Aanchal Jan-17

تیری زلف کےسرہونےتک

اقراؑصغیراحمد

دل گیا، ہوش گیا، صبر گیا جی بھی گیا
شغل میں غم کے تیرے ہم سے گیا کیا کیا کچھ
حسرت وصل، غم و ہجر و خیال رخ دوست
مر گیا میں، یہ مرے جی میں رہا کیا کیا کچھ

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
نوفل اور بابر کے بروقت پہنچنے پر غنڈے انشراح کو چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں دوسری طرف مزاحمت کے دوران انشراح کو خاصی چوٹیں آتی ہیں ایسے میں نوفل تو پروا نہیں کرتا مگر بابر فکرمند ہوتے عاکفہ کو تمام صورت حال سے آگاہ کرتا ہے، عاکفہ اس کی حالت پر افسوس کرتے اسے اپنے گھر لے جاتی ہے جہاں اس کی والدہ نہایت شفقت سے پیش آتی ہیں اور بے حد خیال رکھتی ہیں انشراح کو اپنے گھر کا ماحول یہاں سے بہت مختلف لگتا ہے اور عاکفہ کی والدہ کی محبت اسے جہاں آرا کے سامنے کھڑا کردیتی ہے جہاں آرا انشراح کے بدلتے رویے پر خائف ہوکر عاکفہ کے گھر جانے پر پابندی عائد کردیتی ہیں مگر وہ ان کی روک ٹوک کو خاطر میں نہیں لاتی۔ عمرانہ کی بڑی بہن رضوانہ اپنی دونوں بچیوں کے ساتھ پاکستان شفٹ ہوجاتی ہیں ایسے میں مائدہ اور عمرانہ ان سے ملنے جاتے ہیں رضوانہ چاہتی ہیں کہ ان کی بیٹیوں میں سے کسی ایک کا رشتہ زید سے طے ہوجائے مگر زید عفرا اور عروہ دونوں کی طرف سے بیگانہ رہتا ہے۔ مدثر کا بیٹا شاہ زیب جو دوسری بیوی سے ہوتا ہے وہ اپنے بڑے بھائی زید سے کافی متاثر ہوتا ہے جبکہ زید کے دل میں اس کے لیے وہ مقام نہیں ہوتا، شاہ زیب اکثر اپنے بھائی سے ملنے کی خاطر گھر آتا ہے اور سودہ سے بھی اس کی دوستی ہوجاتی ہے، ایسے میں صوفیہ کو اپنے بھائی کا یہ بیٹا بے حد اچھا لگتا ہے جو انہیں عزت اور مان دیتا ہے جبکہ زید کی ذات سے انہیں بہت سے گلے شکوے رہتے ہیں‘ اچھی آپا سودہ کو اپنی بہو بنانا چاہتی ہیں مگر صوفیہ کے لیے یہ بات قابل قبول نہیں ہوتی ایسے میں وہ بیٹی کے لیے فکرمند رہتی ہیں شاہ زیب سودہ کو باہر لے جانا چاہتا ہے اور صوفیہ بھی سودہ کو جانے کی اجازت دے دیتی ہیں وہ دونوں ڈنر کے بعد واپس کے لیے روانہ ہوتے ہیں مگر گاڑی خراب ہوجاتی ہے اسی لمحے پیٹرولنگ کے دوران رینجرز کے سپاہی انہیں مشتبہ قرار دے کر ہیڈ کوارٹر لے جاتے ہیں۔

(اب آگے پڑھیے)

سودہ کی جان پر بن آئی تھی۔ پہلی بار گھر سے نکلی تھی اور کس طرح یکے بعد دیگرے واقعات رونما ہوتے چلے گئے تھے۔ رینجرز کے سپاہی ان کو ہیڈ کواٹر لے گئے تھے جہاں ایک آفس میں بیٹھے نو عمر آفیسر کے سامنے انہیں پیش کیا گیا تھا۔ وہ آفیسر نرم مزاج و خوش اخلاق تھا اس نے کرسیوں پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بغور دونوں کی طرف دیکھا تھا۔ سودہ جھکا سر اٹھا ہی نہ سکی تھی جبکہ شاہ زیب آفیسر کے پوچھے گئے تفتیشی سوالات کے جواب دے رہا تھا اس وقت وہاں ان تینوں کے علاوہ کوئی اور نہ تھا۔
لگتے تو آپ لوگ کسی اچھی فیملی سے ہیں لیکن آفیسر نے نگاہیں سودہ کے چہرے پر ڈالتے ہوئے بات ادھوری چھوڑ دی تھی۔ اس کے گلابی رخساروں سے آنسو شفاف موتیوں کی مانند گر رہے تھے۔
سر آئیڈیا نہیں تھا کار خراب ہوجائے گی اور وہ بھی ایسے راستے پر جہاں کوئی ہیلپر بھی دستیاب نہیں ہوگا ورنہ کون ایسا اسٹوپڈ ہوگا جو سسٹر کو ویرانوں میں لے کر گھومے گا؟ ان کی ایک ہی تکرار سے وہ عاجز آکر گویا ہوا۔
ہے تو یہ سراسر بے وقوفی کے شہر کے حالات اور واقعات کی نزاکت کو نہ سمجھتے ہوئے آپ اپنی سسٹر کو لے کر نکل پڑے ہیں اگر پیٹرولنگ ٹیم وہاں نہ پہنچتی کوئی غلط قسم کے لوگ پہنچ جاتے پھر کس طرح تنہا مقابلہ کرتے آپ؟ خود کو بچاتے یا اپنی ہمشیرہ کو؟ آفیسر کسی طرح جان چھوڑنے پر آمادہ دکھائی نہ دیتا تھا۔
سر میری مما کہتی ہیں جب کوئی کسی کے لیے بُرا نہیں کرتا‘ اس کے لیے بھی بُرا نہیں ہوتا ہے اور میں نے آج تک کسی کے لیے بُرا نہیں چاہ تو میرے ساتھ بھی بُرا نہیں ہوسکتا ان شاء اللہ۔ اس کے لہجے میں اعتماد تھا۔
زندگی مفروضوں پر نہیں گزرتی یہاں قدم قدم پر عمل و عقل کو استعمال کرنا پڑتا ہے۔ وقت سے بڑھ کر کوئی بے رحم نہیں ہے۔ نامعلوم کب تک وہ زیر حراست رکھتا کہ خاموشی سے گرتے سودہ کے آنسو و بے آواز سسکیوں نے اس کا دل پگھلا ڈالا اور اس نے شاہ زیب کو کال کرنے کی اجازت دے دی تھی پھر اس نے زید کو مختصر صورت حال بتا کر یہاں آنے کو کہا تھا۔ سودہ کو محسوس ہوا اس کا دل عمیق گہرائیوں میں ڈوبنے لگا ہو۔

کار لڑکی کو ہٹ کرتی ہوئی فٹ پاتھ کی دوسری سمت سڑک پر اتر گئی تھی۔ یہ سب آناً فاناً ہوا تھا ان دونوں کو بھی سنبھلنے کا موقع نہیں ملا تھا‘ صد شکر تھا کہ اس وقت بھاری ٹریفک کا گزر وہاں نہیں تھا۔ چند گاڑیاں تھیں جو رک گئی تھیں‘ جہاں لڑکی گری تھی وہاں لوگ پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔ گاڑی جس خطرناک انداز میں اچھلتی ہوئی فٹ پاتھ کراس کرکے سڑک پر رکی تھی وہ بے حد خطرناک ہی نہیں جانی نقصان کا سبب بھی بن سکتا تھا وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہے تھے۔ نوفل کو یقین تھا یہاں بھی ماما کی دعائوں کا حصار ان کی حفاظت بن گیا تھا البتہ کوئی دوسرا وجود لاریب کی غلطی کی لپیٹ میں آچکا تھا۔
اوہ مائی گاڈ مجھے یقین نہیں آرہا ہم بچ گئے۔ لاریب کا نشہ بھی ہرن ہوا تھا۔
لیکن کوئی لڑکی ہٹ ہوئی ہے یہ بہت بُرا ہوا ہے۔ نوفل کار کا دروازہ کھولتے ہوئے بولا۔
تم کہاں جارہے ہو چھوڑو ابھی لوگ ہماری طرف متوجہ نہیں ہیں‘ موقع اچھا ہے ہم بھاگ نکلتے ہیں وگرنہ پولیس کے چکروں میں اس نے اس کا بازو پکڑتے ہوئے تیزی سے کہا۔
شٹ اپ نوفل نے غصے سے کہتے ہوئے جھٹکے سے بازو چھڑایا اور کار سے نکل کر اس طرف آیا جہاں فٹ پاتھ پر لڑکی کروٹ کے بل پڑی تھی۔ وہ بے ہوش تھی سر کے کسی حصے میں چوٹ آئی تھی‘ خون اس کے چہرے کے ساتھ ساتھ فٹ پاتھ کے فرش کو بھی سرخ کر گیا تھا۔
پلیز آپ لوگوں نے کیا تماشہ لگا رکھا ہے دور ہٹیں‘ جائیں یہاں سے۔ لوگوں کا ہجوم وہاں جمع ہوگیا تھا وہ سب ایک دوسرے سے چہ مگوئیوں میں مصروف تھے۔ کسی نے بھی لڑکی کو آگے بڑھ کر دیکھنے کی کوشش نہیں کی تھی‘ نوفل ایمبولینس منگوانے کی خاطر کال کرنے میں مصروف تھا۔
لاریب نے وہاں آکر سخت لہجے میں کہتے ہوئے لوگوں کو منتشر کرنا شروع کیا اور چند لمحوں میں ہی لوگ دور ہٹنا شروع ہوگئے تھے۔
اس لڑکی کا خون تیزی سے ضائع ہورہا ہے اگر یہ مر گئی تو
پھانسی تمہیں ہی لگے گی‘ تمہاری ڈرنک کی وجہ سے ہوا ہے یہ حادثہ۔
مجھے ڈر لگ رہا ہے‘ میں یوسف انکل کو کال کررہا ہوں وہ ہی ہینڈل کریں گے اس ایکسیڈنٹ کو۔ وہ تیزی سے سائرن بجاتی ہوئی آتی ایمبولینس کو دیکھتا ہوا گویا ہوا جیب سے موبائل فون نکالا تھا۔

زید آفس ورک میں مصروف تھا جب شاہ زیب کی کال آئی تھی چند لمحے وہ بے یقینی انداز میں بیٹھا رہ گیا تھا۔ وہ لڑکی جس کے سر سے کبھی دوپٹہ نہ ڈھلکتا تھا جو چپ چاپ کالج سے آنے کے بعد ہر ایک کا کام کرتی پھرتی تھی‘ وہ کبھی قہقہے نہیں لگاتی تھی نہ ہی تیز تیز باتیں کرتے اسے دیکھا تھا۔ شاہ زیب کھلنڈر اور لا اُبالی سا نوجوان جس کی شوخیاں بے ضررسی ہوتی تھیں۔ سودہ اور شاہ زیب دونوں ہی اس کے ناپسندیدہ لوگ‘ کسی ویرانے میں آوارہ گردی کے شبے میں پکڑے گئے تھے۔ آوارہ گردی بہت گہری کاٹ تھی ان لفظوں میں ناپسندیدگی کے باوجود وہ ان لفظوں کو ہضم نہیں کر پایا تھا۔ ہاتھ میں دبا سنہری قلم وہیں رکھ کر اٹھ کھڑا ہوا۔
زید بیٹے زید بیٹے غضب ہوگیا آدھی رات ہونے کو آئی ہے اور سودہ بیٹی کا اتا پتا نہیں ہے۔ اللہ خیر کرے نہ جانے کیا ہوا ہے‘ وہ تو جانے کو تیار نہیں تھیں صوفیہ بیٹی نے زبردستی بھیجا تھا اور خود سو گئی ہیں‘ مجھے مارے فکر کے نیند نہیں آرہی۔ وہ جیکٹ پہنتا لائونج میں آیا تو بنارسی بوا جو وہاں بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھیں اسے دیکھ کر پریشانی سے گویا ہوئیں۔
آپ پریشان نہ ہو بوا شاہ زیب کی گاڑی خراب ہوگئی ہے وہ اس وجہ سے نہیں آسکی ہیں میں جارہا ہوں ان کو پک کرنے۔
شکر ہے میرے اللہ کا‘ شیطان نامعلوم کیا کیا وسوسے میرے دل میں ڈال رہا تھا جلدی لے کر آجائو بیٹا میں یہیں شکرانے کے نفل ادا کررہی ہوں۔ ان کو معلوم تھا زید کبھی بھی غلط بیانی سے کام نہیں لیتا اس کی زبانی ان کے خیریت سے ہونے کی خبر سن کر وہ اٹھتے ہوئے گویا ہوئیں۔
نہیں بوا آپ اپنے کمرے میں جائیں اگر تایا‘ تائی یا مما اتفاقاً ان میں سے کوئی بھی یہاں آئے اور آپ کو دیکھا تو پریشان ہوں گے۔
یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں ہے اچھا ٹھیک ہے میں اپنے کمرے میں جارہی ہوں۔
آپ اب سو جایئے گا بوا میں جارہا ہوں ان کو لینے۔ صوفیہ کو بیٹی کی فکر نہیں تھی ان کو سدا سے اپنی نیند عزیز تھی اور وہ جانتا تھا۔ وہ عشاء کی نماز پڑھتے ہی سوگئی ہوں گی اور بوا ماں نہ ہوتے ہوئے بھی اس کے لیے جاگ رہی تھیں‘ دعائیں کررہی تھیں۔ اس کے دل میں ان کا احترام مزید بڑھ گیا تھا‘ بوا اس کو دعائیں دیتی ہوئی آگے بڑھ گئی تھیں۔
وہ کار دوڑاتا ہوا ہیڈ کوارٹر پہنچا تھا‘ شاہ زیب کسی کمسن بچے کی مانند اس سے لپٹ گیا‘ اس نے ایک اچٹتی ہوئی نظر سودہ پر ڈالی تھی جس کی گردن جھکی ہوئی تھی‘ سر پر لپٹا دھانی و سیاہ دوپٹہ نمایاں تھا۔ آفیسر سے رسمی باتیں اور خانہ پری میں کچھ وقت لگا تھا جب وہ ان کو لے کر باہر نکلا تو فضائوں میں خنکی کے ساتھ ساتھ دھند بھی بڑھ گئی تھی۔
تھینکس بھائی اگر آپ نہیں آتے تو یہ آفیسر ہمیں چھوڑنے والا نہیں تھا۔ شاہ زیب ممنونیت کے ساتھ ایک بار پھر اس کے گلے لگا۔
اٹس اوکے بار بار مجھے گلٹ مت کرو‘ تھینکس کہہ کر۔ یہ میرا فرض ہے جو میں نے ادا کیا ہے۔ تم کو یہ سبق کس نے پڑھایا تھا کہ رات کو کسی فی میل کے ہمراہ اس جگہ پر آئو؟ اس کا صاف اشارہ سودہ کی طرف تھا جو اُن کے پیچھے کسی پھانسی کے مجرم کی طرح خوف زدہ گردن جھکائے بے دم قدموں سے چل رہی تھی۔
مجھ سے غلطی ہوگئی یہ دراصل ہم ڈنر کے بعد کافی پینے کے لیے وہاں بیٹھے رہے پھر کار نے خراب ہوکر رہی سہی کسر بھی پوری کردی اور جو کسر باقی تھی وہ رینجرز نے پوری کردی تھی۔ پریشانی سے نجات پاتے ہی وہ اپنی جون میں لوٹ آیا تھا۔
بائی دا وے میں نے اس تھرل کو بے حد انجوائے کیا‘ لیکن یہ سودہ کی بچی رو رو کر موڈ خراب نہ کرتی تو خوب ایکسائنمنٹ رہتی۔ پھر اس نے مڑ کر پیچھے آتی سودہ کا ہاتھ پکڑا اور اس کے بھیگے چہرے کو دیکھ کر حیرانی سے گویا ہوا۔
تم ابھی تک رو رہی ہو وائے یار اب کیوں رو رہی ہو؟ اس نے اس کے دوپٹے سے آنسو صاف کرتے ہوئے اپنائیت سے کہا تھا چند قدم کے فاصلے پر چلتے ہوئے زید نے یہ منظر کنکھیوں سے دیکھا اور اس کے ہونٹ سختی سے بھینچ گئے تھے۔ وجیہہ چہرے پر لحظہ بھر کو سرخی ابھری تھی۔
سمجھ نہیں آتی بات بات پر رونے کیوں بیٹھ جاتی ہو‘ اب تو پرابلم سولو ہوگئی ہے بھائی کی بدولت‘ اگر بھائی ہیلپ نہ کرتے تو پھر مجھے بھی تمہارے ساتھ بیٹھ کر رونا ہی تھا۔
تم ساتھ نہیں چل رہے ہو؟ وہ کار کے قریب پہنچے تو زید نے استفسار کیا۔
سوری بھائی میرا گھر جانا ضروری ہے پاپا اور مما میرا انتظار کررہے ہیں۔
چلو میں وہاں ڈراپ کردیتا ہوں۔ اس نے گویا کوئی کڑوی گولی نگلی تھی۔ شدید ترین ناگواری اس کے چہرے سے عیاں تھی شاہ زیب بھی اس کے دلی جذبات سے بخوبی آگاہ تھا کہ وہ وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اس جگہ جانے کو تیار ہوگیا تھا جہاں جانا ہی اس کے لیے زندگی و موت کا مسئلہ تھا لیکن اس وقت اس کی اس پیشکش نے ثابت کردیا تھا وہ باہر سے کس قدر بھی سخت دل و کٹھور نظر آئے مگر اندر سے بالکل موم تھا۔
سودہ ساتھ نہ ہوتی یا وقت تیزی سے نہ گزر رہا ہوتا تو میں اس سعادت سے کبھی محروم نہیں ہوتا مگر گھر کا راستہ اپازٹ ہے مجھے ڈراپ کرکے گھر جاتے ہوئے آپ دونوں کو کئی گھنٹے لگ جائیں گے۔
باقی رات یہیں گزارنے کا ارادہ ہے؟
نہیں نہیں میں نے اپنے دوست کو کال کردی تھی وہ آنے والا ہے آپ جایئے میں اس کے ساتھ چلا جائوں گا۔ اس کا انداز مؤدب تھا۔
شاہ زیب کے اصرار کے باجود وہ گیا نہیں تھا‘ عجیب دلی جذبات تھے۔ وہ اس سے محبت بھی نہیں کرتا تھا اور اس کو اس تنہائی میں تنہا چھوڑ کر جانے کو تیار بھی نہ تھا۔ وہ اس کے دوست کے آنے تک جانے سے انکار کرچکا تھا۔ شاہ زیب نے فرنٹ ڈور کھول کر سودہ کو اندر بٹھادیا تھا پھر دس منٹ کے بعد ہی اس کا دوست آگیا تھا۔ اس نے بڑی محبت سے زید سے اس کا تعارف کروایا تھا اس کے دوست وہاج نے گرم جوشی سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔
بہت تعریف کرتا ہے شاہ زیب آپ کی‘ بہت لائک کرتا ہے آپ کو۔
میرے بھائی بہت گریٹ اور نائس ہیں۔ وہ عقیدت بھرے لہجے میں بولا۔
اوکے اب ہمیں چلنا چاہیے۔ اس نے رسٹ واچ دیکھتے ہوئے کہا۔ اس پر وہ ہی پتھریلا خول چڑھ چکا تھا جو مقابل کو بے تکلف نہیں ہونے دیتا تھا۔ انہو ں نے الوداعی مصافحہ کیا اور شاہ زیب اس کی طرف بڑھ گیا۔
شاہ زیب تم ساتھ چلتے تو اچھا تھا نہ۔ اس کے ساتھ نہ جانے کا سن کر وہ اضطراب میں مبتلا تھی‘ اس کے قریب آتے ہی وہ بے ساختہ گویا ہوئی۔
بھائی ہیں نہ تمہارے ساتھ پھر ڈر کیوں رہی ہو۔
ان ہی سے ڈر لگ رہا ہے۔ وہ سخت حواس باختہ ہورہی تھی۔
ہاہاہا میرے بھائی انسان ہیں کوئی آدم خور نہیں ہیں جو تمہیں کھا جائیں گے۔ وہ قہقہہ لگاتے ہوئے شوخی سے بولا اور اللہ حافظ کہتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ اس طرف آتے زید نے شاہ زیب کو سودہ سے جھک کر کچھ کہتے اور قہقہے لگاتے دیکھ لیا تھا‘ وہ قریب گیا تو وہ پھر سے اس کے گلے لگا اور اس کا گال چوم کر اس طرف بڑھ گیا جہاں کار میں اس کا دوست انتظار کررہا تھا۔ وہ بھی کار میں بیٹھا تو اس کا چہرہ بالکل سپاٹ اور لب بھینچے ہوئے تھے۔

یوسف صاحب ان سے پہلے ہی ہسپتال پہنچ گئے تھے اور تمام کارروائیاں پوری کردی تھی۔ ان کو سیاست چھوڑے ایک طویل مدت گزر چکی تھی مگر ان کی شناسائی ماند نہیں پڑی تھی تمام جگہوں پر ان کو پذیرائی ملتی تھی۔ ان کا اثر ورسوخ باقی تھا یہی وجہ تھی کہ اس لڑکی کو فوری ٹریٹمنٹ دی گئی تھی اس کے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹی تھی سر پر بھی گہری چوٹ آئی تھی۔ اس کو ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا‘ کئی گھنٹے آپریشن تھیٹر میں گزارنے کے بعد اسے پرائیوٹ روم میں شفٹ کردیا تھا۔ نوفل اور لاریب وہیں تھے اور پریشان تھے کہ کس طرح اس لڑکی کے گھر والوں سے رابطہ کیا جائے کہ لڑکی بالکل اجنبی تھی۔
میں سخت بور ہورہا ہوں یار کوئی حد ہوتی ہے کسی سے ہمدردی کی بھی‘ رات کے دو بج رہے ہیں اور تم اس کے ہوش میں آنے کا انتظار کررہے ہو اگر وہ صبح تک ہوش میں نہیں آئی تو ہم یونہی بیٹھے رہیں گے؟ لاریب کے صبر کی حد ہوگئی تھی وہ جھنجھلا کر گویا ہوا۔
میں نے تمہیں نہیں کہا کہ یہاں رکو‘ شوق سے جاسکتے ہو۔ وہ سخت لہجے میں گویا ہوا اس کا یہی انداز اس کے حوصلے توڑ دیتا تھا۔
اس لڑکی کا کوئی اتا پتا بھی تو نہیں ہے نامعلوم کہاں سے آئی ہے؟
یہی معلوم کرنے کے لیے میں رکا ہوا ہوں‘ نامعلوم اس کے گھر والوں پر کیا گزر رہی ہوگی؟ وہ کہاں کہاں تلاش کررہے ہوں گے؟ اس کی حساسیت انتہائوں کو چھو رہی تھی یہاں معاملہ ایک بے قصور لڑکی کا تھا وہ جانوروں تک سے ہمدردی کرتا تھا یہی وجہ تھی کہ وہ آدھی رات تک ہسپتال میں موجود تھا۔
بہت عجیب ہو تم نوفل ویسے تم لڑکیوں کے نام سے بھی چڑتے ہو اور اب ایک بالکل انجان لڑکی کی خاطر یہاں خوار ہورہے ہو۔ لاریب کے لہجے میں ایک نہ سمجھ آنے والی کیفیت تھی وہ حیران وپریشان تھا۔
یہاں بات لڑکی کی نہیں اصول و ذمہ داری کی ہے۔ ایکسیڈنٹ ہماری غلطی سے ہوا ہے‘ اس لڑکی کو کتنی چوٹیں آئی ہیں‘ جانتے ہو۔ صرف ہماری وجہ سے اس کو کتنا عرصہ بستر پر گزارنا ہوگا۔ کتنی تکلیف برداشت کرنی ہوگی؟ حالانکہ اس کا قصور بھی کچھ نہیں تھا وہ فٹ پاتھ پر چل رہی تھی۔
کول ڈائون کول ڈائون برادر میں تو کہہ رہا تھا کہ
کچھ کہنے سے بہتر ہے خاموش ہی رہو پلیز۔ اس نے غرا کر کہا وہ چپ ہوگیا تھا معاً کمرے سے نرس باہر نکلی۔
سسٹر مریضہ کو ہوش کب تک آئے گا؟ نوفل نے پوچھا۔
وہ تھوڑا تھوڑا ہوش میں آرہی ہیں‘ مکمل ہوش میں آنے کے لیے ابھی وقت لگے گا وہ دوائوں کے زیر اثر ہیں جلدی ہوش نہیں آئے گا۔ نرس تفصیل بتاکر وہاں سے چلی گئی۔
اب کیا کہتے ہو؟ شاید وہ صبح تک ہی ہوش میں آئے گی۔ کیا ہم صبح تک اسی طرح خوار ہوتے رہیں گے؟ وہ نرمی سے اس سے مخاطب ہوا۔
میری مانو ریسپشن پر ہمارے موبائل نمبرز موجود ہیں‘ ہم ڈاکٹر کو کہہ دیتے ہیں لڑکی کے ہوش میں آتے ہی وہ ہمیں کال کردیں اور ہم اسی وقت یہاں آجائیں گے۔ رات ہم یہاں نہیں گزار سکتے پلیز سمجھنے کی کوشش کریں۔
ہوں وہ کہتا ہوا آگے بڑھا‘ سوچتے ہوئے نگاہ کھڑکی کے شیشے پر گئی تھی وہ چونکا تھا بیڈ کھڑکی کے نزدیک تھا‘ وہ اور آگے بڑھا تھا وہ پٹیوں میں جکڑی بے سدھ لیٹی لڑکی کچھ شناسا سی محسوس ہوئی تھی۔ نوفل کو کچھ ادراک ہوا اور وہ تیز قدموں سے چلتا ہوا کمرے میں داخل ہوا اور بیڈ کے قریب جاکر دیکھا تو وہ لڑکی انشراح تھی۔

کار پوری رفتار سے دوڑ رہی تھی‘ زید کا چہرہ سپاٹ تھا مگر آنکھوں میں الائو دہک رہا تھا۔ سودہ دروازے سے تقریباً چپک کر بیٹھی ہوئی تھی‘ کاٹن کا بڑا دوپٹہ اس نے لپیٹا ہوا تھا وہ سر جھکائے بیٹھی تھی۔ چند گھنٹوں میں جو کچھ ہوا تھا وہ اس جیسی احتیاط پسند و ڈرپوک لڑکی کو خوف زدہ کرنے کے لیے کافی تھا مستزاد زید کی انٹری اور اس کی تصدیق پر آفیسر کا ان کو چھوڑنا زید جیسے پر معتبر شخص کے لیے شاید ہی قابل معافی جرم ہوگا کہ وہ عزت و وقار کے معاملے میں کمپرومائز کرنے والا بندہ نہ تھا۔
شاہ زیب کو وہ نرم و گرم لہجے میں سمجھا چکا تھا مگر اس سے ایک لفظ بھی بولنا گوارہ نہ کیا تھا اس کی خاموشی کسی کوڑے کی مانند اس پر برس رہی تھی۔ رات گہری ہوگئی تھی سڑک پر جلد ہی شاہ زیب اور اس کے دوست کی کار ٹرن لے کر غائب ہوچکی تھی سڑک پر صرف زید کی کار تھی۔
باہر ہوائوں کا زور تھا کہر آلود فضائوں میں چاند کی روشنی ٹھٹھری ہوئی لگ رہی تھی۔ ساتھ ساتھ سمندر چل رہا تھا اندھیرے میں ڈوبے سمندر کی لہریں خاصی بلند اور ڈرائونی لگ رہی تھیں۔ ماحول کی تمام سرد مہری و ہیبت برابر میں ڈرائیو کرتے بندے میں سرائیت کر گئی تھی۔ عجیب پُرحول خاموشی تھی اس بندے کی خاموشی میں کہ اس کے اندر وحشتیں اترنے لگی تھیں۔ اس کا دل کررہا تھا وہ اسے بھی شاہ زیب کی طرح سرزنش کرے‘ کھری کھری سنائے‘ برا بھلا کہے۔ مگر اس طرح اجنبیت و بیگانگی کی کند چھری سے ذبح نہ کرے‘ اپنی لاتعلقی سے یہ ظاہر نہ کرے کہ گویا اسے اس کی پروا ہی نہیں ہے‘ کوئی تعلق کوئی رشتہ ہی نہ ہو اس کے اندر گھٹن بڑھنے لگی۔
زید بھائی سوری دل میں اترتی وحشتوں سے گھبرا کر وہ کہہ اٹھی۔
کیوں؟ وہ ہی روکھا لہجہ‘ بے اعتنائی دکھاتا ہوا انداز۔
آپ ہماری وجہ سے ڈسٹرب ہوئے اس وقت۔
ناٹ مینشن‘ میں اپنی قسمت میں پرابلمز لکھوا کر ہی لایا ہوں جو مجھے ہی فیس کرنی ہیں جو کہ کررہا ہوں‘ ضرورت نہیں ہے کوئی ایکسکیوز کرنے کی۔ وہ ہی پتھر مار لہجہ‘ وہی بے درد انداز سودہ کی آنکھیں بھیگنے لگیں۔
گھر سے نکلنے کے بعد گھر واپسی کا راستہ یاد رکھنا چاہیے‘ پھوپو نے بتایا ہی نہیں ہوگا کہ واپس کس وقت آنا ہے؟ وہ ایسی ذمہ داری سے دور رہتی ہیں‘ بھلا تم کو کیا سمجھاتیں۔ وہ جلے بھنے انداز میں اس کی طرف دیکھے بنا کہنے لگا۔
ان کی فیورٹ ہابی سونا ہے‘ خواہ آندھی آئے یا طوفان‘ دنیا تلپٹ ہوجائے ان کے محو استراحت میں ذرا خلل نہیں پڑتا ان سے بہتر تو وہ بزرگ ملازمہ ہیں جو گھر کی بیٹی کی گھر سے غیر موجودگی میں فکر سے دعائوں میں مشغول تھیں۔ وہ جو بھی کہہ رہا تھا اس سے اسے اختلاف نہیں تھا۔
گھر میں کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے اس کارنامے کے بارے میں۔ کچھ دیر بعد گھر والی اسٹریٹ پر گاڑی موڑتے ہوئے حکم دیا۔
اگر کسی کو پتا چل گیا تو؟ بے ساختہ گویا ہوئی۔
نہیں چلے گا شاہ زیب کو بھی میں منع کردوں گا اور کسی کو معلوم ہوجائے بھی تو یہ میرا مسئلہ ہے تم خاموش رہنا۔ لہجے میں مخصوص سرد مہری و خود اعتمادی تھی۔ وہ سر کر جھکا کر رہ گئی کہ بھلا اس کو کون سا ڈھنڈورا پیٹنا تھا۔
بنگلے کا بیرونی حصہ نیم اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا وہ لان اور برآمدہ عبور کرکے کاریڈور کی طرف بڑھنا ہی چاہتی تھی دور سے کاریڈور میں ٹہلتی ہوئیں عمرانہ بیگم کو دیکھ کر اس کا دل اچھل کر حلق میں آگیا‘ وہ تیزی سے ستون کی آڑ میں ہوگئی تھی وگرنہ عمرانہ کی نگاہوں سے بچنا محال تھا۔
کیا ہوا؟ وہ کار کھڑی کرکے آیا تو اسے دیکھ کر متعجب سا بولا۔
کوریڈور میں ممانی جان ہیں۔ وہ سخت خوف زدہ ہورہی تھی۔
مما بے اختیار اس کے منہ سے نکلا ماں کی نیچر کو وہ بھی بخوبی جانتا تھا اگر انہوں نے ان کو ساتھ دیکھ لیا تو بنا پوچھے وہ ہنگامہ مچادیں گی۔
مما کو لے کر جاتا ہوں پھر تم روم میں جانا۔ وہ آہستگی سے کہہ کر آگے بڑھ گیا عمرانہ اسے دیکھ کر آگے بڑھی تھیں۔
زید اتنی رات کو آپ کہاں گئے تھے؟ وہ اس کے شانوں پر ہاتھ رکھ کر پریشانی سے پوچھ رہیں تھیں‘ وہ چند لمحے تو کچھ بول ہی نہیں سکا۔
آپ اس وقت تک کیوں جاگ رہی ہیں؟ طبیعت ٹھیک ہے آپ کی؟ وہ ان کو بازو کے حصار میں لیتا ہوا فکرمند انداز میں استفسار کرنے لگا۔
ہاں ٹھیک ہوں‘ میں نے روم کی کھڑکی سے آپ کو جاتے دیکھا تھا لیٹ نائٹ آپ کہاں گئے ہیں یہ سوچ کر فکر سے مجھے نیند ہی نہیں آئی‘ کہاں گئے تھے آپ بہت دیر سے آئے ہیں؟ ان کا یہ روپ ممتا سے بھرپور تھا۔

کیا ہوا تم اتنے پریشان ہوکر اندر کیوں آئے ہو؟ لاریب اس کے پیچھے آتا ہوا حیرانی سے استفسار کرنے لگا۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا‘ نچلا ہونٹ دانتوں سے کچلتا ہوا لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔
وائو لڑکی بیوٹی فل ہے۔ لڑکی پر نظر پڑتے ہی اس کے اندر کا شکاری مرد جاگ اٹھا تھا‘ وہ اس کو غور سے دیکھ رہا تھا۔
لڑکی کو صرف لڑکی کی نگاہ سے نہیں دیکھا کرو۔ اس کے انداز پر اس نے پلٹ کر تنبیہی لہجے میں کہا۔ اس کی سرد مہری پر وہ سنبھل کر گویا ہوا۔
میرا مطلب غلط ہرگز نہیں تھا‘ مجھے دکھ ہورہا ہے میری وجہ سے یہ اس حال میں پڑی ہے اور نامعلوم کتنی تکلیف اٹھانی پڑے گی۔ اس کی نگاہیں بار بار بے ہوش انشراح کے چہرے پر بھٹک رہی تھیں۔
میں جانتا ہوں تمہارے دکھ کی نوعیت کیا ہوگی‘ اپنے دکھ کو اپنے اندر ہی محدود رکھنا‘ یہ میری وارننگ ہے۔ وہ اس کی آنکھوں سے جھلکتی دلی کیفیت کو بھانپ کر سخت لہجے میں بولا تھا۔
آدمی اگر غلطی سے ایک بار گر جائے تو لوگ اسے گرا ہوا ہی سمجھ لیتے ہیں‘ یہی معاملہ تم میرے ساتھ کررہے ہو۔ وہ شکایتی انداز میں بولا۔
تم کیا ہو‘ یہ اپنے بارے میں تم مجھ سے بہتر جانتے ہو اور شاید تم پیدا ہی اس لیے ہوئے کہ میرے لیے پرابلمز کری ایٹ کرتے رہو۔ اس کا موڈ بری طرح آف ہوگیا تھا۔ وہ اس کو ساتھ لیے کمرے سے باہر آگیا تھا ساتھ ہی موبائل نکال کر بابر سے رابطہ کیا اور مختصراً اسے صورت حال سمجھا کر ہسپتال بلایا۔
یہ پرائیوٹ ہسپتال تھا جس کے سیکنڈ فلور پر پرائیوٹ رومز تھے وہاں مخصوص اداسی و خاموشی کا راج تھا جو ہسپتال کا خاصہ ہوتا ہے وہ ونڈو سے باہر دیکھنے لگا تھا جہاں ہلکی ہلکی کہر ہر سُو چھائی ہوئی تھی۔
اچھا تم اس لڑکی کو جانتے ہو‘ کلاس فیلو ہے تمہاری‘ میں حیران ہوا تھا تمہیں دیکھ کر جب تم کھڑکی سے اس لڑکی کو دیکھتے ہوئے روم میں گئے تھے تمہاری اس وقت کی فیلنگز اب سمجھ پایا ہوں میں۔
بکواس مت کرو‘ وہ میری کلاس فیلو نہیں ہے جونیئر ہے مجھ سے۔ اس نے بری طرح سے اسے جھاڑ پلائی اس نے منہ بند رکھنے میں عافیت محسوس کی تھی پھر کچھ دیر بعد ہی بابر وہاں آگیا تھا۔
ہوش آیا انشراح کو کیسی ہے وہ؟ اس کی آنکھیں خمار آلود تھیں۔
ہوش نہیں آیا خطرے سے باہر ہے کوئی خطرے کی بات نہیں۔
یار یہ بات شام کی ہے اور تم نے کال اب کی ہے‘ اس کے گھر والوں کو انفارم نہیں کیا ہے ابھی تک؟ وہ اس کی طرف دیکھتا پوچھ رہا تھا۔
تمہیں اس وقت بلانے کا مقصد یہی ہے کہ تم اس کے گھر والوں کو کال کرو اور بتائو یہ حادثہ ہوا ہے۔ میں نے اتفاقاً کچھ دیر قبل اسے دیکھا تھا‘ اگر پہلے دیکھ لیتا تو تب ہی کال کرتا تمہیں۔ اس کا لہجہ بوجھل و تھکن سے چُور تھا‘ وہ تھکن عام نہ تھی‘ اعصاب کو ریزہ ریزہ کرنے والی تھکن تھی۔
حد ہوگئی ہے بے حسی کی‘ تم نے اس لڑکی کا چہرہ دیکھنا بھی گوارا نہ کیا جو تمہاری غفلت و بے پروائی کے باعث لاوارثوں کی طرح پڑی ہے اور اگر اس پر بائی چانس تمہاری نظر نہ پرتی تو وہ اسی
یہ سب میری وجہ سے ہوا میرے فرینڈز نے زبردستی کچھ زیادہ ہی ڈرنک پلادی تھی اور نوفل بھی غیر ارادی طور پر مجھے مل گیا تھا میں نے ہی اسے آفر کی تھی کہ میرے ساتھ گھر چلے اور راستے میں میں کار کنٹرول نہ کرسکا اور کار نے لڑکی کو ہٹ کردیا۔ اس نے کھلے دل سے غلطی کا اعتراف کیا۔
میں انشراح کے بارے میں اتنا ہی لاعلم ہوں جتنا تم ہو‘ میں عاکفہ کو کال کرتا ہوں وہ یقینا اس کے بارے میں جانتی ہوگی۔ کئی کالز کے بعد عاکفہ نے کال ریسیو کی تھی۔
اوہ مائی گاڈ‘ کیسی ہے انشراح کیا ہوا ہے اسے؟ دوسری طرف سے عاکفہ نے سنتے ہی رونا شروع کردیا تھا۔
پلیز یہ جذباتی ہونے کا وقت نہیں ہے‘ آپ پہلے ان کے گھر والوں کو انفارم کریں۔ وہ اسے ہسپتال کا نام و پتا بتاتا ہوا گویا ہوا۔
عاکفہ اپنی ممی پپا کو بتائے گی وہ ہی انشراح کے گھر پر اطلاع کریں گے پھر وہ لوگ یہاں پر آئیں گے۔ تم ان لوگوں کو نہیں بتانا کہ ایکسیڈنٹ تم سے ہوا ہے خوامخواہ بات بگڑ جائے گی۔ بابر نے ان دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے مشورہ دیا۔
نہیں سچ سے فرار ممکن نہیں میں جھوٹ نہیں بول سکتا کسی سے‘ کوئی کچھ بھی کہے میں سچ بتا کر رہوں گا۔ وہ اس کی بات کی نفی کرتا ہوا سنجیدگی سے گویا ہوا۔

ایک دوست کے ساتھ کچھ پرابلم ہوگئی تھی اس کی ہیلپ کے لیے جانا پڑا۔ وہ ان کو اسی طرح بازو کے حصار میں لیے ہوئے آگے بڑھنے لگا۔
اچھا‘ کوئی بہت کلوز فرینڈز ہے جو آپ اس کی ہیلپ کے لیے گئے تھے ورنہ آپ اس وقت گھر سے نکلنے والے نہیں۔
جی اس نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا اور اوپر جاکر تیز آواز میں دروازہ بند کیا تھا تاکہ سودہ اندر آسکے۔
دروازہ بند کرنے کی آواز پر وہ دبے قدموں احتیاطاً چلتی ہوئی اپنے کمرے تک آئی تھی‘ مائدہ بے خبر سو رہی تھی اس کا گہری نیند سونا اسے عموماً جھنجھلاہٹ میں مبتلا کردیتا تھا اس وقت غنیمت لگا تھا ورنہ اس سے کس طرح چھپاتی اور اس سے وہ یوں بھی مطمئن تھی کہ شاہ زیب کے ساتھ جانے کی وجہ سے وہ صبح بھی اس سے یہ نہیں پوچھے گی کہ وہ کہاں گئی تھی اور واپس کب آئی تھی۔ ان کے یہ سوتیلے پن کے رشتے اسے تکلیف دہ لگا کرتے تھے آج اس کے لیے آڑ کا باعث بن گئے تھے۔
کبھی کبھی تکلیف بھی راحت بن جایا کرتی ہے‘ وہ شوز اتار کر بیڈ پر لیٹ گئی پے در پے اتنی ذہنی تکلیف برداشت کی تھی کہ لباس بدلنے کی بھی ہمت نہ رہی تھی۔ وقت جب چالیں چلتا ہے تو ایک کے بعد ایک چلتا چلا جاتا ہے۔ باہر اتنا کچھ بھگتنے کے بعد عمرانہ ممانی کی صورت نے اسے خوف و دہشت کے سمندر میں ڈوبا دیا تھا۔ وہ اس کو زید کے ہمراہ دیکھ لیتیں تو نامعلوم وہ کیا کرتیں؟ سب ہی جانتے تھے وہ زید کو اس کی پرچھائیں سے بھی دور رکھتی ہیں۔ افسوس ماں کی بے خبری پر بھی ہورہا تھا پھر زید کے طعنوں نے بھی زنجیدہ کردیا تھا‘ ٹھیک کہہ رہا تھا وہ جوان بیٹیوں کی ماں کو ایسی بے خری کی نیند نہیں سونا چاہیے۔ لاکھ وہ اس پر اور شاہ زیب پر آنکھیں بند کرکے اعتبار کرتی تھیں اور ایسا اعتبار ہر ماں کو اپنی اولاد پر ہوتا ہے لیکن ہر وقت کا الگ تقاضہ ہوتا ہے۔ عمرانہ ممانی جیسی خود غرض و بے حس عورت بھی اپنی اولاد کے لیے موم تھیں۔ کس بے قراری سے وہ اس کے لیے رات کو جاگ رہی تھیں۔
امی اس وقت مجھے آپ کی بے حد ضرورت محسوس ہورہی ہے‘ میرا دل چاہ رہا ہے آپ کی گود میں سر رکھ کر ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کرلوں۔ آج جس کانٹوں بھری راہ پر چلی ہوں اگر زید بھائی کی لاعلمی میں یہ سب رہتا تو میں چند دنوں میں وہ سب بھول جاتی جو گزری ہے مگر مسیحا ہی وہ بنا ہے جو صرف چرکے لگانا جانتا ہے اور لگاتا رہے گا۔

انشراح کو دوسرے دن ہوش آیا تھا لیکن تکلیف کے باعث ڈاکٹر اسے نیند آور دوائوں کے تحت سلا رہے تھے۔ رات بابر اور عاکفہ نے تمام معاملہ سنبھال لیا تھا وہ ہی لوگ جہاں آرا اور بالی کو لے کر آئے تھے۔ جہاں آرا اس حادثے کا سن کر اس قدر حواس باختہ ہوگئی تھیں کہ وہ فراموش کر گئیں کہ چند گھنٹوں قبل وہ عاکفہ اور اس کے والدین کو ان کے گھر پر کتنا ذلیل کرکے آئی تھیں اور وہ لوگ اس مصیبت کی گھڑی میں ان کا سہارا بنے تھے انہوں نے اس کو کبھی تیز لہجے میں ڈانٹا نہ تھا اور آج پہلی بار ہی اس کو عاکفہ کے گھر جانے پر سرزنش کی تھی وہاں جانے سے روکا تھا۔ وہ لبرل عورت تھی‘ دنیا پرستی میں مبتلا رہنا ان کا شعار تھا اور انہوں نے محسوس کیا تھا انشراح بہت تیزی سے عاکفہ کے گھرانے میں دلچسپی لے رہی ہے۔ عاکفہ کی فیملی ایک مذہبی جماعت سے تعلق رکھتی تھی بالکل اسی طرح جس طرح نویرہ اور اس کا شوہر مذہبی جماعت سے وابستہ تھے۔
وہ خود بھی ایسی جماعتوں سے دور رہتی تھیں اور انشراح کو بھی دور رکھنا چاہتی تھیں یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اس پر عاکفہ کے گھر جانے پر پابندی لگائی تھی۔ وہ غصے میں اپنے کمرے میں جاکر لاک ہوگئی تھی اور وہ خود بالی کے ہمراہ رشتہ دار کے ہاں گئی تھیں اس کے بیٹے کے ولیمے کا فنکشن اٹینڈ کرنے وہاں سے واپسی میں دیر ہوگئی تھی اور گھر آکر وہ اور بالی اپنے اپنے کمروں میں چلی گئی تھیں کہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا انشراح ان کے جانے کے بعد گھر سے باہر گئی ہوگی۔
بابر نے ان لوگوں کے آنے کے بعد نوفل اور لاریب کو گھر بھیج دیا تھا نوفل نے جہاں آراء سے حادثے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے معذرت کی تھی۔ نامعلوم وہ اس وقت صدمے میں مبتلا تھیں یا ان کے سوٹ بوٹ و چہروں سے جھلکتی خاندانی رکھ رکھائو و امارت کی چمک نے ان کو سخت الفاظ کہنے سے باز رکھا تھا کہ وہ حادثے کو حادثہ کہہ کر چپ ہوگئی تھیں۔
ویسے بھی ان کو یہاں ایک روپیہ خرچ کرنا نہیں پڑا تھا‘ وی آئی پی روم میں ان کو ہر سہولت موجود تھی۔ سارا اسٹاف بہت خیال رکھ رہا تھا‘ عزت سے پیش آرہا تھا وہ سمجھ گئی تھیں‘ نوفل کا تعلق کسی معمولی خاندان سے نہیں ہے۔
ماسی میں نے کہا تھا نہ بے بی کو نہیں ڈانٹو‘ وہ برداشت نہیں کرے گی۔ اس کو کبھی پھول سے نہیں چھوا تھا کہاں کانٹوں بھرے لہجے سے ایسا گھائل کیا کہ دیکھو کس حال میں پڑی ہے۔ بالی جو صبح سے کئی بار رو چکی تھی اب بھی بے سدھ پڑی انشراح کو دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ جہاں آرا نے کوئی جواب نہیں دیا وہ کھڑی انشراح کو دیکھ رہی تھیں جس کے بائیں بازو میں پلستر چڑھا تھا سر سفید پٹیوں میں جکڑا تھا۔ دائیں بازو میں ڈرپ لگی ہوئی تھی سر پر لگنے والے زخم کے باعث اس کے چہرے پر خاصی سوئلنگ تھی جس سے چہرہ بھرا بھرا لگ رہا تھا۔
مجھے کیا معلوم تھا بالی میری ڈانٹ کی سزا اتنی تکلیف دے گی میری بچی کو‘ لیکن یہ کبھی بھی مجھے بتائے بغیر کہیں نہیں جاتی ہے پھر رات کو کہاں جارہی تھی؟ ایسی کیا آفت آگئی تھی جو اس کو گھر سے نکلنا پڑا؟ ان کے لہجے میں الجھن تھی جو رات سے ان کو بے چین کررہی تھی۔
ماسی میں بھی یہی سوچ رہی ہوں اور پھر وہ لوگ بھی کتنے اچھے تھے جو بے بی کو یہاں لے آئے اور فل وی آئی پی روم میں رکھا اور یہاں کا اسٹاف دیکھو کس طرح قدموں میں بچھے جارہا ہے وگرنہ یہ لوگ تو سیدھے منہ بات کرنا نہیں جانتے۔ مریض اور لواحقین کو انسان بھی نہیں سمجھتے۔ نرس کو مسکراتے ہوئے اندر آتے دیکھ کر سرگوشی میں بولی۔
وہ چہروں سے ہی کسی بڑے اثر ورسوخ والے خاندان کے لگ رہے تھے۔

موسم سرد ہورہا تھا وہ واک کرکے اپنے روم میں آیا تھا عام دنوں میں وہ یہ سارا وقت لان میں ماما کے ساتھ گزارتا تھا پھر سورج طلوع ہونے کے بعد کچھ دیر آرام کرتا پھر تیار ہوکر ناشتا کرکے یونیورسٹی روانہ ہوجاتا تھا۔ رات کو ہونے والے حادثے نے اس کو مضمحل کردیا تھا‘ ہسپتال سے آنے کے بعد نیند اس کی آنکھوں سے دور تھی۔
وہ سنگ دل و سخت مزاج تھا محض ان سر پھری و خود داری و نسوانیت اور شرم و انا کو بھلا کر خود کو پیش کرنے والی لڑکیوں کے لیے۔ انشراح کی پہلی ملاقات کی بہادری و اعتماد نے درحقیقت اس کے اندر غصے کی آگ بھردی تھی اور بات سچی یہ تھی کہ وہ جو روکھے و سپاٹ و سرد مہر رویے کے باوجود لڑکیوں کی طرف سے ستائشی و توصیفی رویوں کا عادی ہوچکا تھا۔ انشراح کی بولڈ نیس انداز اور متاثر نہ ہونا ہی اس کے شدید ترین ردعمل کا باعث بنا تھا اور پھر بنتا ہی چلا گیا لیکن اب اس کو بے بس و بے حس حرکت دیکھ کر اس کے اندر کا ہمدرد و پُرخلوص شخص بیدار ہوا تو اس کے اندر احساسات کے چشمے پھوٹ نکلے تھے اور وہ اس کے متعلق سوچ رہا تھا۔ وہ پارہ صفت لڑکی جو ہر وقت متحرک دکھائی دیتی تھی جس بے بسی کے عالم میں پڑی تھی اس کا ذمہ دار وہ خود کو سمجھ رہا تھا۔ یہ سوچ کر ابھی تک کوفت میں مبتلا تھا کہ وہ لاریب کی طرف سے اتنا غافل کیوں رہا‘ یہ کیوں نہیں پہچان سکا کہ اس نے ڈرنک کی ہوئی ہے اگر پہچان لیتا تو اس کو ڈرائیو نہیں کرنے دیتا۔ نہ وہ ڈرائیو کرتا اور نہ ایکسیڈنٹ ہوتا‘ نہ اس کے دل پر بھاری بوجھ آپڑتا۔
چھوٹے صاحب ناشتا تیار ہے۔ امینہ نے وہاں آکر اطلاع دی۔
میرا ناشتے کا موڈ نہیں ہے۔
آپ یونیورسٹی نہیں جائیں گے طبیعت ٹھیک ہے آپ کی؟ امینہ کی گود میں اس کا بچپن گزرا تھا اس کا لگائو فطری تھا۔
میں ٹھیک ہوں۔ آج یونیورسٹی نہیں جائوں گا۔ وہ تکیوں کے سہارے نیم دراز نرمی سے جواب دے رہا تھا۔ ناشتے کے انکار نے امینہ کو نہیں چونکایا تھا کیونکہ عموماً وہ ناشتا گول کردیا کرتا تھا۔ اس کے لیے فکر مندی کی بات یہ ہوئی تھی اس نے یونیورسٹی جانے سے انکار کردیا تھا جو غیر معمولی بات تھی کیونکہ پڑھائی کا وہ شیدائی تھا۔ امینہ نے جاکر زرقا بیگم کو بتایا تو وہ بھی پریشان ہوکر اس کے پاس آئی اور ان کو دیکھ کر وہ اٹھ بیٹھا۔
فیور تو نہیں ہے پھر بھی چہرے سے ہفتوں کے بیمار لگ رہے ہیں۔ انہوں نے آتے ہی اس کی پیشانی چھو کر دیکھتے ہوئے کہا۔
ماما آپ بھی امینہ بی کی باتوں میں آگئی میں بالکل ٹھیک ہوں۔
مجھے ٹھیک نہیں لگ رہے ہیں ایسا لگ رہا ہے ساری رات سو نہیں سکے آنکھیں دیکھیں کس قدر سرخ ہورہی ہیں چہرے پر تھکن ہی تھکن ہے‘ رات کو بھی آپ نامعلوم کب آئے‘ میں انتظار کرتے کرتے سوگئی تھی۔ وہ محبت سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے گویا ہوئی تھیں۔
رات میں نیند نہیں آئی تھی ماما اس لیے طبیعت سست ہورہی ہے۔
یہی تو پوچھ رہی ہوں رات کو نیند کیوں نہیں آئی اور آپ مڈ نائٹ تک کہاں غائب رہے؟ انہوں نے امینہ کو ناشتا کمرے میں لانے کو کہا۔
ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا رات میں‘ ہسپتال میں وقت لگ گیا تھا۔
ارے کس کا ہوگیا ایکسیڈنٹ‘ خیریت تو رہی نا؟ ان کا پریشان ہونا ایک فطری عمل تھا‘ وہ بے حد پریشان ہوگئی تھیں۔
آپ پریشان نہیں ہوں‘ لاریب سے کار کنٹرول سے باہر ہوگئی تھی اور اس کی زد میں ایک لڑکی آگئی تھی۔
لڑکی! اللہ خیر کرے کوئی سیریس معاملہ تو نہیں ہوا؟
نہیں‘ سر میں چوٹ آئی اور ہاتھ میں فریکچر ہوا ہے۔
یہ تو بہت تکلیف دہ بات ہے بیٹا۔
ماما ہڈی معمولی سی فریکچر ہوئی ہے پھر بھی احتیاطاً پلستر سے کورڈ ہے اور سر کی چوٹ بھی خطرناک نہیں۔ دو تین ہفتے میں ٹھیک ہوجائے گی۔ ان کی حساس طبیعت یک دم ہی بے چین ہوگئی تھی۔
اس کے گھر والوں نے کچھ کہا تو نہیں؟ اس لڑکی کو بہت چوٹیں آئی ہیں‘ تکلیف میں بھی بہت ہوگی وہ بچی مجھے آپ کے ساتھ عیادت کے لیے جانا چاہیے ناشتے کے بعد ہم چلتے ہیں۔ انہوں نے فوراً ہی پروگرام بھی بنالیا تھا‘ وہ بھونچکا رہ گیا۔
آپ کیوں اس کی عیادت کو جائیں گی ماما؟
اس میں اس قدر حیرانی کی کیا بات ہے‘ نادانستگی میں ہی سہی بیٹا غلطی آپ کی اور لاریب کی ہے حادثے کے ذمہ دارآپ دونوں ہیں۔

کام کام اور صرف کام قائداعظم کے اس قول کی عملی تصویر صرف تم بنے دکھائی دے رہے ہو میری جان دنیا میں اور بھی بہت کچھ ہے کرنے کے لیے کام کے سوا۔ وہ فائلوں میں گم تھا معاً جنید کی شوخ آواز پر وہ سر اٹھا کر بولا۔
وہ ’بہت کچھ‘ میں تمہارے نام کرچکا ہوں‘ تم عیش کرو۔
ویری فنی تم کیا جوگ لینے کا ارادہ رکھتے ہو؟ پھر جھک کر شرارتی انداز میں بولا۔
بائی دا وے جوگ وہ لیا کرتے ہیں جنہیں محبت کا روگ لگا کرتا ہے۔ محبت لاحاصل کے روگی اور تم تو محبت پروف ہو۔ تمہیں محبت و چاہت کے جراثیم کہاں لگیں گے۔ وہ اس کے روبرو بیٹھ چکا تھا۔
اچھا اب یہ اپنا بے مقصد راگ اَلاپنا بند کرو اور یہ بتائو کہاں غائب تھے خاصے دنوں بعد آئے ہو۔ وہ ایزی ہوکر بیٹھا۔
ڈوب گیا تھا یار سرد آہ بھری۔
مائی گاڈ کہاں تم تو بہت اچھے تیراک ہو پھر کیسے ڈوب گئے؟
اس لڑکی کی جھیل سی گہری آنکھوں میں تیرنے کی جگہ کہاں تھی۔
ایسا ہی ہوگا تمہارا انجام‘ کسی کی آنکھوں میں ڈوب کر مروگے تو کسی کے دل میں دفن ہوگے نان سینس اس کے قہقہے پر وہ چڑ کر گویا ہوا۔
واہ میری جان کیا دلکش بات کی ہے ابھی مرنے کو دل چاہ رہا ہے۔
تم تھکتے نہیں ہو لڑکیوں کے پیچھے بھاگ بھاگ کر اسکول لائف سے تمہاری یہی ہابی رہی ہے۔ اب تم کو معتوب ہوجانا چاہیے۔ وہ سنجیدہ ہوا۔
کوئی نہ کوئی لڑکی ایسی آئے گی میری زندگی میں کہ اس کے آنے کے بعد پھر کسی اور کی گنجائش نہیں رہے گی۔ وہ مسکرا کر گویا ہوا۔
تمہارے خیال میں کس طرح کی لڑکی ہوگی وہ؟
نیک‘ پارسا‘ کلیوں کی طرح پاکیزہ‘ چھوئی موئی کے پودے کی مانند حیا دار۔ وہ خلائوں میں دیکھتا ہوا بول رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں کسی انجانے پیکر کا عکس تھا۔
نیک اور پارسا؟ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا طنز سے بولا۔
قرآن کہتا ہے نیک عورتوں کے لیے نیک مرد اور برے مردوں کے لیے بری عورتیں۔ تم اپنی من پسند زندگی گزارنے کے ساتھ کس طرح دعویٰ کرسکتے ہو کہ تم کو باحیا و باکردار جیون ساتھی مل جائے گی۔ زید کی سچی و کھری بات پر چند لمحے توقف کے بعد وہ بولا۔
کیچڑ میں کھلنے والے کنول کی پاکیزگی کی گواہی وہ خود دیتا ہے۔
تم اپنے کردار کی گواہی خود دو گے بھی تو کون یقین کرے گا؟
سب کریں گے اور جو نہیں کرے گا وہ صرف تم ہوگے۔
آف کورس میں بالکل یقین نہیں کروں گا۔
ہوں‘ یہی الزام مجھ پر جولی بھی لگاتی ہے اب تم کہو گے جولی کون ہے؟
نہیں میں ہرگز نہیں پوچھوں گا۔ وہ انٹر کام پر کافی آڈر کرتا بولا۔
میں پھر بھی بتائوں گا‘ وہ پاپا کے دوست کی بیٹی سوئٹزرلینڈ سے آئی ہے یار محبت کی مٹی سے بنی‘ جذبوں سے بھری ایسا فیل ہوتا ہے اس کے اندر دل نہیں جذبے دھڑکتے ہیں۔ رگوں میں خون نہیں چاہت بہتی ہے۔
کب تک کی مہمان ہے وہ؟
ایک ماہ کے بعد چلی جائے گی واپس سوئٹزرلینڈ۔
پھر جمیلہ آجائے گی‘ جولی جائے گی تو
ہاہاہا یہ پکا ہے کہ تم سے زیادہ مجھے کوئی اور جان ہی نہیں سکتا مگر میری جان تم یہ بھی جان لو کہ تم سے زیادہ میں کسی سے بھی محبت نہیں کرتا خواہ وہ جولی ہو یا جمیلہ‘ شکیلہ یا شیلا۔ اس کے لہجے میں محبت ودلی لگائو تھا۔
پلیز یہ محبت و عشق کی باتیں اپنی گرلز فرینڈز کے لیے ہی رکھو‘ میری زندگی تمہاری محبت کے بنا بھی اچھی گزر رہی ہے۔ زید اس انداز میں بولا کہ وہ کھسیا کر رہ گیا‘ پیون کافی سرو کرکے چلا گیا تھا۔
کیا کروں اب پاپا کے دوست کی بیٹی کا دل بھی نہیں توڑ سکتا۔ وہ مگ اٹھا کر سپ لیتا ہوا بے چارگی سے گویا ہوا۔
پکے کمینے ہو تم‘ باپ کی دولت پر سب ہی ہاتھ صاف کرتے ہیں مگر تم تو باپ کے دوستوں کی بیٹیوں تک کو مال غنیمت سمجھتے ہو۔ کچھ ضابطۂ اخلاق کا پاس بھی ہے یا بالکل ہی اخلاقی طور پر دیوالیہ پن کا شکار ہوچکے ہو۔
یار ہر جگہ کچھ لو اور کچھ دو کے زیریں اصولوں پر معاملات آگے بڑھتے ہیں۔ اس دور میں لڑکیوں نے مغربی اندھی تقلید میں بے باکی و فلرٹ میں لڑکوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے وہ خود دوستی کی آفر لے کر آتی ہیں۔
کیوں نگاہیں اٹھا کر دیکھتے ہو نگاہوں کی حفاظت کرنا سیکھو۔
جی ضرور مولانا مفتی زید مدثر صاحب دعائوں کی درخواست ہے۔ اس نے بڑی نیاز مندانہ انداز میں اس کے آگے سر جھکایا۔ اس نے کچھ نہیں کہا‘ مسکراتا ہوا کافی پیتا رہا۔
زید اس بار اس کے لہجے میں سنجیدگی و بردباری تھی۔
یہی دن ہیں جو ہم بے فکری سے راحت وسکون کے ساتھ انجوائے کرسکتے ہیں‘ کل جب معاشی و گھریلو ذمہ داریاں ہمارے کاندھوں پر ہوں گی‘ یہ بے فکری و لا اُبالی پن سب بھول جائیں گے ایسے میں گزرے دنوں کی ان دلکش یادوں سے دل کو بہلا کر ریلیکس ہوا کریں گے۔
دلکش یادیں‘ یا بدصورت لغزشیں اپنی اپنی سوچ ہے۔
چھوڑو یار مجھے تمہاری فکر رہتی ہے تم نے اپنی زندگی میں اندھیروں کے سوا معمولی سا کوئی روزن بھی نہیں چھوڑا روشنی کے لیے اپنی زندگی کو مشکل تر بنالیا ہے۔ بڑے بڑے لوگ باپ کی کمائی پر عیش کرتے ہیں اور ایک تم ہو جو باپ کی دولت پر ٹھوکر مار کر میدان عمل میں اتر آئے ہو۔
سب جانتے ہو میں کن کانٹوں بھری راہوں پر ننگے پائوں چلتا ہوں‘ اب تو میری روح بھی لہولہان ہوتی جارہی ہے۔ اس کے لہجے میں درد ہی درد تھا۔
یو ڈونٹ مائنڈ ہمارے کلچر میں مرد ایک سے زائد شادیاں کرتے ہیں پھر انکل کی دوسری شادی اتنا بڑا ایشو کیوں بن گئی کہ سب بکھر گیا۔
وہ عورتیں آہنی اعصاب کی مالک ہوتی ہوں گی‘ میری مما بہت پولائٹ اور سوفٹ ہارٹ ہیں پھر پاپا سے محبت بھی کچھ زیادہ ہی کرتی تھیں پاپا کی بے وفائی وہ برداشت نہیں کرسکیں اور وہ گہرا سانس لے کر چپ ہوگیا۔ اس کی آنکھوں میں نمکین جہاں ہلکولے لینے لگا تھا۔
ان کی بے وفائی کا بدلہ مما نے خود سے لیا اور بالکل بدل گئیں۔ دکھ دھواں بن کر ماحول میں پھیل گیا‘ دونوں کے درمیان گویا پھر کچھ کہنے کو نہ رہا تھا۔ دونوں گم صم ہوگئے تھے اور یہ کیفیت نامعلوم کب تک رہتی کہ زید کے موبائل پر آنے والی کال نے ماحول کی خاموشی کو توڑا۔
بیٹا آفس میں ہی ہو یا گھر جاچکے ہو؟ دوسری طرف منور صاحب تھے۔
ابھی آفس میں ہی ہوں‘ آپ کیوں پوچھ رہے ہیں خیریت ہے؟
یہ آپ کو معلوم ہوگا عمرانہ اور مائدہ آپ کی خالہ کی طرف گئی ہیں اور ہم تینوں بھی بوا کے ہمراہ صابرہ خالہ کے گھر عیادت کو آئے ہیں۔ صابرہ خالہ کی حالت سیریس ہے‘ ہمیں واپسی میں دیر ہوسکتی ہے۔ موسم کے تیور اچانک بگڑ گئے ہیں اور سودہ گھر پر تنہا ہے وہ بارش اور بجلی چمکنے سے بے حد ڈرتی ہے۔ تم گھر چلے جائو ہم بھی موقع دیکھ کر جلد آنے کی سعی کریں گے۔ وہ عجلت میں کہہ کر اس کا جواب سنے بغیر لائن ڈسکنیکٹ کرچکے تھے‘ زید کے چہرے پر ناگواری پھیلتی چلی گئی تھی۔

ایک ہفتے میں اس کے زخموں کی بہتر امپروومنٹ ہوگئی تھی‘ سر کا زخم بھرچکا تھا۔ معمولی چوٹیں جو بھی آئی تھیں وہ ٹھیک ہوگئی تھیں صرف ہاتھ کی تکلیف باقی رہ گئی تھی لیکن ابھی ہسپتال سے ڈسچارج نہیں کیا گیا تھا۔ اس دوران نوفل بھی بابر کے ہمراہ دو تین بار آیا تھا کھڑے کھڑے ہی جہاں آرا کے اصرار کے باوجود وہ بیٹھا نہیں تھا اور اتفاق سے ہر بار اس نے انشراح کو سوتے ہی پایا تھا۔ ماما کو وہ ٹالتا رہا تھا جو یہاں آنے اور عیادت کے ساتھ ساتھ معذرت کرنے کی بھی خواہش مند تھیں۔ وہ جانتا تھا انشراح منہ پھٹ لڑکی ہے اور ایسے لوگ کبھی کسی کی عزت کی پروا کرنا جانتے نہیں اور وہ ماما کی طرف ایک نگاہ غلط کسی کا دیکھنا برداشت کرنے کا اہل نہ تھا۔
ڈاکٹر اس کو چند دنوں میں ڈسچارج کرنے والے تھے اس نے تہیہ کیا تھا وہ اس کے ڈسچارج ہونے تک اس کی عیادت کو آتا رہے گا۔ یہ اس کی خواہش نہیں مجبوری تھی کیونکہ انشراح کی نانو کی ہسپتال کے اسٹاف سے کوئی نہ کوئی ڈیمانڈ رہتی تھی اور اس کو چیک دینے وہاں آنا پڑا تھا۔
آج بھی وہ پیمنٹ دینے کے بعد انشراح کے روم میں جانے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ بابر کسی کام کی وجہ سے نہیں آیا تھا‘ وہ بھی جانے کا ارادہ ترک کرکے واپس جانے کے لیے نیچے آگیا تھا۔ گیٹ کے دائیں طرف دوسری رو میں کھڑی سرخ رنگ کی کار دیکھ کر وہ ٹھٹک گیا قریب جاکر نمبر پلیٹ نے اس کی کشادہ پیشانی پر شکنیں بکھیر دی تھیں پھر وہ واپس اوپر کی طرف چل پڑا تھا۔
نوفل آئو یار لاریب بے تکلفی سے جہاں آرا سے بیٹھا گفتگو کررہا تھا اس کو دیکھ کر بے اختیار اٹھ کھڑا ہوا تھا اس کے انداز میں سراسیمگی تھی۔
تم کب آئے اور کیوں آئے ہو؟ اس کی آنکھوں سے ہی نہیں لہجے سے بھی چنگاریاں نکل رہی تھیں وہ جو اس کی غیر متوقع آمد پر پہلے ہی سٹپٹا گیا تھا مستزاد اس کے سلگتے لہجے نے بوکھلا کر رکھ دیا تھا۔
میں تم سے ہی پوچھ رہا ہوں۔ جہاں آرا نے سرسری نگاہ ان پر ڈالی اور اٹھ کر انشراح کی طرف بڑھ گئیں جو کچھ غنودگی میں بڑبڑا رہی تھی۔
میں میں ان کی طبیعت معلوم کرنے آیا تھا ابھی کچھ دیر قبل ہی
میں نے تمہیں سختی سے منع کیا تھا کہ ادھر کا رخ بھول کر بھی نہ کرنا۔
وہ میں یہاں سے گزرا تو سوچا عیادت ہی کرتا جائوں۔ وہ بولتے ہوئے اس سے نگاہیں چرا رہا تھا۔
میں جارہا ہوں چند لمحوں کے لیے ہی آیا تھا۔ وہ کہہ کر اس پھرتی سے وہاں سے نکلا تھا گویا بدروحیں پیچھے لگی ہوں۔
ارے یہ لاریب کو کیا ہوا بنا سلام دعا کیے چلے گئے؟ جہاں آرا حیرانی سے گویا ہوئی اور ساتھ ہی اسے بیٹھنے کی پیشکش کی۔
لاریب کو کوئی ضروری کام یاد آگیا تھا۔ وہ بیٹھنے سے معذرت کرتا بولا۔
اچھا کچھ ضروری کام ہی ہوگا وگرنہ انہوں نے کبھی ایسی حرکت کی نہیں بہت ہی بااخلاق و خوش مزاج ہیں لاریب۔ روز آکر ہمیں ڈھارس دیتے ہیں بیٹا ہم تنہا عورتوں کو ان کی آمد سے بڑا حوصلہ ملتا ہے۔ وہ نجانے کیا کیا کہہ رہی تھیں اور اس کے اندر عجیب سی کیفیت سرائیت کرتی جارہی تھی۔ لاریب کی فطرت رسّی کی مانند تھی جلنے کے بعد بھی جس کے بل یوں ہی موجود رہتے ہیں‘ جل کر بھی نہیں جلتے۔
جی ہاں‘ اس کے مزاج کے لوگ معترف ہوتے ہیں۔ آپ بتایئے کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے آپ کو؟ وہ رسٹ واچ دیکھتا ہوا گویا ہوا۔
کوئی ضرورت نہیں ہے ہمیں آپ کی ہیلپ کی۔ انشراح جو کچھ دیر قبل ہی جاگی تھی‘ آنکھیں کھول کر اس کی طرف غصے سے دیکھتے ہوئے بولی۔ نوفل نے بے ساختہ اس کی طرف دیکھا تھا۔ خوب صورت چہرے پر زردیاں نمایاں تھی‘ برائون بڑی بڑی آنکھوں میں شعلے لپک رہے تھے۔ گولڈن برائون سلکی بالوں کا جنگل بکھرا ہوا تھا۔
آپ غلطی کریں توحادثہ‘ ہم غلطی کریں تو واجب القتل ٹھہرائے جاتے ہیں‘ یہ قانون تو جنگل میں بھی لاگو نہ ہوگا۔ وہ سخت مشتعل تھی۔
حادثے غلطیوں سے ہی ہوا کرتے ہیں۔
اوہ اب آپ کو احساس ہوا حادثے غلطی سے ہوا کرتے ہیں۔ وہ اس کی بات قطع کرکے چیخی۔
انشی بیٹی تمہاری طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں ہے پھر تم نوفل بیٹے پر غصہ کیوں کررہی ہو‘ ایکسیڈنٹ ان سے نہیں بلکہ ان کے کزن لاریب سے ہوا ہے۔ انہوں نے تمہاری جان بچائی ہے ہسپتال لاکر۔ جہاں آرأ پہلے ہی ان کی دولت و شخصیت سے مرعوب ہوچکی تھیں اس کو اس طرح برا بھلا کہتے دیکھ کر وہ مصالحانہ انداز میں کہنے لگیں۔
نوفل بیٹا مائنڈ نہ کیجیے گا دراصل اس کے دماغ پر گہری چوٹ آئی ہے یہی وجہ ہے کہ بہکی بہکی باتیں کرنے لگی ہے۔
نانو دماغ خراب نہیں ہوا ہے میرا‘ پاگل نہیں ہوئی ہوں۔ نوفل نے اس کی طرف دیکھا وہ مضطرب تھی‘ تکلیف میں مبتلا۔
کیوں آئے ہو آپ میرا تماشہ دیکھنے؟ مجھے اس حال میں پہنچا کر بھی آپ کو سکون نہیں ملا اب کیا جان سے مارنا چاہتے ہیں؟ اسے سامنے دیکھ کر اپنی بے بسی و بے کسی کی حالت نے اسے ہذیانی کیفیت میں مبتلا کردیا تھا۔ وہ غصے سے بے حال ہوتی ہوئی بیڈ سے اترنا ہی چاہ رہی تھی کہ نوفل نے سرعت سے آگے بڑھ کر اسے سہارا دے کر گرنے سے بچاتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔
میں اپنی صفائی میں ایک لفظ بھی کہنا اپنی توہین سمجھتا ہوں لیکن اتنا ضرور کہوں گا میں مقابلہ ہمیشہ برابری کی بنیاد پر کیا کرتا ہوں۔ وہ کہہ کر نانو کو سلام کرتا ہوا چلا گیا۔
انشراح بیٹھی کی بیٹھی رہ گئی کیا کہہ گیا تھا وہ پھر ایک کمتری کا طعنہ پھر ایک کمزوری کا احساس دلاتا سرخرو لہجہ۔
میں کہتی ہوں سچ مچ ہی تمہارا دماغ خراب ہوگیا‘ کیوں منہ لگ رہی تھیں اس کے۔ جانتی بھی ہو لاکھوں روپے خرچ کررہا ہے وہ تم پر‘ یہ شاہانہ کمرہ اور ٹھاٹ باٹ اسی کے مرہون منت ہیں۔ اس کے جاتے ہی نانو کا پارہ ہائی ڈگری کراس کرنے لگا۔ دیگر اسٹاف کو چھوڑو‘ ڈاکٹرز جو کسی کو ایک نظر ڈھنگ سے نہیں دیکھتے ہمارے پائوں کی جوتی بنے ہوئے ہیں۔ ایک حکم پر سر کے بل چل کر آتے ہیں‘ ہمارے کھانے کی ہر چیز یہاں کے سب سے مہنگے ہوٹل سے آتی ہے۔
نانو میرا ایکسیڈنٹ آپ کے لیے لاٹری ثابت ہوا ہے وہ بھی لاکھوں کی۔
تمہاری باتیں ایسی ہی ہوتی ہیں دل جلانے والی۔
آپ کو میری تکلیف کا احساس بالکل بھی نہیں ہے میں یہاں کئی دنوں سے پڑی ہوں معذور بن کر اور آپ کو یہاں ملکہ بن کر رہنا اچھا لگ رہا ہے۔
خود اپنی حرکتوں سے تم نے یہ معذوری پالی ہے‘ کیوں بنا بتائے گھر سے نکلی تھی‘ نہ گھر سے نکلتی اور نہ یہ انجام ہوتا تمہارا۔ وہ کٹھور پن سے بولیں۔
آپ گھر پر موجود ہوتیں تو آپ کو بتاکر جاتی نہ۔
ایک ہفتے سے منہ بند کیے پڑی تھیں لاکھ پوچھنے پر بھی منہ نہ کھولا تھا اور اب کھولا ہے تو بتادو‘ کہاں جارہی تھیں؟
عاکفہ کے گھر اس کے مما پپا سے معافی مانگنے آپ جو اُن کی بے عزتی کرکے آئی تھیں۔ آپ کی اس حرکت نے مجھے پاگل کردیا تھا‘ بے سکون ہوگئی تھی میں۔

بارش اتنی شدت سے برسے گی اس کا اسے گمان بھی نہ تھا تایا جان کی کال کے بعد وہ چند لمحے بیٹھا سوچتا رہا تھا کہ کیا کرے؟ تایا کا اس کی ذات پر حد سے زیادہ اعتماد اسے کبھی کبھی ایک اذیت بھرے امتحان میں ڈال دیا کرتا تھا۔ اسی طرح جیسے ابھی وہ دل میں ہونے کے باوجود انہیں انکار نہ کرسکا۔ کچھ رشتے تاوان مانگتے ہیں اور وہ تاوان ادا کرنے میں ہی رشتوں کی بقا ہوتی ہے‘ وہ جنید کے ساتھ آفس سے نکلا تھا باہر چھاجوں چھاج مینہ برس رہا تھا۔
ڈنر کے بعد وہ اس کے ساتھ بیٹھا دوبار کافی پی چکا تھا‘ اس کی کوشش تھی اس کے جانے سے پہلے وہ لوگ گھر آجائیں لیکن ایسا نہیں ہوا تھا وقت گزرنے کے ساتھ موسم بھی بگڑتا جارہا تھا۔ تایا جان کی کال دوبارہ بھی آئی تھی اس کا واضح مقصد یہی تھا کہ ان کی واپسی ابھی تک نہیں ہوئی ہے پھر اس سے رابطہ نہ کرنے کا مطلب بھی یہی تھا۔ وہ اس حد تک اعتماد کرتے ہیں کہ وہ ان کی کال سن کر فوراً ہی گھر چلا گیا ہوگا اور یہی خیال کرتے ہی وہ نادم سا کھڑا ہوا۔ بہت تیز بارش تھی باہر ہر سمت دھواں دھواں پھیلا ہوا لگ رہا تھا‘ گرج و چمک شدت سے جاری تھی۔

لگتا تھا بارش آج کے بعد پھر کبھی نہ برسے گی‘ بادلوں کی گرج سے ایسی کہ محسوس ہورہا تھا ہزاروں ہاتھی غصے سے چنگھاڑ رہے ہوں اور کڑکڑاتی بجلیوں تڑتڑاہٹوں سے اس کا دل پسلیوں سے باہر نکلنے کو بے تاب ہورہا تھا۔ ماموں‘ ممانی اور امی کو گھر سے گئے زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ سارے دن سے ہلکے ہلکے ابر آلود بادلوں نے ایک دم ہی سیاہ چولا پہنا اور بارش ہونے لگی تھی۔ بارش اس کو بے حد پسند تھی لیکن اس گرج چمک سے اس کی ہمیشہ جان جاتی تھی اور وہ بارش کو بھول کر کمرے میں بند ہوکر بیٹھ جاتی تھی۔ اب گھر میں وہ تنہا تھی‘ فون ڈیڈ پڑا تھا اور موسم کی جولانیاں کسی ظالم کے ظلم کی مانند بڑھتی جارہی تھیں‘ کچن کے کام سے فارغ ہوکر اس نے نماز عشاء ادا کی تھی۔ ان لوگوں کے جلدی سے گھر آنے اور گرج چمک کے ختم ہونے کی دعا کی تھی۔ آج بوا بھی ان کے ساتھ گئی تھیں ورنہ عموماً وہ اسے تنہا نہیں چھوڑتی تھیں‘ صابرہ خالہ سے ان کی بھی بے حد دوستی تھی۔
وہ نوٹس بنانے بیٹھ گئی تھی لیکن دل تنہائی کے خوف سے بیٹھا جارہا تھا‘ اس کی نگاہیں بار بار دروازے کی طرف اٹھ رہی تھیں۔ یہ لائونج کا واحد دروازہ تھا جو کھلا ہوا تھا باقی وہ سب بند کرکے پردے ڈال چکی تھی۔ وقت گزرتا رہا نہ موسم کے تیوروں میں کوئی نرمی آئی نہ گھر والے آئے اور رہی سہی کسر لائٹ کے جانے سے پوری ہوگئی تھی ہر سو گھپ اندھیرا پھیل گیا مارے خوف کے قلم اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا وہ اپنی جگہ پر سمٹ گئی۔ لائونج میں لگا بھوت و چڑیلیں ایک دم ہی حملہ آور ہوگئی ہوں اور اپنے گندے ناخنوں و سرخ منہ کھولے اس کی طرف بڑھ رہے ہوں‘ خوف سے وہ پسینے پسینے ہوگئی تھی۔
ماموں ممانی ممی وہ چیختی ہوئی اٹھ کر ان کو آوازیں لگاتی ہوئی بھاگی تھی اور اندھیرے میں کسی چیز سے ٹکرا کر گری تھی پھر اس میں اٹھنے کی تاب ہی نہ رہی تھی۔

بالی نے روشن کو اس کے ایکسیڈنٹ کی اطلاع دی تھی اور اس کا فوراً ہی فون آگیا تھا۔ وہ رو رہی تھی‘ بے حد پریشان و متفکر ہورہی تھی‘ جہاں آرأ نے مخصوص انداز میں تسلی دی تھی پھر انشراح نے بھی ہر ممکن اپنے لہجے سے کمزوری اور تکلیف ظاہر نہیں ہونے دی تھی مگر اس کو کسی پل چین نہیں آرہا تھا۔
اماں اس کو آپ میرے پاس بھیج دیں‘ آپ کیئر نہیں کر پارہی۔ میں خود اس کی دیکھ بھال اچھی طرح کرسکتی ہوں۔ اماں کے کٹھور لہجے نے روشن کو جھنجھلا کر کہنے پر مجبور کردیا تھا۔
ہمت ہے تو بلوالو لیکن اپنے میاں سے پہلے پوچھ لینا وہ ایک غیر محرم لڑکی کو کتنا عرصہ اپنے گھر میں برداشت کرسکتا ہے؟ ان کا لہجہ سو فیصد استہزائیہ و چبھتا ہوا تھا‘ دوسری طرف خاموشی رہی۔
ہاں ہاں بولو سانپ کیوں سونگھ گیا تمہیں؟
اماں تم بھی آجائو نہ ساتھ‘ یہاں کوئی نہیں ہے ہمارا۔
نہیں بھئی مجھے غیروں کے دیس میں سکون نہیں ملتا میں مر کر اس مٹی میں دفن ہونا چاہتی ہوں۔ خیر ان باتوں کو چھوڑ اور میری بات سن ذرا دھیان سے سنو ان کا لہجہ پل بھر میں بدلا تھا۔ بالی اور انشراح کو باتوں میں مگن دیکھ کر وہ ٹہلتی ہوئی گیلری میں آگئیں۔
کوئی خاص بات ہے اماں؟
ہاں‘ خاص ہی ہے۔ جن لڑکوں کی گاڑی سے انشی کا ایکسڈنٹ ہوا ہے‘ وہ بڑے ہی دولت مند لوگ ہیں۔ وہ اپنی غلطی پر شرمندہ ہیں اور ازالے کے لیے پیسہ پانی کی طرح بہا رہے ہیں۔
دولت گئی ان کی جہنم میں‘ آپ پولیس میں رپورٹ کرانے کے بجائے ان کی دولت سے مرعوب ہورہی ہیں‘ حیرت ہے اماں۔ اس کے انداز میں گہرا رنج و تاسف نمایاں تھا۔
لو چھوٹے میاں تو چھوٹے میاں‘ بڑے میاں بھی سبحان اللہ وہ مشتعل ہوئیں۔
دولت کی آپ کو بھی کمی نہیں ہے پھر آپ کیوں دوسروں کی دولت کے گن گارہی ہیں؟ میں کہتی ہوں ابھی وقت نہیں گزرا آپ ان کا پیسہ ان کے منہ پر مار کر ان کو ان کے کیے کی سزا دلوائیں۔
ارے بس بیٹھی رہو۔ آئی بڑی مجھے مشورہ دینے والی‘ وہ لوگ کوئی ایسے ویسے نہیں ہیں۔ چہرے سے ہی کسی بڑے اونچے خاندان کے فرد لگ رہے ہیں بلکہ ان میں سے ایک تو بڑا ہی مغرور و بددماغ لگتا ہے مجال ہے کبھی ایک بار ہی سیدھے منہ بات کی ہو۔ اصل میں پیسہ سارا اس کے ہاتھ میں ہی ہے وہ ہی سارے بل وغیرہ بھرتا ہے‘ دوسرا تو باتیں بنانے میں ماہر ہے۔
تم کیا چاہتی ہو اماں؟ وہ اکتا کر گویا ہوئیں۔
انشی کو سمجھائو تم‘ وہ تمہاری بات مانتی ہے۔ آج بھی وہ اس لڑکے سے لڑی ہے جس کے ہاتھ میں پیسہ ہے نوفل نام ہے اس کا۔
انشی نے بالکل ٹھیک کیا ایسے لوگوں کے ساتھ یہی رویہ اختیار کرنا چاہیے جو سڑک کو اپنی جاگیر سمجھ کر گاڑیاں دوڑاتے ہیں۔
دھت تیرے کی تم اس کو کیا سمجھائو گی پہلے اپنے اندر سمجھ داری پیدا کرو۔ بالوں میں چاندی اتر آئی ہے مگر عقل بچکانہ ہی ہے۔ ان کا انداز ایسا تھا کہ روشن ان کے سامنے ہوتی تو گدی سے پکڑ کر دو تھپڑ لگاتیں‘ اب دانت پیس کر رہ گئی تھیں۔
اچھا‘ اب انشی کے الٹے سیدھے کان بھرنے کی ضرورت نہیں ہے ایک وہ پہلے ہی کیا کم بگڑی ہوئی ہے۔
اماں آپ کو بھی کسی کی دولت سے مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی ان سے آپ کوئی بل پے کروائیں گی‘ میں کل ہی آپ کے اکائونٹ میں خطیر رقم ٹرانسفر کروا دوں گی۔ روشن کے لہجے میں خود داری و انا موجود تھی۔
ارے بس اپنا پیسہ اپنے پاس رکھو‘ آئی بڑی پیسے والی۔ بات نہ بنتے دیکھ کر ان کو غصہ عود کر آیا تھا۔
ان سے پیسہ لینا ہمارا حق ہے انہوں نے میری بچی کو زخمی کیا ہے۔

گہری تاریکی نے اس کا گھر میں استقبال کیا تھا اس گرجتے برستے ماحول میں گھر اندھیرے میں ڈوبا کسی بھوت بنگلے کا منظر پیش کررہا تھا۔ وہ کار پورچ میں کھڑی کرکے بارش سے بچتا بچاتا اندر داخل ہوا تھا‘ وہ اسے کہیں دکھائی نہ دی۔ کہاں چلی گئی؟ کچن‘ گیلری‘ روم غرض ہر جگہ وہ اسے دیکھ آیا تھا۔ اس کے فون سیل میں بیٹری بھی لو ہوگئی تھی‘ اس کے قدم لائونج کی طرف اٹھنے لگے تھے اور وہاں قدم رکھتے ہی بجلی بہت زور سے چمکی تھی اس کی روشنی سے پورا لائونج روشن ہوکر رہ گیا اور اس روشنی نے ایسا منظر پیش کیا تھا کہ وہ لمحے بھر کو حیرانی سے ساکت ہوکر رہ گیا تھا۔ وہ دیوار سے لگی گھٹنوں میں منہ چھپائے بیٹھی تھی‘ دونوں ہاتھ سختی سے کانوں پر رکھے ہوئے تھے۔ اس کا وجود برگ نازک کی مانند کانپ رہا تھا‘ شاید وہ رو رہی تھی۔ پوری شدت کے ساتھ ہچکیوں سے پورا وجود لرز رہا تھا۔
سودہ گھر پر تنہا ہے‘ موسم ایک دم ہی بگڑ گیا ہے وہ بجلی کڑکنے سے بے حد ڈرتی ہے۔ تم فوراً گھر چلے جائو۔ تایا کے الفاظ اس کی سماعتوں میں گونجنے لگے تھے۔ وہ ان کو انکار نہ کرسکا تھا مگر دل میں چھپی نفرت و لاتعلقی کے باعث فوراً گھر آنے کے بجائے خوب وقت گزار کر آیا تھا اور یہاں اس کی حالت دیکھ کر اس کے اندر کا انسان دل کھول کر شرمندہ ہوا تھا جب ضمیر زندہ ہو تو غلطیوں کا محاسبہ کرنے پر وقت ضائع نہیں کرتا‘ وہ ششدر کھڑا تھا۔
کوئی اس شدت سے اس موسم سے خوف زدہ ہوسکتا ہے یہ اس کے وہم وگمان میں نہ تھا‘ مائدہ بھی اس کی ہم عمر تھی لیکن وہ کبھی بھی ایسے موسم میں ڈری نہ تھی۔ تایا کی جلد گھر پہنچنے کی تاکید و فکر مندی سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کرنے کے لیے ڈرامہ بازی لگ رہی تھی سودہ کی مگر اب اسے اس حال میں دیکھ کر وہ اپنی سوچ پر شرمندہ تھا۔ بجلی کی چمک ختم ہوئی تو پھر ہر سو اندھیرا تھا اور باہر سی آتی طوفانی بارش کی خوف ناک آوازیں تھیں۔
سو دہ نامعلوم کتنے عرصے بعد یہ نام اس کے ہونٹوں پر آیا تھا۔ ایک تو اس نے پکارا دھیمے سے تھا‘ دوسرا بارش کا بے ہنگم شور اور وہ کانوں پر سختی سے ہاتھ رکھے منہ گھٹنوں میں چھپائے بیٹھی تھی۔
سودہ وہ اس کے قریب گھٹنوں کے بل بیٹھتا ہوا بولا لیکن جواب ندارد وہ کسی مجسمے کی مانند اسی انداز میں بیٹھی رہی۔
سودہ واٹس اپ؟ اس نے اس کے سر پر دھیرے سے ہاتھ رکھا۔ اس نے میکانکی انداز میں سر اٹھایا تھا وہ اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔
کیا ہوا اس طرح کیوں بیٹھی ہو یہاں پر؟ بے حد نرم لہجہ تھا اس کی غزال آنکھوں میں عجیب خوف تھا۔ چہرہ آنسوئوں سے بھیگا ہوا تھا‘ زید نے موبائل کی ٹارچ آن کی‘ بھیگا چہرہ جس پر آنسوئوں کی رم جھم ابھی بھی رواں تھی۔ سرخ ناک‘ بھیگی پلکوں والی بھیگی آنکھیں خوف و دہشت سے سہمی ہوئی تھیں۔ پہلی بار اس کو بے حد قریب سے دیکھا تھا اور وہ بہت اجنبی لگی تھی ایسے ہی گویا صحرا میں کوئی پُراسرار سا سنہری جھرنا گررہا ہو۔ دل بہت ناآشنا احساسات سے دوچار ہوا تھا۔
سودہ اس کے احساسات سے بے خبر بے ساختہ چہرہ ہاتھ میں چھپا کر رونے لگی تھی‘ گزرے چند گھنٹے اس کی ساری زندگی پر بھاری تھے۔
حد ہوتی ہے نالائقی کی بھی‘ بارش سے بھی کوئی ڈرا جاتا ہے۔ وہ کھڑا ہوتا ہوا نرم لہجے میں کہہ رہا تھا۔
ہری اپ‘ کینڈلز جلائو‘ کھانا نہیں لگانا میں کھا کر آیا ہوں۔ وہ جاتے جاتے گویا ہوا۔
کافی لاتی ہوں آپ کے لیے۔ جس کی موجودگی اسے ہمیشہ خائف رکھتی تھی۔ اب وہ ہی ڈھارس کا باعث تھا پھر اس کا رویہ بھی بہتر تھا۔
نہیں‘ وہ بھی پی کر آیا ہوں‘ کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ کہہ کر وہاں سے چلا گیا تھا‘ سودہ نے جلدی جلدی سائیڈ کارنر سے کینڈل اسٹینڈ اٹھایا تھا جس میں موم بتیاں پہلے سے لگی ہوئی تھیں۔ قریب ہی لائٹر بھی موجود تھا یہ سب بوا کی سلیقہ مندی تھی۔ موسم کے خیال سے وہ انتظام کرکے گئی تھیں کیونکہ یہاں لائٹ ایسے موسم میں ہی فیل ہوتی تھی عام دنوں میں لوڈشیڈنگ کا تصور بھی نہ تھا۔ اس وجہ سے یہاں یو پی ایس اور جنریٹر کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی۔
پھوپو اور تائی جارہی تھیں تو بوا کو جانے کی کیا ضرورت تھی؟ ان کو تو یہاں رکنا چاہیے تھا‘ بعض دفعہ بہت ہی چیپ فیصلے ہوتے ہیں گھر میں۔ کچھ دیر بعد وہ کمبل‘ تکیہ اور کوئی ناول اٹھائے وہاں آکر گویا ہوا۔
وہ خاموش رہی‘ کیا جواب دیتی‘ تھوڑی دیر قبل جو لہجے میں نرمی تھی وہ غائب ہوچکی تھی لہجے میں غصہ و جھنجھلاہٹ نمایاں تھا۔
مسلسل بارش ہورہی ہے وہ لوگ اب صبح ہی آئیں گے رات زیادہ ہوگئی ہے تم اپنے روم میں جائو میں لائونج میں ہوں۔ وہ درمیانی صوفے پر تکیہ سیٹ کرکے بیٹھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ سودہ کی جان پر بن آئی تھی تنہا کمرے میں جانے کا تصور بھی ہولناک تھا۔
کیا ہوا جاتی کیوں نہیں؟ کینڈل کی روشنی کمرے کے اندھیرے کے مقابل کمزور ثابت ہورہی تھی دھیمی سی روشنی میں نیم اندھیرا کسی ماورائی دنیا کا منظر پیش کررہا تھا اور اس ملگجے اندھیرے میں کھڑی وہ کوئی بھٹکی روح لگ رہی تھی‘ زید نے نگاہیں چرا کر خشک لہجے میں کہا۔
وہ مجھے ڈر
شٹ اپ دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا‘ یہ ڈر کیا ہوتا ہے؟ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے؟ زید کی موجودگی اسے تحفظ کا احساس دے رہی تھی۔ اس کے ساتھ یہاں رات بھر رہنا تو گوارا تھا۔
میں یہاں ہوں‘ اپنے روم میں نہیں جارہا۔ تم اب گھر میں تنہا نہیں ہو‘ اپنے روم میں چلی جائو۔ ڈر‘ خوف یہ صرف ہمارے اندر ہوتے ہیں‘ حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں۔ اس نے نرم لہجے میں سمجھایا وہ وہاں سے چلی آئی تھی پھر نامعلوم اس کے سمجھانے کا اثر ہوا تھا یا کئی گھنٹے خوف ودہشت سے نڈھال اعصاب آرام پاتے ہی اردگرد سے بے خبر ہوگئے تھے۔

رات برسنے والی طوفانی بارش نے جہاں پیڑ و پودوں کو دھوکر نکھار دیا تھا‘ وہیں کئی کمزور و پرانے درختوں اور پودوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا۔ نوفل کلاس کے بعد باہر لان کی بنچ پر بیٹھ گیا تھا۔ کل سے اس کی طبیعت میں اضطراب و بے چینی حد درجہ پھیل گئی تھی۔ وجہ انشراح کی سرد وترش باتیں نہیں تھیں کہ وہ اس کے مزاج سے واقف تھا اور جانتا تھا وہ جب بھی اس کے روبرو ہوگی اسی بدتمیز وبدلحاظی سے پیش آئے گی اسی سبب وہ ماما کی خواہش کے باوجود ان کو نہیں لایا تھا‘ وہ اس کی کسی بات کو معمولی سی بھی اہمیت دینے کا قائل نہیں تھا۔ اس کے اضطراب و سوچوں کا محور لاریب کی ذات تھی وہ اس کی آزاد خیالی اور رنگین مزاجی سے بخوبی واقف تھا‘ لڑکیاں اس کی کمزوری تھیں۔
اس معاملے میں وہ کسی سے بھی کمپرومائز کرنے کو تیار نہ تھا‘ پہلے دن ہسپتال میں اس نے اسے سختی سے وہاں کا دوبارہ رخ کرنے کو منع کردیا تھا اور خود مطمئن ہوگیا تھا کہ جانتا تھا وہ اس کی بات کبھی بھی رد نہیں کرتا تھا۔ گھر کے تمام افراد میں وہ اس کے زیادہ قریب تھا‘ وہ ہر بات اس سے شیئر کرتا تھا لیکن کل اس کو وہاں دیکھ کر اسے سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ اس کی وعدہ خلافی کی وجہ بیڈ پر سوتی انشراح تھی کیونکہ اس سے مختصر سی گفتگو کے دوران گاہے بگاہے بے ساختہ اس کی نگاہیں انشراح کے چہرے پر ٹھہر ٹھہر جارہی تھیں۔ وہ شکاری تھا اور اس کی آنکھوں میں وہ ہی چمک تھی جو کئی معصوم لڑکیوں کی زندگی ویران کرچکی تھی وہ یہ سوچ کر پریشان ہورہا تھا کہ کس طرح انشراح کی حفاطت کی جائے؟ وہ لاکھ ناپسند سہی مگر اس کی حمیت اجازت نہیں دیتی تھی کہ کوئی لڑکی اس کے سامنے برباد ہوجائے۔ لاریب کی غلط بیانی اور وعدہ خلافی اس امر کی گواہ تھی کہ وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے گا۔ وہ اس کھیل کا ماہر کھلاڑی بن چکا تھا‘ بابر جو کیفے سے کافی لینے گیا تھا۔ وہ دور سے دیکھتا آرہا تھا نوفل کسی گہری سوچ میں گم ہے قریب آکر گویا ہوا۔
کیا پرابلم ہے؟ دور سے دیکھتا آرہا ہوں کسی گہری سوچ میں اس طرح گم ہو کہ اردگرد کا ہوش ہی نہیں۔ وہ کافی کا مگ دیتا ہوا بولا۔
کچھ خاص نہیں۔ اس نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے بھاپ اڑاتی کافی کا سپ لیا۔
اُف اتنی گرم کافی پی رہے ہو؟ وہ متعجب ہوا۔
میرے اندر بھڑتی آگ سے زیادہ گرم کچھ بھی نہیں ہے۔ اس نے سوچا۔
انشراح کی باتوں سے ڈسٹرب ہوئے ہو شاید تم۔
مائی فٹ! ایسے لوگوں کی اور ان کی باتوں کی کوئی امپورٹنس نہیں ہوتی۔ وہ استہزائیہ انداز میں گویا ہوا۔
پھر کوئی تو بات ہے جس سے تم ڈسٹرب ہوئے ہو‘ کوئی ایسی بات ہے کیا‘ جو مجھ سے بھی شیئر نہیں کی جاسکتی؟ وہ اس کے وجیہہ چہرے کی طرف دیکھتا ہوا سنجیدگی سے استفسار کرنے لگا۔
ہاں‘ ہوتی ہیں کچھ باتیں ایسی جو آدمی کو اپنی پرچھائیں سے بھی چھپانی پڑتی ہیں بلاشبہ تم میرے بہت بہترین و قابل فخر دوست ہو لیکن میں تمہیں لاریب کے بارے میں نہیں بتاسکتا۔ یہاں میرے خاندان اور اس کی عزت کا سوال ہے‘ اس کی کہانیاں ہم ایک دوسرے سے چھپاتے ہیں۔ میں تمہیں کیسے بتاسکتا ہوں‘ عزت ایک بار نیلام ہوجائے تو پھر کسی قیمت پر دوبارہ خریدی نہیں جاسکتی ہے۔ زندگی‘ موت‘ عزت ایک بار ہی ملتی ہے۔
نوفل تم ٹھیک تو ہونا؟ اس کی طویل خاموشی پر وہ گڑبڑا کر بولا۔
ہوں ہاں ایم رائٹ۔ اس نے مگ ہونٹوں سے لگالیا۔
بہت عجیب ہو یار پریشان بھی ہو اور گریز بھی کررہے ہو۔
پریشانیاں باٹنے سے بڑھتی ہیں میں یہ باٹنے کا قائل نہیں ہوں۔
میں نے سنا تھا دکھ باٹنے سے کم ہوتے ہیں اور خوشیاں بٹنے سے بڑھتی ہیں۔
پریکٹیکل لائف میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا غم والوں کے غم‘ غم ہی رہتے ہیں اور خوشیوں والوں کی خوشیاں ان کی اپنی ہوتی ہیں۔ ان کی بحث کا دورانیہ عاکفہ کے وہاں آنے سے کم ہوگیا تھا۔
نوفل بھائی آپ سے ایک بات کرنی ہے کیا آپ فری ہیں؟ عاکفہ نے وہاں آکر آہستگی سے دریافت کیا۔
ارے ابھی تک آپ کو یہ بات معلوم نہیں ہوئی؟
جی کون سی بات؟
نوفل صاحب کسی لڑکی سے فری نہیں ہوتے ہیں کبھی بھی۔
لیکن میں صرف لڑکی ہی نہیں ان کی بہن بھی ہوں اور بہنیں ہمیشہ بھائیوں سے فری ہوا کرتی ہیں یہ میرا حق ہے کیوں نوفل بھائی؟ عاکفہ کے لہجے میں سادگی کے ساتھ بے حد اعتماد و بھروسہ تھا۔
شیور کیا بات کرنا چاہتی ہیں آپ؟ اسے عاکفہ کا انداز بھایا تھا۔
انشراح ہسپتال سے ڈسچارج ہونا چاہتی ہے وہ تنگ آگئی ہے وہاں۔
ان کی نانو کا لانگ ٹائم اسٹے کرنے کا ارادہ ہے ڈاکٹرز ان کو ڈسچارج کرنے پر ایگری ہیں لیکن وہ وہاں سے جانا نہیں چاہتیں۔
یار ان کی نانی‘ نانی نہیں لگتیں بہت عجیب خاتون ہیں وہ۔
پھر اب کیا کریں؟ عاکفہ نے دونوں کی طرف دیکھا۔
آپ اپنی دوست کو کہیں وہ اپنی نانو کو کہیں اگر وہ ایگری ہوں گی تو کل ہی ڈاکٹر ڈسچارج کردیں گے۔ نوفل نے جواب میں کہا۔

ساری رات بارش برستی رہی تھی‘ نیند روٹھ گئی تھی ناول میں بھی دل نہیں لگا۔ ایک بے نام بے چینی تھی جو اس کے پور پور میں اترتی چلی جارہی تھی۔
یہ کیا ہوا ہے مجھے؟ یہ سب کیوں کررہا ہوں‘ اپنا روم چھوڑ کر یہاں پر کیوں پڑا بے آرام ہورہا ہوں؟ اس لڑکی کے لیے جس کی میری نگاہوں میں ذرا بھر وقعت نہیں میرے اپنے لوگوں میں جس کا نام ہی نہیں۔ اس نے بڑبڑاتے ہوئے کروٹ بدلی تھی۔
تایا جان کے حکم پر لیکن ان کا حکم یہی تھا میں گھر آجائوں‘ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا میں یہاں بیٹھ کر اس کا خیال رکھوں اسے ڈر سے بچائوں‘ اس کو ڈر سے بچانے کے لیے یہاں بیٹھ کر اپنا آرام برباد کروں۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا دونوں ہاتھوں سے سر تھامے سوچ رہا تھا۔ صبح تک وہ اس لڑکی کی پرچھائیں سے بھی گریزاں تھا۔ اب اس کی خاطر بنجارہ بنا بیٹھا تھا پھر نامعلوم کس پہر نیند نے اس کو اپنی آغوش میں بھرلیا تھا۔
عمرانہ جو رات تک واپسی کا کہہ کر گئی تھیں وہ صبح اچانک ہی آگئی تھیں اور لائونج میں صوفے پر بے خبر سوتے ہوئے زید کو دیکھ کر وہ پریشان ہوگئیں۔
پورے گھر میں سناٹا چھایا ہوا تھا وگرنہ اس وقت ناشتے کی گہما گہمی پھیلی ہوتی تھی۔ انہوں نے آگے بڑھ کر اس کی پیشانی چھوئی تو وہ چونک کر بیدار ہوگیا تھا۔
آپ یہاں کیوں سورہے ہیں؟ کیا ہوا میری جان‘ ایسا کیا ہوا ہے آپ تو کبھی بھی اپنے روم کے علاوہ کہیں نہیں سوتے
آپ بیٹھیں تو سہی مما۔ ان کی خلاف توقع آمد نے اسے ٹینس کردیا تھا۔
آپ کے یہاں سونے کی وجہ کیا ہے گھر کے سب لوگ کہاں ہیں؟
مما گھر میں کوئی بھی نہیں ہے صرف بھائی کے علاوہ سودہ ہے وہ بھی بخار میں بے ہوش ہے۔ مائدہ نے آکر پریشان لہجے میں بتایا۔
کیا ساری رات وہ لڑکی اور زید گھر میں تنہا رہے ہیں؟

(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
error: Content is protected !!
Close