Aanchal Mar-17

بنام مارچ

حرا قریشی

کب نکلتا ہے کوئی دل میں اتر جانے کے بعد
اس گلی کے دوسری جانب کوئی رستہ نہیں
تم سمجھتے ہو بچھڑ جانے سے مٹ جاتا ہے عشق
تم کو اس دریا کی گہرائی کا انداز نہیں

اب جب تم نے مارچ کا ذکر چھیڑ ہی دیا ہے تو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ مارچ جب بھی آتا ہے تو کتنی ہی ہوا کی آہٹیں بصورت دستک میرے دل کو بے چین کرنے لگتی ہیں کہ یہ وہ ماہ ہے جس میں می (میری محبوبہ) پیدا ہوئی۔ یہ وہ ماہ ہے جس میں مجھے می کا پہلا اور آخری محبت نامہ موصول ہوا۔ یہ وہ ماہ ہے جو سرما سی یخ بستگی‘ گرما سی حدت‘ بہار سی کھلکھلاہٹیں اور خزاں کے زرد پتوں سی سینکڑوں یادیں سمیٹے ہوئے ہے۔ میرا رب بخوبی جانتا ہے می… مارچ میرے لیے کتنے دکھ اور کتنے مژدہ بے مسرت ایک ساتھ اکٹھے اٹھا لاتا ہے… ویسے اس ایک بات کا عقدہ میں آج بھی حل نہیں کر پایا اور شاید کبھی کر بھی نہیں پاؤں گا۔ (اب تم اپنی ہتھیلی ٹھوڑی تلے رکھے سوچ رہی ہوں گی کہ جانے میں کیا کہنے لگا ہوں؟) کہ می… مجھے بس مارچ میں ہی کیوں خط لکھتی ہے اور مارچ میں ہی کیوں ہر خط کا جواب دیتی ہے؟ می… جانے کیوں یہ خیال تمہارے تخیل پر نہیں طلوع ہوتا کہ وہ شخص جو سال کے ہر ماہ تمہیں ایک عدد خط لکھتا ہے اس کو بس مارچ میں ہی جواب ملتا ہے کیوں؟ کیا یہ بالکل ایسا نہیں ہے جیسے کسی بے گناہ کو قید بامشقت دے دی جائے۔

چلو مان لیا جنوری اور فروری میں تحریر کردہ خطوط کے جواب کے لیے انتظار طویل نہیں ہوتا مگر پھر جو محبت نامے مارچ سے لے کر دسمبر تک قرطاس کی زینت بنائے جاتے ہیں ان سب کا جواب بس آنے والے مارچ میں ہی ملتا ہے۔ یہ تو پھر ایک لمبی پاداش ہوئی نا جو بغیر کسی جرم کے میرے حصے میں رکھ دی جاتی ہے۔ می… مگر میں کیا کروں اب میرا یہ دل بھی اب میرا نہیں رہا‘ یہ بھی تمہارا ہو گیا ہے۔ اسے یہ سزا سہنے کی عادت ہوگئی ہے بلکہ اگر کہوں کہ اس کلفت کو اس نے اپنی فطرت بنا لیا ہے تو بھی غلط نہ ہوگا۔ طویل اور گہری خامشی کے سرب رنگ اس نے خوشی خوشی اپنا لیے ہیں۔

جانتی ہو؟ می… میں گھنٹوں سر پکڑ کر بھی بیٹھا رہوں تو ایک آدھی ادھوری نظم بھی تخلیق نہیں کر پاتا مگر تمہاری بس ایک ’’مسکراہٹ‘‘ نظم پل بھر میں لکھوا لیتی ہے‘ ابھی مارچ کی آخری تاریخوں میں لکھی ایک نظم یہاں رقم کررہا ہوں جسے تمہاری رو پہلی مسکراہٹ نے نقش کیا تھا۔

نظم ’’الہام…!‘‘

خدا کے حضور جو کھڑی ہے…

دعا اس دوشیزہ کے لبوں پہ ’’محبت‘‘ سے جڑی ہے…

یک سو‘ سجادہ بدوش‘ مجذوب…

قلب مصحف سے آیتیں لے کر

بید مجنوں کے من پر لکھتی رہی ہے…

ایک ہی فکر میں گم

ایک ہی نظر میں گم

ایسے محو بیٹھی ہوئی ہے…

گو یا ’’وحی‘‘ کوئی

اس پر اتر رہی ہے…!

می… میری پیاری مخلص دوست تمہاری اور میری گفتگو بالکل ایسی ہے جیسے ہیر کو رانجھے کی رفاقت میں آرام میسر آئے جیسے کوئی روتا ہوا بچہ ماں کی گود میں آجائے جیسے کوئی معبد مندر میں بت کے آگے جھک جائے می… تم یہ اکثر پوچھتی تھی ناکہ تمہارے اور میرے درمیان کتنا فاصلہ ہے تو جانم جواب اس کا بہت سیدھا سا ہے۔ ’’دو آنکھوں کے بیچ جتنا فاصلہ ہے‘‘ یہ جو دو آنکھیں ہیں یہ تخیل میں جب چار ہوتی ہیں تو گھنٹنوں کے بل بیٹھ کر ’’محبت‘‘ کی مناجات کرتی ہیں اور وہ سب صدائیں سنا دیتی ہیں جو ہونٹ اور زبان پیدا کرنے کی ابھی کوشش ہی کررہے ہوتے ہیں۔ می… میرا بڑا جی چاہتا ہے کہ تم بھی میری آنکھوں‘ میرے ہونٹوں اور میرے سنہری بالوں پر کوئی خصوصی تحریر لکھو مگر پھر میں نفی کردیتا ہوں اپنے ہی ’’جی‘‘ کی کہ ان آنکھوں میں ویسا خمار کہاں جو تمہاری آنکھوں سے نکلنے والی پراسرار تیز روشنی میں ہے اگر کبھی حسن مجھ سے ان کے بارے میں استفسار کرے تو میں بلاجھجک کہہ دوں گا یہ تو باری تعالیٰ کا نور ہے جس میں بس سرور ہی سرور ہے۔ ہائے تمہارے یہ مرمریں آتشی لب گویا کسی آب رواں آب جو کے دو کنارے جن پہ خوش رنگ قطار اندر قطار‘ شاداب پھولوں کے دیدہ زیب سلسلے ہیں۔ تمہارے گیسو جن کا رنگ سنہرے سکوں‘ چاندی اور بلور کے بنے محلات کا سا ہے‘ جن کی چمک بوقت شب کافوری شمعوں کی طرح ہے جو پل بھر میں نگاہوں کو خیرہ کردیتی ہے یہ کوئی تعریفی مسودہ نہیں ہے یہ تو بس ’’وہ‘‘ ہے جو تمہاری موجودگی میں مجھے محسوس ہوتا ہے۔ آج کل جب مارچ مجھ سے غیروں سا رویہ برتنے لگتا ہے تو میں لفظ ’’محبت‘‘ کے گرد گہری سرخ روشنائی سے دائرے بنا دیتا ہوں تاکہ اس لہو کی دلدوز کیفیت کی بابت تمہیں بتاسکوں جو سن کر ’’مارچ‘‘ کا نام ہی اپنی گردش بھرپور کردیتا ہے۔ می… جب میں تمہیں خط لکھتا ہوں تو کوئی آغاز ترتیب نہیں دیتا۔ مجھے نہیں معلوم ہوتا کہ وسط میں کیا لکھوں گا‘ میں اس تشویش میں نہیں ہوتا کہ اختتام کیسے کروں گا‘ میں تو بس لکھ دیتا ہوں کہ تمہارا وجود وہ منطقہ ہے جس کی جانب تمام نفیس قلب ارواح جمع رہتی ہیں۔

میری پیاری می… کبھی کبھی مجھے اپنی زندگی ایک مکالمہ لگتی ہے۔ وہ مکالمہ جو برسوں سے میرا ’’مارچ‘‘ کے ساتھ ہے جو برسوں سے میرا ’’می‘‘ کے ساتھ ہے۔

بخدا… سچ کہہ رہا ہوں کتنے ماہ کے جاں گسل انتظار کے بعد ملنے والا تمہارا خط اتنا دلکش اتنا پیارا اتنا تسکیں بخش ہوتا ہے کہ میں پہروں اس ایک محبت نامے کو پڑھتا رہتا ہوں۔ کب سورج کی کرنوں کا لطف ختم ہوا۔ کب شبنم نے سحر کو غسل دیا۔ کب ہوا جھولا جھلاتی مرغان چمن تک پہنچی۔ کب چاند کا تبسم معدوم ہوا۔ کب ستارے رخصت ہوئے… مجھے کچھ بھی نہیں پتہ چلتا۔ سرب فراموش ہوجاتا ہے‘ بس یاد رہتا ہے تو ایک مختصر خط جو مارچ میں می کی جانب سے ملتا ہے۔

رفیقہ من… تمہیں میرے ہر خط کے آخر میں رقم تین نقطوں کے بعد سوالیہ نشان کا جواز بھی چاہیے تو جناب من اس کا سبب یہی ہے کہ میں تم سے تا عمر گفتگو جاری رکھنا چاہتا ہوں میرے دل کی حالتیں اس موئے قلم کے بس کی بات نہیں۔ اس کی ساری سیاہی ختم ہو جائے گی‘ پر میری بات جاری رہے گی۔ پس جب ایسا ہو تو می تم سمجھ لیا کرو وہ سب ازخود جو ان کہا رہ گیا ہو…

دلربا… وہ مسرت ہائے مبارک مجھے کسی پہاڑ کی چوٹی پر بٹھا دیتی ہے جب مارچ میں تمہارا خط آتا ہے۔ وہ دن میرا اس قدر مسرور گزرتا ہے کہ میرے محبت کے قفس کے گرد وصل کی سلاخیں اور مضبوط ہو جاتی ہیں… می!

آج تم سے باتیں کرتے میں تمہارے غیر مرئی وجود کو اپنے پہلو میں محسوس کررہا ہوں۔ کیا تم نے کیمیائی تعاملات کو ہوتے دیکھا ہے؟ مجھے آج ہم دونوں میں ایک ایسا ہی کیمیائی تعامل محسوس ہورہا ہے۔ جس میں تمہارے دل کی جگہ پر میرا دل آگیا ہے۔ روحیں باہم مل گئیں ہیں‘ جسم جدا ہوگئے ہیں۔

ہاں می! اس بار مارچ میں آنے والے تمہارے خط میں تمہارا نہیں‘ تمہاری موت کا ذکر آیا ہے‘ اس لیے تو قلب و روح کے ایسے تاثرات ہوگئے ہیں۔ آج اکیلے اس خط کے ساتھ کتنے گھنٹے میں نے یونہی گزار دئیے ہیں۔ تم سے باتیں کرتے‘ تمہارے جسم سے ربط توڑ کر تمہاری روح سے تعلق قائم کرتے اور تمہاری ہر ہر شرارت‘ ہر ہر حرکت پر رائے دیتے۔ آج مارچ سے میں نے معاہدہ پکا کرلیا ہے کہ اب اس ماہ میں‘ کوئی خط نہ لکھوں گا مگر سوائے مارچ کے ہر ماہ خط لکھ کر تمہاری قبر کے پاس رکھ آؤں گا۔ اے کاش…! پیاری می! تم جان سکو کہ اس پہر میں کس قدر اذیت میں ہوں۔ میری روح کس قدر زخموں سے چھلنی ہے… میرے کان اب بہرے ہوگئے ہیں۔ میری بصارت می تمہاری پیاری آنکھیں لے گئیں ہیں‘ میرا وجود اب یخ اور پژمردہ ہے‘ میری سانسیں بس اب تمہارے وجود کی مہک اپنے اندر سموتی ہیں‘ میرے ہونٹوں پر جو تبسم تمہیں سوچتے ہی نمودار ہو جایا کرتا تھا اب وہ روتا رہتا ہے‘ اتنا کہ اب اس کے آنسوؤں سے میں بالکل پریشان نہیں ہوتا۔ اب میں جاگتا رہتا ہوں اور تم بس سوتی رہتی ہو۔ پیاری می! جانتی ہو ایسا کیوں ہے ایسا بس اس لیے ہے کہ می! ہم نے سدا ایک دوسرے کے قالبوں پر روح کو فوقیت دی ہے اور جن کی نسبت روح سے ہو وہ کبھی مرا نہیں کرتے۔ اے کاش کہ می تم جان سکو۔

می زندہ ہے‘ می زندہ تھی اور می زندہ رہے گی…!

کہ جسد خاکی ہی جدا ہوا کرتے ہیں‘ وہ روحیں جن کا مطلق ہی خدا کا نور ہو وہ تاابد زندہ رہتی ہیںکہ آب بقائے ایسے ہی آدمی زادوں کو ودیعت کیا گیا ہے۔

می سو گئی تو سدا کے لیے…

مگر اے پیاری شریر لڑکی!

میری بیتاب آنکھیں

نیند میں بھی تجھے بوسہ دیتی ہیں…

چومتے ہوئے خواب میں بھی

تجھے یہ کہتی ہیں…

کرم کرے رب تیری شب بیداری پر

رحم کرے میری آہ و زاری پر

میں جاگتا رہوں تیری حفاظت کے لیے…

تو منتظر رہے میری محبت کے لیے…

جنت میں مقام تیرا ارفع ہو

جہاں بس نور ہی

برستا ہو

کہ اثر ہوتا ہے 

بس اس دعا کا

ہو نور مطلق

جس میں خدا کا…!

تمہارا اور صرف تمہارا میشا!

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
error: Content is protected !!
Close