Naeyufaq Oct-17

ایک سوسولہ چاند کی راتیں/قسط14

عشنا کوثر سردار

ٹرین چلتے چلتے رکنے کو تھی اور ساتھ ہی عین کی دھڑکنیں بھی۔
’’یا اللہ خیر۔‘‘ اس کے برابر بیٹھی ہوئی خاتون نے دل پر ہاتھ رکھا تھا۔
’’یہ بلوائی کب تک پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔‘‘ کسی بزرگ کی آواز آئی تھی۔
’’مجھے تو جھاڑیوں کے پیچھے بلوائیوں کی موجودگی کا پورا یقین ہے یہ کوئی غدار ہے اس ٹرین میں جو ان سے ملا ہوا ہے اور جس نے ٹرین کی زنجیر کھینچ کر ٹرین کو روکنے کی کوشش کی ہے۔‘‘ کسی بزرگ نے کہا تھا۔
’’یا اللہ مدد، یا اللہ خیر۔‘‘ کئی آوازیں ٹرین کے ڈبے میں گونجی تھیں عین پتھرائی ہوئی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی ہونٹوں پر خشکی کی پپڑی جمی تھی وہ برسوں کی بیمار دکھائی دے رہی تھی۔ وہ خاموشی سے بیٹھی تھی۔
اس آہ و بکا اور شور میں وہ انتہائی پر سکون تھی۔
’’ان موئے بلوائیوں کو چین نہیں، پاکستان پہنچتے پہنچتے بھی جان کو آرہے ہیں، اللہ غارت کرے ان کو۔‘‘ ایک بزرگ نے کہا تھا۔
کوئی ٹرین کی طرف بھاگتا دکھائی دیا تھا ٹرین کی مدہم پڑتی رفتار کو جیسے وہ بندہ اپنے مفاد میں لانا چاہتا تھا۔
’’یہ کون ہے جو دیوانہ وار ٹرین کی طرف بھاگ رہا ہے ۔ یا اللہ صورت سے تو کوئی بلوائی نہیں لگتا، خوب گورا چٹا ہے اونچا لمبا مگر بے طرح بڑھی ہوئی داڑھی الجھا رہی ہے کہیں یہ ٹرین پر سوار ہو کر مسلمانوں کا قتل عام تو کرنا نہیں چاہتا؟‘‘ کسی خاتون نے کھڑکی سے سر نکال کر جھانکا تھا۔
’’گئے ہم سب ہم میں سے کوئی شاید ہی پاکستان پہنچ سکے، جھاڑیوں میں یقیناً بلوائی چھپے ہوئے ہیں یا اللہ خیر۔‘‘ کسی خاتون نے واویلا کیا تھا ٹرین کی رفتار مدہم مدہم پڑتی ہوئی سب کی سانسوں کو روک رہی تھی۔
نوجوان جیسے پر عزم تھا وہ بھاگتا ہوا ایک ڈبے میں چڑھنے میں کامیاب ہوا تھا اور اس کے ساتھ ہی ٹرین رفتار پکڑنے لگی تھی بلوائی جھاڑیوں سے نکلتے دکھائی دیے تھے ٹرین کی رفتار پکڑنے پر بوکھلائے ہوئے پٹڑی سے اترنے لگے تھے سب انگشت بدنداں اس صورت حال کو دیکھ رہے تھے بلوائی بھاگتے دکھائی دیے تھے ایک بڑا گروہ وہاں جھاڑیوں کے پیچھے اور دوسری طرف وہ نوجوان ٹرین کے اس ڈبے کے دروازے میں اطمینان سے کھڑا ان بلوائیوں کو فتح مندی سے دیکھ رہا تھا۔
’’تیمور۔‘‘ عین کے لب آہستگی سے ہلے تھے۔
’’اوہ ہم بچ گئے یا اللہ تیرا شکر، اس نوجوان نے شاید ان بلوائیوں کو دیکھ رہا تھا اس نے ٹرین کو بچانے میں مدد کی ہے۔ یہ مددگار ہے۔‘‘ کسی نے قیاس کیا تھا نوجوان فتح مندی سے بلوائیوں کو دیکھتا رہا تھا، حتیٰ کہ ٹرین پوری طرح رفتار پکڑتی ہوئی پاکستان کی جانب بڑھنے لگی تھی عین پتھرائی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔
’’تیمور۔‘‘ اس کے لب پھر آہستگی سے ہلے تھے نوجوان ٹرین کے اس ڈبے میں دانستہ سوار ہوا تھا یا محض اتفاق تھا مگر وہ بہت اطمینان کے ساتھ دروازے سے ہٹ کر ٹرین کے ڈبے میں آیا تھا اور عین کے سامنے آکر رک گیا تھا۔
’’تیمور۔‘‘ عین کے لب ہلے تھے نوجوان چلتا ہوا دو قدم آگے بڑھا تھا ڈبے میں موجود لوگ حیرت سے اس نوجوان کو دیکھ رہے تھے۔
’’تی…م… مو… ر…!‘‘ عین کے خوشی سے بھرے لبوں سے بمشکل آواز نکلی تھی نوجوان بے چین سا ہو کر اس کی طرف بڑھا تھا۔
’’عین یہ کیا حالت بنالی ہے آپ نے اپنی، کیا ہوا؟‘‘ نوجوان نے پوچھا تھا۔ خاتون نے اسے حیرت سے دیکھا تھا۔
’’یہ جسے پکار رہی تھی وہ تم تھے؟‘‘ خاتون نے پوچھا تھا مگر نوجوان نے کوئی جواب نہیں دیا تھا اس نے ہاتھ بڑھا کر عین کا ہاتھ تھاما تھا۔
’’عین آپ ٹھیک ہیں؟‘‘ نوجوان نے پکارا تھا۔
’’ت… تے… مو… ر…!‘‘ ان پتھرائی آنکھوں میں حرکت ہوئی تھی بے جان پتلیاں حرکت میں آئی تھیں، نوجوان نے اس کے ہاتھ کو اپنے مضبوط ہاتھ میں لیا تھا۔
’’ہم آپ کو کچھ نہیں ہونے دیں گے۔ آپ کو کچھ نہیں ہوگا عین۔‘‘ نوجوان نے مدہم لہجے میں کہا تھا عین کی آنکھوں میں زندگی کی رمق دکھائی دینے لگی تھی خاتون اور دیگر لوگوں نے اس کو حیرت سے دیکھا تھا۔
’’اس بچی کی طبیعت بہت بگڑ گئی، تیز بخار سے جلتی رہی اور تمہارا نام پکارتی رہی۔ تم اس کے خاوند ہو اس تقسیم نے کتنے دل جدا کیے ہیں صد شکر قسمت نے تم دونوں کو ملا دیا۔‘‘ خاتون نے کہا تھا نوجوان نے کوئی جواب نہیں دیا تھا عین کو تھام کر اٹھا کر اس کو اپنے ساتھ لگا کر توجہ سے دیکھا تھا۔
’’بیٹھ جائو بیٹا یہ پانی پلا دو اس کو بڑی مشکل سے پورے ڈبے میں اب یہ اتنا سا پانی ملا تیز بخار سے جسم پھنک رہا تھا میں پٹیاں تک نہ کرسکی، تمہارا نام پکارتی رہی، اس کی پتھرائی آنکھوں میں پہلی بار زندگی دکھائی دی ہے کسی اپنے کو دیکھ کر بے چینی جاتی رہتی ہے۔ بیٹھو یہاں۔‘‘ خاتون نے نوجوان کے لیے جگہ بنائی تھی وہ سیٹ پر بیٹھ گیا اور عین کا سر اپنی گود میں رکھ کر اس کے منہ میں پانی کے قطرے ڈالنے لگا تھا۔
’’عین ہم آپ کو کچھ ہونے نہیں دیں گے آپ فکر نہ کریں ہم آپ کے ساتھ ہیں آپ تنہا نہیں ہیں۔‘‘ نوجوان نے کہا تھا عین کی آنکھوں سے خاموشی سے آنسو ٹوٹ کر گرے تھے ان آنکھوں میں سکوت کی جگہ سکون دکھائی دیا تھا نوجوان نے اس کے آنچل کے کنارے سے ایک ٹکڑا پھاڑا تھا اور پانی میں بھگو کر عین کی پیشانی پر رکھا تھا عین کی آنکھیں اس نوجوان کی سمت دیکھتی رہی تھیں ان کی آنکھوں میں اطمینان پھیل رہا تھا نوجوان نے اسی گیلے کپڑے کے ٹکڑے سے اس کا چہرہ پونچھا تھا۔
’’بے فکر ہوجائیں عین آپ تنہا نہیں ہیں ہم آپ کے ساتھ ہیں، معذرت چاہتے ہیں آپ کو تنہا چھوڑنا مقصد نہیں تھا ہم آپ کے ہمراہ ہی تھے ہم زیادہ تفاوت پر نہیں تھے اس ٹرین میں آپ کے ساتھ تھے آپ سے وعدہ کیا تھا آپ کو اس سفر میں تنہا نہیں چھوڑیں گے ہم نے آپ کو تنہا نہیں چھوڑا عین۔‘‘ نوجوان یقین دلا رہا تھا خاتون فرط مسرت سے مسکرائی تھیں اور آنکھوں میں آئی نمی کو پونچھا تھا عین نے نوجوان کو دیکھتے ہوئے سر ہلایا تھا نوجوان اس کا ہاتھ تھامے دوسرے ہاتھ سے اس کے سر پر پٹیاں رکھنے لگا تھا اس کا لہجہ اطمینان بخش تھا اور لہجہ بھرپور جیسے وہ زندگی کی نوید ہمراہ لایا تھا عین کی بے جان آنکھیں زندگی کی نوید پا کر چمکنے لگی تھیں۔ جیسے اس نوجوان کے آجانے سے اس ڈھارس ہوئی تھی۔
’’ہم بحفاظت آپ کو پاکستان لے کر جائیں عین اب منزل دور نہیں ہے ہم بہت قریب ہیں اپنی منزل کے۔‘‘ نوجوان یقین دلا رہا تھا عین نے اطمینان سے آنکھیں میچی تھیں اس کی آنکھوں کے کناروں سے جیسے اطمینان کے آنسو ٹوٹ کر گرے تھے جنہیں نوجوان نے پوروں پر سمیٹ لیا تھا۔
ؤ…ز …ؤ
عمر نے اسے سر جھکائے بیٹھے دیکھا تھا پھر چلتا ہوا اس کے پاس آیا تھا گھٹنوں کے بل جھک کر بیٹھ کر اس کے بندھے ہوئے ہاتھ کھولے تھے خوش نما نے اسے سر اٹھا کر دیکھا تھا عمر کی آنکھیں اطمینان دلاتی ہوئی تھیں۔
’’یہ مت سمجھیے کہ آپ کو قید میں ڈال دیا گیا ہے یا آپ مصیبت میں پھنس گئی ہیں مدعا یہ ہے کہ خالہ آپ کو خیریت کے ساتھ دیکھنے کی متمنی ہیں وہ نہیں چاہتیں جو ان کی بیٹی کے ساتھ ہوا وہ آپ کے ساتھ ہو، ان کی ذہنی کیفیت کو سمجھیے وہ اس وقت ایک صدمے سے دو چار ہیں۔‘‘ عمر نے سمجھایا تھا خوش نما کچھ نہیں بولی تھی، چپ چاپ اسے دیکھنے لگی تھی۔
عمر نے اس کے بندھے ہوئے پائوں بھی کھول دیے تھے وہ خالی خالی نظروں سے دیکھنے لگی تھی جیسے پوچھ رہی ہو کہ کیا میں فرار ہو سکتی ہوں؟
’’آپ چاہیں تو یہاں سے جا سکتی ہیں خالہ سو رہی ہیں ان کی نیند گہری ہے ان کو خبر نہیں ہوگی میں کہہ دوں گا مجھے خبر نہیں میں ابھی آیا ہوں یہ لا علمی کام آجائے گی آپ جہاں جانا چاہتی ہیں جا سکتی ہیں۔‘‘ عمر نے مشورے کے ساتھ اجازت بھی دی تھی۔
مگر وہ جانے کیوں اٹھ نہیں سکی تھی عمر نے اسے دیکھا تھا اور اٹھ کھڑا ہوا تھا اور چلتا ہوا اندر کمرے میں چلا گیا تھا خوش نما تب بھی اسی طور بیٹھی رہی تھی قید اور رہائی ایک موقع پر کیسے سوالیہ نشان پر کھڑی ہوجاتی ہے جہاں کوئی مفہوم سمجھ نہیں آیا، وہ قید اور رہائی کا فرق سمجھ نہیں سکی تھی تبھی خالہ کے کھانسنے کی آواز آئی تھی۔
آواز نے خوش نما کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا وہ اٹھی تھی اور خالہ کی چارپائی کے پاس آن بیٹھی تھی ان کا ہاتھ تھام کر ان کو بغور دیکھا تھا اس نے ماں کا لمس محسوس نہیں کیا تھا اکبریٰ بیگم کا ساتھ کم رہا تھا وہ مامتا کے اس گرم لمس کا احساس جیسے یادداشت میں نہیں رکھتی تھی اب خالہ کا ہاتھ تھام کر جانے کیوں وہ احساس روح میں اترتا محسوس ہوا تھا، خالہ کی آنکھ تبھی کھلی تھی انہوں نے خوشنما کو بغور دیکھا تھا جیسے اس کے چہرے میں کوئی اور چہرہ دیکھ رہی ہوں، یقیناً وہ اپنی بیٹی کو اس کے چہرے میں دیکھ رہی تھیں، وہ نیم پاگل خاتون خوشنما کی ہمدردی کا باعث بنی تھیں خاتون نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے یکدم خوش نما کا ہاتھ دبوچا تھا۔
’’تم بھاگ رہی ہو؟‘‘ انہوں نے سخت لہجے میں کہا تھا۔
’’تم نے ساری رسیاں کھول لیں بھاگ جانا چاہتی تھیں نا تم۔‘‘ وہ سختی سے پوچھ رہی تھیں خوش نما نے سر آہستگی سے نفی میں ہلایا تھا اور مدہم لہجے میں بولی تھی۔
’’نہیں میں بھاگ نہیں رہی تھی، میں آپ کے سامنے ہوں بھاگنا ہوتا تو دروازے کی سمت جاتی آپ کی چارپائی کی سمت نہیں، یہ خوشنما نے جتایا تھا خاتون یکدم ٹھٹک کر خاموش ہو کر اسے دیکھنے لگی تھیں۔
’’ہاں تم نہیں بھاگیں مگر کیوں، تم ڈر گئی ہو نا؟‘‘ وہ اسے پوری آنکھیں کھول کر دیکھنے لگی تھیں۔
خوشنما کچھ نہیں بولی تھیں۔
’’باہر کتنے بھیڑیے ہیں، یہ بات سمجھ آگئی تمہیںنوچ کھائیں گے نا تجھے، اب سچائی پتا چل گئی نا؟‘‘ خالہ نے جواز ڈھونڈا تھا مگر وہ کچھ نہیں بولی تھی، تب خالہ نے اس کا چہرہ چھوا تھا۔
’’ہاجرہ، تو نا سمجھ ہے میری بچی یہ لوگ گدھ کی طرح نوچتے ہیں سارا ماس کھا لیتے ہیں اور ہڈیاں بھی نہیں چھوڑتے تجھے ان کے ہاتھوں بے عزت ہوتے نہیں دیکھ سکتی تو نے عزت سنبھال کر رکھی ہے تو عزت سے جی لے بیاہ کر لے عمر سے میں برابر والے مولوی صاحب سے بات کرتی ہوں کل شام ہی نکاح پڑھوا دیتی ہوں دو بول سے زندگی بدل جاتی ہے میری بچی، عزت سے جی لے عزت کی زندگی آسائش کے بنا بھی آرام سے گزر جاتی ہے روکھی سوکھی کھا کر گزارا کرلو تو روح پر سکون رہتی ہے کیونکہ عزت زیادہ اہم ہے میری بچی اور عمر چاہے تجھے آسائشوں سے بھری زندگی نہ دے سکے مگر تجھے عزت ضرور دے گا عمر بہت سلجھا ہوا نوجوان ہے ایسا بر قسمت والوں کو ملتا ہے میری بچی کی قسمت اچھی نہیں تھی وہ عمر کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکی وہ اپنی زندگی جی ہی نہیں پائی مگر میں چاہتی ہوں کسی اور لڑکی کے ساتھ ویسا نہ ہو جو ہاجرہ کے ساتھ ہوا، تیرے چہرے میں ہاجرہ کا چہرہ دکھائی دیتا ہے۔‘‘ خالہ کی آنکھیں بھیگنے لگی تھیں اور جانے کیا سوچ کر خوش نما نے سر اثبات میں ہلا دیا تھا۔
’’تو نکاح کرنے کو تیار ہے نا میری بچی۔‘‘ خالہ نے اس کا چہرہ تھام کر اس آس سے پوچھا تھا اور خوش نما نے سر آہستگی سے اثبات میں ہلا دیا تھا کمرے کے دروازے پر کھڑے عمر پر نگاہ پڑی تھی اور وہ اسے دیکھ کر رہ گئی تھی، دنیا کی صعوبتوں کو سہتے ہوئے اس نے مردم شناسی تو سیکھ لی تھی کہ اب سمجھ میں آتا تھا کہ کون کھرا ہے اور کون کھوٹا اتنا تو معلوم تھا کہ کوئی اسے بیٹی جیسا مان دے رہا ہے کوئی بیٹی جیسی عزت دینا چاہتا ہے اور اسے مطمئن اور خوش دیکھنا چاہتا ہے اس کا ہاتھ محفوظ ہاتھوں میں دے کر اس کا مداوا کرنا چاہتا ہے جو گناہ سر زد بھی نہیں ہوا مگر خالہ نے اپنی ہاجرہ کو جس طرح مرتے دیکھا تھا وہ اسے اس موت کے ہاتھوں مرتا نہیں دیکھنا چاہتی تھیں۔
قسمت اگر ایک بہائو تھا تو وہ اس کے ہاتھوں خود کو بہنے سے نہیں روک سکتی تھی، شاید ایسا ہی ہونا لکھا تھا خالہ نے اسے سرخ گوٹے کناری والا جوڑا نکال کر دیا تھا اور پہننے کو کہا تھا۔
’’میں کل تک کا انتظار بھی نہیں کرسکتی میری سانس کا کیا اعتبار کل کا دن دیکھوں بھی کہ نہ دیکھوں، تو جوڑا پہن میں ساتھ والے گھر جا کر مولوی صاحب کو بلا کر لاتی ہوں۔‘‘ خالہ نے کہا تھا۔
وہ کچھ بولنے لگی تھی جب خالہ نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا تھا۔
’’مجھ پر اعتبار کیا ہے تو یقین رکھ ہاجرہ، میں تیرا برا نہیں چاہ سکتی، کوئی ماں اتنا سخت جگرا نہیں رکھتی میں بس تجھے محفوظ ہاتھوں میں سونپنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’مگر خالہ۔‘‘ خوش نما نے جانے کیا بولنا چاہا تھا۔
’’دیکھ ہاجرہ خاطر جمع رکھ، یقین رکھ قسمت کا سب سے بہترین فیصلہ ہوگا یہ دعائیں دے گی کل کو مجھے اگر تجھے پاکستان جانا ہے تو نئی زندگی میں قدم رکھ کر پاکستان جا مجھے تسلی ہوگی کہ تیرے ساتھ کوئی ہے، عمر بہت نیک بچہ ہے اگر تجھے پاکستان جا کر ہی زندگی گزارنا ہے تو وہ تجھے پاکستان لے جائے گا مگر یہ سب ہونے دے میری بچی ان بوڑھی آنکھوں کا کوئی اعتبار نہیں چراغ سحری کی مانند ہے اس بیمار ماں کی زندگی جانے کب یہ لو بھی بجھ جائے۔ اطمینان سے مرنے دے اس بوڑھی ماں کو۔‘‘ خالہ نے کہا تھا اور وہ لب بھینچ کر رہ گئی تھی، عمر دروازہ کھول کر باہر آیا تھا اسے ایک نگاہ نادانستگی میں دیکھا تھا اور آگے بڑھ گیا تھا۔
وہ نگاہ بدل کر ہاتھ کی لکیروں کو دیکھنے لگی تھی خوشنما ہاجرہ بننے جا رہی تھی ہاجرہ کی زندگی ہاجرہ کے خواب خالہ نے اسے ہاجرہ کی طرح سنوار دیا تھا اور یہ زندگی کیسے معنی بدل رہی تھی، کیا یہ رنگ زندگی اسے دینا چاہتی تھی کیا ہی ان لکیروں میں درج تھا؟ اوہ اس زندگی سے بھاگی تھی جو بدنامی کی زندگی تھی، اس نے کوٹھے پر شعور سنبھالا تھا کوٹھے کی زندگی دیکھی تھی امرا کی اولاد ہو کر بھی وہ کوٹھے کی زینت بنی تھی اور ایک طوائف کی زندگی جیتی رہی تھی اللہ اس سے کیا چاہتا تھا؟ کیا اس کی عبادتوں اور ریاضتوں کا کوئی صلہ تھا یہ؟ کیا اس کے رب نے اس کی شب بھر کی عبادتوں کے عوض اسے یہ عزت اور توقیر کی زندگی نواز دی تھی کیا عمر اس کی دعائوں کا صلہ تھا۔
اور نواب زادہ جلال الدین پٹوڈی؟ اس کی سوچ تھم کر رہ گئی تھی آج کتنے دنوں بعد یہ خیال دل کے پاس سے ہو کر گزرا تھا سوچیں اس قدر الجھی ہوئی اور ابہام کا شکار تھیں کہ وہ کسی اور طرف نہ دیکھ سکی تھی نہ سوچ سکی تھی اب دھیان آیا تھا تو یہ ذکر کچھ عجیب اور پرایا سا لگا تھا۔ وہ جس کیفیت میں کوٹھا چھوڑ کر بھاگی تھی کوئی اور خیال ذہن میں نہ آیا تھا اب دھیان آیا تھا کہ ایک بار اگر نواب زادے سے بات کرتی تو شاید زندگی اس نہج پر نہ ہوتی، مگر عمر کی سمت دیکھتے ہوئے نواب زادے کا خیال جانے کیوں پرایا سا لگا تھا جیسے وہ اپنے ساتھ ایماندار نہ رہی تھی، جیسے عمر اس کی ساری سوچیں پڑھ رہا تھا وہ نگاہ چرا گئی تھی۔
’’نواب زادہ، محبت صرف ایک چھت کے نیچے رہنا اور ہاتھ تھام کر چلنا نہیں محبت اس احساس سے سوا ہے اور کبھی کبھی محبت کو مصلحت کے رنگ میں بھی رنگنا پڑتا ہے سوہم اپنی سوچوں کے دروازے آپ پر بند کر رہے ہیں وہ حاکم خاتون تھی جن کو آپ سے عشق تھا اور جس عشق کا دم آپ بھی بھرتے تھے وہ عشق تمام ہوا حاکم خاتون نہیں رہی خوشنما بھی مر گئی اور اب یہاں ہاجرہ ہے بس ہاجرہ نواب زادے کے ذکر سے واقف نہیں اور نواب زادہ کسی ہاجرہ کو نہیں جانتا نواب زادہ کی زندگی یوں بھی سچی محبت کی راہ پر گامزن تھی اور وہ محبت حاکم خاتون کی محبت سے کئی گنا زیادہ زور آور تھی آپ کو آپ کی محبت نصیب ہو نواب زادے ہم آپ کے لیے دعا گو ہیں خوش نما اب ہاجرہ کا پیکر ہے اور ہاجرہ عمر کی ہونے جا رہی ہے اس ذکر کے علاوہ ہمیں کوئی اور مدعا یاد نہیں ہماری یادداشت سکڑ رہی ہے اور اس سکڑتی ہوئی یاد میں آپ کا ذکر دھندلا سا گیا ہے وقت بہت کچھ بدل دیتا ہے نواب زادہ جلال الدین چلو ہم الگ الگ دنیائوں کا حصہ بن کر سانس لیتے ہیں اور فرض کرلیتے ہیں کہ زندگی بس یہی تھی اور قسمتوں میں یہی درج تھا اس سے آگے کے تمام ذکر اور کہانیاں یادداشت کا حصہ نہیں اور تمام ذکر پرانے ہیں جس کے اسلوب نا سمجھ میں آنے والے ہیں، سو بھول جانا مناسب ہے کہ یاد رکھنے کو کچھ ہمراہ نہیں۔‘‘ ہاجرہ نے گہری سانس لی تھی اور آئینے میں خود کو دیکھا تھا۔
آس یارا سارے میری
میری جاں دکھاں نے گھیری
اندر خواب وچھوڑا ہویا خبر نہ پیندی تیری
سنجی، بن وچ لیٹی سائیاں، چور شنگ نے گھیری
ملاں قاضی راہ بتاون، دین بھرم دے پھیرے
ایہہ تاں ٹھک جگت دے جھیور، لاون جال چوفیرے
کرم شرع دے دھرم بناون سنگل پاون پیرہن
ذات مذہب ایہہ عشق نہ پچھدا، عشق شرع دا
ویری
ندیوں پار ملک سجن دا، لہر سوبھ نے گھیری
ستگور بیڑی پھر کھلوتے، تیں کیوں لائی دیری
بلھا شاہ، تینوں ملسی، دل نوں دے دلیری
پیتم پاس، تے ٹولنا کسی نوں، بھل کیوں شکر دوپہری
آئینے میں کسی کی آنکھیں دکھائی دیتی بے قرار کرنے لگی تھیں۔
’’الوداع نواب زادہ جلال دین محبت کا وہ باب تمام ہوا ہم مان چکے ہیں کہ محبت وہی تھی اور زندگی یہی قسمت میں لکھا نہ تھا اور دنیا داری ضروری تھی سو ہم نے مان لیا سو آپ اور آپ کی محبت فراموش ہوئی چاہتی ہے الوداع نواب زادہ جلال الدین۔‘‘ خوش نما نے آنکھیں بند کی تھیں، اور محبت کے اس باب کو تمام کردیا تھا۔
جلال کا چہرہ یادداشت سے نکل کر شکوہ کرتا دکھائی دیا تھا اور پھر مدہم ہوا تھا خوش نما نے یہ آخری تذکرہ خود سے کر کے ماضی کا ہر باب بند کر دیا تھا اور زندگی کے نئے راستوں پر چلنے کو تیار تھی۔
نیا بندھن… نئی زندگی اور…
مگر یہ کیسا نیا رشتہ تھا جس میں ڈھول باجے یا جشن کاسماں تھا جس میں گیت نہیں تھے سہاگ کے نغمے نہیں تھے دعائیں نہیں تھیں کیا ہر لڑکی کی شادی ایسی ہوتی ہے، یا طوائف کے ساتھ ہی ایسا ہوتا ہے، مگر ایک طوائف کی زندگی جیتے ہوئے اس نے کبھی نکاح کے بارے میں سوچا بھی نہ تھا تبھی تو جلال کا خیال بھی سرسری سا رہا تھا دل میں کہیں اور دانستہ اس ذکر کو دہرایا نہیں تھا ان بند آنکھوں سے ملال آنسوئوں کی صورت رواں تھا اور عمر جو وہاں سے گزر رہا تھا وہ دیکھ کر رہ گیا تھا۔
ؤ…ز …ؤ
جلال کسی خاص کام سے نکل رہا تھا جب فتح النساء وہاں آئی تھی۔
’’ہمیں آپ سے بات کرنا ہے جلال۔‘‘ فتح نے روکنا چاہا تھا مگر جلال نے رک کر بے تاثر انداز میں دیکھا تھا۔
’’ابھی بات نہیں ہوسکتی، ہم جلدی میں ہیں جو بھی مدعا ہے اسے بعد کے لیے اٹھا رکھیے ہم فی الحال آپ کو وقت نہیں دے سکیں گے۔‘‘ جلال نے کہا تھا اور فتح النساء اسے دیکھ کر رہ گئی تھی۔
’’ہم آپ سے صرف یہ کہنا چاہتے تھے کہ آپ اس رشتے کو توڑنے سے قبل ایک بار سوچ لیں اور…!‘‘ فتح النساء بات مکمل کرنا چاہتی جب نواب زادہ نے انہیں روک دیا تھا۔
’’فی الحال اس سلسلے میں بات نہیںہو پائے گی فتح النساء ہم معذرت خوا ہیں ہم آپ سے اس متعلق ضرور بات کریں گے، ہمیں تھوڑا وقت دیجیے۔‘‘ جلال نے عجلت سے انہیں دیکھا تھا گویا انہیں تاخیر ہو رہی تھی اور فتح النساء نے ان کی آنکھوں کا تعرض جانتے ہوئے سر ہلا دیا تھا وہ پلٹے تھے اور آگے بڑھ گئے تھے فتح النساء ان کو دیکھتی رہ گئی تھی۔
ؤ…ز …ؤ
’’کیا اس لڑکے کی اتنی ہمت کہ ہمیں للکار رہا ہے؟‘‘ مرزا سراج الدولہ ہاتھ میں پکڑے نوٹس کو دیکھ کر غصے سے دہاڑے تھے۔
’’چیونٹی کے بھی پر نکل آئے مرزا صاحب مگر یہ اس لڑکے کی سمت سے زیادہ حکمت صاحب کی شہ ہے وہ لڑکا کیا اس کی اوقات کیا نواب صاحب کی ہلاکت کے بعد اس میں اتنا دم نہیں رہا تھا ابھی کل تک لاچار سا وکیلوں کی منتیں کر رہا تھا کہ کوئی اس کی مدد کرے اسے اپنی بقا کی جنگ لڑنا پڑ رہی تھی اور آج وہ کانگریس کی حمایت پر تنا کھڑا ہے اس سے بہتر تھا کہ وہ اور اس کا خاندان پاکستان چلے جاتے تاکہ آج یہ دن تو نہ دیکھنا پڑتے اس قانونی نوٹس کا مطلب جانتے ہیں نا آپ مرزا صاحب زمانے کی انگلیاں آپ کی طرف اٹھیں گی اور بنی بنائی عزت کا جنازہ نکل جائے گا۔‘‘ قریبی دوست اقبال نے سمجھایا تھا مرزا صاحب غصے سے پیچ و تاب کھا کر رہ گئے تھے۔
’’اس لڑکے کو جہنم رسید کرنا ہوگا ہم اسے برداشت نہیںکرسکیں گے، مرزا سراج الدولہ کی عزت سے کھیلنا معمولی بات نہیں یہ بات اس کل کے لونڈے کو سمجھ میں آجائے گی رسی جل گئی مگر بل نہیں گئے نوابی چلی گئی مگر تیمور اب بھی پھنکار والے ہیں سانپ کا سر کچلنا ہمیں بھی خوب آتا ہے، مرزا سراج الدولہ کوئی معمولی انسان نہیں ہیں ایسے دائو پیچ کھیلنا ہمارے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ناکوں چنے نہ چبوا دیے تو نام بدل دینا۔ موصوف بچوں والے کھیل کھیل رہے ہیں ان کو خبر نہیں سراج الدولہ ایسے کھیل اپنے بچپن سے کھیلتا رہا ہے۔‘‘ وہ غصے سے پیچ و تاب کھا رہے تھے۔
’’حیرت تو ہے مرزا صاحب نوابی اطوار ختم نہیں ہوئے نواب صاحب کے جانے کے بعد بھی موصوف کو پوری حمایت حاصل ہے، حکمت صاحب نواب صاحب کے وفادار دوستوں میں شمار ہو رہے ہیں اب کیا جنت میں جا کر منہ دکھانا ہے ان کو جو وفاداریوں کا ثبوت دے رہے ہیں ایسے لوگ بھی شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہوتے ہیں شاہ جنت رسید ہوگئے اپنے حواری چھوڑ گئے انہوں نے ہی اکسایا ہوگا نواب زادے کو ورنہ اس کل کے بچے میں اتنا دم کہاں جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے کانگریس کی شمولیت سنبھالے ایسے تیور دو دن کی شمولیت سے نہیں آتے یہ حکمت میاں کی مہارت ہے ان کے پیچھے وہ اپنا تجربہ بروئے کار لا رہے ہیں قانون کے شکنجے میں جکڑنا چاہتے ہیں آپ کو کسی بھی طرح نواب زادہ سے بات کر کے اس کیس کو یہیں ختم کریں اگر یہ باقاعدہ کورٹ میں چلا گیا تو عزت دو کوڑی کی رہ جائے گی۔‘‘ اقبال صاحب نے حمایت میں کہا تھا۔ سراج صاحب نے سلگتے ہوئے سر ہلایا تھا۔
’’چھٹی کا دودھ یاد دلا دوں گا ان موصوف کو ان کی اتنی مجال مرزا سراج الدولہ پر مقدمہ کرے، ہم یسیر و یتیم جان کر ہمدردی کر رہے تھے ان کو بچہ سمجھ رہے تھے مگر وہ خود کو زیادہ تیس مار خان سمجھنے لگے ہیں تو ان سے دو دو ہاتھ کرنا ہی پڑیں گے خدا پناہ ہم پر اپنے والدین کے قتل کا مقدمہ ڈال دیا اور اس ہتک عزت کا بھی جو ہم نے کبھی کی ہی نہیں سراج الدولہ کو اتنی آسان کھیر سمجھ لینا اس لونڈے کو دکھا دیں گے ہم بھی کہ ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دینا جانتے ہیں دانت کھٹے نہ کر دیے تو ہمارا نام بدل دینا ان کو سبق سکھا کر رہیں گے۔‘‘ سراج صاحب غصے سے دہاڑے تھے اقبال صاحب نے ان کے شانے پر ہاتھ رکھ کر ان کو دلاسہ دیا تھا اور نرمی سے بولے تھے۔
’’جوش سے نہیں سراج صاحب ہوش سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ آج کا بچہ آپ کو آنکھیں دکھا رہا ہے جو ان معاملات کو سمجھ بوجھ سے سلجھانے کی ضرورت ہے کہیں وہ مثل نہ سچ ہوجائے کہ ’’ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ۔‘‘ آپ کا بہت نام او رمقام ہے معاشرے میں آج کا لونڈا آپ پر انگلی اٹھا دے گا تو عزت دو کوڑی کی نہیں رہے گی، جاٹ مراتب جانیے جب تیرہویں ہوجائے آپ کو بہت سمجھ بوجھ کی ضرورت ہوگی مرزا صاحب اپنے وکیل کو بلوائیے۔ ان سے سکون سے بات کیجیے بھس میں ڈال چنگاری جمالو دور کھڑی والا معاملہ نہ کریں آپ کا کانگریس میں عرصہ دراز سے نام ہے اس بچے کو اس طرح جانیے کوئی مینڈک سمندر میں چھلانگ لگا کر پھدک رہا ہے کہ اس نے کنویں کو خیر باد کہہ دیا اور اب ساری دنیا اس کی مٹھی میں ہے آئوٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کریں خاموشی سے۔‘‘ اقبال صاحب نے رسانیت سے مشورہ دیا تھا مرزا صاحب بھڑک اٹھے تھے۔
’’اب ہم کیا اس کل کے لونڈے کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوجائیں، ہم نے تو ان کے والد محترم کو ناکوں چنے چبوا دیے تھے یہ کسی کھیت کی مول ہیں جلد ان کو خیر ہوجائے گی انہوں نے کس کو للکارا ہے جس میدان میں یہ اترے ہیں ہم اس میدان کے پرانے اور گھاگ کھلاڑی ہیں جلد بتا دیں گے انہیں۔‘‘ سراج صاحب سلگ رہے تھے جلال نے ان کو قانونی نوٹس کر کے بتا دیا تھا کہ وہ کیا کرسکتے ہیں انہوں نے اپنے والدین کے قتل کا مقدمہ ان پر ڈالا تھا اور ان کی سازشوں کو جواز بنایا تھا دوسرا انہوں نے اس ہتک عزت کا دعویٰ کیا تھا جو انہوں نے نواب صاحب پر کیچڑ اچھالا تھا کہ فتح النساء ان کی بیٹی ہے اس کا مقدمہ جلال نے ابھی کیا تھا اور مرزا صاحب آپ سے باہر ہوگئے تھے۔
’’اس لڑکے کے چودہ طبق روشن نہ کردیے تو پھر کہنا یاد رکھے گا کہ کس پر مقدمہ کیا تھا دیکھ لوں گا اس لونڈے کو اور ساتھ اس کے حمایتی حکمت بہادر یار جنگ کو بھی دونوں کہاں کے سورما ہیں پتا چل جائے گا ان کو۔‘‘ سراج الدولہ پھنکارے تھے اقبال صاحب ان کو تسلی دینے کو ان کے شانے پر ہاتھ رکھ کر ان کو تسلی دینے لگے تھے۔
ؤ…ز …ؤ
بخار کچھ کم ہوا تھا خاتون نے عین کا ماتھا چھو کر دیکھا تھا۔
’’اللہ تیرا شکر ہے بچی کا بخار کم ہے ورنہ ہم تو بہت پریشان ہوگئے تھے تمہاری آمد سے جیسے اسے راحت ملی ہے۔‘‘ خاتون نے نوجوان کو دیکھتے ہوئے کہا تھا عین پر سکون انداز میں آنکھیں میچے سو رہی تھیں، نوجوان نے جواباً خاموشی سے عین کو دیکھا تھا اور ان کی

پیشانی پر آتے بال ہٹا کر ان کا آنچل سر پر جمایا تھا۔
’’کتنا عرصہ ہوا تمہاری شادی کو، ایسی محبت نہ دیکھی نہ سنی۔‘‘ خاتون نے متاثر ہوتے ہوئے کہا تھا مگر نوجوان نے ایک لفظ نہ کہا تھا وہ خاموشی سے عین کو دیکھتا رہا تھا ٹرین اپنی رفتار سے چلتی رہی تھی۔
ؤ…ز …ؤ
کھوہ وچ پانی
ماں میری رانی
پیو میرا راجہ
ہیٹھ گھوڑا تازہ
چاندی دیاں پوڑیاں
سونے دا دروازہ آل مال ہویا تھال
دور خیالوں سے آتی آواز نے خوش نما کے دامن کو پکڑا تھا محلے کی عورتیں لڑکیاں جانے کیسے اکٹھا ہوگئی تھیں ان کے گانے کی آوازیں خوش نما کے کانوں میں پڑ رہی تھیں وہ ذوق و شوق سے گا رہی تھیں۔
جے تو سپاہیاں گیا جنگ وچ
لا کے مینوں جھورا
برہوں ہڈنوں ایوں کھا جائو
جیو چھولیاں نو ڈھورا
کیا یہ خوشی منانے کا وقت تھا کیسا رابطہ جڑ رہا تھا وہ حیران اور سراسیمہ سی بیٹھی تھی جیسے سانس رکی سی گئی تھی اور وہ پلک جھپکنا بھول گئی تھی۔
چیترا دا مہینہ
پانی دیواں شراقندی نوں
حال وی کی آکھاں
حال وی کی آکھاں
منہ دے مٹھے دل دے کھوٹے نوں
لڑکیاں جیسے عمر کو چھیڑنے لگی تھیں ہنسی مذاق ڈھولک کی تھاپ، یہ کیا تھا اس اہتمام کے معنی کیا تھے۔
میرے داج دیے کڑاہیے
سیس شکر کیتا دہی آئی اے
تے رل کے کھائیے
اس گڈی آئیں بابلا جہڑی دھیاں دے دیس نوں جاوے
ہیڑے اتے بہہ جا بابلا تینوں سہریاں دا حال سناواں
خواتین سر سے راگ لگا رہی تھیں ڈھولک کی تھاپ ماحول میں گونجتے ہوئے ایک خوشی کا سماں باندھ رہی تھی۔
چھند پر اگے آئیے جائیے چھند پہ اگے کھیرا
دھی تہاڈی اے داں رکھنا جیو مندری وچ ہیرا
اس نے سر اٹھا کر نگاہ کی تھی تو ماحول ساکت تھا اور صحن خالی اس کا وہم تھا کیا یا کوئی واقعی سہاگ کے گیت گا رہا تھا؟
ہا بریں برسیس کٹھن گیاتے کھٹ کے لیا نا فیتہ
ن عشقے نے ڈنگ ماریا کڑی سپ دا بہانہ کیتا
عورتیں ہنس رہی تھیں ڈھولک کی آواز ماحول کو گھیر رہی تھی۔
نیلی گھوڑی دے وکیلا تیری
جے پہلی پیش ہار چھٹ جائے
وگدی اے رلوی ماہی وے وچ دو پھل پیلے ڈھولا
کیسا ماحول بن رہا تھا مگر کوئی دکھائی کیوں نہیں دے رہا تھا یہاں کے مہمان کہاں تھے ان کی آواز ماحول میں رچی بسی تھیں تو وہ خود کہاں غائب تھے۔
آسما نیں ال پھر دی
تیری میری اک جنڈری خواہاں وچ نت مل دی
اور اس ماحول میں یکدم خاموشی چھانے سے اکبری بیگم کی آواز اس کے گرد گونجنے لگی تھی۔
الڑ بلڑ ہاوے دا بادا اگنک لیا دے گا
بادی بہ کے چھٹے گی ماں پونیاں وٹے گی
بادی من پکا وے گی باوا بیٹھا کھاوے گا
کاکا کھڑ کھڑ ہسے گا
خوش نما نے سر اٹھا کر دیکھا تھا اکبری بیگم کہیں دکھائی نہ دی تھیں اس نے اٹھ کر بے اختیار ان کو ڈھونڈنا چاہا تھا تبھی عمر سے ٹکرائی تھی عمر نے ان کو تھام کر گرنے سے بچایا تھا اور وہ ساکت سی ان کی طرف دیکھنے لگی تھیں۔
’’کیا ہوا، آپ پریشان دکھائی دے رہی ہیں، خالہ مولوی صاحب کو بلانے گئی ہیں آپ خیریت سے ہیں مزاج گرامی ٹھیک ہیں آپ کے؟‘‘ وہ متفکر ہوا تھا مگر وہ خالی خالی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی تھی، تب عمر نے اسے تھام کر بٹھایا تھا اور مٹکے سے پانی کا گلاس بھر لایا تھا اور خوش نما کی سمت بڑھایا تھا۔ مگر اس نے ہاتھ سے پیچھے ہٹا دیا تھا اور اسے خالی خالی آنکھوں سے دیکھا تھا تب وہ گلاس ایک طرف رکھ کر اس کے سامنے بیٹھا تھا اور توجہ سے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔
’’آپ اس نکاح سے خوش نہیں ہیں تو اس نکاح کے منعقد ہونے کا کیا سبب رہ جاتا ہے ہم آپ کی کیفیت سمجھتے ہیں آپ تذبذب کا شکار ہیں آپ ہمیں نہیں جانتیں ہمارے نام سے واقف ہوئے کوئی ڈھائی لمحے ہوئے ہوں گے یہ رشتہ یقینا ایک بوجھ جیسا لگ رہا ہوگا مگر خالہ کی سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی بہرحال میں چاہتا ہوں آپ یہاں سے چلی جائیں اگر آپ کو کسی طرح کی مدد کی ضرورت ہے تو میں اس کے لیے بھی تیار ہوں۔‘‘ وہ کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
’’فوجیوں کی ایک ٹرین کل پاکستان روانہ ہو رہی ہے آپ کا بندوبست اس ٹرین میں کرا سکتا ہوں۔‘‘ عمر نے کہا تھا پھر کچھ سوچ کر بولا تھا۔
’’مگر کل تک شاید آپ انتظار نہ کرسکیں اگر آپ یہ نکاح نہیں چاہتی تو اس کو روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آپ خالہ کی واپسی سے قبل اس گھر سے نکل جائیں آپ کو یہ مشورہ ہر گز نہ دیتا مگر اس وقت کے لیے یہ ناگزیر ہے ورنہ خالہ اپنی کر کے رہیں گی۔‘‘ وہ اسے بھاگنے پر اکسا رہا تھا وہ چلتے ہوئے داخلی دروازے تک گیا تھا اور جا کر دروازہ کھول دیا تھا اور خوش نما کی سمت دیکھا تھا اس کی آنکھیں واضح طور پر جتا رہی تھیں کہ اٹھیں اور فوراً اور بھاگیں مگرجانے کیا ہوا تھا کہ خوش نما اٹھ نہیں پائی تھی عمر اسے منتظر نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
دروازہ کھلا ہوا تھا اور وہ اپنی جگہ ساکت بیٹھی تھی۔
ؤ…ز …ؤ
’’نام و مقام بنانے کے لیے تم جو اوچھے ہتھکنڈے بنا رہے ہو یہ کام نہیں آئیں گے میاں جائو منہ دھو کر آئو ابھی دودھ کے دانت بھی نہیں ٹوٹے تمہارے ہم سے ٹکر لینا آپ کو بہت مہنگا پڑ سکتا ہے اس نوابی کا ٹوٹا پھوٹا تاج اٹھا کر ایک طرف پٹخ دیں نواب گئے اور نوابی بھی گئی اب وہ نوابی صرف نام کی رہ گئی ہے سو خواب سے جاگ جائیے سیدھے سے مقدمہ واپس لیجیے ورنہ آپ ہمیںجانتے ہیں آپ کے والد محترم پرانے دوست ہیں سو بچہ سمجھ کر لحاظ کر رہے ہیں آپ کا اس کو غنیمت جانیے ورنہ ہم سے برا کوئی نہیں دشمنوں کے دانت ایسے کھٹے کرتے ہیں کہ وہ یاد کرتے رہ جاتے ہیں آپ بچے ہیں سو پالنے میں جا کر کھیلیے بڑوں کے کام بڑوں کے لیے رہنے دیجیے شاباش۔یہ کیس واپس لیں ہم اپنی عزت پر ایسا کوئی کیچڑ برداشت نہیں کریں گے اور اگر اس کیچڑ کے چھینٹے ہم پر آئے تو ہم آپ کو بھی نہیں بخشیں گے مت بھولیے کہ نواب زادی پاکستان روانہ ہوئی ہیں اور ہمارے صاحبزادے ان کا سہاگ بننے جا رہے ہیں ایسا نہ ہو آپ کی حماقتوں کی سزا آپ کی ہمشیرہ کو بھگتنا پڑے کرے کوئی اور بھرے کوئی والا معاملہ نہ ہو جائے کہیں۔‘‘ وہ صاف دھمکی دیتے ہوئے مسکرائے تھے۔
جلال ان کو دیکھ کر رہ گیا تھا وہ پر سکون دکھائی دیے تھے اطمینان سے اٹھتے ہوئے ان کو دیکھا تھا اور مدہم لہجے میں بولے تھے۔
’’مرزا صاحب جو بن پڑتا ہے کر لیجیے مگر یہ مقدمہ واپس نہیں لیا جائے گا اور یہ دھمکیاں دینا بند کیجیے آپ نواب زادہ جلال الدین پٹوڈی سے مخاطب ہیں ادب و آداب ملحوظ نظر رکھیں۔‘‘ وہ پر سکون انداز میں گویا تھے مرزا صاحب آپے سے باہر ہوگئے تھے۔
’’بہت رکھ لیا رکھ رکھائو اور آداب بھی ملحوظ خاطر رکھ لیے، بھاڑ میں جائے سب حد ادب کو ملحوظ خاطر رکھنے کی ضرورت آپ کو بھی ہے نواب زادہ ہم آپ کے والد کے پرانے دوستوں میں سے ہیں اگر آپ نے ماضی کا یہ قصہ اٹھایا تو ہم بھی ماضی کے کئی قصے نکال لائیں گے۔ پھر مت کہیے گا کہ آپ کے مرحوم باپ کا بھی لحاظ نہیں کیا نہ خاندانی تعلقات کا اگر آپ نے یہ مقدمہ واپس نہ لیا تو پھر ہم بھی دفاع کے لیے ہر جائز اور ناجائز طریقہ اپنائیں گے اور سوچ لیں بات کہاں سے کہاں جاسکتی ہے۔ کیوں کہ مرزا کا دماغ جب گھوم جاتا ہے تو پھر مرزا کو اپنی اولاد بھی نظر نہیں آتی، ایسا نہ ہو کہ ہم آپ کو ایسا سبق سکھائیں کہ آپ کی روح بھی کانپ جائے ہمارے قہر کو آواز نہ دیں تو بہتر ہوگا مرزا اچھوں کے ساتھ اچھا ہے سو اس کا ناجائز فائدہ نہ اٹھایا جائے جتنی جلدی ممکن ہو اس مقدمے کو واپس لیں یا س مقدمے کو کچھ دے دلا کر ختم کریں، عزت کی بات ہے تو اسے برابری پر جانچتے ہیں۔ دونوں خاندان معمولی نہیں ہیں سو بات کو آرام سے سکون سے سمیٹ دیتے ہیں مطلع کیجیے اس مقدمے کو واپس لینے کے لیے کیا مانگتے ہیں آپ اگر بات پھیل گئی تو پھر ہم اس سکون سے بات نہیں کریں گے جتائے دے رہے ہیں۔‘‘ مرزا صاحب پھنکارے تھے اور جلال مسکرا دیا تھا۔
’’چاچا جان اتنا غصہ کیوں ابھی تو ابتدا ہے آپ نے جو کیا اس کا آدھا بھی نہیں بہت جھیلا ہے آپ کو ابا جان کی نرمی کی وجہ سے مگر اب اور نہیں جو آپ نے کیا اس کی سزا تو آپ کو ملے گی اور دھمکیاں کسی اور کو دیجیے گا آپ نواب زادہ جلال الدین کے مہمان ہیں ان کی زمین پر کھڑے ہیں سو آپ کو اس گستاخی کے لیے معاف کیا جاتا ہے ورنہ ہم گستاخ لہجے برداشت نہیں کرتے ابا جان کی نرمیوں کا بہت فائدہ اٹھا چکے آپ مگر اب آپ کا سامنا جلال سے ہے اور جلال ایسے شخص کیلئے کوئی معافی نہیں رکھتا اگر اپنے ابا جان اور اہل خانہ کے خون کا حساب آپ سے نہ لیا تو ایک قرض روح پر رہ جائے گا چاچا جان سو اس قرض کو اتارنا ضروری ہے سو جواب دہی تو ہوگی جرم کیا ہے تو سزا بھی ملے گی جو جال آپ نے بنا اور ہمارے خاندان کو سازش کا حصہ بنایا وہ گناہ اتنا معمولی نہیں کہ ہم آپ کو بخش دیں اور زندہ چھوڑ دیں اس مقدمے کو واپس نہیں لیا جائے گا نا ہی کوئی معافی ملے گی اس گناہ کی سزا آپ کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے لے جائے گی اور آپ یاد رکھیں گے۔‘‘ جلال بولا تھا اور وہ ہنسنے لگے تھے۔
’’اپنی غلطی پر پچھتائیں گے آپ چھوٹے نواب خون کے آنسو روئیں گے آپ مرزا سے دشمنی بہت مہنگی پڑے گی آپ کو۔‘‘ وہ دھمکاتے ہوئے گھورتے ہوئے پلٹے تھے اور محل سے باہر نکلتے چلے گئے تھے جلال ان کو دیکھتے رہ گئے تھے۔
تبھی حکمت وہاں آئے تھے۔
’’یہ ہم کیا سن رہے ہیں جلال، آپ نے ہم سے پوچھے بنا کسی مشورے کے بنا یہ سب کیوں کیا؟‘‘ حکمت صاحب نے پوچھا تھا اور جلال ان کو دیکھ کر رہ گئے تھے تب حکمت صاحب نے گہری سانس لیتے ہوئے ان کی طرف دیکھا تھا۔
’’جلال بیٹا یہ مناسب اقدام نہیں تھا اس موقع کی مناسبت سے نہیں فی الحال آپ کو ایسا کوئی فیصلہ نہیں لینا چاہیے تھا نواب صاحب کا کفن بھی میلا نہیں ہوا اور ہم کوئی نقصان نہیں چاہتے مرزا ان انسانوں میں سے ہیں ہم جن کی صف کو انسانوں کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں ایسے انسانوں سے جتنی تغاوت رکھی جائے مناسب ہے ایسے لوگوں کے لیے خاموشی بہترین جواب ہوتا ہے۔‘‘ حکمت صاحب نے ان کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے سمجھایا تھا جلال نے ان کو دیکھا تھا۔
’’چچا جان میرے والدین کا خون اتنا ارزاں نہیں کہ ہم ان کے قاتل کو یوں معاف کردیں ابا جان اور دیگر اہلخانہ کی ارواح کو کیا منہ دکھائیں گے ہم ہم تو بخشے بھی نہیں جائیں گے۔‘‘ جلال نے کہا تھا تو حکمت صاحب ان کو دیکھ کر رہ گئے تھے۔
’’ہم سمجھتے ہیں بیٹا جوان خون کس طرح جوش مارتا ہے ہمیں یہ بھی سمجھ آتا ہے مگر آپ سوچیے اس طرح آپ مرزا صاحب کو مزید مشتعل کردیں گے وہ اس سے بھی بھیانک اقدام کے بارے میں سوچیں گے اور میں آپ کو کوئی نقصان پہنچتے نہیں دیکھ سکتا آپ ہمارے قریبی دوست کے لخت جگر ہیں اور ہم آپ کی خیریت دل سے مطلوب چاہتے ہیں خدارا محتاط رہیے اور کوئی بھی ایسا اقدام کرنے سے قبل ہم سے مشاورت کرنا ضروری ضرور جانیے آپ کا جو ش اور ہمارا تجربہ دشمن کے دانت کھٹے کرنے میں معاون ہوسکتا ہے، نواب صاحب کی ایسی بے رحمانہ موت کا ہمیں افسوس ہے ہم آپ کا دکھ سمجھتے ہیں ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں آپ کا بچ جانا اللہ کا کوئی کرم ہی ہے اگر اس روز آپ بھی گھر پر ہوتے تو آپ بھی اس حادثے کا حصہ بن چکے ہوتے مگر اللہ نے خاص کرم کیا ہے کہ نواب صاحب کے وارث حیات ہیں دشمن تو ایسا بھی نہیں چاہتا تھا بہرحال آپ کو بہت پھونک پھونک کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے ہم آپ کے ساتھ ہیں آپ کی معاونت کے لیے قدم قدم آپ کا ساتھ دیں گے نواب زادہ جلال الدین مگر آپ سے ہم بہت سمجھداری اور میانہ روی کی توقع رکھتے ہیں فوری طور پر کوئی بھی قدم نہ اٹھائیں، بہت دانشمندی کی ضرورت ہے اور آپ کی سلامتی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔‘‘ حکمت صاحب نے کہا تھا اور جلال ان کو دیکھ کر رہ گئے تھے۔
ؤ…ز …ؤ
’’چوبیس گھنٹے کا وقت دے آئے ہیں ان موصوف کو اگر انہوں نے کیس واپس نہیں لیا تو ہم پھر اپنا طریقہ اپنائیں گے یہ لونڈا ناک میں دم کر رہا ہے ہم سے قابل قبول نہ ہوا تو ہم انتہائی راہ بھی اختیار کریں گے مگر اس عمر میں اور اس مقام میں لوگوں کو ہنسنے کا موقع نہیں دیں گے عزت ہمیں بھی عزیز ہے میاں وہ اگر یہ بات نہیں سمجھتے تو ہاتھ ٹیڑھے کرنا ہمیں بھی آتا ہے۔‘‘ مرزا سراج الدولہ نے غصے سے ٹہلتے ہوئے وکیل کو دیکھا تھا وکیل نے ہاتھ کے اشارے سے ان کو تسلی دیتے ہوئے بیٹھنے کو کہا تھا۔
’’پریشان کیوں ہوتے ہیں آپ کو یقین دلاتے ہیں وہ کل کا بچہ آپ کا کچھ بگاڑ نہ پائے گا کل ملنے جائیے تو گلی ڈنڈا یا دو چار کانچے ہمراہ لے جائیں ان موصوف کو تھماتے ہوئے کہیے کہ میاں کھیلنے کی عمر ہے جائو شاباش گلی میں جا کر کھیلیے، بڑوں کے ساتھ ایسی شیطانیاں کرنے کی کیا تک ہے؟‘‘ وکیل نے منہ میں پان رکھتے ہوئے کہا تھا اور مسکراتے ہوئے مرزا صاحب کو دیکھا تھا جس کا رنگ فق ہوا ہوا تھا۔
’’وکیل صاحب اس عمر میں عزت بچانا چاہتے ہیں ناک کٹ جائے گی ہماری اگر یہ ثابت ہوگیا کہ بلوائیوں سے حملہ ہم نے کروایا اور نواب صاحب کے خاندان کو ہم نے مروایا۔‘‘ مرزا متفرق تھے
’’ہاں تو کون گواہی دینے آئے گا۔ کیا مذاق کرتے ہو میاں وکالت چنے دے کر نہیں پڑھی ہم نے اتنا تو ہم بھی جانتے ہیں کہ کیس میں سرے سے کوئی دم نہیں مان بھی لیا جائے کہ آپ اس سازش کا حصہ رہے ہیں تو کیا یہ ثابت کرنا گڈے گڑیوں کا کھیل ہے چھوٹے نواب دماغ کے کچے ہیں آپ بس جوانی کا جوش ہے اور وہ بھی دودھ کے ابال کی طرح سے جھٹ سے بیٹھ جانا ہے۔ سو انتظار کریں کہ یہ ابال کناروں تک آکر واپسی کی سمت دوبارہ سرکنے لگا چھوٹے نواب کو اصلاح کی ضرورت ہے بزرگ بن کر صلاح دیجیے بس ان کو جتائیے کہ ایسا کچھ ہے ہی نہیں بچے ہیں بہلتے کتنی دیر لگے گی۔‘‘ وکیل صاحب پر سکون انداز میں مسکرائے تھے مرزا صاحب نے ان کو گھورا تھا۔
’’ہماری جان پر بنی ہے اور آپ کو مذاق سوجھ رہا ہے آپ کو اس لیے مقرر کیا ہے کہ آپ ہمارا مذاق اڑائیں۔ حد ہوگئی۔‘‘ مرزا صاحب برہم دکھائی دیے تھے مگر وکیل صاحب مسکرا دیے تھے۔
’’مذاق کہاں اڑا رہے ہیں اوہام پال رکھے ہیں بس اور کچھ نہیں ہے ہمار ایسا کوئی ارادہ نہیں بہرحال ایک بات سمجھا رہے ہیں ایسے مقدمے میں سالوں لگتے ہیں قاتل کو ڈھونڈنا آسان نہیں اور گواہ موجود نہیں آپ کی عقل گھاس چرنے گئی ہے یہ اہم بات آپ کی عقل میں کیوں نہیں آتی کہ وہ کل کا لونڈا گواہ کہاں سے ڈھونڈے گا بلوائی اسے پتا سرناوا ہاتھ میں تھما کر گئے تھے بلوائیوں نے حملہ کیا تھا یہ سب جانتے ہیں اور بلوائیوں نے ان کے محل اور خاندان پر حملہ کیا تھا یہ بات بھی سب جانتے ہیں تو پھر مزید کیا ثابت کرنا ہے، بلوائیوں نے کتنے قتل کیے کتنی عصمت دریاں کیں، ان سب کے کتنے مقدمے درج ہوئے ہیں اب تک کتنے بلوائیوں کو سزا ملی ہے دماغ سٹھیا گیا ہے آپ کا مرزا صاحب اور کچھ نہیں ہے اس لونڈے نے خوف میں مبتلا کردیا ہے آپ کو بس یہی ہے اور اس کے علاوہ کوئی جواز نہیں ہے آپ کو نفسیاتی جنگ لڑ کر ہرانا چاہتا ہے تاکہ آپ خود اپنا جرم قبول کریں اور پکڑیں جائین وہ لونڈا اتنا بچہ نہیں ہے۔‘‘ بلوائیوں کے لیے کہیں کوئی مقدمہ کسی جگہ درج نہیں ہوا بلوائیوں کا چہرہ کوئی شناخت نہیں کرتا کتنے بلوائی تھے کون ڈھونڈے گا، لوٹ کھسوٹ میں فائدہ اٹھایا جاتا ہے بس اور ان بلوائویں نے بس یہی کیا عدالت میں کھلی اڑے گی ان موصوف کی ہنسیں گے سب ایسا مقدمہ کہیں درج ہی نہیں آپ کس بنا پر دم سادھے بیٹھے ہیں ہوش کے ناخن لیں ڈرنا بند کریں کچھ نہیں ہوگا بس سکون سے بیٹھے اور سر دھنیے زندگی کو غالب کی غزل سمجھ کر سرور لیجیے۔‘‘ انہوں نے مسکراتے ہوئے سگار مرزا صاحب کی طرف بڑھایا تھا مرزا صاحب ان کو دیکھ کر رہ گئے تھے اور وکیل صاحب ہنس دیے تھے مرزا متفکر دکھائی دیے تھے۔
’’کیسا خون خشک کر رکھا ہے اس لونڈے نے آپ کا حد ہوگئی مرزا صاحب آپ تو کمال کے بزدل نکلے اتنی بڑی سازشوں کے محرک اتنے خوفزدہ دکھائی دے رہے ہیں جب کوئی ثبوت چھوڑا ہی نہیں تو ڈر کیسا، بلوائی در حقیقت آسمان سے ٹپکے تھے اور ان کو کوئی نہیں جانتا بلوائیوں نے جس طرح دنگا فساد کرنا تھا قتل و غارت گری کرنا تھی انہوں نے کی خوامخواہ کی فکر میں خود کو ہلکان نہ کریں جائیے گھر لمبی تان کر سو جائیں ہم آپ کے خادم موجود ہیں نا، ہم سنبھال لیں گے اس لونڈے نے آپ پر ہتک عزت کا دعویٰ کیا ہے کل ہم اس پر ہتک عزت کا دعویٰ کریں گے۔ آپ کی عزت اتنی ارزاں نہیں ہے فکر نہ کریں مقدمہ ہمارے حوالے کیا ہے تو سکون سے بیٹھ جائیں اب ہم سنبھال لیں گے۔‘‘ وکیل صاحب مسکرائے تھے اور سگار کے کش لینے لگے تھے مرزا صاحب نے خاموش سے ان کو دیکھا تھا۔
ؤ…ز …ؤ
’’فتح النساء نے شکوہ کناں نظروں سے جلال کو دیکھا تھا وہ سر جھکائے کوئی اہم فائل دیکھ رہے تھے ان کے وکیل دستخط کے منتظر تھے اور منتظر تو فتح بھی تھی کہ ان سے بات ممکن ہوسکے مگر وہ گویا اس بات سے یکسر نا واقف تھے فتح کو گلا کھنکار کر اپنی موجودگی کا احساس کرانا پڑا تھا تب جلال نے کسی قدر چونک کر ان کی سمت دیکھا تھا اور دستخط کر کے فائل وکیل صاحب کی سمت بڑھا دی تھی وکیل فائل تھام کر چلتے بنے تھے اور تب جلال فتح کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔
’’کہیے کیا مدعا ہے آپ کچھ متفکر دکھائی دے رہی ہیں خیریت ہے۔‘‘ وہ رسانیت سے پوچھ رہے تھے فتح النساء نے ان کو خاموشی سے دیکھا تھا پھر نرمی سے بولی تھیں۔
’’ہمیں آپ کی فکر ہو رہی ہے جلال آپ کا اقدام مناسب نہیں ہے مرزا اور ان کے صاحبزادے کو کون نہیں جانتا۔ ان سے مخالفت مول لینے کا مطلب جانتے ہیں آپ نواب صاحب کے اکلوتے وارث ہیں اور آپ کا ان کے لواحقین میں سے زندہ رہ جانا حیران کن ہے دشمن یقیناً ایسا نہیں چاہتا تھا مگر اللہ نے آپ کو محفوظ رکھا اور اب آپ اس طرح مرزا سے مخالفت مول لے رہے ہیں مجھے اختلاف ہے آپ کو اس درجہ عجلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے تھا ہم نہیں کہتے کہ آپ نے غلط کیا مگر یہ قبل از وقت ہے فتح النساء نے ان کو مشورہ دینا چاہا تھا مگر جلال نے ہاتھ اٹھا کر ان کو مزید بولنے سے روک دیا تھا اور پر سکون انداز میں بولے تھے۔
’’ہم سدباب ڈھونڈ نکالیں گے فتح النساء آپ کو فکر میں گھلنے کی ضرورت نہیں ہے ہم جانتے ہیں ہم نے جو کیا وہ مناسب ترین قدم ہے بظاہر بلوائیوں نے حملہ کیا مگر وہ ایک منصوبہ سازی سے زیادہ ایک بھیانک سازش تھی اور اس سازش کے پیچھے جو چیزیں تھیں ہم اس کو دنیا کے سامنے لانا چاہتے ہیں ہم جانتے ہیں گواہ موجود نہیں اور اسی نوعیت کا یہ پہلا مقدمہ ہے مگر کسی کو تو پہل کرنا تھی ہم ایسے فساد کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے کتنے بے قصور اس قتل و غارت گری کی نذر ہوئے ان میں سے کسی ایک کو اگر انصان مل جاتا ہے تو یہ اقدام ان تمام مرنے والوں کی روح کو تسکین فراہم کرے گا ہمیں اس کا یقین ہے۔ آج لوگ اس نوعیت کے مقدمے پر ہنسیں گے ہماری بے وقوفی خیال کریں گے مگرکل جب مرزا صاحب بے نقاب ہوں گے اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوں گے تو ہر کوئی جان جائے گا کہ نواب زادہ جلال الدین غلط نہیں تھے ہم اپنے اس اقدام پر مطمئن ہیں اور ہمیں کسی جگ ہنسائی کا کوئی خوف نہیں۔‘‘ وہ اپنا دفاع کرتے ہوئے بولے تھے اور فتح النساء ان کو دیکھ کر رہ گئی تھیں۔
’’ہمارا مقصدیہ نہیں تھا چھوٹے نواب ہم آپ کو غلط نہیں سمجھتے نا آپ اس ضمن میں اکیلے ہیں ہم آپ کے ساتھ ہیں مگر ہم آپ کی فکر کر رہے تھے نواب صاحب کی جمع پونجی ہیں آپ ان کی نسل کے اکلوتے وارث وہ آپ کو بہت کامیاب دیکھنا چاہتے تھے آپ کے حوالے سے ان کی آنکھوں میں کئی خواب تھے اور ہم ان کی تلافی کے لیے دعا گو ہیں اللہ آپ کو کامیابی اور کامرانی دے۔‘‘ فتح النساء کہنے تو بہت کچھ آئی تھیں مگر کچھ زیادہ نہیں کہہ سکی تھیں اور اٹھ کھڑی ہوئی تھیں تبھی نواب زادے نے ان کا ہاتھ تھام لیا تھا اور وہ چونک کر مڑی تھیں اور چھوٹے نواب کی سمت دیکھا تھا مگر وہ ان کی سمت متوجہ دکھائی نہیں دیے تھے اور اس آہستگی سے انہوں نے فتح النساء کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا فتح النساء پلٹ کر ان کے قریب بیٹھ گئی تھیں۔
’’اگر چہ ہم میں بہت سے اختلاف ہیں اور ہماری ازدواجی زندگی کسی سمت جاتی دکھائی نہیں دیتی مگر اس کے باوجود ہم آپ کے خلاف کھڑے نہیں ہیں نا آپ کی مخالفت کر رہے ہیں آپ کے ہمراہ کھڑے ہیں ہم جب تک آپ کو ضرورت ہے ہم آپ کے ہمراہ اسی طور کھڑے رہیں گے جب آپ کو ضرورت نہ رہے ہمیںمطلع کردیجیے گا ہم آپ سے کنارہ کشی اختیار کرلیں گے۔‘‘ وہ مدہم لہجے میں گویا ہوئی تھیں وہ جیسے جان گئی تھیں کہ وہ اس لمحے تنہا ہیں اور ان کو سہارے کی ضرورت ہے سو انہوں نے جانے کا ارادہ ملتوی کر دیا تھا اور قریب بیٹھ کر چھوٹے نواب کی دلجوئی کرنے لگی تھیں مگر چھوٹے نواب نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے ان کی سمت بنا دیکھے کہا تھا۔
’’ہمیں اس سے فرق نہیں پڑتا کہ کون کس سمت کھڑا ہے، کون حمایت یا مخالفت میں ہے ہم اتنا جانتے ہیں کہ ہم تنہا نہیں کیونکہ اماں ابا کی دعائیں اور یادیں ہمارے ہمراہ ہیں اور اللہ کا ساتھ بھی ہمیں مضبوطی دے رہا ہے جہاں تک معاملہ آپ کی مخالفت کا ہے تو ہم الزام دینے والے کون ہوتے ہیں آپ جو ضروری سمجھتی ہیں روا رکھیں اگر آپ کھل کر مرزا صاحب کی حمایت کرنا چاہتی ہیں تو اجازت ہے ہم آپ کو منع نہیں کریں گے۔‘‘ ان کا لہجہ عجیب شکوہ کناں تھا اور فتح النساء کے کلیجے میں جیسے کسی نے انی گھسیڑ دی تھی وہ تڑپ کر چھوٹے نواب کی طرف دیکھنے لگی تھیں۔
’’ہم… ہم بھلا مرزا صاحب کا ساتھ کیوں دیں گے۔‘‘ ان کی آواز بھرا گئی تھی اور تذلیل کے احساس سے چہرہ سرخ پڑ گیا تھا وہ آنسوئوں سے لبریز آنکھوں سے ان کی جانب دیکھنے لگی تھیں۔
’’کاش آپ صحیح اور غلط کی تمیز کرسکتے یا مخالفت اور حمایت کے معنی جان پاتے یا صرف آنکھیں کھول کر سچائی کو ایک نظر دیکھ سکتے آپ کی باتیں ہمارے دل میں پیوست ہوتی ہیں اور آپ کے جملے ہمارے دامن کو نہیں دل کو داغ دار کرتے ہیں۔‘‘ وہ جیسے درد سے کراہ کر رہ گئی تھیں مگر جلال نے ان کی طرف دیکھنا گوارا نہیں کیا تھا اور بولے تھے۔
’’آنکھوں دیکھا سچ نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوتا فتح النساء ہم ہزار خطائیں معاف کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں مگر بے وفائی نہیں اور بے وفائی بھی کیسی جو روح کو زخم دے گئی۔‘‘ جلال کا لہجہ بجھا بجھا ساتھا۔ فتح النساء کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی تبھی چھوٹے نواب نے ایک نگاہ ان پر ڈالی تھی اور گویا ہوئے تھے۔
’’ہم نے حکمت چاچا سے کہہ دیا ہے آپ کو اور آپ کی بوا کو محل میں منتقل کرا دیں اگر چہ آپ کو ہماری ضرورت نہیں مگر آپ ہمارے نام سے منسلک ہیں اور ہم اس بے وفائی کے باوجود آپ سے دستبردار نہیں ہوسکتے اگر چہ ابا جان کی خواہش تھی کہ آپ کو دھوم دھام سے رخصت کرا کر محل میں لاتے مگر شومئی قسمت ابا جان رہے نہیں اور حالات بھی اس قابل نہیں رہے سو اب جو بھی ہو وہ معنی نہیں رکھتی۔‘‘ وہ سرسری سے لہجے میں بولے تھے فتح النساء نے تڑپ کر ان کی طرف دیکھا تھا اور مدہم لہجے میں گویا ہوئی تھیں۔
’’کاش ہم آپ کو اپنی وفاداری کا یقین دلا سکتے کاش ہم آپ کو بتا سکتے کہ محبت میں شراکت اور تقسیم نہیں ہوتی اور جو خانوں میں بٹ جائے وہ محبت نہیں ہوتی ہم تو تب سے آپ کی وفاداری کا دم بھرتے رہے ہیں جب آپ سے کسی حوالے سے منسلک بھی نہیں تھے رشتہ تو آپ سے بہت بعد میں جڑا مگر آپ کو یقین نہیں اور ہم محبت کا کوئی حوالہ دینا اب ضروری خیال نہیں کرتے اگر لفظ شور مچانے کے باوجود اپنا وجود کھو بیٹھے ہیں تو خاموشیاں اپنا آپ کہاں منوا سکتی ہیں بہتر ہوگا خاموشیوں کو اٹھا کر ایک طرف رکھ دیں اور گفتگو کو رد کردیں محبت کو متروک قصہ قرار دے دیں اور وفاداریوں کو انجانی داستان تعلقات خواب ہو رہے ہیں تو کوئی اور جواز ضروری نہیں۔‘‘ فتح النساء اٹھی تھیں ان کی آنکھیں متواتر بھیگ رہی تھیں اور تبھی جلال نے ان کو پکارا تھا۔
’’رکیے۔‘‘ فتح النساء اس حکم نامے پر رک گئی تھیں اور تبھی وہ پر سکون لہجے میں گویا ہوئے تھے۔
’’ہم جواز ڈھونڈنا نہیں چاہتے مگر جو اس خاندان کی روایت ہے ہم اسے پورا کرنا ضرور خیال کرتے ہیں بہر طور آپ اس خاندان کی بہو اور نواب زادہ جلال الدین پٹوڈی کی زوجہ محترمہ ہیں سو آپ کا حق ہے اس گھر پر اور ان در و دیوار پر آپ اس گھر میں ہی رہیں گی جب تک کہ ہم اس رشتے کی سمت تلاش نہیں کرسکتے آپ کا اس رشتے کے ایک سرے کو تھامے رہنا ضروری ہے کیونکہ رشتے کا دوسرا سرا ہم تھامے کھڑے ہیں۔ ہم دونوں کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔‘‘ جلال مدہم لہجے میں بولے تھے۔
فتح النساء نے مڑ کر جلال کو دیکھا تھا۔
’’چھوٹے نواب رشتے کو سرا نہیں مل سکتا جب دو لوگ رشتوں کے سروں کو تھام کر کھڑے ہوتے ہیں تو رشتہ تنائو کا شکار ہوجاتا ہے رشتوں کی ڈور لچک پذیری کی محتاج ہوتی ہے اور تنائو ساز گار ماحول فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے اور رشتہ اپنا تاثر کھونے لگتا ہے رشتے کا تاثر کھونا اسے بے وقعت کردیتا ہے اس صورت حال میں شکوے معیوب ہوتے ہیں اور وضاحتیں ذکر ممنوع۔‘‘ فتح النساء پلٹی تھیں اور چلتی ہوئیں وہاں سے نکل گئی تھیں جلال ان کو دیکھ کر رہ گیا تھا۔
ؤ…ز …ؤ
’’تیمو… ر…!‘‘ عین نے بند آنکھوں سے پکارا تھا نوجوان نے ان کے نازک ہاتھ کو تھاما تھا۔
’’عین آنکھیں کھولیے ڈریے مت ہم آپ کے ساتھ ہیں۔‘‘ نوجوان نے کہا تھا اور ان کو اٹھا کر بٹھایا تھا عین نے سیٹ کی پشت گاہ سے ٹیک لگا کر آنکھیں کھولنے کی با مشکل کوشش کی تھی۔
’’تیمور… ہم خیالوں میں دیکھنے لگے ہیں آپ کو آپ کہاں کھو گئے ہیں نظروں کے سامنے کیوں نہیں آتے، دکھائی کیوں نہیں دیتے؟ آپ نے تو وعدہ کیا تھا نا اس سفر میں ہمارے ساتھ رہیں گے؟‘‘ وہ جیسے خیالوں میں تیمور سے مخاطب ہوئی تھی مگر نوجوان نے ان کے ہاتھ کو مضبوط سے تھام کر گرم جوشی کا احساس دلایا تھا۔
ہاتھ میں وہ لمس صاف محسوس کیا جاسکتا تھا عین جو مدہم لہجے میں کھوئی کھوئی سی بولی تھیں ان کو چونکتے ہوئے دیکھنے لگی تھیں۔ نوجوان خاموشی سے دیکھنے لگا تھا تب عین نے بے ساختہ ہاتھ بڑھا کر اس نوجوان کا چہرہ چھوا تھا اس کے نقوش کو چھو کر جیسے احساس کرنا چاہا تھا کہ وہ حقیقت ہے یا خواب؟ اور ان کی آنکھیں نمی سے بھرنے لگی تھیں اگلے کئی لمحوں تک وہ خاموشی سے اس نوجوان کو دیکھتی رہی تھیں۔
’’ہم وعدہ خلاف نہیں عین، ہم اپنے کہے کا مان رکھنا جانتے ہیں ہم نے جو کہا تھا ہم ان لفظوں کی پاسداری اپنی آخری سانس تک کریں گے وقت کو بدلنا پڑا یا موت کو شکست بھی دینا پڑی تو ہم دے کر رہیں گے مگر اپنے کہے کو ہر صورت پورا کریں گے۔‘‘ نوجوان نے کہا تھا عین النور اسے خاموشی سے دیکھنے لگی تھی ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور نوجوان نے ان کا چہرہ دیکھا تھا۔
’’عین ہم اختیار نہیں رکھتے نا کوئی حق ورنہ ہم ان آنکھوں سے آنسو کا ایک قطرہ بھی بہنے نہ دیتے ہم آپ کی عزت و حرمت کے معنی جانتے ہیں اور ہمیشہ آپ کا رتبہ اور مقام ہماری نظروں میں بہت بلند رہے گا ہم آپ کی بہت عزت کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے ان آنکھوں کی نمی چھونے اور پونچھنے کا اختیار ہمیں نہیں سو برائے کرم اس بے چینی کو سمیٹ دیں جو اس لمحے دل میں پھیلتی جارہی ہے ہم اتنا یقین رکھتے تھے کہ آپ ایک بہادر لڑکی ہیں اپنی حفاظت کرنا جانتی ہیں سو ہم نے ایک لمحے کو سوچے بنا آپ کا ہاتھ چھوڑ دیا۔‘‘ نوجوان نے کہا تھا اور عین النور بھیگتی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی تھیں وہ درد کی کیفیت سے نڈھال دکھائی دی تھیں گویا دل کے اندر ایک سمندر تھا جو آنکھوں کے راستے بہہ جانے کو تیار تھا وہ جیسے چیخ کر رونا چاہتی تھیں۔
’’آپ نے ہمیں تنہا چھوڑ کر اچھا نہیں کیا تیمور۔‘‘ ان کی آواز اور لہجہ شکوہ کا غماز تھا تیمور اسے دیکھ کر رہ گئے تھے۔
’’ہم معذرت چاہتے ہیں عین مگر اس سفر میں یہ موڑ بھی ضروری تھا اگر ہم آپ کے ہمراہ رہتے تو آپ زندگی کو جینے میں ایسا حوصلہ نہ دکھا پاتیں اور ہم نے دانستہ آپ کا ہاتھ چھوڑا تھا کیونکہ وہاں مسئلہ فقط ایک جان کا نہیں تھا اس ٹرین میں موجود تمام مسافروں کی سلامتی کا تھا اگر ہم آپ کے ہمراہ اس ڈبے میں سوار ہوجاتے تو ہم میں سے کوئی بھی منزل تک نہ پہنچ پاتا ہم سب مارے جاتے بلوائی اس ٹرین کو بھی لاشوں کا ڈھیر بنا دیتے ہم اس زمین پر لاشیں بن کر ٹکڑوں میں بکھر جاتے سب کی جانوں کو بچانے کے لیے یہ اقدام ضروری تھا عین جب ہم نے آپ سے کہا تھا کہ ٹرین کی رفتار دھیمی ہوگی اور جھاڑیوں میں چھپے بلوائی اس ٹرین میں چڑھنے کا ارادہ باندھنے لگے تبھی ہم ان بلوائیوں سے قبل اس چلتی ہوئی ٹرین میں سوار ہوں گے ان بلوائیوں کا کوئی ساتھی اس ٹرین میں تھا جس نے ان کی راہ ہموار کرنے کو ٹرین کی زنجیر کھینچی تھی ہمارا قیاس درست ثابت ہوا تھا وہاں اس ویرانے میں ٹرین کو روکنے کا مقصد یہی تھا کہ تمام مسافروں کو وہیں موت کے گھاٹ اتار دیا جائے جب ہم نے ان بلوائیوں کو ان جھاڑیوں میں دیکھا تھا ہم تبھی سب سمجھ گئے تھے سو جو منصوبہ اس لمحے ہم نے بنایا تھا اس پر عمل پیرا ہونے کے لیے یہ ضروری تھا مگر ہم اس ٹرین میں سوار ہوتے اور ہمارے پیش نظریہ بھی تھا کہ اگر ہم آپ کو اس ٹرین میں سوار کرا دیں گے تو بلوائی بھی اس ٹرین میں سوار ہوجاتے سو ٹرین کی رفتار بڑھانا ضروری تھا اس سے قبل کہ جھاڑیوں میں چھپے بلوائی اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہناتے ہم نے آپ کو ٹرین مین سوار کرا دیا اور خود دانستہ ڈرائیور کے ڈبے والے خانے کی سمت دوڑنے لگے ہم نے دھیمی رفتار کے باعث جلد اس ڈبے تک رسائی اختیار کرلی اور ہم نے ڈبے میں سوار ہو کر ڈرائیور کو رفتار بڑھانے کا اشارہ کیا۔
اور تبھی اس سے قبل کہ بلوائی اس ٹرین میں سوار ہوپاتے ٹرین رفتار پکڑ چکی تھی اس کے بعد ہمارا اس ڈبے میں رہنا ضروری تھا کہ ہم ٹرین کو با حفاظت اس مقام سے نکال کر پاکستان کی طرف بڑھ سکتے ہم اب پاکستان کے قریب پہنچ چکے ہیں سو ہم نے اس ڈبے میں واپس آنا ضروری خیال کیا۔‘‘ تیمور نے بتایا تھا تبھی عین چونکی تھیں۔
’’مگر زنجیر کس نے کھینچی اس بار کیا دوبارہ بلوائیوں کی کوئی چال تھی۔‘‘ عین نے پوچھا تھا تیمور نے نا سمجھی سے سر نفی میں ہلایا تھا۔
’’اس متعلق ہم لا علم ہے مگر کوئی ہے ضرور اس ٹرین میں جو دشمن کا حصہ ہے اور ہمارے ساتھ اس سفر میں ہے۔‘‘ عین نے گردن موڑ کر ان خاتون کو دیکھا تھا پھر تسلی کر کے تیمور کی طرف دیکھا تھا اور مدہم لہجے میں بولی تھیں۔
’’اس ریل گاڑی میں ایک شخص تھا شہاب اس نے بہت پریشان کیا ہمیں اس ٹرین میں ہم سب لاچار بے بس مسلمان ہیں جو اپنا بہت کچھ اس زمین پر گنوا کر لٹے ہوئے پاکستان کا رخ کر رہے ہیں ہماری سمجھ میں نہیں آیا جس حالت میں ہم بے گھر ہوئے کوئی کسی پر اس طرح بری نظر رکھ سکتا سکتا اس ریل گاڑی میں ہر مسافر دوسرے کے لیے بے پناہ ایثار اور عزت رکھتادکھائی دیا مگر شہاب ایسا تھا جو اس بے یار و مددگار وقت میں بھی خیانت کا مظاہرہ کرتا دکھائی دیا اس نے ہمیں اس درجہ پریشان کیا کہ ہم انتہای قدم اٹھانے پر مجبور ہوگئے۔‘‘ عین بولی تھی تو تیمور نے چوکنتے ہوئے انہیں دیکھا تھا۔
’’ایسا کیا کیا آپ نے؟‘‘ تیمور کے پوچھنے پر عین نے خاموش ہو کر ساتھ بیٹھے مسافروں کا جائزہ لیا تھا پھر تسلی کر کے دھیمے لہجے میں بولی تھی۔
’’اس نے ہوس پرستی کی حد پھلانگنا چاہی تھی اس کی نظر ہم پر تھی وہ ہمیں بیت الخلا لے جا کر اپنے ناپاک ارادے پورا کرنا چاہتا تھا اور تبھی ہم نے اسے ٹرین سے نیچے پھینک دیا تھا آپ نے بتایا تو جانے کیوں مجھے شہاب یاد آیا ان کی ہمشیرہ ابھی بھی اسی ڈبے میں سوار ہیں مگر…!‘‘ وہ کچھ کہتے کہتے رکی تھیں اور تیمور نے چونکتے ہوئے انہیں دیکھا تھا۔
’’کوئی بے یارو مددگار مسلمان کسی دوسرے لاچار مسلمان بھائی بہن کا استحصال اس صورت حال میں نہیں کرسکتا یہ شہاب کچھ اور تھا ہمیں اس پر شبہ ہونے کو ہے کیا وہ اب بھی زندہ ہے؟‘‘ تیمور نے پوچھا تھا عین نے کچھ نا سمجھتے ہوئے لا علمی سے سر نفی میں ہلا دیا تھا۔
’’ہم نہیں جانتے ہم نے اس ٹرین سے دھکا دے کر گرا دیا تھا ہم اسی پشیمانی میں تھے کہ ہم نے کسی کی جان لینے کی ٹھانی اور ایسا کر گزرے ہمیں بلوائیوں کے سر قلم کرنے کا اتنا افسوس نہیں تھا وہ غیر قوم تھے مگر شہاب کو مارنے کی شرمندگی ہمارے دامن سے لپٹی تھی ہم سانس نہیں لے پا رہے تھے ایک احساس جرم ہماری جان لیے جا رہا تھا ہم اس حالت کو اسی لیے پہنچے کہ ہم احساس جرم میں مبتلا تھے شہاب کی ہمشیرہ کو ہم پر شک ہے کہ ان کے بھائی کو کہیں غائب کیا ہے شہاب ٹرین میں ہے یا نہیں ہم نہیں جانتے مگر وہ شخص کچھ عجیب سا ہے اور اس کی ہمشیرہ بھی۔‘‘ عین نے شبہ ظاہر کیا تھا تیمور کچھ سوچتا دکھائی دیا تھا۔
’’آپ کیا سوچ رہے ہیں تیمور؟‘‘ عین نے پوچھا تھا۔
’’ہم اس نہج پر سوچ رہے ہیں عین جس پر آپ سوچ رہی ہیں دوبار ٹرین کی زنجیر کھینچنا اور اسے ویران میں روکنے کی کوشش کرنا ایک بڑا منصوبہ ہے یقینا وہ جانتے ہوں گے کہ اگر ایک مقام پر ٹرین ان کے منصوبہ سازی کا شکار نہ بنے تو وہ کسی دوسرے مقام پر ٹرین کو اس طور بلوائیوں کی نذر کردیں جانے ایسی کتنی ٹرینیں ان کے ایسے منصوبوں کا شکار ہوئی ہوں گی یہ ٹرین دو منصوبوں سے بال بال بچی ہے مگر ہمیں شبہ ہے شہاب اگر زندہ ہے اور اس ٹرین میں سوار ہے تو وہ اس ٹرین کے مسافروں کے لیے مسلسل خطرہ ہے اور دوسری بات جو ہم سوچ رہے ہیں وہ شخص یا تو مسلمان نہیں اور اپنی شناخت چھپا کر اس ٹرین میں سوار ہوا ہے یا پھر گھاگ ہے اور بے ضمیر شخص ہے ایسے لوگ موقع کی تاک میں رہتے ہیں اور ان کے لیے ان کے مطلب کے سوا کچھ اہم نہیں ہوتا ہمیں محتاط رہنا ہے عین ان لوگوں کا پاکستان میں داخل ہونا خطرے سے خالی نہیں ایسے لوگ یا تو جائیدادوں کے حصول کے لیے سرحدیں پھلانگتے ہیں یا پھر ان کے ارادے اس سے سوا ہوسکتے ہیں بہرحال ہم آپ کے ساتھ ہیں اور اب آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے جو بھی ہوا ہم سنبھال لیں گے ٹرین پاکستان کے بہت قریب ہے ہم منزل تک پہنچنے والے نہیں۔‘‘ تیمور نے کہا تھا اور عین نے انہیں خاموشی سے دیکھا تھا پھر مدہم لہجے میں بولی تھیں۔
’’اگر شہاب زندہ ہوا تو؟‘‘ ان کے لہجے میں خوف نمایاں تھا۔
’’اگر شہاب زندہ بھی ہے تو ہم اسے دیکھ لیں گے عین آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔‘‘ تیمور نے تسلی دی تھی۔
’’ہم پاکستان پہنچ کر حیدر سے ملنا چاہتے ہیں تیمور ہم نے یہ سفر حیدر کے لیے کیا ہے مگر اب جب منزل قریب ہے تو ہم ڈر رہے ہیں ہم اتنی بڑی خلقت میں کیسے ڈھونڈیں گے انہیں وہاں تو بہت سے لوگ ہوں گے اور بہت سے کیمپ اور جانے اندراج کرنے والے کوئی مدد کر بھی پائیں گے کہ نہیں اور حیدر جانے وہ کیسا رد عمل دیں گے۔‘‘ عین متفکر دکھائی دی تھیں تیمور ان کو دیکھ کر رہ گیا تھا پھر آہستگی سے شانے اچکا دیے تھے اور عین بولی تھی۔
’’جانے کیوں ہمارا دل بہت بے چین ہے تیمور ہمیں جلال بھیا اور اماں ابا کی بہت یاد آرہی ہے لگتا ہے ہم ان کو بہت پیچھے چھوڑ آئے ہیں لگتا ہی نہیں کہ وہ زندگی کا حصہ ہی نہیں رہے ایسا لگتا ہے وہ سب وہیں ہیں بس ہم سفر کر کے آگے بڑھ آئے ہیں آگے تو بڑھ گئے ہیں مگر ہم نے زندگی کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ زندگی کہیں پیچھے چھوٹ گئی ہے تیمور ہم نہیں جانتے ہم کس سفر میں ہیں یا کس منزل کی سمت بڑھ رہے ہیں سب بہت خالی خالی سا لگتا ہے لاشیں دیکھتے دیکھتے جیسے ہم خود بھی کوئی لاش بن گئے ہیں اپنا وجود زندگی سے خالی لگتا ہے کیسا سفر ہے یہ تیمور کیسی منزل ہے ویرانی ہی ویرانی ہے ہر طرف سفر میں کتنے لوگ ساتھ ہیں مگر کوئی ایک بھی ہمراہ نہیں لگتا
کیا کیا ہم نے کیسے خواب دیکھے کیسے آنکھیں گنوائیں، کیا کہیں گے ہم ہم نے ہجرت کیوں ضروری خیال کی؟ کیا مقام اتنے اہم ہوتے ہیں اور زندگیاں عصمتیں اتنی سستی کہ مقام بدلنے کے لیے عصمتوں کو گنوا دیا جائے یا انسانی وجودوں کو لاشوں میں بدلتا چپ چاپ دیکھا جائے ہم بے حس ہیں یا کچھ اور، ہجرت کیوں ضروری تھی تیمور کل کی آنے والی نسلوں نے ہم سے پوچھا تو ہم کیا جواب دیں گے انہیں جب شہاب کی نظریں ہمیں نوچ کھا رہی تھیں ہم نے تب بھی یہی سوچا تھا اور اب بھی ہجرت کیوں ضروری تھی تیمور ہم نے ہجرت کو انسانی زندگیوں اور عصمتوں پر ترجیح کیوں دی؟ بہتر نہ ہوتا ہم ہجرت کا نہ سوچتے اور اسی مقام پر رہ جاتے ہجرتوں سے کیا بدلے گا کیا بدلا اس بے سرو سامانی کی حالت میں ہم ایک نئے دیس کی سمت گامزن ہیں اور کون جانے اس زمین پر زندگی کیا ہوگی اور زندگی باقی رہے گی کہ نہیں ایسے کئی سوال دماغ میں اٹھتے ہیں تیمور مگر ان کا جواب ہمارے پاس نہیں ہے یا ان سوالوں کا کوئی جواز ہمارے پاس ہے اس وقت سے نکل تو آئے ہیں مگر جس وقت میں داخل ہونے جا رہے ہیں اس وقت کو کیا جواب دیں گے ہجرت کیوں ضروری تھی مائوں بہنوں اور بیٹیوں نے اپنی عصمتوں کی قربانیاں کیوں دیں بیٹوں نے گردنیں کیوں کٹوائیں اور سر کے سایہ سے مہربان آسمان جیسے والدین کیوں مارے گئے سبب کیا تھا صرف مقام بدلنا اس قدر ضروری تھا کہ باقی سب غیر ثانوی ہو گیا ہمیں کسی سوال کا کوئی جواب نہیں مل رہا تیمور۔ بس ڈر لگ رہا ہے ہماری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا ہم کوئی جواب خود ڈھونڈنے کے قابل نہیں تو کسی اور کو کیا جواب دیں گے؟ کیا بتائیں گے کسی نے پوچھ لیا تو ہم نے خود کو اس قدر الجھا لیا ہے یا وقت اتنا الجھا رہا ہے یہ کیا ہے ہم الجھنوں میں کیوں گرتے جا رہے ہیں جب منزل دو گام ہے تو، گنوانا کیوں ضروری تھا اتنے پیارے رشتوں کو کون گنواتا ہے اتنے خواب کون گنواتا ہے تیمور؟ کہاں کے دانا تھے ہم کیا دانائی کی ہم نے کیا یہ عمل دانائی میں شمار بھی ہوگا کہ نہیں؟ اور دانائی بھی کیسی کیا دانائی کہتی ہے کہ سب گنوا دو حیرت ہوتی ہے سوچتے ہیں تو سوچیں الجھتی جاتی ہیں دانائی کہتی ہے کہ یہ سب کر گزروں یہ دانائی کا سفر ہے کیا یہ منزل دانائی کا پیش خیمہ ہے دانائی ایسی ہدایتیں دیتی ہے کہ بے وقوفی اور اگر یہ دانائی ہے تو اس دانائی نے کیا دیا ہمیں خالی ہاتھ رہ جانا دانائی ہے سب گنوا دیا عقلمندی ہے۔‘‘ وہ غم سے نڈھال دکھائی دی تھیں بعضوں کے چہرے نگاہوں کے سامنے آرہے تھے، کیا باقی رہا تھا تیمور نے ان کے دکھ کو نڈھال دیکھ کر نگاہ پھیر لی تھی۔
’’ہمارے پاس آپ کے کسی سوال کا جواب نہیں ہے عین ہم کسی سوال کا کوئی جواب یا جواز نہیں رکھتے، مگر شاید اس سوال اور اس ایک سوال سے جڑے سوالوں کے جواب ہم بھی ڈھونڈ نہ پائیں کہ ہجرت ضروری ہوں تھی، مگر یہ مقام کا بدلنا فقط جگہ کی تبدیلی نہیں ہے یہ نظریات کی تبدیلی ہے یہ سفر یونہی اختیار نہیں کیا یہ تاریخ کی اب تک کی سب سے بڑی ہجرت ہے اور تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت رہے گی دنیا کے کسی مقام پر ایسی ہجرت نہیں دیکھی گئی ایسا صرف مسلمانوں نے کر کے دکھایا ہے کیونکہ یہ فقط مقام کی تبدیلی نہیں ایک مقام سے دوسرے تک منتقل نہیں یہ نظریات کے باعث ہوا دنیا کی تاریخ کی یہ سب سے بڑی ہجرت ایک مقام سے دوسرے مقام پر جانے سے نہیں ہوئی یہ ہجرت نظریات کے باعث ہوئی عقیدے کے باعث ہوتی اور قومی نظریات کے اختلاف کے باعث ہوئی دو قومی نظریات کا پیش ہوا اس سوال کا جواب تھا اور اتنی بڑی تعداد میں زمین کے ایک ٹکڑے سے دوسرے ٹکڑے تک منتقلی اس بات کا ثبوت ہے اور جواب بھی ہجرت کیوں ضروری تھی؟ یا ہجرت کیوں ہوئی اس کا جواب دو قومی نظریہ ہے دو قوموں کا ایک دوسرے سے جدا ہونا ہے مذہب نسل ذات پات رہن سہن اور سوچنے کے اطوار پاک و ہند میں رہنے والی ان دو قوموں میں قدر مشترک کا باعث نہ تھا اور یہی بات اس ہجرت کاباعث بنی جن کو عقیدے اور رہن سہن کا خیال تھا یہ ہجرت ان لوگوں نے اختیار کی اگلی منزل پر جا کر کیا ہوتا ہے یا کیا ملتا ہے، کل کوئی سوال پوچھے گا تو جواب کیا ہوگا؟ یہ بعد کے سوچنے کی باتیں ہیں مگر تاریخ اس ہجرت کو بھولے گی نہیں کیونکہ نظریات کے لیے کوئی دوسری قوم اتنی بڑی ہجرت کبھی نہیں کر پائے گی یہ قوم خود کو زندہ قوم ثابت کرچکی ہے اور ثابت کر چکی ہے کہ نظریات کس قدر ضروری ہے اور اختلافات کیا حق رکھتے ہیں بہنوں، بیٹیوں اور مائوں نے اتنی قربانیاں کیوں دیں، یہ اس بات کا ثبوت ہے اور جواب بھی سو تاریخ ان قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرسکے گی اور کوئی دوسری قوم ایسی قربانیاں کبھی دے نہیں سکے گی پاک و ہند کی اس تاریخ کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ساتھ ہی اس بہادر قوم کو بھی خراج تحسین پیش کیا جاتا رہے گا گھر چھوڑنا آسان نہیں ہوتا لوگ گھر توڑتے ہیں ہم نے گھر چھوڑے ہیں اپنے پیارے قربان کیے ہیں جائیداد چھوڑی ہیں ہم سے ناداں اور کہیں ملیں گے نواب زادی عین النور خوش ہوئیے اور خوشی منائیے آپ نے بہت کچھ گنوایا مگر آپ ایک با شعور قوم کا حصہ ہیں ایک ایسی قوم جو جاگتی قوم ثابت ہوئی جس نے کھلی آنکھوں سے قربانیاں دے کر اپنے مفادات کو ایک طرف رکھ کر مقام کی تبدیلی کا فیصلہ کیا آپ کی ان قربانیوں کو ہمیشہ سراہا جاتا رہے گا ہمیں فخر ہے ہم ایک عظیم قوم کا حصہ ہیں اور اس عظیم ہجرت کا حصہ بھی۔‘‘ تیمور ایک عزم سے مسکرایا تھا اور عین اسے دیکھ کر رہ گئی تھی۔ ٹرین مخصوص رفتار سے چلتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی منزل بس دو گام تھی خوابوں کی تعبیر کا وقت بس آیا ہی چاہتا تھا مگر ایسے میں ماضی جانے کیوں بے چین کر رہا تھا جانے کیوں گزرے تمام لمحے دامن پکڑے رہے تھے عین نے بے چین ہو کر آنکھیں میچ لی تھیں۔
ؤ…ز …ؤ
’’میاں لگتا ہے تقسیم کی خبر اب آئی کہ تب جانے کیوں لگتا ہے کہ اب آزادی کے دن دور نہیں جناح صاحب نے فرنگیوں کو نکیل ڈال دی ہے ایسا قائل کیا ہے کہ اب بس ان کو بھاگتے ہی بنتی ہے۔‘‘ نواب صاحب نے مسکراتے ہوئے شطرنج کی بساط پر چال چلتے ہوئے حکمت صاحب کو دیکھا تھا نواب صاحب مسرور سے دکھائی دیتے تھے اور حکمت صاحب اپنے دوست کی اس بات کو سن کر مسکرا دیے تھے۔
’’بات تو آپ کی مناسب ہے جناب مگر ہمیں خدشہ ہے بات اگر تقسیم کی ہوتی تو فقط جگہوں کی تقسیم سے زیادہ یہ وسائل کی تقسیم نہ بن کر رہ جائے ایسا نہ ہو کہ ہندو کھیل کھیل جائیں اور سارے وسائل اپنے نام لکھوالیں اور مسلمانوں کے حصے میں فقط بنجر زمین کا ٹکڑا ہی آئے ہندوئوں کو تو دشمنی نکالنے کا موقع چاہیے چالاک قوم ہے اور ایسے کام کرنے میں پیش پیش بھی جناح صاحب کو اس ضمن میں انگریزوں کو قائل ضرور کرنا چاہیے۔‘‘ حکمت صاحب نے مہرہ کو اپنی منتخب چال دی تھی اور نواب صاحب مسکرا دیے تھے۔
’’چلیے یہی سہی مگر جناح صاحب بہت دور اندیش ہیں ان کی نگاہ ہر معاملے پر یقیناً وہ وسائل کی بات بھی کرچکے ہوں گے، ویسے Lord Wavell نے فروری 1947ء میں دونوں قوموں کو خدشے سے باہر تو نکال لیا تھا کہ وسائل کی تقسیم کیسے ہوگی۔
The crude bountries was prepared by lord wavell though but cater redcliffe given the responsibilities to chair 2 commissions which were working on the boundries of punjab and bengal and that demarcation of the boundaries muslims and non muslims natural wabercouses and irrigation systems
اس بارے میں اگر چہ طے تو پا چکا ہے مگر شاید ریڈ کلف اس معاملے میں باقاعدہ اعلان تقسیم کے وقت ہی کریں ایسی خبر سننے میں آئی تو ہے مگر حتمی طور پر کچھ کہا نہیں جاسکتا شاید فرنگی سامراج بھی تقسیم کے اعلان کا منتظر ہے اور اس کے بعد باقاعدہ ان وسائل کی تقسیم کا اعلان بھی کرے گا بہت ممکن ہے کہ ایسا کوئی اعلان تقسیم کے عمل کے فوری بعد ہو یا اعلان کے بعد اس بارے میں فی الحال کوئی قیاس آرائی ممکن نہیں مگر خیر آئی ہے کہ ایسا کچھ طے تو پا چکا ہے۔‘‘ نواب صاحب بولے تھے اور حکمت صاحب مسکرائے تھے۔
’’مسلم لیگ کے سر گرم رکن ہیں آپ اندر کی خبریں آپ کے پاس نہیں ہوں گی تو اور کس کے پاس ہوں گی نواب صاحب جناح صاحب کے قریبی دوستوں میں ہیں آپ ایسی خبروں کی ترسیل آپ تک نہ ہو ایسا ممکن نہیں۔‘‘ حکمت صاحب مسکرائے تھے تو نواب صاحب بھی مسکرا دیے تھے۔
’’خیر ایسی بات نہیں جناح صاحب اچھے دوست ہیں مگر تمام راز ہم تک نہیں آتے۔‘‘ نواب صاحب نے مسکراتے ہوئے مہرا آگے بڑھایا تھا تبھی حکمت صاحب بولے تھے۔
’’اوہ کہیں یہ خبر آپ کے سمدھی نے تو آپ تک نہیں پہنچائی؟‘‘ ان کا لطیف سا طنز نواب صاحب کو مسکرانے پر مجبور کر گیا تھا۔
’’ایسی بات نہیں مرزا سراج الدولہ بڑے آدمی ہیں ان کے پاس ایسی چھوٹی باتیں ہم تک منتقل کرنے کے لیے وقت نہیں ویسے میاں یہ تو وہی بات ہوگئی کہ
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی ہمارا دم تحریر بھی تھا؟
نواب صاحب نے کہا تھا تو حکمت صاحب بے ساختہ ہنسے تھے۔
’’واہ واہ بندہ پرور کیا بات یاد دلا دی غالب کی بات ہی کیا ہے تقسیم کے اس زور نے غالب کی شاعری کو قدرے دبا دیا ہے مگر کبھی وقت ملا تو قہوے کی چسکیوں کے ساتھ غالب کی شاعری کا تذکرہ ضرور کریں گے۔‘‘ حکمت صاحب نے کہا تھا اور نواب صاحب نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا تھا پھر نرمی سے غالب کا شعر پڑھ دیا تھا۔
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کو خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
’’میاں کیا بات کردی جنت کی حقیقت اور غالب دو متضاد چیزیں ہیں یہ نظریہ کفر ہے۔‘‘ حکمت صاحب نے کہا تھا۔
’’غالب کافر تھے کیا؟‘‘ نواب صاحب نے نقطہ اٹھایا تھا پھر بولے تھے۔
’’ویسے وہ ادب جو زندگی کی تعمیر و تشکیل سے عاری ہے اسے خارج از ادب سمجھا جائے تو مناسب ہوگا، اردو شاعری میں کفر و الحاد کو عہد قدیم کے نامور شعرا نے موضوع بنانے سے گریز کیا ہے اردو ادب کے ان محترم شاعر غالب کے کچھ اشعار کو ہم کفر والی پر مبنی نہیں کہہ سکتے اس معاملے میں دو نظریات ہوسکتے ہیں مگر غالب کے ان اشعار کا مقصد محض شوخی و ظرافت تک محدود ہے کیونکہ غالب کے ہی صوفیانہ اشعار بلندی فکر میں اس درجہ تک پیچھے ہوتے ہیں کہ کہیں سے بھی ان کا عقیدہ توحید متزلزل معلوم نہیں ہوتا بہرحال یہ ایک الگ بحث ہے اور ہم تقسیم پاکستان کی بات کر رہے تھے وسائل کی بات کر رہے تھے نواب سیف نے کہا تھا اور حکمت صاحب نے لقمہ دیا تھا۔
’’اور آپ کے سمدھی کی بات ہو رہی تھی ویسے آپ کے سمدھی عجیب گھاگ انسان ہیں انہوں نے جو چال چلی آپ نے اس کو بہ نفاست سے ختم کردیا مگر ہمیں نہیں لگتا ایسا انسان معافی کے لائق ہے آپ نے سانپ کو دوسری بار ڈنگ مارنے کاموقع دیا ہے اللہ خیر کرے۔‘‘ حکمت صاحب نے اندیشہ ظاہر کیا تھا اور نواب صاحب ان کو دیکھ کر رہ گئے تھے حکمت صاحب بات جاری رکھتے ہوئے بولے تھے۔
’’ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آپ ناگ کا سر کچل دیتے اور اسے دوسرا موقع نہ دیتے آپ کے پاس موقع تھا آپ ثبوتوں کی بنیاد پر ان حضرت کو چھٹی کا دودھ یاد دلا سکتے تھے ان کو سبق ملنا بنتا تھا اتنی بڑی سازش رچی انہوں نے کہ آپ کے خلاف اگر وقت پر ثبوت اکٹھے نہ ہوتے تو سوچیے کیا سے کیا ہوسکتا تھا۔‘‘ حکمت صاحب حمایت کرتے ہوئے گویا تھے نواب صاحب نے لبوں پر خفیف سی مسکراہٹ کے ساتھ ان کو دیکھا تھا۔
’’جانے دیجیے حکمت صاحب بندے اور اللہ میں ہی فرق ہے کہ بندہ انسان کی خامیاں گننے، شمار کرنے کا عمل ہمیشہ جاری رکھتا ہے اور اللہ کی ذات ہر خطا کو معاف کردیتی ہے اور پھر دہراتی نہیں اللہ ہماری ہزار خطائیں معاف کرتا ہے اور جتاتا نہیں پھر ہم بندے ایسا کیوں کرتے ہیں اگر مرزا صاحب نے برا کیا اور ہم بھی ایسا ہی روا رکھیں تو ان میں اور ہم میں کیا فرق رہ جائے گا؟ ہم چاہتے تو ان کو سزا دے سکتے تھے ان پر ہتک عزت کا دعویٰ بھی کرسکتے تھے مگر ہم نے بہتر معاف کرنا جانا اور ایسا اللہ کی خوشنودی کے لیے نہیں کیا اللہ کی مرضی ہے اس بندے کا جو بھی عمل پسند آئے اللہ سے قریب کرنے کو اللہ کی تلقین کافی ہے اللہ کی راہ پر چلنا ہی اسے بندے سے قریب کرتا ہے اور اللہ خوش ہو کر رحمتوں کے دروازے کھول دیتا ہے ہم اللہ کے قریب ہونے کی کوشش ضرور کرتے ہیں مگر ہم یہ نہیں جانتے کہ اللہ بھی ہم سے قریب ہے کہ نہیں اللہ کی ہدایات پر عمل پیرا ہونا اللہ کی قربت حاصل کرنا ہے ایک بندے کا بہترین عمل اللہ کی مرضی کو پورا کرنا ہے اللہ کی مرضی سب باتوں سے زیادہ اہم ہے۔‘‘ سیف صاحب نے کہا تھا اور حکمت صاحب نے سر ہلایا تھا۔
’’بے شک ایسا ہی ہے ویسے نواب صاحب آپ سے ایک بات کرنا چاہتے تھے ہم۔‘‘ حکمت صاحب کچھ تذبذب کا شکار دکھائی دیے تھے۔
’’جی کہیے۔‘‘ نواب صاحب ہمہ تن گوش ہوئے تھے۔
’’ہم آپ سے عین بیٹی کی بات کرنا چاہتے تھے۔‘‘ حکمت صاحب نے مدعا بیان کیا تھا۔
’’عین کی بات۔‘‘ نواب صاحب سمجھے نہیں تھے۔
’’کھل کر کہیے حکمت صاحب بات ہماری سمجھ میں نہیں آئی عین بیٹی سے متعلق کیا بات کرنا چاہتے تھے آپ۔‘‘ نواب صاحب نے پوچھا تھا اور حکمت صاحب گویا ہوئے تھے۔
’’دراصل معاملہ یہ ہے کہ عین بیٹی۔‘‘ تبھی آہٹ ہوئی تھی اور دونوں نے چونک کر دیکھا تھا۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close