Aanchal Jul-17

حمد و نعت

نجم/عبدالستار نیازی

تیرے نام پر اے مرے خدا
مرا دل فدا مری جاں فدا
مری روح کی ہے یہی غذا
ترا نام لب پہ رہے سدا
ہو تری رضا مری آرزو
اللّٰہ جلّ جلالہ
تجھے بے نیازی کا واسطہ
ہو قبول یہ مری التجا
کہ برائے حضرتِ مصطفیٰ
ہو معاف مری ہر اک خطا
سرِ حشر رہ جائے آبرو
اللّٰہ جلّ جلالہ
جو حساب روزِ حساب ہو
مرے دائیں ہاتھ کتاب ہو
مرے لب پہ نعتِ جناب ہو
نہ سوال ہو نہ جواب ہو
میں رہوں حضور کے روبرو
اللّٰہ جلّ جلالہ
میں گناہ گار ہوں اے خدا
کوئی نیک کام نہ کرسکا
نہیں ہوسکا ترا حق ادا
ترا فضل‘ فضل ہے بے بہا
مجھے رکھنا حشر میں سرخرو
اللّٰہ جلّ جلالہ
یہ دعا کرو میرے دوستو
کہ عطا ہو ذوق یہ نجم کو
کبھی نعت ہو کبھی حمد ہو
یہ دعا کرو یہ دعا کرو
مری چشم تر رہے باوضو
اللّٰہ جلّ جلالہ

جنابِ نجم…

رخ پر رحمت کا جھومر سجائے کملی والے کی محفل سجی ہے
مجھ کو محسوس یہ ہورہا ہے میرے آقا کی جلوہ گری ہے
مومنو تم اگر چاہتے ہو زیارت درِ مصطفیٰ کی
دل کی جانب نگاہیں جھکا دو سامنے کی گلی ہے
وہ سماں کیسا ذیشان ہوگا جب خدا مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہے گا
اب تو سجدے سے سر کو اٹھا لو آپ کی ساری امت بری ہے
واسطہ سید کربلا کا واسطہ فاطمہؓ کی ردا کا
میری جھولی بھی سرکار بھردو آپ نے سب کی جھولی بھری ہے
مجھ کو فکر شفاعت ہو کیوں کردو کریموں کا سایہ مجھ پر
اک طرف رحمتِ مصطفیٰ صیلیللہ علیہ وسلم ہے اک طرف لطف رب جلی ہے

عبد الستار نیازی

 

Show More

Check Also

Close
error: Content is protected !!
Close