Aanchal Mar-17

تم بن ذات ادھوری

کنیز نور علی

شکست و فتح تو اک عارضی حوالہ ہے
ہم اپنے ہونے کا اعلان کرنے نکلے ہیں
یہ کار عشق ہے ٹکڑوں میں نہیں بٹ سکتا
دل و دماغ کو یک جان کرنے نکلے ہیں

شادی کے اس فنکشن میں اس کی شرکت بے حد ضروری تھی اور وہ اب حد سے زیادہ بور ہورہی تھی۔ اس نے سوچا ایک زمانہ تھا جب اسے گاؤں آنے اور اس گھر میں رہنے کا بے حد شوق ہوا کرتا تھا۔ لہلہاتے کھیت‘ چہچہاتے پرندے‘ ہر سو سبزے کی تازگی‘ ایک ازلی خاموشی جو ساری وسعت میں پھیلی ہوتی تھی اور تتلیوں کے پیچھے بھاگتی وہ کتنی خوش ہوتی تھی۔ پھر وہ بڑی ہوگئی۔ چیزیں بدلتی گئیں۔ اب اسے یہاں آنا ایک مشکل ترین مرحلہ لگا کرتا جو سر کرنا ہی پڑتا تھا۔ تایا کے بڑے بیٹے کی شادی تھی۔ اسے اور ممی کو یہاں آئے تیسرا دن تھا۔

’’پاپا شاید آج آجائیں۔ اپنے کلینک کی مصروفیات میں سے وقت نکالنا اتنا آسان کہاں ہے۔ اب ہماری طرح پورا ہفتہ تو وہ یہاں آکر نہیں بیٹھ سکتے۔‘‘ بے حد بور ہوتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی۔ ڈھولک کی آواز اپنے عروج پر تھی سب زرق برق لباس میں اپنی تیاریاں دکھا رہی تھیں اور دوسروں کی دیکھ رہی تھیں اس نے آج بھی مارے باندھے تیاری کی تھی کیونکہ پچھلے دو دن سے وہ سادہ حلیے میں پھر رہی تھی اور تائی نے آج اسے خاص طور پر تاکید کی تھی۔ شیفون کا سیاہ سادہ سا سوٹ پہن کر اس نے آنکھوں کے کٹورے کاجل سے بھر لیے تھے یہ اس کے لیے بہت تھا سج دھج بھی اس وقت ہی بھاتی جب من خوش ہو وگرنہ سب رنگ بے رنگ ہوتے ہیں اور سب ہار سنگھار بوجھ۔

ڈھولک بجانے والیوں کی بھی کمی نہیں تھی اور ان سے پرے باتوں کے چٹخارے لینے والیوں کا الگ گروہ تھا اور سب سے ملنا بھی ضروری۔ ان عورتوں کے وہی قصے جو وہ ہمیشہ سے سنتی آئی تھی اور اسے سمجھ نہیں آتی تھی وہ ان کی گفتگو کا کیا جواب دے کہ بات جاری رہ سکے۔ وہ جب بھی اپنے تئیں بہترین جواب دیتی‘ سامنے والی کا منہ بن جاتا۔ آنکھوں ہی آنکھوں میں باقیوں کو اشارے کرتی کہ دیکھو ذرا شہر والی کڑی کی پٹھی مت (الٹا دماغ) یہ تو حال ہے اس کا‘ کل کو کیا کرے گی یہ اور پھر سب کل کے منظر نامے میں شہربانو‘ تائی اماں اور ولی اعظم کو رکھ کر اندازے لگانے لگتیں اور شہر بانو خود بھی ان کی آنکھوں میں دکھتے کل کے منظر نامے میں کھو جاتی۔ کل کو کیا کروں گی میں… کیا ہوگا؟

رات گئے ساری لڑکیاں کمرے میں جمع تھیں اور کل ہونے والے مہندی کے فنکشن کی تیاری اور گپ شپ جاری تھی۔

’’تائی کہہ رہی تھیں کہ بس اب اگلے ہی سال ولی کو بھی بیاہ دینا ہے۔‘‘ عطیہ نے اس کو فوکس میں رکھ کر مسکراتے ہوئے سب کو پیغام دیا۔

اس نے کوئی ردعمل نہیں دیا۔ زہرہ کو اپنے خالہ زاد کی یہ تذلیل بہت کھلی تھی۔ اب وہ جہاں بیٹھے گی یہ قصہ چھیڑتی رہے گی۔ اپنے اپنے کام نپٹاتی دوسروں کی ٹوہ لیتی ساری لڑکیاں مصروف تھیں‘ وہ سب سے بچتی بچاتی چھت پر چلی آئی۔ آدھا ادھورا سا چاند آسمان پر سجا تھا۔ ٹھنڈی پرسکون رات سارے گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے تھی‘ اس کا دل چاہا کاش تمام زندگی ایسی ہی شاد و پرسکون اور مکمل ہوتی لیکن یہ آدھا چاند‘ اسے اپنے جیسا لگا۔

’’جیسے میری ذات ادھوری ہے ویسے ہی یہ چاند بھی ادھورا ہے۔‘‘ کوئی اندر سے بولا تھا۔

’’لیکن یہ تو مکمل ہوتا ہے شہربانو گھٹتا ہے‘ بڑھتا ہے ایسے ہی اس کا کھیل جاری رہتا ہے۔‘‘

’’کیا میں کبھی مکمل ہو پاؤں گی یا تمام سانس اسی ادھورے پن میں پوری ہو جائیں گے۔‘‘ وہ اداسی میں لپٹی منڈیر تھامے تادیر وہاں کھڑی چاند کو دیکھتی رہی۔ جو خاموش رہتا ہے لیکن سب بھید جانتا ہے۔

عطیہ اس کے پیچھے چلی آئی تھی۔ وہ دونوں چہل قدمی کرنے لگیں۔

’’تم ولی کو پسند نہیں کرتی نا…‘‘ وہ متذبذب تھی شاید نیچے سے یہی ذکر سن کر آئی تھی۔ شہربانو کے لبوں پر ایک زخمی ہنسی آن رکی۔

’’پسند ناپسند کی بات یہاں ہے ہی کب عطیہ بی بی۔‘‘

’’لو… تمہاری خاطر شہر جا کر پڑھ رہا ہے۔ تمہیں اس کا ذرا خیال نہیں۔‘‘

’’میری خاطر…‘‘ اس نے اداسی سے پوچھا۔

’’اسے انجینرئنگ ڈیپارٹمنٹ کی سیڑھیوں پر بیٹھا ولی اعظم یاد آگیا جس کے ارد گرد منڈلانے والی تتلیوں کی کوئی گنتی نہیں تھی‘ وہ بھی تو ایک بھنورا ہے کبھی اس پھول پر اور کبھی اس ڈال پر اور یہ کملی کہتی ہے‘ میری خاطر لوگ بھی کیسے کیسے وہم پال لیتے ہیں۔‘‘ نیم تاریکی میں آسمان کو کھوجتے ہوئے اس نے سوچا۔ ایک وہ تیمور تھا جو کم بولتا تھا اور زیادہ دیکھتا تھا۔ شہربانو سوچتی۔

صد شکر کہ وہ کم بولتا ہے وگرنہ نا جانے کیا بولتا‘ جو وہ بولنا چاہتا تھا وہ اس کی آنکھوں سے چھلکتا تھا لیکن شہرو نظریں چرا جاتی… ایک دن وہ سب لان میں سرما کی دھوپ سے لطف اندوز ہورہے تھے دور کہیں ولی کا گروپ بھی براجمان تھا۔ حمنہ بولی۔

’’ویسے مجھے کسی پہ نظر رکھنے کی عادت نہیں ہے لیکن ولی بھائی سے رشتے کی نوعیت ایسی ہے کہ خود ہی دھیان اس طرف چلا جاتا ہے۔‘‘ شہری کا سارا گروپ طرح طرح کے مذاق کرنے لگا۔ وہ بس ہلکی سی مسکراہٹ سے سب کو ٹال رہی تھی۔ تیمور نے اس سمت دیکھا جہاں ولی کا گروپ براجمان تھا۔ کافی دیر دیکھتا رہا۔ شہربانو کو الجھن ہوئی وہ اٹھ جانا چاہتی تھی اور اس کے اٹھنے سے پہلے ہی وہ اٹھ کر چل دیا۔

ایک اور سال ایسے بیت گیا۔ یونیورسٹی کی پڑھائی تمام ہوئی اور تائی نے یہ تیسرا پھیرا ڈالا تھا وہ بس تاریخ مانگنے آتی تھیں۔ باقی سب تو طے تھا سب عجیب سی الجھنوں میں تھے۔ تایا تائی کو بچپن کا طے کردہ رشتہ اپنے بیٹے کی آج کل کی حرکتوں سے مضبوط لگتا تھا شہربانو پاپا کی طرف دیکھتی وہ سارے شہر میں پھرتے ولی کو دیکھتے۔ ممی ان دونوں کی طرف دیکھتیں اور لاکھ خاموش ناظر ہونے کے باوجود شہربانو نے اس مشکل کا حل نکال لیا تھا۔ اس نے باہر جانے کی خواہش ظاہر کی‘ وہ ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی تھی ابھی اسے مزید پڑھنا تھا۔ تایا تائی کے لیے یہ جواب انکار تھا۔ فیصلہ شہربانو نے کیا تھا مہر تایا تائی نے لگادی۔

ولی کے لیے شہر کے ایک بڑے انڈسٹریلسٹ نے اپنی بیٹی کا رشتہ دیا تھا۔ تایا نے قبول کرلیا۔ بھتیجی کے نام کی زمینوں کے مقابلے میں کاروباری اثاثہ بڑا تھا اور پھر انکار بھی شہربانو کی طرف سے ہوا تھا سو تایا کا دونوں طرف فائدہ ہی تھا۔ جویریہ کو وہ متعدد بار ولی کے ساتھ دیکھ کر سوچتی۔

’’اگر میں ولی کے ساتھ شادی کے لیے مان جاتی تو جویریہ اس ساری تصویر میں کہاں کھڑی ہوتی۔ وہ گرل فرینڈ رہتی‘ دوسری بیوی بنتی یا یا ہوسکتا ہے وہ ولی کی محبت ہو‘ ظاہر ہے شادی کرلی ہے تو محبت تھی نا کچھ نا کچھ تو تھا۔‘‘ پھر اسے یاد آتا۔ ’’ولی تو مجھ سے بھی شادی کرنے کو تیار تھا۔ حالانکہ وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا تھا پھر بھی وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتا تھا۔‘‘ یہ سوچ کر اسے تکلیف ہوتی۔

ان ہی کرب آمیز دنوں میں جب پاپا اور ممی کی اس سے ناراضگی بھی مستقل سی ہوچکی تھی اس کا اسکالرشپ آگیا۔ اب کچھ سال دور رہ کر شاید چین آجائے۔

یورپ میں قیام کے اس عرصے نے اس میں کافی تبدیلیاں پیدا کیں تھیں۔ اب وہ خوامخواہ کی اداسی کو بھگانے کی کوشش کرتی اور لوگوں کے رویوں کو برداشت کرنا سیکھ گئی تھی۔ واپسی پر اس کی روٹین طے کرنا چنداں مشکل نہ تھا۔ صبح خیزی‘ پاپا ممی کے ساتھ وقت بتانا اس نے جاب شروع کردی تھی باقی کا سارا وقت ممی پاپا کے ساتھ۔ پاپا اس کے پاس بیٹھے تھے وہ دونوں ہر موضوع پر باتیں کررہے تھے اور بے انتہا خوش تھے۔ ماں باپ کبھی ناراض نہیں ہوتے اپنی اولاد سے… انہیں بس اولاد کی خوشی چاہیے ہوتی ہے۔

’’تمہارے لیے ایک رشتہ آیا ہے۔ لڑکا یونیورسٹی میں پڑھاتا ہے۔‘‘

’’جیسے آپ کا دل چاہتا ہے ویسا کرلیں آپ۔‘‘ اب اسے اس راہ چلنا ہی تھا پھر یہ من کی اداسی چہ معنی یہ ادھورا پن کیوں ہے۔

وہ پھر بھنور میں پھنس جاتی۔ کیا ہم لڑکیاں واقعی خوابوں خیالوں میں جیتی ہیں یا سچ میں محبت کا جذبہ کوئی وجود رکھتا ہے۔ اسے بے قراری ہوتی‘ زندگی میں سب کچھ تھا۔ بس ایک محبت کی کمی تھی اور محبت نا ہو تو سب ادھورا ہوتا ہے۔

یونیورسٹی میں پڑھانے والا آج گھر آیا تھا اور شہربانو کی اس پر پہلی نظر پڑی اور پھر پلٹنا بھول گئی۔ وہ حیرت کے سمندر میں ڈوبتی تیرتی ایک رنگ رنگیلے ساحل پر آن رکی تھی۔

٭…٭…٭…٭

’’ویسے جب تم نے مجھے دیکھا تو بالکل گم صم کیوں ہوگئی تھی۔‘‘

’’کب… یہ تم کب کی بات کررہے ہو مجھے یاد نہیں۔‘‘ وہ شوخ ہوئی۔ تیمور اس شوخی کو آنکھوں میں جذب کرتے ہوئے مسکرایا۔

’’ایک نشہ ہے جو جسم میں پیدا ہوتا ہے اسے ہوس کہتے ہیں۔ ایک خوشبو ہے جو روح سے پھوٹتی ہے اسے محبت کہتے ہیں۔‘‘ وہ بڑے جذب سے بول رہا تھا۔

شہربانو کو اب ہر لمحہ اپنا دل اونچی اڑانوں میں محسوس ہوتا تھا۔ وہ ادھورا پن جو اس کی زندگی کا حصہ تھا۔ محبت نے اسے پورا کردیا تھا۔ وہ حیران ہوتی کہ ایسا بھی ہوتا ہے‘ ایسا بھی ہوسکتا ہے اور اس کے ساتھ تو ایسا ہوا ہے وہ گواہ ہے کہ محبت زندگی میں آجایا کرتی ہے اگر اس کا انتظار کیا جائے تو…

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
error: Content is protected !!
Close