Hijaab Apr-17

توبہ یہ اپریل فول

حیا بخاری

’’حد ہے کنجوسی کی‘ بھئی مانا ہم سب بہنیں شادی شدہ ہیں‘ بچوں والی بھی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ ہم سب اپنے ازلی حق سے محروم رہیں۔‘‘ ثانیہ نے منے کو زبردستی سلانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ وہ تینوں بہنیں آصف کی شادی کے پورے تین مہینے بعد پھر اکٹھی ہوئی تھیں اور وہ بھی آصف سے نیگ وصول کرنے جو اس نے چند دن بعد ادا کرنے کا پکا وعدہ کیا تھا۔
’’ابھی تو شادی پر اتنا خرچہ ہوگیا ہے‘ تم تینوں کو کہاں سے دوں۔ کچھ دن بعد سیلری مل جائے گی سب کو خوش کردوں گا۔‘‘ بے چینی سے دروازے میں جمی ہانیہ کے پیچھے بیڈ کے بیچوں بیچ بیٹھی اپنی دلہن کو دیکھنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اس نے اس وقت تو بے چارگی سے وعدہ کرلیا تھا مگر جونہی وہ تینوں گھروں کو گئیں آصف نے بھی مطمئن ہوکے ہاتھ جھاڑے۔
’’اب نہ جانے کتنے مہینوں بعد چکر لگے‘ کہاں یاد رہے گا ذمہ داریوں میں۔‘‘ اور یہ اس کی بھول ہی تھی‘ شادی کے تین ماہ بعد ہی تینوں کا میکے کا چکر لگ ہی گیا اور گویا آصف کی شامت آگئی لیکن وہ صاف مکر گیا‘ تب وہ تینوں سخت برہم تھیں۔
’’میں نے بھی کہا ہے انہیں‘ بھئی بہنیں ہیں ان کے ارمان ہیں، ضرور دیں۔‘‘ بھابی حرا بھی ان کے ساتھ تھی۔
’’لیکن وہ تو صاف مکر گیا۔‘‘ آنیہ کو افسوس تھا۔
’’مکر گیا ہے تو مکرنے دو۔‘‘ سب سے شریر ثانیہ معنی خیز انداز میں مسکرائی۔
’’کیا مطلب؟‘‘ وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگیں۔
’’انگل ٹیڑھی کرنی پڑے گی اور کیا…‘‘ وہ شرارت سے مسکرائی تھی۔ تینوں اثبات میں سر ہلاکر شرارتی مسکراہٹ سجائے تائید کر گئی تھیں۔
’’لیکن مم… مم… میں یہ سب کیسے؟‘‘ ثانیہ کا پلان سن کر سب سے پہلے حرا ہکلائی تھی۔
’’لو… اس میں اتنا ہکلانے والی کیا بات ہے؟ تمہیں صرف ذرا سی ایکٹنگ ہی تو کرنی ہے۔‘‘
’’لیکن اس طرح ماں بننے کی ایکٹنگ۔‘‘ حرا شرماتے ہوئے بولی۔
’’ہاں تو آج نہیں تو کل تم نے یہ سب حقیقت میں بھی فیس کرنا ہے تو آج تھوڑا جھوٹ موٹ ہی سہی۔‘‘ ثانیہ نے بڑی نند ہونے کا فائدہ اٹھا کر آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا۔
’’پلیز حرا بھابی… ہماری خاطر…‘‘ آنیہ گڑگڑائی۔
’’اس بہانے نہ صرف ہم مبارک باد اور مٹھائی کے طور پر رقم بھی ہتھیالیں گی بلکہ آصف کو اپریل فول بناکر مزہ بھی چکھا دیں گی۔‘‘ ہانیہ نے دانت پیسے۔
’’اچھا ٹھیک ہے۔‘‘ سرخ گالوں والی کومل سی لڑکی نے سر جھکا دیا۔
ء…/…ء
’’مجھے دس ہزار روپے کی ضرورت ہے‘ وہ بھی ارجنٹ۔‘‘ اشعر اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھتے ہوئے یوں چونکا جیسے آصف صدیوں سے اس کا قرض دار رہا ہو۔ وہ جو فائل پر جھکا تھا ایک جھٹکے سے سیدھا ہوا‘ سنہری آنکھیں بغور اشعر کا جائزہ لینے لگیں۔
’’ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟‘‘ اشعر پزل ہوکر کالر سیٹ کرنے لگا۔
’’جب بھی تم مجھ سے کوئی ایسا مطالبہ کرتے ہو اس کا مطلب ہوتا ہے میری کوئی کمزوری تمہارے ہاتھ میں ہے۔‘‘ وہ ٹھنڈی سانس بھرتا کرسی کی پشت سے ٹیک لگا گیا‘ اشعر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔
’’شاباش… بہت سمجھ دار ہو۔‘‘
’’اس کا مطلب مجھے تم سے پیسے نکلوانے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑے گی۔‘‘ اشعر کی بتیسی باہر تھی اور آصف دانت کچکچا رہا تھا۔
’’کبھی تو تم بھی میرے ہاتھ آئو گے نہ‘ سارے حساب ایک ساتھ چکائوں گا۔‘‘ آصف نے دانت کچلے۔
’’غصہ نہ کرو‘ شانت رہو۔‘‘ وہ ہاتھ کے اشارے سے اسے ٹھنڈا ہونے کا اشارہ کرتے ہوئے بولا۔
’’ویسے بھی یہ دس ہزار کچھ بھی نہیں‘ اصل بات جان کر ہوسکتا ہے تم مجھے کچھ زیادہ ہی نواز دو پھر تمہیں پتا ہے مشورہ بھی تمہیں مجھ سے ہی لینا ہوتا ہے۔‘‘ اشعر اس کا جگری دوست تھا اور اسی قدر کمینہ بھی‘ آصف نے دل ہی دل میں اعتراف کیا۔
’’اب بکو۔‘‘ وہ خود پر ضبط کرتے ہوئے بولا۔
’’کیا؟‘‘ وہ ناسمجھی سے کندھے اچکا گیا۔
’’اشعر… بنو مت‘ میں جانتا ہوں تم کس قدر بے غیرت ہو۔‘‘ آصف منہ بناتے ہوئے بولا۔ اشعر نے ایک نگاہ ادھر اُدھر ڈالی جیسے مکمل اطمینان کررہا ہو کہ وہاں ان کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو پھر ذرا سا آگے جھک کر آصف کو بتانے لگا۔ جوں جوں وہ بات کرتا جارہا تھا‘ آصف کا منہ کھلتا جارہا تھا کچھ دیر بعد اشعر اطمینان سے سیدھا ہوکر بیٹھا۔
’’اب بتائو‘ دس ہزار زیادہ ہیں یا کم اور ویسے بھی اگر مجھے بائیک کی رپیرئنگ کے لیے پیسے کی ضرورت نہ ہوتی تو بے شک میں رضاکارانہ طور پر تمہارے کام آسکتا تھا۔ تم جانتے ہو مجھے۔‘‘ اشعر نے چہرے پر معصومیت طاری کرتے ہوئے کہا۔
’’چل چل‘ اچھی طرح جانتا ہوں تجھے۔‘‘ آصف نے مکھی اڑائی۔
’’ہر بات میں پہلے اپنا فائدہ دیکھتا ہے تُو… بعد میں میرا۔‘‘ آصف کی بات پر مسکراہٹ نے ایک مرتبہ پھر اشعر کے ہونٹوں کا احاطہ کیا۔
’’لیکن خیر‘ دس ہزار مل جائیں گے تجھے۔‘‘ اشعر یاہو کے اشارے کرنے لگا۔
’’یہ بتا تجھے اس تخریب کاری کے منصوبے کا کیسے علم ہوا؟‘‘
’’تیری اماں نے میری اماں سے کرشیہ کے رومال کے نمونے منگوائے تھے‘ وہی دینے آیا تھا کہ لائونج میں بیٹھے سارے دہشت گردوں کی بات سن لی اور تُو بچ گیا لٹنے سے۔‘‘ وہ اسے یوں بتانے لگا جیسے واقعی کسی بڑے حادثے کی خبر لے کر آیا ہو۔
’’ہمم…‘‘ آصف کچھ سوچنے لگا۔
’’مطلب بات پکی ہے۔‘‘ وہ بڑبڑایا۔
’’سو فیصد۔‘‘ اشعر نے آنکھ دبائی۔
’’اب مشورہ دوں یا جائوں۔‘‘ اشعر اٹھتے ہوئے بولا۔
’’ظاہر ہے تم ہی کوئی حل نکالو گے ورنہ تمہارے دس ہزار کی جگہ پونے دو لاکھ کی لُٹ پڑے گی مجھے۔‘‘ وہ ہار مانتے ہوئے بولا‘ اشعر دانت نکالتے ہوئے دوبارہ بیٹھ گیا۔
ء…/…ء
’’کیا ہورہا ہے پیاری بہنو؟‘‘ وہ آفس سے گھر آیا تو سبھی لائونج میں جمع تھے۔
’’ہم نہیں تمہاری بہنیں۔‘‘ ہانیہ ناراضگی سے کہنے لگی کہ ثانیہ نے اپنی ہیل اس کے پیر پر جمادی‘ وہ اوئی کرکے رہ گئی۔
’’ہم ٹھیک ہیں میرے پیارے ویر‘ تم سنائو۔‘‘ یہ سب سے چھوٹی آنیہ تھی۔
’’خیریت تو ہے نہ‘ آج تو شہد ٹپکا رہی ہیں منہ سے۔‘‘ وہ مسخرے پن سے ہنسا‘ آنیہ منہ بناگئی۔
’’ہمارے منہ سے تو شہد ہی ٹپکتا ہے ہمیشہ۔‘‘ ثانیہ بات سنبھالنے لگی۔
’’تمہاری طرح کڑوے کریلے تھوڑی نہ ہیں۔‘‘ پورا منہ کھولے مسکراتے آصف کا منہ یک لخت بند ہوا تھا۔
’’یہ حرا کہاں ہے؟‘‘ بیوی کی یاد آئی‘ تلاش میں اردگرد نظریں دوڑائیں۔
’’طبیعت خراب ہے اس کی‘ کمرے میں ہے اپنے۔‘‘ ہانیہ نے اطلاع دی۔
’’طبیعت تو کچھ دن سے میری بھی خراب تھی‘ آج ٹیسٹ تو کروائے ہیں۔‘‘ وہ اٹھتے ہوئے بولا۔ تینوں بہنیں بیک وقت اچھل کے کھڑی ہوئی تھیں۔
’’کیا ہوا؟‘‘
’’ہمیں کیوں نہیں بتایا۔‘‘
’’ڈاکٹر نے کیا کہا؟‘‘ یکے بعد دیگرے سوالوں کی بوچھاڑ ہوئی۔
’’کل رپورٹس ملیں گی بہرحال اتنی پریشانی والی بھی کوئی بات نہیں‘ میں ٹھیک ہوں۔‘‘ اس نے سب کو اطمینان دلایا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔
’’مجھے کیوں لگ رہا ہے دال میں کچھ ساوا (سبز) ہے۔‘‘ ثانیہ نے سوچتے ہوئے کہا۔
’’ساوا نہیں آپا‘ کالا ہوتا ہے۔‘‘ ہانیہ نے لقمہ دیا۔
’’وہی‘ جو بھی ہوتا ہے… ہوتا تو ہے نہ۔‘‘ ثانیہ ابھی بھی کہیں کھوئی ہوئی تھی۔
’’تیار ہو۔‘‘ اسے چادر اڑھاتے ہوئے ثانیہ نے پوچھا۔
’’بالکل آپا۔‘‘ وہ فوراً بولی۔ ’’شکر ہے یکم اپریل آگیا آپی ورنہ دو تین دن سے جھوٹ موٹ کی الٹی کر کرکے سچ مچ مجھے متلی محسوس ہونے لگی ہے۔‘‘ حرا نے یوں منہ بنایا‘ جیسے سچ میں منہ کا ذائقہ خراب ہے۔
’’جب اجر ملے گا تو دیکھنا کیسے منہ میٹھا ہوتا ہے ہم سب کا۔‘‘ ہانیہ شرارت سے کھکھلائی تھی‘ باقی سب نے بھی اثبات میں سر ہلایا۔
’’میں پہلے جاتی ہوں آصف کے پاس‘ تم سب بعد میں آجانا‘ اوکے۔‘‘ ثانیہ ہدایت دیتی چلی گئی۔ آصف بے حال سا صوفے پر لیٹا تھا۔
’’کیسی طبیعت ہے؟‘‘ وہ اس کے قریب جاکر بولیں۔
’’آیئے پھاپے کٹنی آپا… سب سے پہلا دھچکا آپ کو ہی لگائوں گا۔‘‘ آصف نے دل ہی دل میں کہا۔
’’ٹھیک ہوں آپا‘ بس اشعر آتا ہی ہوگا رپورٹس لے کر‘ دعا کریں۔‘‘ اس کی بات مکمل نہ ہوئی تھی کہ اشعر آبھی گیا‘ اس کے ہاتھ میں رپورٹس کی فائل تھی۔
’’کیسی رہیں رپورٹس۔‘‘ آصف نے عجلت سے پوچھا عین اسی وقت حرا نے دونوں نندوں کے ہمراہ پہلی سیڑھی پر قدم دھرا تھا۔
’’اللہ کی مرضی یار… ہم کیا کرسکتے ہیں۔‘‘ اشعر کا منہ لٹکا‘ آصف کا نہ جانے کیوں ذرا سا کھل گیا اور ثانیہ تڑپ کے اٹھی۔
’’کیا ہوا ہے اشعر… رپورٹس کلیئر نہیں ہیں کیا؟‘‘ وہ تڑپی۔ سیڑھیوں پر بڑھتے سبھی قدم رک گئے تھے۔
’’باقی سب تو کلیئر ہے مگر…‘‘
’’مگر…؟‘‘ ثانیہ نے اس کے کالر پکڑلیے۔
’’آصف… آصف…‘‘ اشعر نے پورا زور لگا کے آنکھوں میں دو تین آنسو بھر ہی لیے تھے۔ آصف نے دل ہی دل میں اس کی بلائیں لی تھیں۔
’’آصف کیا…؟‘‘ ثانیہ نے کھینچ کے اسے تھپڑ دے مارا۔
’’کبھی باپ نہیں بن سکتا۔‘‘ وہ کسی سڑک چھاپ مجرم کی طرح فوراً بات اگل گیا تھا۔ ثانیہ تو دھک سے رہ گئی تھی اور حرا… اسے زور کا چکر آیا تھا‘ ہانیہ اور آنیہ کے پکڑنے کی پوری کوشش کو ناکام کرتی وہ بال کی طرح سیڑھیوں پر لڑھکتی چلی گئی تھی۔ سب کچھ اس قدر اچانک ہوا تھا کہ سب کو ہی سکتہ ہوگیا تھا اور ٹوٹا تب جب گرنے کا شور سن کر اماں نے وہاں آکے بے سدھ پڑی حرا کو دیکھ کے زور دار چیخ ماری تھی۔
’’برین ہیمرج ہوتے ہوتے بچا ہے‘ مریضہ نفسیاتی اور جسمانی طور پر کمزور ہورہی تھیں اور یہ ایک فطری عمل ہے۔ اس حالت میں ہر عورت اس طرح کمزور ہوجاتی ہے تبھی شاید کسی صدمے کی بات کو یہ برداشت نہیں کرپائیں۔ سر اور ٹانگوں پر کچھ چوٹیں آئی ہیں مگر آپ لوگ بے فکر رہیں‘ دوائوں اور مکمل احتیاط سے یہ جلد ٹھیک ہوجائیں گی۔‘‘ ڈاکٹر ہدایات دے رہے تھے اور ان سب کی سوئی بس ایک لفظ پر اٹک گئی تھی۔
’’اس حالت میں…‘‘
’’کس حالت میں؟‘‘ سب نے ایک دوسرے کی طرف استفہامیہ انداز میں دیکھا۔
’’میں کچھ دوائیں لکھ کے دے رہی ہوں لیکن بہت ضروری ہے کہ ان کے ساتھ مریضہ کی خوراک کا بھی خاص خیال رکھا جائے۔ یہ زچہ و بچہ دونوں کی صحت کے لیے بے حد ضروری ہے۔‘‘ ڈاکٹر کی بات سنتے ہی سب کے منہ پورے کے پورے کھل گئے تھے۔ اشعر تیزی سے سب کے پیچھے ہولیا اور آصف نے بے ساختہ جیب پر ہاتھ رکھا تھا‘ سب کی نظریں اب اسے ہی گھور رہی تھیں۔
’’یہ آئیڈیا کس کا تھا؟‘‘ ڈاکٹر کے جاتے ہی ثانیہ ان کی طرف آئی تھی۔ اشعر مزید دو قدم پیچھے ہوا تھا‘ کچھ دیر پہلے والا تھپڑ بھولا نہیں تھا‘ ثانیہ کے ساتھ ساتھ باقی سب بھی بات کی تہہ تک پہنچ چکے تھے۔
’’میں معافی چاہتا ہوں۔‘‘ آصف نے بالآخر سر جھکایا۔
’’معافی… تم جانتے ہو اتنے بڑے جھوٹ کی وجہ سے حرا کی جان بھی جاسکتی تھی۔‘‘ ہانیہ بھڑک کے آگے آئی۔
’’ہم نے تو بس آپ کی اپریل فول کو ناکام بنانے کے لیے ایک ترکیب لڑائی تھی‘ وہ بھی سراسر اشعر کا مشورہ تھا۔‘‘ اشعر مزید دبکا۔
’’تم سے کس نے کہا ہم نے تمہیں اپریل فول بنانا تھا‘ ہمیں تو شروع سے حقیقت پتا تھی اور ہم تمہیں یہ خبر دے کر سارے پرانے حساب بھی برابر کرنا چاہتے تھے لیکن اس اشعر نے…‘‘ ثانیہ کے شاطر ذہن نے فوراً ہی پلٹا کھایا تھا۔ اشعر کا چہرہ ہلدی کی طرح لگنے لگا۔ آصف فوراً اس کی طرف مڑا کہ ثانیہ نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ دیا۔
’’ہماری مٹھائی نکالو۔ اس سے حساب میں کلیئر کرسکتے ہو اور ہاں اب تینوں بہنوں کو پچاس پچاس ہزار نہیں بلکہ حرا کے بھی پچاس شامل کرو۔‘‘
’’مگر آپا…‘‘ آصف کچھ کہنے لگا کہ ثانیہ نے اس کا کان پکڑلیا۔
’’اچھا… اچھا… چیک دیتا ہوں‘ صبر تو کریں۔‘‘ وہ گڑبڑایا اور پھر چیک نکال کر آپاکے حوالے کیا‘ وہ مسکرانے لگیں۔
’’آئندہ احتیاط کرنا۔‘‘ انہوں نے وارن کیا۔
’’کس سے؟‘‘ وہ حیران ہوا۔
’’اپریل فول سے‘ کبھی کبھی مذاق سچ بھی ہوجاتے ہیں۔‘‘ انہوں نے دبے دبے شرارتی لہجے میں اعتراف کیا۔
’’میری توبہ اپریل فول سے۔‘‘ وہ فوراً کان کو ہاتھ لگا گیا۔
’’گڈ‘ اب تم اشعر کی خبر لے سکتے ہو۔‘‘ ثانیہ نے جاتے جاتے اسے یاددہانی کرائی۔ وہ بے ساختہ خونخوار نظروں سے اشعر کو تکتا اس کی طرف بھاگا اور اشعر دروازے کی طرف‘ سب کے قہقہہ بے ساختہ بلند ہوئے تھے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close