Aanchal Apr-17

بادل،دل اور آنکھیں

یاسمین نشاط

تھم گئی رفتارِ ہستی‘ وقت ساکن ہوگیا
جب نگاہوں کو جھکا کر آپ شرمانے لگے
مرحلے جتنے کڑے تھے حوصلہ بڑھتا ہے
راستوں کے موڑ‘ منزل پر نکل آنے لگے

کمرے میں اس قدر پھیلاوا تھا کہ الاماں۔ جوتے چپلیں جینز‘ شرٹس ٹائٹس‘ دوپٹے پھٹے کاغذ‘ کتابیں چپس کے خالی پیکٹس خالی ٹن پیکس اف اﷲ… شرمین نے اندر داخل ہوتے ہی سر پیٹ لیا۔ یہ اسی کا کمرہ تھا جس کو وہ دو دن پہلے چھوڑ کر گئی تھی کس بدتہذیب کو اس کا روم میٹ بنادیا گیا تھا اس نے جھنجھلا کر لائٹ آن کی۔ یہ جو نظر آرہا تھا وہ کھلی کھڑکیوں سے اندر آتی قدرتی روشنی میں دکھائی دیا تھا۔ کمرہ روشن ہوتے ہی کوئی بیڈ پر لیٹا دکھائی دیا اس سے پہلے اس نے صرف زمینی چیزوں پر توجہ دی تھی۔
’’کون ہے یار؟ لائٹ تو بند کردو۔‘‘ بیزار سی آواز آئی۔
وہ تنتناتی ہوئی اندر داخل ہوئی اور قریب تھا کہ ہاتھ میں پکڑا سارا سامان اس بے خبر سوئی لڑکی کے سر پر دے مارتی کہ شبانہ اندر آگئی اور اسے دیکھ کر مسکرا دی۔
’’آگئیں تم… چلو اچھا ہوا میں تو پاگل ہوگئی ہوں یہ سب دیکھ دیکھ کر۔ پتہ نہیں کس جنگل سے آئی ہے محترمہ۔ ہل کے نہیں دے رہی۔ میں تو پچھلے بھتر سے ساٹھ گھنٹے ساتھ والے کمرے میں گزار چکی ہوں کیونکہ اس حالت میں‘ مجھ سے تو یہاں کھڑا ہی نہیں ہوا جارہا تھا۔‘‘ اس نے کمرے کی حالت کی طرف اشارہ کیا۔
’’ہے کون یہ جس کو کسی بھی طرح کی تمیز اور سلیقہ نہیں۔‘‘ وہ ایک بار پھر تلملائی۔
’’زیمل حسان۔‘‘ موصوفہ نے کروٹ بدلے بنا ذرا سی گردن موڑ کر اپنا تعارف کروایا۔
’’شکریہ جی… یہ بتانے کا اب یہ بھی بتا دیں آپ کی ملازمہ کہاں آرام فرما رہی ہیں تاکہ ان کو بلا کر یہ کمرہ صاف کروایا جاسکے۔‘‘ نرمین نے دانت پیسے تھے جب کہ شبانہ اپنا جگہ صاف کرنے میں جت گئی تھی۔ ادھر خاموشی ہی خاموشی تھی۔ وہ چند ثانیے کھڑی اس بت کے حرکت کرنے کا انتظار کرتی رہی جب کوئی جواب نہ آیا تو پائوں پٹختی شبانہ کی تقلید کرنے لگی کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔
انہوں نے سارا بکھرا سامان اٹھا کر اس کی الماری میں گھسیڑا۔ نرمین نے جھاڑو لگائی۔ شبانہ نے بیڈ شیٹس چینج کیں اور اس کے بعد فریش ہوکر نرمین اپنا بیگ خالی کرنے لگی وہ پچھلے دو دن سے بہاولنگر گئی ہوئی تھی شبانہ اور نرمین پچھلے ایک ماہ سے روم میٹ تھیں کہ ان دونوں کا ایڈمیشن ایک ساتھ ہوا تھا۔ اتفاق سے دونوں کا رول نمبر بھی آگے پیچھے تھا اور کمرہ بھی ایک ہی الاٹ ہوگیا تھا وہ دونوں بی ایس آرنرز کی اسٹوڈنٹس تھیں میٹرک میں اچھے مارکس آنے کے باوجود نرمین میڈیکل پڑھنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی سو اس نے ہوم اکنامکس کالج میں ایڈمیشن لے لیا تھا جب کہ شبانہ باوجود کوشش کے بھی بس پورے پورے مارکس ہی لے سکی تھی۔ سو ابا نے اسے یہاں ایڈمیشن دلایا کہ چلو ڈاکٹر نہ سہی زندگی گزارنے کا سلیقہ ہی آجائے۔ شروع کے دو دن کے علاوہ ان کو دوستی کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگی تھی دونوں کی عادتیں کسی حد تک ملتی جلتی تھیں۔ دونوں حد درجہ صفائی پسند تھیں دوسروں کا خیال رکھتی تھیں طبیعت میں اعتدال تھا۔ ان کی تربیت ان کے اٹھنے بیٹھنے سے ظاہر ہوتی تھی دونوں کا فیملی بیک گرائونڈ بھی کچھ اتنا اسٹرونگ نہ تھا سو دونوں میں اچھی نبھنے لگی تھی۔ شبانہ کا تعلق شیخوپورہ سے تھا اور روز آنے جانے کی مصیبت سے بچنے کے لیے وہ ہاسٹل میں رہنے لگی تھی اور اب یہ تیسری روم میٹ زیمل حسان۔ ان کا بالکل متضاد۔ کیسے نبھے گی؟ وہ دونوں سوچ رہی تھیں۔
ڈنر کے لیے ڈائننگ ہال کی طرف جاتے جاتے شبانہ کو خیال آیا اس ’’سوئے ہوئے محل‘‘ کو اٹھالے۔ ورنہ بھوکی رہ جائے گی سو اس نے زیمل کا کندھا ہلایا۔
’’اٹھ جائیں زیمل کھانے کے لیے چلنا ہے۔‘‘ وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔ ’’زیمل اٹھیں بھی۔‘‘ اس نے دوبارہ عمل دہرایا۔
’’او ہوں۔‘‘ وہ کسمسائی اور کروٹ لے کر اوندھی ہوگئی۔
’’تمہیں کیا مسئلہ ہے اب آبھی چکو۔ خود ہی کھاتی پھرے گی۔‘‘ نرمین نے بے زاری سے کہا تو شبانہ کندھے اچکاتی اس کے پیچھے ہولی۔
’’سنو شبانہ میرا کھانا ادھر ہی لے آنا۔‘‘ بیڈ کی طرف سے آتی آواز نے اس کو گھما کر رکھ دیا۔
’’اس قدر شاہانہ انداز… یہ ہے کہاں کی شہزادی ڈیانا؟‘‘ وہ تلملا کر مڑی۔
’’ہم کوئی تمہارے نوکر نہیں ہیں اور نہ ہی یہ تمہارا محل۔ بی بی یہ ہاسٹل ہے اور تمہیں سارا کچھ خود ہی کرنا ہوگا اور وقت پر ورنہ بھوکی مروگی۔‘‘ نرمین نے اسے کھری کھری سنا دی۔ اس نے کوئی بھی رسپانس دیئے بنا پھر سے کروٹ بدل لی۔ وہ دنوں باہر نکل گئیں۔ کھانا کھاتے ہوئے بھی وہ زیمل حسان کو ڈسکس کرتی رہی تھیں کھانے کے بعد شبانہ تو لابی میں چلی گئی جب کہ نرمین کمرے میں آکر موبائل پر مصروف ہوگئی۔ موبائل رکھنے کی پرمیشن تو نہیں تھی لیکن ہر لڑکی کے پاس سائلنٹ لگا موبائل موجود رہتا تھا۔ اور ٹیچرز بھی جانتی تھیں لیکن کوئی بھی جتاتا نہیں تھا ہاں کبھی کبھار چیکنگ ہوجاتی اور موبائل پکڑے جاتے لیکن کچھ فائن کرنے کے بعد واپس کردیئے جاتے سو ایسی کوئی سختی نہ تھی۔
’’ویسے یہ کب سے سو رہی ہے؟‘‘ شبانہ روم میں آئی تو اس نے پوچھا۔ اس کی نیند سے اب اسے کوفت ہونے لگی تھی۔
’’رات سے۔‘‘ شبانہ نے اتنی بے نیازی سے کہا کہ نرمین کی چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی۔
’’کیا رات سے… نہیں تم مبالغہ آرائی سے کام لے رہی ہو؟‘‘
’’کیوں بھلا… مائی ڈیئر یہ پرسوں تمہارے جانے کے بعد آئی تھی۔ نہ سلام نہ دعا۔ اپنا سامان جو کہ تین عدد بڑے بڑے سوٹ کیس پر مشتمل تھا یہاں رکھا اپنا ٹفن کیریئر نکال کر ٹھونسا اور پھر بنا برش کیے چینج کیے سو گئی۔ صبح ناشتے کے لیے اٹھی۔ کپڑے بدلے اور باہر نکل گئی۔ دوپہر کو واپسی ہوئی اور سوٹ کیس کھولے جانے لگے ایک ایک چیز نکال کر ڈھیر کردی گئی۔ شاید کچھ ڈھونڈا جارہا تھا میں نے مروتاً ہیلپ کی آفر کردی لیکن لٹھ مار تھینک یو سننے کو ملا۔ اس کے بعد میں تو لابی میں چلی گئی تھی واپس آئی تو کمرے کی حالت بری تھی اور محترمہ محو استراحت اور اس کے بعد سے تم دیکھ ہی رہی ہو۔‘‘ شبانہ تفصیل سے بتا کر اپنی الماری کی طرف بڑھ گئی پھر کچھ یاد آنے پر مڑ کر بولی۔
’’کل کالج میں پنک ڈے ہے۔‘‘ اور مشہور گلوکارہ بھی آرہی ہے بریسٹ کینسر پر بریفنگ دینے کے لیے اور اس کے بعد سنا ہے ویلکم ہے کپڑے ڈیسائیڈ کرلو۔‘‘ وہ الماری میں سر دیئے کچھ ڈھونڈنے لگی۔
’’کیا ویلکم کل ہی ہے؟‘‘ نرمین نے سر اٹھا کر پوچھا۔ وہ اپنے پراجیکٹ میں بزی تھی اسے آئیڈیا شاید کچھ اچھا نہیں لگا تھا۔
’’نہیں فورتھ ایئر کی لڑکیاں باتیں کررہی تھیں شاید نیکسٹ ویک‘ ابھی ڈیٹ ڈیسائیڈ نہیں ہوئی۔ تمہارا اب گھر جانے کا پروگرام کب کا ہے؟‘‘ وہ الماری سے مطلوبہ چیز برآمد کرچکی تھی اس لیے بند کرکے واپس بیڈ پر آگئی۔
’’ابھی تو نہیں… اگلے مہینے ابرار بھائی کی منگنی کا فنکشن ہے‘ تب ہی جائوں گی۔ روز روز اتنی دور کہاں جایا جاتا ہے۔‘‘ اس کے چہرے پر کچھ بیزاری کی سی کیفیت تھی شبانہ نے تائیدی سر ہلایا۔
’’ہیلو نرمین اینڈ شبانہ۔‘‘ ایک بے حد فریش اور چہکتی آواز نے انہیں بری طرح چونکایا تھا وہ تو بھول ہی گئی تھیں کہ کمرے میں ان کے علاوہ کوئی تیسرا بھی ہے ان کی نظر بے اختیار کونے کی طرف اٹھی تھی۔ وہ دونوں بازو اوپرکیے انگڑائی لے رہی تھی دونوں کی نظریں اس پر ٹھہر سی گئی تھیں۔ حسن اور وہ بھی ایسا۔ وہ چھلانگ لگاتی بیڈ سے نیچے اتری۔
’’نام تو میں بتا ہی چکی ہوں۔‘‘ وہ ان کی طرف آتے ہوئے بولی اور اپنے دایاں ہاتھ آگے بڑھایا۔ پہلے نرمین اور پھر شبانہ کی طرف۔
’’باقی میں اتنی بری ہوں نہیں جتنا ان دنوں میں تم نے سمجھ لیا ہے۔‘‘ وہ زور سے ہنسی وہ بھی مسکرا دیں۔
’’اصل میں جب میں…‘‘ وہ نرمین کے ساتھ بیڈ پر بیٹھتی ہوئی بولی۔
’’بہت زیادہ فرسٹرٹیڈ ہوتی ہوں تو اسی طرح کرتی ہوں اپنی چیزیں بکھیر کر گند پھیلا کر۔ سوکر مجھے جب کسی پر غصہ آرہا ہوتا ہے تو پھر میں ایسی ہی ہوجاتی ہوں اور جب میں دکھی ہوتی ہوں تو غائب ہوجاتی ہوں۔‘‘ وہ بولتے بولتے رکی۔ وہ حیرانی سے اسے نان اسٹاپ بولتے دیکھ رہی تھیں۔
’’کیسے؟‘‘ وہ پھر زور سے ہنسی۔
’’یہ ابھی نہیں بتائوں گی۔ جب تم مجھے دکھی کروگی تب دیکھ لینا۔ اینی وے شکریہ تم نے میرا پھیلاوا سمیٹا۔ اگلے چھ سال تک ہمیں اکٹھے رہنا ہے امید ہے اچھی دوستی رہے گی کیوں؟‘‘
’’ہاں…‘‘ دونوں نے فوراً سرہلایا جیسے وہ کچھ دیر چپ رہیں گی تو انہیں سزا سنا دی جائے گی۔
’’اچھا میں باہر جارہی ہوں کچھ کھانے پینے۔ تم چلو گی۔‘‘ اس نے اٹھ کر الماری کھولی اور اس میں ٹھونسے گئے کپڑے اٹھا کر ڈھیر کرنے لگی۔
’’تم دونوں اتنا کم تو نہیں بولتی ہو کیا میری دوستی پسند نہیں آئی؟‘‘ وہ پھر ہنسی تھی شاید وہ جانتی تھی کہ ہنستے ہوئے اس کے چہرے پر کتنی دلکشی آجاتی تھی۔
’’نہیں ایسی بات نہیں۔ شاید ہم امپریس ہورہے ہیں۔‘‘ شبانہ فوراً منمنائی‘ جب کہ نرمین نے اسے گھورا تھا۔
’’میری خوب صورتی سے۔‘‘ وہ پھر ہنس پڑی۔ اپنا مطلوبہ جوڑا نکال کر الماری بند کی۔
’’میرے پاس تو تمہیں ایمپریس کرنے کے لیے بہت کچھ ہے لیکن دوستی میں سب کچھ برابری کی سطح پر ہوتا ہے تم کبھی مجھ سے ایمپریس مت ہونا۔ ورنہ پھر میں شاید یہ دوستی نہیں کرسکوں گی۔ تم لوگوں نے بتایا نہیں چل رہی ہو یا نہیں؟‘‘ اس نے کیچر میں جکڑے بالوں کو کھولا۔ ریشمی بال شانوں پر بکھر گئے۔
’’نہیں… اور شاید تم بھی نہیں جاسکو گی۔ گیٹ آٹھ بجے بند کردیا جاتا ہے اور سات بجے کے بعد وارڈن باہر قدم نہیں رکھنے دیتی۔‘‘ اب کہ نرمین بولی۔
’’وارڈن اور گیٹ میرا مسئلہ نہیں تم جانا چاہتی ہو تو آجائو۔ دہی بھلے کھائیں گے پاپڑی والے۔ ساتھ میں فروٹ چاٹ مصالحے والی۔‘‘ اس نے لالچ دیا۔ شبانہ کے منہ میں پانی بھر آیا وہ حامی بھرنے ہی والی تھی کہ نرمین نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔
’’نہیں شکریہ ہم لوگ کھانا کھا چکے ہیں۔‘‘ اس نے نہایت شائستگی سے منع کیا وہ کندھے اچکا کر اپنے کپڑے پریس کرنے لگی۔
’’سوری تمہیں تھوڑی دیر کے لیے یہ برداشت کرنا پڑے گا میں آتے ساتھ ہی سمیٹ لوں گی۔‘‘ وہ معذرت خواہانہ انداز میں کہتی باتھ روم میں گھس گئی۔
’’کیا چیز ہے یہ۔‘‘ اس کے جاتے ہی نرمین نے شبانہ سے کہا اور اس نے جواباً کندھے اچکا دیئے۔
دہی بھلے تو نہ کھائے البتہ ٹھیلے والے سے چکن برگر لے کر وہ کافی دیر فٹ پاتھ پر واک کرتی رہی۔ ٹریفک انتہا کی تھی سارے پنچھی گھروں کو لوٹ رہے تھے۔
’’تمہارے سارے شوق مڈل کلاس لڑکیوں والے کیوں ہیں؟‘‘ پہلا لقمہ منہ میں جاتے ہی اسے کسی کا کہا جملہ یاد آیا۔
’’مثلاً؟‘‘ وہ اپنی ستواں ناک چڑھاتی۔
’’یہ دہی بھلے‘ ٹھیلوں کے برگر‘ پکوڑے دہی کی چٹنی والے سموسے… اوپر سے تمہاری شاپنگ بھی کچھ ایسی ہی جگہوں سے ہوتی ہے برانڈڈ شاپس کے باہر لگے تھڑوں پر بکتے سیل والے کپڑے۔ سیل والے بیگز‘ انار کلی‘ اچھرہ تمہارے فیورٹ شاپنگ مالز‘ کہیں سے بھی تم لگتی ہو پرنس شہریار کی بیٹی؟‘‘ وہ دونوں ہاتھ پتلون کی جیبوں میں گھسائے اس کا مذاق اڑاتا۔
’’کیوں پرنس شہریار کی بیٹی کیا آسمان سے ٹپکی ہے؟‘‘ وہ ہنس دی یوں کہ اس کے دائیں گال میں پڑا ننھا سا ڈمپل اور نمایاں ہوجاتا اور وہ دیکھتا رہتا۔ اپنی اس پاگل سی کزن کو۔ جو سارے زمانے سے ہٹ کر تھی اس کا سارا خاندان اسے ابنارمل سمجھتا تھا واحد ایک عون ہی تھا جو اس کے ہر کام میں اس کا ساتھ دیا کرتا تھا۔
ریگل چوک کے دہی بھلے ہوں یا شاہ عالمی کے کشمیری دال چاول‘ سمن آباد کے پکوڑے یا باٹا پور کے دہی کی چٹنی والے سموسے ہوں۔ وہ عون کو ایک فون کرتی‘ ادھر وہ سارے کام چھوڑ اپنی اس کزن کی فرمائش پوری کرنے پہنچ جاتا اور وہ اس کی بائیک کے پیچھے بیٹھ کر سارا جہاں پھرا کرتی۔ یہ اور بات کہ گھر آکر مما سے جو کھنچائی ہوتی وہ اس کا سارا مزہ کرکرا کر ڈالتی لیکن وہ بھی زیمل حسان تھی چند ہی منٹوں بعد سب بھلا کر اگلے دن پھر کسی پلان کو ترتیب دے رہی ہوتی۔
برگر کھاتی سوچوں میں ڈوبی اسے پتہ ہی نہ چلا تھا کہ وہ ہاسٹل کے گیٹ تک پہنچ گئی تھی۔ واچ مین کو سو کا نوٹ پکڑاتی وہ مزے سے ہاتھ جھاڑتی اندر آگئی۔ رسٹ واچ میں ٹائم دیکھا ساڑھے آٹھ ہورہے تھے وہ مڑی اور واچ مین کو گیٹ بند کرتے دیکھ کر مسکرا دی۔
کمرے میں پہنچی تو نرمین چائے پی رہی تھی اور شبانہ ہینڈ فری لگائے جانے کیا سن رہی تھی اسے دیکھ کر دونوں نے ایک ساتھ ہی وال کلاک کی سمت دیکھا تھا مین گیٹ سے ہاسٹل کا راستہ پندرہ بیس منٹ کا تھا اس نے ہاتھ میں پکڑا چپس کے پیکٹوں سے بھرا شاپر نرمین کے آگے رکھا اور خود اپنی الماری سیٹ کرنے لگی۔ دونوں نے اس سے کوئی بات نہ کی تھی وہ بھی خاموشی سے اپنے کام میں لگی رہی تبھی جیسے نرمین کو یاد آیا۔
’’تمہارا فون آرہا تھا تم ادھر ہی بھول گئی تھیں اپنا سیل؟‘‘
’’نہیں… بھولی نہیں تھی خود ہی چھوڑ گئی تھی۔‘‘ وہ بیگز نکال رہی تھی۔ نرمین نے دیکھا بہت خوب صورت ہینڈ بیگز تھے۔
’’یہ بیگز مما لاتی ہیں جب بھی فارن ٹور پر جاتی ہیں۔‘‘ وہ اس کی نظروں کو بھانپ گئی اس لیے بتانے لگی۔
’’اصل میں میری ساری ننھیال کو شاپنگ اور اندھا دھند شاپنگ کا خبط ہے چیزیں یوں خریدتے ہیں جیسے مفت بٹ رہی ہوں۔ کہیں تم پھر تو مجھ سے ایمپریس نہیں ہورہی؟‘‘ اس کی نظروں کی محویت بھانپ کر وہ مسکرائی۔
’’نہیں۔‘‘ نرمین نے سر جھکالیا۔ حقیقت تھی کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی شخصیت سے ایمپریس ہورہی تھی اس کی پرسنالٹی میں تھا کچھ ایسا جو کہ مد مقابل کو اپنی طرف اٹریکٹ کرتا تھا۔ وہ اپنے کام سے فارغ ہوئی تو تبھی نرمین نے گرم چائے کا کپ اس کی طرف بڑھا دیا۔ اس کے چہرے پر چمک سی آگئی۔
’’اوہ تھینک یو۔‘‘ اس نے کپ تھاما۔
’’کتنی خوشی ہوتی ہے جب کوئی آپ کی طلب پڑھ لے اور پھر اس کو پورا کردے بنا آپ کے اظہار کیے؟‘‘
’’مجھے لگتا ہے‘ میرا یہاں دل لگ جائے گا۔‘‘ اس نے چائے کا پہلا گھونٹ لیتے ہوئے کہا۔
’’نہیں بھی لگا تو ہم ہیں ناں۔‘‘شبانہ نے ہینڈز فری اتارتے ہوئے کہا تو تینوں ہنس دیں۔ وہ ساری رات اس نے مختلف باتیں سوچتے آنے والے دنوں کا خاکہ بنتے گزار دی تھی۔ اگلا دن بے حد مصروف تھا۔ نرمین اور شبانہ نے اپنا پورا کالج دکھایا۔ آڈیٹوریم‘ سیمینار روم‘ لائبریری‘ آفس‘ اسٹاف روم سب کچھ دکھا ڈالا۔ بارہ بجے کے بعد پنک ڈے کے سلسلے میں پروگرام تھا۔ سب لڑکیاں ہال میں جمع ہورہی تھیں نرمین بھی انہیں لے کر گھس گئی۔ ہال لڑکیوں سے کچھا کھچ بھر چکا تھا ایک ساتھ تین سیٹیں کہیں بھی خالی نہ تھیں سو تینوں الگ الگ ہوگئیں۔ پروگرام شروع ہوچکا تھا۔ ایک لیڈی ڈاکٹر بریسٹ کینسر کی علامات تشخیص اور وجوہات پر بریفنگ دے رہی تھی۔ وہ بے توجہی سے سن رہی تھی۔ تبھی اس کی نظر اسٹیج پر کھڑی مسز حسان پر جا پڑی۔
’’مما یہاں؟ پبلسٹی کا تو کوئی موقع مما کے ہاتھ سے پھسل نہیں سکتا۔‘‘ اس نے برا سامنہ بنایا اسے اب اس شو میں انٹرسٹ نہیں رہا تھا۔ وہ باہر نکل آئی۔ نرم نرم کھلی سی دھوپ ہر سو پھیلی ہوئی تھی وہ بے حد آہستگی سے چلتی ہوئی گرائونڈز کی طرف آگئی۔ نسبتاً ایک ویران گوشے کا انتخاب کیا اور زمین کو ایک پیپر سے صاف کرکے بیٹھ گئی۔ فاصلے فاصلے پر بیٹھی لڑکیوں کے گروپس خوش گپیوں میں مصروف تھے اس نے اپنا لیپ ٹاپ کھولا اور کچھ سرچ کرنے لگی نرمین اور شبانہ جانے کہاں رہ گئی تھیں یہ کام بھی بورنگ لگنے لگا تھا آج کوئی خاص کلاس بھی نہیں تھی۔ پچھلے ایک ہفتے کے سارے نوٹس وہ شبانہ اور نرمین سے لے چکی تھی۔ گھر… ہاں شاید وہ گھر کو مس کررہی تھی مگر کس کو؟ شاید عون کو… نہیں۔ اس نے زور سے سر جھٹکا۔ وہ عون کے بارے میں سوچنا نہیں چاہتی تھی۔ عون نے اسے بہت زیادہ ہرٹ کیا تھا۔ جو حرکت عون نے کی تھی وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی عون پر تو اسے اپنے آپ سے زیادہ اعتماد تھا وہ ایسی بات کہے گا اس کے تو تصور میں بھی نہیں تھا اور یہ عون سے شدید ناراضگی کا ایک اظہار ہی تھا کہ وہ گھر اور عون سب کو چھوڑ چھاڑ ہاسٹل چلی آئی تھی۔ اس کا ذہن پھر عون کے بارے میں سوچنے لگا تھا۔ تبھی ذرا فاصلے پر بیٹھے گروپ کی ایک لڑکی بلند آواز سے چلانے لگی۔
’’آئی ول شوٹ یو۔ تم یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہو؟ دیکھو اگر تم نے ایسا کیا تو۔ میں ابھی اسی وقت اپنی کلائی کاٹ لوں گی۔‘‘ وہ ہذیانی ہوکر اس قدر شدت سے چلائی کہ زیمل خوف زدہ سی ہوکر اپنی جگہ سے کھڑی ہوگئی۔ وہ لڑکی فون پر غالباً کسی لڑکے سے بات کررہی تھی۔ اور بڑے جارحانہ عزائم تھے اس کے‘ اس کے ساتھ موجود باقی تین لڑکیاں دبی دبی ہنسی سے اسے اشاروں سے مزید اکسا رہی تھیں۔
’’یہ دیکھو میں ابھی اپنی کلائی کاٹ رہی ہوں۔ اسپتال ضرور آنا۔ میں مرنے سے پہلے ایک بار تمہیں دیکھنا چاہوں گی یہ لو۔‘‘ اس کے ساتھ ہی اس لڑکی نے چھری اٹھائی اور کلائی پر پھیر دی اور زیمل کے لبوں سے بے ساختہ چیخ نکل گئی۔ اس لڑکی نے ناگواری سے اس کی طرف دیکھا اور ساتھ موجود لڑکی اپنے موبائل سے فٹافٹ تصویر لینے لگی تھی۔ اس لڑکی نے دوبارہ موبائل کان سے لگایا۔
’’میں اپنی کلائی کاٹ چکی ہوں آگے تمہاری مرضی۔ تصویر تمہیں ابھی مل جائے گی تاکہ تمہیں میری محبت کا یقین ہوجائے۔‘‘ کہہ کر اس نے فون بند کردیا۔ دوسری لڑکی نے فاٹا فٹ بیگ سے بینڈیج نکالی اور اس کی کلائی پر لپیٹنے لگی۔ گویا سب کچھ پلان کے تحت کیا گیا تھا۔ شاید زخم بھی اتنا گہرا نہیں لگایا گیا تھا۔ زیمل کئی لمحے ششدر سی انہیں دیکھتی رہ گئی تھی۔ لڑکیوں کی یہ کون سی قسم تھی اس نے تو سنا تھا لڑکے بلیک میلنگ کرتے ہیں پر یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی تھی۔
’’تو تم ادھر ہو؟‘‘ نرمین نے اچانک اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ چونکی۔ پیچھے شبانہ بھی تھی جو کہ انہی لڑکیوں کو دیکھ رہی تھی۔ زیمل نے آہستگی سے انہیں کچھ دیر قبل والا واقعہ سنایا۔ تو شبانہ ہنس دی۔
’’پچھلے ہفتے اسی لڑکی کو میں نے اپنے خون سے ایک بڑے سے کارڈ پیپر پر آئی لو یو اور دل بناتے دیکھا تھا بعد میں اسی طرح تصاویر بنا کر کسی کو بھیجی گئی تھیں۔ میں تو حیران ہوں اتنے پیسے خرچ کرنے کے بعد یہ لڑکیاں کالج میں یہ کچھ کرتی پھر رہی ہیں۔ ہیں کس ایئر کی پتہ نہیں۔ کوئی ان کے ماں باپ کو بتائے تو وہ تو جیتے جی ہی مر جائیں اپنی اولاد کے ایسے کرتوت سن کر۔‘‘ اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھر کے پہلے زیمل اور پھر نرمین کو دیکھا۔ زیمل جھک کر اپنا لیپ ٹاپ اٹھانے لگی تبھی ادھر سے قہقہوں کی آوازیں آنے لگیں۔ شاید ان کا مقصد پورا ہوگیا تھا۔
’’چلو زیمل دفع کرو ان دھوکہ باز لڑکیوں کو۔‘‘ شبانہ نے اس کا کندھا ہلایا وہ فٹافٹ آگے بڑھ گئی۔ لیکن ذہن ان لڑکیوں کی باتوں میں ہی الجھا ہوا تھا۔ وہ ہوم نرسنگ کی کلاس لے کر نکلی ہی تھی کہ سامنے سے شبانہ آتی دکھائی دی۔ وہ میوزک کی کلاس لینے جارہی تھی اسے ہاتھ سے اشارہ کرنے لگی پاس آئی تو بولی۔
’’تم سے ملنے کوئی آیا ہے میں سمجھی تم شاید روم میں ہو۔‘‘
’’عون آیا ہوگا!‘‘ اس نے لاپروائی سے کندھے اچکائے۔
’’بھائی؟‘‘ شبانہ نے استفہامی نظروں سے اسے دیکھا۔
’’نہیں۔‘‘ وہ مختصراً کہہ کر وزیٹنگ روم کی طرف بڑھ گئی لیکن شبانہ کو یہ خبر نرمین کو سنا کر ہی چین آیا تھا کہ زیمل کو ملنے اس کا کوئی خاص بندہ آیا ہے وہ دونوں بے چینی سے اس کا انتظار کرنے لگی تھیں۔ زیمل وزیٹنگ روم میں داخل ہوئی تو اس نے اپنا دل اور لہجہ دونوں مضبوط کرلیے تھے وہ اسے دیکھ کر کھڑا ہوگیا تھا۔
’’کیسی ہو؟‘‘ وہ کھوجتی نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
’’ایک دم فرسٹ کلاس۔‘‘ وہ کھلکھلا کر ہنسی اور ان بجتی گھنٹیوں پر اس کا دل سجدہ ریز ہونے لگا تھا اس نے بمشکل خود کو سنبھالا تھا۔
’’تم کیسے ہو اور مام ڈیڈ؟‘‘ اس نے ہاتھ سے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود بھی کارنر صوفہ پر ٹک گئی۔ عون نے اس پر سے نظریں نہیں ہٹائی تھیں۔
’’آنٹی حسب معمول دوبئی گئی ہیں انکل کینڈا۔ میں نے ابھی باہر دیکھا۔ عمیمہ آنٹی آئی تھیں یہاں؟‘‘ اس نے بتاتے ہوئے ایک گہری نظر ڈالی۔
’’ہاں تم کیوں آگئے۔ اب اگر تمہارا نام میں نے وزیٹرز لسٹ میں دے ہی دیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم آئے روز یہاں کے چکر لگانے لگو۔‘‘ اس نے سیدھا سیدھا کہا۔ عون ہنس دیا۔
’’پتہ ہے ہم دونوں میں کیا مشترک ہے۔ ہم دونوں دل رکھنا نہیں جانتے۔ سچ بول دیتے ہیں۔ تو سچ چاہے کڑوا ہو سننا تو پڑتا ہی ہے۔ چلو گی دہی بھلوں کی ایک اور دکان ڈھونڈی ہے میں نے۔‘‘ وہ بڑی بے ربط سی گفتگو کررہا تھا۔
’’نہیں… نہیں جاسکتی ڈسٹرب ہوں۔ اچھا اللہ حافظ۔‘‘ وہ کھڑی ہوگئی عون نے نادیدہ نظروں سے اسے دیکھا کس قدر ظالم ہوگئی تھی یہ لڑکی وہ جو اس کی سب سے اچھی دوست تھی۔
’’سنو تم ناراض ہو؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ہاں۔‘‘ وہ کہہ کر باہر نکل گئی اور عون کی نظروں نے دور تک اس کا پیچھا کیا تھا وہ واقعی نہیں سمجھ پارہا تھا اب کیا کرے؟
/…/…/…/
’’طیب تے اتنا کمینہ اے‘ اوئے ہوئے کیہ دساں بھراں جی۔ اک واری ایک بلی لے آیا اوہ بلی سی کہ شرلی۔ ادر چڑھ ادھر چڑھ کرسی منجی۔ ہر شے گندی کر چھوڑی۔ مینوں غصہ آیا۔ میں بھی غسل خانے اچ بند کر چھوڑی۔ پر طیب انہوں یاد کرکے اتنا رویا۔ بالآخر مینوں کڈھنا پیا۔ پر بھلی میں وی نہیں۔ ایک دن شدید ٹھنڈاچ میں دونواں نوں باہر کڈھ چھوڑیا۔ تے مینوں آکھدا اے نہاڑے ورگیاں ستاں ہوندیاں جیڑیاں نولاں سمیت پتراں نوں اس موسم اچ کدھ مار دیاں۔ چائے کڈی ظالم سی اے۔ گھبراں جی کیہ دساں ہے تے تیرہ سال واپر حرکتاں۔ میں تاں تنگ آگئی آں۔‘‘ بشریٰ نے طیب نامہ سنایا۔
’’طیب تو اس قدر کمینہ ہے کہ بھائی صاحب کیا بتائوں ایک دفعہ بلی لے آیا وہ بلی تھی کہ پھلجڑی۔ چار پائی کرسی ہر شے کو گندا کردیا۔ مجھے غصہ آیا تو میں نے اسے باتھ روم میں بند کردیا۔ لیکن طیب اس قدر رویا کہ مجھے اسے باہر نکالنا پڑا لیکن میں بھولی نہیں شدید سردی میں دونوں کو نکال باہر کیا کہنے لگا آپ جیسی ساس ہوتی ہیں جو اس طرح کے موسم میں بہو کو بیٹے سمیت نکال باہر کرتی ہیں کس قدر ظالم ساس ہے کیا بتائوں بھائی صاحب ہے تو تیرہ سال کا لیکن حرکتیں‘ میں تو تنگ آگئی ہوں۔‘‘ چوہدری صداقت ہنس پڑے۔ بشریٰ ان کی لاڈلی اور پیاری بہن تھی۔
’’جھلیے ایویں پریشان نہ ہویا کر۔‘‘ انہوں نے حقے کو منہ میں ڈال کر پیار سے دیکھا۔
’’لو بتائو۔‘‘ بشریٰ نے ناک چڑھائی۔ اسی وقت بھرجائی نذیراں لسی کے گلاس لے آئی۔ تو باتوں کا رخ مڑ گیا۔ بشری اپنے بھتیجے ٹیپو کے بارے میں پوچھنے لگی۔ نذیراں خوش ہوکر بتانے لگی۔ ٹیپو کا ذکر اسے بہت ہی خوش کرتا تھا۔
’’بہت دن ہوگئے بھائی ٹیپو نہیں آیا۔‘‘ بشریٰ نے لسی کا گھونٹ بھرتے ہوئے پوچھا۔
’’ہاں بس۔‘‘ چوہدری صداقت نے مختصراً کہا اور کسی سوچ میں گم ہوگئے۔ ٹیپو کا واقعی کافی دنوں سے کوئی رابطہ نہ تھا ان کا اکلوتا بیٹا تھا یہ خوبرو جوان۔ جو لگتا تھا شہر کی رنگینیوں میں آہستہ آہستہ گم ہوتا جارہا تھا۔
نذیراں نے لسی کے خالی گلاس اٹھائے اور بشریٰ کو تاکید کرتی گئی کہ وہ کھانا کھائے بغیر نہ جائے بشریٰ کون سا ٹلنے والی تھی وہ تو آتی ہی سارے دن کے لیے تھی سسرال کے بکھیڑے ہی اس قدر تھے کہ وہ ہفتے میں ایک دن تو جان چھڑا کر آہی جاتی تھی اور دن ڈھلے ہی اس کی واپسی ہوتی تھی وہ کافی دیر بیٹھی بھائی کے ساتھ گپ شپ کرتی رہی اور جب چوہدری صداقت اٹھ کر ڈیرے گئے تو وہ کچن میں نذیراں کے پاس آگئی۔ نذیراں نے مٹی کے چولہے پر ہانڈی چڑھا رکھی تھی اور باہر کچے صحن میں لگے تندور میں بالن یعنی ایندھن بھی ڈال دیا تھا بھرجائی آٹا گوندھ کر اب تندور پر روٹیاں لگانے کو تیار تھی وہ پیڑھی کھینچ کر بھر جائی کے قریب ہی آبیٹھی۔
نذیراں وقفے وقفے سے پھنکنی سے چولہے میں پھونک بھی مار رہی تھی جس سے مدھم ہوتی آگ پھر سے بھڑک اٹھتی۔ پاس ہی ایک بڑی سی دیگچی دھری تھی جس میں نذیراں نے خالص دودھ سے کھیر تیار کی تھی وہ جانتی تھی بشریٰ کو کھیر بہت پسند تھی اس لیے صبح اٹھتے ساتھ ہی اس نے کھیر چڑھا دی تھی بھرجائی نے تندور پر روٹیاں لگانی شروع کردی تھیں نذیراں دیسی گھی کا کٹورا اٹھائے گرم گرم روٹیاں پکاتی جارہی تھی۔ بشریٰ سے بھوک برداشت نہیں ہورہی تھی اس نے ہانڈی سے کٹورا بھرا آدھا پکا سالن نکالا اور گرما گرم روٹی سے لطف اٹھانے لگی نذیراں اس کی حرکت پر ہنس دی۔
’’بچیاں والی ہوگئی بشریٰ پر عادتاں نئیں بدلیاں۔‘‘ (بچوں والی ہوگئی ہو لیکن عادتیں نہیں بدلیں)
’’پر کیوں؟‘‘ گرم نوالہ منہ میں لیتے ہوئے زبان جل گئی تو وہ ’’شش‘‘ کر اٹھی۔
’’سیانے کہہ گئے ہمیشہ ٹھنڈی کرکے کھائو۔‘‘ نذیراں نے ایک اور گرم روٹی اس کے چھابے میں ڈالی۔ بشریٰ نے سر ہلایا۔ پھر ہولے سے بولی۔
’’بھابی ٹیپو کا کیا اشارہ ہے اباجی کو بہت جلدی ہے کہتے ہیں اب کی دفعہ ٹیپو آیا تو وہ نمو کی رخصتی کردیں گے۔‘‘ نذیراں نے پل کی پل اس کو دیکھا۔
’’جمیل بھائی نے ہمیشہ جلدی کی ہے ٹیپو بڑا افسر ہے اس کے طور طریقے بدل گئے ہیں پتہ نہیں وہ اس فیصلے کو مانے گا بھی یا نہیں۔ میرا دل تو بہت پریشان ہے کہیں اس نے انکار کردیا تو پتہ نہیں کیا ہوگا۔‘‘
’’اللہ تو خیر منگ بھرجائی۔ تہانوں زبیر دا پتہ نئیں۔ کوئی گل ہوئی اوہ اک منٹ لاسی مینوں کڈھن تے۔‘‘ وہ دہل کر بولی۔
’’اللہ خیر کرے۔‘‘ نذیراں نے ہاتھ کے اشارے سے بھرجائی کو مزید روٹی لگانے سے منع کیا اور پھر پکی روٹیوں کا چھابا اٹھائے باورچی خانے کی طرف آگئی۔ بشریٰ بھی پیچھے آگئی تھی۔ یک دم ہی اس کا پیٹ بھر گیا تھا وہ تو پہلے ہی مخالف تھی اس نے بھائی کو سمجھایا بھی تھا کہ وٹے سٹے والا کام نہ کریں لیکن لڑکیوں کی سنتا کون تھا چوہدری جمیل نے اپنے منہ سے نمو کے رشتے کے بارے میں کہا تھا تو چوہدری صداقت کی ہمت کیسے ہوتی انکار کی۔ انہوں نے فوراً سے پہلے نمو کو ٹیپو کی منگ بنا ڈالا تھا۔ ان دنوں ٹیپو میٹرک میں تھا اور نمو آٹھویں پاس کرکے گھر بیٹھ کر گھر داری سیکھ رہی تھی کیونکہ گائوں میں آگے اسکول نہ تھا۔ دن ڈھلے زبیر آیا اور بشریٰ اپنے گھر چلی گئی۔ لیکن نذیراں کے دل میں چھپے وسوسے جوں کے توں تھے۔
/…/…/…/
اس ویک اینڈ پر وہ گھر بھی آئی تھی۔ ڈیڈ اپنے فارن ٹور سے واپس آچکے تھے اور ممی… اپنے اگلے ٹور کی تیاری میں تھیں۔ وہ آج تک سمجھ نہ پائی تھی کہ ڈیڈ نے ایک جیسی ہی دو عورتوں سے شادی کیوں کر رکھی تھی۔ عمیمہ مام اور خزینہ ممی دونوں میں رتی بھر فرق نہیں تھا۔ دونوں کی عادتیں ہی نہیں پیسہ لٹانے کا طریقہ بھی ایک ہی تھا پھر جانے کیوں حسان شہریار نے عمیمہ کو چھوڑ کر خزینہ کو شریک حیات بنالیا تھا کھانے کی میز پر اشتہاء انگیز کھانے تھے اور اتنی بڑی میز کے ایک اطرف وہ اور دوسری طرف ڈیڈ تھے۔ ڈیڈ کے دائیں طرف خزینہ ممی تھیں جو اپنی پلیٹ میں سلاد کے چند ٹکڑے ڈالے بڑی نزاکتوں سے ذرا ذرا کتر کر کھا رہی تھیں اور یہی حال ڈیڈ کا تھا اسے ہنسی آگئی کیا فائدہ اتنی دولت کا کس قدر نعمتوں سے بھری کھانے کی میز تھی اور وہ دونوں کچی سبزیاں کھا کر اپنا پیٹ بھر رہے تھے۔ ممی کا ڈائٹنگ پروگرام اور ڈیڈ کی سو کالڈ بیماریاں۔ وہ جانتی تھی یہ سارا اہتمام اس کے لیے کیا گیا تھا۔ بریانی‘ کوفتے‘ دم پخت‘ فرائی چکن‘ شامی کباب‘ شاشلک‘ رشین سیلڈ اور چکن جلفریزی۔
’’اوہ خدایا… اتنا رزق۔‘‘ اور وہ جانتی تھی یہ سارا کھانا ڈسپوزل ہوجانا تھا۔
’’تمہاری اسٹڈیز کیسی چل رہی ہیں زیم؟‘‘ ڈیڈ نے ایک سرسری نگاہ اس پر ڈالی اور ساتھ ہی ان کی نظر بار بار سامنے لگے وال کلاک کی طرف بھی اٹھ رہی تھی۔ نو بجے انہیں میٹنگ کے لیے نکلنا تھا اور ممی کو اپنی فلائٹ کے لیے وہ دونوں تو بس فارمیلیٹیز نبھانے اس کے ساتھ آبیٹھے تھے۔
’’ابھی تو بس سو سو ہی ہے۔ ہاں فنکشنز آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔ سیلیبریٹیز آتے رہتے ہیں۔ ابھی پچھلے ہفتے جو بریسٹ کینسر کے سلسلے میں شو ہوا تھا عمیمہ مام بھی ایز اے چیف گیسٹ وہاں موجود تھیں۔‘‘ حسان شہریار کے چہرے پر ایک سایہ سا لہرایا۔ جب کہ خزینہ نے بڑی کاٹ دار نظروں سے اسے دیکھا تھا۔
’’تم ملی نہیں اپنی ماما سے؟‘‘ لہجے میں واضح طنز تھا۔
’’کیا فرق پڑتا ہے؟‘‘ اس نے چمچ بھر دہی پلیٹ میں ڈالا اور سلاد میں مکس کرکے کھانے لگی۔ حسان شہریار اپنا ڈنر ختم کر چکے تھے سو کرسی دھکیل کر اٹھ کھڑے ہوئے۔
’’زیمل کب تک ہو؟‘‘ انہوں نے موبائل پر کسی کا نمبر ڈائل کرتے ہوئے پوچھا پھر جواب سنے بغیر باہر نکل گئے۔ خزینہ بھی زیادہ دیر مروت نہیں نبھا سکی اور معذرت کرتی اٹھ گئیں۔ نعمتوں سے سجی ٹیبل نے اپنی ناقدری کا رونا رویا تھا۔ وہ جو دو دن رہنے کا سوچ کر آئی تھی اگلی صبح ہی واپس جانے کا ارادہ کرلیا۔ یہاں رہ کر دیواروں سے تو باتیں نہیں کرنا تھیں۔ رات گئے تک وہ فیس بک پر مصروف رہی سو اگلے دن آنکھ بھی دوپہر دو بجے کھلی۔ جلدی سے شاور لے کر اس نے اپنا بیگ اٹھایا اور باہر آگئی۔ چوکیدار اور ڈرائیور دونوں غائب تھے اس نے تھوڑی دیر انتظار کیا پھر ٹیکسی لے کر ہاسٹل پہنچ گئی۔ شبانہ اور نرمین دونوں اپنے گھر گئی ہوئی تھیں کمرہ خالی تھا وہ بیگ پھینک کر بستر پر نیم دراز ہوگئی۔ ذہن منفرد سوچوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ پتا نہیں اسے کب تک یہ خانہ بدوشوں والی زندگی گزارنی تھی دو مائیں ہونے کے باوجود اسے ماں کا پیار‘ ماں کی گود میسر نہیں تھی۔ عمیمہ مام تو اسے جنم دینے کے بعد بھول ہی گئی تھیں۔ ہاں خزینہ ممی کا پیار کا اپنا انداز تھا وہ اس کے لیے ڈھیروں شاپنگ کرتیں فکرمندی کے دو چار جملے اور بس… اور ڈیڈ کے پاس تو کچھ پوچھنے کے لیے بھی وقت مہینوں کے بعد میسر آتا تھا ایک عون تھا اس کا تایا زاد اور جو بچپن سے لے کر اب تک اس کا دوست اور ہم زاد تھا۔ لیکن اس نے بھی مردوں والا چولا پہن لیا تھا اور اسے مرد کی نظر سے ہی دیکھنا شروع کردیا تھا۔
اسے عون سے محبت نہیں تھی لیکن پیار بہت تھا اور اس پیار کو وہ مرد و عورت کے تعلق کا نام نہیں دیتی تھی۔ ویسا ہی پیار جو ایک انسان اپنی کسی عزیز شے سے کرتا ہے۔ سو عون اسے عزیز ضرور تھا لیکن اس کی طرف سے بڑھے محبت کے ہاتھ وہ قبول نہیں کرسکتی تھی۔ بلکہ اس روپ میں تو وہ اسے کسی صورت بھی قبول نہیں تھا۔ وہ اپنے حالات اور عون کے بارے میں سوچتے سوچتے جانے کب نیند کی آغوش میں چلی گئی تھی آنکھ کھلی تو رات کے نو بج چکے تھے۔ اسے بھوک بھی محسوس ہورہی تھی اور سر میں شدید درد بھی۔ صبح سے لے کر اب تک اس نے کچھ بھی نہ کھایا تھا باہر جانے کی ہمت نہ ہورہی تھی اس نے اٹھ کر الماری کھولی۔ شاید کچھ کھانے پینے کو مل جائے۔ مگر سوائے ایک بسکٹ کے پیکٹ کے اسے کچھ نہ ملا۔ وہ کچھ دیر خالی الذہن کیفیت میں بیڈ پر بیٹھی رہی پھر جانے کیا سوچ کر عون کا نمبر ڈائل کردیا۔ ایک رنگ پر ہی فون ریسیو کر لیا گیا تھا۔
’’بھوک ستا رہی ہے؟‘‘ چھوٹتے ہی پوچھا‘ اس کے درست قیاس اب زیمل کو کھولانے لگے تھے۔
’’نہیں تو…‘‘ وہ مکر گئی۔ اس کی ہاں میں ہاں ملانا اس کو شہ دینے کے مترادف تھا۔
’’میری یاد آرہی ہے؟‘‘ وہ شوخ ہوا۔
’’ہاں سوتے میں ڈر گئی تھی تمہاری شکل دیکھ کر۔‘‘ وہ ہنسی۔
’’اچھا…‘‘ وہ بھی ہنس دیا۔
’’واپس کیوں چلی گئیں۔ میں تو شام کو تمہیں الحمرا لے کر جانے کا پروگرام بنا رہا تھا۔ فیض احمد فیض کی یاد میں زبردست پروگرام ہورہا ہے میں نے ٹیکٹس بھی لے لیں تھیں۔ سوچا تھا سرپرائز دوں گا۔‘‘
’’آ…ہا‘‘ زیمل کو افسوس ہوا۔
’’اگر تم سرپرائزز دینے کے چکر سے باہر نکل آؤ تو بہت سے کام وقت پر ہوجایا کریں۔ اب اگر تم یہ بات مجھے صبح بتادیتے تو میں پڑی بھوکی نہ مر رہی ہوتی۔ لیکن تمہارے سرپرائزز میں… اب تم گیٹ وارڈن سے آکر پرمیشن لو کچھ بھی کہو میں یہ ہرگز مس نہیں کروں گی۔‘‘ اس نے کہہ کر فون بند کردیا اور خود کپڑے سیلکٹ کرنے لگی اور ٹھیک پانچ منٹ بعد اس کے دروازے پر دستک ہورہی تھی۔
گھر سے فون آگیا تھا اور وہ دو دن کی چھٹی لے کر روانہ ہورہی تھی۔ اس کے پیرنٹس یہاں کے ٹرسٹی تھے اور زیمل حسان ان رولز اینڈ ریگولیشن کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرسکتی تھی۔ عون اسے گیٹ سے باہر مل گیا تھا اسے دیکھ کر ہنس پڑا۔
’’بہت ناجائز فائدہ اٹھاتی ہو تم زیمل حسان ہونے کا۔ اب مجھے سمجھ آیا کہ تم نے میرا نام ہی کیوں لکھوایا ہے وزیٹرز میں تاکہ وقت بے وقت میں تمہیں پک کرسکوں۔ تمہیں گھما پھرا سکوں تم ایک کام کرو واپس گھر آجاؤ۔ کوئی اور ضرورت مند اس کمرے میں رہ لے گی۔ اچھا بھلا پُرآسائش گھر چھوڑ کر یہاں رہ رہی ہو۔‘‘ اس نے گاڑی ڈبل روڈ کی طرف کی اور ایک گہری نظر اس پر ڈال کر نظریں سامنے مرکوز کردی تھیں۔ زیمل نے اپنے کیوٹیکس لگے خوب صورت ہاتھوں کو دیکھا اور بولی۔
’’وہ گھر نہیں… بس ایک مکان ہے میں وہاں رہ رہ کر اوب چکی ہوں۔ اتنا بڑا گھر ہر طرف نوکر چاکر۔ تمہیں کیا پتہ عون اس گھر کی ایک ایک چیز سے ٹپکتی امارت نے محبت کا چہرہ کہیں چھپا ہی دیا ہے۔ گھر کے تین افراد کبھی کبھار ہی ایک دوسرے کی شکل دیکھ پاتے ہیں اور کبھی قسمت سے اکھٹے ہو بھی جائیں تو کان موبائلز کالز پر اور نظریں وال کلاک پر لگی رہتی ہیں۔ ایک ایک لمحہ قیمتی ہوتا ہے ان کا۔ منٹ منٹ ہزاروں لاکھوں کا کاروبار۔ کیا کرنا ہے ان لوگوں نے اس قدر دولت کا۔ کماتے جارہے ہیں بینک بھرے پڑے ہیں دولت کے انبار سے یہ پلازے‘ شاپنگ مالز‘ فیکٹریاں۔ مما کا اپنا بزنس سیٹ اپ۔ مجھے تو کبھی کبھی ان کے انسان ہونے پر بھی شک ہونے لگتا ہے۔ یار فیلنگز نام کی کوئی چیز ان میں رہی نہیں اور وہ میری مما۔ عمیمہ مام۔ وہ ساری دنیا کی ماؤں سے نرالی ہیں۔ ان سے کہیں زیادہ فکر تو خزینہ مما سال میں دو بار کرلیتی ہیں۔ ’مس ٹو ڈارلنگ ہیو اے گڈ ڈے‘ ’سوئیٹ ہارٹ‘ بس ان چند جملوں میں قید ہے ان بزنس ایمپائر چلانے والوں کی زندگی۔ گھڑی کی سوئیوں کی ٹک ٹک پر جینے والے یہ لوگ۔ مجھے ترس آتا ہے ان پر کیا فائدہ ان کی اس بے تحاشہ دولت کا نہ سکون سے پوری نیند لے سکتے ہیں نہ ہی اللہ کی دی ہوئی نعمتوں سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں کھانے کی ٹیبل من و سلویٰ سے کم نہیں ہوتی لیکن ایک لقمہ کھانا نصیب نہیں… سلاد‘ پھل‘ جوس اور اوپر سے جب مما مجھے دیتی ہیں بازاری فروٹ چاٹ اور نمک کم کھانے کے نقصانات پر لیکچر تو مجھے ان پر اور زیادہ ترس آتا ہے یہ لوگ زندگی انجوائے کرنا جانتے ہی نہیں۔‘‘ اس نے بولتے بولتے بالوں پر لگا کیچر کھولا تو سیاہ ریشمی بال شانوں پر بکھر گئے۔ عون نے پل کی پل اس کی طرف دیکھا تھا۔
’’یہ لڑکی… یہ لڑکی…‘‘ اس نے سوچا… کیوں اس کی محبت کی گہرائی نہیں جانتی تھی کیوں دن رات کے کسی بھی پہر کو آرام سے اس کے ساتھ گزار دینے کے باوجود تمام عمر اس کے ساتھ گزارنے کو تیار نہیں تھی۔ اپنی ہر بات ہر خوشی ہر غم اس سے شیئر کرتی تھی پھر بھی اس کو اپنی زندگی میں خاص جگہ دینے کی بات پر طیش میں آجاتی تھی۔
’’اگر رہی بات وزیٹر میں صرف تمہارا نام لکھوانے کی تو عون تمہارے علاوہ اور کس کے پاس اتنا ٹائم ہے جو مجھے ملنے آئے میرے ساتھ ذلیل خوار ہو؟‘‘ اب کے ذرا بشاشت سے اس نے کہا۔
’’ہاں کاٹھ کا الو ایک ہی پیدا ہوا ہے اس دنیا میں اور اس کا نام عون ہے۔‘‘ وہ مسکرایا اور گاڑی پارکنگ میں روک دی۔
’’الحمرا آرٹ کونسل۔‘‘ کے باہر ادب کے دلدادہ لوگوں کا جم غفیر تھا۔ اچانک ہی بادل زور سے گرجے تھے اس نے آسمان پر نگاہ ڈالی۔ ابھی کچھ دیر پہلے تاروں سے بھرا آسمان کالے بادلوں سے ڈھک گیا تھا۔ یکایک ہی موسم نے پلٹا کھایا تھا۔
’’عون بارش ہونے والی ہے۔‘‘ اس نے عون کو متوجہ کیا۔
’’ارے… ایک دم کہاں سے آگئے بادل۔ ابھی شام میں تو بہت اچھا خاصا موسم تھا چلو جلدی چلو۔‘‘ اسی دم ایک موٹی بوند زیمل کے چہر ے پر گری اور پارکنگ سے اندر جاتے بارش تیز تر ہوگئی تھی۔ بڑی مشکل سے خود کو بچاتے وہ لوگ اندر پہنچے تھے۔ پروگرام شروع ہوئے کافی دیر ہوچکی تھی اب محفل موسیقی شروع ہونے والی تھی۔ کمپیئرنگ ہورہی تھی زیمل بھیگ گئی تھی۔ وہ کپڑے بھی ہلکے پھلکے پہن کر نکلی تھی کوئی جیکٹ یا سوئیٹر لیا نہیں تھا۔ بارش اب تیز ہورہی تھی اور بارش کے آرپار کچھ بھی دکھائی نہ دے رہا تھا۔
’’او میرے اللہ…‘‘ اس نے سردی سے کانپتے ہوئے عون کو دیکھا۔
’’اس سب میں میرا ہاتھ نہیں…‘‘ اس نے برستی بارش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وضاحت دی۔ زیمل خلاف توقع چپ رہی تھی۔
’’اس بھیگے حلیے میں اندر جانا چائیے؟‘‘ عون نے پوچھا۔
’’آف کورس محبت کا تقاضہ تو یہی ہے۔‘‘ زیمل نے شانے اچکائے اور سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ عون نے تقلید کی۔ انٹرنس کے ساتھ ہی دو خالی سیٹیں انہیں نے فوراً سنبھالی تھیں۔
’’عشق تھکاتا نہیں مزا دیتا ہے۔‘‘ کمپیئر بول رہا تھا۔ ’’اور یہ مزا جب روح میں اترتا ہے تو چھید کر ڈالتا ہے۔ تن کو لہر لہر کردیتا ہے اور جب لہو قطرہ قطرہ مساموں سے رستا ہے تو ہر بوند میں ایک ہی شکل بنتی ہے۔ یار کی شکل۔ اس یار کی شکل جو زہر پلا کر تریاق نہیں دیتا۔ آہستہ آہستہ جان لیتا ہے اور اس آہستہ آہستہ جان دینے میں جو مزا ہے وہ اور کسی بات میں نہیں۔ عشق تھکاتا نہیں مزا دیتا ہے۔‘‘ گھمبیر لہجے میں بولتا کمپیئر چپ ہوا تو ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ وہ دونوں بازو ٹانگوں کے گرد لپیٹے کرسی پر اکڑوں بیٹھی رہی۔ جب کہ عون تالیاں بجاتے مسلسل اس پر نظر جمائے ہوئے تھا۔ جیسے سمجھانا چاہ رہا ہو عشق کا فلسفہ‘ مغینہ اسٹیج پر فیض کی شاعری اپنی مدھر آواز میں سنانے لگی اور اب زیمل پورے انہماک سے اسے سن رہی تھی۔

’’میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات
تیرا غم ہے تو غم دہرا کا جھگڑا کیا ہے
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سوا‘ دنیا میں رکھا کیا ہے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصال کی راحت کے سوا
مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ
مجھ سے پہلی سی محبت…‘‘

اچانک اسے شدید قسم کی سردی کا احساس ہوا اور اس کا سارا جسم ہولے ہولے لرزنے لگا تھا۔
’’عون…‘‘ اس نے پکارا۔ لیکن شور میں شاید اس نے سنا نہیں تھا۔ وہ اپنی کرسی سے ٹیک لگائے ٹانگ پر ٹانگ دھرے پوری طرح منہمک تھا۔ اس کے دانت بجنے لگے۔ شاید اسے ٹھنڈ لگ گئی تھی۔
’’عون…‘‘ اس نے اس کے بازو کو جھنجھوڑا۔ وہ چونک کر سیدھا ہوا۔
’’کیا ہوا زی؟‘‘ ہال کے مدھم اندھیرے میں وہ واضح طور پر اس کا چہر تو نہ دیکھ پایا۔ ’’ٹھیک تو ہو…؟‘‘ وہ اس کی طرف جھکا۔
’’عون مجھے بہت زیادہ سردی لگ رہی ہے بہت ہی زیادہ۔‘‘ اس نے کانپتے لہجے میں کہا۔
’’اوہ مائی گاڈ۔‘‘ وہ پریشان ہوگیا۔
’’تم یہ کوٹ پہن لو۔‘‘ اس نے اپنا گیلا کوٹ اتار کر اس کے شانوں پر پھیلایا۔ شکر تھا وہ اندر تک اتنا گیلا نہیں ہوا تھا۔
’’گھر چلو عون… میں اچھا فیل نہیں کررہی۔‘‘
’’باہر بہت تیز بارش ہے۔ یہاں سے نکل کر پارکنگ تک جانے میں ہمیں دس منٹ تو لگ ہی جائیں گے اور ان دس منٹ میں ہمارا برا حال ہوجائے گا تم پہلے ہی ٹھنڈ سے کانپ رہی ہو۔‘‘
’’لیکن میں یہاں کانپ کانپ کر مر جاؤں گی عون۔ پلیز اٹھو۔‘‘ وہ خود بھی سیٹ سے کھڑی ہوگئی اور اسے بھی کھینچنے لگی۔
’’یار…‘‘ وہ جھنجھلا کر اٹھ کھڑا ہوا۔ اگلی سیٹوں پر بیٹھے لوگ مڑکر انہیں دیکھنے لگے تھے۔
’’مجھے تمہاری سمجھ نہیں آتی۔ موسم ابھی اتنا بھی چینج نہیں ہوا کہ تم ہاف سلو پہن کر نکل کھڑی ہوئیں۔ سب کچھ گڑبڑ کردیا تم نے۔‘‘ اس نے موبائل کی ٹارچ آن کی اور ہال کے دروازے کی طرف بڑھا وہ بھی پیچھے چلی آئی۔ سیڑھیاں اترتے اترتے ان کا برا حال ہوگیا تھا اسے لگ رہا تھا مزید اس سے ایک قدم بھی نہیں چلا جائے گا۔ اسے یاد آیا جسم تو اس کا صبح سے ہی دکھ رہا تھا جب وہ گھر سے ہاسٹل جانے کے لیے نکلی تھی اور ہاسٹل پہنچ کر اس نے چائے کے ساتھ پین کلر بھی لی تھی کہ اس کا سر درد کی شدت سے پھٹے جارہا تھا شاید اسے صبح سے ہی ٹمپریچر تھا اسی نے دھیان نہیں دیا تھا اور اب بارش میں بھیگنے سے حالت یک دم اتنی بگڑ گئی تھی۔ عون باہر بارش کا زور دیکھنے چلا گیا تھا۔ دفعتاً کسی نے اس کے کندھوں پر نرم گرم کوٹ ڈال دیا تھا وہ چونک کر پلٹی۔ عون کا کوٹ تو گیلا ہونے کے سبب اس نے واپس کردیا تھا۔
کوٹ ڈالنے والا پلٹ کر سیڑھیاں چڑھ رہا تھا اس کے دل میں تو آیا کہ آواز دے کر کوٹ اتار کر منہ پر دے مارے۔ پر اس وقت تنتنانے کا نقصان اس کے کھاتے میں آتا سو مضبوطی سے کوٹ کو اپنے گرد لپیٹتے عون کا انتظار کرنے لگی اس نے کون سا کوٹ ہمیشہ کے لیے رکھ لینا تھا گاڑی میں بیٹھتے ہی واپس بھجوا دے گی اس نے خود کو مطمئن کیا تھا۔ اب یہ عون کہاں رہ گیا تھا۔ اس نے جھنجھلا کر رسٹ واچ پر نگاہ ڈالی۔ پندرہ منٹ ہوگئے تھے اسے گئے ہوئے۔ ساڑھے دس ہوچکے تھے۔ جتنی تیز بارش تھی گھر پہنچتے پہنچتے ایک ڈیڑھ بج جاتا۔ وہ اس وقت کو کوسنے لگی جب وہ ایسے وقت میں عون کا کہا مان کر نکلی تھی۔
’’اﷲ بھلا کرے اس بندے کا۔‘‘ اس نے اس اجنبی کو دعا دی اور عون کو دیکھنے کے لیے اٹھ گئی ساتھ ہی عون نے نمبر ڈائل کیا۔
’’ہاں ہیلو… زی باہر آؤ میں گاڑی لے کر آرہا ہوں۔ بہت زیادہ پانی ہے گزرنے کا راستہ نہیں ہے ہمت کرکے آؤ مین روڈ کے ساتھ گاڑی لگاتا ہوں۔‘‘ بارش کے شور کی وجہ سے وہ چیخ کر بول رہا تھا بات سنتے سنتے وہ باہر آگئی اور باہر جو کچھ تھا اسے دیکھ کر اس کے منہ سے بے ساختہ۔
’’اوہ میرے اللہ نکلا…‘‘ اپنے ہوش میں اس قدر طوفانی بارش اس نے پہلی دفعہ دیکھی تھی۔ بارش کے آر پار کچھ دکھائی نہ دیتا تھا اسٹریٹ لائٹس کی مدھم سی روشنی تھی۔ اب اسے گیٹ کے پاس اکا دکا لوگ کھڑے نظر آرہے تھے شاید انتظامیہ کے تھے۔ دفعتاً اس کا پاؤں سلپ ہوا اور وہ بری طرح فرش پر پھسلتی چلی گئی تھی اس کا بیگ چھوٹ کر دور کہیں جا گرا تھا۔ پاکٹ میں رکھا موبائل بجنے لگا تھا۔ لیکن اس کے ہاتھ اس بری طرح رگڑ کھا گئے تھے اور کمر بھی کہ تکلیف کی شدت سے اس کی آنکھوں میںآ نسو آگئے۔ وہ کہاں پھنس گئی تھی بارش نے اسے بری طرح بھگونے کا تہیہ کر رکھا تھا اس سے کھڑا نہ ہوا جارہا تھا۔
’’آئیے…‘‘ دفعتاً کسی نے اپنا ہاتھ اس کے سامنے سہارا دینے کے لیے پھیلایا۔
’’عون…‘‘ وہ اس مضبوط ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیتے ہوئے بولی۔
’’شکر ہے تم آگئے میں تو پریشان ہی ہوگئی تھی۔ بہت بری طرح گری ہوں میں‘ بہت چوٹ آئی ہے۔‘‘ وہ گھٹنوں کو سہارتے ہوئے بولی۔ وہ ہاتھ اسے سہارا دے کر اپنے قدموں پر کھڑا کرچکا تھا اور اب وہ تیزی سے گیٹ کی جانب جارہے تھے۔
’’بارش کو بھی جیسے آج ہی برسنا تھا۔‘‘ عون کی خامشی پر وہ پھر بولی۔ اس کا ہاتھ ابھی بھی اس مضبوط ہاتھ کی گرفت میں تھا۔ عون ہمیشہ مشکل وقت میں اس کا سہارا بن جایا کرتا تھا۔
’’تم بہت اچھے ہو عون۔ لیکن میں کیا کروں مجھے تم سے محبت نہیں ہے۔‘‘ اس نے دل ہی دل میں اس سے معذرت کی۔
’’یااللہ…!‘‘ اس کے منہ سے یک دم نکلا۔ اس کا پاؤں گہرے پانی میں پڑا اور اس کا جوتا پیروں سے نکل کر کہیں اندر ہی غائب ہوگیا۔
’’میرا جوتا۔‘‘ وہ چلائی۔
’’جانے دیں۔‘‘ کسی نے چھاتا اس کے اوپر پھیلایا تھا۔ اس نے نگاہ اوپر اٹھائی اور چھاتے سے ہوتے ہوئے اس کی نظر دوسری سمت منہ پھیرے شخص پر پڑی تھی جو ایک ہاتھ سے اس کے اوپر چھاتا پھیلائے اور دوسرے ہاتھ سے اس کا ہاتھ تھامے‘ اسے سہارا دیئے کھڑا تھا۔ دفعتاً بادل زور سے گرجے تھے اور کڑکتی بجلی نے پل بھر کو اس کا چہرہ واضح کردیا تھا اور اس نے اسی سرعت سے اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے آزاد کروایا تھا۔
’’کک… کون ہو تم؟‘‘ اس کے ہوش اڑ گئے تھے۔
’’ظفریاب…‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے اپنا تعارف کروایا۔
’’آئیے آپ کو گاڑی تک پہنچادوں تاکہ میرا فرض پورا ہو۔‘‘ اس نے دوبارہ اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔
’’نن… نہیں۔‘‘ وہ تڑپ کر پیچھے ہوئی تھی۔ وہ تو اسے عون سمجھ رہی تھی اور یہ تو کوئی اور ہی تھا۔ وہ جیب میں ہاتھ ڈال کر موبائل نکالنے لگی تھی وہ بج اٹھا۔ عون کی ہی کال تھی۔
’’عون… تم کہا ں ہو؟ میں یہاں پھنسی کھڑی ہوں۔ راستہ کا پتہ نہیں چل رہا۔ سردی سے میرا برا حال ہورہا ہے اور اب تو مجھے لگتا ہے بس گر ہی پڑوں گی ہمت ختم ہورہی ہے میری۔‘‘ وہ روہانسی ہوئی۔
’’یار میں تمہیں دیکھ رہا ہوں بس کسی طرح یہ کراس کرکے گیٹ تک آؤ میں گیٹ کے بالکل پاس کھڑا ہوں۔‘‘ اس نے کہا۔
’’عون یہاں سے گیٹ تک کیسے… اتنا پانی ہے؟‘‘ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا لوگ آرہے تھے شاید پروگرام ختم ہوگیا تھا۔ اچانک ہی کسی نے برستی بارش کے پیچھے بڑی سرچ لائٹ روشن کردی تھی۔ سارا ماحول روشن سا ہوگیا تھا۔ اس نے دیکھا عون گیٹ کے ساتھ بالکل سامنے گاڑی میں سے ہاتھ ہلا رہا تھا۔
’’یار اس راجہ سے کہو جلدی کرو گاڑی کا انجن نہ بند ہوجائے۔‘‘ وہ وہیں بیٹھا مشورے پر مشورے دیئے جارہا تھا اس نے بائیں طرف کھڑے اس شخص کو دیکھا جو اب بھی منتظر نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اس نے غصے سے فون بند کیا۔ ایک دو آدمی چھتریاں لیے نظر آنے لگے تھے شاید انتظامیہ تھی۔
’’آپ؟‘‘ اس نے جان لیا تھا مدد لیے بغیر گزارا نہیں تھا۔
’’جی میں انتظامیہ سے ہوں میڈم آئیے۔‘‘ وہ مسکرایا اور اس مصیبت کے عالم میں بھی اس نے دیکھ لیا تھا اس شخص کی مسکراہٹ کافی حسین تھی۔ زیمل نے قدرے ہچکچاتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیا اور گھٹنوں گھٹنوں پانی میں گھس گئی۔ کچھ منچلے بھی پانی میں اتر آئے تھے اور اب وہ ان لمحوں کو انجوائے کررہے تھے وہ جلد از جلد یہاں سے نکل جانا چاہتی تھی اس لیے نظر اٹھائے بنا تیز تیز قدم اٹھانے کی کوشش کررہی تھی اور بالآخر اس نے بحفاظت اسے گاڑی تک پہنچا دیا تھا۔ عون نے دروازہ کھولا اور وہ جلدی سے اندر گھس گئی۔ اس شخص کا شکریہ تک نہ ادا کیا۔ گاڑی کا دروازہ بند کرتے ہوئے اسے کوٹ کا خیال آیا۔ اس نے جلدی سے کوٹ اتار کر کھلے شیشے سے اس کی طرف بڑھا دیا۔
’’تھینک یو… آج آپ نے میری بہت مدد کی۔‘‘ اخلاقیات نبھانے کا بھی خیال آہی گیا تھا لیکن اس نے کوٹ لیتے ہی پیچھے کی طرف قدم بڑھا دیئے تھے کسی سایہ دار جگہ کی تلاش کے لیے۔
وہ رات شاید اسے کبھی نہیں بھول سکتی تھی گھر آتے آتے اس پر چھینکوں کا حملہ ہوچکا تھا اور بخار اس قدر تیز تھا کہ اس پر نیم بے ہوشی کی کیفیت طاری ہوگئی تھی۔ وہ ایک بجے گھر پہنچے تھے عون اسے سہارا دے کر اندر لایا تھا۔ مما پاپا تو گھر پر تھے ہی نہیں اس نے مجیداں کو جگایا۔
’’بی بی کے لیے کچھ گرم لے کر آؤ۔ بلکہ پہلے ان کے کپڑے چینج کرواؤ پھر چائے یا سوپ جلدی۔‘‘ بیڈ پر لٹاتے ہوئے اس نے مجیداں کو ہدایت دی تھی۔ پھر خود باہر نکل گیا تھا۔ میڈیسن باکس سے کچھ میڈیسن جو اس وقت وقتی ریلیف کے لیے ضروری تھیں۔ نکال کر وہ اندر آیا تو مجیداں اس کے کپڑے بدلوا کر الیکٹرک ہیٹر آن کرچکی تھی۔
’’میں چائے لے کر آتی ہوں۔‘‘ وہ کہتی باہر نکل گئی۔ وہ کمبل میں لپٹی بند آنکھوں سے ہولے ہولے کانپ رہی تھی۔ وہ کرسی گھسیٹ کر اس کے قریب بیٹھ گیا۔ مجیداں کے آنے تک اسے یہیں بیٹھنا تھا۔ مجیداں چائے کی بجائے سوپ لے آئی تھی۔
’’تم بی بی کو پلاؤ اور اس کے بعد یہ دوائی دے دینا میں اوپر سو رہا ہوں۔ کوئی مسئلہ ہو تو جگا لینا اور ہاں ادھر بی بی کے ساتھ ہی سو جانا۔ اکیلا مت چھوڑنا۔‘‘ وہ کہتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔ مجیداں نے زبردستی اسے دو چمچ سوپ کے پلائے پھر دوا کھلا کر کمبل میں لٹا دیا۔ آہستہ آہستہ اس کے کانپنے میں کمی آرہی تھی۔ مجیداں کچھ دیر بیٹھی اس کی ٹانگیں دباتی رہی پھر جب لگا کہ وہ سوگئی ہے اب قدرے سکون میں ہے وہیں بیڈ کے ساتھ فرش پر بستر لگا کر لیٹ گئی اور آنکھ جو لگی تو صبح اس وقت کھلی جب زیمل پانی مانگ رہی تھی اس نے جلدی سے اسے پانی پلایا۔ بدن تپ رہا تھا بخار میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی تھی۔
’’کچھ چاہیے چھوٹی بی بی؟‘‘ پانی پلا کر اس نے پوچھا تو وہ نفی میں سر ہلاتی دوبارہ لیٹ گئی۔ مجیداں کچھ دیر کھڑی رہی پھر عون کو جگانے کے لیے باہر آگئی۔ عون پہلے ہی جاگ چکا تھا اور سیڑھیاں اترتا نیچے ہی آرہا تھا۔
’’صاحب جی چھوٹی بی بی کا بخار کم نہیں ہوا۔‘‘ اس نے بتایا تو وہ سر ہلاتا نیچے آیا۔
’’ڈرائیور سے کہو گاڑی نکالے اور تم بھی ساتھ آجاؤ ہم اسپتال جائیں گے۔‘‘ اس نے زیمل کے بیڈ روم کے دروازے میں کھڑے ہوکر جھانکا وہ بے سدھ پڑی تھی۔ اس نے زیمل کو سہارا دے کر گاڑی میں بٹھایا اور گاڑی تیزی سے اسپتال کے راستے پر ڈال دی۔
اسے نمونیہ ہوگیا تھا۔ حسان صاحب اطلاع پاتے ہی واپس لوٹ آئے تھے۔ ان کی اکلوتی بیٹی بیمار تھی۔ انہوں نے شام تک کوئی دس ڈاکٹرز سے رجوع کرلیا تھا۔
’’فکر کی کوئی بات نہیں۔ بس احتیاط کریں ریسٹ کروائیں جلدی ٹھیک ہوجائے گی۔‘‘ کم و بیش ہر ڈاکٹر کے یہی الفاظ تھے۔ لیکن حسان صاحب نے تو وہ دس دن جیسے اس کے لیے ہی وقف کردیئے تھے اور دواؤں سے زیادہ یہ حسان صاحب کی توجہ اور محبت کا نتیجہ تھا جو وہ بہت جلد صحت یاب ہونے لگی تھی۔ ابھی بھی حسان صاحب نے اپنے ہاتھوں سے اسے سوپ پلایا تھا اور سوپ پلانے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اسے اس کے بچپن کے بے شمار قصے سنا ڈالے تھے اور اسے یہ سب بہت اچھا لگ رہا تھا۔ ہوش سنبھالنے کے بعد شاید وہ پہلی بار باپ کی شفقت اور محبت محسوس کررہی تھی ورنہ تو بچپن عمیمہ مام اور ڈیڈ کی لڑائیاں سنتے ہی گزر گیا تھا اسے وہ دن اچھی طرح یاد تھا جب عمیمہ مام اسے سویا چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے گھر چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔ تب ڈیڈ نے اسے سنبھالا تھا اور کچھ ہی دن بعد خزینہ ممی دلہن بن کر آگئیں تھیں۔ خزینہ ممی نے شروع شروع میں تو اس کا بہت خیال رکھا تھا لیکن بعد میں نارمل ہوگئی تھیں۔ ہاں ان کی کیئر کرنے کا طریقہ ذرا الگ تھا۔ وہ بازار جاتیں یا آؤٹ آف کنٹریز اس کے لیے ڈھیروں شاپنگ کرتیں اور شاپنگ بھی بے حد اعلی اور نفیس۔ آج تک اس نے اپنے لیے خود کبھی کوئی چیز نہ خریدی تھی۔ موسم جیسے ہی چینج ہوتا اس کی الماری موسم کی مناسبت کے کپڑوں‘ جوتوں اور بیگز سے بھر جاتی اسے نہیں یاد تھا اس نے آج تک کوئی بھی چیز دوسری سے تیسری بار استعمال کی ہو۔ اسے کبھی عمیمہ مام کی یاد نہیں آئی تھی نہ ہی وہ خزینہ ممی کے لیے دل میں کوئی بغض رکھتی تھی۔ کسی کے پاس بھی اس کے لیے ٹائم نہیں تھا۔ سوائے عون کے جو وقت بے وقت اس کے پاس آموجود ہوتا تھا۔
’’ارے عون ہے کہاں۔ اس دن کے بعد وہ نظر نہیں آیا۔ میں اتنی بیمار ہوں پھر بھی۔‘‘ سوچتے سوچتے اسے عون کا خیال آیا تو وہ اپنا موبائل تلاش کرنے لگی۔ ذہن میں آیا تھا کہ شبانہ اور نرمین کو بھی کال کرلے اور کلاسز کے بارے میں پوچھ لے۔ اس نے سائیڈ ٹیبل کی دراز کھولی فون وہاں نہیں تھا۔ وہ مجیداں کو آوازیں دینے لگی۔
’’آیا بی… آیا بی۔‘‘ وہ بھاگی آئی۔
’’میرا موبائل کہاں رکھا ہے آیا بی؟‘‘ وہ اِدھر اُدھر نظر دوڑاتے ہوئے بولی۔
’’آپ کا موبائل تو بی بی جی میں نے نہیں دیکھا۔‘‘ اس نے ذہن پر زور دیتے ہوئے کچھ یاد کرنے کی کوشش کی لیکن کچھ یاد نہ آیا۔
’’اس دن… اس دن وہ میرے پاس ہی تھا۔ عون… عون کی گاڑی میں تو نہیں رہ گیا لیکن اس کی گاڑی میں رہا ہوتا تو وہ اب تک واپس کرچکا ہوتا کہاں چلا گیا؟‘‘ وہ فون تو ابھی کچھ دن قبل ہی ڈیڈ نے گفٹ کیا تھا اسے بہت پسند تھا۔
’’آیا بی… رکیں میں خود ہی باہر چلتی ہوں۔‘‘ اس نے کمبل اٹھا کر پاؤں نیچے لٹکائے مجیداں نے سائیڈ پر رکھے اس کے شوز اٹھا کر دئیے‘ وہ پیروں میں اڑستی کھڑی ہوئی تو اسے ایک زور دار چکر آگیا۔ وہ سر پکڑ کر واپس بیٹھ گئی۔ اتنے دنوں سے لیٹ لیٹ کر اس کا جی بھر چکا تھا۔ اتنا بارش میں بھیگی نہیں تھی جتنا بیمار پڑگئی تھی۔ وہ اتنی نازک مزاج تھی اسے پہلی بار احساس ہوا تھا۔
’’آپ رہنے دو بی بی۔ میں سیٹ ادھر اٹھا لاتی ہوں۔‘‘ مجیداں اس کی حالت دیکھ کر باہر نکل گئی اور فوراً کارڈ لیس فون اٹھا لائی لیکن عون اس کے موبائل کے بارے میں لاعلم تھا۔ اس کے نہ آنے کے بارے میں اس نے دانستہ نہیں پوچھا تھا اور فون بند کردیا تھا۔
ڈیڑھ ہفتے کے بعد وہ کالج پہنچی تو شبانہ اور نرمین اسے دیکھ کر بھاگی آئیں۔
’’کہاں تھیں تم اتنے دنوں سے تمہارا فون بند تھا‘ نہ کوئی اتہ نہ پتہ ہم نے سمجھا کالج ہی چھوڑ گئی ہو اور اتنی کمزور کیوں ہورہی ہو۔ طبیعت تو ٹھیک ہے ناں تمہاری؟‘‘ چھوٹتے ہی انہوں نے سوالوں کی بوچھاڑ کردی تھی۔ وہ انہیں بتانے لگی۔
’’اوہ… اس سیل فون پر تو میری نظر تھی۔‘‘ شبانہ نے تاسف سے کہا۔ تو وہ ہنس دی۔
’’تم یہ لے لو۔‘‘ اس نے اپنا نیا موبائل بیگ سے نکال کر اس کی طرف بڑھایا۔
’’نو…نو… یہ فراخ دلی نہ دکھایا کرو کسی دن سچ میں تم سے تمہاری کوئی قیمتی چیز مانگ لی تو…‘‘ اب وہ آرٹ کی کلاس لینے جارہی تھیں۔
’’میں وہ بھی دے دوں گی آزما لینا میرے لیے رشتے اہم ہیں چیزیں نہیں۔‘‘ اتنے دنوں بعد کالج آکر اسے بہت اچھا فیل ہورہا تھا۔
’’ارے بس زیادہ مت سر پر چڑھاؤ اسے اس کا کوئی اعتبار نہیں کل کو تم سے وہ تمہارا ہینڈسم کزن مانگ لے۔ اس کی نظر ہے اس پر۔‘‘ نرمین نے ہنستے ہوئے کہا تو شبانہ نے اس غیر متوقع بات کو سن کر اس پر چڑھ دوڑی۔
’’شرم کرو۔ اتنی بھی ذلیل نہیں ہوں کہ اپنی دوست کا حق چھین لوں۔‘‘
’’نہیں… نہیں تمہیں عون چاہیے تو لے لو میرا اس میں کوئی انٹرسٹ نہیں۔ اوپن آفر ہے۔‘‘ وہ کھلکھلا کر ہنسی۔
’’واقعی؟‘‘ شبانہ نے آنکھیں پٹپٹائیں۔
’’بدتمیز سچ میں… یہ لو میں تمہیں اس کا نمبر سینڈ کررہی ہوں کوشش کرلو۔ ہمت مرداں مدد خدا۔‘‘ وہ فٹافٹ اسے نمبر سینڈ کرنے لگی۔ اس اثنا میں وہ آرٹ کی کلاس کے سامنے پہنچ چکی تھیں سو خامشی سے اندر داخل ہوگئیں۔
وہ دن کافی بزی گیا تھا۔ اسے چھٹیوں کے دنوں کا کام لینا تھا صرف آرٹ کا ہی کام بہت زیادہ تھا۔ وہ ڈائری میں سب نوٹ کرتی جارہی تھی جب کہ شبانہ اور نرمین اسے پچھلے پورے ہفتے کی رواد سنا رہی تھیں۔
’’جس میں سب سے شاکنگ نیوز یہ تھی کہ اس روز کلائی کاٹ لینے کا ڈرامہ کرنے والی لڑکی بھاگ گئی تھی۔ پولیس تین چار دن تک کالج آتی رہی پھر پرنسپل نے کہہ سن کر بات دبائی۔ اس کی ساری سہیلیوں نے اس کے خلاف سچ اگل دیا تھا اور جس لڑکے سے اس کی دوستی تھی اس کے بارے میں ساری معلومات انہوں نے پولیس اور اس کے پیرنٹس کو دیں۔‘‘
’’سچ کیسی ہوتی ہیں یہ لڑکیاں اور ان میں اتنا حوصلہ کہاں سے آجاتا ہے کہ ماں باپ کی عزت کو داؤ پر لگائیں۔‘‘ نرمین نے دھیرے سے کہا۔
’’یار بس… اصل میں بہت سارے لوگوں نے محبت کا ایک غلط امیج بنا دیا ہے۔ لڑکے لڑکیاں محبت بس مذاق سمجھنے لگے ہیں۔ ایک وقت میں کئی لوگوں سے دوستی اور ان سب میں لڑکیاں کسی طور پر بھی لڑکوں سے پیچھے نہیں۔ بس یار کچھ میڈیا‘ کچھ انٹرنیٹ سب نے مل کر بیڑا غرق کر ڈالا ہے نو عمر ذہنوں کا۔‘‘ تیز تیز لکھتے ہوئے زیمل نے کہا۔
’’آنٹی آپ کی عمر کتنی ہوگی؟ پلیز ڈونٹ مائنڈ…؟‘‘ شبانہ کی رگ شرارت پھر پھڑکی اور نرمین کی اس کے انداز پر ہنسی چھوٹ گئی تھی۔
’’یہی کوئی ایک سو اٹھارہ سال پینسٹھ دن چورانوے گھنٹے پچیس منٹ اور چالیس سیکنڈ۔‘‘ اس نے بڑی سنجیدگی سے کہا اور پھر تینوں ہنسنے لگیں۔
ہاسٹل آتے ہی شبانہ اور نرمین تو سوگئی تھیں جب کہ وہ اپنا کام مکمل کرنے میں لگی ہوئی تھیں۔ اسائنمنٹ مکمل کرکے اس نے آرٹ کا پروجیکٹ نکالا۔ جیو میڈیکل اور الفابیٹ اشکال کے ساتھ اسے کوئی ایسی ڈرائنگ بنانی تھیں۔ جن میں تمام جیو میڈیکل شیپ موجود ہوں۔ وہ نیٹ پر سرچ کرنے لگی۔ بہت زیادہ ڈیزائنز تھے انتخاب کرنا مشکل تھا اس نے سوچا ان دونوں سے مشورہ کرلے گی۔ وہ یونہی ٹائم پاس کرنے لگی۔ موبائل کی اسکرین پر انگلی پھیرتے ہوئے بے شمار چیزیں کلک کرتی نظروں کے سامنے سے گزرتی جاتی تھیں۔ لپ اسٹکس‘ پرفیومزو برانڈ‘ شوز‘ بیگز‘ سوئیٹرز‘ پتہ نہیں زندگی آسان ہوئی تھی یا مشکل۔ چیزیں لوگوں کی دسترس میں ہوئی تھیں یا دور کچھ بھی کہنا مشکل تھا لیکن اتنا وہ جانتی تھی نئی نسل میں فرسٹریشن بہت بڑھتا جارہا تھا اس سب سے وہ واپس سرچنگ کرنے لگی کوٹ‘ سوئیٹرز وہ تھم سی گئی کچھ دن پہلے کی بارش اسے یاد آگئی اور کوٹ۔ اوہ اس کے ذہن میں جھماکا سا ہوا اس نے اپنا موبائل اس کوٹ کی جیب میں رکھا تھا جو انتظامیہ کے اس آدمی نے اسے پہننے کے لیے دیا تھا اور گاڑی میں بیٹھ کر اس نے موبائل نکالے بنا ہی اسے کوٹ واپس کردیا تھا۔
’’اوہ شٹ… اس کی تو چاندی ہوگئی اتنا مہنگا موبائل پاکر وہ پاگل ہوگیا ہوگا۔‘‘ چند لمحوں کی مدد اس کے لیے تو بڑی بھاگوان ثابت ہوئی تھی۔ اس نے اپنی عقل پر ماتم کرتے ہوئے اس آدمی کو بھی لعن طعن کی۔ اگر موبائل اس کو مل گیا تھا تو چاہیے تھا ناں واپس کردیتا۔ کیسے اور کہاں کے بارے میں نہ اس نے سوچا اور نہ خیال آیا۔ اس نے ارادہ کیا کہ ایک بار الحمرا آرٹس کونسل جا کر پتہ کرے گی کیا خبر وہ آدمی مل جائے۔‘‘
’’تمہاری باتیں بہت احمقانہ ہیں زیمل بی بی۔‘‘ جب شبانہ اور نرمین کے جاگنے پر اس نے ساری بات ان کو بتائی تو ہمیشہ کی طرح شبانہ نے اس پر چڑھائی کردی۔
’’وہ کیسے؟‘‘ زیمل نے ابرو چڑھا کر پوچھا۔
’’دیکھو‘ پہلی بات اس رات تمہاری مدد کس نے کی کیا تم اس بارے میں جانتی ہو؟ اس شخص کا چہرہ دیکھا تھا؟ جب کہ بقول تمہارے شدید بارش تھی اور اندھیرا بھی اور الحمرا جاکر کیا یہ پوچھتی پھرو گی کہ بھائی کون ہے وہ چھتری والا جس نے مجھے بارش سے بچنے کے لیے اپنا کوٹ دیا اور بعد میں تم نے وہ کوٹ بمعہ اپنے موبائل فون کے واپس کردیا۔ رہی بات اس کی اخلاقیات کی تو کیا اس کے پاس تمہارا کونٹیکٹ نمبر تھا؟ تمہارے گھر کا ایڈریس یا نام وہ جانتا تھا جہاں آکر وہ تمہارا فون تمہیں واپس کرتا۔ سو بی بی اب تم فاتحہ پڑھو۔ ویسے بھی تمہیں کیا فکر… کھوئی چیزوں کا ماتم تو ہم جیسے لوگ کرتے ہیں جنہیں کبھی کبھار ترس ترس کر بڑی مشکلوں سے کچھ ملتا ہے اس لیے چل کرو اور دکھائو کیا کیا بنایا ہے۔‘‘ اس نے گفتگو کا رخ دوسری جانب موڑا تو وہ اسے فائل دکھانے لگی۔
’’زبردست بہت اچھے۔‘‘ نرمین اور شبانہ دونوں نے ستائشی نظروں سے اس کا پرانا کام دیکھا۔
’’یہ ابھی ابھی بنایا ہے۔‘‘ اس نے آخری صفحے پر انگلی رکھی۔
’’ارے یہ کیوں؟‘‘ دونوں نے حیرت سے پہلے صفحہ پر پھر اس کی طرف دیکھا۔ اس نے لہراتے بل کھاتے ناگ کی ڈرائنگ بنائی تھی۔
’’نہیں اچھا۔‘‘ وہ پریشان ہوئی۔
’’اچھا ہے بلکہ بہت ہینڈسم لگ رہا ہے میں تو سوچ رہی ہوں اسے پٹالوں۔‘‘ شبانہ کی زبان پھر پھسلی تھی نرمین نے اسے گھور کر دیکھا پھر تینوں کھلکھلا کر ہنس دیں۔
’’تم بھی نا کسی کو جانے مت دینا ہاتھ سے۔ ویسے اصلی لگ رہا ہے ناں۔ جیسے ابھی پھن لہرا کر آگے بڑھے گا اور شبانہ تمہیں ڈس لے گا۔ پھر اس کی محبت کا نشہ تمہارے انگ انگ میں دوڑے گا اور پھر تم بھی اکشا دھاری ناگن بن کر اس کے پیچھے پیچھے کہیں دور چلی جائو گی اور ہم مدتوں یہ کہانی اپنے بچوں کو سنا سنا کر سلایا کریں گے اور بچے جب ہم سے پوچھیں گے کہ یہ اکشا دھاری ناگن کون تھی تو ہم انہیں تمہاری تصویر دیکھایا کریں گی اور…‘‘
’’بس کرو زیمل۔‘‘ نرمین نے بے تحاشا ہنستے ہوئے اسے مزید بولنے سے روکا اور شبانہ بھی اس کی کہانی پر کچھ دیر اسے گھورتی رہی پھر ہنس دی۔
/…/…/…/
’’زیمل… زیمل…‘‘ نرمین بھاگتی ہوئی اس کے پاس آئی۔
’’تم شعر لکھتی ہو؟‘‘ وہ جو گھاس پر چوکڑی مارے سامنے بیگ اور لیپ ٹاپ رکھے ایک ہاتھ سے اسکیچ بنا رہی تھی اور دوسرے سے چپس کھا رہی تھی ایک لمحے کو سر اٹھا کر اسے دیکھا پھر سے اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔
’’میں نے کچھ پوچھا ہے زیمل؟‘‘ وہ اس کے جواب نہ دینے پر دھپ سے اس کے پاس بیٹھ گئی۔
’’ہاں کبھی کبھار۔‘‘ وہ مختصراً کہہ کر چپ ہوگئی۔
’’یار… آفت ہے تمہیں پتہ ہے کالج میں مشاعرہ ہورہا ہے تم اس میں حصہ لو۔ اوہ میرے اللہ کتنا مزہ آئے گا جب اس سامعہ کو منہ توڑ جواب ملے گا بڑا اتراتی پھرتی ہے۔‘‘ وہ خوامخواہ ایکساٹیڈ ہورہی تھی۔
’’اب سامعہ کو منہ توڑ جواب دینے کی ضرورت کیوں پیش آگئی؟‘‘
’’بدتمیز ہے اس دن بڑا منہ بھر کے اس نے کہا تھا کہ تمہاری دوست میں ساری خوب صورتی اس کی دولت کی ہے ورنہ ٹیلنٹ نام کی کوئی چیز تو اس میں ہے ہی نہیں دیکھنا ایک دن اپنے باپ کی دولت کے بل بوتے پر ہی ڈگری حاصل کرے گی خوامخواہ ایک مستحق کا حق مارا ہے اس نے اور مجھے بڑا غصہ آیا تھا پچھلے ہفتے ہی اس نے مشاعرہ میں حصہ لینے کے لیے اپنا نام دیا ہے مس عینی کو اور تم بھی اپنا نام لکھوائو اور بتا دو کہ تم ہرگز کسی سے کم نہیں۔‘‘ اس نے اپنی اور سامعہ کی گفتگو من و عن دہرائی تو زیمل ہنس دی۔
’’مجھے اپنا آپ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں میں زیمل حسان ہوں اور میرے لیے یہی کافی ہے باقی صرف کہہ دینے سے ٹیلنٹ کے ہونے یا نہ ہونے کا پتہ نہیں چلتا وقت ثابت کرتا ہے اور تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی کسی سے الجھنے کی۔ زیمل حسان کو اپنا آپ ثابت کرنے کے لیے کسی سہارے کی ضرورت نہیں اوکے۔‘‘ اس نے اپنی اسکیچ بک بند کی اور اپنی چیزیں سمیٹنے لگی۔
’’تم بالکل بھی ہماری سمجھ سے باہر ہو۔‘‘ نرمین نے جھنجھلا کر کہا تو وہ ہنس دی۔
’’میں تو ایسی ہی ہوں۔‘‘
/…/…/…/
sendupشروع ہوگئے تھے اور وہ مکمل طور پر پڑھائی میں جت گئی تھیں تیاری تو سب کی سو سو ہی تھی لیکن ان کو اتنی فکر بھی نہ تھی آج کل ان کا کمرہ عجب ابتری کا نظارہ پیش کررہا تھا سارا سارا دن کمبل میں گھسی وہ نوٹس بناتی رہتی یا پھر کمرے میں پھر پھر کر باآواز بلند رٹا لگایا جاتا۔ نرمین اور شبانہ کا یہی اسٹائل تھا جب کہ زیمل رٹا سسٹم سے خائف تھی ویسے بھی وہ بہت ذہین تھی ہمیشہ اچھے مارکس لیتی تھی لیکن پڑھائی کو اپنے اوپر سوار نہیں کرتی تھی جتنی دیر پڑھا گیا پڑھا۔ پھر آرام سے کتابیں بند کرکے سو بھی لیتی باہر بھی گھوم پھر آتی لیکن بیمار ہونے کے بعد سے وہ قدرے محتاط ہوگئی تھی شدید سردی میں نکلتے ہوئے وہ احتیاط ہی برتتی تھی۔
’’ارے سنا۔‘‘ وہ کیتلی میں سے گرم گرم چائے کپوں میں انڈیل رہی تھی جب شبانہ نے کمبل میں سے منہ نکالا۔
’’نہیں… سنا دو۔‘‘ وہ ایک ایک کپ انہیں تھما کر اپنا کپ لیے چیئر پر بیٹھ گئی۔
’’روبینہ بتا رہی تھی کہ وہ جو مشہور ایکٹریس نہیں ہے جو آج کل بہت ان ہے اس کالج سے پڑھ کر گئی ہے۔‘‘
’’اف اوہ شبانہ تمہاری فضول سی بریکنگ نیوز بنا بنایا موڈ غارت کردیتی ہے۔‘‘ نرمین نے اسے غصے سے دیکھا تھا زیمل نے چائے کا سپ لیا اور اسے دیکھنے لگی۔
’’اچھا پھر…‘‘
’’پھر کیا آج اردو کی ٹیچر بتا رہی تھیں کہ جب ہم چھ سال بعد اس کالج سے نکلیں گی تو ہماری شخصیت پوری طرح بدل چکی ہوگی ہم عام لڑکیوں سے بالکل الگ دکھیں گی۔‘‘
’’ہاں بالکل جب ہم فیل ہوں گی ناں اور ہمارا ایڈمیشن نہیں جائے گا تو بلاشبہ ہم سب سے الگ ہی دکھیں گی۔‘‘ نرمین جانے کیوں تپی ہوئی تھی۔
’’کوئی مسئلہ ہے نرمین؟‘‘ زیمل اس کی طرف مڑی۔ وہ اس طرح بی ہیو نہیں کرتی تھی لیکن ایک دو دن سے ہر بات پر الجھ رہی تھی۔
’’ہاں ہے مجھے سمجھ نہیں آتی اباجی آخر اس رشتہ سے جان کیوں نہیں چھڑا لیتے ایک بار بھی اس بندے نے کبھی اس تعلق‘ اس رشتے میں انٹرسٹ شو نہیں کیا پھر بھی ابھی ابرار بھائی کی منگنی پر یہی شور رہا بات ساری چاچی کی ہے۔‘‘ وہ ہولے ہولے جیسے خود سے ہی باتیں کررہی تھی۔
’’بچپن کی منگنی شنگنی کا رولا؟‘‘ زیمل نے استفہامیہ پہلے شبانہ اور پھر اپنے آپ سے الجھتی نرمین کو دیکھا۔
’’ہاں صرف رولا نہیں بلکہ کھپ رولا۔‘‘ نرمین سر جھٹک کر ہنس دی پھر شبانہ کی طرف دیکھ کر کہنے لگی۔
’’اور بتائو اور کیا کہا تمہاری اردو کی ٹیچر نے۔ ہماری ٹیچر تو بس لیکچر دینے آتی ہیں اور چلی جاتی ہیں وہ تو ہمیں کوئی انفارمیشن نہیں دیتی کہ چھ سال بعد ہمارے سینگ نکل آئیں گے پیچھے ایک عدد دم کا اضافہ ہوجائے گا کان بڑے بڑے ہوکر لٹک جائیں گے دانت نوکیلے ہوجائیں گے اور شاید ہم ویمپائرز بن جائیں گی اور ہالی ووڈ والے اپنی ہارر موویز کے لیے ہم سے رجوع کرلیں گے اور پھر۔ دولت‘ شہرت اور عزت ہمارے قدموں کی باندی بن جائے گی ٹوٹل چینج۔ اف سوچو۔ بس چھ سال کی بات ہے۔‘‘ اور اس کی بات پوری ہونے تک شبانہ اس پر تکیوں کی برسات کرچکی تھی۔
ایگزامز ختم ہوتے ہی شبانہ کچھ دن کے لیے شیخوپورہ چلی گئی تھی نرمین جانا چاہ رہی تھی لیکن جانے کون سی بات اسے روکے ہوئے تھی آج کل وہ سارا دن نہایت ہی سیڈ سونگز سننے میں گزار رہی تھی زیمل دو دن گھر رہ کر واپس آگئی تھی۔ مما اپنے فارن ٹورز سے واپس آچکی تھیں اور ہمیشہ کی طرح اس کے لیے ڈھیروں شاپنگ کی تھی وہ سارا کچھ اٹھا کر ہاسٹل چلی آئی تھی ارادہ تھا سب شبانہ اور نرمین کو گفٹ کردے گی۔
’’سنو آج کہیں باہر چلیں۔‘‘ نرمین کا کہا اتنا غیر متوقع تھا کہ وہ جو بیڈ پر آڑھی ترچھی لیٹی غیر ارادی طور پر عون کے بارے میں سوچ رہی تھی چونک اٹھی۔
’’کیا میرے کانوں نے جو کچھ سنا… صحیح تھا؟‘‘
’’ہاں میرے اندر عجب سی وحشت ہے‘ میں کچھ دیر باہر جانا چاہتی ہوں بلکہ چلو آج تمہارے فیورٹ دہی بھلے اور وہ کیا کہتی ہو تم چنے پٹھورے کھا کر آتے ہیں۔‘‘ اس نے فٹافٹ پروگرام ترتیب دیا۔
’’اوکے ابھی چلو چینج کرلو پھر عون کو بلاتی ہوں گاڑی کے لیے یہ آٹو واٹو مجھ سے ہینڈل نہیں ہوتے۔‘‘ وہ کہتے ہوئے عون کا نمبر ملانے لگی اور ٹھیک پون گھنٹے بعد وہ باہر موجود تھا اس نے بلیو جینز کے اوپر پنک ٹاپ پہنی تھی اور گلے میں ریڈ اسکارف شولڈر بیگ کاندھے پر لٹکائے اس نے بھورے بال کھلے چھوڑ دیئے تھے لیئرز میں کٹے اس کے گھنے بال اس کے گول چہرے پر بہت سوٹ کرتے تھے نرمین نے فان کلر کی لانگ شرٹ کے ساتھ میچنگ ٹائٹ پہنی تھی لمبے بالوں کو اس نے ہمیشہ کی طرح چوٹی میں قید کر رکھا تھا۔
’’تھینک یو عون۔‘‘ اس نے گاڑی کے ادھ کھلے شیشے سے اندر جھانکا۔
’’ہم تمہیں آفس چھوڑ دیتے ہیں گھومنے پھرنے کے بعد تمہیں آفس سے لے لیں گے تم ہمیں ہاسٹل ڈراپ کرکے اپنی گاڑی لے جانا۔‘‘ اس نے اپنا پروگرام بتایا عون سر ہلا کر رہ گیا اس کی کسی بات سے انکار کرنا تو اس نے سیکھا ہی نہیں تھا پھر پلان کے مطابق وہ سارا دن نرمین کو گھماتی رہی اپنے ہر فیورٹ پوائنٹ پر اس کو لے کر گئی تھی لیکن نرمین کو جو بات کھا رہی تھی وہ اسے چین نہیں لینے دے رہی تھی وہ شخص اسے کئی سالوں سے ڈی گریڈ کررہا تھا اور وہ ہورہی تھی۔ بہت تکلیف دہ ہوتا ہے اس ایک شخص کے لیے بے وقعت ہونا جس کے لیے آپ ساری زندگی دائو پر لگائے بیٹھے ہوں وہ شیئر کرنا چاہتی تھی کسی کو اپنا دکھ بتانا چاہتی تھی لیکن اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا شیئر کرے اور کس سے؟ اسے اپنی دوستوں کے سامنے یہ سب کہہ کر بے وقعت نہیں ہونا تھا۔ اب زیمل اسے لے کر پٹھوروں والی شاپ پر آگئی تھی۔
’’مجھے حیرت ہے زیمل جس اپر کلاس سے تمہارا تعلق ہے وہاں اس طرح کی جگہیں اور یہ سب کھانا گندگی میں شمار ہوتا ہے اور تم ان سب چیزوں کی دلدادہ ہو کیا تمہیں اپنے اسٹیٹس کا خیال نہیں آیا کبھی؟‘‘ نرمین نے پوچھا۔ اس وقت اس کے سرخ و سپید چہرے پر نظر ٹھہر ٹھہر جاتی تھی تمتماتے گال اور شربتی آنکھیں وہ کسی کا بھی قرار لوٹ لینے کا حق رکھتی تھی۔
’’میرا اسٹیٹس…!‘‘ وہ دل کھول کر ہنسی۔
’’کیا ہے میرا اسٹیٹس۔ میرے پاس میرا اپنا تو کچھ بھی نہیں میرے نام کے آگے حسان شہریار کا نام لگتا ہے حسان شہریار۔ میری تمام تر آسائشوں کا خرچہ ڈیڈ اٹھاتے ہیں میں تو وہی ایک عام سی لڑکی ہوں عام سی جگہوں پر پھرنے والی عام لوگوں سے گھل مل جانے والی عام چیزیں کھانے والی۔ میرے پاس میرا ہے ہی کیا جس پر میں غرور کروں میں نے تو اپنے لیے اس کالج کا انتخاب کیا۔ ورنہ اور بھی بے شمار کالجز ہیں بناوٹ اور تصنع کی لائف میں نہیں گزار سکتی۔‘‘ اسی وقت اس کے موبائل پر بیپ ہوئی تھی اس نے دیکھا شبانہ کا فون تھا۔
’’ہاں کہاں ہو؟‘‘ وہ سمجھی شاید وہ لاہور پہنچ گئی تھی۔
’’نہیں گھر پر ہی ہوں مجھے یہ بتانا تھا کہ اس روز جس بندے کے پاس تمہارا موبائل رہ گیا تھا وہ مجھے کونٹیکٹ کررہا ہے تمہارے ہی نمبر سے کافی دن پہلے اس کے میسجز آئے ہوئے ہیں۔ میں نے غور ہی نہیں کیا کہ تمہارا یہ نمبر تو کھو گیا ہے کل میں نے چیک کیا تو پتہ چلا پھر میں نے تمہارے نمبر پر کال کی تو بند تھا لیکن آج ایک اور نمبر سے فون آگیا کہتا ہے کہ وہ تمہارا موبائل واپس کرنا چاہ رہا ہے تمہارا پتہ پوچھ رہا ہے بتا دوں بلکہ میں نے بتادیا ہے اور ویسے تم ہو کہاں؟‘‘ وہ رکی۔
’’سمن آباد۔‘‘ اس نے گرم گرم پٹھوروں کی پلیٹ اپنے آگے کی جو ویٹر ابھی ابھی رکھ کر گیا تھا۔
’’اوکے ٹھیک ہے۔‘‘ اس نے مزید کچھ سنے بغیر فون بند کردیا۔
’’عجیب پاگل ہے۔‘‘ اس نے فون کو گھورا اور پھر نرمین کو اشارہ کرتے ہوئے خود بھی پٹھوروں سے انصاف کرنے لگی۔ وہ اپنے گزشتہ تمام واقعات نرمین سے شیئر کررہی تھی اور جب فارغ ہوکر اس نے ویٹر کو بل لانے کا اشارہ کیا تبھی سامنے برآمدے میں رکھی کرسی پر سے اٹھ کر ایک آدمی ان کی طرف آگیا۔ وہ غیر ارادی طور پر اس کو دیکھنے لگی اور اس کی وجہ شاید اس کی غیر معمولی ہائیٹ تھی اور شاید ہائیٹ اور باڈی کا پرفیکٹ میچ بھی۔
’’میم یہ آپ کا فون۔‘‘ اس نے قریب آکر بغیر کسی تمہید کے چھوٹا سا گفٹ ہیمپر اس کے سامنے ٹیبل پر رکھا۔ نرمین بھی سر اٹھائے اس لانبے چوڑے وجہیہ شخص کو تک رہی تھی زیمل نے شاید سنا ہی نہیں تھا وہ ایک ٹک اس کو دیکھے جارہی تھی وہ کھنکارا تو زیمل سٹپٹا کر نیچے دیکھنے لگی۔
’’میم یہ اس روز غلطی سے میرے کوٹ میں رہ گیا تھا۔ میں نے بھی کافی دنوں بعد چیک کیا آپ کے سیل میں ٹوٹل پانچ نمبر تھے مام‘ ڈیڈ اور عون کے علاوہ دو لڑکیوں کے۔ میں نے ایک کو کافی ٹیکسٹ کیے لیکن انہوں نے جواب نہیں دیا پھر شاید آپ نے سم ہی بند کروا دی پھر میں نے اپنے نمبر سے انہیں کال کرکے پوچھا۔ صد شکر آپ مجھے مل گئی یہ آپ کی امانت۔ چیک کرلیجئے۔‘‘ اس نے وہ گفٹ ہیمپر تھوڑا اس کے آگے کھسکایا۔
’’جی بس ٹھیک ہے تھینک یو۔‘‘ اس نے اس کو چھوا تک نہیں اور وہ پلٹ بھی گیا اس کولون کی مہک ابھی تک باقی تھی ویٹر نے بل اس کے سامنے لاکر رکھا اور پے منٹ کرتے ہوئے اس نے بنا دیکھے گفٹ ہیمپر اٹھا کر اپنے بیگ میں ڈال لیا… وہ کتنے دن یونہی اس کے بیگ میں پڑا رہا تھا لیکن اس کے ذہن میں مسلسل وہ آواز باز گشت کررہی تھی وہ سحر زدہ سی ہوگئی تھی۔
/…/…/…/
’’خیریت ہے؟‘‘ شبانہ نے اس کی کھوئی کھوئی کیفیت نوٹ کرلی تھی وہ اس وقت لنچ کرنے کی نیت سے وہاں آکر بیٹھی تھیں نرمین شوروما بنوانے چلی گئی تھی وہ یونہی بیٹھی بیگ کی زپ سے کھیل رہی تھی۔
’’زی از ایوری تھنگ اوکے؟‘‘ اس نے اس کا کندھا ہلایا تو وہ چونک کر اس کی شکل دیکھنے لگی۔ شبانہ نے اپنا سوال دہرایا۔
’’نہیں کچھ ٹھیک نہیں ہے میرے اندر۔ آئی ایم فیلنگ ناٹ ویل۔‘‘ وہ نفی میں سر ہلانے لگی نرمین گرما گرم شوروما اور کولڈڈرنک لے آئی تھی اور زیمل کی بات سن چکی تھی۔
’’یہ اس دن سے ایسی ہوگئی ہے جب سے ظفر اسے اس کا موبائل لوٹا کر گیا ہے۔‘‘ نرمین نے بتایا تو وہ چونکی۔
’’ظفر تمہیں کیسے پتہ اس کا نام ظفر ہے؟‘‘ نرمین ہنسی۔
’’پتہ کیسے ہوگا۔ ظاہر ہے اس کا کچھ نہ کچھ نام تو ہوگا ظفر‘ اسفر احمد تو مجھے لگا۔‘‘ اس کا نام ظفر ہوگا۔ یونہی مجھے لگا۔ اس نے صفائی دی۔
’’یعنی بچی کو کوئی…‘‘ شبانہ نے معنی خیزی سے بات ادھوری چھوڑی اور کھی کھی کرنے لگی۔
’’ہاں ہے ناں…‘‘ اس نے اعتراف کیا اور پھر بیگ اٹھا کر چل پڑی وہ دونوں آوازیں دیتی رہ گئیں لیکن وہ رکی نہیں تھی سیدھی لائبریری آگئی۔ آج اس کا کوئی بھی کلاس اٹینڈ کرنے کا موڈ نہیں تھا۔ اس نے یونہی دو بکس ایشو کروائیں اور بجائے ٹیبلز پر بیٹھنے کے وہ بک ریکس کے آگے ہی نیچے بیٹھ گئی تبھی بیگ میں رکھا موبائل وائبریٹ ہوا تھا۔ اس نے نکالا۔ کسی ان نون نمبر سے کال آرہی تھی اس نے ٹیکسٹ کیا۔
’’کون…؟‘‘
’’میں…؟‘‘ فوراً رپلائی آیا۔
’’کون میں؟‘‘ اس نے تیز تیز ہاتھ چلائے۔
’’تو نے دیکھی ہے وہ پیشانی وہ رخسار وہ ہونٹ
زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نے
تجھ پر اٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں
تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے۔
’’ٹون۔‘‘ کی آواز کے ساتھ پھر میسج آیا تھا۔ زیمل تو سرخ ہی ہوگئی۔
’’تم ہو کون بدتمیز؟‘‘ اس نے لکھا تھا۔
’’بدتمیز ہی ہوں… جانتی تو ہیں آپ میرا نام۔ پھر بات کیوں بڑھا رہی ہیں۔‘‘ اس نے لکھا۔
’’اوہ یو…‘‘ اس نے غصے سے موبائل ہی آف کردیا۔ اب پڑھائی کیا خاک ہونا تھی اس نے بکس واپس کیں اور لائبریری سے باہر نکل آئی۔ اب اس کا رخ ہاسٹل کی طرف تھا وہ اپنی کیفیات واقعی سمجھ نہ پارہی تھی وہ کیوں پچھلے چار دن سے مسلسل اس اجنبی کے بارے میں سوچے جارہی تھی جس کا اسے نام تک معلوم نہ تھا اور خالی خوب صورتی سے کیا ہوتا ہے وہ تو شاید وہاں کی انتظامیہ میں سے تھا۔ کوئی گارڈ وغیرہ۔
’’اف زیمل اب بندوں کے معاملے میں تمہارا اسٹینڈرڈ اتنا لو ہوگیا ہے خوامخواہ سوچ سوچ کر ہلکان ہورہی ہو۔‘‘ اس نے سر جھٹکا اور خود کو گھرکا بھی۔ لیکن ہاسٹل آکر جیسے ہی اس نے اپنا پرس کھولا تو سامنے وہ گفٹ ہیمپر نظر آیا۔
’’میم…‘‘ کوئی بولا تھا وہ جادو جگاتی ہوئی آواز۔ اس نے ہاتھ ڈال کر موبائل نکالا۔
’’ہاں میرا ہی ہے۔‘‘ اس نے بددلی سے اسے دیکھ کر واپس ڈال دیا اور عون سے بات کرنے کا ارادہ کرتے ہوئے وہ اپنے بیڈ کی جانب آگئی جیسے ہی موبائل آن کیا۔
’’ٹوں… ٹوں… ٹوں۔‘‘ کتنے ہی میسجز کی بیپ بجی۔ اس نے دیکھا وہی انجان نمبر تھا اس نے میسجز پڑھنے شروع کیے۔
’’ہیں لاکھوں لوگ زمانے میں کیوں عشق ہے رسوا بے چارہ
ہیں اور بھی وجہیں وحشت کی انسان کو رکھتیں دکھیارا
ہاں بے کل بے کل رہتا ہے‘ ہو پیت میں جس نے جی ہارا
ہر شام سے لے کر صبح تلک یوں کون پھرے گا آوارہ‘‘
اس نے اگلا میسج سلائیڈ کیا۔

’’وہ کوئی مٹھی میں آیا پل ہو تو
اس کو اڑا بھی دوں
وہ کہیں آنکھ میں ٹھہرا غم ہو تو
بہا بھی دوں
وہ اگر فقط محبت ہو تو
بھلا بھی دوں
کروں میں کیا؟
وہ لہو بن کے انگ انگ میں بہتا ہے
کروں میں کیا؟
وہ دھڑکن کی طرح دل میں دھڑکتا ہے۔

’’یا اللہ ہے کون یہ؟‘‘ اس نے سر پکڑا۔
اگلا میسج نہ صرف چونکانے والا تھا بلکہ اس کے تو رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے پڑھ کر۔ اسے اپنا وجود کپکپاتا محسوس ہوا تھا وہ جیسے جیسے پڑھتی جارہی تھی دل تیز تیز دھڑکنے لگا تھا۔
’’ہیلو زیمل حسان… میں ظفریاب چوہدری ہوں۔ شاید آپ کا میرا تعارف نہیں ہے آپ مجھے نہیں جانتیں لیکن میں آپ کو بہت عرصہ سے جانتا ہوں پہلی بار میں نے آپ کو تب دیکھا تھا جب آپ جناح پارک کے باہر کھڑی گول گپے کھا رہی تھیں آپ کے ساتھ ایک اور لڑکا بھی تھا شاید عون۔ دوسری بار دہی بھلے کھاتے دیکھا تھا تیسری بار آپ ایک غریب بچے کو کھانا لے کر دے رہی تھیں‘ چوتھی بار آپ کالج سے نکل کر برگر پوائنٹ تک گئی تھیں اور کافی دیر آپ واک کرتی رہی تھیں پھر الحمرا آرٹس… میرا کوٹ آپ کا موبائل… مس زیمل مجھے کہنے دیجئے۔ آئی لو یو…‘‘
شرم سے زیمل کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا وہ شخص کب سے اس کو دیکھ رہا تھا اس کے آنے جانے کا حساب رکھ رہا تھا گویا الحمرا میں اس کا مل جانا اتفاقیہ نہیں تھا اس کا کوٹ دینا اور اس کا موبائل کئی ہفتوں بعد واپس کرنا اگر وہ اس کے بارے میں اتنا کچھ جانتا تھا تو یقینا گھر کے بارے میں بھی جانتا ہوگا۔ نہیں وہ اس کی حوصلہ افزائی نہیں کرے گی اس کو خوامخواہ ہی غصہ آنے لگا کیا پتہ وہ جھوٹ بول رہا ہو محض پتے پھینک رہا ہو اسے بے وقوف بنانے کے لیے۔ اس نے ارادہ کرلیا وہ اس کو رسپانس نہیں دے گی۔ اور نہ ہی اس کے بارے میں سوچے گی لیکن یہ ارادہ اگلے دن بھربھری دیوارکی طرح ڈھے گیا جب وہ اسے پرنسپل کے آفس میں داخل ہوتا دکھائی دیا۔ وہ کئی ثانیے ششدر سی کھڑی اسے دیکھتی رہی وہ یہاں تک بھی پہنچ گیا تھا کیا کرنے آیا تھا۔ اس بارے میں اس نے زیادہ دیر نہیں سوچا بس اس کے کانوں میں اس کی مدھر آواز گونجنے لگی تھی۔
ڈیڈ نے اسے گھر بلایا تھا اس نے اپنا شیڈول چیک کیا۔ فی الحال تو سب نارمل چل رہا تھا اس نے ویک اینڈ پر گھر جانے کا پروگرام بنالیا۔ شبانہ اور نرمین بھی گھر جانے کا پروگرام بنا رہی تھیں گھر پہنچی تو بہت کچھ چونکا دینے والا تھا تمام گھر کی نئے سرے سے رینوویشن ہوچکی تھی۔ تایا اپنی فیملی کے ساتھ براجمان تھے خزینہ مما اور ڈیڈ بھی خلاف توقع گھر پر موجود تھے چہل پہل سی محسوس ہورہی تھی شاید کوئی پارٹی تھی۔
’’اوہ… زیم ڈارلنگ آگئیں تم؟‘‘ اسے دیکھتے ہی خزینہ مام آگے بڑھیں اور چٹاچٹ اس کی بلائیں لینے لگیں۔
’’یااللہ خیر۔‘‘ وہ اس اچانک افتاد پر بوکھلائی‘ ڈیڈ تایاجی‘ تائی اماں سب ہی تو خصوصی شفقت کا مظاہرہ کررہے تھے۔ اس کی چھٹی حس نے خطرے کا الارم بجایا۔ اس نے لائونج میں نظر دوڑائی عون کہیں نہیں تھا وہ معذرت کرتی اپنے کمرے میں آگئی۔ دروازہ بند کرتے ہوئے وہ عون کا نمبر ملا چکی تھی فون دوسری بیل پر ہی ریسیو کر لیا گیا تھا اور عون کی چہکتی آواز نے گویا اس کے شک پر مہر لگا دی تھی۔
’’زہے نصیب کہیے خادم کیا خدمت کرسکتا ہے؟‘‘
’’عون کیا چل رہا ہے کیوں سب لوگ اکھٹے ہوئے ہیں یہاں اور مجھے بلایا گیا ہے جلدی بولو۔‘‘ وہ کڑے تیوروں سے پوچھ رہی تھی۔
’’ارے میڈم خفا کیوں ہورہی ہیں اصل میں‘ میں نے تو سوچا تھا چونکہ تمہیں ہر کام ذرا ہٹ کے کرنے کی عادت ہے اس لیے انگیجمنٹ رنگ تمہیں کوریئر کروا دوں لیکن اماں نے یہ بات یکسر مسترد کردی۔ انہیں اپنی اکلوتی بہو کو اپنے ہاتھوں سے رنگ پہنانا تھی… بہو۔‘‘
’’اسٹاپ اٹ عون۔‘‘ وہ اس کی بات سن کر چلائی۔
’’تم نے سوچا بھی کیسے اور جب میں تمہیں منع کرچکی تھی پھر بھی… اس کے باوجود تم نے یہ حرکت کی ابھی کے ابھی اور اسی وقت ان سب کو بلوائو یہاں سے۔ ورنہ میں تمہیں شوٹ کردوں گی۔ سمجھے تم۔‘‘ اس نے فوراً فون بند کیا اور کمرے میں تیز تیز چکر کاٹنے لگی۔ غصے سے اس کا خون کھول رہا تھا۔
’’مام اور ڈیڈ نے مجھ سے پوچھے بغیر اتنا بڑا فیصلہ کیسے کرلیا پوچھنا تو درکنار بتانا بھی گوارا نہیں کیا۔ کیا سمجھ رہے ہیں یہ سب میں عون کے ساتھ اگر گھوم پھر لیتی ہوں تو میں ساری زندگی اس حکم کے غلام کے ساتھ گزار دوں گی۔ ہزار بار بتایا اس عون کے بچے کو کہ مجھے اس سے محبت نہیں اور میں شادی اسی سے کروں گی جس سے ٹوٹ کر محبت کروں گی اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی… میں خود انکار کردیتی ہوں۔‘‘ اس نے فیصلہ کرتے ہوئے اپنی ہمت بندھائی اور باہر آگئی ٹی وی لائونج اب خالی تھا۔ جمیلہ برتن سمیٹ رہی تھی۔
’’کہاں گئے سب؟‘‘ وہ اس کے سر پر آن کھڑی ہوئی۔
’’وہ جی…‘‘ وہ بولتے بولتے ہچکچائی۔
’’جلدی بولو۔‘‘ وہ غرائی۔
’’وہ جی عون صاحب کا ایکسیڈنٹ ہوگیا سب لوگ اسپتال چلے گئے ہیں۔‘‘ وہ شاید اس سے چھپانا چاہ رہی تھی لیکن اس کے کڑے تیوروں کے آگے ٹھہر نہ سکی۔
’’کیا… کیا کہہ رہی ہو؟‘‘ وہ شاکڈ رہ گئی کئی ثانیے بول ہی نہ پائی۔
’’جی بی بی فون آیا تھا ان کے گھر سے وہ لوگ اسی وقت چلے گئے بڑے صاحب نے منع کیا تھا پر جی آپ…‘‘
’’اچھا… اچھا جائو۔‘‘ وہ سمجھ گئی تھی عون نے ڈرامہ کیا تھا تاکہ یہ لوگ واپس چلے جائیں اور منگنی نہ ہوسکے انکار تو اس نے کبھی کیا ہی نہ تھا اس کی کسی بات سے اس نے فوراً کمرے میں آکر عون کو ٹیکسٹ کیا۔ شکریہ اور لمبی تان کر سوگئی۔ مام ڈیڈ کب واپس آئے اور عون کو صحیح سالم دیکھ کر ان پر کیا بیتی ہوگی اور ان کا اس کے جھوٹ پر غصہ کس انتہا کو پہنچا ہوگا یہ سب جاننے کی اسے ضرورت نہ تھی صبح جب وہ اپنی نیند پوری کرکے جاگی تو بھی گھر میں مام اور ڈیڈ نہیں تھے جمیلہ نے بتایا وہ رات بھر گھر آئے ہی نہیں تھے اور عون کی طرف ہی تھے۔ اس نے جلدی سے ڈیڈ کا نمبر ملایا لیکن پھر یہ سوچ کر بند کردیا کہ ان کی خفگی کا سامنا وہ کیسے کرپائے گی ان کا غصہ اتر جانے تک اسے ان سے بات کرنے اور سامنے آنے سے احتیاط برتنا چاہئے اس نے اپنا موبائل ہی آف کردیا۔ لیکن جمیلہ بی بی سی نے گھنٹے بعد ہی آکر اطلاع دی کہ عون کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے اور ڈیڈ اسے اسپتال بلا رہے ہیں وہ واقعی گھبرائی تھی کہیں سچ مچ تو عون نے کچھ نہیں کرلیا یہ سوچ دہلا دینے والی تھی اس نے ڈیڈ سے اسپتال کا پتہ پوچھا اور آناً فاناً گاڑی لے کر اسپتال پہنچ گئی۔ مام اور ڈیڈ تو شاید گھر کے لیے نکل گئے تھے کیونکہ نظر نہیں آرہے تھے البتہ عون پٹیوں میں جکڑا نظرآرہا تھا تائی امی کا رو روکر برا حال تھا جانے کس کی نظر لگ گئی تھی ان کے بیٹے کو‘ اسے دیکھتے ہی انہوں نے گلے سے لگالیا اور اونچی آواز میں رونے لگی۔
’’تجھے کس نے بتادیا۔ میں نے کہا تھا کوئی نہ بتائے میں جانتی تھی تو یہ برداشت نہیں کرسکے گی۔‘‘ تائی اماں جانے کیا سمجھ رہی تھیں۔ وہ انہیں تسلی دے کر عون کے بیڈ کے قریب آئی وہ آنکھیں موندے لیٹا تھا وہ قدرے جھک کر آہستہ آواز میں بولنے لگی۔
’’یار بس کردو یہ ڈرامہ اتنا لمبا سین کرنے کو کس نے کہا تھا۔ میں نے تو کہا تھا بس منگنی رکوا دو۔ چلو اب اٹھ جائو۔ گھر والے بہت پریشان ہوگئے ہیں سچ مچ۔‘‘ اس نے اس کا ماتھا تھپتھپاتے ہوئے کہا تھا لیکن اس کے وجود میں حرکت نہیں ہوئی وہ اسی طرح لیٹا رہا تھا۔
’’بہت سیریس انجری ہوئی ہے بائیک کا تو کچھ نہیں بچا۔‘‘ تایا ابو کی آواز پر وہ پلٹی۔ وہ افسردہ سے اس کے پیچھے ہی کھڑے تھے۔
’’اوہ…!‘‘ اس کے لبوں سے نکلا تو عون نے سچ مچ بائیک دے ماری تھی۔ پاگل انسان اسے اس بے ہوش پڑے شخص پر غصہ آنے لگا کیوں اس کی ہر بات مانتا تھا اور اس حد تک مانتا تھا کہ ہر حد سے گزر گیا تھا۔
’’میں تم سے بات کرنا ہی چھوڑ دوں گی۔‘‘ اس نے غصے سے اسے دیکھا… اگلے کئی دن اسپتال کی نذر ہوگئے بڑی مشکلوں کے بعد رات گئے عون کو تھوڑی دیر کے لیے ہوش آیا تھا یہ حوصلہ افزاء بات تھی ڈاکٹرز اسے مزید ٹیسٹ کے لیے لے گئے تھے اس کے دائیں شولڈ کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی کیسے یہ تو وہ مکمل ہوش میں آنے کے بعد ہی بتاسکتا تھا۔
’’تُو فکر نہ کر ہم ان شاء اللہ اگلے ہفتے ہی رسم کرلیں گے۔‘‘ تائی اماں کو اس کا متفکر اور غصیلا چہرہ کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا اس لیے تسلی دینے والے انداز میں بولیں۔
’’تائی اماں…!‘‘ اس کا جی چاہا سر پیٹ لے۔ ’’میں کچھ اور سوچ رہی ہوں اور فی الحال یہ منگنی کے سیاپے کو نہ ہی پالیں آپ نے دیکھا نہیں بدشگون ہوگیا… شکر کریں عون کی جان بچ گئی میرا کیا۔ دو چار سال صبر کرلوں گی لیکن فی الحال ہم عون کی زندگی کا کوئی رسک نہیں لے سکتے میں نے عون سے کہا تھا ابھی رہنے دیں میری ساڑھ ستی چل رہی ہے۔‘‘ اس نے کن اکھیوں سے تائی کو دیکھا جن کے کان کھڑے ہوئے تھے۔
’’ساڑھ ستی…! یہ کیا ہوتا ہے؟‘‘
تائی اماں کی ضعیف الاعنقادی سے فائدہ اٹھانے کا موقع اب ہی تو آیا تھا اور یہ کیسا آئیڈیا تھا کہ وہ تائی جان کو ہی ڈرا دے تاکہ یہ بات ہمیشہ کے لیے ٹھپ ہوجائے وہ کھسک کر تائی اماں کے قریب ہوئی۔
’’یہ بات تائی اماں میں صرف آپ کو بتانے لگی ہوں وعدہ کریں مام ڈیڈ کو پتہ نہیں چلنے دیں گی۔ آپ سنبھال لیں گی نا؟‘‘ وہ انہیں اموشنل بلیک میل کررہی تھی اور پھر جیسے جیسے وہ بولتی گئی تائی اماں کے چہرے کا رنگ بدلتا گیا اور اس وقت وہ یہ سوچ رہی تھیں کوئی پل ہو وہ عون کو کسی ڈبے میں بند کرکے چھپا دیں جہاں زیمل کی بری نظر ان کے اکلوتے بیٹے کو چھو بھی نہ سکے۔
’’آپ تو جانتی ہیں ناں تائی اماں عون سے میری محبت کو… میں تمام عمر اکیلی بیٹھی رہ سکتی ہوں لیکن عون کی زندگی دائو پر نہیں لگائوں گی‘ مجھے عون کی زندگی سے بڑھ کر کوئی عزیز نہیں۔‘‘ اس نے آنسو بہاتے ہوئے کن اکھیوں سے پھر تائی کو دیکھا وہ مکمل طور پر ٹریپ ہوچکی تھیں۔
’’میں سمجھتی ہوں بیٹا۔‘‘ انہوں نے اس کا سر سینے سے لگالیا بس تم فکر نہ کرو میں سب سنبھال لوں گی کم از کم چار سال تک تو عون کو اس بارے میں سوچنے ہی نہیں دوں گی اس کے بعد تو سب خیر ہے ناں؟‘‘
’’جی… جی۔‘‘ اس نے فوراً اثبات میں سر ہلایا۔ اپنی اس کمینگی پر اس نے خود کو لعن طعن بھی کی کہ یہ کوئی موقع نہ تھا لیکن وہ یہ بھی جان گئی تھی کہ اگلے ہفتے‘ مہینے یا پھر کچھ عرصہ بعد یہ ایشو پھر کھڑا ہونا تھا پھر کیا بہانہ ہوتا اس لیے اس نے تائی اماں کو ہی شیشے میں اتار لیا تھا‘ تائی اماں اور تایا ابا مام اور ڈیڈ سے یکسر مختلف تھے۔ گھر‘ دولت ان کے پاس بھی وافر تھی لیکن تائی اماں نے اپنی ساری عمر سادگی میں ہی گزاری تھی تایا ابا کی طبیعت بھی کچھ ایسی ہی تھی لیکن پیار دونوں بھائیوں میں بہت تھا۔ عون کے سارے ٹیسٹ کلیئر آئے تھے بس شولڈر کی ہڈی بری طرح متاثر ہوئی تھی پورے بازو اور کندھے پر پلستر چڑھا تھا وہ تو ہاسٹل سے واپس آگئی تھی لیکن عون کو ابھی مزید ایک ہفتہ اسپتال میں ہی ایڈمٹ رہنا تھا آنے سے پہلے وہ عون سے لڑکر آئی تھی وہ آگے سے ہنستا رہا تھا۔
’’تم نے کہا تھا منگنی رکوا دو… منگنی تو پھر اسی طرح رک سکتی تھی چھوٹی موٹی بات کو کس نے سمجھنا تھا۔‘‘ وہ ہنس رہا تھا لیکن اس کی آنکھوں میں چھپا کرب بے حد واضح تھا جس سے وہ نظر چرا گئی تھی۔
’’میں کروں بھی تو کیا عون؟‘‘ اس نے سوچا۔
/…/…/…/
’’چاچی بس۔‘‘ اس نے ہاتھ اٹھا کر کہا۔
’’مجھے اس کا انتظار نہیں کرنا۔ مجھے شادی ہی نہیں کرنی آپ چاچا کو بول دیں۔‘‘
’’لو بتائو چار دن ہوئے نہیں لڑکی اور تم شرم و حیا بھول گئی ہو آج تک ایسا ہوا نہیں خاندان میں۔ ایسا سوچنا بھی نہیں۔‘‘ بشریٰ نے ساگ بناتے ہوئے اسے گھورا۔
’’آپ خود انصاف کریں کتنے سال ہوگئے اس بے نام رشتے میں بندھے۔ کتنی بار آیا وہ گائوں میں۔ کبھی بھول کے بھی اس کو خیال آیا اس بات کا کبھی اس دہلیز کو عبور کیا اس نے۔‘‘ اس کے شکوے بجا تھے سنہرے خواب دیکھنے کی عمر اس نے انتظار کرتے اور ڈرتے گزار دی تھی۔ بشریٰ نے ہاتھ روک کر پل کی پل اس کو دیکھا۔
’’دیکھو بات سنو میں نے بھائی صاحب سے بات کی ہے اس دفعہ آیا تو نکاح کرکے ہی جائے گا تم پریشان نہ ہو۔‘‘ بشریٰ اسے تسلی دے رہی تھی لیکن اس کے اندر کھو جانے کا خوف کنڈلی مارے بیٹھا تھا وہ اسی لیے جلدی ادھر آئی نہیں تھی اس نے جو راہ فرار ڈھونڈی تھی اسی میں خود کو چھپائے پھرتی تھی لیکن اب اسے اپنی بے قدری کا احساس مارنے لگا تھا۔
’’اچھا جائو گائوں کا ایک چکر لگا کر آئو صاف ستھری ہوا تمہارے لیے بڑی مفید ثابت ہوگی۔‘‘ بشریٰ نے کہا۔
وہ چند ثانیے سر جھکائے بیٹھی رہی پھر اسے بات معقول لگی۔ واقعی اسے چکر لگا آنا چاہئے تھا اس نے پیروں میں چپل اڑسی اور باہر نکل آئی۔ صبح کا وقت تھا ہر طرف چہل پہل سی تھی اس نے دیکھا گامے نائی کی دکان پر کافی رش تھا۔ ہر کوئی اپنی ضرورت کی چیزیں خرید رہا تھا گامے نائی کی دکان گائوں کا ڈیپارٹمنٹل اسٹور تھا جہاں آٹا دال چاول چینی کے علاوہ پراندے سستا میک اپ جیولری سب دستیاب تھا۔ جب سے گاما نائی ریٹائرڈ ہوا تھا اور اس کے بیٹے نے اپنا منصب سنبھالا تھا تو اس نے اپنی جمع پونجی سے گھر کی بیٹھک میں پرچون کی دکان کھول لی تھی وہ یونہی چلتی ذرا آگے آئی۔ حفیظاں دودھ کی بالٹی اٹھائے خراماں خراماں آتی نظر آئی اس نے آواز دے ڈالی۔
’’ری نمو تو کب شہر سے آئی؟‘‘ اس نے ولٹوئی سر سے نیچے اتاری اور اسے گرمجوشی سے ملنے لگی۔
’’کل واپسی بھی ہے میری کیسے ہیں سب؟‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
’’بھلی جنگی تو بتا بھرا ٹیپو سے ملاقات ہوئی؟‘‘ اس نے شرارت سے کہا تو وہ چونکی۔
’’ٹیپو آیا ہے کیا؟‘‘
’’لو کرلو گل… تمہیں یہ بھی نہیں پتا۔ کل جب میں نذیراں چاچی کا کرتا دینے گئی تھی تو چارپائی پر بیٹھا لسی کا گلاس پی رہا تھا چھابے میں دیسی گھی سے نچڑتے تندوری پرونٹھے۔ اوپر آم کا اچار ساتھ میں پودینے اور ہریاں مرچاں کی چٹنی یوں ندیدوں کی طرح کھا رہا تھا جیسے شہر میں کچھ کھانے کو ملتا ہی نہیں۔‘‘ حفیظاں ہنس ہنس کر بتا رہی تھی اور اس کا دل کٹی پتنگ کی طرح ڈولنے لگا تھا وہ یہیں تھا گائوں میں اس کے آس پاس اور اسے خبر تک نہ تھی اس کے جی میں آئی جاکر ایک نظر اس کو دیکھ لے برسوں کی پیاس تو بجھالے اپنی خاموش محبت کا اس پر اثر بھی دیکھ لے۔ لیکن اس کے پائوں من من بھر کے ہونے لگے حفیظاں اپنی ولٹوئی اٹھا کر چلی بھی گئی اور وہ تب سے اسی جگہ پر کھڑی تھی۔
’’شاید چاچی کو پتہ نہیں کہ ٹیپو آیا ہے۔‘‘ اس کے ذہن میں خیال آیا تو وہ الٹے پیر واپس پلٹی۔ ’’چاچی کو جاکر بتا تو دے۔‘‘ وہ تیز تیز چلتی گھر واپس آئی۔ سارے میں سرسوں کے ساگ کی خوشبو پھیلی تھی۔ چاچی ساگ چڑھا چکی تھی پھنکنی سے آگ جلاتی چاچی پوری طرح دھوئیں میں گم تھی گیلی لکڑیاں ہلکے سے سلگ رہی تھیں عشق میں بھی انسان اس گیلی لکڑی کی طرح ہوجاتا ہے۔ نہ پوری طرح جلتا ہے نہ بجھتا ہے بس سلگ سلگ کرختم ہوتا رہتا ہے اس نے سوچا‘ دھوئیں سے اس کی آنکھوں میں پانی آگیا تھا۔
’’آگئی لے دو منٹ پہلاں ٹیپو اٹھ کے گیا۔ ملن آیا سی واپس جاریا کل۔‘‘ (آگئی ہو دو منٹ پہلے ہی ٹیپو اٹھ کر گیا ہے ملنے آیا تھا کل واپس جارہا ہے ناں) بشریٰ چاچی نے بتایا تو اس کا دل مٹھی میں آگیا وہ آیا بھی اور چلا بھی گیا۔ وہ ایک نظر اس کو دیکھ بھی نہ سکی۔ کیسی بے چارگی تھی وہ اوندھے منہ پڑی رہی۔ نہ کھایا نہ پیا۔ کچھ اچھا لگ ہی نہ رہا تھا۔ آج اسے ابرار نے لینے آنا تھا اور صبح اسے واپس لاہور جانا تھا اسے افسوس ہونے لگا وہ کیوں چاچی کی محبت میں دوڑی چلی آئی تھی لیکن یہ بھی حقیقت تھی بشریٰ اس سے بے حد محبت کرتی تھی وہ جیسے ہی چھٹیوں میں گھر آتی بشریٰ فوراً بلوا بھیجتی اور وہ بھی فٹافٹ آجاتی اب وہ بددلی سے اٹھ کر اپنا بیگ چیک کرنے لگی۔ کل صبح اسے بھی واپسی کے لیے نکل جانا تھا۔
/…/…/…/
اور نہ چاہتے ہوئے بھی زیمل حسان اس شخص کی محبت میں گرفتار ہوتی جارہی تھی ہر پل اس کے بارے میں سوچتی رہتی بلاوجہ بلامقصد اس کے میسجز کا انتظار کرتی اور پڑھنے کے بعد اس کو ڈانٹتی رہتی ایسی ایسی چن کر شاعری بھیجتا کہ وہ سٹپٹا کر رہ جاتی لیکن غصہ کے اظہار کے طور پر وہ ایڈیٹ اسٹوپڈ قسم کے جواب دیتی رہتی۔ اس دن بھی جب اس کی بے حد خوب صورت نظم کے جواب میں اس نے احمق لکھا تو اس کا جواب آیا۔
تو بی بی کس نے کہا میرا ہر ایس ایم ایس اتنی توجہ سے پڑھو اور مجھے‘ مختلف القابات سے نوازو… ہوں؟‘‘
’’سمجھتا کیا ہے خود کو؟‘‘ وہ تلملا اٹھی۔
’’تمہیں کس نے کہا میں تمہارے ایس ایم ایس پڑھتی ہوں؟‘‘ جواب میں اس نے اتنا بڑا جھوٹ لکھ دیا۔
’’تم مجھے پاگل کردو گے۔‘‘ اس نے دانت پیسے۔
’’کروں گا نہیں… کرچکا ہوں زیمل حسان… مان جائو۔‘‘
’’بھاڑ میں جائو تم اور تمہارے فلسفے۔‘‘ اس نے ہمیشہ کی طرح فون بند کردیا لیکن وہ اس کی باتوں کو جھٹلا نہیں پارہی تھی وہ اسے واقعی پاگل کرچکا تھا وہ اٹھتے بیٹھتے جاگتے سوتے اسے ہی سوچنے لگی تھی اور ایسے میں وہ نرمین کی الجھن اور پریشانی جان ہی نہ پائی تھی فقط شبانہ ہی تھی جو ان دونوں پر نظر رکھے ہوئے تھی اور بس انتظار کررہی تھی کہ یہ دونوں اپنے منہ سے کچھ پھوٹیں لیکن دونوں نے ہی چپ سادھ رکھی تھی۔
فائنل ایگزامز شروع ہونے والے تھے ہاسٹل خالی ہورہا تھا فیئرویل بھی نزدیک تھی۔ ساتھ کے کمرے سے آتی میوزک کی آواز اسے بری طرح ڈسٹرب کررہی تھی اس نے دیکھا زیمل حسب عادت لمبی تان کر سو رہی تھی اور شبانہ ہینڈ فری لگائے جانے کیا سن رہی تھی اس کا دل بس پھٹ پڑنے کو تھا۔ وہ کسی کو اپنا دکھ بتانا چاہتی تھی کسی کاندھے پر سر رکھ کر رونا چاہتی تھی۔
’’سنو شبانہ۔‘‘ وہ اس کے پاس آبیٹھی۔ شبانہ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا اور پھر سے مصروف ہوگئی اس نے غصے سے اس کے ہینڈ فری نکال پھینکے۔
’’شبانہ میں تم سے بات کرنا چاہتی ہوں اپنے دل کی بات۔‘‘
’’محبت وغیرہ… ہوں؟‘‘ اس نے شرارت سے آنکھیں گھمائیں۔
’’پلیز شبانہ۔‘‘ وہ روہانسی ہوگئی۔
’’کچھ سیریس ہے کیا؟‘‘ وہ سنجیدہ ہوگئی نرمین اپنی انگلیاں مروڑ رہی تھی۔
’’ہاں اگر میں نے شیئر نہ کیا تو میرا دماغ پھٹ جائے گا۔‘‘
’’میں تو بہت دنوں سے ویٹ کررہی ہوں کب تم کچھ پھوٹو منہ سے مگر تم دونوں ہی شاید مجھے اس قابل نہیں سمجھتیں۔‘‘ شبانہ مکمل اس کی طرف متوجہ ہوگئی۔
’’نہیں ایسی بات نہیں۔‘‘ اس نے نفی میں سر ہلایا۔ پھر دھیرے دھیرے اسے بتانے لگی۔ شبانہ بیچ بیچ میں ’’ہیں‘‘ ’’اف‘‘ ’’باپ رے‘‘ یا اللہ جیسی آوازیں نکال کر حیرت کا اظہار کرتی رہی جب وہ چپ ہوئی تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
’’ہم لوگ ابھی بھی زمانہ جاہلیت سے باہر نہیں آئے بچپن میں جب کسی انسان کو اچھے برے کی تمیز نہیں ہوتی‘ منگنی نکاح جیسے بندھن میں باندھ دینے کا مقصد مجھے تو آج تک سمجھ نہیں آیا۔ اس کی کیا لاجک‘ کیا تھیوری؟‘‘ شبانہ اسے تاسف سے دیکھ رہی تھی۔
’’اصل میں چچا زبیر نے ہی یہ رشتہ کروایا تھا چچی بڑے اچھے اطوار کی ہیں اباجی نے سوچا تو صرف یہ کہ میں خوش رہوں گی اور پھر گائوں میں تو پیدا ہوتے ہی رشتے جوڑ دیئے جاتے ہیں میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اپنے نام کے ساتھ اس کا نام دیکھا ہے میں نے اٹھتے بیٹھتے اس کے سپنے بنے ہیں لیکن آج تک جان نہیں پائی وہ میرے بارے میں کیا سوچتا ہے پتہ ہے شبانہ یہ جو آج میں یہاں اس کالج میں ہوں تو اسی وجہ سے کہ چچا زبیر نے اباجی سے کہا تھا ٹیپو پڑھ لکھ کر بڑا افسر بن جائے گا ایسا نہ ہو کل کو ان پڑھ نمو سے شادی کرنے سے انکار کردے۔ اس لیے مجھے آگے پڑھنا چاہئے۔ ابرار بھائی نے خود میرا ایڈمیشن یہاں کروایا تاکہ میں اس کے برابر کھڑی ہوسکوں اور وہ پتہ نہیں کہاں غائب ہے مجھے یہی ٹینشن ہے کہ اگر اسے کوئی اور پسند آگئی تو میں کیا کروں گی؟‘‘ اس کے اندر کی بے چینی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔
’’تم نے کیا کرنا ہے‘ کرے گا تو وہ اس لڑکی سے شادی۔ بھئی جس کو پسند کرے گا پاگل۔ بے وقوف جو ابھی ہوا نہیں اس کے بارے میں سوچ سوچ کر ہلکان ہونے کا فائدہ؟ تمہارے بڑے ہیں ناں معاملات کو ہینڈل کرنے کے لیے۔ جنہوں نے رشتہ طے کیا ہے وہ ہی اس کو سنبھال بھی لیں گے اور بچا بھی لیں گے تم فی الحال اپنی تعلیم پر دھیان دو مت پڑو عشق کے عذابوں میں۔ آگے یاد ہے ناں۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ دباتے آرام سے آگے چلی گئی نرمین نے اثبات میں سر ہلایا۔

عمر کٹتی ہے ان کی کانٹوں پر
پھول رکھتے ہیں جو کتابوں میں

’’شاباش۔‘‘ شبانہ نے اسے تھپکی دی۔
’’اب پوری توجہ سے پیپر کی تیاری کرو۔ اے ون رزلٹ ہونا چاہیے بعد میں بات کریں گے۔‘‘
’’تھینک یو شبانہ۔‘‘ وہ ممنون ہوئی۔
’’اٹس مائی پلیجر۔‘‘ وہ ہنس دی۔
زیمل کب سے عون کا نمبر ڈائل کررہی تھی لیکن وہ نہیں مل رہا تھا پتہ نہیں ایکسیڈنٹ کے بعد سے وہ کیوں کھینچا کھینچا سا رہنے لگا تھا اس نے تو مام اور ڈیڈ کو بھی بڑی مشکل سے ہینڈل کیا تھا اس نے جتنی بار فون کیا تھا وہ کاٹ دیتا تھا کال بیک بھی نہیں کی اب بھی وہ ایسے ہی کررہا تھا پھر اسے بھی غصہ آگیا۔
’’نہیں تو نا سہی۔‘‘ اس نے فون بند کرکے بیڈ پر اچھالا اور خود کچھ کھانے کے لیے کینٹین کی طرف آگئی لنچ بھی نہیں کیا تھا شبانہ اور نرمین بھی نوٹس بنانے لائبریری میں جاکر بیٹھی تھیں ہاسٹل میں لڑکیوں کی تعداد کم ہوگئی تھی کیونکہ امتحانوں کی تیاری کے لیے وہ گھر جاچکی تھیں ان تینوں کا ابھی موڈ نہ بن رہا تھا کچھ ان کے لیکچرز بھی شاٹ تھے سو وہ بھی کمپلیٹ کرنا تھے نرمین تو یہیں رہنا چاہ رہی تھی شبانہ البتہ ہر ویک اینڈ پر گھر کا چکر لگا آتی تھی اور زیمل کو چونکہ نیا نیا عشق ہوا تھا اس لیے وہ گھر جانے کے موڈ میں نہیں تھی وہ اس شخص سے ملنے کو بے تاب ہورہی تھی جس نے پچھلے چار ماہ سے اس کی نیند اڑا رکھی تھی وہ جانتی تھی وہ اس کو یہیں کہیں ملے گا چلتے پھرتے آتے جاتے اب وہ ہر آنے جانے والے کے چہرے کو کھوجنے لگی تھی۔ کینٹین سے سینڈوچ لے کر وہ وہیں بنچ پر بیٹھ گئی ذہن میں مختلف سوچیں تانا بانا بن رہی تھیں انجانے میں ہی وہ عون اور اس شخص ظفریاب کا موازنہ کرنے لگی تھی۔
’’بس اب مل جائو آنکھ مچولی کا کھیل ختم کرو۔‘‘ اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھر کے سوچا تھا سورج غروب ہونے کو تھا ہاسٹل کے کوریڈور کی لائٹس جل اٹھی تھیں نماز کی پابند لڑکیاں ہال کی طرف جارہی تھیں اس نے غورکیا اس نے آج تک نماز نہیں پڑھی تھی اسے کبھی محسوس ہی نہ ہوا تھا کہ نماز پڑھنی چاہئے بچپن میں ایک قاری صاحب متعین کیے گئے تھے جو اسے قرآن پاک پڑھانے آتے تھے دو بار قرآن پاک ختم کرنے کے بعد اس نے دوبارہ کبھی کھولا ہی نہ تھا اور نماز تو شاید اسے ٹھیک سے پڑھنا بھی نہیں آتی تھی۔ زندگی میں پہلی بار اسے ندامت سی محسوس ہوئی تھی کل سے نماز پڑھنے کا ارادہ کرکے وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ وسیع وعریض کریڈور سے گزر کر وہ اپنے کمرے میں جارہی تھی وہ اپنی اس عجیب محبت کے بارے میں سوچ رہی تھی کیا اس کا کہا سچ ہوگیا تھا اس نے عون سے کہا تھا۔
’’ضروری نہیں عون تم مجھے پسند کرو مجھ سے محبت کرو تو میں بھی تم سے محبت کروں میں تو شادی ہی اس شخص سے کروں گی جس سے محبت کروں گی۔‘‘
’’اور اگر اسے تم سے محبت نہ ہوئی تو؟‘‘ عون نے غمزدہ نظروں سے اسے دیکھا تھا۔
’’نیور مائنڈ۔‘‘ اس نے کندھے اچکائے۔
’’اس کی محبت میرا مسئلہ نہیں ہے مسئلہ میری محبت ہے اور فی الوقت مجھے تم سے محبت نہیں ہے۔‘‘ وہ اس وقت عون کو کوئی ظالم پری لگ رہی تھی لیکن اسے پروا کب تھی شاید ہم سب صرف اپنی محبت کے بارے میں سوچتے ہیں لیکن وہ اس محبت کے بارے میں سوچے بھی تو کیا۔
وہ کون تھا کہاں رہتا تھا کیا کرتا تھا وہ کچھ بھی تو نہیں جانتی تھی دوبار کی سرسری ملاقات میں وہ کیوں اس کی محبت میں مبتلا ہوگئی تھی۔ اس نے کوئی سحر پڑھ کر پھونکا تھا اس پر۔ جو وہ دن رات اسی کے بارے میں سوچنے لگی تھی انہی سوچوں میں گم وہ اپنے کمرے تک پہنچ گئی تھی نرمین اور شبانہ اسے باہر ہی مل گئیں ساتھ چند اور لڑکیاں بھی تھیں کوئی ڈسکشن چل رہی تھی غالباً۔ وہ ہاتھ ہلاتی کمرے میں گھس گئی وہ اس وقت کچھ بھی بولنے کے موڈ میں نہ تھی جوتے اتارنے کے بعد وہ بیڈ پر نیم دراز ہوئی ہی تھی کہ موبائل پر بیپ ہوئی۔ اس نے اٹھا کر دیکھا آٹھ مسڈ کالز تھیں اور تقریباً اتنے ہی میسجز۔ یقینا عون ہی ہوگا اس نے سوچا اور موبائل سائیڈ پر ڈال دیا۔ وہ کوئی فالتو شے نہیں تھی بلکہ وہ اس ظفریاب سے بھی بات نہیں کرے گی منع کردے گی کم ازکم ایگزمز تک۔
ایگزیمز کے بعد ان کو تین ماہ کے لیے آف مل جانا تھا اس کے بعد اگست میں ان کی نئی کلاسز اسٹارٹ ہونا تھیں وہ سوچ رہی تھی ڈیڈ کے ساتھ فارن ٹور پر نکل جائے یہ تین ماہ بہت بورنگ ہونے والے تھے اس کے لیے۔ نرمین اور شبانہ اندر آئیں تو اسے بستر پر لیٹا پاکر ہنس دیں۔
’’پھر فرسٹریشن ہورہا ہے کیا؟‘‘ شبانہ اس کی پائنتی کی طرف آکر بیٹھ گئی جب کہ نرمین اپنا بستر جھاڑنے لگی تھی۔
’’ہاں… شاید نہیں۔‘‘ وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔
’’عون تمہارا فون نہیں اٹھا رہا اور تم ظفریاب کا ہے ناں؟‘‘ شبانہ کا کہا اتنا غیر متوقع تھا کہ وہ یک ٹک اس کی شکل دیکھنے لگی کچھ بول ہی نہ پائی۔
’’سوری تم فون اندر ہی بھول گئی تھیں بہت شور کررہا تھا اس لیے میں نے چیک کرلیا یہ ظفریاب وہی ہے ناں جس کے پاس تمہارا فون رہ گیا تھا وہ جس نے بارش میں تمہاری ہیلپ کی تھی؟‘‘ شبانہ تجسس سے پوچھ رہی تھی۔
’’ہاں اور پلیز آگے کی فی الحال کچھ نہ پوچھنا۔ نہ سوچنا میرا کچھ بھی بتانے کا موڈ نہیں ہے۔‘‘ زیمل نے بیزاری سے کہا اور کروٹ بدل لی اس پر بیزاری اور قنوطیت دونوں ایک ساتھ حملہ آور ہوئی تھیں شبانہ اٹھ کر اپنے بستر پر چلی آئی نرمین سو چکی تھی شبانہ کو ابھی نیند نہیں آرہی تھی سو وہ دوبارہ پڑھائی میں مصروف ہوگئی۔
ایگزیمز ختم ہوئے تو سب نے اپنے گھروں کی راہ لی شبانہ تو آخری پیپر والے دن ہی شیخوپورہ چلی گئی تھی نرمین اور زیمل البتہ اگلے دن نکلی تھیں گھر میں سامان رکھنے کے بعد وہ سیدھی عون کی طرف چلی آئی تھی تائی اماں اسے دیکھ کر خوش ہوگئیں اس کے امتحانوں کا پوچھنے لگیںاس نے بتاکر ادھر ادھر نظر دوڑائی پھر قدرے جھک کر راز داری سے پوچھا۔
’’عون میاں کہاں ہیں؟‘‘
’’وہ…‘‘ تائی ہنس پڑیں۔ ’’ارے بیٹا وہ تو آج کل پتہ نہیں کن ہوائوں میں ہے غائب رہتا ہے سارا دن گھر آئے گا تو فون کان سے لگا ہوگا مجھے تو لگتا ہے کسی لڑکی وڑکی سے باتیں کرتا رہتا ہے۔‘‘ تائی کا انداز لاپروائی لیے ہوئے تھا جب کہ اس کے دل کو دھکا سا لگا۔
’’ہائے لڑکی…!‘‘ اس نے چونک کر تائی اماں کو دیکھا وہ اس کی طرف متوجہ نہیں تھیں بلکہ ٹی وی پر آنے والے بیڈ کورز کے کمرشل پر دھیان دے رہی تھیں۔
’’تو تم کیا چاہتی ہو زیمل حسان تمہاری تمام تر بے رخی کے باوجود وہ پروانہ کی طرح تمہارے گرد منڈلاتا رہے۔‘‘ کسی نے اسے لتاڑا تھا وہ نظریں چرا گئی پھر بلا مقصد تائی اماں سے ڈھیروں باتیں کرتی رہی۔ لیکن اسے اپنا لہجہ‘ اپنی آواز‘ اپنی ہنسی سب کھوکھلی محسوس ہورہی تھیں۔
’’ہاں تو کیا میں کون سا اس سے محبت کرتی ہوں۔‘‘ اس نے اپنے دل کو سرزنش کی لیکن کہیں کچھ تھا جو کھویا کھویا سا لگ رہا تھا۔
’’تبھی وہ میرا فون اٹینڈ نہیں کررہا۔‘‘ دل نے پھر سوچا۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’اچھا تائی اماں عون آئے تو اسے بتائیے گا میرا۔ چھٹیاں ہوگئی ہیں اب تین ماہ کے لیے فارغ ہوں میں۔‘‘ اس نے دیوار گیر رات کے نو بجاتے گھڑیال کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’زیمل بیٹا‘ کھانا کھا کر جاؤ تمہارے تایا ابو آتے ہوں گے۔ مل لو ان سے خوش ہوں گے یاد کررہے ہیں بڑے دنوں سے۔‘‘ انہوں نے اسے بازو سے پکڑ کر واپس بٹھایا۔
’’نہیں کھانا نہیں کھاؤں گی ابھی اتنا کچھ تو کھلا دیا آپ نے۔ پھر چکر لگاؤں گی۔ کندھا کیسا ہے اب عون کا‘ پلستر اترا کہ نہیں؟‘‘ اسے ایک دم یاد آیا۔
’’ہاں بہتر ہے۔ اصل میں اس وقت اس نے جو گھر آنے کی جلدی مچائی تھی اس وجہ سے ہڈی پھر اپنی جگہ سے کھسک گئی تھی بس سارا کچھ دوبارہ کروانا پڑا۔ بہت تکلیف میں رہا ہے میرا بچہ ابھی جانا ہے دوبارہ چیک اپ کے لیے۔ دیکھو ڈاکٹرز کیا کہتے ہیں۔‘‘ اسے اپنی خود غرضی پر شرمندگی ہوئی۔ وہ کیسے کیسے عون کا استعمال کرتی رہی اور وہ اف تک نہیں کرتا تھا۔ سوچتے ہوئے وہ باہر نکل آئی۔ گاڑی اسٹارٹ کرکے اس نے گھر جانے کے بجائے نہر کی طرف موڑلی اس کا دل بے سبب اداس سا ہوگیا تھا۔ وہ کتنی دیر نہر پر بے مقصد پھرتی رہی۔ منچلے شور مچاتے ادھر ادھر جارہے تھے۔ ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی۔ اس نے جوتے اتارے اور نہر کنارے مخملیں گھاس پر ننگے پاؤں چلنے لگی۔ اب اگر عون اس کے ساتھ ہوتا تو رات کو گھاس پر ننگے پاؤں چلنے کے ان گنت نقصانات گنوا دیتا۔
’’عون…‘‘ وہ چاہتی نہیں تھی پھر بھی ہر بات میں عون کو سوچتی تھی عون اور اس کا ساتھ تھا بھی تو بہت پرانا۔ ایک ساتھ کھیلتے بڑے ہوئے تھے۔ وہ اس کی ایک ایک کیفیت کو سمجھتا تھا جانتا تھا اور پھر… سوچتے ہوئے وہ چونکی کوئی اس کے ہم قدم ہوا تھا۔
گھنی مونچھوں تلے نچلے ہونٹوں کا دایاں کونا دبائے وہ دنیا جہان کی شرارت و شوخی آنکھوں میں سمیٹے اسے دیکھ رہا تھا یا شاید اس کی حیرانی سے لطف اٹھا رہا تھا۔
’’تم…!‘‘ وہ کافی دیر بعد بول پائی۔
’’یہاں… کیسے؟‘‘ وہ ہنس دیا۔ مدھر ہنسی۔
’’تمہارے فون پر ٹریکر لگوایا ہے میں نے۔ تمہارے پل پل کی خبر رکھنے کے لیے۔ ابھی تم جب عون کے گھر سے نکلی تھی تو…‘‘ وہ بات ادھوری چھوڑ کر اس کی حیرت سے پھٹی آنکھوں کو دیکھنے لگا۔
’’ٹریکر… میرے فون پر… پر کیوں؟‘‘ وہ غصہ ہونے لگی۔
’’ایک منٹ… ہر بات پر فوراً ہائپر مت ہوجایا کرو اور میں یہاں تمہارا غصہ دیکھنے نہیں آیا۔ مانا بہت حسین لگتی ہو غصے میں لیکن… اتنی بھی نہیں کہ میں اپنی ڈیوٹی چھوڑ کر تمہارا پیچھا کرتے ہوئے یہاں پہنچ جاؤں۔‘‘ وہ اس کے سامنے آکھڑا ہوا تھا۔
وہ پاؤں پٹخ کر مڑی۔ خوامخواہ سر پر سوار ہورہا تھا۔ وہ پھر اس کے سامنے آگیا۔ کچھ دیر خامشی سے اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔ اسٹریٹ لائٹ درختوں سے چھن کر آتی اور چودھویں کے چاند کی روشنی اس کے حسین چہرے کو اور بھی خوب صورت بنا رہی تھی۔
’’تم جانتی ہو بہت خوب صورت ہو تم۔‘‘ وہ گھمبیرتا سے بولا۔
’’لیکن… یہ ہماری پہلی ملاقات ہے۔‘‘(اس نے پہلی پر خاصا زور دیا تھا)۔
’’باضابطہ… دو بار تو اتفاقاً ملے ناں… تو کیا اس کو یونہی ضائع کرو گی۔ لڑ کر‘ غصہ ہوکر… ہوں؟‘‘ اس کے لہجے میں کچھ تھا وہ پگھلنے لگی۔ وہ دونوں بازو سینے پر باندھے اسے انہماک سے دیکھ رہا تھا جس کے صبیح چہرے پر چھائی غصے کی لالی اب شرم کی سرخی میں ڈھلنے لگی تھی وہ لب کاٹنے لگی۔ شربتی آنکھیں پانیوں سے بھرنے لگیں وہ نہیں سمجھ پارہی تھی اسے کس طرح ری ایکٹ کرنا چاہیے۔ وہ اس کے سامنے تھا جسے اس نے گزشتہ دنوں دن رات سوچا تھا جس سے کئی بار دل ہی دل میں وہ روٹھی مانی تھی کئی بار ارادہ کیا تھا وہ اس سے تعلق نہیں رکھے گی۔ آج وہ سامنے آیا تھا تو جیسے سب کچھ ریت کی طرح مٹھی سے پھسلتا جارہا تھا اس سے کچھ کہنے کی سکت ہی نہ پارہی تھی خود میں۔
’’کم آن زیمل…‘‘ تم تو ستر کی دہائی کی فلمی ہیروئنوں کی طرح ری ایکٹ کررہی ہو جہاں تک میں جانتا ہوں تم ایک ماڈرن فیملی سے بی لونگ کرتی ہو اور…‘‘
’’ماڈرن فیملیز میں کیا شرم و حیا نہیں ہوتی؟‘‘ وہ بھڑکی۔ ’’مجھے جانا ہے۔‘‘ وہ سائیڈ سے ہوکر نکل گئی وہ اس کے پیچھے چلنے لگا۔ پھر دو لمبے قدم لے کر اس کے برابر آگیا۔ وہ غصے میں تھی۔
’’میں آیا تھا تم سے ملنے تم سے بات کرنے انسان کو اتنا انا پرست بھی نہیں ہونا چائیے۔ محبت بار بار دستک نہیں دیتی… دروازہ بند ملے تو مڑ بھی جایا کرتی ہے اور پھر خالی دہلیزوں پر صرف آنسو ملتے ہیں۔‘‘ وہ اپنی بات مکمل کرکے تیز قدموں سے نکل گیا۔ وہ تھم سی گئی تھی۔
اس نے دیکھا وہ آہستہ آہستہ اس سے دور ہوتا جارہا تھا وہ آواز دے کر اسے روک لینا چاہتی تھی لیکن ایسا نہ کرسکی۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا اس کی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ وہ کھڑی رہی پھر اپنے آنسو اندر اتارتی گاڑی میں آبیٹھی۔ وہ کیا چاہتی تھی اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ اب وہ عون کا رویہ یکسر بھلا چکی تھی اور ظفریاب کے پرفیوم کی تیز خوشبو ابھی تک محسوس کررہی تھی۔ اسے محبت مطلوب تھی مگر کس سے؟ یہ جاننے کے لیے اس نے اپنے دل کو آزاد کردیا تھا۔
/…/…/…/
’’تمہارا پلان کیا ہے‘ کیا چھٹیاں یونہی گزارنے کا ارادہ ہے؟‘‘ خزینہ مام نے سلائس پر بٹر لگاتے ہوئے اس کے ستے چہرے کو دیکھا۔ وہ شاید نہیں یقینا رات بھر نہیں سوئی تھی۔
’’سوچا نہیں ابھی۔‘‘ اس نے جوس کا سپ لیا اور نظریں پھر کسی نادیدہ نقطے پر جمادیں۔ وہ جانتی تھی مام کبھی اس کی پریشانی کا سبب نہیں پوچھیں گی۔ وہ کسی کے بھی پرسنل میٹرز میں دخل اندازی نہیں کرتی تھیں۔
’’شام میں کیا پروگرام ہے آپ کا۔ میں آپ کے ساتھ جانا چاہتی ہوں۔‘‘ اس نے کہا تو خزینہ نے حیرانی سے اسے دیکھا۔ وہ کبھی بھی اس کے ساتھ کہیں بھی جانے پر آمادہ نہیں ہوتی تھی۔ اس نے خود خواہش ظاہر کی تھی اس کا مطلب تھا وہ واقعی ڈسٹرب تھی۔
’’وائے ناٹ۔‘‘ وہ خوش دلی سے بولیں۔
’’مسز احتشام کے ہاں گیٹ تو گیدر ہے‘ ڈنر ہے تم ڈیڈ کو نمائندگی کرلینا بہت اہم ڈنر ہے یہ۔ مجھے اپنی وارڈ روب دکھا دینا میں تمہارا ڈریس سلیکٹ کروں گی۔ احتشام صاحب کو تو جانتی ہو ناں تم۔ مصروف سیاست دان ہیں۔‘‘ وہ کچھ زیادہ ہی ایکسائٹڈ ہوگئی تھیں اس کے جانے کا سن کر۔
’’جی میں تیار ہوجاؤں گی۔‘‘ وہ کرسی کھسکا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ کون تھا‘ کس کلاس سے تعلق رکھتا تھا اسے جاننے کی ضرورت نہ تھی وہ تو محض اپنا ذہن بٹانے کے لیے وہاں جانا چاہ رہی تھی۔ ساری رات اس کی بے چینی میں کٹی تھی اس نے کئی بار ظفریاب کو میسج کیا تھا لیکن اس کا رپلائی نہیں آیا۔ وہ اس کو سمجھانا چاہ رہی تھی کہ غیر متوقع طور پر اسے اپنے سامنے پاکر وہ حواس باختہ ہوگئی تھی۔
کوئی ایک دم سے آپ کے سامنے آکر کھڑا ہوجائے اور اپنی محبت کی داستان سنانے لگے تو ایک لڑکی کیسا ری ایکٹ کرے گی۔ وہ عون سے بھی ڈسکس کرنا چاہتی تھی لیکن عون نے بھی شاید اسے بلیک لسٹ کردیا تھا۔ دن بہت لمبا تھا یا پھر اسے لگ رہا تھا اس کے پاس کرنے کو کچھ بھی نہیں تھا اس نے شبانہ کا نمبر ڈائل کیا۔ سوچا گپ شپ کرے گی۔ اس نے کافی دیر بعد فون ریسیو کیا۔ لگتا تھا کہیں سے بھاگ کر آئی ہو۔
’’ہیلو…!‘‘ اس کی ہانپتی آواز آئی۔
’’خیر تو ہے کہاں ہو؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ہیں کمال ہے تمہیں نہیں پتہ؟ ارے یار تمہارے کزن کا رشتہ آیا ہوا ہے میرے لیے باہر ڈرائنگ روم میں تمہارا کزن عون اور اس کی والدہ بیٹھی ہیں۔ میں انہیں چائے سرو کررہی ہوں۔ اوہ میرے اللہ… میں تم سے بعد میں بات کرتی ہوں بائے۔‘‘ اس نے فون بند کردیا اور وہ فون کو تکتی رہ گئی۔
عون اور شبانہ سے رشتہ۔ اس کے دل کو ایک دھچکا لگا تھا یہ کب ہوگیا اور عون نے اسے بتایا تک نہیں اور شبانہ نے بھی کب بتایا کہ اس کا عون سے کوئی چکر چل رہا ہے۔ اتنی جلدی نوبت یہاں تک پہنچ گئی اور وہ بے خبر ہی رہی۔ عون نے اسے بتانا تک مناسب نہ سمجھا۔
’’اوہ… وہ تبھی اس کی کالز اٹینڈ نہیں کررہا تھا اسے نظر انداز کررہا تھا یا شاید اسے بتارہا تھا کہ اس نے اپنی راہیں الگ کرلی ہیں۔ وہ اپنے لیے کسی دوسرے کا انتخاب کرچکا ہے۔‘‘ زیمل حسان کا دل چاہا کہ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دے اور پھر اس نے ایسا ہی کیا۔ وہ خوب روئی کس بات پر اسے خود بھی اندازہ نہیں تھا اور اس کے بعد کمرہ بند کرکے سو گئی۔
خزینہ کتنی دیر اس کا دروازہ کھٹکھٹاتی رہیں ساتھ لے جانے کے لیے اسے کچھ پتہ نہ تھا اس پر ڈپریشن طاری ہوچکا تھا اور اس کے زیر اثر وہ کتنے گھنٹے رہی کچھ پتہ نہ تھا۔
/…/…/…/
’’آپ کو پسند آگئی شبانہ؟‘‘ وہ تائی اماں کے بے حد نزدیک بیٹھی ان سے پوچھ رہی تھی۔ رضیہ ابھی ابھی نگٹس سے بھری پلیٹ اس کے سامنے رکھ گئی تھی اور پسند ہونے کے باوجود اس نے ان پر نظر بھی نہیں ڈالی تھی وہ چپ چپ تھیں۔
’’ہاں… جیسی مڈل کلاس لڑکیاں ہوتی ہیں بس ویسی ہی ہے ماں باپ اچھے ہیں۔ ملنسار اور شریف۔ شبانہ سے عون کو تم نے ہی ملوایا تھا ناں؟‘‘ ان کا لہجہ مبہم سا تھا وہ کچھ بھی اخذ نہ کر پائی۔
’’جی شاید…‘‘ وہ ذہن پر زور دینے لگی کہ کب اس نے شبانہ اور عون کی ملاقات کروائی تھی لیکن اسے ایسا کوئی واقعہ یاد نہ آیا وہ سمجھ گئی تھی عون نے اسے جلانے کے لیے شبانہ کا انتخاب کیا تھا۔ لیکن وہ کیوں جلے گی؟ اس نے سر جھٹکا۔
’’مجھے عون نے بتادیا تھا کہ تم اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی ہو۔‘‘ تائی اماں نے اتنے آرام سے یہ بات بتائی تھی کہ وہ سناٹے میں رہ گئی۔ اس سے نظریں نہ اٹھائی گئیں کیونکہ جو کچھ وہ بول رہی تھیں وہ سننے کے بعد اس میں سکت ہی نہ رہی تھی۔
’’ساڑھ ستی والی بات من گھڑت تھی ناں میں نے عون سے پوچھا تھا اور اس نے کچھ بھی نہ چھپایا تھا۔ سب کہہ دیا تھا۔ اس کا ایکسیڈنٹ‘ تمہارا انکار‘ وہ بہت چاہتا تھا تمہیں زیمل… افسوس تم نے قدر نہ کی۔ لیکن چلو خیر اسے عقل آگئی۔ تم بھی بیٹی ہو اس گھر کی۔ تمہیں کچھ کہہ تو نہیں سکتی میں۔ یہ تو دل کا سودا ہوتا ہے زبردستی نہیں کیا جاسکتا۔ شبانہ ہم سے اسٹیٹس میں کم ضرور ہے لیکن سمجھ دار ہے۔ عون کو سمیٹ لے گی۔ اﷲ تمہیں تمہاری خوشیاں مبارک کرے سدا سکھی رہو تم‘ آمین۔‘‘ انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور پھر خاموشی سے اٹھ کر اندر چلی گئیں۔
اسے اپنا وجود بے وقعت محسوس ہورہا تھا۔ عون سے محبت اور وہ تھا بھی نہیں اس کی محبت کے قابل اس نے ہمیشہ کی طرح ہٹ دھرمی سے سوچا اور اٹھ گئی۔ اب وہ کبھی عون سے رابطہ نہیں کرے گی۔ اس نے اپنے موبائل سے عون کا نمبر ہی ڈیلیٹ کردیا۔ وہ اتنی ہی انتہا پسند تھی فوراً غصہ کر جانے والی‘ فوری فیصلہ کرلینے والی۔ چاہے کتنا نقصان ہوجائے۔ گھر آکر وہ دروازہ بند کرکے لیٹ گئی۔ وہ کیوں فیصلہ نہ کر پارہی تھی کہ آخر اسے کس کا ساتھ چاہیے تھا۔ عون کا یا ظفریاب کا۔ وہ کس کا غم منا رہی تھی؟ اس نے فون اٹھا کر ان باکس کھولا ظفریاب کے کتنے ہی ان ریڈ میسجز تھے وہ انہیں پڑھنا نہیں چاہ رہی تھی۔ وہ اس پر اعتبار نہیں کرنا چاہ رہی تھی۔ اس کی پاسبان عقل تھی اور عقل اور محبت دونوں متضاد راستے تھے۔ وہ شش و پنج میں تھی دل محبت کی تال پر دھڑک رہا تھا لیکن دماغ منع کررہا تھا۔ اس نے ان باکس کھولا۔ تیس میسجز تھے پچھلے پندرہ دنوں میں اس نے یہی کام کیا تھا شاید۔ وہ یکے بعد دیگرے پڑھنے لگی۔

وقت جیسے تھم جائے
سانس جیسے رک جائے
پل بھر کا روٹھنا اس کا
کیسا عذاب دے۔‘‘
’’بولی!
باہر بارش ہے
میں ہنس دیا
بارشوں سے اس کو کچھ
ایسی ہی محبت ہے
اس کو خبر نہیں شاید
میرے اندر برسوس سے
ایسی ہی بارش برستی ہے
وہ جو جان جائے تو
بس مجھ سے پیار کرے‘‘

/…/…/…/

وہ ایک لڑکی
گلاب چہرے پر مسکرہٹ
چمکتی آنکھوں میں شوخ جذبے
وہ جب بھی کانچ کی سیڑھیوں سے
سہیلیوں کو لیے اترتی
تو ایسے لگتا ہے جیسے دل میں اتر رہی ہو
کچھ اس تیقن سے بات کرتی ہے
کہ جیسے دنیا اس کی آنکھوں سے دیکھتی ہو
وہ اپنے رستے پر دل لبھاتی
ہوئی نگاہوں سے ہنس کر کہتی ہے
تمہارے جیسے بہت سے لڑکو سے
میں یہ بایتں
بہت سے برسوں سے سن رہی ہوں
میں ساحلوں کی ہوا ہوں
نیلے سمندروں کے لیے بنی ہوں
وہ ساحلوں کی ہوا سی لڑکی
جو راہ چلتی ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے دل میں اتر رہی ہو۔

(اس نے امجد اسلام امجد کی نظم میں اپنی مرضی سے ردو بدل کیا تھا)
اس نے ان باکس بند کیا اور اس کا نمبر ملالیا۔
’’میں تم سے ملنا چاہتی ہوں۔ جگہ ڈیسائیڈ کرلو۔‘‘ اس کے کال اٹینڈ کرتے ہی اس نے کہا اور پھر مزید کچھ سنے کال ڈسکنیکٹ کردی تھی۔ اس نے اپنے دل کی بات پر اپنے دماغ کو مطمئن کیا اور سکون سے سوگئی تھی جو ہوگا دیکھا جائے گا اور پھر اس نے پلٹ کر عون کے بارے میں سوچا ہی نہ تھا۔ وہ سب کچھ بھول گئی تھی۔ دہی بھلے‘ چنے پکوڑے‘ باٹا پور کے دہی کی چٹنی والے سموسے وہ پلٹ کر وہاں گئی ہی نہیں اور وہ کبھی سمجھی ہی نہیں کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔ اسے تو عون سے محبت نہیں تھی پھر اس نے ایسا رویہ کیوں اختیار کیا؟ ایسا ری ایکشن کیا معنی رکھتا تھا بس اسے دکھ ہوا تھا اس دوستی کے ٹوٹ جانے کا۔ اسے عون پر اعتبار تھا اور اس شخص نے اس کے اعتبار کو ٹھیس پہنچائی تھی۔ اس نے شبانہ سے شادی کا فیصلہ محض اسے جلانے کی خاطر کیا تھا ورنہ وہ جانتی تھی شبانہ اور اس کا کوئی مقابلہ نہ تھا۔ وہ دوبارہ کبھی عون کے گھر بھی نہیں گئی تھی۔ تائی اسے شرمندگی خیال کرتی تھی اور مام اور ڈیڈ اس کی ہٹ دھرمی۔ اور جب اس نے احتشام الدین کے بیٹے کے پروپوزل سے بھی انکار کیا تھا تو ڈیڈ غصے میں آگئے تھے۔
’’تم کیا کرنا چاہتی ہو؟ کیا تم اپنی ماں کی طرح یہ ثابت کرنا چاہتی ہو کہ تمہیں کسی کی پروا نہیں سوائے اپنے آپ کے۔ پہلے تم نے عون کو ریجیکٹ کیا اب رضی کو۔ میرا بڑا بھائی خفا ہوگیا مجھ سے۔ اب احتشام الدین۔ تمہیں اندازہ نہیں تمہارا بگاڑ ہمیں کہاں پہنچادے گا۔ احتشام الدین کوئی معمول سیاست دان نہیں۔‘‘ وہ طیش میں تھے وہ سکون سے سب سنتی رہی۔
’’ڈیڈ… آپ کے سارے رشتے آپ کے بزنس ڈیل پر چلتے ہیں اور میں اس کا حصہ بننے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ نہ عون‘ نہ رضی نہ کوئی اور۔ کم از کم آپ کے سرکل کا تو بالکل نہیں… مجھے نہیں گزارنی جمع تفریق والی زندگی میں جینا چاہتی ہوں ایک نارمل زندگی۔ مجھے کسی کے بنگلے‘ کوٹھیاں شمار نہیں کرنا۔ کسی کا بینک بیلنس اور سوشل اسٹیٹس نہیں چاہیے۔ ایک انسان چاہیے خواہ وہ کسی ہوٹل کا ویٹر ہو یا دیہاڑی مزدور۔‘‘ وہ بغاوت پر آمادہ تھی۔
’’یہ سب… یہ ساری باتیں۔‘‘ خزینہ مام نے بھی حصہ لیا۔
’’فلموں‘ کہانیوں میں اتنی بار دہرائی جاچکی ہیں کہ اب انتہائی بورنگ لگتی ہیں اور پتہ ہے ڈیئر بیٹا ایسی کہانیوں کے اینڈز بھی لوگوں کو ازبر ہوچکے ہیں۔ سو مائی ڈیئر زیمل حسان۔ اب کی بار کچھ نیا کرو۔ اسٹوری میں کوئی ٹوئسٹ ہونا چائیے۔ یہ غریب دیہاڑی دار مزدور‘ ویٹرز‘ واٹ ربش۔ کوئی مزہ نہیں رہا ایسی کہانیوں میں۔ انسان اپنے جیسے لوگوں میں ہی اٹینڈ کرتا ہے اور اچھا لگتا ہے۔ زندگی کی حقیقتیں بہت تلخ ہیں۔ تم سمجھتی ہو غریب لوگوں کی طرح فٹ پاتھوں اور ٹھیلوں پر کھڑے ہوکر کھانا اصل زندگی ہے۔ تمہارے پرس میں موجود ہزاروں نوٹ تمہاری اصلیت بتاتے ہیں۔ ایک دیہاڑی دار تو اس طرح کی سیر و تفریح موج میلہ افورڈ ہی نہیں کرتا۔ وہ یہ سب انجوائے نہیں کرسکتا کیونکہ اس نے انہی پیسوں سے اپنے بچوں کو روٹی کھلانی ہوتی ہے۔ حقیقت پسند بنو اور یہ کہانیوں والی زندگی جینا چھوڑ دو۔‘‘
خزینہ مام نے گویا سارا حساب چکتا کردیا تھا وہ بحث میں نہیں پڑنا چاہتی تھی اس لیے خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی آئی۔ ہاں وہ اپنی مام کی طرح خود غرض تھی اور ہمیشہ اپنے بارے میں سوچتی تھی۔ کوئی اس کے بارے میں جو سوچتا ہے سوچے۔ اب وہ ہر شام ظفریاب کے ساتھ گزارنے لگی تھی۔ اس نے ظفریاب سے اس کے بارے میں ایک بھی سوال نہیں کیا تھا۔ وہ کون تھا کہاں سے آیا تھا‘ کیا کرتا تھا؟ اسے غرض ہی نہ تھی۔ وہ اس سے محبت کرتی تھی یہی کافی تھا اس کے لیے۔ وہ بہت خوب صورت باتیں کرتا تھا۔ اس کی آواز‘ اس کا لب و لہجہ جیسے کوئی سحر تھا۔ وہ بولتا جاتا اور ایک سحر زیمل حسان کے گرد پھیلتا جاتا۔ وہ چپ چاپ اس کی شکل دیکھتی رہتی۔
اس کی آنکھیں اتنی خوب صورت تھیں کہ زیمل کا دل ڈوب ڈوب جاتا‘ وہ ہنستا تو زیمل کو کائنات کی ہر شے ہنستی محسوس ہوتی۔ اس کے سیاہ گھنے گھونگریالے بال ایک خاص اسٹائل میں ماتھے پر پڑے رہتے۔ سرخ و سپید رنگت اور مضبوط جسم۔ زیمل صرف اسے دیکھتی تھی‘ سنتی تھی۔ ان پیسٹھ دنوں میں ایسا لگتا تھا جیسے زندگی ظفریاب احمد سے شروع ہوکر اسی پر ختم ہوتی تھی۔ اس کے پاس بات کرنے کو ہر روز نیا موضوع ہوتا تھا۔ سیاست سے لے کر موسم تک وہ ہر بات اس قدر تفصیل سے ڈسکس کرتا کہ زیمل اسے انسائیکلوپیڈیا کہنے پر مجبور ہوگئی۔ اس کی معلومات کا خزانہ وسیع تھا اسے بات کرنے پر عبور حاصل تھا۔ اور شاید دلوں پر حکمرانی کرنے کا فن بھی اسے بخوبی آتا تھا۔ اس شَخص نے اس کی ساری عادتیں چھڑوا دی تھیں۔
’’ انسان کا اسٹینڈرڈ اس کے اٹھنے بیٹھنے حتیٰ کہ بول چال اور کھانے پینے سے ظاہر ہونا چاہیے۔ تم کوئی عام سی امیر لڑکی نہیں ہو۔ زیمل حسان شہریار ہو۔ آدھے شہر کی لڑکیاں تمہارے لائف اسٹائل کی متمنی ہوں گی اور تم اپنا اسٹینڈرڈ ان فٹ پاتھوں پر ضائع کرتی پھر رہی ہو۔ آج کے بعد میں دیکھوں نہیں ان تھرڈ کلاس ٹھیلوں پر خوار ہوتے۔‘‘ وہ بول رہا تھا اور وہ اس کی ہر بات پر لبیک کہہ رہی تھی۔ واقعی وہ اپنا اسٹینڈرڈ کیوں خراب کرتی پھر رہی تھی۔ شام کے چار گھنٹے اس کے ساتھ گزارنے کے باوجود وہ رات گئے تک اس سے چیٹنگ کرتی۔ ایس ایم ایس بھیجتی اور جب وہ تھک کر اپنے سونے کا اعلان کرتا تو وہ اس کے سپنے پلکوں کے کنارے پر رکھے جانے کہاں کی سیر کر آتی۔ محبت زندگی کو کتنا اہم کتنا حسین بنادیتی ہے یہ اسے اب سمجھ میں آیا تھا۔ اس روز نرمین کا فون آگیا۔
’’کہاں غائب ہو یار کوئی رابطہ نہیں؟‘‘ اس نے شکوہ کیا۔
’’بس۔‘‘ وہ ہنس پڑی اور نرمین کو اس کی خوب صورت ہنسی دکھائی دی تھی۔ وہ جب ہنستی تھی تو اس کی بڑی بڑی شربتی آنکھوں میں نمی سی تیرنے لگتی تھی۔ اور اس سمے وہ اتنی پیاری لگتی تھی کہ نرمین اسے دیکھتی رہ جاتی تھی اب بھی تصور کی آنکھ سے اس نے دیکھا تھا۔
’’تم نے بتایا نہیں کہ… شبانہ اور عون کی منگنی ہوگئی؟‘‘ اس نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔ وہ ایک لمحے کو چپ سی ہوگئی۔
’’ہاں مجھے بھی دیر سے پتہ چلا۔ وہ بھی بائی چانس۔ اینی وے تم کہو تمہارا ٹیپو سلطان معرکے سے لوٹا کہ نہیں۔ بائی دا وے وہ کیا کرتا ہے کہو تو پتہ کرواؤں؟‘‘ اس نے آفر دی۔
’’نو… نو مجھے پتہ ہے کیا کرتا ہے کہاں ہوتا ہے؟ کیا ایکٹویٹیز چل رہی ہیں تمہاری؟ آؤٹنگ کا پروگرام بنالو۔ میرے پاس چلی آؤ۔ ذرا گاؤں کی لائف بھی انجوائے کرو۔ صاف شفاف‘ خوب صورت زندگی۔ تمہیں اچھا لگے گا بڑے مہمان نواز ہیں ہم گاؤں والے۔‘‘ وہ اترائی۔
زیمل نے ہاں میں ہاں ملائی۔ آئیڈیا برا نہیں تھا جایا جاسکتا تھا۔ لیکن مام اور ڈیڈ سے پرمیشن ملنا بے حد مشکل تھا۔ وہ اسے کبھی گاؤں نہ جانے دیتے پھر اکیلی۔
’’ہاں چلو سوچتے ہیں۔‘‘ نرمین کو اللہ حافظ کہہ کر وہ تیار ہونے لگی۔ اسے کچھ شاپنگ کرنا تھیں۔ آج ظفریاب آؤٹ آف سٹی تھا۔ اس لیے شام کے چار گھنٹے کسی نہ کسی طرح تو بتانے ہی تھے۔ وہ اس کے ساتھ اتنا زیادہ وقت بتاتا تھا کہ اسے شک ہونے لگتا وہ کہیں بے روز گار تو نہیں اس قدر فراغت اور اطمینان تو فارغ مند کو ہی نصیب ہوتا ہے اور پھر اس دوران اس کی کبھی کوئی کال نہیں آئی تھی۔ وہ اسے بھرپور وقت دیتا تھا محبت بھرا وقت… وہ اس پر… اس کی محبت پر خود سے زیادہ انحصار کرنے لگی تھی۔ بڑے دنوں بعد اس نے خود سے شاپنگ کی تھی۔ اور زیادہ تر ظفریاب کے لیے۔ اس کی شرٹس‘ کف لنکس‘ پرفیومز ایک خوب صورت سا والٹ‘ ریسٹ واچ وہ خریدتی چلی جارہی تھی۔
کریڈٹ کارڈ سے پے منٹ کرنے کے بعد وہ شاپنگ بیگز سنبھالتی باہر نکلی تبھی اسے لگا ایکسیلیٹر سے اوپر جاتا وہ ظفریاب ہی تھا۔ اسے یقین نہیں آیا اس نے ذرا اور پاس آکر دیکھا اس کی زیمل کی طرف پشت تھی لیکن اس کا قد کاٹھ‘ بال‘ حتی کہ شرٹ بھی۔ یہ شرٹ اس کی فیورٹ تھی اور ہفتے میں کم از کم تین بار تو اس نے پہن ہی رکھی ہوتی تھی اوپر پہنچ کر وہ دائیں طرف مڑگیا اور تبھی زیمل کے شبے کی تصدیق ہوگئی۔ وہ ہنیڈرڈ پرسنٹ ظفریاب ہی تھا۔ اس کے معاملے میں وہ دھوکہ کھا ہی نہیں سکتی تھی۔ لیکن کھا گئی تھی۔ ظفریاب نے تو کہا تھا کہ آج وہ آؤٹ آف سٹی جارہا تھا اور اگلے دو دن وہ اسے نہیں مل سکے گا۔ پھر وہ یہاں تھا۔ اسی شہر میں تو اس نے جھوٹ کیوں بولا۔ وہ الجھتی ہوئی گاڑی میں آبیٹھی اس کا نمبر ملایا جو دوسری بیل پر ریسیو کرلیا گیا۔
’’کہاں ہو ظفر؟‘‘ اور اس نے ذرا بھی گڑبڑائے بغیر پوچھا۔
’’تمہیں بتایا تو تھا آؤٹ آف سٹی۔‘‘
’’اور اگر میں کہوں کہ میں نے ابھی تمہیں شاپنگ مال میں دیکھا ہے۔ تم نے اپنی فیورٹ شرٹ پہن رکھی ہے تو؟‘‘ وہ زور سے ہنس پڑا۔
’’تو یہ کہ… یہ میری محبت کی معراج ہے میں تمہیں ہر جگہ نظر آنے لگا ہوں۔‘‘
’’میں مذاق نہیں کررہی۔‘‘
’’میں بھی سیریس ہوں۔ اوکے پھر بات کرتے ہیں بزی ہوں۔‘‘ اس نے کال ڈسکنیٹ کردی۔ زیمل فون کو گھورتی رہ گئی۔ اس نے اس کی کال کاٹ دی تھی۔ زیمل حسان کی۔ ایک تو جھوٹ بول رہا ہے بلکہ مسلسل جھوٹ بول رہا تھا۔ غصے سے اس کی رگیں تن گئیں۔ وہ بڑی مشکل سے گاڑی ڈرائیو کرتی گھر پہنچی تھی۔ ٹی وی لاؤنج میں تائی جان براجمان تھیں۔ خزینہ مام نک سک سے تیار مہمان داری نبھارہی تھیں۔ اس نے سلام بھی نہیں کیا اور سیدھا اپنے کمرے میں گھس گئی اور جیسا کہ وہ امید کررہی تھی تھوڑی دیر بعد مجیداں اس کے سر پر موجود تھی۔
’’بڑی بیگم صاحبہ آپ کو بلا رہی ہیں۔‘‘
’’آرہی ہوں چینج کرکے۔‘‘ اس نے ناگواری سے کہا اور واش روم میں گھس گئی۔ منہ پر دیر تک پانی کے چھینٹے مارنے کے بعد اس کا دماغ کچھ ٹھنڈا ہوا۔ وہ ٹاول سے منہ صاف کرتی کمرے سے باہر نکل آئی۔ چائے کا دور چل رہا تھا اس نے مجیداں سے اپنے لیے بھی چائے لانے کو کہا اور سلام کرکے تائی اماں کے ساتھ ہی ٹک گئی۔
سینٹر ٹیبل پر تائی اماں کے بیگ کے ساتھ شادی کا چمکتا دمکتا کارڈ بھی رکھا تھا۔ جو کہ یقینا عون کی ہی شادی کا تھا۔
’’طبیعت ٹھیک ہے تمہاری؟‘‘ خزینہ مام نے پوچھا اور اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’عون کی شادی ہورہی ہے۔ تمہاری تائی اماں کارڈ لے کر آئی ہیں۔‘‘ تپانے کے ساتھ انہوں نے اپنی نوکیلی نگاہیں اس کے چہرے پر گاڑی تھیں۔ تائی اماں انہیں سب بتاچکی تھیں۔ یہ بھی خیریت تھی کہ ان دونوں نے ابھی تک اس معاملے پر اسے لعن طعن نہیں کی تھی۔
’’اچھا مبارک ہو کب ہے شادی…؟‘‘ اس نے بظاہر خوش ہوکر پوچھا۔
’’اگلے ماہ کی دس تاریخ۔ تیاری کرلو تمہارا کالج کب اسٹارٹ ہورہا ہے؟‘‘ تائی اماں نے پوچھا۔
’’بس آج کل میں رزلٹ آنے والا ہے۔ یکم سے کالج کھل جائیں گے اور پھر سیکنڈ ائیر اسٹارٹ ہوجائے گا۔ تیاری کرلی؟ شاپنگ میں کسی مدد کی ضرورت ہو تو مجھے بتائیے گا اور وہ عون ہے کہاں آج کل مہینوں ہوگئے اس کی شکل دیکھے۔‘‘ اب وہ بالکل نارمل انداز میں باتیں کررہی تھی۔ خزینہ معذرت کرکے اٹھ گئی تھی انہیں ہمیشہ کی طرح کسی پارٹی میں پہنچنا تھا۔
’’ہاں ہوگئی بس جیولری اور ولیمے کا جوڑا رہ گیا ہے وہ بھی عون کے آتے ہی فائنل ہوجائے گا۔ کہہ رہا تھا اپنی پسند کا بنوائے گا۔‘‘
’’عون کہیں گیا ہے کیا؟‘‘ وہ حیران ہوئی۔
’’تمہیں نہیں پتہ وہ بزنس کورس کے سلسلے میں کینیڈا گیا ہوا ہے پچھلے دو ماہ سے۔ دس بارہ دن تک آجائے گا۔‘‘
’’اچھا… اچھا وہ تائی اماں آپ کے لیے کھانا تیار کرواؤں؟ کھانا کھا کر جائیے گا۔‘‘ اسے مزید کچھ نہ سوجھ رہا تھا۔
’’نہیں ڈرائیور آتا ہی ہوگا۔ مجھے اور بھی بہت سارے گھروں میں کارڈ دینے جانا ہے۔‘‘ انہوں نے منع کیا۔ اسی دم اکبر نے بتایا تھا کہ ان کا ڈرائیور آگیا ہے۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔ زیمل نے دیکھا آج وہ ساڑھی میں ملبوس تھیں۔ اس نے انہیں پہلی بار اس لباس میں دیکھا تھا۔
’’ارے واہ تائی اماں آج تو بڑی اچھی لگ رہی ہیں بلکہ میم لگ رہی ہیں۔‘‘ وہ خوش دلی سے ان کی تعریف کرنے لگی۔
’’ہاں بیٹا وہ عون ہے ناں اس کی خواہش ہے کہتا ہے خزینہ آنٹی کی طرح بن سنور کر رہا کریں۔ پاگل اب اس عمر میں کیا بننا سنورنا۔‘‘ وہ سر جھٹک کر مسکرادیں۔
’’ارے کیوں نہیں۔ یہی عمر تو ہوتی ہے زیادہ بننے سنورنے کی۔ جوانی میں تو بندہ ویسے ہی بنا سنوارا لگتا ہے۔ یہ جو بوڑھے ہوتے شوہر ہوتے ہیں ناں۔ اس عمر میں زیادہ بھٹک جاتے ہیں۔‘‘ وہ ہنسی تھی۔ تائی اماں نے اس کے سر پر ہلکی سی چپت رسید کی۔ انہیں اللہ حافظ کہہ کر پلٹی تو ٹیبل پر پڑا ویڈنگ کارڈ نظر آگیا۔ اس نے اٹھا کر کھولا۔
’’عون ابرار ود شبانہ معظم سنہرے حروف میں جگمگاتے دو نام۔ کیسے پل لگایا تھا شبانہ نے عون کو اپنے نام کرنے میں۔‘‘ محبت کو اتنا ہی فاسٹ ہونا چاہیے یہ سلو موشن محبت‘ ملاقاتیں‘ چیٹنگ‘ انتظار سب پرانی فلموں میں اچھا لگتا تھا۔ آج کل نہیں اب تو وہ دور ہے پسند آیا محبت ہوئی اور فٹافٹ شادی۔ ورنہ کوئی اور اڑالے جائے گا۔
اس نے جب شبانہ کو کال کرکے یہی بات کہی تو اس نے ہنستے ہوئے کہا۔ اور وہ ناداستہ طور پر اپنی اور شبانہ کی محبت کا موازنہ کرنے لگی تھی۔ شبانہ بہت خوش تھی اور اس کی کھنکتی ہنسی اس کی جیت کی غماز تھی۔ اس نے چپ چاپ ہی محبت کی بازی کھیل لی تھی اور جیت بھی گئی تھی۔ فاسٹ لائف کی فاسٹ محبت وہ چیزیں سمیٹتی رہی اور عون اور ظفریاب کے بارے میں سوچتی رہی۔
/…/…/…/
رزلٹ آگیا تھا اور وہ بہت ہی اچھے مارکس لے کر پاس ہوگئی تھی۔ نرمین نے بھی اچھے مارکس لیے تھے۔ جب کہ شبانہ مر مر کر پاس ہوئی تھی اور ویسے بھی اب کون سا وہ آگے پڑھنے والی تھی۔ زیمل تو یہ سوچ رہی تھی کہ وہ تو شاید یہاں آئی ہی عون کو حاصل کرنے کے لیے تھی۔
’’میں یہی کہہ رہی تھی زیمل۔ میٹرک میں نائنٹی پرسنٹ مارکس لینے کے باوجود تم اس تھکے کالج میں گئیں۔ آرام سے کسی بھی میڈیکل کالج میں ایڈمیشن ہوجانا تھا تمہارا۔ نہ بھی ہوتا تو آخر تہمارے تعلقات کس دن کام آنے تھے۔ اور اب دیکھ لو اتنے اچھے مارکس آئے ہیں میں تو کہتی ہوں ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا۔ اپلائی کردو ہوجائے گا ایڈمیشن۔‘‘ خزینہ نے اس کا رزلٹ سنتے ہی اپنا فیورٹ لیکچر دیا تھا۔ اس نے ناک چڑھائی۔
’’میں نے میڈیکل میں جانا ہوتا تو پہلے ہی چلی جاتی۔ مجھے فیشن ڈیزائنر بننا ہے۔ اور پلیز بار بار مت کہا کریں مجھے۔‘‘ وہ اٹھ کر اندر آگئی تھی۔ آج چار دن ہوگئے تھے ظفریاب نے اس سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا۔ غصے میں اس نے بھی کال نہیں کی تھی اور اس سے زیادہ مزاج والا وہ بن گیا تھا۔
اپنے رزلٹ کے بارے میں اس نے اسے ایس ایم ایس کردیا تھا۔ اور جواباً اس نے مبارک باد لکھ بھیجا۔ اسے اور غصہ آیا۔ اب وہ اس سے کبھی بھی بات نہیں کرے گی۔ آیا بڑا شہزادہ کہیں کا۔ اگلے دن اسے کالج جانا تھا۔ ڈیوز جمع کروانے۔ اس نے نرمین کو کال کی وہ نیکسٹ ویک ایک ہی دفعہ کرنے کا کہہ رہی تھی۔ وہ خود ہی کالج چلی آئی۔ ڈیوز جمع کروا کے جب وہ آفس سے باہر نکلی تو اسے شبانہ مل گئی۔ اسے حیرت ہوئی۔
’’کالج جوائن کررہی ہو کیا؟‘‘
’’ہاں…‘‘ اس نے برا سا منہ بنایا۔
’’میں نے تو سوچا تھا شادی کرکے جان چھوٹ جائے گی لیکن وہ تمہارا خبطی کزن۔ کہہ رہا ہے مجھے اپنی اسٹڈیز کمپلیٹ کرنا پڑے گی۔‘‘ وہ چڑی ہوئی لگ رہی تھی۔
’’تو شادی کو کچھ عرصے کے لیے روک دیتے۔‘‘ یونہی بے خیالی میں اس کے منہ سے نکل گیا تو شبانہ نے بڑی طنزیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
’’تاکہ عون میاں کا ارادہ ایک بار پھر بدل جاتا۔ اسے کوئی اور پسند آجاتی۔ محبتیں بدلنے میں تو ماہر ہے ناں تمہارا کزن۔‘‘ اس نے ’’کزن‘‘ پر خاصا زور دیا تھا۔ زیمل گڑبڑا گئی۔ لیکن فوراً سنبھل بھی گئی۔
’’ایسی تو کوئی بات نہیں اور اگر ایسی ہی بے اعتباری ہے تمہیں اس پر تو سوچ سمجھ کر انتخاب کرتیں۔ کل کو شادی کے بعد اس نے اپنی عادت دہرائی تو…‘‘ اس نے اس کا وار لوٹا دیا تھا۔
’’نہیں… خیر یونہی کھلا نہیں چھوڑوں گی۔‘‘ شبانہ نے معنی خیزی سے کہا۔
’’اچھا چھوڑو آؤ کینٹین سے کچھ کھاتے ہیں۔‘‘ زیمل نے موضوع بدلا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر کینٹین کی طرف آگئی۔ سموسے اور کوک لے کر وہ پیپل کے درخت کے نیچے آبیٹھیں۔ شبانہ کا انداز عجیب سا تھا۔ وہ نارمل ہوکر اس سے شادی کی تیاری کا پوچھتی رہی۔ عون نے اس کے لیے مہنگی ترین شاپنگ کی تھی۔ (اب جس طبقے سے شبانہ کا تعلق تھا اس کے لیے تو بڑے بڑے شاپنگ مالز میں جانا کسی خواب سے کم نہیں تھا)۔
’’ارے ہاں… زیمل…‘‘ شبانہ نے کوک کا آخری سپ لیتے ہوئے عجیب سی نظروں سے اسے دیکھا۔
’’تمہارے پاس وہ غزل ہے۔ کمال ضبط کو میں خود بھی آزماؤں گی۔‘‘ اور بس یہیں زیمل کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ وہ کس بات کا جشن منا رہی تھی اور کیا سمجھ رہی تھی کہ عون نے زیمل کو چھوڑ کر اس کا انتخاب کیا ہے۔ اس کا غرور توڑ نا ضروری ہوگیا تھا۔
زیمل حسان نے تو کبھی کسی کی ناجائز بات نہیں سنی تھی اور جو اتنی دیر سے چپ تھی تو محض دوستی کی خاطر۔ لیکن مزید چپ رہنے کا مطلب سراسر زیادتی تھا اپنے آپ سے۔ اس نے ہاتھ میں پکڑی سموسوں کی پلیٹ ٹیبل پر رکھی۔ ایک گہری نظر اس کے فاتحانہ چہرے پر ڈالی اور شروع ہوگئی۔
’’شبانہ معظم… تم کیا سمجھ رہی ہو؟ میرا خیال ہے تمہیں بہت بڑی غلط فہمی ہوگئی ہے اپنے بارے میں بھی اور شاید میرے بارے میں بھی اگر تم سمجھ رہی ہو کہ میرا کزن عون تمہاری محبت میں بلکہ عشق میں مبتلا ہوگیا ہے اور اس کے لیے اس نے مجھے چھوڑ دیا ہے تو تمہاری بہت بڑی بھول ہے۔ عون ابرار مجھ سے محبت نہیں عشق کرتا ہے اور ساری عمر کرے گا یہ لکھوالو مجھ سے۔ (اتنا زعم‘ اتنا یقین) وہ جو تمہاری طرف گیا ہے ناں تو محض اس لیے کہ اسے میں نے ریجیکٹ کیا ہے۔ میں نے منع کیا ہے اس کو شادی سے اور شاید تبھی وہ تمہاری طرف آیا ورنہ تم کتنے پانی میں ہو۔ ہر لحاظ سے تم بہت اچھی طرح جانتی ہو۔ تم غرور کے جس پہاڑ پر کھڑی ہو ناں میری ایک فون کال تمہیں اتنا نیچے گرائے گی کہ اپنا نام و نشان ڈھونڈ نہیں پاؤ گی۔ کسی زعم میں مت رہنا۔ وہ صرف میری ضد میں تمہیں اپنا رہا ہے میں آج اسے کہوں پلٹ کر نہیں دیکھے گا تمہاری طرف۔‘‘ اپنے دل کا بوجھ شبانہ کے اوپر انڈیل کر وہ یہ جا وہ جا اور شبانہ یوں بیٹھی تھی کہ کاٹو تو لہو نہیں۔
وہ تو اپنا آپ اس کے سامنے اہم بنانے چلی تھی اور زیمل حسان پل بھر میں اس کو اس کی اوقات یاد دلا گئی تھی۔ واقعی تھا کیا اس کے پاس۔ جو عون اس کی محبت میں یوں دیوانہ وار مبتلا ہوگیا تھا۔ نہ شکل و صورت نہ اسٹیٹس نہ ذہانت کچھ بھی تو نہیں وہ تو زیمل حسان کے مقابلے میں صفر تھی بالکل۔ اس کی خوش فہمی کا بت پاش پاش ہوگیا تھا زیمل بری طرح ڈسٹرب ہوچکی تھی اس کا یہ وطیرہ نہیں تھا لیکن کبھی کبھار کچھ لوگوں کو آسمان سے زمین پر لانا ہی پڑتا ہے ورنہ وہ آپ کا جینا حرام کردیں شبانہ کا ذہنی معیار اس کے ماحول کا عکاس تھا اور اب اسے عون پر ترس آرہا تھا کہ اس نے اپنے لیے ایک غلط لڑکی کا انتخاب کرلیا تھا لیکن اس سارے میں وہ خود ہی ذمہ دار تھا اور پورے پندرہ دن بعد وہ آگیا اسی کیفے میں جہاں وہ روز بیٹھا کرتے تھے آج زیمل کا دل بہت اداس تھا اور وہ یہاں چلی آئی تھی کافی کا آرڈر دے کر وہ اس کے پرانے ایس ایم ایس پڑھ رہی تھی جب کہ بے حد آہستگی سے وہ اس کے سامنے والی کرسی پر آکر بیٹھ گیا تھا کچھ لمحے وہ جان ہی نہ سکی۔ پھر مخصوص کولون کی خوشبو پر اس نے سر اٹھایا وہ سامنے تھا اسی طرح ہشاش بشاش ریڈ کلر کی ٹی شرٹ میں وہ بہت وجیہہ لگ رہا تھا زیمل کی آنکھوں میں پچھلے پندرہ دن کی جدائی کی اذیت تھی‘ دکھ تھا گلہ تھا اس نے دوبارہ نظریں نہیں اٹھائیں گویا ناراضگی کا تاثر تھا وہ بھی نظروں کا کھلاڑی تھا اپنی پرفسوں آنکھیں اس کے کومل چہرے پر جمائے بیٹھا رہا جب تپش اس کے رخساروں کو گرمانے لگی تو اس نے جھنجھلا کر موبائل ٹیبل پر پٹخ دیا۔
’’کیوں کرتے ہو چھچھوری حرکتیں؟‘‘ وہ غصے سے بولی‘ اس نے کچھ نہیں کہا اسی طرح بیٹھا رہا گھنی مونچھوں تلے مسکراہٹ دبائے۔
’’اب کچھ پھوٹو گے بھی کہاں تھے اتنے دنوں سے۔‘‘ اس کا غصہ اس کی خاموشی سے مزید بڑھا تھا۔
’’اور پلیز یہ مت کہنا آئوٹ آف سٹی بزی تھا۔‘‘ میں اچھی طرح جانتی ہوں تم اسی شہر میں تھے بس مجھ سے چھپ رہے تھے اور میرا تماشہ دیکھ رہے تھے۔‘‘ وہ بپھری شیرنی لگ رہی تھی۔
’’نہیں میں یہاں نہیں تھا غصہ تھوک دو اور اٹھو کسی اچھی جگہ چل کر ڈنر کرتے ہیں۔‘‘ وہ اس کے سارے گلے شکوے نظر انداز کر گیا تھا۔
’’میں گھر جارہی ہوں کھانا پکا ہوگا کھالوں گی۔‘‘ اس نے ٹیبل پر سے اپنا موبائل اور پرس اٹھایا اور کھڑی ہوگئی۔
’’بیٹھو کچھ دیر مجھے تم سے بہت ضرری بات کرنا ہے۔‘‘ اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔ زیمل نے سرعت سے اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے چھڑایا۔
’’مجھے کوئی بات نہیں سننی۔‘‘ وہ منہ پھلا کر بولی گویا بیٹھنا چاہ رہی تھی لیکن انا۔
بس اک جھوٹی انا کے واسطے برباد ہوجانا
خود کے زعم میں انسان کتنے دکھ اٹھاتا ہے
اس نے اپنی جادو جگاتی آنکھوں کا فائدہ اٹھایا اور ہمیشہ کی طرح زیمل سب کچھ بھلا کر بیٹھ گئی وہ مسکرا دیا۔
’’میں اصل میں دیکھنا چاہ رہا تھا تم مجھے کتنا مس کرتی ہو کہیں تمہاری محبت…‘‘ اس نے بات ادھوری چھوڑ کر زیمل کو دیکھا جو شکایتی نظروں سے اسے تک رہی تھی۔
’’میری محبت کو آزمانا مت ظفریاب۔ جان دے دوں گی اور لے بھی لوں گی تمہاری سمجھے۔‘‘ آخری بات کرتے کرتے وہ زور سے ہنس پڑی وہ اس سے خفا رہ ہی نہیں سکتی تھی بس غصہ آتا تھا جو کہ تھوڑی دیر میں ختم بھی ہوجاتا تھا اس شام وہ دیر تک اس کے ساتھ رہی اس نے اسے بہت اچھے ہوٹل میں ڈنر کروایا پھر اسے ایک بہت خوب صورت کرتا گفٹ کیا تب اسے بھی یاد آیا اس نے بھی ظفریاب کے لیے ڈھیروں شاپنگ کی تھی اگلے دن اسے ہاسٹل چلے جانا تھا اور وہ سوچ رہی تھی کہ وہ روز کیسے اس سے مل سکے گی اور شاید اس نے اس کی سوچ پڑھ لی۔
’’ویک اینڈ پر جب تم گھر جائو گی تو بس ہفتہ اور اتوار۔‘‘ اس نے آرام سے کہا۔
’’میں گھر مہینوں بعد جاتی ہوں۔‘‘ اس نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’تو کوئی بات نہیں مہینوں بعد مل لیا کریں گے۔‘‘ وہ بھی شرارت سے ہنسا‘ اگلے دن اس نے اس کے سارے گفٹس اس تک پہنچائے اور ہاسٹل روانہ ہوگئی سیکنڈ ایئر فرسٹ ایئر کی نسبت بہت ٹف تھا ٹیچر انہیں پہلے ہی بتاچکی تھیں فرسٹ ایئر تو زیادہ تر موج کرتے ہی گزرا تھا اصل پڑھائی تو اب شروع ہونے والی تھی۔ پرابلم والی بات زیمل کے لیے یہ تھی کہ اب اسٹچنگ اور فٹنگ بھی کرنا تھی اور وہ تو ان دونوں کاموں سے نا بلد تھی اسے تو سوئی تک پکڑنا نہیں آتی تھی کجا دھاگہ ڈالنا۔ لیکن فیشن ڈیزائنر ان تمام مراحل سے گزرے بنا نہیں بنا جاسکتا تھا سو اب اسے یہ سب سیکھنا ہی تھا۔
عون کی شادی میں دو روز ہی رہ گئے تھے ہمیشہ کی طرح مما اس کی ساری شاپنگ کرچکی تھیں ویسے بھی کپڑوں اور جوتوں کے معاملے میں وہ کانشس نہیں تھی وہ مہندی کے فنکشن میں جانے کے لیے تیار ہورہی تھی مہندی کے لیے مما نے اس کے لیے شاکنگ پنک کامدار غرارہ اور سلٹی رنگ کی شرٹ اور دوپٹہ بنوایا تھا خالص مشرقی انداز کے جھمکے اور لمبی چوٹی وہ ایک دم قیامت لگ رہی تھی کمرے سے نکلنے سے پہلے اس نے اسکائپ پر ظفریاب سے بات کی اس ہفتے ملنا مشکل تھا اور بے چینی حد سے سوا۔
’’مجھ غریب پر اتنا ظلم مت کرو۔‘‘ اس نے سراہتی نظروں سے زیمل کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’اچھا… اچھا زیادہ رومیو بننے کی ضرورت نہیں میں جارہی ہوں۔‘‘ وہ ہنس کر بولی۔
’’بہت حسین ہو تم زیمل۔‘‘ اس کا لہجہ گھمبیر ہوا تھا زیمل نے جلدی سے اللہ حافظ کہہ دیا۔ مجیداں بلانے آگئی تھی وہ اپنا دوپٹہ سنبھالتی باہر چلی آئی۔ مام اورڈیڈ اس کا ہی انتظار کررہے تھے۔ خزینہ مام سلولیس سفید ساڑھی پہنے ہوئے تھیں کانوں اور گردن میں ڈائمنڈ کی جیولری کچھ بھی تھا خزینہ بھی پہن اوڑھ کر کم خوب صورت نہیں لگتی تھی فنکشن کمبائن تھا عون نے ہی ایک بہت بڑے ہال میں فنکشن ارینج کیا تھا اس نے اپنے اسٹینڈرڈ کا بھرپور خیال رکھا تھا ہال میں انٹر ہوتے ہی اس نے دیکھا شبانہ اور اس کی فیملی پہلے ہی موجود تھی شبانہ نے یلو اور ریڈ کمبی نیشن کا کرتی گھاگھرا پہن رکھا تھا کافی نکھری نکھری لگ رہی تھی اس کا دل تو نہیں چاہ رہا تھا کہ اس سے بات کرے لیکن پھر شبانہ کی ذہنیت کو دیکھتے ہوئے وہ اس کے پاس آگئی۔
’’ہیلو کیسی ہو؟‘‘ وہ تمام تر تلخیاں بھلا کر خوشدلی سے بولی۔ شبانہ نے اس سے نظریں چرائی تھیں سامنے ہی لڑکیاں ڈھولک رکھے طبع آزمائی کررہی تھیں اسی دم شبانہ کی بہنیں اور امی اسٹیج پر آئیں تو وہ ان کا تعارف کروانے لگی۔ زیمل سب سے خوش دلی سے ملی تبھی اس کی نظر عون پر پڑی۔ وہ لوگ اپنی گاڑی میں آئے تھے اور عون تایا تائی کے ساتھ اپنی گاڑی میں تھا۔ باقی مہمان کوسٹر میں تھے اتفاقاً وہ اس سے مل نہیں سکی تھی بلکہ اسے تو مہینوں ہوگئے تھے اس سے ملے اس کی شکل دیکھے۔ وہ اٹھ کر عون کی طرف آگئی وہ سی گرین راسلک کے کرتے میں ملبوس فون پر کسی سے بات کررہا تھا۔ کافی ہینڈسم لگ رہا تھا وہ تھوڑی دیر اس کے فارغ ہونے کے انتظار میں کھڑی رہی جب کہ وہ اس کو نظر انداز کرتا فون پر ہی بات کرتا ہال سے باہر نکل گیا۔ وہ بجھ سی گئی گویا اس نے دوستی اور رشتہ داری سارے تعلق اس ایک تعلق کی خاطر ختم کردیئے تھے وہ مایوسی سے پلٹ آئی شبانہ کی بہنیں اور شاید کزنز ڈھولک پیٹ پیٹ کر گا رہی تھیں وہ آرام سے ایک طرف ٹک گئی۔
’’بھابی کیا دیکھا آپ نے نہ شکل نہ خاندان میں تو سمجھی تھی عون جانے کس پر مرمٹا ہے دیکھیں ناں ان کا تو رہن سہن ہی بہت مختلف ہے ایک ایک انداز سے لگتا ہے کہ لوئر طبقہ سے بی لونگ کرتے ہیں۔‘‘ یہ خزینہ مام تھیں جو تائی جان سے کہہ رہی تھیں۔ تائی اماں نے ایک نظر سامنے بیٹھی شبانہ پر ڈالی اور آہ بھر کر بولیں۔
’’ہاں خزینہ سچ کہتی ہو لیکن میرے لیے عون کی زندگی اہم ہے وہ بہت ٹوٹ گیا ہے جانتی ہو۔ زیمل نے جو کچھ اس کے ساتھ کیا اس کے بعد ہی اس نے فیصلہ کیا اچھا ہوا جلد سنبھل گیا۔ ورنہ جانے کیا کرجاتا۔ ویسے بھی جہاں مقدر تھے ہوگیا۔ رہی بات شبانہ کی تو جب ہمارے ساتھ رہے گی تو خود ہی ہمارے جیسی ہوجائے گی۔ آئیے رسم کرتے ہیں۔‘‘ وہ خزینہ کو اپنے ساتھ لے گئیں اور زیمل سناٹے میں رہ گئی تھی۔
’’سب کچھ اس کے سر پر پڑ رہا تھا۔ عون اس کا ایک راز نہیں رکھ سکا تھا۔ اس کی دوستی اور محبت کے سب دعوے کتنے بودے تھے۔ سب کی نظروں میں اسے گرا کر وہ اپنی انا کی تسکین کررہا تھا اپنی مردانگی کی تسکین۔ تب ہی تو وہ اس سے بات کررہا تھا اور نہ ہی نظر ملا رہا تھا۔ رسم کے بعد مایوں کا ہلا گلا ہوتا رہا۔ وہ خاموشی سے ایک طرف بیٹھی رہی۔ حقیقتاً وہ بھی اب غصے میں تھی۔ عون شبانہ کے ساتھ بیٹھا بہت خوش دکھائی دینے کی کوشش کررہا تھا۔ شبانہ کی بہنوں کے ساتھ بہت ہنسی مذاق چل رہا تھا۔ مام اور تائی اماں اپنے مہمانوں کے ساتھ مصروف تھیں۔ وہ ایک بار بھی اٹھ کر شبانہ کے پاس نہیں گئی اب وہ جلد از جلد یہاں سے جانا چاہتی تھی۔ ڈھنگ سے کھانا بھی نہیں کھایا تھا۔ اس نے دیکھا عون شبانہ کو زبردستی کھلا رہا تھا پتہ نہیں کیا ہوا اس نے عون کو میسج کردیا۔
’’پانچ منٹ میری بات سن لو آکر۔‘‘ عون نے میسج پڑھ کر اس پر بڑی کاٹ دار نظر ڈالی اور پھر سے شبانہ کے ساتھ مصروف ہوگیا۔
اسے ایک بار پھر گہری شرمندگی نے آگھیرا تھا۔ اور اس کے بعد اس نے وہی رویہ اپنایا جو عون نے اپنا رکھا تھا۔ بارات ولیمہ اس نے ایسے ہی اٹینڈ کیا جیسے کسی دوسری رشتہ دار لڑکی نے۔ شبانہ رخصت ہوکر عون کے گھر اور زندگی میں آگئی۔ اور عون پر بشمول اس کے سب کے حقوق پر شبانہ نے مہر لگادی۔ وہ ہاسٹل سے واپس آئی تو نرمین آچکی تھی۔
’’کیسی رہی شبانہ اور تمہارے کزن کی شادی؟‘‘ وہ الماری کھولے کھڑی تھی جب نرمین نے پوچھا۔
’’ہاں شادی…‘‘ وہ پلٹی۔ ’’ویسی ہی جیسی سب شادیاں ہوتی ہیں۔‘‘ شبانہ حد سے زیادہ مغرور لگ رہی تھی اور عون ضرورت سے زیادہ روڈ۔ چلو خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو۔‘‘ اس نے ہنس کر سر جھٹکا۔
’’اور تمہارا کینیڈا کا ٹور؟‘‘ اب وہ بیڈ شیٹ چینج کررہی تھی۔
’’وہ… وہ بھی ٹھس ہوگیا۔ اچھا یہ لو میں نے خزینہ مام سے منگوائے تھے۔‘‘ اس نے تین چار بیگز اور دو جوڑی سینڈلز اس کی طرف بڑھائے۔
’’اوہ ریئلی تھینک یو۔‘‘ اس نے فوراً تھام لیے۔ بیگز اور سینڈلز بہت خوب صورت تھے اور پھر وہ اور شبانہ تو اس کی انہی چیزوں سے متاثر تھیں۔ وہ دوبارہ سے الماری کی طرف متوجہ ہوگئی۔
’’میرا نکاح ہوگیا زیمل۔‘‘ نرمین نے اتنے آرام سے بتایا وہ تو اچھل ہی پڑی۔
’’کیا… کیا کہہ رہی ہو؟‘‘ وہ بھاگتی ہوئی اس کے بیڈ تک آئی۔ ’’سچ یار اتنی بڑی خوشی کی خبر اور تم اب دے رہی ہو۔‘‘ وہ سچ میں بہت خوش ہورہی تھی۔
’’ہوگیا پچھلے جمعے اسی لیے تو میں آئی نہیں تھی۔‘‘ اس نے اب بھی اسی سکون سے بتایا۔
’’یار… تم تو یوں پوز کررہی ہو جیسے کوئی کپڑا کوئی سینڈل خریدی ہو۔ ارے تمہارا نکاح ہوگیا اور وہ بھی اس بندے کے ساتھ جس کے لیے دن رات آہیں بھر بھر کے اس ڈربے کو تم نے سرد خانہ بنا رکھا تھا۔ اور تم ذرا بھی ایکسائٹیڈ نہیں ہو۔‘‘
’’یار کیسی ایکسائٹمنٹ۔ اس قدر منتوں کے بعد وہ اس نکاح پر راضی ہوا تھا۔ ماموں نے اس قدر منایا اس شہری بابو کو دھمکی دے ڈالی۔ تب کہیں جاکر قابو آیا لیکن بہرحال یہ بیل منڈھے چڑھ ہی گئی۔‘‘ آسودگی اور اطمینان اس کے چہرے کو جگمگا رہا تھا۔
’’خوش رہو ہمیشہ…‘‘ زیمل نے جھک کر اس کے چہرے پر پیار کیا اور اپنے بیڈ پر آگئی۔ سوچنے کے لیے بہت کچھ تھا اور بے حد لمبی رات بھی۔ سو وہ آنکھیں موندے خیالوں کی وادی میں اترتی چلی گئی۔
وہ میوزک کی کلاس لے کر نکل رہی تھی رخ گراؤنڈ کی طرف تھا۔ آج وہ ہر حال میں اپنی ادھوری پینٹنگ مکمل کرنا چاہتی تھی۔ اگلے ہفتے کلچرل رنگ کے زیر اہتمام آرٹس کونسل میں ہونے والے ایگزیبیشن میں اسے اپنی پینٹنگز بھیجنا تھیں اس کے ساتھ تھرڈ ایئرکی سرینہ بھی تھی جو ہینڈ میڈ چیزوں کا اسٹال لگا رہی تھی اسی نے اسے اکسایا تھا وہ اپنے کلرز اور بورڈ اٹھائے نسبتاً ویران گوشے میں آگئی ایک خیالی لینڈ اسکیپ تھا جس پر وہ کئی دنوں سے کام کررہی تھی بیک گرائونڈ کمپلیٹ تھا لیکن جس اینگل سے وہ لڑکی کو پینٹ کرنا چاہ رہی تھی وہ نہیں ہو پارہی تھی۔
’’ارے تم یہاں ہو میں سارا کالج چھان آئی۔‘‘ دور سے آتی نرمین نے ہاتھ ہلایا‘ وہ بھی ہاتھ ہلا کر دوبارہ مصروف ہوگئی اسی دم بیگ میں رکھے موبائل نے وائیبریٹ کیا تھا اس نے نکال کر دیکھا ظفریاب کالنگ آرہا تھا اس نے کاٹ دیا وہ کالج میں اس کا فون اٹینڈ نہیں کرتی تھی اور یہ بات اس نے ظفریاب کو سمجھائی تھی اور اس نے شروع کے ایک دو بار کے علاوہ دوبارہ ایسا کبھی نہ کیا تھا آج ایسا کیا ہوگیا تھا جو وہ بار بار کال کررہا تھا۔
’’ظفر میںکال اٹینڈ نہیں کرسکتی۔‘‘ اس نے میسج کرکے فون ہی بند کردیا نرمین تب تک پاس پہنچ چکی تھی اور اسے فون پر الجھتا دیکھ رہی تھی اس کے ساتھ ماہ نور بھی تھی وہ ان کی ہاسٹل میٹ تھی اور ان کے سامنے والے کمرے میں رہتی تھی۔
’’خیریت کس پر غصہ نکال رہی ہو؟‘‘ بالآخر نرمین نے پوچھ ہی لیا۔
’’کچھ نہیں وہ ظفر…‘‘ وہ بولتے بولتے رک گئی شاید ماہ نور کی موجودگی کا خیال آگیا ماہ نور دوسری جانب سے آکر اس کی پینٹنگ دیکھنے لگی۔
’’وائو زیمل کتنے میں سیل کروگی اسے؟‘‘ وہ سراہتی نظروں سے دیکھتی پوچھنے لگی۔
’’پچیس سے تیس ہزار میں۔‘‘
’’کیا…؟‘‘ نرمین اور ماہ نور کے منہ سے بیک وقت نکلا۔
’’کم ہے؟‘‘ وہ بے نیازی سے پوچھنے لگی۔
’’کم نہیں بہت کم لاکھ دو لاکھ تو لگائو غضب خدا کا تم کیا صادقین بن گئی ہو یا گل جی؟‘‘ نرمین نے کہا تو وہ ہنس دی۔
’’نہیں پیلو پکاسو۔ اچھا سنائو کیا حال ہے تمہارے منگیتر کا۔ اور شبانہ کب واپس آرہی ہے؟‘‘ اس نے سامان سمیٹنا شروع کردیا اب تسلسل نہیں بننا تھا۔
’’بات ہوئی تھی‘ شبانہ ہاسٹل چھوڑ رہی ہے سنڈے کو آئے گی اپنا سامان لینے بھئی اب اسے یہاں رہنے کی ضرورت نہیں ہے یہ لمبی گاڑی اور باوردی شوفر۔‘‘
’’شوفر یا شوہر؟‘‘ ماہ نور بات کاٹ کر ہنسی۔
’’ایک ہی بات ہے۔‘‘ دونوں نے اس کا ساتھ دیا تھا۔ ہاسٹل آکر اس کا ارادہ سونے کا تھا لیکن پھر ظفریاب کی کال یاد آگئی تو اس نے اس کا نمبر ملایا۔
’’ہیلو…‘‘ کافی دیر بعد اس نے کال ریسو کی موڈ آف تھا۔
’’یار وہ میں… بتایا تو تھا کالج میں فون اٹینڈ نہیں کرسکتی۔‘‘ اس نے صفائی پیش کی۔
’’فون کیوں کیا ہے یہ بتائو؟‘‘ وہ رکھائی سے بولا۔
’’ہیں… ہیں… ہیں۔‘‘ وہ چلائی۔
’’میں نے کال بیک کی ہے۔ مسٹر آپ کا ہی فون آیا تھا غالباً؟‘‘ اس نے یاد دلایا۔
’’نہیں آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔‘‘ اس نے ٹھک سے فون بند کردیا۔ وہ تلملا اٹھی۔
’’اس کا دماغ زیادہ ہی خراب ہونے لگا ہے خود ہی کرے گا کال ہونہہ۔‘‘ اس نے موبائل پرے پھینکا اور لمبی تان کر سوگئی۔ اگلے دو دن نہ تو ظفریاب کا فون آیا اور نہ ہی ضد میں آکر اس نے کیا۔ پھر وہ اپنی ایگزیبیشن میں مصروف ہوگئی اس کی شرکت کا انتظام عمیمہ مام نے کیا تھا وہ خود اس ایگزبیشن کی کرتا دھرتا تھیں عمیمہ مام بھی جانے کیا کیا کرتی تھیں اس نے کبھی غور کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی تھی بس انہوں نے کالج کے ذریعے زیمل کی شرکت ممکن بنا دی تھی اور اس کو خبر تک نہ ہونے دی تھی وہ ابھی تک یہی سمجھ رہی تھی کہ اس کا سلیکشن میڈم عظمیٰ نے اس کی قابلیت کو دیکھ کر کیا ہے وہ ظفریاب سے رابطہ کرنا چاہتی تھی لیکن اس کی خاموشی نے زیمل کو بھی طیش دلایا تھا۔
ایگزیبیشن دیکھنے خرینہ بھی آئی تھیں لیکن تھوڑی دیر کے لیے۔ انہیں اس سب سے ذرا بھر دلچسپی نہیں تھی وہ تو بس اگلے دن کے نیوز پیپر میں اپنی تصویر چھپوانا چاہتی تھی سو وہ کام ہوگیا تھا اس کے اسٹال پر رک کر انہوں نے بیسٹ وشز دی تھیں‘ عفرا کاشی اور زونیرہ نے مل کر ایک ہی اسٹال لگایا تھا اور وہاں گھریلو دستکاری کی چیزیں رکھی تھیں یہ ساری چیزیں انہوں نے مائوں کے پرانے سامان سے نکالی تھیں کچھ نانی دادی کے پرانے صندوق سے۔ چنگیریں مٹی کے نقش و نگار والے ڈیکوریشن پیسز ہینڈ میڈ اور بہت کچھ ساتھ والے اسٹال پر ایمیٹیشن جیولری مہنگے داموں فروخت ہورہی تھی اس کا اندازہ زیمل کو اس نیکلس کو دیکھ کر ہوا جو اس نے پچھلے ماہ صرف پانچ سو روپے میں خریدا تھا اور یہاں وہ پانچ ہزار میں مل رہا تھا۔
ہائی جینٹری سمجھتی تھی ہزاروں لاکھوں سے ہی تو اسٹینڈرڈ اور اسٹیٹس شو ہوتا تھا وہ عفرا سے کچھ بات کررہی تھی جب اس کی نظر انٹرنس پر پڑی۔ بلو اور گرین چیک دار ہاف سیلو شرٹ اور جینز میں وہ بلاشبہ ظفریاب ہی تھا وہ کئی ثانیے کھڑی رہ گئی اتنے دنوں کی ناراضگی نے کیسی تشنگی پیدا کردی تھی ان کے رشتے میں۔ اور اسے اب احساس ہوا تھا جیسے گزرنے والے دن تو زندگی تھے ہی نہیں اور اتنے دنوں بعد اسے یوں سامنے دیکھ کر دھڑکنیں کچھ دیر کو تھم سی گئی تھیں اور پھر جیسے عفرا کی آواز نے چونکایا۔
’’یہ تمہاری پیٹنگ کے بارے میں پوچھ رہے ہیں؟‘‘ اس نے پاس کھڑے ایک صاحب کی طرف اشارہ کیا اس نے دیکھا اور پھر عفرا کے ذمہ ڈالتی وہ بھاگ کر اس کی طرف آگئی جہاں وہ اسے ابھی دکھا تھا ہجوم تھا وہ کہیں آگے بڑھ گیا تھا یا نہیں وہ بھی اسے ہی دھونڈ رہا ہوگا یقینا وہ اس کے لیے ہی آیا تھا اسے سرپرائز دینے۔ وہ جلدی سے واپس مڑی تاکہ خود جاکر اس کے سامنے کھڑی ہوجائے اتنے دنوں کی خود ساختہ ناراضگی ختم کردے وہ ہجوم کو پرے ہٹاتی آگے بڑھتی چلی گئی سارے اسٹالز دیکھ لیے پیچھے تک ہو آئی لیکن وہ تو جیسے غائب ہی ہوگیا تھا وہ واپس اپنے اسٹال پر آئی تاکہ بیگ میں سے اپنا موبائل لے کر اسے کال کرسکے وہ صاحب جو پینٹنگ خریدنا چاہ رہے تھے ابھی تک وہیں کھڑے تھے۔
’’وینٹنگ فار یو۔‘‘ عفرا نے سرگوشی کی اس نے توجہ نہیں کی جب کہ وہ صاحب اس کی تعریف میں رطب اللسان ہوچکے تھے۔
’’محترم آپ شاید میری پینٹنگ۔‘‘ اس نے توجہ دلانا چاہی۔
’’آپ کے خوب صورت ہاتھوں سے بنی ہے خوب صورت ہی ہوگی۔‘‘ ان صاحب نے چھچھورپن کی انتہا کردی اس کا پارہ آسمان پر چڑھ گیا۔
’’اصل میں…‘‘ وہ تھوڑا سا آگے جھکی۔
’’اس وقت میرا جی چاہ رہا ہے کہ میں یہی پینٹنگ آپ کے سر پر مار کر آپ کا سر توڑ دوں مگر وہ کیا ہے کہ مجھے ابھی کسی کو ڈھونڈنے جانا ہے لیکن بے فکر رہیے میں ابھی سیکورٹی کو بھجواتی ہوں آپ کا ٹھرک پن وہی پورا کریں گے۔‘‘ وہ دانت پیستی موبائل پر ظفریاب کا نمبر ملاتی وہاں سے ہٹ گئی ان صاحب نے کھسیا کر عفرا کو دیکھا جس کو ہنسی کنٹرول کرنا مشکل ہورہا تھا۔
’’کچھ بھی ہے آپ کی دوست واقعی میں قیامت ہیں۔‘‘ اس نے جاتے جاتے بھی دل کے ارمان نکال ہی لیے تھے اور عفرا اور زونیرہ کا ہنس ہنس کر برا حال ہوگیا تھا۔ اس کا تو دماغ ہی الٹ گیا تھا جب ظفریاب نے اس کے فون کے جواب میں کہا تھا وہ اس وقت دوبئی میں ہے کسی کام کی وجہ سے۔ اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا تھا اور بصارت پر شبہ ہوا تھا وہ ظفریاب کے معاملے میں دھوکہ نہیں کھا سکتی تھی وہ لاکھوں ہزاروں کے ہجوم میں بھی سب سے نمایاں ہوتا تھا اور وہ اسے پہچان سکتی تھی۔
’’ظفریاب میں نے تمہیں ابھی یہاں ایگزیبیشن میں دیکھا ہے میری نظریں دھوکہ نہیں کھا سکتیں۔ تم ظفریاب تم مجھے بنا رہے ہو اور میں جانتی ہوں تم ابھی تک اس روز والی بات پر خفا ہو تبھی تم مجھ سے کانٹیکٹ بھی نہیں کررہے اتنی بڑی بات تو نہیں یہ پھر کیوں تم مجھ سے اس طرح بی ہیو کرکے دکھی کررہے ہو۔ تم جانتے ہو ناں تم میرے لیے کتنے اہم ہو۔ پلیز ظفریاب یوں چیٹ مت کرو مجھے۔‘‘ جانے کیا ہوا اس کی آواز بھر آگئی وہ اس کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی لیکن اس کی محبت تڑپ اٹھی تھی کیا تھی اس کی غلطی جو وہ یوں بے اعتنائی برت رہا تھا۔
’’دیکھو زیمل حسان…‘‘ وہ بولا تو اس قدربے گانگی لیے کہ اس کا دل بری طرح دھڑک اٹھا۔
’’میں تمہارے لیے کیا ہوں یہ تمہارا مسئلہ ہے مجھے کوئی ضرورت نہیں تمہیں چیٹ کرنے کی۔ کیوں کہ تم میرے لیے اتنی اہم ہو ہی نہیں۔ میں جہاں ہوں وہاں لوگوں کا آنا جانا میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا میری زندگی کی اپنی ترجیحات ہیں اور ویسے بھی لڑکی‘ جوتے اور کلون میں تین ماہ بعد بدل لیا کرتا ہوں۔ سو مجبوری ہے بائے۔‘‘ ظفریاب کی باتیں نہیں بلکہ پگھلا ہوا سیسہ تھا اسے لگا اس کی سماعتیں اور بصارتیں حتیٰ کہ اس کا پورا وجود مفلوج ہوگیا تھا ظفریاب نے اسے جیسے کسی گہری کھائی میں دھکا دے دیا تھا اونچائی سے نیچے گرنے کا شور اس قدر تھا کہ وہ کچھ بھی سمجھ نہ پا رہی تھی ہر سو اندھیرا تھا اور شور میں لڑکی‘ جوتے اور کلون تین ماہ بعد بدل لیا کرتا ہوں تین ماہ بعد… اس نے آنکھیں میچے میچے دن گن لیے تھے تین ماہ پورے ہوچکے تھے اور ظفریاب اسے بدل چکا تھا۔

آئینہ تھا کہ میرا پیکر تھا
تیری باتوں سے ابھی بکھرا ہے
آنکھ کس لفظ پر بھر آئی ہے
کون سی بات سے دل ٹوٹا ہے

اسے کتنے دن ہوگئے تھے دنیا و مافہیا سے بے خبر پڑے۔ کھڑکی کے اس پار کتنے دن اور کتنی راتیں بیت گئی تھیں اسے کچھ پتہ نہ تھا اسے تو اپنا سارا وجود ٹکڑوں میں بٹا محسوس ہوتا تھا نارسائی کا جو پتھر اس کے پندار کو لگا تھا وہ اسے اندر تک چکنا چور کر گیا تھا وہ جب بھی آنکھ کھولتی اس کی سماعتوں میں اس ہرجائی کا جملہ گونجنے لگتا۔ لڑکی‘ جوتے اور کلون… اس نے زیمل حسان کو جوتے برابر جانا تھا وہ جو کسی کو خاطر میں نہ لاتی تھی کتنے لوگ اس کی دوستی کی خواہش میں مرے چلے جاتے تھے وہ زیمل حسان یوں بے وقعت ہوئی تھی کہ اپنے آپ سے نظریں ملانا مشکل ہوگیا تھا پچھلے تین ماہ کے تین سو اڑسٹھ گھنٹے وہ اس سے ملی تھی اور جان نہ پائی تھی کہ وہ اس سے فلرٹ کررہا تھا کھیل رہا تھا دل لگی کررہا تھا اس کے جذبات کے ساتھ کسی ایک پل بھی اسے اس شخص کی نیت پر شبہ نہ ہوا تھا اس کی باتوں میں کوئی ایسا پہلو تھا ہی نہیں کہ اسے محسوس ہوتا وہ رونے لگتی‘ روئے چلی جاتی۔
اس کا رونا چیخوں میںتبدیل ہوجاتا۔ کمرے کی ہر چیز بے ترتیب ہوجاتی اور تب اسے ٹرینکولائنزر دے دی جاتیں محبت میں دھوکہ اتنا اہم نہیں تھا اس دھوکے کے نتیجے میں جو توڑ پھوڑ اس کے اندر مچ گئی تھی اس نے اسے کہیں کا نہیں رکھا تھا وہ زیمل حسان… دھوکہ کھا گئی ایک راہ چلتے آدمی سے۔ ارے پاگل محبت کی بھی تو کس سے نہ آتا نہ پتا۔ کہاں ڈھونڈوگی اسے۔ کیسے پکڑو گی گریبان اس کا اور کس سے پوچھو گی اپنی خطا۔ اس کا رونا اس کا دکھ کسی طور کم ہونے میں نہیں آرہا تھا حسان صاحب بے بس تھے اس کے لیے کچھ نہیں کرسکتے تھے لیکن وہ اپنی اکلوتی بیٹی کو یوں لمحہ لمحہ جیتے مرتے بھی نہیں دیکھ سکتے تھے انہوں نے نرمین اور شبانہ سے اس شخص کے بارے میں معلومات لینا چاہی تھیں مگر دونوں نے ہی لاعلمی کا اظہار کردیا تھا۔ اس نے کبھی اپنے دل کی بات ہم سے شیئر نہیں کی تھی دونوں کا ایک ہی بیان تھا انہوں نے اس کا موبائل چیک کیا تھا اس کا کمرہ چھان مارا تھا لیکن انہیں کچھ ہاتھ نہیں لگا تھا زیمل کے پاس اس کے موبائل نمبر کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا اور وہ نمبر بند تھا۔ سم کمپنی سے اپنے تعلقات کے ذریعے انہوں نے اس کا ایڈریس تو نکلوالیا تھا لیکن وہاں اب کوئی بھی نہیں تھا یا پھر وہ ایڈریس بھی غلط تھا وہ اپنی بیٹی کو زندگی کی طرف لانے کی ہر ممکن کوشش کررہے تھے لیکن ہر گزرتا دن ان کی کوشش کو بے کار کرتا چلا جارہا تھا۔
کچی عمر کی بانکی چاہت

روگ لگائے من کو ایسا
آنکھوں میں رہ جاتی ہے
سندو سجن خوابوں کی دھول
لاکھ منتیں مانو تم
لوٹ کر نہیں آتے
گزرے موسم
بچھڑے ساجن

اس نے ظفریاب سے ٹوٹ کر محبت کی تھی اور اب اسی طرح بکھری تھی وہ سنبھلنا چاہتی ہی نہیں تھی وہ اب بھی ایک مدہم سی امید دل میں جگائے بیٹھی تھی شاید اس کا فون آجائے اور وہ ہنس کر کہے۔
’’یار میں تو مذاق کررہا تھا ایسا ہوسکتا ہے بھلا؟‘‘ اور وہ سب کچھ بھلا کر اس کا ہاتھ تھام لے اور کہیں دور چلی جائے لیکن یہ امید اب دیئے کی ٹمٹماتی لو میں بدلتی جارہی تھی وہ بار بار فون چیک کرتی ان باکس کھولتی اور اس کے گزشتہ تمام ایس ایم ایس پڑھ ڈالتی کہیں کوئی ایسی چیز ایسی بات نظر پڑ جائے جو اس کی بے وفائی کی تصدیق کرتی ہو لیکن اس کا تو ایک ایک حرف محبت میں گندھا ہوا ہوتا تھا وہ اپنی فریز کرتی نگاہوں کو جب اس کے چہرے پر جماکر ہولے ہولے باتیں کرتا تو زیمل حسان کی محبت کو جیسے پنکھ لگ جاتے اور وہ عشق کے جہاں کی سیر کو نکل پڑتی جہاں وفا کے پھوٹتے چشمے ہر چیز کو سیراب کررہے ہوتے اور زندگی پور پور عشق کے سمندر میں غوطہ زن ہوتی ہر طرف چاہتوں کے کھلتے پھول وہ دامن میں بھرتی جاتی اور ظفریاب… اسے یاد آتا۔ ظفریاب اس وزن میں اسے دکھائی نہ پڑتا تھا ہمیشہ جب وہ محبت بھرا ہاتھ اس کی طرف بڑھا رہی ہوتی وہ اس ٹیبل پر چمچہ بجا کر اسے حقیقی دنیا میں واپس لے آیا کرتا۔
’’تم نے میرا طلسم توڑ دیا۔‘‘ وہ شکوہ کرتی۔
’’جب طلسم گر سامنے ہے تو طلسم کدہ میں جانے کی کیا ضرورت؟‘‘ اس کے لہجے کی ملائمت میں عشق ہی عشق ہوتا۔ وہ سوچتی ایسا کیا ہوگیا تھا جو وہ یوں بدل گیا تھا۔ اس روز شبانہ آگئی وہ اوندھے منہ پڑی تھی کمرے میں نیم تاریکی تھی۔
’’ارے زیمل تم ابھی تک سوگ منا رہی ہو۔‘‘ اس نے لائٹس آن کیں وہ اسی طرح پڑی رہی اس کا دل ہی نہیں کرتا تھا کسی سے ملے بات کرے۔
’’ارے زیمل…‘‘ اس نے پاس آکر کندھا ہلایا تو اس نے دیکھا وہ تیز بھڑکیلے شاکنگ پنک کلر کے ڈیزائنر جوڑے میں ملبوس تھی دونوں کلائیوں میں بھربھر چوڑیاں کانوں میں میچنگ آویزے دوپٹہ ایک طرف کندھے پر جھول رہا تھا عجیب مضحکہ خیز سا حلیہ تھا اسے ہنسی آگئی لیکن ساتھ ہی آنکھیں آنسوئوں سے بھر گئیں وہ اس کے پاس آکر بیٹھ گئی۔
’’تم ابھی تک سنبھلی نہیں یار آج کل کے دور میں کون اس طرح کی لیلیٰ مجنوں والی محبت کرتا ہے تم نے تو کمال ہی کردیا یوں پڑی ہو جیسے دنیا بس اسی پر ختم ہوگئی ہو۔‘‘
’’ہاں۔‘‘ اس نے آہ بھری۔ زیمل اٹھ بیٹھی اور لب بھینچے اس کی بکواس سن رہی تھی شبانہ نے سلسلہ کلام جاری رکھا۔
’’بس ایسا ہی ہوتا ہے محبت میں‘ تم بھی اب کیا کرو لیکن وہ کیا ہے ناں مکافات عمل۔ تم نے عون کی محبت کو لات ماری اور ظفریاب نے تمہاری محبت کو… ہا ہائے بے چاری… محبت۔‘‘ اس نے چہرے پر افسردگی طاری کرتے ہوئے زیمل کے اوپر طنز کے تیر چلا دیئے وہ اس قدر گھٹیا تھی تو نہیں پھر کیوں عون سے شادی کرتے ہی اس کی ٹون ہی بدل گئی تھی اسے ہر بندہ لوز کیریکٹر نظر آتا تھا اور ہر لڑکی دوسروں کا حق چھین لینے والی۔
’’کہہ لیا اب جائو۔‘‘ اس نے منہ پھیرا۔
’’ہاں… ہاں جارہی تھی… میں تو تمہیں یہ بتانے آئی تھی کہ میں اور عون اگلے مہینے ورلڈ ٹور پر جارہے ہیں میں تو تمہاری احسان مند ہوں سچ اگر تم عون کو نہ چھوڑتیں تو عون مجھے کبھی نہ ملتا اینی وے چلوں گی۔‘‘ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ پھر ایک دم جیسے کچھ یاد آیا۔
’’اور ہاں وہ اپنی نرمین ہے ناں آج کل فیس بک پر کسی سے دوستی بڑھا رہی ہے اور عین ممکن ہے وہ اپنے اس نام نہاد ہزبینڈ کو بائے بائے کردے۔ پوچھ کر دیکھنا تمہیں بتا دے گی بڑی کلوز فرینڈ شپ ہے ناں تمہاری۔‘‘ آخری جملہ اس نے طنزیہ کہا تھا اسے نرمین یا شبانہ دونوں کے افیئرز سے کوئی دلچسپی نہیں تھی بلکہ گزرے دنوں میں اس نے خود کو کمپوز کرنے کی کوشش شروع کردی تھی سب صحیح کہتے تھے ایک بے وفا کی خاطر یہ جنون کب تک سوار رکھتی جو اسے بھلا چکا تھا اسے بھی بھول جانا چاہئے تھا بلکہ دل سے کھرچ دینا چاہئے تھا اور شبانہ کی باتوں نے تو جیسے اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا وہ اٹھی اور کمرے میں لگے دیوار گیر آئینے کے سامنے آکھڑی ہوئی وہ خود سے پہچانی ہی نہ گئی تھی وہ تو سچ مچ اس شخص کے جوگ میں پڑ گئی تھی۔ چہرہ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اس نے اپنے ہاتھ دیکھے اپنے کپڑوں پر نظر ڈالی۔
’’ماما…‘‘ ایک دم سے اس کے منہ سے نکلا تھا۔ آج اسے عمیمہ مام کی یاد آئی تھی اگر وہ اس کے پاس ہوتیں تو دکھ کی اس گھڑی میں اسے تنہا نہ چھوڑتیں اس کی غمگساری کرتیں اسے پیار سے بہلاتیں لیکن یوں کمرہ نشین نہ ہونے دیتیں۔ خزینہ تو اس کے کمرے تک آئی ہی نہیں تھی۔ ڈیڈ البتہ جب بھی لوٹتے اس کے پاس بیٹھے رہتے اس کو سنبھلنے کی تلقین کرتے رہتے لیکن ماں اور باپ میں فرق تو ہوتا ہے ناں ماں بیٹی کی تکلیف کو خودبخود سمجھتی ہے اس پر اپنے پیار کا سایہ رکھتی ہے جب کہ باپ کو بتانا پڑتا ہے اور بہت کچھ باپ سے شیئر بھی نہیں کیا جاسکتا۔
اس کا دل چاہا ماں سے بات کرے لیکن اس سے پہلے اسے اپنا حلیہ ٹھیک کرنا تھا کچھ سوچ کر وہ باہر لان میں آگئی اتنے دنوں بعد کمرے سے باہر نکلی تھی سب کچھ عجیب سا لگا۔ وہ تھوڑی دیر کھڑی رہی پھر دونوں پائوں پھیلا کر کھڑی ہوگئی درمیان میں قریب ڈیڑھ فٹ کا فاصلہ تھا کندھے پیچھے رکھتے ہوئے ٹھوڑی اوپر اٹھا کر آسمان پر نظریں جما کر ایک گہرا سانس لیا پھر سانس کو روک کر پھر دوبارہ ایسا کیا اور بولی۔
’’اے اللہ مجھے طاقت عطا کر بے شک تو مجھے طاقت عطا کرتا ہے اور میں طاقتور ہوں۔‘‘ کہہ کر وہ کچھ ثانیے یونہی کھڑی رہی اور پھر ایک گہرا سانس لے کر خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا۔ اسے اپنا آپ ہلکا پھلکا محسوس ہوا تھا یہ ایک خاص ڈرل تھی جو اسی مقصد کے لیے تھی اور یہ اسے ظفریاب نے ہی بتائی تھی وہ جب بھی ڈپریس ہوتا تھا اسی طرح کرتا تھا جب زیمل نے اسے بتایا تھا کہ وہ ڈپریشن میں سارا کمرہ پھیلا کر سوتی رہتی ہے تو اس نے یہ ڈرل اسے کرکے دکھائی تھی اور کہا تھا کہ آئندہ سونے کی بجائے وہ یہ کرکے دیکھ لے بہت اچھا محسوس ہوگا اور اس کی بات سچ تھی کچھ دیر پہلے کے تمام منفی خیالات اس کے ذہن میں مدہم ہونے لگے تھے وہ زندگی کو جینے کے بارے میں سوچنے لگی تھی۔
/…/…/…/
عمیمہ اسے یوں اپنے سامنے دیکھ کر خوشی سے گنگ ہی تو ہوگئی تھی۔
’’تم مجھ سے ملنے آئی ہو ڈارلنگ۔‘‘ انہوں نے اس کے گال کو ہولے سے چھوا‘ کمرے میں نیل انمیل کی تازہ تازہ خوشبو رچی تھی اور مام اپنے تراشیدہ خوب صورت ناخنوں پر ہولے ہولے پھونکیں مار رہی تھیں اسے بیٹھنے کا کہہ کر انٹر کام پر ملازمہ کو ہدایت دینے لگیں اس نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے ارد گرد کا جائزہ لیا وہ ایک پُرتعیش ٹی وی لائونج تھا جس کی ایک ایک چیز امارت کا منہ بولتا ثبوت تھی مام ڈیڈ سے الگ تھیں انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا وہ شاید الگ رہ کر زیادہ اچھی زندگی گزار رہی تھیں۔
’’شہریار نے تمہیں بھیج کیسے دیا؟‘‘ ان کے بولنے سے اس کے خیالات کا تسلسل ٹوٹا۔
’’میں نے ان سے کہا میں چند دن آپ کے ساتھ گزارنا چاہتی ہوں انہوں نے بھیج دیا۔‘‘ وہ ہولے سے بولی ملازمہ جوس اور لوازمات لے آئی اور اب سرو کررہی تھی اس نے صرف جوس لیا۔
’’گڈ اچھا کیا۔‘‘ پھر ملازمہ کی طرف متوجہ ہوئیں۔
’’میرے ساتھ والا بیڈ روم صاف کروا کے سیٹ کروا دو بی بی کے لیے کسی چیز کی کمی نہیں ہونی چاہئے۔‘‘
’’جی بہتر۔‘‘ وہ سر ہلاتی چلی گئی پھر وہ اس سے ہلکی پھلکی باتیں کرتی رہیں انہوں نے اپنی آج کی تمام مصروفیات ترک کردی تھیں لنچ پر بہت اہتمام تھا انہوں نے سب کچھ اس کی پسند کا بنوایا تھا وہ تو کبھی مما سے ملی بھی نہیں تھی پھر وہ کیسے اس کی پسند ناپسند جان گئی تھیں بہت چھوٹی تھی وہ جب مام اور ڈیڈ میں علیحدگی ہوئی تھی کیوں ہوئی نہ اس نے جاننے کی کوشش کی نہ کسی نے بتانے کی۔
وہ گورنس کے زیر سایہ پلی تھی خزینہ نے بھی کبھی سوتیلی مائوں والا سلوک روا نہ رکھا تھا لیکن ماں تو پھر اپنی ہوتی ہے ناں اور اس رات وہ دیر تک عمیمہ کی گود میں سر رکھے ان کی باتیں سنتی رہی تھی جس میں ایک یہ بات بھی بتائی تھی انہوں نے کہ ان کی علیحدگی خزینہ کی وجہ سے ہوئی تھی انہوں نے مام کے ہوتے ہوئے اس سیکرٹری خزینہ سے شادی کرلی تھی اور مام یہ سب کسی قیمت پر برداشت نہیں کرسکتی تھیں انہوں نے چپ چاپ علیحدہ ہوجانے کا فیصلہ کرلیا تھا ڈیڈ نے زیمل کو اپنے پاس رکھنا چاہا تو انہوں نے خاموشی سے وہ حق بھی چھوڑ دیا اس کے جی میں آیا پوچھے مام کوئی اپنی اولاد بھی چھوڑتا ہے لیکن پوچھ نہ سکی مام اسے بھرپور وقت دے رہی تھی کبھی شاپنگ پر لے کر جارہی تھیں کبھی ڈنر‘ کبھی لنچ کبھی لانگ ڈرائیو یہ دن اس کی زندگی کو کافی حد تک بدل رہے تھے اس پر جب بھی قنوطیت چھانے لگتی وہ کھلی فضا میں آکر ظفریاب کا بتایا ہوا ڈرل کرنے لگتی۔ اسے یہاں آئے پندرہ دن ہوگئے تھے ڈیڈ کا دو چار بار فون آچکا تھا لیکن اس نے فی الحال واپس آنے سے منع کردیا تھا اس کا یہاں دل لگ گیا تھا اس گھر واپس جانے کا سوچ کر اسے تنہائی اور وحشت کا خیال ستانے لگتا۔ نرمین کا فون آیا تھا کالج جوائن کرنے کے بارے میں پوچھ رہی تھی اور اس نے فی الحال اسے بھی نہ ہی کی تھی ویسے بھی وہ سوچ رہی تھی کوئی اور کالج جوائن کرلے اور عمیمہ نے اسے شہر کے مہنگے ترین کالج کی راہ دکھا بھی دی تھی۔
’’شہریار افورڈ کرتا ہے اگر ڈیزائننگ ہی پڑھنا ہے تو اچھے انسٹی ٹیوٹ سے پڑھو۔ ڈگری پر اچھے ادارے کا نام بڑا کائونٹ کرتا ہے۔‘‘ اور چونکہ آج کل مام کے زیر اثر تھی اس لیے کچھ کچھ ذہن بنا رہی تھی مام کو ایک کام کے سلسلے میں اسلام آباد جانا تھا اور وہ اسے بھی ساتھ لے جانے پر مصر تھیں۔
’’نہیں مام۔‘‘ اس نے منع کیا۔ ’’میں گھر میں رہنا چاہتی ہوں پھر ایک دن کی تو بات ہے کل آپ آہی جائیں گی۔‘‘
’’مائی ڈیئر مجھے ایک دن سے زیادہ بھی لگ سکتا ہے تم اکیلی ادھر کیا کرو گی؟‘‘ وہ اس کے اکیلے رہ جانے کے خیال سے پریشان تھیں۔
’’تو پھر میں واپس چلی جاتی ہوں جب آپ آئیں گی تو میں دوبارہ آجائوں گی۔‘‘ وہ سمجھی مام اس کو اکیلے چھوڑنے پر ہچکچارہی تھیں۔
’’نہیں… نہیں ٹھیک ہے بس میں نوری کو سمجھا دوں گی تم جیسے ریلیکس فیل کرو۔‘‘ وہ جیسے اس کے چلے جانے کا سن کر پریشان سی ہوگئیں۔ اور یہ اس نے مام کے جانے کے بعد سوچا کہ اچھا تھا وہ ان کے ساتھ چلی جاتی اب پہاڑ سا وقت کاٹے نہیں کٹ رہا تھا مام اسے سارا دن اس قدر مصروف رکھتیں کہ وہ اپنے دکھ کے بارے میں زیادہ سوچ ہی نہ سکی۔ کبھی خیال آتا بھی تو سر جھٹک کر مام کی طرف متوجہ ہوجاتی لیکن اب اسے لگا وہ ایک دم فارغ ہوگئی ہے کتنی دیر بیٹھی وہ چینل بدلتی رہی کہیں کچھ بھی اچھا نہیں آرہا تھا سارے ایک سے ڈرامے ایک سی کہانیاں‘ وہ بور ہوکر اٹھ گئی پھر اس نے سوچا باہر لان کا چکر لگا آئے اور ابھی اس نے لائونج کا دروازہ پار کیا ہی تھا کہ عبدل آگیا۔
’’بی بی اس وقت باہر مت جائیں خطرہ ہوتا ہے۔‘‘
’’ہیں خطرہ؟‘‘ اس نے حیرت سے عبدل کی شکل دیکھی۔
’’کس بات کا خطرہ چاچا۔‘‘
’’بیگم صاحب نے منع فرمایا ہے جی۔ سو سجن سو دشمن اور خیر سے اب تو وہ گھر پر موجود بھی نہیں سختی سے تاکید کی ہے جی انہوں نے کہ جو مرضی ہو آپ گھر سے باہر قدم نہ نکالیں۔‘‘
’’مطلب میں نے اگر گھر سے باہر مارکیٹ وغیرہ جانا ہو تو بھی نہیں؟‘‘
’’جی حکم ہے بی بی جی کا ہم مجبور ہیں۔‘‘ وہ دونوں ہاتھ باندھے سر کو جھکائے کھڑا تھا اسے غصہ تو بہت آیا مگر پی گئی دوسرے لفظوں میں مام اسے قید کرکے گئی تھیں لیکن کیوں… انہیں کس سے خطرہ تھا؟ وہ ضبط کرتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی لیکن پھر کچھ سوچ کر وہ مام کی لائبریری کی طرف آگئی ان کے پاس وسیع کلیکشن تھی اردو انگریزی ادب کی اس نے چند کتابیں سلیکٹ کیں اور باہر نکلنے کو تھی کہ ٹھٹک کر رک گئی اسے اپنی بصارت پر شبہ ہوا تھا وہ دھیمے دھیمے چلتے کھڑکی کے پاس آگئی اور پھر کارنر ریک پر رکھے اس فریم کو اٹھالیا جس میں لگی تصویر نے نہ صرف اسے شدید حیرت میں مبتلا کیا تھا بلکہ اس کے زخموں کے بخیے بھی ادھیڑ ڈالے تھے تصویر میں مام اور ظفریاب تھے وہ تصویر اٹھا کر کمرے میں لے آئی تھی اور اب بے یقینی سے بیٹھی اس تصویر کو دیکھے جارہی تھی مام اور ظفریاب جس طرح کھڑے تھے اس سے لگتا تھا وہ دونوں ایک دوسرے سے اجنبی نہیں بلکہ کسی تعلق میں بندھے ہیں شاید کسی فنکشن کی تصویر تھی مام اور ظفریاب کے پیچھے کچھ اور لوگ بھی تھے جو نمایاں نہیں تھے دونوں ایک طرف دیکھ کر ہنس رہے تھے اور زیمل نے دیکھا ہنستے ہوئے اس کی آنکھیں بھی ہنس رہی تھیں اتنی شفاف آنکھوں والا شخص دھوکے باز کیسے ہوسکتا تھا اس کی ذہنی رو پھر بھٹکی اس نے سر جھٹک دیا مام سے اس شخص کا کیا تعلق تھا یہ تو مام ہی بتاسکتی تھیں لیکن یہ تھا کہ اس تصویر نے اس کے ضبط کے سارے بندھن توڑ دیئے تھے وہ چھ فٹ کا ظالم شخص تن کر اس کے سامنے کھڑا ہوا تھا اور پوچھ رہا تھا۔
’’کب بھولی ہو تم مجھے؟ اپنی آنکھوں میں دیکھو‘ جھانکو اپنے دل میں‘ ہر جگہ میں ہوں اور تم بھول بھی کیسے سکتی ہو‘ میں تو لہو بن کر تمہارے اندر دوڑتا ہوں ناں یہی کہا تھا ناں تم نے۔‘‘ وہ بے اختیاری میں سر ہلاتی رہی اس کی آنکھوں سے ساون بھادوں جاری ہوگیا تھا۔
’’تم نے بہت غلط کیا ظفر… بہت غلط… میری محبت کے ساتھ میرے دل کے ساتھ۔ میرے جذبات کے ساتھ۔‘‘ وہ رونے لگی۔ روتی رہی یہاں تک کہ اس کی آنکھ لگ گئی تھی یوں کہ وہ تصویر اس کے سینے پر اوندھی پڑی تھی۔
/…/…/…/
ٹیپو جب گائوں سے شہر پڑھنے آیا تو اس کی مسیں بھی نہیں بھیگی تھیں ان کے گائوں سے ابھی تک بنیادی سہولتیں کوسوں دور تھیں لڑکیوں کا اسکول مڈل تک اور لڑکوں کا اسکول دسویں جماعت تک تھا چوہدری صداقت کا خواب تھا کہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کو پڑھا لکھا کر بہت بڑا افسر بنائیں اور ان کے دن بدلیں میٹرک کے بعد اس نے کالج کا رخ کیا چوہدری صداقت کے دوست کے توسط سے ایک اچھے کالج میں داخل ہوگیا اور یوں ٹیپو شہری بابو بننے کی پہلی سیڑھی چڑھ گیا گائوں میں باپ جو کہ اب صرف نام کا چوہدری تھا‘ ساری زمین رہن رکھوا چکا تھا ایک پھوپی جو کہ اپنے چچا زاد سے بیاہی تھی اور اس کے جیٹھ کی بیٹی سے دو سال پہلے اس کی منگنی کردی گئی تھی وہ بچپن کے طے کیے رشتے سے خائف تھا زندگی گزارنے کے لیے اس نے بہت کچھ سوچ رکھا تھا اور اس میں وہ بچپن کی منگنی کہیں فٹ نہیں آتی تھی اس نے کبھی اس لڑکی کو رسپانس دیا تھا نہ ہی کبھی گھر والوں کو کہ وہ اس رشتے سے خوش ہے۔
شہر کی زندگی اس سیدھے سادھے ٹیپو کے لیے قطعاً مختلف تھی لیکن وہ جلد ہی شہری ماحول میں رنگ گیا تھا اس کے دوستوں نے بہت جلد اسے اٹھنے بیٹھنے کا سلیقہ سیکھا دیا تھا اب وہ شلوار قمیص کے بجائے جینز‘ شرٹ پہننے لگا تھا تیل میں چپڑے بال جدید ہیئر اسٹائل میں بدل گئے تھے یہی وجہ تھی جب وہ تین ماہ بعد واپس گائوں گیا تو سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔
’’ہا ہائے پتر…‘‘ نذیراں نے اپنی ڈھلکتی چادر دوبارہ سر پر جماتے ہوئے اسے دیکھا۔
’’تیرے تے بڑی چھیتی شہر دا رنگ چڑھ گیا توں تے پورے دا پورا ای بدل کئیوں۔‘‘ (تم پر بہت جلدی شہر کا رنگ چڑھ گیا مکمل بدل گئے ہو)
’’بس اماں جیسا دیس ویسا بھیس۔‘‘ وہ ہنستا ہوا ماں سے لپٹ گیا پھر پھوپی بشریٰ ملنے آئی تو وہ الگ حیران بلکہ پریشان زیادہ ہوئی اسے فکر لاحق ہوئی کہ یہ شہری بابو اس کی سیدھی سادھی بھیجتی سے ویاہ بھی کرے گا کہ نہیں۔ پر بھرجائی اور بھرا نے بڑی تسلی دی لیکن ایک ڈر جو اس کے دل میں سانپ کی طرح کنڈلی مار کے بیٹھ گیا تھا جانتی تھی ضرور ڈنک مارے گا اور سب کچھ زہریلا کردے گا۔ اور اپنے اندر پھن اٹھاتے اس ناگ کو دبانے کے لیے وہ جب بھی شہر سے آتا وہ ایک ہی بات لیے آموجود ہوتی۔
’’چل فیئر‘ ٹیپو سن تیرا ویاہ کریے۔‘‘ (چلو ٹیپو تمہاری شادی کرادیتے ہیں) اور وہ کانوں کو ہاتھ لگاتا۔
’’نہ نہ پھوپی۔ میں نے دس سال ویاہ دے بارے سوچنا وی نئیں۔ میرے سننے سیرے ویرے دی گل نہ کر۔‘‘ (نہیں پھوپو میں تو دس سال شادی کے بارے میں نہیں سوچوں گا میرے خواب توڑنے کی بات نہ کریں) اور بشریٰ دل پر ہاتھ رکھ لیتی اسے سب سے پہلے اپنا گھر ٹوٹتا نظر آتا وٹے سٹے کی شادیوں میں ایسا ہی ہوتا ہے وہ پہلے دبے لفظوں میں اور پھر علی الاعلان شادی کے لیے اصرار کرنے لگی تھی لیکن ٹیپو ہاتھ آکے نہ دیتا تھا وہ وکالت کے بعد سی ایس ایس کرکے جوڈیشری کا امتحان دینا چاہتا تھا اور اس کے لیے اسے ابھی بہت سال اور محنت و پیسہ بھی درکار تھا شادی کی زنجیر تو ویسے بھی وہ پائوں میں ڈالنے کو تیار نہیں تھا اور اس پینڈو لڑکی کو تو وہ پسند بھی نہیں کرتا تھا وہ فائنل ایئر میں تھا جب پھوپی کے توسط سے ہی اسے پتہ چلا کہ اس کی منگیتر المعروف نمو میٹرک کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ اس نے کندھے اچکا دیئے ہوسکتا تھا زندگی میں آگے چل کر اس کا ذہن بدل جائے اور اس لڑکی سے شادی کرنے کو تیار ہوجائے سو اس نے اپنی زبان بند ہی رکھی۔
ایل ایل بی پارٹ ون میں ایڈمیشن ہوگیا تو اس نے سوچا پارٹ ٹائم جاب کرلے کیونکہ ابا جو پیسے بھجواتے تھے اس میں اب خرچہ پورا نہیں ہوتا تھا فیس ہاسٹل کا کرایہ کھانے پینے کا خرچہ بائیک کا پیٹرول۔ وہ بہت محدود رہ کر پیسوں کا استعمال کرتا لیکن معزز دکھنے کے لیے بھی تو کچھ لوازمات کی ضرورت پڑتی تھی اچھا کپڑا آپ کے تن پر ہو تو لوگ حقیقت کا اندازہ لگاتے ہیں اور اسی حساب سے عزت کے معیار کا تعین کرتے ہیں اس نے اپنے دوستوں سے کہہ رکھا تھا کوئی ایسی جاب ان کی نظر میں ہو جس میں زیادہ وقت نہ لگے اور اسے معقول معاوضہ مل جائے اور پڑھائی پر بھی اثر انداز نہ ہو تو اسے ضرور بتائیں اور جلد ہی اس کا دوست غضنفر اس کے لیے ایسی جاب ڈھونڈ لایا تھا اس دن کالج سے واپسی پر وہ اسے اپنے ساتھ بائیک پر بیٹھا کر اس پوش علاقہ میں لے گیا تھا جہاں بڑے بڑے محل نما خوب صورت گھر تھے لیکن حد سے زیادہ سناٹا بھی تھا صرف سڑک پر رواں دواں گاڑیوں کا شور سنائی دیتا تھا ایک بہت بڑے سیاہ گیٹ کے باہر اس نے بائیک روکی تھی وہ تو گھر کو دیکھ کر ہی مبہوت رہ گیا تھا ایسے گھر اس نے صرف فلموں میں دیکھے تھے۔
’’یار تو مجھے یہاں چوکیدار لگوانے تو نہیں لے آیا؟‘‘ اس نے غضنفر سے کہا تھا جو اب انٹر کام پر اپنا تعارف کروا رہا تھا چند لمحوں میں وہ آہنی گیٹ کھل گیا وہ اندر داخل ہوئے تو گارڈ نے سامنے کی طرف اشارہ کردیا غضنفر اسے لیے ادھر بڑھ گیا۔ ٹیپو کی ساری توجہ بڑے سے بے حد خوب صورت لان کی طرف تھی جہاں رنگ برنگے پھول اور ایسے ایسے پودے تھے جو اس نے آج تک دیکھے بھی نہیں تھے لان عبور کرکے جب وہ وسیع راہداری میں پہنچے تب وہ رہ نہ سکا اور غضنفر سے پوچھ لیا۔
’’یار سچ بتا کس کے گھر لے آیا ہے کسی وزیر کا گھر لگ رہا ہے یہ مجھے تو۔ عام انسان کہاں رہ سکتا ہے ایسے محلوں میں۔‘‘
’’صبر تو کر کسی غلط جگہ نہیں لایا ابا کی کزن ہیں انہیں اپنے لیے ایک ہیلپر چاہیے پڑھا لکھا سمجھ دار اور…‘‘ غضنفر نے اسے سرتا پا دیکھا۔
’’اور کیا؟‘‘ اس کے یوں دیکھنے پر وہ چونکا۔
’’اور تمہارے جیسا خوب صورت مرد۔‘‘ غضنفر نے بات مکمل کی تو ٹیپو کے بڑھتے قدم رک گئے۔
’’کک… کیا مطلب؟ چل واپس چلتے ہیں تم مجھے کیا سمجھ رہے ہو فوراً نکلو یہاں سے۔‘‘ وہ اس کا بازو پکڑے واپس کھینچنے لگا دل ہی دل میں لاحول کا ورد جاری تھا۔
’’یار صبر تو کر غلط سمجھ رہے ہو تم خود بات کرلو ایسی ویسی کوئی بات نہیں آنٹی بے حد نفیس لیڈی ہیں اپنا بزنس ہے ان کا سوشل ورک بھی کرتی ہیں ایک این جی او بھی بنا رکھی ہے اور بڑے اچھے خاندان سے ہیں انہیں صرف چند گھنٹوں کے لیے ایک ایمان دار بندہ چاہئے جو ان کے آفس کا کام دیکھ سکے مطلب گھر میں اور وہ بھی تھوڑے عرصے کے لیے۔ لیکن اس کے لیے وہ تنخواہ بہت اچھی دیں گی تم ضرورت مند ہو آنٹی نے ابا سے ذکر کیا تھا ابا نے مجھ سے پوچھا تو مجھے تمہارا خیال آگیا بس اتنی سی بات ہے اور تم پتہ نہیں کیا سمجھ کر میری نیکی دریا میں ڈال رہے ہو۔‘‘ غضنفر اس کے رویے پر خفا سا ہوگیا تھا ٹیپو کو شرمندگی نے آن گھیرا۔ اسی وقت دروازہ کھلا اور اسے اندر بلا لیا گیا وہ تھوڑا نروس سا اندر داخل ہوا غضنفر پیچھے نہیں آیا تھا وہ ایک وسیع ہال تھا جہاں کی ہر چیز وائٹ تھی بیٹھنے والے صوفے سے لے کر دیوار پر لگے کلاک تک۔ اے سی کی ٹھنڈک میں ملی کسی مہنگے کولون کی خوشبو ماحول کو بڑا پرفسوں سا بنا رہی تھی وہ ادھر ادھر دیکھتا بڑی سی رائونڈ ٹیبل کے گرد پڑی ایک چیئر پر ٹک گیا کمرے میں کوئی تھا مگر اس کی نظر سے اوجھل تبھی دوسری طرف پڑی ریوالونگ چیئر گھومی اور ایک چہرہ سامنے آگیا ایک جدید تراش خراش کی عورت عمر شاید چالیس بیالیس ہوگی اس کے سامنے بیٹھی بڑی ناقدرانہ نظروں سے اس کا جائزہ لے رہی تھی اس کے چہرے پر گولڈن فریم کا چشمہ تھا آدھے سنہرے آدھے کالے بال شانوں پر بکھرے تھے بائیں ہاتھ میں ایک قیمتی پین تھا جسے وہ بار بار نہایت دھیمے سے ٹیبل پر مار رہی تھی جائزہ تو ٹیپو نے بھی پورا لے لیا تھا۔
’’نام؟‘‘ آواز گونجی۔
’’ظفریاب احمد۔‘‘ اس نے اعتماد سے جواب دیا۔
’’کہاں سے ہو؟‘‘ اگلا سوال ہوا۔
’’بہاولنگر سے۔‘‘
’’یہاں کب سے ہو اور کس سلسلے میں؟‘‘
’’تقریباً پانچ سال اور پڑھائی کے سلسلے میں ایل ایل بی پارٹ ون کا اسٹوڈنٹ ہوں۔‘‘
’’جاب کیوں کرنا چاہتے ہو؟‘‘
’’ظاہر ہے ضرورت مند ہوں شہر میں رہتا ہوں پڑھائی کرتا ہو۔‘‘
’’اوکے تمہیں شام چار بجے سے لے کر رات 9 بجے تک ڈیوٹی دینا ہوگی ان پانچ گھنٹوں میں تم میرے پابند ہوگے کام کوئی بھی نہیں ہوگا میں اپنی مرضی سے ان پانچ گھنٹوں میں کوئی بھی کام تم سے کروالوں گی کوئی بھی قانونی کام۔‘‘ ساتھ ہی وضاحت کردی گئی تھی شاید اس کی اور غضنفر کی باہر کوریڈور میں ہونے والی تمام گفتگو سن لی گئی تھی وہ قدرے نادم سا ہوا۔
تنخواہ کی مد میں جو رقم بتائی گئی وہ بہت زیادہ پُرکشش تھی جس نے اسے اور کچھ سوچنے ہی نہ دیا اتنی رقم سے وہ نہ صرف خود بلکہ پیچھے ماں باپ کو بھی آسائش دے سکتا تھا۔ یہ تھی اس کی عمیمہ رحمن سے پہلی ملاقات اور جاب پر جانے کے بعد اسے غضنفر کی باتوں پر یقین آگیا تھا وہ حقیقتاً نائس عورت تھی وہ کالج سے آف کرنے کے بعد سیدھا ادھر آجاتا پون گھنٹہ کا رستہ تھا ابتدا میں تو میڈم نے بس اس سے تھوڑا بہت حساب کتاب کروایا تھا لیکن رفتہ رفتہ اس کی ڈیوٹیز چینج ہوتی گئیں وہ ان کے ساتھ باہر بھی نکلنے لگا بطور باڈی گارڈ اسے تو ایسا ہی لگا تھا فنکشنز میں بھی وہ اسے اپنے ساتھ رکھا کرتیں لیکن ٹائم کے معاملے میں وہ بڑی پابند تھیں پانچ گھنٹوں سے ایک منٹ اوپر نہیں لیتی تھیں کبھی کبھار وہ اسے اپنے این جی او والے آفس میں بلا لیتیں اسے ان کے ساتھ کام کرتے ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر گیا۔
پارٹ ون اچھے نمبروں سے کلیئر ہوگیا تھا اور اب پارٹ ٹو کے فائنل ہونے والے تھے اس نے میڈم سے کچھ دنوں کی چھٹی لے لی تھی ایک تو اماں کی دائیں آنکھ کا آپریشن کروانا تھا سفید موتیا اتر آیا تھا دوسرا وہ یکسوئی سے پڑھائی کرنا چاہ رہا تھا میڈم عمیمہ نے بنا کسی اعتراض کے اسے چھٹی دے دی تھی ویسے بھی وہ پندرہ دن کے لیے کینیڈا جارہی تھیں اماں کا آپریشن ہوگیا پھوپی بشریٰ ساتھ آئی تھی خوب ہی سر کھایا اور دھمکی بھی دے دی کہ اب کہ وہ گھر آیا تو نکاح کرکے بھیجے گی وہ مسکراتا رہا فی الحال انکار کرکے وہ کوئی ٹینشن نہیں ڈالنا چاہتا تھا اماں اور پھوپی واپس گئیں تو وہ تندہی سے پڑھائی میں جت گیا اس کے خواب بہت اونچے تھے اور اس کی تکمیل کے لیے اسے سر توڑ محنت کرنا تھی لاسٹ پیپر والے دن وہ آیا تو لمبی تان کر سویا دو دن بعد اسے واپس ڈیوٹی بھی جوائن کرنا تھی وہ چاہتا تھا ڈیوٹی پر جانے سے پہلے وہ ایک چکر گائوں کا لگا آئے لیکن پھر پھوپی بشریٰ کی دھمکی یاد آگئی تو اس نے ارادہ ملتوی کردیا اگلے دن دوستوں نے آئوٹنگ کا پروگرام بنالیا غضنفر اپنے ابا کی گاڑی لے آیا تھا وہ پانچوں ٹھنس ٹھنسا کر بیٹھ گئے جلو پارک جانے کا پروگرام بنا تھا سارا دن ہنگامہ مستی کرنے کے بعد واپسی ہوئی۔ راستے میں شبیر نے انہیں مشہور دہی بھلے کھلانے کی آفر کی جسے بخوشی قبول کرلیا گیا غضنفر نے گاڑی روکی اسی وقت میڈم عمیمہ کی کال آگئی وہ واپس آچکی تھیں اور پوچھ رہی تھیں کہ وہ کب آئے گا اس نے اگلے دن کا کہا تو وہ بپھر گئیں۔
’’نہیں ابھی پہنچو۔‘‘ وہ فون کی ٹوں ٹوں سنتا رہ گیا۔ شبیر آرڈر دے چکا تھا وہ بھی انتظار کرنے لگا اور تبھی اس کی نظر سامنے ٹیبل پر بیٹھی اس لڑکی پر پڑی جو مٹی کا پیالہ ہاتھ میں تھامے دہی بھلے کھا نہیں رہی تھی بلکہ انجوائے کررہی تھی اس کے چہرے سے یہی لگ رہا تھا جیسے دہی بھلے کھانے میں اسے بہت مزہ آرہا تھا وہ بے اختیار اس کو دیکھتا گیا۔ وہ اتنی خوب صورت لگ رہی تھی کہ وہ نظریں ہٹانا بھول گیا تھا اور یہ بھی کہ اس کے ساتھ ایک اور لڑکا بھی تھا جو اس کے ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے پر قہر آلود نگاہوں سے اسے گھور رہا تھا۔ فون بجا تو اس کی محویت ٹوٹی۔ میڈم عمیمہ کی کال تھی۔
’’یہ آج ان کو کیا ہوگیا تھا۔‘‘ وہ اٹھ گیا۔ میڈم کو ناراض کرنے کا خطرہ وہ ہرگز نہ مول لے سکتا تھا۔ اس نے معذرت کی اور سڑک پر ایک آٹو میں بیٹھ کر یہ جا وہ جا۔ راستے میں اسے یاد آیا کہ وہ اس لڑکی کو ایک بار پہلے بھی گول گپے کھاتے دیکھ چکا تھا۔
میڈم عمیمہ لاؤنج میں ہی ٹہل رہی تھیں۔ چہرے پر وہ ہمیشہ رہنے والی سرخی غائب تھی۔ اس نے سلام کیا اور ساتھ ہی معذرت بھی۔
’’ٹھیک… ٹھیک۔‘‘ وہ اسی طرح ٹہلتی رہیں۔
وہ ایک طرف کھڑا انہیں دیکھتا رہا۔ کچھ پوچھنے کی ہمت نہیں تھی وہ خود ہی کچھ کہتیں تو کہتیں۔ ٹہلتے ٹہلتے رک کر انہوں نے اسے دیکھا اور پھر دیکھتی ہی رہیں۔ جانے ان کی نظروں میں کیا تھا کہ ظفریاب کی ہتھیلیاں بھیگنے لگیں۔ کہیں وہ وقت آ تو نہیں گیا جس کا اسے ہمیشہ خدشہ لگا رہتا تھا۔ اس نے ایسی مادام ٹائپ عورتوں کے بارے میں بہت سی باتیں سن رکھی تھیں۔ وہ آہستہ آہستہ چلتی اس کے پاس آگئیں۔ وہ اس سے صرف ایک قدم کے فاصلے پر تھیں۔ ظفریاب کے تو مساموں سے پسینہ پھوٹ نکلا۔ اسے لگا اگر میڈم دو قدم بھی اور آگے بڑھیں تو وہ یا تو گر جائے گا یا باہر کی طرف دوڑ لگا دے گا۔ اس میں نگاہیں اٹھانے کی سکت نہیں رہی تھی۔
’’تمہیں پتہ ہے تم کس قدر وجیہہ ہو…؟‘‘ بالآخر میڈم نے آغاز کر ہی دیا تھا۔ خطرہ کا الارم بج چکا تھا۔ وہ خاموشی سے کھڑا رہا۔ سوچ رہا تھا کس طرح بھاگے کہ دوبارہ ان کی گرفت میں نہ آسکے۔
’’اکیس… بائیس یہی عمر ہے ناں تمہاری؟‘‘
’’جی ساڑھے چوبیس۔‘‘ اس نے تھوک نگل کر بمشکل بتایا۔
وہ اس کے گرد چکر لگانے لگیں۔ پھر اس کے مقابل آگئیں۔ فاصلہ سمٹ کر دو قدم ہی رہ گیا تھا۔ اس نے آنکھیں زور سے میچیں اور بھاگنے کی تیاری کرنے لگا۔ ساتھ ہی میڈم کو گالیوں سے بھی نوازنے لگا دل ہی دل میں۔
’’قد چھ فٹ‘ سرخ و سپید رنگت‘ براؤن گھونگھریالے بال‘ شربتی آنکھیں۔ ابھی تک کوئی لڑکی نہیں مری تم پر؟‘‘ اس نے قل شریف کا ورد شروع کردیا۔ اور ساتھ ہی غیر محسوس طریقے سے قدم پیچھے ہٹائے۔
’’بھاگو مت…‘‘ انہوں نے لپک کر اس کا ہاتھ تھام لیا۔
ایک کرنٹ ظفریاب کے پورے وجود میں دوڑ گیا اس نے فوری آنکھیں کھول کر اپنا ہاتھ کھینچا تھا۔
’’کیا کررہی ہیں آپ؟‘‘ لہجہ اپنے آپ ہی کرخت ہوگیا تھا۔
’’دیکھ رہی ہوں کتنی مضبوطی ہے تمہارے اندر؟‘‘ وہ ہنسی ذرا بھی شرمندہ ہوئے بغیر۔ اب یہاں رکنا محال تھا اس نے بنا کچھ کہے قدم باہر کی طرف بڑھادیے۔ یکایک ہی وہ ہر سود وزیاں سے ماورا ہوگیا تھا۔ اسے توقع نہیں تھی کہ میڈم اپنے مقام سے اس حد تک بھی گرسکتی ہیں۔ اور اسے اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرسکتی ہیں۔ بظاہر پروقار رکھنے والی عورت اندر سے اتنی بودی اور کمزور تھی وہ جان ہی نہیں پایا تھا۔
’’رکو ظفریاب…‘‘ عمیمہ کی آواز گونجی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے قدم رک گئے۔ وہ اس کے پاس آگئیں۔
’’تم رائے قائم کرنے میں بہت جلدی کرتے ہو۔‘‘ انہوں نے سرتاپا اسے دیکھا۔ ان کا رویہ اب بھی ناقابل فہم ہی تھا۔
’’میڈم آپ نے بھی میرے بارے میں غلط اندازہ لگایا۔ میں ویسا نہیں ہوں۔ مجھے اپنے کردار سے بڑھ کر کچھ عزیز نہیں۔ جاب میری ضرورت ضرور ہے لیکن اتنی بھی نہیں کہ میں ہر غلط بات پر سمجھوتہ کرلوں۔ میرے ماں باپ نے مجھے شرم و حیا کی گھٹی دی ہے… مجھے آپ کی جاب نہیں کرنا۔ کل صبح میں ریزائن بھجوادوں گا۔‘‘ اس نے بات مکمل کی اب وہ ایک مکمل پر اعتماد شخص تھا۔ عمیمہ کے چہرے پر ایک مسکراہٹ دوڑ گئی۔ وہ جا کر صوفے پر بیٹھ گئیں۔
’’ظفریاب احمد… تمہاری اور میری عمر میں آدھا فرق تو ہوگا۔ تم نے سوچ لیا کہ میں تم سے ناجائز تعلقات بنانا چاہتی ہوں۔ ہر مرد یہی سوچ لیتا ہے۔‘‘ وہ ہنسیں۔ (جب ایسی حرکتیں کرتی پھریں گی تو مرد تو ایسا ہی سوچیں گے ناں) اس نے جل کر سوچا۔
’’تم نے کبھی سوچا ظفریاب میں نے تم پر اتنا اعتماد کیوں کرنا شروع کردیا؟ ہو تو تم ایک معمولی ورکر ہی۔ پھر کیوں میں نے تمہیں اپنی زندگی کے ہر راز سے آگاہ کیا۔ یہ ڈیڑھ دو سال جو تم نے میرے ساتھ گزارے تمہیں کب لگا کہ میں ایک گھٹیا عورت ہوں۔ میرے لیے میرا کردار‘ میری عزت سب کچھ ہے۔ اٹھارہ برس ہوگئے مجھے اپنے شوہر سے علیحدہ رہتے۔ آج تک کسی مرد سے دوستی نہیں کی میں نے۔ کسی باہر کے فرد کو میرے گھر میں گھسنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ بوڑھا عبدل اور تم بس۔ ظفریاب جب میں نے تمہیں اپوائنٹ کیا تھا تب ہی میرے ذہن نے وہ کام ترتیب دے دیا تھا جو میں نے تم سے کروانا تھا۔ مجھے تم سے‘ تمہارے وجیہہ مرد ہونے سے کوئی غرض نہیں۔ میں تمہارے کردار کی مضبوطی چیک کررہی تھی کیونکہ جو کام میں تم سے کروانے جارہی ہوں اس کے لیے تمہارا مضبوط ہونا بہت ضروری ہے۔‘‘ انہوں نے بولتے بولتے ایک بار پھر اس کا سرتا پیر جائزہ لیا تھا۔ وہ سر جھکائے خاموش کھڑا تھا۔ پتہ نہیں اب وہ اس سے کیا کام کروانے جارہی تھیں جو اس کا کردار داؤ پر لگ گیا تھا۔
/…/…/…/
وہ کب سے مام کا نمبر ٹرائی کررہی تھی لیکن وہ لگ ہی نہیں رہا تھا اور یہی بات اس کی بے چینی سوا کررہی تھی۔ اسے پوچھنا تھا ظفریاب سے ان کا تعلق کیا تھا‘ اسے پوچھنا تھا اسے یوں محبت میں پھنسا کر وہ خود کیوں بھاگ گیا تھا؟ اتنا تو وہ جانتی تھی وہ دوبئی نہیں گیا تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو اس کا نمبر بند ہوچکا ہوتا۔ جب کہ اسی لوکل نمبر پر وہ بات کررہا تھا۔ اس نے دیگر بہت سارے جھوٹوں کے علاوہ یہ بھی جھوٹ بولا تھا۔ وہ تصویر پکڑے باہر آگئی۔ عبدل چاچا سوئپر سے صفائی کروا رہے تھے۔ اس نے آواز دے کر پاس بلایا اور تصویر آگے کردی۔
’’کون ہے یہ چاچا… ماما کے ساتھ کیوں کھڑا ہے؟‘‘
’’یہ تو بی بی جی ظفر صاحب ہیں۔ میڈم جی کے ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ ان کے بہت سارے کام کرتے ہیں۔‘‘ عبدل چاچا نے جو بولا اس کے کان کھڑے ہوگئے۔
’’کب سے ادھر ہیں؟‘‘
’’دو ڈھائی سال ہوگئے بی بی جی۔‘‘ عبدل نے سوچ کر جواب دیا۔
’’ادھر ہی رہتے ہیں؟‘‘
’’نہیں جی… ادھر کسی ہاسٹل میں وکالت پڑھ رہے ہیں ناں یہ۔ ادھر تو شام کے چار بجے آتے ہیں اور رات کے نو بجے چلے جاتے ہیں۔‘‘ وہ بھی پوری معلومات رکھتا تھا۔
’’آج کل کہاں ہیں۔ جب سے میں آئی ہوں میں نے تو کبھی نہیں دیکھا۔‘‘ اس کا دل یوں دھڑک رہا تھا جیسے سینہ توڑ کر باہر آجائے گا۔
’’وہ جی…‘‘ عبدل ہچکچایا۔
’’کیا جی؟‘‘ اس نے جلدی سے پوچھا۔
’’میڈم صاحبہ نے منع کردیا تھا جی آنے سے۔ جب سے آپ آئی ہیں تب سے… پر جی فون تو ان کا روز صبح سویرے آتا ہے۔‘‘ عبدل تو بڑے کام کا بندہ تھا۔ کھٹاکھٹ معلومات دے رہا تھا۔
’’کتنے بجے؟‘‘ اور عبدل نے بتایا تھا کہ اس کا فون نو سے ساڑھے نو بجے کے درمیان آتا ہے۔ وہ واپس کمرے میں آگئی۔
ذہن عجیب سی سوچوں کی آماجگاہ تھا۔ مام سے اس کا کیا رشتہ ہے۔ وہ روز صبح کس کے لیے فون کرتا ہے اور مام نے اسے یہاں آنے سے کیوں منع کیا؟ کیا وہ جانتا تھا کہ میں عمیمہ کی بیٹی ہوں۔ لیکن اس نے تو کبھی ظفریاب کو نہیں بتایا تھا۔
وہ اس کی تصویر کو بار بار دیکھ رہی تھی اور ہر بار نئے سرے سے محبت جوش مارتی تھی۔ کیا وہ اس شخص سے نفرت کرسکے گی۔ اس نے خود سے پوچھا تھا اور جواب نفی میں تھا۔ مام نے آج رات کسی بھی وقت واپس آجانا تھا۔ اور وہ چاہتی تھی کہ مام کے آنے سے پہلے اس سے مل لے۔ اس کی بے وفائی کا سبب پوچھے۔ اس نے ابھی تک مام کو ظفریاب اور اس سے اپنی محبت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا اور وہ چاہتی بھی نہیں تھی کہ مام کو اس کی ناکام محبت کا پتہ چلے۔ لیکن ایک بار وہ اس سے مل کر تمام باتیں کلیئر کرنا چاہتی تھی۔ وہ دوبارہ عبدل کے پاس آگئی۔
’’چاچا آپ کے پاس ظفریاب صاحب کا نمبر ہے؟‘‘
’’نہیں بی بی جی ہمارے پاس کہاں سے آئے گا نمبر۔ ہاں ادھر فون کے نیچے جو ڈائری رکھی ہے اس میں سارے نمبر لکھے ہوتے ہیں آپ چیک کرلو جی۔ ویسے بی بی جی سب خیر ہے ناں کوئی مسئلہ تو نہیں۔ میرا مطلب ہے کہ اگر کوئی بات ہے تو بیگم صاحبہ کو فون کرکے بلا لیں انہوں نے کہا تھا۔‘‘ عبدل نے سر جھکائے کہا تو وہ فوراً بول اٹھی۔
’’نن… نہیں۔ بس مجھے بازار سے کچھ منگوانا تھا کچھ بکس۔ آپ مام کو کچھ مت بتانا۔ وہ پریشان ہوجائیں گی۔‘‘ عبدل سر ہلاتا وہاں سے چلا گیا۔ وہ فوراً نیچے آئی۔ ڈائریکٹری اٹھائی لیکن اس میں خاص نمبر نہیں تھے۔ پلمبرز‘ الیکٹریشن‘ سوئپر‘ ٹیلر‘ مکینک سب کے نمبرز تھے کہیں ظفریاب کا نمبر نہیں تھا وہ افسردہ سی ہوگئی۔ اس سے ملنے‘ بات کرنے کی جو موہوم سی امید بندھی تھی وہ دم توڑنے لگی۔ اب اسے صبح کا انتظار کرنا تھا۔ دفعتاً ایک خیال اس کے دماغ میں بجلی کی طرح کوندا۔ سی ایل آئی میں ضرور ہوگا نمبر۔ خیال آتے ہی وہ پھرتی سے نیچے بھاگی۔ سی ایل آئی میں آج کی تین ان کمنگ کالز تھیں ایک ساڑھے نو‘ دوسری بارہ‘ اور تیسری شام پانچ بجے۔ دو نمبرز تو وہ پہچان گئی تھی مام کے تھے اور تیسرا نمبر اسی کا ہوسکتا تھا۔ اس نے جلدی سے نمبر ہتھیلی پر لکھا۔ اور پھر کچھ سوچ کر ڈائل کرلیا۔ بیل جارہی تھی۔ اس کا دل جیسے مٹھی میں آگیا تھا۔ وہ اس کی آواز سننے والی تھی… ایک دو تین… اور پھر کال ریسیو کرلی گئی۔
’’ہیلو…‘‘ ادھر سے آواز آئی تھی۔ زیمل سے بولنا محال ہوگیا۔ اس کے حلق میں آنسوؤں کے پھندے پڑنے لگے۔
’’ہیلو… ہیلو عبدل چاچا آپ ہیں؟‘‘ وہ پوچھ رہا تھا لیکن ادھر خاموشی تھی۔ اس نے ایک ٹھنڈی سانس بھری۔ ’’تو یہ تم ہو زیمل؟‘‘ وہ پہچان گیا تھا۔ زیمل کی آنکھوں سے آنسو بہہ بہہ کر اس کے رخسار بھگونے لگے۔ وہ لب کاٹتی ریسیور سے آنے والی آواز کو دل میں اتارتی رہی۔ یہ آواز اس کی زندگی تھی۔ ادھر ایک ٹھنڈی آہ بھری گئی تھی۔
’’زیمل بولو… سب خیریت ہے کیوں رو رہی ہو؟‘‘ اس کا لہجہ نارمل تھا۔ خالصتاً کاروباری۔ دکھ کے کسی بھی احساس سے ماورا۔
’’تم چاہتے ہو میں روؤں بھی ناں۔‘‘ وہ پھٹ پڑی۔ اگر وہ اب بھی نہ بولتی تو شدت ضبط سے اس کا دل پھٹ جاتا۔
’’تم ظفریاب احمد… کیا سوچ کر تم نے مجھے دھوکا دیا۔ کس حساب میں تم میرے جذبات سے کھیلتے رہے۔ کیوں ظفریاب کیوں تم نے میری محبت چھین لی مجھ سے۔ کیوں ظفریاب بولو؟‘‘ وہ پھوٹ پھوٹ کر رودی۔ ظفر یاب نے کچھ دیر ریسیور کو گھورا۔ پھر فون بند کردیا۔ وہ روتی چیختی رہ گئی۔ بادل زور سے گرجے تھے اور چھما چھم مینہ برسنے لگا تھا۔
’’تمہارا ملنا‘ تمہارا بچھڑنا ہمیشہ بارشوں سے کیوں موسوم رہا ہے ظفریاب احمد؟‘‘ اس نے آگے بڑھ کر بیرونی دروازہ کھولا۔ باہر طوفانی بارش تھی۔ شام تک تو ایسے کوئی آثار نہیں تھے۔ اسے وہ بارش یاد آگئی جب ظفریاب اس پر چھاتا تانے بحفاظت عون کی گاڑی تک پہنچانے آیا تھا۔ اور اس کے بعد جب بھی بارش ہوئی تھی وہ اس کے ہمراہ تھی۔ اسے بارش بہت پسند تھی۔
’’بارش سب کچھ دھو دیتی ہے۔ اندرونی بیرونی ساری گرد میل اور پھر سب کچھ نکھر جاتا ہے۔‘‘ وہ کہتا تھا۔
’’ہاں سب کچھ دھل جاتا ہے۔ زخم پھر سے ہرے ہوجاتے ہیں۔‘‘ اس نے دونوں ہتھیلیاں پھیلائیں۔ تیز بوچھاڑ اس کی ہتھیلیوں کو کاٹنے لگی تھی۔ وہ اسے بہت تھوڑے عرصے کے لیے ملا تھا لیکن گہرے نقوش چھوڑ گیا تھا‘ اس نے لاکھ سمجھانا چاہا تھا دل کو‘ خود کو‘ لیکن کوئی بھی سمجھنے کو تیار نہیں تھا۔ وہ کب تک بھیگتی رہی یاد نہیں اور جب اس کی آنکھ کھلی وہ تیز بخار میں پھنک رہی تھی۔
’’کیسے ٹوٹ کے برسے رات
بادل‘ دل اور آنکھیں‘‘
/…/…/…/
وہ لڑکی ظفریاب احمد کو بہت اچھی لگی تھی۔ اتنی اچھی کہ اس روز کے بعد وہ بار بار وہاں گیا تھا۔ شاید وہ اسے دکھ جائے۔ وہ اس کا نام جان لے اس سے بات کرسکے۔ لیکن کافی دن گزر گئے وہ اسے دوبارہ نظر نہیں آئی۔ لیکن اس نے وہاں جانا نہیں چھوڑا تھا۔ پھر پندرہ دن بعد وہ اسے دوبارہ دکھی تھی۔ وہ اسی لڑکے کے ساتھ تھی اور اسی طرح مزے لے کر دہی بھلے کھا رہی تھی۔ تیز مصالحے کے باعث اس کی آنکھوں اور ناک سے پانی بہہ رہا تھا اور ٹشو سے صاف کرتی ہنستی چلی جارہی تھی۔ وہ بے خود سا بیٹھا اسے دیکھتا رہا۔ اس لڑکے کے ساتھ اس کی بہت زیادہ فرینک نیس لگتی تھی۔ شاید اس کا دوست تھا۔ (بوائے فرینڈ کا لفظ اسے مناسب نہیں لگا) وہ اس کو سوچنے لگا تھا۔ چاہنے لگا تھا۔
چپ چاپ من ہی من میں پھر وہ اسے الحمرا میں ملی تھی بارش میں بھیگی‘ اس لڑکے کے ساتھ اور وہ ان سے اگلی رو میں بیٹھا تھا اور اس کی آواز پر ہی وہ پیچھے پلٹا تھا۔ (آج کل تو اسے ہر آواز‘ ہر ہنسی پر اس چہرے کا گمان ہوتا تھا) ملگجے اندھیرے میں بھی وہ اسے پہچان گیا تھا۔ وہ اس لڑکے سے کہہ رہی تھی کہ اسے سردی لگ رہی ہے اور وہ اسے اٹھا کر لے گیا تھا۔ اور ظفریاب بھی ان کے پیچھے ہی باہر آیا تھا۔ وہ لڑکی اسے سیڑھیوں پر اکیلی بیٹھی نظر آگئی تھی وہ بالکل غیر محسوس طریقے سے اس کے کندھوں پر اپنا کوٹ ڈال کر واپس سیڑھیاں چڑھ گیا تھا۔ اور جب طوفانی بارش میں وہ گاڑی تک پہنچنے کے لیے تگ ودو کررہی تھی تو تب اس نے اپنا چھاتا اس پر تان کر اسے بحفاظت گاڑی تک پہنچایا تھا اور جب اس نے کوٹ واپس کیا تھا تو ساتھ ہی جیب میں دھرا موبائل بھی اس کے پاس آگیا تھا۔ لیکن یہ اس کی قسمت تھی کہ بارش میں بھیگ کر وہ بیمار پڑگیا تھا اور کئی دن تک وہ کوٹ سوکھنے کے لیے کھونٹی پر ہی لٹکا رہا۔ کافی دنوں بعد جب وہ کوٹ پہن کر کالج گیا تب اسے پاکٹ سے موبائل ملا۔ اس نے کانٹیکس نکال کر کوئی ایسا نمبر ڈھونڈنا چاہا جو اس کے کسی قریبی بندے کا ہو۔ مام‘ ڈیڈ‘ عون‘ شبانہ‘ نرمین اور دو چار اور لڑکیوں کے نام ہی تھے۔ اسے سمجھ نہ آئی کہ وہ کس کو کال کرکے بتائے کہ فون اس کے پاس ہے۔ دو چار دن اسی طرح گزر گئے۔ پھر اس نے سوچا شبانہ کو کال کرکے دیکھتے ہیں لیکن اس سے پہلے اس نے ایس ایم ایس چھوڑے۔ کوئی جواب نہ آیا تو اس نے کال کرلی اور شبانہ نے ہی بتایا کہ اس وقت زیمل کہاں ہے؟ (زیمل… وہ زیر لب مسکرایا تھا)
پھر وہ اسے فون پہنچانے گیا اور اسے قریب سے دیکھ بھی آیا۔ لیکن ایک اور بات بھی ہوگئی۔ زیمل کے ساتھ سامنے بیٹھی لڑکی اسے دیکھی دیکھی لگی۔ گھر آکر بھی اسے محسوس ہوتا رہا کہ اس نے اس لڑکی کو کہیں دیکھا ہے۔ اور جب اسے یاد آیا کہ یہ تو نرمین ہے بہت پہلے کی جھلک اس کی یادوں میں محفوظ تھی۔ کیونکہ منگنی کے بعد تو وہ اس کے سامنے آئی ہی نہ تھی۔ اور بذات خود اس نے کبھی کوئی کوشش نہیں کی تھی۔ معاملہ پیچیدہ تھا لیکن اس نے سر جھٹک دیا اور پہچان تو نرمین بھی گئی تھی کیونکہ بھلے وہ اس کے سامنے نہیں آتی تھی لیکن چاچی بشریٰ کے پاس اس کی تازہ ترین فوٹو ہر وقت موجود رہتی تھی۔ اور بہانے بہانے سے بارہا وہ چاچی کے کمرے میں جا کر دیکھ آتی تھی بلکہ جب اسے بڑے بھائی نے موبائل خرید کردیا تو اس نے سب سے پہلے ظفر کی فوٹو ہی اس میں سیو کی تھی بے شک دھندلی تھی لیکن دل میں گہرا نقش تھا۔ ظفریاب محض اس رشتے سے بچنے کے لیے گاؤں بھی کم جاتا تھا کیونکہ جب وہ جاتا چاچی بشریٰ کا شادی کا ڈھول بجنے لگتا۔
اس نے زیمل کا نمبر نوٹ کرلیا تھا اور اب اسے ایس ایم ایس کرنے لگا۔ پہلے پہل تو وہ چڑ گئی پھر نارمل ہوتی گئی۔ وہ اس کا اعتماد جیتنے میں کامیاب ہوتا جارہا تھا۔ کبھی کبھی اسے لگتا وہ اس لڑکی سے بے انتہا محبت کرنے لگا ہے لیکن کبھی کبھی وہ بالکل بلینک ہوجاتا۔ دنوں اسے کال نہ کرتا۔ کبھی اس سے بالکل انجان بن جاتا اور کبھی یوں محبت لٹاتا کہ وہ گھبرا جاتی‘ پریشان ہو اٹھتی۔ وہ خود نہیں جان پارہا تھا کہ وہ زیمل سے تعلقات کس حد تک رکھنا چاہتا ہے۔ کیونکہ وہ نہیں جانتا تھا کہ زیمل سے اس کا رشتہ کتنی دیر نبھے گا۔ جلد اسے پتا چل ہی جاتا کہ نرمین سے اس کا کیا رشتہ ہے اور پھر وہ کیا ری ایکٹ کرتی۔ انجان وہ تھی لیکن وہ خود تو بہت کچھ جانتا تھا۔ جانتے بوجھتے اسے دھوکہ دے رہا تھا۔ آج نہیں تو کل اسے نرمین سے شادی کرنا پڑتی کیونکہ اس کی مسلسل آنا کانی کو بھانپتے ہوئے پھوپو بشریٰ نے اسے بتادیا تھا کہ اگر وہ اس رشتہ کو توڑنے کی کوشش کرے گا تو پھپا زبیر پہلی فرصت میں پھوپو کو طلاق دے کر گھر بھجوادے گا۔ تو اس کے ایسا سوچنے پر بھی سخت پابندی عائد کردی گئی تھی۔
اس روز میڈم عمیمہ نے اسے بلایا۔ وہ آفس میں بیٹھا منتھلی رپورٹ بنا رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد جب وہ ان کے کیبن میں آیا تو انہوں نے اپنی ٹیبل پر کچھ پھیلا رکھا تھا۔ وہ سامنے رکھی چیئر پر بیٹھ گیا۔
’’آؤ ظفریاب احمد۔‘‘ انہوں نے اپنے اسٹریٹ کیے بال پیچھے کو جھٹکے۔ اس دن کے بعد سے وہ ان کے بلانے سے خوف زدہ ہوجایا کرتا تھا۔
’’میں نے سوچا تمہیں تمہارا ٹاسک دے ہی دوں۔‘‘ انہوں نے مسکرا کر اسے دیکھا۔ ظفریاب کا دل دھک دھک کرنے لگا۔
’’یہ دیکھو…‘‘ انہوں نے ٹیبل پر بکھری تصاویر اس کے سامنے رکھ دیں۔ وہ حیرت سے انہیں دیکھتا رہ گیا تو کیا میڈم کو پتہ چل گیا وہ گھبرا سا گیا۔ میڈم نے اس کی گھبراہٹ کو نوٹ کیا تھا۔
’’بہت خوب صورت ہے ناں یہ؟‘‘ وہ مسکراہٹ دبا کر بولیں۔ وہ کچھ نہیں بولا۔
’’تمہیں ظفریاب اس لڑکی سے محبت کرنا ہے۔‘‘
’’جی…!‘‘ وہ پلکیں جھپکنا بھول گیا۔ کیا کہہ رہی تھیں وہ۔
’’دھیان سے میری بات سنو۔‘‘ وہ آہستہ آہستہ اسے اپنا پلان سمجھانے لگیں۔ جیسے جیسے وہ بول رہی تھیں ظفریاب کی حیرت بڑھتی جارہی تھی۔ وہ میڈم عمیمہ کی سگی اولاد تھی اور وہ محض اپنے سابقہ شوہر کو نیچا دکھانے کے لیے یہ سب کروا رہی تھیں۔
’’نہیں میڈم…‘‘ وہ ان کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اٹھ کھڑا ہوا۔
’’یہ مجھ سے نہیں ہوگا۔ وہ آپ کی بیٹی ہے۔ میں یہ کیسے کر سکتا ہوں۔ یہ غلط ہے۔‘‘
’’کچھ غلط نہیں ہے۔‘‘ اس کے انکار پر وہ سیخ پا ہوگئیں۔
’’تم اس سے محبت کا صرف ڈرامہ کرو گے اور ملو گے۔ اس سے محبت کی باتیں کرو گے اس کو اپنا عادی کرلو گے اور پھر اس کو چھوڑ دو گے۔ بس یہی کام کرنا ہے تمہیں۔ اگر مشکل لگتا ہے تو اس کے لیے تمہیں الگ سے رقم مل جائے گی لیکن انکار نہیں سنوں گی میں کلیئر۔‘‘ انہوں نے حکم صادر کیا اور ظفریاب کو اپنے اندر دھواں بھرتا محسوس ہورہا تھا۔ اگر وہ تھوڑی دیر بھی اور کھڑا رہتا تو شاید اپنے حواس کھو بیٹھتا۔
’’مجھے سوچنے کے لیے وقت چاہیے۔‘‘ وہ ان کو ٹالنے کے لیے بہانہ بناتا باہر نکل آیا۔ لیکن اس کا بہانہ زیادہ دیر نہیں چلنے والا تھا۔ یہ وہ اچھی طرح جانتا تھا۔ اس نے اماں کی بیماری کا بہانہ کرکے چھٹی لی اور گاؤں آگیا۔ لیکن یہاں بھی کہاں سکون تھا۔ ابا کا شادی کے لیے اصرار بڑھتا جارہا تھا۔ ادھر میڈم کے فون پر فون آرہے تھے وہ پھر واپس بھاگ آیا۔ لیکن ابا نے واضح طور پر کہہ دیا تھا اگلی بار وہ اس کی ایک نہیں سننے والے۔ شادی نہیں تو نکاح تو اس کا کر ہی دیں گے اور ابھی وہ راستے میں ہی تھا جب زیمل کا ایس ایم ایس ملا۔ وہ ملنا چاہتی تھی۔ میڈم عمیمہ جو کروانا چاہتی تھیں اس کے لیے راہیں خودبخود ہموار ہورہی تھیں اور پھر وہ میڈم کی تمام پلاننگ بھلائے اس سے ملنے لگا۔
روز شام چار بجے سے آٹھ بجے تک وہ مکمل اسی کا ہوتا۔ میڈم کی نظروں میں وہ ان کا کام کررہا تھا۔ جب کہ وہ صرف اور صرف اپنے دل کا کہا مان رہا تھا۔ وہ سامنے بیٹھی رہتی اور وہ اس کا روپ دل میں اتارتا رہتا۔ اسے دنیا جہاں کے قصے سناتا۔ وہ بھی اپنی چھوٹی چھوٹی باتیں اسے سناتی۔ پسند ناپسند اسے بتاتی۔ اور پھر دیر تک خود ہی ہنستی رہتی۔ زیمل کی کلاسسز اسٹارٹ ہونے والی تھیں اور وہ سوچ سوچ کر پریشان ہورہی تھی کہ اب کیسے ملا کریں گے۔ اب تو ایک پل کی جدائی بھی محال لگنے لگی تھی۔ اس روز وہ اسے عون اور شبانہ کے بارے میں ڈھیروں باتیں سنا رہی تھی اور تبھی اس نے پوچھ لیا۔
’’عون تمہارا کزن ہے‘ کیا کبھی تم نے اس کے بارے میں نہیں سوچا۔ کسی ایک پل ایک لمحہ۔ تم دونوں کو میں نے جب بھی دیکھا اکٹھے ہی دیکھا۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کبھی تمہارے دل میں اس کے لیے جذبات نہ جاگے ہوں؟‘‘
’’شک کررہے ہو؟‘‘ وہ ہنسنے لگی۔
’’یہی سمجھ لو۔‘‘ اس نے بے نیازی سے کہا۔ زیمل نے اسے گھورا اور پھر بتانے لگی۔
’’عون مجھ سے محبت کرتا تھا‘ کب سے‘ میں نہیں جانتی۔ لیکن جب اس نے مجھ سے اظہار کیا تو میں نے اسے سختی سے ڈانٹ دیا۔ مجھے اس سے کبھی بھی ویسی محبت نہیں تھی جیسی وہ چاہتا تھا۔ وہ میرا اچھا دوست تھا اور بس۔ لیکن جب اس نے مجھے جلانے کے لیے شبانہ سے شادی کا فیصلہ کیا تو مجھے غصہ آیا تھا۔ دکھ بھی محسوس ہوا تھا۔ لیکن تمہاری محبت اس افسوس اور دکھ پر بھاری تھی سو…‘‘ اس نے بات ادھوری چھوڑ کر کندھے اچکائے۔ ظفریاب بڑی گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
’’زیمل… اگر کبھی میں تمہیں چھوڑ جاؤں۔ تم سے ساتھ نہ نبھا سکوں تو…؟‘‘
’’ایسا سوچنا بھی مت… میں تمہیں جان سے مار ڈالوں گی۔‘‘ وہ اس کی بات کاٹ کر چلائی اور ظفریاب کے اندر دکھ کا گہرا سمندر اترتا چلا گیا تھا۔ وہ کیا کرتا جو اس لڑکی کا دل نہ ٹوٹتا۔ وہ کیا کرتا کہ اس سے دور اس کے انتظار میں بیٹھی لڑکی خود ہی راستہ بدل لیتی۔ وہ کیا کرتا کہ میڈم عمیمہ اسے اپنا آلہ کار نہ بناسکتی۔ اصل میں تھا ہی کم ہمت۔ اس میں جرأت نہیں تھی‘ حوصلہ نہیں تھا اور زندگی کبھی بزدلوں کا ساتھ نہیں دیا کرتی۔
/…/…/…/
وہ اس کے سامنے مجرموں کی طرح سر جھکائے کھڑا تھا اور زیمل حسان ڈبدباتی آنکھوں سے اس دشمن جان کو دیکھ رہی تھی۔ اس کے بارے میں کسی نے بھی نہیں سوچا تھا اس کی سگی ماں نے اور نہ ہی اس شخص نے جس سے ان چند دنوں میں وہ ٹوٹ کر محبت کرنے لگی تھی۔ کس سفاکی سے اس نے اسے اپنی زندگی سے نکال پھینکا تھا۔ جیسے سچ میں وہ کوئی جوتا‘ یا کولون ہی تو تھی۔ اس پر زندگی کی یہ تلخ حقیقت کبھی آشکار نہیں ہوتی اگر وہ اس روز صبح صبح مام سے ملنے نہ آیا ہوتا۔ وہ تو ابھی تک اس تصویر کی گھتی نہ سلجھا پائی تھی۔ شدید پیاس کے باعث اس کی آنکھ کھلی تھی۔ وہ پانی لینے روم ریفریجریٹر کی طرف آئی۔ تبھی ہوا کے دوش پر آتی کھلی کھڑکی سے مما کی آواز نے اسے چونکا دیا۔ وہ اس لہجے میں تو کسی سے بات نہیں کرتی تھیں۔ وہ بہت نرم خو تھیں۔ اس نے یونہی گلاس لبوں سے لگائے لگائے کھڑکی سے باہر جھانکا۔ لان میں گلاب کی کیاری کے پاس وہ کھڑی تھیں اور ان کے سامنے… ہاں وہ ظفریاب ہی تھا۔ وہ اسے پہچاننے میں کبھی دھوکہ نہیں کھا سکتی تھی۔ تبھی مام کی چنگھاڑتی آواز دوبارہ آئی تھی۔
’’مت بھولو ظفریاب احمد میرے ایک اشارے پر تمہاری حیثیت اس چیونٹی کے برابر بھی نہیں رہ جائے گی اور تم نے سوچا بھی کیسے‘ معمولی تنخواہ پانے والے ایک ادنیٰ ملازم۔ اب تم مجھے بلیک میل کرو گے۔‘‘ وہ بہت بھپری ہوئی لگ رہی تھیں لیکن اسے تو ظفریاب کی کشش نیچے کھینچ لائی تھی۔ اس نے نہ اپنے حلیے پر غور کیا اور نہ اس بات پر سوچا تھا کہ مام اس کو وہاں پاکر آگ بگولہ ہوجائیں گی۔ دل صرف اس کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب تھا اور پھر دل کے سامنے تو کئی سلطنیتں ہیچ ہوتی ہیں۔ وہ اسی طرح بھاگتی ہوئی لان میں پہنچی تھی۔ مام کی اس کی طرف پشت تھی۔ ظفریاب ان سے چند قدموں کے فاصلے پر سر جھکائے چپ چاپ کھڑا ان کو سن رہا تھا۔
’’اوقات مت بھولو اپنی۔‘‘ وہ چبا چبا کر بولی تھیں۔ ظفریاب نے سر اٹھایا۔
’’کیا اوقات ہے میری میڈم جی؟ جب آپ اپنی بیٹی سے عشق کا ڈرامہ کرنے کے لیے کہہ رہی تھیں اس وقت میری اوقات بھول گئی تھیں آپ کو کیا پتہ میں نے کتنی بار آپ کی بیٹی کا ہاتھ پکڑا ہو۔ کتنی بار ہوس کے ناگ نے میرے اندر پھن پھیلا ہو۔ لیکن آپ کو اس سے فرق نہیں پڑتا یہ سب چیزیں تو آپ اونچے طبقے میں ماڈرن ازم اور فیشن ہیں۔ میں آپ کو پہلے ہی کہہ چکا ہوں۔ آپ نے اپنی بیٹی سے جھوٹے عشق کا ڈرامہ ضرور رچایا ہوگا۔ لیکن میں زیمل حسان سے بہت پہلے سے عشق کرتا ہوں‘ اور آپ مجھے ایسا کرنے سے روک نہیں سکتیں۔ باقی آپ کے لکھے ڈرامے کا ڈراپ سین ہوچکا ہے اور میںنے اس میں اپنا کردار بخوبی نبھایا ہے۔ اب مجھے اجازت دیں۔ میں آپ کی یہ نوکری چھوڑ رہا ہوں۔ مجھے ایسی جاب نہیں کرنا جو ہوس سے شروع ہوکر ہوس پر ہی ختم ہوتی ہے اور میڈم جی ہوس صرف پیسے اور جسم کی ہی نہیں ہوتی۔ دوسروں کو تباہ کرنے کی خواہش بھی ہوس میں ہی شمار ہوتی ہے اور…‘‘
’’اف فوہ… بکواس بند کرو جب پیسے جیب میں آگئے تو اخلاقیات یاد آنے لگے چلتے پھرتے نظر آؤ اور آئندہ مجھے کبھی اس گھر اور زیمل کے پاس پھٹکتے بھی نظر نہ آؤ۔‘‘ وہ اس کی بات کاٹ کر چلائیں اور پاؤں پٹخ کر واپس مڑیں تو سامنے زیمل کو کھڑا دیکھ کر ان کے پیروں تلے سے زمین سرک گئی۔
’’زیمل… بیٹا تم یہاں کیا کررہی ہو؟‘‘ انہوں نے چند لمحے لیے تھے خود کو سنبھالنے میں لگائے۔
’’کچھ نہیں مام… مجھے بس ظفریاب سے کچھ پوچھنا ہے۔ آپ پلیز تھوڑی دیر کے لیے مجھے تنہا چھوڑ دیں گی۔‘‘ اس نے یہی پوز کیا کہ اس نے کچھ بھی نہیں سنا۔ عمیمہ نے اثبات میں سر ہلایا۔ حقیقت کھل جانے کا خوف دونوں کے چہروں سے ہویدا تھا۔ عمیمہ اندر کی طرف بڑھ گئیں۔ وہ تھوڑا سا چل کر اس کے مقابل آن کھڑی ہوئی۔ دھندلائی آنکھوں سے اس کو دیکھے گئی۔ وہ سر جھکائے کھڑا تھا۔
وہ اس کی شبیہہ آخری بار جی بھر کر دیکھنا چاہتی تھی۔ اس کے بعد وہ کبھی اس کی شکل بھی دیکھنے کی خواہش نہیں رکھتی تھی۔ وہ منہ سے ایک لفظ نہیں بولی۔ اسے دیکھتی رہی۔ لمحے سرکتے رہے‘ آنکھ میں آنسو اترا پھر دوسرا اور پھر جیسے سب نے ایک دوسرے کی تقلید کرنے کی ٹھان لی۔ پھسل پھسل کر گالوں سے ہوتے گریبان میں جذب ہوتے رہے وہ کھڑی رہی اس کے پاؤں سن ہوگئے اور جسم بے جان۔ لیکن اسے اس کے سامنے کمزور نہیں پڑنا تھا جب کھڑے رہنا دوبھر ہوگیا تو وہ پلٹ آئی۔ اسے اپنا جسم جلتا محسوس ہورہا تھا۔ جل بجھنے سے پہلے کی کیفیت۔ اسے اب یہاں نہیں رہنا تھا۔
اسے یہاں کبھی پلٹ کر نہیں آنا تھا۔ اس نے خزینہ ممی کو فون کیا کہ ڈرائیور بھیج دیں۔ وہ اپنی پیکنگ کررہی تھی۔ عمیمہ اس کو منا کر رہی تھیں اپنی صفائیاں دے رہی تھیں۔ انہوں نے صرف عون کو نیچا دکھانے کے لیے یہ سب کیا تھا وہ نہیں چاہتی تھیں کہ زیمل عون کی دلہن بن کر ہمیشہ کے لیے اس گھر کی ہوکر رہ جائے۔ اصل بات وہ اب بھی چھپا گئی تھی۔ انہیں حسان شہریار سے بدلہ لینا تھا۔
حسان شہریار نے انہیں طعنہ مارا تھا کہ ان جیسے طبقے سے تعلق رکھنے والی عورتیں محبت کے پیچھے اپنا سب کچھ قربان کر ڈالتی ہیں۔ حسان نے انہیں ان کی غربت کا طعنہ دیا تھا اور وہ ثابت کرنا چاہتی تھیں کہ محبت غریب عورت کرے یا امیر۔ ایک بار تو خود کو داؤ پر لگا ہی دیتی ہے۔ آج جیسی زندگی وہ گزار رہی تھیں وہ حسان شہریار کی مرہون منت نہیں تھیں۔ انہوں نے خود اپنی محنت سے یہ مقام حاصل کیا تھا۔ لیکن اندر ہی اندر وہ بات انی کی طرح انہیں چھیدتی رہتی تھی۔ وہ دیکھنا چاہتی تھیں کہ جب زیمل اپنی محبت کے لیے اپنے باپ کے سامنے سر اٹھا کر کھڑی ہوگی تو کیسے اس بت میں دراڑ پڑے گی۔ لیکن ظفریاب نے یہ کھیل ادھورا چھوڑ کر سب کچھ بگاڑ دیا تھا اور زیمل پر یہ حقیقت کھل جانے کے بعد تو انہیں شرمندگی ہی محسوس ہورہی تھی۔ زیمل چلی گئی۔ ظفریاب بھی چھوڑ گیا اور وہ پھر سے اپنی دنیا میں بھٹکنے کے لیے تنہا رہ گئی تھیں۔
/…/…/…/
زندگی میں پلٹ کر دیکھنا اس نے چھوڑ دیا تھا۔ تین سال ہوگئے تھے اس نے دوبارہ نہ تو اپنی ماں سے رابطہ کیا اور نہ ہی کبھی ظفریاب سے ملنے کی خواہش کو خود پر حاوی ہونے دیا تھا۔ وہ اس کالج میں واپس لوٹ آئی تھی۔ اب نرمین کے علاوہ ان کی ایک اور روم میٹ آگئی تھی حفیضہ۔ موٹی سی گول گپو سی۔ نرمین پہلے سے کچھ زیادہ سنجیدہ ہوگئی تھی۔ ہر وقت نیٹ پر بزی رہتی۔ اس سے بھی کم ہی بات کرتی اور وہ خود بھی تو بہت کم گو ہوگئی تھی۔
فائنل ایئر کا لاسٹ سمسٹر چل رہا تھا۔ ان کا ریزیڈینس شروع ہوگیا تھا۔ حفیضہ کی ایک کزن یہاں سے پڑھ کر گئی تھی۔ وہ ریزیڈینس کے بارے میں بڑے مزے مزے کے واقعات سناتی رہتی ان سب کو ایک گھر میں ایک ماہ کے لیے رہنا تھا۔ چار چار لڑکیوں کے گروپس بنا کر ایک ایک کمرہ دے دیا گیا تھا۔ ایک مقرہ رقم دی گئی تھی جس میں انہیں پورے مہینے کے لیے گروسری خریدنا اور پورا مہینہ اسی بجٹ میں گزارنا تھا۔ ہر روز صفائی کرنا ہوتی۔ حتیٰ کہ باتھ روم بھی صاف کرنا ہوتا۔ ناشتے میں کیا ہوگا‘ لنچ اور ڈنر میں کیا‘ شام کی چائے اور ہر روز ایک ایک کے ذمے الگ الگ کام لگادیئے جاتے‘ رات کو جب سارے کاموں سے تھکی ہاری وہ بستر پر پڑتیں تو جوڑ جوڑ دکھ رہا ہوتا۔ زیمل کی عادت کہاں تھی لیکن نرمین نے اس کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ یہاں تو ہر بار کے مارکس لگتے تھے۔ لاسٹ ویک اینڈ پر سب پیرنٹس کی ہائی ٹی کی گئی تھی اور سب کی الگ الگ ڈشز سے ٹیبل بھر گئی تھی۔ اس نے خزینہ کو بلایا تھا اور خلاف توقع وہ آبھی گئی تھی۔ اس کا طریقہ‘ سلیقہ‘ نفاست دیکھ کر وہ حیران بھی ہوئی تھیں اور خوش بھی اور جاتے ہوئے انہوں نے اسے بہت سا پیار کیا تھا۔
’’بھلے میں نے تمہیں جنم نہیں دیا زیمل۔ لیکن میری مامتا کو تسکین تم نے ہی دی ہے تم مجھے عزیز ہو زیمل۔ میں محبتوں میں اظہار نہیں کرسکتی یہی میری خامی ہے لیکن حقیقت یہ ہے میں تم سے بے پناہ محبت کرتی ہوں کبھی میرے خلوص پر شک نہیں کرنا۔‘‘ وہ اس کے ماتھے پر بوسہ دیتی رخصت ہوگئی تھیں۔ اور وہ حیران سی انہیں دیکھتی رہ گئی تھی۔ کبھی کبھی ہمیں محبت وہاں سے مل جاتی ہے جہاں سے ہم توقع نہیں کررہے ہوتے یا ہم سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ان کے پاس ہمارے لیے کچھ نہیں۔
ریزیڈنس کے بعد وہ فری تھی پھر فائنل ایگزمز پر ہی ملنا ہوتا وہ اپنی پیکنگ کررہی تھیں۔
’’زندگی پتہ نہیں کہاں لے جائے گی ہمیں…‘‘ حفیضہ نے کہا۔
’’ظاہر ہے اگر صحیح گاڑی میں بیٹھو گی تو سیدھی گھر۔‘‘ نرمین نے اپنی الماری کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔
’’میں پریکٹیکل لائف کی بات کررہی ہوں۔ تمہاری تو جاتے ہی رخصتی ہوجائے گی۔ زیمل کا بھی رشتہ ہونے میں کون سی رکاوٹ ہے کوئی۔ ایک ہم ہی ہیں۔‘‘ اس نے ٹھنڈی آہ بھری۔
’’میری رخصتی نہیں ہوگی۔‘‘ نرمین نے کن اکھیوں سے زیمل کو دیکھا جو خاموشی سے اپنی کتابیں سمیٹ رہی تھی۔
’’کیوں؟‘‘ وہ چونکی۔
’’میں نے ٹیپو سے طلاق لینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔‘‘ اس نے لاپروائی سے کہا۔
’’تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا؟‘‘ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اس کے پاس آئی اور اب حیرت و غصے سے اسے دیکھ رہی تھی۔
’’نہیں بابا اب ہی تو دماغ ٹھکانے پر آیا ہے۔‘‘ اس نے الماری بند کرکے سوٹ کیس کو بند کرنا شروع کردیا۔
’’اصل میں صائمہ بھابی کا بھائی امریکہ سے آیا ہے اور میں اس کو بے تحاشہ پسند آگئی ہوں۔ مجھے بھی وہ کچھ کچھ اچھا لگنے لگا ہے۔ اپنے ٹیپو صاحب تو مجھے کچھ گردانتے ہی نہیں۔ جانے کن چکروں میں ہیں۔ تو اماں اور ابا بلکہ ابرار بھائی سب نے مل کر فیصلہ کیا ہے کہ اس نام نہاد رشتے پر لعنت بھیجی جائے اور مجھے امریکہ بھجوانے کا انتظام کیا جائے۔ تو مائی ڈیئر اچھی اور پُرتعیش زندگی کسے بری لگتی ہے۔ سو میں نے دن رات سوچنے کے بعد علیحدگی کا فیصلہ کرلیا ہے۔‘‘
وہ سوٹ کیس بند کرچکی تھی اور اب دوسری طرف منہ کیے جانے کیا ڈھونڈنے لگی تھی۔ جانے کیوں زیمل کو لگا وہ آنسو چھپانے کی کوشش کررہی تھی۔ حفیضہ ان کی طرف متوجہ نہیں تھی اور زیمل کا بھی حوصلہ نہیں ہوا کہ نرمین کا بھرم توڑے۔ ہاں یہ مرد نہیں سوچتے۔ ان کی محبت دل کے کیسے ٹکڑے کرتی ہے۔ ایک وہ ٹیپو تھا جس نے کبھی نرمین سے محبت کی تھی نہ اس کے جذبات کو سمجھنے کی کوشش۔ اور ایک وہ ٰظفریاب تھا جس نے محبت تو کی تھی لیکن سودے کے تحت۔ اب محبت اور پیسہ ضرورت کے ترازو میں رکھ کر تولا جائے تو ظاہر ہے پیسہ کا پلڑا ہی جھکے گا۔ وہ نہیں جانتی تھی زندگی میں کبھی ان کا آمنا سامنا بھی ہوگا یا نہیں۔ لیکن یہ چھ سال ان کی زندگی کا بہترین حصہ تھے بہت کچھ کھویا تھا‘ بہت کچھ پایا تھا لیکن یہ تھا کہ اس کھونے پانے میں انہیں زندگی گزارنے کا سلیقہ آگیا تھا۔
/…/…/…/
وہ آخری پیپر دے کر گھر لوٹی تو مجیداں نے بتایا کہ کوئی وکیل صاحب اس سے ملنے آئے ہیں۔ وہ فریش ہونے اپنے کمرے میں چلی آئی اور سوچتی رہی کہ کون ہوگا وہ تو کسی وکیل کو نہیں جانتی تھی۔ منہ پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارتے ہوئے اس نے اپنا ستا ہوا چہرہ دیکھا‘ نیند سے آنکھیں بوجھل تھیں۔ اتنے دنوں کی بے آرامی سے اس کے وجود پر کاہلی وسستی طاری ہورہی تھی۔ جی میں آیا انکار کردے۔ پھر کچھ سوچ کر چلی آئی۔ خزینہ سامنے ہی بیٹھی تھی اور وکیل صاحب سے خوش گپیوں میں مشغول تھیں۔ یقینا انہی کا کوئی ملنے والا تھا اسے دیکھ کر خزینہ اٹھ گئی۔
’’آؤ زیمل تمہارے مہمان آئے ہیں۔ میں انہیں کمپنی دینے بیٹھ گئی تھی۔ اب تم جوائن کرلو۔‘‘ وہ مہمان سے معذرت کرتی چلی گئیں۔ وکیل صاحب اب اٹھ کر اس کے سامنے کھڑے ہوگئے اور وہ آج بھی اسی طرح ساکت نظروں سے اس سامنے کھڑے شخص کو تک رہی تھی جسے چار سال پہلے آخری بار دیکھا تھا۔ اس کا دبلا پتلا جسم اب بھر گیا تھا۔ چہرے پر کچھ سنجیدگی سی بھی آگئی تھی۔ آنکھیں البتہ ویسی ہی تھیں۔ جادو بھری شربتی آنکھیں اور گھنی مونچھوں تلے مسکراہٹ دبائے لب۔ وہ دیکھ رہی تھی دیکھے جارہی تھی۔ اس سے نہ ملنے کا عہد اپنے آپ بھربھری مٹی میں تبدیل ہوتا جارہا تھا۔
بے گانگی کا جو خول اس نے اپنے آپ اوپر چڑھایا تھا وہ تڑخ رہا تھا اس کی نظروں میں تھا ہی ایسا جادو۔ وہ دونوں بازو سینے پر باندھے سیدھا کھڑا تھا۔ اس آخری ملاقات کی طرح۔ زیمل کی دائیں آنکھ سے ایک قطرہ گرا پھر دوسرا اور پھر سارے آنسوؤں نے کمر باندھ لی۔ آج انہیں بہہ جانا تھا ہر دیوار توڑ کر وہ کھڑا رہا۔ وہ روتی رہی۔ بیتے لمحوں کی اذیت کا ایک ایک لمحہ اس نے بہہ جانے دیا۔ دل پر چھایا غبار چھٹ رہا تھا اور پھر وہ تھک گئی۔ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی اور دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ محبت بڑی ظالم ہوتی ہے کیا سے کیا بنا دیتی ہے اور کیا کیا سکھا دیتی ہے وہ اس کے سامنے بیٹھ گیا اور بولنے لگا۔
’’ناراضگی محبت کو دیمک کی طرح کھا جاتی ہے کھوکھلا کردیتی ہے میری اور تمہاری محبت میں اعتماد کا فقدان تھا میں نے تمہیں وہ اعتماد نہیں دیا تھا کیونکہ میں خود اپنی ذات سے بے خبر تھا میں ایک طرف نرمین کا ہونے والا شوہر تھا تو دوسری طرف ایک امیر عورت کے ہاتھوں زرخرید۔‘‘ نرمین کے نام پر اس نے چونک کر سر اٹھایا۔
’’ٹیپو… ظفریاب؟‘‘
’’ہاں۔‘‘ اس نے سر ہلایا۔
’’پتہ ہے نرمین کو بھلے تم نے کبھی نہیں بتایا تھا لیکن وہ جانتی تھی کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو جب میں نے تمہیں چھوڑا تھا تو اس کی ایک وجہ میڈم کی پلاننگ تھی تو دوسری وجہ میرا اور نرمین کا نکاح بھی تھا میں فیصلہ نہیں کر پارہا تھا کہ مجھے تمہارے یا اس میں سے کس کا انتخاب کرنا ہے ایک طرف محبت تھی اور دوسری طرف مجبوری لیکن تمہیں پتہ ہے نرمین نے تمہاری محبت کے لیے اپنی محبت چھوڑی ہے مجھے آزاد کردیا ہے شاید وہ نہ چھوڑتی لیکن اس نے تمہارا میرے لیے تڑپنا دیکھا تھا اور میری آنکھوں میں تمہاری محبت۔ سو اس نے ایک فرضی رشتے کے لیے مجھے ٹھکرا دیا گھر میں کس قدر دنگا فساد مچا ہے وہ الگ بات ہے۔‘‘ وہ چپ ہوا۔
’’اتنی دیر کردی ظفریاب پلٹ کر دیکھنے میں۔‘‘ وہ بولی تو صرف اتنا وہ ہنس دیا۔
’’میں خود کو تمہارے قابل تو بنالیتا۔ تمہارے ڈیڈ سے تمہارا ہاتھ مانگنے کے لیے میرا کوئی اسٹیٹس تو ہوتا اور پھر نرمین… میں کلیئر ہوکر تمہارے پاس آنا چاہتا تھا تاکہ اب کی بار مجھے تم سے کوئی جدا نہ کرسکے۔‘‘ وہ اس کی روئی روئی آنکھوں میں جھانکتا سحر پھونک رہا تھا وہ اٹھ کھڑی ہوئی دونوں ہتھیلیوں سے اپنا چہرہ صاف کیا اور اپنے کمرے میں چلی گئی پانچ منٹ کے بعد اس کی واپسی ہوئی تو ہاتھ میں ایک کاغذ تھا لاکر ظفریاب کو تھما دیا اس نے نظر دوڑائی اور پھر استفہامیہ نظروں سے زیمل کو دیکھا۔
’’کل رات میں نے یہ نظم لکھی تھی اور اگر آج تم پلٹ کر نہ آتے تو میں حقیقتاً ایسا کرنے والی تھی۔‘‘ وہ اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئی اور پڑھ کر سنانے لگی۔

تو سوچا ہم یہ جانم
تو سوچا ہم نے یہ جانم
اٹھائیں خواب سب اور انہیں کانوں میں رکھ آئیں
وہ بیتے پل وہ سب یادیں
کہیں دریا برد کردیں
وہ سب پہچان وہ سب وعدے
اٹھائیں اور اسے جاکر واپس کر آئیں
اسے احساس ہو شاید
کہ بیتا کچھ بھی ہو یک دم بھلایا جا نہیں سکتا
وہ سارا غم فقط اشکوں میں بہایا جا نہیں سکتا
راستے کیسے بھی ہوں
لوٹنا ممکن نہیں ہوتا
فقط وعدے لوٹانے سے
وہ شدت کم نہیں ہوتی
فقط دل سے بھلانے سے
اذیت کم نہیں ہوتی
اسے یہ علم نہیں شاید
سو اس کو سب بتا آئیں
اٹھائیں خواب سب اور انہیں
طاقوں میں رکھ آئیں
تو سوچا ہم نے یہ جانم
بنا اس کے جینے کا تصور بھی کر دیکھیں
بہت دن جی لیے کچھ لمحوں کو مر کردیکھیں

وہ چپ ہوئی تو ظفریاب نے بے اختیار اس کے ہاتھ تھام لیے۔
’’اتنی اجازت تو دو۔‘‘ اس کے گھورنے کے جواب میں اس نے کہا تھا۔
’’اور میں نہیں بتائوں ان چارسالوں میں اسی جھوٹ کو نباہتا رہا ہوں میں کہ بیتا کچھ بھی ہو یک دم بھلایا جا نہیں سکتا۔ مجھ پر نرمین کا بہت بڑا احسان ہے اس نے میری محبت کی خاطر سب اذیت اپنے اوپر جھیل لی۔ اسے میری محبت پر ایک فیصد بھی یقین ہوتا تو وہ کبھی مجھ سے دست بردار نہ ہوتی۔ میں جانتا ہوں وہ بہت اذیت کاٹے گی جبر کرے گی لیکن کاش میں اس کے لیے کچھ کرسکتا محبوب کے بغیر جینا کوئی جینا نہیں ہوتا۔ سو بھولے سے بھی خیال دل میں مت لانا ہمیں اکٹھے جینا ہے۔‘‘ وہ جذب کے عالم میں کہہ رہا تھا اور زیمل کی نگاہیں جھکتی چلی گئی تھیں۔
کچھ ظفریاب کے لیے اور کچھ اپنی اس دوست کے لیے جس نے اس کی دوستی پر اپنی محبت قربان کی تھی اور وہ شبانہ تھی جو عون کو چھوڑ کر چلی گئی تھی اور عون نے ایک بار پھر اس سے امید لگائی تھی زندگی میں سب کچھ ہمارے لیے قابل فہم نہیں ہوتا بہت کچھ توقع کے برعکس ہوتا ہے اور ہمیں وہ قبول کرنا پڑتا ہے ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے محبت میں ہمیشہ ایک کا دامن بھرتا ہے ایک کا خالی رہ جاتا ہے وہ نرمین کے بارے میں سوچ رہی تھی ظفریاب اس کے بارے میں اور اندر آتی خزینہ ان دونوں کی خوشیوں کے بارے میں۔ انہوں نے ہمیشہ زیمل کی بھلائی کے لیے سوچا تھا ابھی کل ہی عون نے زیمل کا ہاتھ دوبارہ مانگا تھا اور خزینہ نے منع کردیا تھا اور تب ہی انہوں نے زیمل کو بتائے بغیر اس کے موبائل سے ظفریاب کا نمبر لے کر اسے گھر بلا لیا تھا جھوٹی انا کا کھیل ختم ہی ہوجاتا تو اچھا تھا آج وہ سرخرو ہوگئی تھیں رشتے تو رشتے ہوتے ہیں سگے‘ سوتیلے کیا؟ وہ ان کی بیٹی تھی اولاد تھی اور اس کی خوشیوں کے لیے وہ کوئی بھی اسٹیپ لے سکتی تھیں رہ گئے شہریار تو انہیں منانا اتنا مشکل نہیں تھا وہ کچھ سوچ کر واپس پلٹ آئیں حسان شہریار کو فون کرنے کے لیے۔