Hijaab Feb 2019

تمہارے سنگ

عریشہ ہاشمی

’’دادی ماں… مجھے بچالو اس موٹو سے۔‘‘ حارث باہر سے دوڑتا ہوا آیا اور کنیز بیگم کے پیچھے چھپنے لگا۔ کنیز بیگم حیران پریشان رہ گئیں۔ آخر حارث کس سے چھپ رہا ہے۔ لیکن ان کی یہ حیرت اس وقت غصے میں بدل گئی جب نمرہ ہاتھ میں بیٹ تھامے ہانپتی کانپتی آئی۔
’’اوئی ماں… یہ ہتھنی پھر شروع ہوگئی‘ ارے کتنی بار سمجھایا ہے کہ بھائی کی عزت کیا کرو‘ ہتھنی ہوگئی مگر عقل نہ آئی۔‘‘ کنیز بیگم نے ہاتھ نچاتے ہوئے جو نیا لقب دیا وہ نمرہ کو کچھ خاص پسند نہ آیا اور کنیز بیگم سے چند فٹ کی دوری پر کھڑے ہوکر حارث کو گھورنے لگی جبکہ حارث دادی کی شہ پاتے ہی سامنے آن کھڑا ہوا۔
’’ہاہاہا… ہتھنی… ہاہاہا… دادی جان کیا زبردست نام دیا آپ نے فٹ بیٹھتا ہے اس موٹی پر۔‘‘ حارث اب نمرہ کو چڑانے کے لیے ہنستا رہا۔
’’کانگڑی پہلوان… کیا دادی ماں کے پہلو میں دبک کر بڑھکیں مار رہے ہو… میدان میں آئو اگر ہمت ہے تو۔‘‘ نمرہ کو غصہ تو بہت آیا لیکن جانتی تھی کہ اگر وہ چڑ گئی تو حارث اور مذاق اڑائے گا‘ سو اس نے محض للکارنے پر اکتفا کیا۔
’’اور دادی ماں… آپ تھوڑا حساب کتاب کے اندر لقب سوچا کریں میرے لیے… اب میں اتنی بھی موٹی نہیں ہوں۔‘‘
’’کھی کھی کھی… ہتھنی کو چوہیا بولتے ہوئے شرم نہیں آئے گی مجھے؟‘‘ منہ پر ہاتھ رکھے کنیز بیگم ہنس رہی تھیں۔ حارث، دادی ماں کے کندھے سے لگا ان کو داد دیتے ہوئے نمرہ کو چڑانے لگا تو نمرہ نے وہاں سے واک آئوٹ کرنا ہی بہتر سمجھا تھا۔
٭…٭…٭
’’دل میرا دھڑکے رے… کمریا لچکے رے… شعلہ کوئی…‘‘
’’کمرہ کہو کمرہ… کمرہ لرزے رے۔‘‘ وہ جو کھانے کی میز کی صفائی کرتے ہوئے مزے سے اپنی سریلی آواز میں گانا گارہی تھی‘ حارث کی اس مداخلت سے جی بھر کے بدمزہ ہوئی۔
’’تم ادھر بیٹھے اخبار پڑھ رہے ہو یا میرا گانا سن رہے ہو‘ اس عمر میں بھی یہ بے ہودگی گئی نہیں تمہاری‘ حد ہے ڈھٹائی کی۔‘‘ وہ اس کے سامنے پڑے شیشے کی میز پر صفائی کرنے کا کپڑا پھینکتے ہوئے غصے سے بولی۔
’’میں نے آپ سے تو کچھ نہیں کہا میڈم۔‘‘ چہرے کے سامنے سے اخبار ہٹاتے ہوئے خباثت سے مسکراتے ہوئے وہ اسے زہر سے بھی برا لگ رہا تھا۔
یہ مذاق‘ یہ جھگڑا نیا تو نہ تھا‘ بچپن سے ہی ذہین حارث اور گپلو سی نمرہ میں ایک رشتہ جڑ گیا تھا‘ مذاق اڑانے اور ایک دوسرے کو چڑانے کا… حارث اکثر اس کے موٹاپے کو نشانہ بناتا اور نمرہ… اپنے دل پر اور اپنے غصے پر جبر کرتے ہوئے اس کو ہوا میں اڑا دیا کرتی… وقت گزر گیا… حالات بدل گئے لیکن شخصیات نہ بدلیں تو عادات بھی نہ بدلیں… نمرہ آج بھی موٹی تھی اور حارث موقع شناس… تاک تاک کر اس کے موٹاپے پر نشانے لگاتا اور کنیز بیگم آج بھی حارث کے ساتھ تھی‘ جبکہ نمرہ ڈبل ہونے کے باوجود اکیلی ان دونوں سے مقابلہ کرتی لیکن یہ دلیری صرف کنیز بیگم اور حارث کے سامنے چلتی جبکہ اکثر اوقات اپنی کزنز اور فرینڈز کے سامنے مذاق کا نشانہ بننے پر وہ صرف آنسو بہایا کرتی تھی چھپ کر۔
ابھی پچھلے ہفتے کی بات تھی کہ تائی امی نے اپنی بہن اور بھانجیوں کو کھانے پر مدعو کیا تھا‘ نمرہ پورا دن تائی امی کے ساتھ مل کر کاموں میں مصروف رہی‘ اس کی یہ تھکان اس وقت بد دلی میں بدل گئی جب علینہ اور علیزہ نے نمرہ کے سلام کے لیے ہاتھ بڑھانے پر پہلے اسے سر سے پیر تک دیکھا اور پھر استہزائیہ انداز میں ہنستے ہوئے ایک دوسرے کو معنی خیز انداز سے دیکھنے کے بعد آگے بڑھ گئیں جبکہ نمرہ نے ایک نظر خاموشی سے اپنے بڑھے ہوئے ہاتھ کو دیکھا اور لب بھینچتے ہوئے اپنے پورشن کی طرف بڑھ گئی۔
حارث جو کہ علیزے اور علینہ کے پیچھے ہی گھر میں داخل ہوا تھا یہ سب دیکھ چکا تھا اور وہ نمرہ کے پیچھے پیچھے کمرے کی طرف آیا اور اسے صوفے پر بیٹھا آنسو بہاتا دیکھ کر دروازے سے ہی واپس پلٹ گیا تھا۔
٭…٭…٭
’’جل تو جلال تو… آئی بلا کو ٹال تو… اللہ توبہ… استغفراللہ…‘‘ حارث بہ آواز بلند استغفار کا ورد کررہا تھا۔ اس کی آواز سن کر کنیز بیگم جلدی جلدی بیڈ سے اٹھیں اور باہر صحن کی طرف چل دیں… نغمہ چاچی اور سفیان چچا بھی باہر آگئے۔
’’کیا ہوا حارث کیوں اتنا ہنگامہ کر رکھا ہے؟‘‘ نغمہ چاچی نے ٹی وی لائونج کے دروازے میں کھڑے ہوئے پوچھا۔
’’باہر آئو نغمہ‘ سفیان جلدی سے باہر صحن میں آئو۔‘‘ رات کے اولین حصے میں کنیز بیگم سردی سے کانپ رہی تھیں۔ نغمہ اور سفیان کو لائونج کے دروازے پر رکتے دیکھ کر جلدی سے ہاتھ ہلا ہلا کر باہر بلانے لگیں۔
’’اماں جی… آپ باہر کیا کررہی ہیں، اندر آئیں فوراً۔‘‘ سفیان نے کنیز بیگم کو اندر آنے کے لیے کہا۔
’’کیا ہوا امی…؟‘‘ شور کی آواز سن کر نمرہ بھی اپنے کمرے سے نکل آئی۔ بے حد پھولے ہوئے سانس اور سرخ چہرے کے ساتھ وہ انہیں سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
’’ظلم ہوگیا نغمہ چاچی… اس زمین پر ظلم ہوگیا… میں جونہی لائونج میں داخل ہوا… زمین کو کانپتے لرزتے پایا۔‘‘
’’سفیان‘ نغمہ بچے… زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا خطرہ ہوتا ہے باہر آجائو سب۔‘‘ کنیز بیگم اب ان کے قریب آکر انہیں باہر جانے کو کہہ رہی تھیں۔
’’زلزلہ کب آیا…؟ ہمیں تو محسوس نہیں ہوا۔‘‘ سفیان احمد نے اپنی حیرت کو الفاظ کا جامہ پہنایا۔
’’چاچی… آپ غلط سمجھ رہی ہیں… زلزلہ آیا تو تھا لیکن صرف نمرہ کے کمرے میں۔‘‘ حارث نے ہاتھوں کو ہلاتے ہوئے انکشاف کیا تو نمرہ جو کہ ابھی تک حیران و پریشان کھڑی صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کررہی تھی‘ ایک دم حارث کا چہرہ دیکھنے لگی… اسے اندازہ ہوگیا کہ حارث نے رسی کودتے ہوئے اس کے قدموں کی دھمک سن لی اس لیے ہی یہ ڈراما رچایا۔
’’حارث… یہ مذاق کا وقت نہیں ہے رات بہت ہوگئی‘ اب تمہیں بھی سونا چاہیے۔‘‘ سفیان احمد حارث اور نمرہ کی ان بن سے واقف تھے لہٰذا خفگی سے بولتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔
’’اے ظالم ہتھنی… آدھی رات کو تجھے کودنے کی کیا سوجھی تھی بھلا؟‘‘ کنیز بیگم نے نمرہ کو دھموکا جڑتے ہوئے پوچھا۔
’’دادی ماں…‘‘ منہ بسورتے ہوئے نمرہ واقعی رو دینے کو ہوئی۔
’’اور اتنی توبہ استغفار اگر اپنے گناہوں پر کرلیتے تو لوگ جنت نہ کما لیتے۔‘‘ دانت پیستے ہوئے نمرہ نے حارث کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’لوگ اپنا برا بھلا سمجھ لیں تو وہی بہت ہے… ہماری فکر کوئی نہ کرے۔‘‘ ہاتھ سینے پر باندھے مخصوص مسکراہٹ اپنی آنکھوں میں سجائے وہ نمرہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔
کمبخت کی آنکھیں ساحر آنکھیں تھیں… نمرہ نے چہرہ دوسری طرف پھیر لیا لیکن ساحر آنکھوں والا یہ خبیث شخص اس کو تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتا تھا۔ اکثر اوقات تو بھری محفل میں وہ شرمندہ ہوکر رہ جاتی تھی۔
٭…٭…٭
آج کل علیزے اور علینہ کا آنا جانا کچھ زیادہ ہوگیا تھا۔ نرم خو اور صلح جو سی علینہ نمرہ کو بے حد پسند آئی۔ سادگی کے پیکر میں ڈھلی ہمدرد علینہ سے نمرہ کی کافی دوستی ہوگئی تھی لیکن نک چڑھی اور فیشن زدہ علیزے، نمرہ کو ایک آنکھ نہ بھاتی تھی… وہ جب بھی علیزے کے سامنے جاتی اسے اپنے بھاری وجود کا شدت سے احساس ہوتا۔
سفیان احمد اور زیان احمد دونوں ایک ہی گھر کے الگ الگ حصوں میں رہتے تھے۔ صحن دونوں کا ایک ہی تھا۔ صحن کے دائیں اور بائیں دونوں اطراف خوب صورت لان تھے جہاں کنیز بیگم کے زمانے کے درختوں کے علاوہ نت نئے پودوں کا اضافہ ہوچکا تھا۔
زیان احمد اپنے چھوٹے بھائی سفیان سے بے حد محبت کرتے تھے اور ہمدردی رکھتے تھے… اپنے بھائی کو الگ کرنے کا انہوں نے کبھی سوچا تو نہیں تھا لیکن، دیورانی جٹھانی میں گھر کے کاموں کی وجہ سے چپقلش رہنے لگی تو کنیز بیگم کے مشورے سے دونوں بھائیوں کا کچن الگ ہوگیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں بہوئوں کے پاس اپنی اپنی بادشاہی آگئی تو تعلقات بگڑنے کے بجائے سنور جائیں گے‘ ہر کام اپنی مرضی سے کریں گی‘ ہر چیز اپنی پسند سے پکائیں گی تو تعلقات میں تنائو نہیں رہے گا اور وقت نے کنیز بیگم کا یہ فیصلہ صحیح کر دکھایا تھا۔
٭…٭…٭
نمرہ‘ کنیز بیگم‘ امی اور تائی امی کے ساتھ چارپائی پر بیٹھی دھوپ سینک رہی تھی جب حارث گھر میں داخل ہوا۔
’’السلام علیکم خواتین خانہ۔‘‘ بلند آواز سے سلام کرتے ہوئے وہ صحن کی طرف ہی چلا آیا۔
’’وعلیکم السلام… آئو بچے… نمرہ جائو حارث کے لیے اندر سے کرسی لے آئو۔‘‘ کنیز بیگم نے والہانہ انداز میں جواب دینے کے ساتھ ساتھ نمرہ کو حکم بھی دے ڈالا۔
’’میں ملازم نہیں لگی اس بندر کی خود لے آئے گا۔‘‘ نمرہ کہاں ادھار رکھنے والوں میں سے تھی تڑخ کر جواب دیا۔
’’دادی ماں… اس کچھوی سے کہنے سے اچھا ہے میں خود ہی لے آئوں۔‘‘ طنز سے بھرپور لہجہ نمرہ کو اور تپا گیا۔
’’سمجھتا کیا ہے خود کو یہ چوہا… ہاتھ دھو کر میرے پیچھے پڑگیا ہے۔‘‘ وہ ہڑبڑائی۔
’’تائی امی‘ سمجھا لیں اپنے بیٹے کو۔‘‘ توپ کا دہانہ کھل چکا تھا۔ کنیز بیگم ہنسنے لگیں جبکہ نغمہ، نمرہ کو آنکھیں دکھانے لگیں۔
’’میرا بیٹا تمہارا بھی کچھ لگتا ہے… خود ہی سمجھاؤ۔‘‘ تائی امی تو صاف پہلو بچا گئیں… اسی اثنا میں حارث بھی کرسی لے کر آگیا۔ دوسرے ہاتھ میں سنگترہ کی ٹوکری اور خالی پلیٹ بیھ تھی۔
’’جتنا مرضی کھالو، بانس کا بانس ہی رہنا ہے تمہیں۔‘‘ سنگتروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نمرہ نے اس کی اسمارٹنس کو بانس سے تشبیہہ دے ڈالی۔
’’اے ہتھنی… حد میں رہو… جو مرضی بہانے تراشو… یہ سنگترہ تو تمہیں ملنے سے رہے۔‘‘ وہ مزے سے سنگترہ چھیلتے ہوئے اس کی چڑچڑاہٹ سے حظ اٹھا رہا تھا اور یہ وہ پوائنٹ تھا جہاں وہ لاجواب ہوجاتی تھی۔
’’دادی ماں بھی ناں… حد کرتی ہیں… کیا نام دے ڈالا مجھے میں اب اتنی بھی موٹی نہیں ہوں۔‘‘ وہ دل ہی دل میں کنیز بیگم سے شاکی تھی۔ خاموشی سے اٹھ کر اندر چلی گئی۔
اگلے دن جب نمرہ گھر کے کاموں کو جلدی جلدی نمٹا نے کے چکروں میں تھی، علیزے اور علینہ صبح صبح وارد ہوئیں۔
’’ہائے آنٹی… او ہائے نمرہ…‘‘ سوکھی سڑی علیزے نے پہلے کپڑے تار پر پھیلاتی تائی امی اور پھر لائونج سے باہر برآمدہ دھوتی نمرہ کو مخاطب کیا۔
’’پہنچ گئی چھپکلی…‘‘ نمرہ، تائی امی کے پورشن کی طرف بڑھتی علیزے کی طرف دیکھتے ہوئے بڑبڑائی۔
’’کیسی ہو نمرہ؟‘‘ اس کا پورا دھیان علیزے کی طرف تھا تو وہ علیزے کے پیچھے صحن میں آنے والی علینہ کو دیکھ ہی نہ پائی۔
’’ارے تم… میں ٹھیک ہوں… تم سنائو؟‘‘ وہ علینہ کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی اور معانقہ کرنے لگی۔
’’آئو اندر… بیٹھو۔‘‘ وہ ٹی وی لائونج کی طرف نگاہ کرتے ہوئے ایک نظر اپنے گیلے پائنچوں اور دوسری نظر دھلے دھلائے فرش کی طرف دیکھنے لگی تو علینہ نے اس کا ہاتھ ہلکے سے دبایا۔
’’تم کام کرلو آرام سے… ہم ہفتہ بھر ادھر ہی ہیں۔ آرام سے بیٹھ کر باتیں کریں گے۔‘‘ اس نے خوش دلی سے بتایا تو نمرہ بھی خوش ہوگئی۔
شام کو جب نمرہ رات کے کھانے کی تیاری کررہی تھی تو تائی امی نے کھانا پکانے سے منع کردیا۔
’’نمرہ… رہنے دو… آج تم سب کا کھانا ہماری طرف ہے۔‘‘ لائونج سے گزرتے ہوئے انہوں نے کچن میں کھڑی نمرہ کو دیکھتے ہوئے ٹوکا۔
’’مگر تائی امی… آپ کے ہاں تو خود گیسٹ آئے ہیں۔‘‘ دل ہی دل میں وہ خوش ہوئی۔
’’ہاں تو اسی لیے ناں… مل کر ڈنر کریں گے… بہت یادگار ہوتے ہیں ایسے دن اور امی کو میں لے کر جارہی ہوں… بعد میں ٹھنڈ بڑھ جائے گی تو ایسا نہ ہو بیمار پڑ جائیں۔‘‘ وہ جلدی جلدی کہتی ہوئی کنیز بیگم کے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔
پھر سفیان احمد‘ نغمہ احمد اور نمرہ تینوں نے ڈنر زیان احمد کے ہاں کیا‘ نمرہ نے تائی امی کے ساتھ مل کر کھانا دسترخوان پر چنا‘ برتن دھلوائے اور پھر کھانے کے بعد چائے بنانے کا ذمہ اپنے سر لے لیا۔ اس دوران نمرہ کی توجہ علیزے کے کان میں گھسے حارث سے نہیں ہٹ سکی جو بار بار نمرہ کی طرف دیکھ کر علیزے کے کان میں سرگوشی کرتا اور پھر دونوں بلند آواز میں قہقہہ لگا کر نمرہ کو دیکھتے ہوئے ہنستے… نمرہ کو حارث بے حد برا لگ رہا تھا اس وقت… اس کا دل چاہا کہ جاکر ابھی اس کی خبر لے اور وہ اس خیال کو عملی صورت بھی پہنا دیتی اگر اس وقت وہاں سفیان احمد اور زیان احمد موجود نہ ہوتے… ناچار وہ کچن میں ہی مصروف رہی۔
’’نمرہ بیٹا تمہیں بڑی تکلیف ہوئی… اپنے گھر کا بھی سارا کام کرتی ہو اور یہاں بھی تمہیں ہی کرنا پڑرہا ہے۔‘‘ نمرہ کو چائے کی ٹرے اٹھائے ٹی وی لائونج میں داخل ہوتے دیکھ کر زرینہ احمد نے کہا۔
’’کوئی بات نہیں تائی امی… میں آپ کی بھی تو بیٹی ہوں ناں۔‘‘ تائی امی کے سامنے چائے کا کپ رکھتے ہوئے نمرہ نے دلار سے کہا۔
’’حارث نے جاب کے لیے اپلائی کردیا ہے اور ان شاء اللہ اسے جلد جاب مل بھی جائے گی… اب اس کے سر سہرا سجانے کی کریں آپ تاکہ آپ کے لیے بھی آسانی ہوجائے۔‘‘ نغمہ احمد نے حارث کی طرف دیکھتے ہوئے زرینہ کو مشورہ دیا۔
’’کیوں میری زندگی عذاب کرنے لگی ہیں چاچی اور امی کی ہیلپ کرنے کے لیے یہ دو من کی دھوبن ہے ناں… یہ کب کام آئے گی۔‘‘ اس سے پہلے کہ زرینہ احمد کوئی جواب دیتیں‘ حارث بول اٹھا‘ نمرہ نے ایک نظر حارث کی طرف دیکھا اور اس کے چہرے پر ایک سایہ سا لہرایا… شدید سبکی کے احساس سے اس کی ننھی سی ناک سرخ ہوگئی‘ اپنی سبکی چھپانے کے لیے وہ دوبدو جواب بھی نہیں دے سکتی تھی کیونکہ تایا ابو اور ابو کے سامنے وہ خاصی حد تک تمیز کے دائرے میں رہتی تھی لہٰذا اپنے ہاتھ میں تھاما چائے کا کپ سینٹر ٹیبل پر رکھتے ہوئے وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس کا رخ اب لائونج کے بیرونی دروازے کی طرف تھا۔
٭…٭…٭
’’نمرہ…‘‘ وہ دراز سے اپنی ڈائری نکال رہی تھی جب اسے اپنے عقب میں علینہ کی آواز سنائی دی۔ نمرہ نے دائیں ہاتھ سے اپنے رخسار پر بہتے آنسو صاف کیے اور مڑ کر دروازے کی جانب دیکھا۔
’’علینہ… وہاں کیوں رک گئی… اندر آئو ناں۔‘‘ اس نے زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوئے کہا۔
’’کیا حال بنا رکھا ہے تم نے اپنا اور رو کیوں رہی ہو اب… تم نے خود ہی تو اپنا مذاق بنوا رکھا ہے۔‘‘ علینہ نے ٹھنڈے ٹھار لہجے میں کہا اور اس کے پاس ہی بیڈ پر بیٹھ گئی۔
’’میں نے…؟‘‘ نمرہ کی آنکھوں میں حیرانی در آئی۔
’’ہاں تم نے ہی… کوئی کسی کا مذاق نہیں اڑا سکتا جب تک انسان خود اسے اجازت نہ دے۔‘‘
’’میں سمجھی نہیں علینہ۔‘‘
’’میں بتاتی ہوں‘ اٹھو یہاں آئو۔‘‘ علینہ اس کے ہاتھ کو تھام کر اسے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے لے آئی۔
’’غور سے دیکھو… اکیس سال کی عمر میں تم پینتیس سال کی لگ رہی ہو اور کپڑے دیکھو… لگتا ہے بوری میں گھس گئی ہو۔ چہرہ دیکھو اور آنکھیں کیسی چنی منی لگ رہی ہیں۔‘‘ علینہ نے آئینہ دکھایا تو اس نے بھی غور کیا… واقعی وہ اکیس سال کی عمر میں بہت بڑی لگ رہی تھی۔ جبکہ علینہ جو اس سے پورے ایک سال بڑی تھی… وہ کافی چھوٹی لگ رہی تھی۔ وہ اپنے سراپے کو دیکھ کر اداس ہوگئی اور واپس آکر بیڈ پر چوکڑی مار کر بیٹھ گئی۔ دونوں ہتھیلیوں پر چہرہ ٹکائے نروٹھے پن سے علینہ کو دیکھنے لگی۔
’’اب ایسے کیوں بیٹھ گئیں۔‘‘ علینہ کو اس کا یہ نروٹھا پن اور بھی کھل گیا۔
’’تو اور کیا کروں… میں کر ہی کیا سکتی ہوں علینہ؟‘‘ جواباً نمرہ نے ہاتھ نچاتے ہوئے بجھے لہجے میں کہا۔
’’تم نہیں کرسکتی تو اور کون کرے گا، کیا یہ ممکن ہے کہ تم کھلا کھاتی جائو اور تمہاری جگہ ایکسر سائز کوئی اور کرے اور وزن تمہارا کم ہوجائے‘ حد ہوتی ہے یار۔‘‘ علینہ اب اسے سمجھا رہی تھی۔
’’تمہاری جگہ میں ہوتی ناں اگر تو اپنی اتنی تذلیل نہیں ہونے دیتی۔‘‘
’’تذلیل تو میری صرف وہی کرتا ہے جو خود خبیث ہے اور مجھے اس کمینے کی کوئی پرواہ نہیں‘ میں خود کو اس کے لیے کیوں بدلوں…؟‘‘
’’تم خود کو اس کے لیے نہیں بلکہ خود اپنے لیے بدلو… اس کا فائدہ تمہیں ہی ہوگا۔ اپنی عزت اپنے وقار کے لیے تم اتنا بھی نہیں کرسکتی؟‘‘
’’عزت… وقار… کیا عزت اور وقار کا واحد پیمانہ ہمارا ظاہر ہے… اگر ایسی ہی بات ہے تو معاف کرنا… مجھے ایسی عزت نہیں چاہیے۔‘‘ نمرہ نے قطعی لہجے میں کہتے ہوئے بیڈ کی سائیڈ دراز سے چاکلیٹ کا پیکٹ نکالا اور کھولنے لگی۔
’’میں تمہیں بدلنے کا نہیں کہہ رہی پاگل لڑکی… بس کچھ عادات بدلنے اور کنٹرول کرنے کا کہہ رہی ہوں۔‘‘ علینہ نے فوراً اس کے ہاتھ سے چاکلیٹ لے کر واپس دراز میں رکھ دی۔
’’اچھا ٹھیک ہے… سوچوں گی۔‘‘ اس کے انداز سے صاف ظاہر تھا کہ ٹال رہی ہے مگر یہ بھی کافی تھا۔
’’لیکن تب تک نو چاکلیٹس۔‘‘ ہاتھ سے سرزنش کرتے ہوئے علینہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو نمرہ نے بہت ہی برا منایا اور ہنس دی۔
پھر اگلے کچھ دنوں نے نمرہ کو شدت سے احساس دلایا کہ اب اسے اپنے متعلق سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔ ایک اور بات جو اس نے شدت کے ساتھ محسوس کی کہ حارث علیزے کے ساتھ بہت زیادہ فری ہوچکا ہے اور کیوں نا ہوتا… علیزے اس کی طرح ’’ہتھنی‘‘ تھوڑا ہی تھی۔ وہ علیزے سے جیلس ہونے لگی۔ اب اس نے ارادہ کرلیا تھا کہ ڈائٹنگ کے ساتھ ساتھ ایکسر سائز یا واک کے ذریعے اپنا بڑھا ہوا وزن کم کرے گی۔
٭…٭…٭
اگلے دن وہ دھوپ میں بیٹھی پلیٹ بھر مونگ پھلی سامنے رکھے چھیل چھیل کر کھا رہی تھی جب علینہ اور علیزے بھی تائی امی کے پورشن سے برآمد ہوئیں۔
’’دھوپ انجوائے ہورہی ہے…؟‘‘ دور سے آتے علینہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا‘ دونوں کا رخ اب نمرہ ہی کی طرف تھا۔
’’نہیں… مونگ پھلی انجوائے ہورہی ہے۔‘‘ وہ جو دھوپ کی طرف پشت کیے بیٹھی تھی اٹھ کر سیدھی ہوئی۔
’’ہائے… اتنی ساری مونگ پھلی… تم اکیلی کھائو گی نمرہ؟‘‘ علیزے پورا منہ کھول کر حیران کھڑی تھی۔
’’منہ بند کرلو چھپکلی… تمہیں بھی دے دوں گی۔‘‘ نمرہ نے ازراہ مذاق اس کے اسمارٹ سراپے کو نشانہ بنایا تو علیزے کے چہرے کے زاویے بگڑنے لگے۔
’’ہونہہ… بندر کیا جانے ادرک کا سواد‘‘ علیزے طنزیہ نگاہوں سے پہلے مونگ پھلی سے بھری پلیٹ اور پھر نمرہ کو گھورا اور واپس اندر چلی گئی۔
’’تمہیں پتا ہے یہ مونگ پھلی کم اور کیلوریز کی پٹاری زیادہ ہے۔‘‘
’’کیا کروں یار… رات ہی سوچا کہ آج سے ڈائٹنگ کروں گی لیکن مونگ پھلی دیکھ کر رہا نہیں گیا۔‘‘
’’تم یہ دھیان رکھو کہ تم جو کچھ بھی کھائو اس میں تین چیزیں نہ ہوں میٹھا‘ رائس اور آئل… باقی ہر چیز کھائو کوئی مسئلہ نہیں۔‘‘ دونوں ہاتھ پھیلاتے ہوئے علینہ نے اسے آسان طریقہ بتایا۔
’’ہائے او ربا… علینہ تم کیا چاہتی ہو میں دل کے مریض کے جیسا روکھا پھیکا کھانا کھائوں۔‘‘ مونگ پھلی کے دو دانے جو اس نے ابھی ابھی چھیلے تھے منہ میں پھانکتے ہوئے بدمزگی سے نمرہ سے پوچھا۔
’’ابھی کنٹرول نہیں کروگی تو ایسے کھانے تمہیں مستقل کھانے پڑسکتے ہیں۔‘‘ علینہ نے نمرہ کے ساتھ ایک سیلفی لی اور موبائل نمرہ کی طرف بڑھادیا۔
نمرہ نے اسکرین کو دیکھا ہی تھا کہ جی بھر کے بدمزہ ہوگئی۔ اسے اپنے ’’آلو‘‘ جیسے منہ کی سیلفی ایک آنکھ نہ بھائی۔
’’کیا ہوا… اتنا برا منہ کیوں بنایا؟‘‘ علینہ نے اس کے چہرے کے تاثرات جانچتے ہوئے پوچھا۔
’’لگتا ہے خراب دانہ منہ میں چلا گیا مونگ پھلی کا۔‘‘ موبائل واپس اس کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے اس نے یونہی بات بنائی۔
٭…٭…٭
حارث کو جاب مل گئی تھی۔ ادھر نمرہ کا بھی ایف اے کا رزلٹ آچکا تھا۔ فرسٹ ڈویژن میں بہت اچھے نمبر لیے تھے نمرہ نے اور صبح سے اس کی اسکول‘ کالج فرینڈز اور کزنز کے تہنیتی فون آرہے تھے۔ آج وہ سب کچھ بھلائے بس صرف مبارک بادیں ہی وصول کررہی تھی۔ سب سے بڑی بات جو اسے اچھی لگ رہی تھی وہ یہ کہ کنیز بیگم اس کے ساتھ بہت پیار اور شفقت سے پیش آرہی تھیں بلکہ دوپہر میں جب اس نے ان کے لیے اپنے ہاتھوں سے ادرک الائچی اور دار چینی ڈال کر چائے بنائی تو وہ دعائیں دیتے نہ تھک رہی تھیں۔
’’دادی اماں… آج سورج کدھر سے نکلا ہے؟ آپ تو حارث کی ساتھی ہیں ناں… ادھر کدھر ہمدردیاں اور دعائیں شعاعیں دے رہی ہیں؟‘‘ اتنی محبت اسے شاید ہضم نہیں ہو رہی تھی‘ آخرکار اس نے پوچھ ہی لیا۔
’’ادھر کوئی جنگ تھوڑا ہی چھڑی ہوئی ہے نمرہ کہ میں اس کا ساتھ دیتی تھی… ارے میں تم دونوں کی دادی ہوں اور تم دونوں مجھے بہت عزیز ہو اور حارث بھی تمہارا دشمن تھوڑا ہی ہے تمہارا کزن ہے اور دوست بھی… اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہوسکتا ہے۔‘‘ کنیزبیگم نے زیرلب مسکراتے ہوئے کہا اور چائے کا کپ لبوں سے لگالیا۔
’’حارث کو تو بعد میں دیکھوں گی… فی الحال تو آپ ثابت کریں کہ آپ میری بھی بھلائی چاہتی ہیں۔‘‘ کچھ سوچتے ہوئے نپے تلے الفاظ میں اس نے کہا تو کنیز بیگم ہکابکا رہ گئیں۔
’’ہیں… یعنی کہ اب اپنی محبت اور خلوص کا ثبوت دینا پڑے گا؟ دماغ بھی تو کہیں موٹا نہیں ہوگیا تمہارا۔‘‘ انہیں اس کی یہ فرمائش کچھ اچھی نہ لگی تو قدرے غصہ سے پوچھا۔
دادی ماں کے اچانک پینترا بدل لینے پر نمرہ روہانسی ہوگئی۔ بادامی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور ناک فٹافٹ سرخ ہوگئی۔
’’دادی ماں… اگر آپ کو مجھ سے ذرا بھی محبت ہوتی تو میں آج سلم اور اسمارٹ ہوتی…‘‘ وہ رو دینے کو تھی۔
’’ہیں…‘‘ وہ اپنی عینک درست کرتے ہوئے نمرہ کی بات سمجھنے کی کوشش کرنے لگیں۔
’’لوگوں کی دادیاں کیا زبردست ٹوٹکے بتاتی ہیں اور ایک میں ہوں کہ میری دادی ہی میرا مذاق اڑاتی ہیں۔‘‘ روتے ہوئے بھی اس نے اپنی بات مکمل کی۔
’’ارے میری بچی… یہ بات تھی… بس چپ ہوجا… بس بس۔‘‘ اب وہ اسے پچکار رہی تھیں۔
’’تم فکر ہی نہ کرو میری بچی… بس ایک دو مہینے میں تمہاری کایا نہ پلٹ دی تو میرا نام بدل دینا۔‘‘ نمرہ کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے انہوں نے قدرے مسکراتے ہوئے چٹکی بجاتے ہوئے کہا۔
’’سچی دادی ماں…‘‘ وہ پُرجوش ہورہی تھی لیکن پھر کچھ خیال آتے ہی اس کا سارا شوق جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔
’’لیکن دادی ماں… حارث کو نہیں بتانا۔‘‘ وہ اپنی متوقع درگت بننے سے خائف تھی۔
’’ٹھیک ہے نہیں بتائوں گی لیکن شرط یہ ہے کہ میری ہر بات مانو گی تم۔‘‘
’’ٹھیک ہے دادی ماں… جیو ہزاروں سال۔‘‘ کنیز بیگم کی اتنی محبت‘ شفقت‘ دوستی اور ہمدردی کے باوجود اس کے دل میں ہلکی سی کسک موجود تھی۔ سب نے اسے مبارک باد دی تھی لیکن حارث نے ابھی تک اسے مبارک باد نہیں دی تھی اور اسی بات کی وجہ سے شام کے بعد اس کا موڈ قدرے خراب تھا۔ بلیک کلر کی شرٹ کے ساتھ چوڑی دار پاجامہ پہنے وہ قدرے کم موٹی لگ رہی تھی۔ بلیک سوٹ کے ساتھ ملٹی کلر کا پرنٹڈ دوپٹا اس نے شانوں پر پھیلا رکھا تھا۔ وہ برآمدے کی سیڑھیوں پر بیٹھی نجانے کن سوچوں میں گم تھی جب اسے ڈور بیل کی آواز سنائی دی۔ وہ اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
’’کون ہے؟‘‘ اگرچہ اس نے آئی ہول سے حارث کو دیکھ لیا تھا پھر بھی بیرونی دروازہ کھولنے کے آداب نبھانا ضروری تھے۔
’’شہزادہ گلفام۔‘‘ نہایت شوخی سے دیا گیا جواب سنتے ہی اس نے کنڈی ہٹادی۔
’’اونہہ… شہزادہ گلفام شکل دیکھی ہے اپنی۔‘‘ برا منہ بناتے ہوئے وہ واپس برآمدے تک آئی اور اسی جگہ بیٹھ گئی جہاں وہ پچھلے بیس منٹ سے بیٹھی تھی۔
’’ہاں… شکل تو اس سے بھی زیادہ خوب صورت ہے… بس کبھی غرور نہیں کیا۔‘‘ کالر جھٹک کر کہتے ہوئے وہ اس کے اور قریب آچکا تھا۔ نمرہ نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا تو حارث چونک اٹھا۔
’’خیریت تو ہے ناں… آج توپچی چھٹی پر ہے کیا؟‘‘ حارث نے مبہم انداز میں نمرہ پر طنز کیا تو وہ اسے گھور کر رہ گئی۔
’’ہاہاہا… میں بھی کتنی پاگل ہوں… جیلس لوگوں سے امید لگا رہی ہوں کہ میری خوشی میں شامل ہوں گے۔‘‘ وہ یک دم بلند آواز میں ہنسی اور اداسی سے کہتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’سنو… اے بلڈوزر… بات سنو یار۔‘‘ حارث آواز دیتا ہی رہ گیا اور اپنے پورشن میں چلی گئی۔
٭…٭…٭
روزانہ نہار منہ نیم گرم پانی میں ڈال کر پیا جانے والا ایک لیموں اور شہد رنگ لے آیا۔ علینہ کی بتائی ہوئی پروٹین ڈائٹ اور کنیز بیگم کے بتائے ہوئے نسخوں نے جادوئی اثر کیا۔ پچھلے دو مہینوں سے وہ روزانہ اجوائن کا نمکین قہوہ پینے لگی تھی۔ ناشتے میں چائے اور بیکری آئٹم کے بجائے پھیکا قہوہ اور ابلا ہوا انڈہ لینے لگی‘ دن میں سلاد سے بھوک مٹاتی اس کے علاوہ ایک چکن پیس بھی اس کے لنچ میں شامل تھے‘ ڈنر میں دو شامی کباب اور آدھی روٹی‘ بریانی کی طرف اس نے دیکھا بھی نہیں‘ تمام سوفٹ ڈرنکس منع تھے‘ کبھی کبھار وہ یہ روکھا پھیکا کھا کر شدید بدمزہ ہوجاتی تو اس کا دل کہتا ’’بھاڑ میں جائے ڈائٹنگ‘‘ لیکن کنیز بیگم تھیں ناں… مجال ہے جو ذرا بھی کچھ مسالے دار چکھنے دیتیں۔
’’ویسے دادی ماں… بڑی ظالم ہیں آپ… ہفتے میں ایک بار تو بریانی کھانے دیا کریں۔‘‘ کنیز بیگم مزے سے بریانی کی پلیٹ بھر کر بیٹھی کھانے میں مصروف تھیں اور نمرہ سامنے ہی کرسی پر بیٹھی للچائی نظروں سے بریانی کو دیکھ رہی تھی۔
’’شرط یاد ہے اپنی۔‘‘ وہ ہاتھ روک کر عینک کے اوپر سے دیکھتے ہوئے گویا ہوئیں۔
’’ہاں یاد ہے‘ تب ہی تو فریاد کررہی ہوں… ورنہ تو آپ کو پلیٹ میں کیا… دیگچی میں بھی نظر نہ آتی بریانی۔‘‘ برا منہ بنا کر اس نے زیرلب بڑبڑاتے ہوئے کہا لیکن انہوں نے اس کی بڑبڑاہٹ سن لی۔
’’ٹھیک ہے کھالو اور پھر حارث کی طرف سے کوئی گارنٹی نہیں ہے میری۔‘‘ انہوں نے مزے سے تیر نشانے پر لگایا اور پھر سے بریانی کھانے میں مصروف ہوگئیں۔
٭…٭…٭
اس کی پڑھائی شروع ہوچکی تھی‘ سردیوں کے چھوٹے دن چند گھنٹوں میں گزر جاتے‘ وہ سب کچھ بھول بھال کر اپنی پڑھائی میں مصروف ہوگئی تھی‘ حارث کو بھی نوکری مل گئی تھی۔ وہ صبح کا گیا شام کو ہی لوٹتا‘ کنیز بیگم بھی اب حارث اور نمرہ سے مصروفیت کا گلہ کرتی رہتیں۔ جسے دونوں وقتی طور پر ٹال دیتے تھے۔
اس روکھی پھیکی ڈائٹ جیسی زندگی میں ایک روز ہلچل سی مچ گئی… زیان احمد‘ زرینہ تائی‘ حارث‘ علینہ اور علیزے سمیت ان کے آنگن میں آجمع ہوئے… ویسے تو بھائی بھاوج کا روزانہ کا آنا جانا تھا لیکن سب کا اکٹھے ہوکر آنا کسی خاص مقصد کے لیے تھا اور یہ حقیقت بھی جلد ہی کھل گئی۔
’’سفیان… میں نمرہ کا ہاتھ حارث کے لیے مانگنے آیا ہوں۔‘‘ تایا ابو مسکراتے ہوئے ابو سے کہہ رہے تھے اور نمرہ کی حیرت اس وقت ناراضی اور اداسی میں بدل گئی جب سفیان احمد نے سوچنے سمجھنے کا وقت لیے بغیر اثبات میں جواب دے دیا۔
’’بھائی جان مانگنے کی ضرورت نہیں… نمرہ آپ ہی کی بیٹی ہے۔‘‘ سفیان احمد نے بھی مسکراتے ہوئے کہا اور اپنے بھائی اور بھاوج کو خوش کردیا۔ نمرہ جو کہ کافی دیر سے خاموش تھی اچانک کھڑی ہوئی اور تیز تیز قدموں سے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
’’شرما گئی ہے شاید۔‘‘ اس کا اس طرح اٹھ کر جانے کو سب نے حیا سے تعبیر کیا۔
’’تم نے تو مجھے حیران کردیا نمرہ۔‘‘ یہ علینہ تھی جو اس کے پیچھے پیچھے کمرے تک آگئی تھی۔
’’کیوں؟‘‘ وہ اداسی سے بولی۔
’’یار اتنی سلم ہوگئی ہو تم… تین ماہ میں اتنا وزن کم ہوگیا… مجھے بالکل امید نہیں تھی۔‘‘ وہ اس کو سرتاپا دیکھ رہی تھی۔
’’اتنا بھی نہیں ہوا… تھوڑا سا ہی فرق پڑا ہے۔‘‘
’’نہیں یار… بالکل میرے جیسی لگ رہی ہو دیکھو۔‘‘ وہ اسے ایک بار پھر آئینے کے سامنے لے آئی… دونوں تقریباً ایک جیسی لگ رہی تھیں… اپنے آپ کو اس کے جیسا پاکے اسے بہت اچھا لگ رہا تھا‘ اچانک انکشاف انسان کو ہمیشہ پُرجوش کردیتا ہے… ایک طرف تو اسے تین مہینے کی محنت اور قربانی کا صلہ مل گیا تھا اور وہ بے حد خوش تھی لیکن دوسری طرف… ابھی ابھی جو دھچکا لگا تھا، اس کے بارے میں سوچ کر وہ قدرے پریشان تھی… وہ یک دم اداس ہوگئی۔
’’اب کیا ہوا؟‘‘ علینہ اس کے چہرے کا یک دم رنگ بدلتے دیکھ کر پریشان ہوئی۔
’’میں حارث سے شادی نہیں کروں گی… قطعی نہیں اور دیکھو ذرا میرے والدین کو مجھ سے پوچھے بغیر ہی رشتہ طے کردیا۔‘‘ اسے اپنی امی اور ابو پر غصہ تھا۔
’’ہائے…! کیوں نہیں کرنی؟‘‘ نمرہ کی اس بچکانہ بات پر وہ حیران ہی رہ گئی۔
’’بس… مجھے اس گھٹیا انسان سے شادی نہیں کرنی۔‘‘ اس کا لہجہ قطعی تھا۔
’’جس نے کبھی میری عزت نہیں کی‘ ہمیشہ ہر کسی کے سامنے مجھے ذلیل کیا، جس کے لیے عزت کا معیار محض سراپا ہے… وہ شخص کیا مجھے شادی کے بعد عزت دے پائے گا؟‘‘ وہ حارث کی طرف سے بہت زیادہ بدگمان تھی۔
’’نہیں میری ہتھنی… ایسی بات نہیں ہے… وہ سب مذاق تو وہ محض تمہیں اکسانے کے لیے کرتا تھا تاکہ تم اپنا وزن کم کرو‘ میں گواہ ہوں اس بات کی اور مجھے اسی نے کہا تھا کہ تمہیں ڈائٹنگ اور ایکسر سائز کی طرف مائل کروں اور تو اور علیزے کے ساتھ فرینک بھی تمہارے سامنے ہی ہوتا تھا… تمہیں جیلس کرنے کے لیے یہ سب دکھاوہ تھا نمرہ۔‘‘
’’لیکن میرے سلم ہونے سے اسے کیا فرق پڑنا تھا علینہ… اسے کیا فائدہ ہوا؟‘‘ بات شاید کچھ کچھ اس کی سمجھ میں آگئی تھی۔
’’فائدہ… یار اسے اسمارٹ دلہن چاہیے تھی‘ اس نے تو نہ جانے کب سے تمہیں اپنے دل میں بسا رکھا ہے۔‘‘ علینہ اسے محبتوں کی حکایت سنا رہی تھی اور وہ خاموش دم سادھے سب سن رہی تھی۔
اس کے سامنے گزرے ہوئے دن ایک فلم کی مانند چل رہے تھے۔ سب خوشنما مناظر تھے لیکن دوسروں کے سامنے کی گئی تذلیل ان سب مناظر پر سیاہی پھیر رہی تھی۔
٭…٭…٭
پھر نمرہ حارث سے گریز کرنے لگی‘ حالانکہ گریز کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ ہر طرح کی الجھن صرف گفت وشنید سے ہی سلجھائی جاسکتی ہے۔ سفیان احمد اور نغمہ احمد نے اس کی بات سن کر سر ہی پیٹ لیا مگر اس کی نا ہاں میں نا بدلی… کنیز بیگم نے بھی سمجھایا مگر اس کی ایک ہی رٹ تھی۔
’’شادی کے بعد اگر میں دوبارہ موٹی ہوجاتی ہوں تو… کیا گارنٹی ہے کہ وہ میری تذلیل نہیں کرے گا… وہ ایک ظاہر پرست بندہ ہے دادی ماں، اور ایسے لوگ وقت اور حالات کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔‘‘ ان کی گود میں سر رکھے وہ بہت اداس تھی۔
’’نہیں میری چندا… وہ ظاہر پرست نہیں ہے… اس نے تو کب کا تمہیں قبول کیا ہوا ہے… بس اسے تمہارے آنسو تکلیف دیتے تھے جو تم دوسروں کے رویے سے دلبرداشتہ ہو کر اکیلے میں بہاتی تھیں میری بچی۔‘‘ وہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے پیار سے سمجھا رہی تھیں۔
’’نہیں دادی ماں… ایسا نہیں ہے… اگر ایسا ہوتا تو وہ ایک بار تو اپنی صفائی پیش کرتا ناں۔‘‘ اس کی آنکھیں آنسوئوں سے بھرگئیں۔
کمرے کے باہر کھڑے حارث نے اس کی آخری بات واضح طور پر سن لی تھی۔ وہ کمرے میں داخل ہوا اور دروازہ بند کرلیا۔ نمرہ اس اچانک افتاد پر یک دم گھبراسی گئی۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور دوپٹا سر پر اوڑھ لیا۔
’’آئو حارث بیٹا… بڑے دنوں بعد دادی کی یاد آئی۔‘‘ ان کے لہجے میں خوشی کے ساتھ ساتھ ہلکا سا شکوہ بھی تھا۔
’’دادی ماں… لوگ ہمیں دیکھ کر منہ پھیرنے لگیں تو کیا فائدہ آنے کا… خوامخواہ تکلیف میں پڑ جاتے ہیں۔‘‘ نمرہ کا دوسری طرف مڑا ہوا چہرہ دیکھ چکا تھا۔ نمرہ اگر اداس تھی تو حارث بھی کم پریشان نہیں تھا۔ نمرہ نے یکلخت اس کے چہرے کی طرف دیکھا تو دل پر ایک گھونسا سا لگا۔ وہ جو نک سک سے تیار رہنے والا شوخ سا حارث تھا آج اس کا چہرہ بے حد مرجھایا ہوا تھا‘ آنکھوں کے گرد حلقے تھے… اس کی ساری شوخی چھین لینے والی زیادہ دیر اس کی طرف نہ دیکھ پائی تو اٹھ کر باہر صحن کی سائیڈ پر بنے باغیچے میں آگئی۔
’’کیسی ہو نمرہ…؟‘‘ وہ بھی اس کے پیچھے ہی چلا آیا۔ اس کے لبوں سے اپنا نام اس نے بہت عرصے بعد سنا تھا… وہ سوچ میں پڑگئی آخری بار حارث نے اسے اس کے نام سے کب بلایا تھا… شاید آٹھ یا نو ماہ پہلے… نہیں… سال تو ہوہی گیا تھا۔
’’ناراض ہو…؟‘‘ حارث کو اس کی خاموشی اچھی نہیں لگ رہی تھی۔ وہ اپنے اس سوال کا جواب خوب اچھی طرح جانتا تھا لیکن اسے مخاطب کرنے لے لیے کچھ تو پوچھنا ہی تھا۔
’’ناراض تو اپنوں سے ہوا جاتا ہے۔‘‘ مختصر جواب دیا۔
’’مذاق بھی ان سے ہی کیا جاتا ہے جن پر ہم اپنا حق سمجھتے ہیں۔‘‘ حارث نے بھی اسی سرد لہجے میں جواب دیا۔ ’’لیکن پھر بھی… تمہیں میری وجہ سے بہت تکلیف ہوئی… آئی ایم سوری۔‘‘ سر جھکا کر وہ زمین پر دیکھتے ہوئے بولا۔
اس کے لہجے میں صدیوں کی تھکن تھی۔ اسے نمرہ کا اجنبی لہجہ کھل رہا تھا‘ اس کی معذرت پر نمرہ نے کوئی جواب نہ دیا۔ بس اداسی سے ہلکے اندھیرے میں جگمگاتے ننھے ننھے ستاروں کو دیکھنے لگی۔
’’لیکن آئی سوئیر… وہ سب محض ایک ڈراما تھا… تمہارا اس طرح مذاق اڑانے والا صرف میں ہی نہیں تھا… کالج فرینڈز… علیزے… تمہاری خالہ زاد بہنیں… پڑوس کی عمارہ… پھوپی جان کی بہو… سمعیہ آنٹی کا وہاب… اور بھی نہ جانے کون کون اور جب میں نے تمہیں چھپ کر کمرے میں پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے دیکھا تو میں نے سوچا کہ کسی طرح تمہیں وزن کم کرنے پر اکسایا جائے… کیونکہ تمہارے علاوہ کوئی اور یہ کام نہیں کرسکتا تھا… پھر میں نے علیزے اور علینہ کے ساتھ مل کر یہ پلان بنایا… پلان تو کامیاب ہوگیا لیکن تمہارے دماغ پہ اثر ہوگیا۔‘‘ پوری بات بتاتے ہوئے آخر میں وہ کچھ غصے سے بولا‘ نمرہ کے سارے گلے شکوے دور ہونے لگے۔
’’تو تمہاری ان حرکتوں کی تمہیں کیا سزا ملنی چاہیے تمہارے خیال میں؟‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے حارث کی طرف دیکھ کر پوچھا تو نمرہ کو مسکراتا دیکھ کر حارث کے سینے میں اٹکی ہوئی سانس خارج ہوئی۔
’’آہ… یہ سزا کیا کم ہے کہ دو من کی دھوبن کو ساری زندگی جھیلنا پڑے گا۔‘‘ اوکے کا اشارہ ملتے ہی وہ پرانی جون پر لوٹ آیا تو نمرہ پھر سے اسے آنکھیں دکھانے لگی۔
’’حد ادب… ابھی ہاں نہیں کہا میں نے۔‘‘ گردن اٹھاتے ہوئے اس نے حارث کو تنبیہہ کی تو حارث قہقہہ لگا کر رہ گیا۔ عین اسی لمحے نمرہ کے موبائل پر میسج کی بپ بچی۔ اس نے کھول کر دیکھا تو علینہ کا میسج تھا۔ میسج میں سوری کے الفاظ جھلملا رہے تھے۔ وہ اپنی اس پیاری سی دوست کے خلوص پر مسکرادی تھی۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close