Aanchal Feb 2019

تیری زلف کے سر ہونے تک(قسط ۲۹)

اقراٰصغیر احمد

احوال غم ذات سنانے سے رہا میں
اب خود کو تماشا بنانے سے رہا میں
ہر بار میں تذلیل انا کر نہیں سکتا
ہر بار اسے جا کے منانے سے رہا میں

(گزشہ قسط کا خلاصہ)

عمرانہ پُر طیش انداز میں چائے کا مگ سودہ کے منہ پر دے مارتی ہیں، ایسے میں زید اپنا ہاتھ آگے کرکے اسے بچا لیتا ہے لیکن عمرانہ اس بات پر مزید بگڑ جاتی ہیں۔ مائدہ انہیں سمجھانے کی کوشش کرتی ہے تو وہ اسے بھی چھڑک دیتی ہیں کیونکہ مائدہ کی دھمکی پر ہی وہ سودہ کی زید سے شادی پر آمادہ ہوئی تھیں۔ زید مائدہ کی خود کشی کے متعلق جان کر شاکڈ رہ جاتا ہے۔ اسے اپنے نکاح کے اصل حقائق تک پہنچنے کے لیے مائدہ کی مدد لینی پڑتی ہے اور مائدہ بھی بھائی کے سامنے تمام غلطیوں کا اعتراف کرتی جنید کے لیے اپنی پسندیدگی اور جنید کے بے قصور ہونے کا بتاتے تمام سچائی زید کے گوش گزار کردیتی ہے۔ زید یہ سب جان کر بے یقین نظر آتا ہے۔ وہ جنید سے مل کر اپنے سابقہ رویے کی معذرت کرتے مائدہ کے تمام حقیقت بتا دینے کا کہتا ہے تو جنید بھی مسکرا دیتا ہے۔ عروہ زید کے آفس پہنچ کر اسے خوب باتیں سناتی ہے اور سودہ کی زندگی برباد کردینے کی دھمکیاں بھی دیتی ہے۔ حمرہ اور یوسف کے درمیان جھگڑا زور پکڑ جاتا ہے۔ حمرہ ان کی غلطیوں کو بھولنے پر آمادہ نہیں ہوتیں، ایسے میں زرقا بھی اسے سمجھانے کی کوشش کرتی ہیں لیکن وہ یوسف صاحب سے دلبرداشتہ ہوجاتی ہے۔ جہاں آرأ خوف کے مارے ذہنی توازن برقرار نہیں رکھ پاتیں اور گھر سے باہر نکل جاتی ہیں۔ ایسے میں لاریب انہیں دیکھ کر انشراح کو کڈنیپ کرنے کا پلان بناتا ہے۔ بالی اور انشراح جہاں آرأ کو ہر جگہ تلاش کرنے میں ناکام ٹھہرتی ہیں۔ اس دوران یوسف صاحب سے ان کی ملاقات ہوتی ہے۔ انشراح انہیں پہچان جاتی ہے اور مدد لینے سے انکار کردیتی ہے۔ نوفل کو جب اس بات کا علم ہوتا ہے وہ انشراح کی مدد کے لیے گھر آتا ہے لیکن وہ نہایت بدتمیزی سے پیش آتی اسے صاف انکار کردیتی ہے۔ اچانک لاریب انشراح کو جہاں آرأ کے اغوأ ہونے کی بات بتاکر اسے اپنے ساتھ چلنے کا کہتا ہے۔ انشراح بنا کچھ سوچے سمجھے لاریب کے ساتھ اس کی گاڑی میں بیٹھ جاتی ہے۔

(اب آگے پڑھیے)

انشراح پر ایسی بدحواسی و تفکر سوار ہوا تھا کہ دل نہ چاہنے کے باوجود وہ لاریب اور ڈرائیور کے ساتھ نانی کی موجودگی کا سن کر چلی آئی تھی۔ اس نے بظاہر چہرے پر بڑی مظلومیت و ہمدردی کے تاثرات سجالیے تھے۔ وہ اس طرح سر جھکائے شریف انداز میں بیٹھا تھا گویا اس سے بڑا اس کا کوئی غمگسار و خیال کرنے والا نہ ہو۔ انشراح پر پوری طرح سے اپنے اعتماد و بھروسے کی دھاک بٹھانے کے لیے وہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا، مچھلی بہت آسانی سے اس کے جال میں پھنس گئی تھی۔ اب اصل کامیابی اس کو گرفت میں رکھنا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی کمزور لمحہ اس طرح آئے کہ شکار ہاتھوں سے پھسل جائے۔ پیچھے بیٹھی انشراح اس کی مکارانہ چالبازی و مکرو فریب سے بے خبر بے حد مضطرب بیٹھی تھی۔ ایک ایک پل اس پر بھاری گزر رہا تھا۔ نانی کے ساتھ گزرا وقت کسی سہانے خواب کی مانند ذہن میں ابھرنے لگا تھا۔
اس نے شعور کی منزل پر پہلا قدم رکھتے ہی جن دو ہستیوں کو اپنے قریب پایا تھا وہ بالی اور نانی کے اپنائیت بھرے وجود تھے۔ بالی عمر میں اس سے لگ بھگ تیرا، چودہ سال بڑی ہوگی اور نانی تو خاصی عمر رسیدہ ہونے کے باوجود خود کو اتنا بنا سنوار کر رکھنے کی عادی تھی کہ حقیقتاً وہ نانی کی جگہ اس کی ماں لگا کرتی تھیں اور وہ اس سے محبت بھی ماں کی طرح کرتی تھی، خیال بھی ماں کی طرح ہی رکھتی، دل و جان وہ اس پر وارتیں، لوگوں کے لیے وہ ناپسندیدہ ہستی ضرور ہوں گی… مگر اس کے لیے گوشۂ عافیت و گوشۂ محبت تھیں۔
’’ارے… ارے آپ رو رہی ہیں؟‘‘ نانی کی یاد کسک بن کر اس کی آنکھوں سے کچھ ایسے بہہ نکلی کہ اس کو معلوم ہی نہ ہوسکا۔ اس کے آنسو لاریب سے نہ چھپ سکے تھے۔
’’میں نے کہا ناں آپ بالکل بھی پریشان ہوں، آنٹی بالکل محفوظ لوگوں میں موجود ہیں۔ وہاں ان کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کرسکتا‘ پلیز روئیں نہیں مجھ سے کسی لیڈی کے آنسو برداشت نہیں ہوتے۔‘‘ وہ جلدی سے ڈیش بورڈ پر رکھے ٹشو بوکس سے کئی ٹشو نکال کر اس کی طرف بڑھاتا ہوا التجائیہ انداز میں گویا ہوا۔
’’ہمیں کتنی دیر لگے گی نانی کے پاس پہنچنے میں؟‘‘ وہ پرس سے رومال نکال کر اس کے ہاتھ میں دبے ٹشوز کو نظر انداز کرتی گویا ہوئی۔
’’چار سے پانچ گھنٹے کا سفر ہے تقریباً۔‘‘ ایسے موقع پر بھی جب وہ اس پر احسان کررہا تھا، خود کا اس طرح سے نظر انداز کیا جانا اسے سخت کھولا گیا تھا مگر اس وقت صبر و استقلال کے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا، پھر وہ خود کو یہ تسلی دے کر مسکرانے لگا کہ محض چند گھنٹوں کی بات ہے۔ وہ اس مغرور حسینہ سے گن گن کر سود سمیت بدلے لینے والا تھا۔
’’نانی ٹھیک تو تھی ناں… انہوں نے کچھ کھایا پیا؟‘‘
’’وہ بالکل ٹھیک ہیں، کھانا وغیرہ سب ان کو ٹائم سے دیا جارہا ہے۔‘‘
’’جن لوگوں نے ان کو کڈنیپ کیا، کون لوگ تھے وہ اور کڈنیپ کرنے کی وجوہات کیا ہوں گی… آپ نے معلوم کیا تھا ان لوگوں سے؟‘‘
’’انکوائری کرنے کا ان لوگوں نے موقع ہی کب دیا تھا، مجھے اور میرے دوستوں کو دیکھ کر وہ لوگ آنٹی کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔ میں نے آنٹی سے بہت کوشش کی کہ معلوم کرسکوں وہ کون لوگ تھے اور کس مقصد کے تحت کڈنیپ کیا تھا، پر افسوس وہ کوئی جواب ہی نہ دے پائی تھیں۔ وہ صرف دو لوگوں کا نام لے رہی ہیں، سراج اور برکھا کو…‘‘ انشراح ہونٹ بھینچ کر رہ گئی وہ کچھ توقف کے بعد وہ گویا ہوا۔
’’سراج اور برکھا کون ہیں… جن سے آنٹی خوف زدہ ہوگئی ہیں؟‘‘

اس پُر آشوب دور میں جہاں سگے رشتوں کے درمیان فاصلے و دوریاں اس تیزی سے بڑھ رہی ہیں کہ غم و خوشی میں کوئی کسی کا پرسان حال نہیں ہے‘ کنبے بڑھ رہے ہیں‘ خاندان وسیع ہورہے ہیں اور محبتیں گھٹ رہی ہیں۔ پیار، محبت، اپنائیت‘ خلوص اور مروت ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ ہماری اخلاقی اقدار تیزی سے زوال پذیری کا شکار ہیں۔ طویل خاندانی روابط اور رشتوں کی بھر مار نے ہم کو تنہائی، پریشانی کا شکار بنا ڈالا ہے۔ اس کی وجہ بہت معمولی ہے۔ پہلے ہر خاندان میں کچھ بزرگ سربراہ ہوا کرتے تھے جو شفقت، مروت اور خلوص کی مثال بنتے تھے تو کہیں ان کے کئی اصول بے لچک و اٹل ہوا کرتے تھے۔ ایک طرف ان کی شفقت و روا داری، اتحاد خاندان کو آپس میں مربوط رکھتا تو دوسری طرف بے راہ روی، بے حیائی و اخلاقی برائی کے قریب کوئی جانے کی بھی جرأت نہ کرتا تھا۔ بڑے چھوٹوں سے محبت و شفقت سے پیش آتے اور چھوٹے بھی بڑوں کی عزت و تکریم دل و جان سے کیا کرتے تھے‘ غرض پیار و خلوص کی مہک و مٹھاس خاندانوں کو جوڑے رکھتی تھی۔ کوئی تنہائی محسوس نہیں کرتا تھا‘ کوئی کشیدگی اور پریشانی سے پاگل نہ ہوتا تھا۔
اب وقت بدل گیا‘ اقدار بدل گئیں، پہلے لوگ ہاتھ کے چٹائی والے پنکھوں میں بھی پُر سکون نیند سو جایا کرتے تھے، اب ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں بھی سکون ناپید ہوتا ہے۔ پہلے گھر کے سربراہ دادی و دادا، ابا و اماں ہوا کرتے تھے… اب گھر کا ہر فرد سربراہ بنا پھرتا ہے جو صرف کہنے کے عادی ہیں، سنے کے نہیں۔ جو نہ بڑوں کی عزت کرتے ہیں نہ چھوٹوں سے شفقت و محبت سے پیش آتے ہیں، جن کو بڑی بڑی ڈگریوں کا زعم ہے‘ در حقیقت جہالت میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ ہمارے معاشرے کی خوب صورت و پُرکشش اقدار کو عدم برداشت و خود غرضی کی جونک لگ گئی جس نے تمام رشتوں و اخلاقیات کا توازن بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔
اس نفسانفسی کے دور میں بھی کچھ خاندان شان و شوکت و لازوال محبتوں اور چاہتوں کا تاج سر پر سجائے حکمرانی کررہے تھے‘ ان میں ایک خاندان منور و زمرد کا بھی تھا جنہوں نے تحمل و برداشت، بے غرض محبت و خدا ترسی کو شعار بناکر اس خاندان کو مضبوطی سے جوڑے رکھا تھا‘ جہاں آج کل کے طوطا چشم دور کی نمائندگی کرتی عمرانہ اور عدم برداشت و جلد بدگمان ہوجانے والی صوفیہ موجود تھیں اور آگ پر پانی کی جگہ پیٹرول ڈالتے تماشہ بین رشتے دار… لیکن زمرد اور منور کی یکجہتی و درگزر کی عادت نے اس خاندان کو کئی مشکل و کٹھن مراحل میں خوش اسلوبی سے اپنے مقام پر قائم رکھا ہوا تھا۔
اب بھی عمرانہ کی گوشہ نشینی ان کو کسی سنگین گڑبڑ کا احساس دلا رہی تھی۔ جس کا ذکر انہوں نے صوفیہ اور بنارسی بوا سے کیا تھا اور وہاں کچھ باتیں ایسی بھی ہوئی تھیں کہ ان کو اندر ہی اندر تفکرات نے آن گھیرا تھا وہ صوفیہ کے سمجھانے پر وہاں سے خاموشی سے اٹھ آئی تھیں مگر دل ہی دل میں ایک اضطراب نے گھر کرلیا تھا۔ پہلے انہوں نے منور سے بات چیت کرنے کا سوچا پھر خیال آیا وہ دل کے مریض ہیں دل اس حد تک کمزور ہوچکا تھا کہ وہ کوئی معمولی سی بات بھی برداشت کرنے کے اہل نہ رہے تھے۔ پھر عمرانہ کی نکاح پر حامی بھرنے والی فراخدلی پر وہ بھی حیرت و استعجاب کا شکار تھے ایسے میں عمرانہ کے رویے کا جان کر وہ قطعی طور پر سہہ نہیں پائیں گے، ان سے بھی صلح و مشورے کا خیال مسترد کرکے وہ تنہا ہی عمرانہ سے ملنے کی ٹھان چکی تھی اور موقع پاکر جب صوفیہ بوا کے ساتھ سودا سلف لینے کے لیے گئی تو وہ عمرانہ کے کمرے میں چلی آئیں۔
سلوٹ زدہ سوٹ، بکھرے بال و اداس چہرے والی وہ عمرانہ، عمرانہ نہ لگی۔
’’خیریت تو ہے نہ عمرانہ… یہ کیا حلیہ بنایا ہوا ہے؟‘‘ وہ اس کی اجڑی حالت دیکھ کر سراسیمہ سی اس کے قریب بیٹھ گئیں۔
’’میری حالت ہونہہ…‘‘ وہ سر جھٹک کر چند لمحے خاموشی کے بعد گویا ہوئیں۔
’’بھابی بیگم… جس کی جمع پونجی لمحوں میں لوٹ لی جائے، سرمایہ حیات پانی کی مانند بہہ جائے اس کی حالت میری جیسی ہی ہوگی۔‘‘
’’یہ کیسی مبہم باتیں کررہی ہو، زید اور سودہ کے نکاح کے بعد…‘‘
’’پلیز… پلیز بھابی‘ اس منحوس لڑکی کا نام میرے زید کے نام کے ساتھ نہ لیں، میرے بیٹے کا اس ڈائن سے کوئی تعلق نہیں ہے… وہ اس قابل نہیں ہے کہ میرے بیٹے کی پرچھائیں کے ساتھ بھی کھڑی ہوسکے۔‘‘ وہ ان کی بات کاٹ کر مشتعل لہجے میں گویا ہوئیں۔
’’یہ… کیا… کہہ رہی ہو تم؟‘‘ زمرد بھونچکا رہ گئیں۔
’’جو آپ نے سنا وہ ہی کہہ رہی ہوں، زید کے نکاح کو میں نہیں مانتی، اس جادو گرنی صوفیہ نے یہ سب جادو کے زور سے کروایا ہے۔ اس کی اور اس کی بیٹی کی گندی نظریں پہلے دن سے ہی میرے خوبرو و لائق بیٹھے پر تھیں وہ کیا سمجھ رہی ہیں میرا بیٹا ان کا ہوگیا‘ وہ جیت گئیں مجھ سے؟‘‘ زمرد کو عمرانہ کی خفگی کا اندازہ تو تھا مگر وہ اس حد تک بے حسی و بدلحاظی کا مظاہرہ کریں گی یہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا وہ سن ہوگئی تھیں۔
’’بڑی گھنی ہے صوفیہ، کس طرح اپنی نند اور اس کے بیٹے کو ساتھ ملا کر اس نے پوری پلاننگ کی اور دیکھا آپ نے کس طرح نکاح سے چند گھنٹے قبل پتہ چلا کہ وہ بھاگ گئے ہیں ہونہہ… میں نے ایسی کہانیاں بہت سنی ہیں ایسی کمینی عورتوں کے ڈراموں سے بخوبی واقف ہوں…‘‘
’’پھر تم نے یہ نکاح کیوں ہونے دیا؟ کیوں اس وقت نیکی کا پرچار کررہی تھیں؟‘‘ ان کو حالات کی سنگینی کا ادراک تیزی سے ہوا تو وہ ان کی بات کاٹ کر بولیں۔
’’میں نے کہا ناں اس وقت میں صوفیہ اور اس کی بیٹی کے جادو کے اثر میں تھی۔‘‘
’’چار دن میں اس جادو کا اثر زائل ہوگیا، کمرہ بند کرکے تم چلہ کاٹ رہی تھیں؟ حد ہوتی ہے ناپسندیدگی کی بھی عمرانہ اپنے ذہن سے فتور نکال دو یہ کوئی جادو وادو نہ تھا، اللہ کا فیصلہ تھا اس رشتے کو اسی طرح جڑنا تھا۔‘‘
’’نہیں ہرگز نہیں، اللہ سارے فیصلے آپ کے حق میں نہیں کرسکتا، میں بھی اللہ کو مانتی ہوں، صرف آپ لوگ ہی اللہ والے نہیں ہیں، ہر بار میرے ساتھ اللہ زیادتی نہیں کرسکتا۔‘‘ وہ بالوں کا جوڑا بناتے ہوئے بڑبڑانے لگی تھیں۔

’’زرقا… ایسا کیوں ہوتا ہے کچھ لوگ پہلی بار ملتے ہیں اور لگتا ہے ان سے پہلے بھی ملاقات ہوتی رہی ہو‘ پہلی اور سرسری سی ملاقات میں بھی نافہم سا ایک احساس چھوڑ جاتے ہیں۔‘‘ قیلولہ کی نیت سے لیٹے یوسف کو نیند نہ آئی تو وہ قریب دراز زرقا سے مخاطب ہوئے۔
’’کون مل گیا آپ کو‘ کس کی بات کررہے ہیں؟‘‘ وہ اپنی سوچوں سے نکل کر ان کی طرف متوجہ ہوئیں جن کی آنکھوں میں کوئی عکس جگمگا رہا تھا۔
’’میں نے بتایا تھا ناں کل رات دو لڑکیاں ملی تھیں جو اپنے کسی گمشدہ رشتہ دار کو تلاش کررہی تھیں۔ ان میں سے ایک لڑکی کا چہرہ نامعلوم کیوں مجھے بھولے نہیں بھول رہا ہے۔ بار بار خیال آتا ہے میں نے پہلے بھی اس کو کہیں دیکھا ہے۔ پر کہاں یہ یاد نہیں آرہا، ذہن پر بہت زور دینے کے باوجود بھی یاد نہیں آرہا۔‘‘ وہ الجھن زدہ لہجے میں کہتے ہوئے اٹھ بیٹھے۔
’’عموماً ایسا ہوجاتا ہے کئی اجنبی چہرے ہمیں دل سے بہت قریب اور نگاہوں کو خاصے شناسا محسوس ہوتے ہیں‘ محسوس یہی ہوتا ہے کہ ہم مل چکے ہیں مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا‘ آپ کیوں اس کو اتنا سیریس لے رہے ہیں۔‘‘ ان کے بیٹھنے پر زرقا بھی اٹھ بیٹھیں اور مسکرا کر گویا ہوئیں۔
’’میری اصل پریشانی یہی ہے کہ میں کیوں ایسا فیل کررہا ہوں؟ پہلی بار کوئی چہرہ میری نگاہوں سے نہیں گزرا‘ میرے سامنے نئے نئے چہرے‘ نئے نئے لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔ کوئی بھی مجھے اس طرح متاثر نہیں کرسکا، جس طرح وہ لڑکی میرے حواسوں پر سوار ہوگئی ہے۔‘‘
’’جب سے آپ پر یہ انکشاف ہوا ہے کہ آپ ایک بیٹی کے باپ ہیں تب سے میں دیکھ رہی ہوں آپ کا یہی حال ہے‘ آپ ہر لڑکی کے چہرے میں اپنی بیٹی کا چہرہ تلاشتے ہیں، اس صورت کو کھوجتے ہیں۔‘‘
’’ہاں… یہی جذبہ مجھے بے قرار رکھے ہوئے ہے، میں ہر لمحہ، ہر پل اس کو ہی سوچتا ہوں، کیسی ہوگی وہ؟ ماں کی طرح حسین، تیز و طرار و دلکش یا میری طرح غصہ ور اکڑو اور خر دماغ… یا بالکل ہی علیحدہ ہوگی ہم سے؟‘‘ وہ کھوئے ہوئے انداز میں جیسے کسی اور جہاں میں گم ہوگئے تھے۔
’’غصہ ور، اکڑو اور خر دماغ… یہ کسی اور ہی وقت کی کیفیات ہیں، یوسف جب آپ کی ایک ہی نگاہ مقابل کو لرزا دیا کرتی تھی۔ اب تو گزر گیا وہ وقت اب تو صرف گداز و ایثار و قربانی کا پیکر بن کر رہ گئے ہیں آپ، وقت بھی بڑے بڑے انقلاب برپا کردیتا ہے۔‘‘ وہ شوخی سے گویا ہوئیں۔
’’ہوں… وقت انسان کو اس کی اوقات یاد دلاتا ہے کہ میں سب کچھ ہوں تو کچھ نہیں ہے انسان خواہشوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ہدف سے بھی آگے نکل جاتا ہے اور پچھتاوئوں و دکھوں کے علاوہ ہاتھ میں کچھ نہیں آتا۔‘‘ ان کے مدھم لہجے میں ماضی کی کرچیوں کی چبھن تھی۔
’’جو ہوا سو ہوا… جانے والا وقت کبھی لوٹ کر واپس نہیں آتا‘ گزرے کل کی پشیمانیوں سے نکل کر آج کو اچھا بنانے کی سعی کیجئے۔‘‘ حسب عادت انہوں نے دل جوئی کی‘ وہ آہ بھر کر خاموش رہ گئے تھے۔
’’یہ تو طے ہے ضمیر کی پکڑ بہت بری ہے کسی پل چین نہیں لینے دیتی ہے اینی ویز، حمرہ کا بتائو وہ کب دفع ہو رہی ہے امریکہ؟‘‘ خیال آنے پر منہ بنا کر بولے۔
’’پلیز… وہ ایموشنل ہے ابھی‘ اس کے جذبات کو ٹھیس لگی ہے اور جب کوئی ایسی کیفیت کا شکار ہوتا ہے تو اسی طرح ری ایکٹ کرتا ہے کچھ ٹائم دیں اسے، بہت جلد سنبھل جائے گی وہ، میاں بیوی کا تعلق اس طرح ختم نہیں ہوتا۔‘‘
’’تم جیسی عورت کے لیے نہیں ہوتا‘ صبر و شکر جن کی میراث ہوتی ہے‘ حمرہ آج کی عورت ہے‘ وہ عورت جو صرف اپنے بارے میں سوچتی ہے اور اپنے لیے جیتی ہے اس کی سرشت میں ’میں‘ ہے ایسے لوگ کمپرومائز نہیں کرتے کبھی بھی۔‘‘

پت جھڑ کی دہلیز پہ بکھرے
بے چہرے پتوں کی صورت
ہم کو ساتھ لیے پھرتی ہے
تیرے دھیان کی تیز ہوا

وہ پہلے ہی ٹوٹا بکھرا شخص تھا۔ اب انشراح کے پل پل بدلتے رویوں اور مزاج کے گرم موسموں نے اس کے اندر ایسی عجیب کیفیت پیدا کردی تھی کہ اضطراب و سناٹوں کی زد میں مقید ہوکر رہ گیا تھا۔
بالی انشراح کے رویے پر بے حد شرمندگی محسوس کررہی تھی۔ پھر جس طرح وہ اس کی ایک کال پر بھاگا چلا آیا تھا اس خلوص و اپنائیت نے اس کے دل میں مروت کے رشتے کو مضبوط کردیا تھا۔ نوفل کے ساتھ وہ ایک مرتبہ پھر تمام ارادے و ہاسپٹلز دیکھ رہی تھی جہاں پہلے بھی آچکی تھی۔
’’کوئی رشتہ دار ہے ایسا جس کے پاس وہ جاسکتی ہوں؟‘‘ وہ ابھی ہاسپٹل سے نکلے تھے جہاں ناکامی کی ہی صورت ان کو دیکھنا پڑی تھی معاً وہ گویا ہوا۔
’’نہیں یہاں کوئی بھی نہیں ہے ماسی کا رشتہ دار، جن لوگوں سے رشتے تھے سالوں قبل ہی ان سے سارے تعلق توڑ کر وہ یہاں آگئی تھیں پھر کسی نے پلٹ کر ان کی طرف دیکھا بھی نہیں… جہاں سے ماسی کا تعلق ہے وہاں رشتے مادی ہوتے ہیں۔‘‘
’’رشتوں کی مادیت پرستی و خود غرضیاں ایک مخصوص طبقے سے نکل کر ہر طبقے میں پھیل رہی ہے اور یہی رویے زوال پذیری کا سبب ہے۔‘‘ وہ کار ڈرائیو کرتے ہوئے آہستگی سے گویا ہوا۔ سرد موسم کی ساری سرد مہری اس کے لہجے میں در آئی تھی۔ اس کے وجیہہ چہرے پر حزن تھا۔
’’میں بہت شرمندہ ہوں آپ سے نوفل بھائی۔‘‘ وہ بے ساختہ گویا ہوئی۔
’’آپ کیوں شرمندہ ہیں بالی؟‘‘ اس کا لہجہ ہنوز تھا۔
’’میں نے آپ کو کال کرکے بلایا اور میری وجہ سے ہی انشی آپ سے الجھی تھی، اللہ جانے کیا ہوگیا ہے اس کو، پہلے وہ ہرگز ایسی نہ تھی۔‘‘
’’اس وقت وہ سخت ذہنی دبائو میں مبتلا ہے اس کی کنڈیشن میں سمجھتا ہوں۔ اس کی نانی نے میرے ساتھ جس طرح کا رویہ رکھا تھا وہ قابل گرفت و ملامت تھا۔ تب ہی مجھ پر اس ناگوار حقیقت کا ادراک ہوا تھا کہ انشراح کس فیملی سے تعلق رکھتی ہے۔ اس فیملی سے جو بیٹیوں کی عصمتوں کا سودا کرتی ہیں… آئم شیور آپ کو معلوم ہوگا ہمارے درمیان مس انڈر اسٹنڈنگ ہوئی تھی اور کچھ نہیں۔‘‘ وہ ہونٹ بھینچ کر آہستگی سے بولا تو بالی نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’ان کو بھی اچھی طرح معلوم تھا کہ اس کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوئی ہے مگر انہوں نے بگ ایشو بناکر مجھے بلیک میل کرکے پیسہ لیا تھا اور ان دنوں میں فیملی پرابلمز کی وجہ سے کچھ اپ سیٹ تھا ورنہ میرے لیے پیسہ دینا کچھ مشکل نہ تھا مگر بلیک میل ہونا کردار بے داغ ہوتے ہوئے بھی مجھے اذیت میں مبتلا کر گیا تھا۔‘‘
’’آپ کے ساتھ بہت زیادتی ہوئی تھی ماسی کو دراصل دولت سے محبت بھی حد سے سوا تھی اور اسی دولت نے آج یہ دن دکھایا ہے کہ وہ دولت و ثروت کو فراموش کیے نا معلوم کہاں ہیں؟‘‘
بالی کے سامنے ماضی کے وہ مناظر گھوم گئے تھے جن میں ماسی نوٹ کو گن گن کر رکھ رہی تھیں، طلائی جیولری کے ساتھ ساتھ ان کے پاس ڈائمنڈز کی جیولری بھی بہت تھی اس کے علاوہ چاندی اور دوسرے قیمتی پتھروں کی بھی خاصی مقدار موجود تھی۔ جن کو وہ ہر تھوڑے عرصے بعد دیکھ دیکھ کر خوش ہوتی تھیں اور ان کی حفاظت اپنی جان سے بڑھ کر کیا کرتی تھیں۔
’’کافی پینے کے ساتھ آگے کا لائحہ عمل ترتیب دیتے ہیں۔‘‘ وہ کافی شاپ کے سامنے کار روکتا ہوا بولا۔

وہ تینوں ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں موجود تھے۔ ان کی پسند کے مطابق آرڈر دیا جاچکا تھا اور آرڈر کی ڈلیوری تک انہوں نے سوپ منگوا لیا تھا۔ سوپ پینے کے دوران زید نے اس سے بھی وہی سوالات کیے جو وہ جنید سے کرچکا تھا جنہیں سن کر وہ پہلے تو گھبرایا تھا پھر جنید کو ساتھ پاکر وہ حوصلہ مند بن گیا کہ آج نہیں تو کل زید نے اس صورت حال سے آگاہ ہونا تھا۔ وہ دوسرے لوگوں کی طرح سب بھول کر نہیں بیٹھنے والا تھا۔
’’بھائی… ہم نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس سے آپ کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہو یا ہماری تربیت پر کوئی آنچ آئے۔‘‘
’’پلیز… بات کو طول دینے سے بہتر ہے فوراً پوائنٹ پر آجائو۔‘‘ وہ سوپ کے بائول میں چمچ گھماتا ہوا بات قطع کرکے سنجیدگی سے بولا۔
’’اوکے باس… پھر سنیے، مہندی والی رات جب میرے مذاق پر پیارے میاں کی والدہ اور ہمشیرہ نے جھگڑا شروع کیا تھا جس کو بڑوں نے برد باری و متانت سے سنبھالا تھا۔ وہ لوگ واپسی کے لیے روانہ ہوئے تو تائی اور صوفیہ پھوپو نے کھانے کا حصہ مناسب مقدار میں ان کے ہمراہ روانہ کیا تھا پھر بھی ناگوار گزرنے والی اس صورت حال کا اثر بالکل زائل کرنے کے لیے پھوپو اور تائی جان نے فروٹ، مٹھائی اور کچھ گفٹس ہمیں ان تک پہنچانے کی ذمہ داری سونپی تھی جب ہم وہ سامان لے کر وہاں پہنچے تو چوکیدار نے گیٹ کھول دیا تھا۔ ہم حیران تھے کہ شادی کے گھر میں مہمان تھے نہ ملازمین اچھی آپا کی کنجوسی اور آدم بیزاری کا بہت سنا تھا مگر یقین نہ تھا کہ وہ بیٹے کی شادی کے موقع پر بھی آدم بیزاری کا مظاہرہ کریں گی خیر… ہم آگے بڑھے اور چند قدم چلنے کے بعد ہمیں رکنا پڑا کیونکہ اندر سے تیز تیز آوازیں آرہی تھیں۔
’’بہت دیکھ لی سودہ کی معصومیت و سادگی تمہیں زوباریہ کو طلاق دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ طلاق کے بعد اتنی اچھی نوکری بھی جائے گی۔‘‘
’’میں تو بہت پہلے سمجھ گئی تھی ایک گھر میں رہتے ہوئے کوئی کیسے اتنا نیک اور مضبوط ہوسکتا ہے کہ محبت کی پینگیں نہ بڑھائی جائیں، معلوم ہوگیا ناں چکر تھا دونوں کا آپس میں، آج سب نے ہی دیکھا تھا۔‘‘ چندا کی بھی طنز میں ڈوبی آواز ابھری۔
’’لیکن اگر ایسا تھا تو ان کو شادی کرنے سے کون روک سکتا تھا؟‘‘ پیارے میاں کی آواز میں ابھی بھی یقین و بے یقینی تھی۔
’’ارے بدھو‘ مرد کا دل عورت سے بھر جائے تو وہ پھٹے ہوئے ڈھول کو گلے میں لٹکانا پسند نہیں کرتا‘ زید کی بھی سودہ میں دلچسپی ختم ہوگئی ہوگی۔‘‘
’’خود ہی کو دیکھ لو، ایک بیوی دبئی میں موجود ہے اور دوسری کے حصول کے لیے بھی تڑپ رہے ہو، ان کو شک بھی نہیں ہوا کہ تم شادی شدہ ہو۔‘‘
’’چندا آپا… زوباریہ میرے باس کی بڑی بہن ہے اور عمر میں مجھ سے دگنی بڑی ہے وہ شوہر کم نوکر زیادہ بناکر رکھتی ہے، ممی کی باتوں میں آکر مجھے دولت کے لالچ میں شادی کی تھی، معلوم نہ تھا میری اوقات دھوبی کے کتے کی مانند ہوجائے گی۔‘‘
’’ہر برائی ماں کے سر ہی ڈالنا… کیسا انتظام کیا ہے میں نے، تو ایک عورت کا غلام بنا ہے تو دوسری عورت تیری کنیز بناکر لا رہی ہوں، جو چاہو سلوک کرنا کوئی اف کہنے والا نہ ہوگا۔‘‘
’’بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں ممی، اگر غلطی سے بھی چوں چراں کرے تو زید کے ساتھ اس کے تعلقات کے طعنے دے کر ایسی مار لگانا کہ وہ پھر کبھی خواب میں بھی کوئی لفظ کہہ نہ پائے گی۔‘‘
’’ریلیکس… کول ڈائون۔‘‘ ان کی باتیں سن کر شاہ زیب غم و غصے سے بے قابو ہونے لگا تو جنید نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر سر گوشی کی۔
’’آپ ان کی بکواس سن رہے ہیں کیا کیا خرافات بک رہے ہیں وہ لوگ؟‘‘
’’تم کال کرکے انکل اور آنٹی کو ساری صورت حال سے آگاہ کرو مشورہ لو، ان لوگوں کے ارادے نیک نہیں ہیں۔‘‘
’’صوفیہ پھوپو کبھی بھی اس رشتے پر راضی نہیں تھیں نامعلوم کیوں پھر وہ ان کم ظرف لوگوں کے آگے ہار مان گئیں، یہ لوگ سودہ کی پرچھائیں کے بھی قابل نہیں ہیں… ایک بات بتائوں آپ کو… زید بھائی سودہ سے محبت کرتے ہیں، ایسی محبت جو انہوں نے خود سے بھی چھپائی ہوئی ہے۔‘‘ وہ وہاں سے ہٹ کر لان کے گوشے میں آگئے تھے جہاں نیم اندھیرا تھا۔
’’رئیلی…! زید بھی کسی سے محبت کرسکتا ہے… آئم شاکڈ یار۔‘‘
’’ہاں… یہ ایسا سچ ہے جو وہ خود سے بھی چھپاکر رکھتے ہیں‘ بات اب اس نہج پر آگئی ہے۔ رسوائی یہ لوگ پہلے ہی کرچکے ہیں اور آئندہ بھی سودہ کی زندگی اسی حوالے سے تنگ اور تاریک کردیں گے اور ہمارے بڑے اپنی عزت و وقار کی خاطر چپ رہیں گے… یہاں آپ کا تعاون درکار ہے بھائی جدائی کے درد سے بچ جائیں گے اور سودہ بھی ان ظالم لوگوں کی غلامی سے محفوظ رہے گی۔‘‘ وہ اس کو سمجھانے لگا تھا۔

وہ بے چینی سے نانی کے پاس پہنچنا چاہتی تھی۔ اضطرابی کیفیت میں بار بار رسٹ واچ دیکھ رہی تھی۔ لگتا تھا گھڑی کی سوئیاں سخت سست روی کا شکار ہیں وقت گویا رک سا گیا تھا اور محسوس ہوتا ہے دنیا میں تیز ترین دوڑنے والی شے کا نام ’’وقت‘‘ ہے جو ہر لمحہ، ہر پل سرپٹ بھاگتا رہتا ہے اور یہی وقت اب اس شکاری کا شکار تھا۔ یہ سب جذباتی کیفیت سے مشروط ہوتا ہے کبھی وقت کی بے لگامی اور کبھی رک رک کر گزرنا، وصال کی تڑپ اور ہجر کی اذیت کو یونہی بڑھا دیتی ہے۔
حالانکہ کار بہت تیزی سے اپنی منزل کی جانب گامزن تھی۔ لاریب گاہے بگاہے بیک مرر میں چور نگاہوں سے جائزہ لے رہا تھا۔ وہ پوری طرح سے چوکنا تھا بہت غیر متوقع طور پر اس کو کامیابی ملی تھی وہ قدرت کی اس فیاضی پر دل کھول کر خوش تھا کہ ایک عرصے کی ناکامی و خواری کے بعد اس کو دل کھول کر یعنی چھپر پھاڑ کر عطا کیا گیا تھا۔
کار ڈرائیو کرتا مراد بھی اپنے مالک کی دلی مسرت پر مسرور تھا اور وہ بھی موقع کی نزاکت کو جانچتا ہوا بہت محتاط انداز میں ڈرائیو کررہا تھا کہ یہ ایک خطرناک واردات تھی۔ کل جہاں آرأ کی حواس باختگی سے فائدہ اٹھا کر ان دونوں نے انہیں اغوأ کرلیا تھا اور اب انشراح کو نانی سے ملوانے کا جھانسہ دے کر اغوأ کیا تھا۔ جس سے وہ بے خبر تھی اور اس کی بے خبری ہی میں ہی اس کی جیت پنہاں تھی۔
’’کتنا فاصلہ رہ گیا ہے؟‘‘ اس نے کھڑکی سے باہر دکھائی دیتے منظر کو دیکھتے ہوئے کہا جہاں شام کے امڈتے گلابی سائے دن کی سنہری دھوپ کو الوداع کہہ رہے تھی۔
’’زیادہ نہیں بہت جلدی ہم پہنچنے والے ہیں۔‘‘ اس نے گردن موڑ کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا۔
’’یہ آپ پچھلے کئی گھنٹوں سے کہہ رہے ہیں زیادہ دور نہیں ہے زیادہ دور نہیں ہے اور راستہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔‘‘ وہ اکتا کر بولی۔
’’اوہ… آپ تو خفا ہوگئی‘ میرا یہ مقصد نہیں تھا، آئی سوئیر، ہم بس پہنچنے ہی والے ہیں… میرے خیال میں آپ تھک گئی ہیں۔ ایسا کرتے ہیں کچھ فاصلے پر ایک ہوٹل ہے وہاں کی دودھ پتی چائے بہت مزے دار ہوتی ہے آپ کو چائے پلاتا ہوں۔‘‘ اس کے لہجے میں خوشامد در آئی تھی اور اس لمحے انشراح کو عجیب سا احساس ہوا وہ اس پر احسان کررہا ہے بلکہ احسانات کہنا بجا ہوگا۔ پہلے اغوأ کاروں سے نانی کو چھڑانا پھر اپنی تحویل میں رکھنا اور اس تک اطلاع بہم پہنچا کر اس کو مطلع کرنے کے علاوہ نانی سے ملوانے لے جانا۔ اس دور میں کوئی ایسا سخی ملنا ناممکن کے زمرے میں ہی آتا ہے اور اگر کوئی اتنا بڑا احسان کر بھی دے تو اتنی فیاضی اور دریا دلی کا مظاہرہ نہیں کرتا ہے۔
’’اوہ مائی گاڈ… مجھ سے اتنی بڑی غلطی کیسے ہوگئی؟ یہ کئی بار نانی کے پاس میرا خریدار بن کر آیا تھا۔ ایک مدت سے اس کی ہوس میری طلب گار رہی… اور یہ میں نے کیا کردیا بہت بڑا بلینڈر ہوگیا مجھ سے‘ کہیں اس نے ہی نانی کو کڈنیپ نہ کرلیا ہو؟‘‘ اس کے مطلبی لہجے میں چھپی ہوس نے اس کے ذہن کو بیدار کردیا تھا۔
’’ایک چائے کے کپ کے لیے اتنا سوچ رہی ہیں آپ‘ حیرت ہے؟‘‘ وہ اس کے ذہن میں ہوتے دھماکوں سے بے خبر استفسار کررہا تھا۔ وہ کیا کہتی کہ خود کو بالکل ہی تنہا محسوس کررہی تھی چند لمحے اپنے بے ترتیب دل کو سنبھالتی رہی پھر کچھ سوچ کر گویا ہوئی۔
’’ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ، چائے کی اشد ضرورت محسوس ہورہی ہے۔‘‘
’’بے حد اسٹرونگ سی چائے پلاتا ہوں آپ کو ساری زندگی یاد رکھیں گی۔‘‘ وہ پرجوش انداز میں گویا ہوا اور مراد نے اسپیڈ بڑھا دی تھی۔
کار کی اسپیڈ سے زیادہ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی تھی اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کس طرح بنا سوچے سمجھے اس گدھ نما شخص کے ساتھ چلی آئی۔ ذرا بھی نہ سوچا کہ یہ شخص کس طرح خیر خواہ ہوسکتا ہے جس کی آنکھوں میں ہوس کی آگ چنگاریاں بن کر اڑا کرتی تھیں۔
’’نانی کی محبت میں میں کس طرح اتنی اندھی ہوگئی کہ بالی کو بھی میں نے انفارم کرنا ضروری نہ سمجھا اور اس طرح چلی آئی۔ مجھ سا بھی کوئی احمق ہوگا، میں خود کو بہت عقل مند سمجھتی تھی سب سے بڑی بے وقوف ثابت ہوئی ہوں۔‘‘
’’آپ چلیں گی ساتھ، ہاتھ منہ دھو کر فریش ہوجائیں گی۔‘‘ کار ایک درمیانے درجے کے ہوٹل کے سامنے کھڑی تھی جس کے ارد گرد گھاس اور درختوں کا سلسلہ تھا۔ لاریب اس سے مخاطب تھا اس نے باہر نکلنے سے انکار کردیا تھا۔ وہ مراد کے ساتھ ہوٹل کی طرف بڑھ گیا اور اس کے اوجھل ہوتے ہی اس نے جلدی سے پرس سے موبائل نکال کر بالی کو کال ملائی اور موبائل آف ہونے کی اطلاع نے اس کو ساکت کردیا تھا۔

’’اف کورس شاہ زیب‘ تم نے ایک ایسی بات بتائی ہے کہ کسی اور کی زبانی معلوم ہوتا تو میں کسی صورت یقین نہ کرتا کہ زید کسی سے محبت کرتا ہے؟ وہ تو بہت چھپا رستم نکلا لیکن تم ایسا کیوں کہہ رہے ہو کہ یہ خبر یعنی محبت وہ خود سے بھی چھپائے ہوئے ہے کوئی ایسی محبت کرسکتا ہے؟‘‘ جنید کو خوش گوار حیرت و تجسس نے گھیر لیا تھا۔
’’اس کے پیچھے کیا وجہ ہے میں بھی نہیں جانتا مگر جو آپ کو بتایا ہے وہ سچ ہے۔‘‘
’’پھر تو جان کی بازی لگا کر بھی میں اس ادھوری اور پوشیدہ محبت کو مکمل کرنے میں تمہاری مدد کروں گا تم پہلے ہی مجھے اس راز میں شامل کرلیتے تو میں ان پیارے میاں کو درمیان میں آنے ہی نہ دیتا یہ نوبت ہی نہیں آتی۔‘‘
’’بھائی کی چھپی ہوئی محبت نے اس دوران ہی اپنے ہونے کا بھرپور انداز میں ثبوت دیا ہے وگرنہ اس سے قبل تو وہ پروں پر پانی نہ پڑنے دیتے تھے۔‘‘
’’چلو پھر دیر کرنا فضول ہے قبل اس کہ وہ باہر آکر ہم پر الزام لگائیں ہم ہی ان کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیتے ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر ہم اس طرف بڑھ گئے جہاں وہ لوگ بیٹھے ہوئے سودہ کے خلاف پلاننگ کررہے تھے۔ ہم بھی بنا دستک وہاں پہنچ گئے تھے۔
’’چند ماہ کی بات ہے ہم سودہ کو بھی دبئی ساتھ لے جائیں گے وہ ہمارے ساتھ زوباریہ کی بھی خدمت کرے گی ارے…؟‘‘ ان کی نگاہ اندر آتے جنید اور شاہ زیب پر پڑی تو وہ حیرت سے آنکھیں پھاڑے دیکھتی رہ گئیں۔ جب کہ چندا اور پیارے میاں بوکھلا کر نشست سے اٹھ گئے تھے۔
’’ارے یہ کیا طریقہ ہے میاں‘ نہ سلام نہ دعا کمرے میں گھستے چلے آرہے ہو۔‘‘
’’ہم نے آپ کی ساری باتیں سن لی ہیں جنہیں سننے کے بعد آپ نہ سلام کے قابل رہی ہیں نہ دعا کے لائق۔‘‘ جنید نے پہل کی تھی۔
’’جمعہ جمعہ آٹھ دن تم سے رشتہ جوڑے ہوئے ہیں اور تم میرے منہ کو آرہے ہو، کیا باتیں سن لی ہیں؟ ہم تو سودہ کی ہی باتیں کررہے تھے…‘‘
’’سودہ کی ہی پلاننگ کررہے تھے کہ کس طرح اس کو غلام بنا کر رکھا جائے گا… کس کس کی غلامی کروائی جائے گی… یہی باتیں تھیں ناں؟‘‘ شاہ زیب نے ان تینوں کو گھورتے ہوئے کہا۔
’’سودہ کے بھائی بن کر آئے ہو احسان مانو ہمارا جو تمہارے بھائی زید کی جھوٹن کھانے کو تیار ہیں کس منہ سے اس کی حمایت کررہے ہو۔‘‘
’’آپ جیسے گھٹیا اور مکار لوگوں کے سامنے مجھے کوئی صفائی پیش کرنے کی ضرورت نہیں‘ میں اپنی بہن سودہ اور بھائی زید کے کردار کی پختگی سے بخوبی واقف ہوں، کردار اور ضمیر ان پیارے میاں کا خراب ہے جو دبئی میں بیوی رکھ کر یہاں بیوی کے روپ میں کنیز لینے آیا تھا۔‘‘ شاہ زیب، پیارے میاں کے قریب چلا آیا تھا۔ جس کا رنگ متغیر تھا اور چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں ماں و بہن کے مقابلے میں وہ از حد ڈرا سہما ہوا دکھائی دے رہا تھا۔
’’دوسری شادی کرنا کوئی گناہ نہیں ہے جو تم اتنا اچھل رہے ہو۔‘‘
’’دھوکہ دینا تو گناہ ہے اور قانوناً جرم بھی ہے چھ ماہ سے تم لوگ ہمیں بے وقوف بنا رہے تھے… پہلے تو پولیس میں رپورٹ درج کروائوں گا پھر گھر والوں کو بتائوں گا اور جب آپ کی یہ دھوکہ دہی سب پر کھلے گی تو پیارے میاں جیل میں ڈنڈے کھا رہے ہوں گے اور آپ دونوں خواتین کو گھر والے اتنے جوتے ماریں گے کہ آپ کی یہ تمام چال بازی و فریب منٹوں میں ہوا ہوجائے گا اور یہی نہیں وہاں دبئی میں بھی میں جب پہلی بیوی کو معلوم ہوگا کہ تم یہاں شادی کرنے والے تھے تو سوچ لو کیا حال ہوگا تمہارا…‘‘
’’یہ سب کرنے سے پہلے سوچ لینا رسوائی ہر حال میں تمہاری بہن کی ہوگی۔‘‘ اچھی آپا ڈر گئی تھیں مگر چال چلنا ان کی عادت تھی سو اس وقت بھی چلی تھی۔
’’اس کی فکر مت کریں، کل تک وہ میری بہن تھی اب بھابی بنے گی۔‘‘
’’رات تیزی سے بڑھ رہی ہے ٹائم کیوں ویسٹ کرتے ہو چلو پہلے ہمیں پولیس اسٹیشن چلنا ہے۔‘‘ جنید نے گزرتے وقت کا احساس دلایا۔
جنید کے کہنے پر شاہ زیب اثبات میں سر ہلاتا ہوا آگے بڑھا اور ان دونوں کو واپس پلٹتے دیکھ کر چندا اور اچھی آپا کے چہرے فق ہوئے تھے۔ جب کہ پیارے میاں گھگھیاتا ہوا ان کے قدموں میں بیٹھ کر منت و سماجت کرنے لگا تھا۔
’’مجھے معاف کردو، مجھے معاف کردو، میں ممی کی باتوں میں آکر بہک گیا تھا، میں پہلے دن ہی زوباریہ کے متعلق بتانا چاہتا تھا مگر ممی نے کہا اس طرح مجھے کہیں بھی رشتہ نہیں ملے گا ایک بار شادی ہوجائے تو پھر کوئی کچھ نہیں کرسکتا، تم پولیس کے پاس مت جائو، پولیس والے بہت مارتے ہیں۔‘‘
’’ارے بچے، اب ایسا بھی کیا خون سفید ہوگیا کہ تم گھر کے معاملے کو پولیس میں لے جارہے ہو میں کوئی غیر نہیں ہوں، سودہ کی سگی پھوپو ہوں۔‘‘ اس بار اچھی آپا کے لہجے میں محبت شہد کی مٹھاس لیے ہوئے تھی۔
’’میرا خون سفید ہی ہوا ہے مگر آپ کا تو کالا ہوگیا ہے۔‘‘
’’ممی… اللہ کے واسطے اب تو آپ خاموش ہوجائیں، تم لوگ جو کہو گے وہ میں کرنے کو تیار ہوں… جیسا کہو گے ویسا ہی کروں گا مگر پولیس کو نہ بتائو۔‘‘ وہ ماں کو جھڑک کر گویا ہوا تھا۔

اذہان نے چونک کر سامعہ کی طرف دیکھا جو کمرے کا دروازہ زور دار آواز کے ساتھ بند کرکے اندر داخل ہوئی تھیں اس کے تیور بگڑے ہوئے تھے۔
’’کیا ہوا؟ یہاں سے گئی تھیں تو موڈ بہت اچھا تھا تمہارا؟‘‘
’’فون پر آپ سے اور مجھ سے لاریب نے کیا کہا تھا کہ وہ گھر پر ہی ہے۔‘‘
’’ہاں یہی کہا تھا… کیوں کیا ہوا، گھر پر نہیں ہے کیا وہ؟‘‘ جواباً انہوں نے نفی میں گردن ہلائی۔
’’اس میں اس قدر پریشان ہونے والی کیا بات ہے ہمارے آنے سے پہلے ہی گیا ہوگا باہر، وہ ینگ ہے اس کی اپنی بھی کچھ ایکٹویٹیز ہوں گی۔‘‘
’’وہ ابھی نہیں گیا… کل سے گھر ہی نہیں آیا… زرقا بھابی نے اس کو کال کی تھی جب وہ رات تک نہ آیا تو اس نے کہا کہ وہ ہماری پرمیشن سے دوستوں کے ساتھ شکار پر گیا ہوا ہے دو دن بعد واپس آئے گا۔‘‘
’’اچھا اچھا اس کو معلوم تھا ہم دو دن بعد واپس آئیں گے مری سے تو اس نے بھی شکار کا پروگرام بنالیا ہوگا۔ اس میں اس قدر اپ سیٹ ہونے کی کیا بات ہے وہ بچہ ہے ابھی تم نہ جانے کیا سمجھنے لگیں لاریب کو۔‘‘ اذہان مسکراتے ہوئے لاپروائی سے گویا ہوئے۔
’’فکر ساری یہی ہے کہ وہ اب کوئی بچہ نہیں رہا‘ ہماری سوچوں سے بڑھ کر جوان ہوگیا ہے اور اسی جوانی کے زعم میں وہ مبتلا ہے۔‘‘
’’عجیب ہو تم، مائیں بیٹوں کے جوان ہونے کی دعائیں مانگا کرتی ہیں۔‘‘
’’باپ تو سب جان کر بھی انجان بن سکتے ہیں ماں کس طرح فراموش کردے، آپ جانتے نہیں ہیں کیا وہ کس بری طرح سے بے راہ روی کا شکار ہو رہا ہے۔ پہلے صرف راتیں باہر گزارا کرتا تھا اب دن میں بھی اس کو کوئی خوف نہیں ہے۔‘‘ سامعہ کی غم و غصے سے رنگت سرخ پڑگئی۔
’’سو وہاٹ ڈیئر‘ اس عمر میں اسی طرح ٹائم پاس کیا جاتا ہے وقت آنے پر وہ بھی سب بھول کر ذمہ دار بن جائے گا ابھی اس کو اپنی مرضی کی زندگی گزارنے دو۔ بلاوجہ روک ٹوک اس کی پرسنالٹی کو ڈیمیج کردے گی۔‘‘
’’آپ کے لیے یہ کوئی پریشانی کی بات نہیں لیکن مجھے خوف ہے اس کی یہ آوارگی ہمارے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہ کردے۔‘‘
’’او کم آن ڈارلنگ، یہ کس قسم کے وسوسوں میں رہنے لگی ہو ہمارے سرکل میں یہ سب چلتا ہے لاریب کو تم نے اس وقت پابند نہیں کیا جب اسے پابند کرنے کی عمر تھی، اب وہ بگڑ گیا ہے تو سدھرنے میں بھی ٹائم لگے گا۔‘‘ اذہان بھی اس بار سخت غصے سے گویا ہوئے تھے۔
’’مجھے کیا الزام دے رہے ہیں یوں کہیں ناں آپ کے ہاں یہ خاندانی روایت رہی ہے بیویوں کے ہوتے ہوئے بھی داشتائیں رکھنا… میرا بیٹا بھی تایا کے نقش قدم پر چل پڑا ہے… مگر…‘‘
’’مگر کیا… جب بھائی صاحب کے خلاف منہ کھول ہی لیا ہے تو دل میں کیوں بات رکھتی ہو جو بولنا ہے بولو۔‘‘ وہ آگ بگولہ ہوئے۔
’’یہی کہ وہ کسی ناجائز اولاد کا باپ نہ بن جائے۔‘‘
’’ارے ناگن تو خوامخواہ بد نام ہیں، ناگن سے زیادہ زہر عورت کی زبان میں ہوتا ہے۔ ایسا زہر جو نہ مرنے دے نہ جینے دے۔‘‘
’’ہاں… جب اپنے گریبان تک بات آتی ہے تو مرد کا ایٹی ٹیوڈ ایسا ہی ہوتا ہے… میں بات کو بڑھانا نہیں چاہتی، آپ ابھی اور اسی وقت لاریب کو کال کرکے یہاں بلائیں۔‘‘ بات بگڑتی دیکھ کر سامعہ مصالحت آمیز لہجے میں گویا ہوئیں۔
’’خود کرلو کال مجھے ضرورت نہیں ہے اس کو کال کرنے کی۔‘‘ وہ غصے میں آگے بڑھتے ہوئے لاپروائی سے گویا ہوئے۔
’’آپ اتنا ہائپر کیوں ہورہے ہیں ایسا میں نے کیا کہ دیا ہے؟‘‘ سامعہ نے ان کا بازو پکڑ کر پوچھا۔
’’لمحے بھر میں میرے خاندان کی عزت مٹی میں رول کر پوچھ رہی ہو کہ میں نے کیا کہا ہے واہ…کیا سادگی ہے تمہاری۔‘‘
’’میں نے وہ ہی کہا جو سنا، سب کہہ رہے ہیں یوسف بھائی کی کوئی ناجائز بیٹی ہے اور سچائی یہ ہے کہ وہ خود بھی اس بات کا اقرار کرتے ہیں… پھر آپ کیوں…‘‘
’’بھائی کچھ بھی کہیں، مجھے اعتراض نہیں ہے مگر کوئی اور میرے بھائی کے متعلق ایسی بات کہے تو میرا دل اس کا منہ توڑنے کا چاہتا ہے۔‘‘
’’پھر آپ میرا منہ توڑیں گے… تو توڑیں منہ…‘‘ وہ انہیں ہنوز غصے میں اکڑے ہوئے دیکھ کر مصالحت بھول گئیں۔
’’بکواس بند کرو۔‘‘ وہ سامعہ کو گھورتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔
’’گو ٹو ہیل، میں نہ تمہاری پروا کرتی ہوں نہ تمہارے بیٹے کی۔‘‘

’’پیارے بہت کمزور و بزدل مرد ثابت ہوا تھا، شاید جو مرد عقل و شعور رکھنے کے باوجود عورت کا پلو پکڑ کر چلنے کے عادی ہوتے ہیں خواہ وہ عورت ماں ہو یا بیوی… وہ اسی طرح نہ فیصلہ کرنے کی ہمت رکھتے ہیں نہ اپنی مرضی پر چلنے کی جرأت ہوتی ہے ان میں۔‘‘ کھانا سرو کردیا گیا تھا ان کے درمیان ٹیبل پر تمام فاسٹ فوڈز سیلڈ و کولڈ ڈرنک کی بوتلیں رکھی ہوئی تھیں۔
زید نے صرف پیزا کا ایک پیس اور تھوڑا سیلڈ لیا، اس کو بھوک نہیں تھی۔ اصل سچ نے اس کے اندر عجیب سا سکون و اطمینان بھر گیا تھا اور دل تشکر آمیز جذبات سے لبریز تھا۔ کاتب تقدیر نے کس خاموشی سے اس کی سودہ سے جوڑی بناکر دونوں کو کڑے امتحان سے بچا لیا تھا ورنہ ہوتا یہ کہ ادھر وہ اس کی جدائی کا غم سینے سے لگائے زندگی سے بیزار رہتا، ادھر سودہ بے دام کنیز بنی دوسروں کی خدمتوں میں دن رات ہلکان مرنے کی دعائیں مانگ رہی ہوتی۔
شاہ زیب نے کھانا تناول کرتے ہوئے منقطع سلسلے کو وہیں سے جوڑا۔
’’کیا کرسکتے ہو تم؟ تمہاری ماں میری بہن پر بدکاری کے الزام لگا رہی ہے… اس کو ملازمہ بنانے کی سازش کررہی ہے اور تم بے قیمت و بے غیرت انسان اس ناانصافی پر معمولی سا بھی احتجاج نہیں کررہے۔‘‘ شاہ زیب نے غصے سے اس سے بازو چھڑا کر جتایا تھا۔
’’مجھے اچھی طرح معلوم ہے یہ سب ممی اور چندا کی ملی بھگت ہے… یہ لوگ چاہتی ہی نہیں تھیں کہ سودہ یہاں، میری بیوی بن کر آئے…‘‘
’’ارے… ارے لڑکے بائولا ہوگیا ہے کیا، لو بھلا ہم کیوں نہیں چاہیں گے؟ اگر اس کو بہو بنانا نہ ہوتا تو کس کی مجال تھی مجھے اس دہلیز پر رشتہ لے کر بھیجنے کی، میں وہاں اپنی خوشی سے گئی تھی۔‘‘ وہ جھنجھلا کر چیخی تھیں۔
’’جھوٹ مت بولو ممی، جھوٹ مت بولو… اب جب کہ سب ختم ہوگیا ہے پھر کسی صفائی ستھرائی کی ضرورت نہیں ہے میں نے سنا تھا ماں کے پائوں کے نیچے جنت ہے اور اسی جنت کے حصول کی خاطر میں نے اپنی ’میں‘ کو اندر ہی مار لیاتھا۔ اپنی انا و وقار کو پس پشت ڈال کر سالوں سے وہ ہی کرتا آرہا ہوں جو آپ نے حکم دیا، حتیٰ کہ آپ کی خواہش پر ہی میں نے اپنے سے دہری عمر کی عورت سے شادی کی اور اپنی زندگی گویا انگاروں کے سپرد کردی۔‘‘ پیارے کی آنکھوں سے اشک بہہ نکلے تھے۔
’’وہ مغرور، بد دماغ عورت پیسے کی چابک سے ہر دم مجھے لہولہان کرتی ہے۔ بانجھ و بد زبان عورت جو اپنے سے کمتر لوگوں کو انسان نہیں سمجھتی‘ آپ کی خواہشوں کے پیچھے میں سنگسار ہوتا رہا ہوں، بہار کا جھونکا بن کر سودہ میری زندگی میں آئی تھی جس کو دیکھ کر میں اپنے تمام دکھ بھول گیا تھا اور اب کہہ رہے ہو میں بے غیرت و بے حمیت بنا سودہ کے خلاف سب سنتا رہا تو یہ میری مجبوری تھی۔‘‘ پھر وہ شاہ زیب کی طرف دیکھتا ہوا بولا۔
’’کسی اور سے سنتا تو میں اس کا منہ سلامت نہیں رہنے دیتا… مگر یہاں مجبوری یہ تھی کہ یہ الزام لگانے والی میری ماں تھی… میری ماں… میری جنت‘ بس اور کیا کہوں… البتہ میں حلف لے کر کہتا ہوں، سودہ میں کوئی عیب نہیں ہے اس کا کردار کھرا سونا ہے۔ خراب کردار کی لڑکیاں الگ ہی دکھائی دیتی ہیں… کئی بار میں نے کوشش کی وہ میری بات سنے، ہم فون پر گپیں لگائیں، باہر گھومیں پھریں… مگر وہ مضبوط کردار کی لڑکی تھی، اس نے مجھے عزت ضرور دی؟ مگر بے تکلفی نہیں۔‘‘ اس کی بھیگی آنکھوں میں سودہ کا عکس تھا۔
’’چلو تم کیوں اتنا بدگمان ہوتے ہو ماں سے، ابھی یہ سب ہمارے درمیان میں ہی ہے کسی کو باہر کانوں کان خبر نہ ہوگی، جو کچھ ہوا اس پر مٹی ڈالو، ہم کل بارات لے کر چلے جائیں گے اور سودہ کو…‘‘
’’اب نہیں ممی، بھرم بھی کانچ کی مانند ہوتا ہے ایک بار ٹوٹا سو ٹوٹ گیا۔ نہ آپ چاہنے کے باوجود اس سے وہ عزت دے پائیں گی جو اس کا حق ہے نہ میں اس سے نظریں ملا پائوں گا۔‘‘ وہ اس وقت رنج و ملال کی تصویر بنا ہوا تھا، شاہ زیب کے انکار سے قبل ہی وہ خود انکار کر بیٹھا تھا۔
اچھی آپا اور چندا نے بہت تاویلیں دیں، قسمیں کھائیں لیکن پیارے میاں کی نفی میں ہلتی گردن اثبات میں نہ ہلی تھی۔ وہ ثابت کرچکا تھا کہ وہ سودہ سے کتنی ٹوٹ کر محبت کرتا ہے اور مرتے دم تک کرتا رہے گا۔
’’تب ہی اس نے اپنی رسوائی کی پروا نہ کرتے ہوئے دبئی جانے کے لیے بکنگ کروائی تھی اور صبح سویرے پاکستان کی سر زمین کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دیا تھا اور اس کے دل کی دنیا جو پہلے ہی ویران تھی اب اندھیری ہوگئی تھی۔
’’یہ سب معلوم ہونے کے بعد بھی تم لوگوں نے منہ بند کیے رکھا؟‘‘ وہ پوری کہانی سننے کے بعد تہنیتی لہجے میں گویا ہوا۔
’’ہم یہ سب بتاتے تو معاملہ چوپٹ ہوجاتا اور ہم ایسا نہیں چاہتے تھے۔‘‘

اس کی آنکھوں پر بندھی جذباتیت و عجلت کی پٹی کھلی تو دل و وسوں اور ہموں کا شکار ہوگیا تھا۔ صاف دکھائی دے رہا تھا، اس نے بنا سوچے سمجھے اس کے ساتھ آنے کی بڑی سنگین غلطی کی ہے بالی کا موبائل آف تھا۔ لاریب ڈرائیور کے ساتھ ہوٹل کے اندر چائے پی رہا تھا اور شومئی قسمت وہ اپنا موبائل کار میں ہی بھول گیا تھا۔ انشراح جس کی حالت اس وقت پر کٹی چڑیا کی مانند تھی، ایک خیال بجلی کی مانند کوندا تھا چند گھنٹے قبل جس شخص کو برا بھلا کہہ چکی تھی، اس وقت وہ ہی ایک نجات دہندہ دکھائی دے رہا تھا کہ کچھ لوگ چراغ جیسا وجود رکھتے ہیں ذرا اندھیرا ہو تو ان کا وجود روشنی بن کر اندھیرے کا وجود مٹا دیا ہے۔ اس نے جھپٹ کر موبائل اٹھایا اور جلدی جلدی لسٹ میں اس کا نام نکال کر میسج ٹائپ کرتے ہوئے اپنی اس خود غرضی و مطلب برآوری پر ضمیر نے ضرور سرزنش کی تھی۔ میسج سینڈ کرنے کے بعد اس نے ڈیلیٹ کردیا اور چائے پینے لگی لیکن دل کو چین پھر بھی نہ آیا تھا۔ ان کی گرفت سے شور مچا کر نکلنا اس کے لیے بہت آسان تھا مگر مجبوری یہ تھی کہ ان کے چنگل میں جہاں آرأ تھیں اور وہ ان کی سلامتی کے لیے مجبوراً خاموش تھی۔
’’صاحب… کیا سوچ رہے ہیں۔ مجھے لگتا ہے شکار ہوشیار ہونے لگا ہے۔‘‘ مراد نے چائے کا بڑا سا گھونٹ حلق سے اتار کر سرگوشیانہ انداز میں کہا۔
’’اس کی پروا نہیں‘ وہ اس وقت اس بڑھیا کی فکر میں لگی ہے اور جلد از جلد اس کے پاس پہنچنے کی جستجو میں تڑپ رہی ہے اصل معاملے کی اسے خبر ہی نہیں… لیکن مجھے فکر مما کی ہورہی ہے۔ بڑی مما سے میں نے جھوٹ بول دیا تھا مگر مما کو جھوٹ بولنا اپنی شامت لانے کے مترادف ہے۔ ان کی کال پرکال آرہی ہے اور مجھے سمجھ نہیں آرہا ہے میں ان کو کیا ریزن دوں کہ میں کہاں ہوں اور کیوں ہوں؟‘‘ اس کے لہجے میں پریشانی در آئی تھی۔
’’آپ کہہ رہے تھے صاحب لوگ ایک ہفتے کے لیے مری گئے ہیں؟‘‘
’’آگئے ہیں وہ لوگ واپس اور ممی کی خفیہ پولیس کی مانند وقت بے وقت چھاپہ مارنے کی عادت ہوگئی ہے۔ بہت نگرانی کرنے لگی ہیں۔‘‘
’’پھر اب کیا ہوگا صاحب؟‘‘ مراد کی بھوری آنکھوں میں تفکر جاگ اٹھا تھا۔
’’ممی کی فکر نہیں ہے ان کو میں کسی نہ کسی طرح ڈاج دے دوں گا… مگر ڈر یہ ہے کہ مما نے نوفل سے اگر میرے بارے میں ڈسکس کیا تو پھر مسئلہ بن جائے گا۔‘‘ اس نے مگ رکھ کر کچھ اضطراب بھرے انداز میں کہا۔
’’مسئلہ نہیں مسئلوں کا پہاڑ بن جائے گا۔ نوفل صاحب انشراح بی بی کو شاید پسند بھی کرتے ہیں۔‘‘ مراد کی بات پر اس کی ابرو تن گئے۔
’’نوفل اور کسی لڑکی کو پسند کرے امپاسبل ہے… وہ تو لڑکیوں سے الرجک رہتا ہے، نفرت کرتا ہے… اس کے دل و دماغ میں یہ بات راسخ ہوچکی ہے کہ سب لڑکیاں اس کی ماں کی طرح بدکردار ہوتی ہیں۔‘‘ وہ غصے و جھنجھلاہٹ میں گھر کا ایک بھید ملازم کے سامنے کھول گیا تھا اور اسے احساس بھی نہ ہوا کہ نوفل اور انشراح کا نام اندر تک جلا گیا تھا۔
’’آپ کی بات ٹھیک ہے صاحب، لیکن کوئی نہ کوئی تعلق نوفل صاحب کا ضرور ہے۔ جن دنوں میں انشراح بی بی کے یہاں ڈرائیوری کررہا تھا تب میں نے محسوس کیا تھا کہ ان کے درمیان کچھ نہ کچھ چل رہا ہے۔‘‘
’’ڈائوٹ مجھے بھی ہے میں نے بھی فیل کیا ہے نوفل کا کچھ انٹرسٹ ہے انشراح میں۔‘‘
’’پھر آپ خطرہ کیوں مول لے رہے ہیں۔‘‘
’’شٹ آپ، خطرہ ہونہہ… یہ ڈبل گیم ہے ایک طرف میں ان نانی نواسی کو ان کی اکڑ کا مزہ چکھائوں گا، دوسری طرف نوفل کے اس تھپڑ کا بھی حساب لینا ہے جو کئی بار وہ میرے منہ پر مار چکا ہے۔‘‘ اس کا موڈ بگڑ گیا تھا۔

روشنی چاند سے اور ستاروں سے ضیا مانگی
مگر اس دل نے سدا تم کو پانے کی دعا مانگی
تم میری تقدیر میں لکھ دیے جائو سدا کے لیے
ہاتھ اٹھا کر جب بھی مانگی یہی دعا مانگی

عروہ نے مسرت آمیز نگاہیں کئی لمحوں تک زید کی تصویر پر چسپاں رکھیں جو اس کے نکاح والے دن کی تھیں، مائدہ نے اسے البم دکھائی تھی وہ تمام تصاویر جنید نے کیمرے سے لی تھیں اور البم بنالی تھی۔
گولڈن شیروانی میں اس کی وجاہت کچھ زیادہ ہی نکھری نکھری لگ رہی تھی۔ چہرے پر وہی ازلی سنجیدگی طاری تھی برائون روشن روشن آنکھوں میں بھی عجیب الجھن و بے یقینی ثبت ہوکر رہ گئی تھی، یہ تاثرات اس کے لیے خاصے حیران کن تھے۔ وہ جانتی تھی زید سودہ پر دل و جان سے فدا ہے اور اس کا اس طرح معجزاتی طور پر مل جانا دلی مراد پانے کے مترادف تھا لیکن اس کے کسی بھی انداز سے ظاہر نہ تھا کہ وہ اس بندھن پر مسرور و شاداں ہے۔
وہ زبردستی رضوانہ بیگم اور عفرا کو لے کر عمرانہ سے ملنے آئی تھی وہ دونوں آنے پر راضی نہ تھیں لیکن وہ ضد کرکے لے آئی تھی‘ عمرانہ بیگم اس بے تابی سے ان سے ملی تھیں جیسے کسی پیاسے کو پانی مل جائے یا غیروں میں کوئی اپنا نظر آجائے۔
تینوں سے گلے مل کر خوب روئیں۔ اپنی خفگی کی معافیاں مانگتی رہیںم جواباً اس نے بھی کچھ آنسو بہا کر اپنی غلطی پر پچھتاوے کا اظہار کیا‘ پھر ان کو آپس میں معافی تلافی کرتے چھوڑ کر وہ مائدہ کے کمرے میں آگئی اور البم دیکھنے لگی‘ اس کی کھوجتی نگاہیں زید کے چہرے کو ہی ہر تصویر میں گہرائی کے ساتھ کھوجتی رہیں اور دل کے موسم پر برکھا رت چھانے لگی تھی۔ سودہ کی تصویر کو اس نے نفرت سے نظر انداز کردیا تھا۔
کتنا تردد کیا تھا اس نے اس شخص کو پانے کے لیے۔ اپنا وقار انا اور زعم سب بھول کر اس کی راہوں میں خود کو بچھا دیا تھا اور اس نے کیا صلہ دیا تھا… راہ میں پڑے پتھر کی طرح ٹھوکروں میں اڑا دیا تھا اور پلٹ کر دیکھنا بھی گوارا نہ کیا تھا۔
’’ارے… ارے یہ کیا کررہی ہو تم؟‘‘ بے دھیانی میں وہ زید اور سودہ کی ساتھ لی گئی فوٹو کو مروڑنے لگی تو قریب بیٹھی مائدہ تیزی سے گویا ہوئی۔
’’اوہ… ایسا کیا کردیا میں نے جو تم اتنا خفا ہورہی ہو؟‘‘
’’دیکھو تم نے سودہ کا چہرہ ہی بگاڑ دیا ہے کتنی کیوٹ لگ رہی تھی۔‘‘ مائدہ نے تصویر کی طرف اشارہ کیا۔
’’بہت سائیڈ لے رہی ہو، بھائی کی طرح تمہیں بھی اس نے اپنے جادو کے سحر میں جکڑ لیا ہے۔ کل تک بالکل خلاف تھیں اس لڑکی کے؟‘‘ وہ ڈرنے، گھبرانے کی بجائے سخت طنزیہ لہجے میں گویا ہوئی۔
’’وہ کل کی بات تھی… آج یہ میری بھابی ہے‘ میرے بھائی کی عزت اور آپ کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہیے۔‘‘ اس نے البم اپنی گرفت میں لے ‘ جب کہ وہ استہزائیہ لہجے میں گویا ہوئی۔
’’وہ تمہاری بھابی ہوگی اور تمہارا بھائی… میرا بھائی نہیں ہے وہ۔‘‘
’’پھر کیا سمجھتی ہو آپ زید بھائی کو؟‘‘
’’میں تمہیں بتانے کی پابند نہیں ہوں، آنٹی نے بتایا ہے اس نکاح میں اسپیشلی تمہارا ہاتھ ہے… تم دونوں بہن بھائی نے خوب پلاننگ کی ہے داد دیتی ہوں غضب کے پلانر ہو تم لوگ۔‘‘
’’کوئی پلاننگ نہیں تھی… اگر یہی کرنا ہوتا تو اتنی فضولیات کی کیا ضرورت تھی۔ سیدھے طریقے سے ہم شادی کرتے ناں… آپ کس بحث میں پڑ گئی، چلیں ہم لوگ مما کے پاس چلتے ہیں۔‘‘ اس نے مسکرا کر اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے دوستانہ انداز میں کہا۔

جہاں آرأ کی تلاش میں وہ بالی کے ہمراہ گھنٹوں مارا مارا گھوم رہا تھا۔ وہ نامعلوم کہاں گم ہوگئی تھیں کہ بے تحاشہ تلاش کے بعد ان کا کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا۔ سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ تھی کہ وہ ہوش و حواس میں نہ تھیں اور کسی سے مدد بھی طلب نہیں کرسکتی تھیں۔ بالی نے بھی تھک ہار کر گھر ڈراپ کرنے کو کہا‘ وہ اس کو گیٹ پر ہی چھوڑ کر آگیا تھا کہ انشراح کا بگڑا موڈ دیکھنے کی چاہ نہ تھی۔
گھر آکر ایک نئے مسئلہ سے سامنا کرنا پڑا جس کی بابت جان کر وہ حیران رہ گیا‘ بالکل دم بخود اور سخت متحیر۔
’’آج میرا قد آپ کے سامنے بہت چھوٹا اور حقیر ہوگیا ہوگا بیٹا؟ انسان اپنے کردار و اخلاق کی بنا پر ہی بڑا و چھوٹا ہوتا ہے اور میں تو بہت چھوٹا ثابت ہوا ہوں کردار کے لحاظ سے اور اخلاقی طور پر بھی پستی نے میرے وجود کو بہت چھوٹا بنا دیا ہے۔‘‘ حمرہ خوب لڑائی جھگڑے کے بعد یہاں سے جاچکی تھی نوفل جب گھر پہنچا تو ایک ہنگامہ برپا تھا یوسف کچھ سننے کو تیار نہ تھے۔ حمرہ نے بھی ان کے ماضی کے حوالے سے ایک ایک بات پر دق پہنچائی تھی اور نوفل کے سامنے پھر سے پوری کہانی دہرا کر رکھ دی تھی۔ خوب نمک مرچ لگا کر وہ ان کی رسوائی کا مکمل سامان کررہی تھیں تاکہ ان سے علیحدگی پر ان کی طرف انگلیاں نہ اٹھیں سارا الزام و رسوائی ان کی جانب مرکوز ہو۔ وہ کہہ سن کر جاچکی تھیں کسی نے روکنے کی سعی بھی نہ کی تھی کہ وہ جانے کا فیصلہ کرچکی تھیں۔

زرقا کے مسلسل سمجھانے کا بھی اس پر کوئی اثر نہ ہوا تھا۔ نوفل کے سامنے اپنا سیاہ ماضی عیاں ہونے پر کچھ دیر تک یوسف ندامت سے کنگ رہے اور اس کی طرف نگاہ ہی نہ اٹھا سکے تھے۔ یہ سوچا ہی نہ تھا کبھی ایسے مرحلے سے بھی گزرنا ہوگا، پھر نوفل کا ردعمل بھی ان کی توقع سے بڑھ کر تھا وہ بالکل ساکت و گم صم ہوکر رہ گیا تھا۔
’’یقین نہیں آرہا بیٹا، اس صاف چہرے کے پیچھے کتنا گندہ چہرہ چھپا ہو اہے‘ کیا آپ بھی حمرہ کی طرح مجھ سے نفرت کرنے لگے ہیں‘ کیا آپ بھی مجھے اسی طرح ٹھوکر مار کر جانے والے ہیں؟‘‘
’’نہیں پاپا… نہ میں آپ کو چھوڑ کر جائوں گا نہ آپ سے نفرت کروںگا کس طرح ممکن ہے… یہ آپ نے کیسے سوچ لیا کہ میں آپ سے کبھی بدگمان ہوسکتا ہوں؟ محبتوں میں اس طرح کی بدگمانی نہیں ہوتی۔‘‘ اس نے آگے بڑھ کر ان کے شانوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے ایسے لہجے میں کہا جس میں پیار، اعتماد و احترام ہنوز موجود تھا۔ حمرہ کی ہرزہ سرائی نے جس میں معمولی سی بھی دراڑ پیدا نہ کی تھی اور وہ جو ٹوٹے بکھرے ہوئے تھے اس سے لپٹ گئے۔ اشک ندامت کا سیل رواں جاری ہوگیا تھا۔
’’آپ نے مجھے نئی زندگی دی ہے‘ میرے بے جان ہوتے جسم میں دوبارہ جان پڑگئی ہے… سب سے زیادہ کٹھن مجھے آپ سے سامنا کرنا لگ رہا تھا۔ اگر آپ بھی حمرہ کی طرح بی ہیو کرتے تو میں اندر سے مر جاتا۔‘‘
’’برا غلطی کرکے غلطی نہ ماننا ہوتا ہے پاپا۔‘‘ اس نے ٹشو سے ان کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔ وہ وقتی ٹرانس سے نکل آیا تھا۔
’’میں تہہ دل سے پپشیمان ہوں مجھے معلوم ہی نہ تھا میری بیٹی اس دنیا میں آچکی ہے۔ جہاں آرأ نویرہ کو لے کر ایسی فرار ہوئی تھی کہ اس نے پیچھے کوئی سراغ ہی نہ چھوڑا تھا۔ ویسے بھی جہاں آرأ بہت شاطر و مکار ذہن کی مالک تھی۔‘‘
’’جہاں آرأ…؟‘‘ اس کو اپنی سماعتوں پر دھوکہ کا گمان گزرا۔
’’نویرہ… جہاں آرأ کی اکلوتی بیٹی تھی ریڈ لائٹ ایریا سے تعلق تھا اس کا‘ نویرہ کے جوان ہونے پر جہاں آرأ نے وہ ایریا خیرباد کہہ دیا تھا اور اسے لے کر ایک پوش علاقے میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ نویرہ نے شوبز جوائن کرلی تھی اور وہاں اس سے میری ملاقات ہوئی تھی۔‘‘
انہوں نے مختصراً ماضی کو دہرا دیا تھا۔ یاد ماضی کسی عذاب سے کم نہ تھا۔ نوفل کے لیے آج کا دن یکے بعد دیگرے حیران کن واقعات و انکشافات لیے نمودار ہوا تھا… جہاں آرأ کی گمشدگی پھر یہ تعجب خیر انکشاف کے یوسف ایک بیٹی کے والد ہیں اور سب سے بڑا بلکہ دھماکہ خیز انکشاف ہونا کہ اس بیٹی کا تعلق جہاں آرأ کی بیٹی سے ہے… بالی نے بتایا تھا انشراح کی ماں کا تعلق فلم انڈسٹری سے تھا۔ انشراح کوئی غیر نہیں یوسف کی بیٹی تھی… اس کی کزن‘ اس انکشاف نے اس جیسے مضبوط و غیر معمولی ہمت و حوصلہ رکھنے والے نوفل کو بھی اس بری طرح سے حیران کیا تھا کہ وہ ہڑبڑا کر رہ گیا تھا۔
’’ہاں… ہاں جہاں آرأ کے پاس ہی میری بیٹی۔‘‘ وہ سر ہلاتے ہوئے گویا ہوئے‘ وہ اس کے لہجے و انداز کو نوٹ نہ کرسکے تھے۔ قبل اس کے کہ وہ ساری صورت حال ان کے گوش گزار کرتا اسی پل لاریب کا میسج آنے پر وہ موبائل کی طرف متوجہ ہوگیا تھا۔

کار رواں دواں تھی چاروں طرف اندھیرا آہستہ آہستہ پر پھیلا رہا تھا۔ دھیرے دھیرے سورج مغرب کی سمت گم ہورہا تھا اندر ہیٹر آن تھا لیکن کار کی کھڑکیوں کے شیشے اوس میں لپٹے ہوئے تھے۔ اس کو اپنا دل بھی اسی دھند کی لپیٹ میں جکڑا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ مضطرب، بے کل و خوف سے ڈرا سہما ہوا۔
تین گھنٹے کی طویل مسافت کے بعد بالآخر وہ لوگ ریسٹ ہائوس پہنچ گئے تھے۔ مراد نے کار پارکنگ لاٹ میں کھڑی کی تو لاریب نے تیزی سے اتر کر بیک ڈور کھولا اور مسکراتے ہوئے قدرے جھک کر ہاتھ کے اشارے اور زبان سے بیک وقت بڑے پُر جوش انداز میں انشراح سے مخاطب ہوا تھا۔
’’آئیں پلیز… خوش آمدید۔‘‘ اس کی نگاہیں انشراح کے بے حد سنجیدہ چہرے پر بڑے بے خوف انداز میں جمی ہوئی تھیں۔ راستے بھر جس محتاط روی و شرافت کا وہ پرچار کرتا رہا تھا یہاں کار سے اترتے ہی گویا وہ پردہ بھی ہٹ گیا تھا۔
’’نانی جان کہاں ہیں؟‘‘ اس کی بے باک نگاہوں سے اس کے وہم و شک پر حقیقت کی مہر ثبت ہوکر رہ گئی تھی کہ وہ نیت کی خرابی میں مبتلا ہے۔
’’یہیں ہیں وہ کہاں جائیں گی، آپ آئیں تو سہی۔‘‘ اس نے باہر نکلتی ہوئی انشراح کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے مسکرا کر کہا۔
’’آپ ہاتھ ہٹائیں مجھے سہارے کی ضرورت نہیں، میں خود چل سکتی ہوں۔‘‘
’’واہ بھئی… نہ تیور بدلے ہیں نہ انداز… وہی غصہ، ویسا ہی طنطنہ و مغرور انداز قائم ہے میرے حضور کا۔‘‘ اس کے جھڑکنے پر وہ مسکرا کر طنزاً یہ لہجے میں گویا ہوا۔
’’یہ آپ کس انداز میں گفتگو کررہے ہیں دماغ درست ہے آپ کا؟‘‘ وہ باہر نکل کر اس کو گھورتے ہوئے گویا ہوئی۔
’’آپ کو معلوم ہے آپ کتنی کیوٹ ہیں؟‘‘ وہ قدرے جھک کر گویا ہوا۔
’’اس قدر حسین ہیں کہ اچھا بھلا بندہ از خود ہی دماغ خراب کر بیٹھے… میرا بھی دماغ تمہارے اس بے تحاشہ حسن نے خراب کردیا ہے۔‘‘
’’شٹ اپ… بکواس بند کرو اپنی… بتائو نانی کہاں ہیں؟‘‘ وہ اپنی اوقات پر آچکا تھا۔ آج اس کا مقدر ساتھ دے رہا تھا۔
’’بتادیں گے ایسی بھی جلدی کیا ہے نانی سے ملنے کی… کچھ لین دین کی بات ہوجائے‘ تم میرا کام کرو… میں تمہارا کام کروں۔‘‘ وہ مونچھوں کو تائو دیتا ہوا اس کو بے باکی سے گھور رہا تھا۔ مراد وہاں سے جاچکا تھا۔ موسم مزید سرد ہوگیا تھا۔ تیز چلتی ہوائوں نے ماحول کو خنک کر ڈالا تھا۔ ماحول کی یہ خنکی اس کے اندر تک اترتی چلی گئی‘ کوئی اور وقت ہوتا تو وہ اسے اس بے باکی و بے تکلفی کا خوب مزہ چکھاتی۔
’’ایکچوئیلی، اس وقت دو ضرورت مند ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں… تمہیں اپنی نانی سے ملنے کی خواہش ہے اور… مجھے تم سے…‘‘
’’وہاٹ یو مین…؟‘‘ وہ اس کو شرر بار نگاہوں سے گھورتی ہوئی غرائی۔
’’ویری سمپل‘ ویری ایزی…‘‘ اس کا انداز ذومعنی ہوا۔
’’سمجھتے کیا ہو تم خود کو؟ اگر میں مجبوری میں تمہارے ساتھ آگئی ہوں تو کیا میں تمہاری ہر بات مانوں گی؟ تم جو کہو گے وہ کروں گی؟‘‘
’’آف کورس کرو گی، بی کوز وقت جس کی مٹھی میں ہوتا ہے تاج اس کے سر پر ہوتا ہے اور تاج جس کے سر پر ہوتا ہے حکمرانی اس کی چلتی ہے اور رعایا کی جرأت نہیں ہوتی کہ حکمران کی حکم عدولی کریں۔‘‘
’’وقت کو مٹھی میں قید کرنے والے احمق یہ کیوں بھول جاتے ہیں وقت کسی کی میراث نہیں‘ یہ مٹھی میں دبی ریت کی مانند پھسل کر نکل بھی جاتا ہے۔‘‘
’’لیکن میں تمہیں ریت کی مانند اپنی مٹھی سے پھسلنے نہیں دوں گا۔‘‘ اس کے لہجے میں یک دم خونخواری سمٹ آئی تھی۔ وہ مراد اور دوسرے ملازم کو آواز دینے لگا تھا۔

’’یہ تھا تمہارا گریز اور نفرت و اکتاہٹ کہ جس لڑکی سے ساری عمر دشمنی رکھی لمحوں میں اسے اکلوتے بیٹے کی بہو بناکر بیٹھ گئی ہو۔‘‘ رضوانہ جو بہن و بھانجی سے آکر بڑے پُر تپاک انداز میں ملی تھیں کچھ علیک سلیک کے بعد سخت طنزیہ انداز میں گویا ہوئیں۔
’’میں اب تک حیران ہوں، نا معلوم کیا ہوگیا تھا مجھے، سچ مچ عقل گھاس چرنے چلی گئی تھی جو فیصلہ میں خواب میں بھی نہیں کرسکتی تھی، وہ حقیقت میں کیسے کر گئی؟‘‘
’’آپ خود کہتی ہیں آنٹی وہ ماں بیٹی جادو گرنی ہیں کردیا ہوگا وار۔‘‘
’’تم خاموش بیٹھو عفرا، اگر ایسے ہی جادو کرنے والے ہوں جادو گر ہوتے تو آج زید میرے ہوتے۔ میں نے کیا کچھ نہیں کیا تھا ان کو پانے کے لیے‘ ان کی بننے کے لیے سب بے سود ثابت ہوا تھا زید کو نہ میرا بننا تھا نہ وہ میرا بن سکا۔‘‘ عروہ کو ابھی تک طیش تھا۔
’’تم سیڈ مت ہو میری جان‘ میں ان کے خواب مٹی میں ملا دوں گی، اس حال تک جائوں گی کہ زید سودہ کو طلاق دینے میں ہی عافیت سمجھے گا۔‘‘ عمرانہ نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی۔
’’یہ محض آپ کی سوچ سے آگے نہیں بڑھ پائے گا۔ زید سودہ سے کتنی شدت سے محبت کرتا ہے، صرف میں جانتی ہوں، آپ کو کچھ بھی نہیں معلوم اس بارے میں۔‘‘ عروہ نے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے ان کے دعویٰ کو ہوا میں اڑایا۔
’’ماں سے زیادہ اپنی اولاد کے بارے میں کوئی دوسرا اتنا نہیں جان سکتا، جتنا ایک ماں جانتی ہے، اس کی محبت کے بارے میں میں خوب جانتی ہوں۔‘‘
’’پھر یہ دعویٰ کس بنیاد پر کررہی ہو‘ ان کے خواب مٹی کرنے کے ہونہہ، رہنے دو یہ شیخیاں کبھی تم بیٹی کے دبائو میں آجائو اور کبھی بیٹے کے، زیادتی تو میری بیٹی کے ساتھ ہوئی ہے تمہاری باتوں میں آکر میں نے کتنے بڑے بڑے خاندانوں سے آنے والے رشتے ٹھکرا دیے تھے۔‘‘ رضوانہ وقفے وقفے سے انہیں اکسا رہی تھیں۔
’’آپ کو افسردہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے بجیا، عروہ زید کی بیوی ضرور بنے گی، ایک بات میں نے اس کی مانی ہے دوسری اس سے اپنی منوائوں گی۔‘‘
’’جیسے وہ مان لے گا تمہاری بات؟‘‘
’’کیوں نہیں مانے گا ماں ہوں اس کی…‘‘
’’ماں اس کی شروع سے ہو پہلے کیوں نہیں منوائی اپنی بات کیوں میری بیٹی پر سوکن لاکر بٹھا دی۔ خود تو سوکن کا دکھ جھیل رہی ہو… میری بیٹی کو بھی اس دکھ میں مبتلا کرنا چاہتی ہو عمرانہ؟‘‘
’’ممی پلیز… آنٹی کو قصور وار مت گردانیں چاند کے ساتھ داغ ہوتا ہے اور زید بھی میرے دل کے افق پر چمکنے والے چاند ہیں جن پر سودہ کسی داغ کی مانند موجود ہے۔ چاند کا داغ دھلنا ممکن نہیں… مگر میں سودہ نامی داغ کو اس طرح رگڑ رگڑ کر دھوئوں گی کہ اس کا نام و نشان باقی نہ رہے گا۔ بس یہاں مجھے آنٹی کی سپورٹ درکار ہے۔‘‘ اس نے عمرانہ کی سمت دیکھا۔
’’ہاں ہاں کیوں نہیں بیٹا… اگر میری جان بھی مانگو گی تو مجھے منظور ہے۔‘‘ وہ خوشی خوشی پر عزم لہجے میں گویا ہوئیں۔
وہ جو مائدہ کی ہٹ دھرمی سودہ اور زید کے نکاح کے بعد خود کو بالکل تنہا، لاغر و بے بس سمجھنے لگی تھیں ان کو اپنے درمیان میں پاکر پھر سے جی اٹھی تھیں۔ رشتوں کی اہمیت اور اپنوں کی چاہت کی قدر اب ہوئی تھی۔
’’آپ کی زندگی ہی مجھے کامیابی سے ہمکنار کرسکتی ہے۔‘‘ وہ ان کا ہاتھ تھام کر مسکرا کر بولی تو عمرانہ نے اس کو سینے سے لگا لیا۔
سودہ صوفیہ اور زمرد کے ہمراہ ہاسپٹل گئی ہوئی تھی جہاں ان دونوں کا ماہانہ چیک اپ ہوتا تھا جبکہ مائدہ بوا کے ساتھ کچن میں مصروف تھی۔

بڑی پژمردہ سی چال چلتے ہوئی بالی نے لان کے بعد کوریڈور عبور کیا اور لائونج میں صوفے پر بیٹھتے ہوئے ہاتھ میں پکڑا پرس ٹیبل پر رکھا پھر شوز اتار کر صوفے کی بیک سے سر اٹکا کر آنکھیں موند لی تھیں۔ اس کے چہرے پر دکھ کی لہر تھی۔ الجھن و پریشانی اس کے ہر نقش سے عیاں تھی‘ آنکھیں بھربھر آرہی تھیں دل کسی نوکیلے شکنجے میں جکڑا محسوس ہورہا تھا۔ دو دن ہوگئے تھے ماسی کو گم ہوئے۔ پہلے انشراح کے ہمراہ وہ ان کو ہر ممکن جگہ دیکھ آئی تھی اور آج نوفل کے ساتھ ہر ممکن و ناممکن جگہوں کی خاک چھان آئی تھی مگر ماسی کو گویا زمین کھا گئی تھی یا آسمان نگل گیا تھا۔ پورا شہر کھنگالنے کے بعد بھی ان کا کوئی سراغ نہ ملا تھا۔ اس کا دل عجیب سی وحشت کا شکار ہوگیا تھا سمجھ نہ آرہا تھا اب کہاں ڈھونڈا جائے۔
اس پریشانی کی حالت میں نوفل نے بہت ساتھ دیا تھا۔ سارا دن خوار ہونے کے باوجود اس کی پیشانی پر کوئی ناگوار شکن نمودار نہ ہوئی تھی۔ کسی اکتاہٹ بیزاری کا اظہار نہ کیا تھا الٹا اس کو ہی حوصلہ دیتا رہا تھا، پہلی بار اسے نوفل کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملا تھا اور اس کے اندر کی خوب صورتی سے وہ پوری طرح واقف ہوگئی تھی۔ وہ باہر سے جتنا بد دماغ‘ خود سر اور اکڑو دکھائی دیتا تھا دل اس کا اتنا ہی گداز، شیریں و ہمدردی سے لبریز تھا۔ بالی کو وہ بہت بے ضرر محسوس ہوا تھا، بے حد حساس محبت کرنے والا خیال رکھنے والا۔

اس نے تہیہ کرلیا تھا ماسی کے ملنے کے بعد وہ ہر صورت انشراح کو راضی کرے گی نوفل کے پروپوزل کو قبول کرنے کے لیے کہ اس دور میں اس جیسا شخص کسی خوش نصیب کو ہی ملتا ہے۔ انشراح کا خیال آتے ہی اسے گھر میں پھیلی خاموشی و سناٹا چونکا گیا۔ سوچوں کے بھنور میں ڈوبتی ابھرتی خاصی دیر تک وہ صوفے پر نیم دراز رہی‘ اس دوران انشراح اس کے پاس نہیں آئی اور یہ غیر متوقع بات تھی انشراح خفا ضرور تھی مگر اس موقع پر وہ خفگی بھلا کر اس سے ماسی کے متعلق استفسار ضرور کرتی اور ایسا اس نے نہیں کیا تھا۔
’’انشی… انشی… ویئر آر یو؟‘‘ وہ اس کے بیڈ روم میں چلی آئی بیڈر روم اٹیچڈ باتھ، ڈرائننگ روم وہ وہاں کہیں نہیں تھی۔
’’کہاں گئی انشی؟‘‘ وہ سب طرف دیکھ کر گھبرائے لہجے میں بڑبڑائی اور پھر پرس سے سیل فون نکال کر رابطہ کرنا چاہا تو فون آف تھا بھاگ کر اس کو چارجنگ پر لگایا اور خود باہرکی طرف چل دی۔
’’جی ہمیں معلوم ہے بی بی کس کے ساتھ گئی ہیں۔‘‘ اس کے استفسار پر چوکیدار گل خان نے گردن ہلاتے ہوئے کہا۔
’’بابا یہ بات تمیں مجھے آتے ہی بتانا چاہیے تھی۔ کہاں گئی ہے وہ اور کس کے ساتھ گئی ہے؟‘‘ بالی نے غصے سے کہا۔
’’وہ ان صاحب کے ساتھ گئی ہیں جو بیگم صاحبہ کے پاس آتے تھے نام یاد نہیں آرہا ہے ان صاحب کا۔‘‘ چوکیدار بالی کو غصے سے دیکھ کر گڑبڑایا تھا۔
’’کون صاحب؟ نام یاد کرو۔‘‘ ماسی سے ملنے جلنے والوں کی تعداد ان گنت تھی۔ چند ایک کے سوا وہ بھی زیادہ لوگوں کو نہیں جانتی تھی کہ ماسی پہلے ہی ان دونوں کو سختی سے تلقین کردیا کرتی تھیں کہ وہ بھول کر بھی وہاں نہ آئیں۔
’’بی بی وہ وہی صاحب ہے جس نے اپنے ڈرائیور کو یہاں نوکری دلوایا تھا۔‘‘
’’لاریب… تم لاریب کی بات کررہے ہو، وہ آیا تھا یہاں، تم نے اس کو اندر آنے کیوں دیا؟‘‘ اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی اس نے چوکیدار کا گریبان بڑے جنونی انداز میں پکڑتے ہوئے چیخ کر کہا۔
’’وہ… وہ کہہ رہا تھا بی بی صاحبہ سے بہت ضروری بات کرنی ہے بی بی کی اجازت سے اس کو اندر بھیجا تھا۔‘‘ چوکیدار خوف سے کانپتے لہجے میں گڑگڑایا۔

کافی کی دل آویز مہک اس سرد رات میں اس کو فرحت بخش احساس دینے لگی تھی۔ اس کے قدم از خود ہی کچن کی طرف بڑھنے لگے اس کا دل ہمک ہمک کر کہہ رہا تھا وہ دشمن جاں‘ روح قلب وہیں کہیں ہے۔ کل تک جس کو دیکھنے کے لیے دل مچلتا تھا مگر پہروں کے حصار میں تڑپتا رہتا تھا آج پہرے ہٹ گئے تھے‘ حصار ٹوٹ چکے تھے‘ پابندیاں آزادیوں میں بدل گئی تھیں‘ وہ بڑے استحقاق بھرے انداز میں چوکھٹ سے لگ کر کھڑا ہوگیا۔
متاع جان سامنے تھی۔ سیاہ ویلوٹ کے سوٹ پر گولڈن پشمینہ کی شال اوڑھے وہ کیبنٹ سے ڈرائی فروٹ نکالنے مڑی اور بالکل غیر متوقع طور پر زید کو سامنے کھڑے دیکھ کر ساکت رہ گئی۔ وہ جذبے لٹاتی نگاہیں، وہ پُر شوق انداز پہلی بار اس نے زید کو عام دنوں سے مختلف اور خاص انداز لیے ہوئے دیکھا تھا۔
’’تم سمجھ رہی ہو، بازی جیت گئی ہو، یاد رکھنا یہ بازی تم جیت کر بھی نہ جیت پائو گی… زید میرا ہے‘ صرف میرا تمہارا کبھی نہیں ہوگا۔‘‘ چند گھنٹے قبل جب وہ ممی اور ممانی کے ساتھ اسپتال سے لوٹی تو ان کا سامان اٹھائے اندر چلی آئی تھی معاً عروہ نے اس کے سامنے آکر نفرت و اشتعال سے کہا تھا عمرانہ بھی اس کے پیچھے آکر غرائی تھیں۔
’’تم کیوں فکر کرتی ہو ڈارلنگ… یہ جس طرح زید کی زندگی میں آئی ہے اسی طرح چلی جائے گی‘ زید کا ساتھ اس کو کبھی نصیب نہیں ہوگا۔‘‘ وہ تنفر بھرے انداز میں اسے دھکیل کر آگے بڑھ گئی تھیں۔
اس تحقیر و حقارت بھرے رویے اور لفظوں کی گونج ابھی تک اس کی سماعت میں تھی جو زید کے تمام رویوں پر پانی پھیرتے چلے گئے تھے۔ پھر اس کے اندر اترنے والے سناٹوں اور وحشتوں نے ان کے نئے رشتے کی خوب صورتی کو ختم کردیا تھا۔
’’کیا ہوا اس طرح شاکڈ کیوں ہو؟‘‘ وہ اس کے قریب چلا آیا۔
’’یہ میں ہوں کوئی بھوت نہیں ہے جو تم اس قدر ڈر رہی ہو۔‘‘
’’جی مجھے معلوم ہے یہ آپ ہی ہیں کوئی بھوت نہیں۔‘‘ وہ سنجیدگی سے کہتی ہوئی کیبنٹ سے ڈرائی فروٹ کا جار نکالنے لگی۔ زید کو اس کا انداز روکھا و سرد مہر لگا شرماہٹ، نہ گھبراہٹ نکاح کے بعد پہلی بار وہ تنہائی میں آمنے سامنے تھے لیکن اس کا نا فہم سرد و خشک انداز تھا۔
’’میں زید ہی ہوں، مگر تم سودہ ہوکر بھی سودہ نہیں لگ رہیں۔‘‘ کیا کیا نہ سوچتا آیا تھا وہ کہ اس پہلی ملاقات میں وہ کتنا شرمائے گی۔ اس سے نگاہیں نہ ملا پائے گی اس کا خوف حیا میں تبدیل ہوگیا ہوگا لیکن ایسا کچھ نہ تھا ما سوائے بے رخی، بے مروتی و سرد مہری کے۔
’’پتا نہیں کیوں میں آپ کو سودہ نہیں لگ رہی۔‘‘ اس نے کافی میکر سے کافی فلاسک میں ڈالی اور ٹرالی میں دیگر لوازمات رکھنے لگی۔ سنہری شال میں لپٹے چہرے پر سنہری شعاعوں کا عکس جاذبیت دکھا رہا تھا لیکن چمکتی آنکھوں میں عجیب سی اجنبیت تھی۔
’’لائونج میں آجائیں آپ۔ وہاں بڑے ماموں کے ساتھ سب موجود ہیں۔‘‘ وہ سپاٹ لہجے میں کہتی ہوئی ٹرالی آگے لے جانا چاہتی تھی معاً زید نے آگے بڑھ کر اس کا بازو تھام لیا اس کے انداز میں درشتگی تھی۔
’’بازو چھوڑیں میرا زید بھائی…‘‘ آخری لفظ عادتاً ادا ہوئے تھے۔
’’شٹ اپ… آئی ایم ناٹ یور برادر، انڈر اسٹینڈ۔‘‘ ایک آگ سر تا پا اسے جلاتی چلی گئی۔ وہ اس کا بازو جھٹکتا غرایا۔
’’سوری، اب ہاتھ چھوڑیں میرا۔‘‘ وہ عادتاً مجبور تھی۔
’’پہلے یہ بتائو یہ نخرہ‘ یہ تیور کیوں دکھا رہی ہو‘ کیا ہوا ہے؟‘‘ اس نے بازو چھوڑ کر وہی بازو اس کے گرد کس کر اسے قریب کرلیا تھا۔

ظفر اور مراد نے انشراح کے چیخنے چلانے کی پروا کیے بنا اسے گیسٹ ہائوس کے ایک کمرے میں بند کردیا تھا۔ انشراح نے اس کمرے کو تہس نہس کرکے رکھ دیا‘ ایک ایک ڈیکوریشن پیس، سنریز، وال کلاک، پردے، کشنز کچھ سلامت نہ تھا۔ دروازہ پیٹ پیٹ کر وہ تھک گئی تھی نہ کسی کو آنا تھا نہ آیا وہ زخمی شیرنی کی مانند بے کل اور بپھری ہوئی تھی۔
’’سر یہ لڑکی تو اصلی شیرنی لگ رہی ہے روم کو کباڑ خانہ بنانے کے بعد بھی تھکی نہیں‘ ذرا دیکھیں کس طرح ادھر ادھر گھوم رہی ہے۔ چہرے کا غصہ و بے خوفی ملاحظہ کریں، ایسی حالت میں لڑکیاں خوف سے گڑگڑاتی ہیں تھر تھر کانپتی ہیں اور یہ لڑکی شعلۂ جوالہ بنی ہوئی ہے‘ پہلی بار اتنی نڈر اور بہادر لڑکی دیکھ رہا ہوں۔‘‘ وہ اور مراد اسکرین پر اس کمرے کو فوکس کیے بیٹھے تھے جہاں بکھرے ٹوٹے سامان کے درمیان وہ شدید غصے و جنون میں ادھر ادھر چکرا رہی تھی اور اس بات سے بے خبر تھی کہ کیمرے کے ذریعے اس کو دیکھا جا رہا ہے‘ مراد اس کی دلیری بہادری سے خاصا مرعوب و متاثر دکھائی دے رہا تھا۔
’’اب معلوم ہوا تمہیں میں اس لڑکی کو حاصل کرنے کے چکر میں کیوں خوار رہا ہوں‘ یہ لڑکی دوسری لڑکیوں سے ہٹ کر ہے۔‘‘ لاریب کے سامنے ٹیبل پر اس کے پسندیدہ مشروب و لوازمات رکھے ہوئے تھے، گلاس بھر کر پیتے ہوئے وہ بڑے شاہانہ انداز میں مخاطب تھا۔
’’مان گیا سر… آپ کا یہ انتخاب سب سے ہٹ کر لاجواب ہے مگر…‘‘ وہ کچھ کہتا کہتا جھینپ کر رکا۔
’’مگر کیا؟ تجھے معلوم ہے ناں مجھے ادھوری بات پسند نہیں۔‘‘
’’معافی چاہتا ہوں سر… یہ لڑکی کس طرح قابو میں آئے گی میں یہ سوچ رہا ہوں۔ یہ ان طوفانی ہوائوں کی مانند ہے جو پکڑ میں نہیں آتیں‘ صرف تباہی پھیلاتی ہیں بلکہ اس خونخوار شکار کی طرح ہے جو جال کاٹ کر نکل جاتا ہے۔‘‘ وہ باس کا مزاج بگڑتے دیکھ کر دل کی بات کہہ گیا۔
’’تم جھوٹا کھانے کے عادی ہو مراد، تمہیں کیا معلوم اصل شکار کا مزہ تب ہی آتا ہے جب تک شکار خونخوار اور ضدی نہ ہو۔ اس شیرنی کا شکار کرنے کے لیے میں نے بکری کا انتظام کرلیا ہے ایک بوڑھی بکری کا ہاہاہاہاہا۔‘‘ اس کے مکروہ قہقہہ سے کمرہ گونج اٹھا تھا۔
’’میرے لیے کیا حکم ہے سر؟‘‘ مراد نے مؤدب لہجے میں پوچھا۔
’’اس کی ملاقات بڑھیا سے کرا دو۔‘‘ وہ گلاس منہ سے لگاتا ہوا بولا۔ مراد نے ڈرتے ڈرتے انشراح سے جہاں آرأ کی ملاقات کا کہا۔
’’کان کھول کر سن لو اگر تم نے مجھ سے اب کوئی چالاکی کی کوشش کی تو میں جان سے مار دوں گی تمہیں۔‘‘ اس نے سوچ لیا تھا جذبات میں وہ غلط فیصلہ تو کرچکی ہے مگر مزید غلط ہونے سے قبل وہ جان سے گزر جائے گی اور موت کا خوف دل سے نکلتے ہی وہ نڈر و بہادر بن گئی تھی۔ مراد نے فوراً ہی کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے قسم کھا کر یقین دلایا۔
پھر وہ اس کے ہمراہ کئی کوریڈورز اور لان سے گزر کر اس پُرتعیش کمرے میں پہنچی جہاں بیڈ پر جہاں آرأ گم صم انداز میں نیم دراز چھت کو گھور رہی تھیں اور دو دن بعد انہیں سامنے دیکھ کر اسے لگا برسوں بعد دیکھا ہو۔
’’نانی جان… نانی جان۔‘‘ وہ بھاگ کر ان سے لپٹ گئی۔
’’آپ کہاں چلی گئی تھیں بنا بتائے؟‘‘ آنسوئوں کا ایک ریلہ تھا جو اس کی آنکھوں سے رواں ہوگیا تھا۔ وہ بے تحاشہ ان کو پیار کررہی تھی ہاتھوں کو چوم رہی تھی لیکن وہ اسی طرح بے حس و حرکت چھت کو گھور رہی تھیں ذرا بھی جنبش ان کے وجود میں بیدار نہ ہوئی۔ البتہ سانس درست چل رہی تھی۔
’’نانی… نانی کیا ہوا آپ کو…؟ آپ بولتی کیوں نہیں پلیز۔‘‘ کسی طرح بھی ان میں حرکت پیدا نہ ہوئی تو وہ گھبرا کر چیخ اٹھی۔ معاً بھاری قدموں کی آواز پر مڑ کر دیکھا لاریب پیچھے کھڑا تھا اس کی بہکی بہکی نظریں اس پہ ہی مرکوز تھیں۔
’’کیا کیا ہے تم نے نانی کے ساتھ… یہ بول کیوں نہیں رہی ہیں؟‘‘ وہ اس سے مخاطب ہوئی جو کسی درندے کی مانند لمبے لمبے سانس لے رہا تھا جس کی سرخ سرخ ہوس بھری آنکھوں میں نرمی و لچک کا شائبہ تک نہ تھا۔
’’زندہ ہے یہ ابھی اور اس کی زندگی تمہاری مرہون منت ہے ڈیئر۔‘‘ اس درندے کے منہ سے بدبو میں ڈوبے لفظ خارج ہوئے تھے۔
’’کیا کیا ہے تم نے حیوان؟‘‘ انشراح کو نانی کی زندگی خطرے میں لگ رہی تھی۔
’’اس بڑھیا کو میں نے ایسی میڈیسن دی ہے جس کی ڈوز ایک گھنٹے کے اندر اندر نہ دی گئی تو سمجھو بڑھیا دنیا سے گئی تم فیصلہ کرلو میری خواہش پوری کرو گی یا…‘‘ اس نے ذومعنی انداز میں کہتے ہوئے جملہ ادھورا چھوڑ کر اس کی طرف فاتحانہ انداز میں دیکھا۔
پچھے کنواں آگے کھائی کے مصداق وہ بھربھری مٹی کی طرح گرتی چلی گئی تھی۔

(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close