Aanchal Mar-17

حریم عشق

سیدہ غزل زیدی

دل لہو کرتے ہیں کس طرح سخن گوئی میں

تم بھی اسی کرب سے اک بار گزر کر دیکھو

آڑی ترچھی ہیں لکیریں کہ لہو ہے دل کا

رنگ اخلاق کا تصویر میں بھر کر دیکھو

بائیک ریسنگ اس کا شوق نہیں جنون تھا اور اس کا اندازہ کوئی بھی باخوبی ہوا سے باتیں کرتی اور ہوا کو پیچھے چھوڑتی اس کی بائیک کو دیکھ کر لگاسکتا تھا۔ اس سے پہلے نکلنے والے کہیں بہت پیچھے رہ چکے تھے اور ان کی سستی پر وہ انہیں ملامت کرتا اسی تیز رفتاری سے بائیک دوڑا رہا تھا کہ اچانک نہ جانے کہاں سے نکل کر ایک بلی سامنے آئی اور وہ جو پوری مہارت سے بائیک کو بیلنس کیے ہوئے تھا‘ بائیک پر سے کنٹرول ختم ہوا تو بائیک مستانے ہاتھی کی طرح چکرانے لگی اور اس کی لپیٹ میں جہاں چھوٹی موٹی چیزیں آئیں وہیں ایک انسانی زندگی بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکی۔ اس کی اسپورٹس بائیک نے زد میں آنے والے کو روند ڈالا تھا اور خود اس کو بھی اچھالا تھا۔ وہ فٹ پاتھ پر لگے ٹھیلے سے ٹکرایا اور زمین پہ آگرا تھا۔ اس کے پورے وجود سے درد کی لہر اٹھ رہی تھی مگر وہ اپنی تکلیف سے بے نیاز اس لڑکے کو دیکھ رہا تھا جو اس کے سبب یا تو زندگی کی بازی ہار رہا تھا یا ہارچکا تھا مگر اس کی آنکھوں کے سامنے چھانے والی دھند نے اسے اجازت ہی نہ دی تھی۔

/…/…/

آئینہ میں نظر آتے اپنے عکس کو دیکھ کر اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ لال جوڑا‘ مہندی سے سجے ہاتھ‘ کانوں میں آویزے‘ مانگ میں ٹیکا اور اس کی اماں جانی کے مطابق سب سے اہم ناک میں پہنی نازک سی نتھ‘ اسے یاد نہیں آیا تھا کہ اس نے زندگی میں پہلے کبھی اتنا سنگھار کیا تھا۔ کرتی بھی کیسے‘ زندگی میں ایسا دن بھی تو پہلے کبھی نہ آیا تھا۔ آج اس کی شادی تھی۔ ایک غیر متوقع اور ان چاہا حادثہ جو اس کی زندگی میں پیش آنے جارہا تھا۔ کل وہ اسلام آباد سے لاہور آئی تھی‘ اپنی اماں جانی کی منت سماجت پر کہ وہ اس کا رشتہ طے کرچکی ہیں اور آج اس کی منگنی ہے‘ مگر آج صبح وہ اس کے کمرے میں آئیں اور گویا اس کی سماعتوں پر بم گرایا تھا یہ بتا کر کہ آج عصر کے بعد اس کا نکاح ہے‘ لڑکے والوں کی طرف سے یہ گزارش کی گئی تھی مگر وہ تو گویا کچھ لمحات تک پتھر کے بت میں تبدیل ہوگئی تھی۔ گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس کی بہنیں اپنے شوہروں سمیت آئی ہوئی تھیں۔ اس کی چچی تائی‘ کزنز‘ خالائیں‘ مومانیاں غرض کہ سب ہی رشتے دار موجود تھے۔ ایسے نکاح سے انکار کا مطلب اپنی ماں کو موت کی طرف دھکیلنے کے مترادف تھا۔ مگر اس نے پھر بھی اپنی فوراً رخصتی نہ کروانے کی بات تو ان سے منواہی لی تھی۔ یہ بھی غنیمت تھا۔ اور وہ سب مان بھی گئے کیونکہ شادی کے حوالے سے اس کے خیالات سے سب واقف تھے‘ اس کی سوچ کا پنچھی ماضی قریب کی طرف پرواز کرنے لگا تھا۔

’’میں جانتا ہوں میری وجہ سے آپ کو بہت مصیبتیں برداشت کرنا پڑیں‘ آپ کے کردار پر انگلیاں اٹھیں‘ مگر میرا یقین کریں جتنی بے قصور آپ ہیں اتنا ہی بے گناہ میں بھی ہوں۔ آپ میری زندگی‘ میرے دل میں بہت اونچا مقام رکھتی ہیں۔ میں آپ کو اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں‘ کیا آپ میری زندگی کا حصہ بنیں گی۔‘‘ دروازہ بہت آہستگی سے بجا کر کھولا گیا تھا۔ وہ لمحوں میں ماضی سے حال کا سفر طے کر گئی تھی۔ اس نے اپنی بڑی بہن اور اماں جانی کو اندر داخل ہوتے دیکھا تھا۔

’’آپ کی یہ خواہش‘ حسرت میں تو بدل سکتی ہے لیکن حقیقت کا روپ اختیار نہیں کرے گی مسٹر ارحام آفندی…‘‘ اس کے کانوں میں اپنی آواز گونجی تھی اوراس کی آنکھوں میں پھیلتی مایوسی بھی یاد آئی تھی۔

’’بعض اوقات ہمارے کہے الفاظ سچ ہوجاتے ہیں۔ مجھے علم نہیں تھا کہ وہ قبولیت کی گھڑی ہے اور میرے کہے الفاظ کسی کو تہی دست وتہی داماں کردیں گے۔‘‘ وہ بیڈ پر بیٹھتے ہوئے سوچ رہی تھی۔ اس کی بہن اور اماں جانی نے بتایا تھا کہ لڑکے والے آچکے ہیں اور اب مولوی صاحب کسی بھی وقت اس کی منظوری لینے آسکتے تھے۔ اس کے چہرے کو گھونگھٹ سے چھپا دیا گیا اور پھر اس نے ایک بار پھر دروازہ کھلنے اور کچھ قدموں کے اندر آنے کی آواز سنی۔ مولوی صاحب نے نکاح پڑھنا شروع کیا تھا۔ وہ اس کا نام لے رہے تھے پھر اس کے بابا کا‘ حق مہر کی شرط اور اس کے بعد جو نام انہوں نے لیا تھا وہ یقینا اس کے لیے آج کے دن کا دوسرا بڑا جھٹکا تھا۔ اسے شدید چکر آیا تھا۔ اس نے مضبوطی سے اپنی بہن کا ہاتھ تھاما تھا۔ اس کی اماں جانی نے اس کی کمر سہلا کر رضامندی دینے پر مائل کیا تھا۔ اس کی آنکھوں سے سیل رواں بہہ نکلا تھا۔

’’بیٹا… مولوی صاحب تمہاری رضا جاننا چاہتے ہیں۔‘‘ اس کی اماں جانی نے اسے ہلکا سا ہلایا اور وہ جیسے کسی درد کے سمندر سے ابھری تھی۔ گردن ہلا کر اس نے منظوری دی تھی۔ باقی کے مراحل سلیقے سے نمٹے تھے۔ بس ایک محسوسات تھے جو برف بن گئے تھے۔ خواتین اس سے ملنے آرہی تھیں۔ مبارک سلامت کا شور چاروں طرف تھا۔ پھر اس کی کزنز اسے لال دوپٹے کے سائے تلے کمرے سے باہر لے آئی تھیں۔ اس کا ایک ایک قدم من من بھر کا ہورہا تھا۔ دلہن کی آمد نے لائونج میں رنگ محفل بدل ڈالا تھا۔ وہ نشست برخاست کئے پلٹ کر اسے دیکھ رہا تھا۔ جسے یہ سفر طے کرنے میں نہ جانے کتنا وقت لگا تھا مگر اسے تو ہر پل صدی برابر ہی لگا تھا۔ اس کی آمد نے فضا میں ایک ہی سر بکھیر دیا تھا۔

عشق کا ایک ہی درد ہے

عشق معشوق کے گرد ہے

کیوں ہے بے چین یہ طبیعت

عشق ہے یا یہ درد ہے

اس طرح آج ملے ہیں سب سے

ڈھونڈتے ہیں کیا ہم ایسا جگ سے

عشق دل کے در پہ یوں آیا تھا

سو ہم نظر اتاریں!

اور وہ واقعی اپنے عشق کی نظر اتار رہا تھا۔ اسے لاکر اس کے برابر میں کھڑا کیا گیا اور کیمرہ مین نے فوراً یہ لمحہ اپنے کیمرے میں مقید کیا تھا۔ انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا گیا تھا اور وہ جس طرح کھڑے تھے اسی طرح بیٹھ گئے تھے… اور ان کے بیٹھنے کی دیر تھی کہ فوٹو سیشن کا ایک تھکا دینے والا سلسلہ چل نکلا تھا۔ وہ صرف نگاہیں ہی نہیں گردن بھی جھکائے ہوئے تھی‘ کسی ہارے ہوئے شخص کی طرح۔ جبکہ وہ صرف اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کی سوچوں کی تشریح کررہا تھا۔ لفظوں کو ترتیب دے رہا تھا… گویا ایک لغت ترتیب دے رہا تھا۔ ان کی اردگرد منڈلاتے لوگوں کا رش کچھ چھٹا تھا ‘کھانا لگنے کی وجہ سے‘ اس نے کب کی جھکی گردن اٹھائی اور اس فاتح کی طرف دیکھا جو اس کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھا۔ اس کے چہرے پر وہی مسکراہٹ تھی جو اس پر نظر پڑتے ہی اس کے لبوں کا احاطہ کرتی تھی۔ نگاہوں کی چمک‘ چاند اور سورج کو بھی شرما رہی تھی آج۔ لیکن اس کے چہرے کے جامد تاثرات نے اسے مسکراہٹ سمیٹنے پر مجبور کردیا تھا۔ اس نے ایک گہرا سانس ہوا کو سونپا اور ترتیب دیئے لفظوں کو آواز کے سانچے میں ڈھالا تھا۔ آج وہ بول رہا تھا‘ اس ہستی کے سامنے جس کے روبرو آنے پر اس کے الفاظ کھو جایا کرتے تھے۔ وہ بات بھولنے لگتا تھا اور بعض اوقات تو خود کو بھی۔ وہ بول رہا تھا اور اس پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے۔ اسے علم تھا کہ وہ بے وقوف بنادی گئی تھی لیکن اس حد تک اسے واقعتا اندازہ نہ تھا۔ دکھ‘ تاسف‘ بے اعتباری کتنے رنگ تھے جو اس کے چہرے پر یکے بعد دیگرے ابھرے تھے۔ اس کے حواس نے اس کا ساتھ چھوڑا اور وہ ٹوسیٹر صوفے کی پشت کی جانب ڈھلکتی چلی گئی۔ ہوش سے بیگانہ ہونے تک جو آخری احساس اس کے ذہن کے پردے پر بنا اور بگڑا تھا وہ اس کے گھر والوں کی چیخ وپکار تھی یا پھر برابر بیٹھے شخص کے وجود سے بہت آہستگی سے نکلنے والی جان تھی۔

/…/…/

وہ مسجد سے عصر کی نماز ادا کرکے نکل رہا تھا جب اس کی نظر راستے میں بیٹھی عورت پر پڑی۔ اس نے اپنے والٹ میں سے پیسے نکال کر اس کی پھیلی ہوئی چادر پر رکھے تھے۔ اس عورت نے حیرت سے ان نوٹوں کو اور پھر لمحہ بہ لمحہ دور ہوتے اس شخص کو دیکھا۔ وہ ہزار ہزار کے کئی نوٹ تھے۔ اس نے اس سے کوئی خاص دعا مانگنے کے لیے بھی نہیں کہا تھا پھر بھی اس کے دل سے نکلنے والی دعا بے ساختہ تھی۔ ’’یااللہ! اس شخص کو ذہنی وقلبی سکون عطا کر۔ اسے اپنی رحمت سے نواز دے‘ آمین۔‘‘

اپنی کار میں بیٹھتے اس کی نگاہ روڈ کے سائیڈ پر کھڑے زبیری انکل کی طرف گئی تھی۔ وہ اپنی کار کے پاس کھڑے تھے اور ان کا ڈرائیور بونٹ کھولے کار میں ہوجانے والی خرابی چیک کررہا تھا۔ وہ فوراً اتر کر ان کی طرف بڑھا۔

’’السلام علیکم! انکل۔‘‘ اس نے پاس پہنچتے ہی بلند آواز میں سلام کیا۔ وہ چونک کر ان کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔

’’ارے ارحام بیٹا‘ وعلیکم السلام! کیسے ہو… گھر پر سب کیسے ہیں؟‘‘ انہوں نے اس سے مصافحہ کرتے ایک ساتھ کئی سوال کر ڈالے تھے۔

’’ہم سب ٹھیک ہیں۔ آپ سنائیے کیا حال ہیں اور گاڑی خراب ہوگئی ہے کیا آپ کی؟‘‘ اس نے جواب دیتے ہوئے ساتھ سوال بھی کیا۔

’’ہاں یار بس پتا نہیں کیا مسئلہ ہوگیا ہے۔‘‘ انہوں نے سخت بے زاری سے کہا۔

’’چلیے آپ پریشان نہ ہوں‘ میں آپ کو ڈراپ کردیتا ہوں۔ میں اسی طرف جارہا ہوں۔‘‘ اس نے دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ کہا اور انہوں نے محبت بھری نگاہوں سے اسے دیکھا تھا۔ اس کا یہی خلوص تو ان کا دل جیت چکا تھا۔ انہوں نے اثبات میں سر ہلایا… ساتھ ہی اس کے سر پر دست شفقت دراز کیا۔

’’تم واقعی چاہے جانے کے لائق ہو بیٹا۔‘‘ انہوں نے متبسم لہجے میں کہا تو وہ بری طرح شرمندہ ہوگیا۔

’’ایسی تو کوئی بات نہیں ہے‘ یہ بس آپ کا پیار ہے میرے لیے جو آپ سے یہ کہلوا رہا ہے۔‘‘ اس نے بے حد احتیاط سے موڑ کاٹتے ہوئے کہا۔

’’اور یہ محض تمہاری انکساری ہے جو تم سے یہ سب کہلوا رہی ہے۔‘‘ انہوں نے بھی اس کے ہی انداز میں کہا تو وہ اپنی ہنسی ضبط نہ کرپایا۔ کچھ ہی دیر میں وہ ڈیفنس سوسائٹی میں ان کے بنگلے کے باہر کھڑے تھے۔ اس کے لاکھ منع کرنے کے باوجود وہ اسے گھر کے اندر لے گئے تھے۔ دوطرفہ گارڈن کے درمیان بنی سرخ اینٹوں کی روش پر چلتے وہ دونوں آگے پیچھے گارڈن میں داخل ہوئے تھے۔ ان کے استقبال کے لیے سب سے پہلے مہناز بیگم اٹھی تھیں۔ ارحام کو دیکھ کر ہمیشہ انہیں ایسا محسوس ہوتا جیسے ان کے وجود کا کھویا ہوا حصہ مل گیا ہو۔ انہوں نے اس کے سلام کا جواب دیتے اسے گلے لگایا اور پھر اس کے ماتھے کا بوسہ لیا۔

’’بہت دن بعد آئے ہو اس دفعہ تو میں کافی دن سے تمہیں یاد کررہی تھی کہاں تھے؟‘‘ ان کی یہ محبت ارحام کے لیے‘ یمنیٰ کو ایک آنکھ نہ بھائی تھی تب ہی ایکسکیوز کرتی وہاں سے اٹھ گئی تھی۔ وہاں موجود ہر شخص اپنی جگہ شرمندہ سا ہوگیا تھا۔

’’آنٹی آپ کا ارادہ کیا مجھے بنا چائے کے ٹرخانے کا ہے؟‘‘ ارحام کا شرارتی انداز ماحول کی کثافت کو کم کر گیا تھا۔ 

’’ارے… کیوں نہیں بیٹا‘ بس میں ابھی لائی۔‘‘ وہ مسکراتی ہوئی اٹھی اور ساتھ دل میں ارادہ کیا کہ یمنیٰ کی بھی اچھی خاصی خبر لینی ہے۔ صغراں کو چائے کے ساتھ اہتمام کرنے کا کہہ کر وہ یمنیٰ کی طرف بڑھی جو یقینا اپنے کمرے میں بند تھی۔ اندر داخل ہوئیں۔

’’یہ کیا حرکت تھی یمنیٰ‘ آخر تم ہمیں اس کے سامنے کتنا شرمندہ کروائوگی۔ اس بچے کو ذلیل کرنے کا کوئی موقع تم اپنے ہاتھ سے جانے کیوں نہیں دیتیں۔‘‘ وہ شدید غصے میں تھیں اور وہ خاموش نگاہوں سے انہیں دیکھ رہی تھی۔ انہیں بے اختیار اس پر ترس آیا تھا۔ ایک وقت تھا جب وہ خوش اخلاق اور ملنسار ہوا کرتی تھی۔ سب سے احترام سے پیش آتی تھی۔ مگر مسلسل پڑنے والے دوروں نے اس کا حال برا کردیا تھا۔ وہ آگے بڑھیں اور اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھاما۔

’’تم اس فیز سے باہر کیوں نہیں آجاتیں میری بچی۔‘‘ وہ اسے سینے سے لگائے تھپک رہی تھیں۔

’’مجھے اس سے نفرت ہے‘ ماما جانی اور اس وقت تو مجھے وہ اور بھی برا لگتا ہے جب آپ اسے اویس کی طرح پیار کرتی ہیں۔‘‘ وہ ان کے بازوئوں میں سسک رہی تھی اور وہ تسلی کے الفاظ ڈھونڈنے میں ناکام رہی تھیں۔ جبکہ باہر کھڑا ارحام گویا کسی دہکتی آگ میں گھر گیا تھا۔ وہ اسے منانے آیا تھا ہمیشہ کی طرح اور ایک بار پھر خالی ہاتھ لوٹ رہا تھا۔ اس در سے اسے کبھی کچھ نہیں ملنے والا تھا چاہے وہ تمام عمر بھی کھڑا رہتا اور اس نے ارادہ باندھ لیا تھا کہ تمام عمر کھڑا رہنے کا۔

ہر طرف ہیں تنگ رستے

ہر طرف ہیں تنگ رستے

ہر طرف گولائیاں

ایک سفر نے پائوں باندھے

ان کے نیچے لکھ دیا ہے

عمر بھر پسپائیاں!

/…/…/

وہ حسب عادت تہجد پڑھنے اٹھے تھے۔ تہجد سے فارغ ہوکر وہ کمرے سے باہر نکل آئے گو کہ یہ ان کی روٹین کا حصہ نہ تھا مگر کچھ تھا جو انہیں بے چین کررہا تھا۔ رات ارحام گھر نہیں آیا تھا اور پچھلے کچھ سالوں میں یہ پہلی بار ہوا تھا۔ ورنہ اس کی روٹین یونیورسٹی سے ایم بی اے کرنے کے بعد بڑی لگی بندھی سی تھی۔ صبح وہ نماز سے فارغ ہوکر ان کے ساتھ ناشتہ کرتا اور پھر ان ہی کے ساتھ آفس آجاتا… گھر میں جو وقت اسے ملتا زیادہ تر وہ اسٹوڈیو اور لائبریری میں گزارا کرتا اور اگر بہت ہوا تو اپنے دوست ابرار سے ملنے چلا جاتا پھر دونوں اکٹھے کہیں گھومنے چلے جاتے۔ اس کی تمام سوشل ایکٹویٹیز ختم ہوچکی تھیں۔ اس کے والدین‘ اس کے بہن بھائی سب ہی لوگوں نے اسے زندگی کی طرف واپس لانے کی کوشش کی تھی مگر… وہ ارحام کے کمرے میں داخل ہوئے اور حسب توقع وہ انہیں جائے نماز پر کھڑا گریہ وزاری میں مبتلا نظر آیا تھا۔ انہوں نے ایک گہرا سانس لیا اور دیوار کے ساتھ رکھے سنگل صوفے پر بیٹھ گئے۔ وہ جائے نماز فولڈ کرتا بیڈ پر رکھ کر ان کی طرف آگیا اور صوفے کے سامنے رکھے گلاس ٹیبل پر بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھوں کی سرخی ہر راز کھول رہی تھی۔ کتنے لمحے خاموشی کی نذر ہوئے تھے۔ وہ بغور اسے دیکھ رہے تھے۔ نو دس سال پہلے ہونے والے اس ناخوشگوار حادثے نے ان کے عزیز از جان پوتے میں کیسی انقلابی تبدیلیاں پیدا کردی تھیں وہ ارحام تھا‘ رحم کرنا اس کی عادت ہی نہیں فطرت بھی تھی۔ شاید اسی لیے نادانستگی میں اس کے ہاتھوں کسی کی جان چلی گئی تھی اور اس حادثے نے اسے ایک لمبا عرصہ نفسیاتی مسائل سے دوچار رکھا تھا۔ شہر کے نامور سائیکاٹرسٹ سے اس کے کئی سیشنز کروائے گئے تب کہیں جاکر اس کی حالت میں تبدیلی آئی تھی۔ وہ نفسیاتی فیز سے باہر آگیا تھا‘ لیکن اس حادثے نے اس کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا تھا۔ اس کا حلقہ احباب بہت محدود ہوگیا تھا۔ تمام شوق ختم ہوگئے تھے۔ زندگی کے حوالے سے اس کا نظریہ بدل گیا تھا۔ جس وقت یہ حادثہ پیش آیا وہ اس وقت فرسٹ ایئر کا طالب علم تھا مگر اس حادثے نے اس کی سوچ کو گہرائی عطا کردی تھی۔ وہ بہت سمجھدار اور معاملہ فہم ہوگیا تھا شاید یمنیٰ کے ہر رویے کو صبر سے برداشت کرنا بھی اسی معاملہ فہمی کا نتیجہ تھا۔

’’تم زبیری کی طرف گئے تھے۔‘‘ وہ جانتا تھا یہ سوال نہیں تھا‘ اس کی حالت ان پر اسی طرح سب کچھ عیاں کردیا کرتی تھی۔

’’ہوں۔‘‘ اس نے اثبات میں سر ہلاتے دونوں ہاتھ چہرے پر پھیرتے خود کو نارمل کرنے کی کوشش کی تھی۔

’’میں بات کروں گا زبیری سے کہ یمنیٰ کو سمجھائے۔ اگر اسی طرح چلتا رہا تو ہم جو رشتوں کو مضبوط کرنے کا سوچ رہے ہیں وہ تو بالکل ناممکن ہوجائے گا۔‘‘ ان کے لہجے میں دبا دبا غصہ تھا۔ اس نے ان کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر سہلانے شروع کیے تھے۔ یہ انداز تھا انہیں پرسکون کرنے کا۔

’’دادو… میں سمجھتا ہوں یمنیٰ کا جو بھی رویہ میری ساتھ رہا ہے ہمیشہ وہ درست ہے‘ میری وجہ سے اس نے اپنے بھائی کو کھویا اور بھائی بھی وہ جسے دیکھ کر اس کے دن رات گزرا کرتے تھے۔ جس کی موت نے اسے پاگل کردیا تھا۔ داود وہ اس کا جڑواں بھائی تھا‘ جس وقت وہ حادثہ ہوا وہ فون پہ اس سے بات کررہی تھی۔ اس کی مسکراہٹوں سے درد اور درد سے موت کی کراہوں تک کو اس لمحے اس نے سنا تھا۔ وہ آوازیں اس کے لیے کبھی نہ ختم ہونے والا کرب لائی تھیں دادو اور ان کا سبب میں تھا۔ پھر اگر وہ مجھے اگنور کرتی ہے یا مجھ سے نفرت کرتی ہے تو پھر بھی یہ کم ہے۔ میں نے توقع کی تھی کہ وہ لوگ مجھے سزا دیں گے مگر انہوں نے مجھے معاف کرکے میرے ضمیر پر جو بوجھ ڈالا اس کا بار میں آج تک اٹھا رہا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ اگر ان سب نے مجھے معاف کردیا ہے تو کم از کم یمنیٰ مجھے ایسی سزا ضرور دے جو مجھے میرے گناہ کے موافق لگے۔ مجھے اس سے کوئی شکایت نہیں ہے دادو۔ میں اپنے آپ کو شکایت کرنے کے قابل سمجھتا بھی نہیں ہوں۔‘‘ ایک طویل مکالمے کے بعد وہ چپ ہوگیا اور وہ سوچ رہے تھے کہ اس نے ہمیشہ ہی اپنے نام کی لاج رکھی تھی۔ اس حادثے کے پندرہ دن بعد جب وہ ہاسپٹل سے گھر واپس آیا تھا تو اس نے سب سے پہلے اس خاندان سے ملنے کی ضد کی تھی جس کا چشم وچراغ خود اس کی وجہ سے بجھا تھا اور شیخ ہائوس آکر اس نے ایک ایک سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی تھی اور معافی میںبھی وہ ان سے سزا تجویز کرنے کو کہہ رہا تھا مگر وہ لوگ اس کے لیے کوئی سزا تجویز نہ کرپائے تھے کیونکہ وہ ان کے بیٹے کا ہم عمر ہی تھا۔ البتہ اسے دیکھ کر یمنیٰ کو ڈپریشن کا شدید دورہ پڑا تھا۔ اس نے بنا رکے اسے کئی تھپڑ مارے تھے۔ بڑی مشکل سے اسے اندر لے جایا گیا تھا‘ جیسے جیسے وقت نے آگے کی طرف قدم بڑھائے تھے‘ دونوں گھرانوں میں تعلقات بہتر ہوگئے تھے اور ان کی کوئی بھی دعوتیں ایک دوسرے کے بغیر مکمل تصور نہ ہوتی تھیں‘ لیکن اس کے باوجود یمنیٰ اور ارحام کے درمیان ایک سرد جنگ تھی جو کہ یمنیٰ کی خود ساختہ تھی۔

’’ہوں شاید تم ٹھیک کہہ رہے ہو‘ لیکن ارحام ایسا کب تک چلے گا۔ زبیری تمہیں اپنا داماد بنانے کا خواہاں ہے پر جب تک یمنیٰ کا رویہ نہیں بدلے گا ہم کیسے تمہیں اس آگ میں دھکیل سکتے ہیں۔‘‘ وہ حقیقتاً اس کے لیے پریشان تھے۔

’’اول تو شادی میری ترجیحات میں کہیں بھی نہیں ہے دادو‘ میں فی الحال کچھ اور لائف پلانگز رکھتا ہوں۔‘‘ اس نے دائیں ہاتھ سے ان کا ہاتھ تھامے بائیں ہاتھ سے اپنی آنکھیں دبائی تھیں۔ دن بھر کی تھکن اور مسلسل سجدے میں رونے کے سبب اس کی آنکھیں جل رہی تھیں۔

’’ارحام اگر یمنیٰ نہ مانی تو پھر؟‘‘ ان کا انداز پرسوچ تھا۔

’’دادو… بس بھی کریں۔‘‘ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ انہوں نے اسے واپس بٹھایا۔

’’کیا تم خود کسی میں دلچسپی رکھتے ہو؟‘‘ ان کی اس بات پر پہلے اس کی آنکھیں پھیلی پھر ایک قہقہہ اس کے حلق سے برآمد ہوا… انہوں نے خفا نگاہوں سے اسے دیکھا تھا۔

’’میں نے لطیفہ نہیں سنایا…‘‘ وہ روٹھے لہجے میں بولے۔

’’لیکن یہ بات بذات خود ایک لطیفہ ہے کہ عالم آفندی اپنے اس پوتے سے اس کی کسی لڑکی میں دلچسپی دریافت کررہے ہیں جسے ایک عرصے سے وہ باور کراتے آرہے ہیں کہ اس کی زندگی میں صرف ایک ہی لڑکی آسکتی ہے اور وہ یمنیٰ زبیری کے علاوہ کوئی نہیں۔‘‘ وہ اب ہنس نہیں رہا تھا بلکہ بہت سنجیدہ تھا۔ انہوں نے اپنے آپ کو کچھ شرمندہ سا محسوس کیا۔ وہ غلط تو نہیں کہہ رہا تھا۔ وہ صدق دل سے یہ چاہتے تھے مگر پچھلے کچھ عرصے سے وہ محسوس کررہے تھے کہ ارحام کے لیے یمنیٰ کا رویہ کبھی نہیں بدلے گا اور ایسے میں ان کی شادی کا ہوجانا بیک وقت دونوں کو جہنم میں جھونک دینے کے مترادف تھا۔

’’ہاں میں جانتا ہوں میں نے ہمیشہ تمہیں یہی کہا ہے لیکن میں سوچتا تھا کہ وقت کے ساتھ یمنیٰ سمجھ جائے گی مگر وہ تو…‘‘

’’پلیز داود… اب اس ٹاپک کو تبدیل کریں۔ میرے خیال میں فجر کی اذان ہورہی ہے۔ ہمیں مسجد چلنا چاہیے۔‘‘ وہ قطعیت سے کہتا اٹھ کھڑا ہوا اور وہ اندازہ لگانے کی کوشش کرنے لگے کہ وہ یمنیٰ کے معاملے میں کتنا سنجیدہ ہے۔

/…/…/

تہ نجوم کہیں چاندنی کے دامن میں

کسی کا حسن ہے مصروفِ انتظار ابھی

کہیں خیال کے آباد کردہ گلشن میں

ہے ایک گل کہ ہے ناواقفِ بہار ابھی

شعر خود جتنا خوب صورت تھا‘ اس کی ادائیگی اس سے بھی بڑھ کر تھی۔ وہ جو ریسپشن پر کسی کو ناموجود پاکر آگے بڑھنے کا سوچ رہا تھا‘ بے اختیار ہی اپنی سوچ پر عمل کر بیٹھا تھا۔ وہ اس وقت لاہور سول سروسز اکیڈمی میں کھڑا تھا اور جب وہ اس کمرے میں پہنچا جہاں سے اسے آواز آئی تھی تو وہاں اسے ایک لڑکی نظر آئی وہ ٹیبل پر بیٹھی ہوئی تھی۔ ایک کتاب اس کے چہرے کے سامنے کھلی ہوئی تھی‘ کچھ اس طرح کہ اس کتاب کے پار صرف اس کی آنکھیں نظر آرہی تھیں‘ گہری آنکھیں‘ جیسے اپنے اندر بہت سے راز سمیٹے ہوئے۔ اس کے ذہن میں بے اختیار ہی ایک شعر ابھرا۔

ان کی آنکھوں کو کبھی غور سے دیکھا ہے فراز

جاگنے والوں کی طرح سونے والوں جیسی

وہ چونک کر متوجہ ہوئی اور دھم سے ٹیبل سے اتری تھی۔ اس طرح اترنے سے اس کی گھیردار فراک گھوم کر رہ گئی تھی۔ چہرے کے سامنے سے کتاب ہٹ چکی تھی۔ وہ گندمی رنگت کی لڑکی تھی‘ کھڑی ناک میں پتلی سی چھوٹی سی بالی پڑی تھی‘ جو اس کے چہرے کو ایک پراسرار سا نور بخش رہی تھی۔ اس کا دہانہ چھوٹا سا اور ہونٹ نہ بہت موٹے تھے نہ ہی پتلے۔ وہ پنک اور وائٹ کنٹراس کے چوڑی دار پائجامہ اور فراک میں ملبوس تھی۔ شانوں پر ڈوپٹے کو اس انداز میں پھیلایا تھا کہ اس کے وجود کا آدھا حصہ اس میں گم تھا اور سر پر اس نے بلیک کلر کا اسکارف باندھا ہوا تھا اور پائوں میں برائون کلر کے کھسے پہنے ہوئے تھے۔ اس کی نگاہیں پائوں سے اٹھ کر ایک بار پھر اس کے چہرے پر آئی تھیں۔ مگر اس کے چہرے پر پھیلے ناگواریت سے بھرپور تاثر نے ناصرف اسے محتاط کیا تھا بلکہ وہ اپنی جگہ شرمندہ بھی ہوگیا تھا۔

’’آپ کو جس کسی سے بھی ملنا ہے ریسیپشن پر انتظار کیجیے۔‘‘ اس نے اپنے لہجے میں تمام تر ناگواریت سمو کر کہا۔ اس پر گھڑوں پانی پڑ گیا تھا‘ وہ بنا کچھ کہے مڑا اور ایک لمحہ بھی وہاں نہیں رکا تھا۔ سیدھا باہر نکل آیا۔ اسے اب خود پر غصہ آرہا تھا‘ اپنی اس غیر مناسب حرکت پر۔

’’بھلا کیا یہ دنیا کی پہلی لڑکی تھی ارحام؟‘‘ اس نے دانت پر دانت جمائے تھے۔ ’’حد ہوگئی تم تو اسے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے اس پر کوئی تجزیاتی رپورٹ تیار کرنی ہو۔‘‘ اس نے سر جھٹکتے ہوئے سوچا۔

’’کوئی بات نہیں ہوجاتا ہے ایسے‘ تم بھی انسان ہو اور وہ بھی لڑکوں کی برادری سے تعلق رکھتے ہو۔‘‘ اپنی بات پر وہ خود ہی محظوظ سے انداز میں مسکرایا۔ ’’ویسے ایک بات تو ہے‘ اتنا پاکیزہ چہرہ شاید میں نے کبھی پہلے نہیں دیکھا۔ کتنی بے ریائی اور معصومیت تھی اس کے چہرے پر۔‘‘ وہ مسرور سے انداز میں مسکرایا۔

’’تم کب سے بے ریا اور معصوم چہروں پر غور کرنے لگے ارحام آفندی… تم تو خود کو ’ون وومن مین‘ کہتے ہو تو پھر کوئی اور تمہاری توجہ اپنی جانب کیسے مبذول کراسکتی ہے۔ تمہارے دل ودماغ پر تو ایک ہی لڑکی کا راج ہے جسے یمنیٰ زبیری کہتے ہیں۔‘‘ اس کے اندر سے کوئی بولا اور اس کے اندر ایک دم سناٹے سے اترتے چلے گئے۔ وہ اس حقیقت سے کبھی انحراف کرہی نہیں سکتا تھا۔

/…/…/

’’ابرار کی شادی کا کارڈ آیا ہے۔‘‘ وہ بڑے شوق سے رامین‘ حمزہ اور اسامہ کے لیے پزا تیار کررہی تھی لمحہ بھر کو تھم گئی تھی۔

’’اوہ… تو بالآخر یہ دن آہی گیا۔‘‘ اس کے لبوں پر ایک زخمی سی مسکراہٹ ابھری۔

’’مبارک ہو امی آپ کو… بالآخر آپ کے بھانجے تیس کے سن میں پہنچ کر شادی کے لیے ہاں کہہ ہی دی۔‘‘ اس کے لہجے کی چبھن کو انہوں نے پوری طرح محسوس کیا تھا۔

’’کل ثریا آپا آئی تھیں کارڈ دینے‘ تمہارا بھی پوچھ رہی تھیں۔‘‘ ان کا لہجہ خودبخود مدھم ہوا تھا۔

’’یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ امی…! آپ کی بہن میرا پوچھ رہی تھیں۔ میرا نام ان کی زبان پر کیسے آگیا۔ وہ تو میرا ذکر بھی گناہ کے کھاتے میں ڈالا کرتی تھیں۔‘‘ آج تو وہ بری طرح سے پھٹ پڑی تھی۔

’’حریم… کیا پاگل پن ہے یہ‘ کیوں تماشہ بنا رہی ہو اتنی سی بات کا۔‘‘ وہ اس کے یہ انداز دیکھ کر گویا سہم گئی تھیں۔

’’میں تماشہ لگا رہی ہوں امی… نہیں ہرگز نہیں… تماشہ تو انہوں نے لگایا ہے میرا۔ پہلے پورے خاندان میں مجھے اپنی بہو مشہور کرکے اور اب اپنے بیٹے کی شادی کرکے… ابوجی زندہ تھے تو ان کا منہ میرا ذکر تے نہ تھکتا تھا کیونکہ انہیں پتا تھا جہیز میں وہ جو مانگیں گی انہیں بلا تامل دیا جائے گا‘ مگر ابوجی کے چلے جانے کے بعد انہیں یہ آس ختم ہوتی نظر آئی اور انہوں نے کبھی پلٹ کر اس رشتے کا ذکر بھی نہ کیا‘ جس کے گن پورے خاندان میں گایا کرتی تھیں۔ الٹا میرے کردار پر انگلیاں اٹھائیں تاکہ یہ رشتہ کسی نہ کسی طرح ختم ہو اور آپ کا بھانجا اس نے تو ماں کے آگے گونگے کا گڑھ کھا لیا ہے۔‘‘ آخر میں اس کی آواز رندھ گئی تھی۔

’’حریم…‘‘ انہوں نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا۔ بہت دیر آنسو بہانے کے بعد وہ ان سے الگ ہوئی۔ وہ جانتی تھیں کہ اسے دکھ اس رشتے کے ختم ہونے کا نہیں بلکہ اپنے کردار پر اٹھنے والی انگلیوں کا تھا جو ثریا بیگم کے پھیلائے شر سے اس کی جانب اٹھی تھیں۔ وہ اپنے دل کی بھڑاس نکال کر ایک بار پھر اپنے کام میں مصروف تھی۔ سنت نگر کے اس دو منزلہ گھر میں افراد ہی کتنے تھے اب۔ دو بڑی بہنوں کی شادی اور ابوجی کی وفات کے بعد اس کی اماں جانی‘ وہ خود‘ رامین‘ حمزہ اور اسامہ تھے۔ وہ خود ماسٹرز کے بعد صبح کے اوقات میں سول سروسز اکیڈمی جایا کرتی تھی۔ مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے جہاں سے اس کی واپسی شام پانچ بجے ہوتی۔ رامین پرائیویٹ بی اے کے بعد ایک اسکول میں جاب کررہی تھی۔ دونوں بہنیں شام میں ٹیوشن پڑھایا کرتیں۔ ان کے آڑے وقتوں میں ان کے محلے والوں نے ان کا بڑا ساتھ دیا تھا۔ علاقے کے سارے بچے ان کے پاس ہی ٹیوشن پڑھا کرتے تھے۔ گھر کی اوپری منزل کرائے پر دی ہوئی تھی جہاں سے ایک معقول کرایہ موصول ہوتا تھا۔ حمزہ کالج میں جبکہ اسامہ نویں جماعت کا طالب علم تھا۔ دونوں ہی پڑھائی کے معاملے میں بہت سنجیدہ تھے۔ اگر دوسرے معنوں میں کہا جاتا تو وہ ایک اچھی زندگی گزار رہے تھے۔ ابوجی کی وفات کے بعد جو تھوڑی بہت مشکلات آئی تھیں وہ بھی اب ختم ہوگئی تھیں۔ کچھ ہی عرصے میں رامین کی شادی متوقع تھی۔ اپنے لیے آنے والے کتنے ہی رشتوں کو وہ منع کرچکی تھی۔ نہ جانے اس نے اپنے لیے کیا سوچ رکھا تھا۔ وہ بعض اوقات اس کے بارے میں سوچتیں تو ان کا دل ہولنے لگتا کہ کیا وہ ساری زندگی ایسے ہی گزار دینا چاہتی ہے اکیلے۔

/…/…/

’’حریم…‘‘ وہ جو تکیے کو پشت کے پیچھے لگائے سینے پر کتاب رکھے نیم دراز حالت میں نہ جانے کن سوچوں میں محو پرواز تھی اس آواز پر پورے جی جان سے کانپ گئی تھی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے دھند سی چھا گئی تھی۔ وہ چاہ کر بھی اس شخص کو نہیں دیکھ پارہی تھی۔

’’کیا میں اندر آسکتا ہوں۔‘‘ وہ دروازے پر کھڑا اس کمرے کے دروازے پر جس میں وہ ہزار ہا بار آچکا تھا۔ یہ کمرہ حریم اور رامین کا مشترکہ کمرہ تھا۔ جہاں زیادہ تر وقت حریم کا ہی گزرا کرتا تھا۔ اس کی طرف سے کوئی جواب نہ پاکر جوتے اتارتا اندر آگیا اور ایک فلور کشن کھینچ کر اس کے سامنے بیٹھ گیا تھا۔ اس کے یوں بیٹھنے پر وہ گویا ہوش میں آئی اور سامان سمیٹ کر اٹھنے لگی۔

’’حریم میں تم سے بات کرنے آیا ہوں‘ کچھ دیر سکون سے بیٹھ کر میری بات سنو۔ معاملات اتنے اور اس قدرالجھ گئے کہ…‘‘

’’مجھے نہ تو آپ سے کوئی بات کرنی ہے نہ ہی آپ کی مشکلات کی کوئی روداد سننی ہے۔ آپ کی والدہ محترمہ نے فیصلہ کیا آپ نے اس کے آگے سر جھکادیا‘ بہت اچھا کیا۔ بات یہیں ختم ہوجاتی ہے مسٹر ابرار رضوی۔‘‘ اس کا لہجہ طنز سے پر تھا۔

’’پلیز حریم ایک بار میری بات تو سن لو‘ پھر جو کہنا ہو کہہ لینا۔‘‘ اس کا لہجہ التجائیہ تھا۔ وہ کچھ ثانیے اسے دیکھتی رہی پھر واپس اپنی جگہ پر بیٹھ گئی۔ جو بھی تھا اس کا کبھی اس شخص سے ایک رشتہ رہا تھا‘ دلی وابستگی رہی تھی۔ خواب دیکھے تھے اس شخص کے ساتھ کے۔ اب سب کچھ ایک دم ختم ہورہا تھا تو گویا وہ خود بھی ختم ہوتی جارہی تھی۔

’’اگر تم یہ سوچ رہی ہو کہ امی کے فیصلے میں میری رضا ومرضی شامل ہے تو تم غلط سوچ رہی ہو۔ تمہیں پتا ہے ناں میں بنکاک گیا ہوا تھا‘ کچھ عرصے کے لیے‘ اسی دوران امی نے یہ سب کچھ ارینج کردیا‘ میں جب واپس آیا تو وہ یہ سب طے کیے ہوئے تھیں۔ میں نے انہیں بہت سمجھایا لیکن…‘‘

’’میں یقین رکھتی ہوں کہ آپ جو کہہ رہے ہیں وہی سچ ہے‘ لیکن آپ کی والدہ محترمہ نے میرے حوالے سے جو باتیں کی تھیں کہ میں لڑکوں کے ساتھ گھومتی پھرتی ہوں‘ صبح گھر سے نکلتی ہوں تو آوارہ گردی کرکے شام کو گھر آتی ہوں…‘‘ بولتے بولتے اس کی آواز لڑکھڑائی تھی۔ تبھی اس نے بولنے کے لیے لب کھولے تھے‘ جب حریم نے ہاتھ اٹھا کر اسے کچھ بھی کہنے سے روکا۔

’’آپ نے یہ سب باتیں پچھلے دو تین سالوں میں سنیں لیکن آپ نے ایک بار بھی ان کی تردید کرنے کی کوشش نہیں کی۔ آپ نے ایک بار بھی خالہ جان سے یہ نہیں کہا کہ وہ غلط ہیں اور آپ کے اسی رویے نے انہیں ایسا انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔‘‘ وہ آنسوئوں کو اپنے اندر دھکیلتے اپنی آواز کو مستحکم کرنے کی کوشش کررہی تھی۔

’’ہاں تم ٹھیک کہہ رہی ہو کہ ایسا ہوا‘ لیکن میں صرف یہ سب باتیں اس لیے نظر انداز کرتا رہا کیونکہ مجھے لگا تھا کہ میرے بولنے سے وہ اور زیادہ تمہارے خلاف باتیں کریں گی اور شاید یہی میری غلطی تھی۔‘‘ وہ کچھ نادم سا ہوا‘ کمرے میں کچھ دیر خاموشی چھائی رہی پھر وہ بہت مضبوط لہجے میں مخاطب ہوئی۔

’’اگر میں آپ کی اس بات پر یقین کر بھی لوں تو پھر یہ بتائیے کہ آپ نے پچھلے دو سالوں میں تو کبھی اس بات کا ذکر بھی نہیں کیا۔ آپ کے کسی بھی رویے سے یہ ظاہر نہیں ہوا کہ آپ کو اپنی والدہ کی بات پر یقین نہیں ہے بلکہ الٹا آپ نے ہمارے گھر آنا جانا کم کردیا یہاں تک کہ عید تہوار پر بھی صرف کھڑے کھڑے سلام کرنے آتے… تو حقیقت یہ ہے مسٹر ابرار رضوی‘ کہ آپ نے اپنی والدہ کی باتوں کو غلط سمجھا ہی نہیں تھا‘ آپ کے مطابق وہ ٹھیک ہی تھیں اسی لیے آپ نے ہم لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔‘‘ اس کا لہجہ یقین سے پر تھا۔

’’شاید تم ٹھیک کہہ رہی ہو‘ جب پانی کا ایک قطرہ مسلسل ایک پتھر پر گرتا رہے تو پتھر میں سوراخ کردیتا ہے‘ تو پھر میرا دل کیسے مسلسل کہی جانے والی ایک ہی بات سے محفوظ رہ سکتا تھا اور پھر میں نے خود بھی تمہیں ایک دوبار ایک لڑکے کے ساتھ دیکھا تھا‘ تو مجھے امی کی کچھ کچھ باتوں پر یقین آنے لگا۔‘‘ اس کی آواز آہستہ آہستہ مدھم ہوئی جبکہ وہ مان گئی تھی کہ کچھ انسانوں کے دل واقعی پتھر کے ہوتے ہیں جو شک کا پانی گرنے سے یقین کی مضبوطی کھو بیٹھتے ہیں۔

’’تو پھر اب آپ یہاں کیا لینے آئے ہیں۔ ایک کمزور کردار کی لڑکی کے پاس…؟‘‘ اس نے چاہا کہ وہ اپنے چہرے سے آخری نقاب بھی اتار پھینکے۔

’’میں تم سے معافی مانگنے‘ اپنے اور امی کے ہر رویے کی طرف سے کیونکہ اب میں ایک نئی زندگی کی شروعات کرنے جارہا ہوں اور میں نہیں چاہتا کہ کسی کی آہیں میری آنے والی زندگی پر اثر انداز ہوں۔‘‘ وہ ٹھہرٹھہر کر اپنی بات مکمل کررہا تھا اور سامنے بیٹھی اس لڑکی نے جانا تھا کہ زندگی میں غلط ہونا خطرناک نہیں ہوتا لیکن خوش فہم ہونا ضرور جان لیوا ہوتا ہے۔

’’میں نے آپ کو معاف کیا۔‘‘ وہ میکانکی انداز میں کہتی وہاں سے نکل گئی تھی۔ اس نے جان لیا تھا کہ پرخلوص چہرے دھوکہ دیتے ہیں اور اب زندگی میں کبھی بھی وہ یہ دھوکہ دوبارہ نہیں کھانا چاہتی تھی۔

/…/…/

اس کی پینسل بہت تیزی سے سادہ کاغذ پر چل رہی تھی۔ کچھ تھا جو کاغذ پر واضح ہورہا تھا۔ وہ محض دو گھنٹے ہی سویا تھا پھر نہ جانے کس احساس کے تحت اس کی آنکھ کھلی تھی اور وہ بنا کچھ سوچے سمجھے کاغذ پینسل لے کر طبع آزمائی کرنے لگا تھا۔ اپنے اسکول کے زمانے سے اس کی ڈرائنگ بہت اچھی رہی تھی اور گزرتے وقت کے ساتھ اس کا یہ شوق باقاعدہ پیشہ بن گیا تھا‘ ملکی سطح پر اس کی بہت سی پینٹینگز کی ایگزیبیشن ہوچکی تھیں۔ بہت سے لوگ اسے ایک مصور کے طور پر جانتے تھے۔ وہ ادھورا عکس مکمل ہوچکا تھا۔ وہ اپنے بیڈ سے اٹھا اور اپنے کمرے سے منسلک اپنے اسٹوڈیو میں آگیا‘ جہاں بہت سی پینٹنگز مکمل اور کچھ آخری مراحل میں تھیں۔ اس نے اسٹوڈیو کی لائٹ آن کی اور اسٹوڈیو میں لگے ایک بڑے بورڈ کی طرف آگیا جو نوٹس بورڈ کی طرح کا تھا اور دیوار پر کلپس کی مدد سے ٹنگا ہوا تھا۔ اس نے سائیڈ پر رکھی پنز اٹھائیں اور اس تصویر کو اس بورڈ پرچسپاں کردیا۔ اس بورڈ پر وہ اکثر ان تصویروں کو لگایا کرتا تھا جن پر اسے مزید کام کرنا ہوتا اور شاید یہ تصویر بھی ان تصویروں میں سے ایک تھی۔ اب وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھے غور سے اس تصویر کو دیکھ رہا تھا۔

’’یار تمہیں اتنی رات کو بھی چین نہیں… حد کردی بھئی اس وقت بھی بھٹکی روح کی طرح جاگ رہے ہو۔‘‘ اپنے پیچھے ابھرنے والی رضی کی آواز پر وہ چونک کر پلٹا جو نائٹ ڈریس میں اس وقت یقینا کچی نیند سے جاگا تھا۔

’’ہوں… بس وہ تصویر بنا رہا تھا‘ تم بتائو تم یہاں کیا کررہے ہو؟‘‘ وہ اس کی طرف متوجہ ہوا پھر دوبارہ سے اس پینٹنگ کو دیکھنے لگا۔

’’وائو واٹ اے بیوٹی فل آئز۔‘‘ وہ اسے ہٹاتا خود اس تصویر کے سامنے کھڑا ہوگیا۔

’’کون ہے یہ برادر… میری ہونے والی بھابی تو نہیں ہے کہیں؟‘‘ اس نے بھرپور شرارت سے اسے دیکھا۔

’’رضی…‘‘ ارحام کا انداز وارننگ لیے ہوئے تھا ساتھ ہی وہ اسے گھور بھی رہا تھا۔

’’اچھا… اچھا بھئی‘ ایک تو تمہاری آنکھیں ہی بہت ہیں صحیح سلامت بندے کو قتل کرنے کے لیے… میں تو بس ویسے ہی پوچھ رہا تھا کیونکہ تمہاری پینٹنگز میں زیادہ تر قدرتی مناظر ہوتے ہیں‘ کوئی دیہاتی زندگی کا منظر ہوتا ہے یا پھر اللہ کے نام‘ کبھی میں نے تمہاری پینٹنگز میں انسانی اشکال نہیں دیکھیں۔ اسی لیے پوچھا۔‘‘ وہ منہ بسور کر بولتا اسے بڑا اچھا لگا۔ نام تو اس کا علی رضا تھا‘ مگر گھر میں سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے سب اسے پیار سے رضی بولا کرتے تھے۔ وہ ارحام سے چار سال چھوٹا تھا مگر اس کی حرکتیں ارحام سے دس سال بڑی تھیں۔ ارحام کے لبوں پر پھیلتی مسکراہٹ نے اسے پھر پٹری سے اتارا تھا۔

’’ویسے ہے کون… تم جیسے بدذوق انسان کو کہاں مل گئی؟‘‘ وہ پھر پھیلا۔

’’تمہیں لگتا ہے میں بدذوق ہوں؟‘‘ وہ ایک ہاتھ کمر پر دھرے‘ دوسرے ہاتھ کی شہادت کی انگلی سینے پر رکھے اس سے پوچھ رہا تھا۔

’’جس کا ذوق یمنیٰ ہو‘ میری نظر میں کم از کم وہ بدذوق ہی ہے۔‘‘ اس نے ایک شان بے نیازی سے کہا تو ارحام کے انداز یک دم ہی بدلے تھے۔ وہ جو اب تک اس کی بات کو مذاق کے زمرے میں لے رہا تھا۔ فوراً سنجیدہ ہوا۔

’’شٹ اپ رضی… تم لمٹس کراس کررہے ہو۔‘‘ وہ ناگواریت سے کہتا اسٹوڈیو سے باہر آگیا۔

’’یہ تو تم سمجھ رہے ہو کہ میں غلط کہہ رہا ہوں‘ ورنہ سب کو ہی پتا ہے اس کے بارے میں۔‘‘ وہ بھی اس کے پیچھے باہر آیا۔

’’کیا پتا ہے سب کو؟‘‘ وہ اب اسے گھور کر دیکھ رہا تھا۔ اس نے یمنیٰ کو دادو کے علاوہ کبھی کسی سے ڈسکس نہیں کیا تھا یہاں تک کہ مما پاپا سے بھی نہیں۔ اب رضی کی یہ باتیں اسے زہر میں بجھے تیروں کی مانند لگ رہی تھیں۔

’’یہی کہ وہ تمہیں شدید ناپسند کرتی ہے اور یہ بھی کہ تم اس سے شادی کرنا چاہتے ہو کیونکہ تم خود کو اس بات کا ذمہ دار سمجھتے ہو کہ اس کو جو نفسیاتی دورے پڑتے ہیں جن کے سبب اس کے بہت سے رشتے ٹوٹ گئے۔ تم نے اب اپنے اندر یہ سوچ بٹھالی کہ یہ سب تمہاری وجہ سے ہورہا ہے… جبکہ ایسا نہیں ہے۔ یہ سب خود اس کی اپنی وجہ سے ہورہا ہے‘ تم احساسِ ندامت پر محبت کا لیبل لگا کر گھوم رہے ہو۔ تم خود کو سزا وار سمجھتے ہو اس لیے چاہتے ہو کہ یمنیٰ تمہاری زندگی میں شامل ہوکر تمہیں ایک ختم نہ ہونے والی سزا دے۔ جبکہ تم اپنے حصے کی بہت سزا کاٹ چکے ہو۔‘‘ وہ آج اپنے دل کی بھڑاس نکال رہا تھا۔

’’اور کچھ کہنا ہے تمہیں؟‘‘ وہ بیڈ کے کنارے پر بیٹھا۔

’’کہنا تو اور بھی بہت کچھ چاہتا ہوں مگر کیا تم سن سکوگے؟‘‘ اس کا لہجہ طنز میں ڈوبا ہوا تھا۔

’’تم بھول رہے ہو رضی کہ تم مجھ سے چھوٹے ہو اور یمنیٰ کا معاملہ میرا انتہائی ذاتی معاملہ ہے جس میں… میں کوئی مداخلت برداشت نہیں کروں گا۔‘‘ اس کا انداز قطعیت سے بھرپور تھا۔

’’کاش کہ میں تم سے بڑا ہوتا ارحام تو میں تمہیں کبھی یوں اپنی زندگی تباہ نہ کرنے دیتا۔ خیر شاید تم سے اس موضوع پر بات کرنا ہی فضول ہے‘ میں تمہیں یہ بتانے آیا تھا کہ پاپا کی کال آئی تھی۔ انہیں ایک کیس کے سلسلے میں اسلام آباد جانا پڑگیا ہے تو وہ کہہ رہے تھے کہ ان کی کل جو بھی میٹنگز ہیں وہ تم ہینڈل کرلینا۔‘‘ وہ کہہ کر پلٹنے لگا تھا جب وہ بولا۔

’’پاپا نے مجھے کیوں کال نہیں کی؟‘‘

’’تمہیں اپنے موبائل کا ہوش ہے؟‘‘ وہ ایک اور طنز کرکے کمرے سے باہر نکل گیا… جب اس نے بیڈ کے سرہانے رکھے موبائل کو اٹھا کر دیکھا تو پاپا کی کئی مسز کالز تھیں۔ وہ اپنی بے خبری پر کڑھ کر رہ گیا۔ وہ شاید واقعی اس پینٹنگ کو بنانے میں اتنا محو تھا کہ موبائل کی وائبریشن بھی نہ سن سکا۔ اس نے غصے سے موبائل واپس پٹخا اور اپنا سر تھام کر بیٹھ گیا۔

/…/…/

’’آئی ایم سوری۔‘‘ وہ صبح آفس کے لیے تیار ہورہا تھا جب وہ اس کے کمرے میں آیا۔ ارحام نے بڑے غور سے آئینے میں نظر آتے اس کے عکس کو دیکھا پھر مسکرا کر اس کی طرف پلٹا۔

’’اٹس اوکے یار… تمہیں ایکسکیوز کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ ارحام نے اس کے کندھے تھامتے کہا اور وہ مسکرا کر اس کے گلے لگ گیا۔

’’آپ کے لیے ایک گڈ نیوز ہے۔ مما‘ بگ بی اور ان کی فیملی اگلے ہفتے لندن سے واپس آرہے ہیں۔‘‘ رضی نے ارحام سے الگ ہوتے کہا۔

’’اور رئیلی…! دیٹس آگریٹ نیوز۔‘‘ وہ پرجوش ہوا۔ اس کے دونوں بڑے بھائی لندن اور کینیڈا میں مقیم تھے اپنی اپنی فیملیز کے ساتھ۔ ابھی دو ماہ پہلے اپنے بڑے بھائی آذر کے گھر ننھے مہمان کی آمد پر اس کی مما لندن گئی تھیں اور اب رضی ان سب کی آمد کی بات کررہا تھا۔

’’بہت مزہ آئے گا اور اس بار ہم سب مل کر کہیں گھومنے جائیں گے۔ کتنا وقت ہوگیا ہم سب کو ساتھ بیٹھے۔‘‘ رضی کے لہجے میں یک دم ہی حسرت کے رنگ ابھرے تھے۔ اس نے غور سے رضی کو دیکھا… وہ واقعی بڑا ہوگیا تھا۔ اپنی بے وقوفیوں کی دنیا سے باہر آگیا تھا۔

’’ہوں ان شاء اللہ…‘‘ وہ اس کا کندھا تھپتھپاتے بیڈ پر رکھے اپنے لیپ ٹاپ بیگ کی طرف بڑھا۔ ’’ارے ہاں یاد آیا آج شام مجھے ابرار کی شادی کے لیے کپڑوں کی شاپنگ کرنی ہے ساتھ ہی اس کے لیے اور اس کی وائف کے لیے بھی کچھ لینا ہے۔‘‘ وہ اس کے ساتھ چلتا کمرے سے باہر نکلا۔

’’ٹھیک ہے آپ مجھے کال کردیجیے گا۔ میں تیار رہوں گا۔‘‘ اس نے خاصی تابعداری سے کہا۔ وہ اس کے بالوں کو پیار سے بکھیرتا سیڑھیاں اترتا چلا گیا اور وہ یونیورسٹی کے لیے تیار ہونے کا سوچتا اپنے کمرے کی طرف آگیا۔

/…/…/

’’ایکسکیوز می۔‘‘ اجنبی آواز پر وہ چونک کر پلٹی تھی۔ ایک بیس بائیس سالہ لڑکا ستاروں سی روشن آنکھوں اور شناسا مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھ رہا۔

’’جی…!‘‘ جتنا بے تاثر اس کا چہرہ تھا اتنا ہی بے تاثر انداز بھی۔ اس کی مسکراہٹ سمٹ گئی تھی۔

’’وہ دراصل مجھے آپ کی تھوڑی مدد چاہیے۔‘‘ وہ ٹھہر ٹھہر کر بولا۔

’’مدد؟‘‘ اس کا انداز سوالیہ تھا۔ وہ نہ سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھنے لگی۔

’’ایکچولی… وہ مجھے اپنی بھابی کے لیے گفٹ لینا تھا تو مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ کیا لوں۔‘‘ اس نے مدھم تبسم لہجے میں اپنا مدعا بیان کیا۔

’’اوہ… اچھا تو آپ اپنی بھابی سے پوچھ لیں کہ انہیں کیا پسند ہے۔‘‘ اس نے اپنی دانست میں آسان حل پیش کیا۔

’’پوچھ ہی تو رہا ہوں۔‘‘ وہ بے ساختہ بولا۔

’’جی…!‘‘ وہ کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں بولی اور فوراً اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔

’’میرا مطلب ہے میں ان سے پوچھنے کی کوشش کررہا ہوں‘ مگر شاید یہاں سگنل پرابلم ہے میری بات نہیں ہو پارہی۔‘‘ اس نے بھرپور مجبوری کا تاثر دیا مگر وہ سنبھل چکی تھی۔ اس لمحے اسے ابرار رضوی کا جملہ پوری شدت سے یاد آیا تھا۔

’’میں نے ایک دوبار تمہیں ایک لڑکے کے ساتھ دیکھا۔‘‘ اسے لگا کسی نے اس کے وجود پر چابک برسایا تھا۔ اس شخص نے الزام لگانے سے پہلے ایک بار بھی اس سے یہ نہ پوچھا تھا کہ وہ لڑکا کون تھا جس کے ساتھ اس نے حریم کو دیکھا۔ اگر وہ اس سے بھروسے کے ساتھ پوچھتا تو وہ اسے بتاتی کہ وہ لڑکا اس کا ایک پرانا اسٹوڈنٹ تھا جو یونہی ملاقات ہونے پر اس سے حال احوال پوچھ رہا تھا‘ اس میں بھلا خود اس کا کیا قصور تھا اگر اس بچے کا قد کاٹھ ایسا تھا کہ وہ اس کے برابر کا ہی لگ رہا تھا۔ لمحہ بھر میں اس نے خود فراموشی کی کتنی منزلیں طے کی تھیں مگر پھر اس کی طرف متوجہ ہوئی جو بغور اسے دیکھ رہا تھا‘ اور اس کے متوجہ ہوتے ہی محتاط ہوا تھا۔

’’آئی ایم سوری… میں آپ کی کوئی مدد نہیں کرسکتی۔ آپ کسی سیلز گرل کی مدد لیں تو بہتر ہوگا۔‘‘ وہ کہہ کر ادھر ادھر نظر دوڑانے لگی گویا کسی کو تلاش کررہی تھی۔

’’ارے آپ کو کیا لگتا ہے کہ میں اتنا بے وقوف ہوں جو سیلز گرل سے مدد لوں گا۔ انہیں تو اپنی ہر پروڈکٹ بیچنی ہے تو وہ تو ہر چیز کے سو سے زائد فوائد بتادیں گی۔ اوہ سر پلیز ٹرائے دس‘ اٹ ول سوٹ یور سسٹر ان لاء ویری مچ…‘‘ وہ جلے کٹے سے انداز میں سیلز گرل کی نقل اتار رہا تھا۔ حریم نے بمشکل اپنی ہنسی ضبط کی تھی۔

’’میرے خیال میں آپ اپنی بھابی کے لیے کوئی جیولری خرید لیں۔‘‘ اس نے خاصی سنجیدگی سے مشورہ دیا۔ وہ اندازہ کرچکی تھی کہ یہ لڑکا بنا مشورے کے جان نہیں چھوڑنے والا۔

’’جیولری… ہوں یہ تو ایک اچھا آئیڈیا ہے۔ کیا آپ سلیکشن میں میری مدد کریں گی پلیز۔‘‘ وہ اگلے ہی لمحے بولا۔ حریم نے گھور کر اسے دیکھا۔

’’اگر آپ کو کسی دوسرے کے مشورے سے ہی کچھ خریدنا ہے تو میرے خیال میں یہاں آپ کو اپنی بھابی کے ساتھ آنا چاہیے تھا اور اگر انہیں نہیں لائے ہیں تو یہاں اور بھی بہت سی لڑکیاں ہیں ان سے پوچھ لیں۔‘‘ اس کا انداز ایسا تھا جیسے کہہ رہی ہو۔ ’’میری جان چھوڑو۔‘‘ وہ آگے بڑھنے لگی تو وہ فوراً بولا۔

’’ارے لگتا ہے آپ تو ناراض ہوگئی…‘‘ وہ اس کے ساتھ ساتھ ہی چلنے لگا۔

’’دیکھیے مسٹر…‘‘

’’علی رضا… سب مجھے پیار سے رضی کہتے ہیں۔‘‘ اس نے درمیان سے ہی حریم کی بات اچکی تھی۔ ساتھ ہی اپنے دانتوں کی نمائش بھی کی… حریم دانت پر دانت جما کر رہ گئی۔

’’آپ نے مجھ سے جتنی مدد مانگی میں نے کردی لیکن اب اگر آپ نے مجھے فالو کرنے کی کوشش کی تو میں…‘‘

’’رضی…‘‘ اپنے نام کی پکار پر اس نے سر اٹھا کر سامنے کی جانب دیکھا جہاں سے ارحام آرہا تھا‘ حریم نے بھی پلٹ کر دیکھا‘ وہ جو رضی کے ساتھ کسی لڑکی کو کھڑے دیکھ کر اس طرف آیا تھا۔ وہ لمحہ بھر کے لیے اپنی جگہ تھم سا گیا۔ وہ دھیمے دھیمے قدم اٹھاتا ان تک آیا۔ حریم نے کچھ الجھی نگاہوں سے اس شخص کو دیکھا۔

’’بھائی میں ان سے مدد لے رہا تھا‘ بھابی کے لیے کچھ پسند کرنے میں۔‘‘ رضی کی آنکھیں شرارت سے چمک رہی تھیں۔ ارحام نے صرف اسے گھورنے پر اکتفا کیا۔

’’میرے خیال میں میرے بھائی نے آپ کو بہت زیادہ پریشان کیا ہے۔ آئی ایم سوری‘ فار ڈیٹ۔‘‘ اس نے پراعتماد انداز میں دھیرے سے کہا۔ جب کہ وہ الجھی الجھی سی نظر آرہی تھی۔ غالباً اسے پہچاننے کے مراحل طے کرنے میں مشکل ہورہی تھی۔ ارحام نے دعا کی کہ وہ اسے نہ پہچانے اور اس لمحے نے اس کی دعا کو قبولیت کی سند بخشی۔ وہ سر جھٹکتے بولی۔

’’کوئی بات نہیں۔‘‘ اور پھر پلٹتے ہوئے بیگ سے اپنا موبائل نکال کر شاپنگ مال کے دروازے کی طرف بڑھ گئی۔ اس سے نگاہ ہٹا کر ارحام نے رضی کو دیکھا۔ جو بھنویں اچکا اچکا کر اپنے کارنامے پر داد وصول کرنا چاہ رہا تھا۔

’’تم ذرا گھر چلو پھر دادو اور بابا سے دلوائوں گا تمہیں داد۔‘‘ ارحام نے بڑے سکون سے اس کا سکون تباہ کیا اور کائونٹر کی طرف بڑھ گیا جہاں اس نے کلیئرنس کے لیے خریدا ہوا سامان دیا تھا۔ مگر جب رضی کے ساتھ کسی لڑکی کو دیکھا تو اسی طرف آگیا۔ توجہ طلب بات یہ نہ تھی کہ رضی کے ساتھ کوئی لڑکی تھی بلکہ توجہ طلب اس کی ڈریسنگ تھی۔ سادہ سا شلوار قمیص اور سلیقے سے اوڑھا ہوا بڑا سا دوپٹہ۔ وہ رضی کی جتنی بھی دوستوں سے واقف تھا وہ ساری ہی ان کی سوسائٹی سے تعلق رکھتی تھیں اور ان میں سے کوئی بھی اس طرح کپڑے نہیں پہنتی تھی تبھی وہ حیران حیران سا اس کی طرف آیا تھا مگر اس کے چہرے پر پڑنے والی پہلی نگاہ نے واضح کردیا تھا کہ رضی وہاں کیوں موجود تھا۔ وہ یقینا اس لڑکی کو پہچان گیا تھا۔

’’یار کیا ہے تم ہر وقت مجھے دادو اور بابا کے ڈراوے کیوں دیتے رہتے ہو۔‘‘ وہ ناراض ہوتا اس کے ساتھ کائونٹر پر آکھڑا ہوا۔ ارحام نے مسکرا کر اسے دیکھا ساتھ ہی پے منٹ کرکے اسے سامان اٹھانے کا اشارہ کیا۔

’’تم ایک انتہائی سڑو انسان ہو ارحام۔‘‘ وہ دانت کچکچاتا اس کے پیچھے آیا۔

’’شکریہ… میرے علم میں اضافہ کیا تم نے۔‘‘ وہ مسکراتا ہوا باہر نکلا جبکہ رضی جلتا کڑھتا اس کے پیچھے پیچھے چلتا رہا۔

/…/…/

’’وہ لڑکے کون تھے حریم جن کے ساتھ تم کھڑی تھیں؟‘‘ اس کی دوست نے بہت نارمل انداز میں سوال پوچھا مگر اسے بری طرح چبھا تھا۔ وہ جو کار کے باہر گزرتے مناظر کو دیکھ رہی تھی اور نہ جانے کن سوچوں میں غرق تھی کہ فوراً اسے غور سے دیکھنے لگی مگر ارماہ کے چہرے پر اسے کوئی خاص تاثر نظر نہ آیا تھا۔

’’کیا ہوا… کیا میرا سوال تمہیں برا لگا؟‘‘ اس نے کار ڈرائیو کرتے ہوئے محتاط سے انداز میں پوچھا۔

’’نہیں مجھے برا نہیں لگا۔‘‘ اس نے نفی میں سر ہلاتے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگایا۔

’’وہ دونوں بھائی تھے‘ وہ بلیو جینز اور چیک کی شرٹ والا لڑکا اپنے بھائی کی وائف کے لیے کوئی گفٹ لینا چاہ رہا تھا مجھ سے آئیڈیا لے رہا تھا کہ اس کا بھائی بھی چلا آیا۔‘‘ اس نے مختصراً بتایا۔

’’مجھے تو لگ رہا ہے حریم وہ تم سے جھوٹ بول رہے تھے کیونکہ دونوں میں سے کسی کو بھی دیکھ کر نہیں لگ رہا تھا کہ شادی شدہ ہیں۔‘‘ ارماہ نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ وہ خاموش رہی‘ لگ تو اسے بھی ایسا ہی کچھ رہا تھا۔ ’’ویسے لڑکوں کی عادت ہوتی ہے جہاں کوئی لڑکی اکیلی دیکھی نہیں منڈلانا شروع کردیتے ہیں۔‘‘

’’تو جب تم نے دیکھ ہی لیا تھا تو میرے پاس ہی آجاتیں‘ میں تمہیں ڈھونڈتی اتنا پریشان ہوگئی تھی۔ آئندہ میں کبھی بھی ان شاپنگ مالز میں نہیں آئوں گی تمہارے ساتھ۔ یہ میری حیثیت اور میری سوچ سے بہت اونچے ہیں۔‘‘ اس نے خفا خفا سے لہجے میں کہا۔ وہ جس شرمندگی سے گزری یہ وہ خود ہی جانتی تھی‘ لوگ اسے کن نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ دبی دبی ہنسی ہنس رہے تھے۔ وہ ایک پراعتماد لڑکی تھی مگر جو بے اعتباری اس نے ابرار رضوی کی جھیلی تھی اس نے اس کی ذات کے غرور کو منقسم کردیا تھا۔ وہ بات کررہی ہوتی تو بات کرتے کرتے لفظ گویا گم ہوجاتے۔ وہ سوچ رہی ہوتی تو سوچ کے تانے بانے ایسے الجھتے کہ کوئی سرا ہاتھ ہی نہ آتا۔ وہ کبھی یونہی ہنسنے لگتی تو کبھی رونے۔ اس نے اس شخص سے محبت کی تھی یا نہیں یہ اسے علم نہ تھا مگر اس شخص کے ساتھ کو اس نے زندگی کا حاصل مانا تھا اور اب جب وہ راہیں جدا کررہا تھا تو گویا زندگی سے ساتھ چھوٹ رہا تھا۔ اس نے سر جھٹک کر گویا ہر سوچ سے دامن چھڑانا چاہا تھا۔

’’کیا بات ہے حریم میں نوٹ کررہی ہوں تم دن بدن کچھ چرچڑی سی ہوتی جارہی ہو۔ سب ٹھیک تو ہے… ہم تو پہلے بھی کئی بار اس طرح کے مالز میں آچکی ہیں تو پھر آج ایسا کیا ہوا؟ کیا ان لڑکوں نے تمہیں زیادہ پریشان کیا؟ ویسے شکل سے تو ایسے نہیں لگ رہے تھے۔‘‘ وہ کچھ پریشان سی اسے دیکھتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔

’’نہیں ایسی کوئی بات نہیں‘ بس میرے سر میں کچھ درد تھا اسی لیے میں اتنا بول گئی۔ آئی ایم سوری۔‘‘ اس نے کچھ شرمندگی سے کہا۔

’’ارے دوستوں میں سوری کب سے ہونے لگ گئی بھئی۔‘‘ ارماہ نے ہنستے ہوئے اس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا۔ اس نے مسکرا کر ارماہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا دیا تھا۔ ارماہ ایک پرخلوص لڑکی تھی۔ ان کی دوستی سول سروسز اکیڈمی میں ہی ہوئی تھی ایک سال پہلے۔ وہ شہر کے بہت بڑے بیرسٹر کی بیٹی تھی۔ وہ تھوڑی بہت مغرور بھی تھی مگر جو لوگ اسے اچھے لگتے ان سے بہت اچھے طریقے سے پیش آیا کرتی تھی۔ حریم کا شمار اس کے اچھے لوگوں کی لسٹ میں ہوتا تھا۔ باقی ماندہ سفر دونوں کا خوشگوار گزرا تھا ادھر ادھر کی باتیں کرتے اور شاپنگ کو ڈسکس کرتے۔

/…/…/

’’ویسے مان گئے ارحام تم تو بڑے بہترین مصور ہو واہ… واہ…‘‘ وہ گویا جھوم جھوم کر کہہ رہا تھا۔ ارحام نے ایک نگاہ اسے دیکھا اور پھر راستے پر نگاہ ڈالی۔ وہ گلبرگ کی طرف جانے والے راستے پر تھے۔ گھر پہنچنے میں دس سے پندرہ منٹ لگنے تھے اتنا ہی ٹائم مغرب کی اذان میں تھا۔ اس نے گھڑی دیکھتے سوچا۔

’’رئیلی ارحام میں تو تمہارا بہت بڑا فین ہوگیا ہوں۔ اتنی نیچرل تھی وہ تصویر کہ جب میں نے اسے سامنے دیکھا تو میں فوراً پہچان گیا اور اس کی آنکھوں میں ایسی مقناطیسیت تھی کہ میں کھنچتا چلا گیا۔‘‘ رضی بڑے کیف وسرور میں جھوم رہا تھا۔ ارحام نے ایک چپت اس کے سر پر لگائی۔ اس نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں۔

’’یہ کیا تھا؟‘‘ اس نے احتجاجی انداز میں ارحام کو دیکھا۔

’’تمہارے پرزے ڈھیلے ہوگئے ہیں اس لیے تمہیں ضرورت ہے… تم شاید بھول رہے ہو کہ جس لڑکی کا ذکر تم اتنا جھوم جھوم کر کررہے ہو اس سے تمہارا کوئی تعلق نہیں…‘‘ ارحام نے پوری سنجیدگی سے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔

’’ارے… ابھی کوئی رشتہ نہیں تو کیا ہوا۔ فیوچر میں تو ہوسکتا ہے۔‘‘ اس نے بھنویں اچکائیں۔

’’پلیز رضی… جسٹ شٹ اپ… تم ہر بات کو اتنا نان سیریس کیسے لے سکتے ہو۔ تمہیں اندازہ بھی ہے کہ تمہارے اس طرح ذکر کرنے سے اس لڑکی کی عزت پر حرف آسکتا ہے۔‘‘

’’ٹھیک ہے میں نے مانی تمہاری بات‘ لیکن تم نے جو اس کی تصویر نوٹس بورڈ پر ٹانکی ہوئی ہے اس کا کیا… اس سے اس کی بدنامی نہیں ہوگی بولو…‘‘ رضی نے اس کی بات کاٹتے کہا تو چند ثانیے وہ کچھ بول نہیں پایا۔ وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا‘ غلطی اس سے ہی تو ہوئی تھی مگر کیوں؟ اس نے ایک لمحے کے لیے سوچا۔

’’ہاں شاید تم ٹھیک کہہ رہے ہو… غلطی میری ہے مجھے اس طرح بنا اجازت اس کی تصویر نہیں بنانی چاہیے تھی۔ مگر تمہیں پتا ہے جو چیز مجھے اچھی لگتی ہے میری کوشش ہوتی ہے کہ میں…‘‘ اس کی بات بیچ میں رہ گئی تھی کیونکہ رضی کے چہرے پر بڑی معنی خیز سی مسکراہٹ پھیلی تھی۔ اسے فوراً احساس ہوا کہ اس نے کچھ غلط کہا ہے اور کیا؟ یہ بھی فوراً ہی پتا چل گیا تھا تبھی شرمندگی سے نگاہیں پھیر گیا تھا۔ ’’تم میری بات کو غلط رنگ دے رہے ہو۔‘‘ وہ کچھ جھنجھلا۔

’’ارے میں نے تو کچھ بھی نہیں کہا تم خود ہی وضاحتیں دے رہے ہو۔ ویسے میں تمہاری رائے سے پورا اتفاق کرتا ہوں۔‘‘ رضی اب بھی شرارت سے باز نہیں آیا تھا۔ لیکن ارحام نے کوئی رسپانس نہیں دیا۔ اسے یوں کسی لڑکی کے بارے میں بات کرنا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ یہ اس کی غلطی تھی اور وہ اسے سدھارنے کا ارادہ کرچکا تھا‘ اس کے چہرے سے جھلکتی سنجیدگی نے رضی کو بھی خاموش ہونے پر مجبور کردیا تھا۔

/…/…/

گھر پہنچتے ہی اسٹوڈیو میں آکر اس نے سب سے پہلے اس تصویر کو نوٹس بورڈ سے اتارا کچھ دیر اسے ہاتھ میں لیے وہ سوچتا رہا کہ وہ کیا کرے؟ کیا وہ اس تصویر کو پھاڑ دے… یا پھر جلادے… رضی نے جو بھی کہا تھا صحیح کہا تھا۔ ابھی تو صرف رضی نے دیکھی تھی اگر کوئی اور دیکھ لیتا تو… اس تو کے آگے سوچ کر ہی اسے جھرجھری سی آگئی۔ کتنے بے معنی سوال وجواب ہوتے‘ ہاں شاید اس کا یہ بے اختیار عمل کسی کی ذات کو سوالیہ نشان بنا سکتا تھا۔ اس نے تصویر کو فولڈ کیا اور ربڑ بینڈ چڑھا کر اسے دراز میں رکھ کر باہر نکل آیا۔ اس کا رخ ڈریسنگ روم کی طرف تھا۔ اس نے وارڈروب کا سلائڈنگ ڈور کھسکا کر کچھ غائب دماغی سے وائٹ کرتا شلوار نکالا اور ڈور کو واپس برابر کردیا۔ کپڑے تبدیل کرکے وہ واش روم کی طرف بڑھ گیا۔ اسے وضو کرنا تھا۔ اسے اپنے رب کے روبرو کھڑا ہونا تھا۔ نماز پڑھ کر وہ کتنی ہی دیر دعا میں ہاتھ اٹھائے بیٹھا رہا۔

’’مجھے معاف کردیجئے…‘‘ وہ چند الفاظ جو ایک مدت سے اس کی دعا تھے۔ اس کی پلکیں نم ہونے لگی تھیں۔ اس دربار میں حاضر ہونے کے بعد اس کا احساس جرم کے تلے دبا دل کچھ پرسکون ہونے لگتا تھا۔ اس وقت بھی یہی ہورہا تھا ایک ان دیکھی راحت اس کے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی۔ اور جب وہ مکمل طور پر پرسکون ہوگیا تو جائے نماز سے اٹھ کھڑا ہوا۔ کمرے سے باہر نکل کر اس نے لائونج کا رخ کیا‘ وہ انٹرکام سے اپنے ملازم کو چائے کے لیے کہہ چکا تھا۔ ان کا یہ بنگلو کچھ اس طرز کا بنا ہوا تھا کہ اس کا ایک حصہ لائونج‘ لونگ روم اور ڈائننگ روم پر مشتمل تھا جبکہ دوسرے حصے میں سب کے کمرے تھے۔ گھر کے دونوں حصوں کو مختلف محرابوں اور راہداریوں کے ذریعے ربط دیا گیا تھا وہ لائونج میں اترنے والی سیڑھیوں کے ذریعے لائونج میں داخل ہوا۔ لائونج سفید ماربل سے تشکیل دیا گیا تھا اور جدت کا منہ بولتا نمونہ تھا۔ سیڑھیاں اترتے ہی اختتام پر ایک چیتے کی کھال کا قالین بچھا تھا‘ لائونج کے وسط میں اسکن اور برائون رنگ کے کنٹراس کا صوفہ سیٹ تھا۔ جس کے سامنے والی دیوار پر ایل سی ڈی نصب تھا۔ دیواروں پر اسکن اور برائون پرنٹڈ رنگ کیا گیا تھا۔ جن پر کچھ کچھ فاصلے پر ملکی وغیرملکی مصوروں کی تخلیقات اپنی بہار دکھا رہی تھیں۔ فارسلنگ کی چھت میں لائٹس نصب تھیں جو لائونج میں قدم رکھتے اور ہر بڑھتے قدم کے ساتھ کھٹا کٹ جلنا شروع ہوجایا کرتی تھیں۔ وہ لائونج میں داخل ہوا تو سامنے ہی دادو بیٹھے نظر آئے تھے دھیمی آواز میں ایل سی ڈی اسکرین روشن تھی جبکہ عالم آفندی فون پر کسی سے محو گفتگو تھے۔ اسے دیکھ کر انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ گردن ہلا کر سلام کا اشارہ کرتا ان کے برابر آبیٹھا تھا۔

’’چلو ٹھیک ہے میں اس سے بات کرلیتا ہوں‘ پھر تمہیں بتائوں گا۔ ٹھیک ہے اوکے۔ اللہ حافظ۔‘‘ انہوں نے بات مختصر کرتے مسکرا کر فون بند کیا۔

’’ہائو واز یور ٹرپ؟‘‘ ان کے فون رکھتے ہی اس نے پوچھا۔

’’سکسیفل…‘‘ انہوں نے یک لفظ جواب دیا‘ وہ مسکرا دیا۔

’’یعنی آپ کی ڈیل کامیاب رہی۔‘‘ اس نے ان کے لفظ کی وضاحت کردی تھی۔ وہ مسکرائے تھے۔

’’میرے اور فرید کے بغیر آفس میں تمہارا دن کیسا گزرا؟‘‘ ان کی آواز میں شرارت تھی۔

’’بہت اچھا… بہت مصروف اور اب میں سوچ رہا ہوں کہ مجھے کچھ دن کی چھٹی پر چلے جانا چاہیے‘ تاکہ بغیر منیجنگ ڈائریکٹر کے آپ لوگ بھی آفس کو منیج کرکے دیکھیں۔‘‘ ان کی شرارت کا جواب اس نے بھی شرارت سے دیا تھا۔ وہ قہقہہ لگا کرہنس دئے تھے۔

’’السلام علیکم!‘‘ فرید آفندی نے لائونج میں داخل ہوکر سلام کیا تھا۔ ان کے ایک ہاتھ پر کوٹ تھا جبکہ دوسرے میں بریف کیس جو فوراً ہی ان کا ملازمین تھام چکا تھا۔

’’وعلیکم السلام!‘‘ ان دونوں نے بیک وقت جواب دیا۔ وہ ان کے سامنے والی نشست سنبھال چکے تھے۔ ان کے چہرے سے تھکن عیاں تھی۔ ارحام نے انٹرکام پر ان کے لیے بھی چائے کا کہہ دیا۔ انہوں نے محبت بھری نگاہوں سے اسے دیکھا۔ وہ ہمیشہ ہر ایک کا اتنا ہی خیال رکھتا تھا۔

’’تو سفر کیسا رہا تمہارا؟‘‘ عالم آفندی نے اپنے بیٹے کو دیکھا۔ اس وقت ایک ہی نشست میں تین نسلیں روبرو تھیں۔ ایک وہ جو اپنی مدت پوری کرچکی تھی۔ ایک وہ جو یہ مدت پوری کرنے کی طرف جارہی تھی اور ایک وہ جو اس مدت کی شروعات کررہی تھی۔

’’ونڈرو فل…‘‘ انہوں نے یک لفظی جواب دیا۔ ارحام نے مسکرا کر ان دونوں کی طرف دیکھا۔ وہ دونوں باپ بیٹا تھے۔

’’ہائو آر یو مائی سن؟‘‘ فرید آفندی اب اپنے بیٹے سے مخاطب تھے۔ ان کی نگاہیں اس کے چہرے کا بوسہ لے رہی تھیں۔ روشن پیشانی کی محراب آج اور بھی چمک رہی تھی۔ ان کے یوں دیکھنے پر وہ کچھ کنفیوز سا ہوا۔

’’میں ٹھیک ہوں پاپا۔‘‘ اس نے آہستگی سے کہا‘ وہ مسکرا کر اب عالم آفندی کو دیکھنے لگے۔ ان کے چار بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔ دو بڑے بیٹے اور دو بڑی بیٹیاں شادیوں کے بعد دیار غیر میں سیٹل تھے۔ بیٹے ان کے بزنس کو سنبھالتے تھے جو دنیا کے مختلف ملکوں میں پھیلا ہوا تھا وہ خود اور عالم آفندی اکثر وہاں کے چکر لگالیتے تھے۔ ان چار کے بعد پانچویں نمبر پر ارحام تھا جو بچپن میں ان کے لیے خاصا چلینجنگ بچہ رہا تھا مگر پھر ایک حادثے نے اس کی زندگی ہی بدل دی تھی‘ اب وہ ان کے تمام بچوں میں سب سے لائق تھا۔ ارحام کے بعد نیناں تھی جو اس سے ایک ڈیڑھ سال چھوٹی تھی اور آج کل لمس میں زیر تعلیم تھی جہاں پڑھنا اس کا خواب تھا۔ جسے وہ سب ایک دیوانے کا خواب کہا کرتے تھے۔ نیناں کے بعد علی رضا عرف رضی تھا جو گھر بھر کا چہیتا تھا۔ جس کے لاڈ ہر کوئی ہی اٹھایا کرتا تھا۔

’’اسلام آباد میں میری کاشفی سے ملاقات ہوئی۔ زبیری بھی اس کے ساتھ تھا۔‘‘ وہ لحظہ بھر کو رک کر ارحام کو دیکھنے لگے تھے۔ پھر ٹیبل پر رکھی چائے اٹھا کر انہوں نے ایک گھونٹ بھرا۔

’’وہ وہاں پنجاب بار ایسوسی ایشن کی کسی میٹنگ میں آیا ہوا تھا۔ ہم نے ڈنر ساتھ ہی کیا۔‘‘ وہ ایک بار پھر رک کر ارحام کو دیکھنے لگے تھے۔ عالم آفندی نے بغور اپنے بیٹے کو دیکھا یقینا کچھ ایسا تھا جو وہ اس کے سامنے کہنا نہیں چاہ رہے تھے۔ وہ پوتے کی طرف متوجہ ہوئے۔

’’ارحام… لائبریری میں میری ایک فائل رکھی ہے تم ذرا اس کو اسٹڈی کرو مجھے تم سے کچھ پوائنٹس ڈسکس کرنے ہیں۔‘‘ انہوں نے ارحام کو مخاطب کیا تو چند ثانیے تو وہ انہیں یونہی دیکھتا رہا پھر وہاں سے اٹھ گیا۔

’’ہاں اب بولو‘ ایسا کیا ہوا ہے جو تم ارحام کے سامنے نہیں کہنا چاہ رہے تھے۔‘‘ عالم آفندی متفکر ہوئے۔

’’بابا آپ کے کہنے کے مطابق میں نے زبیری سے ارحام اور یمنیٰ کے رشتے کی بات کی تو اس نے مجھے بتایا کہ پچھلے دنوں گھر میں جب اس بات کا ذکر ہوا اور اس پر زور دیا جانے لگا تو اس نے اپنی ایک دوست کے ذریعے جھوٹی فون کال کروائی کہ یمنیٰ نے خفیہ نکاح کیا ہوا ہے۔ اسے لگا تھا کہ اس کا یہ جھوٹ کامیاب رہے گا مگر زبیری نے جلد ہی اس معاملے کو اوپن کروالیا۔‘‘ وہ کچھ دیر کے لیے رکے۔

’’لیکن ایسا کیسے ہوسکتا ہے‘ فرید کہ محض ایک فون کال پر یقین کرلیا جائے۔‘‘ وہ ورطہ حیرت میں پڑگئے۔

’’نہیں بابا بات صرف ایک فون کال تک محدود نہیں رہی تھی۔ اس نے جھوٹا نکاح نامہ تک پیش کردیا تھا۔ مگر آپ کو تو پتا ہے کہ زبیری لاہور بار ایسوسی ایٹس کا صدر ہے۔ اس نے جلد ہی ہر چھوٹی بڑی کورٹ سے معلومات اکٹھی کرلیں۔ تمام معاملہ کھلنے کے بعد ان کے گھر میں ایک ہنگامہ کھڑا ہوگیا تھا۔ شاید زبیری نے ہاتھ بھی اٹھایا تھا اس پر۔ جس پر اس نے دھمکی دی کہ وہ اسے سچ بھی ثابت کرسکتی ہے اگر اس پر اسی طرح زور دیا جاتا رہا۔ وہ پریشان تھا ساتھ ہی شرمندہ بھی۔ اس نے اس رشتے سے معذرت کرلی یہ کہہ کر کہ وہ ارحام جیسے لائق لڑکے کی زندگی تباہ نہیں کرسکتا‘ یمنیٰ شاید اتنی خوش نصیب نہیں کہ ارحام جیسا لڑکا اس کا ہم سفر بنے۔‘‘ فرید آفندی نے حرف بہ حرف اپنے اور زبیری کے درمیان ہونے والی گفتگو انہیں سنائی تھی۔ جسے سن کر وہ منجمد سے ہوگئے تھے اور ہل تو وہ بھی نہ سکا تھا جو لائونج کی سیڑھیوں کے اس پار کھڑا تھا۔ اسے پتا تھا کہ یمنیٰ اس سے نفرت کرتی ہے مگر اس حد تک کہ وہ اس نفرت کو نبھانے کے لیے اپنی خاندانی عزت‘ اپنی شخصی انا سب کچھ دائو پر لگانے کے لیے تیار تھی۔ کچھ تھا جو چھن سے کہیں بہت اندر ٹوٹا تھا۔

’’نہیں یہ میری منزل نہیں‘ میرے قدموں نے شاید غلط راستے کا انتخاب کرلیا تھا‘ مجھے واپسی کے لیے قدموں کو اسی مقام سے موڑ لینا چاہیے‘ اس سے پہلے کہ سب ختم ہوجائے‘ سب ختم ہوجائے۔‘‘ وہ آگے بڑھتا جارہا تھا ہر عہد کو بھلائے جو اس نے خود سے کیے تھے کیونکہ ان کا بھلا دینا ہی بہتر تھا۔

تیرے نام کی تھی روشنی اسے خود ہی تو نے بجھا دیا

جسے جلا سکی نہ دھوپ بھی‘ اسے چاندنی نے جلا دیا

/…/…/

’’یمنیٰ…‘‘ وہ زمین پر بیڈ کی پانتیوں سے ٹیک لگائے گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھی تھی۔ اپنے نام کی پکار پر اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔ اس کا چہرہ آنسوئوں سے تر تھا۔ سامنے کھڑے دانیال بھائی کو دکھ ہوا اس کی یہ حالت دیکھ کر۔ گھر میں سب اس سے ناراض تھے مما‘ بابا‘ حمنیٰ اور وہ خود بھی مگر اس لمحے انہیں لگا وہ کسی بچی کے سامنے کھڑے ہیں جو اپنا پسندیدہ کھلونا نہ ملنے پر سب سے خفا ہے۔ مگر یہاں بات ملنے کی نہیں تھی بلکہ تھوڑی مختلف تھی۔ اسے وہ نہیں چاہیے تھا جو سب کو پسند تھا۔ وہ اس کے برابر آبیٹھے… وہ چہرے کا رخ موڑ کر دوسری سمت دیکھنے لگی۔

’’کھانا کیوں نہیں کھایا؟‘‘ انہوں نے اپنا بازو اس کے کندھوں کے گرد پھیلا کر اس کو اپنے قریب کیا۔

’’مجھے نہیں کھانا‘ مجھے کچھ بھی نہیں کھانا چاہے میں مر ہی کیوں نہ جائوں۔‘‘ وہ رونے لگی۔

’’ایسی باتیں نہیں کرتے گڑیا۔‘‘ دانیال نے اس کا سر سہلاتے ہوئے اسے پرسکون کرنے کی کوشش کی۔

’’آپ سب جانتے ہیں وہ شخص مجھے کتنا ناپسند ہے پھر بھی…‘‘ وہ آنسوئوں کے سبب اپنا جملہ مکمل نہ کرپائی۔

’’اول تو یہ کہ تمہارا اعتراض ہے ہی بے بنیاد‘ اگر تم غیر جانبدارانہ طور پر سوچو تو ارحام تمہیں بے قصور نظر آئے گا۔ موت برحق ہے اویس کی زندگی اتنی ہی تھی جتنی اس نے جی‘ یہ حادثہ اگر ارحام کے ہاتھوں نہیں ہوتا تو کسی اور کے ہاتھوں ہوتا مگر یہ ہونا طے تھا۔‘‘

’’ہاں تو میں کب منع کررہی ہوں بھائی لیکن اگر وہ کوئی بھی ہوتا تو بھی مجھے اس سے اتنی ہی نفرت ہوتی جتنی اس شخص سے ہے اور آپ لوگ ان کے سامنے کچھ نہیں بولتے کیونکہ وہ لوگ بہت اثرو رسوخ والے ہیں۔‘‘ اس کا ہر لفظ بدگمانی کی لپیٹ میں تھا۔ انہوں نے پہلی بار محسوس کیا کہ وہ سمجھنے کے ہر اسٹیج سے آگے جاچکی تھی۔

’’تم بدگمان ہو شاید اسی لیے ایسی بات کررہی ہو یمنیٰ‘ ورنہ جس وقت یہ حادثہ ہوا ارحام کی اپنی حالت ایسی نہ تھی کہ عدالت اسے سزا دیتی اور پھر اس کی ذہنی حالت بھی سب کے سامنے تھی۔ تم بے خبر بن رہی ہو تو اس میں ہم سب کا کوئی قصور نہیں‘ تم اپنا ہی نقصان کررہی ہو۔‘‘ ان کے لہجے میں ہلکا سا غصہ ابھرا‘ اس کے آخری جملوں نے تو گویا ان کے وجود میں شرارے سے بھر دیئے تھے۔ وہ ان کا غصہ محسوس کرکے خاموش رہی تھی۔

’’بابا نے تمہاری خواہش کے مطابق فرید انکل کو منع کردیا ہے۔ نائو یو شڈ بی ریلیکسڈ۔‘‘ دانیال نے اس کی طرف دیکھتے کہا۔ اس کے چہرے پر یک دم بے یقینی اور خوشی کے ملے جلے تاثرات ابھرے تھے۔

’’آپ سچ کہہ رہے ہیں؟‘‘ اس کا لہجہ بے یقین تھا۔

’’ہوں… سچ کہہ رہا ہوں۔ ہم سب کو تمہارا خیال ہے‘ ہم تمہیں عزیز رکھتے ہیں‘ اب چاہے تم اپنے رویے سے ہمیں کتنی ہی تکلیف کیوں نہ پہنچائو۔‘‘ آخر میں وہ کچھ تلخ ہوئے۔

’’میں ایسا جان بوجھ کر نہیں کرتی بھائی۔ بس پتا نہیں کیوں جب اس کا نام آتا ہے تو میرے ذہن میں اویس کی سسکیاں گونجنے لگتی ہیں۔ میں سوچتی ہوں کاش میں نے اس دن ضد کرکے اسے اپنی بکس لانے کے لیے نہ بھیجا ہوتا۔ کاش میں بابا کا ویٹ کرلیتی تو…‘‘ اس کی آواز گلے میں ہی اٹک گئی تھی۔ دانیال نے اسے اپنے بازوئوں میں چھپالیا۔ ’’میں نے سنا تھا بھائی اس کی درد سے بھرپور آواز کو جو کچھ دیر پہلے تک زندگی سے بھرپور تھی۔ آپ کو تو پتا ہے ناں اسے معمولی سی چوٹ بھی لگتی تھی تو وہ کتنا واویلا کرتا تھا۔ ایک بائیک کے یوں روند دینے پر وہ کتنی تکلیف میں آگیا ہوگا‘ کتنا تڑپا ہوگا‘ بھائی میں…‘‘ وہ بولتے بولتے یک دم رکی… اس کا سانس رک رہا تھا۔

’’گڑیا… گڑیا… ہوش کرو‘ یمنیٰ گڑیا۔‘‘ دانیال پریشان سا اس کا چہرہ تھپتھپانے لگا مگر وہ ہوش وخرد سے بیگانہ ہوچکی تھی۔

/…/…/

آفندی ہائوس کا لونگ روم اس وقت کشت زعفران بنا ہوا تھا۔ نوشی بیگم اپنے بیٹے بہو اور بچوں سمیت آچکی تھیں۔ آذر کے دونوں بڑے بیٹے ادھر سے ادھر بھاگتے پھر رہے تھے۔ کچھ لوگوں نے دبیز کارپیٹ پر رکھے مخملی فلورکشن کو سنبھالا ہوا تھا جبکہ کچھ صوفوں پر براجمان تھے۔ ارحام آذر کی بیٹی کو گود میں بٹھائے مما کے برابر صوفے پر ان کے کندھے پر سر ٹکائے بیٹھا نہ جانے ان سے کیا رازو نیاز کررہا تھا۔

’’او… مام بوائے‘ ذرا مجھے بھی جگہ دے دو تاکہ میں بھی محسوس کرسکوں کہ میری مما بھی واپس آئی ہیں۔‘‘ رضی نے جگہ نہ ہونے کے باوجود بیچ میں گھسنے کی کوشش کی اور کامیاب بھی رہا۔ کیونکہ ارحام مسکرا کر آگے کھسک گیا تھا۔ نوشی بیگم نے اس کی شرارت پر اسے ایک دھپ رسید کی اور سب نے بیک وقت قہقہہ لگایا۔

’’مما آپ میرے ساتھ ایسا سوتیلا سلوک کیوں کرتی ہیں؟‘‘ اس نے سر پر ہاتھ رکھ کر دہائی دی۔

’’چلو بس اب یہ ڈرامہ بند کرو اور کوئی گانا سنائو بھابی کو۔‘‘ انہوں نے اسے کان سے پکڑ کر اٹھایا۔

’’اف… میں کیا آپ کو سنگر لگتا ہوں۔‘‘ وہ اترایا۔

’’نہیں گویا…‘‘ ارحام نے شرارت سے بھرپور لہجے میں کہا تو اس نے منہ پر ہاتھ پھیرتے اسے بدلہ لینے کا اشارہ کیات اور دھپ سے بیچ میں رکھے کشن پر بیٹھ گیا اور گلا کھنکار کر گانا شروع کیا تالیوں اور چٹکیوں کے درمیان۔

او صنما صنما او صنما

او صنما صنما صنما

اب میری تنہائی ہے آسان

تیری تصویریں‘ تیری تحریریں

گھر میں میرے پھیلا ہوا ہے یہی ساماں

’’تصویریں…‘‘ پر اس نے شرارت سے ارحام کو دیکھا‘ ارحام اس کی شرارت سمجھ کر بھی انجان بن گیا تھا۔

نہ صبح وشام بے قراری

نہ اس کے بعد رات بھاری

کیسا ہوا ہے میرے ہر درد کا درماں

او صنما صنما صنما او صنما

تیری تصویریں‘ تیری تحریریں

گھر میں میرے پھیلا ہوا ہے یہی ساماں

وہ زویا کو مما کی گود میں بٹھا کر وہاں سے عشاء کی نماز کا کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ فرید آفندی اور عالم آفندی نے اسے دیکھا ۔ وہ پچھلے دو دن کے مقابلے میں آج خاصا تازہ دم لگ رہا تھا۔ کچھ ہی دیر بعد محفل برخاست ہوگئی اور سب لوگ اپنے اپنے کمروں کی جانب گامزن ہوگئے تھے۔

نوشی بیگم جو شب خوابی کا لباس پہنے آئینے کے سامنے بیٹھی کریم سے چہرے پر مساج کررہی تھیں۔ انہوں نے آئینے میں نظر آتے اپنے شوہر کے عکس کو دیکھا۔ جو بیڈ پر نیم دراز تھے۔ ان کی گود میں کوئی فائل کھلی رکھی تھی۔ مگر وہ اس کی طرف متوجہ نہ تھے بلکہ سگار کے کش لگاتے خلائوں میں گھور رہے تھے۔

’’کیا بات ہے فرید میں جب سے آئی ہوں محسوس کررہی ہوں کہ آپ کچھ کھوئے کھوئے سے ہیں۔ سب خیریت تو ہے ناں…‘‘ وہ ٹشو پیپر سے چہرہ صاف کرتے ہوئے بولیں۔

’’ہوں… ہاں سب ٹھیک ہے کیوں کیا ہوا؟‘‘ وہ چونک کر متوجہ ہوئے۔

’’آپ کچھ سوچ رہے ہیں؟‘‘ وہ ڈریسنگ ٹیبل کے آگے سے اٹھ کر بیڈ پر آبیٹھیں‘ وہ کچھ دیر پرسوچ نگاہوں سے انہیں دیکھتے رہے پھر آہستہ آواز میں سب کچھ ان کو بتا دیا۔

’’اوہ…‘‘ ان کے منہ سے حیرت‘ افسوس اور دکھ کے سبب نکلا۔ ’’اور ارحام اس کا کیا ردعمل تھا؟‘‘ وہ اپنے بیٹے کے لیے متفکر ہوئیں۔

’’وہ دو دن سے بالکل خاموش تھا۔ آج آپ لوگوں کے آنے پر اس کی حالت کافی بہتر ہوئی ہے۔ میں تو بہت پریشان ہوگیا تھا۔‘‘ وہ فائل سائیڈ پر رکھ کر لیٹ گئے۔

’’گو کہ ارحام کے لیے لڑکیوں کی کمی نہیں لیکن اگر زبیری کی بیٹی ہماری بہو بنتی تو یہ ہم سب کے لیے ایک خوش آئند بات ہوتی۔‘‘ انہوں نے موبائل سوئچ آف کرکے بیڈ کے سرہانے رکھتے ہوئے فرید آفندی کو دیکھا وہ سوچکے تھے۔ وہ گہرا سانس لیتی لائٹس آف کرکے خود بھی سونے کے لیے لیٹ گئیں۔

/…/…/

’’تو تم نے فیصلہ کرلیا ہے؟‘‘ وہ اس کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھ رہے تھے۔ وہ دونوں اس وقت گارڈن میں بیٹھے تھے اور سردیوں کی دھوپ سے لطف اندوز ہورہے تھے۔

’’فیصلہ تو بہت پہلے کرلیا تھا اب عمل کرنا چاہتا ہوں دادو۔‘‘ اس نے چائے کا کپ ہونٹوں سے لگاتے ہوئے کہا۔ آج اتوار کا دن تھا۔ گھر کے سب ہی افراد دیر سے اٹھنے والے تھے۔ البتہ وہ دونوں صبح کی سیر کے بعد گارڈن میں آبیٹھے تھے۔

’’اس دن ہاشم کا فون آیا تھا تو میں تب ہی سوچ رہا تھا تم سے بات کرنے کا مگر بھول گیا۔ تم سول سروسز کیوں جوائن کرنا چاہتے ہو؟‘‘ آخر میں وہ اپنے مدعے پر آئے۔

’’میں اپنی شناخت بنانا چاہتا ہوں دادو۔ آج تک لوگ مجھے آپ کے اور پاپا کے حوالے سے جانتے ہیں۔ لیکن اب میں اپنے نام کو آپ کی پہچان بنانا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ کپ کے کناروں پر انگلیاں پھیرتے نظریں جھکائے بولا۔

’’مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن سول سروسز ایک ٹف اوپشن رہے گا تمہارے لیے۔ اس کے لیے انسان کا سخت جان ہونا ضروری ہے۔ یہ اتھارٹی والی جابز ہوتی ہیں جتنا آپ کسی کو پریشرائز کرتے ہیں تو آپ کو اس سے ڈبل پریشر برداشت کرنا پڑتا ہے۔‘‘ وہ ان کی بات کاٹتے بولا۔

’’میں کرلوں گا برداشت‘ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ میں اپنی صلاحیتوں کو آزمانا چاہتا ہوں‘ اگر کامیاب رہا تو یقینا اچھی بات ہوگی اور اگر ناکام رہا تو فنا کی راہوں کا مسافر بن جائوں گا۔‘‘ وہ ٹھہرٹھہر کے بولا۔ ہر لفظ نپا تلا انہوں نے اس کی آنکھوں میں دھوپ کا سنہری عکس دور تک پھیلا دیکھا۔ سایہ کہیں نہیں تھا۔

’’ارحام…‘‘ اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتے وہ ان کی بات کاٹتے بولا۔

’’دادو پلیز میں فیصلہ کرچکا ہوں‘ آپ مجھے فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبور نہ کریں۔‘‘ وہ الجھا الجھا سا بولا‘ کتنا بکھرا بکھرا سا لگا تھا انہیں وہ۔ وہ محسوس کرسکتے تھے کہ اس کی انا کو ٹھیس پہنچی تھی اسی لیے وہ اب نئی منزلوں اور راستوں کو تلاشنا چاہتا تھا۔

’’ٹھیک ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن وعدہ کرو تم خود کو تھکائو گے نہیں اور جیسے ہی تمہیں لگے کہ تم نہیں کرسکتے تو تم لوٹ آئوگے۔‘‘ ان کا جھریوں سے بھرا ہاتھ آگے پھیلا… وہ متفکر تھے‘ اس نے مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ اسے یقین تھا وہ کرسکتا ہے۔

/…/…/

’’حریم کتنی بدلی بدلی سی ہوگئی ہے ناں امی؟‘‘ رامین نے روٹی سینکتے زہرہ کو دیکھا جو رات کے کھانے کے لیے سالن تیار کررہی تھیں۔ انہوں نے بھی صحن میں کھلنے والی کھڑکی سے نظر آتی اپنی بیٹی کو دیکھا جو چارپائی پر بیٹھی اپنا کام کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں بھائیوں کو بھی پڑھا رہی تھی۔ وہ کچھ دکھ میں مبتلا ہوئیں۔

’’بدلنے کا تو پتا نہیں البتہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اس نے حالات سے سمجھوتا کرلیا ہے۔ اسے احساس ہے کہ شکوہ کرنے سے کچھ بھی نہ ہوگا سوائے ذلت ہاتھ آنے کے۔ میں دعا کرتی ہوں کہ اللہ میری بچیوں کی زندگی کو خوشیوں سے بھردے‘ آمین۔‘‘ ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ وہ تو نہ جانے کس مٹی سے بنی تھی کبھی اپنا دکھ بیان نہ کرتی تھی مگر وہ ماں تھیں سمجھ سکتی تھیں کہ وہ لاکھ بے نیاز بنے لیکن ابرار کا یوں زندگی سے جانا اس کے لیے کسی امتحان سے کم نہ تھا۔

’’ارے یہ کیا جذباتی سین چل رہا ہے یہاں پر۔‘‘ وہ ہنستی مسکراتی کچن میں داخل ہوئی‘ رامین اور زہرہ کو یوں گلے لگے دیکھ کر بولی۔ زہرہ اپنے آنسو صاف کرتی رامین سے الگ ہوئیں۔ وہ پلیٹ سے گاجر کا ایک ٹکڑا اٹھا کر منہ میں ڈالتے ان کی طرف آئی اور پیچھے سے گلے میں دونوں بازو ڈال کر کھڑی ہوگئی۔

’’کیا پکا رہی ہیں؟‘‘ اس نے محبت سے پوچھا۔

’’گاجر گوشت… تمہیں پسند ہے ناں۔‘‘ انہوں نے پیار سے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔ رامین روٹیاں پکا چکی تھی۔

’’آج تو بہت ٹھنڈ ہورہی ہے… مینو کیا خیال ہے کافی پی جائے؟‘‘ اس نے بڑی شرارت سے رامین کو دیکھتے ہوئے کہا کیونکہ وہ اس کا ردعمل جانتی تھی۔

’’تمہیں اپنا کلیجہ جلانے کا شوق ہے مجھے نہیں خود ہی بنا لینا اور پی بھی لینا۔‘‘ اس نے تنک کر کہا کیونکہ اسے کافی ناپسند نہیں تھی لیکن وہ کافی سے خوف زدہ رہتی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی ساتھی ٹیچر نے اسے کافی کے کچھ سو سے زائد نقصانات بتائے تھے جس میں خوب صورت لڑکیوں کا بدصورت ہوجانا سرفہرست تھا اور قصہ مختصر یہ ہوا تھا کہ اس دن کے بعد سے رامین نے کافی نہیں پی اور بنانے کا سوال تو پیدا ہی نہیں ہوتا تھا۔ حریم اور زہرہ ہنس دی تھیں۔

’’تم لوگ نماز پڑھ لو پھر کھانا لگاتے ہیں۔‘‘ انہوں نے اپنی دونوں بیٹیوں سے کہا اور وہ فوراً کچن سے نکل گئیں۔

’’مینو یار بتائو ناں کل کیا پہنوں؟‘‘ اس نے کوئی تیسری چوتھی بار اسے آواز دی مگر وہ تو ناول میں اتنی مگن تھی کہ اس کی بات اب بھی نہیں سنی تھی۔ اس نے پلٹ کر اسے گھورا۔ کھانے اور نماز سے فارغ ہوکر حمزہ اور اسامہ اپنے کمرے میں سونے کے لیے جاچکے تھے‘ زہرہ نماز کے لیے کھڑی ہوگئی تھی جبکہ وہ دونوں اپنے کمرے میں چلی آئی تھیں۔ حریم کی اکیڈمی میں کل فریشرز آرہے تھے جس کے سبب کل اکیڈمی میں ایک باقاعدہ اجتماع تھا اور وہ مینو سے اسی کے لیے ڈریس کے انتخاب میں مدد مانگ رہی تھی مگر وہ تو نہ جانے کن جہانوں کی سیر پر تھی‘ حریم نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے رسالہ چھینا۔

’’حریم کیا ہے؟ دو ناں بہت اچھی کہانی ہے‘ پلیز دے دو ناں۔‘‘ وہ ملتجی لہجے میں بولی۔

’’ایسا کیا ہے جس کے لیے تم اتنا گڑگڑا رہی ہو… بکواس بوگس سی کہانیاں‘ جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔‘‘ اس نے شدت سے نفی کی۔

’’ہوتا ہے حقیقت سے ان کا تعلق۔ زندگی بھی تو ایک کہانی ہے‘ ایک ایسی کہانی جسے جی کر ہی جانا جاسکتا ہے‘ کیونکہ نہ اس کی ابتداء کا علم نہ انتہا کا پتا۔‘‘ اس کی آنکھیں نہ جانے کس احساس کے تحت جل رہی تھیں۔ حریم چونکی۔ ایک پرانا قصہ اس کے ذہن میں تازہ ہوا تھا۔

’’رامین…‘‘ اس کے لبوں سے حیرت اور تاسف کے سبب نکلا اور رامین سر جھکا گئی تھی۔

’’تم… تم پاگل ہوگئی ہو مینو…‘‘ وہ اس کے برابر بیٹھتے ہوئے درشتی سے بولی۔ اس نے سر نہیں اٹھایا۔

’’تم یہ کیا کررہی ہو اپنے ساتھ بے وقوف لڑکی۔‘‘ اس نے اسے اپنے دونوں بازوئوں میں سمو لیا۔ کتنی ہی دیر اس کی سسکیاں حریم کے وجود میں اترتی رہی تھیں۔ بہت دیر بعد وہ سنبھل چکی تھی۔ پھر آنکھوں کو خشک کرتی اس سے الگ ہوئی۔

’’پتا نہیں آج مجھے کیا ہوگیا تھا۔ دراصل کہانی ایسی تھی کہ مجھے رونا سا آگیا۔‘‘ حریم نے مسکرا کر اسے دیکھا۔

’’اسی لیے کہتی ہوں مت پڑھا کرو۔ اچھا اب چلو مجھے بتائو کل کیا پہنوں۔‘‘ اس نے رامین کا ذہن بٹانے کے لیے پھر پوچھا۔ وہ اٹھ کر اس کے ساتھ الماری کے سامنے آکھڑی ہوئی اور پھر اسے ڈریس کے ساتھ شوز اور جیولری بھی بتادی جس میں حریم نے کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی تھی۔ اسے تو بس ڈریس اور شوز چاہیے تھے جیولری سے اس کا دور دور تک بھی واسطہ نہ تھا۔ رامین اسے بتا کر اپنی جگہ پر جاکر سر تک رضائی تان چکی تھی۔ وہ جانتی تھی وہ ابھی مزید رونا چاہتی ہے مگر اب کی بار اکیلے‘ یہ مشرقی لڑکیاں بہت عجیب ہوتی ہیں۔ وہ خود بھی تو ایک مشرقی لڑکی تھی۔ اس کے چہار سو ایک ہی آواز گونج رہی تھی۔

پکاریں گے تجھے تو اب کوئی لذت نہ پائیں گے

گلو میں تیری الفت کے ترانے سوکھ جائیں گے

مبادا یاد ہائے عہد ماضی محو ہو جائیں

یہ پارینہ فسانے موج ہائے غم میں کھو جائیں

مرے دل کی تہوں سے تیری صورت دھل کے نہ جائے

حریم عشق کی شمع درخشاں بجھ کے رہ جائے

/…/…/

سول سروسز اکیڈمی میں آج عید کا دن محسوس ہورہا تھا۔ رنگ برنگے لہراتے آنچل اور جدید اسٹائل کی ٹائیاں تمام پرانے طلبا اپنے ڈریس پلان کے تحت بلیک ڈریس میں ملبوس تھے گو کہ ہر ایک کا اسٹائل دوسرے سے مختلف تھا‘ کچھ لڑکوں نے موسم کو مدنظر رکھ کر بلیک تھری پیس سوٹ پہنا ہوا تھا جبکہ کچھ نے بلیک ڈریس پینٹ پر سادی سی شرٹ یا اپر پہنا ہوا تھا کچھ نے بند گلے کی شرٹ پر بلیک کوٹ پہنا ہوا تھا‘ لڑکیوں میں بھی کپڑوں کی مختلف النوع اقسام نظر آرہی تھیں کچھ لڑکیاں پائجامہ فراک پہنے ہوئے تھیں۔ کچھ نے ٹائٹس پر ریڈی میڈ شرٹس پہنی ہوئی تھی‘ خود حریم نے بھی بلیک ٹرائوزر اور لونگ شرٹ پہنی ہوئی تھی۔ ٹرائزر کے کناروں پر اورینج رنگ کی بنارسی پتلی سی پٹی لگی تھی جبکہ شرٹ کی آستینوں اور اگلے پچھلے دامن پر اورنج رنگ کی لیس لگی تھی جو اس کے بلیک کھسوں تک لٹک رہی تھی۔ جس کے سبب اسے چلنے میں تھوڑی دشواری بھی تھی۔ شرٹ کی آستینیں جارجٹ کی تھیں اور اسی مناسبت سے دوپٹہ شیفون جارجٹ کا تھا جس پر گولڈن رنگ کے ڈائس دور دور پھیلے ہوئے تھے‘ اس نے آج اسکارف کی جگہ دوپٹہ ہی اوڑھا ہوا تھا۔ جس کے پہننے کا انداز کچھ یوں تھا کہ بائیں کندھے کے پلو پر دائیں پلو کو لاکر پن کیا گیا تھا‘ جس نے اس کے وجود کو سر سے کمر تک ڈھانپا ہوا تھا۔ فرنچ ٹیل میں ڈھلے اس کے بال کمر پر آرہے تھے‘ کمر پر جبکہ آگے سے کٹے ہوئے بال چٹیا سے نکل کر چہرے پر دائیں بائیں لٹو کی صورت پڑے تھے۔ وہ راہداری کے ابتدائیے پر کھڑی تھی۔ یہاں اس کی اور ارماہ کی ڈیوٹی تھی (لیکن ارماہ نجانے کہاں رہ گئی تھی) آنے والوں کو گائیڈ کرنے کی جو ریسپشن سے آئی ڈی کارڈ وہاں موجود دو لڑکوں سے لے کر یہاں آرہے تھے۔ انہیں اکیڈمی کا پروس پیکٹس دینے کے ساتھ وہ انہیں آڈیٹوریم کا راستہ بھی سمجھا رہی تھیں۔ اس نے خاصی پریشانی کے عالم میں گھڑی دیکھی اور پھر موبائل پر ارماہ کا نمبر ڈائل کیا۔ مگر کافی بیلز کے بعد بھی اس نے کال ریسیو نہیں کی۔

’’کیا مصیبت ہے۔‘‘ اس نے جھنجلا کر فون واپس بیگ میں رکھ لیا تھا۔

’’از ایوری تھنگ آل رائٹ مس حریم…‘‘ پیچھے سے آنے والی ڈائریکٹر کی آواز پر وہ بری طرح چونکی اور ہڑبڑا کر پلٹی۔

’’جی… جی… سر سب ٹھیک ہے۔‘‘ وہ گھبرائی تھی کیونکہ اسے علم تھا کہ ہاشم اسماعیل کام میں کوتا ہی ہرگز برداشت نہیں کیا کرتے۔ ارماہ کا یوں اس دن غائب ہونا انہیں یقینا بہت غصہ دلائے گا۔

’’یہ تو بہت اچھی بات ہے اگر سب کچھ ٹھیک ہے تو۔‘‘ انہوں نے مسکرا کر کہا اور اب پہلی بار اس کی نگاہ ڈائریکٹر سے ایک قدم پیچھے کھڑے شخص پر گئی تھی جو لبوں پر مانوس سی مسکراہٹ لیے اسے دیکھ رہا تھا۔ اس نے وائٹ ڈریس پینٹ پر وائٹ ہائی نیک اور اس پر نیوی بلو رنگ کا کوٹ پہنا ہوا تھا۔ حریم کو اس بار پہچان کے مراحل طے کرنے میں وقت نہیں لگا تھا اسے دوسری ہی نہیں پہلی ملاقات بھی یاد آگئی تھی جو اسی اکیڈمی میں ہوئی تھی۔ اس نے فوراً اپنی نگاہوں کا رخ بدلا اور ڈائریکٹر کی جانب متوجہ ہوئی جو کچھ کہہ رہے تھے۔

’’ویسے یہ ارماہ کہاں ہیں؟‘‘ انہیں اچانک ہی خیال آیا۔

’’سر… وہ… ارماہ ابھی تک نہیں پہنچی۔‘‘ اس نے اٹک اٹک کر بات مکمل کی۔

’’واٹ… لیکن کیوں؟‘‘ ان کی مسکراہٹ نے ہلکے غصے کی جگہ لی تھی۔

’’سر وہ میں ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کررہی ہوں مگر رابطہ نہیں ہو پارہا۔‘‘ اس کا چہرہ خفت کی سبب سرخ ہورہا تھا۔ ساتھ ہی اسے ارماہ پر بھی غصہ آرہا تھا جس کے سبب اسے ایک زبردست سی جھاڑ پڑنا شروع ہوچکی تھی۔

’’ارماہ کی یہی غیر ذمہ درانہ حرکتیں مجھے سخت ناپسند ہیں مگر کیا کریں کہ ہم لوگوں کے بھی ہاتھ بندھے ہیں آخر وہ اتنے بڑے بیرسٹر کی بیٹی جو ہے۔‘‘ ان کا پارہ آہستہ آہستہ اوپر جارہا تھا۔ وہ سر جھکائے مجرموں کی طرح کھڑی تھی۔ ارحام کو اس پر ترس آیا۔ 

’’خیر چھوڑیں اسے‘ ٹیچرز آچکے ہیں آپ لوگوں کے؟‘‘ اس کا یوں کھڑے ہونا شاید انہیں بھی اچھا نہیں لگا تھا تبھی بات کا رخ بدلا۔

’’جی سر… کچھ ٹیچرز آڈیٹوریم میں ہیں اور کچھ اسٹاف روم میں۔‘‘ اس نے سر اٹھا کر جواب دیا۔

’’گڈ… گارڈز سے کہیے کہ دس بجے گیٹ بند کردیں۔ اس کے بعد کسی کو اندر آنے کی اجازت نہ ہوگی۔ انڈراسٹینڈ۔‘‘ ان کا انداز وارننگ لیے ہوئے تھا۔

’’جی بہتر سر۔‘‘ اس نے سرہلاتے ہوئے جواب دیا۔ وہ آگے بڑھ گئے تھے۔ ارحام نے بھی ان کی تقلید کی تھی۔ مگر ایک لمحے کے لیے اس کے برابر رکا تھا جو سامنے سے اسٹوڈنٹس کے لیے ہاتھ میں پروس پیکٹس اٹھا رہی تھی۔

’’ایک مجھے بھی چاہیے۔‘‘ وہ پرخلوص مسکراہٹ کے ساتھ اس کی جانب دیکھ رہا تھا۔ اس نے ایک لمحے کے لیے اس کی جانب دیکھا اور پھر پروس پیکٹس اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔

’’تھینکس۔‘‘ ارحام کا انداز اب بھی وہی تھا۔

’’ویلکم۔‘‘ حریم نے سنجیدہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھتے یک لفظی جواب دیا۔ ارحام نے ان آنکھوں میں حزن وملال کو کچھ اور گہرا محسوس کیا تھا۔ یہ آنکھیں ہر بار ملنے پر اسے اپنی طرف متوجہ کرتی تھیں۔ آج بھی کررہی تھیں۔

ان کی آنکھیں یہ کہہ رہی ہیں عدم

ہم پہ تصنیف اک کتاب کرو

’’آپ پلیز یا تو راستہ چھوڑ دیں یا آڈیٹوریم کی طرف چلے جائیں۔‘‘ اسے وہیں جما دیکھ کر حریم کو بری طرح غصہ آیا کیونکہ آنے والے اسٹوڈنٹس اسے یوں حریم کے سامنے جما کھڑا دیکھ کر دبی دبی ہنسی ہنس رہے تھے۔

’’اوہ… آئی ایم سوری۔‘‘ وہ بری طرح شرمندہ ہوا اور پھر تیز تیز قدم اٹھاتا اس سمت چل دیا جس سمت میں ہاشم اسماعیل گئے تھے۔

’’ایڈیٹ۔‘‘ حریم منہ میں بڑبڑائی اور آنے والے اسٹوڈنٹس کی طرف متوجہ ہوگئی۔

/…/…/

’’میں ہاشم اسماعیل‘ بطور سول سروسز اکیڈمی ڈائریکٹر کے‘ آپ تمام لوگوں کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ ہماری سول سروسز اکیڈمی اپنے تمام امیدواروں کو اس لائق بناتی ہے کہ وہ مسابقتی امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کریں اور سول سروسز کا حصہ بنیں۔ ہماری اکیڈمی کی بنیاد اسی اصولوں پر رکھی گئی ہے جن پر سول سروسز اکیڈمی پاکستان کھڑی ہے۔ جس کی بنیاد 1948ء میں رکھی گئی تھی جہاں سنٹرل سوپرئیر سروسز (سی ایس ایس) کے امتحانات پاس کرنے والے امیدواروں کو ٹریننگ دی جاتی ہے۔‘‘ وہ اس وقت آڈیٹوریم کے اونچے سے اسٹیج پرکھڑے تھے۔ ہال میں اس وقت سو سے زائد اسٹوڈنٹس موجود تھے۔ بائیس کے قریب ٹیچرز اسٹیج پر رکھے صوفوں پر براجمان تھے‘ اسٹیج کے سامنے چار قطاروں میں ڈیسک لگی تھی رائونڈ اسٹیپ پر ایک وقت میں چار ڈسکس رکھی تھیں۔ ایسے پچاس رائونڈ اسٹیپ تھے۔ جن پر دو سو ڈیسکس موجود تھیں۔ ہر قطار میں پانچ سے چھ سنیئر اسٹوڈنٹس کھڑے تھے تاکہ کسی قسم کی ڈسٹربنس نہ ہو۔ تمام اسٹوڈنٹس پروجیکٹر پر ابھرنے والی معلومات اور تصاویر کو غور سے دیکھ رہے تھے اور سن رہے تھے۔

’’اگر سول سروسز کی تاریخ اٹھا کر دیکھی جائے تو ہمیں علم ہوگا کہ چین وہ پہلا ملک ہے جہاں سے سول سروسز کی شروعات ہوئی۔ چائنا میں شاہی راج کے دوران ایک جدید طرز کے امتحانات کا انعقاد منحصر ہے اور جس کے لیے آپ سب یہاں موجود ہیں۔ دوسرا ڈائریکٹ انڈکشن آف ملٹری آفیسرز یعنی ملٹری میں جو کیپٹن کے عہدے پر فائز ہوتے ہیں انہیں اپنے ملٹری بورڈ کی طرف سے نامزد کیا جاتا ہے‘ وہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے تحت ایک انٹرویو دیتے ہیں اور سول سروسز میں شامل ہوجاتے ہیں۔ تیسرا طریقہ جو حکومت اختیار کرتی ہے وہ اشتہارات کا ہوتا ہے جس میں مختلف وکنسز کے لیے اشتہارات دیئے جاتے ہیں اور فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ایک اوبجیکٹو یعنی ایم سی کیوز ٹائپ پیپر کا انعقاد ہوتا ہے اس کے بعد آخری طریقہ جو حکومت نے وضع کیا ہے اسے ایڈہاک کہا جاتا ہے جسے آپ دوسرے لفظوں میں عارضی آسامیاں بھی کہہ سکتے ہیں۔ ان کی مدت ایک سال رکھی جاتی ہے پھر یہ مستقل کردی جاتی ہیں کارکردگی کی بنیاد پر۔‘‘ انہوں نے ایک لمحے رک کر سانس لیا تھا۔ تمام اسٹوڈنٹس دم سادھے انہیں سن رہے تھے۔ اب وہ پروجیکٹر پر نظر آتے پبلک سروس کمیشن کے ڈھانچے کی طرف متوجہ ہوئے۔ ’’پاکستان میں پبلک سروس کمیشن کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک سی ایس ایس اور دوسرا پی سی ایس۔ سی ایس ایس وفاقی سطح پر لیا جانے والا مسابقتی امتحان ہے جبکہ پی سی ایس صوبائی سطح پر۔ سی ایس ایس میں ہر صوبے اور ٹریٹری سے امیدوار حصہ لے سکتے ہیں جبکہ پی سی ایس میں صرف اس صوبے کے لوگ حصہ لے سکتے ہیں جس میں اس کا انعقاد ہو۔ ہماری اکیڈمی کے بہت سے ہونہار طالب علم ابھی حال ہی میں پی سی ایس کے امتحانات سے فارغ ہوئے ہیں جس میں مس حریم حیات‘ مس زویا نور‘ مسٹر جواہر صدیق اور مسٹر عامر سہیل کے نام سرفہرست ہیں۔‘‘ انہوں نے مسکرا کر اپنے ان ہونہاروں کی طرف دیکھا جن سے انہیں بہت سی امیدیں وابستہ تھیں۔ تمام اسٹوڈنٹس ان چاروں کو دیکھ رہے تھے جن پر ہاشم اسماعیل کی نگاہیں تھیں۔

’’خیر جناب… اس وقت موضوع بحث سی ایس ایس ہے جس کے لیے آپ سب لوگ یہاں موجود ہیں۔ سی ایس ایس میں آپ بارہ اوکیوپیشنل گروپس/ سروسز کے لیے امتحانات دیتے ہیں جن میں فارن سروسز‘ ڈسٹرکٹ منیجمنٹ اور آفس منیجمنٹ کو نمایاں اہمیت حاصل ہے اور ہماری اکیڈمی کے بہت سے امیدوار ان سروسز میں کام کررہے ہیں۔‘‘ انہوں نے ایک بار پھر وقفہ لیا اور ہاتھ پر بندھی گھڑی کو دیکھا جو ساڑھے گیارہ بجا رہی تھی۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ گزر چکا تھا۔

’’سی ایس ایس کے سبجیکٹس آپ لوگوں سے وقتاً فوقتاً ڈسکس ہوتے رہیں گے۔ اب آتے ہیں پی سی ایس کی جانب۔ سی ایس ایس کی طرح یہاں بھی آپ کو اوکیوپیشنل گروپس کے لیے امتحانات دینے ہوتے ہیں۔ جن میں اسسٹنٹ کمشنر… کار‘ ایکسائز اینڈ ٹیگزیشن طالب علموں کے لیے زیادہ پرکشش ہوتے ہیں۔‘‘ وہ مسکرائے ساتھ ہی تمام طالب علم بھی۔

’’یہ تقریباً آٹھ گروپس ہوتے ہیں۔ اس کے حوالے سے بھی آپ لوگوں سے ڈسکشنز آپ کے ٹیچرز مختلف کلاسز میں کرتے رہیں گے۔ جو پروس پیکٹس آپ کو دیئے گئے ہیں ان کا ایک تفصیلی مطالعہ کرکے آئیے گا تاکہ آپ لوگ باقاعدہ کلاسز کا جب حصہ بنیں تو سی ایس ایس اور پی سی ایس کے فارم فل کرنے سے لے کر کمپلسری اور اوفیشنل سبجیکٹس تک کا تھوڑا بہت بیک گرائونڈ آپ کو معلوم ہو۔‘‘ انہوں نے الوداعی جملوں کے ساتھ اپنی نشست سنبھالی تھی۔ اس کے بعد تمام ٹیچر ایک ایک کرکے اپنا تعارف کروا رہے تھے‘ اس نے گردن موڑ کر اپنی رو کے فاصلے پر کھڑی حریم کو دیکھا جو دونوں بازو سینے پر باندھے اپنے ٹیچرز کو سن رہی تھی۔ اس کی نگاہیں ٹھہر گئی تھیں۔ یہ لڑکی اسے اپنے دل پہ دھرا بوجھ سرکاتی ہوئی سی محسوس ہوتی تھی۔ وہ بوجھ جو سالہا سال سے اس کے دل کو زیر کیے ہوئے تھا۔ اس کے نگاہوں کے ارتکاز پر حریم نے بالآخر اسے وارننگ دیتی نگاہوں سے گھورا تھا غالباً وہ بہت دیر پہلے ہی محسوس کرچکی تھی۔ اس نے نگاہوں کو ہٹانے کے بجائے ایک خیر سگالی مسکراہٹ اسے پاس کی جس کے جواب میں اس نے ناگواری سے چہرے کا رخ بدل لیا تھا اور پھر دو اسٹیپ نیچے کھڑی اپنی دوست کے پاس آکر کان میں کچھ کہا۔ ساتھ ہی اس نے اسٹیج کے سامنے سے گزرتے ہاشم اسماعیل کو اشارے سے کچھ بتایا جس پر انہوں نے سر اثبات میں ہلایا تھا اور وہ آڈیٹوریم سے باہر نکل گئی تھی۔ باہر نکل کر اس نے غائبانہ ہی ارحام کو خوب صلواتوں سے نوازا بھی تھا۔

’’ایڈیٹ‘ نان سینس‘ بدتہذیب‘ جیسے الفاظ بطور لقب اسے غائبانہ ہی نوازے۔‘‘ گہرے گہرے سانس لیتے اس نے خود کو سب کے باہر نکلنے تک نارمل کرلیا تھا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو ریفرشمنٹ روم کی طرف آتے دیکھا۔ ان کے پیچھے ٹیچرز تھے۔ ساتھ ہی اسٹوڈنٹس بھی۔ اس نے سوچا وہاں جانے کا مگر موڈ کی خرابی نے اسے وہیں کرسی کھینچ کر بیٹھنے پر مجبور کردیا تھا۔ وہ اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام کر بیٹھ گئی تھی۔ سر میں درد کی شدید لہر اٹھ رہی تھی۔

’’نظر اتروا کر جائو کہیں کسی کی بری نظر نہ لگ جائے۔‘‘ اسے صبح امی کی کہی بات یاد آئی تھی ساتھ ہی ان کا کچھ دم کرکے پھونکنا بھی۔ وہ بے اختیار مسکرائی تھی۔

’’اف یہ مائیں بھی کتنی وہمی سی ہوتی ہیں۔‘‘ وہ سر کو دباتے بڑبڑائی تھی۔

’’حریم طبیعت ٹھیک ہے آپ کی؟‘‘ ہاشم اسماعیل کی آواز پر وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ اس کے سر پر ہی کھڑے تھے ساتھ میں وہ شخص بھی تھا۔ اپنے بلاوجہ پھیلے ہونٹوں کے ساتھ۔

’’بس تھوڑا ہیڈیک ہورہا تھا۔‘‘ درد گویا اس کے لہجے و آواز میں آسمایا تھا۔

’’اوہ… آپ نے صبح ناشتہ کیا تھا؟‘‘ انہوں نے فکرمندی سے پوچھا اور اس کے نفی میں سر ہلانے پر انہوں نے سخت ملامتی نظروں سے اسے دیکھا۔

’’اس کا مطلب ہے کہ میری پڑھائی ہوئی باتیں آپ لوگ قابل عمل نہیں سمجھتے۔‘‘ وہ یک دم بہت سنجیدہ ہوئے۔

’’ایسی بات نہیں ہے سر بس وہ میں جلدی…‘‘ انہوں نے اس کی بات کاٹی۔

’’یہ جلدی جلدی کیا ہوتی ہے… ہاں‘ آپ لوگ جو دن بھر ایک ہیکٹک کام کرتے ہو ان کے لیے ایک بھرپور ناشتہ بے حد ضروری ہوتا ہے۔ کوئی ہزار ہا بار میں آپ لوگوں کو بتا چکا ہوں۔‘‘ وہ شدید برہم تھے۔ ارحام تو انہیں یک ٹک دیکھ رہا تھا۔ اسے آج لگ رہا تھا کہ شاید ناشتہ واقعی اتنا اہم ہوتا ہے جس پر کسی کو زبردست سی جھاڑ پلائی جائے۔

’’آئی ایم سوری سر۔‘‘ حریم نے فوراً ہتھیار ڈالے۔

’’چلیے اب میرے ساتھ۔‘‘ خفا خفا سے کہتے اپنے آفس کی طرف چل پڑے۔ ان دونوں نے ان کی تقلید کی تھی۔ جب وہ اندر آکر بیٹھے تو وہ انٹر کام پر آرڈر دے چکے تھے۔ وہ فون پر کسی سے گفتگو کرنے لگے… وہ خاموشی سے کبھی انہیں اور کبھی برابر چیئر پر بیٹھی بیگ کے اسٹیپ سے کھیلتی حریم کو دیکھ رہا تھا۔ اس دوران پیون چائے اور سینڈوچز دے گیا تھا۔ انہوں نے الوداعی کلمات کہتے فون رکھا۔

’’حریم پلیز ہمیں سرور کریں اور آپ بھی لیں۔‘‘ وہ اب قدرے ٹھنڈے ہوچکے تھے۔

’’نہیں انکل پلیز مجھے کچھ لینا ہوگا تو میں خود لے لوں گا۔‘‘ ارحام جلدی سے بولا۔ اسے حریم کے لیے دیا گیا یہ آرڈر کچھ خاص پسند نہ آیا تھا اس کے گھر میں تو یہ کام ملازمین کیا کرتے تھے۔

’’ارے یار رہنے دو‘ یقینا تمہارے گھر میں یہ کام ملازمین کرتے ہیں مگر میں اپنے اسٹوڈنٹس کو ہر طرح کا کام کرنے کا عادی بنانا چاہتا ہوں تاکہ وہ ہر طرح کے ماحول میں ایڈجسٹ ہوسکیں اور بے فکر رہو کبھی یہ ایسے بہت سے چھوٹے چھوٹے کام تمہیں بھی کرنا پڑیں گے کیونکہ فرید کہہ رہا تھا کہ تمہیں اس اکیڈمی سے ایک بہت اچھا سول سرونٹ بن کر نکلنا ہے۔‘‘ انہوں نے ایک قہقہے کے ساتھ اپنی بات کا اختتام کیا اور حریم کے ہاتھ سے چائے کا کپ اور سینڈوچ کی پلیٹ پکڑی تھی۔ وہ واپس اس ٹیبل کی طرف گئی جہاں چائے اور سینڈوچ نکال کر اس نے ارحام کے لیے رکھے تھے ابھی وہ اس سے چائے میں چینی کی مقدار کا پوچھنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ پیچھے اس کی آواز ابھری۔

’’ون ٹی اسپون شوگر۔‘‘ اس نے پلٹ کر دیکھا وہ اب بھی مسکرا رہا تھا۔ شاید مسکرانا اس شخص کی عادت ہے۔ یہ پہلا مثبت جملہ تھا جو اس نے ارحام کے بارے میں سوچا تھا۔ اس نے سینڈوچ کھاتے ارحام کی شخصیت پر پہلی بار غور کیا ۔ اس کے سوٹ سے لے کر اس کے بولنے اور بیٹھنے کا ہر انداز واضح کررہا تھا کہ وہ کسی اونچے گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس نے سر جھٹک کر اپنا ذہن دوسری جانب مبذول کیا ۔ چائے کے سپ لیتے اس نے ارماہ کا نمبر ایک بار پھر ڈائل کیا مگر کوئی خاص نتیجہ نہ نکلا تبھی اکتا کر اس نے موبائل اپنے بیگ میں ڈالا اور چائے کے آخری سپ لیے اور سامنے دیکھا تو کچھ حیران ہوئی کیونکہ سر ہاشم اسماعیل کی کرسی خالی تھی جبکہ ارحام اپنی جگہ پر جوں کا توں موجود تھا اور بہت اطمینان سے چائے پی رہا تھا۔ چائے ختم کرکے اس نے کپ پرچ میں رکھا اور ٹیبل پر رکھی کیز اٹھاتے اس نے چیئر کو چھوڑا‘ اپنے کوٹ سے ڈارک گاگلز نکال کر لگائے تھے۔ حریم نے جلدی سے اپنے چہرے کا رخ بدلتے بیگ کو بلاوجہ ہی کھنگالنا شروع کردیا ساتھ ہی تہیہ کیا کہ اگر اس نے خوامخواہ فرینک ہونے کی کوشش کی تو وہ اسے کھری کھری سنائے گی یہ لحاظ کیے بنا کہ وہ سر ہاشم کے کسی عزیزوں میں سے ہے مگر اس کی تمام سوچیں باطل ثابت ہوئی تھیں کیونکہ وہ بنا اسے مخاطب کیے دروازے کی طرف بڑھ گیا تھا۔ اس نے شکر کا سانس لیا۔

’’مس حریم…‘‘ اپنے نام کی پکار پر وہ چونک کر متوجہ ہوئی تھی۔ وہ دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا۔ لبوں پر وہی دھیمی مسکراہٹ تھی اور گاگلز کے پیچھے چھپی آنکھیں چھپ کر بھی عیاں تھیں۔

’’تھینکس فار دی ٹی۔‘‘ اپنی بات کہہ کر وہ جواب کا انتظار کیے بنا ہی دروازے سے باہر نکل گیا تھا۔ وہ چند ثانیے دروازے کو یوں ہی دیکھتی رہی پھر کندھے اچکا کر گویا اس نے اپنی سوچ کے غلط ہونے کو تسلیم کیا اور پلیٹ میں رکھے سینڈوچ کی طرف متوجہ ہوگئی۔

(جاری ہے)

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
error: Content is protected !!
Close