Aanchal Feb 2019

تلخ و شیریں

کوثر خالد

٭ کفالت کی ذمہ داری کب سنبھالی؟

ابا پوسٹ مین تھے۔ امی سلائی کڑھائی اور سوئیٹر بھی بنا کرتی تھیں۔ ہم بہن بھائیوں نے ماں کے ساتھ بچپن سے ہی بدرجہ اتم محنت کی زندگی گزاری۔ بہن بہری تھی۔ اس نے بیوٹی پارلر کا کام سیکھنا چاہا۔ گھر والے اس کام کو حرام سمجھتے تھے مگرمیں نے اسے ادھار لے کر سکھایا کیونکہ عورت کی وقعت معلوم تھی۔ بڑا بھائی اخبا رہا کر بن گیا اور بھی بہت سے کام کیے۔چھوٹے نے بھی درزی سے لے کر بجلی کا کام سیکھا۔ میں نے چھٹی ساتویں میں امی کے ساتھ مل کر کڑھائی کی پھر ٹیچر بنی۔ دو سال پڑھایا۔ اس وقت تنخواہ د و سو روپے تھی۔ پھر فیکٹری میں سلائی کی۔ پانچ سو روپے تک کمالیتی۔ دو سال بعد ماں نے شادی کردی۔ مزے کی بات ہر جگہ سے پذیرائی ملی۔ اسکول میں میڈم نے’’اسمارٹ اسٹوڈنٹ‘‘ کا لقب دیا۔ ٹیچنگ کے دوران میڈم کے شوہر نے کہا۔ ’’اونچی آواز والی ٹیچر کو نکال دیں۔ میڈم بولیں۔ ہرگز نہیں۔
فیکٹری میںسر نے کہا ’’کم کام کرتی ہے‘‘ اسے نکال دیں۔ لڑکیاں ہزاروں روپے کمالیتیں تھیں۔ مس خان بولیں۔ ’’سر! اس کی کبھی (غلطی) نہیں نکلی۔ 2001ء میں شوہر بیمار ہوئے تو میرے چار میں سے دو بچے میرے پاس رہ گئے تھے۔ صبا بیٹی پندرہ سال معذور رہ کر چلی گئی اور بڑا ثمر پھوپو نے لے لیا۔ جو میری بھابی بنی۔ شمع نے ڈاکٹر بننا تھا مگر وہ ٹیچر بن گئی۔ رضا نے فیکٹری میں جاب کرلی۔ ساتھ ساتھ پڑھنے بھی لگا۔ بیٹی نے ایم اے انگلش جب کہ بیٹا بی اے میںچھ نمبر سے رہ گیا۔

٭ گھر والوں کے لیے کیا قربانی دی۔ خود میں کیا تبدیلی لائیں؟

اپنی پڑھائی کی قربانی دی۔ تبدیلی؟ چہ معنی… ہم بچپن سے ہی ایسے تھے… ہم خود نہیں بدلتے دوسروں کو بدل لیتے ہیں اور ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کے ساتھ آرام سے رہ لیتے ہیں، کیونکہ ہم سب کے نوکر ہیں۔

٭ گھر والوں کا رویہ کیسا تھا؟

شادی سے پہلے ابا پیار کرتے تھے۔ امی نصیحتیں، بڑا بھائی چپ رہتا۔ آج تک نہیں بولتا۔ کام کردیتا ہے۔ چھوٹے مجھے اچھا بھی کہتے ہیں اور بلاوجہ کبھی غصے ہوجاتے ہیں۔ مگر ہم ہیں سدا بہار۔

٭ کہتے ہیں صرف اپنا اچھا ہونا کافی ہے خود اچھے توجگ اچھا؟

جی جناب… سوفیصد درست ہے مگر صرف ان کے لیے جن پر اللہ کا خاص کرم ہو جو صرف خدمت سے دل جیتنا چاہتے ہوں۔ مگر اس میں محنت زیادہ لگتی ہے۔ اپنی ذات اپنی خواہشوں کو مار کر دوسروں سے بے غرض محبت کرکے۔
مخلص ہوں میں دشمن کو بھی دیتا ہوں دعائیں
تاعمر مجھے جینے کے آداب نہ آئے

٭ کبھی پیشہ ور رقابت کا شکار ہوئیں؟

ہرگز نہیں۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اگر ہم کسی کے ساتھ مخلص ہیں تو اس کو پتہ نہ چلے۔ جلد یا بدیر سب آپ کو سراہتے ہیں، مگر یہ شعر مد نظر ہو تو۔
مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہیے
کہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے

٭ جونیئرز اور سینئرز سے رویہ کیسا رہا؟

جو رب سے ڈرتا ہے وہ اس کی ساری مخلوق سے پیار کرتا ہے۔ سو عزت دی عزت کروائی۔ جو غلط ہوا۔ اس پر ثابت کیا۔ میں نے اپنی جٹھانی سے ایک ماہ تک بول چال بند رکھی مگر اس کے حکم پر اس کے کام کردیتی۔ نند سے ناراض مگر اس کے حکم پر اسے پڑھا دیتی، ساس سے ناراض مگر ان کی خدمت سے انکار نہیں۔ بے لوث خدمت ہی عمل ہے۔ اور عمل کے بغیر نہ دنیا میں جنت نہ آخرت میں۔ چھوٹے بچے ہم سے بہت خوش رہتے ہیں۔

٭ کبھی عزتِ نفس کا سودا کیا؟

ہرگز نہیں۔ ہمیشہ سچ بولا۔ سچ سنا۔ جو ہم دیں گے وہی تو لیں گے۔ کام سب کے کرتے ہیں مگر پیار صرف ان سے جو وفادار ہوں برد بار ہوں۔ وعدہ نبھانے والے ہوں۔ شوہر، دیور، اور سہیلیاں کسی کی مجھ سے کبھی لڑائی ہوئی۔ نہ ہی کبھی ہمسائیوں سے لڑائی ہوئی اور جو غصے والے تھے انہیں میرے سامنے آنے کے لیے دعا مانگ کر آنا پڑ رہا ہے اور ہم تو ہر وقت اللہ کی ساتھ ہم کلام رہتے ہیں۔ الحمد للہ رب العالمین۔

٭ ملازمت کے لیے محض ایمانداری کافی ہے یا خوشامد اور چاپلوسی بھی ضروری ہے؟

استغفراللہ خوشامد کرکے اپنی ذات جہنم جھونکنی ہے کیا۔ جناب ایمانداری اگر واقعی ہو تو پھر خوشامد کی نہیں خدمت کی ضرورت ہوتی ہے۔

٭ اگر آپ نے اپنے ہداف حاصل کرلیے ہیں تو اب گھر والوں کا رویہ کیسا ہے؟ پیچھے مڑ کر دیکھتی ہیں تو طمانیت کا احساس ہوتا ہے یا رائیگانی کا؟

سبحان والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر۔ جناب ہم تو جنت میں رہتے ہیں۔ مجال ہی نہیں کوئی ہمارے آگے بول پائے۔ برے لوگ ہم سے ڈرتے ہیں اور اچھے لوگ ہمارے دل پر راج کرتے ہیں۔ یوں بھی ہر وقت تو ہر بندہ غلط نہیں ہوتا۔ تو جب وہ اچھی بات کریں ہمارا خیال کریں تو ٹھیک ہی وقت گزرتا ہے۔ ہاں البتہ بچوں اور ماں سمیت ہر بندہ کہتا ہے ’’تمہارے جیسا کوئی نہیں زمانے میں‘‘ آپ کا کیا خیال ہے؟

اللہ حافظ و ناصر

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close