Aanchal Oct-18

جنون سے عشق تک

سمیراشریف طور

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
اماں بی فائقہ کے ہمراہ ماہ آرأ کی عیادت کو آتی ہیں‘ ماہ آرأ انہیں پہچان نہیں پاتی۔ اماں بھی ماضی کو یاد کرتی ماہ آرأ کے حال پر افسردہ ہوجاتی ہیں۔ فائقہ ماہ آرأ کو معاف کردیتی ہیں۔ شہرینہ کا رویہ شیرافگن کے ساتھ روز اول جیسا ہی ہوتا ہے اس کا دل ابھی تک شیرافگن کے لیے محبت جیسے احساسات سے عاری ہی رہتا ہے۔ دوسری طرف ڈاکٹر ماہ آرأ کو جواب دے دیتے ہیں۔ شیرافگن اور شہرینہ علاج کے لیے ماہ آرأ کو ملک سے باہر لے جانا چاہتے ہیں مگر ڈاکٹرز ان کی اس بات پر انہیں خاطر خواہ جواب نہیں دیتے جس سے دونوں مایوس ہوجاتے ہیں۔ شہرینہ گھر آجاتی ہے اور دل بہلانے کے لیے دوستوں سے بات کرتی ہے۔ بابا صاحب‘ عثمان فاروق سے شہرینہ کی رخصتی کی بات کرتے ہیں مگر عثمان فاروق ابھی شہرینہ کی رخصتی نہیں چاہتے اس لیے وہ یہ بات شہرینہ پر رکھ دیتے ہیں جس پر بابا صاحب شہرینہ کو سمجھانے کا کہتے ہیں شہرینہ تمام باتیں سن لیتی ہے تب افگن‘ شہرینہ کو اسپتال ڈراپ کرنی کی بات کرتا اسے غصہ دلا جاتا ہے۔ حسن آرأ جیل میں ہوتی ہے۔ عثمان فاروق کو ڈر ہوتا ہے کہ کہیں وہ جیل سے رہا ہوکر شہرینہ کو نقصان نہ پہنچا دے اس لیے وہ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کرا دیتے ہیں۔ شیرافگن فائقہ کو فون پر ماہ آرأ کی طبیعت کے بارے میں بتاتا ہے تب وہ شیرافگن سے پیسوں کی فکر نہ کرنے اور علاج بہتر کرانے کی بات کرتی ہے۔ عثمان فاروق بھی ماہ آرأ کی طبیعت پوچھتے فائقہ کو حیران کر جاتے ہیں فائقہ انہیں اسپتال جا کر ماہ آرأ سے ملنے کا مشورہ دیتی ہیں۔ عثمان فاروق ماہ آرأ سے ملنے اسپتال پہنچ جاتے ہیں۔ ماہ آرأ عثمان فاروق کو پہچان جاتی ہے اور ان سے معافی مانگتی ہے۔ عثمان فاروق اس کی حالت دیکھ کر افسردہ ہوجاتے ہیں۔ ماہ آرأ ان کے سامنے ماضی کی تمام غلطیاں اور فائقہ پر لگائے گئے الزام بھی قبول لیتی ہیں۔ شہرینہ کالج میں ہوتی ہے جب اس کے موبائل پر ماہ آرأ کی موت کی خبر آتی ہے۔
(اب آگے پڑھیے)
v…m…v
وہ رات کے بارہ بجے وہاں پہنچی تھی۔ فرح بابا صاحب کے ساتھ اسے لینے آئی تھی۔ وہ شہرینہ کو دیکھ کر بہت خوش تھی۔
’’رئیلی…! تمہیں یہاں دیکھ کر بہت خوشی ہورہی ہے۔‘‘ وہ مسکرائی۔
وہ لوگ رات گئے گائوں پہنچے تھے۔ وہ بابا صاحب سے ملی تھی۔ اماں بھی اسے دیکھ کر خوش ہوئیں‘ وہ اس کے لیے جاگ رہی تھیں انہوں نے کھانے کا پوچھا تو اس نے انکار کردیا‘ وہ گھر سے کھانا کھا کر آئی تھی۔ بابا صاحب اور اماں بی سونے چلے گئے تو وہ بھی فرح کے ساتھ اس کے کمرے میں آگئی دونوں کو ایک ہی کمرے میں رہنا تھا۔
حویلی کے کمرے کھلے کھلے ہَوا دار اور بڑے بڑے دریچوں والے تھے سجاوٹ بھی دیہاتی اور ثقافتی اسٹائل میں کی گئی تھی وہ یہاں آکر خوش ہوئی لیکن پابندیوں سے بہت جلد اکتا جاتی تھی۔
’’تم نے لڑکے کو دیکھا ہے؟‘‘ وہ فریش ہوکر آئی تو فرح سے پوچھا۔
’’نہیں۔‘‘
’’کوئی تصویر وغیرہ؟‘‘ فرح نے پھر نفی میں سر ہلایا تو وہ مزید حیران ہوئی۔
’’بالکل دبو ہو تم تو… بغیر لڑکے کو دیکھے بغیر تم کیسے اس رشتے پر راضی ہوگئی؟‘‘ وہ ٹاول ایک طرف رکھ کر فرح کے پاس وہیں بیڈ پر بیٹھ گئی۔
’’یہ میرے بڑوں کا فیصلہ ہے‘ وہ مجھے اچھی طرح جانتے ہیں میرے مزاج وغیرہ کو سمجھتے ہیں‘ یقینا سوچ سمجھ کر ہی فیصلہ کیا ہوگا۔‘‘
’’ہاں جیسا فیصلہ انہوں نے میرے اور افگن کے حوالے سے کیا تھا۔‘‘ اس کے انداز میں از حد ناگواری تھی فرح نے ایک گہرا سانس لیا۔
’’تمہیں افگن بھائی سے کس بات پر اختلاف ہے؟‘‘
’’یہ پوچھو مجھے ان کی کس بات سے اختلاف نہیں تو میرے لیے بتانا آسان ہوگا۔‘‘ فرح ہنس دی۔
’’اب اتنے بھی برے نہیں ہیں‘ تم انہیں تھوڑ ریلیف دو یقینا تم ان کی ذات کے بہت سے مثبت پہلوئوں سے آگاہ ہو جاؤگی۔‘‘
’’مجھے اپنی زندگی تجربات کی بھینٹ چڑھانے کا قطعی کوئی شوق نہیں۔‘‘
’’ہاں پتا چلا تھا مجھے‘ تم نے رخصتی کے لیے انکار کردیا تھا لیکن میں سمجھتی ہوں کہ تم نے جو بھی کیا غلط کیا۔‘‘
’’کیا غلط کیا میں نے‘ زبردستی ایموشنل بلیک میل کرکے مجھے ایک ایسے شخص سے باندھ دیا جس سے میرا مزاج ملنا تو دور کی بات اسے دیکھ کر ہی میرا اسے شوٹ کردینے کو دل کرتا ہے۔‘‘
’’تم اب زیادتی کررہی ہو‘ افگن بھائی بہت زیادہ چینج ہوگئے ہیں بلکہ وہ اب خود یہ رشتہ نبھانا چاہتے ہیں‘ ان کے موجود رویے کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔‘‘ وہ سنجیدہ ہوئی‘ شہرینہ نے غصے سے اسے دیکھا۔
’’یعنی ہر جگہ میں ہی غلط ہوں تمہارا تو بھائی ہی سب سے اچھا ہے‘ ہر کوئی اس کی فیور کرتا پھر رہا ہے وہاں ماما بابا اور یہاں تم‘ جب کہیں ایک بار اس رشتے سے انکار کرچکی ہوں تو کیوں مجھے مجبور کیا جارہا ہے کہ میں اپنے فیصلے پر نظر ثانی کروں مجھے اس شخص کے ساتھ نہیں رہنا… کل بھی یہی فیصلہ تھا اور آج بھی دیٹس آل۔‘‘ وہ ایک دم برا مان گئی‘ فرح نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔
’’بات یہ نہیں کہ میں اپنے بھائی کی فیور کررہی ہوں لیکن تم یہ بات بھی مانو کہ افگن بھائی بہت بدل چکے ہیں‘ وہ اس رشتے کو ختم نہیں کرنا چاہتے تو تم کیوں بضد ہو۔‘‘ شہرینہ کھڑی ہوگئی۔
’’میرا خیال ہے میرے لیے کسی اور کمرے میں رہنے کا بندوبست کردو میں افگن نامہ سن سن کر عاجز آچکی ہوں اور پاپا کو صاف اور واضح کہہ چکی ہوں کہ مجھے یہ رشتہ نہیں رکھنا اور اگر کسی نے مجھ پر دبائو ڈالنے کی کوشش کی تو میں سب کو چھوڑ چھاڑ کر مزید اسٹڈی کے لیے ابروڈ چلی جائوں گی۔‘‘ اس کا اٹل انداز تھا۔ فرح نے ایک گہرا سانس لیا۔
’’تمہارا سب سے بڑا مسئلہ تمہارا یہ جذباتی پن ہی ہے تم کچھ سوچنے سمجھنے کے بجائے ایک دم ہی جذباتی ہوکر رشتے ناطے ختم کرنے پر تل جاتی ہو‘ آرام و سکون سے بیٹھ کر بات سنو۔‘‘ فرح نے اس کا ہاتھ پکڑ کر دوبارہ بستر پر بٹھایا تو وہ غصے سے فرح کو دیکھنے لگی۔
’’آنکھوں سے جذباتیت کی پٹی ہٹا کر دیکھو تو تمہیں سب کچھ بہت واضح اور صاف دکھائی دے گا کہ کون کیا ہے‘ تم اپنے مفروضوں کی بنیاد پر افگن بھائی کو ریجیکٹ کررہی ہو اور بس۔‘‘
’’کیا تم نے مجھے یہ سب ڈسکس کرنے کے لیے یہاں بلوایا تھا؟‘‘ شہرینہ از حد سنجیدہ تھی‘ فرح مسکرا دی۔
’’نہیں… لیکن اگر تم اس ٹاپک پر بات کرلو تو کوئی حرج بھی نہیں۔‘‘
’’مجھے نیند آرہی ہے اور بس اب سونا چاہوں گی۔‘‘ وہ بیڈ کے دوسری طرف لیٹ گئی۔
’’تم افگن بھائی سے بات…‘‘
’’پلیز فرح…‘‘ وہ مزید بھی کچھ کہنا چاہتی تھی جب شہرینہ نے ٹوک دیا۔
’’اگر تم چاہتی ہو کہ میں کچھ دن یہاں آرام و سکون سے رہ لوں تو پلیز تم مجھ سے اب اس ٹاپک پر بات نہیں کرو گی ورنہ میں کل ہی واپس چلی جائوں گی۔‘‘ انداز دو ٹوک تھا۔ فرح نے خاموشی سے سر ہلا دیا تھا۔
v…m…v
اگلے دن فرح کے سسرال سے لڑکے کی دو بہنیں آئی تھیں عائشہ اور صبا فاطمہ بظاہر دونوں کافی خوب صورت لیکن مزاج کی نہایت سادہ اور ملنسار لڑکیاں تھیں‘ شہرینہ دونوں بہنوں سے مل کر بہت خوش ہوئی‘ وہ کافی ہنس مکھ اور زندہ دل لڑکیاں تھیں۔ انہوں نے پر زور اصرار کے ساتھ شہرینہ کو اپنے ہاں آنے کی دعوت دی تھی۔
’’ہاں ہاں کیوں نہیں آئے گی ضرور آئے گی‘ میرے افگن کی دلہن ہے یہ تو سارا کچھ اب اسے ہی تو کرنا ہے۔‘‘ اماں بی کے انداز میں محبت تھی جبکہ شہرینہ سنجیدہ ہوگئی۔
’’ہمیں پتا تھا کہ افگن صاحب کا نکاح ہوچکا ہے لیکن آپ کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے‘ افگن بھائی توفیق بھائی سے ملنے اکثر آتے رہتے ہیں۔‘‘ فاطمہ نے کہا تو وہ خاموش رہی۔
ویسے بھی فرح کے سسرالی اماں بی کے دور پرے کے رشتہ دار بھی تھے۔ کبھی کبھار دونوں گھرانوں کا ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا بھی رہتا تھا سو بے تکلفی بھی تھی بلکہ توفیق ضیاء (فرح کا منگیتر) کی شیر افگن سے دوستی بھی تھی لیکن گھریلو سطح پر بہت گہرے مراسم نہ تھے۔ اماں بی ان کی کافی آئو بھگت کررہی تھیں۔ وہ دونوں بہنیں فرح کی چوڑیوں اور کپڑوں کا ناپ لینے آئی تھیں۔
اگلے دن ان کی والدہ کا فون آگیا تھا۔ اماں بی سے ہی بات ہوئی اور پھر انہوں نے شہرینہ کو بلوا بھیجا۔
’’فرح کی ساس کی کال تھی اس نے ہمیں اپنے ہاں بلایا ہے خصوصاً تمہیں۔‘‘
’’مجھے…! لیکن کیوں؟‘‘ وہ حیران ہوئی‘ فرح کو دیکھا اس نے لاعلمی سے کندھے اچکائے۔
’’رکھ رکھائو والے لوگ ہیں پہلے بیٹے کی شادی ہے محبت سے بلوا رہے ہیں‘ وہ تو کہہ رہی تھیں کہ تمہارے ماں باپ کو بھی بلوالوں لیکن عثمان کے پاس کہاں وقت ہے؟ میں نے کہا میں شہرینہ کو لے کر آجائوں گی۔‘‘ اماں بی نے وضاحت سے بتایا۔
’’چلے جانے میں تو کوئی حرج نہیں لیکن ابھی باقاعدہ کوئی رسم وغیرہ تو ہوئی نہیں جو یوں منہ اٹھا کر میں چل دوں۔‘‘
’’منگنی تو ایک رسم ہے‘ محض خانہ پری اصل بات یہ ہے زبان دینا بڑوں میں بات طے ہوچکی ہے آنے جانے میں کوئی حرج نہیں ویسے بھی تم چودھری فاروق کی پوتی ہو۔ عثمان کی بیٹی اور میرے شیر افگن کی بیوی‘ وہ لوگ تو سر آنکھوں پر بٹھانے کو تیار ہیں۔‘‘ اماں بھی کی توجیح ایسی تھی کہ جہاں فرح کھلکھلا کر ہنس دی وہیں شہرینہ کے بھی تیور بدل گئے تھے۔
’’اف… یعنی ذاتی طور پر میری کوئی ویلیو ہی نہیں آپ کے شوہر‘ بیٹے اور پوتے کے ناموں کی وجہ سے ہی میں اعلیٰ و ارفع ہوں۔‘‘
’’استغفراللہ… اعلیٰ و ارفع تو صرف اللہ کی ذات ہے‘ میں تو ویسے سمجھا رہی تھی کہ یہ لوگ تمہیں ان حوالوں سے عزت دے رہے ہیں تو جانے میں کیا حرج ہے۔‘‘ اس نے فرح کو دیکھا وہ ہنس دی۔
’’ہاں بالکل… جانے میں بھلا کیا حرج ہے۔‘‘
’’تم تو چپ ہی رہو‘ ابھی سے ہونے والے سسرالیوں کی حمایت میں بولنے لگی ہو۔‘‘ اماں بی مسکرا دیں۔
’’دوپہر تک تیار ہوجانا دوپہر کا کھانا ان کی طرف ہے۔‘‘
’’جی اچھا۔‘‘ شہرینہ نے ہامی بھری۔
ویسے وہ خود بھی فرح کا منگیتر دیکھنا چاہتی تھی‘ تعریفیں تو بڑی سن رہی تھی اماں بی اور بابا صاحب دونوں بڑے متاثر تھے پورے علاقے میں ان کا اچھا خاص نام تھا۔ ٹھیک ٹھاک قسم کی جاگیر و جائیداد کے مالک تھے۔ وہ فرح کے ساتھ کمرے میں آگئی۔ کپڑوں کے انتخاب میں فرح اسے مشورے دے رہی تھی تب ہی اماں بی آگئیں۔
’’کیا پہن رہی ہو؟‘‘ اماں بی نے پوچھا۔
’’ابھی تو دیکھ رہی ہوں۔‘‘
’’کوئی ڈھنگ کا لباس نکالنا یہ نہ ہو وہاں جا کر شرمندگی ہو کل دیکھا تھا تم نے عائشہ اور فاطمہ کتنے صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے تھے ہر ہر انداز میں رکھ رکھائو نظر آرہا تھا۔‘‘ اماں بی نے ہدایات دی تو شہرینہ کے ماتھے پر بل پڑگئے۔
’’اگر آپ کو میری ڈریسنگ سے اس قدر مسئلہ ہے تو مجھے ساتھ لے کر مت جائیں۔‘‘ اس نے سب کپڑے ایک طرف رکھ دیے‘ اماں بی نے بغور اسے دیکھا۔ شہرینہ کا سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ وہ بہت جلد برا مان جاتی تھی۔
’’بات سمجھا کرو شہری‘ وہ اور طرح کے لوگ ہیں‘ بڑے روایتی اور خاندانی سے‘ روپیہ پیسہ بہت ہے لیکن شوشا نہیں‘ بڑے سادہ مزاج اور خوش باش لوگ ہیں‘ پہلی بار توفیق کو دیکھنے جارہی ہو اس لیے کہہ رہی تھی۔‘‘
’’لیکن میرے پاس ایسے کپڑے نہیں جیسے کل عائشہ اور فاطمہ پہن کر آئی تھیں‘ ویسے تو بالکل بھی نہیں ہیں مجھے لے جاکر آپ کی جو سبکی ہوگی اس لیے بہتر یہی ہے کہ مجھے لے کر مت جائیں۔‘‘ اس نے بستر پر پھیلے کپڑوں کی طرف اشارہ کرتے سنجیدگی سے کہا اور پھر اماں بی کی بات سنے بغیر کمرے سے نکل گئی۔
’’لو اب اسے کیا کہہ دیا میں نے؟‘‘ اماں بی کو ایک دم شدید غصہ آیا۔
’’آپ کو اس کے مزاج کا علم تو ہے ناں‘ میں اسے مناکر کسی اچھے سے ڈریس کے لیے آمادہ کرلیتی‘ اب وہ ناراض ہوکر چلی گئی ہے‘ مجھے نہیں لگتا وہ اب آپ کے ساتھ جائے گی بھی…‘‘
’’میں نے اس کے سر پر پہاڑ گرا دیا ہے کیا؟‘‘ اماں بی بھی حقیقتاً برا مان گئیں۔
’’جائو جاکر اسے لے کر آئو وقت کم ہے ہم نے ان لوگوں کو دوپہر کا وقت دیا تھا ایک تو اس لڑکی کو کچھ کہنا ہی فضول ہے ہر وقت مزاج بگاڑے رکھتی ہے۔‘‘ فرح باہر آئی تو وہ راہداری میں کھڑی تھی۔
’’شہری۔‘‘ اس نے پلٹ کر فرح کو دیکھا۔
’’تیار ہو جائو یار کافی دیر ہوگئی ہے۔‘‘ اس نے نارمل لہجے میں کہا تو شہرینہ نے سنجیدگی سے دیکھا۔
’’میں نہیں جا رہی۔‘‘
’’اف‘ حد ہوتی ہے شہری… تم بعض اوقات بچوں کی طرح اری ٹیٹ کرتی ہو‘ اماں بی تو بس ویسے کہہ رہی تھیں جو تمہارا دل چاہتا ہے پہنو اور جائو۔‘‘ شہرینہ نے محض سرسری سا نفی میں سر ہلایا۔
’’نہیں اب دل نہیں چاہ رہا پھر کبھی سہی۔‘‘
’’یار اچھا نہیں لگتا انہوں نے بطور خاص تمہیں انوائٹ کیا ہے۔‘‘
’’انہوں نے مجھے نہیں اس لڑکی کو انوائٹ کیا ہے جس کے نام کے ساتھ افگن‘ عثمان فاروق اور فاروق صاحب جیسے معتبر ناموں کے حوالے جڑے ہیں‘ میں کیا ہوں محض ایک ایسی لڑکی جس کی اپنی کوئی ویلیو نہیں۔‘‘ اس کے لہجے میں از حد تلخی تھی۔ فرح کو لگا کہ اس وقت شہرینہ کو جانے کے لیے قائل کرنا دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔
’’فی الحال میرا جانے کا موڈ نہیں ہے۔ تم ان لوگوں کو کال کرکے معذرت کرلو پھر کسی دن موڈ ٹھیک ہوا تو چلی جائوں گی۔‘‘ انداز اٹل تھا۔
’’اماں بی کو اچھا نہیں لگے گا یار۔‘‘
’’تو ان سے جاکر کہہ دو میں جو ہوں جیسی ہوں مجھے میری ذات کی خوبیوں‘ خامیوں سمیت قبول کریں‘ میں کسی کے کہنے پر خود کو نہیں بدل سکتی‘ میں شہرینہ عثمان فاروق ضرور ہوں لیکن میری اپنی بھی ذات اور شخصیت ہے اس کو مت بھولیں۔‘‘ قطعی انداز میں کہہ کر وہ مکمل طور پر کھڑکی کی طرف منہ کیے باہر دیکھنے لگی فرح پلٹی تو ٹھہر گئی اماں بی کچھ فاصلے پر موجود تھیں۔
انہوں نے چند پل شہرینہ کو دیکھا اور بغیر کچھ کہے وہاں سے چلی گئیں‘ یقینا انہوں نے شہرینہ کی تمام باتیں سن لی تھیں۔ فرح نے پلٹ کر دوبارہ شہرینہ کو دیکھا وہ بالکل لاتعلق سی باہر دیکھ رہی تھی۔ یقینا وہ اماں بی کی آمد اور واپس پلٹ جانے سے بالکل بے خبر تھی۔ اس نے ایک گہرا سانس لیا اور واپس اماں بی کے کمرے کی طرف آئی اماں بی فون میں مصروف تھیں۔
’’ابھی کچھ دن نہیں آسکتے ہم شہرینہ کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں۔‘‘ یقینا وہ اس کے سسرال کال کرکے نہ آنے کے لیے وضاحت کررہی تھیں۔
’’نہیں… نہیں بس سر میں درد تھا۔‘‘
’’کل تو بالکل بھی وقت نہیں ہوگا شہر سے کچھ مہمان آجائیں گے جب بھی وقت ہوا یا آنے کا پروگرام بنا تو ہم آپ کو آگاہ کردیں گے۔‘‘ انہوں نے مزید چند باتوں کے بعد کال کاٹ دی۔ فرح ان کے پاس آبیٹھی انہوں نے بہت سنجیدگی سے فرح کو دیکھا۔
’’اسے سمجھائو اس قدر ضد یا جذباتیت اچھی نہیں ہوتی‘ آج تک ہم سے ہمارے اپنے بچوں نے بدتمیزی نہیں کی وہ ہمیں بہت عزیز ہے ہماری لاڈلی بھی ہے لیکن بڑوں کے ساتھ بات کرنے کے کچھ آداب ہوتے ہیں اسے کچھ تو خیال کرنا چاہیے۔‘‘
’’پتا نہیں وہ کیوں ایک دم ایسی ہوتی جارہی ہے اچھی بھلی تھی‘ محض ایک افگن بھائی سے رشتہ بدلنے سے وہ اس قدر ڈسٹرب یا بدلحاظ نہیں ہوئی مجھے لگتا ہے کہ کہیں نہ کہیں وجہ کچھ اور بھی ہے۔‘‘ انداز کچھ پُر سوچ تھا اماں بی نے اسے بغور دیکھا۔
’’کچھ کہا ہے اس نے تم سے کیا؟‘‘ انہوں نے کریدا۔
’’نہیں لیکن میں پوچھوں گی ضرور۔‘‘ انہوں نے ایک گہرا سانس لیا۔
’’آپ ٹینشن نہ لیں وہ ایسی ہی ہے ابھی مت کچھ کہیں تھوڑی دیر بعد وہ ٹھیک ہوجائے گی آپ ریلیلکس رہیں۔‘‘ اماں بی نے محض سر ہلا دیا۔
فرح واپس چلی گئی تو انہوں نے بہت دکھ سے اپنا سر تکیے پر رکھا وہ شہرینہ کے مزاج اور رویے دیکھ کر بہت مایوس ہوئی تھیں۔ ان کی اپنی اولاد نے آج تک ان کے سامنے زبان نہیں کھولی تھی اور یہ شہرینہ… ان کی سوچ کی گرہیں الجھنے لگی تو وہ بستر پر دراز ہوگئی تھیں۔
v…m…v
اگلے دن شایان‘ زوبیہ‘ اسد اور پھوپو کی فیملی سے کچھ لوگ آگئے تو جیسے حویلی میں رونق آگئی۔ شہرینہ کا بھی مزاج ایک دم بدل گیا تھا شایان اور اسد کی موجودگی میں وہ بہت دیر تک اپنے قنوطیت زدہ موڈ میں نہیں رہ سکی۔ اماں بی نے اس کے مزاج بدلنے پر تشکر کا سانس لیا تھا ورنہ وہ تو اس کے بارے میں خصوصاً شیر افگن کے مستقبل کے بارے میں سوچ سوچ کر پریشان ہوتی رہی تھیں۔ انہیں اب شہرینہ اور شیر افگن کے نکاح والے فیصلے پر پچھتاوا ہورہا تھا۔ انہیں لگ رہا تھا کہ انہوں نے ایک غلط فیصلہ کردیا… وہ اگرچہ عثمان فاروقی کی بیٹی تھی لیکن کہیں نہ کہیں ماہ آرأ جیسی عورت کی ذات کا حصہ بھی تھی ماہ آرأ مر چکی تھی لیکن شہرینہ ان کے سامنے تھی اور شہرینہ جس طرح دو ٹوک انداز میں شیر افگن سے شادی بلکہ رخصتی سے انکار کرچکی تھی ایسے میں وہ ان دونوں کے مستقبل کے بارے میں خوف زدہ تھیں تاہم ان سب لوگوں کی آمد سے اس پر اچھا اور خوشگوار اثر پڑا تھا وہ اپنے خول سے نکل کر سب میں گھل مل گئی تھی۔
سب ہی توفیق ضیاء کو دیکھنے کو بے قرار تھے۔ اماں بی اور بابا صاحب کی طرف سے یہی طے پایا تھا کہ سب جوان پارٹی صرف ایک بار جا کر وہ بھی اماں بی کے ہمراہ توفیق ضیاء کو دیکھ آئیں اماں بی نے ان لوگوں سے وقت لے لیا تھا اگلے دن سب ہی جانے کو تیار ہورہے تھے۔
اماں بی نے شہرینہ کو بھی ساتھ چلنے کو کہا پہلے تو اس کا دل کیا کہ جانے سے انکار کردے لیکن پھر خاموشی سے مان گئی وہ کمرے میں آئی تو ایک بار پھر کپڑے نکال کر دیکھ رہی تھی اسے افسوس ہوا چند ایک فینسی ڈریسز کے علاوہ باقی سب ہی شارٹ شرٹس کرتے وغیرہ کے ساتھ ٹائٹس یا اسٹائلش سے پاجامے تھے ان سب میں سے اس نے ایک کافی معقول سا (جس پر اماں بی کو بھی اعتراض نہ ہو) لباس منتخب کرلیا تھا۔
لائٹ پنک سادہ کرتا اور اس کے ساتھ کیپری اسٹائل میں وائٹ پاجامہ تھا۔ لباس نکال کر اس نے علیحدہ کیا تو فرح نے بغور دیکھا۔
’’یہ پہنو گی؟‘‘ ڈرتے ہوئے پوچھا تو شہرینہ نے غصے سے دیکھا۔
’’کیوں اب کیا مسئلہ ہے اس میں؟‘‘
’’نہیں میں تو ویسے ہی پوچھ رہی تھی‘ بہت اچھا سوٹ ہے لیکن کافی سادہ سا ہے۔‘‘ ڈرتے ہوئے اس نے آخری الفاظ کہے تو شہرینہ گھورتی رہی۔
’’چلو جلدی سے تیار ہوجائو‘ باقی بھی تیار ہورہے ہیں لائو میں استری کردوں۔‘‘ اس سے پہلے کہ شہرینہ جانے سے انکار کرتی اس نے فوراً کہتے ہوئے سوٹ اٹھایا اور سوٹ لے کر نکل گئی۔
شہرینہ نے سنجیدگی سے اسے جاتے دیکھا اور پھر سر جھٹکتے ہوئے واش روم میں گھس گئی وہ تیار ہوکر آئی تو سب سے پہلے اماں بی نے اسے دیکھا۔ انہوں نے کوئی بات نہیں کی کچھ دیر بعد زوبیہ بھی کمرے سے نکلی تو اسے دیکھ کر شہرینہ کو اپنا لباس بہت سادا لگا۔ زوبیہ اچھے کام والے سوٹ میں ہلکا پھلکا میک کیے جیولری پہنے ہوئی تھی جبکہ شہرینہ بالکل سادہ سے حلیے میں تھی۔ وہ پھوپو کی بیٹیاں آئیں تو ان کے ساتھ گپ شپ میں مصروف ہوگئی تھی۔
کچھ دیر میں سب ہی تیار تھے وہ لوگ ان کی طرف گئے تو وہاں سب ہی منتظر تھے۔ گھر کے بڑوں سے ملاقات کے بعد وہ ان کی خواتین کے ساتھ اندرونی حصے میں آگئیں جبکہ مرد حضرات مردانے کی طرف چلے گئے تھے۔
فرح کی ساس بہت اچھی خاتون تھیں‘ دو بیٹیاں تھیں سب سے بڑا بیٹا توفیق تھا اور پھر دو بیٹیاں تھیں اور اس کے بعد دو بیٹے تھے۔
شہرینہ یہاں آکر بور نہیں ہوئی فاطمہ بہت ہنس مکھ تھیں جبکہ عائشہ شادی شدہ تھی اور بھائی کی منگنی کے سلسلے میں میکے آئی ہوئی تھی۔ کھانے کے بعد توفیق ضیاء اندر آیا۔ توفیق ضیاء کو دیکھ کر وہ سب ہی متاثر ہوئی تھیں۔
وہ ایک وجیہہ ابروڈ کا اعلیٰ تعلیم یافتہ اور رکھ رکھائو والا انسان تھا۔ وہ ان کے درمیان کافی دیر بیٹھا رہا تھا۔ وہ چاروں اس سے مختلف سوالات کرتی رہیں‘ وہ سلجھے انداز میں جواب دیتا رہا‘ شہرینہ کو بھی وہ اچھا لگا تھا۔ شام کو ان کی واپسی ہوئی۔ آتے ہی وہ چاروں فرح کے سر ہوگئی تھیں۔
’’یار تم کہاں پھنس گئی ہو‘ لڑکا ذرا بھی اچھا نہیں ہے۔‘‘ چھوٹی پھوپو کی بیٹی ایمان نے کہا تو سب ہی سنجیدہ ہوگئیں۔
’’بالکل… نہ کوئی پرسنالٹی اور نہ ہی بولنے چالنے کا کوئی سلیقہ۔‘‘ زوبیہ نے بھی کہا تو فرح کے چہرے کا رنگ بدلا۔
’’لیکن اماں بی تو بہت تعریفیں کررہی تھیں۔‘‘
’’ظاہر ہے انہیں تو پسند ہیں انہیں تو تعریفیں کرنا ہی نہیں۔‘‘ ایمان کی چھوٹی بہن نے بھی حصہ لیا تو وہ واقعی پریشان ہوگئی۔
’’کیا واقعی یہ سب سچ ہے؟‘‘ اس نے شہرینہ سے پوچھا تو وہ خاموش رہی۔
’’یہ تو تم ان لوگوں سے ہی پوچھو‘ میری رائے کب تم لوگوں کے نزدیک کوئی اہمیت رکھتی ہے۔‘‘ وہ اسے جواب دے کر اپنے موبائل میں مصروف ہوگئی فرح نے ایک گہرا سانس لیا۔
’’چلو جو بھی ہے قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کرلو… ویسے میں نے اندازہ لگایا ہے کہ مزاج کے اتنے برے نہیں ہیں تمہارے ساتھ اچھے لگیں گے۔‘‘ فرح کے چہرے پر ایک دم سنجیدگی چھا گئی تھی۔ شہرینہ نے اسے دیکھا تو مسکرا دی۔
’’یہ کچھ تصویریں بنائی ہیں میں نے یہ دیکھ لو۔‘‘ اس نے موبائل اس کی طرف بڑھایا لیکن فرح نے نفی میں سر ہلا دیا۔
’’رہنے دو… جب بڑوں نے فیصلہ کیا ہے تو کچھ سوچ سمجھ کر اور کچھ دیکھ بھال کر ہی فیصلہ کیا ہوگا میں کیوں خوامخواہ دل خراب کروں جو ہوگا دیکھا جائے گا۔‘‘ وہ ایک دم پُر سکون ہوگئی اور شہرینہ الجھ کر رہی گئی تھی۔
کیا واقعی کوئی اتنی جلد ہی مطمئن ہوجاتا ہے۔ وہ تو ابھی تک اپنی ذات کی لڑائی میں الجھی ہوئی تھی۔ شیر افگن سے زبردستی رشتہ طے ہوجانا تو ایک کڑی تھی۔ اصل دھچکا تو ماہ آرأ کا وجود اسے لگا گیا تھا۔ نجانے کیوں اندر ہی اندر وہ ان سب سے بھی بدظن ہوچکی تھی۔ وہ فرح کے کہنے پر یہاں آئی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ وہ چند دن حویلی میں گزارے گی تو شاید ذہنی طور پر مطمئن ہوجائے۔ دوبارہ پہلے کی طرح زندہ دل اور مطمئن لڑکی بن جائے لیکن یہاں آکر بھی وہ مطمئن نہیں ہو پا رہی تھی۔ وہ خود کو ان لوگوں اور اس ماحول میں اب ایک دم اجنبی محسوس کرنے لگی تھی خصوصاً ماہ آرأ سے ایک گہرے تعلق کو لے کر وہ از حد حساس ہوچکی تھی۔
فائقہ اس کے ساتھ بہت اچھی تھیں۔ وہ ایک عرصہ تک انہیں حقیقی ماں کا سا مقام دیتی رہی لیکن اب آکر وہ ان سے اپنے تعلق سے متعلق سمجھوتہ نہیں کر پا رہی تھی۔
زوبیہ اور ایمان دونوں فرح کو خوب تنگ کررہی تھی لیکن وہ مطمئن تھی۔
’’ظاہری شخصیت دنیا کے لیے تو اچھی ہوسکتی ہے لیکن اہم بات انسان کا باطن ہوتا ہے‘ میرے لیے یہ بات ہی کافی ہے کہ توفیق ضیاء میرے والدین اور میرے بزرگوں کی پسند ہیں دیٹس آل۔‘‘ سب ہنس دیں۔
’’محترمہ اس کو قناعت کہتے ہیں۔‘‘ زوبیہ نے چھیڑا۔
’’شہری اس کو تصویر دکھا دو۔ اب بے چاری کا اتنا حق تو بنتا ہے ناں۔‘‘ اماں نے کہا۔
’’کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘ فرح نے کندھے اچکائے شہرینہ نے تصویر نکال کر اس کے سامنے کردی۔ فرح کی نگاہیں چند پل کو ساکت ہوئیں اور پھر اس کے چہرے پر ایک دم اطمینان کی کیفیت در آئی‘ وہ مسکرا دی اور پھر ان سب کو دیکھا۔
’’بہت بدتمیز ہو تم سب۔‘‘ وہ سب ہنس رہی تھیں۔
’’کیسا لگا سرپرائز؟‘‘ زوبیہ نے پوچھا تو وہ ہنس دی۔
’’ویری فنی۔‘‘
’’ویسے مجھے اماں بی اور بابا صاحب کے انتخاب پر مکمل طور پر اعتماد تھا۔‘‘ اس نے دوبارہ تصویر کو دیکھا۔
وائٹ کلف لگے سوٹ پر بلیک واسکٹ پہنے وہ واقعی بہت باوقار انسان لگ رہا تھا۔ بہت ہی پُرکشش‘ تصویر دیکھ کر فرح کی آنکھوں کی چمک ایک دم بڑھ گئی تھی۔
’’انہیں تو میں ایک دو بار حویلی آتے جاتے شیر افگن بھائی کے ساتھ بھی دیکھ چکی ہوں۔‘‘
’’چلو یہ تو اور بھی اچھی بات ہوئی کہو تو روبرو ملاقات کا بھی اہتمام کرا دیں گے۔‘‘ ایمان نے چھیڑا۔
’’فی الحال تو ایسی کوئی خواہش نہیں۔‘‘
’’یعنی کہ بعد میں خواہش ہوسکتی ہے۔‘‘ زوبیہ نے بھی کہا تو سب ہی ہنس دیں۔
’’اماں بی نے بڑا چن کر لڑکا ڈھونڈا ہے‘ افگن بھائی کا دوست ہے‘ زبردست تو ہونا ہی تھا۔‘‘ ایمان نے سراہا۔
’’ویسے اماں بی بتا رہی تھیں کہ افگن بھائی کی بھی پسند تھی اس رشتے میں۔‘‘ زوبیہ نے بتایا۔
’’افگن بھائی کب تک آرہے ہیں؟‘‘ ایمان نے فرح سے پوچھا تو زوبیہ اور فرح ایک دم چوکنا ہوئیں دونوں نے شہرینہ کو دیکھا‘ اس کے زاویے بگڑے ہوئے تھے۔
’’آجائیں گے وہ بھی۔‘‘ فرح نے کہا۔
’’تمہاری منگنی پر تو ہوں گے ناں؟‘‘
’’کنفرم نہیں۔‘‘ فرح نے کندھے اچکائے۔
زرینہ نے پھر سے فرح کے سسرالیوں کی کوئی بات چھیڑ دی تھی سب کا دھیان بٹ گیا لیکن شہرینہ کا دھیان الجھ گیا تھا۔ فرح نے کہا کہ شیر افگن یہاں نہیں ہے تو وہ مطمئن ہوکر آگئی تھی لیکن جس طرح کافی عرصے سے افگن کی طرف سے مسلسل خاموشی تھی وہ لاشعوری طور پر اس کے متعلق سوچنے ضرور لگی تھی یہ اور بات تھی کہ اس کی سوچ مثبت نہ تھی تاہم وہ اس کے متعلق کوئی بھی خبر سن کر چند پل کو ساکت ضرور ہوتی تھی۔
لیکن اس کا دل بوجھل ہونے لگا تو وہ ان میں سے اٹھ کر اپنا موبائل لیے باہر لان میں آگئی تھی۔
v…m…v
وہ رات دیر سے سوئی تھی لیکن صبح صبح اس کی آنکھ کھل گئی تھی۔ وہ باہر لان میں آئی اسے یہاں آئے کافی دن ہورہے تھے حویلی میں بڑی ماما (فائزہ بیگم) بھی آچکی تھیں اس کے علاوہ دونوں پھوپیاں اور ان کے بچے بھی تھے کافی رونق ہوچکی تھی۔ رات گئے تک ڈھولک وغیرہ کا پروگرام چلا تھا۔
وہ چند منٹ لان میں ہی ٹہلتی رہی اور پھر کسی کو بھی بتائے بغیر باہر نکل آئی‘ صبح کے ترو تازہ ماحول میں وہ کافی دور تک نکل گئی تھی۔ پکی سڑک پر لوگوں کی آمد و رفت شروع ہوئی تو وہ واپس پلٹی۔ حویلی کے گیٹ کے قریب آئی تو ایک سیاہ رنگ کی کار اندر جاتی دکھائی دی وہ حیران ہوئی اتنی صبح بھلا کون آگیا‘ وہ اندر آئی تو چونکی۔ گاڑی پاتھ وے پر کھڑی تھی۔ گاڑی سے شیر افگن اتر رہا تھا۔ وہ ٹھٹک کر رک گئی۔
اتنی صبح شیر افگن کی آمد جبکہ گاڑی بھی حویلی کی تھی جو خصوصی طور پر بابا صاحب کے استعمال میں رہتی تھی اور ڈرائیور بھی ان ہی کا تھا۔
شیر افگن نے اندر کی طرف قدم بڑھائے۔ ڈرائیور پچھلی سیٹ سے سامان نکال رہا تھا۔ دوسرے دروازے سے اسد باہر نکلا۔ شیر افگن اندر چلا گیا‘ وہ چلتے ہوئے اسد کے پاس آرکی۔
’’اتنی صبح کہاں سے آرہے ہو؟‘‘ رات گئے تک تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ڈھولک کی محفل میں رہا تھا اور اب افگن کے ساتھ اس کی آمد۔
’’افگن بھائی کو ایئر پورٹ سے لینے گیا تھا۔‘‘
’’وہ کب آئے۔‘‘
’’صبح تین بجے کی فلائٹ تھی‘ بابا صاحب کو کال کی تھی۔ انہوں نے مجھے ڈرائیور کے ساتھ لینے بھیجا تھا ابھی لے کر آیا ہوں۔‘‘ شہرینہ نے سر ہلایا۔
’’آپ کہاں سے آرہی ہیں؟‘‘
’’میں ذرا واک کے لیے نکلی تھی۔‘‘
’’اکیلی؟‘‘
’’کیوں یہاں اکیلے جانا منع ہے کیا؟‘‘
’’اکیلے جانا منع تو نہیں لیکن پھر بھی احتیاط کرنا چاہیے۔ اب آپ کا افگن بھائی سے جو رشتہ ہے اس لحاظ سے حویلی کی عورتیں اکیلی باہر نہیں نکلتیں۔‘‘ اس نے کہا تو شہرینہ نے ناگواری سے اسے دیکھا۔
’’میں پہلی بار حویلی نہیں آئی جو ان رولز کو فالو کروں‘ میں جب بھی آتی تھی اکیلے کہیں بھی چلی جاتی تھی۔‘‘ وہ مسکرا دیا۔
’’تب آپ صرف شہرینہ عثمان تھیں‘ اب آپ شہرینہ شیر افگن ہیں‘ پورا علاقہ شیر افگن کو جانتا ہے پھر احتیاط اچھی بات ہے۔‘‘ وہ کہہ کر ڈرائیور کے ساتھ سامان لے کر اندر کی طرف بڑھ گیا۔
’’آپ بھی آجائیں‘ شیر افگن بھائی سے مل لیں۔‘‘ جاتے ہوئے مسکرا کر کہا۔
شہرینہ نے تلخی سے اسے دیکھا وہ کہہ کر چلا گیا تھا جبکہ وہ کینہ توز نظروں سے اس کی پشت دیکھ رہی تھی۔ وہ اندر جانے کے بجائے کچھ دیر وہیں لان میں ہی ٹہلتی رہی اور پھر وہ اندر فرح کے کمرے میں آگئی۔
فرح سو رہی تھی‘ رات کی تھکن تھی جبکہ اسے اب شدید بھوک محسوس ہورہی تھی۔ وہ منہ ہاتھ دھو کر لباس تبدیل کرکے باورچی خانے میں آگئی۔ اس نے ملازمہ کو ناشتہ تیار کرنے کا کہا اور واپس کمرے میں آگئی‘ کچھ دیر بعد ملازمہ ناشتہ لیے اس کے کمرے میں تھی۔ ناشتہ کرنے کے بعد وہ کچھ دیر اپنے موبائل میں مصروف رہی اور پھر جلد ہی سو گئی اور جب سو کر اٹھی تو کمرے میں کوئی بھی نہ تھا‘ منہ ہاتھ دھو کر باہر نکلی تو بڑے ہال سے باتوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ وہ قریب آئی تو رک گئی۔
’’بس اچانک کام ختم ہوتے ہی آج کی فلائٹ مل گئی تھی تو فوراً چلا آیا۔‘‘ شیر افگن بتا رہا تھا۔
’’کسی نے ہمیں بتایا ہی نہیں ورنہ سب ہی جاتے تمہیں لینے۔‘‘ فرح نے کہا۔
’’میں نے منع کردیا تھا‘ تین بجے کی لینڈنگ تھی کیا سب کو زحمت دینا بس بابا صاحب کو اطلاع کردی تھی کہ کسی سے بھی ذکر نہ کریں ویسے مجھے اچانک دیکھ کر تمہیں تو خوشی ہونی چاہیے تھی۔‘‘ اس نے فرح سے کہا۔
’’ہاں خوشی تو مجھے واقعی بہت ہورہی ہے پتا نہیں آپ فنکشن میں سب کے ساتھ یہاں ہوتے کہ نہیں میں سوچ سوچ کر ٹینشن میں تھی۔‘‘
’’اسی فنکشن کے لیے ہی جلدی جلدی سب کام نبٹا کر آیا ہوں‘ وہاں پاپا کے ایک کلائنٹ کے ساتھ کچھ قانونی معاملات طے کرنے تھے اس لیے اتنی دیر ہوگئی…‘‘ وہ اور بھی نجانے کیا کیا کہہ رہا تھا۔ شہرینہ اندر جانے کے بجائے وہیں سے پلٹ گئی تھی۔
نجانے کیوں افگن سے سامنا کرنے کا دل ہی نہیں چاہ رہا تھا۔ لیکن شام کے وقت جب سب ہی ہال میں بیٹھی ہوئی تھی اماں بی نے اسے کسی کام سے کمرے میں بلوایا‘ ملازمہ پیغام لے کر آئی‘ وہ ان کے کمرے میں آئی تو ٹھٹکی۔ افگن بھی وہاں موجود تھا۔
کافی عرصے بعد یہ پہلا موقع تھا فائزہ بھی وہیں تھیں۔ دونوں کی نگاہیں ملیں‘ دونوں ہی ایک پل کو ساکت ہوئے لیکن شہرینہ فوراً سنبھل گئی تھی۔
’’آپ نے بلوایا تھا اماں بی۔‘‘
’’ہاں اِدھر آئو بیٹھو۔‘‘ انہوں نے اپنے قریب بیٹھنے کو کہا تو وہ بیٹھ گئی۔
’’یہ فائزہ نے تمہارے لیے بنوایا تھا‘ پہن کر دیکھو ٹھیک ہے۔‘‘ انہوں نے سونے کا ایک بریسلیٹ اسے دکھایا تو وہ حیران ہوئی۔
’’میرے لیے لیکن کیوں؟‘‘
’’لو اب تم اس کی بہو ہو‘ بیٹی کی منگنی پر خالی ہاتھ تھوڑا جانے دے گی۔ یہ پہن کر دکھائو۔‘‘ انہوں نے کہا تو شہرینہ کا جی چاہا کہ اپنا ماتھا پیٹ لے۔
وہ بڑے واضح انداز میں افگن سے متعلق بیزاری کا اظہار کرتی آرہی تھی۔ بڑے صاف الفاظ میں سب کو رخصتی بلکہ اس رشتے سے ہی انکار کرچکی تھی لیکن اماں بی یا باقی کسی پر بھی کوئی اثر نہ ہوا تھا۔
’’سوری… لیکن مجھے یہ سب پسند نہیں۔‘‘ اس کا انداز سنجیدہ تھا۔ فائزہ کے سامنے نکاح کے بعد پہلا موقع تھا جو کھل کر اس نے کسی بات کے لیے انکار کیا تھا بلکہ نکاح کے بعد حویلی میں ہی دونوں کا سامنا ہی اب ہوا تھا۔
’’کیوں بریسلیٹ اچھا نہیں لگا کیا؟‘‘
’’نہیں یہ تو خوب صورت ہے لیکن میں گولڈ نہیں پہنتی بلکہ جس حوالے سے آپ دینا چاہ رہی ہیں اس حوالے سے تو کبھی نہ لوں۔‘‘ اس کا انداز صاف‘ واضح اور تلخ تھا۔ فائزہ نے حیران ہوکر جبکہ اماں بی نے بہت سنجیدگی سے اسے دیکھا۔
’’تم ہماری بھانجی بھی ہو بیٹا۔‘‘ فائزہ نے کہا تو اس نے ایک گہرا سانس لیا اور کھڑی ہوگئی۔
’’بس ماہ آرأ کی بیٹی ہوں اور مجھے نہیں لگتا کہ ان کے حوالے سے میرا کسی سے کوئی خونی رشتہ ہوگا ہاں عثمان فاروق کے حوالے سے میں انکار نہیں کرتی لیکن یہ نہیں لے سکتی۔‘‘ وہ کہہ کر وہاں سے نکل گئی‘ افگن نے بہت سنجیدگی سے اسے جاتے دیکھا تھا۔ فائزہ حیران اور اماں بی پریشان ہوئیں۔
’’یہ کیا کہہ رہی تھی… یہ ماہ آرأ کو کیسے جانتی ہے؟‘‘ فائزہ پریشان ہوئیں۔
’’وہ سب جانتی ہے۔‘‘ اماں بی نے دھیمے لہجے میں کہا۔
’’مگر کیسے؟‘‘ جواباً اماں ہی نے تمام کہانی کہہ سنائی۔ فائزہ حیران و پریشان سن رہی تھیں۔
’’اتنا کچھ ہوگیا اور آپ نے ہوا تک نہ لگنے دی۔‘‘ انہوں نے شکوہ کیا۔
’’جو کچھ بھی ہوا وہ اس قدر قابل فکر تو نہ تھا کہ سب کو بتاتی‘ ویسے بھی ماضی کی راکھ کریدنے سے اب کیا حاصل۔‘‘
’’لیکن اماں بی آپ کو ہم سے تو ذکر کرنا چاہیے تھا… شہرینہ تو ماہ آرأ کی موت کے بعد بالکل ٹوٹ گئی ہوگی کم از کم اسی سے اظہار تعزیت کرتے۔‘‘
’’جو ہونا تھا ہوگیا… مٹی ڈالو‘ میری فائقہ کی آزمائش ختم ہوئی… عثمان کا رویہ بہت بدل گیا ہے۔‘‘
’’لیکن شہرینہ کا رویہ بھی کچھ بہتر نہیں۔‘‘ فائزہ کو تشویش لاحق تھی۔
’’ٹھیک ہوجائے گی۔ ہم نے بھی فی الحال اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا ہے۔‘‘
’’لیکن یہ اچھی بات نہیں‘ وہ مزید نیگٹیو ہوسکتی ہے‘ وہ اب صرف ماضی کی ماہ آرأ کی بیٹی نہیں بلکہ میرے افگن کی دلہن بھی ہے‘ یہ خوش آئند بات نہیں۔‘‘ وہ بہت فکر مند تھیں۔ افگن کچھ سوچتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ دونوں کو اس گفتگو میں الجھا ہوا چھوڑ کر باہر نکلا تھا۔
وہ لان کی سیڑھیوں پر بیٹھی ہوئی تھی۔ شارٹ شرٹ اور ٹائٹ کے ساتھ گلے میں دوپٹا جھول رہا تھا۔ وہ گم صم سی بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ ادھر آگیا تھا۔
’’کیسی ہو؟‘‘ وہ اپنی سوچوں میں گم تھی افگن کی آواز پر چونکی۔ سر اٹھا کر دیکھا۔ گزشتہ کچھ عرصے نے افگن کی صحت پر کافی خوشگوار اثرات مرتب کیے تھے۔ وہ پہلے سے بھی زیادہ صحت مند اور پُرکشش لگ رہا تھا۔ افگن اس کے پاس ایک سیڑھی چھوڑ کر بیٹھ گیا۔
’’بتایا نہیں تم نے کیسی ہو؟‘‘
’’میں نہیں سمجھتی کہ میری خیریت سے آپ کو کوئی سروکار ہونا چاہیے۔‘‘
’’کیوں بھئی… مجھے تو سروکار ہے‘ اس لیے تمہارے پیچھے چلا آیا ہوں۔‘‘ اس نے ہنس کر کہا۔ شہرینہ طنزیہ مسکرائی۔
’’نئی خبر ہے۔‘‘ وہ اب سامنے دیکھنے لگی اور شیر افگن اسے۔
’’محبتوں اور خلوص کی قدر نہ کریں تو وہ ہم سے چھن بھی سکتی ہیں اور اگر یہ ایک بار چھن جائیں تو واپس نہیں پلٹتیں۔‘‘ افگن نے کہا تو شہرینہ نے اسے دیکھا۔
’’محبت کی بات آپ کے منہ سے اچھی نہیں لگ رہی شیر افگن صاحب۔‘‘ وہ ہنس دیا۔
’’کچھ عرصہ میرے ساتھ رہ کر دیکھوں‘ میں یقین دلاتا ہوں تمہیں نہ صرف میرے منہ سے محبت کی بات اچھی لگے گی بلکہ میرا وجود بھی اچھا لگنے لگے گا۔‘‘ وہ استہزائیہ ہنس دی۔
’’بڑی خوش فہمی ہے جناب کو۔‘‘
’’لیکن غلط فہمی نہیں…‘‘ اس نے بھی فوراً کہا۔
دونوں خاموش ہوگئے اور خاموشی کچھ پل ہی رہی اور شہرینہ کھڑی ہوگئی۔
’’مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔ اگر آپ کے پاس وقت ہو تو مجھے بلا لیجیے گا۔ بات بہت اہم ہے مگر اس وقت نہیں کرسکتی۔‘‘
’’میں فارغ ہوں تم کہو۔‘‘ وہ بھی اس کے مقابل کھڑا ہوگیا۔
’’مجھے ڈائیوورس چاہیے۔‘‘ قطعی انداز تھا۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر شیر افگن چند پل کو ساکت رہا۔
’’اگر میں انکار کردوں تو…‘‘ وہ بھی از حد سنجیدہ ہوا۔
’’تو پھر میں آپ کے چچا کو مجبور کروں گی کہ وہ یہ اقدام اٹھائیں۔‘‘ وہ تلخ ہوگئی تو وہ ہنس دیا۔
’’وہ ایسا کبھی نہیں کریں گے۔‘‘
’’تو پھر میں ذاتی طور پر کورٹ میں جائوں گی۔‘‘ افگن کے چہرے کی مسکراہٹ ختم ہوگئی۔
’’کورٹ ڈائیوورس لینے کی ریزن مانگے گا۔‘‘
’’ریزن دینا میرا کام ہے۔‘‘ وہ مزید تلخی سے بولی۔
’’وکیل میں ہوں ہماری عدالتوں میں ڈائیوورس لینا اتنا آسان نہیں ہے۔‘‘
’’وہ بعد میں دیکھیں گے۔‘‘ وہ اٹل لہجے میں بولی۔ افگن کی آنکھوں میں سرخی پھیلنے لگی۔
’’تو ٹھیک ہے… بڑوں کو راضی کرلو‘ کورٹ میں ہی ملیں گے پھر۔‘‘ وہ دو ٹوک الفاظ میں کہہ کر جیسے آیا تھا ویسے ہی چلا بھی گیا اور شہرینہ… وہ عجیب سے بے حس انداز میں اسے جاتے دیکھ رہی تھی۔
v…m…v
فائزہ بیگم نے ماہ آرأ کی تعزیت کی اور تمام صورت حال پر افسوس کا اظہار کیا وہ خاموش ہی رہی۔
’’یہ مت سمجھنا کہ تمہارا ہم سے کوئی سوتیلا رشتہ ہے‘ تم نے فائقہ کی کوکھ سے جنم نہیں لیا تو کیا ہوا‘ تم عثمان فاروق کی بیٹی ہو اور ہمیں ہماری فرح کی ہی طرح عزیز ہو بلکہ اب تم ہماری بہو ہو تو فرح سے بھی بڑھ کر عزیز ہو۔‘‘ شہرینہ اب بھی خاموش رہی۔
’’ہم نے تمہیں کبھی سوتیلا نہیں سمجھا اس لیے تم کوئی غلط بات مت سوچنا۔‘‘ وہ اب بھی خاموش تھی۔ وہ اس کے پاس کافی تک بیٹھی تھیں۔
شایان اور اسد باہر جانے کے لیے نکل رہیے تھے۔ لڑکیاں بھی ان کے سر ہوگئیں۔ وہ جب سے آئی تھی حویلی میں ہی تھی ان سب کا خیال تھا کہ فارم ہائوس کی طرف گھومنے نکلیں اماں بی سے اجازت مل گئی تھی انہوں نے اسد اور شایان کو ساتھ چلنے کے لیے راضی کرلیا تھا۔
شہرینہ بھی ساتھ جانے کو راضی تھی۔ وہ عصر کے قریب فارم ہائوس آئے تھے۔ فارم ہائوس کے ساتھ باغ تھا جس میں امرود کے درخت تھے لڑکیوں کے لیے یہ ایک خوش گوار تفریح تھی۔ کھانا ساتھ تھا سب ہی نے خوب انجوائے کیا تھا۔ شایان اور اسد گھڑ سواری کے لیے اصطبل کی طرف چلے گئے‘ شایان نے ایک دو چکر لگائے تو گھڑ سواری کی شوقین شہرینہ کا دل مچلنے لگا۔
’’شایان… میں بھی رائیڈنگ کروں گی۔‘‘ وہ اصطبل کے باہر کھڑی زور سے چلائی۔
’’نہیس بھئی ماضی کے تجربات گواہ ہیں کہ تم کوئی مصیبت ہی لاتی ہو… اس بار سختی سے انکار ہے۔‘‘
’’لیکن مجھے ضرور کرنی ہے۔‘‘
’’شیر افگن بھائی اِدھر فارم ہائوس میں ہی ہیں‘ انہیں خبر ہوگئی تو میری شامت آجائے گی۔‘‘ وہ گھڑ سواری کرتے ہوئے دور سے کہہ رہا تھا۔ شہرینہ نے حیران ہوکر زوبیہ کو دیکھا۔
وہ اور زوبیہ دونوں اصطبل کے احاطے کے پاس تھیں جبکہ باقی تینوں امرود کے باغ میں تھیں۔
’’یہ شیر افگن کب آیا؟‘‘
’’یہ تو ہماری آمد سے پہلے ہی یہاں موجود تھے بلکہ جب ہم آئے تھے تو چوکیدار نے ہی اطلاع دی تھی کہ افگن صاحب دوپہر سے یہاں ہیں کچھ دوست ساتھ تھے‘ دوست تو چلے گئے خود اندر روم میں سو رہے ہیں۔‘‘
’’تو کیا ہوا‘ میں اس سے کون سا ڈرتی ہوں… ادھر آئوں اور گھڑ سواری نہ کروں امپاسبل ہے اب تو لازمی کرنی ہے۔‘‘ اس کا انداز اٹل تھا۔ زوبیہ نے اسے دیکھا‘ اسے سمجھانا بے کار تھا۔
’’شایان یہ گھوڑا مجھے دے دو۔ تم اسد کے ساتھ مل جائو‘ مل کر ریس لگاتے ہیں۔‘‘ اس نے اونچی آواز میں کہا۔ شایان نے گھوڑا اس کے قریب لا کر کھڑا کردیا۔
’’دماغ تو ٹھیک ہے… یہ شیر افگن بھائی کا گھوڑا ہے ہر ایک کے قابو میں نہیں آنے والا۔‘‘
’’ہائو کیئر۔‘‘ وہ غصے سے بولی۔
’’جب میں نے کہہ دیا کہ میں رائیڈنگ کروں گی تو لازمی کروں گی… بار بار اس ہلاکوخان کا نام لے کر مجھے غصہ مت دلائو۔‘‘ شایان ہنس دیا۔
’’سچ کہہ رہا ہوں‘ یہ گھوڑا ہر کسی کے قابو میں نہیں آتا۔‘‘ بار بار بدکتے گھوڑے کو شایان نے حقیقتاً بڑی مشکل سے قابو کیا ہوا تھا۔
’’تم نیچے اترو فورًا اسد والا تم لے لو۔ مجھے اس پر سواری کرنی ہے۔‘‘ وہ ضد پر اتر آئی۔
’’افگن بھائی سے پوچھ لو پہلے۔‘‘
’’میں کسی کی غلام نہیں کہ اس سے اجازت لیتی پھروں‘ اترو نیچے۔‘‘ وہ غصے سے بولی تو وہ نیچے اتر گیا۔
دوسرا گھوڑا شایان نے لے لیا اسد نیچے اتر گیا تھا۔ شہرینہ گھوڑے پر بیٹھی تو وہ بدکنے لگا‘ اس نے ایک دو بار تھپکی دی تو وہ نارمل ہوگیا۔
’’وہ پوائنٹ دیکھ رہے ہو۔‘‘ اس نے تین کلو میٹر دور ایک برقی کھمبے کی طرف اشارہ کیا۔ ’’وہاں تک پہنچنا ہے جو پہلے واپس اسی پوائنٹ تک پہنچا وہ ونر۔‘‘ اس نے کہا تو شایان ہنس دیا۔
’’اگر میں جیت گیا تو کیا انعام ہوگا۔‘‘
’’جو کہو گے ملے گا۔‘‘
’’سوچ لو۔‘‘ اس نے شرارت سے دیکھا۔
’’سوچ لیا۔‘‘
’’چاہے کوئی بات منوالوں۔‘‘
’’بالکل۔‘‘ وہ جذؓباتی لڑکی تھی جذباتیت میں وہ نفع نقصان بھول جاتی تھی اس وقت بھی سب بھول بھال کر اس شرط پر راضی ہوگئی۔
’’مکر نا نہیں۔‘‘ اس نے ایک بار پھر یاددہانی چاہی۔
’’نہیں۔‘‘ وہ ہنس دی۔
’’بڑی بات ہے‘ اتنے اڑیل گھوڑے کو تم نے نجانے کیسے قابو کرلیا مجھ سے تو بڑا بدک رہا تھا۔‘‘
’’اپنی اپنی پرسنالٹی ہے۔‘‘ وہ اترائی‘ زوبیہ اور اسد دونوں کو دیکھ کر ہنس رہے تھے۔
’’اوکے ریس شروع۔‘‘ شایان نے کہا تو اس نے سر ہلایا۔
’’ون… ٹو… تھری…‘‘ اسد نے گنتی کرکے بھاگنے کا اشارہ کیا۔
گھوڑوں نے بڑی تیزی سے بھاگنا شروع کردیا گھوڑے اصطبل سے نکلے تو افگن باہر آیا وہ نیند سے اٹھا تھا۔ وہ اسد اور زوبیہ کو دیکھ کر چونکا۔
’’تم لوگ یہاں…؟‘‘
’’یہاں ہم فارم ہائوس کی سیر کے لیے آئے تھے۔ ایمان‘ زائشہ اور فرح ادھر امرود کے باغ میں ہیں اور ہم یہاں۔‘‘ افگن نے اصطبل کی طرف دیکھا۔ دونوں گھوڑے غائب تھے۔
’’گھوڑے کہاں ہیں؟‘‘ زوبیہ ہنس دی۔
’’شایان اور شہرینہ میں ریس لگی ہوئی ہے۔ دونوں کو وہ جو دور سے کھمبا نظر آرہا ہے اس پوائنٹ سے ہوکر واپس آنا ہے۔‘‘ اسد نے بتایا۔
’’مائی گاڈ…! شہرینہ بھی ساتھ ہے؟‘‘
’’بتا تو رہا ہوں اسی نے شایان کے ساتھ ریس لگائی ہے۔‘‘ اسد نے مزید بتایا تو وہ پریشان ہوگیا۔
’’وائٹ گھوڑا کس کے پاس ہے؟‘‘ افگن اپنے گھوڑے کے بارے میں بہت حساس تھا غصے سے پوچھا۔
’’آپ کی نصف بہتر اسی پر سوار ہیں۔‘‘ زوبیہ نے ہنس کر کہا تو افگن کے چہرے پر ایک دم سخت تشویش ابھری۔
’’نان سینس‘ ایڈیٹ… وہ تو میرے علاوہ کسی اور کے قابو میں ہی نہیں آتا وہ کیوں اس پر گئی؟‘‘ وہ غصے اور اضطراب سے ٹہلنے لگا تھا۔
v…m…v
وہ دونوں بیک وقت اس مقام تک آئے اور اس مقام تک پہنچ کر دونوں نے فوراً گھوڑوں کو واپس کے لیے موڑا تھا۔ شایان کا گھوڑا کافی چست تھا اور شہرینہ وہ پریشان ہورہی تھی۔ اسے اب پتا چل رہا تھا کہ یہ گھوڑا کوئی عام گھوڑا نہیں تھا۔ وہ بہت اڑیل تھا نجانے وہ اسے کیسے قابو میں رکھے ہوئے تھی۔ گھوڑا اپنی پوری رفتار سے بھاگ رہا تھا جبکہ شایان کا گھوڑا ابھی پیچھے تھا کچھ اور آگے آکر گھوڑے نے بھاگنے سے انکار کرکے اچھلنا شروع کردیا شہرینہ بڑی مشکل سے اس کی باگیں تھامے اسے قابو کرنے کی کوشش میں تھی لیکن گھوڑا اپنی پر اتر آیا تھا۔ گھوڑے کو بمشکل قابو میں کرتے ہوئے شہرینہ نے سیدھا لے جانا چاہا تھا جو فارم ہائوس کا رستہ تھا لیکن گھوڑا سیدھا جانے کے بجائے بائیں طرف مڑگیا بائیں طرف نہر کی پٹری تھی۔ یہ فارم ہائوس نہر کے عقبی سمت میں کچھ فاصلے پر تھی کنارے پر کچھ کھیت تھے اور پھر فارم ہائوس تھا۔
شہرینہ کے ہاتھوں کے اب حقیقتاً طوطے اڑے تھے گھوڑا رفتار سے سر پٹ نہر کی پٹری پر بھاگ رہا تھا۔ شہرینہ کے اختیار سے بالکل باہر تھا۔ وہ اس قدر رفتار سے بھاگ رہا تھا کہ اب شہرینہ کو لگ رہا تھا کہ وہ کسی بھی لمحے گھوڑے سے نیچے کر جائے گی کچھ دیر بعد وہ واقعی نیچے گر گئی لیکن بدقسمتی سے اس کا پائوں زین میں پھنس گیا تھا وہ تھوڑی دور تک گھوڑے کے ساتھ گھسیٹتی رہی اور پھر اس کی چیخیں بے اختیار نکل رہی تھیں۔
گھوڑے کی رفتار اتنی زیادہ تھی کہ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا اور چند لمحوں بعد اس کا پائوں زین سے نکلا تو وہ دھڑام سے نیچے گری نجانے نیچے کیا چیز تھی اس کا سر اس سے لگا اور پھر اس کے بعد شہرینہ کو کوئی ہوش نہ رہا تھا۔
v…m…v
شایان نے شہرینہ کے گھوڑے کو بے قابو ہوتے اور غلط سمت میں مڑتے دیکھا تھا اس کے اوسان خطا ہوگئے تھے اس نے اپنے گھوڑے کی رفتار بڑھائی لیکن سفید گھوڑا اس بالکل بے قابو ہوچکا تھا اس کی رفتار شایان کے گھوڑے کی رفتار سے بہت زیادہ تھی۔ وہ کافی آگے جاچکا تھا شایان نے گھوڑے کی لگامیں کھینچیں اس نے فوراً جیب سے موبائل نکال کر اسد کو کال کی۔
’’شہرینہ کا گھوڑا بے قابو ہوچکا ہے وہ نہر کی پٹڑی کی طرف نکل گیا ہے۔ وہ کسی طرح قابو میں نہیں آرہا۔ میں اسی طرف جارہا ہوں فوراً کسی کو بھیجو۔‘‘ اس نے کال کاٹی اور پھر تیزی سے گھوڑے کو بھگایا تھا۔
v…m…v
افگن پریشانی میں ٹہل رہا تھا جب اسد کے پاس شایان کال آئی اس نے افگن کو بتایا تو اس کا رنگ اڑ گیا تھا۔ اس نے فوراً ملازمین کو آوازیں دینا شروع کردیں اور خود تیز رفتاری سے اصطبل میں سے تیسرا گھوڑا نکال کر اسد کو چند ہدایات دیتے ہوئے گھوڑا سرپٹ دوڑا دیا تھا۔
یہ گھوڑے ان کے پالتو تھے جو ان کے سدھائے ہوئے تھے اور بار برداری کے بھی کام آتے تھے لیکن اب شہرینہ جو کر چکی تھی اس کے بارے میں سوچ کر افگن کا مارے پریشانی کے براحال تھا۔ وہ شایان کے پیچھے جانے کی بجائے دوسری سمت سے نہر کی پٹڑی کی طرف آیا تھا۔
اس نے دیکھا سفید گھوڑا بہت تیزی سے بھاگ رہا تھا۔ وہ ابھی کافی دور تھا کہ اس نے شہرینہ کو گرتے اور گھوڑے کے ساتھ گھیسٹتے اور پھر نیچے گرتے دیکھا دوسری طرف سے شایان بھی پہنچ گیا تھا۔ شایان کو شہرینہ کے قریب رک کر گھوڑے سے چھلانگ لگاتے دیکھ کر افگن وہیں سے مڑ گیا۔
کچھ دیر میں اس نے سفید گھوڑے کو جالیا تھا اور پھر اپنا گھوڑا چھوڑ کر وہ اس پر کود گیا تھا۔ بہت مشکل سے وہ قابو کر پایا تھا۔ وہ واپس پلٹا شہرینہ کے پاس آکر رکا۔
شہرینہ بے ہوش تھی اور شایان اسے ہوش میں لانے کی کوشش کررہا تھا۔ سر پر چوٹ لگی تھی خون تیزی سے بہہ رہا تھا۔
’’مائی گاڈ۔‘‘ افگن از حد پریشان ہوا۔
’’یہ تو بہت انجرڈ ہے۔‘‘ اس نے اسے فورا سیدھا کیا۔
وہ سمجھ سکتا تھا کہ شہرینہ کوئی عام لڑکی نہ تھی جو اس قدر جلدی بے ہوش ہوجاتی یقینا چوٹ کافی شدید تھی۔
’’اس کو فارم ہائوس لے چلیں۔‘‘ افگن نے وقت ضائع کیے بغیر فوراً کہا۔
’’لیکن کیسے یہ بے ہوش ہے۔‘‘ شایان پریشان ہوا۔
’’میں لے جاتا ہوں تم دوسرے گھوڑے کو لے کر جلدی پہنچو۔‘‘ شایان کی مدد سے بے ہوش شہرینہ کو بمشکل سنبھالتے شیر افگن خود بھی گھوڑے پر سوار ہوگیا تھا۔
وہ اسے لے کر فارم ہائوس آیا تو سب ہی لڑکیوں کی شہرینہ کو دیکھ کر چیخیں نکلی گئی تھیں وہ لڑکیوں کی مدد سے اسے اندر کمرے میں لے آیا تھا۔ شہرینہ کے سر سے ابھی بھی خون بہہ رہا تھا وہ مسلسل بے ہوش تھی۔ افگن نے کسی کو کال کی اور پھر اسے فوراً پہنچنے کو کہا غالباً ڈاکٹر تھا۔
’’پانی لائو۔‘‘ اس نے پریشان سے فرح کو کہا اور خود شہرینہ کے پاس بیٹھ گیا۔
’’شہری…‘‘ وہ اسے آوازیں دے رہا تھا۔ جبکہ زوبیہ اور ایمان اس کے ہاتھ پائوں ملنے لگیں۔
’’شہرینہ… شہرینہ…!‘‘ لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔
خون سے تکیہ رنگین ہورہا تھا اور شیر افگن کا آف وائٹ سوٹ جابجا خون سے رنگین ہوگیا تھا۔
فرح پانی لائی اور اس کے منہ پر چھینٹے مارے لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا‘ افگن نے تولیے سے اس کے سر کا زخم چیک کرتے ہوئے خون صاف کیا ادھر کوئی فرسٹ ایڈ باکس تو تھا نہیں جو فوراً مرہم پٹی کرتا۔
’’اگر زیادہ مسئلہ ہے تو کسی اسپتال لے چلتے ہیں۔‘‘ اسد نے کہا تو افگن خاموش رہا۔ کچھ دیر بعد ڈاکٹر آگیا اور ساتھ ہی شایان بھی۔
ڈاکٹرکی موجودگی میں شہرینہ پر چادر ڈال کر سب لڑکیاں باہر نکل گئی تھیں۔ شایان‘ اسد اور افگن پاس رک گئے تھے۔
’’چوٹ کیسے لگی؟‘‘
’’گھوڑے سے گر گئی تھیں۔‘‘ وہ زخم صاف کرکے خون روکنے کا بندوبست کرنے لگے۔ خون رکا تو اب وہ اسے ہوش میں لانے کی کوشش میں تھے۔ اس نے دو تین انجیکشن لگائے۔
تھوڑی دیر بعد شہرینہ کے وجود میں حرکت ہوئی۔ وہ کراہ رہی تھی اور پھر اس نے آنکھیں کھولیں۔ آنکھیں کھولنے پر اسے سب سے پہلے جو چہرہ دکھائی دیا وہ شیر افگن کا تھا بہت پریشان اور الجھا ہوا۔ وہ حواسوں میں نہیں تھی اس نے دوبارہ آنکھیں بند کرلیں۔
’’شہرینہ۔‘‘ افگن نے ایک دم پریشان ہوکر پکارا تو اس نے پھر آنکھیں کھولیں۔
’’کیسی ہو اب؟‘‘ اس نے پوچھا مگر وہ خاموش رہی۔ اسے اپنے سر سے درد کی ٹیسیں اٹھتی محسوس ہورہی تھیں‘ تکلیف کے آثار اس کے چہرے پر نمایاں تھے۔
’’ری لیکس‘ ٹیک اٹ ایزی۔‘‘ درد کی وجہ سے اس کی آنکھوں سے پانی بہا تو افگن نے فوراً اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
’’سب ٹھیک ہوجائے گا ڈونٹ وری۔‘‘ اس نے تسلی دی۔ شہرینہ نے آنکھیں بند کرلیں تو کئی آنسو ٹوٹ کر سائیڈوں پر گرے تھے۔
’’زخم کافی گہرا ہے لیکن پریشانی والی بات نہیں۔‘‘ ڈاکٹر نے تسلی دی۔
’’کوئی اور زخم تو نہیں؟‘‘ ڈاکٹر نے پوچھا تو افگن نے شہرینہ کو دیکھا۔
’’شہرینہ۔‘‘ اس نے آنکھیں کھولیں۔
’’کہیں اور درد وغیرہ تو نہیں؟‘‘ وہ خاموش رہی۔
اس نے لیٹے لیٹے ہی اپنے ہاتھ پائوں ہلانے چاہے لیکن بایاں پائوں اس سے نہیں ہلایا گیا وہاں شدید درد تھا۔ اس نے دوبارہ پائوں کو حرکت دی تو حلق سے چیخ نکل گئی۔
’’میرا پائوں۔‘‘ زین میں پھنس جانے کی وجہ سے اس کا پیر کافی زخمی تھا۔ ڈاکٹر نے دونوں پیر دیکھے اور پھر بایاں پیر دیکھ کر ایک گہرا سانس لیا پیر پر جابجا نیل تھے ساتھ سوجن بھی تھی۔
’’آئی تھنک پائوں کی ہڈی فریکچرہ ہوگئی ہے۔‘‘ پیر میں شدید درد اٹھ رہا تھا ڈاکٹر نے پیر پر ہاتھ رکھا تو شہرینہ کی چیخیں بے اختیار تھیں۔
’’پلیز ڈونٹ ٹچ می۔‘‘
’’میرا خیال ہے کہ انہیں کسی اچھے سے اسپتال لے جائیں تو زیادہ بہتر ہے۔‘‘ ڈاکٹر نے حتمی رائے دی۔
گاڑی موجود تھی افگن نے حویلی کال کرکے دوسری گاڑی لانے کو کہا اور اسد کو ہدایت کی کہ دوسری گاڑی آتے ہی وہ تمام لڑکیوں کو لے کر حویلی چلا جائے۔ وہ اور شایان شہرینہ کو لے کر نزدیکی اسپتال جا رہے ہیں۔
فرح نے بھی ساتھ چلنے پر اصرار کیا تو افگن اسے ساتھ لے آیا باقی سب کو اسد کے ساتھ حویلی چلے جانے کی تاکید کردی تھی۔
اسپتال آکر وہ اسے ایمرجنسی میں لے آئے‘ تحصیل کی سطح پر یہ ایک اچھا پرائیوٹ اسپتال تھا۔ انہیں فوراً دیکھا گیا۔ پیر کی ہڈی فریکچر تھی‘ ڈاکٹر نے فوری طبی امداد دینا شروع کردی تھی۔
v…m…v
رات کو حویلی سے فائزہ بیگم‘ اماں بی اور پھوپو بھی آگئی تھیں۔ شہرینہ کو روم میں شفٹ کردیا گیا تھا۔ وہ غنودگی میں تھی۔ افگن نے سب ہی لڑکیوں‘ اسد اور شایان سب کو سختی سے اصل بات بتانے سے منع کردیا تھا اماں بی کو بھی اس نے یہی بتایا تھا کہ وہ درخت سے گر گئی تھی۔ وہ رات سارا وقت اسپتال میں رہے‘ اگلے دن وہ ہوش میں آئی تو اسے بخار نے آلیا تھا جسم شدید درد کررہا تھا۔
جسم کے روئیں روئیں میں درد تھا لیکن وہ کسی سے بھی کہنے سے قاصر تھی۔ افگن مسلسل اس کے پاس تھا۔ شایان ساتھ تھا فرخ‘ فائزہ بیگم‘ اماں بی اور پھوپو سب ہی پریشان تھیں۔
اگلے دن دوپہر تک وہ اسپتال رہی اور پھر اس کے چند ٹیسٹ لینے کے بعد ڈاکٹر نے اسے ڈسچارج کردیا تھا۔
فرح‘ فائزہ‘ پھوپو اتنے لوگ تھے اسے سہارا دینے والے وہ لوگ گھر آگئے تھے۔ حویلی آکر بھی اسے کمرے میں لٹا دیا گیا تھا۔ کسی نے بھی اسے حادثے کی وجہ کو موضوع گفتگو نہیں بنایا‘ افگن نے اسے سختی سے منع کردیا تھا کہ وہ کسی سے بھی کوئی بات نہیں کرے گی۔ وہ کمرے میں بند ہوکر رہ گئی تھی۔ پرہیزی کھانے پھل اور جوسز وغیرہ اس کے کمرے میں رکھ دیے گئے تھے۔
ہر کوئی اس کی تیمارداری کے لیے سر گرم عمل تھا گھر آنے کے بعد افگن کمرے میں نہیں آیا تھا۔ رات میں فرح نے سب کو جاکر سونے کا کہا‘ وہ فرح کے ساتھ ہی تھی۔ فرح اس کا خیال رکھ رہی تھی رات گئے افگن کمرے میں آیا۔
’’کیسی طبیعت ہے اب اس کی؟‘‘ وہ آنکھیں بند کیے لیٹی ہوئی تھی جب افگن کی آواز پر ساکت ہوئی۔
’’چوٹ اور پھر فریکچر ہوا ہے اب تو کچھ دن لگیں گے سب زخم کور ہونے میں۔‘‘
’’کوئی مسئلہ تو نہیں‘ ڈاکٹر کی تو ضرورت نہیں؟‘‘
’’نہیں سو رہی ہے ابھی تو‘ میڈیسن دی ہے اسے‘ شاید یہ اب رات بھر سوئے۔‘‘
’’تم ایسا کرو آرام کرو میں اس کے پاس ہوں۔‘‘ اس نے فرح سے کہا۔
’’آرام کی تو آپ کو بھی ضرورت ہے۔‘‘
’’ڈونٹ وری‘ گھر آکر دو تین گھنٹے آرام کرلیا تھا‘ تم ریسٹ کرو دو دن بعد فنکشن ہے تمہارے لیے نیند زیادہ ضروری ہے۔‘‘
’’لیکن آپ…‘‘
’’اٹس اوکے… میرے روم میں چلی جائو ورنہ ادھر بیڈ پر لیٹ جائو۔‘‘ افگن نے کہا۔ اس نے چند پل افگن کو اور پھر شہرینہ کو دیکھا۔
وہ جانتی تھی شہرینہ سوئی ہوئی نہیں ہے محض آنکھیں بند کیے ہوئے تھی‘ وہ مسکرائی۔
’’میں آپ کے روم میں چلی جاتی ہوں۔‘‘ وہ چلی گئی۔
شہرینہ عجیب سی بے بسی میں تھی اس وقت وہ افگن کے ساتھ کمرے میں تنہا تھی۔ افگن فرح کے جانے کے بعد بیڈ کے قریب آیا اور بستر کے کنارے بیٹھا تو شہرینہ کا دل عجیب سے انداز میں دھڑکا تھا اس نے شہرینہ کی نبض چیک کی‘ اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھا تو شہرینہ کی پلکیں لرزنے لگیں۔
’’شہرینہ…‘‘ اس نے پکارا تو اس کی آنکھوں کی لرزش ایک دم بڑھ گئی تھی۔
’’شہرینہ جاگ رہی ہو؟‘‘ اس نے دوبارہ پوچھا۔
’’شہری۔‘‘ افگن کے لہجے میں نجانے کیا تاثر تھا۔
اس پکار میں کیسی تاثیر تھی کہ شہرینہ کی پلکیں بے اختیار نیم وا ہوئیں‘ افگن اسے دیکھ رہا تھا۔ تھوڑا سا اس کی طرف جھکا۔
’’کیسی ہو؟‘‘ اس کے لہجے میں نرمی تھی۔
وہ اس شخص سے ہر موڑ پر نفرت کا اظہار کرتی آئی تھی حتیٰ کہ ایک دن پہلے اس سے واضح الفاط میں طلاق کی بات کرچکی تھی اور اب اس کے کرم کی بارش میں بھیگ رہی تھی۔
’’کہیں زیادہ درد تو نہیں؟‘‘ وہ نرم لہجے میں پوچھ رہا تھا اور ساتھ ہی اس کے الفاظوں میں عجیب سی گرمی بھی تھی۔ اس نے ہاں میں سر ہلایا تو افگن چونکا۔
’’کہاں؟‘‘
’’میرے سارے جسم میں شدید درد ہے۔‘‘ وہ آہستہ سے بولی تو افگن ایک پل کو لاجواب ہوگیا۔
’’ڈونٹ وری‘ سب ٹھیک ہوجائے گا بلکہ کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے کہو۔‘‘
’’پاپا‘ ماما کو اطلاع کردی؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’نہیں‘ منگنی پر آئیں گے تو علم ہو ہی جائے گا۔‘‘ شیر افگن کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن اس کے مزاج پر کیا بات گراں گزر جائے یہ سوچ کر خاموش رہا۔
رات کے کسی پہر اس کی آنکھ لگ گئی لیکن پائوں کے درد کی وجہ سے آنکھ کھلی تو وہ اس کے ساتھ تھا۔ مکمل طور پر دھیان رکھے ہوئے۔ وہ ساری رات شہرینہ کی عجیب سے اضطراب میں گزری تھی۔ وہ عجیب سے دوراہے پر آگئی تھی۔
صبح کے قریب وہ نڈھال سی تھی اور شیر افگن اس کی دلجوئی کررہا تھا۔ تسلی و دلاسہ دے رہا تھا۔ اگلے دن کا سورج طلوع ہوا تو شہرینہ کو لگا کہ اس کا وجود گویا پتھر بن گیا ہو۔
وہ اب تک شیر افگن سے ’’مجھے تم سے نفرت ہے‘‘ کہتی اس سب کا جینا حرام کیے ہوئے تھی اور اب ایک دم اس کا دل بدلنے لگا تھا۔
صبح کے قریب فرح کمرے میں آئی اور شیر افگن چلا گیا لیکن شہرینہ کو لگ رہا تھا کہ اس کے تمام احساسات بھی اپنے ساتھ لے گیا ہو‘ اگلا دن اس کے لیے بڑا تکلیف دہ تھا۔
فرح کے سسرال سے بہت لوگ اس کی عیادت کو آئے تھے وہ کافی دیر رکے رہے‘ ان کے جانے کے بعد وہ دوبارہ بستر پر دراز ہوئی۔ اس کے جسم پر جگہ جگہ نیل کے نشان تھے فرح مختلف نشانوں پر مرہم لگا رہی تھی۔
’’میرے بھائی بہت اچھے ہیں۔ ہم میں سے کوئی بھی بیمار ہوجائے تو وہ ہمارے لیے ساری ساری رات جاگتے رہتے ہیں‘ ان کے دل میں ہمارے لیے جو احساسات ہیں وہ شاہد ہی کسی اور بہن بھائی میں ہو وہ تم سے شدید محبت کرتے ہیں… میں دیکھ رہی ہوں وہ تین دن سے بے حد پریشان ہیں‘ انہیں صرف تمہاری پروا ہے۔‘‘ وہ اسی کے زخموں پر مرہم لگاتے ہوئے دھیرے دھیرے بتا رہی تھی۔ شہرینہ کو لگ رہا تھا کہ اس کے دل کی کیفیت بدل رہی ہے۔ وہ لیٹی ہوئی نیم غنودگی میں تھی۔
شیر افگن کمرے میں آیا تو اس نے اشارے سے فرح کو بولنے سے منع کیا مبادا اس کی نظر نہ پڑ جائے۔ وہ خاموشی سے باہر نکل گئی تو وہ اس کے پاس آبیٹھا۔ اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھا تو وہ جل رہی تھی۔
’’شہری۔‘‘ اس نے پکارا تو اس نے جھٹ آنکھیں کھول دیں۔
’’کل فرح کی منگنی کا فنکشن ہے… میں نے بابا صاحب اور اماں بی سے بات کی ہے تمہیں یہ رشتہ قبول نہیں اب وہی ہوگا جو تم چاہو گی تمہیں زبردستی یہ رشتہ نبھانے پر کوئی مجبور نہیں کرے گا۔‘‘ وہ گم صم اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ اپنی بات کے اختتام پر مسکرایا۔
’’چچا جان اور خالہ آرہی ہیں ان سے بھی بات ہوجائے گی اوکے۔‘‘ وہ بے یقینی سے اسے دیکھتی رہی۔
’’پیپرز بنوا لیے ہیں میں نے۔ جیسا تم چاہو گی ویسا ہی ہوگا… زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔‘‘ یہی تو وہ چاہتی تھی اور اب وہ مژدہ جاں سنا رہا تھا تو اتنی ساکت کیوں تھی اسے تو خوش ہونا چاہیے تھا‘ ایک ناپسندیدہ انسان اور اس رشتے سے جان چھوٹ رہی تھی لیکن وہ ساکت تھی۔ اس کی آنکھوں میں کچھ لمحے آٹھہرے‘ وہ بے ہوش تھی۔ جب اسے ہوش آیا تو اس کی نگاہوں کے سامنے جابجا خون کے دھبوں سے رنگین وہ قمیص تھی اور پھر جس طرح وہ اس کے لیے خوار ہوا‘ وہ تو جنون کی حد تک اس سے نفرت کرتی تھی پھر اس کا احساس کیوں بدل رہا تھا‘ اس کے جنون کی جگہ یہ کون سا نیا جذبہ لے رہا تھا‘ وہ چند پل بیٹھا اسے دیکھتا رہا‘ وہ اٹھنے لگا تو شہرینہ کے لبوں سے ایک سسکی سی نکل گئی۔
’’کیا ہوا؟‘‘ شہرینہ نے بازو اس کی طرف بڑھایا۔
’’مجھے بیٹھنا ہے‘ لیٹے لیٹے میری کمر دکھنے لگی ہے۔‘‘ افگن نے اس کا بازو پکڑ کر سہارا دے کر اسے بستر پر بٹھا دیا۔
’’ماما پاپا کو اس ایکسیڈنٹ کا علم ہے کیا؟‘‘ اس نے افگن کو بغور دیکھا۔
’’نہیں… میں نے انہیں پریشان کرنا مناسب نہیں سمجھا۔‘‘ وہ خاموش رہی۔
’’کسی اور چیز کی ضرورت تو نہیں؟‘‘ افگن نے پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلایا۔ وہ کچھ دیر کھڑا رہا اور پھر چلا گیا وہ اسی طرح بیٹھی رہی۔ اس پر دواؤں کی غنودگی چھانے لگی تو وہ لیٹ گئی۔ وہ نیم غنودگی کی کیفیت میں تھی اس کے کانوں میں کچھ آوازیں آئیں۔ اماں بی‘ فائزہ اور فرح تھیں کمرے میں۔
v…m…v
’’ماہ آرأ نے جو کچھ کیا اس کے بعد ہم نے اپنا دل وسیع کرلیا تھا صرف اور صرف اپنی بیٹی فائقہ کے لیے شہرینہ ہمارا خون تھی ہم خود غرض نہیں ہیں ہم نے ساری عمر کبھی اسے ان چاہا ہونے کا احساس نہیں ہونے دیا لیکن اب آکر ہمارا دل دکھنے لگا ہے‘ فائقہ نے تو ماں بن کر پالا تھا لیکن ماہ آرأ کو دیکھ کر وہ سب بھول گئی‘ اب اسے نہ ہم اچھے لگتے ہیں اور نہ ہی ہماری اولاد‘ افگن دکھی ہے میں جانتی ہوں وہ کس دل سے یہ فیصلہ کررہا ہے لیکن کیا فائدہ مجبوری کے رشتے نبھائے بھی تو نہیں جاتے‘ ساری عمر فائقہ نے گزار دی تھی اور اب شیر افگن اور شہرینہ کی زندگی کو میں امتحان نہیں بنانا چاہتی‘ افگن نے بات کی ہے عثمان اور فائقہ آتے ہیں تو حتمی فیصلہ کردیں گے ہم لوگ۔‘‘ ان کا انداز بہت رنجیدہ تھا۔ نیم غنودگی میں ڈوبتا ذہن ایک دم ہوش کی دنیا میں لوٹ آیا تو وہ آنکھیں بند کیے سب سنتی رہی۔
’’چھوٹے موٹے اختلافات تھے… شہرینہ ایسا کیوں کررہی ہے میری سمجھ میں نہیں آرہا؟‘‘
’’بچی بری نہیں ہے… بس ہم سب نے سمجھنے میں غلطی کردی‘ مجھے لگتا ہے یہ سب ضد میں کررہی ہے ورنہ دل کی تو کبھی بھی بری نہ تھی۔‘‘
’’افگن کے اس فیصلے کو میرا دل نہیں مان رہا… یہ سو کر اٹھتی ہے تو میں اس سے بات کروں گی۔‘‘
’’چلو تم بھی کر دیکھو۔‘‘ اماں بی رنجیدہ سی کہہ کر اٹھ گئیں۔ فائزہ اس کے متعلق فرح سے بات کرنے لگیں۔
فرح‘ ماہ آرأ کے متعلق پوچھ رہی تھی فائزہ بیگم اسے سب بتا رہی تھیں اور فرح حیرانی سے سن رہی تھی۔
v…m…v
وہ عجیب سی کیفیت میں تھی۔ اس وقت کمرے میں کوئی نہیں تھا وہ بالکل تنہا تھی۔ پائوں فریکچر ہونا اس کی اپنی غلطی کا نتیجہ تھا۔ شایان نے اسے اس گھوڑے پر سوار ہونے سے منع کیا تھا اور اس نے شیر افگن کی ضد میں اس پر سواری کی تھی نتیجہ تو سامنے تھا لیکن اسے ایک جگہ بیٹھ کر سب کچھ سوچنے کا موقع مل رہا تھا۔ سب کی محبتیں دکھائی دے رہی تھیں‘ وہ اپنی ضد میں بہت کچھ تباہ کررہی تھی‘ یہ لوگ اتنے برے تو نہ تھے‘ وہ خود کو بدل سکتی تھی لیکن وہ خود کو بدلنے کے لیے تیار نہیں تھی لیکن اب اس کا دل بدل رہا تھا وہ کہنیوں کے سہارے اٹھ کر بیٹھ گئی اس نے موبائل نکالا تو چونکی۔
’’کیسی ہو؟‘‘
’’جلدی سے ٹھیک ہوجائو‘ سب بہت پریشان ہیں‘ سب ہی تمہیں چلتا پھرتا صحت مند دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘
’’گیٹ ویل سون۔‘‘
کئی میسجز تھے جو شیر افگن کی جانب سے آئے ہوئے تھے۔ وہ آج سارا دن اس کی منتظر رہی لیکن وہ اس کے کمرے میں نہیں آیا اور اب اتنے سارے میسجز۔
’’مجھے کورٹ میں ایک کام تھا۔ میں شہر آیا ہوا ہوں کل فرح کی منگنی کے فنکشن میں شامل ہوں گا۔‘‘ اس نے ایک گہرا سانس لے کر موبائل ایک طرف رکھ دیا۔ وہ بالکل ایمان داری سے اپنا تجزیہ کرنا چاہتی تھی۔
ان لوگوں کی محبتوں میں کوئی شک نہ تھا شیر افگن سے ماضی میں جو بھی اختلافات تھے‘ وہ سب ماضی کا حصہ بن چکے تھے‘ وہ محض ضد اور اپنے جنون میں اسے چھوڑنا چاہتی تھی لیکن اب سب کی باتیں سن کر اور رویہ دیکھ کر وہ الجھ کر رہ گئی تھی۔
افگن اسے صاف الفاظ میں کہہ چکا تھا کہ وہ اسے چھوڑ دے گا‘ یہ جان کر تو اسے خوش ہونا چاہیے تھا جبکہ وہ غم زدہ تھی بلکہ پہلے سے بھی زیادہ پریشان اور ہونے والے نقصان پر ماتم کناں بھی تھی‘ ان لوگوں کے دل وسیع تھے انہوں نے ایک ایسی لڑکی کو اپنے درمیان جگہ دی تھی جس کی ماں کا ماضی کوئی قابل فخر نہ تھا لیکن وہ تو عثمان فاروق کے حوالے سے جانی جاتی تھی اب بھلا کس چیز کا ڈر تھا۔
فرح کمرے میں آئی تو وہ اس طرح گم صم بیٹھی ہوئی تھی۔ فرح نے آج مہندی لگوائی تھی۔
باہر سے آنے والی آوازوں سے لگ رہا تھا کہ وہاں کافی گہما گہمی ہے۔
’’یار… کیا مصیبت ہے تم نے عین فنکشن کے دن یہ چوٹ لگوالی… وہاں سب ہی ہلہ گلہ کررہی ہیں اور تم ادھر ہو مجھے تمہاری فکر رہتی ہے۔‘‘
’’میں ٹھیک ہوں۔ تم جاکر انجوائے کرو تمہاری زندگی کا اتنا اہم فنکشن ہے تم کیوں مس کررہی ہو یہ سب۔‘‘
’’ایک بات کہوں؟‘‘ اس نے فرح کو دیکھا۔
’’تم واقعی افگن بھائی کو چھوڑ رہی ہو؟‘‘ اس نے ایک گہرا سانس لیا۔
’’پلیز ایسا مت کرو شیر افگن بھائی بہت اچھے ہیں وہ تم سے واقعی بہت محبت کرتے ہیں‘ آج شہر گئے ہوئے تھے تھوڑی تھوڑی دیر بعد کال کرکے پل پل تمہاری خبر لے رہے ہیں وہ غصے کے تیز ہیں شروع میں کچھ کہہ دیا تھا لیکن دل کے برے نہیں ہیں۔‘‘
’’وہ کل آجائیں گے کیا؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ہوں۔‘‘
’’میں لیٹے لیٹے تھک گئی ہوں‘ اب زخم کافی بہتر ہیں تم لوگ مجھے بھی اپنے ساتھ باہر لے جایا کرو۔‘‘ اس نے کہا تو فرح مسکرائی۔
’’اچھا… اماں بی نے یہ کچھ چیزیں دی ہیں کہہ رہی تھیں کہ تمہیں دکھادوں رکھنی ہیں کہ واپس کرنی ہیں۔‘‘ اس نے پلو میں بندھی ہوئی چیزیں اس کے سامنے کیں۔ ان میں ایک بریسلیٹ تھا جو کچھ دن پہلے دکھا رہی تھیں ایک خوب صورت سی انگوٹھی تھی اور ایک چین۔
’’یہ سب کچھ ماما نے تمہارے لیے بنوایا تھا۔‘‘ اس نے وہ تینوں چیزیں اٹھالیں۔ بریسلیٹ بہت پیارا تھا انگوٹھی اور چین بھی اچھی تھیں۔
’’مجھے ذاتی طور پر گولڈ پسند نہیں لیکن یہ میں ضرور لوں گی… بڑی ماما کو تھینکس کہنا۔‘‘ اس نے انگوٹھی پہن لی‘ چین اور بریسلیٹ بھی لے لیا تھا۔
’’ایک اور بات یہ چین بھائی لائے تھے باہر سے تم شاید ان سے نہ لیتی انہوں نے ماما کو دی تھی کہ تمہیں دے دیں۔‘‘ وہ گم صم سی ہوگئی۔
’’میں کسی کو بلواتی ہوں‘ تمہیں سہارا دے کر باہر لے جاتے ہیں۔‘‘ وہ کہہ کر باہر نکل گئی تھی۔
v…m…v
منگنی کی تقریب میں کافی لوگ آئے ہوئے تھے۔ وہ بھی خوب صورت لباس زیب تن کیے فرح سے ہلکا پھلکا میک اپ کروا کر بڑے ہال میں آبیٹھی تھی۔ فائقہ اور عثمان کی آمد ہوئی تو وہ دونوں اسے دیکھ کر پریشان ہوگئے۔
’’یہ کیا ہوا…! اور کیسے؟‘‘ فائقہ از حد پریشان ہوئیں۔
’’ریلیکس ماما آئی ایم فائن بس چھوٹی سی انجری ہے۔‘‘ فرح انہیں تفصیل بتانے لگی کہ کیسی یہ چوٹیں لگیں۔
’’آپ کو کیا ضرورت تھی درخت پر چڑھنے کی؟‘‘ عثمان صاحب نے بھی کہا۔
’’جو ہونا تھا وہ ہوگیا اب اس کا دھیان بٹائو ایویں پریشان ہوگی۔‘‘ فائزہ نے دونوں کو کہا تو دونوں خاموش ہوگئے۔
فنکشن میں ایک دو بار شیر افگن سے سامنا ہوا… جب وہ کسی کام سے ایک دو بار ہال میں آیا تھا۔
سلام دعا اور حال چال کے علاوہ کوئی بات نہ ہوئی‘ وہ بہت مصروف تھا‘ منگنی کا فنکشن بہت اچھا رہا اور فنکشن کے بعد بھی کافی ہلا گلہ ہوتا رہا تھا۔ وہ تھک گئی تو لڑکیوں کے سہارے واپس کمرے میں آگئی‘ وہ ابھی بستر پر لیٹی ہی تھی کہ فرح چلی آئی۔
’’باہر سب تمہارے اور افگن بھائی کے رشتے پر میٹنگ کررہے ہیں۔‘‘
’’تو پھر کیا فیصلہ ہوا؟‘‘
’’فیصلہ تو تمہیں کرنا ہے۔‘‘ اس کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔ کافی دیر گزر چکی تھی پھر ماما پاپا اس کے پاس آئے۔ فائقہ خاموش تھیں‘ عثمان فاروق نے ہی بات کی۔
’’آپ نے افگن سے رشتہ ختم کرنے کی بات کی تھی‘ معاملہ سب بڑوں کے علم میں آیا ہے‘ ہم نے ہر پہلو پر غور کرلیا ہے‘ اب آپ بتائیں آپ کا کیا فیصلہ ہے؟‘‘ وہ گم صم ہی رہی۔
’’میرے فیصلے کو مانا جائے گا کیا؟‘‘ اس نے سنجیدگی سے پوچھا تو عثمان فاروق نے کچھ سوچتے ہوئے سر اثبات میں ہلا دیا۔
’’تو پھر میں سوچ کر جواب دوں گی۔‘‘ کچھ توقف کے بعد اس نے کہا تو دونوں حیران ہوئے۔
’’مطلب؟‘‘
’’نہ مجھے کسی سے نفرت ہے اور نہ ہی کسی سے ذاتی دشمنی‘ جب یہ لوگ مجھے میری خوبیوں‘ خامیوں سمیت قبول کریں گے تو شاید میرے اندر بھی لچک پیدا ہوجائے۔‘‘ انداز ابھی بھی قطعی تھا۔
’’جو بھی فیصلہ کرو یہ یاد رکھنا تمہارے ساتھ زیادتی نہ ہو‘ بعض اوقات انسان اپنے ساتھ خود ہی زیادتی کر جاتا ہے اور پھر وقت گزر جانے کے بعد پچھتاتا ہے مگر ازالے کے لیے پھر کچھ باقی نہیں رہتا‘ خوش رہو ہمیں تمہارا ہر فیصلہ قبول ہوگا۔‘‘ عثمان صاحب نے اس کی ذات کی برتری کو قبول کرلیا تھا۔ وہ آنکھوں میں پانی لیے انہیں دیکھتی رہی‘ انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور پھر چلے گئے تھے۔
v…m…v
اگلے دن عثمان اور فائقہ چلے گئے وہ پائوں ٹھیک ہونے تک یہیں رک گئی رہی باقی چیدہ چیدہ لوگ بھی رخصت ہوگئے تھے۔ اس کے بعد پھر کسی نے اس سے بات نہیں کی اور نہ ہی اس کا فیصلہ پوچھا تھا۔ اس دن وہ لباس بدل کر فریش ہوکر بیٹھی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی۔ وہ اخبار دیکھ رہی تھی۔ اسے ایک طرف رکھتے ہوئے اس نے دروازے کی طرف دیکھا۔
’’یس۔‘‘ شیر افگن کو دیکھ کر وہ چونکی۔
’’کیسی ہو؟‘‘ شہرینہ نے سر کے اشارے سے جواب دیا۔
’’اور پائوں؟‘‘
’’کافی بہتر ہے ڈاکٹر باقاعدگی سے بینڈیج کررہا ہے۔‘‘ دونوں کے درمیان پھر خاموشی چھا گئی۔
’’چچا نے شاید تم سے کوئی بات کی تھی؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’کون سی بات؟‘‘
’’ہمارے رشتے کے متعلق۔‘‘ اس نے ایک گہرا سانس لیا۔
’’میں نے ان سے کچھ وقت مانگ لیا تھا۔‘‘
’’میرا خیال ہے تم فیصلہ کرچکی تھیں‘ اب یہ وقت لینا کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔‘‘
’’آپ نے میری ذات کو سمجھنے کی کوشش ہی کب کی؟‘‘ اس کے لہجے میں عجیب سی شکایت تھی۔ اس نے چونک کر اسے بغور دیکھا تو حیران رہ گیا۔
شہرینہ کے گلے میں اس کی دی ہوئی چین تھی‘ وہ اس کے لیے یہ گفٹ خاص طور پر لایا تھا لیکن وہ شاید اس سے نہ لیتی سو اس نے فائزہ کو دے دی تھی۔ اسے یقین نہ تھا کہ وہ پہنے گی لیکن اس نے وہ چین پہن رکھی تھی۔
’’یہ چین…!‘‘ اس نے گلے کی طرف اشارہ کیا تو اس نے اپنے گلے پر ہاتھ رکھا۔
’’یہ… یہ تو بڑی ماما نے دی تھی۔‘‘ انداز نارمل تھا وہ خاموش ہوگیا۔
’’میں کچھ دن کے لیے اسلام آباد جارہا ہوں۔‘‘ وہ کھڑا ہوا اور اسے سرسری سا بتایا۔
’’تو مجھے بھی ساتھ لے جائیں۔ اصل میں میں اس بیڈ ریسٹ سے بے زار ہوچکی ہوں۔ وہاں کالج میں میرا پراجیکٹ ورک بھی منتظر ہے‘ کافی دن ہوگئے ہیں آئے ہوئے اب واپس چلنا چاہیے۔‘‘ اس نے وضاحت سے کہا۔
’’اماں بی سے پوچھ لو میں لے چلوں گا۔‘‘ وہ کہہ کر چلا گیا‘ اس نے فرح کے ذریعے اماں بی سے پوچھا تو انہوں نے اجازت دے دی۔ فرح نے اس کی پیکنگ کردی تھی۔
اگلے دن وہ افگن کے ساتھ جانے کے لیے تیار تھی۔ اماں بی نے اسے بہت سا پیار کیا۔
’’جو بھی فیصلہ کرنا بہت سوچ سمجھ کر کرنا۔‘‘
’’جی۔‘‘
وہ بابا صاحب سے بھی ملی اور پھر گاڑی میں افگن کے سہارے آبیٹھی۔
ایئر پورٹ تک ڈرائیور چھوڑنے آیا تھا اور پھر وہاں سے اسلام آباد جانا تھا۔ وہ افگن کے سہارے چلتی رہی گھر سے گاڑی آئی تھی اسے لینے افگن نے اسے گاڑی میں بٹھا دیا تھا۔
’’ڈرائیور آپ کو گھر لے جائے گا۔‘‘ اس نے کھڑکی میں جھک کر کہا تو شہرینہ چونکی۔
’’کیا آپ مجھے یہیں سے اللہ حافظ کہہ رہے ہیں‘ گھر نہیں چھوڑنے جائیں گے۔‘‘
’’مجھے ایک کام ہے۔‘‘ افگن نے کچھ کہنا چاہا لیکن اس نے بات کاٹ دی۔
’’آپ کے یہ کام مجھ سے زیادہ اہم ہیں کیا؟‘‘ وہ حیران ہوا تو اس نے ڈرائیور کو دیکھا۔
’’یو ڈرائیور۔‘‘ ڈرائیور گاڑی چلانے لگا لیکن افگن نے روک دیا اور دروازہ کھول کر اس کے ساتھ ہی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔
’’اب چلو۔‘‘ اس نے ڈرائیور کو گاڑی چلانے کا اشارہ کیا۔ اس نے شہرینہ کی طرف رخ کیا۔
’’اپنے اس جملے کی وضاحت کرو۔‘‘
’’کیسی وضاحت۔‘‘ وہ لاپروائی سے بولی تو افگن نے اسے بغور دیکھا۔
’’جو کچھ لمحے پہلے کہا تھا۔‘‘
’’کیا؟‘‘ وہ لاپروائی سے باہر دیکھتی رہی‘ وہ خاموش ہوگیا تھا۔
’’میرے پائوں میں شدید درد ہورہا ہے۔‘‘ کچھ دیر بعد اس نے پائوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’مجھے لگ رہا ہے یہ موومنٹ کرنے سے ہوا ہے۔‘‘ شیر افگن نے کہا۔ ’’ڈاکٹر کو دکھالیں۔‘‘
’’نہیں پہلے گھر چلوں گی۔‘‘ وہ نارمل انداز میں بات کررہی تھی۔ گویا دونوں کے درمیان کوئی مسئلہ ہی نہ ہو جیسے۔ کچھ دیر بعد گھر آگیا تھا۔
وہ افگن کے سہارے چلتی اندر آئی تو فائقہ گھر پر نہیں تھیں۔ افگن اسے اس کے کمرے میں چھوڑنے آیا تھا۔
’’آپ بیٹھیں پلیز۔‘‘
’’خالہ نہیں ہیں تو پھر کبھی سہی۔‘‘
’’اوکے‘ میں زبیدہ سے کہتی ہوں ۔کچھ کھا پی کر جائیے گا۔‘‘ اس نے انٹر کام اٹھایا۔ افگن نے فوراً منع کردیا۔
’’میں رات کو چکر لگائوں گا۔ اگر پائوں میں زیادہ درد ہے تو ڈاکٹر کے پاس لے چلتا ہوں۔‘‘
’’نہیں‘ اب ریسٹ کروں گی تو ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ افگن نے کچھ کہنا چاہا پر خاموش ہوگیا‘ وہ اسے اللہ حافظ کہہ کر نکل گیا اور شہرینہ اسے مسکراتی نگاہوں سے جاتے ہوئے دیکھتی رہی تھی۔
v…m…v
رات کو افگن گھر نہیں آیا تھا۔ وہ لاشعوری طور پر اس کی منتظر تھی۔ وہ نہیں آیا تو اس نے کال ملائی۔
’’آپ گھر نہیں آئے؟‘‘
’’کیوں خیریت؟‘‘
’’نہیں ویسے ہی ماما پوچھ رہی تھیں تو کال کی۔‘‘
’’خالہ سے کچھ دیر پہلے میری بات ہوئی ہے انہیں نہ آنے کا بتادیا ہے میں نے۔‘‘ شہرینہ ہنس دی تھی۔ ’’پھر کب آئیں گے۔‘‘
’’کیوں… خیریت؟‘‘
’’میں نے سوچنے کے لیے وقت لیا تھا۔ میں نے فیصلہ کرلیا ہے۔ میں چاہتی تھی کہ فیصلہ سب سے پہلے آپ کو سنائوں۔‘‘ دوسری طرف چند سیکنڈ کے لیے خاموشی چھائی رہی۔
’’اگر فری ہوئے تو ضرور چکر لگا لیجیے گا… میں انتظار کروں گی۔‘‘ اس نے کہہ کر کال منقطع کردی۔ وہ اگلے دن کی منتظر تھی۔
اگلے دن وہ اچھی طرح تیار ہوکر انتظار کرتی رہی لیکن افگن نہیں آیا۔ اس نے فون کیا۔
’’آپ کیوں نہیں آئے؟‘‘
’’میں بہت بزی تھا۔‘‘
’’کیا میری بات سننے کے لیے بھی آپ کے پاس وقت نہیں تھا۔‘‘ دوسری طرف پھر خاموش چھائی تھی۔
’’پھر بات ہوگی… اس وقت بزی ہوں‘ اوکے بائے۔‘‘ شہرینہ کو ایک دم غصہ آنے لگا۔
اس نے سوچ لیا تھا کہ اب وہ اسے فون نہیں کرے گی کچھ دن مزید گزرے تو افگن کی آمد کا انتظار ناامیدی میں بدلنے لگا‘ اس کا پائوں اب کافی بہتر ہوگیا تھا پلستر اتر چکا تھا۔ اس کو اسلام آباد آئے کوئی پندرہ دن ہوچکے تھے وہ ایک دو بار زبیدہ کے ہمراہ کالج بھی جاچکی تھی۔ اس رات عثمان صاحب نے اسے بلا لیا تھا۔
’’پھر کیا فیصلہ کیا آپ نے؟‘‘ اس نے ایک گہرا سانس لیا۔
’’جس میں آپ سب کی خوشی ہے‘ وہی میرا فیصلہ ہے۔‘‘ اس کا انداز مطمئن اور پُرسکون تھا۔
عثمان اور فائقہ نے حیران ہوکر اسے دیکھا‘ دونوں کے لیے اس کی یہ فرماں برداری معمول سے ہٹ کر تھی۔ عثمان نے کھڑے ہوکر اسے گلے سے لگایا اور فائقہ مسکرا رہی تھیں‘ وہ ایک عرصے تک اس بے تکلفانہ محبت کو ترسی ہوئی تھی۔ اب میسر آئی تو آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے تھے۔
v…m…v
’’مجھے آپ سے ملنا ہے فوری اگر آپ نیچے دیے گئے وقت پر آج گھر نہ آئے تو پھر سمجھ لیجیے گا کہ آپ کا نہ آنا میری زندگی کا فیصلہ ہوگا۔‘‘ اس نے بہت سوچ سمجھ کر شیر افگن کو میسیج کیا۔
وہ طے شدہ وقت پر تیار ہوکر بیٹھ گئی تھی‘ کوئی دس منٹ بعد اس مخصوص گاڑی کا ہارن بجا تو شہرینہ نے خود کو آئینے میں دیکھا اور اپنا موبائل لے کر کمرے سے نکل آئی‘ وہ باہر آئی تو شیر افگن اپنی گاڑی سے نکل رہا تھا وہ پلٹا اور پھر اسے دیکھ کر رکا‘ وہ چلتی ہوئی افگن کے پاس آرکی۔
’’السلام علیکم!‘‘ وہ حیران ہوکر شہرینہ کو دیکھ رہا تھا۔ شلوار قمیص اور کندھوں پر دوپٹا ڈالے ہلکے پھلکے میک اپ میں وہ واقعی بہت اچھی لگ رہی تھی۔
’’وعلیکم السلام! کیسی ہیں آپ؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ٹھیک اور آپ؟‘‘ وہ مسکرایا۔
’’فائن۔‘‘
’’آئیں ادھر بیٹھتے ہیں۔‘‘ وہ اسے لے کر لان میں نصب کرسیوں کی طرف آگئی۔
’’اب پائوں کیسا ہے؟‘‘
’’آپ کے سامنے ہے‘ بغیر سہارے کے چل پھر رہی ہوں۔‘‘
’’خالہ کہاں ہیں؟‘‘
’’اپنی سوشل سرگرمیوں میں مصروف۔‘‘ اس نے مسکرا کر کہا۔
’’آپ اس دن کیوں نہیں آئے تھے؟‘‘ اس نے کچھ توقف کے بعد پوچھا۔
’’بزی تھا۔‘‘
’’یعنی وہ کام مجھ سے بھی زیادہ اہم تھا آپ کے لیے؟‘‘
’’ایسی بات نہیں میں واقعی بزی تھا۔‘‘
’’چلیں مان لیتی ہوں۔‘‘ وہ پھر مسکرائی۔
’’اتنے دن گزر گئے آپ نے پوچھا ہی نہیں کہ میں نے کیا فیصلہ کیا۔‘‘ اس نے خود ہی بات چھیڑی۔ افگن سنجیدگی سے اسے دیکھتا رہا۔
’’جب فیصلہ آپ پر چھوڑ دیا تو اختیار بھی دیا تھا کہ کوئی بھی فیصلہ کرلیں۔‘‘
’’تو پوچھنے پر پابندی تھی کیا؟‘‘ اس نے مصنوعی غصہ دکھایا۔
’’میں تمہارے فیصلے پر اثر انداز نہیں ہونا چاہتا تھا۔‘‘
’’وہ تو ہو ہی گئے ہیں آپ پورے طرح۔‘‘ وہ حیران ہوا۔
’’مطلب…!‘‘
’’میں نے اپنے پورے ہوش و حواس میں اپنی ساری زندگی آپ کے ساتھ گزارنے کا فیصلہ کرلیا ہے‘ کیا آپ کو میرا ساتھ قبول ہے؟‘‘ اس نے بڑے اعتماد سے شیر افگن کو دیکھتے کہا۔
شیر افگن ایک دم حیران ہوکر اڑھ کھڑا ہوا اور پھر اگلے ہی پل اس کے چہرے پر بے پناہ خوشی کے تاثرات پھیل گئے تھے۔
’’رئیلی…!‘‘ اس نے مسکرا کر سر ہلایا تو وہ واقعی بے پناہ خوش ہوا۔
’’تھینک گاڈ۔‘‘ اس نے اسے دیکھا اور پھر مسلسل دیکھتا ہی رہا۔
’’بعض اوقات ہم انسان کو جیسا سمجھتے ہیں وہ ویسا نہیں ہوتا‘ میں ماضی میں تمہیں بہت کچھ کہہ چکا ہوں‘ آج اپنے ان تمام خراب رویوں کے لیے معذرت خواہ ہوں۔‘‘ سنجیدہ ہوتے ہوئے اس نے کہا تو وہ مسکرا دی۔
’’ماضی میں جو ہوا وہ میری جذباتیت اور میرا جنون تھا لیکن اس وقت میرے جو جذبات ہیں وہ سب سے بڑی حقیقت ہیں۔‘‘
’’میں پریشان تھا کہ نجانے تم نے کیا فیصلہ کیا ہوگا اگر مجھے علم ہوتا کہ تم یہ فیصلہ کرو گی تو میں بہت پہلے ہی آجاتا۔‘‘ وہ ہنس دی۔
’’بہرحال تھینک یو سو مچ۔‘‘ وہ اٹھ کر اس کے پاس آیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے مقابل کھڑا کیا اور چند پل اسے بغور دیکھتا رہا۔
’’آپ مجھے پزل کررہے ہیں۔‘‘ اس نے شرما کر کہا۔
’’یہ فیصلہ کیونکر کیا… کیا کسی نے مجبور کیا تھا؟‘‘
’’مجھے کیا کوئی مجبور کرسکتا ہے؟‘‘ اس نے پوچھا تو افگن مسکرا دیا۔
’’ہاں ویسے مجھے مجبور کیا تھا لیکن میرے دل نے…‘‘ وہ کھل کر مسکرایا۔
’’یہ میرے پائوں کے فریکچر والا حادثہ نہ ہوتا تو شاید میں جذباتیت میں آکر سب کا نقصان کردیتی لیکن اس حادثے نے مجھے احساس دلایا کہ آپ کیا ہیں اور آپ کا وجود میرے لیے کتنا اہم ہے‘ آپ کی محبت اور آپ کے خلوص میں ہر چیز کی قدر کرتی ہوں۔‘‘ افگن ہنس دیا۔
یہ ایک جنونی‘ جذباتی لڑکی تھی لیکن اس نے زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ درست وقت پر ٹھیک کرکے خود کو منوا لیا تھا۔
اس نے اس کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر خود سے قریب کیا اور محبت سے اس کی پیشانی سے اپنی پیشانی ٹکا دی تھی۔
’’لو یو سو مچ شہرینہ…‘‘ وہ گنگنایا تھا۔

Show More

Check Also

Close
error: Content is protected !!
Close