Aanchal Dec-18

حوصلے کی جیت

سلمیٰ غزل

ترا نصیب بنوں‘ تیری چاہتوں میں رہوں
تمام عمر محبت کی وحشتوں میں رہوں
خمار حسرتِ دیدار میں رہوں ہر دم
سوادِ عشق یونہی تیری شدتوں میں رہوں

مشعل نے ایک طویل سانس لیتے ہوئے ولید کی آنکھوں میں جھانکا۔
’’آپ کا خیال ہے میں اب بڑی ہوگئی ہوں، اس لیے میری شادی ہوجانا چاہیے۔‘‘ مشعل کی یہ جرأت اور بے باکی ولید کو حیران کر گئی۔ ولید کو مشعل سے اس دیدۂ دلیری کی امید نہیں تھی اس کا خیال تھا جب وہ مشعل کے سامنے فیضان کا رشتہ پیش کرے گا تو وہ شرمائے گی اور خوشی سے جھوم اٹھے گی۔
فیضان خوش شکل اور خوش اخلاق ہونے کے ساتھ ساتھ پڑھا لکھا اور صاحب جائیداد تھا، چھڑا چھانٹ آگے پیچھے کوئی نہیں تھا۔ آج کل کی لڑکیاں سسرال سے ویسے ہی خار کھاتی ہیں لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا مشعل نے شرم و حیا کے زیور کو پھینک کر ولید کو گھور کر دیکھا۔ اس کا چہرہ ہر قسم کے جذبات سے عاری تھا۔
’’تمہارا خیال درست ہے۔‘‘ ولید نے نظریں چراتے ہوئے دھیمے لہجے میں جواب دیا تو مشعل کا چہرہ متغیر ہوگیا، اس نے کچھ سوچ کر سوال کیا۔
’’آپ کو فیضان میں بہت ساری خوبیاں نظر آتی ہیں؟‘‘ اب حیران ہونے کی باری ولید کی تھی۔
’’کمال ہے کیا تمہیں نظر نہیں آتیں؟‘‘ مشعل کا دل چاہا صاف صاف بتادے کہ ’’ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ۔‘‘ شرافت اور انسانیت کے لبادے میں فیضان گندگی کا وہ ڈھیر تھا جس پر ہزاروں مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔
کئی ماہ پہلے جب وہ اپنی دوست کے ساتھ شاپنگ کرکے آرہی تھی تو اسی فیضان نے انہیں بے حد تنگ کیا تھا، اس کو شاید معلوم نہیں تھا کہ مشعل کا ولید سے تعلق ہے راہ چلتی لڑکیوں کو چھیڑنا، لوفرانہ انداز میں سیٹی بجانا اس کا پسندیدہ مشعلہ اور وطیرہ تھا۔ ولید کا شاگرد تھا اس لیے اس کے سامنے شرافت کا لبادہ اوڑھے رہتا تھا۔ ولید اس کے چہرے کے بدلتے رنگوں سے اس کی سوچ کی گہرائی کا اندازہ لگا رہے تھے۔
’’آخر آپ کو مجھے گھر سے نکالنے کی جلدی کیوں ہے…؟ وہ تنک کر بولی۔ ’’میں آپ پر بوجھ بن گئی ہوں۔‘‘ اس کی آواز بھرائی اور ولید گھبرا گئے۔
’’پاگل ہوگئی ہو تم مجھ پر بوجھ کیوں بننے لگیں۔ سمجھا کرو اگرچہ یہ پوش ایریا ہے، یہاں پرانے علاقوں کی طرح محلے داری نہیں ہوتی۔ کوئی کسی کو نہیں پوچھتا نا کسی معاملے میں پڑتا ہے، لیکن کب تک…؟ ایک نا ایک دن تو لوگوں کو احساس ہو ہی جائے گا کہ ہم ایک دوسرے کے لیے نامحرم ہیں اور ایک ہی چھت کے نیچے کٹھے رہتے ہیں۔‘‘ ولید نے پیار سے سمجھایا تو وہ بے ساختہ کہہ اٹھی۔
’’تو اپنا محرم بنالیں…‘‘ یہ کہہ کر ولید کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رہی اور وہ کمرے میں آکر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
’’کیا اس کی محبت ہمیشہ ہی تشنہ رہے گی‘ وہ سنگ دل نہ سمجھتا ہے اور نہ ہی سمجھنا چاہتا ہے۔ کیا وہ خود پہل کرے؟‘‘ مگر اسے نسوانیت سے گرنا منظور نہ تھا۔ خاموشی بھی تو محبت کی موت ہے مگر اسے یہ موت منظور تھی۔ اس نے کچھ دیر سوچا پھر ایک عزم کے ساتھ کمرے سے باہر آئی۔ جہاں ابھی تک ولید اس کے الفاظ پر غور کررہے تھے۔ چہرے سے پریشانی واضح تھی۔
’’آپ کو اگر فیضان پسند ہے تو مجھے آپ کی پسند پر کوئی اعتراض نہیں۔‘‘ اس کی آواز اس کے الفاظ کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ ولید کھل اٹھے۔
’’مجھے یقین تھا تمہیں اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔‘‘ انہوں نے شفقت سے سر پر ہاتھ پھیرا اور اپنے کمرے میں آگئے۔ مشعل کے اقرار نے ان کے اندر بے چینیاں سی بھردی تھیں کچھ کھونے کا احساس بڑھ گیا تھا۔ ماضی کچوکے لگا رہا تھا۔ پرانی یادوں نے دل کے زخم ادھیڑ کر انہیں تازہ کردیا تھا۔ یادیں جو انسان کو ایک پل کے لیے بھی چین سے نہیں رہنے دیتیں، ہر لمحے زخموں پر نمک چھڑکتی رہتی ہیں۔ وہ بھی اسی کیفیت کے زیر اثر تھے۔ انہوں نے بے بسی سے اپنا سر کرسی کی پشت سے ٹکایا اور ماضی میں کھو گئے۔
ز…ز…ز
کتنی حسین تھی وہ دنیا قوس و قزح کی طرح رنگین اور پھولوں کی طرح شگفتہ۔ لندن میں تعلیم کے دوران انہوں نے خود کو ہر خرافات سے دور رکھا تھا۔ ان کی دنیا بڑی محدود تھی وہ اکیلے گھوم پھر کے بھی خوش رہتے تھے۔ انہیں کسی کے بھی ساتھ کی ضرورت نہ تھی۔ حالانکہ تتلیاں ان کے گرد بھی منڈلاتی رہتی تھیں، مگر اچانک ان کی زندگی میں ایک خوشگوار حادثہ ہوگیا۔ وہ آکسفورڈ اسٹریٹ پر یوں ہی چیزوں کا جائزہ لے رہے تھے جہاں ہر چیز قوتِ خرید سے باہر تھی۔ شام ہوتے ہی سڑکوں پر رونق لگ جاتی کہ تنگ سڑکیں اور چوڑے فٹ پاتھ جہاں عیاش لوگ شیشہ پیتے نظر آتے تب انجانے میں وہ لڑکی ان سے ٹکرائی تھی۔ اگر وہ بر وقت اس کو نہ پکڑتے تو شیشے کے کیبن سے ٹکرا کر یقینا وہ زخمی ہوجاتی، اس کا نازک جسم اب ولید کی بانہوں میں تھا، عجیب سی فلمی سچویشن تھی۔ ولید نے گھبرا کر اسے چھوڑ دیا تھا۔ مگر ذرا سی اس قربت میں دونوں کو اپنی کسی قیمتی چیز کے کھونے کا احساس ہوچکا تھا۔ پھر یہ ایک ملاقات کئی ملاقاتوں کا پیش خیمہ ثابت ہوئی تھی۔
خوب صورت آنکھوں اور دراز زلفوں والی روحانہ ولید کے دل میں اتر گئی تھی۔ پاکستان میں ولید کا کوئی نہ تھا اور روحانہ کا تعلق انڈیا جے پور سے تھا۔ وہ اپنی پھوپو کے ساتھ لندن میں رہتی تھی۔ مشرقی روایات اور مذہبی اقدار کی پابند روحانہ ولید کی طرح والدین سے محروم تھی۔ بیوہ پھوپو ہی اس کی کل کائنات تھیں، جنہیں ولید کے ساتھ پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ ولید پی ایچ ڈی کے بعد جاب کررہا تھا۔ ساتھ ساتھ ٹیوشن کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ ولید کو حیرت ہوتی تھی کہ عربین بچے کس بے دردی سے روپیہ اڑاتے ہیں کیونکہ اس کے زیادہ تر شاگردوں کا تعلق مشرق وسطیٰ سے تھا۔ جن کی بدولت اس کو معاشی استحکام ملا تھا۔ اب انتظار تھا کہ ولید ایک کمرے کا اپارٹمنٹ چھوڑ کر کوئی بڑا اپارٹمنٹ یا گھر خرید لے کیونکہ روحانہ نے صاف کہہ دیا تھا کہ وہ پھوپو کو نہیں چھوڑ سکتی۔ جس پر ولید کو کوئی اعتراض نہ تھا۔ وہ تو خود محبتوں اور رشتوں کا ترسا ہوا تھا۔ زندگی پُرسکون تھی، دن عید اور رات شب برات کی طرح گزر رہے تھے۔ دونوں نے شادی کی تیاریاں بھی شروع کردی تھیں۔ شادی کا جوڑا بھی خرید لیا گیا تھا۔
ز…ز…ز
انسان کتنا ناسمجھ ہے پتہ ہی نہیں چلتا کہ اللہ کیا چاہتا ہے اسے اس پُرسکون زندگی کی گہرائیوں میں کتنے طوفان سر اٹھانے کو بے قرار ہیں۔ اس کا انہیں اندازہ بھی نہ تھا۔ پھر ایک دن یہ بپھری ہوئی لہریں اس کی خوشیوں کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے گئی تھیں۔ روڈ ایکسیڈنٹ میں روحانہ اور اس کی پھوپو کی وفات ہوگئی تھی اور تنہائی اور جدائی ولید کا مقدر ٹھہری تھی۔ خوشیاں جس طرح اس کی زندگی میں ہوا کے جھونکے کی طرح داخل ہوئی تھیں۔ اسی طرح خاموشی سے اس کی زندگی سے نکل بھی گئی تھیں اور وہ سوچتا ہی رہا کہ کاش اس دن وہ روحانہ کے ساتھ ہوتا تاکہ اس کے ساتھ ہی زندگی کا اختتام ہوجاتا۔
پھر اچانک ایک خبر نے اس کے احساسات کی دنیا میں ہلچل مچادی۔
’’مشہور پروفیسر صادق شدید بیمار ہیں…‘‘ اس کو اپنی لاپروائی اور غفلت پر بے حد شرمندگی ہوئی۔ پروفیسر صادق کے اس پر بہت احسانات تھے۔ اس کے مشکل وقت میں انہوں نے اس کا بہت ساتھ دیا تھا۔ اس کی رہنمائی کی تھی۔ آج ان ہی کی بدولت وہ اس مقام پر کھڑا تھا۔ وہ اپنی اکلوتی دس سالہ بیٹی کے ساتھ تنہا رہتے تھے۔ بیوی کے انتقال کے بعد انہوں نے بیٹی کو ماں بن کر پالا تھا۔ جب بھی ولید ان کے گھر جاتے وہ بچی ان کے گلے کا ہار بن جاتی۔ انکل انکل کہہ کر وہ ان کے آس پاس منڈلاتی رہتی۔ دنیا بھر کی باتیں اور فرمائشیں کرتی اور جب بھی پروفیسر صادق سرزنش کرتے کہ تم اسے بگاڑ رہے ہو تو وہ ہنس کر ٹال جاتے تھا۔
’’سر بچی ہے وہ بھی آپ کی، یہ کبھی نہیں بگڑے گی۔‘‘ اور جب وہ پڑھنے کے لیے لندن آرہے تھے تو یہ بچی بلک بلک کر رو رہی تھی۔ اپنی مصروفیات میں انہیں اس کا بالکل بھی خیال نہ آیا۔ جب وہ لندن آئے تو ان کی عمر پچیس سال تھی اور اب وہ چالیس سال کے ہوچکے تھے۔ خوب صورت اور اسمارٹ تو وہ ہمیشہ ہی سے تھے، مگر کنپٹیوں پر ہلکے سفید بال اور سنہری کمانی دار چشمے نے ان کے گریس میں مزید اضافہ کردیا تھا۔ اپنے لمبے قد اور دھیمے مزاج کی وجہ سے وہ ہر محفل میں نمایاں نظر آتے تھے۔ جیسے ہی یہ خبر ان کی نظر سے گزری انہوں نے پاکستان کے لیے رخت سفر باندھ لیا اور سیدھے پروفیسر صادق کے گھر پہنچے جن کا پتہ ان کے دل پر نقش تھا، دروازہ جس نے کھولا وہ شکل ان کے لیے اجنبی تھی۔
’’آپ نے نہیں پہچانا۔ مگر میں نے پہچان لیا۔ پروفیسر ولید، میں مشعل ہوں، آپ کے پروفیسر صادق کی بیٹی۔‘‘ ولید کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ ان کے تصور میں تو اب بھی وہی معصوم سی دس سالہ بچی تھی۔ جو ان سے فرمائشیں کیا کرتی تھی۔ جب کہ آج ان کے سامنے ایک حسین دوشیزہ کھڑی تھی۔ حسن و جمال کا لازوال نمونہ جو بڑی دلچسپی سے ان کی طرف دیکھ رہی تھی۔ انہیں لگا کہ روحانہ ان کے سامنے کھڑی ہے۔ وہی سرخ و سفید رنگ، کتابی چہرہ اور یاقوتی لبوں پر دلفریب مسکراہٹ۔
’’آپ نے مجھے کیسے پہچانا، میں یاد تھا آپ کو؟‘‘ انہوں نے حیرت سے پوچھا۔
’’میں آپ کو بھولی ہی کب تھی اس لیے دیکھتے ہی پہچان لیا۔‘‘ وہ مسکرا کر بولی تو انہیں لگا دل پر لگے زخم پھر سے ہرے ہوگئے ہوں۔ دوسرے ہی لمحے انہیں پروفیسر صادق کا خیال آیا اور وہ مشعل کے ساتھ ان کے کمرے میں پہنچ گئے اور حیران ہونے کے ساتھ ساتھ شرمندہ بھی ہوئے کہ اب تک ان سے کیسے بے خبر رہے۔ نحیف و نزار پروفیسر صادق پہچانے نہیں جا رہے تھے۔ ان کو شاید اسی کا انتظار تھا کچھ دن بعد ہی وہ مشعل کا ہاتھ ان کے ہاتھ میں تھما کر اپنے آخری سفر پر روانہ ہوگئے تھے۔ مرنے سے پہلے انہوں نے ایک ہی جملہ کہا تھا۔
’’مجھے تم پر بھروسہ ہے، میری مشعل کا تم سے زیادہ کوئی خیال نہیں رکھ سکتا، اب یہ تمہاری ذمہ داری ہے، میرے بھروسے کی لاج رکھنا۔‘‘ مشعل کو اس حقیقت کو قبول کرنے میں مہینوں لگ گئے کہ اس کا چاہنے والا باپ اب اس دنیا میں نہیں۔
بوا سکینہ اور ولید نہ ہوتے تو شاید وہ غم میں گھل گھل کر خود کو ختم کرلیتی۔
گزرتے لمحات کے ساتھ مشعل کی دوستی ولید سے بڑھتی جا رہی تھی۔ جو ولید کے لیے الجھن کا باعث تھی، بعض اوقات تو انہیں بھی محسوس ہونے لگتا جیسے وہ مشعل سے نہیں روحانہ سے باتیں کررہے ہوں کیونکہ وہ ہوبہو اس کا عکس تھی، ویسا ہی نازک سراپا، لمبے گھنے بال اور وہی نٹ کھٹ سا شرارتی انداز، مگر ان دونوں کے درمیان نہ دولت کی نہ محبت کی بلکہ عمر کی خلیج حائل تھی جسے نہ وہ پاٹ سکتے تھے نہ ہی ان دیکھی دیوار کو گرا سکتے تھے۔ کہاں وہ بیس سال کی نوخیز کلی اور کہاں وہ چالیس سال کے مرد۔ اگر وہ اس کی محبت سے مجبور ہوکر اسے اپنا بھی لیتے تو کیا وہ ساری زندگی ان کے ساتھ خوش رہ سکتی تھی۔
وہ جو ابھی پھولوں اور تتلیوں کے دیس کی باسی لگتی تھی، جس کی امنگیں جوان اور آرزوئیں بام عروج پر تھیں۔ جوانی کی خوشبو اس کے روم روم میں بسی ہوئی تھی پھر کیا ہوگا… کیا وہ اسے دکھی دیکھ سکیں گے؟ یہ سب سوچ کر وہ مشعل سے دور رہنے کی کوشش کرتے تھے۔ بوا سکینہ نے مشعل کو گودوں میں کھلایا تھا۔ اس لیے ان کی وجہ سے وہ بے فکر ہوکر اس وقت گھر میں داخل ہوتے، جب انہیں یقین ہوتا کہ مشعل سوچکی ہوگی مگر ساری کوشش عبث جاتی۔ مشعل غیر ارادی طور پر ان کے حواسوں پر چھانے لگی تھی۔ وہ ان کا ہر کام بڑی محبت سے کرتی، ان کے بغیر کھانا نہیں کھاتی تھی، ان کے انتظار میں دیر تک جاگتی رہتی اور دیر سے آنے کا ولید نے لاکھ چاہا کہ وہ پڑھنا شروع کردے، مگر اس نے بی ایس سی کے بعد پڑھنے سے انکار کردیا تھا۔
پروفیسر صادق کا گھر کرائے کا تھا اس لیے ضروری سامان لے کر وہ گھر خالی کردیا گیا اور ولید نے پوش ایریا میں ایک لگژری فلیٹ خرید لیا تھا۔ جہاں اتنی آبادی نہیں تھی اور نہ لوگوں کا ایک دوسرے سے ملنا جلنا تھا۔ ان کی کوششوں سے مشعل کے لیے دو تین رشتے آئے بھی لیکن مشعل نے صاف انکار کردیا تھا اور اس طرح ولید کی طرف شکایتی انداز میں دیکھا کہ وہ نظریں چرانے پر مجبور ہوگئے تھے۔
فیضان ان کے جاننے والوں کا بیٹا تھا یونیورسٹی میں ان کا شاگرد بھی رہ چکا تھا۔ مشعل کے پہلے انکار اور پھر اقرار نے انہیں عجیب سی بے چینی میں مبتلا کردیا تھا۔ وہ آگ جو راکھ کے نیچے دبی ہوئی تھی ایک دم بھڑک اٹھی تھی۔ ان کو لگتا تھا جیسے زندگی میں کوئی خلاء سا آگیا ہو۔ کچھ کھونے کا احساس انہیں چین نہیں لینے دے رہا تھا۔ انہوں نے سوچ لیا تھا کہ مشعل کو رخصت کرکے وہ واپس باہر چلے جائیں گے۔
ز…ز…ز
بوا آج کل اپنی بہن کی وفات پر دو تین دن کے لیے گائوں گئی ہوئی تھیں۔ انہیں بھی مشعل کی تنہائی کا احساس تھا مگر مجبوری تھی، اسی لیے ولید مشعل کی وجہ سے جلدی گھر آنے لگے۔ ان کی یونیورسٹی ڈیفنس میں ہی تھی اپارٹمنٹ سے بہت قریب، اس لیے عموماً وہ دوپہر کا کھانا کھانے گھر ہی آجاتے تھے۔ اس دن یونیورسٹی پہنچ کر انہیں یاد آیا کہ ایک ضروری فائل گھر بھول آئے ہیں، فلیٹ کی ایک اضافی چابی ہمیشہ ان کے پاس ہوتی تھی۔ ٹی وی لائونج میں داخل ہوتے ہی انہیں مشعل کے زور زور سے بولنے کی آواز سنائی دی۔
’’فیضان میں آپ سے بار بار کہہ رہی ہوں کہ بوا نہیں ہیں اور ولید بھی یونیورسٹی گئے ہیں، میں نے بے دھیانی میں دروازہ کھول دیا۔ آپ تو جوتوں سمیت آنکھوں میں گھسے چلے آرہے ہیں۔‘‘ وہ تلخی سے بولی۔
’’ارے میری جان بہت سوچ سمجھ کر آیا ہوں، ایسے کیسے چلا جائوں بڑی مشکلوں سے تو ہاتھ لگی ہو، کنوئیں کے پاس آکر پیاسا تو نہیں جائوں گا۔‘‘ فیضان نے لوفرانہ انداز میں آنکھ ماری تو مشعل کے وجود میں آگ بھڑک اٹھی۔
’’تم ہوش میں تو ہو چلتے پھرتے نظر آئو ورنہ ابھی ولید کو فون کردوں گی۔ آج تمہاری اصلیت سامنے آجائے گی۔‘‘ وہ غصے سے چیخی۔‘‘
’’کیا ولید ولید لگا رکھی ہے، نامحرم کے ساتھ دھڑلے سے رہتی ہو اور میرے سامنے پارسا بننے کی کوشش کررہی ہو، میں جانتا ہوں تمہاری اصلیت۔ کس رشتے سے ان کے ساتھ رہ رہی ہو، کیا لگتے ہیں وہ تمہارے، بھائی، عاشق یا پھر تم ان کی…؟‘‘ چٹاخ کی آواز سے کمرہ گونج اٹھا۔
’’تم جیسی پست ذہنیت اور گری ہوئی سوچ کے لوگوں کی حد بس اتنی ہی ہوتی ہے‘ کیا دنیا میں انسانیت کا کوئی رشتہ نہیں؟ ولید انسان نہیں فرشتہ ہیں اور میرے لیے تو وہ اللہ کا نایاب تحفہ ہیں کیونکہ میرا ہر رشتہ ان ہی سے بنتا ہے بھائی باپ عاشق جو بھی تم سمجھ لو مگر اب اگر تم نے مزید اپنی گندی ذہنیت کا مظاہرہ کیا تو اس گلدان سے تمہارا سر پھاڑ دوں گی۔‘‘ اس سے زیادہ ولید میں سننے اور برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں تھا۔ وہ مشعل کو آواز دیتے ہوئے جونہی اندر داخل ہوئے فیضان بھیگی بلی بن گیا۔
’’انکل آپ سے ملنے آیا تھا۔‘‘ وہ گھبرا کر بولا ولید سب کچھ سن چکے تھے لیکن مشعل کی عزت کی خاطر انجان بنتے ہوئے بولے۔
’’اس وقت تو میں جلدی میں ہوں مشعل کو لینے آیا تھا تم پھر کبھی آنا۔‘‘ جونہی وہ باہر نکلا مشعل سرخ چہرے کے ساتھ ان کے مد مقابل آگئی۔
’’تو یہ ہے آپ کی پسند جس سے آپ میری شادی کرنا جاہتے تھے۔ میں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے۔ کس جرم کا مجھ سے بدلہ لے رہے ہیں، اگر آپ کو اتنی ہی بری لگتی ہوں تو مجھے کسی ہوسٹل میں بھیج دیں۔‘‘ مشعل کی آنسو بھری آنکھوں میں ہزاروں گلے شکوے اور ان گنت ادھوری کہانیاں تحریر تھیں۔ لاکھوں فسانے عیاں تھے۔ وہ بھیگی بھیگی آنکھیں انہیں بے خود کر گئی تھیں۔ وہ اپنے آپ سے بیگانہ ہوکر ان گہرائیوں میں ڈوبنے لگے تھے۔ مگر پھر اپنی عمر اور اس کی معصومیت کا احساس کرکے تلخی سے بولے۔
’’تم ابھی تک یہیں کھڑی ہو، جائو اپنے کمرے میں…‘‘ مگر وہ کمرے میں جانے کے بجائے ان کے بازو سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
’’آپ اتنے ظالم کیوں ہیں ولید یہ تنہائی… آپ کی یہ بیگانگی مار ڈالے گی، اگر آج آپ نہ آتے تو جانے فیضان میرے ساتھ کیا سلوک کرتا میرا کوئی وارث نہیں کوئی سائبان نہیں‘ میں بے امان ہوں، مفت کا مال سمجھ کر ہر ایک ہڑپ کرنا چاہتا ہے۔‘‘ وہ بلک بلک کر روتی رہی اور وہ کوشش کے باوجود بھی اسے دور نہ کرسکے، پھر آہستہ سے اسے صوفے پر بٹھایا۔
’’کیا آپ کو مجھ پر ترس نہیں آتا ولید…؟‘‘ اس نے آنسو بھری آنکھوں سے سوال کیا۔
’’بیکار باتیں مت کرو، اپنی اور میری عمر کا لحاظ کرلو…‘‘ انہوں نے دل پر جبر کرکے مشعل کو بری طرح جھڑکا۔
’’تمہارے منہ سے یہ باتیں اچھی نہیں لگتیں۔ فلمیں اور ڈرامے کم دیکھا کرو، جن کا تم پر کافی اثر ہے، زندگی کوئی ڈرامہ نہیں، ایک حقیقت ہے۔ اس کو سمجھنے کی کوشش کرو۔‘‘ انہوں نے دھیمے لہجے میں سجھایا تو وہ غصہ سے اٹھ کر اپنے کمرے میں بند ہوگئی۔ وہ صوفے پر گرنے کی حالت میں بیٹھ گئے۔ اچانک ان کی نظر گھڑی پر پڑی ان کو گھر آئے کافی دیر ہوچکی تھی۔ ہر طرف گہرے سکوت کا ڈیرا تھا۔ اچانک ان کے ذہن میں ایک خوفناک خیال آیا۔ مشعل بڑی جذباتی لڑکی تھی۔ وہ اب تک خاموش کیوں ہے۔ وہ جلدی سے مشعل کے کمرے کی طرف بڑھے، وہ لاک تھا جب کافی آوازیں دینے پر بھی اس نے دروازہ نہ کھولا تو ان کا ماتھ ٹھنکا انہوں نے چابی ڈھونڈ کر تالا کھولا اور ان کے بدترین خدشات سامنے آگئے۔ مشعل بستر پر اوندھی پڑی تھی اور اس کے منہ سے جھاگ نکل رہا تھا۔
’’بیوقوف لڑکی یہ کیا کیا تم نے؟‘‘ ان کی چیخ نکل گئی۔ پھر ہوش و حواس پر قابو پاکر انہوں نے قریبی ڈاکٹر کو فون کیا، جن سے ان کی اچھی خاصی علیک سلیک تھی۔ ڈاکٹر نے اس کی حالت دیکھ کر انجکشن لگادیا۔ ساتھ ہی خبردار بھی کردیا۔
’’دعا کریں اگر الٹی ہوگئی تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ورنہ ہاسپٹل لے چلنا ہوگا۔‘‘ ولید کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ اسے لگ رہا تھا وہ ایک مرتبہ پھر روحانہ کو کھونے جارہا ہے، کیا وہ اب تک خود کو دھوکہ دے رہے تھے؟ روحانہ کا تصور تو کب کا دھندلا چکا تھا۔ اب تو وہاں بڑے طمطراق سے مشعل براجمان تھی۔ کیا عمر کا یہ تفاوت محبتوں کے درمیان حائل ہوسکتا تھا؟ جب کہ مشعل کے جذبات کا تو انہیں اچھی طرح اندازہ تھا مگر اپنی محبتوں کو وہ دل کے نہاں خانوں میں چھپائے بیٹھے تھے۔ مشعل سے ان کا درد کا رشتہ تھا، محبت کا رشتہ تھا جس میں شفقت بھی شامل تھی۔ آخر اسے احساس کمتری کیوں تھا، جب کہ پروفیسر صادق نے دبے دبے لفظوں میں اپنی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا، ساتھ ہی تاکید کی تھی۔
’’تم پر کوئی زبردستی نہیں اگر مشعل کو اپنی زندگی میں شامل نہ کرسکو تو اس کے لیے کوئی بہتر فیصلہ کرلینا۔‘‘ مگر وہ خوف زدہ تھے۔ حالانکہ کبھی کسی نے انہیں احساس نہیں دلایا تھا۔ وہ خود ہی ان احساسات میں گھر کر اپنی خوشیاں خود پر بند کئے بیٹھے تھے۔
آج اسے مشعل کی محبت پر پیار آرہا تھا۔ منزل خود چل کر اس کے سامنے آگئی تھی اور وہ دامن چھڑا رہے تھے۔ ساری رات وہ اپنی کم عقلی اور بدنصیبی کا ماتم کرتے رہے اور بارگاہِ ایزدی میں اپنے رب سے مشعل کی زندگی کی بھیگ مانگتے رہے۔ یکے بعد دیگرے مشعل کو دو الٹیاں ہوئیں تو ڈاکٹر نے اطمینان کا سانس لیا اور ڈرپ لگائی۔ پھر شفقت سے بولے۔
’’مبارک ہو آپ کی بیگم کو نئی زندگی ملی ہے۔ میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے گا۔ میاں بیوی کے تعلقات کی ڈور بہت نازک ہوتی ہے۔ اسے اس حد تک نہ لے جائیں کہ ڈور ٹوٹ جائے۔‘‘ ڈاکٹر کے جانے کے بعد وہ مشعل سے مخاطب ہوئے۔
’’یہ کیا حرکت تھی تمہیں کچھ ہوجاتا تو…؟‘‘
’’آپ گھی کے چراغ جلاتے‘ خوش ہوکر تالیاں بجاتے کہ ’مصیبت‘ سے جان چھوٹ گئی۔‘‘ مشعل نقاہت سے بولی تو وہ تڑپ کر بولے۔
’’دماغ خراب ہے تمہارا تم میری زندگی ہو، تمہیں کچھ ہوجاتا تو میں بھی زندہ نہ رہتا۔‘‘ انہوں نے مشعل کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر اقرار کیا۔
’’تم جیت گئیں میں ہار گیا… مگر اس ہار میں بھی جیت کا مزہ ہے، میں بہت خوش ہوں کہ اللہ نے مجھے میری محبت لوٹا دی۔‘‘ مشعل حیرت سے ان کی طرف دیکھ رہی تھی۔ پھر اچانک دونوں کی نظریں ملیں تو آنکھوں نے دل کی کہانی سنادی۔ محبت کا ایک جہاں ولید کی آنکھوں میں آباد تھا۔ محبت کا اعتراف ہی اس کی فتح تھی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close