Aanchal Dec-18

حمدونعت

تنویر پھول/محمدمختارعلی

جو دلِ کی آنکھیں کھلین ہم کو یہ ہوا معلوم
وہ راز جاں گئے جو نہ پہلے تھا معلوم
گناہ گارِ ازل ہوں سرشت میں ہے خطا
تجھے تو میرے خدا سب ہے ماجرا معلوم
خدا کی ذات کو کیا سمجھے عقعل انسانی
ابھی تو اپنی ہی ہستی کا راز نا معلوم
خدا کی ذات کے منکر رہے یہ بھول ہوئی
اجل کا وقت جو آیا تو ہوگیا معلوم
نہیں ہے تو ابھی راز حیات سے واقف
تجھے وجودِ عدم کا ہے کیا پتا معلوم
جو حال پھول کا پوچھا کلی سے بلبل نے
لگی وہ کہنے مجھے کیا پتا خدا معلوم

تنویر پھول

کوئی منزل نہیں طیبہ کے نگر سے آگے
وقت بڑھتا نہیں سرکارﷺ کے دَر سے آگے
شوقِ دیدار مدینہ ہے عجب حالت جذب
بڑھتے جاتے ہیں قدم راہگزر سے آگے
جذبۂ عشق ہے دائم حد ادراک سے دور
مدح سرکارﷺ کی منزل ہے ہنر سے آگے
حاضری آپﷺ کے در کی ہوئی واجب ورنہ
کون جاسکتا تھا اللہ کے گھر سے آگے
سبز گنبد کی تجلی کا ہے اعجاز کہ ہم
دیکھ سکتے ہیں میاں! حد نظر سے آگے
گھیرے رکھتا ہو جسے آپﷺ کی رحمت کا حصار
کون بڑھ سکتا ہے اس خاکِ بسر سے آگے
ہے عطا ان کی مرے ظرف سے بڑھ کر مختار
ہے کرم ان کا دعائوں کے اثر سے آگے

مختار علی

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close