Naeyufaq Oct-17

دستک

مشتاق احمد قریشی

ہوئے تم دوست جس کے

قیام پاکستان کو ستر سال پورے ہوئے اس عرصے میں کئی حکمران آئے گئے لیکن وطن عزیز کے ہمسایہ ممالک سے معاملات، درست ہونے کی بجائے روز بروز بگڑتے ہی جا رہے ہیں مسئلہ کشمیر کو بھی یوں تو ستر برس ہی ہونے کو آئے مسئلہ کشمیر کے معاملے میں تو اقوام متحدہ بھی ایک فریق ہے ستر برس قبل اقوام متحدہ نے ایک قرار داد منظور کی تھی کہ کشمیری عوام کو حق خود اختیاری دیا جائے گا لیکن آج تک اس قرار داد پر عملدرآمد ہونا تو دور کی بات اقوام متحدہ اس کے بارے میں ذکر تک نہیں کرتی نہ ہی ہمارے حکمرانوں کو اتنا ہوش ہوتا ہے کہ وہ جنرل اسمبلی کے موقع پر ہی کچھ اس بارے میں بات کریں اور اقوام عالم پر زور دیں کہ وہ خطے کے امن کو مد نظر رکھتے ہوئے اس مسئلے کو حل کرائے دو جوہری قوت کے ممالک بھارت اور پاکستان دونوں ہی مسئلہ کشمیر سے جڑے ہوئے ہیں اور مسئلہ کشمیر کوئی معمولی یا غیر اہم مسئلہ نہیں ہے اگر خدانخواستہ کسی وقت بھارتی حکمرانوں کا بھیجا گھوم گیا اور انہوں نے اپنی ہٹ دھرمی اور پاگل پن کے ہاتھوں مجبور ہو کر کوئی ایسا قدم اٹھا لیا جس سے خطہ میدان جنگ میں بدل جائے تو یقینا دونوں اطراف کی خیر نہیں صرف مسئلہ کشمیر ہی اتنا اہم اور غیر معمولی اہمیت کا حامل مسئلہ ہے جس کی وجہ سے کچھ بھی ہوسکتا ہے پاکستانی حکمرانوں کی کاہلی سستی اور مفاد پرستی ہی ہے جو بھارتیوں کو شہ دیتی ہے اور وہ بھی پاکستانیوں کا حوصلہ چیک کرنے کے لیے پاک بھارت سرحد پر تخریبی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں جس کا فوری جواب افواج پاکستان دے کر انہیں اپنے زخم چاٹنے پر مجبور کردیتی ہے دونوں اطراف کی افواج آمنے سامنے کھڑی رہتی ہیں ماضی میں بھی بھارت نے اپنی من مانی کی تھی اور منہ کی کھا کر رہ گئے تھے بھارتی حکمرانوں اور سیاست دانوں کا بس نہیں چلتا کہ وہ پاکستان تو کیا مسلمان قوم کو ہی ختم کردیں یہ معاملہ صرف بھارتیوں کا ہی نہیں بلکہ تمام یہود و نصاریٰ کا یہی موقف ہے بھارت میں آئے دن مسلمانوں کا قتل عام ہوتا رہتا ہے کشمیر میں بھی ہر روز خون کی ہولی کھیلی جاتی ہے کشمیری نوجوانوں نے خصوصاً اور تمام کشمیری مسلمانوں نے عموماً اپنی بقا اور آزادی کا علم بلند کر رکھا ہے وہ اپنی تحریک کو اپنے خون سے سینچ رہے ہیں کشمیری جوانوں کی یوں تو کئی تحریکیں کام کر رہی ہیں اس وقت جو سب سے پیش پیش ہے وہ تنظیم حزب المجاہدین ہے جسے بھارت نے اپنے سفارتی ذرائع کے ذریعے امریکا سے دہشت گرد تنظیم قرار دلوا دیا ہے اس سے قبل امریکا اور اس کے حواری لشکر طیبہ کو دہشت گرد قرار دے چکے ہیں کیونکہ بھارت کی پوری کوشش ہے کہ لشکر طیبہ کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو بھی کسی نہ کسی طرح دہشتگرد قرار دلوا دیا جائے وہ تو چین پاکستان کی حمایت کے باعث آڑے آگیا اس نے کھل کر مولانا مسعود اظہر کو کو دہشت گرد گردانے کی کوشش کو واضح الفاظ میں رکوا دیا۔ مسلم دنیا حیران ہے کہ سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کشمیر کے مسئلے پر ستر برس گزرنے کے باوجود نہ صرف خاموش ہے بلکہ بھارت کی طرف داری کر رہی ہے بھارتی افواج کی کثیر تعداد کشمیر میں موجود ہے اور وہ کشمیری مسلمانوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑ رہی ہے دنیا تماشا دیکھ رہی ہے کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی اس کی تمام تر ذمہ داری ہمارے حکمرانوں پر آتی ہے بھارتی افواج مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی لہر کو دبانے کے لیے بھرپور ظالمانہ کاروائیاں کر رہی ہے پاکستانی حکمران زبانی کلامی کمزور سے بیان دے کر خاموشی اختیار کرلیتے ہیں حالانکہ کشمیر کو شہہ رگ کہنے اور سمجھنے والوں کو اس کا احساس ہونا چاہیے کہ آج کشمیری قوم اپنے سر دھڑ کی بازی لگا کر سر سے کفن باندھے پاکستان سے الحاق کا نعرہ لگا رہی ہے اور پاکستان کے پرچم لہرا رہی ہے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں پاکستان کا مطلب کیا کہ نعرے لگا رہے ہیں وہ تو پاکستان سے گلے ملنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا رہے ہیں لیکن پاکستانی کانوں میں تیل ڈالے تماشا دیکھ رہے ہیں۔
بھارتی حکمران اور اہل سیاست نے یہ شیوا اپنا لیا ہے کہ پاکستان کو داخلی مسائل میں اس قدر الجھا دو کہ وہ اپنی بوٹیاں نوچتا رہے اسے اس کا ہوش ہی نہ رہے کہ دائیں بائیں کیا ہو رہا ہے بھارتی ایجنسی را کا ایک بہت فاعل ہرکارا کلبھوشن یادو ہاتھ لگا اور سب کچھ اس نے اگل بھی دیا لیکن سب بے سود نہ حکمومت نے عالمی سطح پر نہ خارجی سطح پر کوئی موثر احتجاج یا کوئی ایسی مہم جوئی نہیں کی جس سے بھارت کی سیاہ کارستانیوں کا پردہ فاش ہوتا اور اقوام عالم کو اگر ہوش نہ بھی آتا تو بین الاقوامی سطح پر بھارتی جرائم کا ڈھنڈورا تو پٹتا لیکن ہمارے مہربان حکمرانوں اور اہلکاروں کے باعث بھارت مظلوم بن کر عالمی عدالت چلا گیا اور ہم اب اپنی صفائیاں پیش کرتے رہیں گے اقبالی مجرم ہاتھ آنے کے باوجود اپنی آزادی کا منتظر ہے حالانکہ اب تک تو اسے وصل جہنم ہوجانا چاہیے تھا الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق بھارت پاکستان پر جارحیت کی الزام تراشی کر رہا ہے جبکہ وہ خود جارحیت کر رہا ہے وطن عزیز میں گزشتہ ساڑھے تین سال سے کوئی وزیر خارجہ ہی نہیں رہا تو کون تھا جو بھارت کے خلاف اس کے الزام تراشیوں اور مذموم کاررائیوں کا جواب دیتا ہماری مصلحت پسندی اور اہل سیاست کا جاہلانہ رویوں کے باعث بھارت کو شہہ ملتی رہی ہے اس سبب ہی تجزیہ نگار اکثر نا اہل ہونے والے وزیر اعظم میاں نوز شریف پر الزامات لگاتے رہتے تھے کہ ان کا تجارتی تعلق چونکہ بھارت سے ہے اس لیے وہ بھارتی حکمرانوں سے دبتے ہیں اور ان سے دوستی بنا کر رکھنا چاہتے ہیں وہ اپنے مالی مفادات کے لیے مجبور ہیں کہ بھارت کی من مانیوں پر خاموشی اختیار کریں یا بہت کمزور سا بیان دیں میاں صاحب کی ان ہی کمزوریوں کے باعث بھارت نے وہ پر پرزے نکالے ہیں کہ قوم حیران و پریشان ہے آخر افواج پاکستان کہا تک اہل سیاست کی کمزوریوں پر پردہ ڈالتی رہے گی اور آپریشن پر آپریشن کا سہارا لیتی رہے گی میاں صاحب کی نا اہل ہونے پر بھی آنکھیں نہیں کھل رہیں اور اب بھی خواب غفلت کا شکار ہیں بھارت دو طرفہ کاروائیاں کر رہا ہے ایک طرف افغانستان اور ایران سے مل کر سرحدوں پر اور اندرون سرحد تخریبی کارروائیاں کر رہا ہے تو دوسری طرف مشرقی سرحد پر جارحانہ کارروائی کر رہا ہے اور کشمیر میں نت نئے جرائم و مظالم کر کے پاکستان کو بدنام کرنیکی مہم کرا رہا ہے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے وہ طرح کے حربے استعمال کر رہا ہے میاں صاحب نا اہل ہونے سے پہلے اور بعد میں سازش سازش کا رونا تو رو رہے ہیں لیکن انہیں یہ نظر نہیں آرہا کہ ان کے خلاف سازش ان کے من پسند اور دوست نریندر مودی کرا رہا ہے اس کے ہی اشارے پر اس اس کے خاص الخاص قومی سلامتی کے مشیر اپنی پوری قوت سے برسر پیکر ہے وہ اپنے دست راست کلبھوشن یادو کو ہر قیمت اور ہر حال میں چھڑانا چاہتا ہے چاہے اس کے لیے اسے پورے پاکستان کو بارود سے اڑنا پڑے وہ اس سے گریز نہیں کرے گا میاں صاحب اور ان کے تمام مشیران و احباب کے سر پر اس وقت ایک ہی بھوت سوار ہے کہ کس طرح عدلیہ کو ناکام ثابت کر کے اپنی نا اہلی کو ختم کیا جائے اس کے لیے وہ ہر قیمت ادا کرنے کو تیار بیٹھے ہیں، ادارے تباہ ہوتے ہیں تو ہوتے رہیں عوام کا کیا ہے اگر ہمارے عوام جہنم میں جاتے ہیں تو بلا سے جائے لیکن میاں صاحب کا الو جس طرح بھی ہوسکتا ہے سیدھا ہوجائے تاکہ وہ ایک بار پھر مسند اقتدار پر براجمان ہوسکیں عدلیہ کے فیصلے نے میاں صاحب اور ان کے حواریوں کو ہواس باختہ کردے ان کا بس نہیں چل رہا کہ وہ ہر ایک کو تہس نہس کردیں جو ان کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہو انہیں اس کی کوئی فکر نہیں کہ مشرقی اور مغربی سرحدوں پر کیا ہو رہا ہے اندرون ملک اور بیرون ملک پاکستان کی کیسی بدنامی ہو رہی ہے کیسے وطن عزیز کی لٹیا ڈبونے کی کوشش کی جا رہی ہے اگر دیکھا جائے تو میاں صاحب خود بھی اس کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں ہمیں کسی بیرونی دشمنی کی کیا ضرورت ہے ہم تو خود اپنے دشمن بنے ہوئے ہیں ہوئے تم دوست جس کے دشمن آسماں کیوں ہو۔ اللہ تعالیٰ ہماری ہمارے وطن عزیز کی ہر طرف سے ہر طرح سے حفاظت فرمائے اور دشمنان پاکستان کا منہ کالا کرے، آمین۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
Close