Aanchal Mar-17

بیاض دل

میمونہ رومان

سباس گل… رحیم یار خان
دل سے بس ایک بات کہہ دیجیئو
دل کا چاہا پوار ہوا نہیں کرتا

آمنہ رحمن مسکان… ملکہ کوہسار‘ مری
کچھ نہیں رکھا محبت کی نمازوں میں بھی مسکانؔ
پرہیز گار بھی تڑپ رہے ہیں آج گناہ گاروں کی طرح

ثوبیہ سحر… بستی ملوک
جو آنا چاہو ہزار رستے نہ آنا چاہو تو عذر لاکھوں
مزاج برہم‘ طویل راستہ‘ برستی بارش‘ خراب موسم

صائمہ مشتاق… سرگودھا
میں جانتی ہوں وہ بے وفا ہے لیکن
دوست کو بے وفا کہنا میری فطرت میں نہیں

وقاص عمر… بنگڑنو‘ حافظ آباد
درد حد سے بڑھا ہے تو یہ احساس ہوا ہے
دل بجھ کے بھی دل رہتا ہے پتھر نہیں ہوتا
ہر شخص کو منہ مانگی مرادیں نہیں ملتیں
ہر شخص مقدر کا سکندر نہیں ہوتا

فصیحہ آصف خان… ملتان
نہ تم آئے نہ رت بدلی‘ نہ درد کو راہ فرار ملا
نہ دل سمجھا نہ تم سمجھے‘ نہ مجھ کو کبھی قرار ملا
میرا حوصلہ ہے تیرا درد ہے جو رفتہ رفتہ بڑھ گیا
نقد جاں بھی حاضر کی پونجی ہوئی تمام نہ پیار ہمیں ادھار ملا

مسز نگہت غفار… کراچی
کبھی چاند راہوں میں کھوگیا کہیں چاندنی بھٹک گئی
میں چراغ وہ بھی بجھا ہوا میری رات کیسے چمک گئی
میری داستاں کا عروج تھا تیری نرم پلکوں کی چھائوں میں
میرے ساتھ تھا تجھے جاگنا تیری آنکھ کیسے جھپک گئی

صائمہ سکندر سومرو… حیدر آباد‘ سندھ
آغوش لحد میں جب کہ سونا ہوگا
جز خاک نہ تکیہ نہ بچھونا ہوگا
تنہائی میں آہ؟ کون ہوگا انیسؔ
ہم ہوں گے اور قبر کا کونا ہوگا

عائشہ نور عاشا… گجرات
کچھ تو ہی میرے کرب کا مفہوم سمجھ لے
ہنستا ہوا چہرہ تو زمانے کے لیے ہے

نگین افضل وڑائچ… شادیوال‘ گجرت
ہر وقت خوش رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے
روپڑا وہ آج مجھ کو حوصلہ دیتے ہوئے

شمائلہ کرن… داجل
یہ درد کے ٹکڑے ہیں اشعار نہیں ساغرؔ
ہم کانچ کے دھاگوں میں زخموں کو پروتے ہیں

رائو تہذیب حسین تہذبؔ… رحیم یار خان
عقل کا کام جدا گانہ ہے
فیصلہ دل کا کہاں مانا ہے
چاہے اچھا ہی کرے کام کوئی
ہم نے تنقید کیے جانا ہے

نجم انجم… کورنگی‘ کراچی
کچھ الگ تھا کہنے کا انداز ان کا
کہ سنا بھی کچھ نہیں اور کہا بھی کچھ نہیں
کچھ اس طرح بکھرے ان کے پیارے میں ہم
کہ ٹوٹا بھی کچھ نہیں اور بچا بھی کچھ نہیں

دعائے سحر‘ انا احب… فیصل آباد
دشوار زمینوں کے سفر اتنے کیے ہیں
اب دشت مجھے آبلہ پائی نہیں دیتا

سیدہ لوبا سجاد… کہروڑپکا
واسطہ حسن سے یاشدتِ جذبات سے کیا؟
عشق کو تیرے قبیلے یا میری ذات سے کیا؟
آج اسے فکر کہ کیا لوگ کہیں گے ساغر
کل جو کہتا تھا مجھے رسم و روایات سے کیا؟

سمیرا مشتاق ملک… اسلام آباد
دانستہ چھوڑ جائوں گا میدان اور تم
ہارے ہوئے ہو گے اگر جیت بھی گئے

مدیحہ شفیق مدو… بورے والا
کتنا خوف ہوتا ہے شام کے اندھیروں میں فرازؔ
پوچھ ان پرندوں سے جن کے گھر نہیں ہوتے

مدیحہ نورین مہک… گجرات
نفرتوں کے تیر کھا کر دوستوں کے شہر میں
ہم نے کس کس کو پکارا یہ کہانی پھر سہی

پروین افضل شاہین … بہاولنگر
پت جھڑ کے ٹوٹے ہوئے پتوں کے ساتھ ساتھ
موسم بھی تو بدلے گا یہ آسرا بھی ہو
اس کے لیے تو میں نے یہاں تک دعائیں کی
میری طرح سے کوئی اسے چاہتا بھی ہو

عروسہ پرویز… کالس
اک ملاقات کرو ہم سے عنایت سمجھ کر
ہر چیز کا حساب دیں گے قیامت سمجھ کر
ہمارے پیار پر کبھی شک مت کرنا
ہم پیار بھی کرتے ہیں عبادت سمجھ کر

عائشہ یونس… حافظ آباد
اک دل کا درد تھا کہ رہا زندگی کے ساتھ
اک دل کا چین تھا کہ سدا ڈھونڈ رہے

لاریب انشال کھرل… اوکاڑہ
مجھ سے گلے ہیں مجھ پر بھروسہ نہیں اسے
یہ سوچ کر ہم نے بھی ٹوکا نہیں اسے
ساغر یہ محبت نہیں اصول وفا ہے
ہم جان تو دیں گے مگر دھوکا نہیں اسے

ثانیہ مسکان… گوجر خان
کبھی یوں ملیں کوئی مصلحت‘ کوئی خوف دل میں ذرا نہ ہو
مجھے اپنی کوئی خبر نہ ہو‘ تجھے اپنا کوئی پتا نہ ہو
تیرے اختیار میں کیا نہیں‘ مجھے اس طرح سے نواز دے
یوں دعائیں میری قبول ہوں میرے لب پہ کوئی دعا نہ ہو

یاسمین کنول… پسرور
بھول جاتی ہیں اپنی ہستی کو
ساری مائیں عجیب ہوتی ہیں

حمیرا قریشی… حیدر آباد‘ سندھ
یہ سال بھی نہ دے سکے گا مہکتا لمحہ کوئی
ہجر سونپ کر مجھ کو گزر گیا دسمبر

رانی صفدر… گجرات
میری ذات میں تُو اس قدر شامل ہے
کہ… مجھ کو میری سانس بھی اپنی نہیں لگتی

فیاض اسحاق مہانہ… سلانوالی
زبان کا ورد ہوئے مگر دلوں میں گھر نہ ہوئے
ہتھیلیوں پر لکھے نام ہم سفر نہ ہوئے
عجب طریقہ ہے تجھ کو بھولنے کا
ہم تیری یاد سے اک پل بھی بے خبر نہ ہوئے

اقراء افضل جٹ… منچن آباد
اک نظر دیکھ میرے ظرف محبت کی طرف
میں نے دل دے کر خریدا ہے غم تنہائی کو

ارم ریاـض… برنالی
ہمیں تو موت سے پیار ہے زندگی کا کیا فائدہ
زندگی تو وہ جیتے ہیں جن کے ساتھ کوئی جینے والا ہو

مدیحہ کنول سرور… چشتیاں
محبت روٹھ جائے تو اسے فوراً منالینا
دلوں میں فرق آجائے تو گھر نہیں بستے
جن کی آنکھو ں میں آنسو ایک بار ٹھہریں
لاکھ کوشش کرلو کنولؔ دوبارہ پھر نہیں ہنستے

عظمیٰ شاہین بٹ… نوشہرہ ورکاں
دل کے آئینے میں تصور سجا رکھی ہے
ہاتھوں میں ملن کی لکیر بنا رکھی ہے
چاہے جتنا بھی دور بھاگے مجھ سے
تجھے پانے کی خدا سے امید لگا رکھی ہے

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
error: Content is protected !!
Close