Aanchal Oct-17Hijaab Oct-17NaeyUfaqNaeyUfaq Oct-17
Trending

دانش کدہ

میمونہ رومان

اس آیت مبارکہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے محبوب سے وعدہ فرما رہا ہے۔ ’’عنقریب تمہارا رب تم کو اتنا دے گا کہ تم خوش ہو جائو گے۔‘‘ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہہ کر خوش خبری دی جارہی ہے اور یہ واضح کیا جارہا ہے کہ اے محبوب تم فکرمند نہ ہو۔ دینے میں اگرچہ کچھ دیر لگے گی لیکن وہ وقت دور نہیں جب تم پر تمہارے رب کی عطا و بخشش کی وہ بارش ہو گی کہ تم خوش ہو جائو گے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ جو اس نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی اس طرح پورا ہوا کہ سارے عرب سے لے کر جنوب کے سواحل تک اور شمال میں سلطنت روم اور سلطنت فارس کی عراقی سرحدوں تک اور مشرق میں خلیج فارس سے لے کر مغرب میں بحر احمر تک کا علاقہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر نگیں آگیا تھا‘ عرب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ سرزمین ایک قانون ایک ضابطۂ حیات کی تابع ہو گئی تھی۔ جو طاقت بھی اس سے ٹکرائی وہ پاش پاش ہو کر رہ گئی اور کلمہ حق لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ کی گونج سے پورا خطہ گونج اٹھا جب کہ تمام مشرکین اور اہل کتاب اپنے جھوٹے کلمے بلند رکھنے کے لیے آخر دم تک پوری ایڑی چوٹی کا زور لگا چکے تھے۔ اس کلمہ طیبہ سے لوگوں کے صرف سر ہی اطاعت الٰہی میں نہیں جھک گئے بلکہ ان کے دل بھی مسخّر ہو گئے اور عقائد‘ اخلاق اور اعمال میں ایک عظیم انقلاب برپا ہو گیا۔ پوری انسانی تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی کہ جاہلیت میں پوری طرح ڈوبی ہوئی ایک قوم صرف ۲۳ برس میں اتنی بدل جائے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تحریک اس طاقت سے اٹھی کہ عرب تو عرب‘ ایشیا‘ افریقہ اور یورپ کے بڑے حصے پر چھا گئی اور دنیا کے گوشے گوشے میں اس کے اثرات پھیل گئے۔ یہ کچھ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں دیا اور آخرت میں جو کچھ عطا فرمائے گا اس کی عظمت کا کوئی کسی بھی طرح سے تصور نہیں کرسکتا۔ نعمت کا لفظ عام ہے جس سے مراد وہ نعمتیں بھی ہیں جو اس سورہ مبارکہ الضحیٰ کے نزول کے وقت تک اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی تھیں اور وہ نعمتیں بھی جو بعد میں اللہ نے اپنے وعدوں کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیں جن کا اظہار اس سورہ مبارکہ میں کیا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے پورا کیا اور پھر اللہ نے اپنے پیارے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ جو نعمتیں آپ کو عطا کی گئیں ہیں ان کا ذکر کرو اظہار کرو‘ ان نعمتوں کے اظہار کی زبانی صورت تو یہ ہے کہ اللہ کا شکر ادا کیا جائے اور اقرار کیا جائے کہ جو نعمتیں بھی حاصل ہیں وہ سب اللہ کا فضل و احسان ہے ورنہ کوئی چیز بھی میرے کسی ذاتی کمال کا نتیجہ نہیں۔ نعمتِ نبوت کا اظہار اس طریقے سے ہوا کہ دعوت و تبلیغ کا حق ادا کیا گیا۔ نعمتِ قرآنِ حکیم کے اظہار کی صورت یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں میں اس کی اشاعت کی جائے اور اس کی تعلیمات لوگوں کے ذہن نشین کی جائیں۔ نعمتِ ہدایت کا اظہار اس طرح ہو سکتا ہے کہ اللہ کی بھٹکی ہوئی مخلوق کو سیدھا راستہ بتایا جائے اور اس کی ساری تلخیوں‘ ترشیوں کو صبر کے ساتھ برداشت کیا جائے۔ یتیمی میں دستگیری کا جو احسان اللہ تعالیٰ نے کیا اس کا تقاضہ ہے کہ یتیموں کے ساتھ احسان کا سلوک کیا جائے۔ نادار سے مالدار بنانے کا جو احسان اللہ تعالیٰ نے کیا اس کا اظہار اس صورت ہو سکتا ہے کہ محتاج و نادار افراد کی مدد کی جائے۔ غرض یہ کہ ایک بڑی جامع ہدایت ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے انعامات اور احسانات بیان کرنے کے بعد اس مختصر سے فقرے میں اپنے حبیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی ہے۔
علامہ سید محمود آلوسی ؒ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کریمانہ وعدہ ہے جو ان تمام عطیات کے لیے ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دنیا میں سرفراز فرمایا ہے یعنی کمال نفس‘ اوّلین و آخرین کے علوم‘ اسلام کا غلبہ‘ دین کی سربلندی‘ ان فتوحات کے باعث جو عہد رسالت مآب میں ہوئیں۔ خلفائے راشدین کے زمانے میں ہوئیں یا ان کے بعد دوسرے مسلمان بادشاہوں کے زمانے میں ہوئیں اور اسلام دنیا کے مشرق و مغرب میں پھیلتا چلا گیا۔ یہ وعدہ ان عنایات اور عزت افزائی میں شامل ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حبیبِ مکرم کے لیے آخرت کے لیے محفوظ رکھی ہیں جن کی حقیقت کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جاتا۔
حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں اپنی امت کے لیے شفاعت کرتا رہوں گا۔ یہاں تک کہ میرا رب مجھے ندا کرے گا اور پوچھے گا اے محمد آپ راضی ہو گئے؟ میں عرض کروں گا ہاں میرے پروردگار میں راضی ہو گیا۔
علامہ آلوسی ؒ نے حضرت امام باقر ؓ کی ایک روایت نقل کی ہے۔ حرب بن شریح کہتے ہیں کہ میں نے امام مذکور سے پوچھا کہ جس شفاعت کا ذکر اہل عراق کرتے ہیں کیا یہ حق ہے آپ نے فرمایا بخدا حق ہے مجھ سے محمد بن حنیفہ نے حضرت علی کرم اللہ وجہ سے روایت کی امام باقر نے کہا ہم اہل بیت کتاب الٰہی میں سب سے زیادہ امید افزا آیت کو سمجھتے اور کہتے ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جو انعامات عالیہ عطا فرمائے ان میں سب سے بڑا عطیہ یا انعام تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ہے۔ نبوت چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی آخر الزماں بنا کر مبعوث کیا گیا یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کی خاص الخاص عطا تھی۔ انبیاء کرام کے سلسلے کی آخری کڑی جس سے یہ سلسلہ مکمل ہوا اور پایہ تکمیل کو پہنچا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بارے میں قرآن کریم میں نہایت صراحت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نئے نبی نہیں ہیں بلکہ جماعت انبیاء کے ایک فرد ہیں اور اس سلسلے نبوت کی ایک کڑی جو ابتدائے آفرنیش سے لے کر آپ کی بعثت تک جاری رہی جس میں ہر قوم ہر زمانے کے انبیاء و رسل شامل ہیں۔ ان ہی پیغمبروں اورڈرانے والوں میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں جیسا کہ سورہ آل عمران میں کہا جارہا ہے۔
ترجمہ۔ محمد کچھ نہیں ہیں مگر ایک رسول ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے۔ (سورۃ آل عمران۔۱۴۴)
اس طرح قرآن حکیم اپنے لانے والے کی صحیح حیثیت واضح کرنے کے بعد ان کاموں کی تفصیل بیان کررہا ہے جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی کو بھیجا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کام بحیثیت مجموعی دو شعبوں سے تعلق رکھتا ہے۔ ایک تعلیمی شعبہ دوسرا عملی شعبہ۔
تعلیمی شعبے میں سب سے پہلے تلاوتِ آیات‘ تزکیۂ نفس اور تعلیم کتاب و حکمت جیسا کہ سورہ آل عمران میں خود اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
ترجمہ۔ درحقیقت ایمان لانے والوں پر اللہ کا بڑا احسان ہے کہ اس نے ان کے درمیان خود انہی میں سے ایک ایسا رسول اٹھایا جو انہیں اس کی آیات سناتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے ورنہ اس سے پہلے وہ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔ (سورۃ آل عمران۔۱۶۴)
ترجمہ۔ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمہارے لیے اسلام کے طریقے کو پسند کیا۔ (سورۃ المائدہ۔۳)
ان آیات میں قرآن کریم کے بھیجنے والے نے اس کے لانے والے (حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم) سے صرف اتنی ہی خدمت نہیں لی کہ وہ اس کی آیات کی تلاوت کر کے نفوس کا تزکیہ کرے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دے بلکہ اس نے (اللہ تبارک و تعالیٰ) اپنے نیک بندے کے ذریعے اُس کام کو بھی پایۂ تکمیل تک پہنچا دیا بلکہ جو آیات نوع انسانی تک بھیجنی تھیں وہ بھی اس کے واسطے سے بھیج دیں۔ جن خرابیوں سے انسانی زندگی کو پاک کرنا مقصود تھا وہ بھی اس کے ہاتھوں سے کراکے دکھا دیا۔ جن خوبیوں کی نشوونما جس شان کے ساتھ معاشرے میں ہونا چاہیے تھی اس کا بہترین نمونہ اس کی رہنمائی میں پیش کردیا اور کتاب و حکمت کی ایسی تعلیم اس کے ذریعے سے دلوا دی کہ آنے والے تمام زمانوں میں مقصودِ کتاب کے مطابق انسانی زندگی کی تشکیل و تعمیر کی جاسکے یہ نعمتِ الٰہی اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ایسے ہی کچھ اور نعمت الٰہی کا ذکر سورۃ الاحزاب میں اس طرح کیا گیا ہے۔
ترجمہ۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم نے تم کو گواہ اور خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا۔ اور اللہ کے حکم سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور ایک روشن گر آفتاب بنا کر بھیجا ہے۔ (سورۃ الاحزاب۔ ۴۵۔۴۶)
ترجمہ۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم نے تم پر حق کے ساتھ یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ تم اللہ کے بتائے ہوئے قوانین کے مطابق لوگوں کے فیصلے کرو اور خیانت کرنے والوں کے وکیل نہ بنو۔ (النساء۔۱۰۵)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے سیاست‘ عدالت‘ اصلاحِ اخلاق و تمدن اور قیام تہذیبِ صالح کے تمام پہلوئوں پر کام لیا۔ بے شک اللہ تعالیٰ کی یہ عطا ایسی ہے جو تمام اسلامی معاشرے اور نظامِ حیات پر حاوی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام یعنی دین حق کی تبلیغ کسی ایک قوم یا ملک یا دَور کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ تو تمام نوع انسانی کے لیے اور تمام زمانوں کے لیے عام ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی خصوصیت اور ربِ کائنات کی عطا جس کی قرآنِ حکیم ہمیں تعلیم دے رہا ہے یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلسلہ نبوت و رسالت ختم کردیا گیا اور اس کے بعد دنیا میں پھر کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور نبی کی ضرورت و حاجت باقی ہی نہیں رہے گی جیسا کہ سورہ الاحزاب میں فرمایا گیا ہے۔
ترجمہ۔ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں مگر وہ اللہ کے رسول ہیں اور نبیوں کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہیں۔ (سورۃ الاحزاب۔۴۰)
اس آیتِ مبارکہ میں یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ایک عالم گیر اور ابدی نبوت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے ہی دین کی تکمیل ہوئی ہے۔ چونکہ قرآنِ حکیم کے احکام کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت تمام دنیا کے انسانوں کے لیے ہے یہ کسی ایک قوم قبیلے کے لیے نہیں تمام عالم انسانی کے لیے ہی نہیں بلکہ تمام کائنات کے لیے ہے اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمۃ اللعالمین بنا کر مبعوث فرمایا ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے وہ عظیم کام پایۂ تکمیل تک پہنچ چکا ہے جس کی ابتداء حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی اور جس کے لیے ہر دور میں انبیاء اکرام کی ضرورت رہی اور انبیائے کرام آتے رہے تاکہ دین کا تسلسل برقرار و قائم رہے چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختمِ نبوت ہونا تھی اس لیے کہ دین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہی توسط سے پایۂ تکمیل کو پہنچایا گیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت کے لیے بھی بہتبڑا انعام اور اس کی عطا ہے۔
اس آیتِ مبارکہ کی تشریح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک حدیث سے واضح فرمائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری مثال نبیوں میں ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک نہایت خوب صورت مکان بنایا اور تمام عمارت بنا کر صرف ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ اب جو لوگوں نے اس کے گرد چکر لگایا تو انہیں وہ خالی جگہ کھٹکنے لگی اور وہ کہنے لگے کہ اگر یہ آخری اینٹ بھی رکھ دی جاتی تو مکان بالکل مکمل ہو جاتا۔ سو وہ آخری اینٹ جس کی جگہ نبوت کے محل میں باقی رہ گئی تھی وہ میں ہی ہوں۔ اب میرے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مثال سے ختمِ نبوت کی وجہ صاف سمجھ میں آجاتی ہے۔ جب دین کامل ہو چکا۔ آیاتِ الٰہی پوری وضاحت و حکمت کے ساتھ بیان کی جاچکیں۔ او امر ونواہی‘ عقائد و عبادات‘ تمدن و معاشرت‘ حکومت و سیاست غرض انسانی زندگی کے ہر ہر شعبے سے متعلق پورے پورے احکامِ الٰہی بیان کردیئے گئے اور دنیا کے سامنے اللہ کا کلام اور اللہ کے رسول کا اسوۂ حسنہ اس طرح پیش کردیا گیا کہ ہر قسم کی تحریف و تلبیس سے وہ پاک ہے اور ہر عہد میں اس سے ہدایت حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس لیے مزید کسی نبوت کی ضرورت باقی ہی نہیں رہتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی ایک اور عنایت اور انعام آپ کی پوری امّت کے لیے آپ کا رحمت بنانا بھی ہے جیسا کہ قرآن حکیم میں واضح کہا گیا ہے۔
ترجمہ۔ اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو تمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔ (سورۃ الانبیاء۔۱۰۷)
اس آیتِ مبارکہ میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ کی جانب سے ایک عظیم عطا کا ذکر کیا گیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ نے جو یہ عطا کی ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام امّت کی فلاح و بہتری کے لیے ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ذاتِ مبارکہ سے کہیں زیادہ بلکہ ساری فکر و غم اپنی امت کے لیے ہی رہتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی آخر الزماں کی دل جوئی اور دلداری کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام عالموں کے لیے رحمت بنا دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لے آئے گا اس نے گویا اس رحمت کے سائے کو قبول کرلیا اور اللہ تعالیٰ کی اس نعمتِ عظیم کا شکر ادا کیا۔ نتیجتاً وہ دنیا و آخرت کی تمام سعادتوں سے بہرمند ہو گا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت چونکہ پورے جہان کے لیے ہے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات بھی تمام جہان کے لیے ہیں ان تعلیمات کو دین و دنیا کے لیے رحمت قرار دیا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے امت پوری طرح سے تباہی و بربادی سے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دی گئی۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے پہلے کی امتیں‘ قومیں حرف غلط کی طرح مٹا دی جاتی تھیں لیکن امّت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم جو اجابت‘ دعوتِ حق کے اعتبار سے پوری نوع انسانی پر مشتمل ہے اس پر اس طرح کا کلی عذاب نہیں آئے گا۔ ایک حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مشرکین کے لیے بددعا نہ کرنا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کا ایک حصہ ہے۔ (صحیح مسلم) ایسے ہی غصے کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی مسلمان کو لعنت یا سب وشتم کرنے کو بھی قیامت والے دن رحمت کا باعث قرار دینا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کا حصہ ہے۔ (مسند احمد۔ ابو دائود) ایک اور حدیث شریف میں یوں بیان فرمایا۔ ’’میں رحمتِ مجسم بن کر آیا ہوں جو اللہ کی طرف سے اہلِ جہان کے لیے ایک ہدیہ ہے۔‘‘ (صحیح جامع الصغیر) ایسے ہی ایک اور عطاء و عنایت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی تمام جہانوں کی رہنمائی اور ہدایت کی کتاب کا نزول ہے جس کے لیے خود قرآن کریم یوں فرما رہا ہے۔
(جاری ہے)
Y

Tags
Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
error: Content is protected !!
Close