Naeyufaq Oct-17

بے نور قندیل

سلیم اختر

تقسیم ہند سے قبل میرے خاندان کے زیاد ہ تر افراد میرٹھ میں رہتے تھے اور سب کے سب اچھی اور خوشحال زندگی گزار رہے تھے۔ ملک تقسیم ہوا تو بہت سے مسلمانوں کے ہمراہ ہمارے خاندان کے کئی افراد بھی پاکستان جانے کو تیار ہو گئے مگر میرے دادا جان نے میرٹھ میں رہنے کا فیصلہ کرلیا۔ ان کے بھائیوں اور دیگر عزیزوں نے بہت اصرار کیا کہ وہ بھی ان کے ہمراہ پاکستان چلیں لیکن انہوں نے باپ داد کا بنایا ہوا گھر چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ کوئی بھی فرد ان کو قائل نہ کر سکا۔
دادا جان کے بیٹے یعنی میرے ابا جان کی بھی یہ خواہش تھی کہ وہ پاکستان جا کر آباد ہوں۔ مگر باپ کے سامنے زبان کھولنے کی ہمت نہ تھی لہذا خاموشی اختیار کر لی۔ بعد میں جب ان کی اولاد ہوئی تو انہوں نے اپنے بچوں کی شادیاں بھی وہیں مسلمان خاندانوں میں کردیں۔ جب میں نے شعور کی دنیا میں قدم رکھا تو اس وقت دادا اور دادی دنوں ہی اگلے جہان سدھار گئے تھے ۔ میرے اباجان حیدر آباد دکن میں ملازمت کرتے تھے اس لئے میں امی اور بہن بھائی بھی ان کے ساتھ حیدر آباد ہی میں رہتے تھے۔
میری امی کے کئی عزیز پاکستان میں تھے۔ میں ، ابا جان اور امی جان دونوں کی زبانی اپنے پاکستانی رشتے داروں کے تذکرے سنتی رہتی تھی۔ خطوط بھی پڑھتی تھی اور تصویریں بھی دیکھتی تھی اس لئے میرا بھی جی بہت چاہتا تھا کہ میں بھی پاکستان جائوں، اس پاک سر زمین کو دیکھوں اور اپنے رشتے داروں سے بھی ملوںلیکن میری خواہش پوری ہونے کی امید نہیں تھی کیونکہ ہمارا خاندان مالی لحاظ سے بہت ہی کمزور تھا ۔ ابا جان اکثر بیمار رہتے تھے۔ بس دال روٹی چل رہی تھی۔ ابا جان کا بھی جی چاہتا تھا کہ وہ اپنے رشتے داروں سے ملنے پاکستان جائیں مگر حالات اور جیب اجازت نہ دیتے تھے۔ ہم لوگ صرف تمنا ہی کر سکتے تھے ، خواب ہی دیکھ سکتے تھے۔ ان خوابوں کی تعبیر پانا ہمارے لئے نا ممکن تھا۔ میں بہن بھائیوں میں بڑی تھی اس لئے میں اپنے گھریلو حالات کو دیکھ کر بہت ہی کڑھتی تھی۔ میرا جی چاہتا تھا کہ میں بھی ملازمت کروں اور ابا جان کا ہاتھ بٹائوں۔ ان کا بیٹا بنوں کیونکہ میں نے ایف اے تک تعلیم حاصل کر رکھی تھی۔ مگر ابا جان مجھے ملازمت کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ وہ خود دن رات کام کر کے ہمارے ضروریات پوری کرتے تھے۔ وہ بظاہر ہنستے مسکراتے تھے لیکن میں اور امی جانتی تھیں کہ بیماری ان کو اندر ہی اندر کھائے جا رہی ہے۔ کام کی زیادتی اور بہتر غذا نہ ملنے کی وجہ سے ان کی صحت روز بروز گرتی جا رہی تھی۔ ان دنوں مجھ سے چھوٹی بہن مریم میٹرک کر چکی تھی جب کہ بھائی انور آٹھویں کلاس میں پڑھتا تھا۔ میں گھر پر ہی رہتی تھی۔ امی اور ابا کو میری شادی کی فکر تھی اور وہ میرے لئے کسی اچھے رشتے کی تلاش میں تھے کہ سب کچھ دھرے کا دھرا رہ گیا ۔ ابا جان زندگی سے ناتا توڑ گئے۔ ہم یتیم اور بے آسرا ہو گئے۔ آہیں اور آنسو ہمارا مقدر بن گئے۔ امی کے عزیزوں نے زبانی طور پر تو ہماری خوب دلجوئی کی لیکن کسی نے عملی طور پر ہماری مدد نہ کی۔ ہر ایک نے آنکھیں پھیر لیں۔ امی بہت پریشان رہنے لگیں کہ اب زندگی کی گاڑی کیسے چلے گی؟ ان کے پاکستان میں رہنے والے عزیزوں کو پتا چلا تو سب نے تعزیت کے خط لکھے اور یہ پیشکش کی کہ ہم پاکستان آجائیں تو وہ ہمیں سہارا بھی دیں گے اور ہمارے دکھ درد بھی بانٹ لیں گے ۔ ابا کے رشتے داروں نے بھی ایسے ہی خطوط لکھے تو میرا دل پاکستان جانے کو بے چین ہو گیا مگر نہ جانے کویں امی جان نے پاکستان جانے کی بجائے میرتھ ہی میں رہنے کو ترجیح دی۔ ہم لوگ میرٹھ لوٹ آئے۔
میرٹھ میں امی کے منع کرنے کے باوجود میں نے سروس کی تلاش شروع کر دی کیونکہ اب اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ دو چار ماہ کی بھاگ دوڑ کے بعد مجھے ایک اسکول میں ملازمت مل گئی۔ تنخواہ بھی معقول تھی اس لئے گزر بسر بہتر انداز میں ہونے لگی۔ امی کو اب میری شادی کی فکر تھی مگر میں نے عہد کر لیا تھا کہ پہلے مریم اور انور کی شادی کروں گی۔بعد میں اپنی شادی کا سوچوں گی۔
قدرت نے مجھے اتنا حسین تو نہ بنایا تھا پھر بھی میرے حسن میں ایک کشش اور رعنائی تھی۔ اس کا احساس مجھے سروس کرنے کے دوران میں ہوا تھا۔ میرے کئی چاہنے والے پیدا ہو گئے تھے جن میں مسلمان اور ہندو دونوں شامل تھے۔ وہ میرے حسن کے قصیدے کہتے تھے ۔ میری شکل ایک بھارتی اداکارہ سے کافی حد تک ملتی تھی اس لئے لوگ میرے اصلی نام کی بجائے مجھے اسی اداکارہ کے نام سے پکارنے لگے تھے مگر مجھے ان باتوں سے کوئی غرض نہ تھی ۔ میں محبت کو ایک فضول شے سمجھتی تھی اور صرف یہ جانتی تھی کہ روٹی ہی محبت ہے ۔ بھوک مٹ جائے تو ہر چیز سے محبت ہو جاتی ہے ۔ مجھے تو صرف ماں، بہن اور بھائی سے محبت تھی اس لئے میرے ذہن میں کوئی آئیڈیل نہیں تھا۔ میں تو ماں اور بہن بھائی کے لئے زندہ تھی۔
تین سال کا عرصہ گزر گیا۔اس عرصے میں ، میں نے مریم کا جہیز تیار کر لیا اور پھر وہ جہیز جو امی نے میرے لئے بنایا ہوا تھا ، وہ بھی مریم کو دے دیا اور جلد ہی اس کی شاد ی کر دی۔ مریم اپنے گھر بہت خوش تھی اور یہی میری خوشی تھی۔ انور نے بھی ایف اے کا امتحان پاس کر لیا تھا۔ میں چاہتی تھی کہ وہ مزید تعلیم حاصل کرے مگر اسے میری فکر کھائے جا رہی تھی کیونکہ وہ بھائی تھا۔ بھائی جو بہنوں کا مان اور ایسے سائبان ہوتے ہیں جہاں سرد اور گرم ہوائوں کا گزر نہیں ہوتا ، جہاںموسم نہیں بدلتے ، جہاں سدا ایک ہی موسم رہتا ہے۔ چاہت کا موسم ، محبت کا موسم……
انور بھی ایسا ہی بھائی تھا۔ وہ سروس کی تلاش میں تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اسے سروس مل جائے تو وہ میری نوکری چھڑوا دے ۔ انہی دنوں میں پاکستان کے شہر راولپنڈی سے میری امی کی ایک خالہ زاد کا بیٹا شیراز ہمارے ہاں آگیا۔ شیراز کی ماں اکثر میری امی کو خط لکھا کرتی رہیت تھی۔ ان میں شیراز اور اس کے دیگر بہن بھائیوں کا ذکر بھی ہوتا تھا۔ شیراز کی تصویر بھی میںنے دیکھ رکھی تھی۔ وہ میرا ہم عمر تھا اور خاصا وجیہہ جوان تھا مگر میں نے اس کے بارے میں کبھی بھی سنجیدگی سے نہیں سوچا تھا اور نہ ہی اس کی کبھی ضرورت محسوس کی تھی۔ شیراز بغیر اطلاع کے آگیا تھا۔ میں اسکول سے واپس گھر میں داخل ہوئی تو انوار نے مسرت بھرے لہجے میں بتایا۔ ’’باجی ! پاکستان سے مہمان آئے ہیں۔‘‘
میں دھک سے رہ گئی اور دھڑکتے دل سے پوچھا ۔ ’’کون؟ کون آیا ہے؟‘‘
’’خالہ زبیدہ کا لڑکا شیراز آیا ہے ۔ وہ آپ کا باجی مریم کا بھی پوچھ رہے تھے۔‘‘
شیراز کا نام سن کر نہ جانے کیوں مجھے شرم ہی آگئی پھر بھی میں ہمت کر کے اسے سلام کرنے اس کمرے میں چلی گئی جہاں وہ امی کے پاس بیٹھا باتیں کر رہا تھا۔ میں نے جاتے ہی اسے سلام کیا۔ اس نے میرے سلام کا جواب دیا تو امی نے میرا اس سے تعارف کراتے ہوئے کہا۔ ’’شیراز ! یہ میری بڑی بیٹی سلمی ہے اور سلمی یہ شیراز ہے۔ زبیدہ کا بیٹا ! راولپنڈی پاکستان سے آیا ہے۔‘‘
’’آپ کا سفر کیسا گزرا۔‘‘ میں نے سوال کیا ۔‘‘
’’بہت اچھا ۔ در اصل میر ا آپ لوگوں سے ملنے کو بہت جی چاہتا تھا۔ دوسرے میں بھارت کی سیر بھی کرنا چاہتا تھا اس لئے چلا آیا ہوں۔ آپ لوگوں کو زحمت ہو گی۔ ’’اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے کیا؟
’’نہیں شیراز بھائی! زحمت کیسی؟ مہمان تو اللہ کی رحمت ہوتے ہیں۔ آپ جتنے دن چاہیں ، یہاں رہیں ۔ انوار آپ کو سیر بھی کرائے گا۔‘‘
میرے بھائی کہنے پر وہ چونک سا گیا۔ میں نے جلدی ہی یہ محسوس کر لیا کہ شیراز بھی ان عام لڑکوں جیسا ہے جو لڑکی کو دیکھتے ہی لٹو ہو جاتے ہیں۔ اس کی نگاہیں مسلسل میرا تعاقب کر رہی تھیں پھر ادھر ادھر کی باتیں ہونے لگیں۔ میں نے خالہ اور دیگر عزیزوں کی خیریت دریافت کی اور پھر باتوں باتوں میں جب میں نے اسے یہ بتایا کہ پاکستان جانے اور اس پاک سر زمین کو دیکھنے کی مجھے بہت خواہش ہے تو وہ کہنے لگا۔ ’’تمہاری خواہش ضروری پوری ہو گی سلمی! آپ سب لوگ میرے ساتھ پاکستان چلیں۔ وہاں ہمارا بہت بڑا گھر ہے۔ اسلام آباد بھی نزدیک ہی ہے ۔ میں آپ کو وہاں کی جی بھر کے سیر کرائوں گا۔‘‘
میں نے یہ انداز ہ لگا لیا کہ شیراز باتیں بہت زیادہ کرتا ہے اور باتوں سے ہی دوسروں کا دل جیتنا بھی جانتا ہے۔ اس کی باتیں سننے کو جی چاہتا تھا مگر مجھ اتنی فرصت ہی نہ تھی کہ اس کی باتیں سنوں یا اس کے ساتھ کہیں گھومنے جائوں۔ اگلے روز میں نے اسکول جانے سے قبل کچھ رقم انوار کو دی اور اسے تاکید کی کہ شیراز کا خیال رکھے۔ وہ ہمارا مہمان ہے۔ مہمانداری میں کوئی کسر نہ چھوڑے ۔ اگر وہ کوئی اور شہر بھی دیکھنا چاہے تو ضرور دکھائے۔
اس روز میں اسکول سے واپس آئی تو انوار نے بتایا کہ وہ شیراز کو سیر کرانے لے گیا تھا مگر ابھی ایک دو جگہیں ہی دیکھی ہیں۔ شیراز بھائی کا ایک ماہ تک رہنے کا ارادہ ہے ۔ وہ مجھے کہتے ہیں کہ میرے ساتھ پاکستان چلو مگر میں نے انکار کر دیا ہے کہ جب تک میں اپنے ہاتھوں سے نہ کمانے لگوں، پاکستان نہیں جائوں گا۔ انوار نے شیراز کی بہت تعریفیں کیں کہ شیراز کہتا ہے کہ وہ کسی انڈین مسلمان لڑکی سے شادی کرے گا تاکہ انڈیا آنا جانا لگا رہے اور سیر بھی ہوتی رہے۔
میںنے انوار اور شیراز کی ان باتوں پر کوئی توجہ نہ دی۔ میں تو یہ چاہتی تھی کہ مہمان کی جی بھر کر خدمت کی جائے تاکہ وہ اچھی یادیں اور اچھا تاثر لے کر پاکستان جائے۔ اسے اجنبیت کا احساس نہ ہو، میں نے اسکول کے کیشیئر سے کچھ رقم ایڈوانس لے لی تھی تاکہ شیراز کی مہمان نوازی پر خرچ کرسکوں۔ امی بھی اس کی بہت تعریفیں کرتی تھیں۔ وہ انہی کے ساتھ زیادہ گپ شب لگاتا تھا۔ میں شروع ہیں سے ریزرو ہی رہتی تھی۔ آٹھ دس دن گزر گئے تھے ، میں نے کبھی بھی شیراز سے بے تکلف بات چیت نہ کی تھی جب کہ شیراز مجھ سے باتیں کرنا چاہتا تھا۔ میں جان گئی تھی کہ وہ جب بھی مجھے اکیلے میں ملے گا تو اپنی چاہت کا اظہار کرے گا پھر ایسا ہی ہوا۔ ایک روز میں اسکول سے چھٹی کر کے نکل ہی رہی تھی کہ شیراز کو اسکول کے گیٹ کے قریب کھڑے پایا۔
’’شیراز! آپ یہاں، کیسے آنا ہوا؟‘‘
’’آج میرا سیر کرنے کو جی چاہ رہا تھا کیونکہ موسم بہت اچھا ہے۔‘‘
’’تو انوار کے ساتھ چلے جاتے۔‘‘ میں نے جان بوجھ کر کہا۔
میں روز روز انوار کے ساتھ جا کر بور ہو گیا ہوں۔ آج میں آپ کے ہمراہ سیر کرنا چاہتا ہوں کیونکہ آپ نے تو ایک روز بھی میرا ساتھ نہیں دیا‘‘۔
میں انکار نہ کر سکی اور اس کے ساتھ چل پڑی۔ کچھ دیر گھومنے کے بعد ہم ایک کیفے میں آگئے۔ میں نے کھانے پینے کا آرڈر دے دیا۔ میں کھانے پینے کے بعد جلد از جلد گھر آنا چاہتی تھی مگر شیراز جان بوجھ کر وقت کو طول دے رہا تھا اور پھر شیراز نے وہ بات کہہ ہی دی کہ وہ مجھ سے محبت کرنے لگا ہے اور مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے ۔ اس نے اپنی محبت کے بڑے بڑے دعو ے کئے اور پھر کہنے لگا۔ ’’سلمی! تم اجازت دو تو میں خالہ سے بات کروں۔ ویسے تمہاری اجازت کے بغیر ہی ان سے اشارہ کنائے میں بات کر چکا ہوں۔ وہ راضی ہیں لیکن تمہاری رضامندی کی ضرورت ہے ۔ دیکھو سلمی! انکار نہ کرنا ور نہ میں تمام عمر شاد ی نہ کروں گا۔ اب تمہیں میری بیوی بن کر میرے ساتھ پاکستان چلنا ہو گا۔ ویسے بھی تمہیں مسلمانوں کا پاک وطن دیکھنے کی آرزو ہے۔ تم ماں ، بہن اور بھائی سے دور ہو جائو گی لیکن پاکستان دور نہیں۔ جیب میں پیسے ہونے چاہئیں۔ پیسے فاصلوں کو ختم کر دیتے ہیں۔‘‘
میں خاموشی سے اس کی باتیں سن رہی تھی۔ اسے کیا جواب دیتی؟ اگر ماں راضی تھی تو میں بھلا کیسے انکار کرتی۔ کچھ دیر بعد میں نے کہا۔ ’’شیراز! ایک بار پھر سوچ لو۔ بعد میں تمہیں پچھتانا نہ پڑے۔‘‘
’’میں نے بہت غور کے بعد فیصلہ کیا ہے سلمی!‘‘
شیراز نے مجھے قائل کر لیا۔ میں جو محبت کو فضول سمجھتی تھی اب شیراز کی محبت پا کر ہوائوں میں اڑنے لگی ۔ میں نے اسکول سے چند دنوں کی چھٹی لی اور شیراز کو قدرت کی طرف سے ایک انعام سمجھ کر قبول کر لیا۔
…٭٭…
شیراز نے امی سے بات کی تو وہ کہنے لگیں۔ ’’شیراز! ایسی باتیں تو والدین کرتے ہیں۔ ٹھیک ہے زبیدہ اگر نہیں آتی تو اسے کم از کم خط تو لکھ دینا چاہئے تھا۔ اگر پہلے پتا ہوتا تو میں کچھ تیاری کر لیتی۔ میں سلمی کو خالی ہاتھ کیسے رخصت کروں گی؟‘‘
’’خالہ جان! آپ کسی باتیں کرتی ہیں؟ میں امی سے اجازت لے کر آیا تھا اور پھر یہ تو گھر کا معاملہ ہے۔ آپ کی دعائوں سے میں خاصا کماتا ہوں۔ زیور بھی خود بنوا لوں گا۔ باقی کسی چیز کی ضرورت نہیں ، صرف سلمیٰ چاہئے مجھے۔ سلمی ہی میرا سب کچھ ہے۔ بس آپ بسم اللہ کریں کیونکہ مجھے دس دن بعد واپس جانا ہے۔ میری چھٹی اتنی ہی ہے‘‘۔
’’امی نے شیراز کی بات مان لی اور پھر ایک شام میں سلمی سے سلمی شیراز بن گئی۔ شادی نہایت سادگی سے ہوئی جس میں ہماری برادری کے لوگ شامل تھے۔ پہلی رات ہم نے ڈھیروں باتیں کیں۔ مستقبل کے حسین خواب سجائے۔ شیراز کی محبت بھری باتیں سن کر یوں لگا جیسے میں نے چاند پر قدم رکھ دیئے ہیں۔
شیراز کی چھٹی ختم ہوئی تو وہ پاکستان چلا گیا اور میں اس کے انتظار کی آگ میں جلنے لگی۔ میں شیراز کے ساتھ نہیں جا سکتی تھی کیونکہ قانونی کارروائی اتنی جلدی مکمل نہیں ہو سکتی تھی۔ شیراز میرا کیس تیار کرا کے جمع کرا گیا تھا۔ اس نے پاکستان پہنچتے ہی مجھے خط لکھا۔ ’’سلمی ! تمہارے بغیر میری زندگی سونی سونی لگتی ہے۔ میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں اس لئے تم جلدی سے آجائو۔‘‘
میں نے کوشش کی اور جلدی ہی میرے ویزے کا مسئلہ حل ہو گیا۔ میں نے پاکستان جانے کے لئے رخت سفر باندھ لیا۔ میری دیرینہ خواہش پوری ہو رہی تھی۔ میں نے پاکستان جانے کا جو خواب دیکھا تھا، اس کی تعبیر مجھے مل رہی تھی۔ اب تو وہاں میرا مجاز ی خدا بھی تھا جس کے سنگ مجھے تمام عمر گزارنا تھی۔ ریلوے اسٹیشن پر امی ، مریم اور انوار کے علاوہ کچھ اور رشتہ دار بھی آئے ہوئے تھے۔ مریم بمبئی سے مجھے ملنے آئی تھی۔ انوار کو بھی سروس مل گئی تھی اس لئے میں مطمئن تھی کہ گھر میں مالی پریشانی نہیں ہو گی مگر اپنے پیاروں سے جدائی کا احساس میرا دل چہرے جا رہا تھا۔ میں امی کے گلے لگ کر دھاڑیں ما ر مار کر رونے لگی۔ اپنوں سے جدائی نے میری آنکھیں ساون بھادوں بنا ڈالیں۔ ٹرین چل پڑی تو آہستہ آہستہ سب کے چہرے میری نظروں سے اوجھل ہو گئے اور میں اپنی سیٹ پر بیٹھ کر سسکنے لگی۔
…٭٭…
لاہور ریلوے اسٹیشن پر شیراز مجھے لینے آیا ہوا تھا۔ اس نے راولپنڈی جانے والی ریل کار کی سیٹیں بک کر ا رکھی تھیں۔ راستے میں شیراز نے مجھے جو کچھ بتایا وہ سن کر میں پریشان ہو گئی ۔ وہ کہنے لگا۔
’’سلمی! میں نے ابھی تک اپنے گھروالوں کو اپنی اور تمہاری شادی کا نہیں بتایا ہے اس لئے کہ میری امی میری شادی کسی اور جگہ کرنا چاہتی ہیں مگر میں ان کو ٹالتا آرہا ہوں۔ مجھے تمہارا انتظار تھا کہ تم آجائو تو پھر میں اپنی تمام کہانی بتائوں گا۔ میں تم سے معذرت خواہ ہوں کہ میں نے تمہیں حقیقت نہ بتائی مگر تم فکر نہ کرو۔ میری امی جب تمہیں بہو کے روپ میں دیکھیں گی تو سب کچھ بھول کر تمہیں گلے لگا ئیں گی۔ انہیں تمہاری آمد کا معلوم ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتیں کہ تم میری بیوی ہو۔‘‘
اس لمحے پہلی بار مجھے شیراز پر غصہ بھی آیا اور نفرت بھی محسوس ہوئی کیونکہ میں خود جھوٹ نہیں بولتی تھی۔ میں بہت پریشان ہو گئی۔ میں نے کہا۔ ’’شیراز! تم نے بہت ہی غلط کیا کہ اپنے والدین کو نہیں بتایا۔ ہم نے شادی کی ہے کوئی گناہ نہیں کیا ۔ اگر تمہارے گھر والوں نے مجھے قبول کرنے سے انکار کر دیا؟‘‘
’’کچھ نہیں ہو گا سلمی! میں جو ہوں تمہارے ساتھ پھر تم کیوں فکر کرتی ہو؟‘‘
شیراز تمام راستے مجھے تسلیاں اور دلاسے دیتا رہا ۔ یہاں تک کہ گاڑی راولپنڈی کے ریلوے اسٹیشن پر پہنچ گئی۔ وہاں کوئی اور مجھے لینے نہیں آیا تھا۔ وہاں سے شیراز مجھے لے کر اپنے گھر کی طرف روانہ ہوا۔ اس کا گھر ریلوے اسٹیشن کے نزدیک ہی ایک محلے موہن پورہ میں تھا اس لئے مجھے پیدل ہی تنگ اور تاریک سی گلیوں میں لے گیا۔ اس کا مکان پرانی طرز کا تھا۔ بوسیدہ بھی تھا۔ شیراز کے بہن بھائیوں سے بھی تعارف ہوا۔ خالہ امی اور دیگر رشتے داروں کے بارے میں پوچھنے لگیں۔ میں انہیں ہر ایک کے بارے میں بتاتی رہی۔ جلد ہی مجھے احساس بھی ہو گیا کہ ان میں سے کسی کو بھی میرے آنے کی خوشی نہیں ہوئی۔ گھر میں غربت اور جہالت کے سائے منڈلا رہے تھے۔ شیراز نے یہ بھی اعتراف کر لیا تھا کہ اس کی آمدن معمولی سے ہے ۔ وہ کسی ورکشاب میں کام کرتا تھا جہاں سے اسے پچاس روپے روزانہ مل جاتے تھے۔ شیراز کے دیگر بہن بھائی بھی ان پڑھ ہی تھے اور ادھر ادھر مزدوری کر کے گزارہ کر رہے تھے۔ شیراز کے والد بھی کپڑے کے ایک مل میں معمولی ملازم تھے۔ یہ باتیں اب اس گھر میں آکر مجھے معلوم ہوئی تھیں۔
…٭٭…
شام ڈھل چکی تھی اور رات کا اندھیرا پھیلنے لگا تھا۔ شیراز کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی کیونکہ وہ میرا شوہر تھا اور ہم کئی ماہ بعد ملے تھے۔ وہ چاہتا تھا کہ رات ہم ایک ہی کمرے میں میاں بیوی کی طرح گزاریں۔ خود میں بھی یہی چاہتی تھی۔ یہ تبھی ممکن تھا کہ خالہ اور خالوکو بتایا جائے کہ ہم میاں بیوی ہیں اور ہماری شادی ہو چکی ہے لیکن شیراز میں زبان کھولنے کی ہمت نہیں تھی جبکہ میں پہلے ہی شیراز کو بتا چکی تھی کہ یہ تمہارا مسئلہ ہے اور میں پہل نہیں کروں گی۔
رات جب سب سونے کی تیاریاں کرنے لگے تو شیراز نے ماں باپ کو حقیقت بتا دی جس کی تصدیق میں نے بھی کر دی۔ اچانک یہ خبر سن کر خالو تو کچھ نہ بولے اور میرے سر پر ہاتھ پھیر کر اپنے کمرے میں چلے گئے مگر خالہ نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ انہوں نے صرف شیراز کو بلکہ مجھے بھی کھری کھری سنا ڈالیں۔ انہوں نے میری ماں کو بھی معاف نہ کیا۔ شیراز نے ان کی منتیں کیں۔ میں نے بھی بہو کی حیثیت سے ان کا دل جیتنا چاہا مگر ان کا پارہ نہ اترا۔ وہ دیر تک مجھے اور میری ماں کو بر ا بھلا کہتی رہیں۔ انہوں نے مجھ پر آوارہ اور بد چلن ہونے کے الزامات بھی لگا ڈالے۔ وہ بولتی رہیں اور شیراز مجھے کمرے میں لے گیا پھر اندر سے کنڈی لگا دی۔ میری آنکھیں برسنے لگیں۔ شیراز نے مجھے تسلیاں دیں اور دلاسے دیتا رہا کہ وہ میرا ساتھ کبھی نہیں چھوڑے گا مگر مجھ لگ رہا تھا کہ میں نے شیراز کے ساتھ شادی کر کے اور پاکستان آکر غلطی کی ہے لیکن اب کیا ہو سکتا تھا ۔ میں نے اپنی زندگی شیراز کے نام کر دی تھی۔ اب میرا مرنا اور جینا اسی کے ساتھ تھا۔
میں نے لاکھ کوشش کی کہ خالہ کی غلط فہمی دور کر سکوں مگر انہوں نے شیراز کی غلطی کو میری غلطی جان کر معاف نہ کیا۔ جلد ہی محلے والوں کو بھی معلوم ہو گیا کہ میں شیراز کی بیوی ہوں۔ محلے کی عورتیں میری تعریف کرتیں تو خالہ میری برائیاں کرنے لگتیں۔ کبھی سیدھے منہ مجھ سے بات نہ کرتیں۔ میری ہر بات اور ہر کام میں و نقص نکالنے لگتی تھیں۔ وہ اکثر کہتی تھیں کہ میں سلمی کو اس گھر میں نہیں رہنے دوں گی اور شیراز کی دوسری شادی اپنی مرضی سے کروں گی۔ اس جہنم میں جلتے ہوئے چار ماہ بیت گئے تھے کہ ماں کی موت کی خبر نے میرے زخموں کو ہراکر دیا ۔ اس روز میں بہت روئی تھی کہ میں کتنی بد نصیب ہوں کہ اپنی ماں کا آخری دیدار بھی نہیں کر سکی۔ میں نے تو سکھ پانے کی خاطر ان سے جدا ہونا گوارہ کیا تھا وہ خود بھی مجھے سکھی دیکھنا چاہتی تھیں مگر تقدیر نے مجھے دکھوں کے سمندر میں پھینک دیا ۔ اوپر سے ماں کی موت نے مجھے اور نڈھال کر ڈالا۔
ابھی میں اس صدمے سے سنبھل نہ پائی تھی کہ تقدیر نے مجھے ایک اور گھائو لگایا۔ شیرازنشے کی لت میں مبتلا ہو گیا۔ اس نے کام پر جانا کم کر دیا اور آوارہ دوستوں کے ساتھ مل کر اپنے جیون کو دھویں کی نذر کرنے لگا۔ ساتھ ہی خالہ نے شیراز کو اور مجھے گھر چھوڑ نے کا حکم دے دیا۔ میں اور شیراز ان کے لئے بوجھ بن گئے تھے۔ شیراز نے اسی محلے میں ایک چھوٹا سا مکان لے لیا اور ہم دونوں وہاں رہنے لگے۔ نئے مکان میں آکر خالہ کے ظلم وستم اور طعنوں سے تو نجات مل گئی مگر شیراز کی عادات خراب تر ہوتی چلی گئیں۔ میں نے اس پر بھر پور توجہ دی کہ وہ سنبھل جائے مگر اس پر میری کسی بات اور نصیحت کا کوئی اثر نہ ہوتا تھا۔ آمدن کم اور خرچ بڑھنے لگا تو گھر کی حالت بھی خراب ہونے لگی اس لئے میں نے سروس کی تلاش شروع کر دی۔ شیراز بھی اس کے حق میں تھا میں سروس کر لوں۔ شیراز کے تمام وعدے اور قسمیں دم توڑ گئیں۔ میں جو یہ سمجھتی تھی کہ میں نے آسمان پر قدم رکھ دیئے ہیں، زمین کی خاک ہو کر رہ گئی۔ میرے تمام سندر سپنے ٹوٹ گئے۔ بہاروں نے خزائوں کا روپ دھار لیا۔
جلد ہی مجھے ایک پرائیویٹ اسکول میں ملازمت مل گئی۔ یوں زندگی کی گاڑی کچھ بہتر انداز میں چلنے لگی لیکن شیراز نے اس آمدنی کا غلط فائدہ اٹھانا شروع کر دیا۔ اس نے کام پر جانا ہی چھوڑ دیا اور روزانہ مجھ سے نشے کے لئے رقم طلب کر نے لگا۔ شروع شروع میں تو میں اسے کچھ رقم دے دیتی تھی مگر پھر میں نے ہاتھ روک لیا کیونکہ اس طرح تو میں اپنی زندگی اپنے ہاتھوں سے جہنم بنا رہی تھی۔ میں نے شیراز کو علاج کرانے کا مشورہ دیا مگر وہ ڈاکٹر کے پاس جانے کو راضی ہی نہ ہوتا تھا۔ اسے روزانہ پچاس روپے کی ضرورت پڑتی تھی۔ جب میں نے رقم دینے سے انکار کیا تو وہ گالم گلوچ پر اتر آیا اور پھر ایک دن توا س نے انتہا کر دی۔ اس نے محبت کا وہ بت اپنے ہاتھوں سے توڑ ڈالا جس کو اس نے خود ہی تراشا تھا۔ اس نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا اور مجھے بری طرح پیٹ ڈالا۔ اور میری انگلی سے سونے کی انگوٹھی اتار کر لے گیا اور فروخت کر ڈالی۔ اس روز میں بہت روئی مجھے تسلی دینے اور میرے آنسو پوچھنے والا بھی کوئی نہ تھا۔ زندگی میرے لئے یوں عذاب بن جائے گی، میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔
جس روز شیراز کو نشہ نہ ملتا، رقم نہ ملتی تو وہ گھر کے برتن اٹھا کر لے جاتا اور فروخت کر ڈالتا۔ میں اندر ہی اندر کڑھنے لگتی۔ میں نماز پڑھتی اور رو رو کر پروردگار سے دعائیں مانگتی۔ ’’اے پروردگار ! اپنے پیارے حبیب ﷺ کے صدقے ! شیراز کو راہ راست پر لے آاور وہ نشہ ترک کر دے۔ ’’مگر میری دعائوں میں شاید اثر ہی نہ تھا کہ کوئی بھی دعا قبول نہیں ہو رہی تھی اور میں بد نصیبی کی چادر میں لپٹتی جا رہی تھی۔
ایک روز شیراز باہر سے آیا تو وہ بہت خوش لگ رہا تھا۔ آتے ہی کہنے لگا۔ ’’سلمی ! جلدی سے تیار ہو جائو۔ ایک دوست کے ہاں جانا ہے۔‘‘
’’کون سا دوست ہے اور کیوں جانا ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’وہ میرا پرانا دوست اور کلاس فیلو ہے ۔ وہ سعودی عرب میں ہوتا تھا۔ اب چھٹی گزارنے آیا ہوا ہے ۔ عرصے بعد ملاقات ہوئی ہے ۔ اس نے کہا کہ تمہیں بھی ساتھ لائوں۔ اس نے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ وہ مجھے سعودی عرب لے جائے گا۔‘‘
میں نے شیراز کی باتوں کا یقین کر لیا۔ ہلکا سا میک اپ کیا اور خوشی خوشی شیراز کے ہمراہ چل پڑی۔ اتنے عرصے بعد میں شیراز کے ہمراہ پہلے بار کسی کے گھر جا رہی تھی۔ ساتھ ہی دعائیںبھی مانگتی تھی کہ خدا کرے شیراز اسی طرح خوش و خرم رہے اور نشے سے نجات پا لے۔
مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سا علاقہ تھا۔ آدھے گھنٹے سفر کے بعد ٹیکسی ایک بڑے سے مکان کے آگے رکھ گئی۔ مکان کے گیٹ پر ایک آدمی پہرہ دے رہا تھا۔ شیراز نے اسے اپنا نام بتایا اور کہا کہ اسے گلستان سے ملنا ہے ۔ اس نے ہمیں اندر جانا کی اجازت دے دی۔ بہت بڑی کوٹھی تھی۔ میں یہ سمجھی کہ شیراز کا دوست سعودی عرب سے آیا ہے اور بہت امیر ہے اسی لئے اتنی بڑی کوٹھی بنوا رکھی ہے چنانچہ میرے من میں کسی شک نے سر نہ اٹھایا۔ شیراز کے ہمراہ میں ایک کمرے میں داخل ہو ئی تو دو آدمی بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ شکل ہی سے خطر ناک لگ رہے تھے۔ ان کو دیکھتے ہی میرے اندر شک نے جنم لے لیا۔
’’خان! میں آگیا ہوں۔ معاف کرنا تھوڑی دیر ہو گئی۔ ’’شیراز نے کہا۔
’’کوئی بات نہیں۔ دیر تو کر دی ہے تم نے مگر مال اچھا لائے ہو۔‘‘ وہ شخص اپنے لبوں پر شیطانی مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے بولا۔ اس کی نگاہیں میرے سراپے کا جائز ہ لے رہی تھیں۔
’’جو کچھ تم نے بتایا تھا شیراز! یہ تو اس سے بھی بڑھ کر ہے ۔‘‘ دوسرا شخص بولا۔
’’سو دا تو پانچ ہزار میں طے ہوا تھا مگر میں تمہیں آٹھ ہزار دوں گا۔‘‘ خان بولا او رپھر دوسرے شخص نے شیراز کے ہاتھوں میں نوٹ تھما دیئے۔ شیرا زنے نوٹ جیب میں ڈالے اور کمرے سے نکل گیا۔ شیراز ایسا بھی ہو سکتا ہے ، شوہر اپنی بیوی کا سودا بھی کر سکتا ہے ، میں نے تو کبھی ایسا سوچا بھی نہ تھا مگر اب حقیقت آنکھیں کھولے سامنے کھڑی تھی۔ مجھ پر سکتہ سا طاری تھا۔ میں چاہ کر بھی کچھ نہ کر سکی۔ میرے وہ خواب چکنا چور ہو گئے جو میں نے اس پاک دھرتی میں رہنے کے لئے دیکھے تھے۔ میں اپنوں ہی کے ہاتھوں برباد ہو گئی ۔ شیراز نے میرا سودا کر ڈالا۔ کتنا ظالم اور بے درد تھا وہ شخص کہ محض نشہ کرنے کی خاطر اس نے اپنی بیوی کو ہی دائو پر لگا دیا۔ میں ایک جال میں پھنس گئی جس میں صرف پھڑ پھڑایا جا سکتا تھا۔ رہائی نہیں مل سکتی تھی۔
شیراز کے جانے کے بعد میں بہت چیخی چلائی۔ ہاتھ پائوں مارے لیکن میں اپنے آپ کو ان درندوں سے نہ بچا سکی۔ میں ایک ہفتہ اسی کوٹھی میں ان کے رحم و کرم پر رہی پھر ایک شخص آیا۔ اس نے مجھے دیکھا اور پسند کر لیا۔ وہ میرے باپ سے بھی زیادہ عمر کا تھا اور میرا خریدار بن کر آیا تھا۔ دولت اس کے گھر کی باندھی تھی۔ اس سے میرا فرضی نکاح پڑھایا گیا اور وہ مجھے وہاں سے لے کر ایک دوسرے شہر آگیا۔ نکاح کے وقت میں نے پھر شور مچایا تھا کہ یہ نکاح نہیں ہو سکتا کیونکہ میں شیراز کی بیوی ہو ں۔
’’وہ تمہیں طلاق دے چکا ہے ۔‘‘ گلستان خان نے طلاق نامہ میرے سامنے کر دیا۔
شیراز نے واقعی مجھے طلاق دے دی تھی ۔ تقدیر مجھے زخم پر زخم لگائے جا رہی تھی۔ وہ شخص جس کا نام فیروز تھا ، مجھے اپنے ہمراہ لے کر لاہور آگیا ۔ اس نے دو دن اپنی پیاس بجھائی اور پھر کہنے لگا۔ ’’سلمی ! ماضی کو بھول جائو اور حال میں گم ہو جائو۔ میں تمہیں طلاق دے کر آزاد کر رہا ہوں مگر پھر بھی تمہیں میرے ماتحت ہی رہنا ہو گا اور وہی کام کرنا ہو گا جو میرے کارندے تمہیں کہیں گے۔ تم فکر نہ کرو۔ یہاں تمہیں بے آبرو نہیں ہونا پڑے گا۔ میں نے جس کام کے لئے خریدا ہے ، وہ تمہیں میرے آدمی بتائیں گے مگر یاد رکھو، اگر بھاگنے اور چالاکی دکھانے کی کوشش کی تو پھر بہت برا ہو گا۔‘‘
اور پھر اس شخص مے مجھے ایک شخص فضلو کے حوالے کر دیا۔ فضلو کا حلیہ فقیروں جیسا تھا اس کے ماتحت کچھ عورتیں اور بچے بھیک مانگنے کا کام کرتے تھے۔ فضلو نے تین ماہ تک مجھے تربیت دی۔ فضلو اصولی آدمی تھا۔ زبان کا پکا اور سچا تھا۔ وہ بری نگاہ سے کسی بھی عورت کو نہیں دیکھتا تھا۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ میں ڈرتی تھی کہ کہیں فضلو مجھے کھلونا نہ سمجھ لے مگر اس نے میری طرف بری نیت سے نہ دیکھا لیکن اسے مجھ پر بہت زیادہ محنت کرنا پڑی تھی کیونکہ میری حسین صورت کو بد صورت بنانا مشکل تھا۔ میں ڈرتی تھی کہ جب میں دھندا کرنے نکلوں گی تو لو گ مجھے ہوس بھری نگاہوں سے دیکھیں گے مگر فضلو کہنے لگا۔’’عزت بچانا چاہتی ہو تو ان عورتوں کی طرح ہو جا۔ میں عورت کو اس قابل ہی نہیں رہنے دیتا کہ کوئی اس پر بری نگاہ ڈالے ۔ میں تمہیں بھی ایسا بنا دوں گا کہ لوگ تم سے ہمدردی کریں گے‘‘۔
فضلو نے میرا چہرہ بگاڑ ڈالا ور مجھے لنگڑا بھی کر دیا۔ یہاں تک کہ اس نے میری آواز بھی بدل ڈالی۔ اب اگر شیراز بھی میرے سامنے آجاتا تو شاید مجھے نہ پہچانتا ۔ میرے پائوں پر ایک مصنوعی زخم تھا جس کے باعث میں لنگڑا کر چلتی تھی مگر اس میں درد نہ ہوتا تھا۔
میرے علاوہ دیگر تین عورتیں اپنے کام میں ماہر تھیں۔ وہ بھی حالات کی ماری ہوئی تھیں۔ تقدیر انہیں فیروز اور فضلو تک لے آئی تھی۔ اب وہ ماضی کو بھول کر حال میں گم تھیں۔ بھیک مانگنا ہی ان کی زندگی تھی۔ سارا دن وہ یہی دھندا کرتی تھیں۔ نوری ان سب میں سے تیز تھی اس لئے فضلو نے مجھے اس کے حوالے کر دیا کہ میں چند دن نوری کے ساتھ رہوں اور دیکھوں کہ وہ لوگوں کی جیبوں سے نوٹ کیسے نکلواتی ہے۔ نوری بہت ہی بد زبان اور بے ڈھنگی سی عورت تھی۔ بات کرے تو ایسا لگتا تھا جیسے اس نے لاٹھی ماردی ہو ۔ اس کے ساتھ دن بھر سڑکوں پر لوگوں کو پکڑ پکڑ کر انہیں خیرات دینے پر مجبور کرنا نہایت ہی ذلت آمیز کام تھا مگر مجبور تھی۔ نوری دونوں ہاتھ جوڑتی اور زور زور سے پیٹ پر ہاتھ مارتی اور لرزتی آواز میں بار بار‘‘ اے بابو! خیرات دے ۔ بڑی زوروں کی بھول لگی ہے۔‘‘ کہتی ۔ کبھی سامنے والے کا ہاتھ پکڑتی کبھی پائوں میں بیٹھ جاتی اور دونوں پائوں پکڑ لیتی۔ لوگ اسے دھتکارتے ، الٹی سیدھی باتیں کرتے ، گالیاں بکتے لیکن نوری اس وقت تک اپنے شکار کا پیچھا نہ چھوڑتی جب تک کہ وہ اس کی جیب سے کچھ نکلوا نہ لیتی۔ میں دن بھر نوری کو یہی کرتے دیکھتی رہتی۔
…٭٭…
وہ میرا پہلا دن تھا۔ فضلو نے ہدایت کی تھی کہ میں نوری کی حرکتوں کو سمجھوں اور سیکھوں مگر مجھے یوں لگا کہ میں یہ کام تما م عمر نہ کر پائوں گی اس لئے میرا ذہن کسی اور طرف دوڑ رہا تھا۔ میں ان لوگوں سے نجات اور فرار کا منصوبہ بنا رہی تھی ورنہ اس زندگی سے تو بہتر تھا کہ میں خود کشی کر لوں۔ اس رات میں فرار ہونے کے منصوبے ہی بناتی رہی مگر کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میں ان لوگوں سے کیسے نجات حاصل کروں اور اگر فرار ہو بھی جائوں تو کہاں جائوں؟ مجھے کون سہارا دے گا؟ میرے پاس اتنی رقم بھی نہیں کہ میں واپس میرٹھ چلی جائوں۔
رات سوچوں میں گزر گئی ۔ اگلی صبح میں پھر نوری کے ہمراہ دھندا کرنے چل پڑی۔ ایک بھرے بازار میں نوری نے ایک شخص کا بازو تھا م کر اسے روک لیا اور دونوں ہاتھ جوڑکر کہنے لگی ۔ ’’بھوک لگی ہے تیرے بچے سلامت رہیں تیری جوڑی سلامت رہے۔‘‘
’’ہٹ سامنے سے۔‘‘ اس شخص نے نفرت بھرے انداز میں کہا۔
مگر نوری اس کے قدموں میں بیٹھ گئی اور اس کے پائوں پکڑ لئے ۔ نوری کی تمام تر توجہ اس شخص پر تھی اس کا رخ بھی میر ی طرف نہیں تھا۔ میں نے موقع مناسب دیکھا اور فورا ہی ہجوم میں گم ہو گئی۔ جلدی ہی میں دوسرے بازار میں پہنچ گئی۔ میں جلدی میں تھی۔ ایک ٹیکسی کو ہاتھ دے کر روکا اور اس میں سوار ہو گئی۔
’’کہا ں جائو گی؟‘‘ ڈرائیور بولا۔
’’بس! جلدی چلو اور چلتے رہو۔‘‘ میں نے کہا۔
اس نے ٹیکسی چلا دی مگر بات اس کی سمجھ میں نہیں آئی تھی اس لئے پھر بولا۔ ’’کہا ں جائو گی تم؟‘‘
میں نے اس کی بات کا جواب نہ دیا۔
’’کیا تم بھکارن ہو؟‘‘
’’ہاں میں بھکارن ہوں مگر مجھے زبردستی بھیک مانگنے پر مجبو رکیا جاتا ہے ۔ مجھ پر بہت ظلم ہو رہے ہیں۔ میں ایسی نہیں ہوں جیسا مجھے بنایا گیا ہے ۔‘‘ میں نہ چاہنے کے باوجود بھی اسے اپنی حقیقت بتا گئی۔
’’اب کیا کرنا ہے اور کہاں جانا ہے تمہیں؟‘‘
’’میری کوئی منزل اور ٹھکانا نہیں ہے ۔ کہیں دور جا کر مجھے اتار دو تاکہ میں دوبارہ ان کے ہاتھ نہ آسکوں۔‘‘
’’نوکری کروگی؟‘‘
’’کروں گی مگر جہاں عزت اور احترام ہو ۔‘‘ ایسا کہتے ہوئے میری آنکھیں چھلک اٹھیں اور میری سسکیاں ٹیکسی کے اندر گونجنے لگیں۔
اس نے مجھے تسلی دی۔ ’’آج کل کسی پر بھروسا کرنا گناہ ہے لیکن نہ جانے کیوں میرا دل کہتا ہے کہ تم دھوکا نہیں کرو گی۔ میں تمہیں اپنے گھر لے چلتا ہوں جہاں صرف میرے بیمار ماں ہے ۔ تم اس کی خدمت کرو بدلے میں ، میں تمہیں سب کچھ دوں گا۔‘‘
نہ جانے کیوں مجھے اس شخص کی باتوں سے سچائی کی خوشبو آئی کہ میں اس پر لمحوں میں اعتماد کر بیٹھی۔ وہ مجھے اپنے گھر لے گیا۔ وہاں اسے میں نے آپ بیتی سنائی تو اس کی ماں اور وہ دونوں ہی دکھی ہوگئے۔ میں نے اس کی ماں کی خدمت کی تو ان کی صحت بہتر ہونے لگی اور پھر اس کے اصرار پر ہی میں نے ان کے بیٹے اکرم علی سے شادی کر لی۔
اکرم کا تعلق ایک کھاتے پیتے خاندان سے تھا۔ گھر ان کا اپنا تھا۔ اور کوئی بہن بھائی نہیں تھا۔ گائوں میں کچھ زمینیں تھیں جن سے آمدنی ہوتی تھی۔ اکرم خود ایک سرکاری ادارے میں کام بھی کرتا تھا اور ٹیکسی بھی چلاتا تھا۔ ٹیکسی اس کی ذاتی تھی۔ اکرم نے اس سے قبل بھی شادی کی تھی۔ وہ بیوی بہت ہی بد زبان ، جھگڑالو اور بد چلن بھی تھی۔ وہ اس کی برادری کی تھی مگر اس نے اس کے گھر کو جہنم بنا ڈالا تھا۔ مجبورا اسے طلاق دینی پڑی تھی۔ اس وجہ سے ان کی برادری میں ناراضگی چل رہی تھی۔ اس کے سسرال والوں نے کوئی دعویٰ بھی کر رکھا تھا۔ عدالت میں کیس چل رہا تھا اسی لئے اکرم کی ماں بیمار ہو کر چارپائی سے لگ گئی تھیں۔ انہیں اپنی سابقہ بہو سے بہت پیار تھا اور وہ اسے بڑے ارمانوں سے بیاہ کر لائی تھیں مگر اس عورت نے اس گھر کو جہنم بنا ڈالا تھا۔ اکرم نے جب اپنی داستان سنائی تو مجھے بہت دکھ ہوا۔ ہم دونوں ہی دکھی تھے اس لئے ہمیں ایک دوسرے کا احساس تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ہم بہت ہی خوش تھے۔ اکرم کی ماں بھی مجھ سے بہت ہی خوش تھیں۔ وہ مجھ سے اتنی محبت کرتی تھیں کہ مجھے اپنی ماں یاد آجاتی ۔ میں نے اس سے قبل جتنے دکھ اٹھائے تھے، اب اتنے ہی سکھ مل رہے تھے۔ اکرم نے مجھے ڈھیروں چاہت اور پیار دیا کہ میری خزاں رسیدہ زندگی میں بہار آگئی۔ اس عالم میں مجھے اپنی بہن اور بھائی یاد آئے۔ میں نے ان کو دو تین خطوط لکھے مگر نہ جانے کیوں دونوں میں سے کسی کا بھی جواب نہ آیا تو میں پریشان ہو گئی مگر اکرم نے مجھے تسلی دی اور کہنے لگا۔
’’سلمی! تم فکر نہ کرو میں تمہیں ان سے ملانے کے لئے میرٹھ لے چلوں گا اور کوشش کروں گا کہ ان لوگوں کو بھی یہاں ہی بلوا لوں۔‘‘
اکرم کی پہلی بیوی نورین اسی محلے میں رہتی تھی اور اب اس کی شادی ایک اور خاندان میں ہو گئی تھی۔ وہ لوگ ان کی برادری کے نہیں تھے۔ نورین کے شوہر کا خاندان کسی حد تک سیاست سے وابستہ تھا۔ اس کا ایک دیور کونسلر تھا اس لئے نورین اور اس کے گھر والوں کے نخرے زیادہ تھے۔ وہ ہر معاملے میں اکرم کی مخالفت کرتے تھے مگر اکرم کو کسی کی پروانہ تھی کیونکہ اس کا دل صاف تھا۔ محلے کے لوگ اس کی بہت ہی عزت کرتے تھے کیونکہ وہ محلے کے لوگوں کے کام آتا تھا۔ دو سال بعد ہم ایک بچی عذرا کے والدین بن گئے۔ اس روز بہت خوش تھی کہ میری ممتا کی تکمیل ہو گئی تھی۔ عذرا ابھی ایک سال کی ہی تھی کہ امی یعنی اکرم کی ماں چل بسیں۔ اس روز میں دھاڑیں مار مار کر روئی تھی۔ لگتا تھا آج میری ماں دوبارہ فوت ہو گئی ہے۔
عذرا کے بعد ہمارے آنگن میں دو پھول اور کھلے تو ہمارا گھرانا مکمل ہو گیا۔ عذرا کے بعد جمال اور پھر عالیہ پھولوں کی طرح ہمارے آنگن کو مہکانے لگے۔ میں بچوں کی دیکھ بھال اور تعلیم و تربیت میں مصروف ہو کر ماضی کے تمام دکھ بھول گئی۔ مالی لحاظ سے بھی ہم مضبوط ہو گئے تھے۔ گھر میں ضرورت کی ہر چیز موجود تھی۔
ان دنوں عذرا میٹرک اور جمال آٹھویں کلاس میں پڑھ رہاتھا۔ عالیہ ساتویں کلاس میں تھی کہ ایک قیامت سی آئی اور میرا سب کچھ لوٹ لے گئی۔ میرے سر کا تاج اکرم ایک حادثے میں جاں بحق ہو گیا۔ میں بیوہ اور بچے یتیم ہو گئے ۔ تقدیر نے ایک ہی وار میں میرا بھرا پرا گھر برباد کر دیا۔ دن اور رات روتے تڑپتے گزرتے مگر کب تک۔ آہستہ آہستہ صبر اور قرار آنے لگا۔ میں نے بھی اپنے اندر ہمت پیدا کی اور یہ عہد کیا کہ بچوں کو باپ کی کمی محسوس نہ ہونے دوں گی۔ میں ان کی ماں ہی نہیں، باپ بھی بنوں گی۔
…٭٭…
عذرا میٹرک کا امتحان پاس کر کے گھر میں بیٹھ گئی۔ جمال نے پڑھائی جاری رکھی۔ جمال پڑھائی میں بہت تیز تھا۔ اس کے علاوہ وہ نہایت ہی غیرت مند اور بہادر تھا۔ اپنے باپ کی کمی کا شدت سے احساس تھا۔ وہ جلد از جلد کسی مقام پر پہنچنا چاہتا تھا تاکہ گھر کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا لے ۔ عذرا تو چاہتی تھی کہ وہ مزید تعلیم حاصل کرے مگر جمال نے اسے منع کر دیا کیونکہ وہ زمانے کے چلن سے واقف تھا۔ جمال نے ایف ایس سی کا امتحان پاس کرنے کے بعد کسی سرکاری ادارے میں ملازمت کر لی تو ہمارے مالی حالات ٹھیک ہو نے لگے۔ گھر میں پھر سے مسکراہٹیں بکھر نے لگیں۔ جمال اب عذرا کے لئے ہر ماہ کوئی نہ کوئی چیز خرید لیتا تھا تاکہ جب اس کی شادی ہو تو رخصتی کے وقت جہیز دینا آسان ہو۔ عذرا کے لئے میں نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا تھا کہ اس کی شادی کہاں کروں گی؟ ایک دو جگہ سے اس کے رشتے آئے تھے مگر میں نے ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں کیا تھا۔ عذرا نے رنگ روپ خوب نکالا تھا مگر کچھ دنوں سے عذرا کی طبیعت بوجھل سی رہنے لگی تھی۔ لگتا تھا، اس کی ساری شوخی ختم ہو گئی ہے۔ ایک روز میں نے اس سے پوچھا۔
’’عذرا ! کیا بات ہے؟ تم کچھ بدلی بدلی سی لگ رہی ہو۔‘‘
’’وہم ہے آپ کو امی ! میں تو بالکل ٹھیک ہوں‘‘ عذرا نے آنکھیں چراتے ہوئے کہا۔
نہ جانے مجھے کیوں غصہ آگیا ۔ میں نے اس عالم میں کہا ’’بکواس مت کرو۔ تمہار ا رنگ پیلا پڑ گیا ہے اور تم کہتی ہو میں ٹھیک ہوں، شام کو میرے ساتھ ڈاکٹر کے پاس چلنا۔ بیماری بڑھ گئی تو زیادہ پریشانی ہوگی۔‘‘
عذرا نے خاموشی اختیار کر لی۔ شام کو میں نے زبردستی اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئی ۔ لیڈی ڈاکٹر کا کلینک گھر سے زیادہ دور نہ تھا۔ اس نے عذرا کا چیک اب کیا اور پھر غذا کے بارے میں ہدایت دیتے ہوئے بولی۔ ’’گھبرانے کی کوئی بات نہیں، پہلی بار ایسا ہوتا ہے۔‘‘
’’کیا …… پہلی بار …… کیا کہہ رہی ہو آپ !‘‘ میں نے تیوری چڑھا کر کہا۔
’’میں کہہ رہی ہوں کہ اپنی بہو کا خیال رکھیں۔ یہ ماں بننے والی ہیں۔ میں یہ دوائیں لکھ کر دے رہی ہوں۔ بازار سے لے لینا۔‘‘
میں نے غیر یقینی انداز میں ڈاکٹر کی طرف دیکھا۔ اس سے پرچی لی اور عذرا کا ہاتھ پکڑکر اسے گھسیٹتی ہوئی باہر لے آئی۔
گھر آکر میں نے عذرا سے کہا۔ ’’حرامزادی! مجھے بتا تو نے کیا گل کھلا دیا ہے۔‘‘
عذرا جواب دینے کی بجائے رونے لگی تو مجھے اور زیادہ غصہ آگیا۔ ’’بول نا ں کمینی !‘‘ میں نے آگ بگولا ہو کر جوتی اٹھالی اور اسے پیٹنا شروع کر دیا۔ اس نے کچھ دیر مار کھائی اور پھر زبان کھولی تو مجھے زمین آسمان گھومتے ہوئے محسوس ہوئے۔ میرے شوہر کی سابقہ بیوی کے موجودہ سسرال والوں کے کسی عزیز کا گھر ہمارے گھر کے نزدیک ہی تھا۔ ان کا ایک جوان لڑکا تھا ۔ محلے میں کسی شادی کے موقع پر عابداور عذرا کی آنکھ لڑ گئی۔ عابد کی بہن فرح نے ان دونوں کو قریب لانے میں دلال کا کردار ادا کیا۔ فرح کبھی کبھی ہمارے گھر آتی تھی۔ وہ عذرا کی کلاس فیلو بھی تھی اور دوست بھی۔ عذرا نا سمجھ تھی۔ وہ عابد کی باتوں میں آگئی۔ فرح نے بھی اسے سبز باغ دکھائے۔ وہ راتوں کو چوری چھپے عابد سے ملتی رہی اور اپنا گوہر عصمت گنوا بیٹھی۔ عابد نے اسے جھوٹے وعدے کئے ۔ وہ تو بھونرا تھا جو اس کو کلی سمجھ کر اس کا رس چوسنا چاہتا تھا۔ بالآخر اس نے اس کا رس چوس ہی لیا۔ وہ ابھی عذرا سے محبت کرنے کا دعویدار تھا۔
عذرا پنی بھول پر پچھتا رہی تھی مگر میں تو زمین کے اندر دھنستی جا رہی تھی کہ اب میں زمانے کو کیا منہ دکھائوں گی۔ روز محشر اکرم کے سامنے کیسے جائوں گی؟ میں کیسی ماں ہوں کہ اپنی اولاد کی حفاظت بھی نہ کر سکی۔ دکھ درد اور ندامت سے میری آنکھیں برسنے لگیں۔ عذرا نے ایک امتحان ڈال دیا تھا۔
میں جمال سے یہ بات چھپانا چاہتی تھی کیونکہ میں اس کی غیرت اور غصے سے واقف تھی۔ اسے معلوم ہو جاتا تو قیامت آجاتی۔ میں ماں تھی اس لئے میں نے بیٹی کے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی مگر یہ گناہ ہی ایسا تھا جسے چھپانا مشکل ہی نہیں نا ممکن تھا۔ آخر کار جمال کو حقیقت معلوم ہو ہی گئی۔ میں نے بڑی مشکلوں سے خدا اور رسول کے واسطے دے کر اسے خاموش کیا تو اس نے صرف ایک ہی بات کہی کہ آپ کے عابد کے گھر جائیں۔ اس کے ماں باپ کو حقیقت بتائیں اور ان سے کہیں کہ وہ عابد اور عذرا کی شادی کر دیں۔ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو میں دونوں کو زندہ نہیں چھوڑوں گا۔
عذرا بھی کہنے لگی۔ ’’امی ! عابد مجھے اب بھی چاہتا ہے۔ آپ اس کے گھر جائیں تو سہی ، وہ مجھ سے شادی کرنے پر تیار ہو جائے گا۔‘‘
اپنی اولاد کے مستقبل کی خاطر والدین اپنی عزت کا بھی خیال نہیں کرتے اس لئے میں ایک روز عابد کے گھر چلی گئی۔ یہ دروازہ عابد ہی نے کھولا تھا۔ اس کی ماں گھر ہی میں تھی۔ میں نے اس کی ماں کو تمام بات بتائی اور ساتھ ہی اپنے آنے کا مقصد بھی بتایا تو عابد کی ماں بھڑک اٹھی۔ اس نے یہ ماننے سے انکار کر دیا کہ اس کا بیٹا ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ وہ اپنے بیٹے کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہی تھی مگر میں نے اس کی باتوں پر یقین نہ کیا اور کہا۔
’’عابد ہی نے عذرا کو اجاڑٓ ہے اس لئے اب اسے اس کے ساتھ شادی کرنا ہو گی ورنہ میں قانون کی مدد لوں گی۔‘‘
میرے یہ الفاظ سن کر وہ آگ بگولا ہو گئی۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑ ا اور دروازہ تک لے آئی اور چیختے ہوئے کہنے لگی۔ ’’نکل جا ! میرے گھر سے منحوس بے غیرت بڑھیا۔ بے حیا۔ تجھے اپنی آوارہ بیٹی کے لئے کوئی اور رشتہ نہیں ملا تھا جو میرے گھر میں آگ لگانے آئی ہو، اب ادھر کا رخ کیا تو تیری ٹانگیں توڑدوں گی۔‘‘
میں پتھر کا بت بنی گلی میںکھڑی تھی۔ زندگی بھر میں میری ایسی بے عزتی کسی نے نہیں کی تھی۔ اتنے میں عابد آگیا اور کہنے لگا ’’بڑی بی! راستہ لو اپنا۔ یہ شریفوں کا گھر ہے ۔ یہاں تمہاری دال نہیں گلے گی۔ کسی اور کے سر منڈھ دو اس اولاد کو۔ میرا اس سے بھلا کیا تعلق؟‘‘
عابد کے الفاظ پگھلے ہوئے سیسے کی طرح میری سماعت میں اترتے چلے گئے ۔ مجھے نہیں یاد کہ جمال اس وقت کہاں سے نمودار ہوا تھا۔ شاید وہ مجھے دیکھ رہا تھا۔ وہ تیر کی طرح عابد جانب سے لپکا ۔ اس کے ہاتھ میں تیز چھری تھی۔ گلی کے لوگ اپنے اپنے دروازوں میں کھڑے میرے رسوائی کا تماشا دیکھ رہے تھے۔ عابد اس بھی مجھے برا بھلا کہہ رہا تھا۔ ایک پڑوسن نے ان سے پوچھا۔ ’’کیا بات ہے عابد بیٹے؟‘‘
’’بات کیا ہوئی ہے؟
معلوم نہیں ، کہاں سے یہ کنجر لوگ ہم شریفوں کے محلے میں آگئے ہیں۔ اس بڑھیا کی بیٹی بھی آوارہ ہے اور یہ بڑھیا……‘‘
عابد یہاں تک ہی کہہ پایا تھا کہ جمال نے اسے جا لیا اور چھری اس کے سینے اتار دی پھر اس پر جنون طاری ہو گیا۔ اس نے عابد کے جسم میں کئی سوراخ کر ڈالے ۔ عابد تڑپ تڑپ کر مر گیا۔ اب جمال کا رخ گھر کی طرف تھا۔ وہ ہاتھ میں چھری لہراتا بھاگ کر گھر گیا جہاں عذرا منتظر تھی کہ ابھی میں واپس آکر اسے یہ خوشخبری سنائوں گی کہ عابد کے ماں باپ راضی ہو گئے ہیں مگر اسے میرا جواب سننے کی مہلت ہی نہ ملی۔ جمال نے اسی چھری سے عذرا کو بھی قتل کر ڈالا اور خود تھانے میں جا کر اقرار جرم کر لیا۔ اگلے روز اخبارات میں یہ خبر نمایاں سرخی کے ساتھ شائع ہو ئی تھی۔
میں ایک بار پھر بھری دنیا میں تنہا رہ گئی ۔ رسوائی کے ساتھ ساتھ میں بیٹی اور بیٹے سے بھی ہاتھ دھو بیٹھی۔ جمال کا چالان مکمل کر کے اسے جیل بھیج دیا گیا۔ اس پر مقدمہ چلا تو اس نے عدالت میں بھی اقرار جرم کر لیا۔ عدالت نے جمال کو پھانسی کی سزا تو نہ سنائی ۔ البتہ اسے عمر قید سنا کر میانوالی جیل میں بھیج دیا۔ جمال اب نیو سینٹرل جیل ملتان میں ہے اور سزا بھگت رہا ہے۔ کاش! جمال اتنا بڑا قدم نہ اٹھاتا تو ممکن ہے میری زندگی میں کچھ سکون رہتا ۔ جمال کے کئے کی سزا اب میں بھی بھگت رہی ہوں مگر اس میں بھلا جمال کا کیا قصور؟ غیرت مند بھائی ایسا ہی کرتے ہیں۔ اس کی غیرت کا تقاضا یہی تھا۔ عابد اور عذرا دونوں سنگسار کئے جانے کے قابل تھے۔ محلے کے لوگ اب جمال کی تعریفیں کرتے ہیں۔ اس کی غیرت کو مثال بنا کر پیش کرتے ہیں مگر کیا فائدہ؟ میرا گلشن تو اجڑ چکا۔ اب ہر طرف سوکھے پتے ہیں جو ادھر ادھر اڑتے رہتے ہیں۔
گھر میں جو کچھ تھا، اس میں سے کچھ تو جمال کے مقدے میں خرچ ہو گیا تھا۔ جب تک مقدمے کا فیصلہ نہیں ہوا تھا،میں اور عالیہ جمال سے ملنے جیل جاتی رہتی تھیں مگر جب جمال کو سزا ہوئی ہے اور وہ ملتان کی جیل میں گیا ہے ، اس نے مجھے اور عالیہ کو وہاں آنے سے منع کر دیا ہے ۔ جمال کو اس کے کئے کی بھی سزا مل گئی۔ کاش! یہ سب کچھ یہاں تک رہتا تھا۔ عابد قتل ہو اتھا تو میری بیٹی بھی تو مری تھی۔ مارنے والے کو بھی سزا مل گئی تھی مگر عابد اور اس کے خاندان نے اس پر بھی بس نہ کیا۔ انہوں نے اسے دشمنی کا رنگ دے دیا ۔ میں ایک روز ان کے گھر بھی گئی۔ ان سے تعزیت بھی کی اور معافی بھی مانگی۔ بظاہر انہوں نے یہی کہا کہ جو ہونا تھا وہ ہو گیا ہے ۔ اب اس قصے کو بھول جائو مگر انہوں نے دل کے اندر سب کچھ دبائے رکھا۔ وہ خود غرض ہو گئے تھے۔ یہ خود غرضی بھی کینسر سے کم نہیں ہوتی۔ اگر ایک باردل کے نگر میں جگہ بنا لے تو پھر مروت کے سب گل بوٹے سوکھ جاتے ہیں۔ ہمدردی اور خلوص کے گھنیرے درختوں میں آگ لگ جاتی ہے۔ محبت کا آشیانہ تنکا تنکا ہو کر بکھر جاتا ہے ۔ باقی اگر کچھ بچتا ہے تو یہی قاتل جذبہ جو ایک روز پورے وجود پر چھا جاتا ہے ۔ مجھ سے زیادہ اس بات کو کون سمجھ سکتا ہے ؟ میری تو تنہائی کے پتے پتے پر اس کی چھاپ لگی ہوئی ہے۔ میرے ساتھ جو کچھ ہوا ہے ، وہ میں قیامت تک نہیں بھلا سکوں گی۔
…٭٭…
عالیہ اب جوان ہو چکی تھی۔ اس سے پہلے کہ اس کا حشر بھی عذرا جیسا ہو، میں جلد از جلد اس کی شادی کر دینا چاہتی تھی۔ محلے کے کئی لوگوں کی ہمدردیاں میرے ساتھ تھیں۔ پردہ نورین کے سسرال والوں کے خوف سے کھلم کھلا میری حمایت نہیں کرتے تھے۔ اسلام غنی کا گھرانا بھی ان میں سے ایک تھا۔ وہ نمازی ، پرہیز گار اور شریف لوگ تھے۔ تمام محلہ ان کی تعریف کرتا تھا۔ ان کے گھر کے تمام افراد بھی اچھے اخلاق کے مالک تھے۔ اسلام غنی صاحب کو مجھ سے ہمدردی تھی۔ وہ میری ہر طرح سے مدد کرتے تھے۔ ان کا ایک جوان بیٹا تھا۔ انہوں نے اس کے لئے مجھ سے عالیہ کا رشتہ مانگا تو میں نے فورا ہاں کر دی۔ انہوں نے منگنی کی رسم ادا کی تو بات محلے میں پھیل گئی۔
اسی شام عابد کی ماں اور اس کا ایک ماموں میرے گھر آگئے۔ وہ عالیہ کے لئے عابد کے ماموں زاد نواز کا رشتہ لائے تھے۔ نواز کے بارے میں میں نے پہلے ہی سن رکھا تھا کہ وہ آوارہ ہے۔ لڑکیوں کو تنگ کرتا ہے ۔ عالیہ کو بھی اس نے ایک بار راستے میں چھیڑا تھا۔ میں نے صاف انکار کر دیا کہ اب چونکہ عالیہ کی منگنی ہو چکی ہے اس لئے میں نواز کے ساتھ اس کا رشتہ طے نہیں کر سکتی۔
میرا انکار سن کر ان لوگوں کے چہروں پر غصے کی لکیریں نمایاں ہو گئیں۔ ان کا اصرار تھا کہ میں عالیہ کی منگنی توڑ دوں اور اس کی شادی نواز سے کر دوں تاکہ ہمارے خاندانوں کے درمیان جو دشمنی پھیلی ہوئی ہے ، وہ دوستی اور رشتے داری میں بدل جائے۔ ان کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ جان بوجھ کر بات بڑھانے آئے ہیں حالانکہ ان کو معلوم تھا کہ عالیہ کی منگنی ہو گئی ہے جب میں نے کسی طرح بھی ان کی بات نہ مانی تو نوا زکا باپ دھمکیوں پر اتر آیا اور کہنے لگا۔
’’سلمی! تمہیں یہ انکار مہنگا پڑے گا۔ تم ہمارا دوستی کے لئے بڑھا ہوا ہاتھ جھٹک رہی ہو۔‘‘
وہ لوگ چلے گئے تو میں فورا اسلام غنی صاحب کے پاس گئی۔ میں نے انہیں تمام بات بتائی اور ساتھ ہی التجا کی وہ عالیہ کو اپنے گھر لے جائیں ۔ بے شک خاموشی سے نکاح کر لیں مگر انہوں نے اپنی کچھ مجبوریاں بتا کر دو ماہ کی مہلت مانگی۔ مجبورا مجھے خاموش ہونا پڑا۔ وہ دو ماہ میرے لئے عذاب بن گئے۔
…٭٭…
وہ گرمیوں کے دن تھے ۔ رات کو بہت گرمی تھی اس لئے ہم دونوں ماں بیٹی صحن میں سوئے ہوئے تھے۔ صبح میں اٹھی تو گھر کا دروازہ چوپٹ کھلا تھا اور عالیہ کا بستر خالی تھا۔ وہ کہیں نہیں تھی۔ یقینا اسے اٹھا لیا گیا تھا۔ میرے وجود میں انگارے سلگنے لگے۔ نواز کے باپ کی دھمکیاں میرے کانوں میں گونجنے لگیں۔ اس نے جو کہا تھا کر دکھایا تھا۔ میں ننگے پائوں، اسلام صاحب کے گھر دوڑی گئی۔ جب میں انہیں بتایا کہ عالیہ گھر میں موجود نہیں ہے تو وہ بھی پریشان ہو گئے۔ میں ان کے ہمراہ نواز کے گھر روانہ ہو گئی۔
جب میں نے نواز کے باپ کو بتایا کہ میری بیٹی عالیہ کے اغوا میں اس کا ہاتھ ہے تو وہ کہنے لگا۔
’’تم بغیر ثبوت کے اتنا بڑا الزام لگا رہی ہو۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہو!‘‘
’’خبردار جو تم نے میری بیٹی کے بارے میں ایسی بات کی۔ وہ بہت نیک لڑکی ہے ۔ عالیہ کو میرے حوالے کر دو ۔ ورنہ میں تھانے میں رپٹ لکھوائوں گی۔‘‘
’’سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا کہیں یہ اقدام تجھے مہنگا ہی نہ پڑ جائے!!‘‘ اس نے تمسخرانہ انداز میں کہا۔
وہاں سے میں اسلام صاحب کے ہمراہ تھانے چلی آئی کیونکہ اب اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہ رہا تھا۔ عالیہ کو اغوا کرنے میں نواز ، اس کے باپ اور عابد کی ماں کا ہاتھ تھا۔
تھانے پہنچ کر میرے چودہ طبق روشن ہو گئے۔ میں سمجھی تھی کہ تھانے میں فورا میری مدد کی جائے گی مگر وہاں تو منظر ہی نرالا تھا۔ محرر نے ہمیں لکڑی کی ایک بینچ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور پھر شاید وہ ہمیں بھول گیا۔ کچھ دیر بعد میں اٹھی اور اس کی میز کے قریب جا کر کھڑی ہو گئی۔
’’کیا بات ہے مائی؟ تجھے ایک بار کہا نہیں کہ بیٹھ جا۔ ابھی تیری کہانی سنتے ہیں ۔‘‘ وہ بولا۔
’’صاحب! بڑی دیر سے بیٹھی ہوں۔ میری رپٹ لکھ لیں۔‘‘ میں ہاتھ جوڑ کر بولی۔
’’کیا ہمیں تھانے کوئی اور کام نہیں ہے جو پہلے تیری رپٹ لکھیں۔ باری آنے پر لکھیں گے۔‘‘
’’صاحب ! میری بیٹی اغوا ہو گئی ہے ۔ لڑکی ذات کا معاملہ ہے صاحب! آپ کی بڑی مہربانی ہو گی۔‘‘
’’کسی پر شک ہے تمہیں؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ہاں شک نہیں یقین ہے صاحب! میری بیٹی کو نواز اور اس کے باپ دونوں نے مل کر اغوا کیا ہے۔‘‘
’’پھر اس نے میرا مکمل بیان لیا۔ گواہ کے طور پر اسلام غنی کا نام لکھا۔ اور ایف ۔ آئی ۔ آر کاٹ دی۔
تھانے سے واپسی پر میں پر امید تھی کہ پولیس عالیہ کو برآمد کر لے گی مگر دنوں کا سفر ہفتوں بلکہ مہینے تک پہنچ گیا اور عالیہ کا کچھ پتا نہ چل سکا۔ میں جسمانی طور پر آدھی رہ گئی تھی۔ لوگوں کے سوالوں کے جواب دیتے دیتے بھی تنگ آگئی۔ روز نکلنے والا سورج ایک یکسانیت بھرا معمول لاتا تھا۔ پولیس والوں کی جھڑکیوں کے باوجود میں تقریبا روزانہ ہی تھانے جاتی اور ایک سا جواب لے کر لوٹ آتی۔
پھر ڈیڑھ ماہ بعد تھانے سے ایک سپاہی مجھے بلانے آگیا۔
’’خیر تو ہے ناں!‘‘ میں نے اس سے پوچھا۔
’’خیر ہے ۔ تمہاری لڑکی اغوا ہوئی تھی۔ آج چھاپے میں ایک لڑکی ملی ہے ۔ جا کر پہچانو۔ کہیں وہ تمہاری لڑکی تو نہیں ہے۔‘‘
’’خدا کرے ، وہ میری عالیہ ہو۔ رسول کریمﷺ کے صدقے، میری بیٹی مل گئی ہو۔‘‘ میں نے سارے راستے دیوانوں کی طرح دعائیں مانگ رہی تھی۔
وہ واقعی میری بیٹی عالیہ ہی تھی۔ اس کی حالت بہت بری تھی۔ میں اس سے دیوانوں کی مانند لپٹ گئی۔ اس کے آنسو بارش کی طرح بہہ رہے تھے۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ آنسو نہیں شعلے ہوں جو میرے دل کو بھسم کر رہے ہوں۔
’’تم کہاں تھیں عالیہ! میری بچی تجھے میں نے کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا۔ کہاں تھی تو؟ کون لے گیا تھا تجھے؟‘‘ میں رو رہی تھی اور اس سے پوچھے جا رہی تھی۔
پھر محرر نے ہمیں علیحدہ ہونے کو کہا اور عالیہ کا بیان قلمبند کرنے لگا۔ عالیہ بتانے لگی۔ ’’مجھے نواز نے اغوا کیا تھا۔ اس نے مجھے پر بہت ظلم کیا۔ وہ میرے ہاتھ پائوں اور منہ باندھ کے مارتا تھا اور بار بار کہتا تھا۔ ’’بڑا ناز ہے تجھے خود پر۔ اب دیکھ میں تیرا کیا حشر کرتا ہوں۔‘‘ مجھے تویہ بھی معلوم نہ تھا کہ میں کہاں ہوں؟ وہ باہر جاتے ہوئے میرے پر منہ پر سختی سے کپڑا باندھ جاتا تھا۔ تین روز سے مجھے بخار تھا۔ منہ باندھنے سے میں بے ہوش جاتی تھی اس لئے کل وہ کپڑا باندھ کر نہیں گیا تھا۔ میں نے چیخ چیخ کر آوازیں دیں تو کچھ دیر بعد دروازہ پیٹا جانے لگا اورپھر پولیس آگئی!!‘‘ عالیہ بلک بلک کر رو رہی تھی۔
میں عالیہ کو لے کر گھر آگئی۔ اب میں چاہتی تھی کہ اسلام صاحب کو عالیہ کو بہو بنا کر لے جائیں مگر بے کسی کے اس عالم میں انہوں نے بھی میرا ساتھ چھوڑ دیا۔ اب وہ عالیہ کو اس حالت میں قبول کرنے کو تیار نہ تھے۔ میں اپنی بد نصیبی کا ماتم کر رہی تھی کہ ایک روز رحیم داد میرے گھر آیا ۔ میں نے اسے دیکھا تو میرے تیور بگڑ گئے۔ ’’اب کیا لینے آئے ہو؟‘‘
’’صلح کی بات کرنے آیا ہوں۔‘‘ وہ بولا۔
’’صلح اور تم سے … شاید بھول گئے ہو کہ کل میں آنسوئوں سے لبریز آنکھیں لئے تمہارے دروازے پر آئی تھی پر تم نے میرے آنسو نہ پونچھے اور پونچھتے بھی کیسے۔ آخر وہ آنسو تمہارا ہی دیا ہوا تحفہ تھے۔‘‘ میںنے ایک ایک لفظ چبا کر کہا۔
’’چل ! جو ہوا سو ہوا۔ بھول جائو۔ گزرا وقت واپس نہیں آسکتا۔ ہاں، اس کی تلافی تو ہو سکتی ہے۔‘‘
’’اب صلح سے بات اوپر چلی گئی ہے اس لئے لوٹ جائو۔‘‘
’’جا رہا ہوں۔ پولیس میرا یا نوا ز کا کیا بگاڑ لے گی؟ میں دولت سے ان کو خرید لوں گا مگر تیرا فیصلہ تجھے بہت بھاری پڑے گا۔ ابھی میں تیرے در پر آیا ہوں۔ صلح کی بات ہو سکتی ہے ۔‘‘ وہ بگڑ کر بولا۔
’’مجھے تجھ سے نہ آج صلح کرنی ہے ، نہ کل۔ یہ طے ہے۔ اب تم یہاں سے چلے جائو۔‘‘ میں نے دروازہ بند کرتے ہوئے کہا۔
’’میں اس توہین کو کبھی نہیں بھولوں گا۔ یہ سب کچھ تجھے بہت مہنگا پڑے گا۔ میں تیرے خاندان کو برباد کر دوں گا۔‘‘ وہ غصے سے پاگل ہو رہا تھا کیونکہ نواز کو پولیس نے گرفتار کر لیا تھا ۔ اس کا باپ اسی وجہ سے صلح کرنا چاہتا تھا۔
یوں ہی چند دن گزرگئے۔ عالیہ اب خاموش خاموش سی رہنے لگی تھی۔ اس روز صبح ہی سے میرا دل گھبرا ہوا تھا۔ عجیب سی وحشت ہو رہی تھی۔ کام میں بھی دل نہیں لگ رہا تھا مگر پھر میں نے اسے رحیم داد کی باتوں کا اثر جان کر ٹال گئی۔ شام ڈھلے پولیس نے میرے اور اسلام غنی کے گھر پر چھاپہ مارا۔ مجھے عالیہ اور اسلام غنی کو پکڑ کر تھانے لے گئی۔ ہمارے خلاف رحیم داد نے رپٹ لکھوائی تھی کہ ہم تینوں نے مل کر اس کی بیوی کو اغوا کر لیا ہے۔‘‘
رحیم داد کی چال میری سمجھ میں آگئی۔ اس نے اپنی بیوی کہیں چھپا دی تھی اور اس کے اغوا کا پرچہ ہم پر بنوا دیا تھا۔ ظاہر تھا کہ اس نے اس کام میں مال بھی خرچ کیا تھا تبھی تو پولیس نے اتنی ’’جانفشانی‘‘ سے کارروائی کی تھی۔ ایف آئی آر بھی پکی کاٹی گئی تھی۔
مجھے یوں لگ رہا تھا کہ میر ا دل بند ہوجائے گا۔ یہ مجھ پر کیسی قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔ قانون کے رکھوالوں نے میرے اور میری بیٹی کے ساتھ وہ کیا جو قدیم زمانے میں خونخوار ڈاکو کو بھی نہ کرتے ہوں گے۔
اسلام غنی کے رشتے داروں نے بڑی مشکل سے ہماری ضمانتیں کرائیں اور ہم تھانے سے گھرآگئے۔ میرا آشیانہ تنکا تنکا ہو کے بکھر گیا پھر بھی میرے اندر نفرت کا لاوا ابل رہا تھا۔ فراز اور اس کے باپ رحیم داد نے میرے گلشن کو آگ لگائی تھی۔ میں انہیں زندہ نہ چھوڑوں گی۔ ہاں، میں ان دونوں کو مار ڈالوں گی۔ وہی میری زندگی کے دکھوں کا ذمے دار ہے۔ میرے خاندان کی بربادی کے پیچھے اسی کا ہاتھ تھا۔ یہ اس کا پیسا ہی تو تھا جو تحفظ دینے والے ہاتھوں کو موت کے سائے بنا کر ہمیں جینے نہیں دے رہا تھا۔ میرے دل و دماغ میں زلزلہ سا آیا ہواتھا۔ میں دندناتی ہوئی اس کے گھر میں گھس گئی۔
’’میں تیری موت بن کر آئی ہوں رحیم دادا میں تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گی۔ تو نے میری زندگی برباد کی ہے۔ میں تجھے نہیں چھوڑوں گی۔ ’’میں چیختی ہوئی اس کے پاس جا پہنچی۔ میں اسے گردن سے پکڑ لیا تھا پھر میرے ناخن اس کے چہرے پر نقش و نگار بنانے لگے تو کسی نے مجھے پیچھے سے پکڑ لیا۔ میں بری طرح مچل رہی تھی۔ چیخ رہی تھی۔ تڑپ رہی تھی اور اسے دھمکیاں دے رہی تھی مگر کئی ہاتھوں نے مجھے بے بس کر ڈالا۔ رحیم داد نے میرے چہرے پر تھپڑ جڑ دیا اور کراہنے لگا۔
’’لگتا ہے ، تو پاگل ہو گئی ہے ۔ تو مجھے قتل کرے گیَ تو سمجھتی کیا ہے اپنے آپ کو ؟ بہت مہنگا پڑے گا تجھے یہ پاگل پن۔‘‘
واقعی یہ پاگل پن مجھے مہنگا پڑا۔ رحیم داد نے پولیس بلوالی اور میرے خلاف اس کے گھر میں چوری کرنے اور اسے نقصان پہنچانے کا پرچہ درج ہو گیا۔ پولیس مجھے پکڑ کر تھانے لے گئی۔
جیل کیا ہوتی ہے ، یہ مجھے معلوم نہ تھا مگر تھانہ کسی عذاب کا نام ہے ، یہ میں نے ان دنوں اچھی طرح جان لیا تھا۔ میں نے ایک ایک کو اپنی بے گناہی کی داستان سنائی مگر کسی نے میری بات پر یقین نہ کیا۔ میرے پاس فی زمانہ سچائی کی کنجی یعنی سکہ رائج الوقت تو تھا نہیں جس کے بل بوتے پر جیت میری ہو سکتی لہذا تھانہ میرے لئے جہنم بن گیا۔ سب لوگ ساتھ چھوڑ گئے۔ میں تو منجد ھار میں پھنسی ہوئی کشتی تھی۔ میرے ساتھ ڈوبنا کون پسند کرتا؟ لہذا مجھے جیل بھیج دیا گیا۔ عالیہ اب گھر میں اکیلی تھی۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ زندگی کے دن کیسے گزار رہی ہے؟ اب تو میری ضمانت کرنے والا بھی کوئی نہ تھا۔ میرے پاس کچھ نہیں تھا۔ میں وکیل بھی نہ کر سکتی تھی لہذا جب مجھے عدالت میں پیش کیا گیا تو میں نے جج صاحبہ کو زندگی کی مختصر کہانی سنا دی۔ مجھے عدالت سے انصاف ملنے کی امید نہ تھی مگر اس روز مجھے احساس ہوا کہ بہر حال کم سہی مگر دنیا میں درد مند لوگ موجود ہیں۔ جج صاحبہ کی ذاتی دلچسپی نے میری زندگی کی تاریک راہ کو روشن کر دیا۔ انہوں نے مجھے چوری کے الزام سے بری کر دیا۔‘‘ میں فورا گھر پہنچی مگر عالیہ گھر میں نظر نہ آئی ۔ میں اسے آوازیں دے رہی تھی مگر وہ بول نہ رہی تھی۔ میں ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں گئی تو کمرے کا منظر دیکھ کر میرا وجود زلزلوں کی زد میں آگیا۔ عالیہ مر چکی تھی۔ اس نے خود کشی کر لی تھی۔ ایک پرچے میں اس نے لکھا تھا:۔
’’امی ! مجھے معاف کر دینا۔ کاش! میں نے اس دنیا میں جنم ہی نہ لیا ہوتا۔ میں اس گھر کا سکون برباد کرنے کی ذمے دار ہوں۔ میں نے اس گھر کو ، اس کی خوشیوں کو ڈس لیا ہے اس لئے میں اس دنیا سے جا رہی ہوں کیونکہ میں جانتی ہوں کہ اگر میں زندہ رہی تو آپ کے لئے عذاب ہی بنی رہوں گی۔ مجھ سے کوئی بھی شادی نہیں کرے گا۔ آپ میرا بوجھ کب تک اٹھائیں گی ؟یہاں تو قدم قدم پر نواز اور رحیم داد موجود ہیں۔ میں کن کن سے اپنا دامن بچائوں گی؟ مجھے معاف کردینا امی جان ! مجھے معاف کر دینا!!ــ‘‘
عالیہ نے مجھے بھری دنیا میںتنہا کر دیا۔ میں اس کی لاش سے لپٹ کر دھاڑیں مار مار کر روئی اور ابھی تک رو رہی ہوں۔
…٭٭…
زندگی آج بھی اسی طرح گزر رہی ہے ۔ میری زندگی میں سکون نام کی کوئی چیز نہیں ے۔ میں آج بھی قانون کے دروازے پر انصاف کی امید میں ننگے پائوں کھڑی ہوں۔ کاش! میرا جمال ہی مجھے مل جائے تو میری زندگی میں بہار آجائے۔ اسے نہیں معلوم کہ اس کی بہن عالیہ مر گئی ہے ۔میرے اور عالیہ کے ساتھ کیا کیا ظلم ہوئے ہیں، وہ یہ بھی نہیں جانتا۔ اگر اسے معلوم ہو جائے تو ممکن ہے ، وہ جیل توڑ کر بھاگ آئے۔ میں سوچتی ہوں، میرے ساتھ جو کچھ ہو چکا ہے ، اس کے ذمے داروں کو جب تک سزا نہیں ملے گی۔ میرے دل میں جلنے والا الائو ٹھنڈا نہیں ہو گا۔ نہ جانے مجھے انصاف کب ملے گا؟ ملے گا بھی یا نہیں؟ یہ میں نہیں جانتی مگر ایک سوال ضرورمیرے وجود کا حصہ بن گیا ہے یا میں خود ہی سوال بن گئی ہوں کہ انصاف کہیں ہے بھی یا نہیں؟ اور اگر ہے تو کب ، کن ہاتھوں کے ذریعے اور کہاں حقیقت کا سورج بن کر دمکے گا اور اس کی روشنی ہم جیسے تاریک راہوں میں مارے جانے والوں کے لہو کے دھبوں تک پہنچے گی بھی یا نہیں۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close