Aanchal Feb-17

تیری زلف کے سر ہونے تک ۶

اقراؑ صغیر احمد

مگر یہ نشہ یکتائی ٹوٹتا ہی نہیں
اگرچہ دیکھ لیا دور تک بکھر کے بھی
عجب کشش تھی رہا ہو کے ہم رہا نہ ہوئے
اسیر ذات رہے‘ ذات سے مکر کے بھی

 

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)

لاریب کی تیز رفتار ڈرائیونگ حادثے کا سبب بنتی ہے اور انشراح گاڑی کی زد میں آکر شدید زخمی ہوجاتی ہے۔ نوفل اور لاریب اسے اسپتال لاتے ہیں اور یہاں آکر نوفل کو علم ہوتا ہے کہ زخمی ہونے والی لڑکی انشراح ہے جب ہی وہ اپنے دوست بابر کی مدد سے اس کے گھر والوں سے رابطہ کرتا ہے۔ جہاں آرا نوفل کی ظاہری شخصیت سے کافی مرعوب ہوتی ہیں اور اس حادثے کو اپنی خوش بختی سمجھتی ہیں ایسے میں روشن انہیں سمجھانے کی کوشش کرتی ہے مگر وہ اس کی باتوں کو نظر انداز کردیتی ہیں۔ شاہ زیب کے فون پر زید رینجرز کے ہیڈ کوارٹر پہنچ کر سودہ اور شاہ زیب کو چھڑانے میں کامیاب ہوجاتا ہے سودہ اس کے سامنے انتہائی شرمندگی محسوس کرتی ہے گھر پہنچ کر وہ اس معاملے سے سب کو بے خبر رکھتا ہے اور سودہ کو بھی خاموش رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ لاریب انشراح کے حسن سے کافی متاثر ہوتا ہے اور اسی وجہ سے وہ بار بار اسپتال میں انشراح سے ملنے آتا ہے لیکن نوفل کو یہ سب بالکل پسند نہیں آتا۔ انشراح ہوش میں آنے پر اپنی اس حالت کا ذمہ دار نوفل کو قرار دیتی اس سے تلخ کلامی سے پیش آتی ہے لیکن اس کی حالت کے پیش نظر نوفل اس کے تلخ رویے کو نظر انداز کردیتا ہے۔ گھر کے دیگر لوگ صابرہ بوا کی عیادت کے لیے جاتے ہیں جبکہ عمرانہ اپنی بیٹی کے ہمراہ بہن کے گھر رک جاتی ہیں۔ خراب موسم کی وجہ سے گھر والوں کو رات میں وہیں رکنا پڑتا ہے ایسے میں سودہ کو اندھیرے اور تنہائی سے وحشت محسوس ہوتی ہے جب ہی یوسف صاحب کے کہنے پر زید گھر لوٹتا ہے اور سودہ کو تنہا دیکھ کر اس کا خوف دور کرنے کی کوشش کرتا ہے اگلی صبح جب عمرانہ بیٹی کے ہمراہ گھر لوٹتی ہیں تو زید اور سودہ کو گھر میں تنہا دیکھ کر خوب واویلا مچاتی ہیں۔

(اب آگے پڑھیے)

مائدہ نے سودہ کی محبت میں یہ بتایا تھا کہ وہ بخار میں نیم بے ہوش پڑی ہے‘ مگر عمرانہ جیسی محدود سوچ و اپنی نگاہ سے دیکھنے والی عورت کے لیے یہ الفاظ کسی بم سے کم نہیں تھے جو سیدھا ان کے دل پر بلاسٹ ہوا تھا۔ وہ اپنے لفظوں کو دہراتے ہوئے زید کو دیکھ رہی تھیں جو خود بھی اس اچانک رونما ہونے والی صورت حال پر خاصا کنفیوژ تھا کہ رات بھرکا رتجگا… صبح مما کی آمد اور اب اس طرح ان کا مشکوک نگاہوں سے دیکھنا۔

’’میں… میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی زید… آپ بھی مجھے دھوکہ دیں گے۔ اتنا بڑا دھوکہ… دھوکہ…‘‘ وہ یہی تکرار کرتے ہوئے پیچھے ہٹ رہی تھیں‘ ان کی آنکھیں زید کے مضطرب چہرے کی طرف مرکوز تھیں‘ چہرے کی رنگت بدل گئی تھی۔ ایک دیوانگی تھی جو ان پر طاری تھی۔

’’مما… میری بات سنیں۔‘‘ زید تیزی سے ان کی طرف بڑھا۔

’’خبردار… دور رہو مجھ سے‘ اپنے ناپاک ہاتھ مت لگانا مجھے۔‘‘ وہ ہذیانی انداز میں اس کے ہاتھوں کو جھٹکتے ہوئے تیزی سے چلی گئیں۔

’’بھائی… مما کو کیا ہوگیا ہے‘ وہ ایسا بی ہیو کیوں کررہی ہیں؟ آپ سے وہ کبھی خفا نہیں ہوتی‘ اب وہ آپ کی بات بھی نہیں سن رہی ہیں۔‘‘ مائدہ ماں کو بھائی پر بری طرح بگڑتے دیکھ کر روتے ہوئے گویا ہوئی۔

’’پریشان مت ہو‘ مما کو ابھی غصہ آرہا ہے کچھ دیر میں ٹھیک ہوجائیں گی۔‘‘ اس نے بہن کے سر پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے تسلی دی… لیکن ماں کے جارحانہ رویے نے اس کے حواس بھی سلب کرلیے تھے وہ بے حد پریشان ہوگیا تھا۔ وہ عمرانہ کے پیچھے جانا چاہ رہ تھا کہ معاً گھر کے باقی آگئے تھے اور وہاں کی صورت حال ان سے چھپی نہ رہ سکی تھی پھر مختصراً وہ سب کچھ بتانا چلا گیا۔

’’پہلے میری بچی کی خبر لیجیے بہو بیگم… یہی ڈر تھا نہ مجھے‘ رات کو موسم کے خوف سے بخار چڑھا ہوگا سودہ بیٹی کو اور اب تو بے ہوش پڑی ہیں جلدی چلیں۔‘‘ بنارسی بوا کو سودہ کی فکر نے تڑپا دیا تھا۔

وہ زمرد بیگم کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے لے گئی تھیں پیچھے ان کے مائدہ بھی آئی تھی‘ صوفیہ کھڑی کی کھڑی رہ گئی تھیں۔ شاکڈ حال میں جبکہ زید وہاں سے عمرانہ کے کمرے کی طرف چلا آیا تھا۔

/…ء…/

بارش کے بعد سردی کا زور ایک دم ہی بڑھ گیا تھا‘ ہیٹر آن ہونے کے باوجود بھی جہاں آرا بیگم نے شال اور سوئٹر سے خود کو ڈھانپ رکھا تھا۔ ہاتھ میں کافی سے بھرا مگ بھاپ اڑا رہا تھا‘ ساتھ ہی گود میں خوب صورت ڈیزائن کی ڈرائی فروٹس کی ٹرے رکھی ہوئی تھی جس میں چھوٹے چھوٹے خانے تھے اور تمام خانے خشک میوؤں سے بھرے ہوئے تھے۔

ان کو وہ کافی کے ساتھ تناول فرما رہی تھیں‘ بیڈ پر انشراح لیٹی ہوئی جاگ رہی تھی مگر بازو سے اس نے آنکھیں ڈھانپی ہوئی تھیں‘ بالی گھر گئی ہوئی تھی تاکہ اپنی نگرانی میں گھر کی صفائی ستھرائی اور دیگر کام کروا سکے۔ انشراح یہاں کسی صورت رکنے کو تیار نہ تھی اور جہاں آراء جانے کو راضی نہ تھیں اور یہی بحث ان کے درمیان تکرار کا باعث بنی تھی۔

’’کب تک منہ پر ہاتھ دھرے پڑی رہوگی؟ بس اب ضد ختم بھی کردو۔‘‘ وہ کاجو منہ میں ڈالتے ہوئے اس کی طرف دیکھ کر بولیں۔

’’ضد میں نہیں آپ کررہی ہیں‘ یہ بھی کوئی بات ہے آپ ہسپتال کو ہائی جیک کرکے بیٹھ گئی ہیں جانے کا نام ہی نہیں لے رہی… اس طرح نہیں ہوتا ہے۔‘‘

’’ہائی جیک کی بھی خوب کہی انشی… میں بھلا یہ کام کیوں کرنے لگی؟‘‘

’’پھر یہاں سے نہ جانے کا مقصد کیا ہے؟ کب تک آپ لمبے لمبے بل پے کروا کر اس شخص کی غلطی کی سزا دیں گی جو اس نے کی بھی نہیں۔‘‘ وہ آنکھوں سے ہاتھ ہٹا کر سنجیدگی سے گویا ہوئی۔

’’وہ یہاں آتا ہے تو تم اس کی طرف دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی اور اب اس کی حمایت میں مجھ پر بگڑ رہی ہو… واہ بھئی‘ یہ عجیب بات ہے۔‘‘

’’بس… میں نے فیصلہ کرلیا ہے نانو… میں آج ہی یہاں سے چلی جائوں گی‘ آپ کو یہاں رہنے کا شوق ہے تو آپ ہی رہتی رہیے گا۔‘‘

’’ارے اللہ نہ کرے‘ میں کیوں یہاں رہنے کا شوق رکھنے لگی‘ میں تو تمہارے خیال سے یہاں پڑی ہوں‘ تمہارے ہاتھ میں ابھی تکلیف ہے اگر گھر جاکر رات کو کوئی تکلیف ہوگئی تو میں کس طرح تمہیں ہسپتال لے کر آئوں گی۔ جہاں اتنے دن گزارے ہیں وہاں کچھ دن اور سہی میری بچی…‘‘ انشراح کے اکھڑے اکھڑے انداز نے ان کے لہجے کو نرم کردیا تھا۔

’’نہیں… اب ایک دن بھی نہیں رکنا یہاں پر۔‘‘

’’پھر وہ ہی مرغے کی ایک ٹانگ والی بات کررہی ہو‘ میں نے ابھی تم کو بھی یہی سمجھایا ہے کہ کسی وقت تم کو کوئی تکلیف ہوگئی پھر کیا ہوگا۔‘‘

’’اگر موت اسی طرح آنی ہے تو مر جائوں گی۔‘‘

’’کیا ہوگیا ہے تم کو… کیسی باتیں کررہی ہو؟‘‘ وہ اٹھ کر اس کے پاس چلی آئیں اور اس کے قریب بیٹھ کر بولیں۔

’’نانو… میں گلٹی فیل کررہی ہوں‘ کیا ہمارے پاس روپوں کی کمی ہے… کیا آپ اس قابل بھی نہیں ہیں کہ میرا علاج اپنے پیسوں سے کراسکیں؟‘‘

’’تم جذباتی ہورہی ہو بیٹا… یہ جذباتیت تمہاری عمر کا تقاضا بھی ہے مگر میں عمر کے اس دور کو بہت پیچھے چھوڑ آئی ہوں‘ جہاں دماغ کی جگہ دل سے فیصلے کیے جاتے ہیں۔‘‘ وہ مسکراتی ہوئی طنزیہ انداز میں بولیں۔ ’’میں ان لوگوں کو سزا دینا چاہ رہی ہوں تاکہ آئندہ وہ ایسی غلطی… غلطی سے بھی نہ کرسکیں ورنہ میرے پاس روپے پیسے کی کوئی کمی نہیں ہے۔‘‘

’’بہت سزا مل گئی ہے ان کو‘ ہم آج ہی یہاں سے چلے جائیں گے بس۔‘‘ وہ حتمی انداز میں گویا ہوئی۔

/…ء…/

ایک عرصے بعد ساریہ نے کال کی تھی اس سے قبل بھی وہ کئی بار ٹرائی کرچکی تھی اور اس کی طرف سے نو لفٹ دیکھ کر وہ کال کرنا چھوڑ چکی تھی مگر آج نہ جانے کیا ہوا تھا وہ اس کی کال پک کر بیٹھا تھا۔

’’بائی گاڈ… آج کوئی انہونی ہوئی ہے‘ بڑی خوشی کا دن ہے آج تم نے میری کال پک کی… مجھے یقین نہیں آرہا…!‘‘ دوسری طرف ساریہ کی آواز خوشی سے چہک رہی تھی۔

’’یہ کس خوشی میں مجھے ’تم‘ پکار رہی ہو؟ آپ پکارو مجھے۔‘‘ اس کے سنجیدہ لہجے میں ناگواری در آئی۔

’’میرے خیال میں ہم کو اتنی فارمیلیٹی کی ضرورت تو نہیں ہے آفٹر آل ہم فرسٹ کزن ہیں۔‘‘ وہ بھونچکا رہ گئی۔

’’آئی نو… ہمارا جو رشتہ ہے وہ میں جانتا ہوں۔‘‘

’’پھر بھی اتنے نارمل انداز میں بات کررہے ہیں؟‘‘

’’میں اسی انداز میں بات کرتا ہوں‘ اگر پسند نہیں ہے تو بائے…‘‘

’’ارے نہیں… نہیں‘ آپ جس انداز میں بھی بات کریں گے‘ مجھے پسند ہے‘ بات تو کریں گے نہ… میں تو اس سے ہی خوشی ہوجائوں گی۔‘‘ خمار آلود لہجے میں خوشامد در آئی تھی عجیب سی دیوانگی تھی۔

’’کیا بات کرنی ہے؟‘‘ وہی خشک لہجہ‘ سرد انداز۔

’’بہت جلدی میں لگ رہے ہیں‘ چلیں پھر بات کروں گی جب آپ فری ہوں گے۔‘‘ وہ بے تکلفی سے گویا ہوئی۔

’’میں فری ہوں… جو کہنا ہے جلدی کہو۔‘‘

’’فری ہیں تو پھر جلدی کس بات کی ہے بھلا۔‘‘

’’تم بات بتا رہی ہو یا میں لائن کاٹ دوں؟‘‘ وہ اکھڑے انداز میں بولا۔

’’اوہ مائی گاڈ… آپ کے بارے میں جو سنا تھا اس سے بڑھ کر پایا… بات یہ ہے کہ میری برتھ ڈے آرہی ہے‘ اگلے مہینے میں آپ کو انوائٹ کرنے آرہی ہوں بہت جلد۔ آپ کو ابھی سے انفارم کررہی ہوں۔‘‘ اس نے جواب دیئے بنا موبائل آف کردیا‘ وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ دوبارہ رابطہ کرے‘ ایسی پارٹیز سے اس کو قطعی دلچسپی نہیں تھی۔

’’کس قدر سنگ دل ہو تم یار… کانچ سے بھی نازک دل توڑ دیتے ہو۔‘‘ صوفے پر نیم دراز انگلش میگزین پڑھتا لاریب تاسف زدہ لہجے میں بولا۔ ’’کیا ملتا ہے تمہیں یہ سب کرکے؟‘‘ وہ اٹھ بیٹھا۔

’’تم یہاں کیا کررہے ہو؟‘‘ وہ بیٹھتا ہوا بولا۔

’’کچھ نہیں ریڈنگ کا موڈ ہوا تو ریڈ کرنے بیٹھ گیا۔‘‘

’’ان خرافات کو اپنے روم تک ہی محدود رکھا کرو‘ یہاں ماما‘ آنٹی کے علاوہ ملازمائوں کی بھی آمدروفت رہتی ہے کچھ تو مینرز فالو کرو۔‘‘ اس نے ٹائٹل پر آویزاں نوخیز بے پردہ حسینہ کو نفرت سے ہونٹ سکیڑ کر اچٹتی نگاہ ڈالتے ہوئے کہا۔ اس کے انداز پر وہ ہنستا ہوا میگزین ایک طرف رکھتا ہوا بولا۔

’’تم ان مینرز کو اوڑھ لپیٹ کر بیٹھ گئے یہ کافی نہیں… مجھے تو معاف کرو۔‘‘

’’میری بات تم اچھی طرح سے کان صاف کرکے سن لو۔‘‘ اس کا لہجہ ایک دم ہی بدلا اور اس بدلتے لہجے میں کچھ ایسی ہی غراہٹ تھی کہ وہ ہنسی بھول کر سنجیدہ ہوگیا۔

’’تم اب ہسپتال نہیں جائو گے‘ نہ ان لوگوں سے کوئی تعلق رکھو گے اور آگر ایسا ہوا تو پھر یاد رکھنا میں تمام مینرز و ایٹی کیٹس بھول جائوں گا۔‘‘

/…ء…/

’’صوفیہ… تم ایک دم گم صم ہوگئی ہو؟ جاکر سودہ کو دیکھو بلکہ میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں اس کی طبیعت دیکھنے۔‘‘ منور چپ چاپ کھڑی صوفیہ سے مخاطب ہوئے۔

’’بھائی جان… رات کو جو طوفان آیا تھا وہ ابھی ٹلا نہیں… موجود ہے‘ اس گھر میں موجود ہے۔ رات سودہ کو گھر میں تنہا چھوڑ کر ہم سے بڑی بھیانک غلطی ہوئی ہے۔‘‘ وہ گم صم انداز میں کہہ رہی تھیں۔

’’کیسی احمقانہ باتیں کررہی ہو طوفان کب کا گزر چکا ہے اور رات سودہ گھر میں تنہا نہیں تھی۔ میں نے خود زید کو گھر آنے کا کہا تھا وہ تھا یہاں۔‘‘

’’یہی تو غضب کردیا ہے آپ نے بھائی جان۔‘‘ وہ آہستگی سے بولیں۔

’’پتا نہیں کیا کہہ رہی ہو میری سمجھ نہیں آرہی ہیں تمہاری باتیں… آتا ہوں میں ابھی۔‘‘ وہ عجلت میں اپنے کمرے کی طرف گئے تھے۔

زید دروازہ کئی منٹ تک ناک کرتا رہا جب انہوں نے نہیں کھولا تو وہ کمرے کی طرف بڑھ گیا تاکہ چینج کرکے واپس آئے۔ عمرانہ کھڑکی سے منور صاحب کی کھڑی کار دیکھ کر کمرے سے نکل کر لائونج میں آگئی تھیں جہاں ان کا ٹکرائو صوفیہ سے ہوگیا اور ان کے غصے کا آتش فشاں ان پر پھٹ پڑا تھا پھر جو اُن کے منہ میں آیا وہ بولتی چلی گئی تھیں نہ ان کو بیٹے کی عزت کا خیال تھا نہ سودہ کی عصمت کا جس کو لمحوں میں وہ داغ دار کرچکی تھیں۔

’’بھابی… چپ ہوجائیں‘ آپ کو شرم نہیں آرہی گھر کے دونوں بچوں پر اس طرح کے شرمناک الزامات لگاتے ہوئے کچھ تو لحاظ کریں۔‘‘ صوفیہ کو اب معلوم ہوا تھا‘ بیٹی کی ماں بننا کتنا مشکل ہے وہ ان کے گھٹیا الزامات پر پسینہ پسینہ ہورہی تھیں۔

’’بے شرمی تم لوگوں نے کی ہے رات کو میرے گھر میں نہ ہونے سے فائدہ اٹھا کر سب کے سب ان دونوں کو تنہا چھوڑ کر گھر سے چلے گئے اور شرم کا پاٹ مجھے پڑھا رہی ہو مکار عورت‘ میں تمہاری آرزو پوری نہیں ہونے دوں گی۔‘‘ وہ حلق کے بل چیخ رہی تھیں اور یہ پہلا موقع تھا جو صوفیہ ان سے نگاہ نہیں ملا رہی تھی وہ سخت بے بس تھیں۔

’’پلیز بھابی… آپ میری بات پر یقین کریں ایسا کچھ نہیں ہوا۔‘‘

’’کیا ہوا ہے‘ کیوں ہنگامہ مچایا ہے؟‘‘ زمرد آتے ہوئے گویا ہوئیں۔

’’بھابی جان… بھابی جان… دیکھیں آپ کس طرح عمرانہ بھابی سودہ اور زید پر الزام لگا رہی ہیں۔‘‘ صوفیہ زمرد سے لپٹ کر رونے لگیں۔

’’بس بس رہنے دو بہت دیکھے ہیں یہ مگر مچھ کے آنسو اور بھابی… آپ اور منور بھائی سے یہ توقع نہیں تھی کہ آپ لوگ اتنے میچور ہوکر ایسے گھٹیا کام میں اس کا اور اس کی بیٹی کا ساتھ دیں گے۔‘‘ وہ ان کو گھور کر بولیں۔

’’کون سا کام… کیا بولے جارہی ہو‘ تم کو احساس ہے کیا بات کررہی ہو؟‘‘ ان کو بھی ان کا طرز تکلم ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔

’’رہنے دیں بھابی… نہ آپ دودھ پیتی بچی ہیں نہ میں۔‘‘

’’یہاں بیٹھ کر میری بات سنو پہلے پھر تمہیں معلوم ہوگا اصل معاملہ کیا تھا۔‘‘ زمرد بیگم نے ان کا ہاتھ پکڑ کر زبردستی بٹھاتے ہوئے کل رات پیش آنے والی صورت حال تفصیل سے سمجھائی تھی تاکہ وہ غلط فہمی سے باہر آئیں مگر انہوں نے پہلی بار زید کو اپنے اصول توڑ کر یہاں سوتے دیکھا تھا اور اس کے اصولوں میں کبھی ماں اور بہن کے لیے بھی لچک نہ آئی تھی اور لچک آئی بھی تو کس کے لیے‘ اصول توڑا تو اس لڑکی کے لیے جس لڑکی کے خلاف وہ بچپن سے اس کے دل میں نفرت و حقارت بھرتی آئی تھیں۔ انہوں نے زمرد کی باتوں کو وضاحتوں کو کوئی اہمیت نہ دی کہ ان کو اپنی نائو ڈوبتی نظر آرہی تھی۔

’’بنارسی بوا کو لے کر جانے کا مقصد تو سراسر یہی تھا کہ اس لڑکی کو گھر میں تنہا چھوڑنا تھا تاکہ زید کو بلا کر دونوں کو تنہا رات گزارنے کا موقع دیا جائے اور…‘‘ وہ حسب عادت بلا لحاظ مروت کے بولتی رہیں۔

’’اپنی زبان کو قابو میں رکھو عمرانہ… تم میری نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھار ہی ہو۔‘‘ وہ اس کی بات کاٹ کر غصے سے گویا ہوئیں۔

’’ہونہہ… جائز و ناجائز کی بات مجھے مت سمجھائیں‘ میرے دل میں آگ لگی ہے… زید میرا واحد سہارا ہے اور میرے سہارے کو چھیننے کی سعی کی گئی ہے لیکن کتنی بھی گری ہوئی حرکتیں آپ لوگ کرلیں میرے زید کو مجھ سے چھین نہیں سکیں گی۔ زید میرا ہے صرف میرا…‘‘ وہ ہذیانی انداز میں چیخنے لگیں۔ زمرد تاسف بھری نگاہوں سے انہیں دیکھ رہی تھیں‘ صوفیہ خاموشی سے روئے جارہی تھیں۔ وقت کی نزاکت نے کی ان کی قوت گویائی سلب کردی تھی‘ زید تیز تیز قدموں سے اس طرف آرہا تھا۔

صبح کا وقت تھا‘ گہرا سناٹا و خاموشی ہونے کی باعث عمرانہ کے چیخنے چلانے کی آوازیں اس کے روم تک صاف سنائی دے رہی تھیں اور وہ کئی منٹ تک ہاتھوں میں سر تھامے شاکڈ سا بیٹھا رہا تھا۔ ناقابل یقین بات تھی‘ اس کی ماں… سگی ماں اس پر لڑکی کے ساتھ رات گزارنے کا الزام لگا رہی تھی۔ ماں سے زیادہ اولاد کی نیچر کو کوئی نہیں جان سکتا پھر اس کا شمار ان بیٹیوں میں ہوتا تھا‘ جن کی دنیا و آخرت ان کی ماں ہوتی ہے جو ماں کے لیے زندہ رہتے ہیں اور ماں کی خاطر مرنے کا عزم رکھتے ہیں پھر اس ماں نے ہی اس کے لیے رسوائی و ذلت کی سولی تیار کی تھی۔

’’زید… دیکھو میرے بچے‘ اس گھر میں کیسی کیسی گھنائونی سازشیں کی جارہی ہیں آپ کو مجھ سے علیحدہ کرنے کی حرکتیں ہورہی ہیں۔‘‘ وہ بھاگ کر زید کے سینے سے لگیں اور وہ جو اُن سے خفا تھا‘ ان کی ہذیانی کیفیت دیکھ کر سب کچھ بھول گیا تھا۔

’’پہلے ان لوگوں کی چالاکیوں نے مدثر کو مجھ سے جدا کیا اور اب… یہ تم کو مجھ سے جدا کرنے کے منصوبے بنارہے ہیں۔‘‘ زید کے کچھ بولنے سے قبل ہی وہ بے ہوش ہوکر گر گئی تھیں۔

/…ء…/

جہاں آرأ کو اس کی ضد کے آگے ہار ماننی پڑی تھی بڑے جھنجھلائے انداز میں انہوں نے ڈاکٹر سے ڈسچارج کرنے کا کہا اور ڈاکٹر کو کوئی اعتراض نہیں تھا ڈسچارج کرنے میں کیونکہ اس کے زخم مندمل ہوچکے تھے صرف ہاتھ کا فریکچر باقی تھا جس کو ٹھیک ہونے میں خاصا ٹائم باقی تھا۔ فائل بن رہی تھی ضروری امور نبٹانے کی خاطر نوفل کو بھی وہاں بلایا گیا تھا۔ انشراح بے حد خوش تھی اس کی حالت قید بامشقت کی سزا سے رہائی پانے والے قیدی کی جیسی تھی وہ بے حد خوش تھی مسکرا رہی تھی۔

’’جب سے ہم یہاں آئے ہیں آج پہلی بار نوفل صاحب کو مطمئن دیکھ رہی ہوں ورنہ روز ان کے تیور بگڑے ہوئے ہی دیکھتی تھی۔‘‘ وہ کائونٹر پر رکھی فائلوں پر سائن کرتے نوفل کو دیکھتے ہوئے بولیں۔

’’نانو نے بھی اس بے چارے کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا ہے‘ ذرا ذرا سی بات پر ہسپتال کے اتنے چکر لگوائے ہیں کہ اتنے چکر اس نے اپنے کسی سگے کے لیے بھی نہیں لگائے ہوں اب جان چھوٹنے پر ہی اس نے سکون کی سانس لی ہوگی۔‘‘ بالی کی نگاہوں کے تعاقب میں اس نے بھی اس طرف دیکھا… لائٹ برائون سوٹ میں اس کی وجاہت نمایاں تھی‘ ویسے بھی اس کے انداز میں شاہانہ پن تھا۔ ایک عجیب سی بے نیازی تھی گویا اسے کسی کی پروا ہی نہ ہو‘ اپنی ذات میں وہ خود کو مکمل سمجھتا تھا اور یہ بھی کیسی عجیب بات ہے‘ جو لوگ کسی کی پروا نہیں کرتے سب سے زیادہ ایسے ہی لوگ دوسروں کی توجہ پاتے ہیں جیسے وہ اس وقت ڈاکٹرز اور نرسوں کے درمیان کسی شہزادے کی مانند کھڑا تھا اور نگاہوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔ وہ کسی کی طرف ایک نگاہ اٹھا کر دیکھنے کا روادار نہ تھا۔

’’کیوں دیکھے جارہی ہو اس کو؟‘‘ بالی نے مسکرا کر اس کے آگے ہاتھ لہرایا۔

’’یہ بے حد مغرور و بد دماغ شخص ہے اور دیکھو ذرا لوگ اس کو عزت کتنی دیتے ہیں‘ یہ کسی سے سیدھے منہ بات کرنے والا بندہ نہیں۔‘‘ وہ کہتی ہوئی اٹھ کر دوسرے صوفے پر بیٹھی نانو کے پاس چلی آئی۔

’’نانو… چلیں مجھ سے زیادہ بیٹھا نہیں جارہا۔‘‘ وہ گویا ہوئی۔

’’جب ہی کہہ رہی تھی تم ابھی پوری طرح سے صحت مند نہیں ہوئی ہو چھٹی مت لو‘ مگر تمہارے دماغ میں جو بات ایک دفعہ سما جائے وہ ہی کرتی ہو۔‘‘ وہ بڑبڑاتی ہوئی اٹھیں اور کائونٹر کی طرف بڑھ گئیں۔

’’بیٹا… کب اجازت ملے گی یہاں سے جانے کی‘ ویٹنگ روم میں بیٹھے بیٹھے میری کمر اکڑ گئی ہے اور انشراح کے ہاتھ میں درد ہونے لگا ہے۔‘‘

’’آپ لوگ کیوں بیٹھے ہیں جائیں۔‘‘ وہ حیرت سے گویا ہوا۔

’’وہ دراصل بات یہ ہے کہ ہمارے پاس گاڑی نہیں ہے اب انشراح کو میں کس طرح ٹیکسی میں لے کر جائوں؟ آپ ڈراپ کردیں گے تو اچھا ہوگا۔‘‘ وہ خاصی مسکین صورت بناکر گویا ہوئیں۔

نوفل کا حرکت کرتا قلم رکا… اس نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا۔ اس حیرانی میں کچھ برہمی بھی پنہاں تھی جس کو محسوس کرکے وہ گڑبڑا کر بولیں۔

’’اچھا آپ بزی ہیں کوئی بات نہیں ہے بیٹا… ہم ٹیکسی میں ہی چلے جائیں گے‘ کوئی بات نہیں آپ اپنا کام کریں۔‘‘

’’انتظار کریں تھوڑا میں آتا ہوں۔‘‘ وہ گہری سانس لے کر آہستگی سے بولا۔

’’خوش رہو بیٹا۔‘‘ وہ اسے دعائوں سے نوازتی خوشی خوشی چل پڑی تھیں۔

’’ارے یہ نانو اس اکڑو سے کن باتوں میں لگ گئی ہیں؟‘‘ اس نے بالی سے کہا جو وہاں رکھے میگزین دیکھ رہی تھی۔

’’وہ نوفل صاحب سے اصرار کررہی ہیں کہ آپ لوگوں کو ڈراپ کرکے آئیں۔‘‘ قریب سے گزرتی نرس نے جواب دیا… تین ہفتوں کا طویل عرصہ یہاں گزرا تھا اور اتنے عرصے میں تمام اسٹاف ان سے واقف ہوگیا تھا۔

’’نوفل اصرار کررہے ہیں کہ ہم کو وہ ڈراپ کرکے آئیں گے‘ میں نے بہت انکار کیا کہ ٹیکسی سے چلے جائیں گے مگر وہ نہیں مانے‘ کہہ رہے ہیں میں ابھی آتا ہوں۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے وہاں آکر کہنے لگی تھیں۔ مارے شرمندگی و بے عزتی کے احساس سے اس کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے تھے۔ اسے لگا وہ اب کبھی بھی نوفل سے نگاہیں ملا کر بات نہ کرپائے گی۔

’’لیکن ماسی… نرس بتاکر گئی ہے آپ ہی اصرار کررہی تھیں نوفل صاحب سے کہ وہ ہم کو گھر ڈراپ کرکے آئیں۔‘‘ بالی صاف گوئی سے کہہ اٹھی۔

’’ارے… نہیں نہیں جھوٹ بول رہی ہے وہ حرافہ نرس… میں کیوں جھوٹ بولوں گی نوفل نے خود خواہش ظاہر کی تھی۔‘‘ وہ انشراح کے چہرے پر چھاتی سرخی اور بگڑتے تیوروں سے بوکھلا کر بولیں۔

’’بالے بھائی… آپ میرے ساتھ چل رہے ہیں یا ان کے ساتھ آئیں گے؟‘‘ اس کے انداز میں بلا کا جلال پن و غصہ بھڑک رہا تھا۔

’’کیا مقصد ہوا اس بات کا؟ ہیں ذرا بتائو مجھے کہاں جارہی ہو؟‘‘

’’نانو… پلیز آپ مجھ سے بات نہیں کریں اس ٹائم پلیز۔‘‘

’’ہوا کیا ہے یہ بتائو تو سہی‘ بلاوجہ بھاگے جارہی ہو‘ کیوں تماشہ بنوانا چاہتی ہو۔ یہ ہسپتال ہے تمہارے گھر کا لان نہیں۔‘‘ ان کو اپنی حرکت پر کوئی پشیمانی نہیں تھی۔

انشراح نے کوئی جواب نہیں دیا… وہ اس کا ہاتھ پکڑے تیز تیز چلتی باہر نکل گئی تھی۔ نوفل ڈاکٹر سے مصافحہ کرنے کے بعد اس طرف ہی آرہا تھا‘ جہاں آرا نے تذبذب بھرے انداز میں ادھر آتے نوفل اور اُدھر جاتی انشراح اور بالی کو دیکھا۔

’’آئیں میں آپ کو ڈراپ کردیتا ہوں۔‘‘ وہ بھی ان کے درمیان ہونے والی تکرار دیکھ چکا تھا مگر انجان بن کر ان سے مخاطب ہوا۔

’’نہیں… نہیں بیٹا بے حد مہربانی آپ کی‘ میں ایسے ہی کہہ رہی تھی آپ جائیں۔‘‘ وہ اسے کہہ کر آگے بڑھ گئیں انداز میں شدید بوکھلاہٹ تھی۔ وہ شانے اچکاتے ہوئے دوسرے گیٹ کی سمت بڑھ گیا۔

/…ء…/

عمرانہ دوائوں کے زیر اثر بے خبر سورہی تھیں‘ زید بیڈ کے قریب کرسی پر بیٹھا تھا۔ اس کے وجیہہ چہرے پر دکھ کی گہری پرچھائی تھیں۔ عمرانہ کی ایسی حالت پہلی بار نہیں ہوئی تھی‘ وہ بہت کم عمری سے ان کی ایسی حالت دیکھتا آیا تھا۔ اپنی ماں کو اس نے کبھی بھی عام عورتوں کی طرح زندگی سے لطف اندوز ہوتے نہیں دیکھا تھا‘ ہمیشہ یاسیت و محرومی ان پر چھائی رہی تھی۔

شروع شروع میں جب مدثر نے دوسری شادی کی تھی تب اس اذیت سے بچنے کے لیے انہوں نے اسموکنگ شروع کردی تھی اور پھر یہ شوق ان کو اتنا بھایا کہ وہ ڈرگز لینے لگی تھیں‘ گھر والوں کو خبر ہونے تک وہ نشے کی عادی ہوگئی تھی۔ منور اور زمرد کی سختی اور جدوجہد کے بعد وہ نشے سے جان چھڑانے کے لیے علاج پر راضی ہوئی تھیں۔

نشہ کرنا بہت آسان ہے اور چھوڑنا ایک جبر مسلسل ہے اس وقت وہ سات سال کا تھا مگر رشتوں میں پڑنے والی دراڑوں نے ذہنی طور پر اسے عمر سے زیادہ آگہی دے دی تھی جس طرح اس نے اپنی ماں کو نشے کے لیے تڑپتا دیکھا تھا وہ بہت تکلیف دہ تھا… برا وقت وہ بھولا نہیں تھا۔ آج بھی ماضی کی اسکرین پر ماں تڑپتی‘ بلکتی کراہتی دکھائی دیتی ہے تو وہ مسکرانا بھول جاتا تھا۔ نشہ چھوٹ گیا تھا لیکن ان کو کئی بیماریوں میں مبتلا کرچکا تھا جس میں ایک بیماری اعصاب کا بے حد کمزور ہوجانا تھا وہ اپنے مزاج کے خلاف کوئی بات برداشت پہلے ہی نہ کرنے کی عادی تھیں اور اب تو برداشت بالکل نہ رہی تھی۔

’’زید… کھانا کھالیں‘ شام ہونے کو ہے آپ نے صبح سے فقط چائے پی ہے۔‘‘ زمرد وہاں آکر بولیں۔

’’ابھی بالکل بھوک نہیں ہے‘ محسوس ہوگی تو کھالوں گا۔‘‘

’’کھانے بیٹھیں گے تو کھایا جائے گا۔‘‘ وہ وہیں بیڈ پر بیٹھ گئیں۔

’’مما نے بھی کھانا نہیں کھایا… مما کے ساتھ ہی کھائوں گا۔‘‘ وہ عمرانہ کی طرف دیکھتا ہوا مہذب لہجے میں گویا ہوا۔

’’عمرانہ فضول باتوں سے پیٹ بھرچکی ہے‘ اب بھوک کہاں رہی ہوگی۔‘‘ ان کے لہجے میں ملال و تاسف تھا۔ زید نے ان کی طرف دیکھ کر آہستگی سے کہا۔

’’مانتا ہوں‘ مما نے جو کہا وہ بہت غلط ہے لیکن آپ جانتی ہیں مما کو غصے میں کسی بات کا احساس نہیں ہوتا۔‘‘

’’عمرانہ کی یہ بے حسی اکثر گھر میں فساد پھیلا دیتی ہے‘ اب یہی دیکھ لو‘ صوفیہ نے رو رو کر اپنا برا حال کرلیا ہے۔‘‘

’’دوسروں کو رلانے والے کبھی خود بھی روتے ہیں تائی جان… حیران کن بات ہے۔‘‘ وہ بے ساختہ بولا… عمرانہ کے خیال سے ان کی آواز بے حد دھیمی تھی۔

’’جب ناحق دل پر ضرب پڑتی ہے بیٹا… تو پتھر بھی رو پڑتے ہیں پھر صوفیہ ایک عورت ہے وہ بھی بیٹی کی ماں‘ اگر اس کے اپنے گھر میں ہی اس کی بیٹی پر ایسے رسوائی آمیز الزامات لگیں گے تو وہ کہاں جائے گی؟‘‘ زمرد نے اسے لاجواب کردیا تھا وہ بھی تو ماں کی باتوں پر دل گھائل کرچکا تھا۔

’’کھانا یہیں بھیج دیتی ہوں بہت ٹائم ہوگیا ہے‘ کھالیں۔ عمرانہ بیدار ہونے والی ہے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے وہ اٹھے گی تو نارمل ہوگی۔‘‘ وہ کھڑی ہوتی ہوئیں شفقت بھرے لہجے میں گویا ہوئیں۔

’’سوری تائی جان… مما نے آپ سے بھی بدتمیزی کی… میں شرمندہ ہوں آپ سے معذرت کرتا ہوں۔‘‘ وہ اٹھ کر ان کے قریب آکر بولا۔

’’ارے آپ کو معذرت کرنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے بیٹا۔‘‘

/…ء…/

جو کام کسی بوجھ کی مانند کمر پر لادھ دیا جائے وہ کام انسان کو ذمہ دار نہیں بلکہ گدھا ہونے کا احساس دلاتا ہے اور وہ پچھلے ایک ماہ سے تقریباً گدھا ہی خود کو محسوس کررہا تھا۔ جس پر خوامخواہ ہسپتال کی ذمہ داری لدھی ہوئی تھی‘ وہ گھر میں بڑے خوشگوار موڈ میں آیا تھا۔ ماما کامن روم میں ہی مل گئی تھیں‘ ساتھ سامعہ بیٹھی تھیں پُر تکلف چائے کا دور چل رہا تھا وہ بھی ان کے ساتھ شریک ہوگیا۔

پورے ہائوس میں سناٹا پھیلا ہوا ہے‘ حمرہ بھابی اور یوسف بھائی ہوتے ہیں تو گھر میں چہل پہل رہتی ہے۔ اب تو لگ رہا ہے کوئی گھر میں ہے ہی نہیں۔ حمرہ کی سوشل ایکٹیوٹیز بہت ہیں اور یوسف سے بھی ملنے کے لیے کوئی نہ کوئی مہمان آتے رہتے ہیں اس طرح گہما گہمی کا سماں رہتا ہے۔

’’کب تک آئیں گے پاپا… آپ کی بات ہوئی؟‘‘ نوفل نے برائونیز کھاتے ہوئے گفتگو میں حصہ لیا۔

’’ویک اینڈ پر آنے کا ارادہ ہے‘ آپ کی بات نہیں ہورہی ہے ان سے؟‘‘

’’جی… ان دنوں مصروفیت رہی ہے کچھ‘ بہت کم بات ہوسکی۔‘‘

’’یہ اچھی بات ہے آپ بھی بزی رہنے لگے لائف کے یہی دن ہوتے ہیں‘ خوب صورت بنانے کے لیے یہی وجہ ہے۔ میں نے لاریب پر کبھی بھی پابندی نہیں لگائی… میرے خیال میں پابندیاں بغاوت پیدا کرتی ہیں اور انسان کو چھپ کر وہ کام کرنے پر مائل کرتی ہیں۔‘‘ سامعہ چائے پیتے ہوئے کہہ رہی تھیں۔

’’جتنی آزادی تم نے لاریب کو دے رکھی ہے اتنی آزادی اس عمر میں دینا مناسب نہیں۔‘‘ زرقا سنجیدگی سے گویا ہوئیں۔

’’بھابی… میں نے کہا نہ میں نہیں چاہتی لاریب کو میں چھپ کر ایسے کام کرتے دیکھوں جس کی میں اس پر پابندی لگائوں۔‘‘ وہ مسکرا کر اٹھ گئیں۔

’’کلب جانے کا ٹائم ہوگیا ہے تمہارے؟‘‘

’’جی بھابی… آج میٹنگ ہے ذرا جلدی جانا ہوگا۔‘‘

’’امینہ… امینہ…‘‘ وہ ملازمہ کو پکارتی ہوئی اندر کی جانب بڑھ گئیں۔

’’ہم لوگ ملازمہ کے کس قدر عادی ہوگئے ہیں‘ معمولی سا کام بھی ہم سے نہیں ہوسکتا‘ آئی مین آپ کے علاوہ ماما۔‘‘

’’اپنی اپنی نیچر کی بات ہے مجھے شروع سے ہی اپنے کام خود کرنے کی عادت ہے اور میں نے آپ کی بھی تربیت یہی کی ہے کہ ایسی عادتوں سے بچا جائے جس سے محتاجی کا احتمال ہوتا ہے اور آپ نے ہمیشہ ایسا ہی کیا ہے۔‘‘ وہ اس کی طرف دیکھتی ہوئی اطمینان بھرے لہجے میں کہہ رہی تھیں۔ ان کی درمیان چند لمحے خاموشی طاری رہی پھر نوفل نے استفسار کیا۔

’’ماما… آپ پاپا کے ساتھ کیوں نہیں جاتی؟ حمرہ آنٹی ان کے ساتھ ہوتی ہیں خواہ وہ بیرونی ٹورز ہوں یا اندرونی؟‘‘ یہ سوال طویل عرصے سے اس کے دل میں مچلتا رہا تھا مگر ہر بار وہ اس سے نظریں چراتا رہا تھا کہ کہیں گستاخی کے زمرے میں نہ آئے اور آج وہ پوچھ بیٹھا‘ زرقا نے ممتا بھری نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا۔

ڈوبتے سورج کی سنہری کرنیں ہار سنگھار کے درخت کے پتوں سے ٹکرا کر اس کے چہرے کو چھو رہی تھیں اور اس کے وجیہہ چہرے پر خوب صورت روشنی پھیلی ہوئی تھی جو اس کے کھڑے نقوش کو نمایاں کررہی تھی۔

’’مجھے معلوم تھا کبھی نہ کبھی آپ مجھ سے یا یوسف سے یہ سوال ضرور کریں گے‘ ایک عرصے سے میں آپ کی آنکھوں میں یہ سوال پڑھتی آرہی ہوں۔‘‘

’’بتایئے مما… ایسا کیوں ہے؟‘‘ وہ بے حد سنجیدہ ہوا۔

’’یوسف نے کبھی بھی مجھ سے ناانصافی نہیں کی‘ وہ ہر ٹور پر جانے سے قبل مجھ سے پوچھتے ہیں… ساتھ چلنے کا کہتے ہیں مگر میں انکار کردیتی ہوں۔‘‘

’’کیوں کرتی ہیں آپ ایسا؟ آپ نے خود کو اس چار دیواری میں کیوں قید کرلیا؟ آپ کی یہ قید مجھے تکلیف دیتی ہے۔‘‘

’’ارے… آپ ایسا کیوں سوچتے ہیں بیٹا‘ میں یہاں قید نہیں ہوں‘ اپنی مرضی سے رہتی ہوں۔ مجھ پر کوئی پابندی نہیں بلکہ سب میری مرضی پر چلتے ہیں‘ میرا حکم مانتے ہیں آپ ایسا نہیں سوچا کریں۔‘‘ ان کے انداز میں مخصوص نرمی وپیار تھا۔

’’اب کے پاپا ٹور پر جائیں گے تو آپ ساتھ جائیں گی۔‘‘ اس کا لہجہ اٹل ہوا۔

’’ارے آج تو آپ بچوں کی طرح ضد کررہے ہیں‘ حمرہ کو میں نے چھوٹی بہن ہی سمجھا ہے‘ سوکن نہیں‘ وہ دونوں ساتھ جاتے ہیں مجھے اچھا لگتا ہے ان کی جوڑی خوب صورت ہے۔‘‘ ان کے لہجے میں کوئی بناوٹ و دکھاوا نہ تھا وہ ہی شیریں مزاجی و دل موہ لینے والی سادگی تھی جو مخاطب کو لاجواب کردیا کرتی تھی وہ ان کو عقیدت سے دیکھتا رہ گیا۔

/…ء…/

بالی چالیس سال کی ہوچکی تھی اور اس عرصے میں اس نے زندگی کے کئی نشیب و فراز دیکھے تھے‘ وہ انسانوں کی اس تیسری جنس سے تعلق رکھتی تھی جو والدین کا امتحان بن کر جنم لیتے ہیں۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ایسے بچوں کو ان کا حق عام بچوں کی طرح دیتے ہیں وگرنہ بالی بھی گھر والوں کے ناروا و توہین آمیز سلوک سے گھبرا کر دس سال کی عمر میں گھر سے بھاگی تھی۔ قسمت اچھی تھی جہاں آرا بیگم اسے فٹ پاتھ پر سوتا دیکھ کر اپنے ساتھ لے آئی تھیں تب سے وہ ان کی ملازمہ‘ بیٹی‘ دوست و ہمراز تھی۔ چالیس سالہ زندگی میں اس نے جہاں آرا کو کبھی بھی اتنا سخت مزاج و سخت دل نہ دیکھ تھا۔ جتنی وہ اس بار انشراح کے معاملے میں ثابت ہورہی تھیں وہ بھی کبھی ضد نہیں کرتی تھی مگر اس پر بھی ضد کرنے کا بھوت سوار تھا۔

بات عاکفہ کے گھر جانے پر پابندی سے شروع ہوئی اور ابھی یہ معاملہ سلجھا بھی نہ تھا کہ نیا فساد نوفل سے گھر ڈراپ کی درخواست پر شروع ہوا تھا۔ نرس کے بتانے پر وہ غصے سے بھری اس کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے نکلتی چلی گئی اور گیٹ سے باہر کیب میں وہ بیٹھ ہی رہی تھیں جب تیز تیز چلنے کے باعث بری طرح پھولتے سانس کے ساتھ وہ وہاں ان کے ساتھ ہی ٹیکسی میں سوار ہوئی تھیں۔

راستہ خاموشی سے طے ہوا اور گیٹ کے سامنے ٹیکسی رکتے ہی وہ پھرتی سے اتری اور نانو کے اندر آنے تک وہ کمرہ لاک کرکے بند ہوچکی تھی۔ نانو نے گھور کر اس کے لاکڈ دروازے کو دیکھا اور بڑبڑاتی ہوئی وہاں سے اپنے کمرے میں چلی گئی… دن گزر گیا تھا۔

رات نے اپنے گیسوئوں کو دراز کردیا تھا‘ سیاہ اندھیرا ہر سو پھیل چکا تھا۔ سردی جوبن پر تھی اور باہر ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں ویسے بھی موسم سرما اپنے ساتھ اداسی و سکوت لے کر آتا ہے پھر جہاں پہلے سے ہی خاموشی ہر شے پر کنڈلی مار کر بیٹھ گئی ہو وہاں کے در و دیوار گونگے بہرے ہوجاتے ہیں اور ان کے درمیان موجود بالی کھنڈرات میں گھومنے والی بے بس روح کی مانند لگ رہی تھی۔ انشراح نے دروازہ وا نہیں کیا اور نانو کو لگ رہا تھا کہ وہ صدیوں کی نیند پوری کررہی ہوں‘ ملازمہ کام کرکے جاچکی تھی بالی کو نہ بھوک لگی‘ نہ نیند آرہی تھی۔ سارا دن اس کا جلے پیر کی بلی کی مانند پورے بنگلے میں گھومتے ہوئے گزرا تھا‘ نانو کی نیند سے زیادہ اسے انشراح کی فکر تھی جس نے سارا دن کچھ نہیں کھایا تھا نہ دوا لی تھی وہ ابھی مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہوئی تھی اسے وقت پر دوا کی ضرورت تھی اور وہ سب سے بے پروا ہوکر کمرہ بند کرکے بیٹھی تھی۔

’’بالی… تیرے منہ پر کیوں بارہ بج رہے ہیں؟ رات چڑھ آئی ہے سارا دن گزرا اور تُو نے مجھے بیدار بھی نہیں کیا؟‘‘ جہاں آرا فریش ہوکر باہر آتے ہوئے اس سے مخاطب ہوتے ہوئے صوفے پر بیٹھیں۔

’’کس طرح بیدار کرتی آپ کو؟ آپ اپنی مرضی سے ہی اٹھی ہو۔‘‘ جہاں آرا کو دیکھ کر اس کی جان میں جان آئی۔

’’ہوں… انشی نے ابھی تک دروازہ نہیں کھولا کیا؟‘‘ وہ دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے استفسار کرنے لگیں۔

’’نہیں‘ اس کی وجہ سے میں فکرمند ہوں‘ نہ کچھ کھایا ہے اس نے نہ دوالی ہے کہیں کچھ ہو نہ جائے اسے۔‘‘

’’میں اس کو آسمان کا چاند بنانا چاہتی ہوں اور وہ لڑکی ریت کا ذرہ ہی بننا چاہتی ہے جو میں بننے نہیں دوں گی۔‘‘

’’آپ نے بھی حد ہی کردی ہے ماسی… نوفل صاحب سے آپ کو لفٹ لینے کی ضرورت ہی کیا تھی‘ اتنا عرصہ انہوں نے ہمارا خرچہ اٹھایا خیال رکھا وہ کیا کم تھا جو آپ نے ایسی فرمائش کی۔‘‘ بالی کے لہجے میں لجاجت و شرمندگی تھی۔

’’تم بھی میرا دل مت جلائو‘ اس بے وقوف لڑکی کو سمجھانے کے بجائے مجھے طعنے دے رہی ہو‘ ہونہہ… اس عمر میں اور اس قدر خوب صورت ہوتے ہوئے لڑکیاں دونوں ہاتھوں سے دولت کماتی ہیں ایک سے بڑ کر ایک امیر پڑا ہے اس شہر میں کسی کو اشارہ بھی کردے گی تو دولت کے انبار لگ جائیں گے‘ عیش و آرام سے ساری زندگی گزرے گی۔‘‘ وہ انشراح کے کمرے کے دروازے کو گھورتی ہوئی غصے سے کہہ رہی تھیں۔

’’ماسی… یہ خیالی پلائو پکانا چھوڑ دو‘ وہ نویرہ کی بیٹی ہے‘ ضد و ہٹ دھرمی میں اس سے بھی دس قدم آگے ہے وہ کسی صورت تمہاری خواہش پر چلنے والی نہیں۔‘‘

’’وہ نویرہ کی بیٹی ہے تو نویرہ میری بیٹی تھی اور دیکھتی ہوں دم اس میں ہے تو مردہ میں بھی نہیں ہوں۔‘‘ وہ عزم سے بولیں۔

’’اس بحث کو ابھی یہیں رہنے دو‘ پہلے اس کا حال تو معلوم کرو‘ جائو جاکر دروازہ ناک کرو۔‘‘ انہوں نے حکم دیا۔

’’ہزار بار کرچکی ہوں‘ نہیں کھول رہی ہیں دروازہ۔‘‘

’’یہ تو وہ ہی بات ہوئی کہ چوری اور سینہ زوری‘ نوفل کے آگے مجھے بے عزت بھی کردیا اور اب نخرے بھی مجھے ہی دکھائے جارہے ہیں‘ آج کل کی نسل کے دماغ ہی نہیں ملتے۔‘‘

’’کیا نوفل صاحب آئے تھے آپ کے پاس ڈراپ کرنے کا کہہ رہے تھے؟‘‘ وہ متجسس انداز میں گویا ہوئی۔

’’ہاں… ہے تو وہ پرلے درجے کا بددماغ و بہت مغرور لیکن کچھ خاندانی ایٹی کیٹس موجود ہیں‘ اس میں کہہ رہا تھا آیئے ڈراپ کردیتا ہوں۔‘‘

’’پھر آپ نے کیا کہا؟‘‘ سوال پر وہ اسے گھورتے ہوئے کہنے لگیں۔

’’بہت مزہ آرہا ہے تجھ کو میری سبکی پر‘ سدھر جا وگرنہ پنکھے میں چٹیا باندھ کر درّے لگائوں گی تیرے‘ چل جاکر ڈپلی کیٹ کی لے کر آ میرے کمرے سے۔‘‘

/…ء…/

پاگل آنکھوں والی لڑکی

اتنے مہنگے خواب نہ دیکھو

تھک جائو گی

کانچ سے نازک خواب تمہارے

ٹوٹ گئے تو پچھتائو گی

تم کیا جانو

خواب سفر کی دھوپ

خواب ادھوری رات کے دوزخ

خواب خیالوں کا پچھتاوا

خواب کا حاصل تنہائی

مہنگے خواب خریدنے ہو تو

آنکھیں بیچنی پڑتی ہیں

رشتے بھولنے پڑتے ہیں

خوابوں کے اوٹ سراب نہ دیکھو

اتنے مہنگے خواب نہ دیکھو

’’میری بچی… میری چندہ… کل سے رو رو کر اپنا حال برا کرلیا تم نے… طبیعت پہلے ہی بہتر نہیں اوپر سے تم نے رو کر خود کو ہلکان کیا ہوا ہے۔‘‘ مائدہ نے کم عقلی کے باعث وہ تمام گفتگو حرف بہ حرف سودہ کو بتادی تھی جو عمرانہ نے اس کے اور زید کے متعلق کی تھیں جنہیں سن کر اس کا برا حال ہوگیا تھا‘ مارے شرم و حیا کے وہ کسی سے بھی نگاہیں ملا نہ پارہی تھی۔ ہر کمزور و بے بس انسان کی طرح اس کا آنسوئوں پر بس چل رہا تھا۔

’’تمہیں دیکھ دیکھ کر صوفیہ بیٹی اور زمرد بہو نے بھی کچھ نہیں کھایا… تم تھوڑا بہت کھالو گی تو وہ بھی کچھ کھالیں گی۔‘‘ بنارسی بوا اس کے قریب بیٹھتی ہاتھ تھامے محبت سے کہہ رہی تھیں۔

’’بوا… مجھے زہر کھلا دیں‘ میرا گلہ دبا کر مار دیں‘ مجھے زندہ نہیں رہنا۔ میں مرنا چاہتی ہوں… مرنا چاہتی ہوں۔‘‘

’’نہ… نہ میری بچی ایسے نہیں بولتے‘ اللہ تمہاری عمر دراز کرے۔‘‘ وہ بری طرح روتی ہوئی سودہ کو لپٹاتے ہوئے خود بھی آبدیدہ ہوگئی تھیں‘ معاً زمرد وہاں آئیں اور اسے سینے سے لگالیا۔

’’ممانی… ممانی…‘‘ شدت گریہ سے وہ بول نہ پائی۔

’’سودہ جو ہونا تھا وہ ہوگیا‘ سب بھول جائو میری جان… کل سے خود کو ہلکان کیا ہوا ہے‘ فیور کم نہیں ہورہا… سوچ کر اور رو کر حشر خراب کرلیا ہے‘ یہ سب مائدہ کی کم عقلی کی وجہ سے ہوا ہے نہ وہ تمہیں بتاتی نہ…‘‘

’’آپ مائدہ کو کچھ مت کہیں‘ عمرانہ ممانی کی آواز تو در و دیوار کو چیر کر باہر آجاتی ہے۔ آپ سب جانتی ہیں مجھے بتایئے میں کس طرح گھر میں کسی کا سامنا کروں گی‘ کیا بتائوں گی؟ کس طرح بے گناہ ہونے کا ثبوت دوں گی؟‘‘ اس کی بے چارگی سے رونے پر بوا بھی خوب رونے لگیں‘ دل تو زمرد کا بھی بھر آیا تھا وہ اس کے جذبات کو پوری طرح سمجھ رہی تھی اور خوب جانتی تھیں کہ وہ کس قدر با حیا و سادہ مزاج لڑکی ہے۔

’’تمہیں کسی سے گھبرانے کی ضرورت نہیں… نہ ہی کسی سے سامنا کرنے سے ہچکچانا‘ یہ سب وہ لوگ کرتے ہیں جو کسی برائی و گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔‘‘ وہ اپنے آنسو اندر ہی اندر ضبط کرتی اس کو سمجھانے لگیں۔

’’بوا… آپ بھی سودہ کو سمجھانے کے بجائے رونے بیٹھ گئیں۔‘‘

’’بہو بیگم… کیا بتائوں‘ بڑا ظلم کیا ہے عمرانہ بہو نے دشمنوں کی طرح گولہ باری کرکے مڑ کر بھی نہ دیکھا کہ کون گھائل ہوا اور کون مرا اور ستم بالائے ستم یہ کہ مظلومیت کا ڈھونڈورا بھی اپنے لیے ہی پیٹا جاتا ہے۔‘‘ وہ دوپٹے سے آنسو صاف کرتے ہوئے شکوہ کررہی تھیں۔

’’سودہ لڑکی ہے رو دھو کر اپنی دل کا غبار نکال لے گی‘ ہماری محبت تسلیاں و دلاسے اس کے دل کو ہلکا کردیں گی مگر زید کا کیا ہوگا؟ چھری تو ان پر بھی چلی ہے سودہ کے چہرے پر ہی نہیں کالک انہوں نے زید بیٹے کے چہرے پر بھی ملی ہے نہ وہ رو کر دل کا بوجھ ہلکا کرسکتے ہیں نہ کسی سے کہہ کر دل بہلا سکتے ہیں پھر زید میاں تو کسی سے بھی ایسا کچھ کہنے والے نہیں ہیں۔ مجھے ان کی بھی فکر ہے کس طرح اندر ہی اندر گھٹ رہے ہیں‘ عمرانہ بہو نے بیٹے کی عزت کا بھی خیال نہ کیا کس طرح وہ ان کے ایک حکم پر چلتے ہیں دن کو رات کہہ دیں تو رات کہتے ہیں۔‘‘

’’ٹھیک کہہ رہی ہیں بوا آپ‘ ان دو دنوں میں زید بالکل ہی خاموش و گم صم ہوکر رہ گیا ہے‘ میں نے اور منور نے بہت سمجھایا ہے کہ عمرانہ کی کہی ہوئی باتوں کو دل سے نکال دو‘ اس نے غصے میں جو بھی کہا لیکن اپنوں کے لگائے زخم اتنی جلدی کہاں مندمل ہوتے ہیں۔‘‘ وہ سودہ کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے تاسف سے کہہ رہی تھیں۔

’’عورت کی طرح عزت مرد کی بھی ہوتی ہے‘ غیرت مند لوگ ہی ان باتوں کو محسوس کرتے ہیں پھر زید میاں تو اس معاملے میں کچھ زیادہ ہی جذباتی ثابت ہوئے ہیں۔ اس رات یہی الزام مدثر میاں نے ان پر لگایا تھا کہ وہ رات دیر سے کسی غلط جگہ سے آرہے ہیں۔‘‘ ان کی بات پر سر جھکائے بیٹھی سودہ کو بھی وہ بے رحم رات یاد آگئی تھی‘ ان کے الزام پر لائونج میں طوفان برپا ہوگیا تھا وہ جو دوست کی حادثاتی موت پر قبرستان سے گھر آیا تھا دل پہلے ہی رنج و درد سے بھرا ہوا تھا‘ مستزاد باپ کی بدگمانی و بہتان تراشی اسے حواسوں سے بیگانہ کر گئی تھی اور وہ غصے میں سب بولتا چلا گیا تھا جو گمان بھی نہ تھا۔ غصہ عقل کو کھا جاتا ہے‘ زبان سے نکلے لفظ پنجرے سے بھاگے پرندوں کی مانند ہوتے ہیں جو کبھی گرفت میں نہیں آتے ہیں۔ زید نے حواس باختگی میں باپ سے گستاخی تو کی تھی مگر پھر وہ کبھی بھی ان کی طرف نگاہ نہ اٹھاسکا تھا۔

’’چلو اٹھو بیٹی… بھولنے کی کوشش کرو جو ہوا۔‘‘ وہ اٹھتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ کر اٹھاتے ہوئے شفقت بھرے انداز میں گویا ہوئیں۔

’’تم خود کو سنبھالو گی بیٹا… تو ہی صوفیہ بھی خود کو سنبھالے گی‘ وہ بھی خود کو مجرم سمجھ رہی ہے کہ وہ تمہیں گھر چھوڑ کر گئی ہی کیوں؟‘‘

’’اب کیا کہیں عمرانہ بہو کی زبان جب بھی چلی ہے کہرام ہی برپا ہوئے ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں اور افسوس کی بات تو یہ ہے‘ گھر میں آگ لگا کر خود اپنی بہن کے گھر چلی گئیں۔‘‘ بوا بھی ان کے ہمراہ کمرے سے باہر جاتے ہوئے بڑبڑائیں۔

/…ء…/

’’نوفل… ساریہ کی کال آئی تھی آپ کے پاس؟‘‘

’’جی آئی تھی۔‘‘ اس نے چونک کر ماما کی طرف دیکھا۔

’’پھر آپ نے اس کی کال پوری طرح سنی بھی نہیں اور لائن کاٹ دی‘ یہ بہت انسلٹنگ ایٹی ٹیوڈ ہے آپ کا اس لڑکی میں اور دوسری لڑکیوں میں فرق ہے بیٹا… وہ آپ کے ماموں کی بیٹی ہے۔‘‘

’’آپ سے شکایت کی گئی ہے میری ماما؟‘‘

’’ہوں… جب ایسا بی ہیور ہوگا پھر شکایت بھی ہوگی بیٹا۔‘‘ انہوں نے ہلکی خفگی بھری مسکراہٹ سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

’’گرلز چیونگم کی طرح کیوں ہوتی ہیں ماما… جتنا ان سے دور بھاگو وہ اتنا ہی قریب ہوتی ہے۔ ساریہ بھی ان لڑکیوں میں شمار ہوتی ہے اور مجھے نفرت ہے ایسی لڑکیوں سے۔‘‘ اس کا لہجہ کڑوا ہوگیا۔

’’بیٹا… اس نفرت کا اختتام کب ہوگا؟ لوگ کیسے بھی ہوں وہ ہمیں‘ ہماری سوچ کے مطابق ہی دکھائی دیتے ہیں۔ آپ نے اپنے دل میں جنس مخالف کے لیے شدید ترین نفرت و عناد اس حد تک بھرلیا ہے کہ آپ کو ہر چہرے میں ایک ہی چہرہ دکھائی دیتا ہے۔‘‘

’’ٹھیک کہہ رہی ہیں ماما آپ‘ مرتے دم تک وہ ایک چہرہ میرے سامنے آنے والے ہر چہرے پر ثبت ہوتا جائے گا اور میری نفرت و بے زاری دگنی رفتار سے بڑھتی جائے گی۔‘‘ اس کے وجیہہ چہرے پر موجود سرخی میں بے حد اضافہ ہوگیا تھا۔ ایک اضطراب تھا جو اس کو اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا‘ زرقا اس کو دیکھ کر مضطرب ہوگئیں۔

’’ماما کی جان… آپ کو اس اسٹریس سے باہر آنا ہوگا‘ اس سائے کو آپ کو خود سے جدا کرنا ہوگا‘ جو بچپن سے آپ کے ساتھ رہا ہے۔‘‘ انہوں نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر رسانیت سے کہا۔

’’اوہ… سوری میں کچھ زیادہ ہی ایموشنل ہوگیا تھا‘ ایم سوری ماما… بتایئں ساریہ نے کیا شکایت کی ہے میری؟ کب کال آئی تھی؟‘‘ ماما کے چہرے پر کرب کے پھیلتے سائے محسوس کرکے لمحے بھر میں اس نے نہ صرف خود پر قابو پایا بلکہ خلاف عادت مسکرا کر استفسار کیا۔

’’شام میں کال آئی تھی‘ بہت دلگرفتہ و ملول تھی ساریہ‘ کہہ رہی تھی بہت بیگانگی بھرے انداز میں آپ نے بات کی اور وہ بھی ادھوری پوری بات سنے بغیر لائن کاٹ دی۔‘‘

’’وہ اسٹوپڈ سوالات کررہی تھی‘ ایسی باتوں کا بھی کوئی جواب ہوتا ہے اور آپ کو پتا ہے برتھ ڈے وغیرہ وش کرنا میں پسند نہیں کرتا۔‘‘

’’بچیاں ایسے ہی سوال کرتی ہیں ہر کسی کو کم عمری میں فہم و ادراک کی دولت نہیں مل جاتی… سچی خوشی دوسروں کو خوشیاں فراہم کرکے حاصل ہوتی ہے‘ یہ میری زندگی کا تجربہ ہے بیٹا۔‘‘ 

’’جی ہاں‘ لوگوں کو خوشیاں بانٹتے بانٹتے آپ بھول ہی گئی ہیں کہ آپ کی اصل خوشی کیا ہے… وہ کون سی خوشی ہے جو آپ کو خوش کرتی ہے؟‘‘ اس کے لہجے میں طنز کے بجائے تاسف و دکھ تھا۔

’’بالکل غلط تجزیہ ہے آپ کا‘ میری خوشی‘ میرا سکھ صرف آپ کی خوشی و سکھ سے مشروط ہے۔ جب آپ کو خوش وسکھی دیکھتی ہوں‘ میرے دل میں ازخود ہی طمانیت و مسرت سرائیت کرجاتی ہے اور مجھے سب کچھ اچھا لگنے لگتا ہے میں جی اٹھتی ہوں۔‘‘ ممتا سے مغلوب ہوکر ان کی آواز بھرا گئی۔

’’سو سویٹ ماما… آپ ہیں تو میں ہوں وگرنہ زندگی… زندگی کہاں تھی۔‘‘ وہ ان کا ہاتھ چوم کر گویا ہوا۔

/…ء…/

جب سے رضوانہ دبئی سے دونوں بیٹیوں کو لے کراچی شفٹ ہوئی تھیں تب سے عمرانہ کو ایک مضبوط سہارا مل گیا تھا وہ گاہے بگاہے یہاں آجاتی تھیں۔ دونوں بھانجیاں اور بہن ان کی ہم مزاج تھیں۔ آج جو وہ دھماکہ خیز خبر لائی تھیں اس نے ان کو بھی آنکھیں پھاڑنے پر مجبور کردیا تھا عروہ رونے لگی۔

’’ویسے تو زید بہت ہی شریف و نیک بنتے ہیں کہ نظر بھر کر بھی دیکھنا پسند نہیں کرتے اور کہاں یہ عالم کہ گھر میں اس دو کوڑی کی لڑکی کے ساتھ رات گزارا کرتے ہیں۔‘‘ عروہ زید کو اپنی ملکیت سمجھنے لگی تھی حالانکہ وہ اس کی سوچوں کی دسترس سے بھی دور تھی۔ زید کے ساتھ سودہ کے نام نے اس کے اندر حسد کی آگ بھردی تھی۔

’’زید سے کیوں بدظن ہوتی ہو عروہ… جب لڑکی بدچلنی پر اتر آئے تو بڑے بڑے پارسا مردوں کے قدم بہک جاتے ہیں پھر زید ابھی کم عمر ہے اس بچے کو جال ڈال کر پھنسایا گیا ہے۔‘‘ رضوانہ نے روتی ہوئی بیٹی کو تسلی دی۔

’’لیکن مجھ میں کیا کمی ہے مما… میں خوب صورت نہیں… کسی سے کم ہوں کیا؟ وہ سودہ ڈائن زید کو بھاگئی‘ اس نے میرا حق چھین لیا میرے خواب نوچ لیے۔‘‘

’’ارے عروہ ایسا کچھ نہیں ہوا جس طرح آپ سوچ رہی ہو۔‘‘ عمرانہ نے اٹھ کر سخت مشتعل ہوتی عروہ کو لپٹاتے ہوئے کہا۔

’’لو جی… ابھی آپ نے یہی کہا ہے اور اب مجھے بہلانے کے لیے جھوٹ بول رہی ہیں‘ بچہ سمجھا ہوا ہے مجھے لیکن میں سب جانتی ہوں۔‘‘ وہ ایک جھٹکے سے خود کو چھڑاتی ہوئی چیخ کر گویا ہوئی۔

’’آپ نے پوری بات سنی نہیں ہے پہلے میری بات سن لو۔‘‘

’’عمرانہ… ابھی بھی کچھ سننے سنانے کو باقی ہے؟ زید کو میں شروع سے عروہ کے ساتھ دیکھنے کے خواب دیکھتی آئی ہوں اور اب…‘‘ رضوانہ کے لہجے میں بھی تنفر و غصہ ابھر آیا تھا۔

’’آپی… وہ سب میرا کھیل تھا میں جانتی ہوں وہ لڑکی کتنی بھی کوشش کرلے مگر زید کی پرچھائی بھی نہیں پاسکے گی۔ زید میرا بیٹا ہے میری نگاہوں سے سب کو دیکھنے والا‘ میرے ذہن سے سب کو پرکھنے والا۔‘‘ وہ فخریہ انداز میں گردن اکڑا کر گویا ہوئی تھیں رضوانہ اور عروہ نے پہلے حیرانی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا پھر عروہ اس کے قریب آکر بولی۔

’’کیسا کھیل؟ ابھی آپ کہہ رہی تھیں انہوں نے تنہا رات گزاری اور اب کہہ رہی ہیں وہ سب جھوٹ تھا۔‘‘ عروہ کے انداز میں بے یقینی تھی۔

’’یہ بات سچ ہے وہ دونوں رات گھر میں تھے باقی سب لوگ مدثر کی خالہ کے گھر ان کی عیادت کو گئے ہوئے تھے موسم کی خرابی کے باعث ان سب کو وہاں رکنا پڑا تھا رات زید لائونج میں سویا تھا اور وہ لڑکی اپنے روم میں تھی۔‘‘ اپنے گھر میں وہ واویلا مچا کر آگئی تھیں جوش و جذبات میں وہ باتیں بھی وہاں بابنگ دہل کہہ آئی تھیں جو کسی طور مناسب نہیں تھیں، اب یہاں بہن و بھانجی کے بگڑتے تیوروں نے ان کو احساس دلایا کہ وہ اپنے بیٹے کے لیے بھی رسوائی کا سامان کررہی ہیں یہ سوچ کر مفاہمت پر اتر آئی تھیں۔

’’وہ لڑکی روم میں تھی تو زید کو لائونج میں سونے کی کیا ضرورت تھی۔‘‘

’’مما کی بات درست ہے اور ان کے درمیان کچھ نہیں تھا یہ آپ کس طرح سے کہہ سکتی ہیں؟‘‘ عروہ طنزیہ لہجے میں گویا ہوئی۔

’’زید کے کردار و نیت کی میں قسم کھا کر کہتی ہوں زید ان لوگوں میں سے نہیں ہے جو کسی لڑکی کی خاطر اپنا دین و ایمان خراب کرلیتے ہیں زید کا کردار کلیوں کی طرح شفاف و چاند کی طرح روشن ہے۔‘‘

’’پھر آپ کی کچھ لمحوں قبل کی گئی باتوں کا مقصد کیا تھا؟‘‘

’’عروہ میرا مقصد ان لوگوں کو پریشرائز کرنا تھا تاکہ آئندہ کبھی ایسا کرنے کا خواب بھی نہ دیکھیں میرا زید باحمیت و عزت دار بچہ ہے۔‘‘ ان کا موڈ آف ہوگیا تھا وہ پرس اٹھا کر اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔

’’ارے تم کہاں جا رہی ہو؟‘‘ رضوانہ اس کے قریب آئیں۔

’’اپنے گھر جا رہی ہوں اور کہاں جائوں گی۔‘‘ اس کا موڈ بری طرح آف تھا۔

’’ابھی آئی ہو اور ابھی جا رہی ہو کیوں؟‘‘ رضوانہ مسکرا کر عمرانہ کا ہاتھ پکڑ کر ملتجی انداز میں گویا ہوئیں ساتھ ہی عروہ کو بھی اشارہ کیا کہ عمرانہ روٹھ کر جا رہی ہے اس کو روکے۔

’’یہ آپ مجھ سے پوچھ رہی ہیں کیا ہوا؟‘‘ وہ ہاتھ چھڑا کر غصے سے بولیں۔

’’میں نے آپ کو اپنا سمجھ کر سب کچھ بتایا اور آپ نے زید کو ہی برا سمجھ لیا یہ آپ نے اپنے ہونے کا ثبوت دیا ہے ایسے ہوتے ہیں اپنے۔‘‘

’’اوہ مائی سوئٹ انٹ ہم نے زید کو برا تو نہیں کہا اور کہہ بھی نہیں سکتی آپ جانتی ہیں میں زید کو کتنا پسند کرتی ہوں۔‘‘ عروہ کہتی ہوئی اس سے لپٹ گئی۔

’’ٹھیک کہہ رہی ہے عروہ ہم سب زید کو بے حد پسند کرتے ہیں تم نے جو کہا وہ سن کر شاک تو لگنا تھا بات ہی ایسی تھی کہ میں سمجھ رہی تھی عروہ کا پتا کٹ گیا اس کی جگہ وہ لڑکی سودہ لے چکی ہے۔‘‘

’’عروہ کی جگہ سودہ کبھی نہیں لے سکتی خوامخواہ وہ کچھ بھی کرے۔‘‘

’’ایم سوری آنٹی آپ ہرٹ ہوئیں۔‘‘ عروہ اس کا گال چومتی بولی۔

’’ہرٹ ہونے والی بات تو ہے چلو دفع کرو جو ہوا سو ہوا مگر اب زید کی کڑی حفاظت کرنا ہوگی، صوفیہ نے شروع سے تمہیں اذیت پہنچائی ہے اور اب تو وہ ایسی حرکتوں سے اپنا ہدف حاصل کرنا چاہے گی۔‘‘ رضوانہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے قریب بٹھاتے ہوئے کہہ رہی تھیں۔

’’اب ایسا ممکن نہیں ہے آپی مدثر کی طرح زید کو وہ مجھ سے دور نہیں کرسکتی۔‘‘

/…ء…/

’’مور ناچتے ہوئے بھی روتا ہے اور ہنس مرتے ہوئے بھی گاتا ہے یہ زندگی کی حقیقت ہے دکھ والی رات نیند نہیں آتی اور خوشی والی رات کون سوتا ہے آگہی کا ایک لمحہ بد مستی کی ساری زیست سے بہتر ہے۔‘‘

’’انشراح کیا ہوگیا ہے تمہیں بالکل چپ رہنے لگی ہو۔‘‘ وہ پریڈ اٹینڈ کرنے کے بعد لان میں بیٹھی تھی معا عاکفہ نے استفسار کیا۔

’’کچھ بھی نہیں میں ٹھیک ہوں۔‘‘ وہ دھیمے سے مسکرائی۔

’’خاک ٹھیک ہو ایسا لگتا ہے جیسے بولنا ہی بھول گئی ہو کیا اس حادثے کا تم پر گہرا اثر ہوا ہے ڈر گئی ہو تم جو بالکل ہی چپ ہوگئی ہو۔‘‘

’’بول تو رہی ہوں تمہیں کیوں فیل ہورہا ہے چپ ہوگئی ہوں۔‘‘

’’بابا تمہیں بہت یاد کررہے ہیں اسپتال بھی تمہاری نانو کی وجہ سے ملنے نہیں آئے مما پھر بھی کئی بار تمہیں دیکھنے آئی تھیں بابا گھر پر دعا کرتے رہے تھے۔‘‘

’’ہاں انکل آنٹی بہت گریٹ ہیں میں ان سے ملنا چاہتی ہوں انکل کو دیکھ کر فیل ہوا میں کتنی بدنصیب ہوں جو باپ کی شفقت سے محروم ہوں اور آنٹی کی محبت نے احساس دلایا کہ ماں کیسی ہوتی ہے۔‘‘ اس کے لہجے میں ایک عجیب سی کیفیت تھی روئی روئی کھوئی کھوئی وہ پہلی والی انشراح نہیں رہی تھی بہت بدلی ہوئی اداس ورنجیدہ ہوگئی تھی۔ اس جیسی شوخ و چنچل لڑکی کا اس طرح چپ ہوجانا فکر انگیز تھا۔

’’یہ درست بات ہے مما اور بابا تم کو میری طرح ہی چاہتے ہیں لیکن نانو کے غصے کی وجہ سے وہ تم سے نہیں مل رہے۔‘‘ عاکفہ نے اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر تسلی دی‘ وہ سر جھٹک کر بولی۔

’’میں ان سے ملنے ضرور آئوں گی نانی کی ہر بات ماننا ضروری نہیں۔‘‘

’’ایسا بھول کر بھی مت کرنا انشی۔ تمہاری نانی ایک ہنگامہ کھڑا کردیں گی اور بابا یہ کبھی پسند نہیں کریں گے کہ تم نانی کی اجازت کے بغیر ملنے آئو۔‘‘

’’اچھا نہیں آئوں گی۔‘‘ اس نے گہرا سانس بھرا۔

’’تم برا مان رہی ہو میری بات کا انشی۔‘‘

’’برا کیوں مانوں گی۔‘‘ وہ چہرے پر آتی لٹ کان کے پیچھے کرتی ہوئی بولی۔

’’تم اس طرح ری ایکٹ کیوں کررہی ہو، کوئی نہ کوئی پرابلم ہے جو تم مجھ سے شیئر کرنا نہیں چاہتی… بتائو نا پلیز کیا ہوا ہے؟‘‘ عاکفہ سخت مضطرب ہوگئی تھی اس کی عجیب سی حالت اسے پریشان کررہی تھی۔

’’کچھ نہیں ہوا صرف میں مر گئی ہوں، خود داری قتل ہوگئی ہے اور خود داری کا مر جانا بھی تو خود کو مر جانا ہوتا ہے۔‘‘ وہ رو پڑی۔

’’انشراح میری بہن تم ان باتوں کو بھول جائو تو بہتر ہے نانی نے نوفل بھائی سے جو چارجز وصول کیے ہیں تمہارے اسپتال میں ایڈمٹ ہونے کے وہ کوئی غلط طرز عمل نہیں تھا تم کیوں گلٹی فیل کررہی ہو؟‘‘

’’ان پر ایسے چارجز کا کیا فرق پڑتا ہے لیکن میری سلف رسپیکٹ کا مرڈر ہوگیا ہے جس شخص کا احسان میں نے اس وقت بھی نہیں لیا تھا جب کڈنیب ہورہی تھی لیکن نانی نے اس کا احسان لے کر مجھے میری نگاہوں میں ہی گرا دیا‘ مجھے خود سے نفرت ہوگئی ہے میں نے آئنیہ دیکھنا چھوڑ دیا ہے مجھے خود سے وحشت ہونے لگی ہے۔‘‘ وہ بے ساختہ رونے لگی اور عاکفہ حیرت سے سوچ رہی تھی اس جیسی پتھر دل لڑکی بھی کبھی رو سکتی ہے وہ بے حد مضبوط و بہادر لڑکی تھی اس طرف آتے بابرا اور نوفل بھی ٹھٹک کر رک گئے تھے۔

/…ء…/ 

اچھی آپا ایک بار پھر اپنا مطالبہ دہرانے آئی تھیں اس بار ان کے ساتھ اکلوتی بیٹی چندا بھی تھی وہ ان دنوں میکے آئی ہوئی تھی ماں کے ساتھ بھائی کے لیے دلہن دیکھنے کی ذمہ داری پیارے میاں نے ہی سونپی تھی اور وہ سودہ کو دیکھ کر اس پر بری طرح فدا ہوگئی تھی اور اسے بھابی بنانے کا تہیہ کر بیٹھی تھی۔

’’ممی کہاں ہاتھ مارا ہے آپ نے قسم سے وہ تو چہرے سے ہی بھولی و معصوم لگ رہی ہے آج کل کی چنڈال لڑکیوں کی تیزی و طراری کو چھوکر بھی نہیں گزری۔‘‘ وہ لنچ سے فارغ ہوکر لائونج میں آگئی تھیں تنہائی ملتے ہی وہ ماں کے کان میں سرگوشی کرنے لگی۔

’’جبھی تو میں نے اسے پیارے میاں کے لیے پسند کیا ہے کہ مارو بھی تو آواز نہ نکلے پھر اچھے میاں کے لچھن سے تم بھی خوب واقف ہو گرم مزاج لڑکی کا اس کے ساتھ گزارا بھی نہیں ہے۔‘‘ وہ دیدے مٹکا کر فخریہ لہجے میں بولیں۔

’’میں کہتی ہوں آج خواہ دنیا ادھر کی ادھر ہوجائے مگر آپ ہاں کرائے بغیر نہ اٹھنا ایسی بھولی و بے ضرر لڑکیوں کا کال ہے دنیا میں لوگ دیکھتے ہی قبضہ کرنا چاہتے ہیں کہیں ایسا نہ ہو ہم شکل دیکھتے رہ جائیں اور سودہ کسی اور کی ہوجائے پھر بھیا کے لیے ایسی لڑکی کہاں ملے گی۔‘‘

’’ارے آندھی لگی ہے ایسی ہی کوئی لے جائے گا سوا سولہ آنے سگی پھوپی ہو سودہ کی میرا حق بنتا ہے پہلے اس کو بہو بنانے کا۔‘‘ وہ گردن اکڑا کر ہاتھ لہرا کر گویا ہوئیں۔

’’بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں مما آپ اسی طرح دھونس سے بات کرنا اور فکر مت کرنا میں اپنی انگوٹھی اتار کر اس کی انگلی میں ڈال دوں گی۔‘‘ وہ انگلیوں میں پہنی انگوٹھیوں کی طرف اشارہ کرکے بولی۔ زمرد بیگم اور صوفیہ وہاں آکر بیٹھیں تو انہوں نے پھر اپنا مدعا بیان کیا۔

’’اچھی آپا پھر آپ وہ ہی بات دہرا رہی ہیں میں نے آپ سے کہا تھا میں سودہ کی شادی پیارے میاں سے کبھی نہیں کروں گی خواہ وہ دنیا میں باقی رہنے والا آخری مرد ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ صوفیہ نے کلس کر کہا۔

’’ایسی بھی کیا خرابی ہے میرے بھائی میں جو آپ ایسے کہہ رہی ہیں؟‘‘ چندا نے ان کے صاف انکار پر تلملا کر کہا۔

’’میں نے یہ نہیں کہا تمہارے بھائی میں کوئی خرابی ہے۔‘‘

’’پھر انکار کی کوئی وجہ بھی تو ہوگی نہ تمہارے پاس وہ بتائو۔‘‘

’’سودہ میری بیٹی ہے اور اس کے باپ کے انتقال کے بعد میرا حق بنتا ہے اس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اور وہ میں کررہی ہوں۔‘‘

’’وہ تمہاری بیٹی ہے اور میرا خون ہے اس پر میرا حق بھی اتنا ہی ہے جتنا تمہارا ہے اس کے فیصلے کرنے کا حق صرف تمہیں ہی نہیں میرا بھی ہے۔‘‘ وہ ان کو گھورتے ہوئے سخت لہجے میں گویا ہوئیں۔

’’بچوں کے مستقبل کا فیصلہ اس طرح ضد و بحث سے نہیں ہوتا اس معاملے میں بڑوں کے علاوہ بچوں کی مرضی بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے پہلے بچوں سے ان کی رائے لو پسند معلوم کرو پھر اس کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے۔‘‘

’’ارے بھابی قسم سے میرا بیٹا تو اتنا سیدھا و فرماں بردار ہے کہ کوئی حد نہیں… جس دن سے میں نے سودہ کو بہو بنانے کی خواہش ظاہر کی ہے اس دن سے میرے بچے نے بن دیکھے سودہ کو اپنے دل کا مکین بنالیا ہے۔‘‘

’’جی ہاں آنٹی پیارے بھیا کی آرزو ہے چٹ منگنی پٹ بیاہ ہوجائے بس میں تو سوچ رہی ہوں بھیا نے سودہ بھابی کو ابھی دیکھا نہیں ہے تو یہ حال ہے جب وہ ان کی خوب صورتی اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے پھر کیا ہوگا۔‘‘ چندا ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے چہک کر بولی۔

یہ ساری آوازیں اندر آتے ہوئے زید کی سماعتیں بھی سن رہی تھیں وہ سیدھا کچن کی طرف بڑھ گیا جہاں بوا سودہ کے ساتھ کچن صاف کرا رہی تھیں۔

’’بوا۔‘‘ وہ پکارتا ہوا اندر آگیا تھا نگاہیں سیدھی سودہ سے ٹکرائی تھیں جو ایپرن باندھے برتنوں کو کپڑے سے خشک کررہی تھی ڈھکا چھپا رہنے والا وجود دوپٹے سے بے نیاز تھا لائٹ کلر کی لانگ شرٹ و ٹرائوزر میں اس کا نازک سراپا نمایاں تھا وہ جو لائونج سے آتی بلند آوازوں کو سن کر گم صم تھی زید کی غیر متوقع آمد پر وہ لمحے بھر کو سٹپٹا کر رہ گئی تھی۔

اس دن عمرانہ کے ہنگامے کے بعد سے وہ غیر دانستہ طور پر بھی اس کے سامنے نہیں گئی تھی اور یقینا دوسری طرف سے بھی یہی گریز اپنایا گیا جو ایک بار بھی ٹکرائو نہیں ہوا تھا۔

’’ارے اس وقت آئے ہو بیٹا، خیریت تو ہے نا؟‘‘ بوا کائونٹر سے ہٹ کر اس کے درمیان آئیں تو سودہ ہوش میں آتے ہوئے سرعت سے فریج کے اس طرف چلی گئی کہ اپنی بے پردگی کے گویا احساس سے اس پر گھڑوں پانی ڈال دیا گیا ہو ہاتھ پائوں شل ہونے لگے تھے۔

’’جی خیریت ہے مما نے کال کی تھی اس لیے آیا ہوں اس ٹائم۔‘‘ اس کو ایک لمحہ لگا تھا حواس میں واپس آنے کے لیے کہ من کی دنیا بھی عجیب ہوتی ہے جس رستے پر چلنا جرم ہوتا ہے دل اس پر ہی چلنے کی ضد کرتا ہے۔

’’لائونج میں کون آیا ہوا ہے؟‘‘ اس کے لہجے میں مخصوص بے نیازی در آئی تھی۔

’’سودہ بیٹی کی پھوپو ہیں ہر دو تین ہفتے کے بعد آکر ضد کرنے لگتی ہیں کہ سودہ کو بہو بنائوں گی رشتہ قبول کرو اب بھی یونہی چیخ رہی ہیں۔‘‘ بوا نے حسب عادت پوری بات جلے کٹے لہجے میں سنائی۔

’’وہ جو بھی ضد کریں ان کی مرضی ہے لیکن بوا ان کو جاکر سمجھا دیں آہستہ انداز میں بات کریں اللہ کے فضل سے یہاں سب کی سماعتین تیز ہیں کوئی بھی کم نہیں سنتا۔‘‘ وہ کہہ کر واپسی کے لیے مڑا۔

’’ٹھیک ہے میں سمجھاتی۔‘‘ بوا نے کہا۔

/…ء…/

پارٹی عروج پر تھی ایک رنگ و بو کا طوفان تھا جو ہر سمت پھیلا ہوا تھا اور ہر کوئی اس طوفان بدتمیزی میں ڈوبا ہوا دکھائی دے رہا تھا اس سارے ماحول سے جو بے گانہ لگ رہا تھا وہ لاریب تھا۔ وہ جو ایسی پارٹنر کی جان تھا۔ کچھ دنوں سے وہ ایسی محفلوں سے جان چھڑا رہا تھا بھاگ رہا تھا اسے کچھ بھی مزہ نہیں دے رہا تھا دل میں ایک آگ لگی ہوئی تھی ایک ماہ کے لیے وہ شہر سے باہر فرینڈز کے ساتھ گیا ہوا تھا وہاں جاکر بھی اس کا رابطہ جہاں آرا بیگم سے رہا تھا وہ انشراح کے بارے میں ان سے پوچھتا رہا تھا۔ پھر پکنک کے دوران موبائل اس کی جیب سے نکل کر بلندی سے پانی میں گر گیا تھا موبائل نیا خرید لیا تھا لیکن وہ جہاں آرا کے نمبر سے محروم ہوگیا تھا اور اس محرومی میں وہ بے سکون ہوکر رہ گیا تھا نہ کسی گرل فرینڈز کی سنگت میں اسے سکون مل رہا تھا نہ پارٹی اور گھر میں۔ اب بھی کلب آگیا تھا مگر اس کا دل نہیں لگ رہا تھا کئی لڑکیاں اس کے پیچھے وہاں آئی تھیں مگر خلاف عادت اس کی طرف سے نو لفٹ پا کر چلی گئی تھیں وہ لان میں رکھی کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ گیا… ارد گرد پودوں پر لائٹنگ کی گئی تھی جو لان کی تاریکی کو دلکش روپ دے رہی تھی وہ ہاتھ میں پکڑے گلاس سے چھوٹے چھوٹے سپ لے رہا تھا معاً اس کا کلوز فرینڈ اشعر وہاں اس کے قریب بیٹھتے ذو معنی لہجے میں گویا ہوا۔

’’کوئی کبوتری دانہ چگے بنا ہی اڑ گئی ہے کیا؟‘‘

’’اوہ اشعر مائی لولی فرینڈ تم کو کیسے معلوم میرے دل کی کیا حالت ہے۔‘‘ وہ اسے دیکھ کر سنجیدگی سے گویا ہوا۔

’’تمہارا چہرہ بتا رہا ہے تمہارے دل کی حالت‘ کیا ہوا ہے؟‘‘

’’ایک چڑیا ہاتھ آئی بھی نہیں اور پھر سے اڑ گئی… جب سے دل زخمی پرندہ بنا ہوا ہے نہ اس کروٹ چین نہ اس کروٹ سکون، بس ہر طرف بے قراری ہی بے قراری ہے۔‘‘ وہ آہ بھرتا ہوا بولا۔

’’تمہاری حالت سے لگ رہا ہے کوئی خاص چڑیا ہے جو ہاتھ سے نکل کر بھی دل میں پھڑپھڑا رہی ہے۔‘‘ وہ ہنستا ہوا کہہ رہا تھا۔

’’ہاں یار وہ چہرہ ہی ایسا ہے جو ایک بار دیکھ لے بار بار دیکھنے کی تمنا کرے۔‘‘

’’امیزنگ تمہارے ہاتھ سے کبھی چکنی مچھلی نہیں نکلتی اور چڑیا نکل گئی؟‘‘

’’وہ بھی نہیں نکلتی لیکن درمیان میں نوفل آگیا اور اس کو گویا الہام ہوتے ہیں سمجھ گیا میری نیت کی خرابی اور میں نے لاکھ سمجھانا چاہا مگر وہ کہاں ماننے والا تھا مجھے وارن کردیا کہ اس کے آس پاس بھی نظر نہ آئوں اور اس کو جھانسہ دینے کے لیے مجھے بھوربن جانا پڑا تھا۔‘‘ وہ گلاس خالی کرکے ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولا۔

’’ارے نوفل اس لڑکی میں انٹرسٹڈ ہے تو تم کو اس لڑکی سے میلوں دور رہنا چاہیے رئیلی نوفل جیسے بندے سے میں بہت دور رہتا ہوں۔‘‘ اشعر نوفل کے نام پر سراسیمہ ہوگیا تھا۔

’’نو… نیور یار نوفل کسی لڑکی کے لیے بنا ہی نہیں۔‘‘

’’پھر اس لڑکی کی اتنی کیئر کرنے کا مطلب؟‘‘

’’وہ لڑکی اس کے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھتی ہے جونیئر ہے اس کی۔‘‘

’’ہاں تو پھر کیا مسئلہ ہے کسی دن بہانے سے یونیورسٹی پہنچ جائو۔‘‘

/…ء…/

عروہ کی کوششوں کے باوجود زید گھر نہیں آیا وہ کاروبار میں مصروف تھا اس کا حل رضوانہ نے یہ نکالا کے عمرانہ کے سنگ عروہ کو گھر بھیج دیا اور مائدہ کو اپنے پاس روک لیا تھا مائدہ سودہ کے خیال سے یہاں زیادہ رکتی نہیں تھی لیکن جب سے عروبہ نے موبائل کی رنگین دنیا کی سیریں کرانا شروع کی تھیں۔ وہ تیزی سے بدلنے لگی تھی سودہ کے ساتھ سے زیادہ اسے عروبہ کی دوستی بھانے لگی پھر یہاں تو آزادی ہی آزادی تھی رضوانہ خالہ کسی بات پر کوئی اعتراض نہیں کرتی تھیں مائدہ کی دوستوں کی لسٹ میں لڑکیاں کم لڑکے زیادہ تھے جن سے وہ کھلم کھلا ملتی تھی ان کو گھر بھی بلاتی تھی اور ان کے گھر بھی جاتی تھی اور یہی نہیں بلا روک ٹوک وہ بوائے فرینڈز سے باہر بھی ملتی تھی۔ مائدہ کو یہ سب بہت پُرکشش و دلکش لگ رہا تھا۔

شروع شروع میں وہ اس کے فرینڈز سے بات کرتے ہوئے بھی گھبراتی تھی اور بہت جلد وہ اس گھبراہٹ و ہچکچاہٹ کے دریا بھی عبور کر گئی تھی عروبہ نے اس کی دوستی اپنے فرینڈ شرجیل سے کرا دی تھی جس کی کشش میں وہ بھاگی بھاگی وہاں پہنچ جاتی تھی۔

/…ء…/

حمرہ اور یوسف ٹور سے واپس آگئے تھے اور ان کے آنے سے گھر میں چھاپا جمود رونق میں بدل گیا تھا ڈنر سب نے ساتھ کیا اور ڈنر کے بعد کافی کا دور چلا پھر اس دوران باتوں باتوں میں اچانک ہی یوسف صاحب کو یاد آیا تو وہ چونک کر نوفل سے مخاطب ہوئے۔

’’نوفل اس لڑکی کا کیا ہوا جس کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا آئی مین وہ کیسی ہیں انجرڈ بہت زیادہ ہوگئی تھیں وہ۔‘‘

’’جی ٹھیک ہے وہ۔‘‘ اس نے آہستگی سے کہا۔

’’اب آپ نے ڈرنک پی کر ڈرائیو کی تو میں کوئی رعایت نہیں کروں گا۔ خود آپ کو پولیس کے حوالے کرکے آئوں گا۔‘‘ ان کا لہجہ سخت تھا۔ وہ لاریب کی طرف دیکھتے ہوئے تنبیہ کرتے لہجے میں بولے۔

’’جی… جی انکل آپ کو کوئی کمپلین نہیں ملے گی۔‘‘ اس نے سراسیمہ انداز میں نوفل کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔

’’بھائی صاحب یہ آپ کیسی باتیں کررہے ہیں ہم جس سوسائٹی میں موو کرتے ہیں یہاں پابندیوں کی زنجیریں پیروں میں نہیں ڈالی جاتی۔‘‘ سامعہ نے خشک لہجے میں تیوریوں پر بل ڈال کر کہا۔

’’یہ اس خاندان کا دستور نہیں ہے کہ مادر پدر آزاد ہوکر رہا جائے لاریب کی تمام ایکٹیوییز کی خبر ملتی رہتی ہے سب معلوم ہے مجھے اگر میں خاموش ہوں تو اس کا یہ مقصد نہیں کہ میں بے خبر ہوں۔‘‘

’’اس میں اتنا آگ بگولہ ہونے کی بات نہیں ہے بھائی صاحب ابھی لاریب کم عمر ہے کل کو جب باشعور ہوجائے گا پھر یہ بھی آپ کی طرح ہی باتیں کرے گا ہر کام اپنی عمر کے حساب سے بھی اچھا لگتا ہے۔‘‘

’’اس ٹاپک کو یہیں کلوز کردیں تو بہتر ہے بلاوجہ بحث کرنے سے بدمزگی پیدا ہوتی ہے ایک عرصے بعد ہم ساتھ بیٹھے ہیں۔‘‘ سامعہ کے لہجے سے نکلنے والے شراروں نے حمرہ کے چہرے کو سرخی عطا کی اور قبل اس کے ان میں آپس میں تلخی بڑھتی زرقا نے درمیان میں بول کر بات رفع دفع کرنا چاہی۔

’’سامعہ تمہیں بھائی صاحب کی بات خاموشی سے سننا چاہیے تھی چلو ایکسکیوز کرو بھائی صاحب سے۔‘‘ اذہان کو بھی غصہ آگیا۔

’’ارے نو… نو کسی معافی تلافی کی ضرورت نہیں میں اظہار رائے کو پسند کرتا ہوں سامعہ کی جذباتی کیفیت کو سمجھتا ہوں ہر ماں کی سوچ اولاد کے مطابق ایسی ہی جارحانہ و شدت پسندی لیے ہوتی ہے۔‘‘ انہوں نے نرم لہجے میں سامعہ کی جانب دیکھتے ہوئے بات جاری رکھی۔

’’لیکن اولاد کو صرف اس کی منشاء پر چھوڑنا عقل مندی نہیں… اس پر نگاہ بھی رکھنی ضروری ہے دریا پر بند باڑ آنے سے قبل باندھنا تباہی سے محفوظ رکھتا ہے۔‘‘ وہ کہہ کر اٹھ گئے تھے نوفل بھی ان کے ساتھ باہر آگیا تھا۔

’’ہاں بیٹا کوئی پرابلم تو فیس نہیں کرنی پڑی تھی یورپ جانے کے بعد بزی اتنا رہا کہ ٹائم ہی نہیں مل پایا اس لڑکی کے بارے میں پوچھنے کا۔‘‘

’’ایزی طریقے سے معاملہ سولو ہوگیا تھا کوئی گڑبڑ نہیں ہوئی۔‘‘ اس نے ان کے ساتھ چلتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔

’’گڈ زرقا بتا رہی تھیں تنویر بھائی خاصا اصرار کررہے ہیں آپ کو اسلام آباد بلانے کے لیے اور آپ راضی نہیں ہیں وہاں آپ کو جانا چاہیے۔‘‘ وہ بے تکلفی سے اس کے شانے پر ہاتھ رکھے کہہ رہے تھے۔

’’میں نے دل کو بے حد سمجھانا چاہا لیکن وہاں جانے کے لیے میرے اندر ایک انجانی کیفیت ابھر آتی ہے ایسا لگتا ہے کوئی مجھے کانٹوں پر گھسیٹ رہا ہے کسی خلا میں گرتا ہی چلا جاتا ہوں۔‘‘ یوسف صاحب نے چونک کر اس کی طرف دیکھا… اس کے وجیہہ چہرے پر ایک اذیت ووحشت تھی عجب سراسمیگی کا انداز تھا۔

’’یہ کیسا ڈپریشن ہے؟‘‘ انہوں نے اسے گلے لگا لیا۔

’’کیوں فیل کرتے ہیں آپ وہ کچھ جس کی آپ کو ضرورت ہی نہیں ہے کانچ کے بنے رشتے جب ٹوٹ جاتے ہیں پھر کبھی جڑتے نہیں۔‘‘

’’اس کانچ کی کرچیاں، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے روح میں پیوست ہوجاتی ہیں۔‘‘

’’نکال پھینکیں ان کرچیوں کو مرد کمزور نہیں ہوتے۔‘‘ وہ ان سے علیحدہ ہوتے وہ شفقت سے گویا ہوئے۔

’’مرد کمزور ہوتے ہیں انکل… کیا مرد انسان نہیں ہوتے ہیں کیا مردوں کے سینے میں دل نہیں دھڑکتا، کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جو مرد کو بھی کمزور کردیتے ہیں۔‘‘ وہ بے ربط ہوکر رہ گیا۔

/…ء…/

عروہ کو عمرانہ کے ساتھ کئی دن ہوگئے تھے اور اس دوران وہ زید کو ذرا بھی اپنی جانب راغب نہیں کرسکی تھی اس کی وہی روٹین تھی رات دیر سے آنا صبح جلدی جانا لنچ و ڈنر باہر ہی کرتا تھا۔ گھر کے لوگ سحر خیزی کے عادی تھے۔ وہ ناشتے پر گھر میں ہوتا تھا اور وہ کوشش کے باوجود صبح اٹھ نہ سکی تھی ناشتہ عمرانہ کے ساتھ اس کے روم میں ہی کرتی تھی اور جب سے وہ آئی تھی عمرانہ نے گھر والوں کے ساتھ کھانا پینا چھوڑ دیا تھا ناشتے کی طرح لنچ اور ڈنر کمرے میں عروہ کے ساتھ ہی کرتی تھیں اس واقعے کے بعد وہ گھر والوں سے کھنچی کھنچی رہتی تھیں بنارسی بوا دوپہر کا کھانا ان کے کمرے میں لگا آتی تھیں۔ عروہ کا موڈ آج بری طرح آف تھا اس نے کھانے سے انکار کردیا تھا۔

’’پلیز آنٹی میں نے کہا نہ میں کھانا نہیں کھائوں گی آپ مجھے گھر مما کے پاس چھوڑ کر آئیں ابھی اور اسی وقت۔‘‘ وہ پائوں پٹخ کر بولی۔

’’ارے کیا ہوا، اتنا غصہ کیوں آرہا ہے عروہ؟‘‘ وہ حیرانی سے گویا ہوئیں۔

’’آنٹی آپ کو زید کے ایٹی ٹیوڈ دکھائی نہیں دے رہے ایک دن بھی اس نے مجھ سے ڈھنگ سے بات نہیں کی… وہ مجھے کوئی اہمیت نہیں دیتا ہے پھر میں یہاں رک کر کیاں کروں؟‘‘ وہ شدید غصے میں تھی۔

’’اف… اتنا غصہ میری جان زید کچھ عرصے سے بہت بزی ہے۔‘‘

’’پلیز آپ اس کی سائیڈ مت لیں اس نے مجھے ہرٹ کیا ہے کوئی گھر آئے گیسٹ کے ساتھ اس طرح بے رخی سے پیش آتا ہے جس طرح وہ۔‘‘

’’یہاں میرے پاس وہ آتے ہیں آپ سے ہیلو ہائے کرتے ہیں پھر میں آپ کو لے کر ڈیلی شاپنگ، پارک ریسٹورنٹ کہیں ناں کہیں جاتی ہوں۔‘‘ اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے قریب بٹھاتے ہوئے کہا۔

’’مائنڈ اٹ۔ میں یہاں آپ کے ساتھ ان جگہوں پر جانے کے لیے نہیں آئی ہوں اور نہ ہی یہ خواہش ہے کہ زید رشتے کو ہیلو ہائے تک محدود رکھے۔‘‘

’’رشتہ محض ہیلو ہائے تک محدود نہیں رہے گا کاروباری برڈن سے نکلے گا تو خود ہی تمہاری طرف راغب ہوجائے گا یہ میرا وعدہ ہے تم سے چلو اب کھانا کھالو پلیز۔‘‘ وہ مسکرا کر گویا ہوئیں۔

’’اس شرط پر کہ آپ زید کو آج مجھے ڈنر پر لے جانے پر راضی کریں۔‘‘

/…ء…/

روشن نے نامعلوم کس انداز سے جہاں آرا کو راضی کرلیا تھا کہ وہ انشراح کو عاکفہ اور اس فیملی سے ملنے سے نہیں روکیں گی وہ راضی ہوگئی تھیں روشن کے سمجھانے پر ہی اس کے اور نانو کے درمیان تنائو ختم ہوا تھا۔ لیکن بالی جانتی تھی جہاں آرا کوئی بھی کام گھاٹے کا نہیں کرتی تھیں وہ کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر چلتی تھیں اور اس کو اجازت دے کر وہ کیا بدلے میں مانگنے والی تھیں یہ معلوم کرنا ناممکن تھا۔

’’نانی جان میں جارہی ہوں عاکفہ آگئی ہے۔‘‘ انشراح بہت عجلت میں باہر آئی تھی گرے اور نیوی بلو کنٹراسٹ فینسی ٹخنوں کو چھوتی فراک و چوڑی دار پائجامے و دوپٹے میں اس کی روپ نکھرا نکھرا تھا لائٹ میک اور نازک میچنگ جیولری اس کے حسن کو دو آتشہ کررہی تھی پشت پر پھیلے گولڈن برائون بالوں نے اس کے حسن کو مکمل کردیا تھا اس کے چہرے پر ایک عرصے بعد اطمینان و خوشی پھیلی تھی کیونکہ آج ہی وہ پلستر کے بوجھ و تکلیف سے آزاد ہوئی تھی۔ ہاتھ کو پہلے کی طرح حرکت کرتا دیکھ کر اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔

’’چشم بدور انشی بہت کیوٹ لگ رہی ہو اللہ نظر بد سے بچائے‘ آمین۔‘‘ بالی نے دونوں ہاتھوں سے بلائیں لیتے ہوئے محبت سے کہا۔

’’آج میں بہت خوش ہوں بائے بھائی میرا ہاتھ موو کررہا ہے دونوں ہاتھ یوز کرسکتی ہوں دیکھو دیکھو کوئی فرق نہیں۔‘‘ وہ دونوں ہاتھوں کو پرندوں کے اسٹائل میں لہراتے ہوئے گویا ہوئی۔

’’میں تمہیں سمجھا رہی تھی نا کہ تم بالکل ٹھیک ہوجائو گی اس لڑکے نوفل نے تمہارا علاج باہر کے ڈاکٹروں سے کرایا ہے۔‘‘ نانی نے بھی مسکراتے ہوئے کہا۔

’’نانو پلیز آپ بار بار کیوں نوفل کا نام لے کر مجھے گلٹ کرتی ہیں کیوں آپ مجھے یہ بھولنے نہیں دیتی کہ اس شخص کے زیر احسان ہوں اس نے پیسہ خرچ کیا ہے مجھ پر۔‘‘

’’اچھا اچھا بابا معاف کردو اب کبھی نام نہیں لوں گی اس کا تم جائو باہر عاکفہ انتظار کررہی ہے دیر ہورہی ہے تمہیں۔‘‘ جہاں آرا نے بدمزگی سے بچنے کے لیے مسکرا کر نرم لہجے میں کہا۔

’’اوہ… لولی بہت اچھی لگ رہی ہو۔‘‘ عاکفہ نے کار اسٹارٹ کرتے ہوئے ستائشی لہجے میں کہا۔

’’تم سے کم ہی لگ رہی ہوں۔‘‘ اس نے چند لمحوں قبل خراب ہونے والے موڈ کو مسکراہٹ میں بدلتے ہوئے کہا۔

’’میں تم سے پیاری کبھی لگ ہی نہیں سکتی… تم میرا دل نہ رکھو۔‘‘ عاکفہ کار ڈرائیو کرتی کہہ رہی تھی اس کا لہجہ محبت سے لبریز تھا۔

باٹل گرین اور پیچ کلر کی لانگ شرٹ و پائجامہ کا سوٹ تھا لیکن آستینوں کو کپڑے سے کورڈ کیا گیا تھا جو پورے بازوئوں کو انگلیوں تک ڈھانپے ہوئے تھیں سر کے گرد اسکارف باندھا تھا جس سے سر کا ایک بال بھی دکھائی نہ دیتا تھا چہرہ ہر قسم کے میک اپ سے عاری تھا اور اس سادگی میں باوقار سا حسن تھا۔

’’لگ رہی ہوں نہ اگلی گرل؟‘‘ وہ اس کے جائزے پر مسکرا کر کہنے لگی انشراح کسی عجیب سے احساس کے تحت کچھ کہہ نہیں سکی۔

اس کی نگاہیں سلوز کے باریک کپڑے سے دکھائی دیتے عریاں بازوئوں پر تھیں جو جھلملاتے نیوی بلو سوٹ میں ایسے ہی چمک رہے تھے جیسے نیلے گگن پر ستارے جگمگارے رہے ہوں پھر نامعلوم کس احساس کے تحت اس نے سرمئی دوپٹے کو سینے پر اس انداز سے پھیلایا تھا کہ دونوں بازوئوں تک پھیلتا چلا گیا تھا اور بکھرے بالوں کو سمیٹ کر جوڑا بنایا تھا۔

/…ء…/

بابر کا بھائی امریکا سے شادی کرکے آیا تھا بابر کے والد نے اس کے بھائی کے ولیمے کی تقریب رکھی تھی اس کو بے حد اصرار کرکے بلایا تھا اسپتال میں جس طرح سے بابر نے خیال رکھا تھا اگر وہ احسان فراموش ہوتی تو ہرگز نہیں آتی لیکن وہ ایسی نہ تھی وہ عاکفہ کے ساتھ چلی آئی تھی۔ سردی بہت شدید تھی لیکن ہال میں ہیٹر آن ہونے کی وجہ سے ماحول میں خوشگوار حدت پھیلی ہوئی تھی بابر کی فیملی ملک کی اعلیٰ فیملیز میں شمار ہوتی تھی مہمانوں کی کثیر تعداد وہاں موجود تھی ملکی و غیر ملکی لوگ موجود تھے ان لوگوں کو وہاں بہت اچھے طریقے سے ویلکم کیا گیا تھا۔

’’یہ چیٹنگ ہے میں نے آپ دونوں کی فیملیز کو بھی انوائٹ کیا تھا اور آپ لوگ تنہا آگئی ہیں۔‘‘ ویٹر سے سوفٹ ڈرنک کے گلاس لے کر ان کو سرو کرتا ہوا گویا ہوا تھا انشراح خاموش رہی تھی جبکہ عاکفہ نے کہا۔

’’انشراح کی نانو نے معذرت کرلی ہے اور میرے مما و بابا ایک پارٹی میں انوائٹ ہیں اس لیے انہوں نے معذرت کی ہے۔‘‘

’’تھینکس گاڈ آپ لوگ آگئی ہیں یہ بھی بہت خوشی کی بات ہے۔‘‘ وہ مخمور نگاہوں سے عاکفہ کی طرف دیکھتا ہوا کہہ رہا تھا معاً نوفل ہاتھوں میں بکے اور گفٹ تھامے اندر داخل ہوا۔

’’ایکسکیوز می… میں کچھ دیر بعد آتا ہوں۔‘‘ بابر نے بھی نوفل کو دیکھ لیا تھا وہ ان سے معذرت کرتا چلا گیا۔

’’بابر کچھ زیادہ ہی تم پر لٹو نہیں ہونے لگا…‘‘ اس کے جاتے ہی وہ سنجیدگی سے عاکفہ سے گویا ہوئی۔

’’اس کا بی ہیویئر سب کے ساتھ ایسا ہی فرینڈلی ہوتا ہے۔‘‘

’’تمہارے ساتھ کچھ اسپیشل ایٹی ٹیوڈ ہے لونگ اینڈ کیئرنگ۔‘‘

’’ارے… یہ کیا کہہ رہی ہو، ایسا کچھ نہیں ہے قسم لے لو۔‘‘ وہ سراسیمہ ہوکر کہنے لگی تھی انشراح مسکرا کر گویا ہوئی۔

’’قسم تم کیوں دے رہی ہوں قسم تو بابر کو دینا چاہیے۔‘‘

’’بکواس مت کرو ہم اپنے گفٹس گاڑی میں ہی بھول آئے ہیں۔‘‘ 

’’اوہ رئیلی یہ بہت بڑا بلنڈر ہوگیا ہے نہ مجھے یاد رہا نہ تم کو اور دیکھو اس نے کتنے فخر سے اپنا گفٹ اور بکے پیش کردیے ہیں۔‘‘ اس کی نگاہیں عاکفہ کے ساتھ اسٹیج پر موجود دلہا دلہن کے ہمراہ بیٹھے نوفل اور بابر پر تھیں گفٹ دیتے وقت اس کے لبوں پر دھیمی پر خلوص مسکراہٹ تھی جس نے اس کے وجیہہ چہرے کو روشن کردیا تھا وہاں موجود حسینائوں کے جھرمٹ اس طرف جمع ہونے لگے تھے ہر حسینہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی جستجو میں مگن تھی۔

’’گرلز اس قدر اسٹوپڈ کیوں ہوتی ہیں۔ خوامخواہ ایک عام سے شخص کو اتنی اہمیت دی ہے کہ وہ خود کو راجہ اندر سمجھنے لگا ہے۔‘‘

’’راجہ اندر لاحول ولا قوۃ۔ کسی اچھے آدمی کی مثال تو دو۔‘‘

’’جو اپنے ارد گرد عورتوں کا ہجوم دیکھنا پسند کرے وہ کس طرح اچھا آدمی ہوسکتا ہے۔‘‘ وہ زہر خند لہجے میں گویا ہوئی۔

’’ڈونٹ مائنڈ یار وہ ایسا نہیں چاہتے یہ لڑکیاں ہی ہیں جو ان کی وجاہت و خوب صورتی پر مرتی ہیں اب وہ کیا کریں۔‘‘

’’ارے واہ بڑی حمایت لی جا رہی ہے لگتا ہے میری غیر موجودگی میں خوب دوستی ہوگئی ہے اس شخص سے۔‘‘ وہ منہ بنا کر بولی۔

’’بہن بنایا ہے انہوں نے مجھے۔‘‘

’’یہ بھی ایک چالاکی ہے کسی کو بہن بنا کر اور کسی کو دیوانہ بنا کر اسیر بنائے رکھنا ہے یہ ٹیلنٹ ہر کسی کے پاس نہیں ہوتا۔‘‘

’’توبہ ہے بھئی تم کو بدگمانی کی حدوں سے بھی بہت دور نکل گئی ہو کسی کے بھی بارے میں ایسی باتیں کرنا بہتان کہلاتا ہے اور کسی پر بھی بہتان لگانا سخت ترین گناہ ہے۔‘‘ عاکفہ نے نرمی سے سمجھایا۔

معاً بابر نوفل کو لے کر وہاں آگیا بلیک سوٹ ہمیشہ کی طرح جچ رہا تھا ان کے درمیان رسمی ہیلو ہائے ہوئی تھی عاکفہ کے کہنے پر بابر کار سے گفٹس لینے گیا تھا وہ وہیں بیٹھ گیا۔

’’کیسے ہیں آپ نوفل بھائی۔‘‘ عاکفہ نے مسکرا کر دریافت کیا۔

’’ایم فائن اینڈ یو؟‘‘ اس کی غیر ارادہ نگاہ عاکفہ سے قبل انشراح پر پڑی تھی جو اسے نظر انداز کیے گردن جھکائے لاتعلق بیٹھی تھی۔

’’الحمدللہ میں بھی بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘ وہ انشراح کے رویے پر جزبز تھی۔

’’آپ نے اپنی فرینڈ کو کچھ ایٹی کیٹس نہیں سکھائے۔‘‘ وہ طنز سے بولا۔

’’جی… ایٹی کیٹس؟‘‘ عاکفہ حیرت و پریشانی سے گویا ہوئی۔

/…ء…/

کالج سے آنے کے بعد سودہ کے سر میں درد شروع ہوا تھا اور جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا جا رہا تھا زمرد اور منور صاحب صابرہ خالہ کے گھر گئے تھے ایک کار وہ لے کر گئے تھے دوسری زید کے پاس تھی وہ گھر میں تھا بوا کا اصرار تھا کہ زید کے ساتھ وہ ڈاکٹر کے کلینک چلیں۔

’’بوا کیوں زید… زید کی رٹ لگا رہی ہیں جانتی ہیں اچھی طرح سے زید کہاں ہمیں کلینک لے کر جائے گا عمرانہ کب تک یہ برداشت کرے گی۔‘‘ درد سے بے چین ہوتی بیٹی کو دیکھ کر وہ اس وقت سخت پریشان تھیں۔

’’میں خود جا کر عمرانہ بہو سے بات کرتی ہوں ان کو اور زید کو لے کر آتی ہوں وہ خود جب سودہ کی حالت دیکھیں گے تو انکار نہیں کریں گے۔‘‘ سودہ کا سر دباتی بوا اٹھ کر سلیپر پہنتی ہوئی بولیں۔

’’نہیں… نہیں بوا مجھے پتا ہے وہ ہمیں مرتا ہوئے بھی دیکھیں گے تو بھی قریب نہیں آئیں گے میں آپ کو وہاں بھیک مانگنے جانے نہیں دوں گی۔‘‘ صوفیہ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر روکتے ہوئے کہا۔

’’ارے پھر کیا بچی کو درد میں اسی طرح تڑپنے دو گی درد کچھ زیادہ ہی ہورہا ہے وگرنا میری بچی تو بڑی بڑی تکلیف جھیل جاتی ہے۔‘‘ بوا درد کی شدت سے رونے والی سودہ کو دیکھ کر کہنے لگیں۔

’’بوا آپ کو گھر پر ہی رکنا ہوگا، میں سودہ کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جارہی ہوں راستے سے ہی ٹیکسی لے لوں گی۔‘‘ صوفیہ جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئیں۔

’’ہاں ہاں تم جائوں میں گھر میں ہوں عمرانہ کا کوئی بھروسہ نہیں وہ کب سیر سپاٹے کو نکل جائیں جب سے بھانجی آئی ہے وہ روز ہی باہر جارہی ہیں ایسے میں کوئی مہمان وغیرہ آگئے تو پریشانی ہوگی آنے والوں کو۔‘‘ بوا نے سودہ کو شال اوڑھاتے ہوئے جواب دیا۔

درد کے باعث اس سے بات نہیں کی جارہی تھی وہ صوفیہ کے ہمراہ آہستہ آہستہ قدم بڑھا رہی تھی صوفیہ کو دور تک کوئی ٹیکسی دکھائی نہ دے رہی تھی سردی عروج پر تھی رات اپنے سیاہ پر پھیلا چکی تھی۔ ہوائیں الہڑ دوشیزائوں کی مانند اٹھلاتی پھر رہی تھیں اور ان کی سرد شوخیوں سے بچنے کے لیے لوگ اپنے گھروں میں گرم نرم بستروں میں دبکے ہوئے تھے۔

’’سودہ یہاں تو کوئی ٹیکسی دور دور تک نہیں ہے۔‘‘

’’کوئی بات نہیں ہے ممی کلینک زیادہ دور نہیں ہے ہم پہنچ جائیں گے۔‘‘ معاً ایک کار قریب آکر رکی تھی۔

(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

 

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
× How can I help you?
Close