Hijaab Apr-17

حمد و نعت

ظفرمحمد خان/امید فاضلی

حمد باری تعالیٰ

دل کا آئینہ ہو یا آئینہ ہو عالم کا
آئینہ آئینہ جلوہ ترا دکھلائی دے
جھوم اٹھے سارا جہاں جس کی سریلی لے پر
مرے ہونٹوں کو محبت کی وہ شنہائی دے
چہرہ ترا ہوا تاروں کا کہاں تک دیکھیں
چہرہ صبح بہاراں بھی تو دکھلائی دے
میں گدا مملکت شعر کا ہوں بار الہٰ
مجھے آفا کا تاج سر فحن آرائی دے
شعر سادہ سے سفر شعر حسیں کا ہے طویل
دل بیتاب ظفر کو تو شکیبائی دے

ظفر محمد خان ظفر

نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم

کبھی یٰسین و مبشر کبھی طہٰ لکھوں
زندہ جب تک رہوں نعت شۂ والا لکھوں
نعت لکھنے کی تمنا لیے اس سوچ میں ہوں
خود جو ممدوح خدا ہو اسے میں کیا لکھوں
وصف آئینہ ہے خود آئینہ گر کی توصیف
حمد لکھنی ہو تو احمد  صلی اللہ علیہ وسلم کا سراپا لکھوں
ان کے در سے مجھے مل جائے غلامی کی سند
میرے معبود کوئی لفظ میں ایسا لکھوں
سایہ گستر نہ ہو گر صورت واللیل وہ زلف
ساری دنیا کو میں تپتا ہوا صحرا لکھوں
قاب قوسین نے حد کھینچ رکھی ہے ورنہ
ذکر معراج کا چھڑ جائے تو کیا کیا لکھوں
وہ بھی دن آئے کہ ہر دل میں وہی وہ ہوں مکیں
اور میں ناز سے ہر دل کو مدینہ لکھوں
عشق سرور نے وہ حق گوئی عطا کی کہ امیدؔ
مر بھی جائوں تو نہ مین دشت کو دریا لکھوں

امید فاضلی

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
Close