Aanchal Feb 2019

دل کو کس کا ملال تھا

کشور سلطانہ

یقینا ضبط ٹوٹا ہے، یقینا تم ہی روئے ہو
ہوا میں جانی پہچانی نمی محسوس کی میں نے
تمہارے بعد دنیا میں ہوا میں اس قدر تنہا
تمہارے بعد اپنی بھی کمی محسوس کی میں نے

’’امی ٹھیک ہی کہتی تھیں کہ لڑکے تو کھیل کے میدان میں پچ پہ کھڑے کھڑے گیندیں وکٹوں پہ مارتے جانے کہاں سے کہاں پہنچ جاتے ہیں اور لڑکیاں بیل کی طرح پلک جھپکتے میں پروان چڑھ جاتی ہیں اور پھر ذرا سی تیز ہوا چلے تو بکھر بھی جاتی ہیں۔‘‘
’’چھی… چھی میں ایسی نہیں میں تو بہت مضبوط ہوں۔‘‘ اس نے دل ہی دل میں سوچا۔ وہ اپنے آپ کو دنیا کی حسین ترین اور بہادر لڑکی سمجھتی تھی نہ صرف یہ بلکہ اپنے آپ کو فیشن میگزین کے اولین صفحے پر جگمگاتے ہوئے بھی دیکھتی۔ پھر وہ فیشن گلیمر کی انگلی تھامے اٹھلاتی دوڑ لگاتی تیزی سے جست لگا کر جوانی کی اونچی کھلی چھت پر جا پہنچی اور اس کی نگاہیں ایک پتنگ کی ڈور میں ایسی الجھیں کہ الجھتی چلی گئیں۔ سر خودبخود گھومنے لگا۔ دیوار سے جو ٹکرائی تو پیچھے مڑ کر دیکھا کہ پیچھے والے گھر کی منڈیر سے ٹیک لگائے کوئی پتنگ کو ڈھیل دے رہا تھا۔ اسی میں مگن تھا اس نے نظر بھر کے دیکھا۔
’’ہے تو بڑا ہینڈسم جیسے کسی فلمی رسالے کے ٹائٹل سے نکل کے چلا آیا ہو۔‘‘ ایسا لگا جیسے کوئی اس کے دل میں اترتا چلا جا رہا ہو اور ایک ساتھ ہی دل میں گرم، سرد ابال اٹھنے لگے تھے۔
’’اوں ہوں۔‘‘ اس نے سر کو ایک جھٹکایا۔ ’’میں بھی کہاں سے کہاں پہنچ گئی‘ چھوڑو یار کس چکر میں پڑگئی۔ زندگی بھر کی مصیبت۔‘‘ اس نے دل کو تھپکتے ہوئے سمجھانے کی کوشش کی اور امی کی آواز پر آنچل سنبھالتی ہوئی نیچے اتر گئی۔
’’کب سے بلا رہی ہوں تمہیں‘ کہاں تھیں؟‘‘ یہ سنتے ہی وہ واپس اپنی دنیا میں لوٹ آئی۔
’’جی امی۔‘‘
’’ذرا ایک پیالی چائے تو بنادو، سر میں شدید درد ہورہا ہے۔‘‘
’’جی امی ابھی لائی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ چائے پکانے چلی گئی اور دل ہی دل میں سوچنے لگی میں نے ابھی تو گریجویشن کیا ہے پھر کیا فکر ہے۔ ابا بھی اعلا عہدے پر فائز ہیں۔ اچھے کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق ہے البتہ جب سے رزلٹ آیا ہے امی بس ایک ہی دھن میں لگی ہیں شادی… شادی۔ اِدھر اُدھر سے اشاروں کنایوں میں باتیں ہونے لگی ہیں۔ دور پرے کے رشتے دار بھی اپنے ہونے لگے ہیں۔
’’اوہ دیر ہوگئی، میں بھی کہاں کھو گئی۔‘‘ جلدی سے امی کو چائے دی اور اپنے کمرے میں آکر دھم سے بستر پر ڈھیر ہوگئی اور پھر خیالات کے تانے بانے میں الجھ گئی۔
’’افوہ پھر وہی ہینڈسم۔‘‘ اسے اپنی آنکھوں میں چبھن سی محسوس ہونے لگی۔ ہونٹوں پر پیاس سے جیسے پپڑیاں جمنے لگیں۔

اس نے تو شاید نظر بھر کر مجھے دیکھا بھی نہیں وہ تو بس اپنی پتنگ بازی میں ہی مصروف رہا معلوم کرنے پر پتا چلا کہ ایگزیکٹیو سراپے میں موصوف ایک کلرک ہیں۔ بعض دفعہ فطرت کو بھی مذاق سوجھتا ہے۔ انکم ٹیکس یا کسٹم کا ہوتا تو پھر بھی چل جاتا اس مسکین صورت والے کی آمدنی سے دو وقت کی روٹی تو مل جائے گی باقی میرے خوابوں کا جو ڈھیر ہے اور پھر شادی کے بعد دما دم بچے، ایک دو کمرے کا فلیٹ اور شور شرابا… نہ بابا نہ میں ایسی زندگی سے کنواری ہی بھلی۔ مسئلہ یہ ہے ابھی تک جو رشتے آئے وہ سب مڈل کلاس ہی سے آئے جو نہ امی کو پسند آئے اور نہ مجھے۔ بہتر تو وہ ہوگا جو ہشیار بزنس مین ہوگا۔ کم از کم میرے ارمان تو پورے کرسکے گا۔ مہینہ دو مہینہ بعد شاپنگ کے لیے کسی غیر ملکی دورے پر اپنے ساتھ تو لے جائے گا۔ کل رینا کتنی خوش تھی، اپنی جیولری دکھا رہی تھی جو وہ دبئی سے لائی ہے کاش… ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کہ امی کی آواز آئی۔
’’سنو ہنی… ادھر آئو، پرسوں زیبا نے اپنی کی بیٹی کی امتحان میں شاندار کامیابی پر ڈنر رکھا ہے ہم سب کو بلایا ہے۔‘‘
’’جی اچھا۔‘‘ اب وہ سوچ میں پڑگئی۔ ایک تو یہ مسئلہ ہے کہ ہر پارٹی میں ایک نیا سوٹ چاہیے۔ اس نے جلدی سے اپنی الماری کھولی اور کپڑوں کا جائزہ لیا۔ ایک بھی ایسا نہیں ہے جو کسی نے دیکھا نہ ہو۔
وہ دوڑی دوڑی امی کے پاس گئی۔ ان کے گلے میں بانہیں ڈالیں اور ایک نئے سوٹ کی فرمائش پر امی کو رضا مند کر ہی لیا۔ خوش خوش اپنے کمرے میں آئی اور کپڑوں کے برانڈز اور ڈیزائنز میں کھو گئی۔ نجانے کب آنکھ لگ گی تھی۔
اگلے دن جاکر بہت چھان پھٹک کے بعد ایک عمدہ ڈیزائن کا سوٹ لے آئی۔ گھر آتے ہی پہن کر اپنا جائزہ لینے کے لیے قد آدم آئینے کے سامنے کھڑی ہوکر دیکھا تو تسلی ہوئی۔ اب تو وہ خلائوں میں اڑنے لگی۔ اس کے دل کی گہرائی سے اچانک ایک ہوک سی اٹھی۔
’’ارے کہیں وہ ہینڈسم وہاں نہ مل جائے، مزہ آجائے گا‘ وہ فضا کا بھی تو دور پرے کا رشتے دار ہے۔ چلو کیا ہوا، ہم بھی تو کسی سے کم نہیں، ہم سا ہو تو سامنے آئے۔‘‘

آج پارٹی میں جانا تھا۔ صبح سے ہی تیاری شروع ہوگئی تھی۔ فیشل وغیرہ… شام ہوئی تو نیا لباس پہنا‘ ہلکا پھلکا میک اپ اور خوب صورت ہلکی سی جیولری بھی پہنی۔ اب تو وہ واقعی حسین لگ رہی تھی خود ہی اپنا جائزہ لیا اور اٹھلاتی ہوئی نیچے اتر آئی۔
’’امی میں کیسی لگ رہی ہوں؟‘‘
’’بہت پیاری۔‘‘ یہ کہتے ہوئے انہوں نے اپنا رخ دوسری طرف پھیر لیا۔
’’آپ تیار ہیں؟‘‘
’’ہاں… بس تمہارے ابا آجائیں تو چلتے ہیں۔‘‘
ابا بھی آگئے اور سب گاڑی میں بیٹھ گئے۔ جیسے ہی گاڑی گیٹ کے سامنے رکی‘ فضا سامنے ہی کھڑی نظر آئی۔ ہیلو ہائے کرتی ہوئی ہاتھ پکڑ کر اندر لے گئی، جہاں سب دوستیں منتظر تھیں۔
’’اوہ اب تو شامت ہی آگئی۔‘‘ سب نے ایک دوسرے پر فقرے بازی شروع کردی۔ سب ایک دوسرے کی تعریف ہی کر رہے تھے۔
امی اور ابا دوسرے کمرے میں تھے۔ روایتی انداز میں لوگ ایک دوسرے کے بال بچوں کا حال احوال پوچھ رہے تھے۔ وہ سب چھوڑ چھاڑ، کالج یونیورسٹی کی دوستوں سے باتوں میں مصروف رہی۔ باتوں ہی باتوں میں نے اس ہینڈسم کا بھی پوچھ ڈالا۔ معلوم ہوا موصوف دبئی چلے گئے اور ان کی منگنی بھی ہوگئی ہے۔
’’واہ ری قسمت…‘‘ تھوڑی دیر کو دل میں ہلچل سی مچی اور پھر بعد میں یوں محسوس ہونے لگا جیسے ہر چیز پر برف جمنا شروع ہوگئی ہو۔ بینا نے جب اسے چٹکی کاٹی تو وہ ہوش میں آئی۔ اشارہ کرتے ہوئے بولی۔
’’ذرا ان صاحبہ کو تو دیکھو تمہیں کیسے دیکھ رہی ہیں۔‘‘ اس کے کہنے پر وہ بھی متوجہ ہوئی واقعی۔ وہ تو اس کے وجود کا ایسا جائزہ لے رہی تھیں جیسے قربانی کا بکرا۔ اب تو سب نے ہی اس بات کا نوٹس لے لیا، لگیں چھیڑنے۔
’’بس بچو… اب تمہاری خیر نہیں۔‘‘ سب دوبارہ اسی چھیڑ چھاڑ خوش گپیوں میں مصروف ہوگئے۔ کھانے سے فارغ ہوکر لوگ باہر لان میں چلے آئے اور ہنسی مذاق کا سلسلہ چلتا رہا بہت مزہ آیا۔ سب مہمان رخصت ہونے لگے تو خالہ نے بتایا کہ وہ شانی بھائی کے دوست عامر کی والدہ تھیں جو میرے متعلق تمام معلومات حاصل کرچکی تھیں۔ بس رشتہ آنے ہی والا ہے۔ امی بڑی جذباتی باتیں کررہی تھیں اور وہ ان کی باتوں کو کسی ڈرامے یا ریڈیو کا کردار سمجھ کر سنی ان سنی کرتی رہی۔
واپسی پر تھکن کے باوجود بستر پر لیٹتے ہی ذہن قلابازیاں کھانے لگا۔ نیند جانے کہاں کھو گئی اور وہ ماضی کے اندھے کنویں میں ڈوبتی چلی گئی۔ نہ جانے کون کون یاد آنے لگا۔ کالج کے زمانے کے دوست، تقریروں کے مقابلے، محفل مشاعرہ اور بیت بازی غرض ایک فلم سی چلتی رہی۔ نہ جانے کب آنکھ لگی۔ یہی وجہ تھی صبح فجر کی نماز بھی قضا ہوگئی۔ اگر امی نہ اٹھاتیں تو شاید سوتی ہی رہتی۔
جب کچن میں کام کررہی تھی تو امی ابا کی سرگوشیاں مجھے صاف سنائی دے رہی تھیں۔ جس سے یہی ظاہر ہورہا تھا اگر رشتہ اچھا ہے تو بس شادی کردیں۔ گھر میں شانی کا آنا جانا لگ گیا۔ اس سے پہلے بھی کئی بار اس نے محسوس کیا کہ وہ کسی پھل دار درخت کا سب سے اونچا پھل ہے اور شانی نیچے منہ کھولے کھڑا اس کے گرنے کا انتظار کررہا ہے۔ وہ تو کم عمری آڑے آگئی، خیر بے چارے اب تو شادی شدہ ہوچکے تھے اور اب تو اپنی کزن یعنی میری شادی کی فکر تھی۔ اصل میں تو وہ یہ بتانے آئے تھے کہ وہ رشتے کے لیے آنا چاہتے ہیں۔ امی نے بخوشی دو دن بعد بلانے کا کہہ دیا۔ اب ان کے استقبال کی تیاری شروع ہوگئی تھیں۔
خالہ کو بلا لیا‘ باجی تو اسلام آباد میں ہوتی تھیں ورنہ وہ بھی آتیں شام ہوئی اور وہ لوگ آگئے۔ روایتی انداز سے خاطر مدارات کی گئی۔ صاحب زادے بھی اچھے اسمارٹ اور مہذب تھے۔ ان کی والدہ میری رگ رگ میں اترنے کی کوشش میں تھیں۔ خالہ اور پھوپی کرید کرید کر رشتے داریاں نکال رہے تھے۔ ایک دوسرے کے شجرے بند کتابوں سے باہر آگئے۔ جب دونوں فریقین مطمئن ہوگئے تو اپنے ہاں آنے کی دعوت دے کر چلے گئے۔
امی کی ستارہ برساتی آنکھیں مجھ سے لپٹ گئیں اور میں مستقبل کے خوابوں کی خوب صورت کشتی میں سوار ہچکولے کھاتی ہوئی اپنے بیڈ روم تک پہنچ گئی۔ پیچھے پلٹ کر جو دیکھا تو شانی مسکرا رہے تھے اور منہ سے شہنائی کی بے سری دھن بجا رہے تھے۔
’’کزن… کیا ارادے ہیں؟ بس اب شادی کر ہی ڈالو ورنہ سب لڑکے ہاتھ سے نکل جائیں گے۔‘‘ تھوڑی سی پیار بھری ڈانٹ پلا کر کمرے سے چلے گئے۔ اب تو میں بھی سوچ میں پڑ گئی تھی۔ دیوار کی طرف جو پلٹی تو دیوار پر دو بڑی بڑی خوابیدہ آنکھیں ہر جگہ چپکی ہوئی نظر آرہی تھیں۔ میں مستقبل کے حسین خوابوں کی وادی میں پہنچ کر سو گئی۔ یوں آنے جانے کا سلسلہ چل پڑا۔ آخری ملاقات میں جب ان کی والدہ تشریف لائیں تو کہنے لگیں۔
’’ہمارے بیٹے تو جہیز کے بہت خلاف ہیں لیکن دنیا داری بھی تو کرنا پڑتی ہے، میری بہنوں کی بہوئیں تو اتنا جہیز لائیں کہ گھروں میں اضافہ کرنا پڑتا کہ جہیز کا سامان سیٹ ہوسکے، خیر والدین جو کچھ بھی دیتے ہیں وہ اپنی بیٹی کو دیتے ہیں۔ بڑی بڑی چیزیں نہ سہی اے سی، فریج، گاڑی نہ سہی ساس نندوں کے لیے چھوٹا موٹا زیور تو آج کل سب ہی دیتے ہیں۔ جو ذرا پیسے والے ہوتے ہیں وہ مکان یا فلیٹ بھی دیتے ہیں تاکہ آئندہ زندگی گزارنا سہل ہو جائے، ویسے ہمارے ہاں اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔‘‘ وہ یہ سب سنا کر چلی گئیں۔ اگلے روز جب شانی کو بتایا تو وہ خاموش ہوگئے۔
امی تو تلی بیٹھی تھیں۔ ابا ڈھل مل تھے اور میں تلوار کی تیز دھار کی نوک پر، میں نے جب یہ سنا تو صاف انکار کر دیا۔ امی ابا بھی تھوڑے دن تک عجیب مخمصے میں پڑے رہے۔ خیر بات آئی گئی ہوگئی۔ زندگی معمول پر آگئی۔
دو یا تین ماہ بعد اطلاع ملی کہ شمی کی منگنی ہورہی ہے۔ شمی تایا زاد بہن تھی۔ جانا بھی ضروری تھا۔ اب کچھ شرمساری آڑے آرہی تھی۔ بادل نخواستہ جانا پڑا مگر کچھ بے دلی سی چھائی رہی۔ رسم منگنی شروع ہوئی تو لڑکے کو اسٹیج پر بلایا گیا۔
’’اوہ یہ تو جانا پہچانا سا لگ رہا ہے۔‘‘ قریب جا کر دیکھا۔ ارے یہ صارم ہے یونیورسٹی کا خاموش طبع‘ خاموش نگاہیں۔ آج بھی وہ اسی ادا سے خاموش بیٹھا تھا۔ میں شمی کے پیچھے ٹکٹکی باندھے اسے دیکھ رہی تھی۔
’’اوہ یہ کیا ہوگیا؟‘‘ میرے دل میں مچھلی پکڑنے کی کنڈی اٹکی۔ ایسا لگا جیسے کسی نے گدی پکڑ کے میرا سر گھما دیا ہو میں چکراتی ہوئی کمرے میں چلی گئی۔ یوں محسوس ہونے لگا جیسے گھڑی کی سوئیاں الٹی گھومنے لگی ہوں۔ جوں توں کرکے ٹائم پاس کیا، گھر آکر کسی سے بات کیے بغیر اپنے کمرے میں چلی گئی۔ بوجھل قدموں سے سینڈل اتارنا مشکل ہورہا تھا۔ میری جیولری مجھے زنگ آلود لگ رہی تھی۔ بے دلی سے کپڑے تبدیل کیے۔ بستر پر دھڑام سے گری، آنکھوں کے سمندر میں طغیانی آگئی۔ دل کی بستی گہرے پانی میں ڈوب گئی مگر دل کا ایک خفیہ خانہ اب بھی بچ گیا۔ میں نے اس کو مقفل کیا اور چابی کسی اندھیرے غار میں پھینک آئی‘ رات کے گہرے سناٹے میں مد و جزر کے اس اندھے کھیل میں جانے کہاں سے کہاں نکل گئی تھی۔

اب میں نے شادی نہ کرنے کا تہیہ کرلیا بس مجھے کسی کی ضرورت نہیں‘ اپنی اعلا تعلیم مکمل کرکے پروفیسر بنوں گی۔ وقت کی سوئیاں جو تھم گئیں تھیں پھر سے چلنے لگیں۔ رشتے آتے جاتے رہے۔ امی اور ابا میری فکر میں تیزی سے بڑھاپے کی منزلیں طے کرنے لگے۔ میرے سر میں چاندی کے تار جھلملانے لگے لیکن میں ایک ہی دھن میں مگن رہی۔ یوں میں جیت گئی۔ بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کرلیں۔ میری گردن میں جب میڈل ڈالے جاتے میری گردن فخر سے دو انچ اونچی ہوجاتی جیسے میں نے کوئی قلعہ فتح کرلیا ہو۔ اب تو مجھے پڑھے لکھے لوگ بھی جاہل نظر آنے لگے۔ میں اب ایک نامور پروفسر بن چکی تھی۔

امی اور ابا دونوں داغ مفارقت دے کر چلے گئے۔ بڑی بہن اور اس کے بچے بھی امریکہ چلے گئے۔ میں اکیلی رہ گئی۔ اب میں ایک پوش علاقے کے خوب صورت تریں بنگلے میں رہتی ہوں جو دنیا کی تمام آسائشات سے سجا ہوا ہے۔ پورچ میں نئے ماڈل کی کار کھڑی ہے۔ ہر سال چھٹیوں میں بیرون ملک جاتی ہوں اور نادر و نایاب چیزیں لاتی ہوں اور گھر میں سجاتی دیتی ہوں۔ خوب صورت حسین لباس اور جیولری کے ڈھیر لگے ہیں لیکن ان سب کے حسن میں ایک زہریلا پن نظر آتا ہے۔

زندگی کی خوب صورتی اور بدصورتی دونوں ایک سدھائے ہوئے بندر کی طرح میرے سامنے ناچتی ہیں اور میں کبھی پھولوں میں یا پھر نوکیلے پتھروں پر بیٹھ کر یہ تماشا دیکھتی ہوں۔ میرے گھر میں ماڈرن اور ہائی سوسائٹی کے لوگ آتے ہیں۔ نوکروں کی ریل پیل ہے۔ کسی چیز کی کمی نہیں۔ گھر کی رونق بڑھانے کے لیے ہر اتوار میں دوستوں کی محفلیں جمتی ہیں لیکن جب رات کی تنہائی سیاہ چادر اوڑھے میرے عالی شان بیڈ روم میں اترتی ہے تو مجھے ہر چیز زہریلے سانپ کی طرح ڈستی ہے۔ جی چاہتا ہے کہ اس سیاہ رات میں کوئی مردانہ کھانسی یا پھر پتھریلے خراٹوں کی ہی آواز آجائے۔ اکثر سگریٹ پھونکتی رہتی ہوں سگریٹ کی بو مجھے خود کو نہیں آتی جی چاہتا ہے کسی مردانہ سگریٹ کے دھوئیں کی بو میرے بدن میں پھیل جائے۔
میں اپنے ویران بیڈ روم میں ادھیڑ عمری کی سلوٹیں درست کرتی رہتی ہوں یا پھر کھڑکی کا پردہ کھولتی ہوں بی پی، ہائی ہو جاتا ہے‘ گھبراہٹ سے دم گھٹتا محسوس ہوتا ہے‘ کبھی کبھی مجھے مردوں سے شدید نفرت ہونے لگتی ہے۔ خود غرض، لالچی، مطلبی، بہت برا بھلا کہہ کر دل کی بھڑاس نکالتی ہوں۔ میری تمام دوستوں کی شادیاں ہوچکی ہوں گی، نجانے کہاں ہوں گی، مجھے اتنا ہوش کہاں کہ کسی کی خبر رکھوں۔
میرے گھر میں نوکروں کی فوج ہے اس کے باوجود اسٹور میں کسی کو جانے کی اجازت نہیں۔ اس کی چابی میرے پاس ہوتی ہے کیونکہ وہاں میری کتابوں، فائلوں اور ڈائریوں کا خزانہ ہے۔ نہ جانے اس اندھے کنوئیں سے کس کے ہاتھ کیا لگ جائے۔ کوئی پتہ، کوئی مرجھایا پھول، یہ سوچ کر رنگے بالوں والے سر میں کھجلی سی ہونے لگتی، بڑھاپا جھینپتا ہوا رسوائی کی صلیب تک پہنچ جاتا۔
آج کچھ بے چینی سی ہورہی تھی۔ فرصت بھی تھی‘ اسٹور کھول کے پرانی یادوں کے اس ڈھیر کو کریدنا شروع کیا۔ ایک پرانی ڈائری کی دھول صاف کی اور کھولا ہی تھا کہ اس میں سے ایک کاغذ کا پنہ تڑپ کے نیچے گرا۔ میں اس کی لکھائی پہچان گئی۔ آنکھوں میں ایک چمک سی آگئی۔ مجھے اس کا کھویا کھویا انداز یاد آنے لگا۔ ایک عجیب شخص پڑھائی میں مگن، کوئی سوال پوچھو تو جواب مل جاتا، اس کی ٹائی بھی ٹھیک نہ ہوتی اگر کوئی غور سے دیکھتا تو جھٹ سے ٹھیک کرنے کی کوشش کرتا، بال ہمیشہ ہاتھوں کی انگلیوں سے سنوارتا لیکن تھا بہت ذہین، تقاریر کے مقابلوں میں کبھی مات نہ کھائی۔ لڑکیاں اس کی دلدادہ تھیں لیکن وہ کسی سے زیادہ بات نہ کرتا۔ دو سال اسی طرح گزر گئے، کبھی کبھی اکتاہٹ سی ہونے لگتی۔
آج الوداعی پارٹی تھی، سب ایک دوسرے سے ذاتی طور پر مل رہے تھے۔ کہیں گلے شکوے ہورہے تھے‘ کچھ جذبات کی لہروں میں ڈوبے جا رہے تھے۔ اچانک میری نظر اس پر پڑی۔ وہی اسٹائل، وہ میری ہی طرف آرہا تھا۔
’’ارے سنیے‘ کیسی ہیں آپ؟‘‘ وہی اکھڑا سا انداز‘ رسمی سی بات چیت، اف میری تو جیسے ساری محنت پر پانی پھر گیا۔ چڑ کر آگے بڑھنے والی تھی کہ حاد ثہ ہوگیا۔ اس کی آنکھیں میری آنکھوں میں الجھ کر رہ گئیں پھر آندھی کے جھکڑ کی طرح گزر گیا۔ بزدل کہیں کا… میں نے سر کو جھٹکایا اور آگے بڑھ گئی۔
اس حادثے کے تھوڑے دن بعد ہمارے گھر کے پتے پر ایک خط موصول ہوا نجانے کیسے پتا ملا۔ وہ تو شکر ہوا میں نے خود وصول کیا۔ جلدی سے کھولا‘ لفافے کے کونے میں کاغذ کا ایک تعویز سا پڑا نظر آیا، مختصر سی ایک سطر نجانے کتنے دن لگا کر لکھی ہوگی۔
’’اگر آپ کی اجازت ہو تو میں اپنی والدہ کو آپ کے گھر بھیج دوں۔‘‘ اس سے مختصر اور خشک تحریر کبھی زندگی میں نہ پڑھی تھی۔
اچانک یہ خیال آیا کہ یہ پرزہ یہاں کیسے آگیا؟ ڈال دیا ہوگا۔ اس وقت اس کی اہمیت نہ سمجھی۔ آج یہ کاغذ کا ٹکڑا مجھے بڑھاپے کی سیڑھیوں سے دھکیل کر جوانی کی کھائی میں گرا رہا تھا۔ حقیقت ہے اگر انسان بھوکا ہو تو سوکھا ٹکڑا بھی شاہی ٹکڑا لگتا ہے۔ نجانے کیوں میں اس سطر کو بار بار پڑھ رہی تھی۔ یہ لکھے ہوئے حروف مجھے ہیرے کے قلم سے لکھے نظر آرہے تھے۔

میرے دل میں ایک ہوک سی اٹھی، میرے اندر کا چھپا چور بیدار ہونے لگا۔ اگر کچھ معلومات حاصل کرلی جائیں تو کیا حرج ہے میں سوچ میں پڑگئی۔ نجانے اب کہاں ہوگا‘ کس حال میں ہوگا اور بیوی کیسی ہو۔ ملنے بھی دے گی یا نہیں‘ بچے بھی ہوںگے وغیرہ؟ اسی شش و پنج میں پڑ کر اسٹور بند کیا۔ واپس کمرے میں آگئی۔ خود ہی خود سوال و جواب کرتی رہی۔ اگلے روز بھی کچھ بے چینی سی لگی رہی اتنا ضرو معلوم ہوا کہ وہ ایک معروف ادارے میں پڑھاتے ہیں، جب رہا نہ گیا تو فون ڈائریکٹری اٹھا لائی نمبر ڈائل کیا گھنٹی بجی اور کسی نے فون اٹھایا۔
’’ہیلو۔‘‘ میرے دل کی حرکت تیز ہونے لگی۔ دوبارہ وہی آواز آئی۔
’’جی ہیلو فرمائیں کیا کام ہے؟‘‘ مجھے آواز پہچاننے میں ذرا بھی دقت نہ ہوئی۔ میں نے اپنا نام بتایا۔ وہ ایک دم پہچان گیا۔
’’اوہ… تو… یہ آپ ہیں، ہم جیسے گمنام لوگ آج کیسے یاد آگئے‘ زہے نصیب، کہیے کیا خدمت کروں؟ کیا کسی بچے کی پرابلم ہے؟‘‘ توبہ ہے پھر وہی بے رخی۔ اتنے سال بعد بھی نہ بدلا، میں جھنجلائی۔ میرے ہاتھ سے ریسیور گرتے گرتے بچا۔ ذہن میں آندھیاں چلنے لگیں۔ میں نے فون بند کردیا اور اس پرزے کو جو ابھی تک سینے سے لگا رکھا تھا۔ اس کے چار ٹکڑے کیے اور پھینک دیا۔ میرے من میں بھیگی یادیں دوبارہ سیلی لکڑ ی کی طرح سلگنے لگیں اور میری آنکھوں میں دھواں بھرتا چلا گیا۔ میں جلدی سے اٹھی باتھ روم میں جا کر پانی کا نل کھولا منہ پر چھینٹے مارے اس کے باوجود میرے اندر کا الائو بھڑکتا رہا۔ سارا دن اپنے کمرے میں پڑی رہی شام ہوئی تو سوچا کہیں باہر چلی جائوں گاڑی نکالی اور عاطف کا کیسٹ آن کردیا۔
’’وہ بھیگی بھیگی یادیں وہ برساتیں۔‘‘
آج میں اس ریسٹورینٹ میں بھی نہ گئی جہاں آتے جاتے چلی جاتی تھی۔ کیسٹ پلیئر کی آواز تیز کردی اور گاڑی بھی تیز دوڑائی۔ گاڑی کا رخ کہاں تھا کچھ پتہ نہ تھا آخرکار ساحل سمندر تک جا پہنچی۔ سمندر کے کنارے جو بیٹھی تو اس کے اتار چڑھائو میں گم نجانے کہاں سے کہاں چلی گئی۔

دن ڈھلنے لگا، شام کی دلہن اپنا رنگین آنچل سنبھالتی اتر رہی تھی۔ سورج کا سرخی مائل گولا تیزی سے پانی میں ڈوب رہا تھا کہ اچانک میری نظر قریب بیٹھے ایک شخص پر پڑی جو ایک ایزی چیئر پر بیٹھا کسی کتاب کو پڑھنے میں محو تھا۔ جب اس نے سر اٹھایا تو اپنے چشمے کو درست کرتے ہوئے مجھے دیکھنے لگا جیسے پہچاننے کی کوشش کررہا ہو۔ اس کے اس طرح دیکھنے پر میں بھی غیر ارادی طور پر متوجہ ہوئی۔ اس کے ہیلو کہنے پر میں اسے پہچان گئی۔
’’ارے فراز تم…؟‘‘ اس نے بھی یہی جملہ دہرایا۔
’’ہنی تم…!‘‘
’’سنا تھا تم امریکہ چلے گئے تھے۔ کب آئے کہاں رہے، کیا حال ہے؟‘‘ میں نے کئی سوالات ایک ساتھ پوچھے۔
’’سناتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اپنی کرسی قریب لے آیا۔ آرام سے بیٹھا پھر بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا، اس نے بتانا شروع کیا۔
’’تعلیم پوری کرکے امریکہ میں ایک دوست کے ہاں ٹھہرا۔ اس نے ہفتہ بھر خوب آئو بھگت کی پھر لوُٹنا شروع کردیا، آہستہ آہستہ میرے کپڑے پیسے غائب ہونے لگے۔ جب شکایت کی… ارے یار یہاں سب چلتا ہے۔ سب ایک دوسرے کا مال استعمال کرتے ہیں۔ جب تمہارا ختم ہو ہمارا استعمال کرنا۔ اب میں مفلسی کی طرف جا رہا تھا کہ ایک اور ہمدرد پاکستانی مل گیا۔ اس نے ایک اسٹور پر مجھے سیلز مین رکھوا دیا۔ اب میں نے ان سے کنارا کشی کرلی۔ تھوڑا سکون ملا ایک سال تک کام کیا پھر اس نے بھی خرد برد کا الزام لگا کر علیحدہ کردیا۔‘‘ کرب میں ڈدبی لکیریں چہرے سے عیاں ہونے لگیں میں اب غور سے اس کی باتیں سن رہی تھی۔ اس نے پہلو بدلا اور دوبارہ گویا ہوا۔
’’میری ڈگریاں وہاں کسی کام کی نہیں تھیں نوبت یہاں تک آپہنچی کہ مجھے ٹیکسی چلانا پڑی۔ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں۔ دوستوں نے شادی کا مشورہ دیا۔ وہ انگریز لڑکی آزاد خیال، حالات کچھ بہتر ہوئے مگر گھر گھر نہ رہا۔ بوائے فرینڈز کی فوج‘ نائٹ کلبوں میں جانا مجھ سے برداشت نہ ہوا۔ نائن الیون کے چکر میں میرے کاغذات اور پاسپورٹ سب ضبط ہوچکا تھا۔ مجھے ورک پرمٹ بھی نہیں مل رہا تھا۔ نجانے کتنے دھکے کھا کر پاکستانی پاسپورٹ بنوایا اور چلا آیا۔‘‘ اس کے ساتھ ہی ایک سرد آہ بھری اور منہ دوسری طرف کرلیا۔ شاید وہ اپنے چہرے کا کرب مجھ سے چھپانے کی کوشش کررہا تھا۔ کرسی کو دھکیل کے چشمہ درست کرتے ہوئے بولا۔
’’اب تم سنائو؟‘‘ میں نے کہا۔
’’میری بھی ایک طویل داستان ہے‘ ان شاء اللہ کل پھر اسی جگہ ملتے ہیں۔ تفصیل سے بات کرتے ہیں۔‘‘ میں نے اپنا پتا اور فون نمبر اس کو دیا اور اس کا فون نمبر لیا۔ رات کی سیاہی پھیل چکی تھی۔ رات گئے گاڑی میں اکیلے سفر کرتے ہوئے مجھے کچھ خوف گھیر لیتا ہے۔ ہم دونوں نے خوش دلی سے ایک دوسرے کو اللہ حافظ کہا اور گھر کی جانب چل پڑے۔ خاموشی سے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے یوں محسوس ہونے لگا جیسے مجھے کوئی سائبان مل گیا ہو۔ گاڑی کا ریڈیو آن کیا تو اقبال بانو کی آواز دل میں اترتی چلی گئی۔
’’تو پیا سے مل کے آئی ہے
بس آج سے نیند پرائی ہے‘ دیکھے کی سپنے بالم کے
تو لاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے
پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے‘‘
تمام راستے کمپیوٹر کی طرح میرا ذہن پرانی یادوں کی ویب سائٹ کھولتا رہا، دل میں پھر ہوک سی اٹھی۔ کل ملاقات میں مجھے اپنے بارے میں کیا کیا بتانا ہے‘ یہی سوچتے سوچتے گھر پہنچ گئی۔ تھکن سے برا حال بھوک پیاس سب ختم، سر میں شدید درد تھا۔ دودھ کے ساتھ درد کی گولیاں لیں۔ سونے کے لیے لیٹی مگر درد کسی صورت کم نہیں ہورہا تھا۔ اسی درد میں جانے کہاں چلی گئی۔

صبح کے دس بج گئے دروازہ نہ کھلا تو ملازم پریشان ہوئے۔ زور زور سے بجایا تب بھی نہ کھلا۔ اب پڑوسیوں کو بلایا۔ لاک توڑا تو دیکھا سر پر ہاتھ تھا۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ دو گھنٹے پہلے انتقال ہوچکا ہے۔ سب دیکھتے ہی رہ گئے۔ صف ماتم بچھ گئی، کوئی کہتا خود کشی کی، کوئی کہتا کسی نے زہر دیا، کوئی کہتا دماغ کی رگ پھٹ گئی۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں بہرحال ان للہ وان الیہ راجعون۔

شام کے چھ بج گئے۔ وعدے کے مطابق جہاں فراز سے ملنا تھا نہ پہنچ سکی۔ وہ کال پر کال کیے جارہا تھا لیکن کوئی بھی نہیں اٹھا رہا۔ اسی بے چینی میں ایک گھنٹہ گزر گیا تو گھر کا رخ کیا۔ اس کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ یہ کیا ہے یہاں کیا ہوا؟ یہ پتا درست بھی ہے؟ وہ ہر کسی سے یہ ہی سوال کرتا اندر چلا آیا۔ سب نے اسے یقین دلا دیا کہ یہ ہی پروفیسر صاحبہ کا گھر ہے اور ان ہی کا انتقال ہوا ہے۔
اوہ میرے خدایا یہ کیا ہوا؟ کاش مجھے کچھ بتا ہی دیا ہوتا۔ وہ اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو مسلتا رہا اس کی آنکھوں کے کناروں سے بہتا پانی اس کا رنگین چشمہ بھی نہ روک سکا۔ اس کے دل میں اور زبان پر ایک ہی شعر تھا۔

چہرہ میرا تھا نگاہیں اس کی
خامشی میں بھی باتیں اس کی

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close