Naeyufaq Nov-17

حصار(اخری حصہ)

مریم جہانگیر

بستر پر کروٹیں لے کر وہ تھک گئی تو بلآخر موبائل تکیے کے نیچے سے نکالا دیکھا تو میسج کا نوٹیفکیشن آیا ہوا تھا کھولا تو مسکراہٹ چہرے پر آگئی حیدر کا میسج تھا۔
سو جائیں آپ تھک گئی ہوں گی ناں اللہ کے حوالے۔
ماہ : مجھے نینو نہیں آرہی اب۔
حیدر : کیوں کہاں گئی نینو ؟ اٹھ کے کارٹون دیکھ لیں
ماہ :پہلے دیکھا کرتی تھی اب ٹائم نہیں ملتا پاوریف گرلز ، ٹام اینڈ جیری ، ڈیکٹر ڈیڈی اور سکوبی ڈوبی جو اچھے لگتے ہیں
حیدر : اور ؟حیدر جی والے اچھے نہیں لگتے ؟
ماہ : الو
حیدر : الو نہیں حیدر جی
ماہ نے موبائل رکھ دیا پانچ منٹ بعد دوبارہ اٹھا یا
حیدر : ماہ آپ کو اکیلے میں ڈر نہیں لگتا ؟
حیدر : آپ کے پا س آجاؤں
حیدر : دیکھنا ہے نا آپ کو
ماہ : نہیں
ماہ : بندہ بنیں
حیدر : ماہی باتیں کریں نا مجھ سے صرف
ماہ : کر رہی ہون ناں
حیدر :تم سے ملنا باتیں کرنا بڑا اچھا لگتا ہے
ماہ : حیدر ۔۔۔۔ انسان بنیں
حیدر : بھلا وہ کیسے وہ پل جو میرے بن ہے تو بتا چکا
ماہ : فری نہ ہو میرے ساتھ دو نمبر گانے نہ سنائیں مجھے
حیدر : کچھ ٹوٹ گیا ہے اف
ماہ : کیا
حیدر ـ میرا دل
ماہ : جوڑیں بیٹھ کر
حیدر : ماہی جی
ماہ : حیدر آنکھیں بند کریں سو جائیں
حیدر : نہیں سونا آپ بس باتیں کریں
ماہ : میں سو رہی ہوں خررر۔۔۔۔ خررر
حیدر : یہ کیا کر رہی ہیں آپ ؟
ماہ : خراٹے لے رہی ہوں
حیدر : آپ کو نہیں آتے خراٹے
ماہ : آپ کو کیسے پتہ ؟
حیدر ؛ اس لیے کہ آپ روز ساتھ ہوتی ہیں
ماہ :نہیں ہوتی ہوں ناں نہیں کریں
حیدر : ہوتی ہیں روز ہوتی ہیں آپ کو کیا پتہ ؟
ماہ : کیا ہوتی ہوں ؟
حیدر : روز سلاتی ہیں مجھے
ماہ : کیسے ؟
حیدر : میرے اتنے پاس ہو کر کہ آپ کے بال میرے چہرے پر ہوتے ہیں
ماہ : حیدر سو جائیں پلیز
حیدر : آپ بالوں میں بہت آرام سے ہاتھ پھیرتی ہیں
ماہ : حیدر کیا ہو گیا ہے آپ کو سو جائیں ناں
حیدر : اپنے ہاتھ سے میری آنکھیں بند کرتی ہیں پھر میں آپ کا ہاتھ پکڑ لیتا ہوں کہ کوئی چھین کر لے نہ جائے
ماہ : حیدر کیا کر رہے ہیں ؟
حیدر : آپ جوابا مسکرا کر کہتی ہیں ہمیشہ ایسے ہی رہنا
ماہ : we are not a couple
حیدر :جی لیکن وہ بھی آپ سے ملتی ہے چہرے سے ، فطرت سے ، خیال رکھنے کی عادت سے
ماہ : کون ؟
حیدر آپ ۔
ماہ :اف آپ پاگل ہو گئے ہیں ظاہر ہے میں اپنے آپ سے ہی ملوں گی ناں
آپ جاگ جائیں یا سو جائیں اس حالت سے tunneling کریں پلیز میری heartbeat رکی ہوئی ہے
حیدر : میں بھی اپنے دل کی دھڑکنیں روک لیتا ہوں جب آپ مجھے سلاتی ہیں میں ان لمحات کو محفوظ کرنا چاہتا ہوں روک لینا چاہتا ہوں
ماہ : آپ جان بوجھ کر تنگ کر رہے ہیں مجھے
حیدر :پتا نہیں کیا جادو ہے اس کے ہاتھوں میں وہ ہاتھ رکھتی ہے اور میں سوجاتا ہوں
ماہ : پھر تو آپ کو سلانا آسان ہے ایک ہاتھ رکھنے سے سو جاتے ہیں بچوں کو جھولے دینے پڑتے ہیں لوری سنانی پڑتی ہے پلکوں پہ انگلیاں پھیرنی پڑتی ہیں ماتھے پہ پیار دینا پڑتا ہے آپ سے تو سستے میں جان چھوٹ جاتی ہے بس سر پر ہاتھ رکھ دو تو سو جاتے ہیں
حیدر :جب ان کو لگتا ہے میں سوگیا ہوں اور پریشان ہوں تب میرے ماتھے پر پیار کرتی ہیں بہت ہی کم ایسا ہوتا ہے میں بتاتا بھی نہیں لیکن وہ جان جاتی ہیں
ماہ : آپ کا دماغ جگہ پر آجائے تو مجھے بتا دینا میں سو رہی ہوں
حیدر : کیوں کیا ہوا ہے مجھے ؟
ماہ : پتا نہیں کہاں لے جاتے ہیں آپ مجھے
حیدر : مجھے خود نہیں پتا میں کہاں ہوں
ماہ : واپس آجائیں نا ۔ نکل آئیں ۔ پھنس جائیں گے
حیدر : نہیں آنا واپس کیوں بلا رہی ہیں ؟ کچھ دیر تو خوش رہنے دیں
ماہ : واپس جانا ضروری ہے
حیدر :میری دنیا وہی ہے
ماہ : اچھا نہیں بلاتی میں سو رہی ہوں۔
حیدر : اب وہ سونے لگی ہیں میں دل کی دھڑکن کی رفتار کم کر لیتا ہوں
ماہ :حیدر پاگل ! invduntary action ہے
حیدر : آپ کے بال بھی ان جیسے ہیں آئیں میری دنیا میں آپ کو ان سے ملواوں
ماہ : حیدر کے بچے وہ کوئی چڑیل ہو گی سارا دن غائب رہتی ہے رات میں آ جاتی ہے
حیدر : ماہی کو کچھ کہنے کی اجازت آپ کو بھی نہیں ہے سمجھی ؟
ماہ : کیا کون اب میں ؟
حیدر: میں خفا ہو رہا ہوں ۔
ماہ نے اپنے ان دیکھے جذبے سمیٹے اور تکیے کے اندر منہ چھپا لیا اب سونا ضروری تھا سکون کہتا ہے محبت چھپائی جا سکتی ہے؟نیند سے پہلے کچھ نہیں ہوتا اور جب نیند اپنی نرم بانہوں میں سمیٹنے لگتی ہے تو کاش ایسا ہو جاتا سامنے آکر کھڑا ہو جاتا ہے ان دونوں سٹیٹس کے درمیان امیجنیشن گیلری ہے جس میں اچھی بری تصویریں ہیں کچھ خواب ہیں کچھ امیدیں ہیں کچھ روگ ہیں کچھ سنجوگ سب کی اپنی اپنی یادیں اپنی اپنی نیند اپنی اپنی دنیا کون جانے کس کے آسمان کا چاند کون ہے؟
حیدر : ماہ
علی الصبح ہی موبائل بجا تھا
ماہ : جی
حیدر :رات میں کیا کہتا رہا ہوں میں نے ابھی ہلکا سا دیکھا نہ سر نہ پیر لایعنی باتیں
ماہ : چھوڑ دیں اس پر بات بھی نہ کریں۔
حیدر : میں ایک دفعہ رات کے سارے میسجز پڑھ لوں ؟
ماہ : نہیں
حیدر : پلیز پڑھنے دیں ناں
ماہ : نہیں آپ کو میری قسم
حیدر : اف کچھ برا لگا ہو تو معذرت میں نہیں کہنا چاہتا تھا وہ سب پتہ نہیں کیا کیا کہا میں آپ مجھے پڑھنے دیں تاکہ اسی حساب سے تلافی کروں
ماہ : میں نے کہا نا میری قسم
حیدر : اچھا میں چپ
ماہ : شاباش
پھر سارا دن موبائل نہیں بجا کچھ باتیں جو انسان اپنے آپ سے چھپائے رکھتا ہے وہ نجانے کیسے ہاتھوں سے نکل جاتی ہے یہ پہلی دفعہ تھا جب حیدر نے ماہ کو اپنے آئیڈیل کی جگہ قابل رسا کے طور پر سوچا تھا اور وہ پچھتا رہا تھا کے نجانے اب ماہ اس کے ساتھ پہلے کی طرح بات کر سکے گی یا نہیں محبت کہیں دور کھڑی حیدر کی پریشان حالی پر مسکرا رہی تھی آج تک کون چھپا پایا ہے محبت کو ؟ اس کی خوشبو کس نے قید کی ہے؟ یہ آنکھوں میں چمکتی نظر آتی ہے لمس سے زندگی پاتی ہے تعلق محبت کو مضبوط کرتا ہے اور رشتہ محبت میں ضروری ہو جاتا ہے کون جانے محبت حیدر اور ماہ پر کتنی مہربان تھی ؟ محبت نے انہیں صرف ایک دوسرے سے آشنا کرنا تھا یا پھر ان دونوں پر قسمت نے بھی مہربانی دکھانی تھی اور ان دونوں کا نصیب جڑنا تھا قسمت اب محبت پر مسکرا رہی تھی
…٭ء٭…
رات گہری ہوتی گئی اور دکھ کے سائے اس کے اعصاب پر سوار ہوتے گئے بائیں ہاتھ سے اپنے سینے کو مسلا مگر سکون کا سانس نہ ملا سکا وہ بغیر آواز کے اٹھی اور کمرے سے باہر نکل آئی پیچھے سوئی ہوئی اسری نیند میں کروٹ بدلی اور ذرا نہ کسمسائی سکون کا سانس لے کر قاسم کے کمرے سے آتی ہلکی روشنی پر نظریں ٹہر گئیں اللّٰہ میں تجھ سے تیری ایک زمین سے یہ ایک کمرہ مانگتی ہوں اور بس اس ایک شخص کا ساتھ یہ میرے لیے میری دنیا ہے اس نے کمرے کے دروازے پر اپنے ناخن سے ہلکی سی دستک دی وہ بیمار تھی اور یہ بچپن کا دوست اس سے عشق عشق کھیلنے والا اس سے آکر ایک دفعہ بھی خیریت نہ پوچھ سکا وہ پشیمان ہوئی دنیا اس شخص پر ختم نہیں ہو جاتی پھر میں کیون اس کو حرف آخر مان بیٹھی ہوں شاید مڑ ہی جاتی مگر دروازہ کھلا وہ سامنے تھا انہی گہری نظروں اور لمبی بھنوؤں کے ساتھ اس کے مضبوط ہاتھ جن کی نمایاں رگیں روزی کے دل میں مدوجزر کی لہروں سا تلاطم برپا کر دیتی تھی۔
ہاں دنیا اسی شخص پر ختم ہو جاتی ہے وہ کچھ دیر پہلے کی سوچ کو جھٹلاتی اندر بڑھی
’’کیا چاہتی ہو ؟‘‘ قاسم نے تیکھے انداز میں کہا۔
’’تمہیں۔‘‘ روزی کی آنکھوں میں سپردگی کی تمام علامتیں نمایاں تھی
قاسم جوابا مسکرایا اور بانہیں وا کر دی
’’آو چاہ لو۔‘‘
دور کہیں چیل ننھے چوزے پر ٹوٹ پڑی تھی اس کی بھوکی آواز نے فضا میں اتنی شورش پیدا کر دی کہ سبھی کیڑے مکوڑے نکل کر مردار کو چھڑوانے دوڑ پڑے۔ چوزے کا بھنبھوڑا ہوا گوشت چیل کے پنجوں میں شانت ہو گیا۔
مجھ سے شادی کر لو قاسم۔ وہ اس کے پیروں پر ہاتھ رکھتے بولی
دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا۔ قاسم نے بچکانہ حیرت سے کہا
دماغ تمہارا خراب ہو گا جو تم نے میرے سوا کسی کو اپنا بنانے کا سوچا میری طرح بھلا تمہیں کوئی چاہ سکتا ہے ؟ روزی کے انداز میں مان تھا
چاہنا ہے اور ؟ قاسم کی آنکھوں میں کمینگی تھی روزی ٹھٹکی ہوش بہت دیر سے آیا تھا
’’تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے‘‘۔ روزی تڑپی۔
’’میں تو تمہارے ساتھ کچھ بھی ایسا یا ویسا نہیں کرنا چاہتا۔‘‘ وہ سپاٹ تھا۔
میں ۔۔۔۔ روزی کے الفاط منہ میں رہ گئے
اپنی بکواس بند کرو اتنی دیر سے تمہاری منحوس آواز سن رہا ہوں ہر بات شادی پر آکر ختم ہوتی ہے تمہارے جیسی لڑکیاں ہر دوسرے تیسرے کے تلوے چاٹتی نظر آتی ہیں جسے دیکھتی ہیں دوڑ کر سینے سے لگ جاتی ہیں تم اس دنیا کی آخری لڑکی بھی ہوئی تو شادی کم از کم تم سے نہیں کروںگا
ریجیکشن کے احساس نے بخار میں تپتے جسم کو مزید دہکا دیا اس کے جلتے آنسوؤں کے ساتھ اسری کا وعظ بخارات بن کر اڑ گیا وہ کمرے سے خود سے وعدہ کرتی نکلی قاسم تمہیں میرا ہونا ہی ہو گا تم نے آج ایک روپ دیکھا فدا ہونے والا اب میں تمہیں فدا کروں گی اور تمہیں خدائی بھول جائے گی چاہے اس کے لیے مجھے کوئی بھی راستہ کیوں نہ اپنانا پڑے ۔
اسائنمنٹ ملا حیدر نے سکون کا سانس لیا یہ سائنمنٹ اکیلے تیار کرنے والا نہیں تھی فلم gravity میں فزکس کے جتنے اصول بیان ہوئے ان کو سمرائز کرنا تھا ماہ روز اور حیدر کا گروپ اتفاقیہ طور پر بن گیا اب مسئلہ یہ تھا کہاں دیکھی جائے یونیورسٹی میں میل اور فی میل سیٹنگ ایریاز کے بورڈ لگے ہوئے تھوڑی دیر کے لئیے بات ہونا ممکن تھا ساتھ چلنا بھی ممکن تھا لیکن دو گھنٹے یا اس سے زیادہ ساتھ بیٹھ کر فلم دیکھنا اس کا سیدھا سیدھا مطلب رفاہ یونیورسٹی میں stuck off تھا۔
اتنی پرانی فلم تو سینما ہال میں بھی نہیں چل رہی ماہ روز نے پریشانی سے کہا
آپ میرے ساتھ سینما جائیں گی حیدر نے حیرت سے دیکھا۔
اس میں کیا بری بات ہے چلی جاوں گی ماہ روز نے سکون سے کہا
اسے یقین تھا کہ فلم سینما میں لگنا بہت مشکل ہے کیوں کہ فلم سینما مٰن وہی لگتی ہے جسے دیکھنے کے لیے شائقین ہوں اگلے ہی دن وہ اگلے ہفتے کی ٹکٹس لے آیا۔
یہ کہاں سے لے آئے آپ ؟ ماہ روز کی آنکھیں پوری کی پوری کھلی۔
ہاہاہا سینما سے لایا ہوں نا بندی اعتبار تو کرتی ہی نہیں ہے دراصل میرا دوست وہاں کام کرتا ہے اس لئیے مجھے یہ فلم لگوانے کے لئیے زیادہ پاپڑ نہیں بیلنے پڑے حیدر نے ہنستے ہوئے کہا ماہ روز نے نظریں جھکا لی یہ لڑکا ہنستے ہوئے بھی نظروں کا ارتکاز نہیں توڑتا کیا مصیبت ہے اس کو 30 نومبر ان دونوں کے سب پیغامات اسی دن کے متعلق باتوں میں گزر گئے حیدر نے کہا تھا بارہ بجے سینما میں فلم لگے گی وہ جب بارہ بجے جناح پارک کے گیٹ پر پہنچی حیدر سامنے کھڑا تھا نیلی جینز اور کالی اور سفید چیک والی شرٹ ماہ روز کو ہنسی آگئی اس نے ایک دفعہ اس شرٹ میں حیدر کی تعریف کی تھی حیدر بھی دھیرے سے مسکرایا ماہ روز نے کالے رنگ کا فراک پہنا تھا جس کے گلے ، دامن اور آستین پر مختلف رنگوں کی کڑھائی تھی کالے شیفون کے ڈوپٹے کے کناروں پر گلابی رنگ کی لیس لگی ہوئی تھی۔
آئیں حیدر نے کہا اس کی آواز میں لرزش تھی جیسے طبیعت کی خرابی کا اثر ہو سامنے موجود بینچ پر بیٹھتے ہی ماہ روز نے زپ کھولی اور بیگ میں سے پانی کی بوتل نکالی الٹے ہاتھ سے دوائیوں کا شاپر نکالا اتنا بڑا شاپر دیکھ کر حیدر حیران رہ گیا اتنی دیر میں پیناڈول ہتھیلی پر رکھ کر حیدر کے آگے رکھی اور پانی کی بوتل بھی بڑھائی حیدر نے اپنی ہتھیلی پھیلا دی وہ چاہتا تو اپنی انگلیوں سے بھی اٹھا لیتا لیکن ماہ روز سے اس قسم کا فائدہ وہ خواب میں بھی نہیں اٹھا سکتا تھا ماہ روز کو فخر ہوا کے وہ ا س شخص کے ساتھ بیٹھی ہے
’’اسلام وعلیکم۔‘‘
’’چلیں فلم دیکھنے۔‘‘ ماہ روز نے پوچھا۔
’’کونسی فلم حیدر کے انداز میں شرارت تھی
اللہ کے بندے مار نہ کھا لینا مجھ سے۔ ماہ روز تپی
’’فلم ڈھائی بجے شروع ہونی ہے آپ کو جلدی اس لیے بلایا کے Quanturo کا sessional بھی تو تیار کرنا ہے۔‘‘ حیدر نے بہت آرام سے کہا جیسے جناح پارک میں بیٹھ کر پڑھتے وہ عجوبے نہیں لگیں گے ماہ روز نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی اب یہاں سے جاتی اور پھر آتی یہ کہاں ممکن تھا
کھولیں کتابیں ماہ روز نے حکم دیا حیدر کی جان میں جان آئی ماہ روز سے بعید نہ تھا کہ وہ اگلے ہی لمحے اٹھ کھڑی ہوتی اس نے فورا سے بیشتر اپنی کتابیں نکالی بینچ کے ساتھ لگے درخت کے پتے تیز ہوا سے ہلنے لگے ان کی آواز نے فضا میں موسیقیت پھیلا دی ماہ روز کوئی سوال سمجھانے لگی حیدر نے اپنے دونوں ہاتھ گالوں پر رکھے اور کہنیاں گھٹنوں پر جمائے وہ اسے دیکھنے لگا ماہ روز کو محسوس ہوا حیدر کی نظریں رجسٹر پر نہیں ہیں وہ اس کی آنکھیں دیکھتا رہا جھکی ہوئی ٓنکھیں اور خم دار پلکیں ماہ روز کی پلکیں لرزی نگاہیں اب گالوں پر آن ٹہری روئی کے گالوں کی طرح ہلکے گلابی گال حیا سے لال پڑھ گئے وہ اب کان دیکھنے لگا ماہ روز نے اپنا ڈوپٹہ کھینچ کر آگے کیا تاکہ کان ڈھک سکے حیدر کو ہنسی آئی۔
’’ادھر دیکھیں۔‘‘ ماہ روز غصے سے چیپٹر کی طرف اشارہ کر کے بولی۔
’’دیکھ ہی تو رہا ہوں۔‘‘ حیدر اس کی حیا سے محظوظ ہوا۔
میں آپ کو رجسٹر پر دیکھنے کو کہہ رہی ہوں۔ ماہ روز کو احساس ہوا کے شاید یہ میری جھکی نظریں دیکھ کر تنگ کر رہا ہے اس نے پلکیں اٹھا کر حیدر کی آنکھوں میں جھانکا جیسے بتانا چاہتی ہو میں آپ سے نہیں شرماتی لیکن مقابل کی آنکھوں میں خوابوں کی دنیا آباد تھی اور خواہشوں کے طلسم ماہ روز کو بانہیں وا کیے ڈوب جانے کی تاویلیں کرنے لگے تین سیکنڈ سے بھی کم وقت میں اس نے پلکیں واپس جھکا لی قلم اس کے ہاتھ سے گر گیا تھا۔
’’اچھا یہ لیں اب میں سمجھ رہا ہوں۔‘‘ حیدر نے اسے قلم پکڑاتے ہوئے رجسٹر کو دیکھ کر کہا ماہ روز سوال حل کروانے لگی لیکن اس کے ماتھے پر پسینے کی چمکتی بوندیں بتا رہی تھیں کہ حیدر اس کے چہرے کے تل گن رہا ہے۔
ایک ٹھوڑی پر ایک گال پر اب وہ پلکوں کا ہلنا دیکھ رہا تھا پھر اس کی نگاہیں ہاتھوں پر جم گئیں چھوٹے چھوٹے پیارے پیارے ہاتھ اب ناخن اس شخص کو کوئی ایکسرے مشین کیوں نہیں کہتا ماہ روز نے پہلو بدلا ڈھیروں ڈھیر پتے دونوں پر آ کر گرے ماہ روز نے حیدر کو دیکھا جیسے یہ اس کی شرارت ہو حیدر نے مسکرا کر آنکھوں ہی آنکھوں میں درخت کی طرف اشارہ کیا ہوا چلی تھی اور درخت مہربان ہوا تھا یہ افسانوی سا ماحول کیون بن رہا ہے ماہ روز نے دانتون تلے زبان دی اور انگلیاں چٹختے ہوئے سوچا حیدر کو اس پر پیار آرہا تھا اتنا پیار کے اگر وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ لیتی تو اس بھنور سے کبھی نہ نکل سکتی اس نے اتنے چھوٹے ناخنوں کو شیپ کیسے دی ہو گی حیدر سوچ کر ہنسنے لگا ماہ روز کے کالے بال جن پر دھوپ کی ہلکی سی چمک انہین سنہرا کر دیتی اور ا سلمحے ٓنکھون کی روشنی اور بالوں کی چمک میں سے مشکل ہو جاتا کے بندہ کس کو دیکھے۔
آپ بلش آن لگا کر آئی ہیں ناں حیدر نے پوچھا حیا سے ماہ روز کے گال اور سرخ ہوئے یہ شخص کیا چیز ہے۔
انسان کیوں نہیں بنتے آپ ؟ ماہ روز تنک کر بولی۔
انسان نہیں ہوں کیا میری طرف دیکھ کر بتائیں۔ وہ پھر شرارت پر آمادہ تھا۔
اٹھیں چلیں شو کا ٹائم ہو گیا ہے ماہ روز نے اسے اشارہ کیا حیدر گھڑی کو دیکھ کر حیران ہوا کے کتنی جلدی گزرتا ہے وقت جب دل چاہتا ہے کے وقت رک جائے۔
اب دونوں ساتھ ساتھ سینما کی طرف جا رہے تھے حیدر پیچھے اور ماہ روز آگے حیدر خود اچنبھے کا شکار تھا کے ماجرا کیا ہے وہ ہمیشہ کچھ کھانے کو بھی دینا چاہتی تو بغیر کھائے پہلے حیدر کو دیتی اسے ایسے لگتا تھا کہ پہلے مردوں کے کھانے سے برکت ہوتی ہے باہر سے سخت نظر آنے والی اندر سے روایتی عورت اور آج یہ روایتی عورت ساتھ چل رہی تھی خیر سینما ہال کے قریب جا کر وہ رک گئی۔
’’میرا تو کوئی جاننے والا نہیں جس کے دیکھنے یا نہ دیکھنے سے مجھے کوئی فرق پڑتا ہو لیکن کہیں میری وجہ سے آپ کو کوئی مسئلہ نہ پیدا ہو جائے۔‘‘ اس نے حیدر کے کندھے کو دیکھتے ہوئے کہا وہ دوبارہ گہری آنکھوں کو دیکھنے کا رسک نہیں لے سکتی تھی۔
’’کھانے کو کیا لوں۔‘‘ حیدر نے ہنستے ہوئے اس پاگل لڑکی کی بات کے جواب میں سوال کیا وہ کیسے سمجھاتا کے اگر کسی نے دیکھنا ہوتا تو وہ تو پارک میں بھی دیکھ سکتا تھا اور اگر کوئی دیکھ لے تو یہ بات ا سکے لئیے حیرت کا باعث ہو گی لیکن میرے لئیے تو یہ فخر کی بات ہو گی کے میری ساری دنیا میرے پہلو میں آن بیٹھی ہے۔
’’پاپ کارن اور کوک۔ ماہ روز نے جواب دیا اور اس کے عین پیچھے کھڑی ہو گئی حیدر کی گردن پر آتے ذرا سے بال یعنی جیسے آج ہی ترشوائے ہوں اور ان بالوں میں ہلکی سی چاندی یہ لڑکے بھی جیل کے چکر میں بالوں کا رنگ اڑا کر رکھ دیتے ہیں ماہ روز کو ہنسی آئی حیدر دیکھنے میں بالکل بھی بوڑھا نہ لگتا بوڑھا لگنا تو دور کی بات وہ تو مکمل طور پر اپنی عمر کا بھی پرتو نہیں تھا اس کے چہرے پر بچوں کی سی بے ساختگی اوربوڑھوں سی متانت تھی لیکن اتنی معصومیت اتنی معصومیت کے جی چاہتا اس کے دونوں گال کھینچ لیے جائیں لیکن ایسا تب ہی ممکن تھا جب اس شخص کی آنکھیں بند ہوں اس کی مقناطیسی آنکھوں کے سامنے چھیڑ چھاڑ کر پانا ممکنات میں سے ہی ہی نہیں۔
وہ دونوں چلتے چلتے ہال میں گئے اور اپنی قطار میں بیٹھ گئے ہال میں ان کے علاوہ صرف اکا دکا ہی لوگ تھے وہ بھی نہ جانے graicty میں کیا دیکھنے آئے تھے فلم شروع ہوئی تھوری دیر بعد ماہ روز کو اپنے بائیں کندھے پر کسی چیز کا بوجھ محسوس ہوا اس نے بہت آہستگی سے چہرہ موڑ کر دیکھا یہ حیدر کا کندھا تھا اس نے غیر محسوس طریقے سے اپنا کندھا اس کے کندھے کے بوجھ سے آزاد کروانا چاہا لیکن نہ ہو سکا اس نے حیدر کو دیکھا وہ ہنس رہا تھا اس کا مطلب یہ شرارت ہے۔
حیدر کندھا ہٹائیں ماہ روز نے ہار مانے ہوئے لہجے میں کہا۔
ہٹا ہوا ہی تو ہوں حیدر نے ہنستے ہوئے جواب دیا اور تھوڑا مزید اس کے پاس آ گیا حیدر اپنی کرسی کے بالکل ا س کنارے پر بیٹھا تھا جو ماہ روز کی کرسی کو لگتا ماہ روز کی کرسی کے ہینڈل پر وہ اپنی کہنی ٹکائے مکمل طور پر آگے ہو کر بیٹھ گیا ماہ روز کا تنفس تیز ہوا اس نے سانس روکنے کی کوشش کی کیوں کے حیدر کا چہرہ اتنا پاس تھا کہ حیدر اس کی سانسوں کی حدت محسوس کر لیتا حیدر کے دماغ سے صحیح غلط کا فرق مٹا ہوا تھا محبت نادانیان کروانے پر تلی ہوئی تھی کتنی ہی دیر ایسے گزر گئی ماہ روز کا کندھا درد کر رہا تھا اپنے آپ کو سکیڑنے کی کوشش میں اس کے کندھے کے غضلات سخت پڑ گئے تھے معنی خیز سی خاموشی ہال کے اندھیرے میں گونجنے لگی interval آگیا حقیقتا دونوں میں سے کوئی نہیں جانتا تھا کے اب انٹرول آنے والا ہے ہال میں روشنی ہو گئی۔
حیدر نے چہرہ موڑ کر ماہ رو زکے چہرے کے سامنے کیا وہ ایک دوسرے کی سانسوں کی حدت کو محسوس کر سکتے تھے ماہ روز گنگ سی اس کی خوبصورت آنکھوں کو دیکھے گئی پھر احساس ہوا کے یہ کیا ہو رہا ہے اور سر جھکا کر بولی۔
ایسے نہ دیکھیں حیدر پلیز حیدر شرافت سے پیچھے ہوا اس کے بعد خاموشی بولتی رہی ماہ روز کا چہرہ یوں سرخ ہوا کہ جیسے شادی کے بعد اس کا شوہر اس سے کوئی رومانوی بات کہہ رہا ہو اور حیدر یوں ہی چہکتا رہا کہ جیسے اسے خوش قسمتی پر یقین آگیا ہو۔
گھر پہنچتے ہی ماہ روز کو حیدر کا اک میسج ملا۔
مجھے آپ کے چہرے پر بھوئیں ایسے لگتا ہے جیسے آپ بنو اکر آئی ہیں اور مصنوعی ہیں مگر یہ فطری ہیں اور بہت پیاری ہیں آپ کی مسکراہٹ جو مجھے دیکھ کر آپ کے چہرے پر آتی ہے خاص طور پر جب آپ مجھے دیکھتی ہیں جیسے کچھ دن پہلے آپ نے کلاس میں مجھ سے پوچھا۔
کچھ سمجھنا ہے؟ اور میرے جواب دینے پر آپ کی مسکراہٹ جان سے مارنے والی۔
آپ کے بالوں کی وہ ہلکی سی چمک جو صرف سورج کی روشنی میں نظر آتی ہے آپ کہتی ہیں کے آپ کے ہاتھ چھوٹے ہیں حالانکہ لڑکیوں کے اتنے ہی ہوتے ہیں آپ کے ہاتھ اتنے نرم لگتے ہیں کہ مجھے ڈر ہے کبھی ہاتھ تھاما تو کہیں میرے ہاتھوں کے نشان نہ پڑ جائیں آپ کی آنکھیں تھوڑی گول اور تھوڑی بادام سی اس وقت زیادہ اچھی لگتی ہیں جب آپ بولتی ہیں آپ کے لفظوں کا ساتھ دیتی پیاری آنکھیں۔
آپ جب دل سے مسکراتی ہیں تو ڈمپلز بنتے ہیں لیکن صرف ا س مسکراہٹ سے جو آپ دل سے کریں آپ کا سادہ رہنا بہت پسند ہے آپ میں کشش ہے ۔۔۔۔ بہت کشش ۔۔۔۔ اپنی طرف کھینچنے والی ۔۔۔۔ لوگ آپ کی ذہانت یا کامیابی سے متاثر ہوتے ہیں جو ان دو چیزوں سے بچ جائیں وہ خوبصورتی کے جال میں پھنس جاتے ہیں عام لڑکیوں میں پائی جانے والی خاص خوب صورتی۔۔۔۔ جو آسانی سے مل جاتی ہے
جو چیز آپ کو عام لڑکیوں سے نمایاں کرتی ہے اور مجھے پسند ہے وہ آپ کی وفا ہے
اپنے سے جڑے رشتوں سے کی جانے والی وفا غیر محسوس وفا
ماہ روز ساکت سی بیٹھی رہی یہ شاید زندگی میں آنے والا پہلا شخص تھا جس کو اس کے ڈمپلز نظر آئے ۔۔۔۔۔ وہ لاکھ کوشش کرتی مگر چاہنے کے باوجود اپنی کسی سہیلی کو بھی نہ دکھا پائی ۔۔۔۔۔ یہ شخص قیامت کی نظر رکھتا ہے
…٭ء٭…
اگلے دن روزی واپس اپنے گھر آ گئی معمول کے کام کئیے جامن کے درخت اور واش روم کے دروازے کو دیکھ کر پر اسرار انداز میں مسکرائی کالی چادر کو اپنے گرد لپیٹا اور اللہ والی مسجد کی طرف قدم بڑھا دئیے راستے میں وہی بابا اوندھے منہ پڑا تھا اس کی مندی آنکھوں سے کوئی جذبہ عیاں نہ تھا۔
اوں اوں اس کی ہلکی سی آواز آئی روزی رک گئی آج اس کا بھاشن بھی سنتی ہی جاؤں سرکش سوچوں نے اس کے دماغ میں جنگ و جدل کا سماں بنا رکھا تھا۔
’’آ آ اے اوں اوں ‘ یہ کچھ بولتا کیوں نہیں کیا اوں اوں لگا رکھی ہے روزی جھنجلائی پھر اپنے قدم گلی کی طرف بڑھا دئیے مطلوبہ مکان کے سامنے نظر اٹھائی چوکھٹ ہی غائب تھی سامنے مزدور لگے ا س بیٹھک اور ملحقہ گھر کو ڈھا رہے تھے اب آنکھیں پوری کی پوری کھل گئی اس نے کونے میں بیٹھے مزدور کو آواز دی
’’بھائی۔‘‘ مزدور نے ساتھ بیٹھے ساتھی کو کہنی ماری۔
’’ تجھے بلا رہی ہے۔‘‘ ساتھی کو شاید ترس آیا تھا۔
’’بول بی بی۔‘‘
یہاں ایک پیر جی کا آستانہ تھا روزی کی آنکھوں میں سوال تھے اور دل میں بے چینی ہائے میرا قاسم تک پہنچنے کا اکلوتا راستہ۔
’’جی وہ کوچ کر گئے آپ جاؤ گھر۔‘‘ اس شخص نے بے زاری سے کہا روزی دو منٹ تو اس بدلی ہوئی جگہ کو دیکھتی رہی اور پھر واپس مڑی۔
’’ابے اسے بتا دیتا کہ پولیس پکڑ کر لے گئی ہے۔‘‘ پہلے مزدور نے ہمدردی دکھائی۔
’’تیری اتنی سگی لگتی تھی تو خود بتا دیتا۔‘‘ دوسرا بولا اور اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔
واپسی پر روزی کے قدم دو دو من کے ہو گئے
اب میں کس سے رہنمائی لوں گی ؟ اب میں کیا کروں گی ؟ کہاں جاؤں گی ؟ عجیب و غریب سوالات نے دماغ شل کر دیا۔
ہائے یہ گونگا بابا تو بیچارہ مر گیا اوئے بول کر اپنی تکلیف بھی کسی کو نہیں بتا سکتا تھا عجیب سی آنکھوں والے بوڑھے کے پاس کئی لوگ جمع تھے روزی ساکت رہ گئی صرف ذہنی طور پر وہ اس جگہ بالکل بھی نہیں رک سکتی تھی۔
یہ ضرور اللّٰہ کی طرف سے بھیجی گئی مدد تھی روزی کے دل میں یقین پیدا ہوا اللہ نے اس گونگے کو زبان دی میرا راستہ متعین کیا وہ کچھ اور ہی سوچ رہی تھی
انسان کتنا پاگل ہے شر اور خیر میں فرق نہیں کر پاتا شر ملے تو شکر کرتا ہے خیر ملے تو واویلا ۔۔۔۔ بے شک انسان خسارے میں ہے وہ کون سی ولی تھی کے اللہ اسے راستے دکھانے کو گونگے کو زبان دیتا چکر کچھ اور تھا عقل سے ماورا سمجھ سے باہر۔
گھر آکر اس نے اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جامن کا پیڑ شروع سے پسند تھا لیکن پچھلی ہولناک کیفیت سے اس کا دل دھڑکا دیا اس نے اپنے بستر پر سفید رنگ کی چادر بچھائی۔
نیم حکیم خطرہ جان نیم ملا خطرہ ایمان
آج وہ اپنی کیمسٹری کا اطلاق کرنے والی تھی ہم کیوں خود کو عقل کل سمجھتے ہیں کچھ مسئلے کچھ باتیں ہماری سوچ اور ہماری فکر کے دائرہ کار سے باہر ہوتی ہیں جو فیصلے اوپر لکھے جا چکے ہیں اس کے لیے زمین پر ضد لگانے والے کہیں کے نہیں رہتے وہ اپنے آپ کے بھی نہیں رہتے اس نے پسا ہو اکافور کمرے میں چھڑکا اور زعفران کو تیل میں ملا کر لالٹین کو روشن کیا شام نے اپنے سارے پر پھیلا دئیے نحوست کہیں دور تاک لگائے بیٹھی رہی روزی باپ کا کھانا بیٹھک میں رکھ کر اندرونی دروازے کو بند کر کے بستر پر آئی عموما ایسا ہی ہوتا ہے رویز کے جب پیپر ہوتے یا کوئی اور کام ہوتا کسی اسائنمنٹ کی تیاری یا پھر جلدی سونا وہ کھانا بیٹھک میں رکھ کر یوں ہی اپنے کمرے میں آجاتی بیٹھک میں موجود واش روم ظفر صاحب رفع حاجت کے لیے استعمال کر لیتے کھانا کھاتے اور لمبی تان کر سو جاتے۔
جن معاملوں میں آنکھیں کھلی رکھنی چاہئیے ہم وہیں بند رکھتے ہیں وہ بستر کے بالکل درمیان میں آکر بیٹھ گئی ہاتھ میں رہی بابا جی کی پرچی تھی جب چیزوں کو گم جانا چاہیے زائل ہو جانا چاہیے وہ کیوں کبھی معدوم نہیں ہوتی؟ وہ اب ورد کر رہی تھی پرندے باہر درختوں سے اڑ گئے چاند یکایک سیاہ ہوا وہ اندر بیٹھی یہ سب چیزیں محسوس کر رہی تھی نہیں ڈرنا نہیں ہے قاسم چاہئیے اور ہر صورت میں چاہئیے tempetation بڑی مضبوط تھی وہ آنکھیں بدن کر کے ورد کرنے لگی سامنے تھوری سی چینی رکھی تھی کے جب منہ خشک ہو جائے تو منہ میں ڈال لے اس نے چٹکی سے چینی کے دانے پکڑے ہاتھ قریب لائی تو اسے لگا کوئی کالا کیڑا اس کے ناخنوں کو چھو کر گزر رہا ہے اس نے انگلیاں ایک دوسرے سے جدا کر دی یہ سانپ جیسی کوئی پتلی چیز تھی جو ہتھیلی پر بل کھا رہی تھی اور انگلیان اس کے لیے زمین تھی ڈرنا نہیں ہے اس نے ایک دفعہ پھر خود کو دلاسہ دیا اور ہاتھ کو جھٹکا مگر وہ گندی مخلوق چپکے جا رہی تھی یہاں وہ ہاتھ جھٹک رہی تھی وہاں تیز ہوا چلی کالی آندھی کا آخری جھونکا۔
لالٹین جھٹکے مار رہی تھی روشنی جل رہی تھی بند ہو رہی تھی یون جیسے کوئی بلب ہو کمرے میں موجود سب سامان اپنی جگہ کو central point مان کر آگے پیچھے حرکت کرنے لگا وہ وہیں تھا ہاتھ میں سرسراتا ہوا خوفناک آواز نکالتا ہوا یکایک اس کا جسم کھردرا ہوا وہ پھر بھی پڑھتی رہی ہوا نے لالٹین کو اچھال کر اس کی طرف پھینکا لالٹین روزی کی پیشانی سے ٹکرائی اور وہ بے ہوش ہو گئی وہ کسمسائی اپنے بستر سے اٹھنے کی کوشش کی لیکن اٹھ نہ پائی پھر ہوا آئی پھر دلدل ۔۔۔۔ پھر وہ مخلوق ۔۔۔۔ اٹھی تو چہرے پر کھرونچوں کے نشان تھے۔
…٭ء٭…
ماہ روز ایسی لڑکی تھی جسے دیکھ کر صرف گھر بسانے کاخیال آتا حیدر کافی عرصے سے سوچ رہا تھا کے وہ ماہ روز کو اپنے جذبوں کی شدت سے واضح طور پر آگاہ کر دے لیکن کوئی موقع ہی نہیں مل سکا آخری سمسٹر شروع ہوا ایک عجیب قسم کی گہما گہمی کونوں کھدروں سے نکلتی اور مچلتی نظر آنے لگی ان دونوں کے آپسی تعلقات دیکھ کر دیکھنے والوں نے باتیں بنانا شروع کر دی تھی اگر حیدر نے صرف وقت گزارنا ہوتا تو وہ لوگوں کو باتیں کرنے دیتا ان باتوں سے لطف اندوز ہوتا لیکن ایسا کیسے ہو سکتا تھا کسی کی ہمت نہیں تھی وہ حیدر کے سامنے اس ان کہے رشتے کے حوالے سے کوئی سوال کرے لیکن بولنے والے پیٹھ کے پیچھے سے اپنی زبان کا چسکا پورا کر لیتے وہ سوچنے والوں کی سوچ نہیں بدل سکتا تھا آج وہ ارادہ باندھ کر گھر سے نکلا چاہے کچھ بھی ہو جائے میں نے آج ہر صورت ماہ روز کو اپنی سنجیدگی سے آگاہ کرنا ہے کلاس میں بیٹھے مختلف سوچوں سے لڑتے اسے احساس ہوا کے ماہ روز کلاس میں موجود ہی نہیں ہے اس سے پہلے کے وہ موبائل نکال کر ماہ روز سے رابطہ کرتا موبائل خود بولنے لگ گیا نکال کر دیکھا تو ماہ روز کی کال آ رہی تھی۔
السلام علیکم جی۔ ماہ روز وہ آہستہ سے بولتا کلاس سے باہر نکل آیا۔
آپ کہاں ہیں حیدر ماہ روز کی پریشان سی آواز کانوں سے ٹکرائی۔
میں یونیورسٹی میں ہوں آپ کہاں ہیں حیدر بھی جوابا سٹپٹا گیا
آپ پلیز گولڑہ موڑ تک آجائیں دراصل میں لوکل آئی ہوں اور آگے ایک گھر کی تعمیر کی وجہ سے کافی مزدور ہیں مجھ سے اکیلے نہیں آیا جائے گا لڑکیاں کتنی بھی بے باک کیوں نہ ہو جائیں ان کے اندر کی جھجک کبھی نہیں جاتی ماہ روز کی آواز سے حیا بولتی نظر آئی حیدر زیر لب مسکرایا۔
بائیک لے آؤں اب وہ شرارت کر رہا تھا کے بائیک پر تو ماہ روز نے کبھی ماننا نہیں تھا۔
آپ خود آ جائیں تو ٹھیک ہے ورنہ میں خود آجاتی ہوں ماہ روز نے غصہ کیا
اچھا اچھا آرہا ہوں حیدر نے فون کاٹا ضرور کوئی رکشہ ٹیکسی نہیں ملی ہو گی تبھی ماہ روز نے مجھے فون کیا ہے یا پھر میری دعائیں اللہ نے سن لی اور مجھے موقع فراہم کیا اوہ آسمان کی طرف دیکھ کر شکر ادا کرتا تیز تیز نکل پڑا۔
گولڑہ موڑ پر دوسرے کنارے پر ہلکے نیلے رنگ کے سوٹ میں دھوپ سے تمتماتا ہوا چہرہ لیے ماہ روز کھڑی تھی دسمبر کی دھوپ کتنی بھلی لگتی ہے لیکن جب تین چار گاڑیاں بدل کر آنا پڑے تو اچھے اچھوں کے پسینے نکل آتے ہیں حیدر کو سمجھ آگئی مسلہ پیدل آنے کا نہیں تھا بلکہ مسئلہ اتنی بڑی روڈ کراس کرنے کا تھا اس نے ہاتھ بڑھایا ماہ روز نے جوابا بازو پر زور سے موبائل دے مارا وہ ہنسا اور گاڑیاں جس طرف سے آرہی تھی اس طرف خود ہو گیا دوسری طرف ماہ روز کو کیا ساتھ ہی ساتھ ماہ روز کے بیگ کو احتیاط پکڑ لیا تاکہ ضرورت پڑنے پر کھینچ کر سڑک پارک کروا لے پھر اسی طرح دوسری سڑک بھی کراس ہوئی
شکریہ ماہ روز نے دھیرے سے کہا اور حیدر نے خفگی سے اسے دیکھا
بات سنیں میری آج میں بولوں گا اور آپ سنیں گی مجھے آپ سے پہلی نظر میں محبت نہیں ہوئی بلکہ محبت مجھے آپ کو دیکھنے سے بھی پہلے ہو گئی جب میں نے آپ کی صرف آواز سنی آپ کی آواز کی کھنک اور آپ کے لہجے کی خوبصورتی نے مجھ سے میرے ہونے کا غرور چھین لیا ہے مجھ میں اگر کوئی خواہش باقی ہے تو صرف اتنی سی کے میں اپنی زندگی آپ کے ساتھ گزاروں۔
ماہ روز کی رفتار دھیمی پڑ گئی اور چال میں لڑ کھڑاہٹ آگئی حیدر بول رہا تھا آہستہ آہستہ بات آواز سے محبت تک رہتی تو ٹھیک تھا لیکن میری نظریں آپ کے چہرے سے ہٹ ہی نہیں پاتی میں نے جتنی بار آپ کو دیکھا ہے اتنی بار محبت میں گرفتار ہوا ہوں
لا شعوری طور پر بچپن سے میرے ذہن میں شریک حیات کے لئیے ایک خاکہ تھا اور آپ اس پر پوری اترتی ہیں میں آپ سے زیادہ کچھ نہیں چاہتا میری محبت کو قبول کر لیں مجھ سے شادی کرنے میں کیا فائدہ ہے ؟ میں نے یہ سوال کئی بار خود سے کیا میں کوئی ایسی وجہ آپ کو دینا چاہتا تھا کہ میری درخواست کا وزن بڑھ جائے ایک ہی وجہ مجھے سمجھ آئی مجھ سے شادی کے بعد آپ کو خود کو بدلنا نہیں پڑے گا آپ جو ہیں جیسی ہیں ویسی ہی رہنا اتنی ہی اچھی اتنی ہی پیاری۔‘‘ حیدر نے پھر شرارت کی اور سینے تک آتی لڑکی کو جھک کر کن اکھیوں سے دیکھا۔
لیکن میرا ماضی ۔۔۔۔ماہ روز کی مری ہوئی آواز نکلی لیکن حیدر نے اس کی بات کو کاٹ دیا۔
جی آپ کے ابا جی کے ساتھ بیٹھ کر میں نے خالی آپ کے ہاتھ کی کافی ہی نہیں پی بلکہ یہ بھی جانا ہے کے ماضی میں ان کی روزی نے تنہا کن حالات کا مقابلہ کیا ہے یقین جانیے ا س غیر مرئی مخلوق سے لے کر قاسم کے وجود تک مجھے کسی شے سے سروکار نہیں میں نے آپ سے پیار کیا ہے آپ کے ماضی کی کسی بات سے میرا کوئی تعلق کوئی واسطہ نہیں اگر ایسا ہوتا تو شادی کے بعد لڑکے اپنا نام بدل لیتے تو میں شوق سے اپنا نام بدلتا آپ کا حوالہ مجھے معتبر بنا دیتا ہے میں لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ دیکھو میں ماہ روز کا حیدر ہوں دنیا کی نظروں میں پتھر سی سخت لڑکی میری نظروں میں محبت سے موم ہو گئی ہے آپ کو اب پچھلی باتوں کو کبھی یاد کرنے کی ضرورت نہیں پیش آنے والی میں آپ کو ہمیشہ کے لئیے خوش دیکھنا چاہتا ہوں اور پتہ نہیں کیوں ماہ روز مجھے لگتا ہے آپ کو مجھ سے زیادہ خوش کوئی نہیں رکھ سکتا۔
محبت حیدر کے لہجے میں ٹھاٹھیں مار رہی تھی رام کتھا سنتے کب یونیورسٹی کا گیٹ آگیا دونوں کو پتا ہی نہیں چل سکا ماہ روز کے چہرے سے اس کے احساسات و جذبات کا اندازہ لگانا مشکل تھا حیدر نے لمبی لمبی سانس لی اور اپنے قدم آہستہ کر لیے یونیورسٹی کے اندر ماہ روز اکیلی داخل ہوئی لیکن وہ اکیلی کب تھی کسی کی سپردگی اور دیوانگی نے اس کے قدموں میں ایسا توازن پیدا کر دیا تھا کہ وہ رقص کرتی نظرآئی محبت کی کرنیں وسوسوں کے بادل کو چیرتی ہوئی نکلی اور ساری زمین پر اجارہ داری قائم کرتی ہوئی دکھائی دی حیدر کو یقین تھا کہ سچی لگن اور نیک نیتی دل میں گھر بنا لے گی اس کے اعتراف نے اس کو ہلکا کر دیا وہ آج بہت عرصے بعد اتنے کم وقت میں اتنا زیادہ بولا تھا بچپن میں جب والدین زندہ تھے وہ لڑتا تھا بولتا تھا خواہشوںکا اظہار کرتا تھا لیکن پھر وہ خاموش ہو گیا اس کے اندر باہر خاموشی نے ڈیرے ڈال لیے جوانی نے اس کو کوئی رنگ نہ دیا۔ وہ رنگین یا شوقین ہونے کے بجائے اپنے دائرے میں محدود ہوتا گیا نپے تلے چند لفظ بولتا بہت زیادہ سوچتا بحث نہ کرتا لیکن پھر محبت آئی اور اس کی دستک نے حیدر کے اندر کے بچے کو زندہ کر دیا وہ خواہش کرنے لگا اور اس نے ماہ روز کو مانگنا شروع کر دیا پہلے اللہ سے اور آج ماہ روز سے بھی زبان پر لگے قفل ٹوٹے اور عشق کے گھنگھرو بجنے لگے۔
لائیاں لائیاں میں تیرے نال ڈھولنا
…٭ء٭…
ثمینہ تو بیاہ کر گاؤں چلی گئی اور اسری تو کب سے مکان خالی کر کے دوست کو تنہا کر گئی محلے میں کسی اور کے ساتھ روزی کے دیرینہ مراسم نہ تھے کہ ظفر صاھب اس معاملے میں کسی پر بھروسہ نہیں کرتے تھے ان کا رابطہ اپنی عمر کے لوگوں کے ساتھ رہتا تھا جن کے ساتھ وہ ایسے مسائل ڈسکس کرتے کے جن کے ڈسکس ہونے یا نہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا جیسے مہنگائی ایک مسلمہ حقیقت ہے جسے لوگوں کی چہ مگوئیوں سے فرق نہیں پڑتا ثمینہ کی شادی کے موقع پر روزی کی طبعیت کی خرابی نے حالات کو دشوار کیا لیکن ہڈیوں کا بخار بنا کر ظفر صاحب نے لوگوں سے حقیقت چھپالی اب ان کا بیشتر وقت گھر پر گزرنے لگا روزی کی عجیب و غریب حالت نے انہیں باہر نکلنے کے قابل نہیں چھوڑا نماز پڑھتے رہتے اور روزی پر دم درود کرتے رہتے کبھی کبھی وہ بھلی چنگی ہو جاتی لیکن آنکھوں کا بنجر پن ان کے دل میں انی کی طرح گڑا رہتا کبھی ایسی عجیب و غریب حرکتیں کرتی کہ ظفر صاحب کے دل میں خیال آتا کہ زہر لا کر اس کو اور خود کو مار لیں لیکن انسان باتیں تو بہت بڑی کر سکتا ہے جان نہیں لے سکتا وہ لوگ جو انسان کی جان لے سکیں ان میں جذبات اور حسیات اس قدر سرد ہو چکے ہوتے ہیں کہ دوسروں کی جان لینا ٓسان ہوجاتا ہے ایسے انسانوں کو انسانوں کی فہرست مرتب کرتے وقت بالکل بھی دھیان میں نہیں لانا چاہیے ظفر صاحب کے لئیے زندگی میں اور کوئی کشش نہ تھی لیکن پتہ نہیں کیوں انہیں لگتا تھا کہ اس ذہنی الجھن سے وقت باہر نکال لائے گا ان کے اندر کوئی شے بولتی تھی کہ یہ نفسیاتی گرہیں ہیں جو کھل کر روزی کے وجود کو ڈھیلا کر دیں گی اور پھر وہ انہی ہم عمر نوجوان لڑکیوں کی طرح ہلکی پھلکی ہواؤں کے ساتھ اڑتی پھرے گی اس کے چہرے پر بچپن کی ہنسی ایک مرتبہ پھر دیکھنے کا خیال ظفر صاحب میں زندگی بھر دیتا سات کے بجائے اکتالیس مرتبہ سورۃ فاتحہ پڑھنے لگتے جب ہم اپنے حصے کی ساری لاپرواہی برت چکے ہوتے ہیں اور کوتاہی کر چکے ہوتے ہیں تب ہمیں اللّٰہ یاد آتا ہے اور شدت سے یاد ٓتا ہے ہمیں یقین ہونے لگتا ہے کہ وہ ذات ہمٰن گرنے ڈوبنے نہیں دے گی حالانکہ اللہ تعالی پتر میں کیڑے کو رزق ضرور پہنچاتا ہے لیکن وہ بھوکے بندے کے منہ میں نوالے بنا کر نہیں ڈالتا وہ وسیلے بنانے والا ہے نوازنے والا ہے کچھ ہاتھ پیر ہمیں خود بھی ہلانے ہوتے ہیں چیزوں میں صرف اتنا بگاڑ پیدا کرنا چاہئیے جس کو واپس سدھارا جا سکے اب اگر یہ کہا جائے کہ بگاڑ ہی پیدا نہ کریں تو یہ غیر فطری سی بات ہے ہم انسان ہیں چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی غلطیاں کر جاتے ہیں لیکن غلطیاں کتنی کرنی ہیں اس کا تعین درست وقت پر کرنا ہی ضروری ہے۔
انکل۔ مانوس سی آواز پر ظفر صاحب نے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کرتے ہوئے سر اونچا کیا سامنے اسری کھڑی تھی ہمیشہ کی طرح خوش باش کانوں میں سونے کے جھمکے اس کی زندگی میں آنے والی کسی بڑی تبدیلی کی چغلی کھا رہے تھے ظفر صاحب کو اس پر بے ساختہ پیار آیا۔
اوہو آج میری گڑیا آئی ہے تم لوگوں نے تو پلٹ کر نہیں دیکھا اور میرے بیٹے کاسلام کدھر رہ گیا ہے آج وہ کھڑے ہو کر اسری کو ساتھ لگاتے بولے
السلام و علیکم انکل بس زندگی بڑی نا قابل بیان سی شے ہے قاسم بھائی جب سے باہر گئے ہیں ابو بیمار رہنے لگے پھر میری بھی شادی کر دی اب اب قاسم بھائی کے لیے لڑکی ڈھونڈ رہے ہیں اسری اپنی شادی کی بات پر ذرا سا شرمائی لیکن پھر اعتماد سے بولی
’’بیٹا قاسم تو شادی کر چکا تھا نا باہر ہی اور میرا یار فیضی کہاں ہے ؟ وہ نہیں آیا ساتھ۔‘‘ ظفر صاحب نے استفسار کیا۔
قاسم بھائی واپس آ گئے ہیں آپ کو پتہ تو ہے مغرب میں چکا چوند تو ہے لیکن وفا کی خوشبو کا کوئی جھونکا نہیں ان کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا لاہور کے شیخ زید اسپتال میں زیر علاج ہیں ان کو گھر بسانے کی چاہت جاگی تو ابو اور میرے دماغ میں پہلا خیال روزی کا ہی آیا اسری نے کمال مہارت سے اپنے پتے پھینکے وہ یہ بات چھپا گئی کہ قاسم درحقیقتrehabiletationسینٹر میں داخل ہے اور پچھلے کچھ عرصے سے نشہ آور اشیاء کے مستقل استعمال اور نشے میںآکر الٹی سیدھی حرکتوں کی وجہ سے اس کا پاسپورٹ کینسل ہو گیا تھا وہ شاید کبھی روزی کے لیے اس رشتے کا سوچتی اسے بھائی عزیز تھا لیکن اس کی روزی سے بھی کوئی دشمنی نہ تھی قاسم کے جانے کے بعد اسے قاسم کی الماری سے خوشبوؤں میں بسے ڈھیروں خط ملے جن میں سے اکثر روزی کی خوبصورت لکھائی اور اور جذبوں کا تلاطم سچائی کی چاشنی لیے موجود تھا اگر اس کے بکھرے اور بگڑے بھائی کو اب کوئی چیز سنبھال سکتی تھی تو وہ محبت تھی ایک آخری آپشن ظفر صاحب حالات کی سنگینی سے بے خبر خوش ہو گئے کے چلو پہلا پتھر تو آیا
بیٹا میں کیا کہوں تم خود روزی سے بات کر لو ہر باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ بیٹی کا گھر بس جائے تمہارے بھی بہت ارمان تھے کہ تم ڈاکٹر بنو لیکن مجھے یقین ہے کہ تمہیں بیاہ کر فیضی کو جو سکون ملا ہو گا اس نے تمہارے اندر سے ڈاکٹر بننے کی کسک نکال دی ہو گی ظفر صاحب اسری کو کندھے سے پکڑ کر باتیں کرتے صحن میں آ گئے صحن میں جامن کے پیڑ کے نیچے روزی ان دونوں کی طرف پشت کیے بیٹھی اس کے کھلے بال گلے میں پڑے تھے اور بازو کی حرکت سے لگ رہا تھا کے وہ گود میں کسی چیز کو سہلا رہی ہے اسری کو قوی امکان لگا کہ یہ کوئی بلی کا بچہ ہو گا اس نے ظفر انکل کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور سرپرائز دینے کی غرض سے روزی کے عین سامنے جا کر کھڑی ہو گئی لیکن اگلے ہی لمحے اسری کی چینخوں سے سارا گھر گونجنے لگا ظفر صاحب نے آگے بڑھ کر اسے خاموش کروانے کی کوشش کی ان چینخوں کا سبب ان کی سمجھ سے بالاتر رہا یہاں تک کے ان کی نظر روزی کی گود پر پڑی وہ ہل کر رہ گئے یہ کوئی بلی کا بچہ نہیں بلکہ مکروہ شکل کی زرد رنگ والی گندی سی چھپکلی تھی جس کے سر سے دم تک بہت پیار سے روزی اپنی انگلیاں چھوتی وہ انسیت سے دم ہلاتی ان چینخوں سے زرد آنکھیں ایک جگہ ٹھہر گئیں وہ اسری کو تک رہی تھیں اسری کا چیخیں مارنا جائز تھا ظفر صاحب کو لگا اگر یہ لمحہ طویل ہوا اور روزی کا لمس اس چھپکلی سے آشنا ہوتا رہا تو وہ ہمیشہ کے لیے اپنی بیٹی کو کھو دیںگے انہوں نے آگے بڑھ کر زور سے روزی کے کندھے کو جھنجھوڑا اس نے آنکھیں اٹھا کر باپ کو دیکھا شناسائی کی کوئی رمق نہ تھی کالی کالی گول گول آنکھیں زرد تھیں بالکل زرد ۔۔۔۔ انہوں نے پوری قوت سے روزی کوا ٹھایا چھپکلی اس کی گود سے نکلتی الٹے پیروں سرکتی برگد کے پیڑ پر چڑھ گئی اس کی آنکھیں وہیں تھیں روزی پر ۔۔۔۔۔۔ روزی وحشت سے چلائی۔
جاؤ جاؤ واپس جاؤ مجھے چھوڑ دو میری دنیا نہ برباد کرو میرا حصار نہ توڑو میں آگ لگا دوں گا اس کے دماغ کی کھینچی ہوئیں طنابیں اس کے چہرے کے تاثرات سے نظر آ رہی تھیں اس کے حلق کی رگیں بھی واضح طور پر دیکھی جا سکتی تھی یہ وہ نہیں بول رہی تھی یہ کوئی اور تھا یہ جو کوئی بھی تھا اسے ظفر صاحب یا اسری نہیں جانتے تھے
میں قاسم تک لے جانے والے کسی شخص کو نہیں چھوڑوںگا یہ میرا حصار ہے یہ میری ذات ہے یہ میری ہے یا کسی کی بھی نہیں ہے بھاری آواز گونجی روزی کبھی ناخن لمبے نہیں کرتی تھی لیکن آج جب اس نے اپنے دائیں ہاتھ سے گردن کو چھوا تو خون بہنے لگا اسری کی چیخیں پھر بلند ہوئیں اور وہ بیٹھک کی طرف بھاگی اسری کو بھاگتے دیکھ کر روزی کی وحشت کو سکون سا مل گیا وہ ساکت ہوئی اور وہیں گر سی گئی ظفر صاحب نے ایک نظر روزی اور اس کے بہتے ہوئے خون کو دیکھا خراشیں بہت گہری نہیں تھیں لیکن اسری اگر گھر سے باہر نکل جاتی تو جس بات کو اس گھر کے درو دیوار آہستگی سے کہتے سنتے تھے اسے منڈیروں پر چڑھنے میں دیر نہ لگتی فورا سے بیٹھک میں گئے اسری دروازہ کھول کر باہر نکلنے ہی والی تھی
رکو بیٹا تمہیں اللّٰہ کا واسطہ ہے آج جو دیکھا ہے وہ کسی کو نہ بتانا کسی سے نہ کہنا ظفر صاحب گھگھیائے اسری خود بری طرح ڈری ہوئی حواس باختہ ہونے کی وجہ سے اس کے منہ سے سب نکل گیا
قاسم بھائی نے کچھ نہیں کیا آپ کو تو پتا ہے لڑکے ایسی نادانیاں کر جاتے ہیں میں نے روزی کے خط ان کی الماری میں ان کے جانے کے بعد دیکھے تھے ان دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ محبت تھی نہیں محبت شاید صرف روزی کو تھی آپ کو شاید یاد ہو گا روزی بیمار بھی ہوئی تھی وہ بیماری بھی دراصل اسی محبت کی وجہ سے تھی دراصل میں سمجھ نہیں سکی ا س نے مجھے ٹوٹا پھوٹا سا قصہ سنایا تھا وہ کسی پیر بابا کے پاس بھی گئی تھی الٹی قرآنی آیات پڑھنے جیسا وظیفہ لے کر آئی مجھے پتا ہوتا کہ وہ ا س راستے پر خود جا رہی ہے اپنی کہانی سنا رہی ہے تو میں اس کو ضرور روکتی لیکن میں نہیں سمجھ سکی جب وہ ہوش میں آئے تو اسے کہنا میرے بھائی قاسم کو معاف کر دے میرے بھائی کو معاف کر دے۔‘‘ اسری نے روتے ہوئے دروازہ کھولا اور باہر چلی گئی ظفر صاحب میں اسے روکنے کی ہمت نہ تھی اور نہ ہی ضرورت ان کی ناک کے نیچے کیا سے کیا ہوتا رہا اور وہ خاموش رہے انہیں پتہ ہی نہ چل سکا انہیں خود پر غصہ آیا وہ سوچنے لگے ہو سکتا ہے کسی ذہنی الجھن نے روزی کو اس مقام پر پہنچادیا ہو وہ خود ایسا کیسے کر سکتی ہے اگر اس کی شروعات کوئی ذہنی الجھن ہے تو اس کا اختتام بھی آسانی سے ہونا عین ممکن ہے لیکن پھر وہ مکروہ سی چھپکلی ؟۔۔۔۔ یوں ہی بھی تو ہو سکتی ہے کوئی اتفاق بھی تو ہو سکتا ہے سوچتے سوچتے وہ صحن میں آئے نیم مردہ روزی کے زخموں کو صاف کیا اور اسے اس کے کمرے میں لے جا کر چھوڑا۔
بے شک اللہ اولاد سے آزماتا ہے بے شک اولاد فتنہ ہے۔
انسان اللہ سے اولاد مانگتا ہے اگر اولاد کو تکلیف پہنچے یا اولاد نہ ملے تو شکایت کرتا ہے انسان کو قرآن بھول جاتا ہے اور قرآن میں حضرت موسی کا قصہ بھول جاتا ہے کہ جب وہ خضر کی راہنمائی میں ایک جگہ پہنچے اور خضر ؑ نے ایک بچے کو مار دیا اس وقت حضرت موسی ؑ سمجھ نہ سکے اس بچے کے والدین بھی نہ سمجھے ہونگے انہوں نے بھی غم منایا ہو گا یہ سوچے بغیر یہ سمجھے بغیر کہ اس کو مرنا ہی ہے اولاد اللہ کی عطا ہے وہ جسے چاہتا ہے بیٹیوں سے نوازتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے ہم صرف اولاد مانگتے ہیں صالح اولاد نہیں مانگتے۔
…٭ء٭…
یونیورسٹی میں ماہ روز کے چہرے پر نا قابل بیان قسم کے تاثرات رہے حیدر پڑھنے کی ناکام کوشش کرتا رہا گھر جا کر بھی ا س نے سوچا ماہ روز کو پیغام بھیجے لیکن پھر چھوڑ دیا محبت زبردستی کا سودا نہیں ہے یہ دوسرے شخص کو جو ہے جیسا ہے کی بنیاد ہے پر آزادی دینے کا نام ہے یہ تحفظ ضرور دیتا ہے لیکن کسی کو روایتوں اور رواجوں کے شکنجوں میں بندھے رہنے کی ترغیب ہر گز نہیں دیتا وہ کون سی محبت ہے جس میں کوئی نادانی نہ ہو لیکن حیدر اپنے حصے کی ساری نادانیاں کر چکا تھا اب اسے جواب کا انتظار تھا شدید انتظار۔
ماہ روز ہواؤں میں اڑتی پھر رہی تھی آپ کسی چیز کو دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ وہ آپ کو مل جائے لیکن نہیں ملتی پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی شے اپنے تمام تر حسن کے ساتھ اپنے جلوے آپ کے سامنے بکھیرتی ہے آپ کو لبھاتی ہے اور پھر اپنے آپ کو آپ کے دربار میں سر جھکا کر تحفتا پیش کر دیتی ہے کچھ لوگ زندگی میں ان میں سے ایک حالت میں گزرتے ہیں اور کچھ دونوں میں سے بہرحال پہلی حالت سے بہت بہتر دوسری حالت ہے جو ذہن و دل کو ایک طے کردہ راستے پر پوری آزادی سے چلنے دیتی ہے اور انسان مکمل ہونے لگتا ہے ماہ روز کو لگ رہا تھا وہ بھی مکمل ہونے لگی ہے وہ چاہتی تھی کہ فی الفور اپنے جذبات کا اظہار کر لے لیکن لڑکی ہونے کی بیڑیاں اس کے لفظوں کو تھامے بیٹھی رہی حیدر کے فون پر اس کے دل میں جلترنگ سی بج اٹھی تھی یوں لگا کہ موسیقی کے دھیمے دھیمے سر خوشی کی سرگم میں مستانے ہوں گئے اس نے دھڑکتے دل پر ہاتھ رکا اور فون ریسیو کیا حیدر کی پریشان سی آواز اسپیکر سے ابھری۔
ماہ روز ایک کام کریں گی میرے گھر چلی جائیں ایڈریس میں بھیج دیتا ہوں بڑی باجی اسپتال میں ایڈمٹ ہیں میں ان کے پاس ہوں بس شام تک آپ کا تعاون درکار ہے ۔
پہلی دفعہ اس نے بغیر سلام کیے بات کی تھی اور اتنا فارمل لہجہ تھا کے اس کا لہجہ کسی ڈر کی چغلی کھاتا لگا ماہ روز نے کچھ بھی وضاحت نہ مانگی بس اتنا بولی
ایڈریس بھیج دیں اور بے فکر ہو جائیں وہ واقعی ایڈریس دے کر بے فکر ہو گیا
ماہ روز دئیے گئے ایڈرسی پر پہنچی سفید رنگ کے گیٹ پر پھیلی ہوئی بیل یوں بھلی لگتی جیسے سبز رنگ کے خوبصورت کھلے کھلے سے بوٹے سفید بادلوں پر اٹکھیلیاں کر رہے ہیں ماہ روز کے دل میں شدت سے خواہش ابھری کہ وہ مصور ہوتی اور اس گھر کو اپنے ہاتھوں سے پینٹ کرتی اس کی دہلیز پر گرے مختلف رنگوں کے پھولوں میں اپنے پیار کے رنگ بھرتی میں بھی کتنی پاگل ہوں نا یہ گھر تو میرا گھر ہو گا میں اس کی تمام بیلوں کو اپنے خون سے سینچوں گی اور یہ جو گھنٹی کے پاس سے رنگ اترا ہوا ہے تو میں اس کو خود رنگ کروں گی گیٹ کا کلر سفید کے علاہو سرخ بھی تو ہو سکتا ہے اور سرخ گیٹ پر سبز بیلیں کتنی بھلی لگیں گی جب حیدر اس دروازے سے اندر آئیں گے تو ان کی توجہ بیلوں پر لگے پھولوں پر جا ٹھہرے گی اور وہ چند پھول توڑ کر میرے لیے اندر لے آئیں گے میں انہیں کہوں گی۔
بیلوں کو میں نے پانی دیا ہے اور پھول آپ دے کر اپنے نمبر بنا رہے ہیں وہ جواب میں کہیں گے
تم بھی تو میرے ہی پیسوں سے مجھے ہی تحفہ دے کر خوش ہو تی پھرتی ہو کیا وہ مجھے کبھی تم کہہ کر پکاریں گے ؟ ان کے منہ سے تو آہی بھلا لگتا ہے لیکن ان سارے تکلفات سے بالاتر ہو کر میں ان کی بے تکلفی کا مزہ بھی چکھنا چاہتی ہوں اف کتنی پاگل ہوں نا میں کیا الٹا سیدھا سوچنے لگ گئی ہوں ماہ روز نے اپنی سوچوں کو بمشکل روکا اور بیل بجائی۔
’’کون ہے۔‘‘ اندر سے معصوم سی ننھی سی آواز آئی جس میں حیدر کی سی فکر گھلی ہوئی تھی۔
’’دروازہ کھولیں۔‘‘ ماہ روز نے اتنا ہی کہا اسے سمجھ نہیں آئی اپنا تعارف کیسے کروائے
’’ماہ روز آپی۔‘‘ اندر سے آنے والی آواز میں اشتیاق اور مسرت کا جہاں آباد تھا دروازہ جوں ہی کھلا وہ معصوم سی پری اس کے گلے لگ گئی ماہ روز کو حیدر کی خوشبو پھوٹتی محسوس ہوئی اس نے پیار سے الگ کیا۔
’’کیسے پہچانا مجھے گڑیا؟‘‘
ہاہاہا آپ کو کیسے نہیں پہچانوں گی بھائی اتنی باتیں کرتے ہیں گڑیا نے ہنستے ہوئے بولا ماہ روز ساتھ چلتی ڈیوڑھی سے صحن تک آئی بائیں طرف کی دیوار ڈھیروں مختلف بیلوں سے ڈھکی ہوئی تھی اگر دیوار نہ ہوتی تو بھی معلوم نہ لگتا بیلوں کا جال اتنا گھنا اور گہرا تھا چھوٹے چھوٹے پیارے پودے جن کا پتا پتا لہرا رہا تھا چمک رہا تھا۔‘‘ پتہ گھر والوں کے ذوق کا نمائندہ تھا نم مٹی کی خوشبو اور پودوں پر مختلف رنگوں کے نرم پھول ہوا کو معطر کر رہے تھے ماہ روز کو لگا وہ تو کبھی کسی اور جگہ رہی ہی نہیں وہ تو جانے کب سے یہیں تھی اسی چار دیواری میں انہی بیلوں اور پودوں کے پاس ماہ روز سیدھی پودوں کے پاس جا کر کھڑی ہوئی اور گہرا سانس لیا حیدر یہاں سانس لیتا ہے اور پھر دو گہرے سانس مزید لئیے صحن میں پڑی چارپائی پر وہ بیٹھ گئی اس نے کہاں خود سے بیٹھنا تھا گڑیا نے ہاتھ تھام رکھا تھا
میں کھانا کھا چکی ہوں اور سندس اور منیٰ سکول سے آکر سو گئی تھیں اس لئیے آپ سکون سے بیٹھیں کچھ کھانا ہے تو مجھے بتائیں گڑیا اس کو پر شوق نگاہوں سے دیکھتی بولی
اف ان سب کو دیکھنے کا کتنا شوق ہے ماہ روز کو ہنسی آئی
وہ سدرہ باجی کو کیا ہوا ہے ؟ ماہ روز کو اچانک سے یاد آیا تو پوچھ بیٹھی
سچ بتاؤں یا جھوٹ ؟ گڑیا نے شرارت سے کہا
خاندانی بیماری ہے میرا خیال ہے گھما پھرا کر بات کرنے کی بجائے سیدھی طرح سچ سچ بتاؤ ماہ روز نے گڑیا کا ناک دبایا۔
آپ نے حیدر بھائی کو تب تک نہیں بتانا جب تک وہ خود آپ سے بات نہ کر لیں۔ یاد دہانی کے طور پر گڑیا نے آنکھیں مٹکا کر ماہ روز کو دیکھا اور اپنی بات جاری رکھی
آپ کو پتا ہی ہو گا امی ابو کی وفات کے بعد گھر میں سب سے بڑی سدرہ باجی تھی جن کا رشتہ ماموں کے گھر دیا ہوا تھا اور وہ ایم اے کا امتحان دے رہی تھی امی ابو کی وفات نے ہم سب کو ہلا کر رکھ دیا ہم تو خیر چھوٹے ہی تھے سدرہ باجی نے حیدر بھائی سے لے کر منیٰ تک سب کو سنبھالا صبح اسکول جوائن کیا شام میں اکیڈمی میں پڑھانے چلی جاتی اور پھر رات گئے گھر میں بھی بچے آئے ہوتے حیدر بھائی کا گریجویشن ہوا تو ساتھ ہی انہوں نے ماسٹرز میں داخلہ لینے سے پہلے باجی کی شادی کروا دی وہ نہیں چاہتے تھے کے بہن بھائیوں کو پالے ہماری باجی اسی دہلیز پر بالوں میں چاندی اتار لیں ہم میں سے کسی کو پتہ نہیں چل سکا کہ کیسے گھر میں وہ جگہ جو امی ابو کی تھی وہ سدرہ باجی نے سنبھالی اور پھر حیدر بھائی نے لے لی ہم چھوٹے تو ہمیشہ سنبھالے گئے لیکن ہمارے بڑے چکی میں پسنے لگ گئے راوی چین ہی چین لکھتا اگر سدرہ باجی کے شوہر میں رشتہ دار ہونے کی خوبی کے علاوہ کوئی بھی انسانوں والی خصلت ہوتی لیکن ایسا نہ ہوا حیدر بھائی اتنے بڑے نہ تھے کے منوں مٹی سوئے بڑوں کے فیصلے میں ردو بدل کر سکتے در حقیقت انہیں اندازہ ہی نہیں تھا پہلے پہل سدرہ باجی کی ٹیوشن اور نوکری جاری رہنے کا سبب بہن بھائیوں کی سپورٹ کو گردانا گیا لیکن پھر وقت نے گزرتے گزرتے سبق دیا کے انصر بھائی کا پیٹ اتنی آسانی سے بھرنے والا نہیں وہ لڑکی جو اپنے میکے میں رہ کر اپنی غیر شادی شدہ زندگی کو پیسے کمانے کے چکر میں بے رونق کر سکتی ہے اس لڑکی کو بھلا اپنی شادی شدہ زندگی کو بچانے کے لئیے سسرال میں رہ کر نوکری کرنے پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے ؟ سدرہ باجی گرہستی سنبھالتے کمانے ،کھلانے اور پکانے کے چکر میں گھن چکر بن گئی لیکن ہم نے اس کو عنایت جانا لیکن انصر بھائی کی لالچی نگاہیں اب حیدر بھائی کی کمائی پر پڑنے لگ گئیں یہ بات بھلا سدرہ باجی کو کیسے برداشت ہوتی انہوں نے بھرپور احتجاج کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کے حیدر بھائی اب چھپ چھپ کر انصر بھائی کی مٹھی گرم کر دیتے اور راوی چین لکھنے لگ جاتا آپ سمجھ رہی ہوں گی کے اب کہانی ختم ہو گئی ہے لیکن نہیں ماہ روز آپی ابھی تو کہانی شروع ہوئی ہے ہمارے گھر میں امی ابو کی وفات ہونے کے بعد ہر شخص کی آنکھوں میں بے رونقی تھی قہقہے مر گئے تھے اور بے ترتیبی، بے سکونی کے اژدھے نے نارمل گھروں والے ماحول کو اپنے شکنجے میں لے لیا تھا پھر آپ آئیں ماہ روز آپی آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیدر بھائی کی زندگی میں ترتیب آگئی وہ ہنسنے لگے بولنے لگے ذمہ دار پہلے بھی تھے اب خوش مزاجی سے ذمہ داریاں سنبھالنے لگے کوئی ایک شخص آپ کی زندگی میں ایساآتا ہے نا کے آپ کے اردگرد سارے اندھیرے اس کے ہونے سے اپنی موت آپ مر جاتے ہیں آنکھیں روشن ہوتی ہیں اور لب گنگنانے لگتے ہیں ایک سچی خوشی آپ کو ہوا میں لیے پھرتی ہے ہم نے بھائی کی ہواؤں کا تعاقب کیا وجہ آپ کی صورت میں ملی ہم بہت خوش ہوئے عرصہ دراز بعد ایک سچی خوشی نے ہمارے بوسیدہ دلوں پر دستک دی تھی ہم دروازہ کیسے نہ کھولتے لیکن غموں کو بھی شاید ہماری چوکھٹ سے انسیت ہو گئی تھی ان سے اس خوشی کا آنا برداشت نہ ہوا انصر بھائی کی صورت میں ہماری خوشی وقتی ثابت ہوئی انہوں نے نیا مطالبہ سامنے رکھا کہ حیدر کو ان کی معذور بہن آنسہ باجی سے شادی کرنا ہو گی ہم ششدر رہ گئے حیدر بھائی خاموش ہو گئے لیکن سدرہ باجی آخر کب تک اپنے بیٹوں جیسے بھائی کو قربانی کا بکرا بنے رہنے دیتی خاموشی سے گرم کی گئی مٹھیوں نے بھی ان کے دل میں ندامت کے الاؤ بھڑکا رکھے تھے کل بھی دراصل سدرہ باجی اور انصر بھائی میں اسی بات پر گرما گرمی ہوئی اور انہوں نے باجی کو جلانے کی کوشش کی اسی لیے حیدر بھائی ان کے ساتھ اسپتال ہیں لیکن آپ بالکل بھی پریشان مت ہونا میری تفصیلی بات ہوئی ہے سدرہ باجی سے بھی اور حیدر بھائی سے بھی اس دفعہ انصر بھائی کا مطالبہ ماننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اگر اس دفعہ بھی ان کی سن لی گئی تو وہ خود کو خدا سمجھ کر ہمیشہ ہمیں آزمائشوں میں مبتلا کرتے رہیں گے حیدر بھائی شش و پنج میں مبتلا رہے لیکن اپنے اوپر پردے ڈالنے کے فن سے آشنا ہونے کی وجہ سے آپ کے سامنے بھی شرمندہ نہیں ہوئے انصر بھائی بھی تقریبا خاموش ہو گئے تھے لیکن کل رات پھر بات بگڑ گئی۔‘‘ گڑیا ساری بات سناتے ہوئے کئی جگہ جذباتی ہوئی کبھی آنکھوں کے کنارے گیلے ہوئے اور کبھی ہلکی سی سسکی آئی لیکن ساری بات بتا کر وہ خاموش ہو گئی ماہ روز نے اسے گلے سے لگا لیا وہ ہلکی ہلکی سسکیاں بھرنے لگی ماہ روز نے اسے جی بھر کر آنسوبہانے دئیے پھر خود سے الگ کر کے منہ دھونے بھیجا شام کے پرندوں نے دھیرے دھیرے اپنے سرمئی پروں سے دن کی کھلکھلاہٹ کو چھپا لیا ماہ رو زکو ابا جی کی فکر ستانے لگی اسی اثناء میں دروازہ کھلا اور حیدر سدرہ باجی کو لیے گھر میں داخل ہوا سامنے چارپائی پر ماہ روز اور اس کی تینوں بہنیں بیٹھی تھیں کتنا مکمل منظر تھا حیدر کا دل چاہا کے وقت کی لگامیں اپنے ہاتھوں میں لے لے اور ماہ روز کو اپنی چھوٹی سی دنیا سے ایک پل کو بھی نہ جانے دے اچانک ماہ روز اٹھی تو حیدر کو احساس ہوا کہ وقت کی لگامیں تھامی نہیں جا سکتیں مسلسل اس لڑکی کو دیکھا نہیں جا سکتا حقیقت خواہشوں کو نہیں سمجھتی حقیقت ہر پل بدلتی ہے وہ اب سدرہ کا دوسرا بازو تھامے درحقیقت حیدر کی مدد کر رہی تھی سدرہ کے پاؤں پر بینڈیج ہوئی تھی یا شاید دوائی کی ہی تہہ تھی لیکن صد شکر کے پاؤں ٹھیک نظر آرہا تھا سدرہ باجی نے چارپائی پر بیٹھتے ہی اپنے ہاتھوں کے پیالے میں ماہ روز کا چہرہ لیا اور اس کے ماتھے کو چوما۔
’’سدا خوش رہو ہنستی مسکراتی رہو اللّٰہ تمہیں بہت سی خوشیاں دے سارے راتسے آسان کرے ماہ روز شرمندہ ہو گئی۔
آپ کیسی ہیں۔ ماہ روز آہستگی سے بولی
’’میں ٹھیک ہوں ایک دم فٹ فاٹ الحمد للہ۔ سدرہ باجی کے ہشاش بشاش سے جواب سے ان کی بہنوں کے چہروں پر بھی مسکراہٹ آ گئی۔
بہنوں کا رشتہ ایسا ہی ہوتا ہے جسیے ایک ہاتھ کی ساری انگلیاں بے شک ایک دوسرے سے جدا ہوتی ہیں لیکن اگر ایک کو چوٹ لگ جائے تو دوسری اس کی ذمہ داریاں سنبھال لیتی ہے۔
’’ماہ روز آئیںآپ کو گھر چھوڑ آؤں۔‘‘ حیدر نے اسے کہا تو وہ مسکرا دی۔
’’یہ شخص آخر کیوں مجھے آزمائش میں نہیں ڈالتا مجھے روک سکتا تھا ضد کر سکتا تھا لیکن پھر بھی اس کو میرے لیے آسانیاں پسند ہیں وہ اٹھی تو سدرہ باجی نے اٹھ کر ملنے کی کوشش کی اس نے بمشکل انہیں بٹھایا دروازے کے باہر جا کر بولی۔
’’آپ نہ چھوڑنے جائیں میں چلی جاؤں گی۔‘‘
’’پاگل میں ہوں لیکن پاگلوں والی باتیں آپ خود کرتی ہیں۔‘‘ حیدر نے ہنس کر اس کی طرف دیکھا اور کہا۔
’’اچھا ٹھیک ہے چھوڑنے چلے جائیں لیکن روڈ تک جانا ہے گلی سے میں خود چلی جاؤں گی۔‘‘ ماہ روز اب قطعیت سے بولی حیدر نے سر اثبات میں ہلایا یعنی اسے مانتے ہی بنی۔
کچھ لمحے کچھ ساعتیں کبھی نہ بھولنے کے لیے ہوتی ہیں وقت آگے بڑھ جاتا ہے اور انسان وہیں رکا رہتا ہے انہی لمحوں کی قید میں انہی ساعتوں کے حصار میں حیدر کو ابھی بھی اپنی خوش قسمتی پر بھروسہ نہیں ہو رہا تھا کے ماہ روز اس کے گھر میں آئی اور سارا دن رہی گھریلو حلیے میں اس کی شرارتی لٹیں بار بار اس کی پلکوںکو چوم رہی تھیں اور اس کی آنکھوں کی چمک جیسے اندھیرے میں جگنو۔
وہ اس کی زندگی کی روشنی ہے حیدر کے اندر یقین سانس لینے لگا۔
…٭ء٭…
صبح ظفر صاحب نے کمرے کا دروازے کو کھولا تو دوسری طرف سے بند ملا وہ پریشان ہوئے اس وقت تک روزی جاگ چکی ہوتی ہے باہر سے کسی کو بلاتے اور گھر کے داخلی دروازے سے اندر جانے کی کوشش کرتے تو سارا محلہ ساتھ اکٹھا ہو جاتا دل کھٹکنے لگا کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا خاموشی سے بیٹھک کے راستے سے باہر گئے دو مکان چھوڑ کر ایک گھر زیر تعمیر تھا وہاں سے چپکے سے اینٹ اٹھائی کسی صاحب نے پوچھا۔
’’خیریت ظفر صاحب ؟‘‘
’’بس اخروت توڑنے تھے لیکن میری ہتھوڑی کا ہینڈل الگ ہو گیا۔‘‘ وہ صدیوں سے کمزور لگے۔
بیٹھک میں داخل ہو کر باہر کی طرف کا دروازہ بند کیا کنڈی اوپر کی طرف تھی وہاں اینٹ سے ضرب لگانا شروع کی ٹھک ٹھک ٹھک۔
دل انہونی کے احساس سے فشار خون کو سنبھال نہ رہا تھا انہوں نے اینٹ رکھی اور دروازے سے ٹیک لگا لی ساتھ ہی دروازہ کھلا ساتھ ہی ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں کاش ان کی آنکھیں یہ کبھی نہ دیکھتیں اس سے بہتر دروازہ بند ہی رہتا سامنے روزی کھڑی تھی کھلے بال ماتھے پر کسی ضرب کا نشان واضح تھا اور چہرے پر کھرونچیں؟
کون غاصب تھا ؟ اس سوال نے سر اٹھایا ظفر صاھب کی نگاہیں جھک گئیں روزی کے پیروں میں بڑے بڑے گھنگرو بندھے تھے وہ تو کبھی پائل نہ پہنتی تھی اور یہ گھنگھرو۔
انہوں نے چوکھٹ کا سہارا لے کر کھڑا ہونے کی کوشش کی آج صبح سے اپنے جسم اور ذہن پر یہ پہلی کوشش کامیاب ہوئی ایسی اولاد کا گلا دبا کر مار دینا چاہئیے وہ ہاتھ بڑھاتے اس سے پہلے روزی نے ان آنکھوں میں دیکھا۔
’’شش میں حصار کے حصار میں ہوں۔‘‘ وہ بھاری آواز میں بولی ظفر صاحب چونکے انہوں نے اس کے پیچھے دیکھا کے شاید کوئی اور بولا ہو اور روزی کے صرف ہونٹ ہلے ہوں لیکن پیچھے کوئی نہیں تھا کوئی نہیں تھا نظریں جب پیچھے سے واپس روزی کی نظروں سے آن ملی تو اس میں نظر نہ تھی صرف زردی تھی اور لبوں پر وحشیانہ مسکراہٹ۔
’’شش…!‘‘روزی نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اشارہ کیا۔
ظفر صاحب پورے قد سے گرے تھے آج انہیں وقت نے ا س مقام پر لا کھڑا کیا تھا یہ معاملہ ان کے ہاتھوں سے باہر تھا انہوں نے اپنا سینہ مسلا روزی پلٹ کر برآمدے کی طرف جا رہی تھی چھن چھن کی آواز نے ان کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ انڈیلا تھا درد کی شدت سے انہوں نے آنکھیں بند کر لیں۔
روزی کی عجیب حالت تھی کبھی جامن کے درخت سے چپکی کھڑی ہوتی کبھی ایک ہاتھ سے بھاری بھرکم بستر گھسیٹ لیتی کبھی دو انگلیوں کے زور سے کارنس پر پڑے سارے برتن بجتے بجتے نیچے آ گرتے کبھی ایسی نخیف و نزار کہ ظفر صاحب سنبھالنے کی کوشش کرتے اور وہ ہاتھوں کے درمیان سے نکل کر زمین بوس ہو جاتی جب اس کے گھنگھرو اتارنے کی کوشش کرتے وحشی بن جاتی اپنی انگلیوں کے لمبے ناخن اپنی گردن پر مارنے لگتی اپنا سینہ نوچنے لگتی وہ اس عمر میں بیٹی کی برہنگی کیسے دیکھتے دور ہو جاتے کبھی ہاتھ سیدھا ان کی داڑھی پر مارتی اور یوں لگتا داڑھی پر آریاں چل رہی ہیں اور پھر وہ حلق میں اتر رہی ہیں اور اب پھر یہ سینے میں اتر گئی۔
وہ کتنے بھی پردہ پوش بن جائیں اس محلے میں یہ بات چھپا نہیں سکتے تھے اسری نے یہ حالت اپنی آنکھوں سے دیکھی اور پھر اس کے گھر سے کوئی لوٹ کر نہیں آیا قاسم کو پھر کوئی اور پری اپنے پروں میں سمیٹ کر سمندر پار لے گئی اس کی بہن اور باپ بھی گئے وقت میں کون ساتھ دیتا ہے ؟ چھاؤں بھی دھوپ بن کر جسم کو چبھنے لگتی ہے کسی کو کیا خبر ا س جوگن کا جوگ کس کی نظر کے فریب سے شروع ہوا وہ چھوٹے سے محلے میں نشان عبرت بن گئی وجہ کون تھا ؟ کوئی نہ جان سکا۔
ظفر صاحب نے ماضی کے نام پر وہ پرتیں کھولیں یاد آیا اولاد کے نام پر بیٹا جسے بیوی کی وفات پر دھکے دے کر نکالا تھا وہ چیختا رہا
’’بابا مجھے امی نے معاف کر دیا تھا وہ کل رات مجھے کہہ رہی تھیں شمع کو گھر لے آؤ میں ساری رات اس کی پائنتی پر بیٹھا رہا بابا آپ کو اللّٰہ کا واسطہ مجھے گھر سے نہ نکالیں مجھے میری ماں کی یادوں کے ساتھ زندہ رہنے کا حق دے د یں بابا میں ہاتھ جوڑتا ہوں میں پاؤں پکڑتا ہوں مجھے میری ماں کے جنازے میں شریک ہونے دیں کل رات میرا چہرہ ان کے ہاتھوں میں تھا انہوں نے کہا میرے شہزادے میری صفدر مجھے میرے آخری مقام پر اپنے ہاتھوں سے چھوڑ کر آنا بابا مجھ سے میرا حق مت چھینیں۔ لیکن ظفر صاحب پر بھوت سوار تھا صفدر کو گھر سے نکال باہر کیا۔
اس کا جرم ہی کیا تھا ؟
اپنی پسند کی شادی ۔۔۔۔
نہیں صرف یہ نہیں بلکہ اس نے ان کے بھائی کی بیٹی کو بھی مسترد کر دیا تھا
ایک اکلوتا بھائی ۔۔۔۔۔۔۔
جس نے اس کے بعد سارے رشتے توڑ لیے بہو ابھی تک ظفر صاحب کی آنکھوں کے سامنے نہیں آئی تھی صفدر نے اسے دوست کے گھر رکھا ہوا تھا ان کی بیگم ٹی بی کی مریضہ تھیں جنہیں کل رات صفدر منانے آیا اور صبح نو بجے کے وقت ان کی روح پرواز کر گئی جانے والی نے معاف کر دیا دنیا میں رہنے والے نے گھر میں رہنے کا حق بھی چھین لیا صفدر سالہا سال کوشش کرتا رہا لیکن کوئی روزن نہ مل سکا نہ کبھی خیریت مل سکی بہن کی اور نہ ہی کبھی باپ کا دل پگھلا۔
…٭ء٭…
ماہ روز تیز تیز قدم اٹھاتی گلی میں داخل ہوئی اس کا دل مختلف احساسات سے دو چار تھا کچھ ہو جانے کا ڈر اور کچھ اپنائیت کا وزن اس کے دل کو ڈبو رہا تھا اس نے دروازے کو کھٹکھٹانے کے لیے ہاتھ اٹھایا اور دروازہ اسی لمحے کھل گیا ایک نوجوان ابا جی کو تھامے گھر سے باہر جانے لگا ماہ روز کی چیخ ہی نکل گئی۔
’’ابا جی میرے ابا جی نوجوان پر اس بے قراری کا کچھ اثر نہ ہوا وہ اسی تیزی سے نکل گیا ماہ روز کے ہاتھ پاؤ ں پھولے ابا جی بے ہوشی سے ساتھ گھسیٹے چلے جا رہے تھے۔
’’بیٹا۔‘‘ گھر سے ایک مشفق سی آواز آئی وہ چونکی یہ کیا ہو رہا ہے ایک کے بعد ایک اجنبی۔
’’بیٹا ظفر صاحب کی طبیعت خراب ہو گئی ہے یہ میرا بیٹا ہے ہم انہیں اسپتال لے کر جا رہے ہیں آپ ہمارے ساتھ چلو۔‘‘ ان کے پیچھے شال اوڑھے ایک اور خاتون بھی تھی ایک اور اجنبی۔
اجنبی اجنبی ہی ہوتے ہیں آپ ان کے تاثرات نہیں جان سکتے ان کے چہرے نہیں پڑھ سکتے انہیں سمجھ لیا جائے تو ہی دل میں اترتے ہیں لیکن سمجھنے کے بعد اجنبی اجنبی بھی تو نہیں رہتے۔
حواس باختہ سی ماہ روز ان انکل اور خاتون کے ساتھ ان کی کالی گاڑی میں بیٹھ گئی کالا رنگ اسے ہمیشہ پراسرارہی لگا وہ اس رنگ کو گہرا سمجھتی تھی لیکن اس کی زبان کو سمجھ نہ سکتی تھی گاڑی چلنے لگی وہ رونا چاہتی تھی لیکن نہیں روئی اجنبی کی کالی گاڑی میں بیٹھ کر وہ خود کو اتنا کمزور نہیں ثابت کر سکتی تھی ایک دل چاہا کہ حیدر کو فون کرے لیکن دل کی اس نے اب نہیں سنی تھی وہ یہ فیصلہ حیدر کے گھر چارپائی پر بیٹھے کر چکی تھی اسپتال جا کر پتہ لگا کہ ابا جی کو دل کا دورہ پڑا ہے ڈاکٹرز نے پیس میکر لگانے کی کوشش شروع کر دی اچانک ایک ڈاکٹر تیزی سے باہر نکلا۔
’’ماہ روز حیدر کون ہے؟‘‘ ماہ روز چونکی۔
ماہ روز تک تو ٹھیک تھا اگرچہ ابا جی نے اسے کبھی ماہ روز کہہ کر نہیں پکارا ہمیشہ روزی ہی کہتے لیکن یہ اس کا نام تھا وہ اس نام کو ہضم کر سکتی تھی لیکن ماہ روز حیدر کہہ کر پکارنا وہ آنسو پونچھتی اندر کمرے میں گئی۔
’’میرے پاس وقت کم ہے بیٹا حیدر کو بلوا لو۔‘‘ ابا جی اکھڑتی سانسوں کے درمیان بولے۔
’ابا جی وہ نہیں آ سکتا‘ ماہ روز کے آنسو نکل پڑے۔
’’وہ آجائے گا ماہ روز میری روزی وہ آ جائے گا۔‘‘ ان کی نکلتی جان میں یقین تھا۔
’’ابا جی وہ نہیں آسکتا۔‘‘ وہ کبھی بھی نہیں آ سکتا ‘ ماہ روز اب باقاعدہ سسکنے لگی۔
’’پھر اس لڑکی کو بلواؤ۔‘‘ اب ابا جی کی ہاری ہوئی آواز نکلی۔
ماہ روز نہیں جانتی تھی کے خاتون کون ہیں لیکن اسے اتنا پتہ تھا کہ باہر موجود تین نفوس میں سے خاتون ایک ہی ہیں وہ ا نہیں اندر لے آئی ابا جی نے ماہ روز کا ہاتھ تھام کر اس عورت کے ہاتھ میں دے دیا۔
’’میری چلتی سانسوں میں ہی ماہ روز کو لے جاؤ۔‘‘ ماہ روز کے پیروں کے نیچے سے زمین اور ٹانگوں سے جان نکلی وہ اس اجنبی عورت کے سامنے ایک حرف بھی نہیں نکلا سکتی تھی۔
وہ بیٹھی تھی اسے مان رکھنا تھا سر جھکا دیا آناً فاناً اس جھلک دیکھے نوجوان کیساتھ اس کا نکاح ہو گیا حیدر کی شبہیہ اس کے ذہن پر سوار رہی لیکن وہ سر جھٹکتی رہی اس نے اپنا موبائل آف کر دیا رات کے کسی پہر سوتے ہوئے ا سے خبر ملی کے کچھ ہو گیا ہے کوئی اس کو کندھے سے پکڑ کر جھنجوڑ رہا تھا اور وہ آنکھیں نہیں کھولنا چاہتی تھی۔
یہ ابا جی کی موت کی خبر تھی۔
زندگی حسرتوں کا نام ہے زندگی حادثوں کا نام ہے ایک ہی پل میں دنیا بدل سکتی ہے ایک ہی لمحے میں دل میں اترنے والے دل سے اتر جاتے ہیں ایک سیکنڈ کے اندر ایک جیتا جاگتا چلتا پھرتا انسان ڈھیر ہو جاتا ہے ہماری پلاننگ ہماری خواہشوں کی ذرہ برابر بھی اہمیت نہیں ہے ضروری ہے کچھ تو وہ اچھے نصیب ہیں کوئی قسمت میں ہے تو وہ خوش قسمت ہے کوئی اگر نہیں ہے تو یہ قسمت کی ستم ظریفی ہے زندگی خود ایک بہت بڑی آزمائش ہے کون کہتا ہے زندگی کچھ پا لینے کا نام ہے زندگی سب کچھ کھو کر بھی زندہ رہنے کا نام ہے ماہ روز زندگی کو سمجھتے سمجھتے بے ہوش ہو گئی
روزی جیسے نیند سے اٹھی اس کا سارا جسم تھکا ہوا تھا اس نے بمشکل اپنے آپ کو گھسیٹا رات کی رانی کے چرنوں میں بیٹھے بیٹھے اس کا وجود مہک رہا تھا لیکن سارے بال کھلے گلے میں پڑے زبوں حالی کی داستان سناتے رہے اس کو اپنی ہڈیاں چٹختی ہوئی محسوس ہوئی زانوں سے لے کر پاؤں کے گھٹنوں تک بہت عجیب سا کھنچاؤ تھا جیسے کوئی ا ندر اترا ہو اور اس نے چیر کے رکھ دیا ہو چارپائی کو ہاتھ سے تھام کر وہ گھسیٹ کر کمرے کے دروازے تک آئی اسے تھوڑا رکنا پڑا سانس چڑھ گئی اور آنکھوں کی سرخی محسوس ہونے لگی۔
پورے جسم کو زبردستی گھسیٹا گیا سامنے پڑے شیشے کے ٹیبل کا سہارا لیا اور وہ آگے بڑھی اب وہ شیشے کے سامنے کھڑی تھی دونوں ہاتھوں نے سارا بوجھ لکڑی کے سپرد کیا گردن کسی ان دیکھے خوف سے ایک جگہ جم گئی اسے خود کو دیکھنے کی خواہش نے پاگل کیا۔
کیا محبت نے میرے اندر باقی کچھ چھوڑا ہے ؟ اسے اب بھی اپنے اوپر ہونے والا ظلم محبت کا لگ رہا تھا پلکیں اٹھائی اور نظریں اپنے عکس سے ملی وہ حیران ہوئی اس کے جسم کے زرد کپڑے آہستہ آہستہ سرخ ہونے لگے اس نے سسکیاں بھری وہ اس عذاب سے نکلنے کو مر رہی تھی لیکن یہ عذاب چارون طرف سے اس کے وجود کو اپنے شکنجے میں لینے کو بے تاب تھا گھنے لمبے بال جو اپنی چمکیلی تازگی کو اس کے شانوں پر بکھیر کے ہواؤں سے اٹکھیلیاں کرتے پھرتے تھے اور آج ان کی بد رونقی سے مسکراہٹ کی موت ہو گئی اس نے الٹے ہاتھ کو شیشے پر جما کر رکھا اور سیدھا ہاتھ کنگھی کی طرف بڑھایا اپنے عکس کے اوپر کوئی سایہ دیکھ کر اس کی جان نکل گئی اس نے سائے کے وجود کو دیکھا وہ لمبی بد ہئیت سی مخلوق وہی تھی صرف چھپکلی کہنا اس کی پر اسراریت کو کم کر دیتا روزی نے جھرجھری لی زرد رنگت کی ڈراؤنی آنکھوں نے کوئی راز سا منتقل کیا کنگھی ہاتھ سے جا گری اس نے لپ اسٹک اٹھائی۔ اسے یاد آیا کے اچھے وقت میں ثمینہ کے ساتھ جا کر اس نے یہ سرخی لی تھی تا کہ جب قاسم کے سنگ اپنی زندگی بتائے گی تو خود کو رنگ سکے لاشعور میں آئی اس یاد نے وحشت سی پھیلا دی وہ لپ اسٹک رکھنے کی کوشش رائیگاں گئی اس کے دماغ پر بوجھ بڑھا لپ اسٹک اس کے ہونٹوں تک آئی وہ نہیں لگانا چاہتی تھی اس نے نہیں لگانی تھی لیکن اس کے اختیار میں کب تھا کے وہ اس پاگل پن سے چھٹکارا حاصل کر سکے زرد آنکھوں نے دماغ پر مزید بوجھ ڈالا سایہ اس کے وجود سے زندگی کی رمق چھیننے لگا سرخی کناروں پر لگاتے لگاتے وہ گال تک جا پہنچی زرد آنکھیں چمکی ان میں جیت کا مزہ ہلکورے لینے لگا روزی نے ہاتھ مار کر سارے پرفیومز کو نیچے گرا دیا سیدھا ہاتھ شیشے کی میز پر جا پڑا اس نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی لیکن وہ اپنے آپے میں کہاں تھی اس کا جسم اس کے قابو سے باہر یہاں وہاں گرنے لگا ہڈیاں جسم کے خول سے باہر آنے کو ببے تاب تھی ہاتھ میز کے نیچے سے اوپر گیا شیشہ چکنا چور ہو گیا کرچیاں ہاتھوں میں لگیں اور ایک دو چبھی رہ گئیں وہی ہاتھ بالوں کو نوچنے لگا اور ماتھے پر آن پڑا خون کی لکیریں فرش رنگین کرنے لگی وہ زرد آنکھیں اب ناچ رہی تھی سایہ پورے کمرے پر حاوی ہو گیا۔
روزی کی گھٹی گھٹی سی چیخیں نکلتی اپنے آپ بچانے کی نا کام کوشش انگڑئیاں لیتی لیکن یہ عالم کوئی اور عالم تھا سننے کا رواج نہیں تھا صرف سزا تھی روزی کے پیلے پاؤں میں پڑے گھنگھرو سارے کے سارے بیڑیاں بن گئے وہ لہو کو باہر نکالنے لگے پاؤں اور ٹانگیں تکلیف سے شل چلنا محال آواز نکلنے سے قاصر ظفر صاحب نے برآمدے سے دیکھا وہ کمرے کے دروازے میں پڑی تھی ہاتھوں اور پاؤں سے لہو رس رس کر زمین کی پیاس بجھانے میں مگن اور کھڑکی کا تیزی سے ہلتا پردہ کسی کے ابھی ابھی جانے کے راز سے پردہ اٹھا رہا تھا وہ باریش آدمی کچھ لمحوں کے لیے واقعی ڈر گیا آگے بڑھ کر اسے سیدھا کیا وہ بھاری تھی بہت بھاری ۔۔۔ چنیوٹ کی الماری کا بھی وزن شاید اتنا نہ ہو وہ سیدھا نہ کر سکا ایک طرف سے روزی کے گالوں پر لگی ہوئی سرخی پر نظر پڑی وہ حیران ہوا اس نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا پھر سینے پر اب زارو قطار رونے لگا۔
مجھ سے کیا ہو گیا ؟ مجھ سے ایسا کیوں ہوا ؟ جوان ہوتی بیٹی مجھے نظر کیوں نہیں آئی میں اس کو چھوٹی سی گڑیا سمجھتا رہا نہ کبھی روکا نہ کبھی ٹوکا مجھے کیا خبر تھی کے یہ ننھی سی کونپل کبھی یوں میرے سامنے آن کھڑی ہو گی کاش اس کی ماں زندہ ہوتی وہ میرا شانہ تھپتھپاتی اور کہتی۔
اے صفدر کے ابا آنکھیں بند کئیے بیٹھے ہو ؟ گڑیا اب بڑی ہو گئی ہے کچھ تو کرنا ہے کچھ تو سوچنا ہے میں اسے کہتا۔
میری ننھی سی گڑیا ہے تجھے کیسے اتنی بڑی لگنے لگ جاتی ہے اس کے لمبے بالوں کو نہ دیکھ اس کی شرارتی آنکھیں دیکھ اس کے نرم نرم ہاتھ دیکھ یہ بھلا گھر کے کام سنبھالنے کے لیے کہاں بنے ہیں ؟ وہ آگے سے مجھے جھنجوڑتی۔
اجی ہوش کے ناخن لیں بیٹیاں تو پیغمبروں کے گھر نہیں بیٹھی آپ کیسے بیٹھا لیں گے اگر یہیں بیٹھے بیٹھے بالوں میں چاندی اتر آئی تو اس کی ہنستی آنکھیں چپ ہو جائیں گی خاموشی برداشت کر لیں گے ؟
لیکن نہیں وہ نہیں رہی شریک حیات تھی اور بے وفا نکلی اتنی جلدی واپسی کا سفر طے کیا کہ میں اس دنیا میں اس کی یادوں کو ڈھونڈتا تنہا رہ گیا مجھے نہ کوئی یہ بتا سکا کے میری بچی جوان ہو گئی نہ ہی میں اپنی بچی کے نرم ہاتھوں کو گھر کے کام کاج سے دور رکھ سکا میں نا کام ہوں اور ساری نا کامی کی وجہ صفدر ہے اس کے ضدی فیصلے نے مجھ سے میری ہمدم کو دور کیا اور اسی کی کرنی کا سلسلہ آج روزی کی ہڈیوں کا رس نچوڑ رہا ہے میں اکیلا سنبھال لوں گا میں اسے آواز نہیں دوں گا میں اسے کبھی نہیں بلاؤں گا بوڑھا شخص اپنی انا کو ٹوٹتے دیکھتا رہا اجڑی بیٹی کا ماتم کرتا رہا اس کے کھوکھلے لفظ اس پر ہنس رہے تھے اب صفدر سے مدد لینا ضروری تھا۔
…٭ء٭…
اس نے آج آخری دفعہ اپنے گھر آئی آنٹی کو کہا آخری دفعہ اپنے گھر سونا چاہتی ہوں ماتم کی وجہ سے رخصتی تو ہو نہیں سکی تھی لیے دیے میں رہنے والی آنٹی نے اسے اکیلا چھوڑ دیا وہ سوچ کر آئی تھی کہ اپنا سب سامان ساتھ لے کر جائے گی یہ پرپل رنگ کا کوٹ اس سے حیدر کی جیکٹ ٹچ ہوئی تھی۔
یہ نیلے رنگ کی ڈائری ۔۔۔حیدر نے پڑھنے کو لی تھی
یہ چوڑیاں ۔۔۔۔۔ ان میں سے تین حیدر نے مانگ لی تھی
یہ کتاب ۔۔۔۔ اس پر حیدر نے کچھ اشعار لکھے تھے
اسے بے طرح وہ یاد آیا وہ سسکنے لگی موبائل آن کیا ساتھ ہی حیدر کالنگ اسکرین پر جگمگانے لگا اس نے فون اٹھایا اور اپنی آواز کو کمپوز کر کے ہیلو بولا۔
’’کہاں ہو ماہی میں پاگل ہو گیا ہوں تمہارا گھر بند پڑا ہے موبائل نمبر مل نہیں رہا آس پاس کے گھروں میں سے کسی کو بھی نہیں پتا کے تم کہاں ہو تم کہاں چلی گئی تھیں تمہیں پتا تو ہے کے تمہارے ساتھ سے میری آنکھیں روشن رہتی ہیں میری آنکھوں میں اندھیرا دیکھنا چاہتی ہو ؟ مجھ سے دور کیا سوچ کر جا رہی ہو ؟ کدھر گئی تھیں؟ میری غلطی ہے کہ میں نے صرف پرپوز کیا تمہیں مجھے چاہئیے تھا کہ سیدھا سیدھا اٹھا کر لے جاتا تمہاری دونوں کلائیوں کو ہاتھ سے تھامتا اور تمہاری آنکھوں میں جھانک کر تمہارے اور قریب آتا اور وہ بے تابانہ کہہ رہا تھا وہ بھول گیا تھا کہ اس نے ماہ روز کو کبھی تم کہہ کر نہیں پکارا تھا۔
’’میرا نکاح ہو گیا ہے حیدر…!‘‘ ماہ روز کی ٹھنڈی آواز اسپیکر سے نکلی تو حیدر نے کان سے موبائل ہٹا کر دیکھا۔
جان کیسے نکلے گی ؟ جب باریک کپڑوں کو سوئیوں کے بستر پر بچھا کر کھینچا جائے ۔۔۔۔۔۔ وہ اس کی جان تھی اور وہ کب اس کے اندر سے نکل گئی اسے پتا کیوں نہ چلا۔
ابا جی فوت ہو گئے تھے اسی رات جب آپ نے آخری بار گاڑی کے دروازے سے میرا ڈوپٹہ چھڑایا اور مجھے کہا تھا جائیں میں ہمیشہ کے لیے آ گئی۔ خاموشی اچھی نہیں ہوتی میں خاموش نہیں رہوں گی مجھے بتانے دیں گے کہ محبت ایک بار ہوتی ہے اور میں اپنی ایک بار کی محبت آپ سے پہلے ہی کر چکی۔ خیر کل صبح میں اپنے شوہر کے ساتھ کینیڈا جا رہی ہوں آپ اپنا بہت ساخیال رکھیے گا اپنی بہنوں کو بہت سا خوش رکھیے گا انہیں کبھی والدین کی کمی محسوس نہ ہو اور آپ کے گھر میں نئی پلانٹ کی بیل والے پودوں میں ایک بٹوہ رکھا ہے آپ کے لیے خریدا تھا اسے پیسوں سے بھر کر رکھیے گا آپ کی بہنوں کی کوئی خواہش ادھوری نہ رہے۔
اللہ حافظ وہ فون رکھ چکی تھی وہ جا چکی تھی حیدر سن ہو گیا بالکل سن۔
وہ سمجھتا تھا اس نے اپنے سارے دکھ جھیل لیے ہیں اب خوشیاں دستک دینے والی ہیں لیکن آج اسے اپنی زندگی کا سب سے بڑا دکھ ملا تھا اس کا گلا پیاس سے چیرا جا رہا تھا وہ سر بسجود زمین پر رونے لگا۔
’’میرے اللہ اس سے چھوٹی آزمائش بھی تو ہو سکتی تھی ا س سے کم درد بھی تو ہو سکتا تھا تو نے مجھ سے میرے والدین کا سایہ چھین لیا لیکن میں بالکل بھی نہ ٹوٹا کے وہ تیری عطا تھے اور ان کے بچھڑ جانے میں تیری کوئی بہتری ہوگی میں نے اس تکلیف پر صبر کیا کیوں کہ مجھے لگا تھا اس سے بڑی آزمائش اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی اس آزمائش پر مجھے ثابت قدم رہنا تھا میں مضبوط ہو گیا پھر تو نے مجھے ماہ روز سے ملوایا اسے دیکھ کر مجھے لگا کہ اب میں مکمل ہو جاؤں گا میرے زخموں کے مدہم سے نشان بھی باقی نہ ر ہیں گے لیکن نہیں یا رب یا الرحم الراحمین تو رحم کرنے والا ہے تو نے مجھے ناسور دے دیا میری نیت میں بھی کھوٹ نہ تھی میں مانتا ہوںمیں نے تیری حدود کو پھلانگا میں نے اسے چھوا اسے دیکھا لیکن اللہ جی میری نیت صاف تھی میں نے اسے اپنانا تھا اللّٰہ جی کیا آپ گواہ نہیں ہیں کے میں نے سجدون میں گر کر بس ایک اس کا نام لیا تو مجھے ایک وہ دے دیتا مجھے بڑا مان تھا کہ میرا اللّٰہ مجھے سب دیتا ہے سب عطا کرتا ہے پھر اتنی بڑی محرومی۔
…٭ء٭…
والدین کی وفات نے حیدر کو ذمہ دار بنا دیا تھا اور ماہ روز کی جدائی سے وہ بردبار بن گیا تھا پہلے بھی کم گو تھا اب اور بھی سوچ سمجھ کر بولتا بولتے ہوئے اتنا ٹہرتا کے اگلے کو محسوس ہوتا وہ چپ ہو گیا ہے الفاظ ناپ تول کر منہ سے نکالتا جب ماہ روز کی یاد آتی۔ یاد تو کب نہیں آتی تھی پودوں کو دیکھتے ہوئے وہ یاد کرتا ماہ روز اس کے گھر کے پودوں کو دیکھنے کے لئیے کتنی ایکسائیٹڈ تھی پرانی طرز پر بنا ہوا گھر اور اس کی لکڑی کی کھڑکیوں پر Caremal کلر اسے ہمیشہ تصویروں میں لبھاتا لیکن یہ کیسا گھر ہے وہ ایک دفعہ اس میں آئی اور پھر مجھ سے ہر رشتہ توڑ کر چلی گئی وہ اسے سوچتا تو یاد آتا کہ آخری بات اس نے صرف یہی کہی تھی اپنے بٹوے کو پیسے سے بھر کر رکھنا وہ کام میں جت جاتا صبح سے رات ہو جاتی اتنا کام کرتا کے جسم کا رواں رواں تھک جاتا پھر بستر پر پڑتے ہی سو جاتا اگر وہ کچھ دیر بھی اکیلے بیٹھتا تو ماہ روز کا تخیل حقیقت کا روپ دھار لیتا اس کی یادیں سینے کو زخمی کر دیتیں بہنیں شکوہ کرتے نہ تھکتیں۔
’ بھائی اتنا کام کیوں کرتے ہیں ؟‘ وہ جواباً اتنا کہتا۔
’’سونا بھی تو ہے ‘ اس سے زیادہ نہ وہ سوال کرتیں نہ یہ بولتا بولنے سننے کی ضرورت ہی نہیں تھی کبھی کسی نے اس کا گھر بسانے کی بات نہیں کی کیوں کہ ماہ روز سے اس کی محبت کی شدت کو سب نے محسوس کیا تھا ان لمحوں کو اس گھر کے درو دیوار نے برتا تھا سب جانتے تھے کہ حیدر شادی نہیں کرے گا کہیں نہ کہیں انہیں بھی عادت سی ہونے لگ گئی اسے مصروف دیکھنے کی خود سے لاتعلق دیکھنے کی اور اس عادت سے نبھا کرنا ان کی مجبوری بن گیا دو سال اسی طرح گزر گئے وہ اپنے اور دوسروں کے گھر میں ٹیوشن پڑھاتا رہا پھر وقت کا پانسہ پلٹا وہ جو نیچے کی طرف تھا اوپر کو آگیا ایک پرائیویٹ فرم میں نوکری ملی باس تھوڑا اناڑی تھا پیسے لگاتا لیکن منصوبہ بندی نہ کر پاتا اس کا اپنا اسٹاف ہی اسے دھوکا دے کر پیسے میں ہیر پھیر کر لیتا حیدر کا معصوم چہرہ اسے اتنا بھایا کے اس نے آزمانے کا فیصلہ کر لیا حیدر آزمائشوں کا عادی وہ آزمائش میں پورا اترا۔
پرائیویٹ فرم کے اثرو رسوخ بڑھ گئے اس کے باس کی دولت میں اضافہ ہوا اور حیدر کو چھپڑ پھاڑ کر ملنے والے محاورے کا مطلب سمجھ میں آیا وہ رہتا آج بھی اسی گھر میں تھا لیکن بہترین گاڑی اور مختلف سہولیات نے زندگی کو سہل ترین بنا دیا تھا وہ زندگی گزار رہا تھا ایسی زندگی کہ جسے گزارنے کی لوگ خواہش کرتے کرتے مر جاتے ہیں زندگی جینے کی کسک وہیں باقی تھی وہ بے نام سی اداسی سرد راتوں میں اب بھی اس کے وجود کو ٹھنڈا کر دیتی کافی پیتے پیتے ا سکے گلے میں پھندا لگ جاتا رات کو سوتے سوتے اسے وہ یاد آتی وہ جاگ اٹھتا اس کی پیاس آج بھی باقی تھی اس کی طلب پوری نہیں ہوئی وہ مطمئن نہیں تھا اس نے اللہ جی سے جھوٹ کہا تھا کہ وہ اسے بھول جائے گا وہ اسے بھول نہیں سکا جب کبھی مووی دیکھنے جاتا دو ٹکٹس لیتا اور اپنے ساتھ والی کرسی خالی چھوڑے رکھتا لوگ دو دو کر کے آتے جاتے اسے تکلیف پہنچتی لیکن اسے اس تکلیف سے لطف آنے لگا تھا میں نے اسے کہا تھا مجھ سے زیادہ اسے کوئی خوش نہیں رکھ سکتا۔ کیا فضول وجہ ڈھونڈی تھی شادی کے لیے وہ آج خوش ہے جہاں بھی ہے مجھے یقین ہے وہ خوش ہے اور اگر یہ جھوٹ اس سے بولا تھا تو مجھے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے وہ خود کلامی کرتا اس کی یادون سے تصویروں سے باتیں کرتا اس کے قریبی لوگوں کے لئیے وہ عجوبہ بن گیا۔
محبت میں لڑکیوں کو جوگ لیتے دیکھا گیا تھا وہ ایک نام پر مر جاتی ہیں لیکن لڑکے وہ ایسے روگ کب پالتے ہیں ؟ لیکن وہ لڑکا کب تھا ؟ وہ عاشق تھا کتنی دفعہ ماہ روز اس کے پاس کھڑی ہوتی وہ اسے تھام سکتا تھا لیکن یہ ڈر کے اس کے ہاتھوں پر میرے ہاتھوں کے نشان ہی نہ پڑ جائیں اسے چھونے نہیں دیتا تھا اسے بڑھنے نہیں دیتا تھا وہ اسے موم کی گڑیا لگتی جو اس کی تیز سانسوں سے بھی پگھل جائے گی وہ فاصلہ رکھ کر کھڑا ہوتا لیکن کبھی اس کی خوشبو اتنی تیزی سے اس کی سانسوں سے ٹکراتی کے وہ بنا سوچے بنا سمجھے اس کے قریب چلا جاتا اس کو دیکھتا رہتا اس کو پڑھتا رہتا وہ لمحے کتنے معتبر تھے وہ لمحے واپس آسکتے ہیں؟
نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے یوں ہی جینا تھا تنہا اس کی یادوں کا سہارا لیے ۔۔۔۔۔۔ وہ خوش تھا کہ لوگ اسے عاشق سمجھتے ہیں خوشی عاشق ہونے پر نہیں بلکہ ماہ روز کا عاشق ہونے کی تھی ماہ روز آرام سے کہا کرتی تھی۔
’محبت وحبت کچھ نہیں ہوتی سب کو وقت سب کچھ بھلا دیتا ہے آپ مجھے دیکھتے ہیں تو کشش آپ کو محبت لگتی ہے بھلا ایسے بھی محبت ہوتی ہے ؟ وہ دھیمے دھیمے ہنستا۔
’’میں کرتا ہوں محبت آپ نہیں کرتی تونہ کریں وہ آگے سے چڑ ہی جاتی۔
’’مجھے پتا ہے آپ مجھ سے محبت نہیں کرتے آپ مجھے زچ کرنے کے لیے ایسے کہتے ہیں۔ کتنی دفعہ اس کے اظہار کو ماہ روز نے چٹکیوں میں اڑایا تھا وہ اب سوچتا اور اس کے تخیل سے سوال کرتا اگر یہ محبت نہیں ہے تو کیا ہے ؟ تمہیں گئے عرصہ گزر گیا لیکن تمہارے نشان میرے اندر سے مدہم نہیں ہوتے ہاں تم سچ کہتی تھی مجھے تم سے محبت نہیں ہے مجھے تم سے عشق ہے۔
…٭ء٭…
روز چیلیں صحن میں آکر بیٹھیں اور اڑ جاتیں اپنی چونچ میں گوشت کا ننھا سا لوتھڑا بھی ساتھ لاتیں جس سے خون نکل رہا ہوتا دن کی گرمی اور سڑے ہوئے گوشت کی باس نے فضا میں موت کو رقص میں مبتلا کر رکھا تھا ظفر صاحب موت کے پنجوں سے سراسیمہ تھے انہوں نے الماری سے لوح قرآنی کا فریم نکالا اور صحن میں اسے آویزاں کرنے کی نیت سے بڑھے لوح قرآنی لے کر جیسے ہی صحن میں قدم رکھا گوشت کے ٹکڑوں سے نکلنے والا خون تھم گیا یہ چیز ذہنی الجھن سے کہیں بڑھ کر ہے انہوں نے دل ہی دل تسلیم کیا میز کو دیوار کے ساتھ جوڑ کر رکھا ساتھ ہی روزی کے کمرے سے چیخنے کی آواز آئی انہوں نے لوح قرآنی کو وہیں چھوڑا اور کمرے کی طرف بھاگے کمرے کے ہر کونے سے ہر دیوار سے مکروہ چھپکلیاں نکلی چلی جا رہی تھیں ان سب کی آنکھیں زرد تھیں ایک کونے میں روزی دبکی کھڑی تھی اور وہ سب روزی کے اوپر چڑھتی جا رہی تھیں ظفر صاحب نے غور سے روزی کی آنکھوں کو دیکھا آنکھیں زرد نہیں تھیں یہ ان کی بیٹی کی آنکھیں تھیں ڈری ہوئی سہمی ہوئی التجا کرتی ہوئی آنکھیں۔
انہوں نے آگے بڑھ کر بیٹی کے پاس جانا چاہا مگر درمیان میں چھپکلیوں کا ایک قافلہ تھا وہ نہیں جا سکتے تھے ان کے ہاتھ میں لوح قرآنی آویزاں کرنے کی نیت سے ایک ہتھوڑا تھا انہوں نے ہتھوڑا زمین پر مارا جہاں چھپکلیاں تھیں لیکن وہ ویسے ہی جاتی رہیں ان میں سے کسی ایک کو بھی نقصان نہ پہنچا وہ رینگ رہی تھیں ان کے سرسرانے کی خوفناک آواز کمرے میں خوف کو ہوا دے رہی تھی روزی اب باقاعدہ چیخنے لگی وہ اس کے اوپر تھیں اس کے پاؤں پر ۔۔۔۔۔۔ اس کے ہاتھ پر۔۔۔۔۔۔ اس کی ٹانگوں پر ۔۔۔۔ اس کی رانوں پر ۔۔۔۔۔۔ اس کے پیٹ پر ۔۔۔۔۔۔۔ اس کی پسلیوں پر ۔۔۔۔۔۔ روزی کے جسم میں خون کی گردش رک گئی صرف چھپکلیاں دوڑتی رہیں باہر ، اندر ، اوپر ۔۔۔۔۔۔ ان کا شکنجہ مضبوط ہوا اب وہ جسم کو دھنسا رہی تھیں تکلیف سے روزی کی چیخیں مزید تیز ہوئیں اس نے ان کو جھٹکنا چاہا مگر زرد آنکھیں اور سبز مائل کھردری سطح والی مخلوق چپک چکی تھی وہ اپنا وزن بڑھا رہی تھی اپنا بوجھ ڈال رہی تھی بوجھ سے روزی کی آنکھیں ابل آئیں اس کا چپرہ تمتمایا وہ چیخ رہی تھی۔
ابا ۔۔۔ ابا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابا جی ظفر صاحب دیوانہ وار زمین پر ہتھورے برسا رہے تھے مگر اثر ندارد ۔۔۔۔۔۔۔ چھپکلیوں جیسی مخلوق پر کوئی اثر ہی نہیں تھا وہ ایسے نکلے چلی جا رہی تھیں جیسے جنگ ہو وہ چیخے چلی جا رہی تھی اس کا جسم آہستہ آہستہ چھپکلیون کے جم غفیر میں گم ہوا وہ نگل رہی تھیں اس کی آنکھیں زرد ہوئی بہت درد اس کا گلا بھی چھپکلیوں میں چھپ گیا وہ اب اس کے چہرے کی جانب بڑھنے لگی ظفر صاحب نے ہتھوڑا اٹھا کر زمین پر دے مارا اور اونچی آواز میں چلائے۔
’’نہیں لگاتا لوح قرآنی ۔۔۔۔ نہیں لگاتا ۔۔۔۔ میری بیٹی کو بخش دو میری بیٹی کو چھوڑ دو۔‘‘
آناً فاناً ساری چھپکلیاں کمرے سے غائب ہو گئیں جیسے تھی ہی نہیں روزی نچڑے ہوئے چہرے کے ساتھ فرش پر بے ہوش ہو گئی ظفر صاحب کو اب انا کا بت توڑنا تھا
یہ جو ریگ دشت فراق ہے
یہ رکے اگر تو پتہ چلے
کہ جو فاصلوں کی صلیب ہے
گڑی ہوئی ہے کہاں کہاں
میری چھت سے کدھر گئی
تیرے التفات کی کہکشاں
میں رہی کس نگر
تو رہا کہاں
کہ زمین و آسماں کی وسعتیں
تجھے دیکھنے کو ترس گئیں
وہ مرے نصیب کی بارشیں
کسی اور چھت پر برس گئیں
ماہ روز نے دس سال بعد اسلام آباد میں قدم رکھے اس کی آنکھوں میں بیتے برسوں نے اتنے خنجر چبھوئے کے ہر دم خون رستا رہتا وہ سوچنا چاہتی کہ آج سے دس سال پہلے کہاں تھی اور کیا تھی سوچ نہ پاتی اس کے شل ہوئے اعصاب اسے ماضی کے دریچوں کو کھولنے کی اجازت نہ دیتے اتنی گھٹن تھی کہ سانس لینا محال لیکن سانس چل رہی تھی وہ جی رہی تھی کچھ لوگ ڈھیٹ ہوتے ہیں بہت ڈھیٹ زندگی ان کو ہر طرح سے آزماتی ہے مالی ، ذہنی ، قلبی ، سماجی اور جذباتی پریشانیاں انہیں توڑنے کی پوری کوشش کرتی ہیں لیکن ان کے سن ہوئے اعصاب کسی بھی غیر کو زیادہ عرصہ تک برداشت نہیں کر پاتے سوچ نہیں پاتے محسوس نہیں کر پاتے وہ اس فیز سے نکل کر اگلے فیز میں داخل ہو جاتے ہیں۔
پرانی تکلیفیں بھول جاتے ہیں اور نئی تکلیفوں کو بھولنے کے لیے ان سے سمجھوتہ کر لیتے ہیں دیکھنے والے ان کو خوش قسمت سمجھتے ہیں یہ کوئی خود ان کی ذات سے پوچھے کہ اتنا بھاگنا روح کو کیسے چھلنی کر دیتا ہے اتنی مسافت پیروں کو کتنا آبلہ پا کر دیتی ہے اتنی وحشت احساس کو کیوں مردہ کر دیتی ہے وہ بھی بھاگ بھاگ کر تھک چکی تھی مگر ڈھیٹ تھی جیے چلی جا رہی تھی وہ اگر ماجی کو یاد کرتی تو ہر روز نیا امتحان تھا ہر رات نئی آزمائش تھی لیکن وہ جو دو سال خواب نگری میں گزارے تھے وہ زندگی میں نہیں رک سکے اور اگر وہ نہیں رکے تو برا وقت کیسے رکتا وہ بھی گزرتا چلا گیا وہ ہر دن سوچتی کے آج جو برا ہوا اس سے بھی برا ہو سکتا تھا اور قسمت اسے مایوس نہ کرتی اس کے اوپر اگلا دن اور بھی برا آ جاتا اب کچھ عرصے سے خاموشی تھی گہری خاموشی اسے یقین تھا کہ اب پھر کوئی طوفان آئے گا رب مزید اسے آزمائے گا وہ لاشعوری طور پر ابھی ابھی انڈے سے نکلے چوزے کی طرح زندگی کے پروں میں چھپتی جا رہی تھی اور دنیا کو خوف سے دیکھ رہی تھی کہ کس طرح قسمت وار کرے گی اس سے اپنے پیروں پر کھڑا نہ ہوا جاتا اور کہیں کچھ ٹوٹ رہا تھا۔
میرے اللہ ! یا ارحم الراحمین ! یا ارحم الراحمین ! یا ارحم الراحمین ! بے شک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اب اور آزمائش نہیں اب سکون چاہئیے تھوڑا سا سکون اتنا کہ رات کو ڈر کے مارے نیند کی گولیاں لینے کے باوجود آنکھ نہ کھل جائے اللہ جی اب اور آزمائش نہیں۔
وہ سجدے میں پڑی فریاد کرتی رہی اور فرشتے لمحہ قبولیت کے پروں میں اس کی دعا سمیٹتے رہے
…٭ء٭…
سب سے چھوٹی بہن ہی زیادہ لاڈلی ہوتی ہے آج منی کے گھر پہلے بیٹے کی پیدائش کی خبر ملی آفس سے ہاف لیو لے کر حیدر سیدھا سینٹورس پہنچا یہ مال صرف مہنگی اشیاء کے لیے ہی نہیں گھومنے پھرنے کے لئیے بھی مشہور ہے صد شکر کے دن کا وقت ہونے کی وجہ سے زیادہ رش نہیں تھا وہ بچے کے لیے کچھ کپڑے لینا چاہتا تھا ایک وقت تھا کہ اسے بچے بہت پسند تھے ماہ روز اسے کہا کرتی تھی
’’آپ کے تو شادی کے پہلے ہی سال بچے ہو جانے ہیں ‘ وہ مسکرا کر استفسار کرتا اس میں غلط کیا ہے ؟ ماہ روز کو بچھڑے دس سال گزر گئے اور اب بھی میں اس کی یادوں کی تاروں سے اپنے حصے کی روشنی مانگتا ہوں میںبھی کتنا پاگل ہوں جانتا بھی ہوں اب معجزے نہیں ہوتے۔
سیکنڈ فلور پر elevator سے پہنچتے ہی وہ ٹھٹکا ہمیشہ کی طرح بے نیاز اور تمکنت سے چلتی ہوئی یہ وہی تھی جو ان دس سالوں میں پل پل اس کے ساتھ رہی سونے سے پہلے جس کا خیال چھن کر کے دماغ میں جھٹکنے لگ جاتے صبح ہوتے ہی جس کی یاد افسردگی کا فسوں طاری کر دیتی وہ ہنسنا چاہتا تو ہنس نہیں پاتا اس کی جدائی اسے ہنسنے نہ دیتی وہ رونا چاہتا تو رو نہ پاتا اس کی آخری دعا ہمیشہ خوش رہنا اسے رونے نہ دیتی وہ مردوں کی طرح زندہ تھا ابھی وہ دل ہی دل میں یہ کہہ رہا تھا کہ وہ میری نہیں نہ سہی تو مجھے یوں ہی وہ دکھا دے میرے اللہ میری رگوں میں دوڑتا خون منجمد ہو گیا اس کا تخیل اس کا تصور گرفت سے نکلتا جا رہا ہے ایک دفعہ پھر اسے چلتا پھرتا ہنستا مسکراتا دکھا دے میں تجھ سے نہیں کہوں گا کہ مجھے ماہ روز عطا کر لیکن میری ترسی ہوئی آنکھوں کو ایک جھلک ہی سہی سیراب کر دے اور یہ رہی تھی اس کے سامنے تمکنت اور بے نیازی سے چلتی ہوئی اس کا دل بے اختیار بولا معجزے ہوتے ہیں۔
بات صرف اتنی سی ہے کہ انسان جب اللّٰہ کی عطا پر راضی ہو جاتا ہے تھوڑے کو بہت جاننے لگتا ہے تو اللّٰہ جی اس کو اور عطا کر دیتے ہیں اس کو وہ چیز بھی دے دیتے ہیں جس کے نہ ملنے پر اس کو پانے کی ضد صبر میں بدل جاتی ہے اور پھر صبر شکر میں بدل جاتا ہے ماہ روز کے لمبے کمر تک آتے بال اسٹیپ کٹنگ سے آدھے شانوں پر پڑے تھے اس کے متعلق کلاس میں کہا جاتا تھا کہ وہ دس سال بعد بھی ایسی ہی لگے گی اور وہ ویسی ہی تھی متوازن قدم اٹھا تی ہوئی ۔۔۔۔ اس کی آنکھوں کی چمک ماند پڑ چکی تھی اور چہرے کی معصومیت و ملاحت سنجیدگی کی چادر اوڑھ چکی تھی وہ اس کے پیچھے چلنے لگا اسے ڈر تھا کہ اگر اسے بلایا تو نیند نہ ٹوٹ جائے گا خواب ہاتھوں سے نہ چھوٹ جائے آہستہ آہستہ اس کے پیچھے چلتا وہ خود کو یقین دلاتا رہا کہ وہ ماہ روز ہی ہے کافی دیر بعد اسے یقین آگیا جب ماہ روز نے چلتے ہوئے ہمیشہ کی طرح اپنی مٹھیوں کو بھینچ کر کھولا تھرڈ فلور پر جانے والے elevator پر جب وہ چڑھی اسے کسی نے پکارا
’’ماہ روز‘ یہ حیدر کی آواز تھی اسے لگا کہ امرت رس کانوں میں گھل رہا ہے کوئی مدھر مانوس نغمہ عرصے بعد سماعتوںکو غم شناس کی طرح پر سکون کر رہا ہے ساری مسافت کی ساری تھکان کو اپنی پوروں سے چن رہا ہے۔
اف میں بھی کیا خواب دیکھنے لگ جاتی ہوں اس نے سر جھٹکا
’ماہی ‘ آواز پھر آئی اب کے وہ مڑی گڑبڑا کر elevator پہ توازن قائم نہ رکھ سکی اور گری ۔۔۔۔۔ لیکن وہ اسے گرنے دے سکتا تھا اکیلا ؟ وہ دونوں گرے ہوئے تھے
آس پاس کے لوگ اس حادثے کو حیرت سے دیکھ رہے تھے اور حیدر ہنس رہا تھا وہ کھل کے ہنسا جیسی ماہ روز کی خواہش تھی کے اسے ہنستا ہوا دیکھے ہنستے ہنستے اس کی آنکھوں سے پانی نکلنے لگ گیا وہ رو رہا تھا وہ خواس باختہ تھی اس شخص کے ساتھ رہتے ہوئے ہمیشہ فلمی سین ہی کیوں ہوتے ہیں؟ جناح پارک میں پتوںکا اچانک سے گرنا اور سلامی دینا اور آج اتنے عرصے بعد ان دونوں کا یہاں گر جانا ۔
حیدر کے شاپر سے کسی کھلونے کے بولنے کی آواز آئی وہ دونوں ہوش میں آئے 37 سال کے مرد نے اپنے آنسوؤں پر قابو پایا اور 35 سال کی عورت نے خود کو گھسیٹ کر کھڑا کیا انہیں یاد آیا کہ یونیورسٹی کا زمانہ گزر چکا ہے اور زندگی آگے بڑھ چکی ہے ان کے درمیان دس سال ہیں وہ اب آگے پیچھے نہیں تھے بلکہ ساتھ چلتے چلتے ٹپ فلور پر کرسیوں پر بیٹھ گئے دونوں میں سے کوئی ایک لفظ نہ بولا دس سال کی گہری کھائی کیسے عبور کی جائے دونوں اس مہارت سے انجان تھے۔
’’کیسی ہو ؟‘‘ حیدر اسے دیکھتے ہوئے بولا
’’شکر الحمدللہ ! مجھے کچھ ہو سکتا ہے؟‘‘ ماہ روز ازلی ڈھٹائی لہجے میں سمو کر بولی۔
’’اللہ آپ کے ساتھ کبھی کچھ برا نہ کرے۔‘‘ حیدر نے دعائیہ اندا زمیں کہا وہ مسکرا دی اب اور کتنا برا ہونا تھا۔ اب یہ دعا پچھلے برسوں کی آزمائشوں کو کیسے آسان کر سکتی ہے؟
’’بچے کیسے ہیں؟‘‘ ماہ روز کا سوال عجیب تھا اس کی فطرت میں تھا شک کرنا اس کی سماعتوں سے امرت نکل چکا تھا اب صرف اور صرف سماعت میں ا س کھلونے کی آواز تھی
’’اللہ کا شکر ہے ٹھیک ہیں۔‘‘ حیدر نے اپنی بہن کے بچوں کے بارے میں جواب دیا۔
’’وہ کیسی ہے گڑیا جسے میں کہتی تھی؟‘‘ اگلے سوال نے حیدر کو جھٹکا دیا اب سمجھ میں آئی کے وہ حیدر سے اس کے بچوں کے بارے میں پوچھ رہی تھی اور اب بیوی کے بارے میں وہ ہنسنے لگا۔
’’ہاں جی ! گڑیا ہی ہے بہت اچھی بہت پیاری ہے۔‘‘ ماہ روز کی آنکھ میں کچھ گیا تھا پلکیں بھیگنے لگیں اور اس نے مٹھی بھینچ کر اپنے ضبط کو سہارا دیا اس کے پاس پوچھنے کے لیے کوئی سوال نہ رہا برسوں میں وہ یہی سوچتی تھی کے اگر وہ سکون میں نہیں ہے تو کہیں نا کہیں اس کی یاد چاہے لمحاتی قید میں ہی سہی حیدر کو بھی کسک کا احساس دلاتی ہو گی لیکن حیدر کی ہنسی اور اس کا یقین ۔۔۔۔ تھکاوٹ سے ہڈیاں چٹخی وہ اس کا چہرہ پڑھ رہا تھا۔
’’شادی نہیں کی میں نے۔‘‘ حیدر نے ٹھنڈے لہجے میں جواب دیا لہجہ ٹھنڈا اس لیے تھا کہ اگر اس کی شادی نہیں ہوئی تو کیا فائدہ ؟
ماہ روز کی شادی ہو گئی تھی ناں۔
دنیا کا خوش قسمت ترین انسان کون ہے ؟ حیدر نے قدرے ہچکچا کر پوچھا۔
’’وہ دنیا میں نہیں رہے۔‘‘ ماہ روز نے کہا اور کھڑی ہو گئی وہ جانے لگی تھی حیدر مضطرب ہوا۔
’’آخری فون پر بھی آپ کو جلدی تھی آج بھی جلدی ہے میرے سوال آج بھی وہیں کھڑے ہیں کیسے ہوا یہ سب؟‘‘ حیدر نے اس سے نرمی سے پوچھا۔
’’کچھ سوالوں کے کوئی جواب نہیں ہوتے۔‘‘ ماہ روز نے تھکی سی آواز میں کہا اور قدم بڑھا یا حیدر نے ہاتھ تھام لیا۔
’’بیٹھ جائیں مجھے بس یہ بتائیں کہ میری کیا غلطی تھی ایسے کوئی اچانک سے کیسے چھوڑ کر جا سکتا ہے جیسے آپ نے مجھے چھوڑا ابا جی سے میری اتنی تو بنتی تھی کہ ان کو کندھا دیتا پھر مجھے ایک دوست اور ایک بیٹے کے حق سے کیوں محروم رکھا ؟ آپ نے کبھی میرے آگے ضد نہیں کی تھی۔ میں کہتا تھا یہ لڑکی دنیا کے سامنے کچھ اور ہے اور میرے سامنے کچھ اور لیکن آپ نے مجھے سب کی صف میں لا کھڑا کیا اتنا اچانک نکاح؟ اگر آپ مجھے بتاتی تو کبھی تنہا گھر سے رخصت نہ ہوتی مجھے اتنا خود غرض سمجھ ہی کیسے لیا کہ اگر میرے نصیب میں آپ نہیں ہیں تو میں آپ سے دوستی بھی نہیں نبھا سکوں گا آپ کو مجھ میں میرے اخلاص میں کہاں کمی لگی؟‘‘ وہ شکایتیں کر رہا تھا وہ سارے گلے شکوے جو لا شعور میں پناہ گزین تھے آج لبوں کی قید سے آزاد ہو کر فضا میں چکر کاٹ رہے تھے۔
’’کمی آپ میں نہیں تھی کمی مجھ میں تھی۔‘‘ ماہ روز کی مری ہوئی آواز نکلی۔
’’کون سی کمی ماضی کی کمی کی بات کر رہی ہیں ناں؟‘‘ ہر شخص کا ماضی ہوتا ہے کچھ کا اچھا ہوتا ہے کچھ کا برا ہوتا ہے رشتے احساس کی بنیاد پر قائم کئیے جاتے ہیں مطلقہ عورتوں کی بھی شادیاں ہو جاتی ہیں بیوہ عورتیں بھی شادی کر لیتی ہیں منگنیاں ٹوٹ جاتی ہیں نکاح ختم ہو جاتے ہیں زندگی نہیں ٹھہرتی اور اگر ہم اس کو ٹھہرانے کی کوشش کرتے ہیں تو اس سے بساند آنے لگتی ہے میں نے آپ کی پلکوں کی لرزش دیکھی میں نے آپکی آنکھوں کا چمکنا بھی دیکھا وہ لڑکی جو سب کی آنکھوں میں جھانک کر بات کرتی تھی میرے سامنے اس کی آنکھیں کیوں جھک جاتی تھیں ؟ کوئی تو وجہ تھی ماہ روز اور وہ وجہ محبت تھی چاہے آپ لاکھ انکار کریں سچ یہی ہے کہ آپ کو مجھ سے محبت تھی اگر محبت نہ ہوتی تو کیا میں سنور جاتا ؟ محبت کے علاوہ کس جذبے میں سنوارنے کی طاقت ہے ؟ یک طرفہ محبت تو عذاب دیتی ہے آپ کی محبت میں مجھے سکون ملا پھر آپ کیسے اپنے جذبات پر پردہ ڈال سکتی ہیں ؟ آپ کب تک قاسم کی روزی بن کر زندگی گزاریں گی ؟ آپ نے ایک دفعہ بھی حیدر کی ماہی بن کر کیوں نہیں سوچا؟‘‘ حیدر کے ضبط کا بندھن ٹوٹا اس کی آواز اونچی نہ تھی لیکن ٹھنڈی تھی بہت ٹھنڈی ماہ روز کو جیسے بس اسی کا انتظار تھا ۔
کچھ لوگ ہوتے ہیں نا بڑے ظرف والے بنے پھرتے ہیں اپنے حصار میں قید نظر آتے ہیں لیکن ان کی دم پر پاؤں رکھ دو تو سارے سچ ان کے لبوں سے بلبلا اٹھتے ہیں ماہ روز کی بھی دم پر پاؤں آیا تھا
’ بند کریں قاسم نامہ ۔۔۔۔ میں روزی نہیں ہوں میں ماہ روز ہوں ابا جی کے پاس بیٹھ کر دھیان سے صرف انہی کی باتیں سنتے تو آپ کو پتا چلتا کے وہ آپ کو ماہ روز کا نہیں روزینہ کا قصہ سناتے رہے ہیں ہاں جی آنکھیں کھول کر مت دیکھیں سچ کہہ رہی ہوں روزی روزینہ ظفر تھی ابا جی کی بیٹی اور میں ماہ روز صفدر ہوں ابا جی کی پوتی آپ بیٹھتے ابا جی کے پاس تھے لیکن دھیان مجھ پر رہتا کہ میں کچن میں ہوں یا کمرے میں صحن میں ہوں یا چھت پہ ابا جی مجھے روزی کہہ کر ضرور پکارتے تھے کیوں کہ میرا سارا بچپن ان سے الگ ہی گزرا جب ابا جی نے بابا سے رابطہ کیا تو میں سترہ سال کی تھی۔۔۔۔ اپنی پھوپھو سے چار سال چھوٹی بابا نے پسند کی شادی کی تھی چھوٹی عمر میں یہی کوئی سترہ اٹھا رہ سال سال عمر ہو گی شادی کے بعد دادی کی فوتگی نے انہیں حرمان نصیب بنا دیا پھر میری پیدائش پر میری امی کی وفات نے انہیں اکیلا کر دیا انہوں نے ابا جی سے رابطے کی اتنی کوششیں کی جتنی وہ کر سکتے تھے لیکن ابا جی نہیں مانے پھر ایک دن فون آیا ابا جی رو رہے تھے۔
’’صفدر میری روزی کو بچا لو ‘ بابا پریشان ہو گئے انہیں صدمے در صدے نے ذیابیطس اور گردوں کے مرض میں مبتلا کر دیا تھا وہ پریشان ہو گئے کہ جانے کیسی آزمائش ہے اتنے عرصے بعد باپ نے یاد کیا ہے اگر ان کی امید پر پورا نہ اتر سکا تو جس طرح ساری عمر گزری ہے اسی بد نصیبی میں باقی ماندہ عمر بھی کٹ جائے گی۔
خیر ہم ابا جی کے پاس آئے دروازہ کھولا تو برآمدے میں ہی سر ہاتھوں میں دئیے ابا جی بیٹھے تھے بابا کے گلے لگ کر ان کے ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے بمشکل انہیں سنبھالا تو روزی پھوپھو سے سامنا ہوا ۔
کہتے ہیں ناں یک طرفہ محبت عذاب ہوتی ہے میں نے اس عذاب کی آگ میں جھلستے ہوئے اپنے بہت قریبی رشتے کو دیکھا ہے روزی پھوپھو کی آنکھوں میں اتنی وحشت تھی کے جیسے ان کی آنکھوں سے ساری زندگی چوس لی گئی ہو معاملہ اب یک طرفہ محبت سے بہت آگے بڑھ چکا تھا بابا نے ایک روحانی علاج کرنے والے بزرگ کو ڈھونڈا وہ گھر آئے ایک رات گھر میں رہنے کے بعد انہوں نے بتایا کے جن حقیقتاً پائے جاتے ہیں اللہ کی اس مخلوق کا بلاشبہ ذکر قرآن میں آیا ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا ہے کے ہم نے جن و انس کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے جس طرح سارے انسان اللہ کی عبادت نہیں کرتے بالکل اسی طرح سارے جنات بھی صراط مستقیم پر نہیں چلتے جس طرح انسانوں کی دنیا زمین پر آباد ہے اس طرح زمین سے بارہ فٹ اوپر جنات بھی رہتے ہیں کبھی کبھی وہ زمین پر بھی آ جاتے ہیں جیسے شہد کی مکھیاں میٹھا دیکھ کر پاس آ جاتی ہیں بالکل اسی طرح جنات کو بھی کچھ جیزیں اپنی طرف کھینچتی ہیں مثلاً تیز خوشبو ، نجس ، ویرانہ ، جامن ، پیپل ، برگد ، انار وغیرہ کے درخت زمینی مخلوقات کے بل ، پایا خانے وغیرہ
ہمارے بڑے بزرگ کہتے ہیں کے لڑکیوں کو مغرب کے بعد کھلے بال لے کر پیڑوں کے نیچے نہیں جانا چاہئیے لیکن ہم ماڈرن ہو گئے ہیں ہم کہتے ہیں یہ خبطی بڈھے کیا جانیں ؟ کس جن کے پاس اتنا وقت ہے کہ عاشق ہو جائے ؟ دوسری بات یہ کہ بیوی کی وفات کے بعد شادی کرنا بھی معیوب سمجھا جاتا ہے کے کہیں بے وفائی کا ارتکاب نہ کر بیٹھیں ہمیں اس چیز کی فکر ہونی چاہیے کے جو اولاد ہماری محبوب بیوی چھوڑ کر گئی ہے اس کی تربیت کے لئیے اگر دوسرا نکاح ضروری ہے تو ضرور کریں خاص طور پر بچیوں کی والدہ کو سخت ضرورت ہوتی ہے ایک رات اس گھر میں گزارنے کے بعد مجھے احساس ہوا کے کچھ تو سایہ اس گھر پر ہے اور دوسری غلطی ظفر صاحب آپ کی ہے آپ کے گھر میں بیٹی تھی خودرو بیل نہیں آپ نے اس کو بڑھنے دیا اس کی تربیت اس کی ذمہ داری کو سمجھا ہی نہیں ایسے آنکھیں بند کر کے رکھنے کا کام تو ہم اپنے جانوروں کے ساتھ بھی نہیں کرنا چاہئیے یہ روزینہ تو آپ کی اولاد تھی اگر آپ نے روزِ اول سے ہی روزینہ میں آنے والی تبدیلیوں پر نظر رکھی ہوتی تو آج وہ اس مقام پر نہ ہوتی جنات بھی ایک دم سے حاوی نہیں ہوتے وہ وقت لگاتے ہیں تاک میں بیٹھے رہتے ہیں گھات لگاتے ہیں ہم اللہ کو یاد کرتے ہیں تو دم دبا کر بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر ہم کوئی کمزوری نہیں پکڑاتے ہیں تو وہ گردن سے لپٹ جاتے ہیں آپ سب گھر والے صبح شام منزل پڑھیں تین دن بعد اس گھر سے بوریا بستر باندھیں اور چلے جائیں ابھی ان بزرگ نے اتنی ہی بات کہی تو پھوپھو کے کمرے سے چیخ کی آواز آئی ہم وہاں بھاگتے دوڑتے گئے تو روزی پھوپھو عجیب حالت میں بستر پر پڑی تھی ان کے ہڈیوں کے چٹخنے کی آواز۔ ہم تک آ رہی تھی پھر ان کی آواز نکلی لیکن یہ آواز ان کی نہیں تھی۔
’’مجھے چھوڑ دو مجھے اس کے پاس چھوڑ دو میرے حصار میں نہ آؤ میرا حصار نہ توڑو‘ وہ ہیجانی انداز میں بھاری آواز میں چلا رہی تھی چہرے پر زخم کے نشانات واضح تھے ہاتھوں کی کھینچی ہوئی رگیں اور ایک دوسرے میں پیوست ہوتی پسلیوں سے ان کی تکلیف کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا ہم سب کے رونگٹے کھڑے ہو گئے وہ بزرگ ہم میں سے تیزی سے نکلے اور کمرے کے اندر جا کر دروازہ بند کر دیا اندر سے آنے والی بھاری آواز اور بھی بھاری ہو گئی وہ بزرگ بھی اونچی آواز میں دہاڑنے لگے ان کے منہ سے نکلنے والی آوازیں یقیناً قرآنی کلمات نہیں تھے وہ کچھ اور ہی تھا ابا جی پورے قد سے نیچے آن گرے بابا نے بمشکل ان کو اٹھایا اور بیٹھک میں لے گئے میں ساتھ ساتھ ہی رہی پھر بابا دوڑ کر نکڑ والے کلینک سے نیند کا انجیکشن بھر کر لے آئے میں نے اپنے ہاتھوں سے ابا جی کو لگایا اور پائنتی کے پا س دو زانو بیٹھ گئے میرے اندر کا تجسس کا کیڑا مجھے چین نہیں لینے دے رہا تھا میں اٹھی اور صحن میں آ گئی کمرے سے آنے والی آوازیں تھم سی گئی تھیں بھاری عجیب چیخیں اور مردانی دھاڑیں خاموش ہو چکی تھی میں کھڑکی کے پاس بیٹھ گئی اور درختوں کو دیکھنے لگی اچانک اندر سے زنانہ چیخ بلند ہوئی میرے کان کھڑے ہو گئے میں نے اٹھ کر ہلکا سا کھڑکی کا پٹ وا کیا اندر جو بھی ہو رہا تھا وہ کسی بھی طرھ جن بھوت اتارنے کا طریقہ نہ تھا وہ بزرگ نام کا بزرگ تھا وہ ویسا انسان تھا جو اپنے مقصد پیدائش کو فراموش کر چکا تھا اگر اسے حیوان کہا جائے تو بہتر رہے گا میں دوڑتی ہوئی بیٹھک میں آئی ماں کی عدم موجودگی نے مجھے میرے بابا سے قریب کرنے کے بجائے دور کر دیا تھا وہ اپنی ماں کی موت ، باپ کی جدائی اور بیوی کی وفات سب کا سبب اپنے آپ کو سمجھتے اپنی بیٹی کو محرومیوں سے بھرے دن رات دیتے رہے بابا سامنے تھے اور میرے پاس الفاط نہیں تھے کہ ان سے کچھ کہہ سکوں میں ان کے پاس گئی اور ان کا ہاتھ تھام کر ان کو کھڑا کیا کاش میں نے انہیں نہ پکارا ہوتا کاش میں نے انہیں نہ کھڑا کیا ہوتا مجھے پتہ ہوتا کہ یہ چھونا آخری دفعہ کا چھونا ہو گا تو میں نہ چھوتی وہ میرے ساتھ میکانکی انداز میں چلتے کھڑکی کے پا س آئے اور پھر وہ ہوا جس نے موجوں کی نذر ہوئی زندگی کو بھنور میں ڈبو دیا اگر ابا جی کو دکھاتی تو وہ باپ ہونے کے باعث ذہنی توازن کھو دیتے بابا تو بالکل ہی ہاتھوں سے نکل گئے ان کے اندر بجلی کی سی تیزی آئی بھائی کی غیرت کیسے جاگتی ہے مجھے اس دن معلوم ہوا دروازہ کھولنے پر حیوان گڑبڑا گیا گھگیانے لگا پھوپھو نیم مردہ پڑی تھی میں نے ان پر چادر ڈالی اور با با نے شیشے کا گلدان اس شخص کے سر پر دے مارا وہ بیٹھتا چلا گیا اور خون کا تیز فوارہ فرش کو بھگونے لگا اور عین اسی لمحے بابا نے گلدان کا ٹوٹا ہوا اپنے ہاتھ میں موجود حصہ اپنی گردن پر دے مارا خون کے فوارے یہاں بھی چھوٹ گئے۔
میں اکیلی لڑکی نہ ا س محلے میں جان پہچان نہ کچھ اور نکڑ کے کلینک کا ڈاکٹر ابا جی کو بابا کے گھر آنے کی مبارک باد دینے انہی لمحوں میں پہنچا ابا جی نیند کے انجیکشن کے زیر اثر تھے اس نے صد شکر کچھ ہوتے نہ دیکھا پولیس آئی ابا جی بھی ہوش میں آئے بیٹے کی لاش دیکھ کر ان کو ہارٹ اٹیک ہو گیا مجھے اس وقت لگتا تھا میں کسی لٹو سے چپکا ہوا چھوٹا سا ذرہ ہون زندگی مجھے گھمائے جا رہی تھی ہر پل نیا تھا نرالا تھا ہر دن دہلا دینے والا تھا ایک دن میں اپنے دادا اور پھوپھو سے ملنا پھوپھو کی ذہنی حالت کو دیکھنا نورانی بزرگ کے روپ میں کالے علم والے کالے کرتوت والے بھانڈ کو دیکھنا اپنے باپ کو مرتے ہوئے دیکھنا اپنے دادا کا ہارٹ اٹیک دیکھنا پولیس سے نبٹنا۔
آپ سوچیں حیدر ! اتنی ساری باتیں اتنے حادثے ایک ہی دن میں ہوئے شکر ہے اس دن میں صرف چوبیس ہی گھنٹے تھے ورنہ مجھے پتہ نہیں اور کیا کیا دیکھنا نصیب ہوتا پولیس نے قتل کیس بنایا قاتل اور مقتول دونوں مر چکے تھے ابا جی کی پرانی محلہ داری کی وجہ سے معاملہ دب گیا اور میں جو ساری زندگی یہ سوچتی تھی اپنے باپ کی زندگی کا جمود توڑ دوں گی انہیں ہنسنا سکھا دوں گی ان کی موت پر بین کرنے کے لیے وہیں رہ گئی زندہ رہ گئی۔
دو دن خاموشی سے گزر گئے ہم تینوں میں نہ ہی کوئی زندہ تھا نہ ہی کوئی مردہ ابا جی صبح شام منزل پڑھتے تھے انہیں اس حقیقت سے بے خبر ہی رکھا کہ بابا اور وہ بزرگ کیسے فوت ہوئے ان کی نیک نامی نے گرد و پیش سب کا منہ بند رکھا کیوں کہ میں ایک اور رشتہ کھونے کی ہمت نہیں رکھتی تھی پھوپھو کی وحشت میں کوئی خاص کمی نہ آئی تھی وہ بال کھولے جامن کے پیڑ کی نیچے بیٹھی رہتی ہنستی تو ہنسے چلی جاتی اور روتی تو کوئی ان کو چپ کروانے والا نہ تھا تیسرے دن ابا جی صبح سویرے سے مگن نظر آئے اور پھوپھو اپنے کمرے میں بند میں اجنبیوں کی طرح کھلے آسمان کو تکا کرتی کے اے اللہ تو نے مجھے اس گھر میں بھیجا تھا ؟ میں بچپن سے تجھ سے رشتوں کی کمی کا شکوہ کرتی رہی تو نے یہ کیسے رشتے دئیے ؟ یہ وہ لوگ ہیں جن میں سے کسی کو پتا ہی نہیں کے میں کس کرب سے گزر رہی ہوں تھوڑی خود غرض ہوں ناں ان لوگوںکی تکلیف نہ سمجھ سکی شام ہوتے ہی ابا جی نے اذن روانگی دیا اور کہا کہ پھوپھو کو بھی گھر سے ساتھ لے جانا ہے اسے بلاؤ وہ شاید ابھی تک اسی ڈھونگی کے معتقد تھے میرا دل چاہا کہ انہیں سب بتا دوں لیکن خاموش رہی روزی پھوپھو کے کمرے کا دروازہ بجایا جواب ندارد دوبارہ بجایا جواب خاموشی سہ بار بجایا کچھ نہ ہوا ابا جی نے آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا ایک اور قیامت منتظر تھی وہ بستر پر تھیں اور ان کی آنکھیں ٹہر چکی تھیں ان کے ماتھے پر چھپکلی مردہ پڑی ہوئی تھی ابا جی ہونقوں کی طرح دیکھ رہے تھے انہیں اظہار غم کا طریقہ بھی نہیں سوجھ رہا تھا انہیں یقین ہی نہیں آ رہا تھا میں نے آگے بڑھ کر ماتھے سے مردہ چھپکلی ہٹائی اور ان کی آنکھیں بند کر دی تدفین تک ا س گھر میں رہے اور پھر رات کے اندھیرے میں گھر چھوڑ دیا۔
’’نئے گھر میں جہاں آپ بھی آتے جاتے رہے ہیں شکر ہے کوئی مسئلہ نہیں ہوا ابا جی کو بس خاموشی کھا گئی اور میرے پاس جینے کے لیے بس ایک ہی سہارا تھا میں نے اپنی تمام تر توانائیاں خرچ کر دیں دو سال بعد ابا جی اللہ کے کرم سے اس قابل ہوئے کے انہوں نے خود میرا داخلہ یونیورسٹی میں کروایا۔‘‘
ماہ روز بتاتے بتاتے کئی دفعہ روئی کئی بار ہچکیاں لیں آنکھوں میں وحشت ناچی اور ہیبت ٹپکی یہ سب وہ ٹیبل پر نظر ٹکا کر بولتی رہی سامنے دیکھا تو حیدر کا پریشان سا چہرہ سامنے تھا وہ حواس باختہ تھا اسے بڑا مان تھا کہ مجھے چہرے پڑھنے آتے ہیں اور آج اس کا مان بری طرح سے خاک بوس ہوا تھا وہ بھی ایسی جگہ جہاں نہیں ہونا چاہئیے تھا حیدر کو دیکھ کر اسے پھر سے غصہ آیا۔
’’میں اس ماضی کی بات کرتی تھی جو آپ کو سنایا لیکن آپ کا ماضی قاسم سے باہر نکلتا ہی نہیں تھا اس دن یونیورسٹی جاتے ہوئے مجھ سے سو کالڈ اظہار محبت کیا تو اس میں بھی یہی کہا کے آپ کو میرے ماضی سے کوئی سروکار نہیں اس وقت تو میں بہت خوش ہوئی کہ یہ شخص مجھ سے اتنی محبت کرتا ہے کہ وہ چیزیں جو میرے ماضی کا حصہ نہیں ہیں اور بد ترین ہیں ان کا ہونا بھی اس شخص کی محبت پر اثر انداز نہیں ہوتا کیسی غیر مشروط محبت ہے اس شخص کی مجھے تو اپنی خوش قسمتی پر ہی یقین نہیں آ رہا تھا ہاں ہوئی تھی مجھے آپ سے محبت کوئی شخص اتنا دیکھے گا اتنے غور سے دیکھے گا اتنے پیار سے دیکھے گا اتنا مان دے گا اتنی عزت دے گا تو اس سے محبت کیسے نہیں ہو گی میں نے نہیں کی تھی آپ سے محبت میں نے کرنی ہی نہیں تھی لیکن خود ہی ہو گئی۔
اس کی آواز مدہم ہوئی کیوں کہ سامنے بیٹھے شخص کی آنکھیں چمک اٹھی تھیں اس کے اندر پھر ابا ل اٹھا وہ ایسی ہی تھی جذباتی سی پاگل سی جب جذبے لٹائے نہ جائیں تو وہ اندر سینت سینت کر لاوا بن جاتے ہیں اور لاوا بے سمت بے لگام ہوتا ہے۔
’ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں ابھی بھی مجھے آپ سے محبت ہے تو نہیں ہے ہو ہی نہیں سکتی آپ نے جھوٹ بولا کہ آپ کو چہرے پڑھنے آتے ہیں آپ کو تو باتیں بھی سمجھنی نہیں آتی چہرے پڑھنے کیسے آئیں گے اگر آپ میرے پیچھے آئے تو میں آپ کا حشر کر دوں گی سمجھ آئی ؟ اللّٰہ حافظ پتا نہیں اللّٰہ جی اجنبیوں سے کیوں ملواتے ہیں مجھے۔
وہ تپی اور اٹھ کر چل دی حیدر خاموشی سے بیٹھا رہا اور اس کی پشت کو دیکھ کر مسکراتا رہا پھر ٹیبل پر دیکھا اپنی کہانی سناتے ہوئے ماہ روز کے ہاتھوں پر پسینہ آیا تھا اس نے اپنی انگلیاں مروڑی تھیں اور اس نے انگوٹھی اتار کر ٹیبل پر رکھی تھی حیدر نے انگوٹھی اٹھائی اور مٹھی میں دبا لی۔
ماہ روز جب ملی تو اس نے مخصوص کمپنی کے یونیفارم کی شرٹ پہن رکھی تھی جو ٹخنوں تک آ رہی تھی ساتھ کھلا ٹراؤزر بھی تھا جب وہ اٹھ کر گئی تو حیدر نے اس لیے جانے دیا کہ یہ لڑکی جب شعلہ جوالہ بنی ہو تو اسے اس کے حال پر چھوڑ دینا ہی اچھا ہے اور جب غصہ اتر جائے اور اس سے بات کرو تو اچھی خاصی بھیگی بلی بن جاتی اور یہ غصہ عموماً سو کر اٹھنے کے بعد ختم ہو جاتا اس کے علاوہ غصہ کرنے کے بعد اس کے پاس دو آپشنز ہوتے یا رونا یا سونا۔
کیا ہوا جو میں چہرے نہیں پڑھ سکتا لیکن جتنا میں اسے سمجھتا ہوں اتنا کوئی نہیں سمجھ سکتا حیدر نے پہلے سوچا پھر خود کو خود ہی جھڑکا ان خوش فہمیوں نے اسے پہلے ہی کہیں کا نہ چھوڑا تھا ابھی مجھے میرے سوالوں کے جواب نہیں ملے وہ چاہیں اف کریں یا ہائے انہیں مجھ سے ملنا ہی ہو گا مصمم ارادہ کر کے اگلی صبح وہ پھر سینٹورس میں تھا آج اس نے ہلکے سے سکن کلر کی شرٹ اور لائٹ بلیو کلر کی جینز پہنی تھی بصارت از سر نو تازہ ہو گئی تھی اور سماعتیں بھی خوشی کے شادیانے سن رہی تھیں دل اک موسم اچھا ہو تو کچھ بھی برا نہیں لگتا۔
لنچ بریک ہوئی تو ایک ایک کر کے مختلف یونیفارم پہنے ورکرز کھانا کھانے ٹاپ فلور پر آ رہے تھی حیدر نے خود کو calm down رکھنے کی بہت کوشش کی تھی لیکن دل اس شوخی پر ہی آمادہ ہوا جو دس سال پہلے ماہ روز کو دیکھتے ہی امڈ کر آنے لگتی تھی اس نے مچلتے دل کو سنبھالا اور سیدھا کھڑا ہو گیا ماہ روز اکیلی اوپر آ رہی تھی وہ آئی اور حیدر اس کے کان کے قریب جا کر بولا۔
May if you don’t mind can i have your precious time
ماہ روز نے چونک کر دیکھا اور ذرا سڑے ہوئے لہجے میں بولی۔
I don’t understand that why people can not mind their own business
حیدر مسکرایا اور بولا
If you are allow speak single word for me then what will be that ?
وہ ویسے ہی شوخ ہوا جیسے ہوا کرتا تھا کہ ماہ روز تو پیدا ہی اس کے سوالوں کا جواب دینے کے لیے ہوئی تھی
shut up
ماہ روز نے ہمیشہ کی طرح سپاٹ لہجے میں کہا اور حیدر کھلکھلا کر ہنس پڑا
وہی ہنسی ۔۔۔۔ ماہ روز تم نے پاگل نہیں ہونا دیکھو ہی مت اس کی طرف ماہ روز نے خود کو ڈپٹا۔
تکلی کیا ہے آپ کو۔ اب وہ چٹخ کر بولی
’’وہی جو آپ کو نہیں ہے۔‘‘ حیدر نے چڑایا۔
’’چاہتے کیا ہیں۔‘‘ وہ مزید تپی۔
’’کتنی دفعہ اظہار محبت کروانا چاہتی ہیں؟‘‘ حیدر نے سلگایا۔
’’بھاڑ میں جائیں۔‘‘ ماہ روز نے تکیہ کلام کا استعمال کیا۔
’’آپ ساتھ چلیں گی تو چلا جاؤں گا۔‘‘ حیدر نے یوں کہا جیسے وہ ناران کاغان کی بات کر رہی ہے اب کے ماہ روز اس کی طرف مڑی اور انگلی اٹھائی۔
’’حیدر۔‘‘ حیدر نے اپنی انگلی سے ماہ روز کی انگلی پکڑی یہ بہت بے ساختہ سی حرکت تھی وہ اسے عزیز تر تھی اور پھر اس سے دور چلی گئی۔ اب ملی تو دل چاہتا تھا کہ اسے پوروں میں سمیٹ لے سارے لحاظ کہیں دور کہیں پیچھے رہ گئے تھے۔
’’میرے سوالوں کے جواب جب تک مجھے نہیں دیں گی میں یوں ہی ستاتا رہوں گا۔ حیدر نے دھیرے سے انگلی چھوڑتے ہوئے کہا ماہ روز کو چپ لگ گئی بے شک وہ بیوہ تھی برتی ہوئی تھی لیکن اس پیار سے جب کبھی کوئی چھوتا ہے تو دھڑکن تھم جاتی ہے وہ دونوں غیر ارادی طور پر کل والی ٹیبل پر ہی آ گے۔
’’چلیں سنائیں۔‘‘ حیدر نے یون کہا جیسے وہ چھوٹا سا بچہ ہے اور ماہ روز نے اسے کہانی سنانی ہے۔
’’پاگل ہی رہنا ہمیشہ ایسے کہیں گے تو کسیے سناؤں گی؟‘‘ ماہ روز نے اس کی نگاہوں سے جھجکتے ہوئے کہا۔
’’نیچے دیکھ کر سنا دیں ‘ حیدر نے پھر یون تسلی دی جیسے کلاس روم میں ٹیچر کسی بچے میں حوصلہ بڑھانے کے لیے سب کی نظروں سے بچنے کا گُر سکھاتا ہے ماہ روز نے اسے دیکھا اور پھر نیچے دیکھ رک بولی۔
’’کہاں تک غصہ کیا تھا میں نے۔‘‘ آپ کو پھر بات بھول گئی ہے ناں مجھے دیکھ کر حیدر نے چٹکلہ چھوڑا۔
’’بندہ بنیں بتا رہی ہوں جب میں آپ کے گھر گئی تو میں بہت خوش تھی پھر جیسے گڑیا نے میرے ساتھ برتاؤ کیا میرے اندر کی محرومیاں اس گھر کے پودوں سے ہی بھرنے لگ گئی انسان تو پھر بہت آگے کی بات ہیں گڑیا نے مجھے گھر کے سب حالات بتائے مجھے خوشی ہوئی کے میرے ساتھ ایک ایسا شخص ہے جو اپنی بہنوں سے محبت کرنے والا ہے اسے رشتوں کا احساس ہے اور حرمتوں کا پاس ہے گڑیا کی آنکھوں میں آپ کے لیے بہت محبت تھی اور آنکھوں میں بہت عزت تھی جب سدرہ باجی کی زندگی کے بارے میں پتا لگا تو میں حقیتاً بہت متاثر ہوئی ایک لڑکی جو جوان ہے خوبصورت ہے جس کا رشتہ طے ہوا ہے لیکن وہ اپنے متعلق نہیں سوچتی وہ چوڑیوں پراندوں کے لیے پیسے نہیں جوڑتی بلکہ اپنے بہن بھائیوں کی فیس پوری کرتی ہے اپنے ارمان اپنے خواب چھوڑ دیتی ہے پھر شادی کے بعد بھی خود کو وہ اپنے بھائی کی مجبوری نہیں بننے دیتی وہ اپنے بھائی کی کامیابی کو اپنے شوہر پر لٹانا نہیں چاہتی وہ چاہتی ہے کے وہ وفا شعار بیوی بنے لیکن وہ بے چاری بہن کا لقب نہیں اپنانا چاہتی پھر گڑیا نے مجھے آپ کے جذبات کی صداقت کا یقین دلایا میں حقیقتاً شکر گزار ہوئی کے اس گھر میں مجھے خوشیوں کی نوید سمجھا گیا ہے لیکن جب گڑیا نے مجھے بتایا کے انصر بھائی نے اپنی بہن کی شادی کی شرط رکھی ہے میں سن ہو گئی میں نے ظاہر نہیں کیا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا کوئی لفظ نہیں تھا کہ میں اپنے جذبات کا اظہار کر سکتی سدرہ باجی نے بھی گھر آ کر جیسے پیار لٹایا میں شرمندہ ہو گئی میں نے اپنے فیصلے کو مستحکم کر لیا کہ اب کچھ بھی ہو جائے میں آپ بہن بھائیوں کی زندگی میں اپنی وجہ سے کوئی تلاطم کوئی طوفان نہیں آنے دوں گی۔‘‘ ماہ روز نے بڑے اٹل لہجے میں اس دن کے حوالے سے بتایا۔
’’کیا مطلب آپ کیا کہنا چاہ رہی ہیں۔‘‘ حیدر کو یہ لڑکی حیران کر رہی تھی وہ اس کو predictable کہا کرتا تھا اور آج اسے پتا چل رہا تھا کہ اس لڑکی نے اپنے آپ کو ایک لفظ میں بیان کرتے ہوئے unpredictable جو کہا تھا بالکل ٹھیک کہا تھا اس نے حیرانگی سے پوچھا۔
’’بتانے دیں نا مجھے بتا رہی ہونے میں آ پ کے گھر سے نکلتے ہوئے پکا ارادہ کر لیا کہ آپ سے آہستہ آہستہ تعلق ختم کر لوں گی آپ پھر آنسہ سے شادی کر لیں گے میرے جذبات میں ہمیشہ کی طرح بھونچال آیا ہوا تھا اور مجھے لگ رہا تھا جو میں نے سوچا ہے وہ صحیح ہے اور وہی کرنا ہے میں گھر جا کر سونا چاہتی تھی لیکن گھر میں میرے داخل ہونے سے پہلے دو اجنبی مرد اور ایک خاتون ابا جی کو سنبھالتے ہوئے نکلے انہیں ہارٹ اٹیک ہوا تھا میں آپ سے رابطہ کرنا چاہ رہی تھی نہیں کیا آپ کے اپنے گھر پریشانی تھی میں آپ کو کیسے تنگ کرتی؟ بہرحال پریشانی میں آخری سانسوں میں ابا جی نے آپ کو پکارا لیکن میں نے منع کر دیا ہم سمجھتے ہیں ہمارے بڑوں نے ہماری طرف سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں لیکن ایسا سچ میں ہوتا نہیں ہے وہ آنکھیں جو ہمیں بند نظر آ رہی ہوتی ہیں ان بند آنکھوں سے ہمارے بڑے نہ صرف ہماری نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہوتے ہیں بلکہ ہماری بدلتی سوچ کو بھی جانچ پرکھ رہے ہوتے ہیں میں جو سمجھتی تھی ابا جی کو ہمارے تعلق کے بارے میں کچھ نہین پتا اس رات پتا لگا انہیں تو شاید مجھ سے بھی زیادہ پتہ ہے بہرحال جب میں نے انہیں یقین دلایا کے آپ نہیں آ سکتے تو انہوں نے اسریٰ باجی کے ہاتھوں میں میرا ہاتھ دے دیا کے وہ اپنے دیور کے لیے مجھے لے جا سکتی ہیں یہ وہی اسریٰ باجی تھی جو قاسم کی بہن ہیں قاسم کو میں اب ان کے مرنے کے بعد بھی بھائی نہیں کہہ سکتی اس شخص سے اتنی نفرت ہے مجھے اسریٰ باجی نے کچھ گھول کر پلایا تھا یا ابا جی کو منہ موڑتی سانسوں میں رہزن سے بڑا کوئی رہبر نہ ملا میرا نکاح آناً فاناً واصف سے ہو گیا ابا جی کی روح جسم کے پنجرے سے آزاد ہو گئی آپ کو انفارم کرنے کے بعد میں کینیڈا چلی گئی۔
کینیڈا میں کہنے کو واصف کی اسپئر پارٹس کی شاپ تھی عجیب مکینیکل قسم کا بندہ تھا محدود وقف کے لیے بولتا محدود وقت کے لیے مسکراتا محدود وقت کے لیے خوش ہوتا اور اس محدود کے لفظ سے مجھے اس وقت لگاؤ ہوا جب وہ مجھ پر تشدد بھی محدود وقت کے لیے کرتا اس کی کوئی نفسیاتی الجھن تھی وہ اپنے دماغ کی گتھیاں سلجھانے میں مصروف رہتا میں مدد کرنے کی کوشش کرتی تو الجھ جاتا سچ پوچھیں تو جب وہ میرے سامنے آیا اس نے مجھ سے پہلا سوال پوچھا۔
’’حیدر کون تھا اور میرے پاس کوئی جواب نہ تھا میں جو صاف دل لے کر گئی تھی میرے زخموں کے بخیے ادھیڑنے لگے میں نے پھر بھی خود پر قابو پایا بناہ کی پوری کوشش کی تھی۔
لیکن یہ نہ تھی ہماری قسمت کے وصال یار ہوتا۔
ایک دن وہ اچانک دکان سے آیا اور اپنے کاروبار کے تمام کاغذات میرے نام کر دئیے میں حیران پریشان کھڑی سوچتی رہی کے سورج کس طرف سے نکلا ہے اس نے مجھے یوں لاؤنج میں ششدر کھڑا رہنے دیا اور اپنا پاسپورٹ لے کر نکل گیا شام تک سب بھید کھل گئے وہ سپئیر پارٹس کی دکان کی آڑ میں جعلی ویزوں کاروبار کرتا تھا تین دن بعد اس کی لاش گھر آئی کسی نے اسے قتل کر دیا تھا اور کاروبار بھی سارے کا سارا قرضے میں ڈوبا ہوا تھا جیتے وقت اپنی ذہنی الجھنوں سے گھاؤ دیتا رہا مرتے وقت سارا ادھار میرے نام کر گیا ۔
میں ان شب و روز کی اذیت لفظوں میں بیان ہی نہیں کر سکتی انسان جو درد خود جھیلتا ہے اسے ہی صحیح سے سمجھتا ہے میں نے اللہ سے اپنے بابا کی موت کے دن کی سختی کی شکایت کی تھی لیکن یہ شب و روز ختم ہونے میں ہی نہیں آتے تھے بس ایک آگ ہی آگ تھی جو چاروں طرف سے مجھے لپیٹ رہی تھی واصف خود پڑھا لکھا نہیں تھا اس نے میری ڈگریاں بھی جلا دیں ایم ایس فزکس کہیں دور رہ گئی اور میں لوگوں کے گھروں میں کام کرنے والی بن گئی سات سال میرے بھاگتے دوڑتے گزر گئے مجھے لگتا تھا کہ میں اپنی ہڈیوں کا گودا نکال کر لوگوں کو دے رہی ہوں اتنا کام اتنی مصروفیت اتنی تھکاوٹ کہ کبھی آئینہ دیکھتی تو حیران ہوتی کہ میں کیسے زندہ ہوں تین سال پہلے بمشکل قرضہ ختم ہوا تھوڑی بہتر نوکری ملی وہاں بھی جوتیاں چٹخا چٹخا کر اب اس جگہ آن پہنچی ہوں کے میرے لیے پاکستان آنا ممکن ہوا عنقریب ارادہ ہے کہ اپنی یونیورسٹی سے ڈگری نکلواؤں یا پھر یہاں تو انگریزی کا رعب ہی بہت ہے کسی اسکول میں جا کر انگلش بولوں گی تو ٹیچر ہی رکھ لیں گے لیکن پھر سوچتی ہوں سارا دن پڑھا کر پچیس ہزار سے پینتیس ہزار والی نوکری بہتر ہے یونیورسٹی جانے کا بھی دل نہین کرتا پرانے راستوں پر الٹے قدم کیسے رکھوں۔‘‘ ماہ روز بولتے بولتے تھکی اور اس نے سر کرسی کی پشت گاہ سے ٹکا دیا اسے یقین تھا کہ اب حیدر تسلی آمیز الفاط بولے گا حوصلہ بڑھائے گا اس کے سفر کی تکان سمیٹے گا حیدر نے ایک لفظ منہ سے نہ نکالا اور اٹھ کر کھڑا ہو گیا ماہ روز حیران ہوئی یہ مجھے چھوڑ کر جانے والا ہے ؟ پھر پریشان ہوئی کیا یہ واقعی مجھے چھوڑ جائے گا؟ اس نے سیدھے ہاتھ سے گاڑی کی چابی تھامی اور الٹے ہاتھ سے ماہ روز کو بازو سے تھام کر کھڑا کیا وہ لاشعوری طور پر اس کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی دو قدم کا یہ فاصلہ حیدر کی خاموشی کی وجہ سے تھا وہ منہ سے کسی قسم کی کوئی ہدایات نہیں دے رہا تھا لیکن اس نے ماہ روز کا بازو ایک لمحے کے لیے بھی نہیں چھوڑا وہ اسی طرح چلتے باہر آ گئے گاڑی کا دروازہ کھول کر اس نے ماہ روز کو اندر بٹھایا سارے راستے خاموشی ہی رہی ویسی ہی خاموشی جیسی یونیورسٹی سے پہلی دفعہ ماہ روز کے گھر جاتے ہوئے تھی گاڑی کے شیشے کے ساتھ ایک چین لگی ہوئی تھی ماہ روز نے اسے پکڑ کر دیکھا چھوٹا سا دل بنا ہوا تھا دل اس نے پکڑ رکھا تھا جب حیدر نے گاڑی چلاتے ہوئے ہلکا سا اس دل کو اوپر سے پش کیا وہ لاکٹ کھل گیا اس پر لکھا تھا
Mahrooz First and last love
ماہ روز حیران ہونا چھوڑکر خالی الذہن سی بیٹھی سوچنے لگی اپنی کہانی سنا کر میں اس شخص کی ہمدردی تو نہیں بٹور رہی گاری جانے پہچانے راستے سے ہوتے ہوئے اسی گھر کے سامنے کھڑی ہو گئی وہ گھر بدل چکا تھا مکمل بدل چکا تھا حیدر نے دروازہ کھول کر اسے ہاتھ سے تھام کر باہر نکالا ماہ روز اسے روک نہ سکی گھر کے باہر بڑے پیارے لکڑی کے فریم میں ’نیل محل ‘ لکھا ہوا تھا گھر کے باہر ہلکے نیلے رنگ کی خوبصورت ٹائلیں لگی ہوئی تھیں اور سفید رنگ کی سپرنگ شیڈ گرل کھڑکیوں کے پاس لگی تھی باہر کی کیاری ختم کر کے دروازہ بڑا کر لیا گیا تھا اور کھڑکیوں کے آگے تھوڑی سی جگہ پر گملوں سے نکلی بیلیں ان سپرنگ شیڈ گرل پر بہت خوبصورتی سے لپٹی ہوئی تھی مین گیٹ سلائیڈ کر کے سائیڈ پر کیا اور وہ ماہ روز کا ہاتھ ویسے ہی تھامے اسے اندر لے گیا راہداری میں بھی ہلکے نیلے رنگ کی ٹائلیں لگی تھیں اور اس کے بعد صحن میں نیلے رنگ کے ہر شیڈ کو بڑی خوبصورتی سے استعمال کیا گیا تھا نیلے رنگ کے فانوس جن سے نکلتی سفید روشنی ٹھنڈی لگ رہی تھی سفید رنگ کی بیلوں کو بڑھانے کے لیے اسٹیل کے فریم کے اوپر دیدہ زیب بیلیں ۔۔۔۔ دیواروں پر ہلکے نیلے رنگ کی ٹائلوں سے زمین بنی تھی جس پر گہرے نیلے اور کھلتے نیلے رنگ کی چھوٹی چھوٹی مختلف اشکال کی ٹائلوں سے پھول بنے تھے یہ کواب تھا وہ نیلے بھاری پردے کو ہٹا کر کمرے میں داخل ہوا یہ کمرہ کافی بڑا تھا کسی کے ہنسنے کی آوازیں آ رہی تھیں آدھا کمرہ عبور کر کے ماہ روز کو احساس ہو اکے ضرور اس گھر کے عین پیچھے موجود گھر خرید کر اس گھر کو بڑا کیا گیا ہے ورنہ پچھلی دفعہ کمرے کافی چھوٹے تھے کمرے کے وسط میں نیلے جالی کے پردے لگے ہوئے تھے جن پر سفید رنگ کے پھول بنے ہوئے تھے اور پھولوں پر چاندی سی چمک تھی پردوں کے اس پار کچھ نظر نہ آ رہا تھا
نیلے پردے ہٹے تو سلور پردے تھے اور پھر پہلے جیسے نیلے پردے ان پردوں سے نکل کر جب وہ کمرے کے دوسری جانب پہنچے تو حیدر کی بہنیں خوش گپیوں میں مصروف نظر آئیں سامنے دیوار پر حیدر کی اور ماہ روز کی تصویریں الگ الگ تھیں اور حیدر بہنوں کی تصویریں اپنے شوہروں کے ساتھ تھیں۔
’’ماہ روز۔‘‘ سب کے منہ سے اچانک نکلا ہاتھ ساکت ہو گئے وہ سب اٹھ کر آنا چاہ رہی تھیں کہ حیدر نے ہاتھ کے اشارے سے منع کر دیا۔
’’رک جائیں سب وہیں رہیں ان سے ملنے یا انہیں ہاتھ لگانے کی قطعاً ضرورت نہیں یہ تو قربانی کی دیوی ہیں ان کو دیکھنا ہی تبرک ملنے کے برابر ہے ان کو صرف پوجا جانا چاہیے آپ سب اور میں بس یہی سوچتے رہے کے آخر ایسا کیا ہوا کونسا طوفان آ گیا کہ اچانک سے یہ غائب ہو گئیں ان کا راتوں رات نکاح کیسے ہو گیا ؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈتے ڈھونڈتے میرے پاس لفظ ختم ہو گئے گڑیا نے صرف ان کو یہاں تک بتایا کہ سدرہ باجی کو جلانے کی کوشش کی ہے اور انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ یہ ہماری زندگیوں میں مشکلات کھڑی نہیں کریں گی اس لیے یہ چلی گئیں اس لیے ان کا نکاح ہو گیا اس کے بعد کی زندگی میں مشکلیں آئی تب بھی انہیں میں یاد نہیں آیا یہ ایک دوست کی حیثیت سے ہی مجھ سے مد دمانگ لیتی مجھے سے اپنا غم بانٹ لیتی لیکن نہیں ان کی انا ان کے قد سے زیادہ بڑی ہے۔‘‘ حیدر نے سینے تک آتی ماہ روز کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’تم مذاق کر رہے ہو حیدر ‘ سدرہ باجی بھی سامعین میں شامل تھی۔
’نہیں انہوں نے میری زندگی کے ساتھ مذاق کیا ہے ‘حیدر دل برداشتہ تھا وہ پھر ماہ روز کی طرف مڑا اسے کندھوں سے پکڑ کر اپنے سامنے بٹھایا۔
’’آپ آدھی بات کیوں سنتی ہیں ؟ آپ آدھی بات کیوں سمجھتی ہیں؟ ٹھیک ہے میں کوتاہ نظر ہوں چہرے نہیں پڑھ پاتا لیکن آپ تو بقراط کا فلسفہ جھاڑتی ہیں ناں پھر اتنا فوری فیصلہ کیوں اور کیسے کر لیا بہت شوق تھا مجھے تنہا کرنے کا ؟ ایک دفعہ مجھ سے تو پوچھتی ایک دفعہ میری تو سنتی میںکوئی حل نکالتا آپ کی الجھن سلجھاتا مجھے اپنے بیتے برسوں کا کوئی ملال نہیں مجھے دکھ ہے تو آپ کا ہے کیسے آپ نے اپنی ذات پر تنہائی کا عذاب جھیلا ہو گا وہ تنہائی دکھ نہیں دیتی جس میں کوئی ساتھ نہ ہو تنہائی تب دکھ دیتی ہے جب کوئی ساتھ ہو کر بھی ساتھ نہ ہو تنہائی آپ نے دیکھی ہے آپ نے جھیلی ہے میں نے آپ کو اللہ کا انعام سمجھا تھا جسے سینت سینت کر رکھنا تھا آپ نے پتہ نہیں کیسے مجھ سے وہ حق چھین لیا جو صرف میرا تھا۔ ماہ روز کو کچھ سمجھ میں نہ آیا اسے بس شرم آ رہی تھی کہ سب کے سامنے حیدر یہ کیسے دیکھ رہا ہے اور کیا کہہ رہا ہے سدرہ باجی مدد کو آگے بڑھی۔
’’ ماہ روز اس دن انصر نے مجھے جلانے کی کوشش کی اور مجھے بچانے کے لئیے میرا بیٹا ہادی آگے آ گیا وہ جتنا اس کو سنبھالنے کی کوشش کرتے وہ اتنا ان کی ٹانگوں سے نکل کر میری ٹانگ پر لگی آگ اپنے ہاتھ سے بجھاتا رہا میں جلی سو جلی ہادی کے ہاتھ بھی جل گئے حیدر کو پتا چلا تو وہ اسپتال لے گیا انصر بھی ہادی اور ہادیہ کو لے کر وہیں آ گئے میں نے اس وقت دل کڑا کر لیا ہم جب باہر نکلے تو انصر نے گھر چلنے کو کہا ہادی میری گود میں آنے کو بے تاب تھا لیکن میں نے اسے نہ اٹھایا میں نے حیدر کا ہاتھ دبا کر انصر کو کہا۔
’’میں آپ کو چھوڑ کر جا رہی ہوں مجھے نہ آپ کا ساتھ چاہئیے اور نہ آپ کے بچے ‘ انصر ششدر رہ گئے انہیں لگتا تھا وہ کوئی بھی ظلم کر لیں گے تو بچوں کو ہتھیار بنا کر میرے زخموں پر نمک بھی چھڑک لیں گے اور میرے وجود کو مٹی مٹی کرتے رہیں گے انہیں لگتا تھا کہ میں ایک بہن کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہوں ایک ماں کی حیثیت سے ضرور کمزور ثابت ہوں گی انہیں ٹھیک لگتا تھا لیکن میں یہ بھی جانتی تھی کہ ایک شوہر کی حیثیت سے وہ کتنے ہی جلاد اور سفاک کیوں نہ ہو ان کے اندر کا باپ ضرور نرم دل ہو گا انہوں نے اولاد کو میری کمزوری بنا کر استعمال کرنا چاہا اور میں نے اسے طاقت بنا لیا وہ کچھ بھی کر سکتے تھے لیکن اپنے بچوں کو ماں سے دور کرنے کے ظلم کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتے تھے انہوں نے جو مجھے جلانے کی کوشش کی وہ نا کام کوشش نہیں تھی اس کوشش کو انہوں نے اپنی مرضی سے ناکام کیا وہ میرا چہرہ بھی جلا سکتے تھے میرے اوپر تیل پھینک سکتے تھے لیکن نہیں انہوں نے صرف مجھے پریشرائز کرنا تھا مجھے دھکا دے کر میری ٹانگ اور پاؤں پر تیل پھینکا خود ہی حیدر کو فون کیا انہیں پتا تھا حیدر میری تکلیف نہیں برداشت کر سکے گا فوری ہاں کر دے گا لیکن اسپتال میں ہی میں نے حیدر کو سمجھایا مجھے مضبوط دیکھ کر وہ کمزور پڑ گئے جب میں ان کے ساتھ نہیں گئی تو وہ ڈر گئے ایک مہینہ میں یہیں رہی پھر وہ آئے اور ماضی کی تمام غلطیوں کی معافی مانگی میرے اندر کی بیوی اور ماں ویسے ہی خول چڑھا کر بیٹھی تھی اندر سے سسک رہی تھی ان کے ساتھ چلی گئی تب سے اب تک انصر بدل چکے ہیں انہیں پیسے کا لالچ بھی نہیں رہا بہن ابھی تک گھر بیٹھی ہے لیکن مجھ پر کبھی دباؤ نہیں ڈالا میں ان کے ساتھ بہت خوش ہوں ان کو چور راستے جو حیدر کی نرمی سے ملے اور میری سختی سے بند ہو گئے جو تمہاری بے وقوفی کی وجہ سے پرانی باتوں کو دہرا رہی ہوں ورنہ میں تو بھول بھی گئی کہ انہوں نے کبھی مجھ سے برا رویہ رکھا میری ساری دعائیں قبول ہو گئی ہیں میرا شوہر نیک اور میری اولاد صالح ہے۔‘‘
سدرہ باجی کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو ٹپکنے لگے وہ ماہ روز کا ہاتھ تھامے اس کے پا س بیٹھی ر ہیں۔
’’ساری غلطی ہی میری ہے مجھے ماہ روز آپی کو کچھ بتانا ہی نہیں چاہیے تھا ‘ گڑیا کی ہلکی سی آواز آئی جس پر شرمندگی کا غبار تھا ماہ رو زسر اٹھانے کے قابل نہ رہی۔
اپنے تئیں اس نے معرکہ مارا تھا ایک گھر کو مشکلات کا شکار ہونے سے بچایا تھا لیکن اس نے تو ایک شخص کے دل کو برباد کر دیا تھا
مسجد ڈھا دے مندر ڈھا دے
حیدر کمرے میں نہیں تھا وہ کچھ دیر وہیں رہی اور پھر خاموشی سے واپس اپنے فلیٹ پر آ گئی۔
صبح صبح وہ فلیٹ سے نکلی گیلے بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا چہرہ ہمیشہ کی طرح میک اپ سے عاری تھا دروازے کو تالا لگانے لگی تو کنڈی میں ایک سفید کاغذ تھا جس پر نیلے رنگ سے لکھا تھا۔
مجھے آپ سے محبت ہے۔ اس نے کاغذ کو بیگ میں ڈالا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھی ہر سیڑھی پر سفید کاغذ تھا وہ اٹھاتی گئی ہر کاغذ پر وہی تحریر اور حیدر کا اندا زتحریر وہ جھینپ گئی اس کی گاڑی باہر کھڑی تھی ابھی ہی قسطوں پر نکلوائی تھی لیکن گاڑی کے ساتھ ڈھیروں کاغذ چپکے تھے اور ہر کاغذ پر وہی ایک جملہ
’’مجھے آپ سے محبت ہے‘‘
ابھی صبح صبح کا وقت تھا لوگ گھروں سے باہر نہیں نکلے تھے وہ شرمندہ ہوئی گھر کے دروازے سے گاڑی تک آتے وہ کاغذ ہی سمیٹتی جا رہی تھی یہ عمر ان چونچلوں کی نہیں ہے اس نے خود سے کہا اس کے چھوٹے سے پرس میں گاڑی سے لگے کاغذ نہیں آسکتے تھے اس نے ارد گرد نظر دوڑائی کے شاید کوئی شاپر نظر آئے وہ گاڑی کی دوسری طرف گئی وہاں حیدر دبک کر بیٹھا تھا ماہ روز کی ہنسی نکل گئی کوئی اس کی عمر دیکھے اور چونچلے دیکھے حیدر اسے دیکھ کر کھڑا ہو گیا۔
’’میں نے سوچا آپ کو ایسے تو سمجھ نہیں آتا لہذا لکھ کر دے دوں کے مجھے آپ سے محبت ہے وہ محبت جو بالکل بے بس کر دیتی ہے وہ محبت جو میری آنکھوں کو حیران کرتی ہے مجھے آپ کے اٹھنے بیٹھنے چلنے اور بولنے سے محبت ہے جب آپ کی پلکیں لرزتی ہیں مجھے ان پلکوں سے محبت ہے جب آپ آنکھیں اٹھا کر ایک لمحے کے لیے دیکھتی ہیں مجھے ا س لمحے سے محبت ہے مجھے ان آنکھوں سے محبت ہے جب آپ ہچکچا کر اپنی انگلیاں مروڑنے لگتی ہیں مجھے اس ہچکچاہٹ سے محبت ہے مجھے ان انگلیوں سے محبت ہے میں نے جن دو سالوں کو آپ کے ساتھ گزارا مجھے ان دو سالوں سے محبت ہے مجھے آپ کے ہنسنے سے محبت ہے جب ابھی مجھے دیکھ کر آپ نے سوچا کہ اس عمر میں یہ چونچلے مجھے اس سوچ سے محبت ہے مجھے آپ کے ٹھنکنے مجھے آپ کے ہاتھ ہلا ہلا کر بولنے سے محبت ہے مجھے خود بھی نہیں پتا کہ ایسا کیسے ہے لیکن میں آ پکو د یکھوں تو ایک لفظ جو میرے ذہن میں آتا ہے وہ محبت ہے جب آپ میرے پاس ہوتی ہیں تو خوشیوں کا حصار مجھے اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے مجھے اس حصار سے محبت ہے حیدر اس کے بالکل قریب کھڑا تھا ماہ روز میں ہمت نہیں تھی کہ اس اظہار پر اس کی آنکھوں میں جھانک سکے دونوں پر اسی لمحے ڈھیروں پھولوں کی پتیاں برسیں کچھ اور لوگ بھی تھے شاید۔
سدرہ باجی ، انصر بھائی اور گڑیا دوسری گاڑی کی اوٹ سے نکلے۔
’’اب آفس نہیں چلنا سیدھا اپنے گھر جانا ہے۔‘‘ سدرہ باجی نے مسکرا کر ماہ روز کو گلے لگاتے ہوئے کہا فیصل مسجد میں جا کر نکاح ہوا اور نیل محل کے نیلگوں کمرے میں ان کی ہنسی کی آواز گونجتی رہی محبت بلائیں لیتی رہی چاندنی جان لٹاتی رہی اور آسمان رشک کرتا رہا کمرے کے باہر کی دیوار پر زرد آنکھوں والی کھردری سطح والی چھپکلی آہستہ آہستہ رینگتی رہی۔
(ختم شد)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
× How can I help you?
Close