Aanchal Jul-16

دانش گدہ

مشتاق احمد قریشی

اس سے قبل یعنی اس سورۃ ابراہیم کی آیت ۲۲ میں ان لوگوں کی منظر کشی کی گئی ہے جو اپنے بودے کردار کے باعث شیطان کے شکنجے میں پھنس کر رہ گئے اور راہ حق کو چھوڑ کر شیطان کے پیچھے لگ کر اپنی دنیا کی زندگی تو برباد کی ہی کی اپنی آخرت اور اپنی دائمی زندگی کو بھی عذاب الٰہی سے ہم کنار کرلیا‘ذیل کی آیت پر غور کرلیا جائے تو بات پوری طرح سمجھ میں آسکے گی۔
ترجمہ :اور جب کام کافیصلہ کردیا جائے گا تو شیطان کہے گا کہ اللہ نے تو تمہیں سچا وعدہ دیاتھا اور میں نے تم سے جو وعدے کئے تھے ان کے خلاف کیا۔ میرا تم پر کوئی زور نہیں تھا۔ ہاں میں نے تمہیں دعوت دی اور تم نے میری دعوت مان لی پس تم مجھے الزام نہ دو بلکہ خود اپنے آپ کو ملامت کرو نہ میں تمہارا فریاد رس ہوں اور نہ تم میری فریاد کو پہنچنے والے ہو‘ میں تو سرے سے مانتا ہی نہیں کہ تم مجھے اس سے پہلے اللہ کا شریک مانتے رہے‘ یقینا ظالموں کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ (ابراہیم۔۲۲)
تفسیر: اس آیت مبارکہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو پیشگی خبر دے رہا ہے کہ روز آخرت جب تمام انسانوں کا فیصلہ ان کے اعمال کے مطابق کردیا جائے گا یعنی اہل ایمان جنت میں اور اہل کفروشرک جہنم میں جائیں گے تو جہنم میں تمام جہنمی لوگ شیطان سے شکوہ شکایت کریں گے کہ تیری وجہ سے تیرے کہنے میں آکر ہم جہنم رسید ہوئے ہیں‘تو شیطان ان جہنمیوں سے کہے گا کہ تمہارے گلے شکوے اس حد تک تو درست ہیں کہ میں جھوٹا اوراللہ تعالیٰ سچا ہے۔ اس سے مجھے بھی قطعی کوئی انکار نہیں ہے یہ بھی سچ ہے کہ اللہ کے تمام وعدے اور اس کی وعیدیں سچی ہیں اور تم نے دیکھ ہی لیا کہ اللہ کی ہر بات سچی نکل چکی۔ میں تو تمہیں لالچ دے کر‘ جھوٹی تسلیاں دے کر اور خوش نما توقعات کے جال بچھا کر راہ حق سے ہٹانے کی کوشش کرتا تھا اور تمہیں یہ یقین دلاتاتھا کہ اللہ تک پہنچنے کے لئے اللہ کے بندوں کی خدمت کرو ان کو اپنی نجات کا ذریعہ بنالو تم بخش دیئے جائوگے تمہیں احکام الٰہی کے پاس کی ضرورت ہی نہیں رہے گی اور اللہ نے مجھے اسی کام کے لئے مہلت عطا کی تھی کہ تومیرے نیک اور صالح بندوں کوراہ حق سے نہیں ہٹا سکے گا اور یقینا ایسا ہی ہوا کہ میں اس کے بندوں کو جنہوں نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا تھا اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اپنی طرف نہیں بلاسکا۔ اللہ تعالیٰ نے جو وعدے اپنے پیغمبروں کے ذریعے کئے تھے کہ نجات میرے پیغمبروں پر ایمان لانے میں ہے وہی حق تھے ان کے مقابلے میں میرے تمام وعدے سراسردھوکااور فریب تھے۔یہی بات سورۃ النسا میں بھی کہی گئی ہے۔’’شیطان ان سے وعدے کرتا اور آرزوئیںدلاتا ہے لیکن شیطان کے یہ وعدے محض دھوکہ ہیں۔‘‘(النساء۔۱۲۰)
تمام اہل جہنم کے شکوے شکایات کے جواب میں شیطان انہیں کہے گا کہ میری باتوں میں تو کوئی دلیل وحجت ہوتی بھی نہیں تھی اور نہ میرا تم پر کوئی زور یا دبائو ہوتا تھا میں تو تمہیں صرف دعوت دیتا تھا پکارتا تھا‘ اور تم میری بے دلیل باتوں وپکار کو تو مان لیتے تھے اور اللہ کے پیغمبروں کی دلیل ومحبت سے بھرپور باتوں کو رد کردیا کرتے تھے اس میں میرا کیا قصور۔ قصور توسراسر تمہارا اپنا ہی ہے۔ اللہ نے تمہیں ارادے کا اختیار اور عقل وشعور دیا تھا اس سے ذرا کام لیتے لیکن تم نے تو تمام واضح دلائل کو نظر انداز کرکے میری جھوٹی‘ خوش نما باتوں کواپنالیا اور میرے پیچھے لگ گئے تو میرا کیا قصور۔ میں نہ تو تمہیں اس عذاب سے بچا سکتا ہوں نہ نکلواہی سکتا ہوں اور نہ تم اللہ کے اس قہر وغضب سے مجھے بچاسکتے ہو جو اللہ کی طرف سے مجھ پر دردناک عذاب ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر وہ بات جو ہمارے فائدے یا نقصان کی ہے پوری طرح کھول کھول کر تفصیل سے بتارہا ہے کہ کہیں ہم بے خبری میں نہ مارے جائیں۔ اس آیت مبارکہ میں شیطان کے قول کو نقل فرما کر رب کریم نے ہمیں آخرت اور آخرت کے عذاب سے کس طرح بچنا ہے سے آگاہ کردیا ہے کہ ہم جودنیا میں شیطان کے پیچھے لگ کر احکام الٰہی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی نافرمانی کرکے کس طرح خود کو عذاب الٰہی کے لئے تیار کرلیتے ہیں یہ کام ہم کس طرح کرتے ہیں جیسے سورۃ توبہ میں فرمایا جارہا ہے ’’ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عاملوں اور درویشوں کو ر ب بنالیا ہے۔‘‘ (التوبہ۔۳۱) جاہلیت کی رسمیں ایجاد کرنے والوں کے متعلق یہ کہنا کہ ان کے پیروں نے انہیںاللہ کا شریک بنا رکھا ہے (الانعام۔۱۳۷)کیا آپ نے اسے بھی دیکھا جو اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہے۔(الفرقان۔۴۳) اے اولاد آدم ! کیا میں نے تم سے قول وقرار نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا‘ وہ تو تمہارا کھلا دشمن ہے۔(یٰسین۔۶۰)اور ایسی بہت سی مثالیں قرآن حکیم میں موجود ہیں کہ اللہ جگہ جگہ بار بار اپنے اہل ایمان بندوں کو بتارہا ہے کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا اور شیطان سے کیسے بچنا ہے۔ اس آیت میں ایسے ہی بھٹکے اور بہکے ہوئے لوگ جب روز آخرت اپنے دنیا میں کئے ہوئے اعمال کے بدلے جہنم میں جائیں گے تو شیطان انہیں ٹکا سا جواب دے کر اپنی جان بچالے گا۔ سورہ ابراہیم کی اس سے پہلی آیت میں اللہ ان لوگوں کے لئے اچھے انعام واکرام کی خوش خبری دے رہا ہے جنہوں نے شیطان کے ہر ہرحربے سے بچ کر اپنے ایمان کی حفاظت کی اور اللہ کی راہ پر سختی سے جمے رہے اور شیطان کی ہر حرکت کا منہ توڑ جواب اپنے اعمال سے دیا اللہ ان اہل ایمان کو جنت کی بشارت سنا رہا ہے اور یہ بشارت اس لئے بھی ہے کہ ہم اس کو مدنظر رکھتے ہوئے دنیا میں اپنے اعمال احکام الٰہی کے تابع رکھیں اور ہمارا ہر قدم سنتِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہو ہر اس کام اور عمل سے خود کو روکے رکھیں جن سے اللہ نے روکا ہے اور ہر وہ کام اختیار کریں جن کو کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور جنہیں انجام دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی طور پر اسے کرنے کا طریقہ بھی سمجھایا اور بتادیا تاکہ اہل ایمان کو ان کی ادائیگی میں کسی قسم کی دشواری و دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے اور روز آخرت اپنی دائمی زندگی گزارنے کے لئے اپنے دائمی ٹھکانے کے طور پر جنت حاصل کرنا آسان ہوجائے۔
ترجمہ : (ان سے کہا جائے گا)سلامتی اور امن کے ساتھ اس میں داخل ہوجائو۔ (الحجر۔۴۶)
تفسیر:آیت مبارکہ میں بھی سورۃ ابراہیم کی آیت ۲۳ کی مانند اہل ایمان و پرہیزگاروں کو جنت میں امن وسلامتی کے ساتھ داخل ہونے کی خوش خبری دی جارہی ہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ جب جہنم اور اہل جہنم کے بعد اہل جنت کاتذکرہ فرماتا ہے تو وہ اس سے اپنے نیک وصالح بندوں کو جنت کی ترغیب دے رہا ہوتا ہے تاکہ اس کے بندے اپنی قوت ارادی کو کام میں لاکر شیطان کے چنگل سے بچ سکیں اور اللہ کی راہ کو اپنا کر اس امتحان گاہ یعنی دنیا سے سرخرو اور کامیابی حاصل کرکے نکلیں اور اپنے نیک وصالح اعمال کے صلے میں اللہ کے حکم سے جنت میں سلامتی وامن کے ساتھ داخل ہوں۔ وہ انسان کے اعمال ہی ہوں گے جن سے وہ جہنم سے بچ سکے گا ورنہ اپنے برے اعمال کے باعث جہنم رسید ہوگا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی تمام تاکید و تنبیہہ خودہمارے مفاد وحق میں ہے‘ اللہ توہر چیز سے بے نیاز ہے‘ اسے نہ تو ہماری عبادات کی ضرورت ہے اور نہ ہی ہماری نافرمانی وکفر سے اسے کچھ فرق پڑتا ہے۔ انسان کواللہ تعالیٰ نے اپنا نائب بنا کر ایک اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازااس لئے وہ اپنے نائب کی فلاح و بہتری کا خواہاں رہتا ہے‘ وہ چاہتا ہے کہ اس کا نائب جسے اس نے خلیفتہ الارض بنا کرزمین پر اتارا ہے وہ کسی پریشانی‘کسی دشواری کا شکار نہ ہو۔ اس نے انسان کو قوت ارادی بخش کر سرفراز کیا اور انسان کو اپنی تمام مخلوقات میں افضل واشرف مقام عطا فرما کر اسے یہ اختیار بھی دے دیا کہ وہ خود اپنے عارضی ٹھکانے میں رہتے ہوئے جو ایک مختصر مقررہ مدت کے لئے ہے اپنی دائمی زندگی کے لئے اپنی دائمی اور ہمیشہ رہنے والی قیام گاہ کا خود بندوبست کرلے‘ اس کام میں مدد دینے اوراعانت کرنے کے لئے اس نے اپنے بندوں میں سے ہی نیک وصالح افراد کو اپنا رسول وپیغمبر بنا کرراہ حق کی رہنمائی ونشاندہی کے فرائض انجام دینے پر مامور کیا تاکہ اس کے بندوں کوشیطان‘ جو انسان کا ازلی وابدی دشمن ہے‘ نہ بہکا سکے‘ کہیں ورغلا کر انہیں کسی طرح سے عذاب کی بھٹی میں نہ دھکیل دے اور جنت کی جگہ دوزخ کی راہ پرڈال دے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے تمام بندوں کو آگاہ فرمارہا ہے کہ جو اس کا کہا مانے گا اور اپنے نیک وصالح اعمال سے ثابت کردے گا کہ وہ صرف اور صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے‘ اس کے احکام پر سرتسلیم خم کرنے والا ہے اور کسی بھی طرح شیطان کے بہکانے سے بہکنے والا نہیں‘ اپنے ان ہی اہل ایمان بندوں کے لئے وہ کتاب الٰہی میں بار بار جگہ جگہ انہیں جنت کی خوش خبری دے رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ نافرمان و کفر کرنے والوں کو عذاب کی وعید بھی سنا رہا ہے تاکہ اہل ایمان راہ راست سے کسی طرح نہ بھٹکیں۔
ترجمہ: جب انہوں نے ان کے پاس آکر سلام کہا تو انہوں نے کہا کہ ہم کو تو تم سے ڈر لگتا ہے۔ (الحجر۔۵۲)
تفسیر:اس آیت مبارکہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس فرشتوں کے آنے اور انہیں سلام کرنے کے واقعے کو بیان کیا گیا ہے‘ جب فرشتے آئے تو انہوں نے کہا ’’تم پر سلامتی ہو‘‘ اس کے جواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ ہمیں تم سے ڈر لگتا ہے۔ یہاں ابراہیم علیہ السلام نے خوف کی کوئی وجہ نہیں بتائی اور نہ یہ تذکرہ کیا کہ ابراہیم علیہ السلام بھنا ہوا بچھڑا لائے اور انہوں نے ہاتھ نہیں بڑھایا جیسا کہ سورۃ ہود کی ۶۹ نمبر کی آیت میں آیا ہے‘ اس سے یہ بھی علم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر بھی غیب کا علم نہیں رکھتے‘ اگرپیغمبر کو غیب کاعلم ہوتا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام ازخود سمجھ جاتے کہ آنے والے مہمان انسان نہیں بلکہ فرشتے ہیں ان کے لئے کھانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ فرشتے انسانوں کی طرح کھانے پینے کے محتاج نہیںہوتے۔ الحجر کی اس آیت مبارکہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جس ڈرکا ذکر کیا ہے اس کے لئے ہمیں سورہ ہود کی آیت نمبر ۷۰کی طرف لوٹنا ہوگا جس میں اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خوف کی کیفیت کو بیان فرمارہا ہے۔
ترجمہ: مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے پر نہیں بڑھتے تو وہ ان سے مشتبہ ہوگیا۔ اور دل میں ان سے خوف محسوس کرنے لگا۔انہوں نے کہا ڈرو نہیں ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے ہوئے ہیں۔ (ہود۔۷۰)
تفسیر: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب دیکھا کہ آنے والے مہمان ان پر سلامتی بھیج رہے ہیں لیکن وہ ان کے کھانے کے لئے لائے ہوئے بچھڑے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھارہے تو انہیں خوف اس لئے محسوس ہوا کہ اس زمانے میں یہ فعل معروف تھا کہ آنے والے مہمان اگر ضیافت سے فائدہ نہیں اٹھاتے تووہ کسی اچھی نیت سے نہیں آئے۔ چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دونوں مہمان اللہ کی طرف سے بھیجے گئے فرشتے تھے اس لئے انہوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا۔ لیکن چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس کی خبر نہیں تھی اور نہ انہیں غیب کے ذریعے اس سے باخبر کیا گیا تھا اس لئے وہ ان مہمانوں کو نامہربان مہمان سمجھ کرڈر گئے‘ اگر اللہ کے پیغمبر غیب دان ہوتے تو وہ پہلے سے باخبر ہوجاتے اور اپنی اہلیہ کے عزیز بچھڑے کو ذبح کرکے بھنوا کر نہ لاتے اور نہ ہی ڈر محسوس کرتے۔ جب فرشتوں نے محسوس کیا کہ اللہ کے پیغمبر کو ڈر محسوس ہو رہا ہے (جیسا کہ الحجر کی آیت ۵۲ میں آیا ہے)تو انہوں نے خود ہی اللہ کے حکم سے وضاحت کردی کہ آپ جو سمجھ رہے ہیں‘ ہم وہ نہیں ہیں بلکہ اللہ کی طرف سے بھیجے گئے فرشتے ہیں‘ ہم قوم لوط علیہ السلام کی طرف جارہے ہیں‘ راستے میں آپ کو اللہ کی طرف سے خوش خبری دینے آئے ہیں اور آپ پر سلامتی بھیجنے کے لئے بھی آئے ہیں۔
اللہ تبارک وتعالیٰ جو اپنے بندوں سے بے پناہ محبت وشفقت فرماتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کے بندے کو دنیا وآخرت میں کوئی تکلیف نہ ہوا س کی آسائش وآرام کے لئے اس دنیامیں بھی ہر طرح کی نعمتوں کے انبار مہیا کردیئے ہیں اور اس کی دائمی زندگی کو بھی آرام وآسائشیں اور تمام تر نعمتوں کے ساتھ گزارنے کے لئے قرآن حکیم میں بار بار ترغیب دے کر اعمال صالح کی ہدایت وتاکید فرمارہا ہے اور جہنم کے عذاب سے اس کی سختیوں سے خبردار کررہا ہے۔ کون جنت کا حق دار ہوگا اور کون جہنم کا اس کا فیصلہ تو تمام تر اللہ تبارک وتعالیٰ کے ہاتھ واختیارمیں ہے لیکن اللہ اپنی خوشنودی اور رضا حاصل کرنے اور اس کی رسی کومضبوطی سے تھامے رکھنے کے طریقے بڑے عام سہل انداز میں تعلیم فرما رہا ہے ایسے ہی آنے والی آیت میں اعمال کے بدلے جنت اور سلامتی کی خبر دے رہا ہے۔
ترجمہ :وہ جن کی روحیں فرشتے پاکیزہ حالت میں قبض کرتے ہیںتو کہتے ہیں۔ ’’سلام ہو تم پر‘ جائو جنت میں اپنے اعمال کے بدلے جو تم کرتے تھے۔ (النحل۔۳۲)
تفسیر: اس آیت مبارکہ میں بھی رب کائنات ظالم‘ مشرک ومنکرین کے مقابلے میں اہلِ ایمان وتقویٰ کو ان کے حسنِ انجام کی خبر دے رہا ہے اس طرح سے اس آیت میں بھی اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں کو تقویٰ اعمال صالح کی ترغیبِ خاص دے رہا ہے کہ ’’وہ لوگ جن کی روحیں پاکیزگی کی حالت میں فرشتے قبض کرتے ہیں ان کے نفوس بھی پاکیزہ ہوتے ہیں کیونکہ وہ اللہ سے ملنے والے ہوتے ہیں وہ اپنے اعمال صالح وتقویٰ کے باعث سکرات الموت اور مشکلاتِ نزع روح سے محفوظ رہتے ہیں۔ روح قبض کرتے وقت فرشتے کہتے ہیں ’’سلام ہو تم پر۔‘‘یہ سلام متقی افراد کو اطمینان دلانے کے لئے اور ان کو مرحبا اور دائمی زندگی کی طرف پیش قدمی پر خوش آمدید کہنے کے لئے ہوتا ہے۔ فرشتے انہیں کہتے ہیں’’جائوجنت میں اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ گویا ان کو ان کے اعمال کے بدلے میں جنت کی خوش خبری دنیا سے کوچ کرتے وقت ہی سنا دی جاتی ہے۔ کتنا خوش نصیب ہے وہ انسان کہ جب وہ دنیا سے رخت سفر باندھ رہا ہوتا ہے‘ رحمت کے فرشتے اس کے استقبال کے لئے کھڑے اس پر سلام بھیج رہے ہوتے ہیں اور جنت کی بشارت سنارہے ہوتے ہیں۔ کیا ایسے کسی انسان کو روح قبض ہوتے وقت کسی قسم کی گھبراہٹ بے چینی یا تکلیف کااحساس ہوسکتا ہے جس کو اِس دنیا سے‘ اُس دنیا کی طرف سفر کے وقت فرشتے خوش آمدید کہہ رہے ہوں اور اس پر سلامتی کے پھول نچھاور کررہے ہوں ایسا صرف اس کے ایمان‘ تقویٰ‘ نیک اور عمل صالح کی بدولت ہی ہوگا کیونکہ اللہ کی رحمت کے حصول کے لئے نیک اعمال کا ہونا بہت ضروری ہے گویا عملِ صالح ہی اللہ کی رحمت کا ذریعہ ہے اس سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ عمل صالح کے بغیر اللہ کی رحمت نہیں مل سکتی‘ انسان کو چاہئے کہ اپنی یہ مختصر سی زندگی کی مہلت کو زیادہ سے زیادہ اللہ کی رضااور خوشنودی کے حصول کے لئے صرف کرے۔تاکہ اللہ کے قرب کا اور نبی کریم کی شفاعت کا حق دار ٹھہرسکے اور جنت میں اپنی دائمی آرام گاہ جو اسے اللہ تعالیٰ کے انعام کے طور پر حاصل ہوگی سکھ چین اور آرام سے رہ سکے۔ اللہ اپنے بندوں کے لئے کیسا انتظام واہتمام فرمارہا ہے کہ بندے صراط مستقیم پر اپنے ذوق وشوق سے پوری لگن واخلاص سے چلیں۔
ترجمہ:سلام اس پر جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے اور جس دن وہ زندہ کرکے اٹھایا جائے۔ (مریم۔۱۵)
تفسیر:آیت مبارکہ میں حیات انسانی کے تین مراحل یا مواقع کاتذکرہ ہے اور یہ تینوں ہی مواقع انسان کے لئے سخت وحشت ناک ہوتے ہیں۔
(جاری ہے)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
× How can I help you?
Close