Hijaab Nov 15

جھل مل ستارے

رابعہ شیخ

شوبز کی دنیا سے تعلق رکھنے والی کومل رضوی نے جہاں مداحوں کو سپر ہٹ گانوں سے محظوظ کیا وہیں اپنی اداکاری کے جوہر دکھانے کے علاوہ میزبانی کے فرائض بھی انجام دیے۔ خوش مزاج شخصیت کی مالک کومل رضوی کا کہنا ہے کہ ’’عورت سب کچھ کر سکتی ہے اور وہ بہت بہادر بھی ہے بس اسے خود پر یقین ہونا چاہیے‘‘۔ کومل سے کی گئی دلچسپ گفتگو آپ کی نذر ہے۔
س: اپنی ابتدائی تعلیم کے بارے میں بتائیے؟
کومل: میں نے ابتدائی تعلیم ’’امریکن انٹرنیشنل اسکول‘‘ سے حاصل کی جب کہ دو سال انگلینڈ کے ہاسٹل میں بھی گزارے۔
س: گھر والوں کی طرف سے حمایت حاصل رہی؟
کومل: شروع میں امی تھوڑی مخالف رہیں لیکن جب انہوں نے میری لگن اور محنت دیکھی اور لوگوں کی میرے لیے پسندیدگی دیکھی تو انہیں بھی اچھا لگا۔ اب تو مجھے اپنے والدین کی پوری حمایت حاصل ہے۔
س: موسیقی کی تربیت کہاں سے حاصل کی؟
کومل: میں اس معاملے میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے بڑے نامور لوگوں سے سیکھنے کا موقعہ ملا، پاکستان میں اُستاد حامد علی خان، اُستاد ظفر علی خان اور ادریس حسین سے سیکھا جب کہ انڈیا میںاُستاد بنواری لال شرما سے موسیقی کی تربیت حاصل کی۔
س: جب 16 سال کی نوجوان لڑکی نے گانا شروع کیا تو اسے اندازہ تھا کہ وہ کامیابی کی چوٹی سر کر لے گی؟
کومل: نہیں! میں بس گانا چاہتی تھی اور اس فیلڈ میں کامیاب ہونا چاہتی تھی لیکن مجھے نہیں پتا تھا کہ لوگ اتنی محبت دیں گے، میرے کام کو اتنا سراہا جائے گا، آج میں خود کو بہت خوش قسمت سمجھتی ہوں۔
س: آپ نے اداکاری بھی کی، اس طرف آنے کا باقاعدہ ارادہ تھا یا اتفاقاً ایسا ہوا؟
کومل: میں نے صرف تفریح اور نئے تجربے کے لیے ڈرامے میں اداکاری کی لیکن ایک ڈرامہ کرنے کے بعد مجھے بہت مزہ آیا تو میں نے سوچا کہ مزید کام بھی کرنا چاہیے۔
س: آپ نے انڈیا جا کر گانا گایا اور بطور V.J بھی کام کیا یہ تجربہ کیسا رہا؟ یہاں بھی آپ نے میزبانی کی دونوں ممالک میں کیا فرق دیکھا؟
کومل: ہاں دونوں ممالک میں کام کرنے کا انداز تھوڑا مختلف ہے، یہاں لوگ کافی دوستانہ، پُرسکون اور آسان انداز میں کام کرتے ہیں جو کبھی کبھی غیر پیشہ ورانہ بھی لگتا ہے جب کہ انڈیا میں لوگ وقت کی پابندی کا خیال رکھتے ہیں، اپنے کام کو بہت سنجیدگی کے ساتھ پیشہ ورانہ طریقے سے کرتے ہیں، جو کبھی کبھی بہت مشکل بھی لگتا ہے۔ دونوں جگہ کے طریقے اپنے اپنے طور پر بہت عمدہ ہیں لیکن کبھی کبھی کچھ چیزیں بھلی نہیں لگتیں۔
س: پاکستانی فلم ’’دی سسٹم‘‘ میں گانا گایا، پلے بیک سنگنگ کا تجربہ کیسا رہا؟ آگے بھی پلے بیک سنگنگ کی طرف قدم بڑھائیں گی؟
کومل: مجھے پلے بیک سنگنگ سے عشق ہے تو یقینا آئندہ بھی یہ ضرور کرتی رہوں گی۔
س: ڈراموں کی طرح فلم میں بھی اداکاری کے جوہر دکھانے کا کوئی ارادہ؟
کومل: ہاں ضرور، میں بہت جلد پاکستانی فلم میں نظر آؤں گی۔
س: گزشتہ برسوں میں آپ چند برس منظرِ عام سے غائب رہیں اس کی کوئی خاص وجہ؟
کومل: پہلے میں اپنی شادی کی و جہ سے مصروف رہی پھر میرے سسرال والوں کو میرا فیلڈ سے جڑے رہنا مناسب نہیں لگتا تھا تو ان کی خواہش تھی کہ میں کام نہ کروں۔
س: واپس آکر فیلڈ میں کوئی دقت پیش آئی جب کہ مسابقت بہت بڑھ چکی ہے؟
کومل: شکر ہے خدا کا! مجھے اس نے اتنی عزت عطا کی کہ واپس آنے پر مجھے کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
س: کوک اسٹوڈیو نے جہاں میوزک کو نئے رنگ میں رنگا وہاں گلوکاروں کو بھی الگ الگ انداز میں گانے کا موقع فراہم کیا، اس حوالے سے آپ کیا کہیں گی؟
کومل: میں اس پلیٹ فارم کی بہت عزت و قدر کرتی ہوں، میں خوش قسمت ہوں کہ میں نے کوک اسٹوڈیو میں جو بھی گانا گایا وہ بہت ہٹ رہا اور اس بات کی بھی خوشی ہے کہ مجھے یہاں مختلف انداز اور مختلف زبانوں میں گانے کا موقع ملا۔
س: آپ کو نیشنل ایوارڈ سے بھی نوازا گیا، کیسا محسوس ہوا؟
کومل: یقینا یہ میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔
س: اندرون ملک سے لے کر بیرون ملک تک کنسرٹ ہوتے رہتے ہیں، اس حوالے سے کوئی دلچسپ واقعہ؟
کومل: کنسرٹ تو ہوتے ہی دلچسپ ہیں، بیرون ملک کنسرٹ کرکے یہ احساس بہت خوب لگتا ہے کہ دوسرے ممالک کے لوگ کتنا پسند کرتے ہیں اور اپنے ملک کے کنسرٹ کی کیا ہی بات ہے لیکن بیرون ملک کے علاوہ مجھے پاکستان پنجاب کا جب ٹور لگا تھا جس میں ایک ماہ میں 30 کالجز کا ٹور کیا تھا اس میں بہت زیادہ مزہ آیا تھا۔
س: آپ کے نزدیک کومل رضوی کون ہے؟
کومل: اس کی شخصیت میں کافی رنگ موجود ہیں، وہ خود کو حالات کے مطابق ڈھالنا جانتی ہے، اس کی شخصیت میں کئی پہلو ہیں، وہ اپنے عقیدے، فیملی اور اصولوں میں سمجھوتا نہیں کرتی۔ وہ ایک باوفا، محبت کرنے والی اور بااعتبار انسان ہے، اس کے علاوہ وہ ایک مقابلہ کرنے والی محنتی لڑکی کے ساتھ ساتھ بہت سست بھی ہے۔
س: اپنے پرستاروں سے کیا کہنا چاہیں گی؟
کومل: میں تمام چاہنے والوں سے بہت محبت کرتی ہوں اور ان سب کا شکریہ کرنا چاہتی ہوںکہ آپ نے مجھے اتنا سراہا اور اتنی محبت دی۔ اسی طرح آپ میرے گانے سنتے رہیں، ڈاؤن لوڈ کرتے رہیں اور مجھے ہمیشہ یاد رکھیں۔
٭…٭…٭…٭
22 دسمبر 1976 کو اس دنیا میں آنکھ کھولنے والی ننھی کومل رضوی دبئی میں پیدا ہوئیں اور پھر انگلینڈ چلی گئیں ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی جب کہ اسکولنگ کے بعد وہ پاکستان آگئیں۔ جب پہلا گانا (ساتھیا) گایا تب ان کی عمر صرف سولہ سال تھی۔ اس کے بعد 1997 میں کومل نے پہلی مرتبہ اداکاری کے جوہر ڈرامہ ہوائیں میں دکھائے پھر کبھی کبھی، تیسرا پتھر اور سمندر ہے درمیاں جیسے ڈراموں میں اپنے کرداروں سے رنگ بھر دیئے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی گائیکی کو بھی پورا وقت دیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ اداکاری کے لیے بہت سوچ سمجھ کر انتخاب کریں گی۔ کومل نے انڈیا جا کر بھی میزبانی اور گلوکاری کی ہے، جو ان کے لیے بہت اچھا تجربہ رہا۔ اس کے علاوہ انہوں نے پاکستان میں بھی کئی پروگرامز ہوسٹ کئے ہیں جن میں ’’کراچی نائٹس ود کومل‘‘ ’’مارننگ شو‘‘ اور ڈانس ریلائیٹی شو ’’نچ لے‘‘ شامل ہیں۔ وہ آنے والے دنوں میں ہمیں ڈراموں کے ساتھ ساتھ پاکستانی فلموں میں بھی نظر آئیں گی۔ کوک اسٹوڈیو میں جس طرح نت نئے انداز میں موسیقی پر طبع آزمائی ہوتی ہے، ایسے ماحول میں نئے نئے انداز میں گانا ہر گلوکار کو اچھا لگتا ہے، ان گلوکاروں میں ایک نام کومل رضوی کا بھی ہے۔ وہ چند برس انڈسٹری سے دور رہی لیکن جب 2011 میں اس میدان میں دوبارہ اتریں تو کوک اسٹوڈیو میں اپنی گائیگی سے پرستاروں کے دل میں پھر سے جگہ بنا لی، انہوں نے ’’دانے پہ دانا‘‘ اور’’ لمبی جدائی‘‘ جیسے ہمیشہ یاد رہنے والے گانیں گاکر کوک اسٹوڈیو میں چار چاند لگا دیے۔ اس کے بعد سیزن 7 میں ’’وشملے‘‘ جیسا عمدہ گانا اس خوب صورتی سے گایا کے سننے والے بار بار سنتے ہیں۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
× How can I help you?
Close