Aanchal Aug-18

حمد ع نعت

آرزو اکبر آبادی/ریاض الدین سہروردی

نعت رسول مقبول صلی اللہ وعلی وسلم
مجھ میں ان کی ثنا کا سلیقہ کہاں
وہ شۂ دو جہاں وہ کہاں میں کہاں
اُن کا مدح سرا خالقِ این وآں
وہ رسولِ خدا وہ کہاں میں کہاں
اُن کے دامن سے وابستہ میری نجات
اُن پہ قربان میری حیات و ممات
میں گنہاگار وہ شافعِ عاصیاں
بے کسوں کی اماں وہ کہاں میں کہاں
میں سراپا عدم وہ سراپا وجود
اُن پہ ہر دم سلام اُن پہ ہر دم درود
وہ حقیقت میں افسانہ و داستاں
اُن کا میں مداح خواں وہ کہاں میں کہاں
شک نہیں اے ریاض اس میں ہر گز ذرا
میں سراپا خطا وہ سراپا عطا
نام اُن کا رہے کیوں نہ وردِ زبان
ہے جو تسکین جاں وہ کہاں میں کہاں

  ریاض الدین سہروردی

حمد باری تعالیٰ
مرے دینے والے مجھے دردِ دل دے
مرے دینے والے مجھے دردِ دل دے
الٰہی رخِ پاکِ احمد کا صدقہ
نبیٔ مکرم کے گنبد کا صدقہ
ترے عشق والوں کی مسند کا صدقہ
محبت عطا کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ
مرے دینے والے مجھے دردِ دل دے
نہ دولت نہ ثروث نہ حشمت عطا کر
تڑپتا رہوں ایسی لذت عطا کر
مجھے اپنے در کی اطاعت عطا کر
محمدﷺ کا صدقہ محبت عطا کر
مرے دینیو الے مجھے دردِ دل دے
نہیں چاہتا ہوں میں آرامِ کامل
نہیں چاہتا عشق ناکام کا دل
پہلے پہلو میں مرے فقط نام کا دل
نہ ہو درد جس دل میں کس کام کا دل
مرے دینے والے مجھے دردِ دل دے

آرزو اکبر آبادی

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
× How can I help you?
Close