پرسکون ساحل پرروکاتھا جزیرے پر عمارتیں اور چھوٹا سا بازار نظر آرہاتھا چھٹیوں پرآئے ہوئے کچھ لوگ سمندر کی لہروں سے لطف اندوز ہو رہے تھے جنہوں نے ہمیں کوئی توجہ نہیں دی تھی۔ پھر میں نے ساحل پر بنے ایک کیفے میں چائے پینے کاپروگرام بنایاتھا میری خواہش پرجافری نے مجھے حیرت سے دیکھا تھا لیکن وہ بولا کچھ نہیں تھا مجھے امید تھی کہ کورٹش کے والد ہمارے تعاقب میں پولیس کے ساتھ وہاں پہنچ سکتے تھے اوراب مجھے وہاں سے فرار کے لیے ایک کار کی ضرورت تھی کیفے میں بیٹھنے کے لیے میں نے جس میز کاانتخاب کیاتھاوہاں سے مجھے باہر کھڑی کاریں صاف نظر آرہی تھیں‘ جن میں سے ایک کامجھے انتخاب کرناتھااور یہ کام میں چائے پینے کے دوران کرسکتاتھا پھرہوابھی یہی تھامیری نظرایک کار پرپڑی تھی جو ابھی وہاں پہنچی تھی اوراس میں سے دو لڑکیاں تیراکی کے لباس میں باہر آئی تھیں ان کے ہاتھوں میں ان کے بیگ تھے او رکچھ سامان بھی تھا انہوں نے کچھ فاصلے پروہ چیزیں رکھی تھیں اور نہانے کے لیے پانی میں اتر گئی تھیں میرے لیے یہ موقع غنیمت تھا میںنے جافری کواشارہ کیاوہ میرا مطلب سمجھتے ہی اٹھ کھڑا ہوا اور میں آہستہ آہستہ لڑکیوں کے سامان کی طرف بڑھا وہ سمندر میں نہارہی تھیں ان کادھیان سامان کی طرف نہیں تھا میں نے ایک بیگ کھولااور اتفاق سے مجھے اسی بیگ میں چابی مل گئی‘ میں نے چابی اپنی پتلون کی جیب میں ڈالی اور کار کی طرف بڑھ گیا‘ جافری میرے ساتھ تھا ہم نے پلٹ کرپیچھے نہیں دیکھاتھا پھر میں اس چابی سے کار کادروازہ کھول ہی رہاتھا کہ مجھے اپنے عقب سے جانی پہچانی آواز سنائی دی۔
’’مجھے امید تھی تم مجھے یہاں مل جائوگے۔‘‘ میں نے پلٹ کر دیکھا بریڈ شا میرے سامنے کھڑاتھا اس کی کار اس سے کچھ فاصلے پر ہی تھی اور کار کے قریب اس کے ساتھی ٹریڈ ویل اور بینس کھڑے تھے لیکن وہ تینوں ہی نہتے تھے بریڈ شا نے دوستانہ انداز میں میری طرف ہاتھ پھیلائے ہوئے تھے میرا ہاتھ بھی گن تک پہنچتے پہنچتے رک گیا۔
’’تم نے ہمیں کیسے ڈھونڈا؟‘‘ میں نے پوچھا ساتھ ہی میں اطراف میں بنی بلند وبالا عمارتوں کو بھی بغور دیکھ رہاتھا جہاں کسی اچھے نشانہ باز کی موجودگی کونظرانداز نہیں کیا جاسکتاتھا چنانچہ میںنے لڑنے میں پہل نہ کرنے کافیصلہ کرلیاتھا۔
’’ہم نے تمہیں تمہارے K106 کے سگنل سے ٹریک کیا ہے کیاتمہیں چیئرلوٹ نے بتایاتھا کہ اب K106 کواستعمال کرنا محفوظ ہے؟‘‘ بریڈ شا نے کہا اور مجھے اس کی اس بات پر حیرت ہوئی کیونکہ واقعی چیئرلوٹ نے مجھ سے ایسا کہاتھا پھریہ بات بریڈ شا کوکیسے معلوم تھی؟ میں نے اس بات کابریڈ شاہ کوکوئی جواب نہیں دیاتھا۔
’’تم سے پچھلی ملاقات کے بعدمیں بہت مصروف رہا ‘ہمارے درمیان جونئی صورت حال پید اہوگئی ہے میں نے اس پربہت سوچا کیوں نہ تم میرے ساتھ آئو ہم تمہارے ولا چلیں گے اور وہاں بیٹھ کربات کریں گے۔‘‘ بریڈ شاہ نے کہا‘ میں نے پھراس کی بات کاجواب نہیں دیااور کار میں بیٹھنے کے لیے دروازہ کھولا جافری بھی کار میں بیٹھ گیاتھا۔
’’میری ایک بات سنو چیئر لوٹ پر بھروسہ مت کرنا۔‘‘ بریڈ شا نے پھر کہا۔ ’’وہ خود کوجوظاہر کرتی ہے ویسی نہیں ہے۔‘‘ اس نے کہا میں اس سے پوچھنا چاہتاتھا کہ وہ ایساکیوں کہہ رہا ہے لیکن اسی وقت ایک تیز رفتار کار مٹی اڑاتی ہمارے درمیان سے گزری اور میں نے دیکھا اس میں روسی ایجنٹ والڈامیر بیٹھاہواتھا میرے لیے خاصی پریشانی بڑھ گئی تھی ناصرف بریڈ شا نے ہمیں ڈھونڈ لیاتھا بلکہ روسی ایجنٹ بھی شاید ہمارے K106 کے سگنلز کے ذریعے ہم تک پہنچ گئے تھے او راب چیئر لوٹ بھی ہمارے لیے مشکوک ہوگئی تھی میں تیزی سے کار میں بیٹھااور بغیر سوچے سمجھے کار آگے بڑھادی کارپرروسی ایجنٹوں نے فائرنگ کی تھی لیکن میں نے ان کاجواب دینے کے بجائے وہاں سے فرار ہونے کوترجیح دی تھی پھرمیں مختلف سڑکوں اور گلیوں کے درمیان سے گزرتا اور اپنا تعاقب کرنے والوں کودھوکادیتا آگے بڑھتا چلاگیا تھا‘ ہمار اتعاقب بریڈ شاہ نے نہیں کیا تھا بلکہ روسی کررہے تھے لیکن کچھ دیربعد ان کی کار بھی ہماری نظروں سے اوجھل ہوگئی تھی اب میرے ذہن میں نیامنصوبہ تھا مجھے رات گزارنے کے لیے کسی محفوظ جگہ کابندوبست کرناتھامیں نے یہ یقین کرنے کے بعد کہ اب ہمارا تعاقب نہیں کیاجارہا ایک اسٹیٹ ایجنسی کے سامنے کار روک دی لیکن کار اس طرح کھڑی کی کہ اسے باہر کی طرف سے دیکھا نہیں جاسکتاتھا اورمیں جافری کے ساتھ ایجنسی میں داخل ہوگیا جہاں ایک خوبصورت ‘ درمیانہ قد اور خوش اخلاق لڑکی ہمارے استقبال کے لیے موجود تھی کار سے اترتے وقت اس کی چابیاں میں ساتھ ہی لے آیا تھا کہ شاید مجھے پھراس کی ضرورت پڑے۔
’’ہیلو‘ کیا تم انگلش بول سکتی ہو؟‘‘ میں نے اسپینی زبان میں اس سے پوچھا جس پراس نے مسکرا کر اثبات میں سردن ہلادی۔
’میرانام ماریا ہے۔‘‘ اس نے کہا۔ ’’میں آپ کی کیامدد کرسکتی ہوں؟‘‘
’’ہم چھٹیاں گزارنے ٹینی رف آئے ہوئے ہیں اور یہاں سے کچھ فاصلے پر رہائش پذیر ہیں مجھے یہ جگہ پسند آگئی ہے اور میں کچھ وقت یہاں گزارنا چاہتاہوں کیا ہمیں رہائش کے لیے کوئی جگہ مل جائے گی۔‘‘
’’ہاں ضرور… کیا آپ کو کوئی ولا چاہیے یافلیٹ؟‘‘
’’میراخیال ہے ایک ولاہی ٹھیک رہے گا۔‘‘ میں نے جواب دیا جس پراس نے ہمیں کئی ولاز کی تصویریں دکھائیں اوران میں سے میں نے ایک پسند کرلیا‘ میں اسٹیٹ ایجنسی میں زیادہ دیر ٹھہرنا نہیں چاہتاتھا کیونکہ روسی ایجنٹ کسی وقت بھی وہاں پہنچ سکتے تھے ۔ ولاپسند کرنے کے بعد میںنے ماریا سے اس ولا کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی او روہ ہمیں ولا دکھانے کے لیے تیار ہوگئی پھر وہ اپنی ہی کار میں ہمیں ولا تک لے گئی تھی راستے میں چیئرلوٹ کافون آیا تھا جسے میں نے مختصر بات کرکے کاٹ دیاتھا‘ کچھ ہی دیر میں ہم ولا تک پہنچ گئے تھے جوبہت خوبصورت بناہواتھا اوراس کے آس پاس کوئی دوسر ی رہائش بھی نہیں تھی ولامجھے بہت پسند آیا تھا۔
’’کیاتمہیں ولا پسند آیا؟‘‘ ولا دکھانے کے بعد ماریا نے مجھ سے پوچھا۔
’’ہاں مجھے پسند ہے۔‘‘ میں نے جواب دیا جس پر ماریا نے اپنا بزنس کارڈ مجھے تھمادیا۔
’’کیا واپسی سے پہلے میں ٹوائلٹ استعمال کرسکتاہوں؟‘‘ میںنے پوچھا۔
’’ہاں ہاں بالکل۔‘‘ ماریا نے کہااور میں نچلی منزل پر بنے ٹائلٹ کی طرف بڑھ گیا پھرمیںنے زیادہ دیر نہیں لگائی تھی چند منٹوں میں ہی میں واپس آگیاتھا لیکن ٹوائلٹ کی ایک کھڑکی جوباہر کی طرف کھلتی تھی اسے ان لاک کردیاتھاکیونکہ میراارادہ اس میں خفیہ طور پر واپس آنے کاتھا‘ واپسی پر میں نے ماریا سے کہہ دیاتھا کہ ہم وہیں آس پاس انجوائے کرنا چاہتے ہیں اور کچھ دیر بعد واپس جائیں گے چنانچہ وہ ہمیں وہیں چھوڑ کر چلی گئی تھی اس کی کار کے نظروں سے اوجھل ہوتے ہی میں جافری کے ساتھ ولا کی پشت پر گیاتھا اطراف کاجائزہ لیاتھادور دور تک کوئی نہیں تھا میں نے اندازے سے ٹوائلٹ کی کھڑکی ڈھونڈھ کرکھولی تھی یہ وہی کھڑکی تھی جسے میں اندر سے کھول کر آیاتھا‘ اس کھڑکی کے راستے میں اور جافری پھر ولا میں داخل ہوگئے تھے اور وہاں سکون سے رات گزارسکتے تھے ہم اوپر منزل میں آگئے تھے پھر میں نے کچن میں جاکر چائے بنائی تھی اپنے بیگ سے بسکٹ کے کچھ پیکٹ نکالے تھے اور چائے پی تھی جس کے بعد میں سوگیاتھا جافری کی باری جاگنے کی تھی میرے بعد اسے سوناتھا۔
ایک گھنٹے بعد جب میری آنکھ کھلی تو چیئرلوٹ نے فون کیا۔
’’حالات کیسے ہیں ؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’تمہارے دوست بریڈ شا اور اس کے دونوں ساتھیوں سے ملاقات ہوئی بریڈ شاہ کہتاہے کہ مجھے تم پربھروسہ نہیںکرنا چاہئے تم جیسی نظر آتی ہو ویسی ہونہیں۔‘‘ میں نے کہا۔
’’کیامطلب؟‘‘
’’میں نہیں جانتا؟‘‘
’’وہ تمہیں تمہارے راستے سے ہٹانا چاہتا ہے یاپھر کوئی اسے غلط اطلاعات دے رہا ہے تم نے اس پریقین تو نہیں کیا؟‘‘ چیئر لوٹ نے پوچھا۔
’’تم نے مجھے کال کیوں کی ہے؟‘‘ میں نے اس کی بات کاجواب دینے کے بجائے پوچھا۔
’’میں تمہیں ایک پلان کے بارے میں بتانا چاہتی ہوں کیاتم مجھ پر یقین کروگے؟‘‘
’’تم پلان بتائو۔‘‘ میں نے پھراس کی بات نظر انداز کی۔
’’ہمیں غدار کاپتہ چل گیا ہے وہ وہائٹ ہال میں بہت سنیئر ہے اور گورنمنٹ میں اس کابڑا اثر ہے تم نے مجھے چائنیز ایجنٹ سے لے کر جو نمبر دیاتھا وہ اس کاہی ہے۔‘‘
’’وہ کون ہے ؟‘‘
’’میں ابھی نہیں بتاسکتی۔‘‘
’’کیوں ؟‘‘
’’ابھی اس کے خلاف ہمیں کچھ ثبوت چاہئیں۔‘‘
’’یعنی وہ ابھی آزاد رہے گا اور ہمارے خلاف کارروائی کرتارہے گااورہم اسے ماریں گے نہیں کیونکہ تم اس سے راز خود اگلوائوگی۔‘‘ میں نے غصے سے کہا۔
’’ہاں ایسا ہی ہے۔‘‘
’’اوراگر ہم سے پہلے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا تو؟‘‘
’’تم اسے روکوگے‘یہی ایک راستہ ہے۔‘‘
’’کیایہ بات جافری کوزندہ رکھنے سے بھی زیادہ ضروری ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’نہیں‘ ہمیں دونوں کا خیال رکھناہے جافری کوبھی زندہ رکھناہے اور غدار کوبھی پکڑناہے… بولو کیاتم یہ کرسکوگے ؟‘‘ چیئرلوٹ نے پوچھا میں چند لمحے کے لیے خاموش ہوگیا جافری فکرمندی سے مجھے دیکھ رہاتھا۔
’’اگرتم نے یہ کرلیاتو یاد رکھو تمہیں ایک نئی ملازمت ملے گی جوتمہارے لیے بہت فائدہ مند ہوگی۔ یہ میر اوعدہ ہے اگر تمہیں مجھ پریقین نہیں ہے تو میں میری ویدر سے تمہاری بات کرواسکتی ہوں۔‘‘
’میں جافری کی حفاظت کرتارہوں گااگر اسے مارنے کوئی آیا تو اس شخص کو اس وقت تک مارنے سے گریز کروں گا جب تک کہ ناگزیر نہ وہ۔‘‘
’’ہاں ٹھیک ہے مجھے تم پربھروسہ ہے۔‘‘ چیئرلوٹ نے کہا ۔’’کیاتم پلان کے بارے میں جاننا چاہتے ہو؟‘‘
’’ہاں بتائو کیا پلان ہے ؟‘‘
’’کیا تم جانتے ہو کہ اس وقت کتنے لوگ تمہارے تعاقب میں ہیں؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’بریڈ شا‘ ٹریڈ ویل‘ بینس اور تین روسی اس کے علاوہ مقامی پولیس‘ اور چائنیز ایکس رنگ جس کا تعلق ہانک کانگ سے ہے۔‘‘
’’کیاوہ اب بھی تمہارے تعاقب میں ہیں؟‘‘
’’ہاں… کیوں ؟‘‘
’’ہمارے پلان کا حصہ ہے کہ میں تمہاری لوکیشن کوظاہر کروں گی او رپھر جو غدار ہے وہ کسی قاتل کو اس کے بارے میں بتائے گا وہ کوئی بھی ہوسکتا ہے‘ ہانگ کانگ کی ایکس رنگ یاروسی ایجنٹ کوئی بھی۔‘‘
’’کیا…؟ تم پاگل تو نہیں ہوگئی ہو؟ یہ پلان نہیں ہے خودکشی ہے تم ہمیں چارے کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہو مجھے جافری کی حفاظت کی ذمہ داری دے کر لوگوں کوخود ہمارے پیچھے لگانا چاہتی ہو اور یہ بھی چاہتی ہو کہ میں قاتل کوماروں نہیں بلکہ زندہ پکڑوں۔‘‘میںنے کہااور اسی وقت مجھے اور جافری کوشور سنائی دیا جیسے کوئی لفٹ کے ذریعے اوپر آرہا ہو ہم دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔
’’مجھے جانا ہے۔‘‘ میں نے تیزی سے چیئرلوٹ سے کہااور فون بند کردیا۔
’’بیگ اٹھائو۔‘‘ میں نے جافری سے کہا۔’’ہم ابھی یہاں سے جارہے ہیں۔‘‘ جافری میری بات پوری ہونے سے پہلے ہی اپنی جگہ سے اٹھ چکاتھامیں نے فون جیب میں رکھااور آگے بڑھا۔
’’کس راستے سے جانا ہے؟‘‘ جافری نے پوچھا۔
’’سیڑھیوں سے۔‘‘ میںنے کہا اسی وقت ایک روسی فرنٹ سیڑھیوں پر نمودار ہوا اورمیں نے تیزی سے اس کی کنپٹی پرگھونسہ ماراجس کے لیے وہ تیار نہیں تھا وہ لڑھکتا ہوا نیچے جاگراتھا اور پھراٹھا نہیں تھا اسی وقت مجھے والڈ امیر اس طرف آتا دکھائی دیا اس کے ہاتھ میں مشین گن تھی۔ ہم دونوں تیزی سے سیڑھیوں سے واپس اوپر جانے لگے اور ہمارے پیچھے والڈامیر نے کئی فائر کردیئے ‘ اوپر جانے کے بعد میں نے جافری کو کمرے کے کونے میں کھڑا کیاجہاں سے وہ والڈامیر کونظر نہیں آسکتاتھا اور اسے چپ رہنے کااشارہ کیاپھرمیں والڈامیر کے اوپر آنے کاانتظار کرنے لگا تھا پھر میں نے جافری کی طرف دیکھا۔
’’تم خاموش رہواور یہیں ٹھہرو میں ابھی آتاہوں۔‘‘ میںنے سرگوشی میں کہا۔
’’مجھے اکیلا مت چھوڑو۔۰‘‘ اس نے خوفزدہ آواز میں کہا۔
’’اچھا ہم جس راستے سے آئے تھے اسی راستے سے واپس جائیں گے۔‘‘ میں نے جافری سے کہااور آہستہ آہستہ پھرنچلی منزل میں موجود ٹائلٹ کی طرف بڑھنے لگا دوسرے روسی کے قدموں کی آواز دور ہوتی چلی گئی تھی شاید وہ اپنے تیسرے ساتھی کو صورت حال بتانے کے لیے گیاتھا میں نے موقع غنیمت جانااور جافری کے ساتھ ٹائلٹ کی کھڑکی کے راستے باہر آگیا ۔روسی ابھی تک اندر ہی تھے۔
’’اب کیا کریں ؟‘‘ جافری نے فکرمندی سے کہا۔
’’ہم گیراج کی طرف جاکر صورت حال کاجائزہ لیں گے۔‘‘ میں نے کہااور گیراج کی طرف بڑھا میرے ہاتھ میں ریوالور تھی جافری مجھ سے چند قدم پیچھے تھااوراس نے بیگ اٹھائے ہوئے تھے۔
گیراج کادروازہ کھلا تھامیں چپکے سے اندر داخل ہواوہاں ایک کار کھڑی تھی لیکن خاموشی تھی میں آگے بڑھا میراارادہ کار پرقبضہ کرنے کاتھا لیکن میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ کار کے اسٹیئرنگ وہیل سے ماریا کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور منہ پرپٹی بندھی تھی وہ مجھے دیکھ کر طرح طرح کی آوازیں نکالنے لگی لیکن منہ پربندھی پٹی کی وجہ سے کچھ بولنے سے قاصر تھی۔
’’تم محفوظ ہو… میں برطانوی گورنمنٹ کے لیے کام کرتاہوں میں تمہاری مدد کروں گا۔‘‘ میں نے اس سے کہا اوراس کے منہ پربندھی پٹی کھول دی۔
’’انہوں نے کہا تھا کہ وہ تمہارے دوست ہیں پھر انہوں نے گن دکھا کرمجھے اغوا کرلیااور مجھ سے تمہارا پتہ پوچھ کر یہاں آگئے۔‘‘ ماریہ نے سرگوشی میں بتایا۔
’’اچھاٹھیک ہے … پرسکون رہو… یہ بتائو کار کی چابیاں کس کے پاس ہیں؟‘‘ میںنے پوچھا۔
’’لیڈر کے پاس۔‘‘
’’لیڈر کون ہے ؟‘‘
’’جس کے ہاتھ میں مشین گن ہے۔‘‘ اس نے کہااور میں نے فوراً ایک فیصلہ کیا۔
’’تم دونوں ایسا کرو کہ یہاں سے نکل جائو تم مرینہ کی طرف مت جانا بلکہ ساحل کی طرف جانااور چھوٹی پہاڑی کے پیچھے چھپ جانا میں وہیں آئوں گا میں کار کی چابیاں لے کر کار لائوں گااورپھرہم وہاں سے نکل جائیں گے۔‘‘ میں نے کہا میری تجویز جافری کوپسند نہیں آئی تھی وہ ایک لمحے کو بھی مجھ سے جدا نہیں ہونا نہیں چاہتاتھا۔
’’اگر تیس منٹ تک میں نہ آئوں توتم پولیس کے پاس چلے جانا اور انہیں سب کچھ بتادینا۔‘‘ میں نے کہاتو ماریہ نے اثبات میں سرہلایااور میں جافری کی طرف مڑا۔
’’اگرمیں تیس منٹ تک نہ آئوں تو تم چیئرلوٹ کو کال کرکے سب بتادینا تم ماریہ کے ساتھ پولیس کے پاس مت جانا تم چیئر لوٹ کی اگلی ہدایات کاانتظار کرنا۔‘‘
’’میں تمہارے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔‘‘ جافری نے خوفزدہ آواز میںکہا۔
’’نہیں‘ تمہیں روسیوں سے دوررہناہے ان کے پاس مشین گن ہے ابھی تم ماریہ کے ساتھ جائو میں جلد تم تک پہنچ جائوں گا۔‘‘ میں نے کہا۔
ماریہ اور جافری کے وہاں سے جانے کے بعد میری ساری توجہ تینوں روسی ایجنٹس کی طرف ہوگئی اور میں آہستہ سے سیڑھیوں کی طرف بڑھا ‘فرنیس اب بھی وہاں بے ہوش پڑاتھا لیکن اسے نظر انداز کرتاہوا میں سیڑھیاں چڑھتااوپر پہنچاتھا کوئی آہٹ یاآواز سنائی نہیں دے رہی تھی میں کچن کی طرف بڑھاتب مجھے ان روسیوں کے باتیں کرنے کی آواز آئی۔ والڈ امیر کرسی پربیٹھا تھااوراپنے زخم پرپٹی باندھنے کی کوشش کررہاتھاجبکہ اس کے پاس جو روسی کھڑاتھااس کے ہاتھ میں مشین گن تھی او روہی لیڈر تھا میں نے موقع سے فائدہ اٹھا کر اس پرفائر کیا گن اس کے ہاتھ سے نکل کردور جاگری اوروہ ایک طرف لڑھک گیا‘ اتنی دیر میں والڈامیر اپنی جگہ سے اٹھ گیاتھااور اپنا ریوالور اٹھانے کی کوشش کررہاتھا لیکن میں نے اسے اتناموقع نہیں دیا تھا اوراپنے ریوالور کابٹ اس کی کنپٹی پرتیزی سے ماراتھااور وہ لڑکھڑا کر گرگیاتھا یہ میرا پسندیدہ وارتھا اس طرح میں اپنے حریف کو بے ہوش کردیتاتھا‘ میں نے والڈامیر کا ریوالور اور مشین گن پرقبضہ کرلیاتھااورانہیں میز پررکھ کرمڑاہی تھا کہ پشت سے روسی لیڈر نے مجھ پر حملہ کردیاتھا میں نے اندازہ لگایا کہ وہ ٹرینڈ فائٹر تھا اور شاید روسی فوج سے ریٹائرڈ تھا‘ کیونکہ اس کی مہارت اس کی بہترین فائٹنگ کی چغلی کھارہی تھی مجھے اس کوزیر کرنے میں کئی منٹ لگے تھے آخر کار میں اسے بھی بے ہوش کرنے میں کامیاب ہوگیاتھا اور اس کی جیب سے مجھے ماریہ کی کار کی چابی مل گئی تھی میں چاہتاتو ان تینوں کے سروں میں گولیاں اتار سکتاتھا لیکن میں نے ایسا نہیں کیاتھا میں نے انہیں ولاہی میں چھوڑاتھااور چاہتاتھا کہ پولیس ان کوگرفتار کرے میں نے وہیں سے کورٹش کوفون کیاتھااور ان کے بارے میں بتایاتھا اور کہاتھا کہ اپنے والد سے کہو کہ ان تینوں کو گرفتار کرلیں پھر میں کار لے کر ساحل کی طرف روانہ ہوگیاتھا جہاں ماریہ اور جافری میرے منتظر تھے پھرجب وہ کار میں بیٹھنے کے لیے آگے بڑھے تو جافری کے چہرے پرمجھے خوف کے سائے نظر آئے وہ میرے پیچھے دیکھ رہاتھا میں نے اس کی نظروں کے تعاقب میں مڑ کر پیچھے دیکھا بریڈ شا میرے پیچھے موجود تھا اوراس کے پیچھے ٹریڈ ویل اور بینس کھڑے تھے۔
بریڈ شا پرسکون نظر آرہاتھا اوراس کے ساتھی بھی خوش تھے انہوں نے میری شرٹ کوخون آلو د دیکھ لیاتھا کیونکہ فائٹنگ کی وجہ سے میرے زخم کے ٹانکے کھل گئے تھے اوران سے خون بہہ رہاتھا بریڈ شا سمجھ رہاتھا کہ اس نے مجھے نیچا دکھادیاہے مجھے بھی اسے دیکھ کر حیرت نہیں ہوئی تھی اس کی یہاں موجودگی نے ایک بات واضح کردی تھی کہ اگر انہیں جافری کو مارنے کے آرڈر ملے بھی تھے تووہ ختم ہوچکے تھے کیونکہ انہوں نے اب کوئی ایسی کوشش نہیں کی تھی وہ یقینا روسی ایجنٹوں کاتعاقب کرتے ہوئے ہم تک پہنچے تھے انہوں نے یقینا ماریہ اور جافری کوولاسے نکلتے دیکھاہوگااوران کے تعاقب میں یہاں تک آئے ہوں گے‘ اس عرصے میں اگر وہ جافری کو مارنا چاہتے تو بہت آسانی سے مار سکتے تھے۔
’’روسیوں کے مقابلے میں میری مدد کرنے کاشکریہ۔‘‘ میں نے بریڈ شا پرطنز کیا۔
’’میں جانتاتھا تم انہیں قابو کرلوگے۔‘‘ اس نے میری خون آلود شرٹ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’تم تو زخمی ہو۔‘‘
’’یہ بہتر وقت ہے کہ ہم بات کرکے معاملہ حل کرلیں۔‘‘ بریڈ شا نے کہا۔
’’ہاں کیوں نہیں‘ آئو… کارمیں بیٹھ جائو تم ماریہ کی کار میں بیٹھ کر مجھ سے بات کرسکتے ہو۔‘‘ میںنے کہا۔ پھراس سے پہلے کہ وہ کار میں بیٹھے میں نے ماریہ اور جافری کوبیٹھنے کااشارہ کیا تھاسب کے بیٹھتے ہی میں نے کار آگے بڑھادی تھی بریڈ شا کے دونوں ساتھی وہیں اپنی کار کے ساتھ کھڑے رہ گئے تھے۔ بریڈ شا میرے ساتھ اگلی سیٹ پرتھااور جافری اور ماریہ پیچھے بیٹھے تھے۔
’’اگرتم اس سارے معاملے سے بخیریت نکلنا چاہتے ہو تو تمہارے سامنے ایک ہی ر استہ ہے کہ مجھ پر بھروسہ کرو۔‘‘ بریڈ شا نے کہا۔
’’بھلامیں ایسا کیوں کروں ؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’یہ کام ہم نے چیئرلوٹ کے ساتھ مل کرشروع کیاتھا وہ اب اپنے باس کو پروٹیکٹ کررہی ہے ہم دونوں مل کرمعاملے کودرست کرسکتے ہیں۔‘‘
’’اس بات کی وضاحت کرو تم کہنا کیا چاہتے ہو؟‘‘
’’چیئر لوٹ بھی میری ویدر کے ساتھ اسپیشل انٹیلی جنس میں کام کرتی تھی پھراس کے ادارہ چھوڑنے کے بعد اس کے ساتھ مل کر کام کرنے لگی وہ دونوں سمجھتے ہیں کہ وہ سب کچھ جانتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے ۔‘‘
’’میں تم لوگوں کی ذاتی لڑائی کے بارے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔‘‘ میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔’’تم نے اور چیئر لوٹ نے مل کر مجھے اس معاملے میں ڈالا تھاجو روسی ہم سے ٹکرائے وہ بھی ایک حقیقت ہیں اور اگر چائنا نے کسی قاتلہ کوبھیجا اور مقامی پولیس بھی مداخلت کررہی ہے تو میں اور جافری بہت خوش قسمت ہیں کہ زندہ ہیں جبکہ تم اور چیئر لوٹ یہی فیصلہ نہیں کرپارہے ہو کہ اس کھیل کا ہیرو کون ہے میں اپنی زندگیوں کے لیے جدوجہد کررہاہوں مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ کون غدار کوبے نقاب کرتا ہے میں بس اس معاملے کو انجام تک پہنچانا چاہتاہوں تاکہ یہاں سے ہم واپس جاسکیں۔‘‘ اپنی گفتگو کے دوران میں نے محسوس کیا کہ بریڈ شا کے تاثرات تبدیل ہوئے ہیں اور وہ کچھ سمجھنے کی کوشش کررہاہے کوئی ایسی بات جو پہلے اس کی سمجھ میں نہیں آئی تھی ۔ اس نے تیزی سے اپنا ریوالور نکالا اورمیری طرف اٹھایا میں نے تیزی سے ایک ہاتھ اس کے ریوالور پر ماراتھااور دوسرااس کی گردن پرمیرا وار اتنا طاقت ورتھا کہ وہ اپنی سیٹ پر تڑپنے لگا اسے سانس لینے میں مشکل ہو رہی تھے۔
’’تمہارا نرخرہ دو تین دن تک سوجھا رہے گا۔‘‘ میں نے کہا بریڈ شا نے کوئی جواب نہیں دیا۔
’’تم نے گن کیوں نکالی تھی بتائو معاملہ کیاہے؟‘‘ میںنے پھر پوچھا لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیااس وقت کار کی رفتار تیز نہیں تھی بریڈ شا نے اپنی طرف کادروازہ کھولااورباہر کود گیا پھروہ سڑک پار کرکے ودسری طرف بھاگتا چلاگیا تھامیں نے اس کے پیچھے جانامناسب نہیں سمجھاتھا اور اطمینان سے کار ڈرائیور کرتارہاتھا۔
’’تمہاراکیاخیال ہے؟‘‘ میں نے جافری سے پوچھا۔ جو میری اور بریڈ شاہ کی گفتگو سنتارہاتھا۔
’’یوں لگاجیسے وہ خوفزدہ ہوتمہاراکیاخیال ہے ‘کہیں یہ غدار کوجانتاتو نہیں؟ میرا خیال ہے وہ ہمارے اندازے سے زیادہ جانتا ہے۔‘‘ جافری نے کہا لیکن میں سوچ رہاتھا کہ میرے اور جافری کے لیے اس معاملے سے نکلنے کاایک ہی راستہ ہوسکتا ہے اوروہ یقینا چیئرلوٹ کاراستہ نہیں ہے میں نے عقبی آئینے میں دیکھا ماریہ کانپ رہی تھی اس کاچہرہ سفید پڑگیا تھا اوراس کے چہرے پرخوف کے آثار تھے۔
’’جافری اسے سہارا دو شاید یہ ذہنی صدمے کاشکار ہے۔‘‘ میں نے جافری سے کہا اورا س نے ماریہ کو اپنی بانہوں میں لے لیا ماریہ نے آنکھیں بند کرلی تھیں اور میں نے کار کارخ ڈاکٹر جینفر کی رہائش کی طرف موڑ دیاتھا جس کاپتہ میں نے اس سے کورٹش کی لانچ پر پوچھ لیاتھا۔
’’اب اگلامنصوبہ کیاہے؟‘‘جافری نے پوچھا۔
’’اس وقت ہمیں ڈاکٹر کی ضرورت ہے جینفر کی رہائش پرجارہاہوں۔‘‘ میںنے کہا میری بات پر جافری نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیاتھا۔
ڈاکٹر جینفر کے اپارٹمنٹ کے باہر مجھے ایک پولیس آفیسر نظر آیا تھا لیکن اپارٹمنٹ کے اندر کوئی پولیس آفیسر نہیں تھا میں جافری اور ماریہ کے ساتھ اس کے فلیٹ تک پہنچاتھااوربیل بجائی تھی۔
’’اوہ تم…؟ میں تو سوچ رہی تھی کہ شاید تم سے اب ملاقات نہ ہو۔‘‘ ڈاکٹر جینفر نے مجھے دیکھ کر حیرت سے کہااور دروازہ کھول کرپیچھے ہٹ گئی۔
’’کیاتمہارے فلیٹ پر کوئی پولیس گارڈ نہیں ہے ؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’نہیں انہوں نے مجھے کسی پولیس گارڈ کی آفر نہیں کی … تم یہاں محفوظ ہو۔‘‘ اس نے دروازہ بند کرتے ہوئے کہا پھراس کی نظریں میری خون آلود شرٹ پرپڑی تھیں۔
’’اوہ تمہارے ٹانکے شاید کھل گئے ہیں۔‘‘ اس نے کہا۔
’’ہاں‘ لیکن تم پہلے اسے دیکھو یہ صدمے میں ہے۔‘‘ میں نے ماریہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو جینفر اس کی طرف متوجہ ہوگئی۔
’’اسے کیاہوا ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’تین روسیوں نے اسے گن پوائنٹ پر اغواکرنے کی کوشش کی تھی ہم نے اسے بچایاہے۔‘‘ جافری نے کہااور میں نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا جینفر پھرماریہ کی طرف متوجہ ہوئی تھی اور تب ہی میرے کانوں سے ایک جانی پہچانی نسوانی آواز ٹکرائی۔
’’ہیلو‘ دوبارہ مل کر خوشی ہوئی۔‘‘ میں نے چونک کر سراٹھایا تو چائنیز قاتلہ ایکس رنگ میرے سامنے کھڑی تھی میں جنیفر کے فلیٹ پر اس کے ملنے کی توقع نہیں کرسکتاتھا میرا ہاتھ بے اختیار میرے ریوالور پرجاکررک گیاتھا لیکن میں نے اسے نکالا نہیں وہ میرے سامنے نہتی کھڑی تھی۔
’’یہ زخمی تھی اور میں اس کی دیکھ بھال کررہی تھی چنانچہ اسے لانچ سے واپسی پر اپنے ساتھ لے آئی تھی۔‘‘ جنیفر نے کہا۔
’’مجھے امید نہیں تھی کہ اتنی جلدی تم سے دوبارہ ملاقات ہوجائے گی۔‘‘ میں نے کہا۔
’’تم لڑتے رہے ہو…‘‘ اس نے میری بات کاجواب دینے کے بجائے میری خون آلود شرٹ چھوتے ہوئے کہا۔
’’اپنے ہاتھ اوپر اٹھائو۔‘‘ میں نے اسے تنبیہ کی تو اس نے فوراً اپنے ہاتھ اپنے سر کے اوپر اٹھالیے تھے۔
’’اگرتم کومجھ پربھروسہ نہیں ہے توتم مجھے گولی مارسکتے ہو۔‘‘ ایکس رنگ نے کہا۔
’’جافری اس کونشانے پررکھو اگر کوئی حرکت کرے تو گولی مار دینا۔‘‘ میں نے اپنا ریوالور جافری کوتھماتے ہوئے کہا اور خود ایکس رنگ کی تلاشی لی لیکن اس کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا پھر میں نے اسے جافری کی مدد سے باندھ دیااس مقصد کے لیے میں نے جینفر سے رسی لی تھی اس نے اعتراض بھی کیا لیکن میں نے اس سے کہا کہ وہ میرے واپس جانے کے بعد اسے کھول سکتی ہے پھر جینفر نے میرے ٹانکوں کی صفائی کی تھی ایکس رنگ کی نظریں مستقل مجھ پر لگی ہوئی تھیں۔
’’کوئی نئی خبر؟‘‘ میںنے اس سے پوچھا۔
’’لندن سے اب تک میر اکوئی رابطہ نہیں ہوا ہے نہ ہی میں انہیں دوبارہ رپورٹ کرسکی ہوں جب تک مجھے اگلے احکامات نہیں ملتے میرے لیے صورت حال پریشان کن رہے گی۔‘‘
’’میری پیشکش ابھی تک برقرار ہے میری مددکرو۔‘‘میں نے کہا۔
’’اگرتم مجھ پربھروسہ نہیں کرتے ہوتومیں تمہاری مدد کیسے کرسکتی ہوں؟‘‘ ایکس رنگ نے کہا میں نے اس کی بات کاکوئی جواب نہیں دیا تھا ڈاکٹر جینفر نے ماریہ کو ایک کمرے میں آرام کرنے کے لیے لٹادیاتھااور میں جافری کے ساتھ فلیٹ سے واپس نکل گیاتھا ایکس رنگ کی نظریں اب بھی میرے چہرے پر تھیں۔
’’میرے پیچھے مت آنا اپنے گھرواپس جائو۔‘‘ میں نے ایکس رنگ سے کہا۔
’’میر اکوئی گھر نہیں ہے۔‘‘ میں نے ایکس رنگ کو کہتے سنا پھر ڈاکٹر جینفر نے دروازہ بند کرلیاتھا۔
’’کیاتمہیں پتہ تھا کہ ایکس رنگ ہمیں یہاں مل جائے گی؟‘‘ میرے کار میں بیٹھتے ہی جافری نے مجھ سے پوچھا۔
’’نہیں‘ بھلا میں یہ سوچ بھی کیسے سکتاتھا… دیکھو جافری میں صرف ایک بات جانتاہوں کہ ہم دونوں کو ہرحال میں ایک ساتھ رہناہے تمہیں مجھ پر بھروسہ کرناہوگا میری ذمہ داری ہی تمہاری حفاظت کرناہے۔‘‘ میں نے اسے سمجھایا۔
’’ہاں تم ٹھیک کہتے ہو۔‘‘ جافری نے کہا۔’’میں ایکس رنگ کودوبارہ دیکھ کرخوفزدہ ہوگیاتھا۔‘‘
’’میں تمہاری کیفیت سمجھ سکتاہوں۔‘‘
’’اب چیئر لوٹ کیا چاہتی ہے ؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’وہ چاہتی ہے کہ ہم اس کے پلان پر عمل کریں۔‘‘
’’اوراس کاپلان کیا ہے ؟‘‘
’’تمہیں اس کاپلان سمجھ نہیں آئے گا لیکن وہ ہمیں چارے کے طور پراستعمال کرنا چاہتی ہے۔‘‘
’’کیامطلب ؟‘‘
’’وہ ہماری لوکیشن کے بارے میں خبر عام کردے گی اور غدار جو لندن میں ہے تمہیں مارنے کے لیے نیا قاتل بھیجے گااور ہمیں اس قاتل کوزندہ گرفتار کرنا ہوگا۔‘‘
’کیوں؟‘‘
‘‘چیئرلوٹ اس سے غدار کے بارے میں معلومات لے گی اور سیاسی طورپر غدار کوبے نقاب کرے گی اور پھرہم آزادی سے اپنے وطن واپس جاسکیں گے۔‘‘
‘’’اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے ؟‘‘
’’اس کے علاوہ ایک راستہ ہے ہم اپنا پلان خود بنائیں۔‘‘ میں نے کہا۔ میں کار کومختلف سڑکوں پر گھماتا پھررہاتھا اور کسی ایسی پرسکون جگہ کی تلاش میں تھا جہاں کسی کی نظروں میں آئے بغیر میں چیئرلوٹ کو کال کرسکوں اور جافری سے بھی موجودہ صورت حال پربات کرسکوں سورج آہستہ آہستہ ڈھل رہاتھا۔ میں نے ایک ہوٹل کے احاطے میں دوسری گاڑیوں کے درمیان کار کھڑی کردی او رانجن بند کردیا پھر میں چیئرلوٹ کوفون کرنے کے لیے نمبر ملاہی رہاتھا کہ اچانک فون کی گھنٹی بجی ‘ دوسری طرف سے کورٹش کال کررہی تھی میںنے کال ریسیو کی لیکن دوسری طرف سے ایک مردانہ آواز سنائی دی۔
’’میں ریموس کورٹش بول رہاہوں چیف آف پولیس۔‘‘
’’تم کووہ تین تحفے مل گئے جومیں ولامیں تمہارے لیے چھوڑ آیاتھا۔‘‘ میں نے اس سے کہا وہ کورٹش کا باپ بول رہاتھا اور میرا اشارہ ان تین روسیوں کی طرف تھاجن کی گرفتاری کے لیے میں نے کورٹش کوفون کیاتھا۔
’’ہاں… وہ تینوں ہمیں مل گئے ہیں مجھے یہ بتائو کہ تم کہاں ہو؟‘‘
’’کیوں تم کیوں جاننا چاہتے ہو؟‘‘
’’میں ان تینوں کے سلسلے میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتاہوں کیاتم بتاسکتے ہو کہ وہ کون ہیں ؟‘‘
’’پہلے تم مجھے بتائو کہ وہ کیسے ہیں ؟‘‘ میں نے کہا۔
’’وہ اسپتال میں ہیں میرے آدمی ان کی نگرانی کررہے ہیں دو شدید زخمی ہیں او رایک کی حالت بہتر ہے اب تم بتائو کہ وہ کون ہیں ؟‘‘
’’وہ روسی ہیں اور انہیں یہاں جافری بٹن کومارنے کے لیے بھیجاگیاہے یہ وہی آدمی ہے جومیرے ساتھ ہے میں یہاں اس کی حفاظت کررہاہوں اوراسے زندہ رکھنا میر امشن ہے۔‘‘میںنے کہااور کال کاٹ دی میر اکام ہوگیاتھا مجھے پتہ چل گیاتھا کہ تینوں روسی پولیس کی نگرانی میں ہیں اور مجھے مزید تنگ نہیں کریں گے۔ میں نے یہ خوش خبری جافری کو سنائی تووہ بھی مسکرادیا۔
’’کیاوہ روسی بلٹ پروف جیکٹس پہنے ہوئے تھے ؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ہاں‘ میں نے دو کی جیکٹس اتار کراپنے بیگ میں رکھ لی تھیں۔‘‘ میں نے کہا اس کے بعد میں نے چیئر لوٹ کوکال کی تھی اس نے پہلی ہی رنگ پرکال ریسیو کی تھی۔
’’کیاتم دونوں ٹھیک ہو؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ہاں‘ میںجانناچاہتاہوںتمہاراپلان کیا ہے ؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’وہی جو میں نے تمہیں پہلے بتایاتھا میں تمہاری لوکیشن کے بارے میں خبر عام کروں گی قاتل جافری کومارنے آئے گا تم اسے روکوگے اوراسے زندہ میرے پاس لائوگے۔‘‘
’’یہ میں جانتاہوں میں اس کی تفصیل جاننا چاہتاہوں۔‘‘
’’میں نے ایک جگہ تمہارے لیے پسند کی ہے یہ جزیرے کے شمال میں واقع ہے کیاتمہارے پاس کار ہے؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ میں تمہیں کچھ دیر میں ایڈریس دیتی ہوں اس کے مطابق تم کام کرنا ولابالکل خالی ہے اور پہاڑی کے اوپر واقع ہے اس کے چاروں طرف گھنے درخت ہیں اس تک صرف ایک تنگ ساراستہ جاتا ہے اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ تم بہت اچھے کوہ پیما ہواور پہاڑ پر مہارت سے چڑھ سکتے ہو یہ دومنزلہ ہے اورخاصابڑا ہے اس کے باہر دور دور تک سیکورٹی سینٹر لائٹس لگی ہوئی ہیں یہ ایک جرمن کی ملکیت ہے اس کانام ملر ہے اور میں نے یہ تمہارے لیے ایک ہفتے کے لیے کرائے پر لیاہے بالکل ایسے جیسے تم چھٹیاں گزارنے وہاں گئے ہو تم وہاں اس سے ملوگے تم اسے رقم دوگے اور وہ تمہیں چابیاں دے گااسے رقم کیش میں دینا اسے 1650 ایروز دیناہوں گے کیاتمہارے پاس کافی رقم ہے ؟‘‘
’’ہاں… لیکن ؟‘‘
’’میں نے تمہارے نام اسمتھ اور جانسن بتائے ہیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے ۔‘‘ میں نے کہا۔
’’ولامیں دوربین بھی ہے جو تم استعمال کرسکتے ہو تم بہت دورسے بھی کسی کوادھر آتے ہوئے دیکھ سکتے ہو یہ جگہ تمہارے لیے آئیڈیل ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے مجھے یہ بتائو کہ جس شخص کو اب بھیجا جائے گا تم اس کے بارے میں کیاجانتی ہو؟‘‘
’’میں نہیں جانتی کہ وہ کون ہے ‘سوائے اس کے کہ وہ اب تک آئس لینڈ پہنچ چکا ہوگا۔‘‘
’’اوکے۔‘‘
’’میں تمہارے ولاپہنچنے کے بعد ہی تمہاری لوکیشن کو عام کروں گی اوراس کے بعد کسی بھی وقت قاتل تم تک پہنچ جائے گا۔‘‘
’’میں سمجھ گیا‘ اب مجھے بریڈ شا کے بارے میں بتائو میں سچائی جاننا چاہتاہوں۔‘‘
’’اوکے‘ سچ یہ ہے کہ بریڈ شا انٹیلی جنس کے لیے کام کرتا ہے او روہ دیئے گئے مختلف مشنز کی نگرانی کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم نے اسے اپنے ساتھ ملایامیں اس کی باس ہوں اور میری ویدر کے ساتھ مشاورت سے کام کرتی ہوں وہ ہماری ٹیم میں سب سے سنیئر ہے بریڈ شا یہ کام اپنے کسی آدمی سے کروانا چاہتاتھا لیکن ہم نے تمہاراانتخاب کیااور جب اسے پتہ چلا کہ دراصل تم جافری کے محافظ ہو تواسے یہ بات پسند نہیں آئی پھراسے پتہ چلا کہ دوسری انٹیلی جنس ایجنسیز بھی اس کام میں دلچسپی لے رہی ہیں تو اسے تشویش ہوئی ہم نے ابھی تک جافری کی اصلیت اسے نہیں بتائی تھی چنانچہ وہ ابھی صرف انتظارکاکھیل کھیل رہا ہے۔‘‘
’’تو تم بریڈ شا کواس بارے میں کیابتائوگی؟‘‘
’’ابھی ہم نے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔‘‘
’’دیکھو‘ اس سے پہلے کہ وہ کوئی احمقانہ حرکت کرے اسے کال کرکے حقیقت بتادو۔‘‘ میں نے کہا۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘چیئر لوٹ نے کچھ وقفے کے بعد کہا۔
’’تم نے یہاں سے ہمارے باہر نکلنے کے لیے ٹرانسپورٹ کاکیاانتظام کیا ہے؟‘‘
’’آئس لینڈ میں شمال کی طرف یہاں کے دارالحکومت سینٹاکروز میں ایک چھوٹاائرپورٹ ہے جہاں میں نے تمہاری پرواز کے لیے ایک چھوٹا جیٹ ہائر کیاہے اگر سب کچھ پلان کے مطابق ہوا تو تم تین افراد جافری‘ نیاقاتل اور تم تینوں اس میں واپس آئوگے میں خود بھی جیٹ میں سفر کروں گی چنانچہ میں تم سے ائرپورٹ پرملوں گی اور تمہاری کلیئرنس کروائوں گی۔‘‘
’’ٹھیک ہے لیکن میراخیال ہے یہاں کی پولیس ہم سے کچھ سوالات پوچھنا چاہتی ہے اس کے بغیر وہ ہمیں یہاں سے جانے نہیں دیں گے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’ان کی فکرمت کرو یہ معاملہ ہم خود دیکھ لیں گے۔‘‘
’’اوکے‘ گریٹ۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’اب مجھے اس نئے ولا کاایڈریس دو۔‘‘میرے کہنے پر اس نے میرے موبائل پر ایڈریس بھیج دیا تھااور مجھے لوکیشن بھی سمجھادی تھی۔
’’ٹھیک ہے ہم فوراً ہی روانہ ہورہے ہیں‘راستے میں ایک جگہ فیول لینے کے لیے رکیں گے۔‘‘
’’ٹھیک ہے میں تمہیں پھر کال کروں گی۔‘‘ چیئر لوٹ نے کہااور کال کاٹ دی۔
ہمارے سفر کاآغاز فوراً ہی ہوگیاتھا میں نے ولا کے راستے پرسفر کرتے ہوئے جافری کوساری تفصیل سمجھادی تھی ہم مطمئن تھے کہ معاملات ہمارے پلان اور مرضی کے مطابق آگے بڑھ رہے تھے اور مجھے امید تھی کہ ہم کامیابی سے ہمکنار ہوں گے کچھ دیرسفر کرنے کے بعد بے ترتیب بنی عمارتیں نظر آنے لگی تھیں جو ڈھلوان پہاڑی پربنی ہوئی تھیں اسی راستے میں آگے چل کر دوپیٹرول پمپ آئے جن میں سے ایک سے میں نے گاڑی میں فیول ڈالااور ہم پھرآگے بڑھ گئے راستے میں ڈرائیونگ کے دوران میں اور جافری چاکلیٹ اور چپس کھاتے رہے جو ہم نے پیٹرول پمپ پر واقع شاپ سے خریدے تھے جافری چاکلیٹ کھانے کے ساتھ ساتھ اپنے بیگ سے کاغذات نکال کر اس پرکچھ لکھتابھی جارہاتھا اس کاکہناتھا کہ وہ جس فارمولے پرکام کررہاہے وہ ابھی ادھورا ہے اور وہ جلد از جلد اسے مکمل کرنا چاہتا ہے اورپھر جب واپس اپنے وطن پہنچے گاتو ایسے دوسرے فارمولوں پر بھی کام کرے گا۔
ہم جس سڑک پر سفر کررہے تھے وہ آہستہ آہستہ اوپر کی طرف جارہی تھی اچانک پھر میرے فون کی بیل بجی دوسری طرف پھرچیئرلوٹ تھی۔
’’جرمن تم سے ملنے کے لیے ولا پرموجود ہے۔‘‘ چیئرلوٹ نے بتایا‘ وہ تمہارا منتظر ہے اس کانام نوربرملر ہے میری ویدر تم سے بات کرنا چاہتاہے۔‘‘
’’ہیلو… گڈ … تم وہاں موجود ہو… چیئر لوٹ نے مجھے بتایا کہ پلان مکمل ہوگیا ہے اور تمہیں بھی پسند آیا ہے اب جلد ہی ہم تم سے لندن میں ملیں گے تم میرے کلب آنا ہم ساتھ ڈرنک کریں گے‘ میں تمہارا زیادہ وقت نہیں لوں گا چیئر لوٹ بھی تم سے ملنے کے لیے بیتاب ہے۔‘‘ میری ویدر نے ہمیشہ کی طرح مجھے بولنے کاموقع نہیں دیاتھاوہ ہمیشہ بغیر وقفے کے بولتاتھا اور فون چیئرلوٹ کو دے دیتاتھا۔
’’جب تم ولا پہنچ کر ملر سے مل لوتوپھر مجھے کا ل ضرور کرناہم مل کرطے کریں گے کہ تمہاری لوکیشن کب لیک کی جائے۔‘‘ چیئر لوٹ نے کہا۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘ میں نے کہااور فون بند کردیا۔
’’چیئرلوٹ کیا کہہ رہی تھی ؟‘‘ جافری نے پوچھا تومیں نے صرف اتنا بتایا کہ اب ہم جرمن ملر سے ملنے والے ہیں۔‘‘
کچھ دیر بعد پھرمیرے فون کی گھنٹی بجی تھی اس بار کورٹش کی کال تھی میںنے فون ریسیو کیا تووہ تشویش آمیز لہجے میں بولی۔
’’میرے والد چاہتے ہیں کہ تم خود کو پولیس کے حوالے کرو کیونکہ تمہاری زندگی خطرے میں ہے۔‘‘ اس نے کہا۔
’’کیوں‘ ایسی کیابات ہے؟‘‘ میںنے پوچھا۔
’’جو روسی اسپتال میں تھے ان میں سے ایک فرار ہوگیاہے جو زیادہ زخمی نہیں تھا میرے والد کاخیال ہے کہ وہ تمہیں ڈھونڈنے کی کوشش کرے گاوہ چاہتے ہیں کہ تمہاری مدد کریں۔‘‘
’’تمہارے اطلاع دینے کاشکریہ لیکن اپنے والد سے کہو کہ میں اس موقع پران کی مدد نہیں لے سکتا۔‘‘ میں نے کہااور اسی وقت فون پرمجھے کورٹش کے والد کی آواز سنائی دی۔
’’بے وقوفی مت کرو‘تم اور تمہارا دوست خطرے میں ہیں تم آئس لینڈ سے نہیں نکل سکتے میں نے تمہارا نام پاسپورٹ کنٹرول کودے دیا ہے تمہیں خود کو پولیس کے حوالے کرنا ہوگا ہم تمہاری مدد کریں گے۔‘‘
’’میں ایسا نہیں کرسکتا میری طرف سے اپنی بیٹی کاشکریہ ادا کردینا کہ اس نے میری بہت مدد کی ہے۔‘‘ میںنے کہااور فون بند کردیا۔
مجھے اندازہ ہوگیاتھا کہ مقامی پولیس روسی ایجنٹوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے جو روسی اسپتال سے غائب ہوا تھاوہ یقینا ہمارے تعاقب میں آئے گا وہ اپنے گھرجاکر اپنے زخموں کونہیں چاٹے گا اگراس کی جگہ میں بھی ہوتا تو یہی کرتا پہلے اپنے دشمن سے انتقام لیتا میں نے سڑک پرنظر کی تو مجھے سمندر نظر آنے لگا اب ہم ساحل کے قریب ہی سفر کررہے تھے اور کار میں لگا آلہ بتارہاتھا کہ ہم بڑے روڈ سے زیادہ دور نہیں ہیں جافری ابھی تک لکھنے میں مصروف تھا میںنے بھی اسے ڈسٹرب نہیں کیاتھا میری نظریں کبھی کبھی ہمارے قریب سے گزرتی ہوئی گاڑیوں پرتھیں لیکن میں نے اب تک کوئی پولیس کی گاڑی نہیں دیکھی تھی ۔ جافری لکھنے میں اتنا منہمک تھا کہ اس کے ہاتھ میں پکڑی چاکلیٹ اس کی انگلیوں کے درمیان پگھل کربہہ رہی تھی اورمیں سوچ رہاتھا کہ تمام ایسے ذہین لوگ جب کام کرتے ہوں گے تو ان کی حالت ایسی ہوتی ہوگی؟
کارمیں لگے آلے کی ڈیجیٹل آواز نے مجھے ہدایت کی کہ میں مین روڈ کوچھوڑ دوں اور سائڈ میں بنی چھوٹی سڑک پر آگے بڑھوں یہ سڑک آہستہ آہستہ اوپر کی طرف جارہی تھی راستے میں کچھ مکان اور دکانیں آئی تھیں اور ہم ان سب کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھتے گئے تھے کچھ آگے جاکر ہمیں آئس لینڈ کاواحد آتش فشاں ’’ایل ٹیڈ‘‘ نظر آنے لگا تھا جافری نے بھی ایک لمحے کو سر اٹھا کر دیکھاتھا۔
’’یوں لگتا ہے کہ جگہ غیر مہذب دور سے تعلق رکھتی ہے ۔‘‘ جافری نے کہا۔
’’ہاں‘ اب ہم اپنی منزل سے بس ایک میل کے فاصلے پر ہیں۔‘‘ میں نے ڈیجیٹل نقشہ دیکھ کر بتایا ‘ہم جتنی بلندی پر آگئے تھے کہ وہاں تک کوئی کوہ پیماہی چڑھ سکتاتھا میں سوچ رہاتھا کہ اگررات کے اندھیرے میں ہم پرحملہ کردیاگیا تو میں اس میں کامیاب ہوجائوں گا کیونکہ میرے پاس اتنی بلندی پرخود کوچھپانے کے لیے محفوظ مقام بھی موجود تھااور وہ ماحول بھی کہ میں دور سے اوپر چڑھ کرآنے والے کو دیکھ سکتاتھا۔
کچھ ہی دیر میں ہم مطلوبہ ولا تک پہنچ گئے تھے ۔ ملر ہمارا منتظرہی تھا اس نے ضروری سوالات کے بعد مطمئن ہو کر ولا کی چابیاں میرے حوالے کردی تھیں اس کے علاوہ میرے پوچھنے پر ایک بہترین قسم کی دوربین بھی مجھے دی تھی جس سے میں اطراف کاجائزہ لے سکتاتھا پھراس نے اپنا بزنس کارڈ بھی دیاتھااور ہدایت کی تھی کہ اگر کوئی ضرورت ہوتو میں اسے فون کرسکتاہوں۔
ملرکے جانے کے بعد ہم نے جوس پیااور کچھ بسکٹ کھائے پھر آرام کرنے لگے ‘ جافری خاصا فکرمند نظر آرہا تھا کسی عام آدمی کے لیے یہ آسان بھی نہیں تھا کہ وہ رات کے اندھیرے میں بیٹھ کر اپنے قاتل کاانتظار کرے میں جانتاتھا کہ وہ اعصابی تنائو کاشکار تھا۔
’’تمہارا بہت بہت شکریہ کہ تم نے میری جان بچانے کے لیے اتنی جدوجہد کی۔‘‘ جافری نے مجھ سے کہا۔
’’یہ میری ڈیوٹی ہے جومیں نباہ رہاہوں۔‘‘
’’لیکن میں اب تک تمہاری وجہ سے ہی زندہ ہوں۔‘‘ جافری نے مزید کہا۔
’’چلویونہی سمجھ لو۔‘‘ میںنے اپنے بیگ سے دو لائف جیکٹ نکالتے ہوئے کہا۔’’لویہ تم پہن لو۔‘‘ میں نے ایک لائف جیکٹ جافری کی طرف بڑھائی۔
’’یہ کہاں سے آئیں؟‘‘اس نے حیرت سے پوچھا۔
’’یہ میں نے ان روسیوں کی اتاری تھیں جنہیں پچھلے ولا میں زخمی کیاتھا۔‘‘ میںنے کہا۔
’’تمہارا بھی جواب نہیں ہے… تمہارا دماغ خوب چلتا ہے۔‘‘ جافری نے تعریف کی۔
’’یہ ہماری ٹریننگ کاحصہ ہوتا ہے کہ جیسے بھی حالات ہوں ان سے فائدہ اٹؑھائیں اور انہیں اپنے حق میں موڑ لیں۔‘‘ میںنے جواب دیا ۔جافری نے خاموشی سے جیکٹ پہن لی تھی جس میں میں نے اس کی مدد کی تھی پھر میں نے بھی جیکٹ پہن لی تھی اس وقت تک اندھیرا پھیل چکاتھا اور میں نے جان بوجھ کر لائٹس آن نہیں کی تھیں بادلوں سے چھن چھن کر کچھ روشنی آرہی تھی جس سے جھٹپٹے جیساسماں تھااسی وقت جافری کے فون کی بیل سنائی دی اور میں نے کال ریسیو کی دوسری طرف سے چیئر لوٹ بول رہی تھی۔
’’تم نے اپنا فون کیوں بند کیاہوا ہے ؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’میں نہیں چاہتاتھا کہ جب تم کال کرو تو کوئی اسے ٹریس کرسکے۔‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’کیاولا پرسب خیریت ہے؟‘‘ چیئر رلوٹ نے پوچھااوراس سے پہلے کہ میں کوئی جواب دیتا باہرلگے گارڈن کے ایک کونے میں جوتالاب کے قریب تھا روشنی کاتیز جھماکاہوا جیسے کوئی چیز سینسرلائٹوں سے ٹکرائی ہو۔
’’میں تمہیں بعد میں فون کرتاہوں۔‘‘ میں نے کہا اورفون بند کردیامجھے اندازہ ہوگیاتھا کہ کسی کو یہاں ہماری موجودگی کاپتہ لگ گیا ہے ہمیں ٹریس کرلیا گیا ہے۔
میری چھٹی حس نے مجھے خبردار کردیا اورمیں جافری کوتیزی سے فرش پرگرادیا اس کے منہ سے ایک کراہ کی آواز نکلی وہ زور سے فرش سے ٹکرایاتھا۔
’’تم کیا کررہے ہو؟…‘‘ اس نے زور سے کہا۔
’’گارڈن کی طرف سے روشنی نظر آئی ہے کوئی موشن سینسر سے ٹکرایا ہے۔‘‘میں نے کہا۔
’’ہوسکتا ہے کوئی کتا‘بلی یالومڑی ہو۔‘‘ جافری نے اوپر اٹھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہاتاکہ وہ گارڈن میں دیکھ سکے لیکن میں نے ہاتھ سے دبائو ڈال کر اسے لیٹے رہنے پرمجبور کیا۔
’’خاموش لیٹے رہو سینسر کسی چھوٹے جانور سے نہیں چلتا یقینا یہ کوئی انسان ہی ہے۔‘‘ میں نے تنبیہہ کی مجھے اندازہ ہوگیاتھا کہ ہمارے دشمن نے ہمیں ٹریس کرلیاتھا لیکن وہ کون تھا یہ میں نہیں جانتاتھا اور اس نے یقینا قاتل کویہاں بھیج دیاتھا۔
’’تم سامنے دیوار میں بنی الماری میں چھپ جائواور لب تک چھپے رہنا جب تک کہ میں تمہیں باہر آنے کے لیے نہ کہوں۔‘‘ میںنے جافری سے کہا۔
’’میں تمہارے ساتھ رہنا چاہتاہوں۔‘‘ جافری نے کہا۔
’’نہیں‘ تم الماری میں چھپ جائو ۔‘‘میں نے کہااور اپنا ریوالور اس کی طرف بڑھادی۔’میں نہیں چاہتا کہ تم قاتل کونظر آئو جائو چھپ جائو اور جھکتے ہوئے جانا تمہیںکوئی دیکھ نہ سکے۔‘‘ میں نے کہا جافری نے میرے ہاتھ سے ریوالور لے لیا اور جھکے جھکے الماری تک گیا پھر وہ الماری میں چھپ گیاتھا میں رینگتے ہوئے اس کرسی تک گیا جس پرمیرا بیگ ٹنگا ہواتھااس میں سے میں نے دوسرا ریوالور نکال لیاتھااور اسے اپنی بیلٹ میں لگایاپھر میں رینگتا ہوا بالکونی کے دروازے کی طرف بڑھاتھااور آہستہ سے اسے کھول کرباہر بالکونی میں چلاگیاتھا‘ رات کی سرد ہوا جسم میں سردی کی لہر دوڑا رہی تھی باہر خاموشی اور تاریکی کاراج تھا صرف دور پھاڑیوں کی ترائی میں کسی کتے کے بھونکنے کی آواز آرہی تھی میں نے بالکونی سے احتیاط سے چھلانگ لگائی میںنے کوشش کی تھی کہ کوئی آواز پیدا نہ ہو جس میں میں کامیاب رہا تھاپھر مین گارڈن کی گھاس میں اوندھا لیٹ گیا تھااور کوئی آواز سننے کی کوشش کررہاتھا کچھ ہی دیر میں مجھے اپنے مغربی جانب درختوں میں ایک انسان کاہیولانظر آیاتھا جو ولا کی جانب آرہاتھا پھربیرونی شیشے کے دروازے کے پاس آکر وہ رک گیاتھا اس کے ہاتھ میں موجود ریوالور کی نال کی لمبائی سے میں سمجھ گیاتھا کہ اس کے ریوالور میں سائیلنسر لگاہواتھا اوروہ خاموش قتل کرنے آیا تھا۔ اس کی جسامت سے مجھے اندازہ ہواکہ وہ پولیس کی حراست سے فرار ہونے والا روسی ہوسکتا ہے اس نے آہستہ سے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہونے لگ اپھراس سے پہلے کہ وہ اندر داخل ہوتا میں نے اس پرچھلانگ لگادی وہ زمین پر گرگیااور میں اس کے اوپر چڑھ گیا اب وہ خود کومجھ سے چھڑانے کی کوشش کررہاتھا‘ میری پوری کوشش تھی کہ اس کاہتھیار چھین سکوں تاکہ وہ مجھے نشانہ نہ بناسکے‘ ہم دونوں ایک ہی طرح کی جدوجہد کررہے تھے اور ایسا لگ رہاتھا کہ ہم دونوں کو کسی ایک ہی انسٹرکٹر نے تربیت دی ہے ہم دونوں پوری طاقت اور تیزی سے مقابلہ کررہے تھے اس کے چہرے پر کالی دھاریاں پڑی ہوئی تھیں بالکل ویسے ہی جیسے فوج میں ٹریننگ کے دوران ہم اپنے چہرے پر بتاتے تھے میں نے اپنے ہاتھوں سے اس کے گلے پرگرفت مضبوط کرلی اور اپنی ٹانگوں سے اسے سختی سے اپنی گرفت میں لے لیا پھر اپنی انگلیوں سے اس کے گلے پردبائو ڈالنے لگا وہ میری گرفت سے نکلنے کے لیے جدوجہد کررہاتھا لیکن آہستہ آہستہ اس کی حرکت کمزور پڑتی جارہی تھی اورپھراس کے منہ اسے ایسے الفاظ نکلے کہ میں نے اسے مارنے کاارادہ ملتوی کردیا۔
’’تمہاری ماں تمہارے لیے ایک خط چھوڑ گئی ہے۔‘‘ اس نے کہااور میرے ہاتھوں کی گرفت اس کے گلے پر ڈھیلی ہوگئی۔ میں آسانی سے زیرہونے والا نہیں تھا لیکن اس شخص کے الفاظ نے مجھے مجبور کردیا مجھے یوں لگاجیسی کسی نے ہزار والٹ کاکرنٹ میرے جسم میں دوڑادیاہو۔ میری گرفت ڈھیلی ہوتے ہی اس کے نرخرے پر میری گرفت کا دبائو کم ہوااور اس نے گہری سانس لی۔
چند ہی لمحوں میں میں پہچان گیا تھا کہ وہ اسٹیفورڈ ہے یہ وہی آفیسر تھا جسے میں نے بہت عرصہ پہلے فوجی ملازمت کے دوران مارنے کی کوشش کی تھی اور ملازمت سے نکالا گیاتھا وہ جانتاتھا کہ میری ماں اسپتال میں موت اور زندگی کی کشمکش میں ہے لیکن اس نے مجھے نہیں بتایاتھا اورمیں اپنی ماں سے نہیں مل سکاتھا میں سوچ رہاتھا کہ کیا وہ خط کے بارے میں سچ بول رہا ہے وہ اپنی زندگی بچانے کے لیے بھی ایسا جھوٹ بول سکتاتھا۔
’’بتائو… مجھے بتائو وہ خط کہاں ہے ؟‘‘ میںنے پوچھا۔
’’وہ محفوظ ہے … اگر تم مجھے باحفاظت لندن پہنچنے دوگے تب میں تمہیں وہ خط دوں گا۔‘‘ اس نے کہا۔
’’کہاں ہے ؟‘‘ میںنے پھرکڑک کرپوچھا۔
’’میں لندن جاکر ہی خط دوں گا وہ محفوظ ہے۔‘‘ اس نے پھر وہی جواب دیا۔
’’کیا تم اکیلے ہو؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’تمہیں کس نے بھیجاہے؟‘‘
’’میں نہیں جانتا وہ وہائٹ ہال کی مشہور شخصیت ہے جوسیٹی بجانے کے لیے مشہور ہے۔‘‘
’’اسے میری لوکیشن کاکیسے پتہ چلا؟‘‘
’’مجھے نہیں معلوم مجھے تمہاری لوکیشن K106 پرملی تھی۔‘‘
’’تمہارے پاس K106 ہے؟‘‘
’’ہاں‘ تمہارے سوالات مجھے پریشان کررہے ہیں۔‘‘
’’تمہیں کیا احکامات دیئے گئے ہیں۔‘‘ میں نے اپنے ریوالور کی نال اس کے گلے میں چبھاتے ہوئے کہا۔
’’مجھے ایک شخص جافری بٹن کومارنا ہے اور تمہیں بھی اگر تم مداخلت کرو۔‘‘
’’اب تمہارا ارادہ کیاہے؟‘‘ اسٹیفورڈ نے مجھ سے پوچھا اورمیں سوچ رہاتھا کہ مجھے خط حاصل کرنے کے لیے اسے زندہ رکھنا ہوگا اس کے علاوہ چیئر لوٹ بھی اسے زندہ حاصل کرنا چاہتی تھی۔
’’مجھے بتائو جافری کہاں ہے میں اسے ماروں گااورمیرا کام ختم ہوجائے گا۔‘‘ اس نے کہا۔’’پھرہم لندن جائیں گے اورمیں تمہیں خط دے دوں گا… ڈیل؟‘‘
’’نہیں … جافری زندہ رہے گا… وہ ہماری قوم کے مستقبل کے لیے ضروری ہے … ہمیں اس کے منصوبے پرمل کرکام کرنا ہوگا ممکن ہے تمہاری طرح اور لوگ بھی ہوں جنہیں تمہارے جیسے احکامات دے کریہاں بھیجا گیاہو اوروہ ابھی راستے میں ہوں ہم تینوں … تم… میں اور جافری یہاں سے فرار ہو کرایئر پورٹ جائیں گے جہاں ایک پرائیویٹ جیٹ ہمارا منتظر ہوگاجوہمیں لندن لے جائے گا۔‘‘
’’تم جو بھی کہہ رہے ہو وہ ٹھیک ہے لیکن میں صرف ایک بات جانتا ہوں کہ مجھے ہر حال میں جافری کوقتل کرنا ہے۔‘‘ اسٹیفورڈ نے کہا۔
’’کیاتم بریڈ شا کوجانتے ہو؟‘‘ میں نے چند لمحے سوچنے کے بعد پوچھا۔ ’’وہ ملٹری انٹیلی جنس میں کام کرتا ہے۔‘‘
’’ہاں میں جانتاہوں۔‘‘
’’اور کیاتم چیئرلوٹ ملر کوجانتے ہو؟‘‘
’’نہیں اس کے بارے میں کبھی نہیں سنا۔‘‘
’’وہ بھی انٹیلی جنس میں ہے وہ بریڈ شا کی باس ہے۔‘‘
’’نہیں میں اسے نہیں جانتا۔‘‘
’’وہ بریڈ شا کے آپریشنز پرکام کرواتی ہے میں اسے فون کرتا ہوں وہ بریڈ شا سے بات کرے گی اور بریڈ شا کومجبور کرے گی کہ وہ تم سے بات کرے … ٹھیک ہے ؟‘‘ میں نے کہا جس پر اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔
’’بولو… ٹھیک ہے ؟‘‘ میںنے پھر ریوالور کی نال اس کی گردن میں چبھوئی۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘ اس نے کہا۔’میں بریڈ شا کاحکم مانوں گا۔‘‘
’’فون اندر ہے۔‘‘ میں نے کہاپھر ہم دونوں ولامیں چلے گئے تھے اور میں اسے اسی کمرے میں لے گیاتھا۔ جہاں جافری چھپاہواتھا اور میر ابیگ بھی وہیں تھا میں نے اسٹیفورڈ کودھکادے کر ایک کرسی پربٹھادیاتھا۔
’’اپنے ہاتھ اپنے سر پر رکھ لو۔‘‘ میں نے غرا کر کہااس نے تائید کی تھی اور میں نے چیئرلوٹ کوفون کرنے کے لیے جافری کافون اٹھایا پھرجب میں نمبر ملاہی رہاتھا کوئی سیاہ لباس میں ملبوس مجھ پر حملہ آور ہوا تھا مجھے سنبھلنے کاموقع نہیں ملاتھاوہ ایکس رنگ تھی وہ بہت تیزی سے اندر آئی تھی‘ اس نے کالا ماسک چہرے پر لگایاہواتھااس کے ہاتھوں میں گن تھی اور اس نے میرا نشانہ لیاہواتھا اس نے فائر کیاتھا‘ اور میں پیچھے کی طرف گرگیاتھا میرا سرزور سے فرش سے ٹکرایا تھا میں بے ہوش نہیں ہواتھابلکہ میں اندھیرے میں دیکھنے کی کوشش کررہاتھا‘ میں نے دوسرے فائر کی آواز سنی تھی لیکن وہ مجھ پر نہیں کیاگیاتھااور میں نے اسٹیفورڈ کے جسم کے فرش پر گرنے کی آواز سنی تھی میں نے اٹھنے کی کوشش کی تھی لیکن گولی میرے دل کے قریب لگی تھی میں اٹھنے سے قاصر تھا مجھے منظر دھندلا نظر آرہاتھا لیکن میں دیکھ سکتاتھا کہ ایکس رنگ میرے پاس کھڑی تھی اس کے چہرے پر اطمینان تھا لیکن مجھے زندہ دیکھ کر حیران بھی تھی اس نے کچھ کہاتھا جسے میں سمجھ نہیں سکا۔
پھر دوسرے ہی لمحے کمرے میں ایکس رنگ کے پیچھے ایک سایہ نمودار ہوا تھا وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہاتھااس کے ہاتھ میں ریوالور تھا وہ جافری تھا وہ گن فائر کی آواز سن کر الماری سے نکل آیا تھا اوراب ایکس رنگ کونشانہ بنائے ہوئے تھا میں نے چیخناچاہا کہ وہ فائر کردے لیکن میری آواز نہیں نکلی میں نے اٹھ کراپنے ریوالور سے فائر کرناچاہتاتھا لیکن میں یہ سب نہیں کرسکا ایکس رنگ نے پھر ایک بار پھرتی کامظاہرہ کیاتھا میں نہیں جانتا کہ اس نے جافری کی آہٹ سنی تھی یااس کی چھٹی حس نے اسے خبردار کردیاتھا‘ لیکن وہ تیزی سے پلٹی تھی جافری اس پرفائر کرسکتاتھا لیکن ایکسی رنگ نے پہلے فائر کردیاتھا گولی اس کے سر میں لگی تھی اور وہ گر گیاتھا کمرے میں خاموشی چھاگئی تھی اس وقت دروازہ زور سے لگنے کی آواز آئی اور ساتھ ہی بریڈ شا کی آواز بھی آئی تھی ایکس رنگ تیزی سے کمرے سے نکل گئی تھی اور میں بے ہوش ہوگیاتھا۔
پرائیویٹ جیٹ میں ہم سے ملنے چیئرلوٹ نہیں آئی تھی مجھے اس پرحیرت نہیں ہوئی تھی ہم تین افراد تھے‘ جن میں سے دو سے ملنے کے لیے وہ بے چین تھی بریڈ شاہ‘ ٹریڈویل اور بینس صرف میں ہی تھا شاید جس سے ملنے کی اسے اب خواہش نہیں تھی۔
گولی میرے دل کوچھوتی گزر گئی تھی ایکس رنگ غائب ہوچکی تھی اس کاکسی کوپتہ نہیں تھابریڈ شااپنے فون پرکافی دیر تک چیئرلوٹ سے بات کرتارہاتھا اس نے کئی بار میری طرف دیکھاتھا ہم اس وقت ولا کی بالکونی میں بیٹھے ہوئے تھے۔
’’میں تمہیں ائرپورٹ تک لفٹ دوں گا تمہارا پاسپورٹ پولیس کے پاس ہے ائرپورٹ پرتمہیں دوسرا پاسپورٹ مل جائے گا جس کاانتظام چیئر لوٹ نے کیا ہے۔‘ بریڈ شا نے کہا۔ ’’یہاں بینس اور ٹریڈ ویل ولا میں صفائی کاکام کروائیں گے ہم کوئی نشان چھوڑنا نہیں چاہتے۔‘‘
’’ٹھیک ہے … لیکن تم نے کار میں مجھ پرریوالور کیوں نکالاتھا…‘‘ میں نے پوچھا۔
’’میں اب تک نہیں سمجھ پایاہوں کہ کیاہو رہا ہے جب تم نے ’’غدار‘‘ کالفظ استعمال کیا تومیں نے سوچا کہ معاملات بگڑ گئے ہیں جنہیںدرست کرنا ہوگا لیکن میرا خیال غلط تھا۔‘‘
ٹریڈ ویل نے ہمارے بیگوں سے تمام گنیں اور ریوالور لے لیے جو ہم نے لوگوں سے چھینے تھے اوروہ چیزیں ان لوگوں کے حوالے کردیں جو سفارتخانے سے آئے تھے ان میں دو مرد اورایک عورت شامل تھے انہوں نے مجھے نیا پاسپورٹ بھی دیا بریڈ ویل نے جافری کابیگ بھی لے لیاتھا جس مین اس کے سارے کاغذات تھے وہ اس نے ایک اور بڑے بیگ میں رکھ لیاتھا۔
’’اب جافری تو ہمارے ساتھ نہیں لیکن اس کے کاغذات ہیں جو خاصے اہم ہیں۔‘‘ بریڈ شا نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا میر اجی چاہا کہ میں اس کے منہ پر گھونسہ ماروں لیکن میں ایسا نہیں کرسکتاتھا۔
ہم سب اسٹیفورڈ اور جافری کی لاشوں کے ساتھ ایک ہی وین میں ایئرپورٹ پہنچے تھے اور وہاں سے ہمارے راستے الگ ہوگئے تھے میں اپنا بیگ لے کر ان سے جدا ہوگیاتھا‘ اور میں نے انہیں الوداع بھی نہیں کہاتھا مجھے اس بات کاافسوس تھا کہ میں نے موقع ملنے کے باوجود ایکس رنگ کوقتل نہیں کیا تھا میں کار میں اسے مار سکتاتھا جب وہ بے ہوش تھی یاکورٹش کی لانچ میں بھی میں اسے انجام تک پہنچاسکتاتھا لیکن میں اس کے ذریعے اس غدار تک پہنچنا چاہتاتھا جس کاذکر چیئرلوٹ نے کیاتھا۔
لندن پہنچ کرمجھے ایک خوشگوار حیرانی ہوئی تھی ایئرپورٹ پرچیئر لوٹ مجھے ریسیو کرنے کے لیے موجود تھی اور وہ اپنے ساتھ ہی مجھے اپنے فلیٹ پر لے گئی تھی جہاں اس نے میرے لیے نئے لباس کاانتظام کررکھاتھا میں نے فریش ہو کر لباس تبدیل کیا تھااور اس نے بتایاتھا کہ میری ویدر اپنے کلب میں ہمارا منتظر ہے اور مجھ سے ملنے کاانتظار کررہاہے۔
میری ویدر بہت اچھے موڈ میں مجھ سے ملاتھا اوراس نے مشن کی نئی صورت حال پربات کی تھی‘ پھراس نے اپنی آرگنائزیشن میں مجھے مستقل ملازمت کی پیش کش کی تھی اور اصل مقصد کی طرف آیاتھا۔
’’تم جانتے ہو کہ ہمیں اندرونی طور پرایک غدار کا سامناہے جو ہماری خبریں لیک کرتا ہے اور ہمارے خلاف کام کرتا ہے جافری کی موت بھی اس کاثبوت ہے۔ باقی چیئر لوٹ تمہیں آگے سمجھادے گی۔‘‘ میری ویدر نے کہا۔
’’تم اس شخص کو جانتے ہو تم اس وقت ہی اس شخص سے ملے تھے جب تم مجھ سے پہلی بارملے تھے۔‘‘ چیئر لوٹ نے کہا لیکن اس نے اس شخص کانام نہیں لیاتھا۔
’’اس دن وہ کمرے سے جانے والا پہلا شخص تھا۔‘‘ چیئر لوٹ نے کہااور میں سمجھ گیا کہ وہ ونچسٹر تھا جس کاتعلق سفارت خانے سے تھااور اسٹیفورڈ نے اسے سیٹی بجانے والا کہہ کرمشن کیاتھا اور میں جانتاتھا کہ اس کی سیٹی بجانے کی عادت ہے اس نے میرے سامنے بھی سیٹی بجائی تھی پھر چیئر لوٹ نے مجھے ایک منصوبہ سمجھایا تھا جس پرمیں نے اسی رات عمل کیاتھا اس کے لیے مجھے ایک کلب میں واقع سوئمنگ پول کا سامان پہنچانا تھااور میں نے ڈلیوری بوائے کا سوٹ پہناہواتھا۔
میں پچھلے دروازے سے کلب میں داخل ہواتھا گارڈ نے میرا یونیفارم اورمیرے ہاتھ میںپکڑے ہوئے ڈبے دیکھے تھے اور مجھے اندرجانے دیاتھا مجھے عمارت کے اندر کی معلومات چیئر لوٹ نے فراہم کردی تھیں جو اس نے چھ مہینے پہلے ہی جمع کی تھیں میں آسانی سے سوئمنگ پول تک پہنچ گیاتھا کلب میں خاموشی تھی اس وقت سوئمنگ پول میں صرف دوافراد تھے میں اپنے ڈبے ایک محفوظ جگہ دیکھ کر چھپادیئے میں نے اپنی بیس بال کی کیپ اپنے سرپر ایسے پہنی ہوئی تھی جس سے میرا چہرہ چھپ گیاتھا پھرمیں کپڑے بدلنے کے کمرے میں جاکرانتظار کرنے لگاتھا۔
کچھ ہی دیر میں وہ کمرے میں آیا تھا اس نے چہرے پر تولیہ ڈالا ہوا تھا اس کے جسم سے پانی بہہ رہاتھا اور فرش پر اس کے پیروں سے نشان پڑتے جارہے تھے اس نے میری موجودگی کومحسوس نہیں کیاتھا وہ پتھر کی بینچ پربیٹھ گیاتھا اور تولیہ سے اپنے ہاتھ اور پائوں خشک کرنا شروع کردیئے میں نے اپنی جیب سے تیار شدہ سرنج نکالی اوراسے اپنے پیچھے چھپاتے ہوئے اس کی طرف بڑھا اس نے اب بھی میری طرف نہیں دیکھاتھا اس نے اپناایک پائوں سکھانے کے لیے اوپر اٹھایا اور میں نے اس کا کاندھا پکڑ کراسے پیچھے کی طرف کھینچا پھر وہ خود کوسنبھالنے کی کوشش کرہی رہاتھا کہ میں نے اس کاپائوں پکڑ کر اس کی ایڑی میں انجکشن لگادیا زہر اس کے جسم میں داخل ہوگیا میں نے اسے فرش پرلٹادیااور اس کا پائوں چھوڑ دیا وہ کراہ رہاتھا اسے اندازہ ہوگیاتھا کہ اس کے ساتھ کیاہوا ہے۔
’’تم…‘‘ وہ مجھے پہچان گیاتھا۔ ’’تم نے یہ کیا کیا؟ مجھے اسپتال لے چلو… جلدی کرو… ورنہ میں مرجائوں گا۔‘‘اس نے کہا آہستہ آہستہ اس کی آواز اور حرکت کمزور ہوتی جارہی تھی اس کابلڈپریشر بھی یقینا کم ہو رہاتھا اوراس کادل جلد بند ہونے والا تھا میں کچھ دیر دیکھتا رہا کچھ ہی دیر میں وہ بے حس ہوگیاتھا۔
اس کی موت کایقین کرنے کے بعد میں کمرے سے باہر نکل گیاتھا‘ دوسرا شخص ابھی تک سوئمنگ پول میں نہا رہاتھا‘ اس نے کچھ نہیں سناتھا اس کے کان اور چہرہ پانی میں تھے میں کلب کے پچھلے دروازے سے باہر نکل گیاتھا جہاں میری نئی ملازمت میراانتظار کررہی تھی۔
ختم شد

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
Close