Aanchal Dec-18

تیری زلف کے سر ہونے تک قسط ۲۷

اقراؑ صغیر احمد

حوصلے جب بلند ہو جائیں
مسئلے تب ٹھکانے لگتے ہیں
اس کی زنجیر کے سب ہی حلقے
پاؤں پکڑ کر منانے لگتے ہیں

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)

شاہ زیب پیارے میاں کے گھر جاتا ہے اور وہاں سے آکر سب گھر والوں کو آگاہ کرتا ہے کہ پیارے میاں اپنی فیملی کے ساتھ ملک سے فرار ہوچکا ہے۔ یہ صدمہ سب گھر والوں کے لیے بہت سے مصائب لے کر آتا ہے۔ ایسے میں صوفیہ کی حالت بے حد ابتر ہوجاتی ہے۔ منور صاحب کو بھی سودہ کا دکھ اور رسوائی ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ ان کی بگڑتی طبیعت کے پیش نظر ڈاکٹر کو بلایا جاتا ہے۔ ایسے میں مدثر صاحب شاہ زیب کو سودہ سے شادی کا کہتے ہیں لیکن وہ بھی اس فیصلے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ جہاں آرأ سائرہ سے مدد مانگتی ہیں اور اس کی مرحومہ بیٹی کا تذکرہ کرکے اپنی نواسی کو بچانے کا کہتی ہیں ایسے میں سائرہ ان کی مدد کرنے پر آمادہ ہوجاتی ہے۔ جہاں آرأ وہاں سے مطمئن تو ہوجاتی ہے لیکن سراج اور برکھا کا دھمکی آمیز لہجہ انہیں سکون نہیں لینے دیتا جلد ہی وہ اس سے مہلت لینے اور انشراح کو منانے کا کہہ کر ٹال دیتی ہیں انہی باتوں کے دوران ہوٹل میں فائرنگ کی آواز گونجتی ہے۔ جہاں آرأ اور برکھا بوکھلا جاتے ہیں۔ جنید کی دادی کو یہ بات بالکل پسند نہیں آتی کہ زید کے ہوتے ہوئے چھوٹے بھائی کا نکاح سودہ سے طے کیا جائے وہ سب کو مشورہ دیتی ہیں کہ زید کا نکاح سودہ سے ہونا چاہیے، عمرانہ یہ بات سن کر مشتعل ہوجاتی ہے اور جنید کی دادی کی بات سے صاف انکار کردیتی ہیں یہ تمام صورت حال جنید کے لیے برداشت کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ایسے میں وہ مائدہ اور اپنے رشتے کو ختم کرنے کی بات کرتے ہوئے اسے عمرانہ کو سمجھانے کا کہتا ہے۔ مائدہ اس صورت میں گھبرا جاتی ہے۔ وہ اپنی محبت سے دستبردار ہونا نہیں چاہتی تھی اسی لیے ماں کے ساتھ دھمکی آمیز رویہ اختیار کرتے سودہ اور زید کے نکاح کی راہ ہموار کرتی ہے۔ عمرانہ کو تعریفی کلمات کے لالچ میں الجھا کر وہ اس سے یہ فیصلہ کرانے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔ پہلے بھی عمرانہ نے جس فراخ دلی سے صالحہ کو گھر میں آنے کی اجازت دی تھی اس پر سب ہی لوگ اس کے معترف ہوگئے تھے مائدہ کی ان دھمکیوں پر عمرانہ کے پاس کوئی راستہ نہیں رہتا وہ مجبوراً اس رشتے پر آمادہ ہوجاتی ہیں۔ انشراح کے سامنے نوفل کا ایک نیا روپ سامنے آتا ہے۔ وہ اسے اپنے ساتھ ریسٹ ہائوس میں لے آتا ہے اور اسے شادی کی پیشکش کرتا ہے جبکہ پہلے دوستی اور پھر محبت کا یہ بھرپور اعتراف انشراح کو حیرت سے دوچار کردیتا ہے۔

(اب آگے پڑھیے)


اچانک بے ہوش ہونے والی سودہ کو زید نے پھرتی سے تھام لیا اور اس صورت حال پر گھبرا کر شاہ زیب بھی آگے بڑھا۔
’’ارے یہ سودہ کو کیا ہوا… بے ہوش کیوں ہوگئی؟‘‘
’’گھبرائو نہیں سارا دن جس ذہنی و اعصابی تنائو سے گزری ہے اس کا نتیجہ ہے یہ‘ ٹینشن کے باعث بے ہوش ہوگئی ہے۔‘‘ ابھی وہ کہہ ہی رہا تھا کہ زمرد بیگم اور بوا کی نظریں سب سے پہلے ادھر پڑی تھیں پھر اس کے بعد ہال روم میں یہی صدائیں گردش کررہی تھیں کہ دلہن بے ہوش ہوگئی۔
’’جو کچھ آج ہوا وہ غیر متوقع و سخت اذیت ناک تھا ہمارے اعصاب ابھی تک شل ہیں پھر یہ ایک نازک سی کم عمر بچی ہے کہاں تک برداشت کرسکتی ہے بے ہوش تو ہونا ہی تھا۔‘‘ مدثر اور منور بھی وہاں پہنچ گئے اور منور صاحب نے کہا۔
’’تایا جان اس کو ہوش نہیں آرہا۔‘‘ شاہ زیب نے اسے ہوش میں لانے کی تمام تدبریں کرتے ناکامی سے کہا۔
’’نو پرابلم بیٹا… سودہ کو روم میں لے جائو ریسٹ کرے گی تو ٹھیک ہو جائے گی اس وقت اس کو آرام کی سخت ضرورت ہے۔‘‘ ان کے ہلکے پھلکے انداز میں کہنے پر گھر کی خواتین کے اترے ہوئے چہروں پر رونق بحال ہوئی‘ ماسوائے عمرانہ کے‘ وہ اندر ہی اندر آتش فشاں کی مانند کھول رہی تھیں۔ ہونٹوں پر عارضی مسکان سجائے ان دیکھی آگ میں جلتی وہ گاہے بگاہے بیٹی کے ہنستے مسکراتے چہرے کو گھور رہی تھیں۔ آج اپنی ہی بیٹی نے ان کو شکست دی تھی۔ اپنی خوشیوں کی خاطر ماں کی خوشیاں راکھ کر ڈالی تھیں۔
’’عمرانہ آپ کی بہو بے ہوش ہوگئی۔‘‘ ایک خاتون نے کہا۔
’’منحوس کو کبھی ہوش نہ آئے… ایسے ہی مر جائے اللہ کرے۔‘‘
’’پریشان نہ ہوں یہ تو ٹینشن کی وجہ سے بے ہوش ہوئی ہے۔‘‘
’’ہاں ہاں ریسٹ کرے گی ٹھیک ہوجائے گی آپ فکر نہ کریں۔‘‘ دوسری خاتون نے بھی ان کی خاموشی کو پریشانی پر محمول کیا۔
’’ایکسکیوز می… میں ذرا اپنی بہو کو دیکھ آئوں۔‘‘ وہ مصنوعی فکر مندی ظاہر کرتی مہمان خواتین سے اجازت طلب کرنے لگیں اور اس طرف بڑھ گئی جہاں گھر کے دیگر لوگ موجود تھے۔
’’کیا سوچ رہے ہیں میاں…؟ سودہ بیٹی کو کمرے تک چھوڑ آئیں۔‘‘ حسب عادت بوا کو سودہ کا خیال آیا تو وہ کہہ اٹھیں۔
’’میں… میں چھوڑ کر آئوں گا بوا…؟‘‘ زید سٹپٹا کر گویا ہوا۔
’’آپ ہی جائیں گے… اب یہ آپ کی ہی ذمہ داری ہیں‘ بھول گئے کچھ دیر قبل جو بڑی سعادت مندی سے قبول ہے، قبول ہے قبول ہے کی گردان کی تھی۔‘‘ جنید بھی کہاں پیچھے رہنے والا تھا اور اس کی شوخی پر زبردست قہقہہ لگا اور زید حسب عادت اس کو گھور بھی نہ سکا کہ بڑا مشکل مرحلہ تھا۔
’’بھائی بھابی کو اپنے بیڈ روم میں نہیں لے جائیے گا فی الوقت تو ان کے ہی بیڈ روم میں شفٹ کیجیے گا۔‘‘ شاہ زیب نے بزرگوں کی موجودگی کو بالائے طاق رکھ کر پھر شرارتی لہجے میں کہا اور اس بار قہقہوں کا طوفان امڈ آیا اور زید بھی مسکرا دیا۔ شور و غل نے سودہ کو بھی ہوش کی دنیا میں لاکھڑا کیا تھا۔
/…خ…/
فائرنگ ہوتے ہی وہاں چیخ و پکار مچ گئی تھی یہ ایک درمیانے درجے کا ہوٹل تھا۔ برکھا نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے اس ہوٹل کا انتخاب کیا تھا۔ معزز لوگوں کی آمد و رفت بھی نہ تھی جرائم پیشہ لوگ یہاں آتے جاتے تھے اب وہ اور دیگر ایسے ہی لوگ کمروں سے نکل کر بھاگ رہے تھے۔ جہاں آرأ بھی غائب دماغی کے ساتھ واش روم کی طرف بڑھیں فائرنگ کے ہوتے ہی وہ واش روم میں گھس گئی تھیں کیونکہ یہ ٹارگٹ کلنگ تھی جس میں اصل نشانہ برکھا تھی اور چکی میں پیسنے والے گھن کی مانند سراج بھی مارا گیا تھا چند لمحوں بعد حملہ آوروں کے بھاگنے کی آواز سنائی دی تھی۔
سامنے ہی برکھا کی لاش پڑی تھی جس کی کھلی آنکھوں میں موت کی دہشت جم کر رہ گئی تھی کچھ فاصلے پر سراج بھی اپنے ہی خون میں ڈوبا اوندھا پڑا تھا۔ لمحوں میں وہ زندگی کی پُر فریب راہوں سے نکل کر موت کی پُر ہول وادی کے باسی بن گئے تھے۔ جہاں آرأ نے دراوزے کی اوٹ سے باہر کا منظر دیکھا اور باہر آکر لمحے بھر میں ہونے والا ان کا عبرت ناک انجام دیکھتی رہ گئیں۔
زندگی اور موت کی راہیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں انسان اس بات سے بے خبر ہوتا ہے کہ کب کس موڑ پر زندگی موت کی راہ پر چھلانگ لگا کر قصہ تمام کردے۔ برکھا کا زرق برق لباس، طلائی زیورات بڑے بڑے نوٹوں کے انبار جن کی خاطر وہ اپنا ضمیر و ایمان فروخت کرچکی تھی ان میں سے کوئی بھی اس کو نہیں بچا پایا تھا۔ سراج کی لمبی زبان، تیز دماغ، شاطر پن و مکاری جس پر اس کو بہت ناز تھا وہ سب بھی موت کے آگے بے بس و لاچار ثابت ہوئے تھے اور اب وہ اپنے خون میں تربتر بے یار و مددگار پڑے تھے۔
جہاں آرأ کا سکتہ زیادہ طویل ثابت نہیں ہوا‘ پولیس کے آنے سے قبل وہ یہاں سے نکل جانا چاہتی تھیں وہ تیزی سے وہاں سے نکل کر باہر دوڑتے بھاگتے لوگوں میں شامل ہوگئیں اور ایک ٹیکسی میں بیٹھ کر کچھ آگے بڑھی تھیں جب انہوں نے پولیس کی گاڑیوں کو اس سمت جاتے دیکھا۔ گھر آکر وہ سیدھی اپنے کمرے میں آئیں اور بے سدھ ہوکر بیڈ پر لیٹتے ہی لمبے لمبے سانس لینے لگیں ان کے دل و دماغ کی بری حالت تھی۔
’’خیریت ہے ناں ماسی، تم برکھا کے یہاں گئی تھیں اس نے پھر کوئی دھمکی دی ہے۔ ایسا کیا ہوا ہے جو تمہاری یہ حالت ہورہی ہے؟‘‘ بالی نے ان کے پیچھے آکر فکر مندی سے استفسار کیا۔
وہ جو منظر دیکھ کر آئی تھیں ابھی تک اس کی دہشت و خوف سے باہر نہیں آپا رہی تھیں ہر جگہ خون ہی خون ان کو دکھائی دے رہا تھا اور برکھا کی خوف سے کھلی آنکھیں گویا ان کو ابھی بھی گھور رہی ہوں ان کو یہی لگ رہا تھا۔
’’ماسی، سب ٹھیک ہے ناں؟‘‘ بالی کو بھی خوف سے اختلاج قلب ہونے لگا۔
’’ہاں، سب ٹھیک ہے… سب ٹھیک ہوگیا وہ… وہ برکھا اور سراج دونوں مارے گئے… دونوں مر گئے۔‘‘
’’سچ… دونوں مر گئے۔‘‘ بالی کے لبوں پر مسکان اجاگر ہوئی۔
’’مگر تم تو بہت ٹینشن میں لگ رہی ہو، کسی کی موت کا سن کر خوشی تو کسی کو بھی نہیں ہوتی لیکن جو لوگ کسی کی زندگی چھیننے کے در پے ہوجائیں تو ان کی موت مظلوم کی خوشی کا باعث بن جاتی ہے۔‘‘
’’تم ٹھیک کہہ رہی ہو ان کے مرنے سے مجھے بہت خوشی ہوئی ہے کہ وہ کسی طرح جان چھوڑنے کو راضی نہ تھی مگر اطمینان کے ساتھ ساتھ نہ معلوم ایسا کیا ہے جو مجھے مضطرب اور بے چین کیے ہوئے ہے؟‘‘
/…خ…/
’’میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں… کیا تم مجھ سے شادی کرو گی؟‘‘ اس کے انداز میں بے حد ٹھہرائو اور سنجیدگی تھی وہ اس سے کچھ فاصلے پر کھڑا تھا اس کی آنکھوں میں چاہت کی قندیلیں جگمگا رہی تھیں۔
’’شادی…؟‘‘ انشراح کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوئیں۔
’’ہاں شادی… میں شادی کے لیے کسی لمبے چوڑے افیئر کو نہیں مانتا نہ ہی یہ پسند ہے کہ شادی سے پہلے محبت کی جائے اور دنیا کو تماشا دکھایا جائے کہ ہم محبت کرتے ہیں۔‘‘ وہ اس وقت کوئی اور ہی نوفل لگ رہا تھا۔
’’لیکن… بات دوستی کرنے کی ہوئی تھی۔‘‘ انشراح کو اپنی خود اعتمادی ہوا ہوتی دکھائی دے رہی تھی۔
’’بیوی دوست بھی ہوتی ہے ناں اچھی شادی دوستی سے ہی چلتی ہے اور ہماری شادی مثالی ہوگی ان شاء اللہ۔‘‘ وہ مضطربانہ انداز میں دانتوں سے ہونٹ کاٹ رہا تھا بہت عجیب سے جذبات تھے۔ چہرے کی سرخی اور آنکھوں کی لالی میں اضافہ ہورہا تھا۔ نہ جانے وہ کن لمحات سے گزر رہا تھا اضطراب و انبساط کی دھوپ چھائوں اس کی ذات کا مظہر تھی۔ انشراح تذبذب کا شکار ہوگئی۔
’’میری اسٹڈی ابھی چل رہی ہے۔‘‘
’’شادی کے بعد بھی چلتی رہے گی نو ڈائوٹ۔‘‘
’’ابھی ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنے کی ضرورت ہے یا یوں سمجھ لیں میں اتنے کم ٹائم میں شادی کرنا نہیں چاہتی۔‘‘
’’تمہیں مجھ پر اعتبار نہیں ہے یا اعتبار کرنا نہیں چاہتی؟‘‘ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا گمبھیر لہجے میں گویا ہوا۔
’’بات اعتبار کرنے نا کرنے کی نہیں ہے میں ابھی شادی کرنا ہی نہیں چاہتی۔‘‘
’’اوکے ریلیکس ٹینس مت ہو… میں تمہیں پریشان نہیں دیکھ سکتا پہلی بار میں نے اپنی زندگی میں کسی کی کمی محسوس کی ہے مجھے فیل ہوا ہے‘ میری لائف بے رنگ اور ان کمپلیٹ ہے‘ اپنی بے رنگ زندگی کے ادھورے پن کو میں تمہارے وجود سے مکمل کرنے کی آرزو رکھتا ہوں۔‘‘ وہ پوری طرح سے ٹوٹا بکھرا ہوا ایک شخص تھا جس کے لبوں سے نکلنے والے ہر لفظ میں ذاتی تنہائی و تشنگی کی محسوس کی جانے والی تپش تھی۔
اس کا ہر سانس اس کی محبت سے مہکا ہوا تھا وہ اس سے شادی کا خواہاں تھا بہت سادگی سے پرپوز کرکیا تھا۔ بہت شائستہ و معتبر انداز میں۔ دور بہتا سمندر، سرمئی بادلوں سے ڈھکا آسمان خوشبو بھری نم ہوائیں ارد گرد پھیلا سناٹا اور تنہائی بہکنے کے لیے ماحول سازگار تھا مگر ایک نگاہ غلط نوفل کی اس کی طرف نہ اٹھی تھی۔ وہ اس کے سامنے سینے پر ہاتھ باندھے مودب کھڑا تھا جیسے وہ کوئی بہت قابل احترام ہستی ہے اور انشراح جو مزاجاً مخلص و بامروت لڑکی تھی ماں باپ کے ٹھکرائے جانے کا انتقام لینے کے لیے بے حس و پتھر بن گئی تھی نوفل کے کردار کی مضبوطی و اچھائی اس کو ڈگمگانے لگی تھی۔
’’اینی وے… میں ابھی شادی کرنا نہیں چاہتی شاید کبھی شادی نہ کروں۔ کیا آپ ساری زندگی میرا انتظار کریں گے؟‘‘ اس نے ماحول کے بوجھل پن کو دور کرنے کی خاطر ہنس کر کہا۔
’’ہوں… میں ساری زندگی ویٹ کروں گا مگر تم ایسا کیوں سوچ رہی ہو… کیا تمہاری لائف میں بھی کوئی ٹریجڈی ہے آئی مین…‘‘ وہ نامعلوم کیا پوچھتا پوچھتا لب دبا کر خاموش ہوگیا۔
’’آپ کی زندگی میں صرف ایک ٹریجڈی ہے کہ آپ کے پیرنٹس میں سپریشن ہوگئی اور میری پوری زندگی ٹریجڈی ہے اب کیا بتائوں؟‘‘
’’کچھ نہیں بتائو۔ میں تمہارے بارے میں کچھ جاننا بھی نہیں چاہتا۔‘‘ اس کے بھاری لہجے میں حلاوت تھی اپنائیت تھی۔
’’آپ کے گھر والے بھی کچھ جاننا نہیں چاہیں گے میرے بارے میں۔‘‘
’’نہیں… بالکل نہیں۔‘‘ لہجے میں غضب کا اعتماد و یقین تھا۔
’’ان کے لیے سب سے اہم بات یہ ہوگی کی میں نے اپنا جیون ساتھی چن لیا ہے اس خوشی سے بڑھ کر کوئی اور بات کسی کے مدمقابل نہیں آسکتی۔‘‘
’’گھر میں سب سے زیادہ کس کے قریب ہیں آپ پپا ممی کی تو ڈیٹھ ہوگئی ہے آپ کے۔‘‘ وہ اب سیڑھیوں کی طرف بڑھ رہے تھے کیونکہ ملازم نے عاکفہ اور بابر کے آنے کی اطلاع دی تھی وہ استفسار کرنے لگی۔
’’ڈیڈی کی ڈیتھ ہوگئی ہے۔ مما زندہ ہیں میں ان سے ملنا پسند نہیں کرتا کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کا جینا مرنا یکساں ہوتا ہے۔‘‘
/…خ…/
’’کیا کہا تم نے ذرا پھر سے رپیٹ کرو اپنی بات۔‘‘ یوسف نے چند لمحے ہکا بکا رہنے کے بعد استفسار کیا۔
’’واہ کیا کانفیڈینس ہے میں سمجھ رہی تھی اپنی ناجائز اولاد کا سن کر آپ مکر جائیں گے جھوٹ بولیں گے مجھ سے نگاہیں نہ ملا پائیں گے مگر آپ نے ثابت کردیا وہ آپ کی بھول نہیں تھی آپ عادی ہیں ان گھنائونی حرکتوں کے۔‘‘ وہ چیخنے لگیں معاً وہاں سے گزرتی زرقا ان کی بلند آواز سن کر کمرے میں آگئیں۔
’’حمرہ کیا ہوا ہے جو اتنا ہنگامہ کر رہی ہو؟ پورے پورشن میں آواز گونج رہی ہے ملازموں کا خیال کرو۔‘‘
’’ملازموں کو ہی نہیں پوری دنیا کو میں بتائوں گی اس بے وفا شخص کی اصلیت، کس طرح اپنی حیثیت و مرتبے کا ناجائز فائدہ اٹھاتا رہا ہے’ اس کے وجیہہ اور خوب صورت چہرے کے پیچھے کتنا مکروہ و کریہہ چہرہ پوشیدہ ہے۔‘‘
’’اسٹاپ اٹ حمرہ، ہوش کے ناخن لو… ایسا بھی کیا غصہ کہ انسان بالکل ہی تہذیب و تمیز کا دامن چھوڑ کر جو منہ میں آئے وہ بکتا چلا جائے۔‘‘ زرقا نے جنون و انتقام میں سدھ بدھ بھولی حمرہ کو جھنجوڑ کر کہا۔
’’ہوش کی ضرورت مجھے نہیں آپ کو ہے آپی… اس شخص نے میرے ساتھ آپ کے اعتماد کو بھی توڑا ہے بے وفائی کی ہے دھوکہ دیا ہے۔‘‘ یوسف دہری اذیت کا شکار تھے ایک طرف حمرہ نے ان کے کردار کی بدصورتی کو جس طرح نمایاں کیا تھا وہ نفرت بھرا انداز لب و لہجہ سہنا محال تھا دوسری طرف ان کے منہ سے اپنی بیٹی کی موجودگی کا سن کر ان کے دل کی حالت بن جل مچھلی کی مانند ہوگئی تھی۔
حمرہ ان کی حالت سے بے نیاز اپنے ماتم میں مگن تھی جبکہ زرقا پوری طرح سے یوسف کی دگرگوں حالت سے واقف ہونے کے ساتھ ساتھ حمرہ کو بھی سنبھال رہی تھیں جو سخت جنونی ثابت ہورہی تھی۔
’’یہ قصہ گزرے ماضی کی دھول ہے اس کو جتنا کریدو گی اتنا ہی اپنے سانسوں میں تنگی محسوس کرو گی بہتر یہی ہے حال میں پلٹ آئو۔‘‘
’’ہنہہ…!‘‘ انہوں نے ایک جھٹکے سے زرقا سے اپنے ہاتھ چھڑائے۔
’’اس کا مطلب ہے آپ پہلے سے آگاہ ہیں… اندھیرے میں فقط میں ہوں۔‘‘
’’نہیں… بدگمانی کے جال میں مت پھنسو حمرہ، مجھے بھی چند دن قبل یوسف نے آگاہ کیا ہے تم امریکا گئی ہوئی تھیں۔‘‘
’’میرے ہرجائی پن و بے وفائی کی جو چاہو سزا دے دو میں ہر سزا کے لیے تیار ہوں مگر مجھے یہ بتا دو یہ سب تمہیں کس نے بتایا؟‘‘ وہ کسی سائل کی مانند آنکھوں میں آنسو بھرے کشکول لیے کھڑے تھے۔
’’ہوں… یہ خوب ہے پوری زندگی اپنی من کانیوں میں گزار دی جائے اور جب وقت پڑے تو یہ انداز اپنا لیے جائیں اور دوسرے کے جذبات‘ عزت‘ محبت کی کوئی ویلیو ہی نہیں ہے‘ عورت کے لیے کسی غیر مرد کی طرف دیکھنا بھی حرام ہے اور مرد کے لیے حرام بھی حرام نہیں ہوتا۔‘‘ حمرہ کسی طرح ان کو معاف کرنے پر راضی نہ تھیں۔
’’پلیز حمرہ، یوسف اس حقیقت سے ہی بے خبر تھے کہ وہ ایک بیٹی کے باپ ہیں یہ خبر آج تم نے دی ہے تمہیں کس نے بتائی ہے یہ بات؟‘‘
’’میرا دماغ پھٹ رہا ہے اعصاب شل ہورہے ہیں میں نے یہ سب سن کر بھی یقین نہ کیا تھا۔ میری محبت و اعتماد مجھے جھوٹی تسلیاں دے رہا تھا بہلا رہا تھا کہ یہ سب بکواس ہے‘ یوسف کسی عورت کے ساتھ ایسے تعلقات قائم نہیں کرسکتے‘ میں سارے سفر میں یہی سوچتی آئی تھی کہ یہ سب جھوٹ اور سازش ہے۔ کوئی میرے اور یوسف کے درمیان فاصلوں کو جنم دینا چاہتا ہے۔ میں ان سے کہوں گی تو یہ فوراً میرے سر پر ہاتھ رکھ کر کہیں گے… یہ سراسر جھوٹ ہے بکواس اور لغویات ہے۔‘‘ انہوں نے خاموش ہوکر چند لمحے تنفس درست کیا۔
’’مگر یہاں معاملہ بالکل ہی توقع کے برعکس ثابت ہوا‘ کیسی ندامت، کہاں کی شرمندگی ان کے ہر لفظ میں اعتراف موجود تھا۔‘‘
’’تمہارے دکھ و رنج میں، میں تمہارے ساتھ ہوں‘ تمہاری تکلیف میں فیل کررہی ہوں‘ یوسف سے تمہاری محبت کی گہرائیوں سے بھی آگاہ ہوں‘ کیا اس محبت کے بدلے تم یوسف کو معاف نہیں کرو گی؟‘‘
’’دھوکہ بھی میں کھائوں اور معاف بھی میں ہی کروں؟‘‘
’’تم بھول جائو سب وہ ماضی کی ایک کہانی تھی۔‘‘
’’کیا کہانی تھی جو حقیقت بن کر سامنے آئی ہے۔‘‘ حمرہ کہہ کر وہاں سے چلی گئی تھیں۔
/…خ…/
’’اوہ یہ کیا کر دیا میں نے‘ خود ہی اپنا بیٹا اپنے ہاتھوں سے صوفیہ اور اس کی بیٹی کے حوالے کردیا۔ جس طرح چڑیا چیل سے اپنے بچوں کو چھپا کر رکھتی ہے اس سے زیادہ میں نے اپنے بچوں کی حفاظت کی تھی اور آج کیا ہوا مجھے… کیوں میں نے اپنے اکلوتے کمائو بیٹے کو ان ڈائنوں کے چنگل میں دے دیا اور ہار گئی‘ شکست فاش ہوگئی مجھے۔‘‘ محفل کی گہما گہمی عروج پر تھی، مہمان ضیافت سے لطف اندوز ہونے میں مصروف تھے سودہ کو صالحہ اور بوا وہاں سے لے جاچکی تھیں۔ زید نکاح کی مبارک باد وصول کرنے میں مگن تھا اس کے انداز میں ابھی بھی بے یقینی و بے اعتباری کی کیفیت موجود تھی لبوں پہ بہت پھیکی سی مسکراہٹ تھی۔
لوگ طعام میں مصروف ہوئے تو عمرانہ کو بھی بیٹھ کر سوچنے کی فرصت ملی اور تنہائی میں محسوس ہونے والے پہلے ہی خیال نے گویا ان کے دل کو مٹھی میں لے کر مسل دیا اور وہ تڑپ اٹھیں۔
’’شکست فاش اور یہ بدترین شکست دینے والی کوئی غیر نہیں میری کوکھ سے جنم لینے والی بیٹی ہے۔ میری اپنی بیٹی جس کی خوشیوں کی خاطر میں نے اس کی غلطیوں پر پردہ ڈالا، اس کے عیبوں کے پردہ پوشی کی، اس کی خوشیوں کی خاطر کیا کچھ نہ کیا اور وہ اس قدر خود غرض و بے وفا نکلی کہ ذرا بھی ماں کے متعلق نہیں سوچا، اپنی خوشیوں کی خاطر ماں کی خوشیاں راکھ کر ڈالیں کیا بیٹیاں ایسی ہوتی ہیں؟‘‘ ان کو لگا بھری دنیا میں وہ تنہا رہ گئی ہوں‘ جن بچوں کی خاطر انہوں نے دنیا تیاگ دی تھی وہ ہی ان کو تنہا کرچکے تھے۔ کسی چوکیدار سے بڑھ کر ان کی چوکیداری کی تھی اور بات چوکیداری کی تھی… اس بارش کی رات زید نے محض سودہ کی خاطر اپنا بیڈ روم چھوڑ کر نیچے لائونج میں وہ رات گزاری تھی۔ یہ کوئی معمولی بات نہ تھی زید کسی کی بھی خاطر اپنا روم نہیں چھوڑا کرتا تھا۔ اس بارش والی رات لائونج میں سونا ان کو اس کے دل کے بدلتے موسم کی نوید دے گیا تھا۔ یہ سچ تھا کہ اپنے جذبوں کی خبر اس کو بھی نہ ہونے پائی تھی مگر وہ ماں تھیں اور ایسی ماں جو بچوں کو ہی حیات کا محور مانتی تھیں اور پھر غیر محسوس طریقے سے وہ بیٹے کی ڈھکی چھپی ڈری سہمی محبت سے آگاہ ہوتی چلی گئی تھیں نتیجتاً سودہ کے ساتھ ان کا رویہ سرد سے سرد ہوتا چلا گیا تھا لیکن آج وہ جیت کر بھی ہار گئی تھیں۔ بیٹی کی ہٹ دھرمی اور جارحانہ انداز نے ناممکن کو ممکن بنا دیا تھا۔
’’مما… کیا ہوا آپ یہاں الگ تھلگ کیوں بیٹھ گئی… طبیعت تو ٹھیک ہے آپ کی؟‘‘ زید جو گاہے بگاہے ان کو دیکھ رہا تھا پھرتی سے قریب آکر استفسار کرنے لگا۔ عمرانہ کا دل ایک دم ہی بھر آیا۔
’’ارے کیا ہوا ممی…؟‘‘ مائدہ بھی ان کے پاس آکر فکر مندی سے پوچھنے لگی۔ اس کو دیکھتے ہی ان کے گداز ہوتے دل نے کرختگی اختیار کرلی‘ پلکوں کے پیچھے چھانے والی گھٹا یکلخت جھلسانے والی دھوپ میں بدل گئی۔
’’آپ کے سامنے پوری کہانی بدل گئی‘ بات کہاں سے کہاں جا پہنچی اور آپ مجھ سے پوچھ رہی ہو کیا ہوا ہے ممی؟‘‘ زید کی موجودگی میں جبراً انہوں نے اپنے لہجے پر قابو رکھا تھا وگرنہ دل یہی کررہا تھا کہ سامنے کھڑی مائدہ کا منہ تھپڑوں سے لال کردیں۔
’’یہ تو بہت امیزنگ کہانی ہے ممی… کیوں بھائی آپ خوش ہیں ناں؟‘‘ وہ اب زید سے لپٹ گئی‘ زید کے لبوں پر مسکراہٹ بھی نہ ابھر پائی تھی۔ وہ ماں کے دل کی حالت و جذبات بخوبی سمجھ رہا تھا اسے یہ تجسس ہی شدت سے ستا رہا تھا کہ وہ اتنے بڑے فیصلے پر راضی کیونکر ہوئیں بھلا؟
’’پاگل ہوگئی ہو تم یہ بھی خوشی کی بات ہوسکتی ہے کسی کی مصیبت میرے بچے کے سر تھوپ دی گئی ہے یہ شادی نہیں بربادی ہے بربادی۔‘‘ بالآخر بلی تھیلے سے باہر آگئی تھی‘ ضبط کا پیماں ٹوٹا تو دل کی بھڑاس لبوں پر وارد ہوئی‘ زید کے جذبات مزید سرد ہوگئے تھے۔
’’مما پلیز یہاں تماشہ کری ایٹ کرنے کی کوشش نہ کریں۔‘‘ مائدہ نے عمرانہ سے سرگوشی میں کہا۔
’’جنید اور اس کی دادی ابھی یہاں موجود ہیں… میں نہیں چاہتی وہ آپ کا اصلی چہرہ دیکھیں‘ ایک روپ آپ انہیں دکھا چکی ہیں اور نہیں دکھانے دوں گی‘ مجھے وہاں ان کے گھر جانا ہے‘ میرا ہی خیال کرلیں۔‘‘
’’تم نے میری پروا کی تھی جو میں تمہارا خیال کروں؟‘‘ وہ بھی آہستگی سے غرا کر اس کو گھورنے لگیں۔
’’پھر دکھائیں تماشہ میں بعد میں کیا کرتی ہوں یہ بھی معلوم ہو جائے گا باپ کی محبت سے محروم رہی ہوں خاوند کی چاہت سے دوری برداشت نہیں کرپائوں گی آج نہیں تو کل جنید میرا خاوند ہوگا۔‘‘ ان ماں بیٹی کے الجھنے سے بے خبر زید کسی مہمان کے ساتھ کچھ فاصلے پر محو گفتگو تھا۔ مائدہ دوبارہ ماں کو دھمکی دے کر وہاں سے جاچکی تھی۔
عمرانہ بیٹی کے ہاتھوں شکست پہ شکست کھا کر گھائل دل لیے وہاں سے اٹھ کر مہمانوں کی طرف آگئیں جو فیصلہ انہوں نے کیا تھا اس کی لاج بھی رکھنی تھی کہ آج انہوں نے بے انتہا تعریف و توصیف سمیٹی تھی۔
سوکن کو گلے لگانے کی فراخدلی حالانکہ گلے لگانا دور کی بات آنکھ ملانا بھی انہوں نے پسند نہیں کیا تھا، پھر سودہ کو بہو بنانے کی جو اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کیا وہ گویا لوگوں کو ان کا گرویدہ بنا گئی تھی۔
’’جنید بھائی آج سے قبل آپ نے کبھی اتنا خاموش و افسردہ دولہا دیکھا ہے‘ معمولی سی خوشی کی رمق، ہلکی سی مسرت کی کرن بھائی کے مکھڑے پر نہیں ہے۔‘‘ عمرانہ کی باتوں نے اس کے دل کو کسی خوش فہمی میں مبتلا ہونے نہ دیا تھا اور جس تحقیر و نفرت بھرے انداز میں اس کی شادی کو بربادی کا نام دیا تھا اس کا دل تاریکی میں ڈوب گیا تھا شاہ زیب کی بات بھی اس پر کوئی اثر نہ کرسکی تھی۔
/…خ…/
دروازے پر دستک بہت شدت سے دی جا رہی تھی جہاں آرأ بڑی مشکل سے نیند کی آغوش میں سمائی تھیں معاً مسلسل دستک سے ہڑبڑا کر بیدار ہوئیں۔
’’آ رہی ہوں بابا… صبر تو کرو، چل کر ہی آئوں گی اڑ کر نہیں۔‘‘ انہوں نے غصے سے بڑبڑاتے ہوئے دروازہ کھولا اور اچھل کر دور ہوئیں‘ خوف سے ان کی آنکھیں پھٹ گئی تھیں۔
’’تم… تم دونوں تو مر گئے تھے پھر… پھر یہاں کیسے؟‘‘ سامنے کھڑے سراج اور برکھا کو دیکھ کر وہ گھگھیا کر گویا ہوئیں۔
’’مر گئے تھے…‘‘ سراج نے مسکراتی برکھا کو دیکھ کر قہقہہ لگایا۔
’’تم تو یہی سمجھوگی آیا کہ سراج مر گیا اس کی رقم تمہاری ہوئی اور برکھا بھی مر گئی تو لڑکی دینے سے تم بری الذمہ ہوگئی؟‘‘ سراج کے بعد برکھا نے بھی اس کو گھورتے ہوئے کہا۔
’’یہ کیسے ہوسکتا ہے…! یہ ممکن نہیں ہے کہ تم زندہ ہو‘ تم لوگوں کو مرے ہوئے میں نے خود دیکھا اور مر کر کوئی زندہ نہیں ہوتا۔‘‘ جہاں آرأ کا خوف و دہشت سے براحال تھا۔
’’ ٹھیک کہا تم نے مر کر کوئی زندہ نہیں ہوتا اور ہم مرے نہیں۔‘‘
’’میڈم… کیوں بحث کرتی ہو، یہ عورت ورت خوامخواہ وقت ضائع کررہی ہے۔ مجھے اس سے رقم چاہیے اور تمہیں لڑکی دونوں ہی آسانی سے حوالے نہیں کرے گی۔ میری سوچ سے زیادہ ٹیڑھی عورت ثابت ہورہی ہے یہ۔‘‘
’’پھر تم ہی بتائو کوئی طریقہ جس سے یہ وقت ضائع کیے بنا ہمارا کام کردے ٹائم بالکل بھی نہیں ہے۔ ہمارے پاس۔‘‘ برکھا کے لہجے میں غصہ تھا۔
’’آپا… تم نے سنا میڈم کیا کہہ رہی ہیں؟ شرافت سے میرا پیسہ اور لڑکی میڈم کے حوالے کردو‘ اسی میں تمہاری بچت ہے… وگرنہ… لڑکی تو تمہارے ہاتھ سے جائے گی، پیسہ و دولت بھی اور ساتھ میں تمہاری جان بھی۔‘‘ سرج کے تیور بری طرح بگڑے۔
’’تم لوگ اندر کس طرح آگئے… میں نے چوکیدار کو سختی سے منع کیا تھا۔‘‘
’’بیکار باتیں مت کرو، لڑکی کو بلائو۔‘‘
’’میں نے کہا تھا ناں لڑکی ملے گی نا دولت حاصل کر پائو گے، تم لوگوں کی خیریت اسی میں ہے کہ واپس چلے جائو ورنہ… میں پولیس کو کال کردوں گی۔ پولیس تمہاری ساری بدمعاشی و اکڑ نکال دے گی۔‘‘ جہاں آرأ خوف کے نرغے سے چھٹکارا حاصل کرچکی تھیں۔
’’سراج… تم ٹھیک کہتے ہو یہ عورت سیدھے طریقے سے بات نہیں مانے گی، تم ایک کام کرو، اس کو کھڑکی سے باہر پھینک دو، اس کے مرنے کے بعد ہمارا کام بالکل آسان ہوجائے گا۔ تم اس کی ساری دولت لے لینا اور میں انشراح کو لے جائوں گی… چلو جلدی کرو۔‘‘ برکھا نے گھورتے ہوئے سراج کو حکم دیا اور وہ حکم کی بجا آوری کے لیے گردن ہلاتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔ اس نے آگے بڑھ کر جہاں آرأ کو اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھائے تھے۔ وہ چیختے ہوئے پیچھے ہوکر دیوار سے جا لگی تھیں تب ہی جھٹکے سے آنکھ کھل گئی تھی۔ انہوں نے خوف و دہشت سے ارد گرد دیکھا، وہاں نیم اندھیرے میں سناٹا تھا، دبیز ریشمی پردوں نے شام کو رات کی تاریکی میں بدل دیا تھا۔ ان کی سراسیمہ نگاہیں دروازے کی سمت گئیں۔ وہ اسی طرح بند تھا، جس طرح بالی بند کرکے گئی تھی۔ وہاں سراج تھا نہ برکھا۔ بس ایک عجیب سی پراسراریت کمرے میں محورقصاں تھی۔
/…خ…/
تمہارے شہر کا موسم سہانا لگے
بس ایک شام چرالوں اگر برا نہ لگے
تمہارے بس میں اگر ہو تو بھول جائو ہمیں
تمہیں بھلانے میں شاید ہمیں زمانے لگے
وہ سارا دن بہت خوشگوار گزرا تھا۔ نوفل کی شخصیت کے کئی ان دیکھے پہلوئوں سے آشنائی ہوئی تھی۔ ظاہری طور پر سڑیل، اکڑو، بدمزاج و کڑوے لہجے والا نوفل باطنی طور پر خوش مزاج، ملائم و شیریں طبیعت و اعلیٰ اخلاق کا مالک تھا۔ اس کی شخصیت میں خلوص، اپنائیت و مروت کسی خزانے کے مانند چھپی ہوئی تھی اور اس خزانے سے صرف ان لوگوں کو حصہ ملتا تھا جنہیں وہ اپنے دل سے قریب محسوس کرتا تھا، جو اس کی محبت کا حق دار ہوتا تھا۔
’’کس سوچ میں گم ہوگئی ہو انشی، نوفل بھائی کی محبت پر بھی کوئی شک ہے تمہیں؟ انہوں نے پوری سچائی سے تمہارے آگے اپنا دل کھول کر رکھا ہے۔ ان کے قول و فعل میں ذرا بھی تضاد نہیں ہے۔‘‘ نوفل اور بابر دوسرے روم میں گئے تو عاکفہ نے اس سے کہا۔
’’قول و فعل میں تضاد کی بات نہیں ہے… لیکن پہلے محبت کا اظہار، پھر فوراً ہی شادی کا پرپوزل دینا… یہ سب بہت جلدی نہیں ہے؟‘‘
’’ایک ہی دن میں فرش سے عرش تک چھلانگ لگانے کی سعی کی جا رہی ہے۔‘‘ وہ عاکفہ کے سامنے خاصی گڑبڑا رہی تھی، کیونکہ اس کے انتقامی جذبوں سے پوری طرح صرف بالی آگاہ تھی، حتی کہ اس معاملے میں نانی کو بھی اس نے دور ہی رکھا تھا۔ وہ ان کی لالچی طبیعت سے بخوبی آگاہ تھی اور اب عاکفہ کے خلوص کے آگے وہ نگاہیں نہ ملا پا رہی تھی۔
’’یہی بات تو ثابت کررہی ہے کہ وہ تمہارے معاملے میں کس قدر سیریس ہیں۔ انہوں نے ٹائم ویسٹ کیے بنا تمہیں پرپوز کیا ہے بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ انہوں نے تمہاری مرضی معلوم کی ہے تاکہ باقاعدہ تمہاری نانی سے رشتے کی بات کی جائے۔‘‘ عاکفہ غور سے اس کے چہرے کے بدلتے رنگ دیکھ رہی تھی، جہاں ہر رنگ میں ’’نہ‘‘ نظر آرہی تھی۔
انشراح عجیب دوراہے پر پھنس گئی تھی، یہاں وہ ہورہا تھا جو اس کی پلاننگ کے بالکل ہی برعکس تھا، اس کے لب خاموش تھے۔
’’اس میں اتنا سوچنے کی بات تو نہیں ہے انشی… اگر تم ابھی ذہنی طور پر تیار نہیں ہو تو میں نوفل بھائی کو انتظار کرنے کا کہہ دیتی ہوں، مجھے یقین ہے وہ انتظار کرلیں گے۔‘‘ عاکفہ اس کی کیفیت سمجھ نہیں پا رہی تھی۔
’’میں کبھی بھی شادی نہیں کروں گی، انتظار کرنا فضول ہی ہوگا۔‘‘
’’کیا بچوں جیسی باتیں کررہی ہو، کیوں شادی نہیں کروگی تم؟ آخر کس کے سہارے زندگی گزاروں گی، بوڑھی نانی اور بالی کب تک تمہارا ساتھ دیں گی اور اس معاشرے میں کس طرح زندہ رہ پائوگی‘ جہاں تنہا عورت کے لیے مرد گدھ و بھیڑیے بن جاتے ہیں۔‘‘
’’وہ عورت کمزور ہوتی ہے جو خود کو کمزور سمجھتی ہے، میں کمزور ہوں نہ کبھی بنوں گی، عام عورت سے الگ زندگی ہے میری، میرا حوصلہ و عزم بھی دیگر عورتوں سے جدا اور مضبوط ہے۔‘‘
’’کچھ بھی کہہ لو، یہ حقیقت ہے مرد کے بنا زندگی گزارنا آسان نہیں‘ ہماری زندگی میں بے حد کھٹنائیاں ہوتی ہیں نشیب و فرار آتے ہیں، جو تنہا گزارنا سہل نہیں‘ تمہیں اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
/…خ…/
یوسف کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہاں اپنی بیٹی کو تلاش کریں حمرہ نے زرقا کو بتایا تھا کہ انہوں نے لندن میں اس ڈائریکٹر کی بیوی کا پیچھا اس وقت تک نہیں چھوڑا تھا جب تک اس نے سب کچھ سچ سچ نہ بتادیا تھا۔ اس خاتون کی زبانی ہی معلوم ہوا تھا کہ نویرہ نے لڑکی کو جنم دیا تھا، پھر کچھ عرصے بعد کسی تاجر سے شادی کرکے ملک سے باہر چلی گئی تھی اور جہاں آرأ اس کو پکا معلوم نہ تھا وہ بیٹی کے ساتھ ہی چلی گئی تھی یا نہیں گئی تھی مگر اس کو پھر کہیں دیکھا نہیں گیا تھا۔ بازار تو وہ بہت پہلے ہی چھوڑ چکی تھی۔
اب کسی شک و شبہے کی گنجائش ہی نہ رہی تھی۔ وہ حقیقتاً ایک بیٹی کے باپ بن گئے تھے۔ جائز و ناجائز کی سوچ سے مبرا ہوکر ان کے اندر پدرانہ محبت و شفقت کا ساگر امڈ رہا تھا حالانکہ حمرہ انہیں معاف کرنے کو تیار نہ تھی۔ ناراضی و خفگی کی خلیج ان کے درمیان بے حد وسیع ہوگئی تھی۔ حمرہ ان کا سامنا کرنا چھوڑ چکی تھیں، بیڈ روم بھی علیحدہ کرلیا تھا۔ حمرہ ان کی محبت تھی، نویرہ کے سنگ انہوں نے محض ٹائم پاس کیا تھا۔ زرقا ان کی پہلی بیوی تھی جس کو انہوں نے طویل عرصے تک معمولی سی بھی اہمیت نہ دی تھی۔ حمرہ سے شادی کے بعد ان کا سارا ٹائم فقط حمرہ کے لیے ہی تھا، وہ اس کو دل و جان سے چاہتے تھے اور اس چاہت نے کتنی تنگدستی و نفرت کا ثبوت دیا تھا… ان کے دل کی صدا ابھری تھی کہ والدین کے اولاد کے حق میں کیے گئے فیصلے بہترین ہوتے ہیں اس ٹھکرائی ہوئی عورت نے ہر موڑ پر ان کو سہارا دیا تھا۔ آج بھی وہ سب بھلا کر ان کے درمیان پل بننے کی کوشش میں تھیں۔ ماضی کی رنگینیاں اب اپنی پوری کریہہ صورتوں کے ساتھ ظاہر ہو رہی تھیں۔ کوئی اور وقت ہوتا تو وہ حمرہ کے واویلوں میں الجھ کر رہ جاتے مگر یہاں معاملہ نوفل کا تھا۔ نوفل جو ان کی اولاد نہ ہوتے ہوئے بھی اولاد سے بڑھ کر تھا۔ انہیں اس کی غیر محسوس طریقے سے نگرانی کروانی پڑ رہی تھی کہ تنویر تاک میں بیٹھا تھا کب موقع ملے کب وہ اپنا وار کر جائے… آج سارا دن وہ گھر سے باہر رہا تھا۔ دن رات کی آغوش میں چھپ جانے کو تیار تھا۔ سارا دن بادلوں کی سورج سے آنکھ مچولی جاری رہی تھی اب بھی گہرے بادلوں کی سیاہی کائنات کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی۔ اور اس تاریکی نے شام کو رات میں تبدیل کردیا تھا۔ ان کا دل مضطرب ہونے لگا تھا۔ دل میں پہلے ہی اداسی و بے قراری کا موسم تھا۔ نوفل کی سارے دن کی غیر حاضری انہیں وسوسوں کا شکار کرنے لگی جس سے گھبرا کر انہوں نے اس کو کال کر ڈالی تھی۔
’’نوفل بیٹا… کب تک واپسی ہے آج آپ نے سارا دن گھر سے باہر اسپینڈ کیا، آپ کی غیر موجودگی میں‘ میں بہت ہی بور ہوا ہوں۔‘‘
’’سوری پاپا… آج سارا دن گزر گیا اور میں فیل ہی نہ کرسکا کہ دن کس طرح اتنی جلدی رات میں بدل گیا۔‘‘
’’اوہ… آپ کو معلوم ہی نہ ہوا کہ دن کس طرح تیزی سے گزر گیا اور مجھے لگا لمحہ لمحہ کچوے کی چال سے گزرا ہے۔ ہاہاہا یہ سارا کمال ہوتا ہے گید رنگ کا، لوگ ہم مزاج ہوں تو وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا‘ لگتا ہے آپ کو کچھ زیادہ ہی اچھے لوگ مل گئے ہیں۔‘‘ انہوں نے شوخ انداز میں قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔
’’جی… گھر آکر سب بتاتا ہوں آپ کو۔‘‘ اس کا انداز بھی شوخ ہوا۔
/…خ…/
’’کیا ہوا ماسی، کیوں چیخ رہی تھیں؟‘‘ بالی ان کی دلدودز چیخ سن کر وہاں آئی تھی اور بیڈ پر خوف زدہ و سہمی ہوئی جہاں آرأ پر نگاہ پڑی اس نے جھٹ پٹ تمام سوئچز آن کرکے کمرہ روشن کردیا تھا۔
’’ماسی… خیریت تو ہے ناں کیا ہوا ہے بہت ڈری ہوئی ہو؟‘‘ بالی نے بیٹھ کر ان کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔
’’وہ… وہ دونوں… آئے تھے ابھی…‘‘
’’کون دونوں آئے تھے؟ میں نے تو کسی کو آتے ہوئے نہیں دیکھا۔‘‘
’’آئے تھے وہ دونوں… برکھا اور سراج… سراج اپنا پیسہ مانگ رہا تھا اور برکھا انشراح کو لے جانے آئی تھی…‘‘ وہ بے ربط انداز میں بولیں، ان کی آنکھوں میں خوف ہی خوف تھا، ہوش و خرد سے بالکل بیگانہ محسوس ہورہی تھیں۔
’’وہ دونوں مر گئے ہیں۔ تم نے ضرور کوئی خواب دیکھا ہے۔‘‘
’’نہیں وہ نہیں مرے، وہ زندہ ہیں اور یہی بتانے آئے تھے کہ وہ مرے نہیں… زندہ ہیں اور ہر حال میں اپنا پیسہ اور انشراح کو لے کر جائیں گے۔ بالی… بالی ایسا کرتے ہیں ہم سب کہیں چھپ جاتے ہیں کسی ایسی جگہ جہاں وہ ہمیں ڈھونڈ نہ سکیں، کبھی بھی ڈھونڈ نہ پائیں۔‘‘ بالی کو ان کا ذہنی توازن درست نہ لگا۔
’’ماسی… یاد کرو تم نے خود ان کی لاشیں دیکھی ہیں‘ وہ مر گئے اور مرنے کے بعد کوئی زندہ نہیں ہوتا۔‘‘
’’وہ مر گئے… میں نے خود دیکھا ہے انہیں، وہ دونوں زندہ ہیں اور بار بار اپنے مطالبات کا تقاضا بھی کررہے ہیں… بلکہ وہ برکھا کہہ رہی تھی اگر میں نے اس کی بات نہ مانی تو وہ سراج سے کہہ کر مجھے کھڑکی سے باہر پھنکوا دے گی… اور وہ سراج، وہ میرا گلہ دبانے آرہا تھا… تم انشراح کو بلائو، ہمیں ابھی اور اسی وقت یہ گھر چھوڑ کر کہیں روپوش ہونا پڑے گا۔‘‘ ہوش و حواس سے بیگانہ وہ خوف کا پیکر لگ رہی تھیں۔ بالی کا بازو بڑی سختی سے دبوچے ہوئے وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے بول رہی تھیں۔ گویا کہیں سے بھی برکھا اور سراج نمودار ہوجائیں گے۔
ان کی اس ڈری سہمی بلکہ ذہنی طور پر مفلوج حالت نے بالی کو بری طرح شاک پہنچایا‘ آج سے قبل اس نے انہیں اس طرح ڈرتے ہوئے یہیں دیکھا تھا۔
’’بالی… تم اس طرح کیوں کھڑی ہو، کیا تمہیں بھی ڈر لگ رہا ہے ان دونوں سے… تم بھی ڈر رہی ہو ناں؟ تمہیں بھی انہوں نے ڈرایا ہے… ہاں… تمہیں بھی ڈرایا ہے وہ ایسے ہی خطرناک لوگ ہیں اب کیا کریں کہاں جائیں گے ہم؟‘‘ وہ بالی کو گم صم دیکھ کر خوف زدہ انداز میں گویا ہوئیں۔
’’ہم کہیں نہیں جائیں گے، یہاں اپنے گھر میں ہی رہیں گے…‘‘
’’تمہیں ڈر نہیں لگ رہا؟ وہ بہت خطرناک لوگ ہیں سراج ہم دونوں کو کھڑکی سے باہر پھینک دے گا، یا پھر گلا دبا کر مار دے گا اور پھر برکھا کا راستہ صاف ہوجائے گا وہ انشراح کو اپنے ساتھ لے جائے گی۔‘‘
’’ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا ماسی‘ وہ دونوں مر گئے ہیں‘ اب دنیا میں واپس نہیں آئیں گے۔ دنیا سے جانے کے بعد کوئی واپس نہیں آتا۔‘‘ بالی نے ٹھنڈے پانی کے چھینٹے ان کے چہرے پر مارے ھے اور اس وقت تک مارتی رہی جب تک وہ پھریری لے کر حواسوں میں نہ آگئی تھیں۔
’’یہ… اتنی سردی میں کیوں بھگو رہی ہو مجھے دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا بالی… کیا کررہی ہو تم؟‘‘ بڑے چوکنا انداز میں انہوں نے بالی کو ڈانٹا اور بالی کے اضطراب کو قرار آنے لگا تھا۔
’’شکر ہے ہوش میں آگئی ورنہ میرا تو دم ہی نکلنے والا تھا۔‘‘
’’ایسا کیا ہوگیا تھا مجھے جو تمہارا دم نکلنے لگا تھا؟‘‘ وہ بالی سے ٹاول لے کر چہرہ و گردن صاف کرتے ہوئے استفسار کرنے لگیں۔ بالی نے بھی ایک ایک بات دہرائی تو وہ سن کر ہک دک رہ گئیں۔
’’میں ایسی باتیں کررہی تھی… کیا پاگل ہوگئی تھی میں؟‘‘
’’انسانی خون دیکھنا آسان کام نہیں ہوتا ماسی۔‘‘
’’ہوں صحیح کہہ رہی ہو کل تک میں اس کی موت کی تمنائی تھی… لیکن یہ معلوم نہ تھا موت سے بے خبر دنیا کے مزے میں مگن زندگیوں کو لمحہ بھر میں موت کے ہاتھوں میں دیکھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی ہے۔‘‘
/…خ…/
رات کا سیاہ آنچل دھیرے دھیرے سرک رہا تھا۔ صبح کی روشن پیشانی نمودار ہوچکی تھی۔ کل سارا دن اور رات تک متحرک رہنے والے لوگ بے خبر سو رہے تھے۔ فجر کی نماز کی ادائیگی بھی بمشکل ہوئی تھی۔
ان میں ایک سودہ تھی جس کی آنکھوں میں نیند لمحوں کے لیے آئی تھی۔ وگرنہ وہ تنہائی میسر آتے ہی خالی ذہن کے ساتھ چھت کو گھورتی رہی تھی۔ کیا عجیب کھیل کھیلا تھا اس کے ساتھ مقدر نے‘ کل تک وہ مسز پیارے بننے والی تھی اور آج مسز زید بن گئی تھی۔ مسز پیارے بننا کوئی کمال نہ تھا مگر مسز زید بننا بہت بڑی انہونی تھی، بے حد حیران کن بات تھی… وہ ایک ایسے شخص کی شریک حیات بنادی گئی تھی جس سے ہمیشہ اس کو دور رکھا گیا تھا کہ جس کی پرچھائیں سے بھی اس کو خوف محسوس ہوتا تھا۔ یہی خوف اس کے ساتھ ساتھ پروان چڑھا تھا اور اب بے خوف اس کے حوالے کردی گئی تھی۔ اس سوچ نے ہی اس کا ذہن مائوف کردیا تھا۔ اس لمحے صوفیہ نے کروٹ بدلی اور اس نے بھی گہری سانس لے کر خود کو قسمت کے حوالے کردیا تھا کہ جو ہونا تھا وہ ہوچکا تھا۔
روٹھی ہوئی سردی کراچی پر مہربان ہوچکی تھی۔ شال لپیٹے ہوئے وہ باہر آئی۔ سارا گھر سناٹے و نیم تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس نے بوا کے کمرے کی طرف دیکھا وہاں بھی دروازہ بند تھا۔ خلاف معمول آج وہ بھی بیدار نہ ہوئی تھیں ورنہ وہ چڑیوں سے پہلے جاگنے کی عادی تھیں، لگتا تھا آج سب کا لمبی تان کر سونے کا ارادہ تھا۔ وہ کچن میں آئی‘ رات سب کے اصرار کے باوجود اس نے کھانا نہیں کھایا تھا۔ اب چائے کی طلب محسوس ہورہی تھی۔ برنر جلا کر اس نے چائے تیار کرنے رکھ دی۔ معاً خیال آیا کہ کوئی بیدار ہو نہ ہو بڑے ماموں اپنی روٹین کے مطابق نماز فجر کے بعد سونے کے عادی نہ تھے۔ اس نے کچن کی کھڑکی سے دیکھا باہر ہلکی سی کہر چھائی ہوئی تھی۔ سرمئی غبار فضائوں میں چھایا ہوا تھا‘ سورج کے طلوع ہونے میں ابھی وقت تھا‘ کچھ فاصلے پر ماموں کی پشت دکھائی دے رہی تھی۔ وہاں چھتری تلے رکھی چیئر پر وہ بیٹھے ہوئے تھے۔
چائے تیار کرکے اس نے کیٹل میں بھری، پھر کیٹل پر ٹی کوزی چڑھا کر ٹرے میں کپ ساسرز کے ساتھ رکھ کر وہ کچن سے نکل آئی۔ لان میں قدم رکھتے ہی تیز ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نے اس کے چہرے کو چھوا تھا۔ سردی کے ساتھ ایک تازگی بھرے احساس نے بھی اس کو پژمردگی سے نکالا تھا۔
’’السلام علیکم! صبح بخیر ماموں جان۔‘‘ اس نے ٹرے ٹیبل پر رکھتے ہوئے انہیں سلامتی دی، وہ جو نیوز پیپر پڑھنے میں ارد گرد سے بے خبر تھے۔ اس کی کومل آواز پر سر اٹھایا اور خوشگوار لہجے میں گویا ہوئے۔
’’ارے تم اٹھ گئیں بیٹا؟ خوش و آباد رہو۔‘‘ انہوں نے اٹھ کر اس کے سر پر دست شفقت رکھا اور دعائوں سے نوازا۔ ’’سدا سہاگن رہو بیٹی… اس وقت چائے کی شدید طلب ہورہی تھی۔‘‘ وہ بھاپ اڑاتے کپ کو اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے گویا ہوئے اور لفظ سہاگن اسے گم صم سا کر گیا تھا۔ وہ کھڑی کی کھڑی رہ گئی تھی۔
’’کیا میں سہاگن ہوں؟ زبردستی کے باندھے گئے بندھن پائیداری کی سند پاتے ہیں کبھی، جذبۂ ہمدردی کے تحت اس کو قبول کیا گیا تھا یا خاندانی ناموس کو بے داغ رکھنے کے لیے یہ سب کیا گیا تھا ماموں۔‘‘ آہ دل سے نکلی۔
معاً بھاری قدموں کی مانوس آواز پر وہ سراسیمہ سی ہوئی‘ پھرتی سے سر پر جمی شال کو چہرے کی طرف کھینچا، دل کی دھڑکن تیز ہوئی اور پورے بدن میں سنسناہٹ سی دوڑ گئی تھی۔
’’آئو… آئو بیٹا گڈ مارننگ…‘‘ منور صاحب نے کپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے بڑی گرم جوشی سے آگے بڑھ کر زید کے سلام کا جواب دیتے ہوئے گلے لگایا۔
منور صاحب سے گلے ملتے ہوئے زید کا چہرہ اس کی طرف تھا۔ نگاہ سیدھی اس پر پڑی جو لائٹ کلر سوٹ پر پرپل کلر کی کشمیری شال میں اپنا ملکوتی چہرہ جھکائے بیٹھی تھی۔ زید کی تھکی ہوئی آنکھوں میں ایک دم ہی زندگی انگڑائی لے کر بیدار ہوئی اور لب بے ساختہ مسکرا اٹھے کہ اس کو پانا ایک دیوانے کا خواب تھا اور آج وہ تعبیر بن کر اس کے سامنے بیٹھی تھی۔ جتنی دور تھی اتنی ہی اس کی اپنی تھی۔ اب وہ شجر ممنوع نہ رہا تھا۔ سرشاری و طمانیت کے سمندر میں وہ ڈوبتا چلا گیا تہہ در تہہ۔
’’چائے ٹھنڈی ہوجائے گی بیٹا۔‘‘ وہ سودہ کے چہرے پر نظریں جمائے یہ بھول ہی گیا تھا کہ وہ تایا کے شانے سے لگا ہوا ہے۔ ان کی مسکراتی آواز پر خجالت بھرے انداز میں علیحدہ ہوا۔
’’آئو چائے پیتے ہیں۔‘‘ وہ دوستوں کے انداز میں اس کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھے اور اسے کرسی پر بیٹھا دیکھ کر سودہ گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’ارے تم کہاں جا رہی ہو بیٹی۔‘‘ منور صاحب مسکرا کر بولے۔
’’وہ… اندر… ممی اٹھ گئی ہوں گی چائے دے دوں انہیں۔‘‘ اس نے اپنی بوکھلاہٹ پر بمشکل قابو پایا۔
’’کوئی نہیں اٹھے گا ابھی، سب آدھی رات کے بعد ہی سوئے ہیں اور… صوفیہ کے بیدار ہونے کی بات رہنے دو، وہ دوپہر تک ہی جاگے گی، تم آرام سے ہمارے ساتھ بیٹھ کر چائے پیو۔‘‘ ان کا انداز حتمی تھا وہ طوعاً کرہا بیٹھ گئی۔ دل کی دھڑکن گویا پورے وجود میں سرائیت کر گئی تھی۔ وہ کانپتے ہاتھوں سے اس کے لیے چائے بنانے لگی۔ چائے میں چینی ملاتے ہوئے ہاتھ کی لرزش نے چوڑیوں اور چمچ کی کھنکھناہٹ سے عجیب جلترنگ فضا میں بکھیر دیا تھا۔ اس کی بوکھلاہٹ و گھبراہٹ کو محسوس کرکے زید تو دل میں محفوظ ہورہا تھاجبکہ منور صاحب نے دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا۔
’’اتنی گھبراہٹ کی کیا بات ہے بیٹا… زید سے اب آپ کا رشتہ بدل گیا ہے‘ بے شک ابھی نکاح ہوا ہے رخصتی نہیں ہوئی مگر یہ تعلق اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ کسی سے ڈرنے جھجکنے کی ضرورت نہیں رہتی۔‘‘
’’جس طرح یہ مجھے دیکھ کر بھاگ رہی تھیں لگتا ہے میری موجودگی میں اب یہ گھر کے کسی کونے کھدرے میں کاکروچ کی مانند چھپ جائیں گی۔‘‘ رشتہ بدلا تو زید کا لہجہ بھی بدل گیا تھا۔
’’نہیں ہرگز نہیں‘ جس طرح سے پہلے رہتی آئی تھی اس طرح سے بلکہ اس سے بھی زیادہ حاکمانہ انداز میں رہو۔ کل تک اس گھر کی تم بیٹی تھیں اور آج بہو بھی ہو اب کسی سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں… جس طرح کل تک پورے گھر میں بلا روک ٹوک پھرتی تھیں اب بھی اسی طرح رہنا اور میری نصیحت ہے…‘‘ وہ چائے پیتے ہوئے سنجیدہ ہوکر کچھ توقف سے گویا ہوئے۔
’’عمرانہ کا خیال تمہیں پہلے سے زیادہ کرنا پڑے گا اور ہوسکتا ہے وہ تمہارے لیے پہلے سے زیادہ سخت اور سرد مہر رویے کا مظاہرہ کرے۔ بہت دل آزاری و پریشانیوں کا بھی سامنا کرنا پڑے بہرحال اس نے جس جذبے کے تحت بھی یہ کام کیا ہے بڑے ظرف و بڑائی کی بات ہے‘ پہلے اس نے صالحہ کو اس گھر میں آنے کی اجازت دی پھر تمہیں بہو بنا لیا۔‘‘
’’بات آپ کی بالکل درست ہے تایا جان، ڈیڈی سے دلبرداشتہ ہونے کے بعد ممی کی تمام توقعات مجھ سے وابستہ ہوگئی تھیں‘ انہیں یقین سے بھی بڑھ کر یقین تھا میں ان کو کبھی مایوس نہیں کروں گا اور بخدا میں نے ایسا ہی کیا ماسوائے ایک ان کی خواہش کو رد کرنے کے علاوہ۔‘‘
’’ایسی کیا خواہش تھی وہ مجھے یقین نہیں آرہا آپ عمرانہ کی کسی آرزو کی نفی بھی کرسکتے ہیں۔‘‘ منور صاحب سخت متعجب ہوئے۔
’’وہ خواہش رکھتی ہیں کہ میں عروہ سے شادی کروں۔‘‘ بولتے ہوئے اس کی غیر ارادی نگاہیں سودہ کے چہرے پر گئیں جو ہنوز شال کی اوٹ میں ملفوف جھکا ہوا تھا۔
/…خ…/
رات گئے اس کی واپسی ہوئی تھی سارا دن ان لوگوں کے ساتھ گزرنے کا بالکل بھی احساس نہ ہوا تھا۔ نوفل بہت بہترین بے حد کیئرنگ میزبان ثابت ہوا تھا۔ اس کے ملازمین بھی ٹرینڈ تھے مشروبات آئسکریم چائے کافی کے ساتھ فرائڈ ڈرائی فروٹس و چائنیز اور اٹالین ڈشز سرو کرتے رہے تھے۔ رات ساحل پر ہی بار بی کیو تیار کرنے کا اہتمام تھا اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائوں کے ساتھ گرم گرم مزے دار بار بی کیو آئٹمز نے موسم کا مزہ دوبالا کردیا تھا۔ ڈنر کے دوران اور ڈنر کے بعد قہوہ نوش کرنے تک وہ لوگ خوشگوار باتوں میں مصروف رہے ماسوائے انشراح کے۔ عاکفہ کو اس نے صاف انکار کردیا تھا وہ نوفل سے شادی نہیں کرے گی جس کا عاکفہ نے خاصا برا مانا تھا اور اس کا انکار لے کر وہ وہاں گئی تھی اور وہ اس سے شدید رد عمل کی توقع کررہی تھی کہ نجانے وہ اب کیا رویہ رکھے گا۔ یہ حقیقت تھی اپنی بات کی نفی، اپنی ذات کی نفی کوئی ایک ہی برداشت کرتا ہے ورنہ اصل دشمنی یہی سے شروع ہوتی ہے لیکن یہاں اس نے بہت تحمل بردباری و ضبط کا مظاہرہ کیا‘ اس کے تیور بدلے تھے نہ رویہ۔ اس کی خاموشی کو اس نے شدت سے نوٹ کیا تھا اور عاکفہ بابر کے آگے بڑھتے ہی بھاری لہجے میں اس سے مخاطب ہوا۔
’’تم چپ کیوں ہو عاکفہ کا میری فیور میں بولنا برا لگا ہے کیا؟‘‘
’’نہیں، ایسی کوئی بات نہیں۔‘‘
’’پھر خاموش رہنا کا کوئی ریزن تو ہوگا۔‘‘ اس نے نفی میں سر ہلایا پھر سردی بڑھ جانے کے باعث ان لوگوں نے واپسی کی راہ لی تھی۔ وہ عاکفہ کے ساتھ بیک سیٹ پر براجمان تھی بابر فرنٹ سیٹ پر تھا جبکہ ڈرائیو نوفل کررہا تھا سارے دن کی تھکن عود کر آئی تھی عاکفہ نے اس کے شانے پر سر رکھ کر آنکھیں موند لیں‘ بابر بھی سیٹ کی بیک سے سر ٹکا کر آنکھیں بند کرکے شاید آرام کررہا تھا راستے بھر وہ دونوں جاگتے رہے تھے اور وہ لمحہ لمحہ اس کے وجیہہ چہرے پر اداسی و رنج کی کیفیت دیکھتی آئی تھی چہرے پر حزن تھا آنکھوں میں سوز۔ وہ اس قدر سنجیدہ اور کرب میں مبتلا تھا کہ اس کو یہ بھی خبر نہ ہوسکی تھی کہ وہ کتنی توجہ سے اس کا جائزہ لے رہی تھی اور اندر ہی اندر کتنی مسرور تھی اس کے دشمن کی جان اس طوطے میں ہی تھی اسے ایک دم مارنے والی وہ نہ تھی اس کی خواہش تھی اس طوطے کی بار بار گردن مروڑی جائے کیونکہ اس کی اذیت کسی اور کی اذیت تھی وہ بنگلے کے باہر اس کو چھوڑ گیا تھا اور وہ مسرور سی بالی سے ہیلو ہائے کرکے سو گئی تھی اور تھکن اتنی تھی کہ اس نے بالی کی غیر معمولی سنجیدگی بھی محسوس نہ کی تھی۔
صبح ناشتے کی ٹیبل پر کئی نیوز اس کی منتظر تھیں برکھا اور سراج کا قتل جہاں آرأ کا وہاں سے آنا اور خواب میں ڈر جانا سب ہی زیر گفتگو تھا۔
’’حیرت ہے کسی سے نہ ڈرنے والی نانو دو مرے ہوئے لوگوں سے خوف زدہ ہیں جبکہ ان کو قتل کرانے میں تمام تر کوشش ان کی ہی ہے۔‘‘
’’ماسی کوشش نہ بھی کرتیں تو مرنا تو ان کو تھا ہی زمین پر رہ کر زمین و آسمان والے سے بے خوفی و نڈر پن ایک دن ایسی ہی موت دیتا ہے۔‘‘
’’ہوں… اب تو نانو بالکل ٹھیک ہیں ناں؟‘‘ اس نے جوس کا گلاس خالی کرکے ٹیبل پر رکھتے ہوئے متفکر انداز میں پوچھا۔
’’ہوں… میں نے احتیاطاً رات ہی ڈاکٹر سے چیک اپ کرایا تھا ڈاکٹر کی بھی یہی رائے تھی وہ کسی خوف کے زیر اثر ہیں‘ اس نے ذہنی سکون کی دوائیاں دی تھیں وہ کھا کر سو رہی ہیں۔‘‘ بالی نے چائے پیتے ہوئے کہا۔
’’چلو اچھا ہے… جتنا سوئیں گی اتنا مائنڈ فریش ہوگا۔‘‘
’’اور تم سنائو کل کا ٹرپ کیسا رہا… کہیں نوفل نے پرپوز کرنے کے لیے تو نہیں بلایا تھا؟‘‘ وہ ناشتے سے فارغ ہوکر لائونج میں چلی آئیں۔
’’ہاں اس نے پرپوز کیا ہے بلکہ عاکفہ سے بھی سفارش کرائی تھی کہ میں اس کی نہیں تو عاکفہ کی بات ہی مان لوں۔‘‘
’’رئیلی مجھے پہلے ہی پتا چل گیا تھا وہ تمہیں پرپوز کرنے کے لیے ہی بلا رہے ہوں گے اور تم نے کیا کہا؟‘‘ وہ خاصی پُر جوش تھی۔
’’یہ پتا نہیں ہے تمہیں وہ اگر مجھے پرپوزل دے گا تو میں کیا جواب دوں گی؟‘‘ وہ پائوں پر پائوں رکھ کر طنزاً مخاطب ہوئی۔
’’تم نے انکار کردیا ہوگا؟ دس از ناٹ فیئر۔‘‘
’’تھینکس گاڈ مجھے کسی حد تک بھی سمجھتی ہو ورنہ میرے خیال میں تم ساری انرجی نوفل بھیا پر ہی ضائع کردیتی ہو۔‘‘
’’یہ تم نے ذرا اچھا نہیں کیا… اس دور میں کون ایسا ہے جو اتنی محبت کا مظاہرہ کرے‘ اس سے بڑھ کر ان کی محبت کا ثبوت کیا ہوگا کہ انہوں نے فضولیات میں وقت ضائع کرنے کے بجائے تم سے شادی کی خواہش بیان کردی‘ سچی محبت یہی ہوتی ہے۔‘‘
’’مائی فٹ سچی محبت… ہونہہ… یہ دولت مند خاندانی شکاری ہوتے ہیں سب کا شکار کرنے کا الگ الگ طریقہ و انداز ہوتا ہے۔ کوئی شرافت کی نقاب لگا کر شکار کرتا ہے تو کوئی مکاری کا ماسک استعمال کرتا ہے۔ لاحاصل کو حاصل کرنے کے لیے کئی تدبیریں کرنی پڑتی ہیں نوفل بھی شرافت کا پرچار کرکے مجھے حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن اس بار الٹ ہے۔ شکار اپنا جال شکاری پر ہی ڈال رہا ہے۔‘‘ وہ مسکرا کر گویا ہوئی معاً دور سے کوئی چیخ گونجی اور متواتر چیخنے کی آوازوں نے انہیں پریشانی سے اٹھ کر بھاگنے پر مجبور کردیا تھا وہ جہاں آرأ کے کمرے کی طرف تیزی سے آئی تھیں۔
/…خ…/
’’اپنی بات جاری رکھو میری بیٹی کو ایسی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا بہت فراخ دل ہے میری بیٹی ایسی باتوں کی پروا نہیں کرتی ہے۔‘‘ وہ اس کی نگاہوں کی چوری پکڑ کر شوخی سے بولے۔
’’اوہ… سوری میرا یہ مطلب نہیں تھا میں یہ بتا رہا تھا کہ مما کی یہ آرزو مجھ سے پوری نہ ہوسکی اور ہوتی بھی کیونکر تاحیات ایک ایسے تعلق کے ساتھ کس طرح وقت گزارا جاسکتا ہے جس سے آپ کا دل ہم آہنگ نہ ہو، اگر کھانا من پسند نہ ہو تو میں بھوکا رہنے کو ترجیح دیتا ہوں زبردستی نہیں کھاتا۔‘‘ اس کی یہ بات سودہ کو بہت کچھ باور کرا گئی تھی‘ ضروری نہیں ہوتا کہ ہر بات کی وضاحت صاف و کھرے لفظوں میں کی جائے کبھی پسندیدگی و ناپسندیدگی کا اظہار مبہم انداز میں بھی کردیا جاتا ہے۔ یہ تو ازبر تھا کہ وہ اس کے اور اس کی ماں کے لیے کبھی بھی پسندیدہ نہ رہی تھی جس کی وضاحت اس نے کردی تھی۔
’’ماموں جان میں اندر جانا چاہتی ہوں۔‘‘ وہ آہستگی سے بولی منور صاحب نے اس کو جانے کی اجازت دے دی۔
’’بہت باحیا اور شرمیلی لڑکی ہے کبھی صوفیہ بھی ایسی ہوا کرتی تھی۔‘‘
’’شروع سے مجھے اس کا یہی انداز اٹریکٹ کرتا تھا۔‘‘ وہ اس کو پانے کی خوشی میں اس قدر مگن تھا کہ بولنے کے بعد اپنی بے باکی کا احساس ہوا تو خجل سا ہوکر ان کی طرف دیکھا مگر وہ شاید سن نہ سکے تھے یا سنی ان سنی کرکے کسی گہری سوچ میں گم ہوگئے تھے۔
’’کیا ہوا، آپ کس سوچ میں مستغرق ہوگئے ہیں تایا جان؟‘‘
’’میں سوچ رہا ہوں اگر سودہ پیارے میاں کی ہوجاتی تو پھر کیا ہوتا۔‘‘
’’وہاٹ یو مین میں سمجھا نہیں آپ کی بات…؟‘‘ ان کی ادھوری بات پر وہ ناسمجھ انداز میں گویا ہوا۔
’’پھر آپ کا کیا ہوتا بیٹا؟‘‘ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولے۔
’’مجھے تو لگ رہا ہے اللہ سے تم بے حد قریب ہو تب ہی سودہ تم سے دور ہوتے ہوئے معجزانہ طور پر ہمیشہ کے لیے تمہاری بنا دی گئی۔‘‘ وہ ان کے انکشاف پر اس طرح بیٹھا رہ گیا گویا سالوں سے چوری کرتے چور کو رنگے ہاتھوں چوری کرتے پکڑ لیا گیا ہو۔
’’ارے اتنے کنفیوز کیوں ہورہے ہو بیٹا؟ کچھ دیر قبل تک میں پیارے کی دل ہی دل میں کلاس لے رہا تھا مگر اب دعا دے رہا ہوں کچھ مشکلات و پریشانیوں سے ہم گزرے ضرور لیکن گھر کی خوشی گھر میں ہی رہ گئی… سودہ کو اتنا چاہتے تھے اور اس کو جدا کرنے میں خود ہی سب سے آگے آگے تھے۔‘‘ ان کا لہجہ ہر قسم کے طنز سے پاک اور محبت و شفقت سے لبریز تھا زید نے سوچا اب کچھ چھپانا ان کو فریب دینے کے مترادف ہوگا۔
’’تایا جان آپ یہ بھید کیسے پاگئے یہ وہ سیکریٹ ہے جو میں نے خود سے بھی چھپا کر رکھا تھا درحقیقت یہ محبت امپاسبل تھی۔‘‘
’’محبت کو ممکن و ناممکن جذبے بناتے ہیں‘ جذبہ جس قدر پاکیزہ کھرا ہوگا اس کی تاثیر اتنی ہی طاقت ور ہوگی کہ اپنے راستے میں آنے والے پہاڑوں کو بھی ریزہ ریزہ کرکے بکھیر دے گی‘ رہا سوال یہ سیکریٹ مجھے کیسے معلوم ہوا یہ تمہاری آنکھیں کبھی بھی اتنی روشن و سچے موتیوں کی مانند جگمگاتی نہ تھیں اور سودہ پر نگاہ پڑتے ہی جس طرح تمہارے اندر زندگی کی روشنی دمک اٹھی تھی ایسی روشنی و تابناکی میں نے کبھی بھی تمہارے اندر نہ دیکھی تھی۔‘‘
’’آپ کی ہر بات درست ہے‘ آپ کی بصیرت کا میں قائل ہوگیا ہوں۔ یہ سچ ہے آج سے قبل زندگی کی خوب صورتی کو میں نے دیکھا ہی نہ تھا۔ آپ نے پوچھا اس کو خود سے جدا کرنے میں کیوں پیش پیش تھا؟‘‘ وہ مؤدب لہجے میں دل کی حکایتیں سنانے پر آمادہ ہوگیا۔
’’آپ کو معلوم ہے مما نے ہمیشہ ہمیں سودہ اور پھپو سے دور رکھا‘ ایک وقت ایسا تھا جو مما کہتی گئی میں سچ مانتا گیا لیکن وقت کبھی کسی کے تابع نہیں رہتا ایک نہ ایک دن سچائی و غلط بیانی کو ظاہر کردیتا ہے۔‘‘ دانستہ اس نے اپنے ماں کے جھوٹ کو غلط بیانی کہا تھا کہ ماں کی عزت کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا مقصود تھا منور صاحب کو اس پر فخر محسوس ہوا۔
’’پھر معلوم ہی نہ ہوسکا کب اور کیسے یہ معاملہ چپکے چپکے اتنا مضبوط ہوگیا اور جب مجھے خبر ہوئی تو بہت دیر ہوچکی تھی‘ مجھے معلوم تھا سودہ کو پانا آسمان کی وسعتوں میں چمکتے چاند کی طلب کے مترادف ہوگا… اِدھر مما کا اصرار تھا کہ میں عروہ کو اپنانے کی ہامی بھرلوں ادھر وہ بھی یہی خواہش دل میں بسائے پاگل ہورہی تھی۔ مما کے بڑھتے اصرار پر میں نے ہمیشہ کے لیے ملک چھوڑنے کی دھمکی دی تھی‘ عروہ کو بھی میں کئی موقعوں پر صاف انکار کرتا رہا تھا جس کا بدلہ وہ مجھ پر اور سودہ پر گھٹیا الزام لگا کر لے چکی تھی‘ میں نے سوچ لیا تھا تاحیات شادی نہیں کروں گا اور کبھی کسی کو بھی بھنک نہ پڑنے دوں گا کہ میں سودہ کو پسند کرتا ہوں کیونکہ مما کی دل آزاری مجھے کسی طرح بھی قبول نہ تھی‘ دل کے تقاضے ماں کی محبت پر حاوی نہیں ہوسکتے۔‘‘
’’بے شک بیٹا ماں کا مرتبہ بہت اعلیٰ ہے یہاں تمہاری پاکیزہ محبت کی جیت ہوئی ہے مگر بیٹا دنیا ہمیشہ پیار کی دشمن رہی ہے۔ مشکلات کا آغاز اب ہوگا عمرانہ نے شاید جنید اور اس کی دادی کے دبائو میں یا مائدہ کے مستقبل کی خاطر اتنی بڑی قربانی دی ہے لیکن جہاں تک میں عمرانہ کی نیچر سمجھتا ہوں وہ اپنی اس قربانی کو رائیگاں کرنے میں دیر نہیں لگائے گی۔‘‘
’’جی میں خود سمجھ نہیں پارہا انہوں نے یہ فیصلہ کس طرح کرلیا… یہ وہ فیصلہ ہے جو دنیا اِدھر کی اُدھر ہوجانے پھر بھی مما نہیں کرنے والی تھیں۔‘‘ اس نے دانستہ ان کی دل آزاری کے باعث یہ بتانا مناسب نہ سمجھا کہ وہ رات سے ہی پچھتاوئوں کا شکار ہونے لگی تھیں اور انہوں نے جس نفرت سے کہا تھا کہ ’’یہ شادی نہیں بربادی ہے‘‘ ساری رات وہ اس لہجے اور لفظوں کے بھنور میں ڈوبتا اور ابھرتا رہا تھا۔ یہاں تک کہ سودہ کو پانے کی خوشی بھی برف بن گئی تھی جو اب اس کو دیکھ کر ہی پگھلی تھی۔
’’میں اللہ ذوالجلال کا شکر گزار ہوں کہ اس نے تمہارے حق میں بہت اچھا فیصلہ کیا اور وہ اپنی رحمت سے اس فیصلے کو بہتری عطا کرے یہاں تمہیں بھی بہت ثابت قدم رہنا ہوگا۔ بے حد بھاری ذمہ داریاں تم پر عائد ہوگئی ہیں عمرانہ کے ہر شر کا مقابلہ تمہیں بے حد فرماں برداری و اطاعت گزاری سے کرنا ہوگا، ساتھ ساتھ اپنے نکاح کے بندھن کو بھی برقرار رکھنا ہوگا جس کو تاراج کرنے کی ہر ممکن سعی کی جائے گی۔‘‘
/…خ…/
’’ممی… ممی ایک بے حد بیڈ نیوز ہے۔‘‘ عفرا نے تقریباً بھاگتے ہوئے آکر بدحواس لہجے میں کہا اس کے انداز پر رضوانہ کے ساتھ عروہ بھی چونک کر اسے دیکھنے لگی۔
’’ارے کون سی قیامت آگئی ہے جو اس قدر بدحواس ہورہی ہو؟‘‘
’’بس یوں سمجھیے قیامت ہی آگئی ہے۔‘‘ وہ عروہ کی طرف دیکھ کر کچھ اس انداز میں گویا ہوئی کہ عروہ کا دل عجیب انداز میں دھڑک اٹھا۔
’’اب بولو گی بھی یا سسپنس کری ایٹ کرتی رہوگی۔‘‘
’’کیا بولوں، کس طرح سنائوں ایسی بیڈ نیوز، میری زبان ہی ساتھ نہیں دے رہی۔‘‘
’’دیکھو بہن کی طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں ہے‘ ٹانگ میں ایسی موچ آئی ہے کہ پین کی وجہ سے فیور بھی ہوگیا ہے اور تم ہو کہ اصل بات بتانے کے بجائے پہیلیاں بجھوا رہی ہو کیا ہوا ہے اصل بات بھی تو معلوم ہو؟‘‘ رضوانہ تحمل آمیز لہجے میں گویا ہوئیں۔
’’ممی مائدہ کی کال آئی تھی میرے پاس ابھی…‘‘
’’وہ یہ پوچھ رہی ہو گی ناں کہ ہم کل نکاح میں کیوں شریک نہیں ہوئے اب اس کو کیا معلوم کہ ہم تیار ہوکر گھر سے نکل ہی رہے تھے کہ عروہ سینڈل کی ہیل ٹوٹنے کے باعث ایسی گری کے پائوں میں موچ آگئی اور…‘‘
’’ممی یہ بات نہیں ہے بات کچھ اور ہے عفرا کا چہرہ بتا رہا ہے کہ کوئی سیریس میٹر ہے تم بتائو عفرا کیا کہہ رہی تھی مائدہ؟‘‘ عروہ خلاف معمول عفرا کو سنجیدہ و پریشان دیکھ کر بھاپ گئی کہ مائدہ نے کوئی بہت ہی اعصاب شل کرنے والی خبر دی ہے۔
’’وہ… مائدہ… کہہ رہی تھی… سودہ… کا نکاح زید بھائی سے ہوگیا ہے۔‘‘
’’وہاٹ…! کیا بکواس کررہی ہو تم؟‘‘ عروہ بے یقینی سے چلائی۔
’’یہ سچ ہے مائدہ نے پوری اسٹوری سنائی ہے۔‘‘
’’نو… نیور… امپاسبل… زید میرا ہے‘ وہ صرف میرا ہے‘ مائد جھوٹ بول رہی ہے‘ جلتی ہے وہ مجھ سے‘ یہ کیسے ہوسکتا ہے زید مجھے ہرٹ کرکے سودہ سے نکاح کرے…‘‘ عروہ کی سماعتوں میں گویا بلاسٹ ہوا تھا اس کی سوچنے سمجھنے کی قوتیں مفلوج ہوکر رہ گئی تھیں وہ پاگلوں کی مانند چیخنے چلانے لگی تھی۔
’’عروہ سنبھالو خود کو پائوں میں اتنی تکلیف ہے پہلے ہی اور تم…‘‘ ان کے باقی ماندہ لفظ منہ میں ہی رہ گئے تھے عروہ نے جنونی انداز میں سائیڈ ٹیبل پر رکھا سامان پھینکنا شروع کردیا تھا ساتھ ساتھ چیخ بھی رہی تھی رضوانہ اور عفرا اس کو سنبھالنے کی کوشش میں ہلکان ہورہی تھیں۔
’’عروہ میری بچی یہ کیا کررہی ہو‘ صبر کرو‘ مجھے عمرانہ سے تصدیق تو کرلینے دو یہ بات سچ بھی ہے یا نہیں‘ ہوسکتا ہے مائدہ نے جوک کیا ہو تم تو جانتی ہو عمرانہ سودہ سے کتنی نفرت کرتی ہے بلکہ سودہ ہی کیا صوفیہ کی بھی دشمن ہے وہ۔ ہر وقت اس کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ دونوں ماں بیٹی کو گھر سے کہیں دور دفع کردے پھر کس طرح وہ سودہ کو بہو بنانے کا فیصلہ کرسکتی ہے۔‘‘ شاید وہ عروہ کے ساتھ ساتھ خود کو بھی ایسی طفل تسلیوں سے بہلا رہی تھیں مگر عروہ کے دل کی حالت کچھ اور ہی کہہ رہی تھی‘ دھڑکنیں آگ کی لپٹیں بن گئی تھیں کسی پل چین و قرار نہیں مل رہا تھا۔
’’آپ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں ممی، عمرانہ آنٹی کو کال کرکے معلوم کریں ممکن ہے مائدہ نے کوئی گیم ہی کھیلا ہو۔‘‘ عروہ کی جنونی حالت نے عفرا کے حواس بھی گم کردیے تھے اس کو ذرا احساس نہ تھا کہ وہ اس خبر کا اتنا برا اثر لے گی۔
’’یہ مائدہ نے نہیں زید نے گیم کھیلا ہے… آپ کچھ بھی کہہ لیں لیکن میرا دل کہہ رہا ہے وہ اپنی چاہت کو پانے میں کامیاب ہوچکا ہے۔ سودہ اس کی ہوچکی ہے یہ ہی اس کی خواہش تھی۔‘‘
’’تم روئو مت‘ میں ابھی عمران سے معلوم کرتی ہوں تم دیکھنا کس طرح دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوتا ہے۔‘‘ وہ جو درد کے خوف سے زمین پر پائوں نہیں ٹکا رہی تھی اب جلے پائوں کی بلی کی مانند اِدھر سے اُدھر چکرا رہی تھی بکھرے بال‘ بہتے آنسو‘ اس کو کسی پل چین نہ تھا اور اس بے چینی میں اس وقت مزید اضافہ ہوگیا جب عمرانہ نے کال ریسو نہ کی تھی۔
/…خ…/
’’نانو… نانو کیا ہوا…؟‘‘ چیخوں کی آواز سن کر وہ وہاں آئیں تو جہاں آرأ کو خوف زدہ انداز میں آتے دیکھ کر انشراح نے پوچھا۔
’’وہ سراج اور برکھا میرے روم میں پھر آگئے ہیں اور برکھا سراج سے کہہ رہی ہے مجھے کھڑکی سے باہر پھینک دے مجھے کہیں چھپا دو وہ مجھے کھڑکی سے باہر پھینک دے گا۔‘‘ انشراح ان کی حالت دیکھ کر ہک دک رہ گئی‘ وہ کسی بچے کی مانند خوف سے کانپتی ہوئی اس سے لپٹ گئیں ان کے جسم پر کپکپاہٹ بڑی واضح تھی۔
’’چلو… بھاگ چلیں یہاں سے وہ یہاں بھی آجائیں گے۔‘‘ انہوں نے انشراح کو مارے خوف کے بری طرح بھینچ لیا‘ ان کی ایسی حالت دیکھ کر وہ خود ہکابکا رہ گئی تھی‘ نہ تسلی کے لیے زبان حرکت کرسکی نہ جسم نے کوئی جنبش کی تھی۔ نانی کا ناقابل یقین روپ اس کے سامنے تھا جو نگاہوں کا دھوکہ محسوس ہورہا تھا۔
’’تم سن کیوں نہیں رہی ہو میری بات‘ سمجھنے کی کوشش کرو وہ خطرناک لوگ ہیں یہاں آجائیں گے ہم سب کو مار دیں گے۔‘‘ وہ اس سے علیحدہ ہوکر بالی سے مخاطب ہوئیں اور بالی جو پہلے بھی ان کی ایسی حالت دیکھ چکی تھی ان کا ہاتھ پکڑ کر انشراح کے کمرے میں لے آئی‘ انشراح بھی ساتھ ہی تھی۔
’’آپ یہاں آرام سے سو جائیں کوئی نہیں آئے گا میرے روم میں۔‘‘ بالی ڈور لاکڈ کرنے لگی تو وہ ان کے قریب بیٹھ کر محبت سے گویا ہوئی۔
’’یہاں کوئی نہیں آئے گا، سراج اور برکھا بھی نہیں آئیں گے۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر معصوم انداز میں استفسار کرنے لگیں انشراح کی آنکھوں میں جلن ہونے لگی اس نے بمشکل آنسوئوں کو ضبط کیا۔
’’بولو، تم بولتی کیوں نہیں ہو؟‘‘ وہ اس وقت پہچان سے بھی محروم تھیں۔
’’تم بے فکر ہوکر سو جائو ماسی سراج اور برکھا یہاں نہیں آئیں گے۔‘‘ آنسو ضبط کرنے سے اس کی آواز رندھ گئی تھی بالی نے ان کے سر میں انگلیاں پھیرتے ہوئے ایسے ہی کہا جیسے کسی بچے کو بہلایا جاتا ہے۔
’’تم سچ کہہ رہی ہو وہ یہاں نہیں آئیں گے‘ کیا تم ان کو مار کر بھگا سکتی ہو، تم ان دونوں کو مار دو گی؟‘‘ ان کی عقل و خرد سے عاری گفتگو انشراح سے برداشت نہیں ہوسکی‘ وہ بے آواز منہ پھیر کر رو دی۔ جس عورت کو اس نے مردوں کی مانند بہادری و جی داری سے جیتے دیکھا تھا‘ ڈر و خوف جن کو چھو کر نہیں گزرا تھا‘ ان کی خوف کے مارے بچکانہ حرکتوں نے ان کو زار و قطار رونے پر مجبور کردیا تھا۔
’’انشی تم تو مسائل کا حل نکال لیتی ہو اب تم ہی رو رہی ہو، اگر تم یوں روئو گی پھر میں کیا کروں گی؟‘‘ ان کے سونے کے بعد بالی اس کے پاس آئی‘ جو اس کمرے سے ملحق کمرے میں آکر رو رہی تھی۔
’’نانی کی کنڈیشن دیکھی ہے تم نے…؟ سب کو ڈرانے والی آج خود ہی ڈر کا شکار ہوگئی ہیں، کیسا خوف‘ کیسا ڈر ہے ان کی آنکھوں میں۔ لگتا ہے مینٹلی کنڈیشن بہت اپ سیٹ ہوگئی ہے وہ ہمیں پہچان نہیں رہی ہیں۔‘‘
’’پہلے تم چپ تو ہو، ماسی کی دیوانگی سے زیادہ مجھے تمہارے آنسو وحشت زدہ کررہے ہیں۔‘‘ بالی ٹشو سے اس کے آنسو صاف کرنے لگی۔
’’تم نویرہ آنٹی کو فون کرو اور بتائو نانی کی طبیعت کے متعلق پھر ہم وہی کریں گے جو وہ کہیں گی مجھے سمجھ نہیں آرہا ہے کیا کرنا ہے۔‘‘
/…خ…/
عمرانہ حسب عادت دن چڑھے سو کر اٹھیں اور ذہنی طور پر بیدار ہوتے ہی انہیں یہ خیال کوڑے کی مانند لگا کہ رات کیا ہوا تھا۔ یہ خیال آتے ہی وہ دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ کر بیٹھ گئیں۔
’’مائدہ کی باتوں میں آکر میں نے کتنی بڑی غلطی کردی‘ زید کو اپنے ہاتھوں سے اس لڑکی کو سونپ دیا۔ اب وہ اس کو میرے خلاف کردے گی‘ مجھ سے دور ہوجائے گا‘ وہ جو ماں کو دیکھ کر جیتا ہے پھر ماں کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرے گا… سودہ اور صوفیہ کا ہوجائے گا آہ…!‘‘
’’ارے مما کیا ہوا‘ طبیعت کیسی ہے آپ کی، سر پکڑ کر کیوں بیٹھی ہیں؟‘‘ اسی دم مائدہ وہاں آئی ان کو سر پکڑے بیٹھے دیکھ کر فکر مندی سے بولی۔
’’کس بات کا بدلہ لیا ہے تم نے مائدہ، تمہیں پیدا کرنے کا‘ تمہاری جائز و ناجائز خواہشات پوری کرنے کا یا تمہاری غلطیوں کو چھپانے کا جو تم نے ایک ناپسندیدہ ترین لڑکی کو میری بہو بنانے پر مجبور کردیا۔‘‘
’’یہ کیسی باتیں کررہی ہیں مما… میری کن حرکتوں کے آپ طعنے دے رہی ہیں‘ کیا کیا ہے میں نے؟ سودہ سے نفرت کرنا چھوڑ دیں آپ اب۔‘‘ وہ بھی ان کی ہی بیٹی تھی سو ان ہی کے انداز میں کہا۔
’’محبت کرنے کا ٹھیکہ تم نے لیا ہے تم ہی کرو مجھے معاف کرو وہ ہی بہتر ہے۔‘‘
’’اللہ ممی کیا ہوگیا ہے آپ کو؟ کس طرح کی بات کررہی ہیں۔‘‘
’’بیدار ہوگئی ممی آپ گڈ آفٹر نون۔‘‘ معاً زید کی وہاں آمد ہوئی۔
’’ہوں جاگ گئی… دیکھ لو پوت کے پائوں پالنے سے ہی دکھائی دیتے ہیں۔ روزانہ میرے جاگنے سے قبل ہی وہ بیڈ ٹی لے کر آتی تھی اور آج مجھے جاگے کتنی دیر ہوگئی ہے سودہ کا پتا ہے نہ بیڈ ٹی کا۔‘‘ انہوں نے زید کو دیکھتے ہی منہ بنا کر کہا۔
’’پہلے آپ مجھ سے تو معلوم کرلیں بھائی کو شکایت بعد میں لگائیے گا۔ سودہ اوہ سوری سودہ بھابی آپ کے لیے چائے لائی تھیں مگر آپ سو رہی تھیں میں نے کہہ دیا وہ کچھ دیر بعد لے آئیں میں نے کال کردی ہے وہ لا رہی ہوں گی۔‘‘ بھائی کو دیکھ کر مائدہ نے موڈ اچھا کرلیا تھا لیکن عمرانہ کے چہرے کے زاویے مزید بگڑتے چلے گئے‘ موڈ بری طرح آف تھا۔
’’اوہ تم بہت چمچہ گیری کررہی ہو خوامخواہ ہی۔‘‘
’’خوامخواہ کیوں… اکلوتے بھائی اور اکلوتی بھابی ہیں میری۔‘‘
’’ہونہہ یہ آنے والا وقت ہی بتلائے گا وہ کس طرح اکلوتی رہتی ہے۔‘‘ وہ دل ہی دل میں بڑبڑا کر رہ گئیں‘ اسی دم سودہ چائے لے آئی اور وہاں زید کو دیکھ کر لمحے بھر کو ٹھٹکی۔
’’آجائو بس بند کرو یہ اداکاری بڑی نیک پروین بننے کی۔‘‘ وہ سودہ کو گھور کر طنزیہ لہجے میں بولیں‘ وہ پہلے ہی ہراساں تھی رہی سہی کسر ان کے خونخوار موڈ نے پوری کردی۔ وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی ان کے قریب آئی اور مودبانہ انداز میں چائے کا مگ انہیں دیا۔ ابھی وہ چائے دے کر پلٹی ہی تھی کہ ان کی دہاڑ پر گھبرا کر مڑی۔
’’یہ چائے ہے یا اپنا منہ دھو کر لائی ہو؟‘‘ شدت اشتعال سے چیختے ہوئے انہوں نے بھانپ اڑاتا مگ سودہ کے چہرے کی طرف اچھال دیا اور کمرہ سودہ کی چیخ سے گونج اٹھا تھا۔

(ان شاء اللہ کہانی کا بقیہ حصہ آئندہ شمارے میں)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close