Aanchal Feb-17

جو نصیب میں تھا

نفیسہ سعید

عمر گزری ہے مگر یہ نہیں معلوم ہوا
اس کو میری ہے کہ مجھ کو ہے ضرورت اس کی
اتنی شدت سے تو میں نے بھی نہیں چاہا تھا
مجھ سے دیکھی نہیں جاتی محبت اس کی

’’مینل اٹھ جائو یار کتنا سوتی ہو تم۔‘‘ مناحل نے بیڈ پر اوندھی لیٹی مینل کے پائوں کو زور زور سے ہلاتے ہوئے آواز لگائی۔ مینل نے بمشکل اپنی مندھی ہوئی آنکھیں کھولنے کی کوشش کرتے ہوئے اسے گھورا۔

’’مر جائو تم… ہم تائی جی کی طرف جارہے ہیں جاتے ہوئے باہر سے دروازہ لاک کر جائیں گے۔‘‘ اسے دھمکی دیتے ہوئے مناحل باہر کی جانب لپکی‘ جب پیچھے سے آتی مینل کی آواز نے اسے رک جانے پر مجبور کردیا۔

’’ارے رکو تو سہی ایسے کیسے تم لوگ مجھے اکیلا چھوڑ کر جاسکتے ہو۔‘‘ ساتھ ہی وہ اٹھ بیٹھی۔

’’مغرب ہوتے ہی لائٹ چلی جاتی ہے اور تم جانتی ہو مجھے اندھیرے میں کتنا ڈر لگتا ہے نہ بابا میں نہیں رہ سکتی اکیلے گھر میں۔‘‘

’’ہاں تو کون چھوڑ کر جارہا ہے اسی لیے تو تمہیں اٹھانے کی کوشش میں ہلکان ہورہی ہوں جلدی کرو تمہاری اسی نیستی کی بدولت قرآن خوانی کا وقت نکل چکا‘ اب میلاد بھی رہ جائے گا تو پھر کھانا کھانے جاکر کیا کرنا ہے۔‘‘ مناحل نے پلٹتے ہوئے جواب دیا۔

’’اوہ۔‘‘ مینل کو ایک دم ہی یاد آیا کہ آج تائی جی کے گھر قرآن خوانی اور میلاد تھا‘ جس کی اطلاع امی نے اسے رات ہی دے دی تھی مگر پھر بھی کالج سے واپس آنے کے بعد سونے کی ایسی عادت تھی کہ بنا سوئے وہ کوئی کام ہی نہیں کرسکتی تھی آج بھی نہ نہ کرتے ہوئے وہ جو سوئی تو چار بج گئے‘ آنکھ ہی نہ کھلی جبکہ مناحل بالکل جانے کے لیے تیار کھڑی تھی۔

’’امی سے کہو میں دس منٹ میں ریڈی ہورہی ہوں‘ پلیز میرا انتظار کرلیں۔‘‘ تولیہ اٹھا کر باتھ روم کی جانب جاتے جاتے وہ رکی۔ ’’بات سنو مناحل مجھے اپنا نیا گرین والا سوٹ دے دو پہننے کے لیے‘ پلیز پلیز‘ پلیز منع مت کرنا۔‘‘ وہ اپنے لہجے میں حتی الامکان لجاجت بھرتے ہوئے بولی۔

’’دماغ خراب ہے کیا وہ سوٹ تو ابھی تک میں نے بھی نہیں پہنا پھر تمہیں کیسے دے دوں۔‘‘ مناحل نے حیرت سے ابرو اچکاتے ہوئے جواب دیا۔

’’چلو چھوڑو لڑو مت میں وہ ہی اپنا پرانا ریڈ والا سوٹ پہن جاتی ہوں جو پہلے بھی دو دفعہ تائی کے گھر پہن کر گئی تھی۔‘‘ مناحل کو جواب دیتی وہ باتھ روم میں گھس گئی‘ جانتی تھی کہ مناحل کبھی بھی اس کی کوئی بات رد نہیں کرتی خاص طور پر اس وقت جب وہ بنا بحث ومباحثہ کیے اس کی ہر بات مان لینے کو تیار ہوجاتی اور ابھی بھی ایسا ہی ہوا‘ جیسے ہی وہ فریش ہوکر باہر نکلی سامنے بیڈ پر رکھا مناحل کا گرین سوٹ دیکھ کر کھل اٹھی‘ جلدی جلدی کپڑے تبدیل کرکے کمرے سے باہر نکلی تو امی اور مناحل جانے کے لیے بالکل تیار کھڑی تھیں جبکہ پاپا نے آفس سے سیدھے وہاں ہی پہنچ جانا تھا۔ تائی کا گھر وہ واحد جگہ تھی جہاں جانے کے لیے مینل ہر دم تیار رہتی‘ ان کے گھر کی ہر چیز اس کے لیے دلچسپی کا سبب تھی‘ ان کا بڑا سا لان‘ خوب ڈیکوریٹٹ لائونج اور سب سے بڑھ کر چوبیس گھنٹے اے سی کی کولنگ کی بدولت ٹھنڈا یخ گھر جہاں جاکر کبھی یہ احساس نہ ہوتا کہ باہر کا موسم کسی قدر گرم ہے اور پھر تائی جی کا محبت میں گندھا انداز‘ دل چاہتا ہر لمحہ ان کے قریب بیٹھے ان کی محبت کا لمس محسوس کرتے رہو‘ آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد ٹیکسی تائی جی کے بڑے سے بنگلے کے سامنے جارکی‘ چوکیدار نے انہیں دیکھتے ہی گیٹ کھول دیا‘ مینل نے جلدی سے بیگ میں ہاتھ ڈال کر اپنا موبائل نکال لیا‘ آج کئی دنوں بعد اسے موقع ملا تھا یہاں آکر اچھی اچھی تصویریں کھینچنے کا جسے وہ کسی حال میں لگوانا نہییں چاہتی تھی کیونکہ یہاں لی ہوئی تصاویر وہ کالج میں اپنی دوستوں کو دکھا کر انہیں متاثر کرنے کی عادی ہوچکی تھی لڑکیوں کے ستائشی الفاظ وجملے اس کا خون کئی گنا بڑھا دیا کرتے تھے لہٰذا اندر داخل ہوتے ہی وہ جلدی سے سامنے بنے تالاب کے پاس جاکھڑی ہوئی اس کا انداز دیکھتے ہوئے مناحل سمجھ گئی کہ وہ کیا کرنے لگی ہے۔

’’مینل اندر چلو ہمیں پہلے ہی بہت دیر ہوچکی ہے یہ سب کام تم بعد میں بھی کرسکتی ہو۔‘‘ مناحل دور سے ہی چلائی مگر مینل پر کوئی اثر نہ ہوا‘ اس نے بنا کوئی جواب دیے اچھا سا پوز بنایا لیکن قبل اس کے کہ تصویر اس کے موبائل اسکرین کی زینت بنتی ایک دم باہر کا گیٹ کھولا اور تایاجی کی بڑی سی گاڑی اندر داخل ہوئی‘ مینل کا ہاتھ وہیں رک گیا شروع سے ہی تائی جی کی نسبت تایا کا رویہ ان سے خاصا نپا تلا رہا تھا‘ جس کی بدولت وہ ان سے تھوڑا گھبرایا کرتی تھی۔ ابھی بھی ایسا ہی ہوا گاڑی دیکھتے ہی مینل نے اپنا موبائل والا ہاتھ فوراً نیچے کرلیا اور اس سے قبل کہ ڈرائیور نیچے اتر کر پیچھے کا دروازہ کھولتا وہ جلدی جلدی چلتے ہوئے مناحل کے ساتھ ہی لائونج میں داخل ہوگئی۔ جہاں کے ٹھنڈے ماحول نے باہر کی گرمی اور حبس کو لمحوں میں ہی ختم کردیا تھا‘ پھر اس کا باقی وقت اتنے خوشگوار ماحول میں گزرا کہ کب رات ہوئی اور کب گھر واپسی کا ٹائم ہوا اسے علم ہی نہ ہوا اور پھر گھر آکر بھی کئی دنوں تک وہ وہاں کی ایک ایک بات یاد کرکے مناحل کے کان کھاتی رہی جبکہ اس سے دو سال چھوٹی مناحل کا رویہ کبھی بھی وہاں سے واپس آکر اتنا متاثر کن نہ ہوتا کہ وہ خود کو تائی جی کے محل نما گھر کے اثر سے نہ نکال پائے اور یہ وہ فرق تھا جو ان دونوں بہنوں میں نمایاں طور پر موجود تھا۔

؟…/ …؟

مینل اور مناحل دو ہی بہنیں تھیں ان کے والد ظفر علی ایک ایمان دار سرکاری ملازم تھے جو صرف اپنی تنخواہ میں گزارہ کرکے ایک صاف ستھری اور مطمئن زندگی گزار رہے تھے جبکہ ان کی والدہ حلیمہ بھی ایک اچھے پرائیویٹ اسکول میں جاب کرتی تھیں۔ ان کے برعکس ظفر علی کے بڑے بھائی یعنی مینل کے تایا ایک نامی گرامی بزنس مین تھے جن کے ڈپارٹمنٹل اسٹور کی چین نہ صرف ملک بلکہ ملک سے باہر بھی پھیلی ہوئی تھی۔ روپے پیسے کی اس قدر فراوانی نے ان کے اندر ایک بے نام سا غرور بھر دیا تھا جو ان کی شخصیت کا خاصہ بن چکا تھا‘ تائی فرحین ان کے مقابلے میں بالکل مختلف تھیں‘ ہنس مکھ اور پُرشفقت سی تائی وہ واحد ہستی تھیں جو پورے خاندان کو آپس میں جوڑے ہوئے تھیں ان کے دونوں چھوٹے بچے حورین اور عبدالرحمان عادتوں میں اپنی ماں کا پرتو تھے جبکہ وہ مینل ارو مناحل کے ہم عمر بھی تھے جس کے باعث ان چاروں کی آپس میں بہت دوستی تھی۔ سب سے بڑے راحم بھائی اپنی عادتوں اور پُرغرور طبیعت کے اعتبار سے بالکل تایا جی جیسے تھے ویسے بھی وہ مینل سے خاصے بڑے تھے۔ وہ شروع سے ہی تعلیم کے سلسلے میں لندن رہے تھے ان کا سامنا ان دونوں بہنوں سے کم ہی ہوا کرتا تھا۔ سب سے چھوٹی بے بی پھوپو تھیں جو آج تک سارے بچوں کے لیے بے بی ہی تھیں۔ وہ دوبئی میں رہتی تھیں لیکن جب بھی پاکستان آتیں تایا کے گھر رہائش اختیار رکھتیں اور مینل اور مناحل دونوں بہنیں ان دنوں زیادہ تر وہاں ہی پائی جاتیں۔ ویسے بھی مینل کو ان کے ٹوئینز بچوں عنایہ اور ریان سے بہت محبت تھی‘ اس کی کوشش ہوتی جب تک پھوپو پاکستان رہیں وہ بچے اسی کے ساتھ ہوں اسی لیے وہ ہمیشہ پھوپو کے جاتے ہی ان کے دوبارہ واپس آنے کا انتظار شروع کردیا کرتی اب تو ویسے بھی کچھ ماہ میں راحم بھائی کی شادی متوقع تھی جس میں پھوپو کا آنا لازمی تھا اور شادی سے زیادہ مینل کو پھوپو کا انتظار تھا جس کے لیے وہ ابھی سے دن گن رہی تھی۔

؟…/ …؟

’’گھر میں کوئی آیا تھا کیا؟‘‘ کالج سے واپس آتے ہی ڈائننگ ٹیبل پر سجا امی کا جہیز کا ڈنر سیٹ دیکھتے ہی اس نے مناحل سے سوال کیا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ عام حالات میں امی یہ سیٹ کبھی بھی الماری سے نہیں نکالتیں۔

’’ہاں تائی جی اور راحم بھائی آئے تھے۔‘‘ ڈائننگ سے برتن سمیٹتی مناحل نے اسے دیکھتے ہوئے بتایا۔ ’’دراصل اگلے ہفتے راحم بھائی کی شادی کی ڈیٹ فکس ہونے والی ہے بس اسی سلسلے میں تائی آئی تھیں ایک تو دعوت دینا تھی دوسرا امی سے کوئی مشورہ بھی کرنا تھا شاید۔‘‘ مناحل نے کیا کہا اس سے مینل کو کوئی دلچسپی نہ تھی اس کے لیے سب سے اہم بات صرف اتنی تھی کہ راحم بھائی کی ڈیٹ فکس ہونے کے سلسلے میں تائی کے گھر ایک فنکشن ہونے والا تھا جس کے لیے اسے نیا ڈریس چاہیے تھا‘ وہ اپنی یہ فرمائش لے کر فوراً سے بیشتر امی کے پاس جا پہنچی۔

’’اماں سنا ہے راحم بھائی کی شادی کی ڈیٹ فکس ہورہی ہے؟‘‘ حلیمہ نے حیرت سے اسے دیکھا جو کالج سے واپس آتے ہی یہ دیکھے بنا کہ کھانے میں کیا پکا ہے؟ راحم کی شادی کی تاریخ کے متعلق استفسار کرنے آن پہنچی تھی۔

’’ہاں ہو تو رہی ہے مگر اس میں اتنی پریشانی والی کیا بات ہے جو تم بنا یونیفارم چینج کیے بھوکی پیاسی یوں پوچھنے چلی آئیں۔‘‘ وہ ہمیشہ سے اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کی عادی تھیں ان کا ایک اصول یہ بھی تھا کہ گھر میں داخل ہونے کے بعد سب سے پہلے فریش ہوکر کپڑے تبدیل کیے جائیں اگر کھانے کا وقت ہو تو کھانا کھا لیا جائے اس کے بعد کوئی اور بات کرنی چاہیے اور شروع سے ہی اس گھر کے چاروں افراد اسی روٹین کے تحت زندگی گزار رہے تھے جسے آج شاید انجانے میں مینل نے توڑ دیا تھا۔

’’سوری امی‘ دراصل مجھے یہ کہنا تھا کہ…‘‘ وہ کہتے کہتے رک گئی ماں کے چہرے پر ایک نظر ڈالی۔ ’’اچھا آپ ابھی رہنے دیں میں کھانا کھالوں پھر بات کرتی ہوں۔‘‘

’’اب آہی گئی ہو بیٹا تو بتادو کیا مسئلہ ہوگیا کیوں اتنی پریشان ہو۔‘‘

’’امی مجھے راحم بھائی کے فنکشن کے لیے نیا ڈریس لے دیں پلیز‘ میرے پاس کوئی بھی سوٹ ایسا نہیں ہے جو میں نے کسی نہ کسی تقریب میں پہنا نہ ہو۔‘‘ حلیمہ نے ایک پل رک کر اپنی اس معصوم اور سادہ سی بیٹی کے چہرے پر ایک نظر ڈالی جس کی دنیا چھوٹی چھوٹی خواہشوں سے آباد تھی‘ کپڑے‘ جیولری‘ اور اچھا کھانا‘ شاید کبھی کبھی باہر آئوٹنگ پر جانا‘ یہ وہ عوامل تھے جو ہر دم مینل کو چاق وچوبند رکھنے کا سبب تھے ورنہ شاید اس کی زندگی ان سب کے بغیر بے کار تھی۔

’’کوشش کروں گی‘ اگر ہوسکا تو ضرور بنادوں گی۔‘‘ وہ ویسے بھی ہر ممکن کوشش کرتیں کہ مینل یا مناحل کی کوئی بات ردنہ کریں اور جس قدر ممکن ہوتا ان کی ہر خواہش پوری کرنا اپنا فرض سمجھتیں‘ یہی وجہ تھی کہ وہ اسکول میں جاب کررہی تھیں ورنہ ظفر صاحب کی تنخواہ میں بھی کھینچ تان کر وہ گزارا کرسکتی تھیں مگر جانے کیوں شروع دن سے ہی ان کی یہ خواہش رہی کہ ان کی بیٹیوں کی کوئی آرزو تشنہ نہ رہ جائے۔

’’کوشش نہیں امی پلیز بس ایک سادہ سی شیفون کی فراک سلوا دیں‘ بالکل ویسی ہی جیسی فرح باجی نے عید والے دن پہنی تھی۔‘‘ فرح اس کی خالہ زاد تھی۔

’’اصل میں بیٹا دو ماہ بعد راحم کی شادی ہے جس کے لیے میں نے اسکول میں بھی ایک کمیٹی ڈال رکھی ہے‘ جو مل تو جائے گی لیکن اگر اس میں سے رقم نکال کر خرچ کرلی تو پھر بعد میں مشکل ہوگی۔‘‘ وہ ہمیشہ اپنے بڑے اخراجات کمیٹی کی مد میں ہی پورے کرتیں۔

’’ٹھیک ہے امی…‘‘ مینل آہستہ سے کہتی باہر نکل گئی۔

وہ سمجھ چکی تھیں کہ نئے ڈریس کی خواہش اس پل مینل کے دل میں بری طرح مچل رہی ہے اور جو اگر یہ خواہش ادھوری رہ گئی تو…؟

’’اللہ مالک ہے کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑے گا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اپنے دل کو تسلی دیتی اٹھ گئیں۔

؟…/ …؟

وہ شام میں سوکر اٹھی تو امی تائی جی کی طرف جانے کے لیے تیار کھڑی تھیں‘ جبکہ مناحل کا کل پیپر تھا اور وہ کمرہ بند کیے پڑھ رہی تھی۔

’’میں فرحین آپا کی طرف جارہی ہوں چلنا ہے تو آجائو۔‘‘ امی نے ایک نظر دیکھتے ہوئے آفر دی۔

’’اس حلیے میں…‘‘ وہ اس وقت ٹرائوزر اور ٹی شرٹ میں ملبوس تھی۔

’’ہاں شال لے لو‘ تمہارے بابا آنے والے ہیں ایسے میں اگر تم تیار ہونے چلی گئیں تو جانتی ہو نہ انہوں نے بنا لیے چلے جانا ہے۔‘‘ وہ اپنے بابا کی اس عادت سے بخوبی واقف تھی۔

’’خیر پرسوں تو ہمیں ویسے ہی راحم بھائی کے فنکشن میں جانا ہے پھر آج اتنی ایمرجنسی میں جانے کی وجہ پوچھ سکتی ہوں؟‘‘

’’سنیعہ کے لیے برائیڈل ڈریس تیار کروانا ہے بھابی اس کے ساتھ جاکر ایک دو ڈیزائنر سے سیمپل لے کر آئی ہیں اب چاہتی ہیں کہ میں بھی دیکھ کر اپنی رائے دے دوں۔‘‘

’’لو جی بننا تو وہی ڈریس ہے جو راحم بھائی کی چہیتی بیگم چاہے گی پھر بلاوجہ تائی آپ کو کیوں گھسیٹ رہی ہیں؟‘‘ سنیعہ اور راحم کا کئی سال پرانا افیئر تھا جب وہ دونوں ایک ہی اسکول میں ہم جماعت تھے پھر ہائیر ایجوکیشن بھی دونوں نے ایک ساتھ ہی حاصل کی اور پھر راحم بھائی باہر پڑھنے چلے گئے مگر انہوں نے اس دوران سنیعہ سے مسلسل رابطہ رکھا‘ دونوں کے گھر والے بھی ان کی محبت سے بخوبی واقف تھے۔ یہی سبب تھا جو پچھلے سال راحم کے واپس آتے ہی ان دونوں کا باضابطہ طور پر رشتہ طے کردیا گیا اور اب حال ہی میں ان کی شادی بھی ہونے والی تھی۔

’’جانتی ہوں بیٹا‘ ہونا وہی ہے جو سنیعہ چاہے گی یہ تو صرف رسمی کاروائیاں ہیں جو خاندانی لوگ نبھاتے ہیں اور ویسے بھی اگر دیکھا جائے تو یہ حق بھی اسی کا ہے‘ شادی زندگی میں ایک ہی بار ہوتی ہے اس کے بعد اگر خدانخواستہ ہو تو وہ صرف مجبوری ہوتی ہے اور وہ خوشی جو کوئی بھی انسان اپنی زندگی میں صرف ایک بار ہی حاصل کرسکتا ہے تو کیوں نہ اس میں ہر کام اپنی مرضی کے مطابق کیا جائے۔‘‘ امی اسے دھیرے دھیرے سمجھاتی گاڑی میں جابیٹھیں‘ تقریباً پندرہ منٹ بعد وہ تایا کے گھر کے سامنے کھڑے تھے۔ راحم بھائی کی گاڑی گیٹ کے باہر ہی موجود تھی جس کا مطلب تھا وہ گھر پر ہی تھے لیکن سنیعہ بھی وہاں ہی ہوگی اس کا علم مینل کو اندر جاکر ہوا اور ساتھ ہی اس بات پر افسوس بھی کہ وہ کس قدر رف حلیہ میں سر جھاڑ‘ منہ پھاڑ امی کے ساتھ اٹھ کر یہاں آگئی جبکہ سامنے خوب نک سک سے تیار‘ لشکارے مارتی سنیعہ بیٹھی تھی۔ ڈریس ڈیزائن کی کیٹ لاک کے ساتھ مختلف کلرز کے کپڑے بھی تھے جنہیں وہ بڑی نزاکت سے اٹھا اٹھا کر دیکھ رہی تھی اس کے پہلو میں بیٹھے راحم بھائی اسے دیکھ دیکھ کر جی رہے تھے ایسا لگتا تھا جیسے انہیں پورے لائونج میں سوائے سنیعہ کے کوئی دوسری ہستی نہ دکھائی دے رہی ہو ایک دم مینل کو اس کی قسمت پر رشک آیا۔ جس کے نصیب میں اتنا چاہنے والا شریک سفر لکھا گیا ہو… اس کے بعد وہ جتنی دیر وہاں رہی‘ سنیعہ پر نثار ہوتے‘ سخت گیر راحم بھائی کو ہی دیکھتی رہی جو اس کے لیے موم کی مانند نرم دکھائی دے رہے تھے‘ اسے ویسے بھی شروع دن سے سنیعہ اور راحم بھائی ایک ساتھ بہت اچھے لگتے‘ دونوں ایک جیسے خوب صورت‘ ایک دوسرے پر جان نچھاور کرتے ان دونوں کی جوڑی اتنی شاندار تھی کہ کئی بار مینل دل ہی دل میں ماشاء اللہ کہہ دیا کرتی جیسا کہ ابھی بھی وہ کئی بار کہہ چکی تھی پھر ان سب کو لائونج میں بیٹھا چھوڑ کر وہ اوپر حورعین کے کمرے کی جانب چل دی کیونکہ اسے وہاں اپنی موجودگی بے معنی لگ رہی تھی۔

؟…/ …؟

راحم بھائی کی شادی کی تاریخ رکھ دی گئی‘ پورے دو ماہ دس دن بعد سنیعہ نے اپنے پورے جملہ حقوق کے ساتھ سنیعہ لاشاری سے سنیعہ راحم بن کر مہر ہائوس میں داخل ہوجانا تھا۔ اس دن کا انتظار سب سے زیادہ مینل کو تھا۔ ایک تو پھوپو کی آمد پھر عنایہ اور ریان سب سے بڑھ کر خوب شاپنگ اور نت نئے کپڑوں کی تیاری جس کے لیے وہ خاصی ایکسائیٹڈ تھی کیونکہ امی کو نہ صرف کمیٹی مل گئی تھی بلکہ انہوں نے رائل بلیو شیفون لاکر مینل کو ایک خوب صورت فراک بھی سی دی تھی جبکہ اب تو اس سے بھی زیادہ اچھے کپڑے بننا متوقع تھے آج بھی وہ اور حورعین‘ عبدالرحمان کے ساتھ بازار آئیں تھیں۔ حورعین نے ایک مشہور ڈیزائنر کو اپنا بارات کا ڈریس بننے دیا تھا تھوڑی بہت شاپنگ کے بعد وہ دونوں اسی ڈیزائنر کے پاس آگئیں۔ حورعین دیکھنا چاہتی تھی کہ ڈریس ریڈی ہوا کہ نہیں‘ وہاں موجود سیلز گرل سے کچھ بات کرکے جب وہ باہر نکلیں تو سامنے ٹھیلے پر رکھے گول گپے دیکھ کر اس کا دل مچل اٹھا۔

’’گول گپے کھائو گی؟‘‘ دلی خواہش پل بھر میں ہی اس کی زبان پر آگئی۔

’’روڈ پر اس طرح کھڑے ہوکر؟‘‘ حورعین نے آس پاس دیکھتے ہوئے حیرت سے سوال کیا۔

’’ہاں تو اور کیا اب گول گپے کھانے کیا ہم کسی فائیو اسٹار ہوٹل جائیں گے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے فوراً دو پلیٹ آرڈر بھی کردیں۔

’’ارے نہیں‘ میرے لیے مت لینا سوری یار میں اس طرح یہاں کھڑے ہوکر گول گپے نہیں کھاسکتی‘ ریلی سوری مینل پلیز برا مت منانا۔‘‘

’’چلو تمہاری مرضی۔‘‘ اپنی پلیٹ ہاتھ میں لیتے ہی اس نے جلدی سے ایک گول گپے میں پانی بھر کر منہ میں ڈالا ہی تھا کہ نظر بے اختیار سامنے پڑی جہاں راحم بھائی‘ سنیعہ کو ساتھ لیے کھڑے نظر آئے‘ وہ دونوں بھی غالباً اسی ڈیزائنر کے پاس آئے تھے جہاں سے کچھ دیر قبل حورعین باہر نکلی تھی۔

’’یہ تم روڈ پر اس طرح کھڑی کیا کررہی ہو؟‘‘ اسے قطعی نظر انداز کرکے انہوں نے حورعین کو گھورا جو پہلے ہی اپنے سامنے بڑے بھائی کو دیکھ کر گھبرا گئی تھی۔

’’وہ بھائی‘ دراصل مینل کو گول گپے کھانے تھے اس لیے یہ یہاں آگئی۔‘‘

’’تمہیں گول گپے کھانے کے لیے کوئی ڈھنگ کی جگہ نہ ملی تھی جو اس طرح روڈ پر ٹھیلے کے پاس آن کھڑی ہوئیں۔‘‘ اسے قہر آلود نگاہوں سے گھورتے ہوئے انہوں نے کچھ اس طرح یہ الفاظ کہے کہ یک دم ہی وہ شرمندہ سی ہوگئی‘ ہاتھ میں پکڑی پلیٹ فوراً ہی واپس رکھ دی۔

’’اور تمہیں کیا ضرورت تھی اس کے ساتھ یہاں کھڑا ہونے کی‘ ہر کام اپنا اسٹیٹس دیکھ کر کیا کرو تاکہ دوسروں کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔‘‘ ایک بار پھر وہی لہجہ‘ مینل نے صرف ایک نظر اٹھا کر دیکھا۔ سنیعہ ان کے برابر کھڑی مسکراتی ہوئی نظروں سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی اس کی مسکراتی نظروں میں جانے ایسا کیا تھا کہ وہ تپ گئی۔

’’سوری راحم بھائی گول گپے میں نے لیے تھے اس میں حورعین کا کوئی قصور نہیں اور ویسے بھی میں جب بھی بازار آتی ہوں یہاں سے گول گپے اور چاٹ ضرور کھاتی ہوں چاہے میرے ساتھ بابا ہی کیوں نہ ہوں۔‘‘ کہنے کا مطلب یہ تھا کہ جب میرے باپ کو اعتراض نہیں تو آپ کون ہوتے ہیں اعتراض کرنے والے۔ سادہ لفظوں میں اپنی بات واضح کرتے ہوئے اس نے گول گپے پیک کروائے اور حورعین کو ساتھ لیے گاڑی میں آن بیٹھی۔

’’یار اتنا ٹائم تم لوگوں نے بازار لاکر مجھے ذلیل ہی کردیا بس یاد رکھنا آئندہ نہیں آئوں گا۔‘‘ انہیں دیکھ کر ہاتھ میں گولا گنڈے کا گلاس تھامے عبدالرحمان گاڑی میں آن بیٹھا۔

’’یہ گولا گنڈا تم کسی فائیواسٹار ہوٹل سے خرید کر لائے ہو؟‘‘ اس کا انداز خاصا جتلاتا ہوا تھا حورعین نے پلٹ کر دیکھا۔

’’نہیں تو…؟‘‘ عبدالرحمان نے ایک چمچ منہ میں ڈال کر حیرت سے اسے دیکھا۔ ’’وہ سامنے ٹھیلے سے لیا ہے کھانا ہے تم نے لادوں۔‘‘ اس کی بات سے عبدالرحمان نے یہی نتیجہ اخذ کیا۔

’’شکریہ میں گولا گنڈا نہیں کھاتی۔‘‘ منہ پھلائے جواب دیتے ہوئے وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔

’’اسے کیا ہوا؟‘‘ عبدالرحمان نے اشارتاً حورعین سے دریافت کیا۔

’’کچھ نہیں‘ گول گپے کھانے لگی تھی کہ وہاں راحم بھائی آگئے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی حورعین نے آہستہ لفظوں میں اسے ساری بات بتادی۔

’’ڈیئر کزن اتنی چھوٹی سی بات پر اتنا دل برداشتہ نہیں ہوتے‘ بڑے بڑے شہروں میں ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہی رہتی ہیں‘ اگنور کرو یار۔‘‘ وہ بیک ویومرر سے پیچھے دیکھتا ہوا بولا‘ جبکہ مینل نے کوئی جواب نہ دیا اور اسی طرح شیشے سے سر ٹکائے کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی‘ اس کی خاموشی اس بات کی غماز تھی کہ اس کا موڈ خراب ہوچکا ہے۔

؟…/ …؟

راحم بھائی کی شادی کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز ہوگیا پورے دس دن کے فنکشن‘ جن کے بارے میں سن کر مینل اتنی خوش ہوئی کہ مارے خوشی کے راحم بھائی کے حوالے سے جو ناراضگی دل میں تھی وہ ایک پل میں ہی اڑن چھو ہوگئی‘ ساتھ ہی نت نئے کپڑے پہن کر روز تیار ہونا یہ سب اتنا ایکسائیٹڈ تھا کہ اس کے لیے ایک ایک دن کاٹنا مشکل ہوگیا‘ حلیمہ نے اپنی کمیٹی سے بہت کم لاگت میں ان دونوں بہنوں کے لیے بہت اچھے کپڑے تیار کیے تھے جو حورعین کی طرح بہت قیمتی اور ڈیزائنر کے تو نہ تھے مگر ان کے حساب سے بہت اچھے تھے مناحل تو ویسے بھی کپڑوں سے زیادہ پڑھائی پر توجہ دینے والی لڑکی تھی جبکہ مینل بھی ان ڈریسز سے خاصی مطمئن تھی مایوں سے ایک دن پہلے بے بی پھوپو بھی پاکستان آگئیں۔ جس کی اطلاع ملتے ہی مینل کے لیے مزید وقت گھر پر گزارنا مشکل ہوگیا اور وہ سیدھی امی کے پاس جاپہنچی جو بیٹھی مشین پر اس کی شرٹ سلائی کررہی تھیں۔

’’امی پلیز مجھے اور مناحل کو تایا جی کے گھر چھوڑ دیں ریان اور عنایہ سے ملنے کو دل بہت بے تاب ہے۔‘‘ وہ ان کے پاس بیٹھتے ہوئے ملتجی لہجے میں بولی۔

’’سوری میرا پیر کو پیپر ہے۔‘‘ اس کی بات سنتے ہی مناحل نے فوراً جواب دیا۔

’’افوہ ابھی تو کل ہفتہ ہے پیر میں دو دن باقی ہیں واپس آکر پڑھ لینا۔‘‘ اس وقت وہ وہاں جانے کا پورا موڈ بنا چکی تھی لہٰذا اسے مناحل کا انکار بالکل پسند نہ آیا۔

’’بیٹا ہمیں تو کل ویسے ہی وہاں جانا ہے‘ مایوں کا فنکشن ہے اس لیے آج رہنے دو‘ تم کل وہیں رک جانا‘ اتوار کی شام کو واپس آجانا۔‘‘

’’تو کیا ہم وہاں شادی تک رکیں گے نہیں؟‘‘ امی کی بات سن کر وہ حیران ہوتے ہوئے بولی۔

’’نہیں مجھے اسکول اور مناحل کو کالج جانا ہے اتنے دن وہاں رک کر کیا کریں گے؟‘‘ امی کے جواب نے اسے مایوس کردیا اور وہ وہاں سے خاموشی سے اٹھ کر کمرے میں آگئی۔

؟…/ …؟

میلاد کے بعد وہ سب لوگ مایوں کا سامان لے کر سنیعہ کے گھر جا پہنچے‘ راحم بھی ان کے ساتھ ہی تھا‘ وہاں جاکر انہوں نے خوب ہلا گلا کیا‘ ناچ‘ گانا‘ شور شرابہ غرض کے ہر چیز مینل کی توقع کے عین مطابق تھی وہ بہت خوش تھی اور اس وقت تو اس کی خوشی کو چار چاند لگ گئے جب رات گھر واپسی پر تائی جی نے انہیں روک لیا۔

’’ارے حلیمہ تم واپس کہاں جارہی ہو‘ شادی تک تو رک جائو۔ میں کارڈ دینے گئی تھی تو صاف لفظوں میں کہہ کر آئی تھی کہ تم نے شادی تک ہمارے گھر ہی رکنا ہے تو پھر تمہیں پوری تیاری کے ساتھ آنا چاہیے تھا۔‘‘

’’دراصل آپا میرا اسکول اور بچیوں کے…‘‘ امی نے عذر تراشنا چاہا جسے تائی نے فوراً ہی رد کردیا۔

’’رہنے دو ہم کوئی شہر سے باہر تھوڑی رہتے ہیں جو تم یہاں سے اسکول نہیں جاسکتیں۔‘‘ تائی صاف ناراض ہوچکی تھیں۔

’’اچھا آپا ناراض مت ہوں‘ آج مینل یہیں رک جائے گی‘ پھر ہم ان شاء اللہ کل سب سامان لے کر آجائیں گے۔‘‘ مینل کی مراد بر آئی وہ خوشی سے جھوم اٹھی اور پھر اگلے دن ہی مناحل‘ امی اور پاپا وہیں آگئے جہاں آہستہ آہستہ تمام مہمان جمع ہوچکے تھے اور مہر ہائوس میں خوب رونق لگ گئی تھی۔

؟…/ …؟

آج راحم کی ڈھولکی تھی جس میں تقریباً سارا ہی خاندان جمع تھا۔ مینل نے دیکھا وہ خود کتنی دیر سے فون پر بزی تھا‘ یقینا دوسری طرف سنیعہ تھی۔ تھوڑی دیر بعد ہی وہ اپنی جگہ سے اٹھے اور فون لاکر تائی جی کی جانب بڑھا دیا۔

’’سنیعہ کی امی آپ سے بات کرنا چاہ رہی ہیں۔‘‘ راحم بھائی نے فون امی کی جانب بڑھایا۔

’’اچھا…‘‘ تائی نے فون کان سے لگاتے ہوئے کہا۔

’’السلام علیکم!‘‘ مینل نے دیکھا اگلے دو سے تین منٹ تائی جی صرف اچھا اور ہاں ہی کرتی رہیں جبکہ دوسری طرف شاید سنیعہ کی امی کچھ کہہ رہی تھیں پھر انہوں نے فون بند کرکے راحم کے حوالے کردیا۔

’’خیریت تھی امی کیا کہہ رہی تھیں آنٹی؟‘‘ فون واپس لیتے ہوئے اس نے سوال کیا۔

’’سنیعہ کے دادا آئے ہیں گائوں سے‘ وہ ہم سے ملنا چاہتے ہیں‘ اس لیے بلا رہی ہیں اپنے پاپا کو بلائو میں ان سے بات کروں۔‘‘ ساتھ ہی تائی اٹھ کھڑی ہوئیں۔

’’اس وقت بلا رہی ہیں‘ کوئی خاص بات ہے؟‘‘ قریب بیٹھی مینل کی امی نے جٹھانی سے استفسار کیا۔

’’پتہ نہیں کہہ رہی ہیں کہ سنیعہ کے دادا حق مہر کے سلسلے میں بات کرنا چاہتے ہیں‘ آپ اور بھائی صاحب ابھی آجائیں تاکہ کل جمعہ کے بعد نکاح کی رسم ادا کردی جائے۔‘‘

’’مگر حق مہر کی بات تو ہماری ان سے پہلے ہی طے ہوچکی ہے۔‘‘ اتنی دیر میں تایا جی بھی وہاں پہنچ چکے تھے اسی لیے تائی جی کا آخری جملہ سن کر حیران ہوتے ہوئے بولے۔

’’ہاں مگر بھابی کا کہنا ہے کہ فی الحال پہلے سے طے شدہ بات کا تذکرہ آپ ان کے سسر کے سامنے نہ کریں کیونکہ وہ ذرا اور قسم کے آدمی ہیں ایسا نہ ہو برا مان جائیں‘ کہ مجھ سے پوچھے بغیر ہی سب کچھ طے کرلیا۔‘‘

’’یہ تو عجیب بات ہے‘ ان لوگوں کو خود چاہیے تھا کہ ہر مسئلہ اپنے بزرگوں کے مشورے سے طے کرتے۔‘‘ راحم نے بھی گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا۔

’’بہرحال اب جو بھی ہے جانا تو پڑے گا‘ ایسا کرو تم گاڑی نکالو میں اور تمہاری امی آرہے ہیں۔‘‘

’’میں بھی چلتا ہوں آپ کے ساتھ۔‘‘ راحم بھی ساتھ جانے کو تیار کھڑے تھے اور پھر وہ چاروں سنیعہ کے گھر کی جانب روانہ ہوگئے اور باقی تمام لوگ پھر سے اپنی موج مستیوں میں مصروف ہوگئے۔

؟…/ …؟

’’لیکن ہم تو حق مہر پہلے طے کرچکے ہیں پھر اب یہ سب کیوں؟‘‘ سنیعہ کے دادا کی بات سن کر نعمان صاحب حیرت سے بولے اور اس لمحے وہ بھول گئے کہ انہیں پہلے سے طے شدہ حق مہر کا ذکر ابا جی کے سامنے نہیں کرنا تھا۔

’’ہماری روایت ہے کہ بچوں کا حق مہر صرف ابا جی طے کرتے ہیں ان سے بنا مشورہ کیے بھلا حق مہر کیسے طے ہوگیا۔‘‘ سنیعہ کے تایا نے اپنی بڑی بڑی مونچھوں کو تائو دیتے ہوئے باری باری سب کی شکل دیکھتے ہوئے سوال کیا۔

’’اور ویسے بھی ہمارے ہاں ہر بچی کے حق مہر میں مکان لکھا جاتا ہے اور اس بات کا علم بھائی بھابی دونوں کو تھا۔‘‘ یہ سنیعہ کی پھوپو تھیں عبدالرحمان کو حیرت ہوئی اتنے سال سے سنیعہ اور راحم کی دوستی تھی جو ایک سال قبل منگنی میں تبدیل ہوگئی تب تک یہ ساری باتیں کسی نے نہ کی تھیں پھر اب کیوں؟

’’اصل میں آنٹی اگر آپ کی کوئی بھی ایسی خاندانی روایت تھی تو پھر آپ لوگوں کو چاہیے تھا کہ ہمیں پہلے آگاہ کرتے اب عین وقت پر کوئی بھی ایسی بات یقینا معاملے کو خراب کرنے کا باعث بنے گی۔‘‘ راحم کے منع کرنے کے باوجود نعمان صاحب بولے بنا نہ رہ سکا۔

’’یہ قصور تو ہمارے بھائی بھابی کا ہوا نہ جنہوں نے بیٹی کی ضد کے آگے کسی بڑے کو کوئی اہمیت ہی نہ دی۔‘‘

’’بہرحال اب اس بحث کا کوئی فائدہ نہیں۔‘‘ سنیعہ کے تایا نے ہاتھ اٹھا کر اپنی بہن کو مزید کچھ کہنے سے روک دیا۔

’’بات صرف اتنی ہے کہ کل حق مہر میں مکان لکھ کر دینا ہے آپ لوگوں نے… بس اس لیے ہی ہم نے رات کے اس وقت آپ سب کو زحمت دی۔‘‘ وہ مزید وضاحت کرتے ہوئے بولے۔

’’مجھے آپ سے اکیلے میں بات کرنا ہے۔‘‘ ساری بات سن کر فرحین نے سنعیہ کی امی کو مخاطب کیا جو خاموشی سے اٹھ کر ان کے ساتھ اندر کمرے میں آگئیں۔

’’بھابی یہ سب کیا ہے؟‘‘

’’میں سمجھی نہیں آپ کیا کہنا چاہتی ہیں؟‘‘ سنیعہ کی امی نے بڑی معصومیت سے پوچھا۔

’’آپ سے ہماری پچیس لاکھ کی بات ہوئی تھی پھر یہ مکان…‘‘

’ٹھیک ہے ہماری آپ سے ایسی ہی بات ہوئی تھی مگر ابا جی تھوڑی سخت طبیعت کے آدمی ہیں اور ان کا خیال ہے حق مہر بیٹی کا تحفظ ہوتا ہے‘ بس اسی لیے وہ مکان چاہ رہے ہیں۔‘‘

’’مگر کل تک یہ سب ارینج کرنا خاصا مشکل ہے۔‘‘

’’ایسا بھی مشکل نہیں آنٹی۔ آپ اپنے مکان کے کاغذ حق مہر میں مجھے دے دیں میں گھر آئوں گی تو آپ کو واپس کردوں گی۔ آپ دادا جی کو مطمئن کردیں‘ ہمارا کوئی مسئلہ نہیں ہے میں کاغذ واپس کردوں گی۔‘‘ سنیعہ نے فرحین کے ہاتھ تھامتے ہوئے سمجھایا۔

’’مگر بات تو ضد کی ہے نا بیٹا اور دونوں طرف مرد ہیں۔‘‘

’’آپ بات کریں انکل سے وہ مان جائیں گے۔‘‘ اور پھر فرحین اور راحم کے سمجھانے کے باوجود نعمان صاحب نہ مانے ان کی ضد پچیس لاکھ تھی جبکہ دوسری طرف دادا جی مکان سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھے۔

’’آپ لوگ اچھی طرح سوچ لیں اور پھر ہمیں کل تک آگاہ کردیں‘ کہ کیا کرنا ہے۔‘‘ یہ سنیعہ کے ڈیڈی تھے جو شاید اس لاحاصل بحث سے اب اکتا گئے تھے اس لیے بات کو ختم کرتے ہوئے بولے اور اس طرح چار گھنٹے کی ناکام کوششوں کے بعد وہ سب لوگ گھر واپس آگئے۔

؟…/ …؟

مینل صبح اٹھی تو گھر میں اسے ایک عجیب سی خاموشی چھائی محسوس ہوئی‘ تایا اور تائی جی باہر لان میں ہی بیٹھے تھے‘ اسے حیرت تو راحم بھائی کو دیکھ کر ہوئی جو اتنی صبح صبح جاگے ہوئے تھے جبکہ پھوپو نہایت خاموشی سے تنہا صوفہ پر بیٹھی تھیں‘ مینل ان ہی کے پاس جا بیٹھی۔

’’السلام علیکم پھوپو۔‘‘ وہ ان کی گود سے عنایہ کو لیتے ہوئے بولی۔

’’وعلیکم السلام!‘‘ بے بی پھوپو کی آواز خاصی مردہ سی تھی اسے لگا پھوپو روئی ہوں۔ ’’کیا بات ہے پھوپو طبیعت تو ٹھیک ہے۔‘‘ اور جواب میں پھوپو نے اسے رات والی ساری کہانی سنادی۔

’’اوہ…‘‘ ساری بات سن کر اس کے منہ سے صرف اتنا ہی نکلا۔ ’’راحم بھائی نے سنیعہ سے بات کی؟‘‘

’’کی ہے وہ بھی اپنے دادا جی کی ضد سے پریشان ہے اور چاہتی ہے کہ فی الحال ان کی بات مان لی جائے مگر اس کے لیے بھائی صاحب تیار نہیں۔‘‘

’’آپ سمجھائیں تایا جی کو آخر کسی ایک کو تو جھکنا پڑے گا ورنہ معاملہ کیسے حل ہوگا۔‘‘

’’میں کیا انہیں تو راحم اور بھابی بھی سمجھا سمجھا کر تھک چکے ہیں ظفر بھائی نے بھی بہت سمجھایا مگر مجال ہے جو وہ مان جائیں۔‘‘ مینل نے دیکھا راحم بھائی تیز تیز سیڑھیاں چڑھ کر اوپر اپنے کمرے میں چلے گئے انہیں دیکھ کر وہ دل ہی دل میں بہت پریشان ہوئی۔

’’اگر ایسی ہی سچویشن رہی تو آج نکاح کیسے ہوگا؟‘‘

’’اللہ جانے بس تم دعا کرو دونوں میں سے کوئی ایک فرد اپنی ضد سے پیچھے ہٹ جائے۔‘‘ مگر ایسا نہ ہوا حالانکہ بارہ بجے کے قریب سنیعہ کی امی اور ابو بھی تایا جی سے مل کر انہیں یہی سمجھانے آئے کہ وہ کوئی بھی ایک مکان سنیعہ کے حق مہر میں دے دیں تاکہ دادا جی کی ضد پوری ہوجائے۔ شادی کے بعد سنیعہ آپ کو وہ پیپرز واپس کردے گی مگر جانے تایا جی کو کیا ہوا مان کر ہی نہ دیے اور آخرکار وہ لوگ واپس چلے گئے دوپہر میں ہونے والے نکاح کی تقریب بھی منسوخ کردی گئی۔

؟…/ …؟

شام میں سنیعہ کا فون آیا تو وہ بری طرح رو رہی تھی۔

’’تمہارے باپ کی ضد نے آج مجھے سارے خاندان کے سامنے دو کوڑی کا کردیا۔‘‘

’’میرے باپ کی ضد نے…‘‘ راحم کو حیرت ہوئی۔

’’ضد تو تمہارے دادا جی کررہے ہیں۔‘‘

’’ان کی عمر ہے ضد کرنے کی‘ تم کرنے دو مگر اللہ کے لیے میری بات تو سمجھو جب میں کہہ رہی ہوں کہ مکان میرے نزدیک اہمیت نہیں رکھتا تو آخر تم لوگ یہ بات سمجھتے کیوں نہیں؟‘‘

’’میری خود سمجھ میں کچھ نہیں آرہا سنیعہ میں کیا کروں اگر تم مانو تو ہم دونوں نکاح کرلیں پھر جو کسی کو کرنا ہو وہ کرلے۔‘‘

’’ایسا نہیں ہوگا راحم میرا پورا خاندان جمع ہے جو خاصا روایت پرست بھی ہے… بے شک شہر کی تعلیم اور ماحول نے ہمیں تبدیل ضرور کردیا ہے مگر پیچھے سے ہم آج بھی وہی دیہاتی لو گ ہیں اپنی انا اور ضد پر جان قربان کرنے والے‘ اسی لیے کہہ رہی ہوں کہ تم لوگ ہی مان جائو۔‘‘

’’میں کوشش کرتا ہوں‘ سنیعہ تم بھی کوشش کرو کہ دادا جی تمہاری بات مان جائیں۔‘‘

دوسری طرف سنیعہ نے فون بند کردیا اور پھر راحم کی تمام تر کوششیں ناکام ہوگئیں تایا جی کو جانے کیا ہوا تھا جو وہ اپنی ضد پر قاؔئم تھے اور پھر اگلی صبح سنیعہ کے گھر سے آنے والے فون نے گویا سارے گھر میں ایک قیامت مچادی‘ ایسی قیامت کے کسی کی سمجھ میں نہ آیا کہ اب کیا کریں؟ سب سے زیادہ تو راحم بھائی کی حالت یہ سن کر خراب ہوئی کہ سنیعہ کے والد نے فون کرکے بارات کو آنے سے منع کردیا تھا۔

؟…/ …؟

’’میرا خیال ہے ہمیں ان کے گھر جاکر بات کرنی چاہیے۔‘‘ بھتیجے کی محبت میں تڑپتی بے بی پھوپو وہاں جانے کے لیے پوری طرح تیار کھڑی تھیں۔

’’کوئی فائدہ نہیں‘ اس کا دادا ایک پاگل آدمی ہے‘ جو اپنی ضد میں پوتی کی خوشیاں چھین رہا ہے۔‘‘ یہ سن کر راحم نے پلٹ کر اپنے باپ کے چہرے پر ایک نظر ڈالی اسے یقین کرنا مشکل ہوگیا کہ یہ اس کے وہی ڈیڈی ہیں جنہوں نے بچپن سے لے کر آج تک اس کی کسی بات کو کبھی رد نہ کیا تھا اور اب ایک ضد کی خاطر اس کی ساری زندگی برباد کرنے کا ذرا سا بھی احساس ان کے چہرے پر نہ تھا۔

’’پلیز پاپا آپ ہی مان جائیں۔‘‘ حورعین ان کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑی رو رہی تھی نعمان صاحب نے ایک نظر اپنی روتی ہوئی بیٹی پر ڈالی اور پھر دور کھڑے راحم کو دیکھا انہیں لگا وہ بھی رو رہا ہے۔

’’ٹھیک ہے گاڑی نکالو ہم ابھی سنیعہ کے گھر جائیں گے مکان کے کاغذات لے لو نکاح بھی ابھی اور آج ہی ہوگا۔‘‘ اس کے ساتھ ہی تین گاڑیوں میں بھر کر وہ سب لوگ جب سنیعہ کے ہاں پہنچے تو پتہ چلا کہ آج دوپہر ہی سنیعہ کا نکاح اس کے کزن سے ہوگیا ہے جو کل ہی لندن سے پاکستان سنیعہ کی شادی میں شرکت کے لیے آیا تھا۔ بازی اس طرح بھی پلٹ سکتی ہے کوئی نہ سوچ سکتا تھا خاص طور پر راحم جس کی تقدیر دو دن میں ہی بدل گئی۔ یقینا یہ بھی مشیت ایزدی ہے کہ جو چیز نصیب میں نہ ہو ہم اسے کسی طرح اپنا نہیں بناسکتے ایسا ہی راحم اور سنیعہ کے ساتھ ہوا تھا جن کا نصیب ایک دوسرے سے جڑا ہی نہ تھا اور مقدر میں لکھا تھا کہ انہیں اسی طرح الگ ہونا ہے۔

؟…/ …؟

’’بہت افسوس کی بات ہے بھابی آپ لوگوں نے بنا ہمارے فیصلے کا انتظار کیے سنیعہ کا نکاح کردیا۔‘‘ گھر آتے ہی تائی جی نے سب سے پہلے سنیعہ کی امی کو فون کیا۔

’’اور کتنا انتظار کرتے‘ آپ لوگ تو ایسے خاموش تھے جیسے یہ کوئی معمولی بات ہو جبکہ ہم لوگوں نے تو ہر ممکن کوشش کی کہ نکاح وقت پر ہو مگر پھر بھی آپ لوگ جمعہ والے دن مسجد نہ آئے اس کے بعد بھی ہمیں ایسا ہی محسوس ہوا کہ شاید بھائی صاحب اپنی ضد سے پیچھے نہ ہٹیں گے اور پھر لازمی تھا کہ کل کی بارات اپنے وقت پر ہی ہو اس لیے ہمیں ایسا کرنا پڑا مگر جو بھی ہے آپ لوگوں نے میری بچی کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔‘‘

کس نے اچھا کیا اور کس نے برا‘ اب یہ وقت ان باتوں کا نہ تھا جبکہ انہیں سنیعہ کی امی بھی اپنی جگہ درست محسوس ہوئیں۔ کیونکہ اس وقت تو ان کی بھی عزت پر بنی ہوئی تھی شاید یہ کہانی صرف دو مردوں کی انا کی کہانی تھی جنہوں نے اپنی ضد میں آکر وہ کر دکھایا جو عام طور پر ہونا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے اور راحم اسے تو ایسا محسوس ہوا جیسے وہ سنیعہ کے بنا اگلی سانس نہ لے پائے گا اؔسے اپنے جسم سے جان کھنچتی محسوس ہوئی مگر کب تک یہ دنیا ہے جہاں انسان کو سب کچھ کھو کر بھی جینا پڑتا ہے اور کوئی کسی کے لیے نہیں مرتا‘ کسی کے بھی زندگی سے چلے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘ زندگی کا کام تو رواں دواں رہنا ہے اور وہ اسی طرح چلتی رہتی ہے کوئی آئے کوئی جائے اس سے فرق نہیں پڑتا‘ اس وقت تک جب تک ہم زندہ ہیں۔

؟…/ …؟

’’تم سوچ نہیں سکتیں‘ ثوبیہ سنیعہ کے گھر والوں نے ہماری کتنی بے عزتی کروائی ہے‘ ان لوگوں کو پہلے ہی ہر بات اپنے والد سے پوچھ کر طے کرنی چاہیے تھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ شادی سے چار دن پہلے ایک اتنا فضول مطالبہ کردیا جائے اور پھر اسے بنیاد بنا کر رشتہ ہی ختم کردیا جائے میں نے ایسا کبھی نہیں سنا جیسا ہمارے ساتھ ہوا۔‘‘ ثوبیہ بے بی پھوپو کا اصلی نام تھا اور ان کے دونوں بھائی اپنی بہن کو ثوبیہ ہی کہا کرتے تھے جیسے اس وقت تایا ابو نے کہا۔ ثوبیہ کو اس لمحے وہ اپنی اولاد کے دکھ میں ڈوبے پریشان حال دکھائی دیے۔

’’دفع کریں بھائی جان آپ کیوں اپنا بلڈ پریشر ہائی کررہے ہیں اللہ مالک ہے ہمارے لیے بھی کوئی بہتری کی سبیل نکل آئے گی۔‘‘ پھوپو نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے انہیں تسلی دینا چاہی۔

’’مجھے تو لگتا ہے کہ وہ لوگ صرف رشتہ ختم کرنے کا بہانہ ڈھونڈ رہے تھے جبکہ ان کی نیت پہلے ہی خراب ہوچکی تھی اور وہ سنیعہ کا رشتہ اپنے بھانجے سے درپردہ طے کرچکے تھے۔‘‘ تائی فرحین نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ جس سے سب کو ہی اتفاق تھا ورنہ کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ اتنی فضول باتوں کو بنیاد بنا کر اس طرح رشتہ ختم کردیا جائے۔ میرا خیال ہے کہ آپ اخبار میں ایک اشتہار دے دیں کہ ہمارے خاندان میں کوئی فوتگی ہوگئی ہے جس کے باعث راحم کا ولیمہ منسوخ کردیا گیا ہے اس طرح ہم فرداً فرداً سب کو جواب دینے سے بچ جائیں گے۔‘‘ ظفر صاحب نے اپنے بھائی کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے اپنی رائے سے نوازا۔

’’نہیں اس طرح کا کوئی بھی اشتہار ہمارے لیے مزید بے عزتی کا باعث بنے گا کیونکہ وہ لوگ ضرور امید کررہے ہوں گے کہ ہماری طرف سے کوئی ایسی خبر ہی سننے کو ملے گی۔‘‘ نعمان صاحب نے کچھ سوچتے ہوئے اپنے بھائی کی طرف ایک نظر ڈالی جو انہیں ہی دیکھ رہے تھے۔

’’پھر اب ہم کیا کریں گے؟‘‘ فرحین تائی نے عالم حیرت میں اپنے شوہر کو دیکھا۔

’’ہم آج اور ابھی راحم کا نکاح کریں گے اور پرسوں ان شاء اللہ اسی جگہ‘ اسی مقام پر دعوت ولیمہ کا اہتمام کیا جائے گا۔‘‘ نعمان صاحب نے کچھ سوچتے ہوئے کمرے میں موجود تمام افراد پر باری باری نظر ڈالی۔ ’’بشرطیہ کہ ظفر تیار ہوجائے تو سب کچھ ہوجائے گا۔‘‘ وہ شاید دل ہی دل میں سب کچھ سوچ چکے تھے‘ اس کے ساتھ ہی انہوں نے راحم پر ایک نظر ڈالی جو سب سے بے خبر تھا یقینا اس تک اپنے والد کے الفاظ بھی نہ پہنچے تھے کیونکہ اس وقت اس کا دھیان کمرے میں موجود کسی فرد کی جانب نہ تھا۔

’’مطلب… کیا کہنا چاہ رہے ہیں آپ… میں آپ کے کس کام آسکتا ہوں؟‘‘ ظفر نے حیرت سے بڑے بھائی کو دیکھتے ہوئے سوال کیا۔

’’میں چاہتا ہوں کہ راحم کو تم اپنی فرزندی میں لے لو‘ مینل سے اس کا نکاح کرکے اسے اپنا بیٹا بنالو دیکھو ظفر انکار نہ کرنا کیونکہ ہمیشہ کسی مشکل میں اپنے ہی اپنوں کے کام آتے ہیں۔‘‘ ان کے الفاظ تھے یا بم جو راحم کے گرد پھٹا وہ یک دم اچھل پڑا۔

’’پلیز پاپا یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ‘ مینل بہت چھوٹی ہے‘ بچی ہے وہ‘ ایسا مت کریں۔ ہوسکتا ہے سنیعہ کے نکاح کی خبر غلط ہو میں اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔‘‘ وہ تڑپتے ہوئے بولا۔

’’بس راحم ختم کرو یہ سب کچھ۔‘‘ تایا جی نے ہاتھ اٹھا کر انہیں کچھ بھی کہنے سے روک دیا۔ ’’بہت تماشا ہوگیا‘ اب جیسا میں نے کہا ہے ویسا ہی ہوگا‘ ورنہ میں تمہیں عاق کردوں گا۔‘‘ تایا جی کا لہجہ حتمی اور سخت تھا‘ جس نے راحم کی ساری ہمت ایک سیکنڈ میں ہی ختم کردی اور وہ خاموشی سے اپنی جگہ پر بیٹھا رہ گیا۔

’’اگر تم سب لوگ میرے کیے گئے فیصلے سے متفق ہو تو قاضی رحیم داد کو فون کردو وہ فجر کے فوراً بعد یہاں آجائیں۔‘‘ تایا جی کا سرخ چہرہ پسینہ پسینہ ہوگیا‘ شاید ان کا بی پی بہت ہائی ہوچکا تھا‘ ظفر نے ایک نظر حلیمہ کے چہرے پر ڈالی۔ یہ رشتہ ان تک کیسے پہنچا تھا یہ تو سب ہی جانتے تھے اور اس طرح کے حالات شاید قدرت نے پیدا ہی اس لیے کیے تھے کہ مینل کا نصیب راحم سے جڑا تھا ورنہ عام حالات میں ایسا گھر‘ کاروبار اور پیسے والے لوگ انہیں کبھی نہ مل سکتے تھے‘ حلیمہ نے صرف ایک پل سوچا اور اثبات میں سر ہلا دیا‘ ظفر کے لیے اتنا ہی کافی تھا۔

؟…/ …؟

جانے کیا وقت ہوا تھا‘ وہ گہری نیند میں تھی جب کسی نے اس کی چادر کھینچ کر اسے جگایا۔

’’کیا مصیبت ہے؟‘‘ وہ سمجھی شاید یہ حرکت مناحل کی ہے کیونکہ وہ ہمیشہ اس کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتی تھی۔

’’جلدی اٹھو…‘‘ آواز پھوپو کی تھی۔

’’یااللہ خیر اب کیا ہوگیا؟‘‘ کل جو کچھ ہوا تھا اس کے بعد ان سب کے دل کو یہی دھڑکا لگا رہتا کہ جانے اب کیا ہونے والاہے‘ خاص طور پر تائی کی ذہنی حالت نے ان سب کو بہت پریشان کر رکھا تھا‘ گھر میں ہونے والے اس واقعے کا اثر ان سب پر بھی پڑا تھا جس کے باعث ان کو سوئے ہوئے بمشکل کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ پھوپو نے اتنی افراتفری میں اٹھا کر بٹھا دیا۔ اس نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے دیکھا‘ مناحل اور حورعین بھی اپنے بستروں سے نکل چکی تھیں کمرے میں اس وقت حورعین کی ایک دو کزنز اور بھی موجود تھیں۔

’’تم میں سے مہندی کسی کو لگانا آتی ہے؟‘‘ پھوپو نے تمام لڑکیوں کی جانب دیکھتے ہوئے سوال کیا۔ ان کا یہ سوال ان حالات میں اتنا غیر متوقع تھا کہ سب ہی ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں۔

’’میں فارسی نہیں بول رہی جو سمجھ نہ آئے‘ صاف صاف اردو میں بات کررہی ہوں جسے بھی مہندی لگانا آتی ہے وہ کون پکڑے اور جلدی جلدی مینل کے ہاتھ پائوں پر مہندی لگائے کیونکہ عبدالرحمان قاری صاحب کو لینے گیا ہے اور وہ کسی وقت بھی آسکتے ہیں۔‘‘ کون بیڈ پر رکھ کر پھوپو واپس پلٹی ہی تھیں کہ کی یک دم مناحل نے انہیں بازو سے پکڑ کر روک لیا۔

’’پلیز پھوپو ہمیں بتائیں تو کیا ہوا ہے؟ ہمیں کچھ سمجھ نہیں آرہا۔‘‘

’’مینل کا نکاح ہے ابھی کچھ دیر میں راحم کے ساتھ۔‘‘ مناحل نے دیکھا پھوپو کی آنکھ نم ہوگئی جانے خوشی سے یا دکھ کے باعث وہ سمجھ نہ پائی اور فوراً ایک نظر پیچھے مڑ کر ساکت بیٹھی مینل پر ڈالی جو پھوپو کی بات سنتے ہی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔

’’میں کسی سے نکاح نہیں کروں گی‘ پھوپو آپ یہ بات امی کو بتادیں اور ان سے کہیں مجھے ابھی اور اسی وقت گھر جانا ہے… عجیب تماشا ہے یہ۔‘‘ وہ پائوں میں چپل پھنسائے‘ دوپٹہ اوڑھے ایک پل میں ہی جانے کے لیے تیار کھڑی ہوئی۔

’’تم سب لوگ باہر جائو مجھے اس سے اکیلے میں بات کرنا ہے۔‘‘ پھوپو کے اشارہ کرتے ہی سارا کمرہ خالی ہوگیا‘ اب وہاں سوائے مینل اور پھوپو کے کوئی نہ تھا۔

’’دیکھو مینل ہم سب کی عزت تمہارے ہاتھوں میں ہے… میری‘ تمہارے تایا اور خاص طور پر بھابی فرحین کی جو کل ہونے والی اس متوقع بے عزتی کے احساس سے ادھ موئی ہوگئی ہیں جو ولیمہ کینسل ہونے کے باعث ساری دنیا کو پتہ لگنے کی صورت میں ہوگی۔‘‘

’’پلیز پھوپو آگے سے ہٹیں مجھے گھر جانے دیں مجھے نہیں رہنا یہاں‘ اور نہ ہی کسی سے شادی کرنی ہے کمال ہے شادی نہ ہوئی مذاق ہوگیا‘ قربانی کا بکرا ہوں کیا میں‘ جب ضرورت پڑی چھری رکھ کر ذبح کردیا۔‘‘ مارے غصے کے اس کے حلق سے آواز ہی نہ نکل رہی تھی‘ ساتھ ہی ساتھ آنسو بھی آنکھوں سے بہہ رہے تھے‘ بہتی آنکھوں سے اس نے دیکھا تایا‘ پاپا‘ امی اور تائی فرحین کمرے میں داخل ہوئے۔ تایا جی سب سے آگے تھے۔ وہ مینل کے عین سامنے آن کھڑے ہوئے۔

’’ٹھیک ہے بیٹے تمہیں راحم سے شادی نہیں کرنی نہ کرو‘ تم پر کوئی زبردستی نہیں ہے مگر اس طرح رو مت۔‘‘ مینل کے سر پر ہاتھ رکھتے وہ خود رو رہے تھے‘ مینل یک دم خاموش ہوگئی‘ وہ تایا جی جن کے رعب‘ دبدبہ اور خوف کے احساس نے اسے ہمیشہ اپنے حصار میں لیے رکھا‘ آج وہ ہی بارعب شخصیت اس کے سامنے کھڑے رو رہے تھے‘ ایک بے بسی اور ذلت کے احساس نے انہیں اپنے گھیرے میں لے رکھا تھا‘ وہ یک دم شرمندہ سی ہوگئی اور جس بیڈ کے کنارے کھڑی تھی اس پر ہی بیٹھ گئی‘ امی تیزی سے آگے بڑھیں اس کا سر اپنے کندھے سے لگالیا وہ مسلسل روئے جارہی تھی۔

’’مجھے اپنی تربیت پر پورا بھروسہ ہے۔ میری بیٹی کبھی بھی ہمیں مایوس نہیں کرے گی‘ میں یہ بات اچھی طرح جانتی ہوں۔‘‘ جذباتی بلیک میلنگ‘ وہ سب جانتی تھی مگر مجبور ہوگئی اپنے بڑوں کو اس طرح اپنے سامنے کھڑا روتا دیکھ کر اس کی ساری ہمت ختم ہوگئی یا شاید جو اس کے مقدر میں لکھ دیا گیا تھا وہ اسی طرح پورا ہونا تھا‘ پھر اسے مہندی لگائی گئی‘ لال دوپٹہ اوڑھا کر اس کے جملہ حقوق راحم کے نام لکھ دیئے گئے وہ شخص جو کبھی مینل کے خیالات کے آس پاس سے بھی نہ گزرا تھا اس کا مقدر ٹھہرا‘ عبدالرحمان ہوتا تو اسے اتنی مشکل نہ ہوتی یہاں تو محمد راحم میر تھا جس نے کبھی زندگی میں مینل کو اس قابل نہ سمجھا کہ اس کے سلام کا جواب بھی مسکرا کر دے دیتا‘ آج وہ شخص اس کی زندگی کا مکمل مالک بنادیا گیا اور شاید اس طرح کہ اس میں اس کی اپنی رضا بھی شامل نہ تھی تو طے یہ ہوا کہ نصیب کے لکھے نے مینل ظفر کو ایک ہی پل میں اس طرح مینل راحم بنایا کہ وہ احتجاج بھی نہ کرسکی اور اپنے تئیں ساری زندگی راحم کے سر پر مسلط کردی گئی یہ مسلط کرنا ہی تو تھا کہ دل پر اختیار سنیعہ کا اور جسمانی طور پر وہ مینل کا ہوگیا… اور یہ دکھ اس طرح مینل کے دل کے اندر اترا کہ وہ بالکل خاموش ہوگئی اور عہد کرلیا کہ اب زندگی میں جو کچھ بھی ہو اس کا خود ہی مقابلہ کرنا ہے لیکن زبان پر کبھی کوئی شکوہ یا شکایت نہیں لانا تھی کیونکہ وہ جان چکی تھی کہ کسی شکوہ یا شکایت کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ہوتا وہی ہے جو ہمارے نصیب میں لکھ دیا جاتا ہے اور جب نصیب میں لکھا ہی سہنا ہے تو پھر احتجاج کیسا جو ہورہا ہے بس وہ ہونے دو… زندگی کا یہ فارمولا بہت چھوٹی سی عمر میں ہی مینل کی سمجھ میں آگیا تھا۔

؟…/ …؟

اس نے آئینہ کے سامنے کھڑے ہوکر اپنا جائزہ لیا‘ ایک بھرپور جائزہ… اورنج اور ریڈ وہی قیمتی سوٹ جو سنیعہ نے بڑی محبت سے اپنے لیے تیار کروایا تھا آج مینل کے جسم پر جگمگا رہا تھا… اسے یک دم ہی اپنے جسم پر چیونٹیاں سی رینگتی محسوس ہوئیں‘ دل چاہا اس لباس کو فوراً نوچ کر خود سے الگ کردے لیکن ایک لباس ہی کیا یہاں تو جسم پر سجا سارا زیور بھی سنیعہ ہی کا پسند کردہ تھا اور سب سے بڑھ کر راحم وہ بھی تو سنیعہ ہی کی پسند تھا بلکہ اس کی محبت یا شاید عشق تھا جو ایک ہی پل میں اس سے چھین کر مینل کے نصیب میں لکھ دیا گیا وہ کس کس چیز کو خود سے الگ کرتی سنیعہ کی منتخب کردہ ہر پسندیدہ چیز بن مانگے اس کے دامن میں آن گری تھی۔

کل وہ سنیعہ کے جس نصیب پر رشک کررہی تھی آج اس نے وہ چھین کر اس پر اپنا نام لکھ دیا تھا۔ یہ سوچتے ہوئے اچانک اس کی نگاہ آئینہ سے نظر آتی دیوار پر پڑی جہاں سنیعہ کی ایک بڑی سی خوب صورت تصویر جگمگا رہی تھی سب کچھ اتنی افراتفری میں ہوا کہ شاید کسی کو یہ تصویر ہٹانا یاد ہی نہ رہا‘ وہ اپنا بھاری شرارہ سنبھالتی پیچھے پلٹی‘ ایک نظر کمرے میں چاروں طرف دوڑائی‘ درو دیوار پر کیا جانے والا پینٹ‘ انٹریئر ڈیکوریشن غرض یہ کہ ہر چیز جو سنیعہ نے اپنے بیڈروم سیٹ کے حساب سے منتخب کرکے لگائی تھی‘ اس نے چاروں اطراف کا اچھی طرح جائزہ لے لیا‘ ایک نظر دیوار گیر گھڑی پر ڈالی دو بج چکے تھے راحم کہاں تھا‘ کچھ علم نہ تھا اور اسے اس وقت راحم کے بارے میں جاننے کا کوئی خاص شوق بھی نہ تھا۔ الماری کھول کر سادہ سا کاٹن کا سوٹ نکالا‘ اچھی طرح ہاتھ منہ دھو کرکپڑے تبدیل کرکے وہ واپس کمرے میں آئی۔ اسے بری طرح نیند آرہی تھی اپنے دماغ کو تمام سوچوں سے آزاد کرتی تکیہ اٹھائے وہ نیچے فرش پر آگئی‘ پھر چند ہی لمحوں میں نیند نے اسے گہری آغوش میں لے لیا… وجہ شاید یہ تھی کہ پچھلے دو دن اور دو راتیں ان سب نے سوائے چند گھنٹوں کی نیند کے خاصی بے آرام گزاری تھیں‘ آنکھ لگتے ہی وہ خوابوں کی حسین وادیوں میں اتر گئی جہاں ایک خوب صورت انجان شہزادہ سفید رتھ پر سوار اس کا منتظر کھڑا تھا۔ مینل تیزی سے اس کی جانب بڑھی‘ شہزادہ نے اپنا ہاتھ اس کی جانب بڑھایا جسے تھام کر مینل نے اس رتھ پر سوار ہونا تھا‘ اس سے قبل کہ مینل وہ ہاتھ تھامتی‘ یک دم تیز آندھی چلی جو اپنے ساتھ سب کچھ اڑا کر لے گئی وہ شہزادہ رتھ اور مینل کا خوب صورت سپنا‘ اب وہ ایک ویران اور بیابان ریگستان میں کھڑی تھی‘ ریت سے لتھڑی ہوئی‘ جیسے ہی اس نے اپنے ہاتھوں سے جسم پر لگی ریت جھاڑنا چاہی اس کا جسم مزید ریت سے بھر گیا وہ ڈر گئی‘ خوف زدہ ہوگئی ایسے جیسے ریت کے سمندر میں غرق ہونے لگی ہو‘ مارے خوف کے اس کی آنکھ کھل گئی‘ اس سے قبل کہ وہ اٹھ بیٹھتی نگاہ راحم پر پڑی جو اس وقت سنیعہ کی تصاویر کے ذریعے اپنا غم غلط کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ مینل کو اپنے سامنے بیٹھا یہ شخص قابل رحم لگا… جس کی محبت کے درمیان مینل داخل ہوگئی اور سب کچھ تہس نہس ہوگیا۔ اب وہ بیڈ پر کھڑا ہوا دیوار پر لگی سنیعہ کی تصویر اتاری اسے ہاتھوں میں تھام کر کچھ دیر دیکھا‘ شاید اس طرح وہ اپنی نظروں کی پیاس بجھا رہا تھا پھر اس نے وہ تصویر بھی لاکر میں رکھ کر لاک کردی یعنی پرانی یادوں کو محفوظ کر لیا گیا تھا۔ وہ یادیں جنہیں ضائع کرنے کا حوصلہ شاید اس میں نہ تھا‘ اس لیے اس نے اپنی تمام یادیں سنبھال کر رکھ لیں اس وقت کے لیے جب وہ ان یادوں کو پھر سے نکال کر زندہ کرسکے‘ اس سارے عمل کے دوران وہ شاید یہ بھی بھول گیا کہ کمرے میں اس کے علاوہ ایک ہستی اور بھی موجود ہے مگر شاید راحم کے نزدیک اس کی کوئی حیثیت ہی نہ تھی اس لیے اسے قطعی نظر انداز کرکے وہ بستر پر لیٹ گیا‘ اس وقت جو مینل کی آنکھ کھلی تو صبح فجر تک دوبارہ نہ لگی اور پھر نماز پڑھنے کے بعد وہ کروٹیں بدل بدل کر کب سوئی اسے پتہ ہی نہ چلا۔

؟…/ …؟

’’یہ یہاں کس نے رکھا ہے؟ جہاں دل چاہتا ہے وہاں ہر چیز رکھ دیتے ہیں۔‘‘ باہر سے آتی راحم کی آواز سنتے ہی وہ جلدی سے اٹھ بیٹھی‘ اتنی دیر میں دروازہ کھول کر وہ کمرے میں داخل ہوا‘ مینل فوراً بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی‘ شبانہ پانی کا گلاس لیے اس کے پیچھے ہی اندر آگئی‘ گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہی وہ فوراً کمرے سے نکل گئی۔ مینل کی سمجھ میں نہ آیا وہ کیا کرے‘ اس وقت اس کی حالت ایسی تھی کہ نہ جائے رفتن نہ پائے رفتن‘ راحم نے فقط ایک نگاہ اس پر ڈالی اور شاید وہ اس کی حالت دیکھ کر سمجھ گیا کہ وہ اس وقت کس کیفیت کا شکار ہے۔

’’میرے سر میں درد ہے مجھے کچھ دیر سونا ہے اس لیے پلیز آپ کمرے سے باہر جاتے ہوئے لائٹ اور دروازہ اچھی طرح بند کردیں۔‘‘ راحم کے الفاظ سنتے ہی گویا اس کے مردہ جسم میں جان سی پڑ گئی اور وہ اس کی ہدایات پر تیزی سے عمل کرتی کمرے سے باہر نکل آئی تھی‘ باہر نکلتے ہی اسے ایسا محسوس ہوا جیسے حبس زدہ ماحول سے یک دم کسی کھلی فضا میں آگئی ہو۔

؟…/ …؟

’’دیکھو بیٹا… مرد کا دل ایک سلیٹ کی مانند ہوتا ہے‘ جس پر پہلے سے لکھے ہوئے حروف مٹا کر دوبارہ تحریر کرنا کچھ مشکل نہیں تم بھی کوشش کرو اس کے دل کی سلیٹ پر لکھا سنیعہ مٹا کر اپنا نام لکھنے کی۔‘‘ تائی فرحین دھیرے دھیرے اسے سمجھاتے ہوئے بولیں۔

’’اور تائی جی اگر کوئی اپنا نام اس سلیٹ پر کھرچ کر لکھ دے تو… یقینا سلیٹ خراب ہوجائے گی نا کیونکہ کھرچا ہوا نام مٹانا آسان کیا تقریباً ناممکن ہی ہوتا ہے‘ تو آپ یہ سمجھ لیں کہ راحم کے دل کی سلیٹ پر سنیعہ کا نام کھرچا ہوا ہے آپ یا میں اتنی آسانی سے نہیں مٹاسکتے ہاں البتہ کوشش کرکے اس کے برابر دوسرا نام ضرور لکھا جاسکتا ہے جو فی الحال میرے لیے ممکن نہیں۔‘‘ راحم کی خاموشی اس کا میچور پن مینل کی طرف سے کی جانے والی ہر کوشش کو ختم کرنے کا باعث بن رہا تھا وہ اس سے کوئی بھی بات کرتے ہوئے ابھی بھی اتنا ہی گھبراتی تھی جتنا اس وقت جب وہ صرف مینل ظفر تھی۔

’’دیکھو بیٹا… تم یہ بھول جائو کہ راحم ابھی بھی تمہارا وہی بارعب کزن ہے جس سے تم ڈرتی تھیں اب ایسا نہیں ہے اب وہ تمہارا مختار کل ہے اور تم اس کی کل حیات… اس پر اپنا اختیار جتائو محبت سے‘ پیار سے‘ نرمی سے اسے اپنی جانب راغب کرو اور اپنے ذہن سے پہلے تم خود سنیعہ کو نکال دو پھر ہی تم راحم کے ذہن سے نکالنے میں کامیاب ہوگی۔ سچ تو یہ ہے کہ تم نے اپنے اوپر سنیعہ کو کسی برے خواب کی طرح سوار کر رکھا ہے بھول جائو اسے‘ چلی گئی وہ… نکل گئی راحم کی زندگی سے… شادی ہوگئی ہے اس کی بھی اپنے کزن کے ساتھ پھر تم لوگ اسے کیوں نہیں بھول رہے۔‘‘ تائی نے جو کچھ کہا وہ سچ تھا یہ وہ باتیں تھیں جن پر کبھی مینل نے غور ہی نہ کیا تھا‘ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسے کوشش تو کرنا چاہیے ہوسکتا ہے وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوجائے اور راحم کے دل سے سنیعہ کو نکال پھینکے‘ اپنی اس کوشش پر اس نے آج سے ہی عمل کرنے کا پکا عہد کرلیا‘ زندگی اگر راحم کے ساتھ ہی لکھی ہے تو پھر کیوں نہ اسے اپنا بنا کر جیا جائے‘ یہ خیال دل میں آتے ہی اس کی پچھلے کئی ماہ کی کلفتیں دھل گئیں‘ اور وہ ایک دم ہی مطمئن سی ہوگئی۔

؟…/ …؟

سب سے پہلے اس نے اپنے کمرے کا اچھی طرح سے جائزہ لیا‘ دیوار پر لگی بڑی سی پورٹریٹ‘ وال کلاک‘ ڈیکوریشن پیس‘ سب وہی تھے جو سنیعہ نے اپنی پسند سے لگائے تھے‘ مینل کو ایک پل لگا سوچنے کے لیے اور پھر اس نے اپنے کل اختیارات استعمال کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے شبانہ کو آواز دی۔

’’جی بھابی…‘‘ شبانہ اس کی ایک ہی آواز پر دوڑی چلی آئی۔

’’میرے ساتھ مل کر کمرے کی سیٹنگ تبدیل کرا دو گی؟‘‘

’’اس کمرے کی جی…؟‘‘ شبانہ نے پورے کمرے کو دیکھتے ہوئے حیرت سے سوال کیا۔

’’ہاں ظاہر ہے اسی کمرے کی بات کررہی ہوں میں۔‘‘

’’لیکن بھابی جی راحم بھائی نے یہ سب کچھ…‘‘ جملہ مکمل کرنے سے پہلے ہی اسے احساس ہوا کہ وہ کچھ غلط کہنے جارہی تھی لہٰذا فوراً سے پیشتر خاموش ہوگئی۔

’’میں جانتی ہوں کہ یہ کمرہ سنیعہ کی پسند کے مطابق سیٹ کیا گیا ہے مگر تم شاید بھول گئیں اب اس کمرے کی مالک میں ہوں‘ سنیعہ نہیں‘ وہ کل تھی جو گزر گیا اور میں آج ہوں جو اس جگہ کھڑی ہوں تو پھر بتائو اہمیت کس کی زیادہ ہوئی میری یا اس کی۔‘‘ دھیرے دھیرے بولتے ہوئے وہ مسکرائی۔ شبانہ بنا کوئی جواب دیئے اس کے پیچھے دروازے کی جانب دیکھ رہی تھی مینل نے پلٹ کر دیکھا دروازے کے عین درمیان راحم کھڑا تھا شاید وہ اس کی گفتگو کے آخری جملے سن چکا تھا جس کا اندازہ اس کے چہرے کو دیکھ کر بخوبی لگایا جاسکتا تھا مگر مینل آج ذرا بھی خوف زدہ نہ ہوئی اپنے حق نے اس کے دل کو بہادر بنادیا تھا۔

’’السلام علیکم…!‘‘ راحم پر نظر ڈالتے ہی اس نے سلام کیا اور دروازے کے سامنے سے ہٹ گئی۔

’’شبانہ پلیز ایک گلاس پانی لادو۔‘‘ بیڈ پر بیٹھتے ہی وہ اپنی ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتے ہوئے بولا۔

’’تم جائو شبانہ میں پانی لے آتی ہوں۔‘‘ شبانہ سر ہلاتی ہوئی فوراً کمرے سے باہر نکل گئی اور دوسرے ہی پل مینل نے پانی کا گلاس لاکر اس کے قریب رکھ دیا‘ راحم نے گلاس اٹھاتے ہوئے ایک نظر اس کے چہرے پر ڈالی۔

’’یہ سامنے والا کائوچ اور شیشے کا اسٹینڈ میری اپنی پسند کا ہے پلیز انہیں نکال کر باہر مت پھینک دینا‘ اس کے علاوہ جو تمہارا دل چاہے کرو۔‘‘ مینل نے دیکھا اس کے چہرے کی سختی قدرے کم تھی اسے حوصلہ ہوا۔

’’شکریہ آپ کے بتانے کا… ورنہ میں تو سب سے پہلے یہ دو چیزیں ہی باہر نکال کر پھینکنے والی تھی۔‘‘ شرارت سے جواب دیتی وہ ہلکا سا مسکرائی اور پانی کا خالی گلاس اٹھا کر کمرے سے باہر نکل آئی۔

؟…/ …؟

’’ارے میں تمہیں ہی ڈھونڈ رہا تھا اچھا ہوا تم یہاں ہی مل گئیں۔‘‘ وہ لائونج میں داخل ہی ہوئی تھی کہ باہر کا دروازہ کھول کر عبدالرحمان اندر آتے ہوئے اس سے مخاطب ہوا‘ مینل نے دیکھا سامنے صوفے پر اخبار پڑھتے راحم کی توجہ ان دونوں کی جانب مرکوز ہوگئی ہے۔

’’خیریت میں کہاں گم ہوگئی تھی جو تم ڈھونڈ رہے تھے۔‘‘ وہ ہلکے پھلکے انداز میں مسکراتے ہوئے بولی۔

’’ڈیئر کزن بازار سے تمہارے فیورٹ گول گپے لے کر آیا ہوں‘ بس ابھی شبانہ لے کر آتی ہے تم جلدی سے آجائو‘ آج ہم دونوں مل کر کھائیں گے۔ حورعین اور راحم بھائی توویسے بھی یہ اوٹ پٹانگ چیزیں نہیں کھاتے۔‘‘ ڈائننگ ٹیبل کی کرسی کھینچ کر اس پر بیٹھتے ہوئے عبدالرحمان نے اسے دعوت دی‘ اس نے ایک پل سامنے بیٹھے راحم کو دیکھا جو انہیں یکسر نظر انداز کیے اخبار پڑھنے میں بری طرح مصروف تھا۔

’’سوری عبدالرحمان میرا گلا خراب ہے اس لیے میں گول گپے نہیں کھا سکوں گی۔‘‘ اپنے مچلتے دل کو بمشکل قابو کرتی وہ آہستہ آوازسے بولی۔

’’ارے ایسے کیسے نہیں کھائوگی اتنے سارے گول گپے کون ختم کرے گا۔‘‘ مینل کا انکار‘ عبدالرحمان کو ہضم نہ ہوا۔

’’شبانہ کو دے دینا وہ شوق سے کھاتی ہے۔‘‘ وہ کہہ کر واپس پلٹی‘ اس سے قبل کہ کمرے سے باہر نکلتی عقب سے آتی راحم کی آواز نے اس کے قدم روک دیئے۔

’’لائو بھئی ذرا آج ہم بھی کھا کر دیکھیں یہ گول گپے آخر ہوتی کیا بلا ہے۔‘‘ وہ تیزی سے پیچھے مڑی… راحم کرسی کھینچ کر عبدالرحمان کے بالکل برابر بیٹھا اپنی آستین فولڈ کررہا تھا وہ پلٹ کر ڈائننگ کی جانب آگئی۔

’’یہ کوئی اتنی بڑی بلا نہیں ہے جس کے لیے آپ کو اپنی آستین فولڈ کرنی پڑیں۔‘‘ وہ بھی اس کے سامنے کرسی کھینچ کر اطمینان سے بیٹھتے ہوئے بولی۔

’’وائو یار گڈ ہماری بھابی نے تو آپ کو گول گپے کھانے سکھا دیے… جیو بھابی جیو۔‘‘ عبدالرحمان نے شرارت سے نعرہ مارا جواباً راحم نے ہلکی سی چپت اس کے سر پر ماری اور پھر ان تینوں کے ساتھ شبانہ نے مل کر خوب گول گپے انجوائے کیے اور وہ دن مینل کے اچھے دنوں کی یادگار میں سے ایک ہوگیا۔

؟…/ …؟

’’راحم کو پنک کلر بہت پسند ہے۔‘‘ یہ بات کل ہی اسے حورعین سے پتہ چلی تھی ویسے بھی اس نے اپنا پرفیوم‘ باڈی اسپرے‘ ہیئر اسٹائل یہاں تک کہ بات کرنے کا انداز ہر چیز کو راحم کی پسند میں ڈھال لیا تھا اور اب اس کی کوشش تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ کلر بھی وہی استعمال کرے جو راحم کی پسند کے عین مطابق ہو‘ یہی سوچ کر اس نے اپنی وارڈروب کو اچھی طرح کھنگال کر ایک اچھا سا پنک سوٹ نکالا راحم آفس کے کام کے سلسلے میں کل رات سے اسلام آباد گیا تھا اور اسے آج شام ہی واپس آنا تھا اس کی واپسی سے قبل ہی وہ اپنا پنک سوٹ پہن کر اچھی طرح تیار ہوگئی چونکہ راحم کے آنے میں ابھی وقت تھا اس لیے وہ حورعین کے کمرے میں ہی تھی جب اسے شبانہ نے راحم کے آنے کی اطلاع دی۔

’’تم فرائیڈ رائس کے لیے سبزی کاٹو آج کھانا میں پکاؤں گی۔‘‘ شبانہ کو ہدایت دیتی وہ کمرے میں آگئی‘ راحم غالباً واش روم میں تھا جس کا اندازہ اندر پانی گرنے کی آواز سے لگایا جاسکتا تھا۔ مینل نے شیشے کے سامنے کھڑے ہوکر اپنا جائزہ لیا اور جھک کر ڈریسنگ ٹیبل کی دراز سے چوڑیاں نکال کر پہن لیں دراز بند کرکے جیسے ہی وہ پلٹی اپنے بالکل پیچھے کھڑے راحم سے ٹکرا گئی‘ جس نے اسے کندھوں سے تھام کر گرنے سے بچالیا‘ وہ یک ٹک اسے ہی دیکھ رہا تھا‘ مینل گھبرا گئی۔

’’تم بہت خوب صورت ہو اور یہ رنگ تو ایسے ہے جیسے تمہارے لیے ہی بنا ہو…‘‘ اس کے بالوں کی لٹ کانوں کے پیچھے کرتا‘ راحم اس طرح گنگنایا کہ مینل کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی‘ وہ محنت جو اس نے اپنی محبت کو پانے کے لیے کی تھی آج اس میں کامیاب ہوگئی۔ وہ جی اٹھی اس کا دل ہوائوں میں اڑنے لگا‘ کاش راحم اسے ساری زندگی یونہی تھام کر کھڑا رہے اور وہ اسی طرح اس کی محبت کے حصار میں رہے لیکن شاید صرف یہ ایک پل ہی تھا جو اس کی زندگی تھا اگلا پل تو اسے پھر ایک ان دیکھی آگ میں دھکیلنے والاؔ تھا۔

’’جب تم میرے پاس ہوتی ہو کوئی دوسرا نہیں ہوتا‘ جانتی ہو نا تمہاری محبت مجھ سے سب کچھ چھین لینے کی صلاحیت رکھتی ہے بس مجھ سے ایک وعدہ کرو سنیعہ تم مجھے کبھی چھوڑ کر نہیں جائوگی۔‘‘ اس کے بالوں کی خوشبو اپنے اندر اتارتا وہ بے خود ہوگیا مگر اس کی بے خودی مینل کو ہوش میں لے آئی‘ دھڑدھڑ دھڑام اس کے اردگرد بنا شیشے کا تاج محل ایک ہی پل میں زمین پر آن گرا خود پر جھکے راحم کو اس نے آہستہ سے پیچھے کیا۔

’’ایکسکیوز می راحم مجھے کچن میں جانا ہے۔‘‘ اس کی آواز بھرا گئی تھی شاید وہ رو رہی تھی اس نے جلدی سے اپنے گال پر ہاتھ پھیرا‘ آنسو آنکھوں کے کنارے سے بہہ نکلے تھے‘ شاید اتنی بے عزتی اس کا معصوم دل سہہ نہ سکا‘ راحم کو پیچھے کرتی ہوئی وہ فوراً کمرے سے باہر نکل گئی‘ نہیں چاہتی تھی کہ اس کے بہتے آنسو اسے اس شخص کے سامنے ذلیل کردیں جو اب تک اس کا نہ ہوا تھا۔

’’اسے کیا ہوا؟ اوہ شٹ۔‘‘ راحم کو یک دم یاد آیا کمرے سے باہر نکلنے والی ہستی سنیعہ نہیں مینل تھی اور وہ اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھامتا وہیں بستر پر ہی ڈھے گیا۔

؟…/ …؟

وہ رو رہی تھی ہچکیوں سے اس کا پورا وجود لرز رہا تھا‘ حلیمہ بے بسی کے عالم میں اپنی اس چھوٹی سی معصوم بیٹی کو دیکھ رہی تھیں ان کا دل اپنی بیٹی کے دکھ پر رو رہا تھا مگر وہ خاموش تھیں کیونکہ اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔

’’امی آپ جانتی ہیں ناکہ مجھے راحم سے محبت ہوگئی ہے۔‘‘ روتے روتے اس نے اپنی ماں کا ہاتھ تھام کر تصدیق چاہی۔

’’اس سے محبت تمہارا حق ہے بیٹا۔ وہ تمہارا شوہر ہے ہر اچھی بیوی اپنے شوہر سے ایسی ہی محبت کرتی ہے۔‘‘ انہوں نے روتی ہوئی مینل کے ہاتھ سہلائے۔

’’اور مجھ سے محبت کون کرے گا؟ اماں میں کیا بنا محبت کے ہی مر جائوں گی؟ روتی بلکتی سسکتی زندگی…‘‘ اس کے آنسو حلیمہ کے ہاتھ بھگونے لگے۔

’’نہیں میری بچی یاد رکھو محبت کا جواب ہمیشہ محبت سے ہی ملتا ہے اس عمل میں دیر ضرور ہوتی ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا کہ تمہاری محبت کسی کے دل کو چھوئے بغیر گزر جائے میرے الفاظ کا یقین رکھنا بیٹا ایسا ضرور ہوگا راحم بھی تمہاری محبت میں اسی طرح مبتلا ہوجائے گا جس طرح تم ہو۔‘‘

’’نہیں اماں ایسا کبھی نہیں ہوگا‘ آپ دیکھ لیجیے گا۔ راحم کبھی بھی اپنے دل سے سنیعہ کو نہیں نکال پائے گا ناممکن۔‘‘ نفی میں سر ہلاتے ہوئے اس نے ہتھیلی کی پشت سے اپنی آنکھوں کو زور سے رگڑا‘ وہ بے سکون تھی اسے سکون نہیں آرہا تھا‘ وہ تڑپ رہی تھی وہ بلک رہی تھی اور حلیمہ بے بسی سے اسے دیکھ رہی تھیں۔ اسی پل انہیں عشاء کی اذان کی آواز سنائی دی۔

’’اٹھو بیٹا رونا دھونا بند کرو اور وضو کرکے نماز پڑھو اللہ سے دعا کرو اپنی خوشیوں کی وہ ضرور سنے گا سچے دل سے مانگو بیٹا وہ سب کچھ دے گا وہ جو تم چاہتی ہو۔‘‘ حلیمہ نے اسے بازو سے پکڑ کر کھڑا کرتے ہوئے کہا جواباً وہ بالکل خاموش رہی اور اس سے قبل کہ وہ واش روم کی جانب بڑھتی لائونج کا دروازہ خاموشی سے کھولتا راحم اندر داخل ہوا۔

’’السلام علیکم آنٹی…‘‘ امی کے قریب جاکر اس نے اپنا سر جھکایا۔

’’وعلیکم السلام بیٹا… جیتے رہو۔‘‘ امی نے دونوں ہاتھ اس کے سر پر رکھتے ہوئے دعا دی۔ ’’مینل جلدی سے ریڈی ہوجائو میں تمہیں لینے آیا ہوں۔‘‘ وہ سمجھ چکا تھا کہ مینل رو ہی تھی مگر اس نے یکسر نظرانداز کردیا اور بغور اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے بولا۔

’’بیٹھو بیٹا‘ میں کھانا لگوا رہی ہوں کھا کر جانا اور مینل بھی نماز پڑھ لے۔‘‘ امی جلدی سے باہر نکلتے ہوئے بولیں۔

’’نہیں آنٹی پلیز آپ زحمت نہ کریں میں اور مینل ڈنر کرنے باہر جارہے ہیں جلدی سے ریڈی ہوجائو مینل۔‘‘ صوفہ پر بیٹھتے ہوئے اس نے ایک بار پھر سے ساکت کھڑی مینل کو پکارا جو دل نہ چاہتے ہوئے بھی اثبات میں سر ہلاتی اندر کمرے میں چلی گئی کیونکہ اسے راحم کو انکار کرنا اچھا نہ لگا تھا پھر وہ خفگی ایک پل میں ہی دور ہوگئی اور راحم کے ساتھ نے اسے سب کچھ بھلا کر ایک بار پھر سے شانت کردیا‘ زندگی اپنے طور پر رواں دواں ہوگئی اور شاید ہمیشہ اسی طرح رواں دواں رہتی اگر اس میں سنیعہ نامی پتھر ایک بار پھر سے نہ آن گرتا۔

؟…/ …؟

راحم کی کزن کی شادی ہونے والی تھی اور تائی چاہتی تھیں کہ وہ راحم کے ساتھ بازار جاکر شادی کے لیے شاپنگ کرلے لیکن چونکہ آج کل راحم اپنے آفس کے کامو ں میں بری طرح مصروف ہونے کے باعث اس کے ساتھ جانے کا وقت نہ نکال پارہا تھا اسی لیے وہ حورعین کے ساتھ بازار گئی ان کے مخصوص ڈیزائنر کے پاس ڈریس پسند کرکے وہ باہر نکلی ہی تھی کہ نگاہ یک دم سامنے روڈ پر کھڑی گاڑی پر پڑی جو یقینا راحم کی تھی غالباً وہ اپنے آفس کے کسی کام کے سلسلے میں ہی باہر آیا ہوگا‘ راحم ڈرائیونگ سیٹ پر موجود موبائل پر مصروف تھا۔ اس سے قبل کہ وہ اس کی جانب بڑھتی کوئی لڑکی تیزی سے فرنٹ ڈور کھول کر گاڑی کے اندر جابیٹھی اس کے چہرے پر نگاہ پڑتے ہی مینل کو ایک جھٹکا سا لگا وہ دھوکہ نہیں کھا سکتی تھی چہرہ پہچاننے میں‘ وہ لڑکی کوئی اور نہیں سنیعہ تھی‘ حورعین دائیں جانب مڑ کر غائب ہوگئی تھی جبکہ وہ اپنی جگہ ساکت کھڑی رہ گئی‘ مسکراتے ہوئے راحم نے گاڑی تھوڑی سی ریورس کی اور زن سے اڑا لے گیا اس نے شاید روڈ پر کھڑی مینل کو نہ دیکھا تھا‘ جو اسے سنیعہ کے ساتھ دیکھ کر اپنی جگہ کھڑے کھڑے فریز ہوگئی تھی۔ اس سے قبل کہ وہ وہیں کھڑے کھڑے گر جاتی‘ حورعین نے اس کے کندھے کو پکڑ کر زور سے ہلایا۔

’’کہاں رہ گئی ہو تم‘ میں پارکنگ سے واپس آئی ہوں اور تمہیں پتہ ہے نا اتنے ٹریفک میں روڈ کراس کرکے جانا اور پھر واپس آنا کتنا مشکل امر ہے‘ آئو اب۔‘‘ اس نے بازو سے پکڑ کر مینل کو کھینچا جو اپنی جگہ ساکت کھڑی تھی۔ ’’کیا بات ہے مینل‘ کیا ہوا ہے تمہیں‘ رو کیوں رہی ہو؟‘‘ حورعین اس کے چہرے پرنظر ڈالتے ہوئے حیرت سے بولی۔

’’کچھ نہیں…‘‘ اس نے اپنی آنکھوں کو زور سے رگڑا۔ ’’شاید آنکھ میں کچھ چلا گیا ہے۔‘‘ آہستہ سے جواب دیتی وہ اس کے ساتھ قدم گھسیٹتی گاڑی میں آن بیٹھی اسے کسی طور یقین نہ آیا کہ اس نے کچھ دیر قبل جو دیکھا تھا وہ سچ تھا اتنا سب کچھ ہوجانے کے بعد بھی سنیعہ اور راحم ایک دوسرے کے ساتھ‘ اس طرح نظر آسکتے تھے شاید محبت وہ عمل ہے جو ہر تکلیف دہ امر سے گزر کر بھی زندہ ہی رہتا ہے‘ جس کی مثال ابھی کچھ دیر پہلے اس نے خود اپنی نگاہوں سے دیکھ لی تھی۔

وہ گھر آکر کئی دن تک بے چین رہی جبکہ راحم کا رویہ پہلے جیسا ہی تھا‘ بالکل نارمل ایسے جیسے سنیعہ‘ دوبارہ اس کی زندگی میں آئی ہی نہ ہو یا پھر وہ اس کی زندگی سے گئی ہی نا تھی‘ مینل نے ایک دوبار کوشش کی کہ وہ اس حوالے سے راحم سے کچھ بات کرسکے‘ سنیعہ کے بارے میں جان سکے وہ اس کے شوہر کے بارے میں جاننا… پوچھنا چاہتی تھی کہاں ہے وہ ہستی جسے اپنانے کے لیے اس نے راحم کو چھوڑا تھا وہ چاہتی تھی کہ راحم سنیعہ کی کوئی بات کرے مگر وہ اس سلسلے میں بالکل خاموش تھا اور خود سے سنیعہ کا ذکر کرنا اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا یہاں تک کہ اس نے گھر پر بھی کسی کو کچھ نہیں بتایا تھا۔ گزرتے وقت نے اسے احساس دلایا کہ شاید وہ پاکستان آئی ہو اور اتفاقاً راحم مل گیا ہو لیکن جلد ہی اس کے اس خیال کی تردید ہوگئی۔

؟…/ …؟

’’تم ناک میں لونگ کیوں نہیں پہنتیں؟‘‘ راحم ٹی وی دیکھتے دیکھتے اس کی جانب متوجہ ہوا۔

’’لونگ…‘‘ مینل نے حیرت سے دھرایا۔

’’ہاں بھئی ناک کی لونگ۔‘‘

’’اوہ… اچھا‘ پتہ نہیں۔‘‘ اس کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہ تھا‘ اس لیے وہ سٹپٹائی۔

’’چلو تیار ہوجائو جیولر کے پاس چلتے ہیں تمہیں لونگ لے دیتا ہوں کیونکہ مجھے اچھا لگتا ہے ناک میں سفید لونگ جگمگاتی ہوئی۔‘‘ آج وہ خاصا فریش نظر آرہا تھا مینل اسے دیکھنے لگی۔

’’ایسے کیا دیکھ رہی ہو جلدی سے تیار ہوجائو آٹھ بجے تک شاپ بند ہوجائے گی۔‘‘

’’جی اچھا۔‘‘ اسے جواب دیتی وہ تیار ہونے چلی گئی اور پھر اگلے تیس منٹ میں وہ دونوں جیولرزکے پاس موجود تھے‘ مینل نے راحم کی پسند کردہ لونگ پہن لی‘ سفید لشکارے مارتی لونگ اس کے چہرے پر بے حد جچ رہی تھی راحم نے کائونٹر پر پے منٹ کی لیکن اس سے قبل کہ وہ شیشے کا ڈور دھکیل کر باہر نکلتے کوئی تیزی سے اندر داخل ہوا‘ مینل نے دیکھا وہ سنیعہ تھی جو اسے قطعی نظر انداز کرتی راحم کی جانب بڑھی۔

’’ہیلو…‘‘

’’ارے تم یہاں کیسے؟‘‘ راحم غیر متوقع طور پر اسے اپنے سامنے دیکھ کر خوشی سے کھل اٹھا‘ مینل نے دیکھا سنیعہ کی ناک میں ڈائمنڈ کی سفید لونگ بہت خوب صورت لگ رہی تھی بے اختیار ہی اس نے آئینہ دیکھا بالکل ویسی ہی لونگ اس کی ناک کی زینت بھی بن چکی تھی۔

’’اوہ…‘‘ اسے اب پتہ چلا راحم کو اچانک اتنے ماہ بعد اس کی ناک میں لونگ کی کمی کا احساس کیسے ہوا تھا‘ اس کا دل یک دم ہی برا سا ہوگیا۔

’’جہاں تم وہاں میں۔‘‘ جیسے ہی اس کے کانوں سے کھلکھلاتی ہوئی سنیعہ کا یہ جملہ ٹکرایا وہ دروازے کے پاس سے ہٹ کر وہاں آگئی جہاں یہ دونوں کھڑے تھے اور شاید راحم تو یہ بھی بھول چکا تھا کہ وہ یہاں آیا کس کے ساتھ ہے۔

’’السلام علیکم!‘‘ اس نے بالکل نارمل انداز میں سنیعہ کو مخاطب کیا۔

’’اوہ ہیلو… یہ تو شاید تمہاری وہی والی کزن ہے گول گپے والی۔‘‘ وہ راحم کی جانب دیکھتے ہوئے زور سے ہنس دی مینل خاموش کھڑی منتظر تھی کہ راحم کیا جواب دیتا ہے۔

’’ہاں سنیعہ یہ مینل ہے۔‘‘ مینل نے حیرت سے اسے دیکھا صرف مینل یعنی وہ ابھی تک مسز راحم کے عہدے پر نہ پہنچ سکی تھی ورنہ وہ اسے اپنے نام کی شناخت دیتا۔

’’اوہ اچھا تو تم نے میرا غم بھلانے کے لیے اپنی اس کزن سے شادی کرلی… حیرت ہے یار‘ تمہارے ٹیسٹ پر۔‘‘ وہ عجیب سے انداز میں مسکراتے ہوئے بولی۔

’’ایکسکیوز می راحم گھر چلیں میرے سر میں بہت درد ہورہا ہے۔‘‘ شاید اس کی آواز بھرا گئی تھی‘ اتنا کہہ کر وہ وہاں رکی نہیں بلکہ تیز تیز چلتی باہر آگئی‘ کچھ ہی دیر میں راحم بھی آگیا اور پھر گاڑی میں بیٹھ کر وہ خاموشی سے گھر آگئی سارے راستے دونوں اسی طرح خاموش تھے جیسے الفاظ ختم ہوگئے ہوں‘ سچ ہے بعض واقعات ہمیں اس طرح بے حس کردیتے ہیں کہ جیسے ہم گونگے بہرے ہوں۔

؟…/ …؟

اس دن وہ سوکر اٹھی تو گھر میں غیر معمولی خاموشی چھائی ہوئی تھی‘ مینل فریش ہوکر نیچے لائونج کی جانب آگئی تاکہ دیکھے تائی جی کہاں ہیں؟ اس نے جیسے ہی لائونج کا دروازہ کھولا ایک دم نگاہ سامنے بیٹھی سنیعہ پر پڑی دور سے ہی سنیعہ کی محبت تائی جی کے چہرے پر جگمگاتی دکھائی دے رہی تھی یا شاید یہ اس کا اپنا وہم ہو مگر جانے کیوں اسے سنیعہ کا اس طرح گھر آنا اور تائی جی کا اتنی محبت سے اس سے بات کرنا قطعی پسند نہ آیا‘ وہ دروازے سے ہی واپس پلٹ جاتی اگر تائی جی اسے دیکھ کر آواز نہ دے لیتیں۔

’’آجائو بیٹا ہم تمہارا ہی انتظار کررہے تھے۔‘‘ مینل آہستہ آہستہ چلتی ان کے سامنے رکھی کرسی پر جا بیٹھی۔

’’اچھا آنٹی میں اب چلتی ہوں پھر کسی دن آئوں گی۔‘‘ اس کے ساتھ ہی وہ اٹھ کھڑی ہوئی مینل کو ایسا محسوس ہوا جیسے سنیعہ کو اس کمرے میں مینل کی موجودگی پسند نہ آئی ہو۔

’’ارے کھانا تو کھا کر جائیں بس تیار ہوگیا ہے۔‘‘ اسے کھڑا ہوتا دیکھ کر حورعین جلدی سے آگے بڑھی۔

’’نہیں سوری یار پھر کسی دن کھالوں گی ابھی میں جلدی میں ہوں اور ہاں راحم آئے تو پلیز اسے یاد دلانا میرا کام ذرا جلدی کردے۔ مینل‘ تم کسی دن راحم کے ساتھ میرے گھر آنا مجھے خوشی ہوگی۔‘‘ جاتے جاتے وہ مینل کے قریب آن رکی‘ جبکہ مینل کو اس کا انداز گفتگو خاصا مصنوعی سا لگا اپنے حسد کو وہ خوب صورت لفظوں سے چھپانے کی کوشش کررہی ہو۔

’’ہاں ضرور۔‘‘ جب وہ بولی تو صرف اس قدر‘ اور پھر جیسے ہی وہ لائونج کے دروازے سے باہر نکلی حورعین اس کے قریب آکھڑی ہوئی۔

’’اس کا ڈریسنگ سینس پہلے ہی کافی اچھا تھا اب تو اور اچھا ہوگیا ہے‘ کتنی خوب صورت لگ رہی تھی وہ‘ ہے نا مینل۔‘‘ اپنی بات ختم کرکے اس نے مینل سے تصدیق چاہی‘ مینل نے دیکھا حورعین کی ستائشی نگاہیں گیٹ کی جانب بڑھتی سنیعہ کو ہی تک رہی تھیں۔ دوسروں کے احساسات کی پروا کیے بنا کیا جانے والا یہ بے لاگ تبصرہ اس کی طبیعت کو خاصا مکدر کر گیا تھا… مگر وہ خاموش رہی اسے سب سے زیادہ حیرت تائی جی پر تھی انہوں نے کس طرح سنیعہ کو اپنے گھر آنے کی اجازت دی یہ تو وہی سنیعہ تھی جس نے کل تک ان کی عزت پامال کی تھی اور آج وہ دونوں سب باتیں بھلائے ایک دوسرے کے ساتھ شیرو شکر تھیں یہی سب سوچتی ہوئی وہ خاموشی سے واپس اوپر اپنے کمرے میں آئی جبکہ نیچے بیٹھی تائی جی اور حورعین یقینا ابھی تک سنیعہ کو ہی ڈسکس کررہی تھیں۔

؟…/ …؟

سنیعہ پھر سے اس گھر میں آنے لگی ایسے جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہ تھا گھر کے سب لوگ بھی شاید اس سے منسوب تمام تلخ یادیں بھلا چکے تھے سوائے تایا جی کے‘ جنہوں نے ابھی تک سنیعہ سے بات نہ کی تھی البتہ عبدالرحمان کا رویہ اسے سمجھ نہ آتا تھا کیونکہ وہ ہمیشہ سے اپنی دلی کیفیات دوسروں سے چھپا کر رکھنے کا عادی تھا وہ اکثر وبیشتر راحم کو فون بھی کرتی‘ اسے راحم سے کچھ کام تھا کیا کام تھا؟ یہ کبھی مینل نے جاننے کی کوشش نہ کی‘ اس نے تو کبھی کسی سے یہ بھی نہ پوچھا کہ اس کا وہ شوہر کہاں ہے؟ جس کی خاطر یہ راحم سے ہر رشتہ توڑ کر ابروڈ جابسی تھی یہاں تک کہ جب بھی کبھی وہ راحم کو فون کرتی مینل خاموشی سے کمرے سے باہر نکل جاتی‘ کیونکہ اس پل اسے وہ خود اپنے کمرے میں ہی غیر ضروری محسوس ہوتی‘ آج بھی ایسا ہی ہوا جب اس نے راحم کو فون پر سنیعہ سے بات کرتا دیکھا تو خاموشی سے باہر نکل کر نیچے آگئی جہاں سامنے ہی صوفے پر تائی جی بیٹھی کسی سوچ میں گم تھیں۔

’’السلام علیکم تائی جی۔‘‘

’’وعلیکم السلام… یہاں آجائو میرے پاس۔‘‘ ان کے بلانے پر مینل وہیں ان کے قریب صوفے پر جا بیٹھی۔

’’راحم کیا کررہا ہے؟‘‘ تائی جی نے خاموش بیٹھی مینل سے برسبیل تذکرہ پوچھ لیا۔

’’سنیعہ سے فون پر گفتگو کررہے ہیں۔‘‘ ناچاہتے ہوئے بھی اس کا لہجہ تلخ ہوگیا‘ جسے تائی جی نے فوراً محسوس بھی کرلیا۔

’’ایک بات پوچھوں بیٹا‘ کیا تمہیں سنیعہ کا ہمارے گھر آنا پسند نہیں۔‘‘ یہ ایک ایسا سوال تھا جس کا جواب تائی جی پہلے سے ہی جانتی تھیں پھر بھی جانے انہوں نے مینل سے کیوں پوچھ لیا۔

’’میں کون ہوتی ہوں تائی جی کچھ پسند ناپسند کرنے والی۔‘‘

’’یہ حق تو ہر جاندار کے پاس ہے جسے چاہے پسند کرے اور جسے چاہے ناپسند اس لیے تم بھی اپنے اس حق رائے دہی میں آزاد ہو۔‘‘ اتنا کہہ کر تائی جی نے مینل کی شکل دیکھی جو خاموشی سے ان کی جانب تک رہی تھی۔

’’دیکھو بیٹا کئی دفعہ چیزیں وہ نہیں ہوتیں جو ہمیں دکھائی دیتی ہیں‘ اس لیے ضرورت ہوتی ہے ان کی گہرائی تک جاکر انہیں جانچنے کی اور ویسے بھی ہمیشہ یہ بات یاد رکھنا کہ دنیا گول ہے‘ جہاں سے گزرا ہوا ہر شخص دوبارہ آکر ہم سے ٹکرا سکتا ہے ایسے میں لازم ہوتا ہے کہ ہم اس شخص سے مقابلہ کریں… نہ کہ راستے سے ہٹ جائیں۔‘‘ تائی جی کی باتیں کچھ کچھ اس کی سمجھ میں آرہی تھیں۔

’’ایک بات پوچھوں تائی جی۔‘‘

’’سو باتیں پوچھو بیٹا۔‘‘

’’کیا سنیعہ ہمیشہ کے لیے واپس آگئی ہے میرا مطلب ہے کہ…‘‘ اسے سمجھ نہ آیا کہ وہ اپنا جملہ کس طرح مکمل کرے۔

’’فی الحال تو نہیں‘ بس دونوں میاں بیوی کے درمیان کچھ اختلافات ہیں دعا کرو وہ دور ہوجائیں تو پھر ان شاء اللہ واپس چلی جائے گی۔‘‘ تائی کی وضاحت نے اس کے بدترین خدشات کی تصدیق کردی‘ اسے پہلے ہی شک تھا کہ سنیعہ اپنا گھر چھوڑ کر واپس آگئی ہے اس سو چ کے ساتھ ہی راحم کو کھو دینے کے خوف نے اس کے دل میں پنجے گاڑھ لیے۔

؟…/ …؟

راحم آج کل روز لیٹ آرہا تھا۔ آتا بنا بات کیے آفس کا کام کرتا اور پھر سو جاتا‘ اس کا یہ رویہ مینل کے لیے خاصا حیرت انگیز تھا‘ اسے لگتا جیسے ان دونوں کے درمیان سنیعہ آگئی ہے یہی وجہ تھی کہ بنا کچھ پوچھے‘ کچھ جانے وہ راحم سے کھچ سی گئی جتنی بات وہ کرتا اتنا ہی وہ جواب دے دیتی‘ ایک ان دیکھی سی دیوار ان دونوں کے درمیان حائل ہوگئی جسے گرانے کی کوشش دونوں میں سے کسی نے نہ کی۔ اور ایسے ہی جانے کتنے خاموش دن گزر گئے جب ان خاموش دنوں کی خاموشی ایک بار پھر توڑنے کے لیے سنیعہ آن موجود ہوئی۔

؟…/ …؟

اس کے سامنے کھڑی سنیعہ رو رہی تھی کیوں؟ یہ بات مینل کی سمجھ میں نہ آئی۔ ان دو ماہ میں وہ پہلی بار مینل کے کمرے تک آئی تھی اور آتے ہی مینل کے بیڈ پر بیٹھ کر رونے لگی‘ مینل کی سمجھ میں ہی نہ آرہا تھا کہ اسے کیسے خاموش کروائے‘ اس کی تو سنیعہ سے کوئی ایسی دوستی بھی نہ تھی کہ وہ اس طرح اس کے سامنے رو دھو رہی تھی۔ مینل نے خاموشی سے اٹھ کر پانی کا گلاس بھرا اور سنیعہ کے قریب آبیٹھی۔

’’پلیز سنیعہ اب رونا بند کریں اور یہ پانی پی لیں۔‘‘ بحالت مجبوری اس نے سنیعہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ اسے لگا جیسے سنیعہ کے رونے کے پیچھے کوئی وجہ ایسی ضرور ہے جس کا تعلق اس کی ذات سے ضرور ہے۔

’’مینل… پلیز میری ایک بات مان لو میں زندگی بھر تمہارا احسان نہ بھولوں گی۔‘‘ روتے روتے وہ اپنے آنسو پونچھتے ہوئے مینل سے مخاطب ہوئی۔

اور مینل کے اس شک کی فوری تصدیق ہوگئی کہ اس کے آنسو کے پیچھے کہیں دور مینل کھڑی تھی۔ اس کا دل یک دم دھڑک اٹھا۔

’’آپ بات بتائیں ماننے والی ہوئی تو شاید مان لوں ورنہ وعدہ نہیں کرتی۔‘‘ وہ صاف گو لڑکی تھی‘ لوگوں کو اپنی باتوں کے جال میں الجھانا نہ جانتی تھی اسی لیے سنیعہ کے کندھے سے ہاتھ اٹھاتی سیدھی ہو بیٹھی۔

’’مجھے راحم دے دو… بخش دو مجھے راحم… یقین جانو میں اس کے بنا مزید زندگی نہیں گزار سکتی‘ میں مر جائوں گی مینل‘ پلیز میری بات مان لو…‘‘ ایسے جیسے وہ اس کا کوئی ڈریس پہننے کے لیے مانگ رہی ہو۔ اس کے زبان سے ادا ہونے والے الفاظ مینل کو دنگ کر گئے۔

’’راحم میرا شوہر ہے سنیعہ… تم شاید یہ بات بھول گئی ہو اور کوئی عورت اپنا شوہر کسی دوسری عورت کو دان نہیں کرتی۔‘‘ اپنی ناگواری چھپاتے وہ بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

’’تمہارا شوہر ہونے سے پہلے وہ میرا تھا‘ اسے تم نے مجھ سے چھین لیا‘ لیکن یاد رکھو وہ آج بھی دل سے میرا ہے‘ تم سب کچھ اس پر وار کر بھی اس کے دل سے مجھے نہیں نکال سکیں تو بہتر یہ ہے کہ تم اسے مجھے واپس کردو‘ اسی میں تمہاری عزت ہے۔‘‘ الفاظ کے ساتھ اس کا لہجہ بھی بدل گیا اور وہ بیڈ سے کھڑی ہوتے ہوئے مینل کے مد مقابل آگئی۔

’’میری عزت راحم کے ساتھ میں ہے‘ اس سے جدا ہونا میری عزت نہیں بلکہ میری موت ہے‘ بہت فرق ہے تم میں اور مجھ میں‘ تم شاید اپنے ڈریس کی طرح مرد بدلنے کی عادی ہو مگر میں نہیں‘ جو مل گیا اسی کے ساتھ زندگی گزار دوںگی۔‘‘

’’تم شاید جانتی نہیں راحم بھی میرا ساتھ چاہتا ہے‘ تمہارے ساتھ رہنا اس کی مجبوری ہے‘ نکاح نامی زنجیر نے اس کے سارے راستے بند کردیے ہیں… آج اگر تم اسے آزاد کردو تو یقین جانو وہ پلٹ کر بھی تمہاری طرف نہ آئے گا۔‘‘ دعویٰ صرف لفظوں میں ہی نہ تھا‘ چہرے پر بھی لکھا تھا۔

’’میں نے اس پر کبھی زبردستی نہیں کی‘ اگر وہ تمہارے ساتھ جانا چاہے تو میں روکوں گی بھی نہیں۔‘‘ وہ مضبوط لہجے میں بولی۔

’’سوچ لو پھر نہ کہنا کہ میں نے تمہارا گھر برباد کردیا۔‘‘

’’تمہیں اجازت ہے اگر کرسکتی ہو تو کردو۔‘‘ وہ اپنے لہجے کی مضبوطی برقرار رکھتے ہوئے بولی۔

’’میں سب کچھ کرسکتی ہوں مینل تم میری محبت کی طاقت کا کبھی اندازہ بھی نہیں لگا سکتیں لیکن میری ایک شرط ہے۔‘‘

’’کیسی شرط…‘‘ اس کے الفاظ آہستہ آہستہ جیسے مینل کے جسم سے جان کھینچ رہے تھے مگر پھر بھی وہ ہار ماننے کو تیار نہ تھی‘ شاید راحم کی چند روزہ محبت نے اسے وہ مضبوطی بخشی تھی کہ وہ دوسروں کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ پاگئی تھی۔

’’جب تک میں ہار نہ مانوں تم راحم کے قریب نہ جائوگی۔‘‘ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وہ سفاک لہجے میں بولی۔ ’’ہم دونوں میں سے وہ کس کا ہے؟ یہ جاننے کے لیے ضروری ہے کہ ہم دونوں کی حیثیت اس کے سامنے ایک جیسی ہو‘ ایک قریب اور ایک دور‘ اس طرح مقابلے میں مزہ نہیں آتا۔‘‘ آنسو کہیں دور گم ہوچکے تھے‘ اب تو چہرے پر صرف چالاکی لکھی تھی۔

’’تمہیں جو کرنا ہے وہ تم کرو مگر اس وقت میرے کمرے سے باہر نکلو۔‘‘ وہ آہستہ آہستہ شاید اپنی برداشت کھو رہی تھی اور یہ بات سنیعہ جان چکی تھی جس کا اندازہ اس کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ دیکھ کر لگایا جاسکتا تھا۔

’’صرف پندرہ دن‘ مینل صرف پندرہ دن مجھے دے دو پھر یقین رکھنا تمہارا اس کمرے پر حق ملکیت کا دعویٰ غلط ثابت ہوجائے گا۔‘‘ اس کے چہرے کو بغور تکتے ہوئے وہ ابھی بھی مسکرا رہی تھی۔

’’آج کی تاریخ نوٹ کرلو‘ اس کے بعد تمہارے پاس صرف پندرہ دن ہیں اگر تم ہارگئیں تو دوبارہ کبھی راحم کے قریب مت آنا‘ بولو منظور ہے۔‘‘ مینل نے شرط لگائی۔

’’ہاں منظور ہے۔‘‘ اس سے شرط لگا کر وہ ایڑیوں کے بل گھومی اور ٹھک ٹھک کرتی کمرے سے باہر نکل گئی‘ وہ جس جگہ کھڑی تھی مینل کتنی دیر اسی جگہ کو دیکھے گئی اسے یقین ہی نہ آیا تھا کہ اس کمرے میں کچھ دیر قبل سنیعہ کھڑی تھی اسے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے اس نے کوئی بھیانک خواب دیکھا ہو مگر وہ خواب نہ تھا کیونکہ سنیعہ کے جسم سے آتی خوشبو ابھی بھی کمرے میں موجود تھی۔

؟…/ …؟

راحم کو اپنے آفس کے کسی کام کے سلسلے میں پچھلے دو دن سے اسلام آباد تھا‘ اس کی سنیعہ سے لگائی گئی شرط ختم ہونے میں صرف چھ دن باقی رہ گئے تھے۔ سب کچھ بالکل ٹھیک چل رہا تھا جب اچانک واٹس اپ پر سنیعہ کی طرف سے آنے والی ایک تصویر نے اس کی زندگی میں ہلچل برپا کردی اس تصویر میں وہ اور راحم مری میں ایک ساتھ تھے‘ اسے دکھ ہوا تھا راحم نے مجھ سے جھوٹ بولا یا شاید وہ آفس کے کام کے لیے اپنے ساتھ سنیعہ کو بھی لے کر گیا ہے تو سچ یہ ہوا کہ سنیعہ واقعی راحم کی زندگی میں اس سے زیادہ اہم ہے‘ مطلب یہ ہوا کہ میں ہار گئی۔ سنیعہ کی جانب سے یکے بعد دیگرے آنے والی تصاویر نے اس کا دل ہر چیز سے اچاٹ کردیا اور وہ بنا کچھ کہے اپنی ہار تسلیم کر گئی‘ خاموشی سے سامان پیک کرکے وہ اپنے گھر آنے کے لیے تیار ہوگئی۔

’’تائی جی ڈرائیور سے کہیں مجھے گھر چھوڑ آئے۔‘‘ ٹرالی بیگ گھسیٹتی وہ لائونج میں آتے ہوئے بولی۔

’’کیوں خیریتص! تم اتنا سامان لے کر کہاں جارہی ہو؟‘‘ وہ کبھی اتنا بڑا بیگ لے کر امی کے گھر رہنے نہ گئی تھی‘ یہ ہی بات تائی کے لیے حیرت کا باعث بنی۔ ’’اور ویسے بھی کل شام تک راحم نے واپس آجانا ہے تو کیسا لگے گا اسے جب وہ واپس آئے اور تم گھر پر نہ ہو۔‘‘

’’انہیں کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔‘‘ آواز اتنی تھی کہ صرف اس کے کانوں تک آئی۔ ’’میں کوشش کروں گی کہ کل رات تک آجائوں۔‘‘ اس کی آواز بھرا گئی‘ مگر شاید تائی نے غور نہ کیا۔

’’اچھا عبداللہ باہر ہی ہے اس سے کہو تمہارا سامان گاڑی میں رکھ دے… مگر بیٹا کوشش کرنا راحم کے آنے سے پہلے اپنے گھر واپس آجاؤ‘ شوہر جب گھر واپس آئے تو اپنے استقبال کے لیے تیار بیوی اس کے دل کو بہت بھاتی ہے۔‘‘ ان کے لہجے میں آج بھی وہی پرانی محبت موجود تھی‘ شاید سنیعہ کی ایک ہفتہ کی غیر حاضری نے ان کے دل میں ایک بار پھر سے مینل کی محبت کو جگا دیا تھا یا پھر ہوسکتا ہے اسے ہی کوئی غلط فہمی ہو۔

’’جی اچھا۔‘‘ انہیں آہستہ سے جواب دیتی وہ باہر نکل گئی‘ طے تھا کہ اب اس وقت تک اس گھر میں واپس نہیں آنا جب تک راحم اسے خود لینے نہ آئے اور اگر وہ اسے لینے نہ آیا تو پھر وہ اپنی ہار تسلیم کرتے ہوئے سنیعہ کو یہ حق بخش دے گی کہ وہ جب چاہے راحم کو اپنالے اسے کوئی اعتراض نہ ہوگا‘ بے شک یہ ایک مشکل کام تھا لیکن وہ کسی کی خیرات کی ہوئی محبت کے ساتھ اب مزید زندگی نہیں گزار سکتی تھی۔

؟…/ …؟

’’تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہے مینل‘ تم نے ایک غیر عورت کے ساتھ اپنے شوہر پر شرط لگالی کون عورت اتنی بیوقوف ہوگی جو ایسی فضول شرطیں لگاتی پھرے حیرت ہے مجھے تم پر۔‘‘ مناحل صدمہ کی زد میں تھی جبکہ اس کے سامنے بیٹھی مینل ہچکیوں کے ساتھ رو رہی تھی‘ مناحل کو تو یہ بھی سمجھ نہ آرہا تھا کہ وہ اس پر ناراض ہو یا ترس کھائے۔

’’مجھے راحم پر یقین تھا اور میں سمجھی تھی کہ…‘‘ بولتے بولتے وہ رک گئی اور پھر سے رونے لگی۔

’’ہاں تو اب کیا ہوا تمہارے یقین کو۔‘‘ مناحل نے غصہ سے اسے گھورا۔

’’صرف ایک فضول سی لڑکی کی بھیجی ہوئی دو چار تصاویر نے تمہارا اعتبار ختم کردیا حد ہے مجھے امید نہ تھی کہ تم اتنی بے وقوف ہوگی۔‘‘ روتے روتے مینل خاموش ہوگئی اور سر اٹھا کر اپنے سامنے کھڑی اپنی چھوٹی بہن کو دیکھنے لگی جو اس وقت اس سے کہیں زیادہ سمجھدار نظر آرہی تھی۔

’’سوچو مینل ہوسکتا ہے راحم بھائی کو ان تصاویر کے بارے میں کوئی علم ہی نہ ہو یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ صرف تمہیں پریشان کرنے کے لیے راحم بھائی کے پیچھے اسلام آباد گئی ہو ان سے جان بوجھ کر ملی ہو‘ اور پھر ان کے ساتھ تصاویر لے کر تمہیں بھیج دی ہوں کیا یہ ممکن نہیں کہ راحم بھائی کے نزدیک وہ صرف ایک دوست ہو۔‘‘ اس نے اپنی بہن کے قریب بیٹھ کر اس کے ٹھنڈے یخ ہاتھ تھام لیے۔ ’’ان دونوں کا تعلق جس کلاس سے ہے وہاں یہ دوستیاں چھوٹی چھوٹی باتوں میں شمار ہوتی ہیں اور ویسے بھی تم دونوں کی شرط سے وہ تیسرا فریق بالکل ناواقف ہے جس پر تم نے کسی احمق کی طرح شرط لگائی ہے۔‘‘ یہ وہ باتیں تھیں جن پر اس نے ابھی تک غور بھی نہیں کیا تھا۔

’’مگر مناحل اگر تمہاری کہی ہوئی تمام باتیں میں درست بھی مان لوں تو سوچو وہ کل رات سے کراچی آئے ہیں مگر واپس آکر انہوں نے مجھے ایک بار بھی فون کرکے یہ نہیں پوچھا کہ میں کہاں ہوں؟‘‘ دل میں بدگمانیاں جب جنم لے لیں تو ایک کے بعد ایک پیدا ہوتی رہتی ہیں ذرا ذرا سی بات نئی بدگمانیوں کو جنم دیتی ہے انہیں کبھی ختم نہیں ہونے دیتی۔

’’ہوسکتا ہے انہیں بھی یہ غصہ ہو کہ تم ان کے آنے پر گھر میں موجود نہیں ہو؟‘‘ مینل نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ مناحل کی بات درست تھی یہ تو اس نے سوچا ہی نہ تھا۔

’’اور بیوقوف لڑکی تمہاری شرط ختم ہونے میں تو ابھی تین دن باقی ہیں‘ تم تین دن قبل ہی ہار تسلیم کرکے گھر چھوڑ آئی ہو۔‘‘ یہ آواز راحم کی تھی مینل ایک دم گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی‘ داخلی دروازے کے عین درمیان سینے پر دونوں ہاتھ باندھے راحم کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

’’السلام علیکم راحم بھائی۔‘‘ مناحل اسے سلام کرتی تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔

’’میں تو تمہیں کافی سمجھدار سمجھتا تھا لیکن اب اندازہ ہوا کہ تم خاصی بیوقوف ہو جو بنا سوچے سمجھے اپنا گھر اور شوہر اس طرح چھوڑے بیٹھی ہو۔‘‘ ناراضگی اس کے لہجے کے ساتھ ساتھ چہرے سے بھی عیاں تھی۔

’’مگر سنیعہ نے تو یہ کہا تھا کہ آپ اس سے محبت کرتے ہیں اور میں آپ دونوں کے درمیان آگئی ہوں۔‘‘ اب ضروری تھا کہ ہر بات بتادی جائے تاکہ دلوں میں موجود غلط فہمی دور ہوسکے۔

’’تم سنیعہ کو چھوڑو اپنی بات کرو۔ تم نے مجھے کیا کوئی ٹین ایج لڑکا سمجھ رکھا تھا دل پھینک قسم کا جو یہاں وہاں موجود لڑکیوں پر عاشق ہوتا رہے… یعنی تمہیں اب تک مجھ پر اعتبار ہی نہیں آیا… بڑے افسوس کی بات ہے مینل۔‘‘

’’مجھے آپ پر اعتبار ہے راحم…‘‘ وہ جلدی سے بولی۔

’’جھوٹ مت بولو مینل‘ جنہیں اعتبار ہوتا ہے وہ شرط نہیں لگاتے بلکہ شرط لگانے والوں کو منہ توڑ جواب دیا کرتے ہیں میں کوئی بے جان چیز تھا جس پر تم نے شرط لگادی… تم نے کیا بہت آسان سمجھ رکھا ہے کہ تم کہوگی کہ میں شرط ہار گئی سنیعہ اور سنیعہ آکر مجھے دلہا بنا کر اپنے ساتھ لے جائے گی حد ہے تمہاری سوچ کی۔‘‘ وہ واقعی سخت غصہ میں تھا‘ مینل کو کچھ سمجھ نہ آیا اور وہ ایک بار پھر سے رونے لگی۔

’’جو حق تمہارا مجھ پر ہے اسے استعمال کرنا سیکھو اگر ایسے ہی تم لوگوں سے ڈرتی رہیں تو ساری زندگی اپنے ساتھ مجھے بھی بے سکون رکھوگی بھول جائو سنیعہ کو… وہ ماضی تھا ماضی کے ساتھ ہی ختم ہوگیا اپنے حال کی سوچو جہاں تم مسز راحم ہو اور کوشش کرو کہ مستقبل میں بھی اس عہدے پر تم ہی فائز رہو۔‘‘

’’اچھا پھر آپ اس کے ساتھ اسلام آباد کیوں گئے؟‘‘ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ ایک بار پھر سے شک کر بیٹھی۔

’’اپنے جملے کی تصحیح کرو میں اس کے ساتھ نہیں گیا تھا اپنے آفس کے کام سے گیا تھا جبکہ وہ اسلام آباد اپنے شوہر کے ساتھ گئی تھی جہاں اتفاقیہ طور پر ہماری ملاقات ہوئی۔‘‘

’’شوہر…‘‘ اس نے ناقابل یقینی سے یہ لفظ دہرایا۔

’’مگر وہ تو شاید اپنے شوہر کو چھوڑ کر واپس آگئی تھی۔‘‘

’’چھوڑ کر نہیں ناراض ہوکر… تم ذرا سے الفاظ تبدیل کرکے پورے جملے کے معنی ہی تبدیل کردیتی ہو اور اب وہ اسے منانے خود پاکستان آیا ہے یہی وجہ تھی کہ اپنے ویزے وغیرہ کے چکر میں وہ دونوں اسلام آباد گئے تھے اور ہاں یہ بھی بتادوں کہ ان دونوں کی اس صلح صفائی میں سارا کمال میرا ہے کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ سنیعہ کی بیوقوفی سے دو گھر برباد ہوں‘ میں مانتا ہوں کہ مجھے اپنے سامنے دیکھ کر وہ تھوڑا سا بہک گئی تھی اور اس دن جب وہ تمہارے پاس آئی تھی تو خاصی فیڈ اپ تھی مگر اب اللہ کا شکر ہے سب ٹھیک ہوچکا ہے اگلے ہفتے وہ دنوں واپس جارہے ہیں اور جانے سے قبل وہ تم سے ملنے بھی آئے گی تاکہ اپنے سابقہ رویے کی تم سے معافی مانگ سکے۔‘‘

’’مجھے آپ مل گئے میں نے سب کچھ معاف کردیا۔‘‘

’’میں کہیں گم نہیں ہوا تھا جو تمہیں واپس مل گیا۔‘‘ راحم دھیرے سے مسکرایا۔

’’چلو اب اپنا سامان پیک کرو اور پندرہ منٹ میں باہر آجائو میں گاڑی میں بیٹھا تمہارا انتظار کررہا ہوں۔‘‘ وہ کہہ کر تیزی سے باہر نکل گیا‘ مینل گیلی آنکھیں صاف کرتے ہوئے مسکرادی اس کی مسکراہٹ کے ساتھ ہی کمرے کی ہر شے مسکرا رہی تھی۔

’’اللہ تعالیٰ سنیعہ کا گھر ہمیشہ آباد رکھنا‘ آمین۔‘‘ اپنے گھر کی آبادی کے ساتھ ہی اس نے سنیعہ کے لیے بھی کھلے دل سے دعا کی اور پھر اپنا سامان پیک کرنے چل دی۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
error: Content is protected !!
Close