Aanchal Oct-18

تیری زلف کے سر ہونے تک ۲۵

اقرا صغیر امحد

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
انشراح راستے میں نوفل کو دوستی کی آفر کرتی ہے، جس پر وہ نہایت مشتعل ہوجاتا ہے۔ اسے انشراح میں اپنی ماں کا انداز دکھتا ہے جو اسی طرح ہر کسی سے میل جول بڑھالیتی تھی جب ہی وہ اس کے ہاتھ کو جھٹک دیتا ہے۔ انشراح اس کے رویے پر الجھن کا شکار نظر آتی ہے۔ دوسری طرف عائقہ بھی اپنی فیملی کے ہمراہ آئوٹنگ پر جانے کا ذکر کرتی ہے تو انشراح تنہا رہ جاتی ہے۔ جہاں آراء اپنی ذات میں مگن دنیا کی رنگینیوں سے لطف انواز ہوتی ہیں، ایسے میں سراج کی آمد اچانک انہیں بوکھلا دیتی ہے۔ وہ اپنی رقم کا تقاضا کرتا ہے جس پر جہاں آرا صاف انکار کرتی ہیں مگر وہ بھی اتنی آسانی سے ٹلنے والا نہیں ہوتا، جب ہی وہ برکھا کا ذکر کرتے انہیں چونکنے پر مجبور کردیتا ہے۔ سراج کے منہ سے یہ باتیں سن کر جہاں آرا آنے والے وقت کے لیے خود کو تیار کرلیتی ہیں، جلد ہی سراج برکھا کو لے کر ان کے گھر پہنچ جاتا ہے اور انشراح کا مطالبہ برکھا ان کی سامنے کرتی ہے، لیکن جہاں آراء اب اپنی بات پر قائم نہیں رہتیں، اور پیسے دے کر معاملہ ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ عمرانہ کو جب یہ پتہ چلتا ہے کہ زید، صالحہ اور مدثر سے ملنے گیا تھا تو وہ خوب ہنگامہ کھڑا کردیتی ہیں۔ ایسے میں زہد انہیں سمجھانے میں ناکام ہوکر مایوس لوٹ جاتا ہے۔ مائدہ اپنی ماں کو آنے والے حالات کے مطابق تیار کرتی ہے اور عمرانہ بھی متفق ہوجاتی ہے۔ اچھی آپا اور چندا کے ارادے بالکل بھی نیک نہیں ہوتے، سودہ کی صورت وہ اپنے گھر میں ایک ملازمہ لانا چاہتی ہیں تو دوسری طرف پیارے میاں کو سودہ سے بدظن کرنے کی کوشش جاری رکھتی ہیں۔ رضوانہ بہن سے تعلقات خراب ہونے پر کافی مضطرب ہوتی ہیں، ایسے میں عفرا، زید سے بات کرنے کا مشورہ دیتی ہے رضوانہ کو بھی یہ بات پسند آتی ہے، جب ہی زید کے ذریعے اپنے تعلقات پھر سے بحال کرنا چاہتی ہیں۔ زید سودہ کی جدائی کے خیال سے بے چین ہوتا ہے لیکن وہ اپنے جذبات کسی پر ظاہر ہونے نہیں دیتا اور خود کو سنبھالتا شادی کی تیاریوں میں مصروف ہوجاتا ہے۔
(اب آگے پڑھیے)
خ…/…خ…/
سودہ کے چہرے پر پھیلتے خوف نے زید کو بھی سامنے دیکھنے پر مجبور کردیا تھا عین وقت پر بچت ہوگئی تھی وہ سورج مکھی کے لائن سے لگے ہوئے قد آور پودوں کی سمت کھڑا تھا۔ جہاں سے وہ باہر دیکھ سکتا تھا مگر دوسری سمت سے کسی کے دیکھ لینے کا احتمام نہ تھا‘ وہ غیر محسوس طریقے سے مزید دور ہوگیا تھا۔
’’ارے بی بی… یہاں سے ہمیشہ کے لیے جانے میں تمہارے پاس صرف ایک ہفتہ باقی ہے اور گھر میں مہمانوں کی آمد و رفت شروع ہوچکی ہے اور تمہاری یہ مٹر گشت ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔‘‘ عمرانہ قریب پہنچ کر اپنے مخصوص لہجے میں گویا ہوئیں‘ سودہ سے کوئی جواب نہ بن پڑا‘ زید کچھ فاصلے پر پودوں کی اوٹ میں موجود تھا اور اس کی جان پر بنی ہوئی تھی۔ وہ دو قدم آگے بڑھتی تو قیامت کھڑی ہوسکتی تھی۔
’’میں تم سے مخاطب ہوں‘ کیا کررہی ہو یہاں؟‘‘
’’وہ… وہ میں نے موسم اچھا دیکھا تو لان میں آگئی تھی۔‘‘ ان کی گھورتی نگاہوں نے گڑبڑا کر رکھ دیا تھا۔
’’موسم اچھا دیکھا تو لان میں آگئی تھی… ہونہہ اب یہاں سے جارہی ہو اس رہائش گاہ کو معاف کردو‘ تمہاری ماں بھی شادی سے قبل اسی طرح ہر شے کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا کرتی تھی اور نتیجہ کیا ہوا اس حسرت و نیت خرابی کا کہ شادی کے صرف ڈیڑھ سال بعد ہی ہمیشہ کے لیے خود تو آئی ساتھ تمہارا بوجھ بھی اٹھا لائی تھی۔‘‘ ماں کی اس چھوٹی سوچ پر زید کی نگاہیں زمین پر گڑھ کر رہ گئی تھیں‘ اگر سودہ کی رسوائی کا خوف نہ ہوتا تو وہ یوں چور بن کر کھڑا نہ ہوتا کہ وہ ان کی تنگ نظری و تنگ دستی سے واقف تھا‘ اگر انہیں یہاں اس کی موجودگی کا علم ہوجاتا تو وہ ابھی مہمانوں کے سامنے سودہ کا تماشہ بنانے میں دیر نہ لگاتیں‘ جس طرح ابھی دل کی بھڑاس نکالنے میں مگن تھیں۔
’’نیت اچھی لے کر جائو تاکہ تمہیں اپنی ماں کی طرح کوئی تحفہ ساتھ لانے کی ضرورت نہ پیش آئے‘ چلو اندر جائو یہاں سے۔‘‘ وہ نخوت سے کہتی ہوئیں آگے بڑھ گئیں۔ جہاں ڈرائیور ان کا منتظر کھڑا تھا۔
سودہ ان کے جاتے ہی تقریباً بھاگتی ہوئی اندر کی جانب بڑھ گئی‘ اس نے مڑ کر شرمندہ کھڑے زید کو بھی نہ دیکھا تھا۔
خ…/…خ…/
’’کتیا‘ کمینی عورت میرے گھر تک پہنچ گئی مجھے دھمکا کر گئی ہے‘ یہ سب اس نمک حرام سراج کی سازش ہے‘ میرے منع کرنے کے باوجود وہ برکھا کو یہاں لے آیا تاکہ اسے اس کا پیسہ مل جائے لیکن میں بھی اپنے نام کی ایک ہوں‘ ایک ٹکہ بھی دے دوں تو اپنا نام بدل لوں گی۔‘‘ برکھا اور سراج کے جانے کے بعد اندر آکر جہاں آرأ تنہا بڑبڑا رہی تھیں۔
’’روشن تیرا بیڑہ غرق ہوجائے‘ تو مر جائے‘ تیری خوشیوں کو آگ لگ جائے‘ جس طرح تو مجھے برباد کرکے گئی ہے اسی طرح تو بھی برباد ہوجائے‘ خود وہاں مزے سے زندگی گزار رہی ہے اور یہاں مجھے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے پر مجبور کر گئی ہے… آج یہ نوبت آگئی ہے کہ دو ٹکے کے لوگ مجھے دھمکا رہے ہیں‘ نیچ سمجھ رہے ہیں… کل تک جن لوگوں کی جرأت نہ تھی میرے سامنے کھڑے ہونے کی وہ مجھ سے مقابلہ کررہے ہیں۔‘‘ برکھا اور سراج کے گٹھ جوڑ نے جہاں آرأ کو مشکل میں ڈال دیا تھا۔ حقیقت یہی تھی کہ اس وقت وہ تنہا اور کمزور ہوگئی تھیں‘ لاکھ بگڑے تیوروں سے اپنی طاقت اور بہادری ثابت کرتی مگر اس امر سے بھی بہ خوبی واقف تھیں کہ وہ تنہا بے بس و لاچار ہوگئی ہیں‘ برکھا ایک بڑا گروہ لے کر چلی تھی‘ اونچی اڑان تھی اس کی جب کہ ان کا کوئی مددگار بھی نہ تھا‘ دوپہر شام میں ڈھلنے والی تھی اور شام میں اس نے ملنے کا وعدہ کیا تھا… ملنے کا مقصد تھا برکھا کو انشراح کی ہوا لگتی‘ جو اب ناممکن تھا۔
انہوں نے انشراح کا سودا اس وقت برکھا سے کیا تھا جب وہ اپنے ناجائز وجود کا سن کر حواسوں سے بیگانہ ہوگئی تھی‘ اسے اپنی کوئی خبر اور ہوش نہ تھا‘ وہ محض سانس لیتا مجسمہ بن کر رہ گئی تھی اور اب وہ پوری طرح سے زندگی کی طرف لٹ آئی تھی۔
’’کیا کروں… کیا کروں کچھ سمجھ نہیں آرہا؟ وقت ہرن کی طرح قلانچیں بھرتا آگے بھاگے جارہا ہے‘ اگر مجھے شام سے رات ہوئی تو وہ برکھا کو لے کر پھر آجائے گا اور آکر خالی ہاتھ جانا آسان نہ ہوگا ان کا۔‘‘ بالی اپنے کمرے سے نکلی اور انہیں پریشانی میں مبتلا دیکھ کر پوچھا۔
’’ماسی… خیر تو ہے یہ تنہا کس سے باتیں کررہی ہو؟‘‘
’’کس سے باتیں کروں کون دکھائی دے راہ ہے یہاں تجھے؟‘‘
’’جب ہی تو پوچھ رہی ہوں یہاں کوئی ہے بھی نہیں اور تم اکیلی باتیں کررہی ہو۔‘‘ بالی کو وہ ایک عرصے بعد پریشان و متفکر نظر آئی تھیں۔
’’کوئی خاص بات نہیں ہے چائے لا میں اتنی دیر میں تیار ہوکر آتی ہوں مسز بیگ کے ہاں پارٹی میں جانا ہے۔‘‘
’’روز پارٹیوں میں جاتی ہو ماسی‘ دل نہیں بھرتا تمہارا؟‘‘
’’کیوں بھرے میرا دل‘ میں کوئی مردہ دل تھوڑی ہوں تیری طرح‘ میں نے ہر عمر میں لائف انجوائے کرنا سیکھی ہے اور یہی زندگی ہے۔‘‘ وہ سوچ چکی تھیں برکھا سے کس طرح بات کرنی ہے۔
’’تمہارے اللہ اللہ کرنے کے دن ہیں‘ انجوائے کرنے کی عمر ختم ہوگئی ہے۔‘‘ نہ چاہتے ہوئے بھی بالی کی زبان پھسل گئی تھی۔
’’اور تیری جوتے کھانے کی عمر ہے حرافہ‘ ابھی بھی تیرے برابر میں کھڑی ہوتی ہوں تو تیری چھوٹی بہن لگتی ہوں۔‘‘ غضب کی خود اعتمادی تھی۔
’’پھر میرے ساتھ نہ چلا کرو ماسی‘ کہیں لوگ رشتہ دینا نہ شروع کردیں۔‘‘ بالی نے ہنستے ہوئے کہا جواباً جہاں آرأ نے پائوں میں پہنی چپل کھینچ ماری تھی۔
خ…/…خ…/
گوٹے اور ستاروں سے مزین خوب صورت فراک‘ دوپٹہ اور پائجامہ بیڈ پر پھیلا ہوا تھا‘ ساتھ ہی گوٹے کی جیولری سیٹ اور چوڑیاں رکھی تھیں‘ اچھی بار بار ان چیزوں کو اٹھا کر ستائشی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔ چندا بھی ماں کی طرح گردن اکڑائے سوٹ کو جانچ رہی تھی۔
’’دیکھنا کیسی واہ واہ ہوگی‘ کتنا شاندار سوٹ ہے کون لے کر جاتا ہے اتنا قیمتی سوٹ یہ تو سودہ کی خوش قسمتی ہے جسے ہم جیسا سرال ملا ہے۔‘‘
’’ممانی نے تیار نہ کروا لیا ہو سودہ کا مایوں کا سوٹ اگر ایسا ہوا تو ہمارا سوٹ بیکار جائے گا۔‘‘ چندا نے میکرونی کھاتے ہوئے اندیشہ ظاہر کیا۔
’’وہ ایک چھوڑ دس سوٹ بنوائے مگر سودہ تو میرا بنایا ہوا ہی سوٹ پہنے گی‘ میری بات رد کرنے کی کس میں ہمت ہے بھل؟‘‘ وہ بیڈ پر ہی نیم دراز تھیں‘ معاً پیارے وہاں آیا۔
’’ارے کیا ہوا بیٹا؟ تمہارے منہ پر یہ بارہ کیوں بج رہے ہیں؟‘‘ وہ انہیں پریشان و متفکر نظر آیا۔
’’وہ دبئی سے بار بار کال آرہی ہے مجھے وہاں فوراً پہنچنے کی تاکید کی جارہی ہے۔‘‘
’’دبئی سے کال آرہی ہے… دفع دور کر اسے تو اس منحوس سے خوفزدہ کیوں رہتا ہے‘ حد ہوتی ہے بزدلی کی بھئی۔‘‘ انہوں نے اپنے لاپروا و نڈر انداز میں تسلی و حوصلہ دیا۔
’’ممی… وہ میرے پاس…!‘‘
’’بھاڑ میں گئے سب‘ یہ دیکھ سودہ کی مایوں کا سوٹ کیسا لگ رہا ہے؟ پورا مال چھان کر لائی ہوں سب سے خوب صورت اور فینسی ہے۔‘‘ انہوں نے مسکراتے ہوئے سوٹ کی طرف اشارہ کیا۔
’’یہ… سودہ کا سوٹ ہے؟‘‘ سودہ کے نام پر اس کا بجھا ہوا چہرہ کھل اٹھا فوراً آگے بڑھ کر سوٹ دیکھنے لگا۔
’’یہ سوٹ سودہ مایوں پر زیب تن کرے گی ممی؟‘‘
’’ہاں… آج تک کسی نے یہ کلر نہیں پہنا مایوں پر میری بہو سب میں الگ اور پیاری لگے گی۔‘‘ وہ پان چباتے ہوئے کروفر سے گویا ہوئیں۔
’’بہت عجیب چوائس ہے ممی آپ کی‘ آج تک کسی نے بھی یہ کلر مایوں پر نہیں زیب تن کیا ہوگا‘ آپ نکاح سے قبل ہی سودہ کو بیوہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔‘‘ وہائٹ کلر کا ڈریس اسے ذرا نہ بھایا۔
’’لو بھئی… ممی صبح سے نکلی سارا دن خوار کرکے یہ سب لائی ہیں اور جب سے لائی ہیں دیکھ دیکھ کر پھولے نہیں سما رہی اور آپ نے بناء کسی لحاظ و مروت کے ریجیکٹ کردیا۔‘‘ چندا کو بھائی کی سودہ کے لیے وارفتگی بالکل پسند نہ تھی سو جل کر بولی۔
’’ٹھیک کہہ رہی ہے چندا… پورے شاپنگ مال میں اوپر نیچے چکر لگا لگا کر میری ٹانگیں اکڑ کر رہ گئی‘ خوب چھان پھٹک کرکے پسند کیا اور تم ہو کہ باتیں سنا رہے ہو‘ وہ ہی بات ہے کہ بہوئیں خوامخواہ ہی بدنام ہوتی ہیں‘ آج کل بیٹے ہی ہاتھوں سے نکلے ہوئے ہیں۔‘‘ اچھی بھی برا مان گئی تھیں‘ پیارے میاں نے ماں اور بہن کے بگڑے ہوئے موڈ دیکھے اور پھر لجاجت بھرے لہجے میں گویا ہوا۔
’’میرا مقصد آپ کو ہرٹ کرنا نہیں تھا‘ آپ خود ہی بتائیں کبھی آپ نے کسی کو مایوں پر اس طرح وہائٹ سوٹ میں دیکھا ہے؟‘‘
’’نہیں دیکھا تب ہی تو یہ کلر لائی ہوں تاکہ میری بہو سب سے جدا لگے۔‘‘
خ…/…خ…/
ساریہ کے والدین ورلڈ ٹور کے بعد واپس آگئے تھے۔ اس کے والد تنویر اور ماں ثمرہ کی دلی خواہش تھی کہ نوفل اور ساریہ کو شادی کے بندھن میں بندھے دیکھیں اور پھر وہ اسی مقصد کے تحت تو اسے یہاں چھوڑ کر گئے تھے۔ ساریہ نوفل کو اپنی محبت سے اسیر کر لے گی‘ بیٹی کے حسن و ذہانت پر انہیں ازحد یقین تھا لیکن نوفل کی سرد مہری و انکار نے ان کے خوابوں کو آگ لگا دی تھی۔ ساریہ ماں کو ہر بات سے آگاہ رکھے ہوئے تھی اور ساریہ کا ایک بار نہیں بار بار ریجیکٹ ہونا تنویر اور ثمرہ کو سخت برا لگا تھا۔ انہوں نے آتے ہی سب سے پہلے یوسف صاحب سے گلہ کیا۔
’’اتنے روشن خیال اور سمجھ دار ہونے کے باوجود آپ مجھ سے کس طرح یہ توقع کرسکتے ہیں کہ میں نوفل کو پریشرائز کروں ساریہ سے شادی کے لیے؟‘‘ یوسف صاحب نے ان کے اصرار پر حیرانی سے کہا۔
’’آپ کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں بھائی صاحب‘ نوفل آپ کی بات ٹال ہی نہیں سکتے۔‘‘ ثمرہ منہ بنا کر گویا ہوئیں۔
وہ اس وقت سٹنگ روم میں بیٹھے تھے‘ ساریہ بھی وہاں موجود تھی اور زرقا بیگم یوسف صاحب کے قریب کچھ متفکر انداز میں بیٹھی تھیں‘ سینٹر ٹیبل پر سوفٹ ڈرنک کے علاوہ دیگر لوازمات موجود تھے مگر انہوں نے پانی تک پینے سے انکار کردیا تھا اصرار کے باوجود کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگایا تھا۔
’’بھابی… آپ کی بات درست ہے نوفل میری بات سے انکار نہیں کرتا‘ میرے اور زرقا کے ہونٹوں سے نکلنے والی ہر بات اس کے لیے حکم کا درجہ رکھتی ہے… مگر شادی ایک ایسا تعلق اور رشتہ ہے جو دل اور مرضی کا تابع ہوتا ہے ہم کس طرح سے اسے فورس کرسکتے ہیں‘ ایسے بندھن کو باندھنے کے لیے جس میں اس کی خوشی و مرضی شامل نہ ہو۔‘‘
’’اگر ساریہ کی جگہ آپ کی کوئی بیٹی ہوتی تو پھر بھی آپ یہی دلیل دیتے؟‘‘
’’میری بیٹی…‘‘ ان کے دل کے زخم کو پھر چیرہ لگا تھا۔
’’ہاں ہاں… آپ کی بیٹی ہوتی تو پھر بھی آپ نوفل کی مرضی و خوشی کو ہی ملحوظ خاطر رکھتے‘ ذرا اپنی نہ چلاتے اسے فورس نہ کرتے؟‘‘ تنویر نے بھی بیوی کا ساتھ دیتے ہوئے سوال کیا۔
’’ساریہ ہماری ہی بیٹی ہے‘ جو فیصلہ ساریہ کے لیے ہوا ہے وہ ہی فیصلہ تب بھی ہوتا‘ زبردستی بیٹیاں مسلط نہیں کی جاتیں کسی پر بھی۔‘‘
’’میری انا کا مسئلہ ہے اب تو… اگر نوفل نے میری بیٹی سے شادی نہیں کی تو وہ پھر کسی اور سے بھی شادی کرنے لائق نہیں رہے گا۔‘‘ کسی طوفان کی مانند وہ بپھرے تھے اور اس طرف آتا نوفل ان کی دھمکی سن چکا تھا۔
’’کیا کریں گے آپ؟‘‘ وہ دھیمے و سرد لہجے میں گویا ہوا۔
اسے دیکھ کر ساریہ گھبرا کر کھڑی ہوگئی‘ چہرے کے رنگ ثمرہ اور تنویر کے بھی اڑے تھے‘ مگر یوسف صاحب اور زرقا بیگم کی موجودگی ان کے لیے ڈھارس بن گئی تھی‘ وہ اسی طرح اکڑی گردن سے بولے۔
’’تم نے میری بیٹی کی محبت کی انسلٹ کی‘ اسے ٹھکرایا شادی سے انکار کرکے‘ تمہیں کیا معلوم بیٹی کے ٹھکرائے جانے کی تذلیل کتنی شدید ہوتی ہے تمہاری کوئی بہن ہوتی نہ پھر تمہیں اس درد کا احساس ہوتا جس تکلیف سے تم نے ہمیں اور ہماری بیٹی کو دوچار کیا ہے۔‘‘
’’میں نے کب وعدے کیے تھے آپ سے اور آپ کی بیٹی سے شادی کے؟‘‘ اس کے نرم و دھیمے لہجے میں سرد مہری و ناپسندیدگی شدت سے عیاں تھی جو ان تینوں کو اذیت سے دوچار کررہی تھی‘ زرقا بیگم نے کچھ کہنا چاہا مگر انہیں یوسف صاحب نے آنکھ کے اشارے سے خاموش رہنے کا کہا۔
دراصل یہ معاملہ شعوانہ کے حوالے سے اہمیت کا حامل تھا تنویر اور نوفل کا جو تعلق تھا وہ ماموں اور بھانجے کا تھا۔ اگر شعوانہ اچھی و باوفا عورت ہوتی تو ان کا رشتہ بہت مضبوط و خوب صورت ہونا تھا۔
’’وعدوں کی ضرورت بھی کیا تھی تم میری بہن کے بیٹے ہو‘ میرا پورا پورا حق ہے تم پر پھر ساریہ ایک خوب صورت و ہر لحاظ سے مکمل لڑکی ہے‘ میری بیٹی کو کوئی رشتوں کی کمی نہیں‘ ہزاروں لوگ میری بیٹی سے رشتہ جوڑنا چاہتے ہیں فخر محسوس کرتے ہیں مگر…‘‘
’’مگر ہم چاہتے ہیں شعوانہ کی بے عقلی کی وجہ سے جو ہمارے خاندانوں میں خلیج حائل ہوئی ہے اس خلیج کو ساریہ یہاں کی بہو بن کر دور کردے۔‘‘ خاوند کی بات کاٹ کر ثمر نے بات سنبھالی۔
’’بس… کیا کریں شعوانہ سے بھی بے عقلی ہوگئی تھی۔‘‘
’’بے عقلی نہیں ’بدچلنی‘ کہیں بدکردار اور بے حیا کہیں۔‘‘ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں میں نمی چمک اٹھی تھی۔
’’گڈ… ویری گڈ۔‘‘ تنویر نے طنزاً تالیاں بجائیں۔
’’بدچلن… بدکردار… بے حیا… جس عورت کو کہہ رہے ہو وہ بدقسمتی سے تمہاری ماں ہے… ایک ایسی عورت کی اولاد کہلا کر تم خود کو کس بناء پر نیک و شریف و با کردار ثابت کرنا چاہتے ہو؟‘‘
’’تنویر بھائی… آپ مہمان بن کر آئے ہیں اور آداب میزبانی نے میرا دامن تھاما ہوا ہے‘ میں نہیں چاہتا آپ کی کڑوی باتیں مجھے لحاظ و مروت سے بے بہرہ کردیں اور میں وہ کر بیٹھوں جو ہمارے درمیان نئے تنازعات کو جنم دے‘ بہتر ہوگا تحمل و بردباری کا مظاہرہ کریں۔‘‘ خاصی دیر سے صبر و برداشت کا دامن تھامے یوسف صاحب کھڑے ہوکر گویا ہوئے‘ ان کے ساتھ ہی سب کھڑے ہوگئے تھے۔
’’ارے کیسا تحمل‘ کیسی بربادی‘ اس لڑکے نے میرا دماغ خراب کردیا ہے‘ کیسی باتیں کررہا ہے‘ اپنی ماں کے حوالے سے‘ کوئی بیٹا اس قدر بے غیرت بھی ہوسکتا ہے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔‘‘ وہ بات کو طول دینے کی ٹھان چکے تھے سو کف اڑاتے ہوئے بولے۔
’’بھائی صاحب… جب ماں بے غیرتی و بے شرمی کو شعار بنا کر بیٹے کی موجودگی میں بھی ناجائز تعلقات قائم رکھے تو کون غیرت مند بیٹا ایسی عورت کو ماں کہے گا؟ کس طرح وہ عزت کرے گا؟‘‘ زرقا بیگم بھی نوفل پر بے جواز حملے برداشت نہیں کرسکیں۔ ’’آپ لوگ ابھی اور اسی وقت تشریف لے جاسکتے ہیں‘ میں ایسے لوگوں کو لمحہ بھر برداشت نہیں کروں گی‘ جو میرے بیٹے پر بلاوجہ انگلی اٹھائیں۔‘‘ زرقا بیگم نے سخت لہجے میں ان تینوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور پھر نوفل کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے پُر وقار انداز میں چلی گئیں۔
’’ڈیڈی… میں یہاں سے نہیں جائوں گی۔‘‘ ان کے جاتے ہی ساریہ روتے ہوئے ضدی انداز میں گویا ہوئی۔
’’ساریہ… بی بریو‘ یہ بات تو پتھر کی لکیر بن گئی ہے اگر وہ بدبخت تمہارا نہیں ہے تو پھر کسی کا بھی نہیں اور نہ ہوسکتا ہے ہری اپ۔‘‘ وہ تینوں وہاں سے نکل گئے‘ وہاں تنہا کھڑے یوسف صاحب سوچ رہے تھے۔ عکرمہ نے ایک غلط عورت کا انتخاب کیا تھا اور اس غلط عورت کی غلطیاں نسلوں کو بھگتنی تھیں۔
خ…/…خ…/
’’سو نائیس آف یو… آپ نے مائدہ کی سیکنڈ مدر کو ایکسپیٹ کرکے اپنے گریٹ ہونے کا ثبوت دیا ہے‘ ہر کوئی آپ کی طرح پولائٹ نہیں ہوتا ہے آنٹی۔‘‘ جنید کی نگاہوں اور لہجے میں ستائش و توصیف تھی‘ عمرانہ اور زید شادی کا انویٹیشن دینے وہاں آئے تھے اور زید نے ہی نپے تلے انداز میں صالحہ کی آمد کا بتایا تھا‘ جس کو سن کر جنید اور اس کی دادی خاموش تھے۔
’’رئیلی عمرانہ… آپ نے بہت کھلے دل و اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کیا ہے‘ میں آپ کی اعلیٰ ظرفی سے بے حد متاثر ہوئی ہوں‘ عورت اگر اپنی انا و جذبات پر دسترس حاصل کرلے تو عزت و توقیر کی معراج حاصل کرلیتی ہے اور عورت کی اہلیت ثابت ہی یہاں ہوتی ہے۔‘‘
جنید کی دادی نے ان کے شانے پر ہاتھ رکھ کر اپنائیت سے کہا‘ عمرانہ جواباً خاموش رہیں ہونے والے داماد اور دادی کے تعریفی و ستائشی جملوں نے ان کے اندر فخر و انبساط پیدا کردیا تھا۔
’’مائدہ کی باتیں بالکل صحیح ثابت ہورہی ہیں‘ ابھی وہ چڑیل گھر آئی بھی نہیں اور میری واہ واہ ہونے لگی ہے‘ بعد میں مزید مجھے سراہا جائے گا اور پھر میں عروہ کو بتائوں گی کہ میں کتنے بڑے دل کی مالک ہوں۔‘‘ وہ تصور میں عروہ کی اتری ہوئی صورت سے مخاطب تھیں جب کہ دادی ان کے خیالوں سے بے خبر کہہ رہی تھیں۔
’’میں جانتی ہوں ایک عورت کے لیے سوکن کا دکھ کتنا بڑا ہوتا ہے‘ پل میں مرنا اور پل میں جینا ہوتا ہے‘ آپ ایک کڑے امتحان سے گزری ہیں۔‘‘
’’جی ہاں آنٹی… بچوں کی خاطر سب کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے‘ مرد کے لیے آسان ہوتا ہے دوسری بیوی لانا اور عورت جب ماں بنتی ہے پھر بس ماں ہی بن کر رہ جاتی ہے اپنے بچوں کے علاوہ پھر کہاں جاسکتی ہے۔‘‘ بیٹی کا سسرال تھا اس نزاکت کو جانتے ہوئے انہوں نے بھی بھرم قائم رکھنے کی خاطر سلجھے ہوئے پُروقار لہجے میں کہا۔
’’عورت کو ماں کا درجہ دے کر اس کے قدموں کے نیچے جنت اسی لیے تو رکھی گئی ہے کہ ماں سے بڑھ کر اولاد کی خیر خواہی میں کہیں باپ بھی زیادتی کر جاتے ہیں۔‘‘ دونوں خواتین گفتگو میں مصروف تھیں‘ جنید ملازمہ کو چائے اور اسنیکس تیار کرکے لانے کی ہدایت کرنے گیا تو زید آفس سے آنے والی کال سننے باہر لان میں چلا آیا‘ جنید بھی وہیں آگیا تھا۔
’’بہت بدلے ہوئے اور خاصے کمزور دکھائی دے رہے ہو‘ خیریت تو رہی ناں‘ آئی مین تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘ حسب عادت وہ اس کے چہرے کا بغور جائزہ لینے کے بعد متفکرانہ انداز میں گویا ہوا۔
’’ٹھیک ہوں کیا ہوگا مجھے؟‘‘ اس نے سرد مہری سے کہا۔
’’میری دعا ہے تمہیں کبھی کچھ نہ ہو۔‘‘ اس کے روڈ لہجے نے جنید کو کچھ لمحے خاموش کردیا تھا لیکن وہ جنید ہی کیا جو خاموش رہ جائے۔
’’تم نے معاف نہیں کیا ابھی تک مجھے‘ حالانکہ میں نے قسم کھائی ہے کہ مائدہ کے بعد کوئی اور لڑکی میری زندگی میں نہیں آئے گی‘ اب تم ہی بتائو میں کس طرح تمہیں یقین دلائوں‘ بتائوں کہ تم پہلے کی طرح مجھ سے محبت کرنے لگو۔‘‘
’’معافی اور خفگی کا کیا سوال ہے جنید… جو ہونا تھا وہ ہوگیا ہے۔‘‘
’’جو ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا‘ اس طرح ہمارے درمیان فاصلے نہ آتے‘ ہم دوست بن کر اجنبی نہ بنے ہوتے‘ میں بے حد شرمندہ ہوں‘ میں ایسا چاہتا نہیں تھا پھر بھی نہ جانے کس طرح یہ سب ہوگیا۔‘‘ زید نے اس کی طرف دیکھا جس کے چہرے پر شرمندگی و ندامت اس کی سچائی کی گواہ تھی‘ اس وقت وہ پہلے والے جنید سے بہت مختلف و جدا دکھائی دے رہا تھا۔ رنجیدہ‘ ذمہ دار‘ قابل اعتبار۔
’’پلیز‘ صاف کرلو دل میری طرف سے تمہارے بغیر زندگی دوستی کے رنگ سے خالی ہوگئی ہے‘ میری طرف سے تمہیں کبھی کوئی شکایت نہیں ہوگی۔‘‘ زید بخوبی جانتا تھا کہ اس معاملے میں تنہا جنید کی ہی نہیں مائدہ کی بھی مرضی شامل تھی۔ خود اس کے انکار پر اس نے سنا تھا‘ وہ ممی سے اس کے رشتے پر حامی بھروانے کی خاطر دھمکی آمیز ضد کررہی تھی۔
اس کے ساتھ وہ بھی برابر کی شریک تھی‘ کچھ عرصہ ناراضگی کے بعد وہ مائدہ کو معاف کرچکا تھا تو پھر جنید کو کس بناء پر مسلسل سزا دے رہا ہے؟ اگر اس نے قدم بڑھایا ہے تو پیچھے مائدہ بھی نہیں ہٹی تھی۔
’’یہ سچ ہے میرا دل تمہاری طرف سے بدگمانیوں و کبیدیوں کی کثافت سے اٹا ہوا ہے‘ تم نے کند چھری سے میری دوستی و اعتبار کو گھائل کیا ہے مگر میں جانتا ہوں اس چھری پر صرف تمہارا ہی ہاتھ نہ تھا… ساتھ میں مائدہ بھی شامل تھی… اگر وہ شامل نہ ہوتی تو آج ہم دونوں میں سے ایک زندہ نہ ہوتا‘ میں تمہیں مار دیتا یا تم مجھے۔‘‘ ایک عرصے بعد اس کے لبوں پر ایسی روشن مسکراہٹ ابھری تھی کہ جس کی روشنی جنید کے قلب کو منور کرتی چلی گئی تھی۔
خ…/…خ…/
’’انشی… تم نے نوٹ کیا ہے ماسی ان دنوں کچھ زیادہ ہی پریشان لگ رہی ہیں‘ واچ مین کو بھی ہدایت دے رکھی ہے کہ کسی غیر متعلقہ فرد کو گیٹ پر گاڑی بھی پارک کرنے نہ دے۔‘‘ بالی اس کے بالوں میں برش کرتی ہوئی گویا ہوئی‘ اس کے لہجے میں تفکر و بے چینی تھی جب کہ انشراح اطمینان سے گویا ہوئی۔
’’جھگڑا کرلیا ہوگا پھر کسی سے‘ نانو کی عادت تم جانتی ہو جب تک کسی سے لڑنہ لیں‘ انہیں سکون کہاں ملتا ہے‘ تم فکر مت کرو۔‘‘
’’بات فکر کرنے کی ہے انشی‘ ماسی کو اتنا پریشان میں نے اس وقت بھی نہیں دیکھا تھا جب تم ہوش و حواس سے بیگانہ ہوکر رہ گئی تھیں۔ اب ان کی پریشانی کا کیا راز ہے لیکن کوئی نہ کوئی بات ضرور ہے۔‘‘
’’ایسی بات ہے تو تم نے ان سے پوچھا کیوں نہیں‘ تم سے وہ کوئی بات نہیں چھپاتیں‘ پوچھ کر دیکھ لو کیا مسئلہ ہے؟ میں خود عاکفہ اور بابر بھائی کے جانے سے فکر مند ہوں‘ ان کی غیر موجودگی میں نوفل سے ملاقات کی کوئی لائن ہی نہیں مل رہی اور اس سے نہ ملنے کا مطلب ہے انتقام کو خواب سمجھ کر بھول جائوں۔‘‘ وہ آج کل اس پریشانی میں مبتلا تھی‘ پل میں تولہ پل میں ماشہ بننے والا وہ شخص بدلے کی آگ سے دور جاتا دکھائی دے رہا تھا۔
’’اتنا عرصہ تمہیں اس سے ملتے ہوئے ہوگیا ہے اور ابھی تک تم دونوں کے تعلقات اس قدر مضبوط نہیں ہوئے کہ ایک دوسرے سے ملنے کے لیے کسی کا سہارا لینا ضروری ہے؟‘‘ وہ اس کے بال باندھ کر سامنے بیٹھتے ہوئے بولی۔
’’بتایا تو تھا تمہیں کہ وہ بہت عجیب آدمی ہے سیدھا چلتے چلتے پٹری سے اتر جاتا ہے‘ گرلز کے معاملے میں بے حد سخت دل ہے‘ یہ تم جانتی ہو۔‘‘ وہ صوفہ پر نیم دراز ہوگئی۔
’’وہ لڑکیوں کے معاملے میں اتنے سٹریل کیوں ہیں… کیا کسی نے محبت میں دھوکہ دیا ہے انہیں‘ عموماً لڑکے ایک لڑکی کی بے وفائی کا بدلہ دوسری لڑکیوں سے لینا اپنا حق سمجھتے ہیں۔‘‘
’’آئی ڈونٹ نو… شاید ایسا ہوسکتا ہے یا کوئی اور معاملہ ہے عاکفہ بتا رہی تھی‘ اس کا کوئی فیملی میٹر ہے‘ اس کے پیرنٹس کے مابین کوئی مس انڈر اسٹینڈنگ تھی یا کسی اور ہی افیئر نے اس بندے کو آدھا تیتر‘ آدھا بٹیر بنادیا ہے‘ کبھی سوجی کا حلوہ ثابت ہوتا ہے کبھی سوہن کا۔‘‘
’’ہاہاہا‘ حلوئوں کی بھی خوب کہی تم نے واہ…‘‘ وہ ہنس دی تھی۔
’’وہ تو حلوہ ہے تمہارے لیے اور تم اس کے لیے کیا ثابت ہوگی؟‘‘
’’اس کے حلق میں پھنسی ہڈی جو اس کی جان لے کر چھوڑے گی۔‘‘ اس کی مسکراہٹ اتنی خوفناک تھی کہ وہ جھرجھری لے کر رہ گئی۔
’’ایسی باتیں تمہارے منہ سے اچھی نہیں لگتی انشی۔‘‘
’’ضروری نہیں ہے منہ ہر بات سے اچھی ہی نکالے‘ اچھی باتیں اچھے لوگوں کے لیے اور بری باتیں برے لوگوں کے لیے ہوتی ہیں۔‘‘
’’کسی کی برائی کی سزا کسی بے قصور کو دینا ظلم و بے رحمی ہے۔‘‘
’’تم یہ بات کہہ سکتی ہو بلکہ ہر کوئی یہ بات کہہ سکتا ہے جو میری طرح اس آگ میں جل نہیں رہا… کیونکہ دوسروں کو نصیحت کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔‘‘ وہ اپنی ذات کی نفی کیے جانے کی تکلیف میں مبتلا تھی۔
’’تمہارا اور میرا دکھ ایک سا ہے‘ میرے ناکارہ وجود کو کچرا سمجھ کر کچرے پر ہی پھینک دیا گیا اور میں اپنے پیدا کرنے والوں سے ناواقف ہوں‘ تم اس معاملے میں خوش نصیب ہو کہ تمہیں اپنی جڑوں کی خبر ہے۔‘‘ بالی بھی رد کیے جانے کا درد لے کر جی رہی تھی۔
’’خوش نصیب ہوں… لعنت بھیجتی ہوں میں ایسی خوش نصیبی پر جو ہر وقت رد کیے جانے کے دکھ میں مبتلا رکھے انسان کو‘ جو نہ سکون سے جی سکے نہ مر سکے۔‘‘ اس کے خوب صورت چہرے پر کبیدگی تھی‘ بالی نے اس کی طرف دیکھا اور سرد آہ بھری۔ اس کا مزاج بالکل بدل گیا تھا۔
’’آگہی ایک اذیت ہے… ایک کرب مسلسل ہے‘ جو اس کا شکار بنتا ہے وہ مرغ بسمل کی مانند تڑپتا ہی رہتا ہے۔‘‘
’’تم نانو سے معلوم کرو کیا پرابلم ہے ان کو‘ مجھے تو وہ کبھی نہیں بتائیں گی کچھ بھی۔‘‘ انشراح کو بھی اپنے رویے کی تلخی کا احساس ہوا تو وہ نرمی سے گویا ہوئی۔
’’ابھی وہ کہیں جانے کی تیاری کررہی تھیں‘ اب تو چلی گئی ہوں گی‘ میرا موڈ چائے کا ہے‘ تمہارے لیے بھی لائوں؟‘‘ بالی اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’ہوں‘ عاکفہ نے مجھے بھی چائے کی لت لگا دی ہے‘ لے آئو میرے لیے بھی۔‘‘
’’اچھا ہے کوئی تو اچھی عادت عاکفہ نے ڈالی‘ میں تو کہتی ہوں اس کی طرح ہی تمہیں بھی کسی سے محبت ہوجائے اور تمہیں معلوم ہو زندگی فضول بدلے کی نذر کرنا حماقت ہے۔‘‘
خ…/…خ…/
برکھا کے تیور بری طرح بگڑے ہوئے تھے‘ جہاں آرأ ابھی تک نہیں پہنچی تھی‘ وقت کی پابندی میں دونوں ہی یکساں تھیں‘ گھڑی کی سوئیاں اپنے مقام پر پہنچنے میں سست ہوچکی تھیں‘ مگر وہ وقت پر ہی پہنچنے کی عادی تھیں۔
’’ارے میڈم… بار بار گھڑیال کو کیا دیکھ رہی ہو جہاں آرأ اس گھڑیال سے برآمد تھوڑی ہوگی‘ وہ گھڑیال کی ٹن ٹن ٹن نہیں ہے‘ جیتی جاگتی گھاگ بڑھیا ہے۔‘‘ سراج نے بے تابی سے بار بار وال کلاک کو گھورتی برکھا سے ہنس کر کہا۔
’’میں جانتی ہوں‘ وہ وقت کی بہت پابند ہے اور اپنی کہی بات سے بھی مکرتی نہیں مگر اس وقت اس کے نہ آنے کا مطلب کیا ہے؟‘‘
’’وہ دن بیت گئے میڈم جب جہاں آرأ کا طوطی ہر جگہ بولتا تھا‘ تب وہ وقت کی بھی پابند تھی اور زبان کی بھی پکی‘ اب اس کے نقار خانے میں الو بھی نہیں بولتے‘ وہ وعدے کرنے اور نبھانے کے لائق نہیں رہی۔‘‘ سراج نے دیا سلائی دکھائی اور برکھا پہلے ہی بھس بنی ہوئی تھی۔
’’میں اسے وعدہ خلافی کا مزہ ایسا چکھائوں گی کہ مرنے کے بعد بھی یاد رکھے گی۔‘‘
’’یہ گھی ٹیڑھی انگلیوں سے بھی نہیں نکلے گا‘ میری مانو تو ڈبہ ہی کاٹ ڈالو کیوں انگلیاں خراب کرتی ہو۔‘‘ اس کے لہجے میں معنی خیزی تھی۔
’’سراج کٹنے… تجھ نمک حرام سے ایسی ہی لگائی بجھائی کی امید تھی‘ تو جس تھالی میں کھاتا ہے اسی میں تھوکتا ہے بدذات۔‘‘ جہاں آرأ اس کی باتیں سنتی آرہی تھیں‘ اندر آکر اس سے بگڑے لہجے میں مخاطب ہوئیں۔
’’تنہا آئی ہو؟‘‘ برکھا حیرانی سے اس کی طرف دیکھ کر استفسار کرنے لگی۔
’’کیا بارات لے کر آتی؟‘‘ ان کے لہجے میں تیکھا پن تھا۔
’’ہاہا… ہمارے یہاں بارات لانے کا رواج کہاں ہے تم بھول گئی ہو شاید؟‘‘
’’دیر کیسے ہوگئی آپا… تم دیر کرنے والی تو نہیں ہو؟‘‘ سراج نے پوچھا۔
’’کراچی کے ٹریفک کا حال تمہیں معلوم نہیں ہے لگتا ہے پوری دنیا ہی کراچی میں آکر بس گئی ہے‘ ایک ہجوم بیکراں ہے جو ہمہ وقت دکھائی دیتا ہے۔‘‘
’’ٹھیک کہہ رہی ہو جہاں آرأ یہاں دن و رات کی کوئی قید نہیں ہے‘ آئو بیٹھو نہ کھڑے کھڑے کیا باتیں کروگی۔‘‘ برکھا کا موڈ درست ہوگیا تھا۔
’’میں بیٹھنے نہیں آئی تمہاری رقم واپس کرنے آئی ہوں‘ رقم لو اور میری جان چھوڑو۔‘‘ وہ بیگ کھولتی ہوئیں غصے سے گویا ہوئیں۔
’’ارے یہ میں کیا سن رہا ہوں؟ میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہا‘ آپا اور رقم کی واپسی اللہ اللہ یہ سب کیا ہورہا ہے؟‘‘ سراج مارے حیرت کے دونوں ہاتھوں سے اپنے گال پیٹنے لگا۔
’’چپ کر جا سراج اور تم بھی بیگ بند کرو مجھے رقم نہیں لڑکی چاہیے۔‘‘ برکھا نے سراج کو ڈپٹ کر ان سے سنجیدگی سے کہا۔
’’لڑکی ملنا اب ممکن نہیں۔‘‘ ان کے لہجے میں سختی در آئی تھی۔
’’ناممکن لفظ میری زندگی میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔‘‘
’’پہلے نہیں رکھتا ہوگا…‘‘ ان کا تنفس بے قابو ہوا۔
’’بات کو مت الجھائو یہ رقم پکڑو اور کسی دوسری لڑکی کا بندوبست کرلو۔‘‘
’’کسی دوسری و تیسری لڑکی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘ میں اس لڑکی کی خاطر یہاں آئی ہوں‘ سراج نے اس کی خوب صورتی اور نوخیز حسن کے ایسے خواب دکھائے ہیں کہ میں اب اس کے حصول سے دستبردار ہونے والی نہیں ہوں‘ میں تمہیں کچھ ٹائم دے رہی ہوں اپنی مرضی سے انشراح کو یہاں چھوڑ جائو بس۔‘‘
خ…/…خ…/
ساریہ اور اس کے والدین ہوٹل آگئے تھے۔ تنویر ایک کینہ پرور اور کم ظرف ذہنیت کے مالک انسان تھے‘ نوفل کے انکار کو انہوں نے اپنی بے عزتی و انا کا مسئلہ بنا لیا تھا۔ ساریہ نے بھی رو رو کر اپنا حال برا کرلیا تھا‘ وہ کسی بھی طرح نوفل کو بھولنے کو تیار نہ تھی اور نہ ہی وہ یہاں سے جانے کو راضی تھی۔ ثمرہ اور تنویر اسے سمجھا سمجھا کر تھک چکے تھے۔ پر وہ کسی کی سننے کو تیار نہ تھی۔
لاریب کو جب ان کے جانے کی خبر ملی تو وہ ساریہ کو کال کرکے ہوٹل چلا آیا اور جہاں ان سے گفتگو کے دوران خوب نمک مرچ لگا کر ان کی ہاں میں ہاں ملاتا رہا‘ دراصل وہ نوفل کی جانب سے دل میں بعض بھرے بیٹھا تھا اس دن سامعہ سے بدتمیزی کرتے دیکھ کر نوفل نے اس کی زبردست طریقے سے کلاس لی تھی اور وہ ہی خار وہ دل میں دبائے بیٹھا تھا‘ اب اس کے ہم مزاج لوگ مل گئے تھے۔ سو خوب محفل جم گئی تھی۔
’’مجھے ازحد افسوس ہے نوفل کی وجہ سے آپ لوگوں کو وہاں سے آنا پڑا‘ وہ خود کو بہت کچھ سمجھنے لگا ہے گھر والوں کی نگاہوں میں اس کی بہت ویلیو ہے سب اس کی مرضی پر چلتے ہیں جو وہ کہتا ہے وہی ہوتا ہے۔‘‘
’’اب آیا ہے اونٹ پہاڑ کے نیچے کل تک میں اسے اپنا داماد سمجھ کر اس کی ہٹ دھرمی اور خاموشی کو برداشت کرتا رہا تھا مگر اب میں اس سے کوئی رعایت کرنے والا نہیں ہوں‘ جس کی وجہ سے میری بیٹی کی آنکھوں میں آنسو آئے ہیں۔‘‘ تنویر گردن اکڑا کر سخت لہجے میں گویا ہوئے۔
’’بالکل… بالکل انکل اسے رعایت نہیں ملنی چاہیے۔‘‘ اس کے بغض آمیز دل میں مسرت کی کرن روشن تھی۔
’’لیکن… یہ سب کرنے سے کیا ہوگا ڈیڈی؟‘‘ ساریہ نے پوچھا۔
’’اسے معلوم تو ہوگا کس کی بیٹی کا دل توڑا ہے اس نے۔‘‘
’’لیکن میرا تو پھر بھی نہیں ہوگا ناں وہ… جب وہ میرا نہیں ہوگا تو یہ مار پیٹ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں‘ آپ کچھ نہ کہیں نوفل کو۔‘‘ ساریہ بھیگے لہجے میں گویا ہوئی۔
’’تم غلط کہہ رہی ہو ساریہ… ایسے کٹھور اور بے رحم کو ایسا سبق سکھانا چاہیے کہ وہ ساری زندگی یاد رکھے‘ باہر غیر لڑکیوں سے دوستیاں کرتا ہے اور گھر میں نیک و شریف بن جاتا ہے۔‘‘ ساریہ کی لچک بالکل بھی لاریب کو نہ بھائی تھی وہ تلملا کر بولا۔
’’وہ بڑا بدنصیب ہے جو میری بچی کی سچی محبت کو ٹھکرا گیا‘ میری تو بددعا ہے اسے کبھی سچی محبت نہ ملے‘ جس طرح میری بیٹی اس کی چاہت میں پاگل ہورہی ہے وہ بھی اسی طرح کسی کی محبت میں دیوانہ ہوکر مرے۔‘‘ ثمرہ بیٹی کی حالت دیکھ کر جاہل عورتوں کی طرح کوسنوں پر آگئیں۔
’’مرے گا وہ… تم دیکھنا کیا حال کرتا ہوں میں اس کا میری شرافت دیکھی ہے اس نے ابھی‘ میری بدمعاشی سے وہ واقف ہی نہیں ہے۔‘‘ تنویر اپنی گھنی و لمبی مونچھوں کو تائو دیتے ہوئے غرائے۔
’’ایسا نہ کہیں ڈیڈی… وہ مر گیا تو زندہ میں بھی نہیں رہوں گی۔‘‘ ساریہ نے تڑپ کر باپ کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
’’تم انکل کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی سعی مت کرو‘ انکل جو کررہے ہیں وہ ٹھیک ہے‘ تمہیں ریجیکٹ کرنے کی سزا موت سے کم نہیں ہونی چاہیے‘ آپ کو جو کرنا ہے وہ کریں انکل میں آپ کے ساتھ ہوں‘ ساریہ کو دوست کہا ہے اور دوست کی انسلٹ میری انسلٹ ہے۔‘‘
خ…/…خ…/
وہ تین منزلہ عمارت بڑی خوب صورتی سے جگمگا رہی تھی‘ لان میں موجود درختوں اور پودوں پر بھی روشنیاں جگمگ جگمگ کررہی تھیں‘ مہمانوں کی آمد و رفت جاری تھی‘ زید دل کو سنبھالے نارمل انداز میں وہاں موجود تھا۔
سودہ کی مایوں بڑی دھوم دھام سے ہورہی تھی۔ لوگوں نے سودہ کی خوب صورتی اور ساری ارینجمنٹ کو بے حد سراہا تھا۔ زیادہ تر تنقید کا نشانہ اچھی آپا کا مایوں والا وہائٹ سوٹ بن رہا تھا۔ ناپسندیدہ و تنقیدی نگاہوں کی ماں اور بیٹی نے قطعی پروا نہ کی تھی۔ اول تو ان کے تیزو طرار مزاج اور جھگڑالو عادت کے خوف سے ان کی پیٹھ پیچھے ہی باتیں بنائی گئی تھیں اور کچھ نڈر خواتین نے منہ در منہ یہ سوال کیا بھی کہ مایوں پر سفید سوٹ کسی دلہن کو پہنے نہیں دیکھا تو فخر سے جواب ملا۔
’’میری بہو دیکھو کیسا چاند کا ٹکڑا لگ رہی ہے‘ پیلے سوٹ میں کسی لڑکی پر اتنا روپ دیکھا ہے‘ پہلے کبھی؟‘‘ اور کہنے والی اپنا سا منہ لے کر رہ جاتی تھیں‘ جزبز صوفیہ بھی بہت ہوئی تھیں‘ انہوں نے بڑے دل سے مایوں کا غراہ سوٹ بنوایا تھا۔ ذرد غرارہ سوٹ پر ہرا گوٹہ و کرن لگی تھی۔ ہرے دوپٹے پر ہرے و پیلے ملٹی شیڈ کی باریک دھنک بہار دکھا رہی تھی مگر اچھی آپا اور چندا نے اس سوٹ کو رد کردیا تھا اور اپنا لایا ہوا سوٹ اور فلاور جیولری کو ہی اہمیت دی تھی۔ سودہ اس میں بہت دلکش لگ رہی تھی۔ رسم کے موقع پر چندا زید کو بھی کھینچ لائی تھی۔
’’آپ اتنے دور دور کیوں ہیں جناب… کیا ہماری بھابی کا منہ میٹھا نہیں کرائیں گے۔‘‘ وہ کنفیوز کھڑے زید کو اسٹیج پر لے آئی اور سودہ کے برابر میں صوفے پر بٹھا دیا‘ وائٹ شلوار سوٹ میں ملبوس کچھ گھبرایا سا وہ جاذب نظر لگ رہا تھا۔ اس کے وجیہہ چہرے پر لمحے بھر کو بوکھلاہٹ طاری ہوئی تھی۔
’’آپ بھول رہی ہیں چندا آپی…‘‘ شاہ زیب بھی وہاں آگیا‘ اس کی نگاہیں زید سے ہوتی ہوئیں سودہ کی طرف گئی تھیں‘ جو سرخ زرتار دوپٹے میں چہرہ چھپائے بیٹھی تھی۔ اس کا چہرہ سادہ‘ کشادہ پیشانی پر پھولوں کی بندیا بہار دکھا رہی تھی۔ سیاہ دراز پلکیں کومل عارضوں پر لرز لرز جا رہی تھیں‘ حیاء سے وہ پہلے ہی سمٹی بیٹھی تھی۔ مستزاد برابر میں براجمان زید کی موجودگی میں وہ حسب عادت نروس دکھائی دے رہی تھی۔
’’ارے کیا کہا تم نے میں کیا بھول رہی ہوں؟‘‘ چندہ چونک کر گویا ہوئی۔
’’زید بھائی کو آپ نے اس طرح لاکر بٹھایا ہے گویا یہی اصلی مالک ہیں۔‘‘
’’سودہ کے اصل مالک… بھلا کیا مقصد ہوا اس بات کا؟‘‘ چندا کے تیور بدلنے لگے‘ اس نے ہاتھ میں پکڑا کیک واپس رکھا۔
’’میاں… یہ تم مذاق کررہے ہو یا مذاق ہی مذاق میں بھانڈا پھوڑ رہے ہو؟‘‘ قریب موجود اچھی آپا بھی بیٹی کے قریب آگئیں‘ لمحے بھر میں مسرتوں بھرے ماحول میں الجھاؤ پیدا ہوگیا تھا۔
’’کیسا بھانڈ… یہ کیا بات کررہی ہیں آپ آنٹی؟‘‘ شاہ زیب حیرانی سے بولا۔
’’آپ شاہ زیب کی شوخ مزاجی کو جانتی ہیں پھر بھی ایسی بات کررہی ہیں‘ اس نے ازراہ مذاق ایسی بات کہی ہے اور ایسے موقعوں پر ایسی باتیں ہوتی ہیں کوئی برا نہیں مانتا‘ پھر آپ تو اپنی ہیں۔‘‘ زمرد نے آگے بڑھ کر تحمل و نرمی سے ان کا ہاتھ پکڑ کر سمجھایا۔
’’آئم سوری آنٹی… شاہ زیب نے انہیں ہرٹ کیا ہے‘ میں معذرت کرتا ہوں‘ اس کی طرف سے وہ اسٹوپڈ ہے پلیز‘ معاف کردیں اور اپنی رسم جاری رکھیں۔‘‘ زید ان کے قریب آکر معذرت کرتا ہوا بولا۔
’’بات ایسی کوئی غصہ دکھانے والی نہ تھی جس پر آپ اتنا بدکی ہیں‘ اگر اس لڑکی کو مجھے بہو بنانا ہوتا تو ایک عرصے قبل یہ میری بہو بن چکی ہوتی اور آپ کو یہاں اوقات دکھانے کی نوبت ہی نہ آتی۔‘‘ زرد و سبز ساڑی میں نک سک سے تیار عمرانہ وہاں آکر گویا ہوئیں۔
’’زید اس لڑکی کا مالک نہیں ہے‘ البتہ آپ کے دل میں کوئی چور ہے تو اس چور کو ضرور باہر نکالیں‘ میرے بیٹے پر تہمت لگانے کی ضرورت نہیں۔‘‘ ان کے ٹھنڈے لہجے میں غضب کی آگ تھی‘ جو ان ماں بیٹی کو بھڑکا گئی تھی۔
’’ممی… سن رہی ہیں آپ؟ کس طرح ہماری اوقات بتائی جا رہی ہے‘ ہم یہاں اس لیے آئے ہیں کہ ہماری بے عزتی ہو‘ ہماری اوقات بتائی جائے؟‘‘ چندا مہمانوں کی طرف دیکھتے ہوئے غصے سے چیخنے لگی‘ لمحوں میں کرسیوں پر بیٹھے مہمان وہاں جمع ہوگئے تھے۔
’’زید… چلو یہاں سے ان تھرڈ کلاس عورتوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔‘‘ عمرانہ زید کا بازو پکڑ کر وہاں سے لے جانا چاہتی تھیں۔
’’مما پلیز… بات سمجھنے کی کوشش کریں‘ آپ ابھی کہیں نہیں جائیں۔‘‘
’’خوب تماشہ بنوا رہی ہو ہمارا صوفیہ… بہت عمدہ عزت افزائی کروا رہی ہو اپنی بیٹی کے سسرالیوں کی واہ واہ۔‘‘ اچھی آپا کی پاٹ دار آواز پورے ہال میں گونجنے لگی تھی۔ صوفیہ گم صم سی کھڑی رہ گئی تھیں۔
’’رشتہ کرنے سے پہلے ہماری کلاس معلوم نہ کی‘ اب ہم تھرڈ کلاس دکھائی دے رہے ہیں چلو بھئی چلو‘ اب میں یہاں رشتہ کرنے والی نہیں ہوں۔‘‘ اچھی آپا نے ساتھ آئے مہمانوں کی طرف دیکھتے ہوئے حکمیہ لہجے میں کہا۔
’’میرے بھائی کو لڑکیوں کی کمی نہیں‘ ابھی بھی دیکھنا اسی تاریخ پر شادی کرکے دکھائیں گے‘ میرا بھائی لاکھوں میں ایک ہے۔‘‘ خوشی کی محفل کا تماشہ بن کر رہ گیا تھا۔
اچھی آپا اور چندا کسی کے بھی سمجھانے سے نہیں سمجھ رہی تھیں‘ خاندان کی بزرگ خواتین ہر ممکن کوشش کررہی تھیں‘ منور اور مدثر صاحب بھی وہاں آگئے تھے۔
’’تھرڈ کلاس کہنے سے کوئی تھرڈ کلاس نہیں ہوجاتا‘ چاند کو کسی بھی نام سے پکاریں چاند‘ چاند ہی رہتا ہے‘ اچھی آپا‘ ہمارا آپ کا خاندان ایک ہے۔‘‘ منور صاحب کے سمجھانے پر ان کے مزاج درست ہوئے اور وہ پھر سے رسم میں مصروف ہوگئی تھیں۔
خ…/…خ…/
ڈھونڈتا پھرتا ہوں جہاں در جہاں
دوسرا آسماں
ہے کہاں ہے کہاں
دوسرا آسماں
بے اماں پھر رہے ہیں دلاسے کئی
ساحلوں پر بھی پھر رہے ہیں پیاسے کئی
ایک یقین کے عقب میں ہیں کئی گماں
دوسرا آسماں
تنویر سے ہونے والی تکرار نے اس کی طبیعت ازحد مکدر کر دی تھی‘ ان کی دی جانے والی دھونس و دھمکی نے اس کی رگوں میں دوڑتے خون کو کھولا دیا تھا۔ جب انہیں رشتے کا پاس نہ تھا تو وہ کیونکر ان کے رویوں کو نظر انداز کرتا‘ اپنی ماں کے خاندان سے اسے کسی خیر و بھلائی کی توقع ہی عبث تھی‘ سو وہ انہیں دوبدو جواب دیتا چلا گیا تھا‘ گو کہ اس وقت یوسف صاحب اور زرقا بیگم نے ان ماموں و بھانجے کا معاملہ جان کر زیادہ مداخلت نہ کی تھی اور ان کے جانے کے بعد وہ دونوں اس کے کمرے میں چلے آئے تھے‘ وہ ایزی چیئر پر بیٹھا اپنے غصے پر قابو پانے کی سعی کررہا تھا۔ وہ پیار و محبت سے اسے سمجھاتے رہے تھے۔ دنیا کی اونچ نیچ وقت کے تقاضے اور زندگی کی اہمیت کا احساس دلانے کی سعی کرتے رہے تھے۔
پھر ساری رات اور دوسرا سارا دن وہ اپنی ذات کو کھوجتا رہا تھا۔ اپنی خواہشوں کے مہیب اندھیروں میں آرزوئوں کا دیا روشن کیا تو معلوم ہوا باہر سے صحرا اور بنجر دکھائی دینے والے من آنگن میں ہر سو ہریالی ہی ہریالی ہے جہاں پر چاہت کے جھرنے بھی بہہ رہے ہیں اور محبت کے گل بھی کھلے ہوئے ہیں اور یہ احساس اس کے اندر آسودگی و تراوٹ بھرتا چلا گیا تھا۔
اس نے عورت ذات سے نفرت کی تھی مگر ہر عورت سے نہیں‘ ہر عورت صرف اس کی ماں جیسی نہیں ہوتی… عورت ماما جیسی بھی ہوتی ہے جو ایک عمر مرد کی بے وفائی کے باوجود اس کی بے رخی سہتے گزار دیتی ہے‘ اس کی چاہتوں کا محور صرف اور صرف ایک چہرہ تھا۔
چاندنی کے غبار کی مانند پُرکیف و نشاط آمیز وہ دلربا چہرہ‘ پہلی بار اس کے لبوں پر جاندار زندگی سے بھرپور مسکراہٹ در آئی تھی‘ وہ کھڑے ہوکر قد آور آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے لگا مگر… یہ اس کا چہرہ نہ تھا… یہ کوئی اجنبی چہرہ نہ تھا یہ چہرہ اس کے دل میں بستا تھا‘ دھڑکن بن کر دھڑکتا تھا‘ لاکھ جتن و بہانوں کے باوجود وہ اس چہرے سے خود کو نہ بچا پایا تھا اور آج وہ ہتھیار ڈال چکا تھا۔
’’انشراح… تم نے کہا تھا ہم اچھے دوست بن سکتے ہیں؟‘‘ وہ آئینہ دیکھتے ہوئے انشراح کے عکس کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہوا بولا۔
’’آف کورس‘ بن سکتے ہیں اور بہت اچھے بن سکتے ہیں۔‘‘ اس نے ڈھیروں پرفیوم خود پر چھڑکتے ہوئے زیرلب کہا اور موبائل نکال کر انشراح کا نمبر ڈائل کرنے لگا تھا۔
’’ہیلو…‘‘ دوسری طرف سے وہ خشک و سرد لہجے میں بولی۔ وہ بے ساختہ مسکرا اٹھا اس دن اس نے اس کی دوستی کی آفر رد کی تھی اور جواباً لمبے لیکچر سے نوازا تھا اب اس کے لہجے کی تلخی اس کے اپنے رویے کا ہی جواز تھی۔ وہ خاصا محفوظ ہوا۔
’’انشی…‘‘ اس کا بھاری لہجہ مزید بھاری ہوگیا تھا۔ دوسری طرف خاموشی تھی۔
’’انشی… میں تم سے ملنا چاہتا ہوں‘ کیا تم آئو گی؟‘‘
’’آپ اور مجھ سے ملنا چاہیں گے خیریت تو ہے، کہیں آپ نیند میں تو نہیںہیں یا میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں؟‘‘ انشراح کا بناوٹ و طنز سے بھرپور لہجہ اسے شرمندہ کر گیا۔
’’نیند سے اب بیدار ہوا ہوں‘ تم نے اس دن کہا تھا… تم فرینڈ شپ کرنا چاہتی ہو؟‘‘ وہ اسے منانے کی سعی کرنے لگا۔
’’ہوں… کہا تو تھا۔‘‘ وہ شدید حیرانی کا شکار ہوئی۔
’’میں نے بہت سوچا کہ تمہاری دوستی کی آفر قبول کرلینی چاہیے۔‘‘ اسے سخت مشکل لگ رہا تھا اس قسم کی گفتگو کرنا پر دل کے ہاتھوں مجبور بھی تھا‘ اپنی بے کیف زندگی کا احساس شدت سے ہوا تھا۔
’’اوہ… رئیلی!‘‘ اس بار اس کے لہجے میں سو فیصد طنز سمٹ آیا تھا۔
’’میں گلٹی ہوں اپنے ایٹی ٹیوڈ پر… مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘‘
’’مرد اور عورت کی دوستی کا مطلب سمجھتے ہیں آپ؟‘‘
’’بس… جذبوں میں کھوٹ نہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔‘‘ جواباً دوسری طرف سے لائن کاٹ دی گئی تھی۔
خ…/…خ…/
’’ارے ارے ارے… لائن کیوں ڈسکنیکٹ کردی تم نے کچھ دیر قبل تو یہ سوچ سوچ کر ہلکان ہورہی تھیں کہ عاکفہ اور بابر کے جانے کے بعد کس طرح نوفل سے رابطہ کروں گی؟ اب اللہ نے تمہاری سن لی ہے اور اسے خود ہی رابطہ کرنے کی توفیق دی ہے بلکہ وہ دوستی کا بھی خواہاں ہے تو تم نے حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے کیا سخاوت دکھائی ہے؟‘‘ چند گھنٹے قبل ہی تو وہ سوگ منا رہی تھی اپنے انتقام کے ادھورے رہ جانے کا اور پھر بالکل غیر متوقع طور پر نوفل کی طرف سے آنے والی کال نے دونوں کو ہی سحر زدہ کردیا تھا‘ کتنی دیر تک وہ اسکرین پر چمکتے نوفل کے نام کو دیکھتی رہی تھی۔
’’بالی… یہ سچ مچ نوفل کی کال ہے یا مجھے دھوکہ ہوا ہے؟‘‘
’’دل سے دل کو راہ ہوتی ہے دیکھو کال آگئی نوفل بھائی کی۔‘‘ وہ مسرت سے جھوم اٹھی۔
’’لیکن… وہ کال کیوں کررہا ہے؟‘‘ وہ دانتوں سے ہونٹ کچل کر بولی۔
’’بھئی اب اٹھا بھی لو خود ہی معلوم ہوجائے گا۔‘‘
’’بالی… اگر اس نے کوئی ایسی ویسی بات کی تو میں کس طرح بدلہ لوں گی اور جب تک میں بدلہ نہیں لوں گی‘ سکون سے مر بھی نہیں سکتی۔‘‘
’’مریں تمہارے دشمن۔‘‘ وہ گھبرا کر بولی۔
’’اگر دشمن مر گئے تو میں بدلہ کس سے لوں گی ایڈیٹ۔‘‘
’’ان کی روحوں سے لے لینا پلیز‘ اب کال پک بھی کرلو۔‘‘ بالی ہاتھ جوڑ کر عاجزانہ لہجے میں بولی۔
اس نے ڈرتے ہوئے کال ریسیو کی‘ ساتھ ہی لائوڈ اسپیکر کا بٹن بھی پریس کردیا تھا۔ اس کے باوجود بالی اس کے سر سے سر جوڑ کر بیٹھ گئی تھی۔ پھر جوں جوں بات بڑھتی گئی دونوں کی آنکھیں خوشی سے چمکنے لگی تھیں۔ لہجہ جان بوجھ کر اس نے سخت و بے لچک رکھا تھا اور آخر میں بنا کوئی رسپونس دیئے لائن کاٹ دی تھی۔ جس پر بالی بھڑک رہی تھی۔
’’کیا کرنا چاہتی ہو آخر بتائو تو سہی مجھے تم؟‘‘
’’وہ شخص جتنا شاطر و عیار ہے میں جانتی ہوں‘ وہ کب کیا کر بیٹھے‘ کچھ پتا نہیں چلتا ہے آج دوستی کے لیے ہاتھ بڑھا رہا ہے کل نفرت سے جھٹک دے گا‘ کراہت سے تھوک دے گا کچھ پتہ نہیں چلتا۔‘‘
’’تمہیں جو کرنا ہے وہ کرکے جان چھڑائو ناں… تمہارے ساتھ ساتھ میں بھی ایک اذیت میں مبتلا ہوں‘ تمہیں سکون نہیں ملے گا تب تک میں بھی بے سکون رہوں گی۔‘‘ وہ آہستگی سے گویا ہوئی۔
’’بے فکر رہو… میں اسے انجام تک پہنچانے میں دیر نہیں لگائوں گی۔‘‘
’’یہ دیر نہیں تو کیا ہے تم خود ٹائم ویسٹ کررہی ہو اب۔‘‘
’’تمہارا مطلب ہے پکے ہوئے پھل کی طرح اس کی جھولی میں گر جائوں؟‘‘
’’اینی ویز‘ اتنی احمق تو تم بھی نہیں ہو کہ اس کی جھولی میں گر جائو۔‘‘
’’ہوں‘ ایک کال پر ہی میں بھاگی بھاگی چلی گئی تو اس کے لیے لوٹ کا مال ثابت ہوں گی اور لوٹ کے مال کی کون قدر کرتا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے انہیں تم مجھ سے زیادہ بہتر جانتی ہو جو کرنا ہے جلدی کرنا مجھے ماسی کے ارادے گڑبڑ لگ رہے ہیں‘ کمرہ بند کیے نامعلوم کس کس سے خفیہ باتیں چل رہی ہیں آج کل ان کی؟‘‘
’’اف… یہ نانو بھی نہ سکون سے بیٹھتی ہیں نہ بیٹھنے دیتی ہیں۔‘‘
خ…/…خ…/
’’لاریب… کچھ سوچا ہے میں نے آپ کی شادی کے متعلق۔‘‘ سامعہ نے اس کے قریب بیٹھتے ہوئے مسکرا کر کہا‘ لاریب نے بھی مسکرا کر ان کی طرف دیکھا۔
’’آپ کو رہ رہ کر میری شادی کا خیال کیوں آتا ہے؟‘‘
’’اس لیے کہ آپ کی شادی کی عمر ہوگئی ہے اور ہر ماں کی طرح میری بھی یہ تمنا ہے کہ آپ کی شادی ہو…‘‘
’’شادی ہو‘ چاند سی بہو گھر میں آئے اور آپ پوتوں کو کھلائیں… وٹ ربش‘ آپ بھی مڈل کلاس عورتوں کی طرح سوچتی ہیں۔‘‘ وہ ان کی بات کاٹ کر منہ بناکر گویا ہوا۔
’’ماں کسی بھی کلاس سے بی لونگ کرتی ہو خواہشیں ایک جیسی ہوتی ہیں۔‘‘
’’ہوں… پھر آپ نے کیا سوچا ہے میری شادی کے متعلق؟‘‘ وہ جوس پیتے ہوئے خاصے اچھے موڈ میں گفتگو کررہا تھا۔ نوفل کی کوشش سے ان کے تعلقات بحال ہوگئے تھے اور اس نے اذہان کے ساتھ آفس بھی جانا شروع کردیا تھا۔ سامعہ اس کی چیک بک اسے دے چکی تھیں۔
’’لڑکی پسند کرلی ہے میں نے دیکھتے ہیں اب آپ کو پسند آتی ہے یا نہیں؟‘‘
’’کون ہے لڑکی وہ؟‘‘ وہ ہمہ تن گوش ہوا۔
’’آپ کی جانی پہچانی ہے۔‘‘ وہ معنی خیزی سے بولیں۔
’’میری جانی پہچانی ہے؟‘‘ اس کی نگاہوں میں کئی چہرے ابھرے۔
’’ہوں‘ گیس کریں بہت اچھی فرینڈ شپ ہے آپ کی۔‘‘
’’سوری مما… میں گیس نہیں کر پائوںگا آپ جانتی ہیں میری گرل فرینڈ کی تعداد بے حساب ہے۔‘‘ وہ ہار مانتا ہوا گویا ہوا۔
’’ساریہ آپ کی نگاہوں میں نہیں آئی کیا؟‘‘
’’ساریہ؟‘‘ اسے شدید اچھو لگا۔
’’ارے سنبھل کر بیٹا۔‘‘ وہ اس کی پشت تھپکنے لگیں۔
’’آپ کو ساریہ پسند آئی ہے کچھ جانتی بھی ہیں اس کے بارے میں؟‘‘ وہ گلاس ٹیبل پر رکھتا ٹشو سے چھلک جانے والا جوس صاف کرتے ہوئے بولا۔
’’جانتی ہوں‘ اچھی طرح جانتی ہوں‘ اس کے فیملی بیگ گرائونڈ سے اگر آپ شعوانہ کی بات کررہے ہیں تو اسے چھوٹ عکرمہ نے دی تھی‘ اس پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہ رکھا تھا‘ ہم بھی اسی خاندان کی بہوئیں ہیں‘ مگر آزادی و خود مختاری دینے سے قبل ہمیں ہماری لمنٹس بھی بتادی گئی تھیں جنہیں کراس کرنے کی ہم نے کبھی ضرورت ہی محسوس نہ کی تھی۔‘‘
’’مجھے شعوانہ آنٹی کے میٹر میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے میں ساریہ کی بات کررہا ہوں‘ وہ نوفل کو پسند کرتی ہے‘ مرتی ہے اس پر۔‘‘
’’معلوم ہے مجھے لیکن نوفل ساریہ میں انٹرسٹڈ نہیں ہے…‘‘
’’یہ سب جانتی ہیں آپ پھر بھی ساریہ کو بہو بنانا چاہتی ہیں؟ امیزنگ میں ایسی کسی لڑکی سے شادی کیسے کرسکتا ہوں‘ جو پہلے سے کسی دوسرے مرد سے محبت کرتی ہو۔‘‘ اس کے انداز میں سخت خفگی تھی۔
’’آپ نے بھی تو گرلز کے ساتھ ٹائم پاس کیا ہے‘ پھر ساریہ پر اعتراض کیوں؟ لبرل ہوکر ایسی باتیں کررہے ہیں آپ؟‘‘
’’مما… میری خواہش یہی ہے میری لائف پارٹنر جو لڑکی بنے وہ اتنی پاکیزہ ہو کہ ہوائوں نے بھی اسے نہ چھوا ہو۔‘‘
’’یہ سب کتابی باتیں ہیں لاریب‘ جو کتابوں میں ہی اچھی لگتی ہیں۔‘‘
’’اگر آپ کو میری شادی کرنی ہے تو ایسی ہی لڑکی سے کرنی ہوگی وگرنہ آپ کی خواہش صرف حسرت ہی رہے گی۔‘‘
’’یہ بہت عجیب شرط رکھ دی ہے آپ نے ہمارے حلقۂ احباب میں کوئی ایسی ان چھوئی لڑکی ملنے والی نہیں ہے۔‘‘ وہ بڑبڑا کر رہ گئی تھی۔
خ…/…خ…/
جہاں آرأ کے اعصاب پر برکھا بیگم آسیب بن کر سوار ہوگئی تھیں اور اس کا ساتھ دیتا ہوا سراج ان کی بڑی شکست کا سبب بن رہا تھا‘ وہ ہی مثال تھی آج کا دوست کل کا دشمن اور وہ بد ترین دشمن ثابت ہورہا تھا۔ سراج ان کے تمام دائو پیچ سے واقف تھا‘ سو برکھا کے ہارنے کا سوال ہی نہ پیدا ہوتا تھا۔ اس نے سوچنے کا وقت دیا اور وہ وقت گویا پنکھ لگا کر اڑنے لگا تھا۔ وہ روز کال کرکے گزرتے وقت کی یاددہانی کرواتی تھی اور جہاں آرأ ماسوائے دانت پیسنے کے کچھ نہ کرسکتی تھی۔ پھر اسی تگ و دو میں جب ہر سمت سے راستے بند دکھائی دے رہے تھے۔ ان کے ذہن میں سائرہ خانم کا تصور جاگزیں ہوا تھا اور ان کی وہی حالت ہوگئی تھی گویا مرتے کو زندگی مل گئی ہو۔
سائرہ خانم اور برکھا کسی وقت میں ایک ہی جگہ ہوا کرتی تھیں‘ پھر سائرہ کسی جاگیردار کو بھا گئی اور وہ اس کام سے تائب ہوکر شریفانہ زندگی گزارنے لگی تھی‘ برکھا کی نظر کب سے اس جاگیردار پر تھی‘ پہلے تو برکھا اس دکھ میں ہی گھلنے لگی کہ وہ اس آدمی کی منظور نظر نہ بن سکی تھی‘ پھر یہ آگ اس وقت الائو بنی جب سائرہ کو اس جاگیردار کے خاندان میں عزت وپذیرائی ملی وہ سوچ رہی تھی‘ سائرہ بہت جلد لوٹ کر آجائے گی‘ مگر وہ نہیں آئی سال پر سال بیتتے چلے گئے۔ اس کے دو بیٹے اور ایک بیٹی جوان ہوگئی اس دوران برکھا نے بہت کوشش کی اس جاگیردار کو دام میں پھنسانے کی اور ناکامی کی صورت میں اس نے بھی مزہ چکھانے کا عہد کرلیا اور ایک دن کالج سے اس کی بیٹی کو اغوأ کروا کر فروخت کر ڈالا تھا اور اس لڑکی نے بلڈنگ سے کود کر اپنی جان دے دی تھی۔ تب برکھا اپنی جان بچانے کی خاطر کہیں روپوش ہوگئی تھی اور سائرہ خانم اپنی فیملی کے ہمراہ پاکستان سے کسی دوسرے ملک شفٹ ہوگئی تھی۔ وہ کہاں گئی تھی کسی کو پتہ نہ تھا اس بات کو گزرے طویل عرصہ گزر گیا تھا۔ چالیس بیالیس سال کا لمبا عرصہ ان کا دل کہتا تھا وہ جہاں بھی گئی ہوگی اب پاکستان واپس آگئی ہوگی۔ اس حوالے سے انہوں نے کئی جگہوں پر کالز کی تھیں۔ ایک کال کامیاب ہوگئی تھی۔ جہاں سے معلوم ہوا سائرہ خانم واپس آگئی ہے لیکن اس سے اتنی آسانی سے ملنا ممکن نہ تھا۔ وہ کوٹھے سے جاتے ہوئے ساری کشتیاں جلا کر گئی تھی۔
برکھا کے بھیانک طرز عمل نے ان جیسوں کا راستہ بالکل ہی بند کردیا تھا‘ مگر وہ جہاں آرأ تھیں آخری سانس تک دشمن سے مقابلہ کرنے کا عزم و حوصلہ رکھنے والی ناقابل تسخیر عورت‘ ہر رکاوٹ عبور کرکے وہ سائرہ سے ملنے میں کامیاب ہوگئی تھیں۔
’’میری مرحوم بیٹی کا نام تم نہ لیتیں تو میں تمہیں اس دہلیز پر قدم بھی نہ رکھنے دیتی‘ صبوحی کے غم کو بھلانے کے لیے ایک عمر میں دیار غیر میں گزار کر آئی ہوں اور تم نے آتے ہی میرے زخموں سے کھرنڈ نوچ لیا۔‘‘ وہ جہاں آرأ سے سخت لہجے میں گویا ہوئیں‘ مروتاً اسے بیٹھنے کا بھی نہ کہا تھا‘ ان کے لہجے میں بڑی نفرت و بیزاری تھی۔
’’میں جانتی ہوں تمہارے درد کو تب ہی صبوحی کے دشمن کی خبر لے کر آئی ہوں‘ تم مجھے غلط نہیں سمجھو میرا ارادہ غلط ہرگز نہیں ہے۔‘‘
’’برکھا کی بات کررہی ہو تم؟‘‘ وہ بری طرح چونکیں۔
’’بیٹھو… بیٹھو ناں پلیز۔‘‘ سخت لہجے میں اب لجاجت سمٹ آئی تھی۔
’’ہاں اسی برکھا کی بات کررہی ہوں جس نے اپنا نام بدل کر ممتاز رکھ لیا ہے‘ بہت اونچی اڑان ہوگئی ہے اس کمینی کی۔‘‘
خ…/…خ…/
پیارے میاں حیرت سے ماں اور چندا کی باتیں سننے میں مشغول تھے۔ وہاں سے آنے کے بعد بڑھ چڑھ کر اسے بتا رہی تھیں‘ باتیں کیا تھیں جھوٹ کا پلندہ تھیں‘ پھر ان کا انداز بیان بڑا غضب کا تھا۔
’’چندا… تمہیں کیا ضرورت تھی زید کو سودہ کے برابر میں بٹھانے کی؟ آفٹر آل وہ جگہ صرف میری ہے۔‘‘ وہ بھنا کر بولا۔ ’’میں نے بھائی سمجھ کر بٹھایا تھا کہ وہ بھی اپنی بہن کا منہ میٹھا کروالیں مگر مجھے کیا معلوم تھا وہ سودہ کا ہاتھ پکڑ کر کہیں گے یہ میری ملکیت ہے۔ لاکھ پیارے میاں کی بن جائے میری ہی رہے گی۔‘‘
’’میں ہوتا تو سالے کا ہاتھ توڑ دیتا مجھے تو ابھی تک یقین نہیں آرہا کہ زید ایسی منافقت دکھائے گا؟ وہ ایسا بھی کرسکتا ہے حالانکہ میری شادی کروانے میں اس نے ہی زیادہ مدد کی ہے‘ سودہ کی مما کو راضی اسی نے کیا تھا‘ کل تک میں اس سے بات کرتا رہا ہوں۔‘‘ ماں اور بہن کے درمیان بیٹھے پیارے میاں گویا آگ کے دریا میں ڈوبے بھڑبھڑ جل رہے تھے۔ دھواں ہی ہر سمت دکھائی دے رہا تھا۔
’’وہ سب دکھاوا تھا اپنی اترن وہ تمہارے حصے میں ڈال رہا ہے اور تم ہو سودہ کے علاوہ کسی اور طرف دیکھنا پسند ہی کہاں کرتے ہو۔‘‘
’’آپ کو غلط فہمی ہورہی ہے ممی… زید کا دل کالا ہوسکتا ہے مگر سودہ کا کردار کسی بھی طرح قابل گرفت نہیں… وہ ایسی لڑکی نہیں ہے۔‘‘ وہ سودہ پر اٹھی انگلی برداشت نہ کرسکا تھا۔
’’ارے مجھے معلوم تھا تم کہاں ماننے والے ہو‘ میری اور چندا کی باتوں کو‘ قصور تمہارا بھی نہیں‘ صوفیہ تو شروع سے جادو گرنی ہے پہلے میرے بھائی کو اسی طرح جادو کرکے اپنے بس میں کیا تھا اور اب ایسا ہی وار اس نے تم پر کیا ہے کہ تمہیں ہر طرف اس کی اچھائی ہی اچھائی دکھائی دے گی اور وہ ہی ہورہا ہے۔‘‘ وہ اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بڑی شفقت و محبت سے کہہ رہی تھیں۔
’’بتائو ذرا مجھے سودہ سے کئی ماہ منگنی رہی اور اس درمیان اس نے کبھی کوئی تم سے بات کی… فون پر کبھی کوئی رابطہ کیا؟‘‘ چندا نے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا کتنی بار اس نے کوشش کی کہ سودہ اس سے بات کرے‘ وہ ساتھ گھومے پھریں‘ ڈنر پر جائیں‘ وہ ان جگہوں پر ساتھ تو کیا جاتی‘ سرے سے بات کرنے کے ہی خلاف تھی۔ پھر کئی بار اس نے زید سے سفارش کی اور بات منوانے کی بجائے ہر بار اس نے ڈپٹ کر یہی کہا کہ ان کے خاندان میں شادی سے پہلے منگیتر کے ساتھ گھومنے کا رواج نہیں‘ شادی کے بعد لے جانا۔
’’خاموش کیوں ہوگئے جواب دو‘ اس نے کبھی تم سے بات کی؟‘‘ وہ نفی میں سر ہلا کر رہ گیا تب وہ چٹخ کر بولی۔
’’اس نے ہم سے بھی کبھی سیدھے منہ بات نہیں کی آج کل تو لڑکیاں سسرالیوں کے آگے بچھ بچھ جاتی ہیں‘ ایک لمحہ آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوتی ہیں اور سودہ جہاں ہمیں دیکھا چھپاک سے کچن میں یا اپنے روم میں گھس جاتی تھی جیسے ہماری کوئی حیثیت ہی نہیں۔‘‘
’’چندا میری بچی بار بار مجھے کہتی رہی دال میں کچھ کالا ممی‘ میں سودہ کو بھائی کی آخری نشانی سمجھ کر اس کی بات اس کان سے سن کر دوسرے کان سے نکالتی رہی… کیا پتہ ایسا تماشہ بنایا جائے گا ہمارا اور زید سے چھوٹے شاہ زیب نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر صاف صاف کہہ دیا سودہ کا مالک زید ہے۔‘‘
’’آپ نے اس کا منہ کیوں نہیں توڑ دیا ممی؟‘‘ مارے غصے و جنون کی اس کی حالت ابتر ہوگئی‘ وہ اٹھ کر ادھر ادھر ٹہلنے لگا تھا۔ غم و غصے کا ایک طوفان اس کے اندر بپھر رہا تھا۔
’’میں کیا منہ توڑتی اتنے رشتے داروں میں تماشہ بن کر نگاہیں کہاں اٹھ رہی تھیں‘ پھر رہی سہی کسر عمرانہ نے یہ کہہ کر پوری کردی کہ ہم تھرڈ کلاس عورتیں ہیں۔‘‘ وہ منہ بسور کر گویا ہوئیں۔
’’وہ لوگ ایسے گرے ہوئے اور گھٹیا ہوں گے میں سوچ بھی نہیں سکتا‘ مجھے یقین نہیں آرہا یہ ان لوگوں کی اصلیت ہے؟‘‘ وہ بری طرح بدظن و بدگمان ہوگیا تھا پھر وہ وہاں سے اٹھ گیا۔
’’دیکھا چندا… کس طرح سودہ کی محبت کا بھوت بھگایا ہے‘ تمہیں بہت فکر تھی ناں وہ آکر مجھے گھر سے نکلوا دے گی اور دیکھو‘ وہ گھر میں آئی بھی نہیں اور پیارے کے دل سے اتر گئی‘ اب وہ ہماری کنیز بن کر رہے گی۔‘‘
’’مان گئی ممی… اسے کہتے ہیں سانپ بھی مر گیا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹی۔‘‘
خ…/…خ…/
’’بار بار فون کرنے کا مقصد کیا ہے آپ کا نوفل صاحب؟‘‘ موبائل اٹھائے اس نے خفگی سے پوچھا۔
’’ایک ملاقات کی ریکوسٹ کرنی ہے۔‘‘ لہجہ بے حد سنجیدہ تھا۔
’’آپ کی ریکوئسٹ ریجکٹ ہوچکی ہے۔‘‘
’’دروازے پر اس وقت تک دستک دینی چاہیے جب تک وہ کھل نہ جائے… تمہاری ہاں تک میں دستک دیتا رہوں گا۔‘‘
’’ایکسکیوز می… یہ سیل فون ہے دروازہ نہیں۔‘‘
’’بندہ دروازے پر بھی حاضر ہوسکتا ہے اگر اجازت ہو؟‘‘ اس نے لب بھینچ کر ہنسی روکی ساتھ کھڑی بالی نے وکٹری کا نشان بنایا۔
’’یہ کوئی نیا طریقے ہے مجھے پریشان کرنے کا؟‘‘
’’کیا تم پریشان ہورہی ہو؟‘‘ وہ ایک دم سنجیدہ ہوا۔
’’نہیں ہونا چاہیے؟‘‘ وہ سنبھل کر بولی۔
’’نہیں۔‘‘ اطمینان سے جواب ملا۔
’’نوفل صاحب…‘‘ اس نے کہنا چاہ کہ وہ فوراً کہنے لگا۔
’’صاحب نہیں… جسٹ کال می نوفل۔‘‘
’’صاحب کیوں نہیں یہ تو ادب کے زمرے میں آتا ہے۔‘‘
’’صاحب مجھے میرے سرونٹ کہتے ہیں اور تم میری سرونٹ نہیں ہو۔‘‘ عجیب منطق تھی اس کی وہ بے ساختہ ہنس دی‘ دوسری طرف نوفل کو اس کی یہ ہنسی بڑی دل آویز لگی‘ ہر قسم کی ریا و مکر سے پاک۔
’’تم ہنس رہی ہو؟‘‘
’’حالانکہ دل رونے کو چاہ رہا ہے۔‘‘
’’دل رونے کو کیوں چاہ رہا ہے بھلا؟‘‘
’’کیا صرف سرونٹ ہی صاحب پکارتے ہیں لوگ جو ایک دوسرے کو صاحب کہتے ہیں وہ سرونٹ ہوجاتے ہیں؟‘‘ اس کے لبوں پر دلفریب مسکان تھی۔ کل تک وقت کی ستم ظریفی و نا انصافی کی بات کرتی انشراح پر اچانک تقدیر مہربان ہوگئی اور وہ پُر عزم تھی کہ ڈوبتی نیا پار لگا دے گی۔ ’’میں صرف تمہاری بات کررہا ہوں اور تم بات کو کس پہلو سے جانچنے لگی ہو‘ حد ہوتی ہے یار… کس نے کہا اتنی گہرائی میں جانے کو۔‘‘ وہ خاصے محفوظ انداز میں ہنسا‘ بہت دھیمی و مختصر سی ہنسی اور بے حد اجلی و شفاف جیسے کسی ویرانے میں چپکے سے بہار آئے ہو۔
اس کے دل پر ایک انجانہ بوجھ آن گرا تھا‘ پھر اس سے بات نہ ہوسکی تھی۔ لائن کاٹ کر وہ بیڈ پر لیٹ گئی۔
پہلی بار اس کی ہنسی سنی تھی وہ بہت خوش تھا‘ اس کے بھاری لہجے کی نرمی و حلاوت ظاہر کررہی تھی وہ اپنے گزشتہ رویوں پر دل سے پشیمان ہے اور جب یہ پشیمانی کسی اور جذبے میں ڈھل جائے گی تو وہ پھر کس طرح اس کی اصلیت کو برداشت کرسکے گا؟ مرے گا تو نہیں شاید‘ زندہ بھی نہیں رہ پائے گا جب دل مر جائے تو پھر ہر جذبہ مر جاتا ہے۔
’’یہی سوچ رہی ہو ناں تم کہ کس دل سے ان کی ہنسی کو نوحہ میں بدل سکتی ہو‘ وہ تو تمہاری سچائی جان کر بھی خود کو تمہارے انتقام کی بھینٹ خوشی خوشی دیں گے‘ تم اب بھی اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرلو۔‘‘ بالی کو اس نے کوئی جواب نہیں دیا مگر آنکھیں کہہ رہی تھیں کہ وہ اپنے مقصد سے ہٹنے والی نہیں ہے۔
خ…/…خ…/
گھر میں نکاح کی تیاریاں ہوچکی تھیں‘ کل رات ہونے والی بدمزگی نے ماحول میں تنائو پیدا کردیا تھا‘ مدثر اور منور صاحب کی ذہانت اور برد باری سے معاملہ سنبھل گیا تھا پھر کھانے کا بڑا حصہ لے جاتے ہوئے ان ماں اور بیٹی کے پھولے ہوئے چہروں کی ہوا غائب ہوگئی تھی۔
کھانا شاہ زیب دے کر آیا تھا ساتھ اپنے مذاق پر ہونے والے ہنگامے پر معذرت بھی کرلی تھا۔ عمرانہ اپنے رویے پر قطعی شرمندہ نہ تھیں‘ وہ ویسے ہی صالحہ کی آمد پر ضبط کرنے کے باوجود کہیں نہ کہیں بھرے جام کی مانند چھلک پڑتی تھیں۔ صالحہ نے مایوں کی تقریب میں کچھ دیر ہی شرکت کی تھی‘ وہ آج کل گردے کے درد میں مبتلا تھیں‘ کمزوری اور تکلیف کے باعث کچھ دیر ہی وہاں بیٹھی تھیں‘ پہلی بار وہ سسرال آئی تھیں‘ زبردست پذیرائی ملی تھی۔ صوفیہ‘ زمرد‘ بوا اور دلہن بنی سودہ نے بہت عزت دی تھی۔ اگر کوئی نہ ملا تھا تو وہ عمرانہ اور مائدہ تھیں جو ان کی آمد پر وہاں سے چلی گئی تھیں اور پھر ان کی موجودگی تک وہ دور دور ہی رہیں‘ ہمت تو ان کی بھی نہ ہوئی تھی عمرانہ کی جانب دیکھنے کی۔
ان کی خوب صورتی اور حسن کا احساس اور اپنی کم صورتی یہاں آکر بے حد محسوس ہوئی تھی‘ خاص طور پر اس وقت جب انہوں نے لوگوں کی نگاہوں میں اپنے لیے حیرت و تعجب دیکھا تھا اور وہ بجھ گئی تھیں۔ عمرانہ زمرد اور منور کے کہنے پر رضوانہ کو کارڈ دے آئی تھیں۔ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ان کے درمیان ہونے والی چقپلش کا کسی کو پتہ چلے‘ رضوانہ گھر میں تنہا ہی تھیں‘ عمرانہ کو دیکھ کر خوش ہوئی تھیں‘ مگر عمرانہ کھڑے کھڑے ہی کارڈ تھما کر چلی آئی تھیں اور بھرم رضوانہ اور بیٹیوں کو بھی رکھنا تھا۔ سو وہ مایوں کی تقریب میں نہیں آئی تھیں۔ لیکن نکاح اور رخصتی میں شامل ہونے کا ان کا پورا ارادہ تھا۔
زید نے موقع پاتے ہی شاہ زیب کی خوب کلاس لی تھی کہ اس کی لا ابالی حرکت کے باعث معاملہ بگڑنے لگا تھا۔
’’مایوں‘ مہندی کے موقع پر اس سے زیادہ بڑے مذاق ہوجاتے ہیں اور کوئی مائینڈ نہیں کرتا اور وہ اچھی آپا تو اپنے نام کی الٹ ہیں‘ ان کا نام میں نے بڑی آپا اور چندا کا نام امائوس کی رات رکھا ہے۔‘‘
’’بکواس مت کرو‘ فضول بولنا بند کرو آج نکاح ہے اور اپنی زبان بند رکھنا بلکہ رخصتی تک ان لوگوں سے دور ہی رہنا تم میں نے پھوپو جان کو زبان دی ہے کہ ہر کام بہترین ہوگا اور تم نے پہلے کام میں ہی مجھے شرمندہ کروا دیا۔‘‘
’’بھائی… وہ اماوس کی رات اور بڑی آپا کسی اور ہی ارادوں سے آئی تھیں‘ وہ چاہتی یہی تھیں کہ کوئی بات ملے اور وہ تماشہ کریں۔‘‘
’’تم نے موقع دے دیا ہے اب اور نہیں۔‘‘ وہ وارننگ دیتا ہوا بولا۔
’’اوکے باس… جو آپ کا حکم وہ ہی ہوگا۔‘‘ وہ شوخ ہوا۔
معاً صوفیہ وہاں چلی آئیں‘ ان کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں‘ جب سے سودہ مایوں بیٹھی تھی ان کی آنکھیں خشک نہ ہوئی تھیں۔
’’خیریت ہے پھوپو… آپ کچھ پریشان ہیں؟‘‘ وہ دونوں ہی ان کی طرف بڑھے اور وہ زید کے سینے سے لگ کر رو پڑیں‘ بڑا جذباتی لمحہ تھا‘ دونوں کچھ نہ کہہ سکے تھے۔
’’کل رات سے میں بے سکون ہوں نہ جانے وہاں میری بچی کے ساتھ کیا سلوک ہوگا‘ کل ان ماں اور بیٹی کے تیوروں نے سب بتادیا ہے کہ میری سودہ کے ساتھ وہاں کیسا برتائو ہونے والا ہے۔‘‘ وہ ان کے تسلی دلاسوں کے جواب میں گویا ہوئیں۔
’’آپ وسوسوں کا شکار مت ہوں پھوپو جان‘ ان کی کیا مجال ہے وہ اس کی طرف انگلی بھی اٹھا سکیں‘ میں خبر گیری کرتا رہوں گا۔‘‘
’’سب سے زیادہ اعتبار مجھے پیارے پر ہے وہ سودہ کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہونے دے گا‘ اس نے وعدہ کیا ہے۔‘‘ زید انہیں بازو کے سہارے میں لیے کھڑا تھا۔
’’تم کچھ بھی کہو‘ میرے دل کو قرار نہیں آرہا نکاح میں دیر ہی کتنی ہے‘ ان کے آنے کا انتظار ہے اور پھر سودہ ہمیشہ کے لیے پرائی ہوجائے گی‘ مجھے لگ رہا ہے‘ میرا فیصلہ غلط ثابت ہورہا ہے‘ کہیں میں اپنی بچی کو کنویں میں تو دھکا نہیں دے رہی ہوں۔‘‘ ان کے انداز میں کچھ ہذیانی پن نمایاں تھا‘ تب ہی ان کے پیچھے آنے والی بوا نے سرزنش کی۔
’’کیسی باتیں کررہی ہو صوفیہ‘ ہوش کے ناخن لو‘ نکاح ہونے والا ہے اور تم ایسی باتیں کررہی ہو‘ کل سے سودہ کا بھی رو رو کر حال برا ہے اب وہ ایسی باتیں سنے گی تو کیا گزرے گی اس پر۔‘‘
’’سودہ کیوں رو رہی ہے بوا؟‘‘ اس کے دل کی بات شاہ زیب کہہ گیا۔
’’پرائی ہونے جارہی ہے‘ ہر لڑکی کو میکے سے دوری پر رونا آتا ہے اور تم اللہ پر توکل رکھو صوفیہ‘ وہ بہت بہتر کرنے والا ہے اب ایسی کوئی بات منہ سے نہیں نکالنا ہماری جگ ہنسائی ہوگی۔‘‘ بوا انہیں تھام کر وہاں سے لے گئیں‘ زید اس سے مخاطب ہوا۔
’’دیکھا اپنے مذاق کا انجام پھوپو کس قدر پریشان ہوگئی ہیں۔‘‘
’’آئم سوری بھائی‘ میں شرمندہ ہوں۔‘‘ وہ آہستگی سے بولا۔
نکاح کی تقریب کا اہتمام گھر کے ہال روم میں ہی کیا گیا تھا۔ جمعہ کی نماز کے بعد نکاح کا اہتمام تھا اور نماز کی ادائیگی کے بعد سب لوگ آچکے تھے۔ شاہ زیب مولوی صاحب کو بھی لے آیا تھا۔ ہال مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ سب کو دولہا میاں کا انتظار تھا۔
’’دن سمٹتا جارہا ہے اچھی آپا ہیں کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہیں اور سارے فون بھی بند جارہے ہیں ان کے گھر۔‘‘ زمرد نے کہا۔
’’ارے کیا گھر کا فون بھی بند ہے میں پیارے میاں کو کررہا ہوں ان کا بھی فون آف ہے‘ یہ کیسے ممکن ہے کہ سارے فون ایک ساتھ ہی بند ہیں وہ بھی اتنے اہم دن پر…‘‘ منور صاحب پریشان ہوکر گویا ہوئے‘ یہی شکایت صوفیہ اور مدثر بھی کرتے وہاں آئے۔
’’اگر کوئی گڑبڑ ہوئی بھی ہے تو انہیں کسی اور ذریعے سے ہم سے رابطہ کرنا چاہیے تھا پھر اتنی دیر لگانے کا مقصد کیا ہے؟‘‘
’’انہیں بہت پہلے آجانا چاہیے تھا۔‘‘
’’ٹائم گزرتا جارہا ہے کس سے کانٹیکٹ کریں؟‘‘ رفتہ رفتہ تقریباً سب ہی وہاں جمع ہونے لگے‘ گھر کے سب افراد نے ہی ان لوگوں کو کالز کیں مگر سب کو ایک ہی جواب ملا تھا۔
’’پاور آف۔‘‘ عصر کا وقت ختم ہونے کو تھا اور پیارے میاں کی آمد کے کوئی آثار نہ تھے۔
’’ڈیڈی… میں پیارے میاں کے گھر جاکر دیکھتا ہوں۔‘‘ شاہ زیب رسٹ واچ دیکھاتا ہوا بولا۔
’’ہوں‘ جائیں معلوم کرکے آئیں اتنی دیر کیوں ہورہی ہے؟‘‘ مدثر صاحب کی اجازت پاتے ہی وہ چلا گیا۔
سب کے چہرے تفکر و پریشانی سے بجھے ہوئے تھے‘ مہمانوں میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں‘ صوفیہ زمرد کا سہار الیے بیٹھی تھیں۔ ماحول میں ایک خاموشی تھی‘ ایک پر اسراریت جو طوفان کے آنے سے قبل ہر سو چھا جاتی ہے جو جہاں تھا وہیں بیٹھا دروازے کی سمت تک رہا تھا‘ نکاح خواں بھی پہلو بدلنے لگے تھے اور زید کی نگاہیں سفید پڑتے چہرے والی صوفیہ پر تھیں۔
شاہ زیب آگیا… شکستہ قدموں اور لڑکھڑاتی زبان سے اس نے پیارے میاں کے فیملی سمیت ملک سے فرار ہونے کی خبر سنائی تھی۔
(باقی ان شاء اللہ آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
× How can I help you?
Close