Hijaab Feb 2019

دشت محبت کا سفر

مہتاب خان

وہ ان پُر پیچ راستوں پر آہستہ روی سے کار چلا رہا تھا۔ اطراف میں بے حد خوب صورت نظارے تھے۔ سامنے بل کھاتی پُر پیج سڑک‘ دائیں طرف دور تک پھیلی ہوئی وادی اور وادی میں لہراتے جھومتے اونچے اور گھنے درخت، بائیں طرف اونچے پہاڑ، وہ نتھیا گلی کے اس ریسٹ ہائوس کی طرف بڑھ رہا تھا۔ جسے کرائے پر لینے کے لیے اور دیگر انتظامات کے لیے اس نے ایک ہفتے پہلے اپنے منیجر کو بھیجا تھا۔ جیسے ہی منیجر نے اسے اطلاع دی کہ سب انتظامات مکمل ہیں اس نے سفر کا آغاز کردیا تھا۔
وہ ریسٹ ہائوسں پہنچ کر کار سے اترا اور اس کا جائزہ لینے لگا۔ سرخ کھپریل کی بنی ہوئی چھت اور مضبوط پتھروں سے بنی عمارت اس کے سامنے تھی۔ کچھ بھی تو نہیں بدلا تھا۔ ہاں رنگ و روغن نے اس عمارت کو مزید چمکا دیا تھا۔ اس کا منیجر ریسٹ ہائوس کے دروازے پر اس کے استقبال کے لیے کھڑا تھا۔ علیک سلیک کے بعد وہ دونوں اندر چلے گئے۔ اس نے چاروں طرف کا جائزہ لے کر کہا۔
’’بہت اچھا مین ٹین کر رکھا ہے اسے۔‘‘
’’ان قدیم عمارتوں کی یہی تو خوبی ہے کہ برسوں گزر جانے کے باوجود یہ جوں کی توں رہتی ہیں۔‘‘ منیجر نے کہا۔ وہ اندر کمرے کی طرف بڑھ رہے تھے کہ ایک ادھیڑ عمر شخص نے آکر اسے سلام کیا۔
’’وعلیکم السلام۔‘‘ جواب دیتے ہوئے اس نے سوالیہ نظروں سے منیجر کو دیکھا۔
’’یہ آپ کا باورچی ہے۔ آپ کے لیے کھانا وغیرہ یہی پکائے گا۔ رحیم بخش بہت اچھا کھانا پکاتا ہے۔‘‘ وہ اچھا کہتا ہوا کمرے کی سمت بڑھ گیا۔
’’یہ آپ کا بیڈ روم ہے۔ میں نے ضرورت کی سب چیزیں رکھوا دی ہیں۔ پھر بھی اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو ریسٹ ہائوس کا منشی کریم خان یہاں ہر وقت آپ کے ساتھ ہوگا۔ وہ ابھی کچھ ضروری سامان لینے گیا ہے۔ بس آتا ہی ہوگا۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ کہتے ہوئے وہ کمرے کی سمت بڑھا۔ پردہ ہٹایا تو سامنے انتہائی خوب صورت منظر نظر آیا۔ سامنے برف پوش پہاڑ تھے اور دور تک پھیلی ہوئی حسین وادی تھی۔ وادی میں بہتا ہوا دریا اور ہریالی ہی ہریالی تاحد نظر پھیلی ہوئی تھی۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے یہ کوئی جیتا جاگتا منظر نہیں بلکہ کسی مشاق مصور کی بنائی ہوئی سینری ہے۔ کچھ بھی تو نہیں بدلا تھا۔ اس نے گہری سانس لی۔
’’آپ یہاں پہلی بار آئے ہیں سر؟‘‘ منیجر نے پوچھا۔
’’نہیں‘ دوسری بار‘ پہلی بار دس سال پہلے آیا تھا۔‘‘
’’میں آپ کا سامان گاڑی سے نکلواتا ہوں۔ چائے آپ ابھی لیں گے یا بعد میں؟‘‘
’’میں ذرا فریش ہوجائوں، پھر تیار کروا دینا۔ پھر میں کچھ دیر آرام کروں گا۔‘‘
’’جی بہتر۔‘‘ کہتا ہوا منیجر دروازے کی سمت بڑھا۔
’’ارے سنو‘ تم شام تک واپس چلے جانا اور بزنس، ہسپتال وغیرہ کے بارے میں‘ میں نہ کچھ کہنا چاہتا ہوں نہ سننا چاہتا ہوں۔ مجھے یہاں کوئی ڈسٹرب نہ کرے‘ یہاں میں مکمل آرام کرنے کے لیے آیا ہوں۔ کوئی بھی مسئلہ ہو تو منیجر صاحب سے ڈسکس کرلینا۔ سمجھ گئے ناں۔‘‘
’’جی سر سمجھ گیا۔‘‘
یہ نومبر کی ایک ٹھٹھرا دینے والی صبح تھی۔ اسے یہاں آئے ہوئے آج تیسرا دن تھا۔ ملازم اس کی گاڑی صاف کررہا تھا۔ منشی کریم خان وہیں کرسی ڈالے بیٹھا ہوا تھا۔
’’کیا صبح صبح گاڑی صاف کررہے ہو۔ وہ بھی ٹھنڈے پانی سے‘ مجھے تو یہ دیکھ کر اور ٹھنڈ لگ رہی ہے۔‘‘
’’صاحب نے اگر گاڑی نکالنے کو کہا تو… اسی لیے صاف کررہا ہوں۔‘‘
’’یہ شہر نہیں ہل اسٹیشن ہے اور چھٹی گزارنے آئے ہیں صاحب‘ اتنی جلدی نہیں اٹھیں گے۔‘‘ منشی بولا۔
’’کل سے تو یہی حال ہے۔ میں صبح گیارہ بجے تک انتظار کرتا رہا۔ صاحب جاگے ہی نہیں۔‘‘ باورچی رحیم بخش جو نہ جانے کب سے ان کی باتیں سن رہا تھا۔ ان کی طرف آتے ہوئے بولا۔
’’آپ لوگ ناشتہ کریں گے؟‘‘ اس نے منشی کریم خان سے پوچھا۔
’’ہاں بالکل کریں گے۔‘‘ کچھ توقف کے بعد وہ بولا۔ ’’اور سنو صاحب کے لیے ذرا ہیوی ناشتہ تیار کرنا۔ رات انہوں نے کھانا بھی نہیں کھایا تھا۔ شام کو وادی میں گئے تھے۔ واپس آئے تو میں نے ان سے کھانے کا پوچھا تھا۔ انہوں نے انکار کردیا تھا۔ تو ناشتے پر خاص اہتمام کرنا۔‘‘
’’صاحب تو صبح صبح کہیں چلے گئے ہیں۔‘‘ رحیم بخش نے بتایا۔
’’کیا…؟‘‘ کریم خان نے چونک کر اسے دکھا۔
’’ہاں صاحب ترکے اٹھ گئے تھے، پھر وادی کی طرف چلے گئے۔‘‘
…٭٭٭…
ڈاکٹر جہاں زیب ریسٹ ہائوس سے کچھ فاصلے پر روڈ کے کنارے ایک چھپر ہوٹل میں بیٹھے ناشتہ کررہے تھے۔ چائے کا کپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے وہ چائے والے سے بولے۔
’’اب تو بہت بدل گیا ہے یہ ہل اسٹیشن‘ دس سال پہلے جب میں یہاں آیا تھا تو اتنا آباد نہیں تھا۔ اکا دکا دکانیں ہوا کرتی تھیں یہاں۔ اب تو کافی آباد ہوگیا ہے۔‘‘
’’ابھی تو سیزن نہیں ہے صاحب۔ جب سیزن شروع ہوتا ہے تو یہاں بہت رش ہوتا ہے۔ ایک بھی ہوٹل خالی نہیں ملتا۔ سب کرائے پر اٹھ جاتے ہیں۔‘‘
’’ہاں اب تو کرائے بھی بہت بڑھ گئے ہیں اور بے شمار ہوٹل بھی بن گئے ہیں۔ اس جگہ کی شکل ہی کچھ اور ہوا کرتی تھی۔ وہ جو ٹال ہے نا ں لکڑیوں کی…‘‘ اس نے لکڑیوں کی ٹال کی طرف اشار کیا جو اس چھپر ہوٹل سے کچھ فاصلے پر تھی۔ ’’وہاں ایک حکیم صاحب کا چھوٹا سا مطب اور مطب کے ساتھ ہی ان کا گھر ہوا کرتا تھا۔‘‘
’’آپ کب آئے تھے یہاں؟‘‘
’’بہت سال ہوگئے۔‘‘ وہ سوچ میں ڈوبے ہوئے لہجے میں بولے۔
’’اچھا اس ٹال کے پیچھے پہاڑ کے دامن میں بڑے بڑے ناہموار پتھروں سے بنی ہوئی سیڑھیاں بھی ہیں ناں؟‘‘
’’جی اب بھی ہیں۔‘‘ وہ بولا۔
’’میں انہیں کیسے بھول سکتا ہوں۔‘‘ جہاں زیب بڑبڑایا۔
’’لیکن وہاں کسی حکیم کا مطب تو نہیں ہے‘ میں نے تو کبھی نہیں دیکھا۔‘‘
’’آپ حکیم محمد ستار کی بات کرر ہے ہیں شاید۔‘‘ ایک عمر رسیدہ بزرگ جو کچھ فاصلے پر بیٹھے تھے بیچ میں بول پڑے۔
’’ہاں ہاں میں حکیم محمد ستار کی ہی بات کررہا ہوں۔‘‘ وہ جلدی سے بولے۔
’’انہیں فوت ہوئے تو چھ سال ہوگئے۔‘‘
’’لیکن وہ ایسے بوڑھے تو نہیں تھے۔‘‘
’’بوڑھا ہوتے کیا دیر لگتی ہے صاحب اور انسان کو غم لگ جائے تو دیکھتے ہی دیکھتے بوڑھا ہوجاتا ہے۔‘‘
’’لیکن انہیں ایسا کون سا غم لگ گیا تھا؟‘‘ جہاں زیب نے پوچھا۔
’’بیٹی کا غم بہت بڑا غم ہوتا ہے صاحب… جوان بیٹی تھی ان کی بھلا سا نام تھا اس کا…‘‘ وہ ذہن پر زور ڈالتے ہوئے بولے۔
’’رشنا…‘‘ جہاں زیب نے کہا۔
’’ہاں رشنا… وہ شادی نہیں کرتی تھی۔ کہتی تھی کوئی ڈاکٹر آئے گا۔ اس سے بیاہ کرنے…‘‘
’’پھر…؟‘‘
’’کہاں کوئی آتا ہے‘ پتا نہیں کون تھا جو اس سے جھوٹے وعدے کرکے چلا گیا تھا۔ وہ لڑکی برادری بھر میں بد نام ہوگئی تھی۔ وہ کسی طرح بھی کسی اور سے شادی کرنے پر تیار نہیں ہوتی تھی۔ بیٹی کے اس غم نے حکیم صاحب کی جان لے لی۔‘‘
’’اور رشنا… اس کا کیا ہوا؟‘‘
’’باپ کے مرنے کے بعد اس کا کوئی دور پار کا چچا اسے اپنے گھر لے گیا تھا۔ نیچے گھاٹی میں دریا کے کنارے اس کا گھر تھا۔ اس کے بعد رشنا کو یہاں کبھی کسی نے نہیں دیکھا۔‘‘
’’ایک گلاس پانی ملے گا۔‘‘ ڈاکٹر جہاں زیب نے چائے والے سے کہا۔ ان کا گلا سوکھ رہا تھا اور چہرے کا رنگ بدل گیا تھا۔
پانی پی کر وہ کچھ دیر گم صم سے وہاں بیٹھے رہے، پھر اٹھ کر چل دئیے۔ ان کا رخ حکیم صاحب کے مطب کی طرف تھا۔ جہاں اب ایک ہوٹل بن گیا تھا۔ پھر ٹال کا چکر لگا کر اس کے عقب میں بنی سیڑھیوں پر جاکر بیٹھ گیے۔ ان کا ماضی ایک فلم کی طرح اس کی نظروں میں گھوم گیا تھا۔
…٭٭٭…
جہاں زیب ان دنوں میڈیکل فائنل ائیر کے امتحانات سے فارغ ہوا تو اس کے تین دوستوں نے اس ہل اسٹیشن پر تفریح کا پروگرام بنایا۔ یہاں دو تین دن قیام کے بعد دوست بضد تھے کہ آگے بڑھا جائے اور ناران و کاغان کی سیر کی جائے مگر جہاں زیب کو یہ جگہ اتنی بھائی کہ وہ آگے جانے کے لیے تیار نہیں ہوا۔ اس نے کہا کہ وہ لوگ جہاں گھومنا چاہتے ہیں گھوم آئیں اور واپسی میں اسے اپنے ساتھ لے کر گھر چلے جائیں۔ دوستوں نے بہت اصرار کیا مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوا۔ آخر وہ اسے تنہا اس ریسٹ ہائوس میں چھوڑ کر چلے گئے۔
اس دن‘ شام کو وہ کافی دیر سیر سپاٹے کے بعد ان ہی اونچے نیچے پتھروں سے بنی ہوئی سیڑھیوں پر تیزی سے اتر رہا تھا کہ اس کا پائوں رپٹ گیا اور وہ گر گیا تھا۔ جب اٹھنے کی کوشش کی تو کراہ کر رہ گیا۔ اس کے پائوں میں شدید درد ہورہا تھا۔ وہ دوبارہ بیٹھ گیا کہ اچانک ایک لڑکی اس کے نزدیک آئی اور بولی۔
’’گر گئے کیا؟‘‘
’’ہاں اتنی اونچی اور ناہموار سیڑھیاں ہیں۔‘‘ وہ درد سے کراہ رہا تھا۔
’’شاید آپ کے پائوں میں موچ آگئی ہے۔‘‘ کچھ دیر ٹھہر کر وہ بولی۔ ’’یہ پاس میں ہی ایک حکیم صاحب کا مطب ہے وہاں سے دوا لگوا لیں، ٹھیک ہوجائیں گے۔‘‘
’’کہاں ہے مطب؟‘‘
’’وہ ادھر نیچے۔‘‘ وہ ایک جانب اشارہ کرکے بولی، پھر چلی گئی۔ وہ اس وقت تکلیف کی شدت کے باوجود اس لڑکی کے ملکوتی حسن میں کھو کر رہ گیا تھا۔
وہ لنگڑاتا ہوا حکیم صاحب کے مطب کی جاب بڑھ گیا۔ حکیم محمد ستار مطب میں بیٹھے کھرلی میں کوئی دوا کوٹ رہے تھے کہ دروازے پر قدموں کی چاپ ہوئی۔ وہ بولے۔
’’آگئیں رشنا‘ وہ پتے ملے جو میں نے تمہیں بتائے تھے۔‘‘
’’ہاں بابا مل گئے اور ایک مریض بھی ملا۔ اس کے پائوں میں موچ آگئی ہے۔ ابھی آئے گا کچھ دیر میں۔ وہ ٹال کے پیچھے جو سیڑھیاں ہیں ناں‘ وہیں گر پڑا ہے بے چارہ۔‘‘ وہ ہنس کر بولی۔
’’خود گرا تھا یا تم نے دھکا دیا تھا۔‘‘ حکیم صاحب مسکرا کر بولے۔
’’میں کیوں دھکا دیتی؟‘‘
’’ہوسکتا ہے اپنے بابا کے کاروبار میں مدد کرنے کا خیال ہو۔‘‘ وہ ہنس کر بولے۔
’’کوئی گر پڑا تو میں نے دھکا دیا ہے؟ پتا نہیں آپ کیا سمجھتے ہیں مجھے۔‘‘ وہ ناراض ہوکر اندر چلی گئی۔ کچھ دیر بعد ایک نوجوان لنگڑاتا ہوا ان کی مطب میں داخل ہوا۔
’’آئو آئو‘ آجائو موچ آگئی پائوں میں۔‘‘ حکیم صاحب بولے۔
’’جی ہاں ایسا ہی لگتا ہے۔‘‘
’’بیٹھو بیٹھو۔‘‘ حکیم صاحب نے کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’لائو پائوں دکھائو۔‘‘ نوجوان نے کراہتے ہوئے پائوں حکیم صاحب کے معائنے کے لیے آگے بڑھا دیا۔ تکلیف اس کے چہرے سے عیاں تھی۔
’’تو آپ سیڑھیوں سے گر گئے۔ شکر ہے ٹخنہ بچ گیا۔‘‘ انہوں نے پیر کا معائنہ کرتے ہوئے کہا پھر آواز دی۔ ’’رشنا وہ درد والا تیل گرم کرلیا۔‘‘
’’جی بابا… ہلدی بھی لائوں کیا؟‘‘
’’ہاں وہ بھی لے آئو۔‘‘
’’دیکھا‘ مریض کے آنے سے پہلے ہی ہم نے دوا تیار کرنا شروع کردی تھی۔‘‘ وہ حیران و پریشان حکیم صاحب کو دیکھ رہا تھا۔
’’آپ کوئی نجومی ہیں کیا؟‘‘ اتنی دیر میں وہی لڑکی جو اسے سیڑھیوں پر ملی تھی ایک ٹرے میں تیل وغیرہ لے کر اندر داخل ہوئی۔
’’اچھا… اب مجھے پتا چلا کہ آپ کو کیسے علم ہوا۔‘‘ وہ رشنا کو دیکھتے ہوئے بولا۔
’’کہاں سے آئے ہو‘ اجنبی لگتے ہو؟‘‘ حکیم صاحب نے مسکرا کر اس سے پوچھا۔
’’جی اسلام آباد سے۔‘‘
’’نام کیا ہے؟‘‘
’’جہاں زیب۔‘‘
’’کیا کرتے ہو؟‘‘ حکیم صاحب دوا کا لیپ اس کے پائوں پر کرتے ہوئے بولے۔
’’میڈیکل فائنل ایئر کا ایگزام دیا ہے۔‘‘
’’اوہ گویا ہمارے ہی قبیلے سے تعلق ہے۔‘‘
’’جی۔‘‘ وہ اچنبھے سے بولا۔
’’یعنی انسانیت کی خدمت؟‘‘ کچھ دیر ٹھہر کر وہ بولے۔ ’’دیکھو اگر انسانیت کی خدمت کا جذبہ ہو تو اس سے اچھا کام اور کوئی نہیں ہے۔ اتنا سکون ملتا ہے کسی مریض کا دکھ دور کرکے کہ پوچھو نہیں‘ یہ بالکل عبادت جیسا کام ہے۔‘‘
’’جی میں اسی لیے میڈیکل میں آیا ہوں۔‘‘
’’تو شہر میں ہی کھولو گے کلینک‘ یہاں جیسی کسی جگہ پر تو نہیں چلے گا کلینک۔ اتنی مہنگی دوائیں یہاں کوئی نہیں خرید سکتا۔ یہاں تو ہماری جڑی بوٹیاں ہی چلتی ہیں۔ یہاں کہاں ٹھہرے ہو؟‘‘
’’یہاں سے کچھ دور سرخ کھپریل والے ریسٹ ہائوس میں۔‘‘ جہاں زیب نے جواب دیا۔
اس دوران روشنا خاموشی سے بیٹھی انہیں دیکھتی رہی۔
’’اچھا اچھا ٹھیکیدار آصف کے ریسٹ ہائوس میں ٹھہرے ہو۔‘‘
’’یہ لیں بابا پٹی۔‘‘ رشنا نے انہیں پٹی دی۔ دوا لگانے کا کام مکمل ہوگیا تھا۔ انہوں نے پٹی باندھنی شروع کی تو جہاں زیب کراہا پھر بولا۔
’’بہت شکریہ آپ کا… کتنے پیسے دوں۔‘‘ اس نے جیب سے والٹ نکالتے ہوئے کہا۔
’’ارے رہنے دو۔ پہلے ٹھیک ہوجائو پھر دے دینا۔ کل صبح آجانا۔ دوا لگا کر پٹی بدل دوں گا۔‘‘
’’اچھا بہت شکریہ چلتا ہوں۔‘‘ کہہ کر جہاں زیب اٹھ گیا۔
’’رشنا انہیں میری چپل دے دو جوتا یہ نہیں پہن سکیں گے۔‘‘ رشنا نے اسے چپل لاکر دی۔ وہ پہن کر لنگڑاتا ہوا باہر جانے لگا کہ اچانک لڑکھڑایا۔
’’ارے سنبھال کر‘ یہ لو رشنا انہیں یہ چھڑی دے دو۔‘‘ حکیم صاحب نے اپنی چھڑی رشنا کو دیتے ہوئے کہا۔
’’صبح یہ دونوں چیزیں یاد سے لے آنا۔‘‘ رشنا نے اسے تاکید کی۔
’’جی۔‘‘
کھلتے ہوئے گورے رنگ اور بڑی بڑی چمک دار آنکھوں والی رشنا جب ہنستی تھی تو اس کے گالوں میں گڑھے پڑ جاتے تھے۔ جہاں زیب ان گڑھوں میں خود کو ڈوبتا ہوا محسوس کرتا تھا۔ دوسرے دن صبح سے دوپہر ہوگئی جہاں زیب نہیں آیا تو رشنا نے بابا سے کہا۔
’’آپ کا مریض تو نہیں آیا بابا۔‘‘
’’ارے موچ آئی ہے اسے‘ تکلیف میں ہوگا۔ راستے بھی تو یہاں کے اونچے نیچے ہیں۔ چلنے میں اسے مشکل ہورہی ہوگی۔‘‘
’’اکثر گائوں والے مریضوں سے آپ پیسے نہیں لیتے کہ غریب ہیں۔ ایک مریض مشکل سے ملا تھا۔ اس سے بھی پیسے نہیں لیے۔ ایسے ہی مفت میں سب کا علاج کرتے رہو گے بابا تو گھر کیسے چلے گا اور اوپر سے اپنی چپل اور چھڑی بھی دے دی اسے۔ میں شام کو اپنی سہیلی نیلم کے پاس جائوں گی۔ اسی ریسٹ ہائوس کے پاس تو اس کا گھر ہے اس سے آپ کی چیزیں بھی لیتی آئوں گی۔‘‘
’’پگلی‘ وہ کیا سوچے گا۔‘‘ حکیم صاحب مسکراتے ہوئے بولے۔
’’سوچنے دو جو سوچے گا۔‘‘ وہ لاپروائی سے بولی۔
شام کو رشنا جہاں زیب کے ریسٹ ہائوس پہنچی۔ دروازہ کھٹکھٹایا تو جہاں زیب نے دروازہ کھولا، اس نے چھڑی کا سہارا لے رکھا تھا۔
’’ارے تم رشنا؟‘‘
’’تم آئے نہیں‘ بابا انتظار کررہے تھے۔‘‘
’’آئو اندر آئو۔‘‘ وہ اسے راستہ دیتے ہوئے بولا اور کمرے میں آگیا۔ بستر پر بیٹھتے ہوئے بولا۔
’’مجھے رات سے بخار ہے اور پائوں بھی سوج گیا ہے۔‘‘
’’اوہ اچھا‘ تم نے کچھ کھایا مطلب کھانا کھایا۔‘‘
’’نہیں رات سے کچھ نہیں کھایا بھوک ہی نہیں ہے۔‘‘
’’تم آرام کرو میں تمہارے لیے چائے بناکر لاتی ہوں۔ کچن کس طرف ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ادھر۔‘‘ جہاں زیب نے اشارے سے بتایا۔
کچھ دیر بعد وہ چائے بنا کر لے آئی اور کپ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی۔
’’میں بابا سے کہہ دوں گی کہ وہ یہاں آکر پٹی کردیں اور دوا بھی دے دیں۔ اب میں چلتی ہوں۔‘‘
’’ارے سنو‘ تمہارے ہاں تھرما میٹر ہے۔‘‘
’’کیوں اس کی کیا ضرورت؟‘‘ وہ جاتے جاتے رک کر بولی۔
’’بخار دیکھنے کے لیے ضرورت ہے۔‘‘ وہ مسکرا کر بولا۔
’’بخار دیکھنے کے لیے تھرما میٹر کی کیا ضرورت۔‘‘ وہ زور سے ہنسی۔
’’ہم تو چھوکر بتا دیتے ہیں کہ بخار کتنا ہے۔‘‘
’’اچھا تو پھر چھوکر بتائو کہ کتنا بخار ہے۔‘‘ رشنا نے اس کا ماتھا چھوا اور تیزی سے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔ جیسے ہزاروں واٹ کا جھٹکا لگا ہو۔
’’ہے مگر زیادہ نہیں۔‘‘ وہ کچھ دیر ٹھہر کر بولی۔
’’تمہاری لیے بخار کی دوا بھی بھیج دوں گی۔‘‘
’’کون سی ٹیبلیٹ ہے تمہارے پاس؟‘‘
’’ٹیبلیٹ وبلیٹ نہیں ہوتی ہمارے پاس بنفشے کے پھولوں کا کاڑا بنا کر بھیجوں گی۔ دیکھنا منٹوں میں بخار اتر جائے گا۔‘‘
’’تم تو خود اچھی خاصی حکیم ہو۔‘‘ وہ دلچسپی سے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔
’’دن رات بابا کو علاج کرتے دیکھتی ہوں اور جڑی بوٹیوں میں پلی بڑھی ہوں۔ آدھی حکیم تو ہوگئی ہوں۔‘‘
’’نیم حکیم خطرہ جان۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
’’یہ خطرہ تو اب لینا پڑے گا۔ مجبوری ہے۔‘‘ وہ ہنستی ہوئی بولی۔
’’اچھا اب میں چلتی ہوں۔ تمہارے لیے دوا بھی تیار کرنی ہے۔‘‘
’’پر بابا کی چھڑی اور چپل لے جائوں۔‘‘ وہ جاتے جاتے رک کر بولی۔
’’نہیں ابھی رہنے دو‘ مجھے ضرورت ہے ان کی۔‘‘
وہ گھر پہنچی تو حکیم صاحب مطب میں کسی مریض کا معائنہ کررہے تھے۔ وہ حکیم صاحب کے پاس آکر بولی۔
’’بابا… وہ موچ والے لڑکے کا پائوں تو سوجھ گیا ہے اور اسے بخار بھی ہے۔ اس کا کیا کرنا ہے؟‘‘
’’میں دوا دیتا ہوں کسی کے ذریعے اس کے پاس بھجوا دو۔‘‘ حکیم صاحب نے کہا۔
’’بابا بس… اب اس سے جان چھڑائو۔ ایک روگ کے پیسے دیے نہیں کہ دوسرا روگ بھی لگا لیا۔‘‘
’’دے دے گا بیٹی‘ ارے ڈاکٹر ہے وہ‘ کل کو لوگوں کی خدمت کرے گا بلکہ ایسا کرو دوا خود دے آؤ اور اس کی مرہم پٹی بھی کر آنا۔‘‘
اگلے روز وہ دوائیں وغیرہ لے کر جہاں زیب کے پاس آگئی۔ اس کے کمرے میں داخل ہوئی تو دیکھا وہ آنکھیں بند کیے بستر پر بے سدھ لیٹا ہوا تھا۔ رشنا نے اس کا کندھا ہلایا۔
’’اٹھیں میں آپ کے لیے دوا لائی ہوں۔‘‘ جہاں زیب نے آنکھیں کھولیں اور کہنیوں کے سہارے اٹھ بیٹھا۔
’’پائوں دکھائیں‘ میں دوا لگا دوں۔‘‘ وہ بیٹھ گیا اور پائوں آگے بڑھایا۔ وہ بستر پر بیٹھ گئی۔ پائوں کی پٹی کھولی اور آہستگی سے دوا لگانے لگی۔ اس کی نازک انگلیوں کے لمس سے جہاں زیب کے تن بدن میں چیونٹیاں سی رنگ رہی تھیں۔ دوا لگانے کے بعد اس نے بڑی مہارت سے پٹی باندھ دی تھی۔
’’ڈاکٹر بننے کے لیے تو ڈھیروں کتابیں، پڑھنا پڑتی ہیں ناں؟‘‘
’’اور نہیں تو کیا‘ تمہاری طرح نہیں ہے کہ آدمی کسی حکیم کے پاس بیٹھے اور حکمت سیکھ جائے۔‘‘ وہ تمسخر سے بولا۔
’’اتنا آسان نہیں ہے جناب‘ ہزاروں قسم کی جڑی بوٹیاں ہیں‘ پتے ہیں‘ پھول ہیں۔ ایک ایک پتی پہچاننا پڑتی ہے۔ تب جاکر کچھ سیکھا ہے۔ ایسے ہی تھوڑی کہ کتابیں پڑھ لیں اور علاج کرلیا اور اتنا آسان ہے تو تم نے خود کیوں نہیں کرلیا اپنا علاج۔ تم خود بھی تو ڈاکٹر ہو۔‘‘
’’ہاں خود کرسکتا ہوں اپنا علاج مگر مجھے جو دوائیں چاہیں وہ یہاں نہیں ملتیں۔‘‘
’’پھر کہاں ملتی ہیں؟‘‘
’’شہر میں۔‘‘
’’پھر وہیں گرنا تھا ناں‘ یہاں کیوں گرے؟‘‘ وہ زور سے ہنسا۔
’’اب اگر دوا چاہیے تو مطب آجانا‘ میں جا رہی ہوں۔‘‘ پھر کچھ سوچ کر رکی۔
’’بابا کی چھڑی چپل لیتا آئوں گا۔ معاف کردو۔‘‘ وہ مزاحیہ انداز میں کان پکڑتا ہوا بولا۔
دوسرے دن صبح رشنا اور حکیم صاحب ناشتہ کررہے تھے کہ جہاں زیب آگیا۔
’’آئو‘ آئو بیٹھو۔‘‘ حکیم صاحب اسے دیکھتے ہی بولے۔ وہ تخت پر ان کے قریب بیٹھ گیا۔
’’رشنا، جہا زیب کے لیے ناشتہ لائو۔‘‘
’’رہنے دیں حکیم صاحب تکلف نہ کیجیے۔‘‘
’’ارے یہ بتائو کہ اب تمہاری طبیعت کیسی ہے؟‘‘ حکیم صاحب بولے۔
’’جی اب تو بالکل ٹھیک ہے۔‘‘ اتنی دیر میں رشنا ناشتے کی ٹرے اٹھاکے کمرے میں داخل ہوئی اور حکیم صاحب کے سامنے ٹرے رکھ دی۔
’’بخار بھی اتر گیا اور پائوں کا درد بھی کم ہے۔‘‘ وہ انہیں اپنا حال بتانے لگا۔
’’لو بیٹا ناشتہ کرو۔‘‘ انہوں نے ٹرے اس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا۔
’’ناشتہ مزے دار ہے۔ رات کھانا بھی لذیذ تھا۔‘‘ جہاں زیب نے کن اکھیوں سے رشنا کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ بھئی جو روکھا سوکھا ہے گھر کا بنا ہوا ہے۔ میں تو کہتا ہوں تم جب تک یہاں ہو‘ کھانا ہمارے ساتھ کھایا کرو۔ کیوں بیٹی؟‘‘ حکیم صاحب نے رشنا کی سمت دیکھا۔ وہ سر جھکا کے بیٹھی رہی کچھ بولی نہیں۔
’’ارے نہیں حکیم صاحب‘ میں ویسے بھی ایک دو دن میں جانے والا ہوں۔ میرے دوست یہاں پہنچنے ہی والے ہوں گے۔ میں آپ کی چپل لے آیا ہوں اور پٹی ابھی کریں گے یا…‘‘
’’پٹی شام کو بدلی جائے گی۔‘‘ حکیم صاحب بولے۔
’’ٹھیک ہے پھر میں چلتا ہوں۔‘‘ وہ چھڑی اٹھا کر لنگڑاتا ہوا باہر جانے لگا۔
’’یہ چھڑی کہاں لے جا رہے ہو۔‘‘ رشنا جھٹ بولی۔
’’چپ…‘‘ جہاں زیب نے اسے زور سے ڈانٹا۔
’’دیکھیں بابا… کب سے اس چھڑی کے پیچھے پڑی ہے۔ میرے پائوں کی فکر ہی نہیں اسے۔‘‘
’’رہنے دو بیٹا۔‘‘ حکیم صاحب زور سے ہنسے۔
شام کو وہ مطب آیا تو حکیم صاحب کہیں گئے ہوئے تھے۔ رشنا نے بتایا کہ وہ کسی دوست سے ملنے گئے ہیں۔ جہاں زیب نے کہا۔
’’کوئی بات نہیں میں ان کا انتظار کرلوں گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے میں چائے بناکر لاتی ہوں، ورنہ بابا ناراض ہوں گے کہ میں نے تمہیں چائے کا نہیں پوچھا۔‘‘ وہ اٹھتے ہوئے بولی۔
’’نہیں رہنے دو۔ بیٹھو مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے۔‘‘
’’کیا؟‘‘
’’دیکھو‘ میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ میرے دوست آگئے ہیں‘ ہوسکتا ہے ہم پرسوں یہاں سے چلے جائیں۔ تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو۔ میں تم سے محبت کرنے لگا ہوں اور تمہیں اپنانا چاہتا ہوں۔‘‘
’’یہ تم کیسی باتیں کررہے ہو۔‘‘ وہ کھڑی ہوگئی اور وہاں سے جانے کا ارادہ کرہی رہی تھی کہ جہاں زیب نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
’’میری پوری بات سنے بغیر تم یہاں سے نہیں جاسکتیں، بیٹھو۔‘‘ اس نے اس کے کندھے پر دبائو ڈال کر اسے دوبارہ بٹھا دیا۔
’’میں یہاں سے جاتے ہی ڈیڈی سے بات کروں گا۔ مجھے امید ہے وہ مان جائیں گے۔ میں ڈیڈی کے ساتھ ایک ہفتے بعد آئوں گا اور تمہارے بابا سے تمہیں مانگ لوں گا۔ میں کل تین بجے ان ہی سیڑھیوں پر تمہارا انتظار کروں گا۔ جہاں ہم پہلی بار ملے تھے بس اور مجھے کچھ نہیں کہنا۔‘‘
’’مجھے نہیں کرنی شادی وادی۔‘‘ وہ گردن جھکا کر بولی۔
’’میری طرف دیکھو۔ اچھا خاصا ہوں، کیا برائی ہے مجھ میں۔‘‘ وہ شرارت سے بولا۔
رشنا نے اس کی طرف نگاہ اٹھائی۔ بلیو جینز پر بلیک جیکٹ پہنے کسرتی جسم والا انتہائی ہینڈسم جہاں زیب مسکراتے ہوئے اسے یک ٹک دیکھ رہا تھا۔ کسی کے قدموں کی چاپ سے وہ دونوں چونک گئے۔ حکیم صاحب آگئے تھے۔ رشنا اٹھ کر اندر چلی گئی۔
دوسرے دن ٹھیک تین بجے جہاں زیب ان ہی سیڑھیوں پر بیٹھا رشنا کا انتظار کررہا تھا۔ اس کی نظر بار بار اس راستے کی طرف اٹھ رہی تھی۔ جہاں سے رشنا کو آنا تھا۔ اس کا روم روم سراپا انتظار تھا۔ اسے یہاں بیٹھے ہوئے ایک گھنٹہ ہوگیا تھا۔ ہر بار اس کی نظریں اس راستے کی طرف اٹھیں اور مایوس واپس لوٹ آئیں۔ اس کی بے چینی اور بے قراری بڑھتی جا رہی تھی۔ رشنا کی آنکھوں میں اپنے لیے پسندیدگی کل وہ دیکھ چکا تھا۔ پھر وہ کیوں نہیں آئی۔ وہ خود سے سوال کرتا رہا۔ ایک گھنٹہ مزید گزر گیا تو وہ بڑا دل گرفتہ سا واپس جانے لگا تھا کہ دور سے وہ آتی ہوئی نظر آئی۔
’’تم آگئیں… بڑا انتظار کروایا۔‘‘ وہ اس کے قریب آکر بولا۔
’’آنا ہی پڑا اس دل کے ہاتھوں مجبور ہوگئی، لیکن آج ہی تمہیں بابا سے بات کرنا ہوگی۔ اگر وہ مان گئے تو ٹھیک ہے ورنہ…‘‘
’’انہیں منانا میرا کام ہے۔ دیکھو میں تمہارے لیے کیا لایا ہوں۔‘‘ وہ دونوں باتیں کرتے ہوئے سیڑھیوں پر آکر بیٹھ گئے۔
جہاں زیب نے ایک پیکٹ اس کی طرف بڑھایا۔ رشنا نے اسے کھول کر دیکھا تو اس میں اس کے لیے ایک بہت خوب صورت لباس اور سفید موتیوں کا ہار تھا۔
’’بھئی یہاں ابھی یہی کچھ میسر آیا ہے۔ یہ ہار تم پر بہت اچھا لگے گا پہن کر دکھائو۔‘‘
’’ابھی…‘‘ وہ بولی۔
’’پھر کب۔‘‘ رشنا نے ہار پہنا اور اس کی طرف دیکھا۔ جہاں زیب کی آنکھوں میں اس کے لیے بے پناہ پیار چھلک رہا تھا۔
حکیم صاحب کچھ تردد کے بعد اس شرط پر رشنا کی شادی جہاں زیب کے ساتھ کرنے پر مان گئے تھے کہ وہ ایک ہفتے بعد اپنے والد کے ساتھ آئے گا اور بیاہ کر رشنا کو لے جائے گا۔
اس کے دوستوں کو کانوں کان خبر نہ ہوئی کہ ان چند دنوں میں جہاں زیب کے دل کی دنیا ہی بدل گئی ہے۔
٭…٭…٭
وہ نہ جانے کب سے ان سیڑھیوں پر بیٹھا اپنے خیالات میں کھویا ہوا تھا کہ اچانک بادل زور سے گرجے۔ اس کے خیالات کا تسلسل ٹوٹ گیا۔ وہ چونکا اور آس پاس دیکھنے لگا۔ بادل گھر آئے تھے اور کسی بھی وقت بارش شروع ہوسکتی تھی۔ وہ اٹھا اور ریسٹ ہائوس کی سمت روانہ ہوگیا۔ وہ جیسے ہی ریسٹ ہائوس میں داخل ہوا‘ کریم خان جو نہ جانے کب سے اس کا منتظر تھا‘ لپک کر اس کے قریب آیا اور کہا۔
’’صاحب ناشتہ لگوا دوں؟‘‘
’’نہیں‘ میں نے ناشتہ کرلیا ہے۔ تم ذرا میرے ساتھ آئو۔ کچھ ضروری باتیں کرنا ہیں۔‘‘ وہ اپنے کمرے کی سمت بڑھتا ہوا بولا تو کریم خان اس کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا۔
’’بیٹھو۔‘‘ جہاں زیب نے کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اور خود بیڈ پر بیٹھ گیا۔
’’یہ بتائو کہ نیچے لکڑی کی ٹال کے پاس جو ہوٹل ہے وہ کس کی ملکیت ہے؟‘‘
’’ایک مقامی بندہ ہے اقبال نام کا اس کے یہاں اور بھی ہوٹل ہیں لیکن آپ کیوں پوچھ رہے ہیں صاحب؟‘‘
’’میں وہ ہوٹل خریدنا چاہتا ہوں کسی بھی قیمت پر۔ اس کے بارے میں تمام معلومات تم آج ہی حاصل کرلو۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ کچھ توقف کے بعد کریم خان بولا۔ ’’میں آج ہی پتا کرتا ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے اب تم جاسکتے ہو۔‘‘ وہ اٹھ کر جانے لگا ابھی دروازے تک بھی نہیں پہنچا تھا کہ جہاں زیب نے اسے آواز دی۔
’’سنو۔‘‘ وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا۔ ’’نیچے گھاٹی میں دریا کے کنارے کیا کوئی انڈسٹریل ہوم ہے؟‘‘
’’جی صاحب ہے۔‘‘
’’صبح مجھے وہاں جانا ہے‘ ڈرائیور کو بتا دینا۔‘‘
’’ایک اور انڈسٹریل ہوم بھی ہے وادی میں۔ وہ اس سے بھی اچھا ہے۔‘‘ کریم خان بولا۔
’’نہیں… مجھے وہیں جانا ہے جو دریا کے کنارے ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے صاحب‘ میں ڈرائیور سے کہہ دیتا ہوں۔‘‘ یہ کہتا ہوا وہ کمرے سے باہر چلا گیا۔
جہاں زیب نے تیمور کو فون ملایا اور علیک سلیک کے بعد اس سے کہا کہ وہ یہاں ایک ہاسپٹل بنانا چاہتا ہے۔ اس کے لیے ڈاکٹرز، میڈیکل اسٹاف اور دیگر انتظامات کرے۔ تیمور نے پوچھا۔
’’یہ سب تو ٹھیک ہے مگر پہلے یہ بتائو کہ وہ ملی یا نہیں۔‘‘
’’ابھی تک نہیں ملی۔ جیسے ہی ملے گی سب سے پہلے تمہیں ہی انفارم کروں گا۔ بس تم جلد سے جلد سارے انتظامات کرو۔ مجھے یقین ہے کہ جگہ میں حاصل کرلوں گا۔‘‘ کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ پھر اس نے فون بند کردیا۔ وہ کافی پرجوش نظر آرہا تھا۔
اگلے دن دس بجے صبح وہ نیچے گھاٹی کی طرف روانہ ہوگیا۔ یہ راستہ بہت ناہموار اور کچا تھا گاڑی بری طرح ہچکولے کھا رہی تھی۔ وہ تو ڈرائیور بڑا ماہر اور مشاق تھا ورنہ وہ اتنے ناہموار راستے پر گاڑی نہیں چلا سکتا تھا بہرحال وہ دریا کے کنارے اس انڈسٹریل ہوم کے باہر کھڑے تھے جہاں اس کی معلومات کے مطابق رشنا مقامی عورتوں کو سلائی کڑھائی سکھاتی تھی۔
انڈسٹریل ہوم ایک بڑے ہال نما کمرے پر مشتمل تھا جس کے دروازے کے سامنے ایک چھوٹا سا کیبن بنا ہوا تھا وہاں ایک نوجوان بیٹھا تھا جہاں زیب اس کے پاس گیا، ہاتھ ملایا اور رسمی سلام دعا کے بعد اس سے پوچھا۔
’’میں رشنا نام کی ایک خاتون کو ڈھونڈ رہا ہوں، جو شاید آپ کے ہاں کام کرتی ہیں۔ مطلب خواتین کو سلائی کڑھائی سکھاتی ہیں۔‘‘ جہاں زیب نے باہر ہال کی طرف دیکھا۔ جہاں بیس پچیس خواتین اس وقت بھی کام کررہی تھیں۔
’’کیا نام بتایا آپ نے؟‘‘
’’رشنا۔‘‘
’’ہاں شاید ہے تو سہی۔‘‘ اس کا دل تیزی سے دھڑکا یوں لگا جیسے سینے سے باہر آجائے گا۔
’’آپ بیٹھیں‘ میں بلا دیتا ہوں۔‘‘ وہ کہتا ہوا باہر چلا گیا۔
کچھ دیر بعد وہ نوجوان کسی کو ساتھ لیے اندر آتا ہوا بولا۔
’’آئو اندر آجائو‘ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘ وہ اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ اس کی نظریں دروازے پر ٹکی تھیں اور ان میں برسوں کی پیاس تھی۔
وہ بیس بائیس سال کی نوجوان لڑکی تھی۔ یہ اس کی رشنا نہیں تھی۔
’’یہی ہے نہ رشنا جسے آپ پوچھ رہے تھے۔‘‘
’’جی نہیں… معاف کیجیے میں نے آپ کو تکلیف دی۔‘‘ وہ لڑکی طرف رخ کرکے بولا۔
’’وہ ذرا بڑی عمر کی ہیں۔‘‘
’’آپ پہچانتے ہیں انہیں؟‘‘
’’ہاں اچھی طرح۔‘‘
’’آپ کو پکا معلوم ہے کہ وہ یہیں کام کرتی ہے؟‘‘ لڑکا بولا۔
’’ہاں سنا تو یہی ہے۔‘‘ کچھ دیر ٹھہر کر وہ بولا۔ ’’آپ یہاں کب سے کام کررہی ہیں؟‘‘
’’مجھے تو یہاں سال بھر ہی ہوا ہے۔‘‘
’’میں سات آٹھ سال پہلے کی بات کررہا ہوں۔‘‘
’’اوہ اچھا آپ ٹھہریں، میں چاچا عثمان کو بلاتا ہوں۔ وہ یہاں پاس میں ہی رہتے ہیں، پہلے وہ ہی یہاں کے انتظامات سنبھالتے تھے۔‘‘ کچھ دیر بعد ایک ادھیڑ عمر شخص اس نوجوان کے ساتھ کیبن میں داخل ہوا۔
’’یہ صاحب شہر سے آئے ہیں اور کسی رشنا نامی عورت کو ڈھونڈ رہے ہیں۔‘‘ عثمان نامی شخص اس کے برابر میں کرسی پر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر ذہن پر زور ڈالتا رہا، پھر بولا۔
’’مجھے تو کچھ یاد نہیں پڑتا، یہیں کی رہنے والی تھی کیا؟‘‘ اس نے استفسار کیا۔
’’اپنے والد کی وفات کے بعد وہ اپنے چچا کے پاس یہاں رہنے آئی تھی۔‘‘ جہاں زیب نے کہا۔
’’آپ حکیم عمر ستار کی بیٹی کی تو بات نہیں کررہے؟ حکیم صاحب کے فوت ہونے کے بعد اسلم اسے یہاں لے آیا تھا، بہت لالچی اور ظالم تھا۔ اس کے چچا اور چچی دونوں اس پر بڑا ظلم کرتے تھے اور اپنے نکھٹو بیٹے سے اس کی شادی کروانا چاہتے تھے۔ رشنا بڑی لائق اور پیاری لڑکی تھی۔‘‘
’’کچھ پتا ہے کہ اب وہ کہاں ہے‘ کہاں مل سکتا ہوں میں اس سے؟‘‘ جہاں زیب جلدی سے بولا۔
’’یہ تو میں نہیں بتا سکتا کہ اب وہ کہاں ہے، تین چار سال تک تو وہ یہیں تھی۔ اکثر وہ ایک حکیم صاحب کا ذکر کرتی تھی جو کوٹھیالہ نامی گائوں میں مطب کرتے ہیں۔ وہ اس کے والد کے بہت اچھے دوست تھے۔ وہ مجھ سے ایک بار کوٹھیالہ گائوں کا راستہ بھی پوچھ رہی تھی، ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے چچا کے ظلم سے تنگ آکر وہیں چلی گئی ہو۔ وہ ان دنوں بڑی پریشان تھی۔‘‘
’’آپ مجھے وہاں کا ایڈریس دے دیں اور میرے ڈرائیور کو راستہ سمجھا دیں، میں وہاں جانا چاہتا ہوں۔‘‘ جہاں زیب نے کہا۔
یہ سفر تقریباً ایک گھنٹے میں پورا ہوا۔ وہاں پہنچ کر لوگوں سے پوچھتے ہوئے بالآخر وہ حکیم صاحب کی مطب تک پہنچ گئے۔ جہاں زیب اندر گیا۔ سامنے ایک بوڑھا شخص بیٹھا تھا۔
’’السلام علیکم! معاف کیجیے گا میں مخل ہوا‘ دراصل میں ایک خاتون رشنا کو تلاش کررہا ہوں۔ حکیم محمد ستار کی بیٹی رشنا اگر آپ اس کے بارے میں کچھ جانتے ہیں تو پلیز میری مدد کریں۔‘‘ حکیم صاحب خاموشی سے اپنے کام میں مصروف رہے پھر بولے۔
’’ہاں وہ میرے پاس ہی رہتی تھی‘ میرے دوست کی بیٹی تھی‘ بڑی اچھی لڑکی تھی۔‘‘
’’تھی… مطلب اب نہیں ہے؟‘‘ جہاں زیب بے قراری سے بولا۔انہوں نے جہاں زیب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’نہیں چلی گئی تھی یہاں سے… بہت سال پہلے کی بات ہے۔ میرے لیے جڑی بوٹیاں جمع کرکے لایا کرتی تھی۔ میرے پاس یہاں دوائیں بھی بنایا کرتی تھی۔ اس کا چچا بڑا ظالم تھا جو بھی پیسے وہ جمع کرتی تھی وہ چھین کر لے جاتا تھا۔‘‘
’’وہ گئی کہاں؟‘‘
’’بتاتا ہوں بتاتا ہوں بھائی‘ بات تو پوری ہونے دو۔‘‘
’’ان ہی دنوں ایک چودھری صاحب اپنی فیملی کے ساتھ یہاں گھومنے پھرنے آئے تھے۔ ان کی بیٹی ان دنوں بیمار پڑگئی تھی وہ اسے لے کر میرے پاس علاج کے لیے آئے تھے۔ رشنا نے اس بچی کا بڑا خیال رکھا اور اپنے کچھ نسخے بھی بنا کر دیے۔ لڑکی چند ہی دنوں میں بھلی چنگی ہوگئی۔ چودھری صاحب کی بیوی سے رشنا کی اچھی دوستی ہوگئی تھی۔ جب انہیں رشنا کے بارے میں پتا چلا تو انہوں نے اسے اسلام آباد اپنے گھر ساتھ لے جانے کی پیشکش کی‘ رشنا اپنے چچا کی وجہ سے یہاں رہتے ہوئے پریشان تھی۔ وہ ان لوگوں کے ساتھ جانے پر تیار ہوگئی۔ بھلے لوگ تھے۔ اس لیے میں نے بھی اجازت دے دی۔‘‘
’’ان کا ایڈریس ہے آپ کے پاس۔‘‘ جسے وہ کب سے تلاش کررہا تھا وہ اس کے اپنے شہر میں رہ رہی تھی۔
حکیم صاحب اٹھ کر دیوار میں بنی ایک الماری سے موٹا سا رجسٹر اٹھا لائے اور ایک صفحہ کھول کر اس کے سامنے رکھ دیا اور اس پر لکھا ایڈریس اسے دکھایا۔ یہ اسلام آباد کا ایڈریس تھا۔
’’یہ وہ خود ہی لکھ کر گئی تھی۔‘‘ حکیم صاحب بولے۔
’’ہاں ہاں یہ اسی کی رائٹنگ ہے۔‘‘ جہاں زیب جلدی سے بولا۔
’’ویسے تم رشنا کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہو اور اسے کیسے جانتے ہو؟‘‘
’’میں ڈاکٹر جہاں زیب ہوں حکیم صاحب… دس سال پہلے یہیں حکیم محمد ستار اور رشنا سے ملا تھا۔ لمبی کہانی ہے پھر کبھی آپ کو سنائوں گا۔ ان شاء اللہ جلد ہی میں روشنا کو یہاں لے کر آئوں گا۔‘‘
’’اوہ اچھا… تم ہی وہ ڈاکٹر ہو جس کا ذکر میرا دوست کرتا تھا اور رشنا نے تمہارے انتظار میں ہی شادی نہیں کی تھی۔ تم نے آنے میں اتنی دیر کردی ڈاکٹر۔‘‘
٭٭٭…٭٭٭
ڈاکٹر جہاں زیب جیسے ہی ریسٹ ہائوس پہنچا‘ کریم خان اس کے پاس آکر بولا۔
’’صاحب میں نے ہوٹل کے مالک سے بات کی ہے۔ وہ ہوٹل فروخت کرنے پر تیار ہے مگر اس کی قیمت بہت زیادہ لگا رہا ہے آپ اس سے مل لیں۔‘‘
’’مجھے وہ جگہ ہر قیمت پر چاہیے‘ ہم تین بجے ہوٹل کے مالک کے پاس چلیں گے اور سنو‘ میں کل صبح واپس جا رہا ہوں۔ میرا منیجر یہاں آئے گا اور ہوٹل کی جگہ اسپتال تعمیر کروائے گا۔ باقی انتظامات میں خود دیکھ لوں گا۔‘‘ جہاں زیب پر جوش لہجے میں بولا۔
’’ٹھیک ہے صاحب‘ جیسا آپ چاہیں گے ویسا ہی ہوگا۔‘‘ دوسرے دن شام کو اسلام آباد اپنے گھر پہنچتے ہی اس نے تیمور کو فون کیا وہ سنتے ہی بولا۔
’’کیا ہوا یار؟‘‘
’’یار ایک ایڈریس ملا تو ہے اس کا کل صبح میں وہاں جائوں گا۔ یہیں اسلام آباد کا ایڈریس ہے۔‘‘
’’ہاوہو بچہ بغل میں اور ڈھنڈورا شہر میں۔ میں بھی تمہارے ساتھ جائوں گا اور ہم بھابی کو ساتھ لے کر ہی آئیں گے۔‘‘
’’تمہیں بہت جلدی ہے۔‘‘ جہاں زیب مسکرا کر بولا۔
’’جلدی کیوں نہ ہو تمہاری وجہ سے میری شادی بھی رکی ہوئی ہے۔ تمہارے چچا یعنی میرے ابو کی شرط ہے کہ ہم دونوں کی شادی ایک ساتھ ہی ہوگی۔‘‘
’’تو یوں کہو کہ تمہیں اپنی شادی کی جلدی ہے۔‘‘ تیمور اس کا چچا زاد بھائی تھا اور اس سے پورے پانچ سال چھوٹا تھا مگر ان دونوں میں دوستوں کی طرح کی بے تکلفی تھی۔ چچا جان اور ان کی فیملی نے جہاں زیب کا بڑا ساتھ دیا تھا۔ اس کے والد کی وفات کے بعد چچا جان نے ان کا بزنس بڑے احسن طریقے سے سنبھالا تھا۔
دوسرے دن صبح گیارہ بجے جہاں زیب اور تیمور اس ایڈریس پر پہنچے جو حکیم صاحب نے اسے دیا تھا۔ چھٹی کا دن تھا اور توقع تھی کہ چودھری عثمان گھر پر ہی ہوں گے۔ جہاں زیب نے گیٹ پر نصب ایڈریس کی تصدیق کے بعد ڈور بیل بجائی‘ گیٹ سے ایک شخص برآمد ہوا جو اپنے حلیے سے چوکیدار لگتا تھا۔ جہاں زیب نے اسے اپنا کارڈ دیتے ہوئے کہا کہ اسے چودھری عثمان سے ملنا ہے۔ چوکیدار کارڈ لے کر اندر چلا گیا۔ وہ اور تیمور باہر اس کے منتظر تھے۔ جہاں زیب کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہورہی تھیں۔ کچھ دیر بعد چوکیدار ایک لڑکی کے ساتھ آتا نظر آیا۔ جیسے ہی وہ لوگ قریب آئے جہاں زیب کو خوش گوار حیرت کا جھٹکا لگا۔
’’ارے ڈاکٹر صفیہ… یہ آپ کا گھر ہے؟‘‘ ڈاکٹر صفیہ جہاں زیب کے اسپتال کی ایک جونیئر مگر بہت قابل ڈاکٹر تھی۔ وہ عرصہ دو سال سے ان کے اسپتال میں کام کررہی تھی۔ ڈاکٹر صفیہ بھی کم حیران نہیں ہوئی۔
’’زہے نصیب ڈاکٹر صاحب… آپ ہمارے گھر آئے لیکن آپ کو ڈیڈی سے کیا کام تھا؟ خیر اندر چلیں اطمینان سے بیٹھ کر بات کریں گے۔‘‘ وہ تیمور اور جہاں زیب کو ساتھ لیے ڈرائنگ روم میں آگئی۔
’’تشریف رکھیں۔‘‘ اس نے صوفے کی سمت اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’پہلے یہ بتائیں کہ چائے چلے گی یا ٹھنڈا۔‘‘
’’تکلف کی ضرورت نہیں ہے صفیہ۔‘‘ جہاں زیب نے کہا۔
’’تکلف کیسا ڈاکٹر صاحب۔‘‘ اس نے ملازمہ کو آواز دی اور اسے چائے بنانے کا کہہ کر ان کی طرف متوجہ ہوئی۔
’’یہ میرے کزن تیمور ہیں اور میں یہاں ایک بہت ضروری کام سے آیا ہوں۔‘‘ جہاں زیب نے تیمور کا تعارف کرواتے ہوئے اپنا مدعا بیان کیا۔ ’’اسی سلسلے میں چودھری صاحب سے ملنا چاہتا تھا۔‘‘
’’ڈیڈی تو کسی کام سے باہر گئے ہوئے ہیں۔ مجھے بتائیں شاید میں آپ کی کوئی مدد کرسکوں۔‘‘
’’صفیہ… میں نے سنا ہے کہ رشنا نام کی ایک خاتون جس کا تعلق نتھیا گلی کے قریب کوٹھیالہ گائوں سے ہے۔ یہاں رہ رہی ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے جہاں زیب کی نظروں میں امید کے ہزاروں دیے روشن تھے۔
اس وقت ملازمہ چائے اور دیگر لوازمات سے بھری ٹرالی دھکیلتی ہوئی ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی کچھ دیر کے لیے گفتگو کا سلسلہ تھم گیا تھا۔ ملازمہ کے جانے کے بعد صفیہ بولی۔
’’آپ شاید روشن آپا کی بات کررہے ہیں۔ جی ہاں وہ ہمارے ساتھ ہی رہتی ہیں۔‘‘ پھر اس نے وہ پورا قصہ سنایا کہ کیسے رشنا انہیں ملی تھی اور صفیہ کی بیمار بہن کی دیکھ بھال کی تھی۔
’’ہاں یہ وہی رشنا ہے۔ مجھے اس سے ملنا ہے۔ ابھی وہ یہاں ہے؟‘‘
’’جی ہیں‘ غالباً آرام کررہی ہیں۔ آج صبح سے ان کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ پھر کچھ توقف کے بعد بولی۔ ’’آپ لوگ چائے پئیں‘ میں انہیں لے کر آتی ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اٹھ کر چلی گئی۔
جہاں زیب کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ یوں جیسے سینے سے باہر آجائے گا۔ وہ سراپا انتظار تھا اور اس کی نظریں بار بار دروازے کی سمت اٹھ رہی تھیں۔ کچھ دیر گزری تھی کہ وہ صفیہ کے ساتھ سر جھکائے ہوئے ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی۔ وہ جس کے لیے ڈاکٹر جہاں زیب نے در در کی خاک چھانی تھی۔ وہ اٹھ کر کھڑا ہوا۔ زمین و آسمان کی گردش جیسے لمحے بھر کے لیے ٹھہر گئی تھی۔ رشنا کے لیے اس کے دل میں جو بے انتہا محبت تھی وہ اس کی آنکھوں میں سمٹ آئی تھی۔ وہ بے اختیار اس کی طرف بڑھا۔
اسی لمحے رشنا نے سر اٹھایا اور جیسے ہی جہاں زیب سے اس کی نظریں ملیں‘ وہ بھی جہاں کی تہاں رہ گئی۔ اس کے بڑھتے ہوئے قدم رک گئے۔ جہاں زیب نے دیکھا کہ وہ پہلے سے بہت کمزور ہوگئی تھی اور رنگ بھی کافی پھیکا پڑ گیا تھا لیکن اس کے باوجود اس کے حسن میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔
’’رشنا… میں آگیا… تمہیں کہاں کہاں تلاش نہیں کیا میں نے۔‘‘ جہاں زیب اس کے قریب جاکر دھیمے لہجے میں بولا۔
’’کون ہیں آپ؟‘‘ وہ اب اپنی پہلے والی کیفیت سے نکل آئی تھی۔ اس کے چہرے پر بے گانگی تھی۔ وہ سخت لہجے میں بولی۔ ’’میں آپ کو نہیں جانتی۔‘‘ کہتی ہوئی وہ تیزی سے سے وہاں سے چلی گئی۔
’’ارے… روشن آپا نے آپ کو کیوں نہیں پہچانا۔ خیر آپ بیٹھیں اور مجھے پوری تفصیل بتائیں کہ کیا قصہ ہے؟‘‘
’’تم بیٹھو، جہاں زیب میں خود جاکر ان سے بات کرتا ہوں اور انہیں بتاتا ہوں کہ تم بے قصور ہو۔‘‘ تیمور بولا۔
’’نہیں اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ پہلے آپ لوگ مجھے پوری تفصیل بتائیں، پھر میں آپا سے خود بات کرلوں گی۔‘‘ صفیہ نے کہا۔
وہ لوگ دوبارہ صوفے پر آکر بیٹھ گئے۔ جہاں زیب نے اسے بتایا کہ کیسے رشنا سے ملاقات کے بعد وہ اس کی محبت میں مبتلا ہوگیا تھا۔ اس کے بعد وہ اپنے گھر آگیا تھا اور ڈیڈی کو بھی اس شادی کے لیے رضا مند کرلیا تھا کچھ پس و پیش کے بعد وہ مان گئے تھے۔ آخر وہ ان کا اکلوتا بیٹا تھا۔ ان ہی دنوں ڈیڈی کو ایک اہم میٹنگ کے لیے دبئی جانا پڑا ایک اہم آرڈر کی سپلائی بھی دینا تھی۔ یوں آفس میں بھی ان کا ہونا ضروری تھا۔ انہوں نے جہاں زیب سے کہا کہ وہ میٹنگ اٹینڈ کرنے دبئی چلا جائے، صرف چار دن کی تو بات ہے۔ جب تک وہ واپس آئے گا آفس کا کام بھی نمٹ چکا ہوگا۔ پھر وہ اس کی اور رشنا کی شادی کا سلسلہ چلائیں گے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی جہاں زیب کو دبئی جانا پڑا۔ اس زمانے میں ٹیلی فون وغیرہ کے ذرائع اتنے ترقی یافتہ نہیں تھے۔ واپس آنے کے بعد رشنا سے اس کا کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ بہرحال دبئی روانگی کے وقت ایئر پورٹ پر اسے ایک بوڑھی عورت ملی اور اس سے درخواست کی کہ اسے اپنے بیٹے کے لیے کچھ دوائیں بھجوانی ہیں اور یہ کہ وہاں اس کا بیٹا بہت بیمار ہے۔ وہ دبئی ایئر پورٹ پر آئے گا اور آپ سے یہ دوائیں لے لے گا۔ اس نے ایک پیکٹ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ ایک تو مظلوم صورت نظر آنے والی عمر رسیدہ خاتون سے ہمدردی کا جذبہ پھر ایک ڈاکٹر ہونے کے ناطے دواؤں کی اہمیت کا اندازہ کرتے ہوئے اس نے بغیر سوچے سمجھے وہ پیکٹ اپنے سامان میں رکھ لیا تھا۔ وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ آگے چل کر یہ پیکٹ اس کے لیے کتنی بڑی مصیبت کھڑی کرنے والا ہے۔
دبئی ایئر پورٹ پر جیسے ہی اس کے سامان کی تلاشی لی گئی اسے چاروں طرف سے گھیر لیا گیا۔ اس کے سامان میں موجود اس پیکٹ میں جو اس بوڑھی عورت نے اسے دیا تھا دوا کے ڈبوں میں چھپائی ہوگئی خطرناک قسم کی منشیات تھیں۔ جہاں زیب کو پولیس اپنے ساتھ لے گئی اور اسے اس کے گھر اطلاع دینے کا بھی موقع نہیں دیا گیا۔ اس کی کہیں کوئی سنوائی نہیں ہوئی اور اس جرم میں اسے پانچ سال کی جیل ہوگئی۔ اسی صدمے سے جہاں زیب کے ڈیڈی کو جان لیوا ہارٹ اٹیک ہوگیا۔ ان کے انتقال کے بعد جہاں زیب کے چچا نے ان کا بزنس سنبھالا اور جہاں زیب کی بھی تلاش جاری رکھی۔ آخر سال بھر بعد انہیں علم ہوا کہ وہ دبئی کی جیل میں ہے اور اپنے ناکردہ جرم کی سزا کاٹ رہا ہے۔ بہرحال جیسے ہی انہیں علم ہوا انہوں نے اس کی رہائی کے لیے کوششیں تیز کردیں لیکن تمام شواہد اس کے خلاف تھے وہ عدالت میں اس کی بے گناہی ثابت نہیں کرسکے۔
جہاں زیب اپنی سزا پوری کرکے پاکستان واپس آیا تو پانچ سال کا طویل عرصہ گزر چکا تھا۔ جہاں زیب کا اس پورے عرصے میں رشنا سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا تھا۔ وہ اکثر سوچا کرتا تھا کہ رشنا اسے بے وفا سمجھتی ہوگی اور اسے کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اب تک اس کی شادی بھی ہوچکی ہوگی۔ یہی سب سوچ کر جہاں زیب نے اسے بھلانے کے لے خود کو بزنس اور اسپتال کے کاموں میں مصروف کرلیا لیکن رشنا کی یاد نے اسے کبھی چین نہ لینے دیا۔ وہ اسے بھلانے کی جتنی کوشش کرتا وہ اسی شدت سے یاد آتی تھی اور اب اسلام آباد میں قائم کیا ہوا اس کا اسپتال شہر کا ایک معتبر، مشہور اور نفع بخش اسپتال تھا جہاں کئی جونیئر اور سینئر ڈاکٹرز اس کے ساتھ مصروف عمل تھے۔ وہ خود بھی شہر کا ایک مشہور و معروف ڈاکٹر بن چکا تھا۔ ان ہی جونیئر ڈاکٹرز میں ایک ڈاکٹر صفیہ بھی تھی۔ پانچ سال مزید گزر گئے تھے۔ جہاں زیب کے ڈیڈی کا چھوڑا ہوا بزنس اور اس کا اسپتال دونوں دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کررہے تھے۔ یہ ساری کامیابیاں اور ان کامیابیوں کو حاصل کرنے میں مصروف جہاں زیب کے دل کی بے قراری کم نہ ہوسکی۔
ایک سال پہلے تیمور کی منگنی اس کی پسند کے مطابق ہوگئی تھی اور آج کل اس کی شادی کی تیاریاں ہورہی تھیں کہ اچانک چچا جان نے اپنا فیصلہ صادر کیا کہ تیمور اور جہاں زیب کی شادی ایک ساتھ کی جائے گی۔ اگر اسے کوئی لڑکی پسند ہے تو بتادے ورنہ خاندان میں سے ہی کسی کے ساتھ رشتہ طے کردیا جائے گا۔ جہاں زیب نے پہلے کی طرح ان کو ٹالنے کی کوشش کی مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوئے تو تیمور نے اس سے کہا۔
’’آج تو تمہیں بتانا ہی پڑے گا کہ تم شادی کیوں نہیں کرنا چاہتے۔‘‘ جب تیمور کا اصرار حد سے بڑھا تو اس نے رشنا کے بارے میں اسے سب کچھ بتادیا۔ وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔
’’یار… جب تم اس کے بغیر نہیں رہ سکتے اور اسے بھلانے میں ناکام ہوگئے ہو تو تم اس کے پاس کیوں نہیں جاتے۔‘‘
’’کیا پتا اب وہ کہاں ہو شاید اب تک اس کی شادی بھی ہوگئی ہوگی۔ دس سال ایک لمبی مدت ہوتی ہے۔‘‘ جہاں زیب بولا۔
’’یہ سب مفروضے ہیں۔ ہوسکتا ہے اس نے شادی نہ کی ہو اور تمہاری طرح تمہاری منتظر ہو۔ ایک بار اس سے مل کر تو دیکھو۔ بس فیصلہ ہوگیا تم اس سے ملنے جارہے ہو۔ بزنس وغیرہ کی تم فکر نہ کرنا‘ میں سب سنبھال لوں گا۔ بس تم کل ہی روانہ ہوجائو۔‘‘ وہ فیصلہ کن لہجے میں بولا۔
تیمور کے اکسانے پر اور اپنے دل کی بے چینی اور بے قراری کی خاطر وہ رشنا سے ملنے کے لیے نکل گیا اور نتھیا گلی پہنچ گیا۔ اس کے بعد کے سارے واقعات اس نے صوفیہ کو بتادیے۔ یہ سب کہہ کر اس نے ایک گہری سانس لی، جیسے اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہوگیا ہو۔
’’آپ کے ساتھ بہت برا ہوا ڈاکٹر صاحب‘ بہرحال آپ فکر نہ کریں۔ ہم سب مل کر روشن آپا کو سمجھائیں گے کہ آپ بے وفا نہیں تھے بلکہ حالات کے ہاتھوں مجبور ہوگئے تھے۔‘‘
تیمور، چچی جان، صفیہ اور اس کے گھر والوں رشنا کو منانے اور اسے تمام حقیقت بتانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان سب کی کوششیں رنگ لائیں اور بالآخر رشنا جہاں زیب کی دلہن بنی آج اس کے پہلو میں بیٹھی تھی۔ اس کا ملکوتی حسن دلہن کے روپ میں جہاں زیب کی آنکھوں کو خیرہ کیے دے رہا تھا۔ وہ آج بھی اتنی ہی دلکش اور حسین نظر آرہی تھی جیسی دس سال پہلے تھی۔ جہاں زیب نے اس کا نرم و نازک ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا۔
’’رشنا ہم اپنا ہنی مون نتھیا گلی کے اسی ریسٹ ہائوس میں منائیں گے جہاں سے ہماری محبت کا آغاز ہوا تھا۔‘‘ اس نے شرما کر گردن جھکالی تھی۔ وہ بات جاری رکھتا ہوا بولا۔
’’جب تک ستار اسپتال بھی مکمل ہوچکا ہوگا۔ میرے منیجر نے آج ہی فون کرکے بتایا ہے کہ اسپتال کی تعمیر کا کام تقریباً مکمل ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس کا افتتاح تمہارے ہاتھوں ہو۔‘‘
’’اسپتال…!‘‘ وہ حیران ہوکر بولی۔ ’’وہ کب بنا؟‘‘
’’میں تمہیں تلاش کرنے جب وہاں گیا تھا اور مطب کی جگہ ہوٹل بنا دیکھا تھا تو اسی وقت یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ یہاں اسپتال بنوائوں گا۔ جہاں غریبوں کا مفت علاج ہوگا۔ یہ حکیم صاحب جیسے بے لوث، بے غرض اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ رکھنے والے عظیم انسان کے لیے ایک تحفہ ہے اور میرا کفارہ بھی۔‘‘
’’بابا کی روح کتنی خوش ہوگی۔‘‘
’’ہاں اور تم بھی خوش ہو ناں؟‘‘ وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا اور شرما کر گردن جھکالی تھی۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close