Aanchal Nov-18

دل کی آواز بھی سن

یاسمین نشاط

ہے یہ سچ کہ تیرے سامنے مجھے برسوں
کوئی رفیق، کوئی کام بھی نہ یاد آیا
نہیں جھوٹ یہ بھی کہ کل جو تجھے میں نے دیکھا
تو کتنی دیر تیرا نام بھی نہ یاد آیا

زور دار چھناکے کی آواز آئی تھی اور ساتھ ہی ’’ٹوٹ گیا‘‘ کی صدا بھی۔ یقینا عینا نے پھر کوئی نازک شے توڑ دی تھی۔ اس نے اٹھ کر نیچے جھانکا۔ صحن میں فائز کا لایا ہوا قیمتی گلدان ٹکڑوں کی صورت بکھرا پڑا تھا۔ ذرا پرے معصوم عینا خوفزدہ چہرہ لیے کبھی باپ کو تک رہی تھی اور کبھی ٹوٹے گلدان کو جبکہ فائز غصے سے عینا کو دیکھ رہا تھا۔ عینا بھی کمال بچی تھی۔ روز ایک چیز توڑ کر باپ کے غصے کو دعوت دیتی تھی۔
’’ کم بخت‘ الو کی پٹھی۔‘‘ فائز نے دانت پیسے‘ چھ ہزار کو اس نے ایک سیکنڈ میں برابر کردیا تھا۔ وہ جانتی تھی ابھی تھوڑی دیر بعد سبیکا باہر آئے گی اور سارے ٹکڑے اکٹھے کرکے لے جائے گی اور فراغت پاتے ہی ان ٹکڑوں کو جوڑ کر پھر سے پرانی شکل میں واپس لے آئے گی اور اس پر پڑنے والے نشانات تو وہ رنگین مارکرز سے چھپا دے گی اور اس کے بعد یہ گلدان بھی آرٹ کا نمونہ بن کر اس کے کمرے میں سجا ہوگا۔ سبیکا کے کمرے میں بے شمار چیزیں تھیں‘ لیکن وہ سب کی سب ٹوٹنے کے بعد جوڑی گئی تھیں۔ وہ بہت احتیاط سے ٹکڑے اٹھاتی اور پھر انہیں جوڑتی اور اس کے بعد انہیں رنگوں سے سجاتی دیتی۔ جانے وہ یہ سب کیوں کرتی تھی لیکن ٹوٹی ہوئی چیز کو جوڑتے ہوئے اس کے چہرے پر بے حد کرب کے آثار ہوتے یوں جیسے ضرب اس چیز کو نہیں بلکہ خود اسے لگی ہو۔
تھوڑی دیر بعد جب دیکھا کہ فائز جاچکا ہے وہ پلیٹ میں نان اور حلوہ لیے چلی آئی۔ سبیکا اس وقت پھوپو کے ساتھ مدد کررہی تھی۔ اسے دیکھ کر مسکرادی۔
’’واز توڑ دیا عینا نے… آواز تو گئی ہوگی‘ واز کی کم اور واز کے مالک کی زیادہ‘ چھ ہزار سات سو پچانوے روپے کی مالیت کا تھا اور شہر کے سب سے مہنگے مال سے خریدا گیا تھا دو دن پہلے‘ اتنی انفارمیشن کافی ہے یا مزید چاہیے‘ واز کا کلر‘ ڈیزائن وغیرہ…‘‘ سبیکا نے اسے دیکھتے ہی از خود تفصیلات جاری کردی تھیں‘ کیونکہ وہ جانتی تھی کوئی بھی چیز، ٹوٹنے کے بعد رومینہ چسکا لینے کسی نہ کسی بہانے نیچے اتر آتی تھی۔ اس کی تفصیلات کے جواب میں رومی تھوڑی شرمندہ ہوئی۔ وہ واقعی اسی نیت سے آئی تھی پھر سنبھل کر پلیٹ شیلف پر رکھتے ہوئے بولی۔
’’نہیں تو، معیز آج نان چنے لایا تھا‘ ساتھ میں حلوے کی فرمائش کردی وہی لائی ہوں تم لوگوں کے لیے… اور پھوپو آپ کیسی ہیں؟‘‘ وہ ان کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی۔ وہ اس وقت پالک کاٹنے میں مصروف تھیں۔ سبیکا صاف صاف پتے ان کو پکڑا رہی تھی۔ انہوں نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا پھر بولیں۔
’’اللہ کا شکر ہے بیٹا‘ جو وقت گزر جائے‘ اس مالک کا احسان ہے‘ ماں کہاں ہے تمہاری؟ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے کئی دن گزر جاتے ہیں‘ اس کی شکل دیکھے میں تو لاچار ہوں سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتی اس کو تو ایسا کوئی مسئلہ نہیں جو کبھی بازار جانے کے لیے اترے بھی تو دبے پائوں سیڑھیاں اترتی چڑھتی ہے‘ ہم کچھ چھین لیں گے کیا؟‘‘ انہوں نے اپنی مصروفیت جاری رکھتے ہوئے شکوہ کیا۔
رومی کو اس گھریلو سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس لیے چپ چاپ ان کی باتیں سنتی رہی۔ بے دلی سے سر ہلاتی رہی۔ پھوپو کا شکایت نامہ کافی طویل ہوتا تھا۔
’’آج یونیورسٹی نہیں گئیں تم؟‘‘ سبیکا نے اس کی جان چھڑائی۔
’’نہیں… آج کوئی کلاس ہی نہیں تھی کچھ دنوں میں نیا سمسٹر اسٹارٹ ہونے والا ہے بس فراغت ہے۔ اچھا پھوپو میں چلتی ہوں۔ امی تک آپ کا پیغام پہنچادوں گی۔‘‘ آخری بات اس نے مسکراتے ہوئے کہی اور سیڑھیاں چڑھ گئی۔ معیز ابھی تک نان اور حلوے کا مزہ لے رہا تھا۔
’’اتنا مت کھایا کرو پھٹ جائو گے کسی روز۔‘‘ اس نے ٹوکا۔
’’تم تو ہر وقت بس میرے کھانے پینے پر نظر رکھتی ہو۔ مجھے جتنی بھوک ہوتی ہے۔ اتنا ہی کھانا کھاتا ہوں۔‘‘ معیز اس کی دخل اندازی پر چڑ کر بولا۔ اسے غصہ آگیا۔
’’اول درجے کے ندیدے ہو تم۔ سب کچھ چٹ کر جاتے ہو‘ کھا کھا کے ماچھے پہلوان سے بھی زیادہ موٹے ہوچکے ہو۔‘‘ رومی نے اس کے آگے سے ٹرے اٹھائی۔
’’تمہارا مسئلہ کیا ہے؟‘‘ معیز نے جھپٹا مارا وہ قدرے دور جا کھڑی ہوئی تھی۔
’’اماں… اماں سمجھائیں اس کو‘ ہر وقت کھاتا رہتا ہے۔ دس لوگوں کا کھانا یہ اکیلا ایک وقت میں کھا جاتا ہے۔ کتنا نقصان دہ ہے اس کے لیے۔‘‘ وہ وہیں سے چیخ کر بولی‘ اماں جو کمرے میں تھیں‘ اس کی پکار پر لپک کر آئیں۔
’’ارے رومینہ، تم کیوں بچے کے پیچھے ہی پڑگئی ہو۔ ہر وقت اس کے نوالے ہی گنتی رہتی ہو۔ خبردار کبھی کسی کے آگے سے رزق نہیں اٹھاتے اور وہ بھی اس طرح۔‘‘ ٹرے ان کے لاڈلے بیٹے کے آگے سے اٹھائی گئی تھی۔ وہ بھی اس طرح کہ ابھی وہ تناول فرما ہی رہا تھا۔ اماں سے کیسے برداشت ہوتا۔ اس کے ہاتھ سے ٹرے لے کر واپس معیز کے آگے رکھی اور پچکارنے لگیں۔
’’کھا لے میرا بیٹا‘ اس کی باتوں پر دھیان مت دیا کر۔‘‘ رومینہ پائوں پٹختی اندر چلی گئی‘ معیز منہ بناتا دوبارہ کھانے لگا۔ اماں واری صدقے ہوتی نظروں سے اسے دیکھنے لگیں۔
وہ جانتا تھا کہ اماں کی جان اس میں بند ہے اور وہ اس کمزوری کا پورا پورا فائدہ اٹھاتا تھا۔ باہر سے پھیری والے کی آواز آئی تو اماں منڈیر تک جا پہنچیں۔ آلو پیاز کا بھائو پوچھتے جانے کیا یاد آیا کہ نیچے اتر گئیں۔ جب کافی دیر اسے اماں کی آواز سنائی نہ دی تو وہ کمرے سے باہر گئی۔ وہ آخری نان پر ہاتھ صاف کرچکا تھا۔ اسے دیکھتے ہی اس کے چہرے پر بڑی فاتحانہ سی مسکراہٹ آئی۔ رومی بھنا گئی‘ مگر بولی کچھ نہیں اور منڈیر سے نیچے جھانکنے لگی۔ اماں سبزی والے سے بھائو تائو کررہی تھیں۔ ارد گرد کی دو چار عورتیں اور بھی موجود تھیں۔ ’’حالات حاضرہ‘‘ کا پروگرام جاری تھا۔
سبزی والا بظاہر تو سر جھکائے اپنے کام میں مصروف تھا۔ لیکن تھا پورا میسنا زیرلب مسکرا رہا تھا اور جہاں ضرورت ہوتی ’’لقمہ‘‘ بھی دے رہا تھا۔
’’اف…‘‘ یہاں بھی بوریت ہی تھی۔ وہ پیچھے پلٹی اس نے مونگ پھلی اور چلغوزوں کا جار اٹھایا پلیٹ لی اور پچھلے صحن میں چلی آئی۔ اماں نے دھوپ سینکنے کے لیے دو چارپائیاں اور چار پلاسٹک کی کرسیاں وہاں رکھ چھوڑی تھیں۔ یہاں سے بھی نیچے جھانکو تو پھوپو کا صحن صاف دکھائی دیتا تھا۔ اس نے کرسی سنبھالنے سے پہلے نیچے جھانکا۔ (عادتاً) سبیکا اب واشنگ مشین میں پانی ڈال رہی تھی۔ ذرا پرے ہی عینا اپنی گڑیا کے ساتھ کھیل رہی تھی۔ یہ سبیکا بھی ہر وقت مشین ہی بنی رہتی ہے۔ اس نے ہاتھ میں پکڑا سامان ٹیبل پر رکھا اور سبیکا کو دعوت دینے لگی۔
’’آجائو سبیکا‘ دھوپ سینکتے ہیں اور مونگ پھلیاں کھاتے ہیں۔‘‘ سبیکانے ذرا کی ذرا سر اٹھا کر اوپر دیکھا اور ہنس دی۔
’’کپڑے دھونے لگی ہوں۔ فارغ ہوکر آئوں گی۔‘‘ کسی کا دل توڑنا تو اس نے سیکھا ہی نہ تھا۔
حالانکہ وہ اچھی طرح جانتی تھی۔ مشین کے ساتھ ساتھ سبیکا نے ہانڈی بھی چڑھائی ہوگی اور جب تک دونوں کام نمٹیں گے۔ دوپہر کے کھانے کا وقت ہوچکا ہوگا۔ روٹیاں ڈالنے کے ساتھ ساتھ وہ پھوپا کے دکان پر بھیجے جانے والے لنچ باکس کی تیاری بھی کرے گی۔ دہی کا رائتہ‘ پودینے کی چٹنی‘ اچار‘ سلاد یہ اضافی چیزیں ہوتی تھیں اور کبھی کبھار تو آدھا گھنٹہ پہلے گڑ کے چاول یا چنے کی دال کے حلوے کی فرمائش بھی آجاتی۔ دوپہر کا سمیٹنے کے بعد اس کے پاس کبھی کبھار دس بیس منٹ ہوتے کمر سیدھی کرنے کے لیے‘ اس کے بعد شام کی چائے اور پھر رات کے کھانے کی تیاری۔ پھوپا کو دونوں وقت تازہ سالن چاہیے ہوتا اور پھر فائز صاحب کی آمد بھی قیامت صغریٰ سے کم نہیں ہوتی تھی۔
’’افوہ…‘‘ اس نے سر جھٹکا اور مونگ پھلیاں پھانکنے لگی۔ اماں سبزی لے کر آچکی تھیں۔ اندر سے آتی آواز سبزی کے بھائو چڑھ جانے کی فکر مندی سے لبریز تھی۔
’’یار یہ چھٹی تو بہت بور کرتی ہے۔‘‘ اس نے اکتا کر سوچا۔ پھر آمنہ کے گھر جانے کا ارادہ کیا۔
آمنہ چار گھر چھوڑ کر رہتی تھی۔ ایف اے تک اس کی کلاس فیلو بھی تھی اور دوست بھی۔ اس نے جلدی سے چیزیں سمیٹیں اور اندر آگئی۔ اماں اب ڈھیر سارے ٹنڈوں سے نبرد آزما تھیں۔ اس نے برا سا منہ بنایا۔ اماں کا بجٹ دالوں‘ سبزیوں سے آگے بڑھتا ہی نہیں تھا اگر یہ نکما معیز نوکری کرلے تو کھانا ہی ڈھنگ کا نصیب ہوجائے۔ اس کی نظر کچر کچر کچی گاجریں چباتے معیز پر پڑی۔ کبھی کبھی تو اسے معیز کی بے حسی اور اماں کے لاڈ پر بے انتہا غصہ آتا۔ نہ وہ سمجھاتی تھیں اور نہ ہی وہ خود سمجھتا تھا۔ آمنہ اسے دیکھ کر خوش ہوگئی تھی۔
’’میں تمہیں یاد ہی کررہی تھی۔‘‘ اس نے بکھرے کشنز سمیٹتے ہوئے کہا۔
’’ہاں دیکھ لیا تو یاد کررہی تھی ورنہ سالوں ادھر نہ آئوں تو کبھی پوچھنے کا خیال بھی نہیں آتا۔‘‘ رومی نے اس کی بات رد کی۔
’’اچھا بس ناں۔‘‘ اس نے اسے پکڑ کر بٹھایا۔
’’ہر وقت بس ’’شکوہ‘‘ مت کرتی رہا کرو۔‘‘ آمنہ نے اسے ہلکی سی چپت لگائی۔
’’تمہارے لیے بہت بڑی خبر ہے میرے پاس۔‘‘ وہ راز داری سے گویا ہوئی۔
’’منگنی ہورہی ہے تمہاری؟‘‘ رومی نے اندازہ لگایا۔
’’اوں ہوں۔‘‘ اس نے پُر شدت تردید کی پھر مسکرائی۔
’’نہیں… تمہارے لیے ایک پروپوزل ہے۔ میرے پاس؟‘‘ رومی تو اس کی بات پر اچھل ہی پڑی۔
’’پروپوزل اور میرے لیے؟‘‘ اس نے بے یقینی سے پوچھا۔
’’ہاں…‘‘ آمنہ نے اثبات میں سر ہلایا پھر بتانے لگی۔
’’کاشف ماموں کو تو دیکھا ہے ناں تم نے‘ وہی جن کی کلاتھ مارکیٹ میں بہت بڑی دکان ہے۔‘‘ رومی کے کچھ تاثر نہ دینے پر اس نے حوالہ دیا۔ (میں کیا ان کی کیشئر ہوں)
’’ہاں تو؟‘‘ وہ سامنے پڑی موسمی پر انگلی پھیرنے لگی۔
’’ان کو تم اچھی لگنے لگی ہو۔‘‘ آمنہ نے بات مکمل کی۔ اس کو گویا کرنٹ لگا۔
’’کیا کہہ رہی ہو تم آمنہ… کاشف ماموں اور مجھے؟‘‘
’’ہاں… دیکھو، زیادہ عمر کے نہیں ہیں یہی کوئی تیس بتیس کے ہوں گے لیکن یہ بھی تو دیکھو بہت امیر ہیں‘ اکیلے ہیں اور سب سے بڑی بات تمہیں پسند کرتے ہیں۔ عمر تھوڑی زیادہ بھی ہو تو کیا، اتنی اچھائیوں کے پیچھے چھپ جاتی ہے تم کہو تو امی خالہ سے بات کریں؟‘‘ آمنہ تو تیار بیٹھی تھی۔ اسے غصہ آگیا۔
’’میں گھر جا رہی ہوں۔‘‘ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ آمنہ روکتی رہ گئی‘ مگر وہ رکی نہیں۔ آمنہ کو افسوس ہوا۔
رومینہ اس کی بہت اچھی دوست تھی اور وہ اسے ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن کاشف ماموں کی ضد کے آگے مجبور ہوکر اسے رومینہ سے بات کرنا پڑی تھی۔ کاشف ماموں اس کی امی کے خالہ زاد تھے۔ ان کا سگا بھائی بہن کوئی تھا نہیں‘ والدین بھی بچپن میں ٹریفک حادثے کا شکار ہوگئے تھے۔ سو وہ آمنہ کی والدہ کے پاس ہی آگئے تھے اور سگی بہنوں سے بڑھ کر انہیں سمجھتے تھے اور اب پتا نہیں کیوں اور کیسے انہیں رومینہ پسند آگئی تھی۔
وہ ماموں کو سمجھا دے گی اس نے سوچا تھا۔ ماموں کی محبت میں وہ اپنی اچھی دوست کو کھونا نہیں چاہتی تھی۔
ء…/…ء
یونیورسٹی جانے کے لیے وہ اسٹاپ پر کھڑی تھی اور بار بار گھڑی دیکھ رہی تھی۔ اسے سب سے فضول کام وہاں کھڑے ہوکر پوائنٹ کا انتظار کرنا لگتا تھا۔ بس تو نہیں البتہ کاشف ماموں اپنی بڑی سی گاڑی لیے آدھمکے‘ کوئی اور وقت ہوتا تو وہ خوشی خوشی ان سے لفٹ لے لیتی لیکن آمنہ کی بات نے اس کا دماغ گھما کر رکھ دیا تھا۔ لوگ اپنی عمر نہیں دیکھتے اور چل پڑتے ہیں۔ اس نے یوں ظاہر کیا جیسے وہ انہیں جانتی ہی نہیں مگر وہ بھی ایک نمبر کے ڈھیٹ نکلے۔ گاڑی سے باہر آگئے اور عین اس کے مقابل کھڑے ہوکر پوچھنے لگے۔
’’رومینہ… اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو میں آپ کو چھوڑ دوں؟‘‘
’’جی؟‘‘ وہ ہکابکا اس جرأت پر ان کی شکل دیکھنے لگی۔
’’میں کاشف ہوں… آمنہ کا ماموں۔‘‘ اس کی حیرت کو انہوں نے ناآشنائی سمجھا۔ ’’شاید آپ نے پہچانا نہیں مجھے۔‘‘ اب ذرا شرما کر کہا۔
’’جی… جی… کاشف ماموں۔‘‘ اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ماموں پر کچھ زیادہ ہی زور دیا۔ وہ خفیف سا ہوکر دائیں طرف دیکھنے لگے اور اس سے پہلے کہ وہ مزید گل افشانی کرتی، بس آگئی۔
رومینہ نے زقند بھری اور بس میں سوار ہوگئی۔ سیٹ سنبھالتے ہوئے اس نے باہر جھانکا۔ کاشف ماموں ابھی تک وہیں کھڑے یک ٹک اس کو دیکھ رہے تھے۔ ’’لاحول ولا‘‘ اس نے سر جھٹکا اور دوسری جانب دیکھنے لگی۔ اسے احساس تک نہ ہوا کہ ساتھ والی سیٹ پر آکر کوئی بیٹھ گیا ہے۔ اسے آج لائبریری سے کچھ کتابیں ایشو کروانی تھیں۔ وہ بیگ کھول کر کارڈ تلاش کرنے لگی تب ہی نظر سیاہ چمکدار جوتوں پر جا پڑی۔ جوتے یا تو نئے تھے یا پھر بہت نفاست سے پالش کیے گئے تھے حقیقتاً ان میں شکل نظر آرہی تھی۔ جوتوں سے ہوتی ہوئی نظر اوپر اٹھی تو وہ پلک جھپکنا بھول گئی۔ اس کے لب خفیف سے وا ہوئے اور پھر آپس میں پیوست ہوگئے۔ آنکھوں میں نمی آگئی۔ بیگ کے اسٹرپ پر اس کی گرفت غیر ارادی طور پر مضبوط ہوگئی تھی۔
وہ طیب ہمدانی تھا… بلا شبہ وہ اس کو پورے چھ سال کے بعد دیکھ رہی تھی۔ اسے اندازہ ہی نہ ہوا تھا کہ وہ مسلسل اس شخص کو دیکھ رہی ہے اور تب ہی طیب ہمدانی نے بھی نظروں کی تپش محسوس کرکے اس کی جانب دیکھا اور ایک لمحے کو وہ بھی ساکت رہ گیا۔
’’رومی تم…!‘‘ کافی دیر بعد وہ گویا ہوا اور رومینہ کو لگا اس کے آنسو چھلک جائیں گے۔ اس نے فوراً منہ پھیر لیا اور بس سے باہر بھاگتی چیزوں کو دیکھنے لگی۔ وہ پہچان کا کوئی تاثر نہیں دینا چاہتی تھی۔
’’نہیں بات کرو گی ہمیشہ کی طرح؟‘‘ وہ ہنس دیا۔
اس کا جی چاہا وہ پلٹ کر دیکھے۔ ہنستے ہوئے طیب ہمدانی بہت خوب صورت لگا کرتا تھا لیکن اس نے خود کو ڈانٹا‘ اسے کمزور نہیں پڑنا تھا‘ بس رکی تو اس نے دیکھا، ساتھ والی سیٹ خالی ہوچکی تھی۔ وہ بیگ سنبھالتی ہوئی نیچے اتر آئی۔ دل یک دم ہی دکھ سے بھر گیا تھا۔ بھولے بسرے دکھ شور مچانے لگے تھے۔ وہ مرے ہوئے قدموں سے چلتی ہوئی اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف آگئی۔ نوال اور علینہ اسے باہر ہی مل گئیں۔
’’ہیلو رومی کہاں ہو… کیا ہوا ہے؟‘‘ علینہ کی تیز نظر نے فوراً بھانپ لیا کچھ گڑبڑ ہے فوراً لپک کر قریب آئی۔
’’نہیں‘ کچھ نہیں۔‘‘ اس نے لب کاٹے۔
’’میں رونا چاہتی ہوں… ڈھیر سارا۔‘‘ علینہ اس کی بہترین دوست تھی۔ وہ اس سے کچھ نہیں چھپاتی تھی اور علینہ بھی اس کی رگ رگ سے واقف تھی۔ آج بھی اسے دیکھتے ہی جان گئی تھی کہ وہ پریشان ہے۔
’’اوہو… دریا بہانے کا ارادہ ہے؟‘‘ نوال بھی آگئی۔
’’میں لائبریری سے ہوکر آتی ہوں۔‘‘ نوال کو قریب آتے دیکھ کر وہ فوراً وہاں سے کھسک لی۔ وہ اس کے سامنے بے پردہ نہیں ہونا چاہتی تھی۔ لائبریری میں اس وقت رش کم تھا۔ وہ نسبتاً الگ ویران گوشے میں جاکر بیٹھ گئی۔ ٹیبل پر سر رکھا اور آنسووئوں کو بہنے دیا۔ وہ بے آواز روتی رہی اور یہاں تک کہ اس کی آنکھیں خشک ہوگئیں۔
محبت کے لیے بہایا گیا آنسو جہاں بھی گرے‘ زمین بنجر کردیتا ہے اور ان چھ سالوں میں اس نے دو ہی کام شدت سے کیے تھے۔ ایک طیب ہمدانی سے عشق اور دوسرا اس کو بھول جانے کا عہد‘ لیکن آج جب چھ سال بعد طیب ہمدانی اچانک سر راہ نظر آگیا تو اسے لگا وہ اپنا عہد نبھا نہیں سکی۔
وہ تو آج بھی وہیں موجود تھا۔ اس کے دل اور دماغ پر حکومت کرتا ہوا۔
’’نہیں… مجھے اب اسے یاد نہیں رکھنا۔‘‘ اس نے آنسو صاف کیے اور ایک بار پھر مصمم ارادہ کیا۔ لائبریری سے نکلی تو فائزہ مل گئی۔
’’کہاں تھیں یار۔ ارے آج تو مزہ ہی آگیا۔‘‘
’’کیوں کیا ہوا، سر جمال نہیں آئے کیا؟‘‘ پروفیسر جمال احمد کی سخت طبیعت کے باعث سب ہی تنگ تھیں۔ سو اس نے اندازہ لگایا۔
’’ارے چھوڑو سر جمال کو‘ ہسٹری کے نئے پروفیسر آئے ہیں۔ کیا غضب کی پرسنالٹی ہے۔ قسم سے‘ اوپر سے پڑھانے کا انداز اتنا دلکش اور مجھے وہ شعر یاد آگیا۔
میں صرف تجھ کو سنوں جان کہ تیرا لہجہ
تو بولتا ہے تو پھر خوشبوئوں میں ملتا ہے‘‘
فائزہ جب بولتی تھی بے تکا ہی بولتی تھی۔
’’شرم کرو‘ استاد ہیں وہ اور تم ایسے چیپ اشعار پڑھ رہی ہو۔‘‘ رومینہ نے اسے گھرک دیا۔ وہ برا سا منہ بنا کر رہ گئی۔
’’میں دنیا میں دو ہی لوگوں سے تنگ ہوں۔ ایک سر جمال اور ایک تم… ہر وقت لیکچر دینے کو تیار رہتے ہو تم دونوں۔‘‘ وہ دونوں چلتی ہوئی زینے تک پہنچ گئی تھیں کہ فائزہ کو پھر کچھ یاد آیا۔
’’بائی دا وے تم تھیں کہاں اور یہ تمہاری آنکھیں کیوں سرخ ہیں؟‘‘ وہ کھوجتی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ نظریں چرا گئی۔
’’ہاں… رات ٹھیک سے سوئی نہیں میں۔‘‘ اس نے بہانہ گھڑا۔ ’’تمام رات ہمارے علاقے کی لائٹ بند رہی۔ برا حال ہوگیا۔‘‘
’’اچھا۔‘‘ فائزہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا مگر بولی کچھ نہیں کیونکہ سامنے سے مس سطوت آرہی تھیں۔ وہ دونوں کلاس روم میں گھس گئیں‘ لیکن ہمیشہ کی طرح آج اس کا دھیان کلاس میں نہیں تھا بلکہ اِدھر اُدھر بھٹک رہا تھا اور فائزہ یہ سب نوٹ کررہی تھی۔ تاہم اس کی عادت نہیں تھی خوامخواہ کھوجنے کی۔ اگلا پریڈ دونوں کا الگ الگ تھا۔ اس لیے فائزہ اوپر ہی رہ گئی‘ جب کہ اسے پھر نیچے آنا پڑا۔ اور آخری سیڑھی پر ٹھٹھک کر رکنا پرا۔ سامنے ہی سر قیصر رضا اور طیب ہمدانی موجود تھے۔ اس کا یہاں کیا کام؟ وہ الجھی۔ اسٹوڈنٹ تو وہ ہو نہیں سکتا تھا اور ٹیچر اس کو ماننے کے لیے وہ تیار نہیں تھی اور اسی لمحے طیب ہمدانی نے بات کرتے اس کی طرف دیکھا۔ رومینہ حسن کا دل مٹھی میں آگیا تھا۔ وہ بھی کچھ لمحے کو ٹھٹھکا لیکن اگلے ہی پل وہ پھر سے گفتگو میں مشغول ہوگیا تھا۔
’’گیٹ آ سائیڈ پلیز۔‘‘ کسی نے کہا اور وہ گویا حواسوں میں لوٹ آئی۔ اس نے جلدی سے زینہ عبور کرنے کی کوشش کی اور اسی چکر میں وہ دھڑام سے نیچے جاگری۔ جوتے کی ایڑی ٹوٹ گئی تھی۔ وہ شرمندگی اور تاسف سے سر نہ اٹھا سکی۔ تکلیف سے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔ اسے امید تھی طیب ہمدانی اس کے پاس آئے گا‘ لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔
ریلنگ کا سہارا لے کر جب وہ اٹھی تو وہ دونوں کہیں نہیں تھے۔ اس کی کہنی چھل گئی تھی اور خون رس رہا تھا۔ وہ اپنا بیگ سنبھالتی ہوئی ڈسپنسری کی طرف چلی گئی۔ بینڈیج کروا کے جب وہ باہر نکلی تو وہ پھر سامنے آگیا اور اس کے کچھ بولنے سے قبل ہی وہ بول اٹھا۔
’’مجھے پتا تھا تم ادھر ہی آئی ہوگی۔ کیسی ہو؟‘‘ اس نے نم پلکیں اٹھائیں لیکن کچھ بول نہ سکی۔
’’آنٹی‘ معیز‘ فائز… پھوپو سب کیسے ہیں؟‘‘ وہ پوچھ رہا تھا۔
’’مجھے نہیں پتا۔‘‘ وہ سائیڈ سے ہوکر نکل گئی۔ وہ بھی پیچھے آیا۔
’’ان چھ سالوں میں تم ذرا بھی نہیں بدلیں‘ وہی اکڑ اب بھی جوں کی توں ہے تم میں۔‘‘ وہ بات چھ سالوں کی کررہا تھا لیکن احساس یہ دلا رہا تھا گویا وہ چھ گھنٹوں بعد مل رہے ہوں۔
’’میں نہیں جانتی آپ کون ہیں اور کیوں میرا پیچھا کررہے ہیں؟‘‘ اس نے امڈ کر آنے والے آنسوئوں کو حلق کے اندر اتارا اور دوسری جانب مڑگئی۔ طیب ہمدانی نے بھی ہار نہیں مانی اور اس کے پیچھے پیچھے چلا آیا۔
’’میں نے آج ہی یہاں جوائن کیا ہے‘ ہسٹری کے لیکچرار کے طور پر، تمہیں پتا ہے ان چھ سالوں میں میں نے کیا کیا؟‘‘ اس نے ایک لمبا ڈگ بھر کے رومینہ کے ہم قدم ہونے کی کوشش کی۔ رومینہ نے ذرہ بھر توجہ نہیں دی۔ البتہ فائزہ کی باتیں جو کچھ دیر پہلے اس نے کہی تھیں۔ اس کے کانوں میں گونج رہی تھیں۔
’’تم سے مایوس ہونے کے بعد میں ملتان چلا گیا تھا۔ بڑے صاحب کے پاس۔ انہوں نے میرا ایڈمیشن کروایا اور آج میں ایک لیکچرار کی حیثیت سے تمہارے سامنے کھڑا ہوں۔ یہاں جاب بھی مجھے میری قابلیت کی بنا پر ملی ہے۔ کسی سفارش سے نہیں۔ میں تو تمہیں یہاں دیکھ کر حیران ہوا ہوں۔ میرا خیال تھا تمہاری شادی اور دو چار بچے بھی ہوچکے ہوں گے۔‘‘ اس نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’جسٹ شٹ اپ۔‘‘ رومینہ غصے سے چلائی۔ خوامخواہ ہی بے تکلف ہونے کی کوشش کررہا تھا۔
’’اور سنیے… آپ یہاں جس بھی حیثیت سے آئے ہوں۔ مجھ سے اپنی شناسائی جتانے اور اسے زبان زد و عام کرنے کی کوشش نہ کیجیے گا کیونکہ میں یہ اب بھی افورڈ نہیں کرسکتی اور یہ تو آپ اچھی طرح جانتے ہوں گے کہ میں چھچھور پن سے کس قدر نفرت کرتی ہوں۔‘‘ بات مکمل کرکے وہ آگے بڑھ گئی۔ یہ شخص تو ذرا بھی نہیں بدلا تھا۔ وہی عادتیں‘ وہی حرکتیں‘ خوامخواہ گلے پڑنا۔
انگلش کا پیریڈ تو چوٹ کی نذر ہوگیا تھا۔ اب اگلے پیریڈ تک اسے وقت تو گزارنا ہی تھا۔ کولڈ ڈرنک اور چپس کا پیکٹ لے کر وہ اپنی پسندیدہ جگہ پر آبیٹھی۔ طیب ہمدانی کو دوبارہ نہیں ملنا چاہیے تھا۔ وہ بڑی مشکل سے خود کو سمجھانے میں کامیاب ہوئی تھی اور وہ یوں ایک دم سے پھر اس کی دنیا برباد کرنے آگیا تھا۔ ہاں وہ اسے کوئی رسپانس نہیں دے گی۔ وہ اسے احساس تک نہیں ہونے دے گی کہ یہ چھ سال اس نے اس سے عشق کرتے گزارے ہیں۔
اس کی کولڈ ڈرنک ختم ہوچکی تھی اور اگلا پیریڈ بھی اسٹارٹ ہونے والا تھا۔ اس نے گھڑی پر نگاہ ڈالی اور اٹھ کھڑی ہوئی‘ تب ہی اس کی نظر سامنے جا پڑی۔ شزاء اور حماد محبت کا سبق پڑھنے میں مصروف تھے۔
’’توبہ ہے ان دونوں سے۔‘‘ وہ کوفت سے بڑبڑاتی ہوئی آگے بڑھی‘ تب ہی شزاء نے اسے آواز دے ڈالی۔
’’رکو رومینہ… یہ تم ہی حماد کو سمجھائو۔ میری بات تو سمجھنے کو تیار نہیں ہے۔‘‘ شزاء نے اسے گھسیٹا۔
’’نہ بہن… میری کلاس شروع ہونے والی ہے تم خود ہی سمجھاؤ پلیز۔‘‘ وہ نفی میں سر ہلاتی آگے بڑھ گئی۔ اسے حیرت ہوتی تھی لڑکیاں کس طرح ماں باپ کو دھوکا دیتی پھرتی ہیں۔ کالج یونیورسٹیز کی فیسیں ماں باپ جانے کس طرح بھرتے ہوں گے اور یہ یہاں آکر سوائے پڑھائی کے سارے کام کرتی ہیں۔ اس نے سر جھٹکا اور پھر باقی کا سارا دن اسے طیب ہمدانی اور شزا کے بارے میں سوچنے کا موقع ہی نہ ملا۔
ء…/…ء
’’ارے سنا، طیب یہاں آگیا ہے۔‘‘ یہ کراری آواز پھوپو کی تھی جو صبح صبح اس کی سماعت سے ٹکرا کر اسے پوری طرح جگا گئی تھی۔ وہ آج یونیورسٹی نہیں جانا چاہ رہی تھی۔ خود کو جوڑے رکھنے کے لیے اسے کچھ وقت درکار تھا۔ وہ منہ سر لپیٹے پڑی تھی۔ لیکن پھوپو کی بے وقت آمد نے اسے پھر سے ڈسٹرب کردیا تھا۔ آج کہاں چلا گیا ان کے جوڑوں کا درد‘ جو یہ بریکنگ نیوز سنانے وہ ہانپتی کانپتی اوپر پہنچ گئی تھیں۔
’’اچھا…‘‘ اماں کا مختصر سا اچھا بھی سنائی دے گیا تھا۔ پھوپو تفصیلات سنانے لگیں۔
’’ارے کل میں ہمایوں بھائی کی طرف گئی تو وہاں راجہ اندر بنا بیٹھا تھا۔ سطوت کی بیٹیاں آگے پیچھے پھر رہی تھیں۔ ان چھ سالوں میں تو اس کی شکل و صورت ہی بدل گئی‘ بہت خوب صورت نکل آیا ہے۔ یہ اونچا لمبا‘ قسم سے پہچانا ہی نہ گیا۔ سچ کہوں، میرے تو دل کو بھاگیا۔ میں نے تو سبیکا کے کانوں میں بات ڈالی ہے۔ حامی بھرے تو جی جان سے بات کروں۔‘‘ پھوپو نے تو جھٹ پٹ سب کچھ طے بھی کرلیا تھا۔ رومینہ حسن کے دل کو یکبارگی کچھ ہوا۔ لیکن اس نے ’’مجھے کیا‘‘ کہہ کر اس کو تھپک دیا۔ مزید لیٹے رہنا بے کار تھا۔ وہ پائوں میں چپل اڑستی باہر نکل آئی۔ اماں پالک پھیلائے بیٹھی تھیں۔ ساتھ ہی پھوپو براجمان تھیں۔
’’السلام علیکم! پھوپو۔‘‘ اس نے سلام کرتے ہوئے کرسی گھسیٹی اور وہیں آبیٹھی۔ پھوپو کی گفتگو معلومات سے پُر تھی۔
’’وعلیکم السلام! آج پھر چھٹی کرلی؟‘‘ انہوں نے جواب دیتے ہوئے پوچھا۔
’’جی پھوپو دل نہیں چاہا۔ سبیکا کیا کر رہی ہے اور آج آپ نے کیسے ہمت کرلی؟‘‘ اس نے پالک کا پتا پکڑ کر جھاڑا اور پاس رکھی گاجر اٹھا کر دانتوں سے کترنے لگی۔ اماں نے غصے سے دیکھا۔
’’رومینہ… منہ تو دھولیا کر‘ سوکر اٹھی ہے اور ایسے ہی کھانا شروع کردیا۔‘‘
’’چھوڑیں اماں۔‘‘ اس نے بے نیازی کا مظاہرہ کیا۔
’’اور بتائیں ناں پھوپو… کیا بن کر آگیا ہے طیب… کسی ریاست کا مالک تو نہیں بن گیا بڑے ابا سے کیا بعید‘ اسے کچھ بھی بنادیں‘ دل و جان سے چاہتے ہیں اسے۔‘‘
’’ہاں ہاں۔‘‘ پھوپو وفور جذبات سے پھر شروع ہوگئیں۔
ان چھ سالوں میں اس نے کیا کیا۔ کیسے اپنی تعلیم مکمل کی اور بالآخر وہ لیکچرار کے عہدے تک پہنچ ہی گیا۔
’’پالک میں کیا ڈال رہی ہیں اماں‘ آلو مت ڈالیے گا سارا مزہ خراب ہوجاتا ہے۔‘‘ پھوپو، طیب کی مدح سرائی کرتی رہیں۔ وہ اٹھ کر ٹیرس پر آگئی۔ نیچے جھانکا‘ سبیکا اپنے روز مرہ کے کاموں میں مشغول تھی۔
’’سبیکا اور طیب…‘‘ ذہن پھر پھوپو کی باتوں میں جا الجھا۔
’’ہاں ہوسکتا ہے۔ کیا نہیں ہوسکتا۔ اتنا کچھ ہوگیا ہے تو یہ بھی سہی۔‘‘ وہ سبیکا کو غور سے دیکھنے لگی۔
سبیکا بہت خوب صورت لڑکی تھی۔ شاید کیلاشی تھی۔ نین نقش ان ہی سے ملتے تھے۔ دس بارہ سال پہلے جب وہ پندرہ سولہ سال کی تھی‘ پھوپا اس کو لے کر آئے تھے۔ کہا یہی تھا کہ وہ ان کے دوست کی بیٹی ہے۔ ایک حادثے میں دوست ہلاک ہوگیا تھا۔ ماں اس کی پیدائش کے وقت چل بسی تھی۔ اکیلی تھی اس لیے وہ لے آئے۔ پہلے پہل پھوپو سمیت سب نے یہی سمجھا کہ پھوپا کی خفیہ اولاد ہے۔ خفیہ شادی کے نتیجے میں ہونے والی لیکن کچھ عرصہ قبل جب پھوپا نے فائز کے لیے سبیکا کا نام تجویز کیا تو یہ غلط فہمی دور ہوگئی۔
فائز میاں کو اپنی کسی کولیگ سے شادی کرنا تھی اس لیے سبیکا پر ان کی نظر ہی نہ پڑی۔ پھوپو کے لیے تو یہ اطمینان ہی کافی تھا کہ وہ ان کے شوہر کی کچھ نہیں لگتی تھی۔ فائز اپنی کولیگ بیاہ لایا۔ سبیکا پہلے ہی سارے گھر کی ذمہ داری اٹھاتی تھی۔ ناز نخروں والی فریسہ کی خدمت میں بھی جت گئی۔ وہ سبیکا کی اصلیت سے آشنا تھی۔ اس لیے اکثر اس کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتی رہتی۔ جسے کوئی اہمیت نہ دیتا۔ فائز کا ہر کام سبیکا کے ذمے پہلے بھی تھا اور اب بھی۔
فریسہ نے کوئی ذمہ داری اٹھانے کی کوشش نہیں کی تھی اور اسے سبیکا بھی برداشت نہ تھی۔ پھوپو سبیکا سے بیٹیوں کی طرح محبت کرتی تھیں اور فریسہ کو بارہا سمجھا چکی تھیں کہ ایسی کوئی بات نہیں لیکن اس کی خوب صورتی اسے شک کرنے سے باز نہیں رکھ سکتی تھی۔ شادی کے چار سال ان ہی لڑائی جھگڑوں میں گزر گئے تھے۔
پھوپو اور پھوپا کو اپنے اکلوتے بیٹے کی اولاد دیکھنے کی خواہش تھی اور فریسہ کو اپنے کیریئر اور فگر کی۔ فی الحال وہ بچوں کی ذمہ داری اٹھانے کو تیار نہ تھی۔ اب تو فائز کو بھی بچے کی کمی محسوس ہونے لگی تھی۔ وہ بھی اب دبے لفظوں میں فریسہ کو مجبور کرنے لگا تھا۔ جس کی وجہ سے ان کی لڑائیاں مزید شدت اختیار کر گئی تھیں۔ بہت سوں نے سمجھایا لیکن وہ سمجھنے کو تیار ہی نہ تھی۔
’’بچہ… میاں بیوی کے تعلق کو مضبوط کرتا ہے‘ عورت کے پائوں مضبوطی سے جم جاتے ہیں‘ وہ گھر کی مالکن کا درجہ اختیار کرلیتی ہے۔‘‘ پھوپو نے ایک دن اسے سمجھانے کی ٹھان لی۔ فریسہ نے تو بدتمیزی میں پی ایچ ڈی کر رکھی تھی۔ تڑاخ سے بولی۔
’’آپ مریں گی تو کوئی اور اس گھر کی مالکن کا درجہ اختیار کرے گی۔ آپ تو جانے کون سا آب حیات پیے بیٹھی ہیں۔ جگہ خالی کرنے کو تیار ہی نہیں۔ مجھے مت دکھائیں ایسے سبز باغ۔ غضب خدا کا۔ ساری عمر اپنے شوہر پر حکمرانی کی‘ اب بیٹے پر کررہی ہیں۔ کب مریں گی کب جان…‘‘ اس کی بات منہ میں ہی رہ گئی۔ فائز نے زور سے ایک تھپڑ فریسہ کے منہ پر مارا تھا۔ وہ اس کی ماں کے بارے میں ایسے خیالات رکھتی تھی۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا اور فریسہ نے بھی کہاں سوچا تھا کہ اس کا محبت کرنے والا شوہر ماں کی محبت میں اس کے منہ پر طمانچہ دے مارے گا۔ اس نے آناً فاناً اپنا بیگ پیک کیا اور گھر سے باہر نکل گئی۔ پھوپو روکتی رہ گئیں‘ لیکن وہ انہیں بے نقط سناتی چلی گئی۔
وہ پشیمان سی اپنے کمرے میں آگئیں۔ گھر میں سناٹا چھا گیا۔ سبیکا سب سنا ان سنا کر دینے کی عادی تھی۔ اس گھر میں اس کو پناہ ملی تھی۔ ماں باپ کا پیار ملا تھا۔ وہ کوئی بھی بات دل پر نہیں لیتی تھی۔ وہ ان کے احسانات کو کسی بھی رنجش سے آلودہ نہیں ہونے دیتی تھی۔ شام کو پھوپا کو پتا چلا تو انہوں نے سختی سے کہہ دیا کہ دوبارہ فریسہ اس گھر میں تب تک قدم نہ رکھے جب تک وہ پھوپو سے معافی نہ مانگ لے اور اپنا رویہ ٹھیک نہ کرلے۔ لیکن وہ بھی فریسہ تھی‘ آنے کا نام نہ لیا۔ بلکہ فائز سے علیحدہ گھر کا مطالبہ بھی کردیا۔ جو کہ فائز نے رد کردیا۔
پھر کچھ دن بعد ہی فریسہ نے فون کرکے ماں بننے کی خوشخبری فائز کو سنائی۔ اسے یقین نہیں آیا۔ لیکن خوشی میں دوڑا چلا گیا۔ وہ واقعی ماں بننے والی تھی۔ لیکن صرف اس صورت میں وہ دوبارہ گھر آنے کے لیے تیار تھی۔ جب فائز اسے علیحدہ گھر میں رکھنے کا بندوبست کرتا۔ اس کی شرط فائز اور اس کے گھر والوں کے لیے ناقابل قبول تھی۔ مسئلہ پھر وہیں اٹک گیا۔
فریسہ نے دھمکی دی کہ اگر فائز اس کی بات نہیں مانے گا تو وہ ابارشن کرا دے گی۔ فائز ان دنوں کمپنی کی طرف سے دبئی گیا ہوا تھا۔ وہ گھبرا گیا۔ اس نے فریسہ کو یقین دہانی کروائی۔ اماں کو منایا۔ بابا کو راضی کیا کہ جیسے ہی ڈلیوری ہوجائے گی وہ دوبارہ فریسہ اور بچے کو اس گھر میں لے آئے گا اور یوں وہیں بیٹھے بیٹھے فائز نے اپنے ایک دوست کے ذریعے فریسہ کے لیے گھر کا انتظام کروایا۔ وہ وہاں شفٹ ہوگئی اور فائز بھی دبئی سے واپسی پر سیدھا اسی گھر گیا۔
فریسہ اپنی جیت پر بہت خوش تھی۔ اس نے ڈرنا سیکھا ہی نہ تھا۔ فریسہ نے فائز پر مکمل پابندی لگا دی تھی کہ وہ اپنے ماں باپ کے گھر میں قدم بھی نہیں رکھے گا۔ اپنے سسرالیوں میں سب سے زیادہ اسے سبیکا ہی سے خار تھا۔ اور وہ خوش تھی کہ اپنے شوہر کو وہ اس خوب صورت بلا سے بچاکر لے آئی تھی۔ پھوپو اور پھوپا نے خاموشی اختیار کرلی تھی۔ وقت گزرا‘ فریسہ نے ایک خوب صورت بیٹی کو جنم دیا اور ساتھ ہی ایک مطالبہ بھی پیش کردیا۔ فائز ہکا بکا رہ گیا۔ اس موقع پر یہ مطالبہ اور اب تو وہ اس کی ہر بات پر سر تسلیم خم کرنے لگا تھا۔
’’فریسہ تم مذاق کررہی ہو؟‘‘ اس نے امید وبیم کی کیفیت میں مبتلا ہوکر کاٹ میں لیٹی چند گھنٹوں کی بچی کو دیکھا‘ پھر بیوی کو جو کہ اب ماں جیسے معتبر رشتے پر فائز ہو گئی تھی‘ لیکن وہ اس رشتے کی اہمیت سے یکسر نابلد تھی۔
’’میں سیریس ہوں فائز۔ میرا دل اب اس رشتے کو مزید قبول کرنے کو تیار نہیں۔ میں اس بچے کو پیدا کرنے کے حق میں نہیں تھی لیکن تمہاری ضد اور رب کی مرضی کے آگے میں کچھ نہیں کرسکی۔ لیکن مزید میں کھلونا نہیں بنوں گی۔ تمہیں تمہاری اولاد مبارک۔ مجھے آزاد کردو…‘‘ وہ اتنی سفاکی سے یہ سب کہہ رہی تھی کہ فائز کو سکتہ ہوگیا۔
وہ کچھ بھی نہیں سوچ رہی تھی۔ نہ اپنے اور اس کے رشتے کے بارے میں نہ اس بچی سے اپنے تعلق کے بارے میں۔ کیسی ماں تھی اور کیسی عورت؟ جسے سوائے اپنے گھر کے سب کچھ عزیز تھا۔ اس نے تو یہ سب تب ہی پلان کرلیا تھا جب ہزار کوشش کے باوجود وہ اس بچے سے جان نہیں چھڑا سکی تھی‘ اسے روایتی عورت نہیں بننا تھا۔
فائز نے بچی کا سامان اٹھایا اور اسے تین بار طلاق دے کر کمرے سے باہر نکل آیا۔ وہ بھی اس فسادی ذہنیت کی مالک عورت سے اب ایک لمحہ بھی تعلق نہیں رکھنا چاہتا تھا۔ عینا کو اس نے پھوپو کی گود میں ڈال دیا اور خود ایک روایتی مرد بن گیا۔ عورت کی بے وفائی کا بدلہ ہر دوسرے شخص سے لینے والا۔ اسے اب کوئی رشتہ بھی اچھا نہیں لگتا تھا۔
ابا کی وفات کے بعد جب پھوپو نے انہیں اپنے عالیشان گھر کا اوپری حصہ عنایت کیا تھا۔ تب وہ اور معیز بہت چھوٹے تھے۔ وہ چودہ پندرہ سال کی تھی اور معیز بارہ سال کا۔ سبیکا ان سے پہلے اس گھر میں آئی تھی۔ وہ ان دونوں سے بھی پیار کرتی تھی۔ کبھی کبھی اسے سبیکا پر ترس بھی آتا اور پھوپو کی خود غرضی پر غصہ بھی۔ اپنے آرام کی خاطر وہ اس کی شادی نہیں کرتی تھیں۔ کتنے ہی اچھے رشتوں کو وہ ٹھکراچکی تھیں اور اب نظر انتخاب پڑی بھی تو کس پر…؟
سبیکا اب گیلے کپڑے الگنی پر پھیلا رہی تھی۔ وہ اسے دیکھ چکی تھی اور اب چائے کی دعوت دے رہی تھی۔ ساتھ میں مونگ پھلیوں اور چلغوزوں کا لالچ بھی دیا لیکن اب اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ وہ پیچھے ہٹ گئی۔ اماں پالک ابلنے رکھ کر گوشت بھون رہی تھیں۔ اسے پالک صرف گوشت میں ہی پسند تھا۔ ساتھ میں چپڑی روٹی۔ معیز حسب معمول ٹی وی دیکھنے کے ساتھ ساتھ چنے کی دال کا حلوہ کھانے میں مصروف تھا۔ ہمیشہ کی طرح اس نے معیز کو ٹوکا نہیں۔ خاموشی سے بیٹھ کر ٹی وی دیکھنے لگی۔
’’نصیب دشمناں…‘‘ معیز نے چمچ بھر حلوہ نگلتے ہوئے رومینہ کی طرف تشویش سے دیکھا۔ ’’میری بہن کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟ آج کوئی حد مقرر نہیں ہوئی۔ اعتراض نہیں لگا۔‘‘ رومینہ نے پلٹ کر دیکھا اور بولی۔
’’ہاں… تم کون سا باز آجائو گے اس لیے میں نے ہی توبہ کرلی ہے۔‘‘
’’بہت اچھا فیصلہ ہے بہن جی آپ کا… لیجیے اسی خوشی میں منہ میٹھا کیجیے قسم سے بہت مزے دار حلوہ ہے۔ پھوپو نے واقعی دل لگا کر بنایا ہے۔‘‘ معیز نے خوش ہوکر چمچ بھر کر اس کی طرف بڑھایا۔
’’جی نہیں شکریہ۔‘‘ اس نے انکار کیا۔ ’’ایسی ثقیل چیزوں کے لیے آپ کا معدہ بنا ہے۔‘‘ معیز بنا اصرار کیے دوبارہ کھانے میں مشغول ہوگیا۔ وہ دیکھتی رہ گئی۔ اسی وقت اماں آگئیں۔
’’معیز… اگر آج فرصت مل جائے تو حمید بھائی سے کرائے کا پتا کر آنا‘ دس تاریخ ہوگئی ہے ان کو تو شرم ہی نہیں آتی جب تک دس بار کہلوائیں دینے کا نام نہیں لیتے۔ سو ضرورتیں ہیں۔ اب بابا صاحب کے بھجوائے پیسوں سے کہاں پورا پڑتا ہے۔‘‘ وہ دوپٹے سے ہاتھ صاف کرتیں دم لینے کو وہیں بیٹھ گئیں۔
’’تو اماں آپ ان سے دکان خالی کیوں نہیں کروا لیتیں جس جگہ پر دکان ہے، پچاس ساٹھ ہزار کرایہ آسانی سے مل جائے گا اور آ پ نے گزشتہ بیس سالوں سے پندرہ ہزار پر چڑھا رکھی ہے۔‘‘ رومینہ نے سر ہلا کر دس دفعہ کی کہی بات ایک بار پھر دہرائی اور اماں کا جواب بھی وہی پرانا تھا۔
’’کیا کروں… رشتہ داری کا معاملہ ہے۔ بھائی صاحب (پھوپا) کے بہنوئی ہیں‘ زیادہ تُو تکار بھی نہیں کرسکتے۔ انہوں نے بھی تو ہمیں اپنا گھر دے رکھا ہے۔‘‘ اماں نے نظریں چراتے ہوئے جواب دیا لیکن اس طرح وہ بڑھتے اخراجات سے نظریں نہیں چراسکتی تھیں لیکن یہاں بھی بحث فضول ہی تھی۔ سو اس نے چپ سادھ لی تھی۔
ء…/…ء
طیب ہمدانی سے بچنے کے لیے اسے زیادہ تگ و دو نہیں کرنا پڑی۔ وہ خود ہی اسے نظر انداز کررہا تھا۔ (اور یہ بات اسے بہت تکلیف دے رہی تھی) پہلے دن کے علاوہ اس نے نہ تو رومینہ حسن سے بات کرنے کی کوشش کی تھی اور نہ ہی یہ جتانے کی کہ اس کا اس سے کوئی رشتہ بھی ہے۔
وہ آرام سے اس کا لیکچر سنتی‘ پوائنٹس نوٹ کرتی‘ نوٹس بناتی۔ وہ پہلے بھی اچھی اسٹوڈنٹ تھی اور اب بھی اس نے یہ روایت برقرار رکھی تھی۔ فائزہ البتہ طیب کی پرسنالٹی سے دن بدن متاثر ہوتی جارہی تھی۔ وہ بہانے بہانے سے بات بھی کرنے کی کوشش کرتی لیکن طیب ہمدانی گرلز اسٹوڈنٹ سے کم ہی بات کرتے تھے۔ ہاں بوائز کو وہ خوب آڑے ہاتھوں لیتے تھے۔
پھوپو کا بھی شاید دوبارہ ہمایوں چچا کی طرف چکر نہیں لگا تھا‘ اس لیے ان سے بھی طیب کے بارے میں کوئی تازہ خبر نہیں ملی تھی۔
شزا اور حماد کی لڑائی ہورہی تھی۔ سارا ڈپارٹمنٹ تماشا دیکھ رہا تھا اور یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ مہینہ میں دو بار تو یہ تماشا لگتا ہی تھا۔ وہ خامشی سے لائبریری میں چلی آئی کچھ اسٹوڈنٹس موجود تھے اور ساتھ میں طیب ہمدانی بھی۔
وہ پیچھے سے ہوتی ہوئی آخری میز پر جابیٹھی۔ طیب ہمدانی کی آواز یہاں بھی پہنچ رہی تھی۔ وہ سومنات کے مندر کی تاریخ بیان کررہا تھا۔ ان چند سالوں نے تو اسے واقعی بدل دیا تھا۔ وہ مکمل عبور رکھتا تھا۔ تاریخ کا کوئی واقعہ ہوتا‘ اس کا انداز اتنا فصیح و بلیغ ہوتا کہ سننے والے کو کتابیں چھاننے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی۔ وہ چند ہی دنوں میں یونیورسٹی کا ہر دلعزیز پروفیسر بن گیا تھا۔ اسٹوڈنٹس تو اس کے دیوانے ہورہے تھے‘ تمام اساتذہ بھی اسے پسند کرنے لگے تھے۔ وہ سینئرز کا احترام اور جونیئرز کی عزت کرنے میں سب سے آگے ہوتا اور ایسا وہ شروع سے تھا۔ بڑے صاحب (بابا صاحب) اسے ان ہی خوبیوں کی بنا پر بہت زیادہ پسند کرتے تھے۔ وہ کتاب کے صفحے الٹ پلٹ کرنے کے علاوہ اور کچھ نہ کرسکی۔ پورا دھیان طیب کی طرف تھا اور اسے پتا بھی نہیں چلا وہ کب اس کے سامنے آکر بیٹھ گیا تھا۔ وہ کسی غیر مرئی نقطے پر نظریں جمائے بس صفحے پلٹ رہی تھی۔
’’کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تو میں سمجھا دوں؟‘‘ طیب ہمدانی کی شرارت سے بھرپور آواز اسے حواسوں میں کھینچ لائی۔ اس نے بے ساختہ کتاب بند کردی۔
’’نہیں… میری سمجھ میں سب آجاتا ہے۔‘‘ وہ اُٹھنے کے لیے پَر تولنے لگی۔
’’اچھا…!‘‘ وہ بے اختیار ہنس دیا۔ ’’مثلاً؟ کیا کیا سمجھ آگیا ہے آپ کو؟‘‘ لہجہ ذومعنی ہوا۔
’’وہ سب جو آپ نے پڑھایا ہے سر…‘‘ اس نے سر پر خاصا زور دیا۔ وہ جان گیا تھا‘ اس لیے کچھ دیر خاموشی سے اسے تکتا رہا۔ رومینہ نروس ہونے لگی۔
’’میں چلوں۔‘‘ اس نے خود کلامی کے سے انداز میں کہا اور اپنی چیزیں سمیٹنے لگی اور طیب ہمدانی نے بے اختیار اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ رومینہ نے بجلی کی سی سرعت سے اپنا ہاتھ کھینچا۔
’’کچھ دیر رکو روم… میں تم سے باتیں کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ اس نے گمبھیر لہجے میں کہا۔ رومینہ کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا۔
’’نہیں، مجھے کچھ نہیں سننا۔‘‘ ہمیشہ کی طرح اس نے دل کی آواز پر لات ماری۔
’’آج پلیز… کچھ لمحے‘ کچھ وقت۔‘‘
’’برائے مہربانی سر… اس مقدس ادارے کا تقدس ملحوظ خاطر رکھیے۔ اپنے اور میرے رُتبے کو پامال کرنے کی کوشش نہ ہی کریں تو بہتر ہے۔‘‘ وہ سختی سے کہتی ہوئی وہاں سے اُٹھ گئی۔
طیب ہمدانی نے اس پتھر کے بُت کو دیکھا۔ وہ آج بھی اتنی ہی اکھڑ‘ ضدی اور بد دماغ تھی۔ ہمیشہ کی طرح اس کی بات سننے کو تیار نہیں تھی اور اس کے لیے کوئی جذبہ اپنے دل میں نہ رکھتی تھی اور وہ… اس نے سر جھٹکا اور اس کے پیچھے پیچھے لائبریری سے باہر نکل آیا۔ جانے یہ لڑکی اس سے کیا چاہتی تھی‘ نہ وہ پہلے سمجھ سکا تھا اور نہ ہی اب اس کی سمجھ میں آرہا تھا۔
ء…/…ء
چھت پر مکئی کے دانے بکھرے تھے۔ ذرا دور نصیبن خالہ کیریوں میں اچار کا مسالہ لگا رہی تھیں۔ ہاشم ابھی ابھی کولہو سے سرسوں کا تیل نکلوا کر لایا تھا۔ اماں بی ہمیشہ کولہو کا نکلا تازہ تیل اچار میں ڈلواتی تھیں۔ پورا سال اچار تازہ رہتا۔ ہاشم نے بوتل اماں بی کے آگے رکھی اور بتانے لگا۔
’’لیں بی بی… کھڑے ہوکر اپنے سامنے نکلوایا ہے۔ ایک پل کو نظر نہیں چوکی۔ میں نے کہہ دیا‘ اگر ہیک آئی تو واپس‘ ایک ٹکا نہیں دوں گا۔‘‘
’’ہاں پچھلی بار تو بہت ہیک والا تھا۔‘‘ اماں بی نے ڈھکن کھول کر سونگھا‘ پھر سر ہلا کر گویا ہاشم کی بات کی تصدیق کی۔ ہاشم خوش ہوکر واپس پلٹ گیا۔
نصیبن خالہ اپنا کام مکمل کرچکی تھیں اور اب اچار میں تیل مکس کرنے کے لیے انہیں کم از کم تین‘ چار دن انتظار کرنا تھا۔ جب تک کیریوں کا پانی سوکھ نہ جاتا‘ وہ اس میں تیل شامل نہیں کرتی تھیں۔ ہر سال چار‘ پانچ قسم کے مختلف اچار تیار کرنا نصیبن خالہ کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔
ہاشم نے کسی مہمان کے آنے کی اطلاع دی تو اماں بی اُٹھ کر نیچے چلی گئیں۔ نصیبن خالہ اس گھر کی پرانی خدمت گزار تھیں اور اب تو وہ گھر کے فرد کی حیثیت رکھتی تھیں۔ اس گھر کی کوئی بات ان سے ڈھکی چھپی نہ تھی اور وہ بھی جی جان سے اپنی وفاداری نبھاتی تھیں۔ انہوں نے ہاشم کو بلا بھیجا تاکہ وہ مرتبانوں کو اندر رکھوا دے۔ صبح دھوپ نکلتے ہی پھر نکلوانا تھا۔ ہاشم آیا تو کچھ بڑبڑا رہا تھا۔
’’کیا ہوا؟ ہر وقت بڑبڑ نہ کیا کر۔‘‘ خالہ نے مرتبانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہاشم کو ٹوکا۔
’’خالہ… وقار بھائی اپنی دلہن لے آئے ہیں‘ وہ بھی دو بچوں والی۔‘‘ ہاشم نے راز داری سے بتایا۔ نصیبن خالہ جہاں تھیں‘ وہیں رُک گئیں۔ انہوں نے بے یقینی سے ہاشم کو دیکھا۔
’’کیا کہہ رہے ہو ہاشم…؟‘‘ وہ ہول کر بولیں۔
’’سچ کہہ رہا ہوں خالہ۔ آپ چل کر دیکھ لیں۔ بی بی چپ ہیں اور بڑے بابا صاحب خوب گرج برس رہے ہیں۔‘‘ ہاشم نے آخری مرتبان اندر پہنچایا۔ مکئی کے دانے اکٹھے کرکے ان پر ترپال ڈالی اور خالہ کی طرف دیکھنے لگا۔
’’یہ کیا کیا وقار میاں نے؟‘‘ وہ سچ مچ پریشان ہوگئیں۔ مرے قدموں سے نیچے آئیں۔ نیچے تماشا جاری تھا۔ بڑے صاحب بہت ہی غصے میں تھے۔ وہ دبکی کھڑی رہیں۔ ذرا فاصلے پر وقار میاں اپنی دلہن اور دو بچوں کے ہمراہ خاموشی سے سب سن رہے تھے۔ بڑے صاحب نے انہیں ’’خاندانی روایات‘‘ کے مطابق عاق کرنے اور گھر سے نکل جانے کا حکم دے دیا تھا۔
’’مجھے بے گھر مت کیجیے‘ میرا اس دُنیا میں کوئی نہیں۔ سر چھپانے کا آسرا بھی نہیں۔ آپ یہیں‘ کسی کونے میں مجھے پڑا رہنے دیں۔ میرے بچے اور میں تمام عمر آپ کی خدمت کریں گے لیکن اللہ کے لیے ہمیں نکالیں مت۔‘‘ اس سے پہلے کہ وقار کچھ کہتے نئی دلہن رو رو کر التجا کرنے لگیں۔
کسی کو ان سے یہ توقع ہرگز نہ تھی۔ وہاں موجود ہر بندہ گنگ ہوگیا۔ وقار میاں اپنی دلہن کو یوں گڑگڑاتے دیکھ کر تڑپ گئے۔ انہوں نے بڑھ کر دلہن کو اُٹھانا چاہا لیکن وہ بابا صاحب کی ٹانگیں پکڑ کر التجا کررہی تھیں۔ بابا صاحب اس افتاد پر گھبرا سے گئے۔
’’ہٹو پیچھے…‘‘ انہوں نے اسے جھٹکا۔
’’جب تک آپ اجازت نہیں دیں گے‘ میں اسی طرح آپ کے قدموں میں بیٹھی رہوں گی۔‘‘ دلہن کی گرفت اور مضبوط ہوگئی۔
’’کیا مصیبت ہے؟‘‘ وہ جھنجھلا گئے۔ ’’اٹھاؤ وقار اسے یہاں سے۔‘‘ انہوں نے وقار میاں کو خونخوار نظروں سے دیکھا۔ اس وقت انہیں اپنے اس ناخلف بیٹے پر بے تحاشا غصہ آرہا تھا جو ایک راہ چلتی عورت کو اپنی بیوی بناکر گھر لے آیا تھا اور حویلی کے سارے قوانین کو توڑ کر کھونٹی پر لٹکادیا تھا۔
وقار میاں کے چہرے پر شرمندگی کے آثار نہ تھے۔ وہ اپنے فیصلے پر مطمئن تھے اور یہی بات بابا صاحب کو غصہ دلا رہی تھی۔
’’آؤ بیگم… ہم چلتے ہیں۔‘‘ انہوں نے جھک کر نیلم کا بازو پکڑا۔ ’’سمجھو اس بہت بڑی حویلی کے مالکوں کے دل بہت چھوٹے ہیں۔ تمہیں پناہ نہیں دے سکیں گے۔‘‘ نیلم کی گرفت ڈھیلی پڑی۔
انہوں نے نمناک نگاہوں سے اپنے دونوں بچوں کو دیکھا۔ پھر سامنے ساکت کھڑی اس عورت کو دیکھا جو گم صم کھڑی کبھی وقار کو تک رہی تھی تو کبھی اسے اور اس کے معصوم بچوں کو۔ وہ وقار کی گرفت سے اپنا بازو چھڑاتے ہوئے اس عورت کے قدموں میں جاگری۔
’’میں واقعی ایک بے سہارا عورت ہوں۔ رشتوں کے نام پر میرے پاس صرف یہ دو بچے ہیں۔ آپ مجھے بے شک بہو کا درجہ نہ دیں۔ میں تمام عمر نوکرانی بن کر آپ سب کی خدمت کروں گی۔ کبھی وقار پر اپنا حق نہیں جتاؤں گی‘ بس اس کا نام میرے ساتھ جڑا رہنے دیں۔ اللہ کا واسطہ ہے مجھے گھر سے مت نکالیں۔‘‘ وہ التجا کررہی تھی۔ اماں بی نے بابا صاحب کی طرف دیکھا‘ پھر وقار کی طرف۔
’’ایک شرط پر تم اس گھر میں رہ سکتی ہو۔‘‘ نیلم نے سر اُٹھایا۔
’’تم وقار سے کوئی تعلق نہیں رکھو گی۔ ہم وقار کی دوسری شادی کردیں گے۔ تمہیں اس گھر میں ایک کمرہ مل جائے گا لیکن تمہاری اور تمہارے بچوں کی حیثیت ایک ملازم کی سی ہوگی۔ کہو وقار…؟‘‘ روئے سخن بیٹے کی طرف کیا۔
’’آپ کیسی باتیں کررہے ہیں بابا صاحب۔ وہ میری منکوحہ ہے۔ آپ اس قدر ذلت والا سلوک تو نہ کریں اس کے ساتھ، بیاہ کر لایا ہوں‘ عزت دار لڑکی ہے۔ میں اسے ساتھ لے کر جارہا ہوں۔ ہم رہ لیں گے کہیں نہ کہیں۔‘‘ انہوں نے نیلم کا بازو پکڑا‘ نیلم نے فوراً اپنا بازو چھڑالیا۔
’’کہاں جائیں گے وقار؟ کون سی جگہ ہے آپ کے پاس جہاں آپ مجھے رکھیں گے۔ میں نے آپ سے شادی آپ کے گھر کے لیے کی ہے‘ ایک سائبان چاہیے مجھے۔ در در کی ٹھوکریں کھانا مجھے منظور نہیں۔ بابا صاحب مجھے آپ کا فیصلہ منظور ہے۔ یہ بچے‘ آپ کے خدمت گار ہیں‘ چوں نہیں کریں گے۔ دو وقت کی روٹی اور چھت بس۔‘‘ نیلم کی آنکھیں دریا بہا رہی تھیں۔
’’پاگل مت بنو نیلم۔‘‘ نیلم کا دماغ اس وقت کیا سوچ رہا تھا‘ وقار سمجھ نہیں پارہا تھا۔
’’مجھے میرے کمرے کا بتادیں بابا صاحب۔ مم… میرا مطلب ہے رہائش کہاں ہوگی میری؟ میں اپنا سامان رکھ آؤں۔‘‘ نیلم تو حد سے زیادہ بے تاب ہورہی تھی۔ وقار غصے سے پاؤں پٹختا باہر نکل گیا۔ نیلم جن حالات سے گزری تھی وہ جانتے تھے اور انہیں اپنانے کا فیصلہ انہوں نے بڑے حوصلے کے ساتھ کیا تھا لیکن جس طرح اس نے ایک چھت کے لیے اپنے شوہر کو بھی نظر انداز کردیا تھا وہ ان کے لیے ناقابل قبول تھا۔ وہ گھنٹوں بائیک پر شہر کی سڑکیں ناپتے رہے‘ انہیں دوسری بار عورت کے ہاتھوں شرمندگی اُٹھانا پڑی تھی۔
پہلی عورت‘ جو ماں باپ کی پسند تھی‘ اسے ان کے ساتھ رہنا منظور نہ تھا اور دوسری عورت جسے وہ خود پسند کرکے لائے تھے‘ وہ بیوی کے بجائے نوکرانی بن کے رہنے کو تیار تھی۔ جب آدھی رات کو گھر آئے تو نیلم سرونٹ کوارٹر میں منتقل ہوگئی تھی اور ان کے وہاں نہ جانے کے آرڈر آچکے تھے۔
’’اماں بی‘ یہ کیسے ممکن ہے‘ میں اپنی بیوی کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ ماں کا گھٹنا پکڑ کر بیٹھ گئے۔
’’میں بے بس ہوں۔‘‘ وہ خود بھی دل ہی دل میں نیلم کے اس رویے پر حیران تھیں۔
’’آپ سمجھائیں بابا کو… بابا صاحب نے ہمیشہ اپنے فیصلے ہم پر مسلط کیے ہیں پہلے بھی اور آج بھی‘ میرا گھر بس جانے دیں۔ وہ دُکھوں کی ماری لڑکی ہے‘ اسے میری ضرورت ہے‘ اس طرح اس پر ظلم نہ کریں۔‘‘ وہ سسک اُٹھے۔
’’اسے تمہاری نہیں‘ ایک چھت کی ضرورت ہے اور اس کا انتخاب وہ کرچکی ہے۔‘‘ انہوں نے اپنا لہجہ حتی المقدور خشک ہی رکھا۔ ’’رہی بات گھر بسانے کی تو وہ ہماری ذمہ داری ہے۔ میں نے لڑکی دیکھ لی ہے۔ جلد ہی بات طے ہوجائے گی اور اُمید کرتی ہوں کہ اب تم مزید کوئی حماقت نہیں کرو گے۔ ورنہ تمہارے بابا صاحب اس لڑکی کو گھر سے نکال دیں گے۔‘‘ ان کے لہجے میں دھمکی تھی۔
’’وہ بے وقوف لڑکی ہے۔ اسے نہیں پتا وہ کیا کرنے جارہی ہے۔ میں اسے دو وقت کی روٹی عزت سے کھلا سکتا ہوں۔‘‘
’’اسے جو چاہیے تھا اس نے لے لیا۔ اگر وہ تمہارے ساتھ مخلص ہوتی تو تمہارے ساتھ اس گھر سے چلی جاتی۔ لیکن اس نے چھت کا انتخاب کیا تمہیں سمجھ لینا چاہیے اور اسے بھلا دینا چاہیے۔ اس کی جو جگہ اور اوقات تھی وہ وہیں پہنچ گئی‘ تم بھی نئی زندگی کی ابتدا کرو۔ میں کل جارہی ہوں سلیمان بھائی کے گھر۔ کوشش کروں گی ہفتے دو ہفتے کے اندر تمہارا نکاح ہوجائے۔‘‘ بی اماں کٹھورپن کی انتہا پر تھیں۔ وقار کچھ نہیں بولے۔ خاموشی سے اُٹھ گئے تھے۔
ء…/…ء
کھانا اچھا تھا‘ بہت دن بعد ایسا کھانا نصیب ہوا تھا۔ نیلم نے پیٹ بھر کر کھایا اور بچوں کو بھی کھلایا۔ اس کے اندر اطمینان تھا۔ وہ جانتی تھی وہ جب تک ملازمہ بنی رہے گی‘ تب تک یہ چھت اس کے سر پر قائم رہے گی۔ اسے ایک چھت ہی درکار تھی۔ وہ دربدر کی ٹھوکریں کھا کھا کر تھک چکی تھی۔ بچے کھانا کھا کر لیٹ گئے تھے۔ وہ برتن رکھنے کچن کی طرف آگئی۔ گھر میں خاموشی تھی‘ سب اپنے اپنے کمروں میں دُبکے تھے۔ اس نے سارے دھونے والے برتن اکٹھے کیے اور انہیں دھونے لگی۔
’’نیلم… تم نے اچھا نہیں کیا۔‘‘ وقار کی آواز پر وہ خیالوں سے چونکی ھی مگر پلٹی نہیں تھی۔
’’آپ نے بے سائبانی کا دُکھ سہا نہیں وقار‘ میں نے جھیلا ہے اور کب سے جھیلتی آرہی ہوں۔ کبھی مالک مکان سامان اُٹھا کر باہر پھینک دیتا ہے اور کبھی کوئی عزیز‘ رشتہ دار دھکے مار کر گھر سے نکال دیتا ہے۔ عزت تو جیسے میرے ہاتھوں کی لکیروں میں ہے ہی نہیں۔ میں نے کھلے آسمان تلے سردی سے ٹھٹھرتے اور گرمی سے جھلستے رات دن بتائے ہیں وقار… اب حوصلہ نہیں رہا۔ آپ شادی کرلیں‘ اپنا گھر ماں باپ کی مرضی سے بسالیں‘ میں آپ کے نام کے ساتھ ساری عمر گزار دوں گی‘ کبھی کچھ نہیں مانگوں گی لیکن کبھی اپنا نام مجھ سے مت چھینیے گا۔ التجا سمجھ لیں۔‘‘ اس نے ہاتھ جوڑے تھے۔ وہ اس کا مسیحا تھا اور اس نے اسی کو سب سے زیادہ دکھ دیا تھا۔
’’تم بہت غلط کررہی ہو نیلم۔‘‘ وقار اس کے سامنے آکھڑے ہوئے۔ ’’یہ ذلت بھری زندگی کیوں منتخب کی تم نے جبکہ میں تمہیں عزت سے اپنے ساتھ لے جارہا تھا۔ چھت تو مل ہی جانی تھی ناں تمہیں۔‘‘
’’نہیں وقار‘ مجھے چند دنوں والی چھت نہیں چاہیے تھی۔‘‘ اس نے قدرے توقف کیا۔ مجھے پتا ہے چند دنوں بعد ماں باپ کو چھوڑ دینے کا فیصلہ آپ کے لیے احساس جرم بن جاتا اور آپ مجھے چھوڑ کر چلے جاتے۔ بس میں نے اپنے لیے یہی فیصلہ کیا ہے۔‘‘ نیلم برتن دھو کر فارغ ہوچکی تھی۔ گیلے ہاتھ دوپٹے سے پونچھتی کچن سے باہر نکل گئی۔ اس نے تمام عمر خسارے کے سودے ہی کیے تھے۔ ایک یہ ہی سودا سود مند تھا۔
میاں کے مرنے کے بعد زہرہ پر زندگی تنگ ہوگئی تھی۔ مالک مکان نے گھر سے نکال دیا تھا اور کوئی رشتے دار سر چھپانے کا آسرا دینا تو درکنار دو میٹھے بول بولنے کا روادار نہ تھا۔ گلی میں بے سرو سامانی کے عالم میں بیٹھی زہرہ کی ملاقات اپنی پرانی مالکن مسز مرزا انعم سے ہوگئی۔ جو اسے اپنے گھر لے آئیں۔ ابھی انہیں یہاں آئے زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ انہوں نے زہرہ کی بارہ سالہ بیٹی نیلم کو اسلام آباد اپنی بیٹی رابعہ کے گھر بھیج دیا تھا۔ نیلم بہت روئی چلائی‘ لیکن زہرہ بوجھ کم ہوجانے کی خوشی میں مبتلا تھی۔ نیلم اسلام آباد آگئی۔ رابعہ باجی تو اچھی تھیں‘ اس کا خیال بھی رکھتی تھیں لیکن رابعہ باجی کے شوہر اسے عجیب سے لگے۔ ہر وقت اسے عجیب نظروں سے دیکھتے رہتے‘ وہ بچی تھی‘ ناسمجھ تھی لیکن پھر بھی اسے غلط محسوس ہوتا تھا۔ اس دوران وہ چار بار رابعہ کے ساتھ ہی اپنی ماں اور بہن بھائیوں سے بھی مل آئی۔ زندگی ایک ڈگر پر چل رہی تھی کہ وہ حادثہ ہوگیا۔ رابعہ کا شوہر بالآخر اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہوگیا تھا۔
اسی شام رابعہ نے نیلم کو واپس ماں کے پاس بھیج دیا تھا۔ ماں ڈری سہمی نیلم کو دیکھ کر کچھ سمجھی اور کچھ نہیں اور جو سمجھی وہ بھی اس نے ان دیکھا کردیا۔ اس کے بعد نیلم کو چپ لگ گئی۔ رابعہ نے شاید ماں کو سب بتادیا تھا‘ تب ہی وہ کافی دن سے چپ چپ تھیں۔ ایک دن زہرہ سے کہا کہ وہ نیلم کی شادی کرکے اسے رخصت کردے۔ زہرہ سناٹے میں رہ گئی۔
’’چھوٹی بچی ہے بیگم صاحبہ۔‘‘ اس نے احتجاجاً کہا تھا۔
’’بن باپ کی بچی ہے‘ ہر کسی کی نظر میں آئے گی‘ نکاح پڑھوا کر رخصت کرو اسے۔ خود تو بے آسرا ہو ہی‘ اسے تو کوئی محفوظ سہارا دے دو۔‘‘ بیگم صاحبہ نے سمجھایا۔ وہ ٹھیک کہہ رہی تھیں۔ سو ماں کو ایک ہی مضبوط سہارا نظر آیا‘ شرفو کباڑیا‘ سو ماں نے اسے شرفو کباڑیے کے ساتھ بیاہ دیا۔ وہ میلا کچیلا شرفو‘ جس کے پاس وہ کبھی ردی بیچنے نہیں جاتی تھی‘ اسی کے پاس ماں نے ہمیشہ رہنے کے لیے بھیج دیا تھا۔
صبح دَم ہی وہ اس کھولی کو چھوڑ کر واپس آگئی تھی۔ ماں نے اسے سانجھ سویرے دروازے پر دیکھا تو ماتھا پیٹ لیا۔
’’مجھے وہاں نہیں رہنا‘ وہ بہت گندی جگہ ہے۔‘‘ اماں نے گھسیٹ کر اس کا بازو شرفو کو تھمایا اور وہ اسے گھسیٹتا رکشے میں جا گھسا۔ لیکن اب کہ اس کی منزل وہ کھولی نہیں تھی۔ وہ کسی اور ہی مکان کے سامنے جا رکا تھا۔
تیرہ سالہ نیلم عجیب وسوسوں میں گھری کبھی اس شخص کو اور کبھی اس گھر کو دیکھ رہی تھی۔ کافی دیر گھنٹی بجنے کے بعد دروازہ ایک موٹی عورت نے کھولا تھا۔ اسے لگا شرفو اس کے ساتھ کچھ غلط کرنے لگا ہے۔ وہ عورت اور اس کا حلیہ‘ وہ اتنی ناسمجھ بھی نہیں تھی۔ ایسے لوگوں کی نظروں کی پہچان ہوگئی تھی۔ اس نے گردن گھما کر دائیں بائیں دیکھا تھا‘ صرف ایک لمحہ تھا اس کے پاس اور اس نے اس لمحہ سے فائدہ اُٹھانے کا سوچا اور سوچ کو عملی جامہ پہنانے میں اس نے دیر نہیں لگائی تھی۔ وہ ایک جھٹکے سے اپنا بازو چھڑا کر بھاگی تھی۔ اس نے شرفو کو پیچھے آتا دیکھا تو گلیوں میں گھس کر بھاگتے بھاگتے تھک گئی تھی۔ شرفو نہ جانے کہاں رہ گیا تھا۔ نہیں جانتی تھی کہ اسے اب کہاں جانا تھا۔ اماں کے پاس جاتی تو اسے پھر شرفو کے حوالے کردیا جاتا اور اسے یوں لگ رہا تھا جیسے چاروں طرف بھیڑیے تھے اور اس کی طرف بڑھے چلے آرہے تھے۔ وہ جانے کب تلک چلتی رہی تھی‘ سڑکیں‘ گلیاں‘ محلے‘ خالی پیٹ‘ پیاس سے اس کے حلق میں کانٹے پڑ رہے تھے اور یہ غالباً کوئی پارک تھا‘ اُجڑا اُجڑا سا‘ ٹنڈ منڈ درخت‘ سوکھی گھاس‘ ٹوٹے پھوٹے سے بنچ اور ایک طرف کو لگے ٹوٹے جھولے اور وہیں اسے وہ جھولا نظر آیا تھا اور اس پر ایک چٹ بھی لگی تھی‘ جو اس نے پڑھ لی تھی۔ پانچ جماعتیں کام آئی تھیں۔
ء…/…ء
یہ ایک فلاحی ادارہ تھا۔ وہ سر چھپانے یہاں چلی آئی تھی۔ اس نے کچھ نہیں چھپایا تھا‘ سب سچ بتادیا تھا اور پھر اسے یہاں رہتے سات برس بیت گئے تھے۔ جب وہ اس ادارے میں آئی تھی تو جو لوگ اس کے بتائے گئے کوائف کنفرم کرنے گئے تھے‘ شرفو سے اس کی طلاق لکھوا لائے تھے۔ وہ پلٹ کر ماں کے پاس بھی نہیں گئی‘ اس کا دل ہی نہیں کیا کہ واپس جائے۔ پھر اس کی شادی ہوگئی۔ امیر ہمدانی ایک اچھا آدمی ثابت ہوا۔ کسی امیر آدمی کا منیجر تھا۔ ادارے کو ڈونیشن وغیرہ دینے آتا تھا‘ وہیں نیلم پر نظر پڑگئی۔ میڈم کو پیغام دیا‘ انہوں نے بنا پوچھے رضا مندی دے دی اور نیلم کو علم ہوا بھی تو کچھ نہیں بولی۔ وہ ساری عمر یہاں گزارنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی لیکن ایک ڈر بھی تھا کہ اگر یہ بھی شرفو جیسا ثابت ہوا تو۔
لیکن اس کے سارے ڈر‘ واہمے ہوا میں تحلیل ہوگئے۔ امیر ہمدانی واقعی بہت خیال رکھنے والا تھا اور اس نے واقعی اس کا خوب خیال رکھا۔ تنخواہ اچھی اور معقول تھی‘ گھر کرائے کا تھا لیکن اچھا سیٹ کیا ہوا تھا۔ اس کی زندگی میں سکون آنے لگا تھا۔ یکے بعد دیگرے طیب اور لبنی اس کی گود میں آئے تو وہ پچھلے غم بھول گئی۔ زندگی مکمل ہوگئی تھی اور خوب صورت بھی۔
ء…/…ء
اور اس خوب صورت زندگی میں دراڑ اس وقت پڑی‘ جب ایک روز امیر ہمدانی کی پہلی بیوی چلی آئی تھی۔
امیر ہمدانی نے اسے بتایا تھا کہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہے لیکن بیوی سے ان بن ہے اور وہ عرصہ دراز سے میکے بیٹھی ہوئی ہے لیکن ہمدانی کی دوسری شادی کا سن کر ایک روز وہ بھولی بسری بیوی ان کی چھوٹی سی جنت کو روندنے چلی آئی۔ امیر گھر پر نہیں تھا‘ وہ بچوں کے ساتھ اکیلی تھی۔ عارفہ اپنے ساتھ بدمعاش لے کر آئی تھی۔ انہوں نے اسے بچوں سمیت گھر سے باہر نکالا۔ وہ روتی تڑپتی رہ گئی لیکن قسمت سے نہ لڑ سکی تھی۔ ہر بیٹی اپنی ماں جیسی قسمت لکھوا کر لاتی ہے۔ اس کی قسمت بھی اپنی ماں سے مختلف نہ تھی۔ عارفہ نے اس سے اس کا موبائل چھین کر دیوار پر دے مارا تھا اور اسے دھمکی دی تھی آئندہ امیر ہمدانی سے کوئی تعلق نہ رکھنے کی۔
اپنے بچوں کو لے کر وہ قریبی پارک چلی گئی کہ عارفہ نے گھر کے باہر تالا لگادیا تھا۔ لوگ اب بھی ویسے کے ویسے ہی بے حس تھے۔ جیسے کہ سالوں پہلے تھے۔ وہ امیر کے لوٹنے کا انتظار کررہی تھی۔ لیکن دوپہر سے شام اور پھر شام سے رات ہوگئی‘ امیرہمدانی کا کچھ پتا نہ تھا۔ وہ خالہ الماس کی طرف آئی۔ خالہ الماس کے پاس اس کی کمیٹی تھی۔ اس نے سارا ماجرہ ان سے کہا۔
انہوں نے تسلی دی اور رات گزارنے کے لیے چھت بھی… وہ خاموشی سے اپنے بچوں کو لے کر نکل آئی۔ اگلی صبح اس کا رخ امیر ہمدانی کے آفس کی طرف تھا۔ لیکن وہاں آکر اسے ایک اور دھچکا لگا۔ امیر ہمدانی پچھلے پندرہ دن سے غیر حاضر تھا اور وہ کسی سے رابطے میں نہیں تھا۔ اب تو اسے یقین ہوگیا تھا کہ عارفہ اسے لے گئی۔ امیر ہمدانی نے اسے طلاق بھجوادی تھی اور خالہ نے اسے مزید اپنے ہاں رکنے سے معذوری ظاہر کردی تھی۔ ذہن بالکل خالی تھا۔ بے بسی‘ دُکھ‘ بچوں کی بھوک اور بیماری‘ سب نے اس کو جکڑ رکھا تھا۔
وہ سڑک پر چلی جارہی تھی‘ طیب کو گھسیٹتی اور تبھی مخالف سمت سے آتی گاڑی اس سے آن ٹکرائی۔ بے ہوش ہونے سے پہلے اس نے لبنیٰ کو اپنے ساتھ بھینچا تھا جبکہ طیب اُڑ کر دُور جاگرا تھا۔
ء…/…ء
اس نے روشن دان سے اندر آتی سورج کی کرنوں کو دیکھا اور اُٹھ کھڑی ہوئی۔ اس گھر میں یہ اس کا چونسٹھواں دن تھا اور ان چونسٹھ دنوں میں وقار احمد نے کس کس طرح اسے اذیت نہیں پہنچائی تھی لیکن ایک چھت کے لیے وہ سب کچھ چپ چاپ سہہ رہی تھی۔ اس گھر کی بہو ہوتے ہوئے بھی وہ ملازمہ بن گئی تھی۔ طیب اسکول جانے کی عمر میں تھا۔ اس نے بی جان سے بات کرکے اسے اسکول میں داخل کروا دیا تھا۔ گھر میں اور بھی بچے تھے لیکن ان دونوں بچوں کو ان کے ساتھ کھیلنے یا گھلنے ملنے کی اجازت نہ تھی۔ اگر اس روز وقار کی گاڑی سے اس کا ایکسیڈنٹ نہ ہوا ہوتا تو شاید آج اس کی زندگی میں یہ دَور نہ آتا۔ وقار کو جب نیلم کے حالات کا علم ہوا تو اس کے دل میں ہمدردی اور محبت کے جذبات ایک ساتھ پیدا ہوئے تھے۔
طیب کو بہت زیادہ چوٹیں آئی تھیں۔ وہ حد درجہ نادم تھے اور بار بار نیلم سے معافی مانگتا رہا تھا۔ انہوں نے طیب کو اچھے پرائیوٹ اسپتال میں داخل کروایا تھا۔ ڈسچارج ہونے سے چند دن پہلے وقار احمد نے اسے پروپوز کیا تو وہ ششدر سی اس کی شکل دیکھتی رہ گئی۔
’’زبردستی نہیں ہے۔ یونہی میرے دل میں ایک خواہش اُبھری تو میں نے اظہار کردیا۔ ویسے ڈسچارج ہونے کے بعد آپ کہاں جائیں گی؟‘‘ وہ پوچھ رہا تھا اور اس کا ذہن سائیں سائیں کررہا تھا۔ وہ اس سوال کا جواب دینے سے قاصر تھی۔ سو نظریں چرا گئی۔
’’پھر مس نیلم‘ آپ کو میرے پروپوزل پر غور کرنا چاہیے‘ میں آپ کو‘ آپ کے بچوں سمیت اپناؤں گا‘ گھر دوں گا‘ میری فیملی ہے‘ آپ کو مان‘ عزت سب کچھ دے گی۔‘‘ وہ جانے کس بھول میں تھا۔ اپنی مرضی سے بیاہ کر آئی لڑکیوں کو کون عزت دیتا ہے اور وہ تو یوں بھی بے نام تھی۔ نہ خاندان‘ نہ جائیداد و دولت‘ دو راتیں اس نے اپنی پچھلی زندگی کے متعلق سوچتے گزار دی تھیں۔ آگے بھی سیاہ رات ہی تھی اور وقار اسے اس سیاہ رات میں نظر آنے والا ستارہ ہی لگا۔ اس نے وقار کو رضا مندی دے دی اور یوں اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد وقار سیدھا اسے کورٹ لے گیا‘ جہاں پر دونوں ایک بندھن میں بندھ گئے۔
وہ قطعاً یہ نہیں سوچ رہی تھی کہ سسرال میں اسے ہاتھوں ہاتھ لیا جائے گا لیکن پھر بھی جب بابا صاحب نے انہیں گھر سے نکل جانے کا کہا تو اسے دربدری کے دُکھ یاد آنے لگے۔ وہ ایک بار پھر سے دربدر ہونا نہیں چاہتی تھی۔ سو اس نے ایک سودا کرلیا۔ گو اسے اس وقت خود سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ یہ فیصلہ کیوں کررہی ہے‘ بیوی کا درجہ چھوڑ کر ملازم کا درجہ کیوں لے رہی ہے لیکن سردست اسے نام سے زیادہ چھت کی ضرورت تھی‘ بھلے ملازمہ بن کر ہی ملتی تو اس نے ملازمہ بننے کو ترجیح دی اور اس کے بچے ملازمہ کے بچے کہلائے۔ وقار صاحب نے بابا جان کی پسند سے فاخرہ سے شادی کرلی تھی۔ گزرے ماہ و سال میں فاخرہ کی محبت میں ڈوب کر وقار بھول ہی گئے تھے کہ نیلم نام کی ان کی کوئی بیوی بھی ہے۔
لبنیٰ تو میٹرک سے آگے پڑھ نہ پائی لیکن طیب بہت محنتی اور لائق لڑکا تھا۔ ہر سال ٹاپ کرنے والا طیب اپنی اوقات نہیں بھولا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ بابا صاحب کی ضرورت بن چکا تھا اور انہوں نے اسے ملازم سے کچھ اوپر کا درجہ دے رکھا تھا۔ وہ دل ہی دل میں اس کی ذہانت کے معترف تھے۔ برملا اظہار نہ کرتے لیکن یہ بھی تھا کہ وہ طیب کے سواء کسی پر اعتماد بھی نہ کرتے تھے۔ بینک سے لے کر کاروبار تک وہ ہر معاملے میں اس پر بھروسہ کرنے لگے تھے۔ بی جان بوڑھی ہوگئی تھیں اور سب بچے جوان‘ لیکن بچوں کے دل میں ان کے ماں باپ نے جو فرق کا بیج شروع دن سے بویا تھا‘ وہ اب تناور درخت کی صورت اختیار کرچکا تھا۔
طیب اور لبنیٰ ان کے لیے ملازم تھے اور بس‘ بڑے بھیا کے بیٹے کی شادی کا موقع تھا۔ بڑے عرصے بعد گھر میں کوئی شادی تھی۔ بی جان کے بڑے پوتے کی۔ حویلی میں بہت رونق اُتری تھی۔ طیب ہمدانی کی مانگ میں اور اضافہ ہوگیا تھا۔ لڑکیوں کو بازار لانے لے جانے کی ذمہ داری بھی اس کو سونپ دی گئی تھی اور وہ پوری جانفشانی سے اسے نبھا رہا تھا۔ قطع نظر اس کے کہ اس کے فائنل ایگزامز شروع ہوچکے تھے۔
رات بارہ ایک بجے اس کی جان چھوٹتی تو وہ کتابیں لے کر بیٹھ جاتا اور صبح تک پڑھتا رہتا۔ دو گھنٹے کی نیند لے کر وہ پھر سے تازم دَم ہوجاتا۔ بابا صاحب کے چھوٹے موٹے کئی کام نپٹا کر وہ پیپر دینے جاتا اور واپس آکر پھر کام میں جت جاتا۔ اس روز بھی مہندی کے فنکشن کے بعد وہ کتابیں لے کر بیٹھا تھا۔ مسلسل کئی دن کے رت جگے سے اس کا سر بھاری ہو رہاتھا۔ نیلم اور لبنیٰ ابھی اندر ہی تھیں۔ اس نے سوچا وہ نیلم سے کہہ کر ایک کپ چائے بنوالے تاکہ سر درد کچھ تو کم ہو۔ وہ کنپٹیاں دباتا کچن کی طرف آگیا۔
’’لبنیٰ پلیز ایک اسٹرونگ سی چائے پلا دو میرا سر پھٹ رہا ہے درد سے۔‘‘ وہ لبنیٰ سے کہتے ہوئے وہیں کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔
’’چائے۔‘‘ کپ اس کے آگے رکھ دیا گیا تھا۔ لبنیٰ نے عقل مندی کرتے ہوئے پین کلر بھی دے دی تھی۔ اس نے ممنون ہوتے ہوئے سر اُٹھا کر سامنے دیکھا تو چائے کا گھونٹ گویا اس کے حلق میں ہی پھنس گیا۔ وہ یک دم بیٹھے سے کھڑا ہوگیا۔
’’آپ…!‘‘ اس کا سارا وجود کانپ اُٹھا تھا۔ اس نے ہاتھ میں پکڑا کپ ٹیبل پر رکھا اور جلدی سے باہر نکل گیا اور رات بھر اسے کتاب کے صفحوں پر وہ بڑی بڑی آنکھیں ہی نظر آتی رہی تھیں۔
ء…/…ء
اس نے بڑی مشکل سے بابا صاحب سے دو گھنٹے کی چھٹی لی تھی۔ پیپر دے کر وہ سیدھا ریلوے اسٹیشن پہنچا اور یہ سن کر اس کا دماغ بھک سے اُڑ گیا‘ ٹرین دو گھنٹہ لیٹ تھی۔ اس نے رسٹ واچ پر نظر ڈالی۔ ایک ایک لمحہ قیمتی تھا۔ اس نے گھر فون کرکے بابا صاحب کو اطلاع دی اور خود وہیں بیٹھ کر انتظار کرنے لگا۔ مارے کوفت کے اس کا برا حال تھا۔ اس کا شدت سے جی چاہ رہا تھا کہ کچھ دیر آنکھیں بند کرکے لیٹ جائے لیکن وہ ایسا نہ کرسکا۔ خوامخواہ ہی رات والی دو آنکھیں روشن ہوگئی تھیں۔
’’دل آرأ۔‘‘ اس نے زیرلب دہرایا۔ جو کسی کو پتا چل جائے کہ دل آرأ نے اس کے لیے چائے بنائی بلکہ یہ کہ اس نے دل آرأ سے کہہ کر چائے بنوائی تو بابا صاحب تو کھڑے کھڑے اس کی گردن کٹوا دیں لیکن دل آرأ نے اس کے لیے چائے کیوں بنائی‘ یہ معمہ لاینحل تھا۔ فرق کا جو بیج تناور درخت بن چکا تھا‘ وہاں سے ایک دَم سرخ پھولوں کی خوشبو کیوں آنے لگی تھی‘ وہ سمجھ رہا تھا مگر انجان بنے رہنا زیادہ ضروری تھا۔
آنے والے مہمان بی جان کی بہن کے بچے تھے۔ بہن تو عرصہ ہوا اللہ کو پیاری ہوگئی تھیں‘ ان کی بیٹی اور داماد اور دو بچے تھے۔ بی جان نے بصد اصرار انہیں بلوایا تھا۔ طیب نے سامان رکھتے ہوئے آنے والوں کا جائزہ لیا تھا۔ گول مٹول سا لڑکا‘ عمر شاید دس بارہ سال ہوگی اور ایک لڑکی پندرہ سولہ سال کی‘ حلیہ چھوٹے گھر کے متوسط طبقے جیسا تھا۔
احساس کمتری کی وجہ سے، ڈرے سہمے لوگ۔ بابا صاحب کے خاندان سے ذرا بھی میل نہ کھاتے تھے۔ اسے اپنی ماں اور ان دو بچوں کی ماں میں ذرا بھی فرق محسوس نہ ہوا۔ حالات کے ستائے مدقوق چہرے‘ پریشان حال۔
’’تم بڑے بھیا کے بیٹے ہو؟‘‘ عورت نے آرام سے بیٹھنے کے بعد پوچھا تھا۔
’’جی نہیں۔ میں ڈرائیور ہوں ان کا۔‘‘ اس نے ذرا سا مسکرا کر کہا تھا۔
اور نئے نئے خوابوں کے جہاں میں قدم رکھتی رومینہ کے دل کو جھٹکا سا لگا تھا۔ ڈرائیور بھی ایسے خوش شکل اور تمیزدار ہوسکتے ہیں۔ اس نے کن اکھیوں سے کئی بار بیک مرر سے جھانکتی اس کی آنکھوں کو دیکھا تھا۔ حویلی پہنچ کر گاڑی سے اُترتے ہوئے وہ جان گئی تھی کہ اپنا دل پچھلی سیٹ پر بھول آئی ہے۔ پھر شادی کے ہنگاموں میں اپنے کم قیمت ملبوسات کو چھپاتی پھرتی وہ کئی بار ڈرائیور کو دیکھنے اِدھر اُدھر منڈلاتی پھری تھی اور طیب ہمدانی اس سے لاعلم نہیں رہا تھا۔
لاعلم تو وہ ان دو نرگسی آنکھوں سے بھی نہیں تھا‘ جو ہر لمحہ اس پر نظر رکھے ہوئے تھیں اور اس کی ریڑھ کی ہڈی کو سنسنا رہی تھیں۔ وہ اس گھر سے نکلنا نہیں چاہتا تھا۔ ماں کے اندر کا خوف اس کے اندر بھی تھا۔ اسے بچپن کے دھکے یاد تھے اور اپنی ماں کی بے بسی بھی‘ اس حویلی میں ان کا آنا بھی‘ لیکن یہ سب مبہم تھا۔ وہ کیوں اور کس کے ساتھ آیا تھا‘ اسے قطعاً یاد نہیں تھا۔ بس ماں کا چھت کے لیے بلکنا یاد تھا۔
شادی کا ہنگامہ ختم ہوا مگر بی جان کے خاص مہمان گئے نہیں تھے۔ رومینہ تو لبنیٰ کے ساتھ کچن میں ہاتھ بٹانے لگی تھی کہ اسی بہانے طیب کو دیکھنے کا موقع مل جاتا تھا کیونکہ دن میں کئی بار طیب کو کچن میں آنا پڑتا تھا۔ کبھی چائے‘ شربت کے لیے یا کبھی کھانے کے لیے۔ وہ بظاہر مصروف تو لبنیٰ کے ساتھ ہوتی مگر کن اکھیوں سے طیب کو دیکھتی رہتی۔ اس عمر کی محبت میں عجیب سا سرور ہوتا ہے۔ رگ رگ میں نشہ سا بھردیتا ہے۔ سو رومینہ پہلی نظر کی پہلی محبت پر سر دُھن رہی تھی لیکن طیب ہمدانی نے اس کی محبت کو درخور اعتنا ہی نہ جانا۔ وہ اپنا کام کرنے میں کوئی کوتاہی نہ برتتا اور کسی طرف اس کا دھیان ہی نہ تھا۔
وہ رات اس گھر میں اس کی آخری رات تھی۔ چھت پر بچھی چارپائیوں میں سے سب سے آخری چارپائی پر وہ لیٹی تھی۔ وہ رات اس نے سوتے جاگتے گزاری تھی۔ کبھی طیب ہمدانی اس کی ملکیت ہوتا اور کبھی دسترس سے دُور۔ اسی آنکھ مچولی میں صبح ہوگئی تھی۔ اس نے کروٹ بدل کر دیکھا‘ ساتھ والی چار پائیوں پر اماں اور بابا لیٹے ہوئے تھے اور معیز بھی۔ وہ اُٹھی اور سیڑھیوں سے نیچے اُتر ائی اور اسی لمحے وہ بیرونی گیٹ کی جانب بڑھتا دکھائی دیا تھا۔ دل کی دھڑکن ایک لمحے کو تھمی تھی اور وہ بے خود سی اس کی سمت بڑھی تھی۔
’’طیب…‘‘ اس نے رُک کر پلٹ کر پیچھے دیکھا۔ اس کی نظر رف حلیے میں کھڑی اس مہمان لڑکی پر پڑی اور ساتھ ہی کچن کی کھڑکی سے جھانکتی ان دو آنکھوں پر۔ وہ جلدی سے دروازے کی اوٹ میں ہوگیا۔
صبح کے سات بجے حویلی کے مکینوں میں سے کوئی بھی جاگتا نہ تھا۔ اسے علی الصباح ڈیرے کا چکر لگانے نکلنا ہوتا تھا‘ اس لیے وہ اور نیلم جلدی جاگ جاتے تھے۔ رومینہ سمجھی وہ اس کے لیے رکا ہے۔ دل خوش کن ساز پر تھرکنے لگا۔ طیب نے ایک لمبی سانس کھینچ کر اسے دیکھا۔
’’جارہی ہیں آج آپ؟‘‘ اس نے خود ہی بات کا آغاز کیا۔ خود پر جمی دو ساحر آنکھیں اس کے کانوں کی لوئیں سرخ کررہی تھیں۔
رومینہ نے سر ہلایا۔ سارے لفظ گونگے ہوگئے۔ چہرے کا رنگ دل کا حال بیان کررہا تھا۔ طیب نے بڑی دلچسپی سے اسے دیکھا۔ بری نہیں تھی اور شاید اس کے دل میں کوئی جگہ بھی بنائے بیٹھی تھی۔ دونوں طرف خطرے کی گھنٹی تھی۔ اس کی چھٹی حس نے خبردار کیا۔
’’مت جائیں۔‘‘ طیب نے قدرے اونچی آواز میں کہا اور ایک نظر پیچھے کھڑکی کی طرف ڈالی، آنکھیں جھپاک سے غائب ہوگئی تھیں۔
طیب نے سکون کا سانس لیا۔ رومینہ ابھی تک اس کے الفاظ کے سحر میں اُلجھی تھی۔ ’’نہ جائیں‘ نہ جائیں!‘‘ نظر اُٹھائی تو وہ وہاں نہیں تھا اور اسی دوپہر بی جان کے سر میں تیل ڈالتے ہوئے وہ بہت لگاوٹ سے کہہ رہی تھی۔
’’یہاں بہت مزا آتا ہے نانو… ہمارے گھر میں تو زندگی بہت بور ہے۔‘‘
’’صدقے جاؤں، زہرہ سے کہو تمہیں چھوڑ جائے، کچھ دن رہو میرے پاس۔‘‘ انہیں فوراً اس پر پیار آیا تھا۔
’’امی نہیں مانیں گی۔ وہ بھی تو اکیلی ہوتی ہیں ناں۔‘‘ اب وہ ان کے کندھے دبا رہی تھی۔
’’کیسے نہیں مانے گی۔ تمہارا اسکول تو ابھی بند ہے ناں؟‘‘
’’جی پیپر دیے ہیں، ابھی رزلٹ آنے میں کچھ دیر ہے۔‘‘ وہ خوش ہوتے ہوئے بولی۔ اُمید جو بندھ گئی تھی اور پھر بی جان نے خود ہی امی کو منالیا۔ انہوں نے اسے کچھ دن بعد بھیجنے کا وعدہ کرلیا تھا۔
امی اسے سو نصیحتیں کرتی رخصت ہوگئیں۔ دل تو ان کا رضا مند نہیں تھا لیکن خالہ کو انکار بھی نہیں کرسکتی تھیں۔
محبت کتنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہوجاتی ہے۔ وہ بی جان کے کمرے میں ہی آگئی۔ گو طیب ہمدانی سارا دن کم ہی دکھائی دیتا تھا‘ پھر بھی رات کو اور صبح جاتے ہوئے وہ ایک نظر ڈال ہی لیتی تھی۔ طیب نے بھی اس دن کے بعد کوئی بات نہیں کی تھی۔ ہاں اس کی وارفتگی کے جواب میں اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ سی ضرور آجاتی تھی اور یہ اگلی دوپہر کی بات تھی جب وہ کچن میں بی جان کے لیے شربت لینے آئی تو دل آرأ نے روک لیا۔ دل آرأ بڑے ماموں کی سب سے چھوٹی بیٹی تھی۔ تھوڑی اکھڑ اور بدمزاج۔
’’تمہارا ڈرائیور سے کوئی چکر چل رہا ہے؟‘‘ چھوٹتے ہی جن الفاظ میں دل آرأ نے کہا۔ اس کے دل پر گویا آرا ہی چل گیا۔
’’نہیں تو…‘‘ اس نے نفی میں سر ہلایا۔ نظریں جھک گئی تھیں۔ وہ ہنسی۔
’’اس نے تمہیں روکا اور تم رُک بھی گئیں۔ کیا بھائی بہن کا رشتہ ہے تم دونوں کا؟‘‘ اس کا لہجہ طنز سے بھرپور تھا۔ وہ شربت بناچکی تھی اور دل آرأ کی کسی بات کا جواب اگر اس کے پاس تھا بھی تو اس نے دینا مناسب نہیں سمجھا۔ جگ اور گلاس ٹرے میں رکھ کر وہ خاموشی سے باہر نکل آئی تھی۔
وہ ابھی کمرے میں آئی ہی تھی کہ بی اماں نے بتایا‘ ابا کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے اور وہ کل سے ہاسپٹل میں ہیں۔ اس کا دل بند ہونے لگا تھا۔ وہ اپنے گھر کس طرح پہنچی‘ اسے کچھ ہوش نہیں تھا۔ تمام راستے وہ ابا کی صحت کی دعائیں مانگتی آئی تھی لیکن گھر کے باہر لگے ٹینٹ اور لوگوں کو جمع دیکھ کر وہ جان گئی‘ اس کی دعائیں قبول نہیں ہوئی تھیں۔
ء…/…ء
بی اماں‘ بڑی مامی اور ڈرائیور ساتھ آئے تھے۔ قل کے بعد واپس گئے تھے۔ گھر رفتہ رفتہ مہمانوں سے خالی ہوا تو ایک بھیانک خاموشی گھر کے درو دیوار سے چمٹ گئی۔ تینوں میں سے کوئی بھی ایک دوسرے سے بات نہ کرتا۔ موت ایک کو ساتھ لے گئی تو باقیوں پر اپنا سایہ ڈال گئی تھی۔ مشکل سے پندرہ دن گزرے ہوں گے کہ ایک دن وہ آگیا۔ اب کی بار اکیلا تھا۔ اماں کے پاس بیٹھا رہا۔ اماں پھپک پھپک کر روئیں‘ جیسے کوئی بہت ہی اپنا ہو۔ وہ بس چائے دینے آئی اور واپس چلی گئی کہ خاندان کی کچھ اور خواتین بھی آئی ہوئی تھیں۔ وہ تھوڑی دیر بیٹھا اور چلا گیا۔ اماں کے پاس ایک بہت بڑا بیگ چھوڑ گیا تھا‘ جس میں پتا نہیں کیا تھا۔
’’ارے رومینہ‘ یہ کون تھا؟‘‘ صداقت خالہ کی بیٹی فوراً اس کے پاس آئی تھی اور اس کے کچھ بولنے سے قبل ہی خود ہی بتانے لگی۔
’’بڑی حویلی سے آیا تھا ناں‘ ڈرائیور ہے ناں ان کا‘ لگتا نہیں ہے۔‘‘ وہ چپ چاپ سنتی رہی۔
’’بھائی سے بڑی دوستی ہے اس کی۔ اکثر آتا ہے ہمارے ہاں۔‘‘ رومینہ اتنی تفصیل کی وجہ نہیں جان پارہی تھی۔ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تو وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
’’ہم سب سے ہی دوستی ہے اس کی‘ گپ شپ ہوتی رہتی ہے ہماری۔ بڑے قصے ہوتے ہیں اس کے پاس۔ ابھی کچھ دن پہلے ہمارے پاس آیا تو بتانے لگا کہ بیک وقت دو لڑکیاں اس پر مرنے لگی ہیں۔ اتنی اچھی ایکٹنگ کرتا ہے‘ ہنس ہنس کر ہمارا پیٹ دکھنے لگتا ہے۔‘‘ گو وہ بہت آہستہ بات کررہی تھی‘ پھر بھی وہاں بیٹھی خواتین ان کی طرف متوجہ ہورہی تھیں اور جویریہ تو شاید ان ہی کو سنانے کے لیے شروع ہوئی تھی۔ اس کے دل کو کچھ ہونے لگا تھا۔
’’اٹھو یہاں سے۔‘‘ وہ اس کو زبردستی وہاں سے اٹھا لائی تھی۔
’’ہاں اب بولو۔‘‘ باہر لاکر اس نے جویریہ کا بازو چھوڑا۔
’’تو میں کہہ رہی تھی اس نے بتایا کہ دو دو لڑکیاں مرنے لگی ہیں اس پر‘ لیکن بہت میسنا ہے ایک کا نام بتا دیا‘ ایک کا چھپا گیا۔‘‘ اس کا دل دھک سے رہ گیا تھا۔
’’کک… کیا نام…؟‘‘ مارے گھبراہٹ کے وہ ہکلانے لگی۔
’’چھوڑو‘ تمہیں کیا لینا۔ تم تو یوں گھبرا رہی ہو جیسے…‘‘ وہ بات ادھوری چھوڑ کر معنی خیز انداز میں مسکرانے لگی۔
’’نہیں… میں تو ایسے ہی پوچھ رہی تھی۔‘‘ اس نے فوراً خود کو سنبھالا تھا۔
امی عدت میں تھیں۔ حویلی سے ہر دوسرے تیسرے دن بی جان کا فون آجاتا تھا۔ ابا جس فیکٹری میں ملازم تھے‘ وہاں سے انہیں اچھی خاصی رقم ملی تھی اور یہ گھر‘ جس کی کچھ اقساط ان کے ذمہ واجب الادا تھیں‘ کمپنی کی طرف سے وہ بھی معاف ہونے کے بعد ان کو الاٹ ہوگیا تھا مگر گزر بسر کے لیے اب ان کے پاس کچھ نہ تھا۔ گھر بھی ایسا نہیں تھا کہ ایک حصہ کرایے پر چڑھادیا جاتا۔ سنگل اسٹوری تھا‘ پر بڑا تھا۔
روزمرہ کا کھانا پینا ایسے میں پھوپو آگے بڑھیں اور انہوں نے مشورہ دیا کہ یہ والا گھر کرایے پر چڑھا دیا جائے اور وہ تینوں ان کے گھر کے اوپر والے پورشن میں آجائیں۔ یہاں سے ملنے والے کرایے سے وہ اپنا گزارہ کریں۔ مشورہ برا نہیں تھا۔ بس اماں عدت یہیں پوری کرنا چاہ رہی تھیں۔ پھوپو مان گئیں۔ انہوں نے اپنا اوپر والا پورشن مرمت کروایا اور یوں عدت پوری ہونے کے بعد وہ پھوپو کے گھر آبسے تھے۔
پھوپو جس علاقے میں رہتی تھیں‘ وہاں کچھ فاصلے پر دور پار کے سب ہی رشتے دار موجود تھے اور ان میں سے بیشتر حویلی کے نمک خواروں میں سے تھے اور یہیں آکر اسے پتا چلا کہ طیب کا ان گھروں میں خوب آنا جانا ہے۔ اماں گو ان رشتے داروں کے کبھی گھر نہیں گئی تھیں لیکن پھوپو کا ملنا ملانا تھا‘ سو اب جب بھی وہ جاتیں‘ اسے ہمراہ لے جاتیں۔ اس کا سال تو ضائع ہو ہی گیا تھا۔ وہ داخلہ نہیں لے سکی تھی۔ ایک تو نمبر کم آئے تھے‘ دوسرا اماں کی عدت کی وجہ سے۔ سو اس نے نئے سرے سے داخلے کا سوچا تھا لیکن اس کے لیے بھی اس کا دماغ آمادہ نہیں ہو پارہا تھا۔ وہ زیادہ وقت سبیکا کے ساتھ گزارتی۔ فائز بھائی بہت غصے والے معلوم ہوتے تھے اسے۔ اس لیے ان سے سوائے سلام دعا کے اور کوئی بات نہ ہوتی تھی۔ پھوپا بھی اچھی نیچر کے مالک تھے۔
اماں نے الگ سمجھایا‘ پھوپو نے الگ اور ہر سال اگلی بار کا وعدہ کرتے اس نے تین سال گزار دیے اور کالج میں ایڈمیشن نہ لیا۔ اس دوران فائز بھائی کی شادی اور طلاق بھی ہوئی۔ سبیکا بھی شادی کے قابل ہوگئی لیکن اس کے ساتھ وہ ہوا جو اس نے سوچا بھی نہیں تھا۔ حویلی سے جب طیب ہمدانی آتا تو ان کے گھر بھی چکر لگاتا کہ بی جان اپنی بھانجی کو نہیں بھولتی تھیں۔ کبھی رقم‘ کبھی کپڑے‘ کبھی اناج وہ پہنچا ہی دیا کرتیں۔ ایسے میں وہ اگر کھلم کھلا طیب سے بات نہ کرسکتی تو اسے دیکھ لیتی۔ مسکراہٹوں کا تبادلہ بھی ہوجاتا اور بس یہی کافی ہوتا‘ اس کے لیے‘ طیب کا کوئی ایک آدھ معنی خیز جملہ دنوں اسے سرشار رکھتا۔
ان ہی دنوں جب خاندان میں ایک شادی تھی اور سب لوگ وہاں اکٹھے تھے‘ حویلی سے بھی لوگ آئے تھے۔ بی جان خاص ملازم اور بڑی دونوں بہوؤں کے ساتھ شرکت کے لیے پہنچی تھیں۔ مہندی کا فنکشن اختتام کو پہنچا تو بی جان باقی سب کے ساتھ تایا احمد کے گھر چلی گئیں۔ ان کے ٹھہرنے کا انتظام ادھر ہی تھا۔ اماں نے اصرار کیا کہ وہ ان کے ہاں چل کر رہیں مگر انہوں نے سہولت سے منع کردیا تھا۔ خاص ملازم البتہ لڑکوں کے ساتھ ادھر ہی ٹھہر گیا تھا اور وہ اس خاص ملازم کو اپنی جھلک دکھلانے کو بے چین تھی۔ لیکن وہ اندر آیا ہی نہ تھا۔ چھپتے چھپاتے وہ باہر آگئی تھی کہ قناتوں میں سے لڑکوں کے ہنسنے کی آوازیں آرہی تھیں‘ وہ ایک طرف سے جھری سے لگ کر کھڑی ہوگئی۔ سب گھر کے ہی لڑکے تھے اور انہی میں وہ خاص ملازم بھی تھا۔ سامنے رکھی کرسی پر ٹانگیں پسارے قل قل کرتا۔ وہ اپنے آپ میں مگن اس پر نظریں ٹکائے کھڑی تھی۔ اچانک زور دار قہقہے سے چونکی۔
’’ارے مجھ پر بھی مرتی ہیں دو لڑکیاں اکٹھی۔‘‘ ملازم بولا تھا۔ اس کا رواں رواں سماعت ہوگیا۔ ’’ایک تو…‘‘ وہ بولتے بولتے چپ ہوا۔ ’’دوسری اپنے برابر کی ہے بلکہ کچھ پتا نہیں، ادھر ہی کہیں چھپ چھپ کر دیکھ رہی ہو مجھے۔‘‘
’’تُو ناں… قسم سے بہت چھوڑتا ہے۔‘‘ سب کے قہقہے بلند ہوئے تھے۔
اور رومینہ کو لگا تھا کسی نے کیچڑ اُٹھا کر اس کے چہرے پر مل دی ہو اور وہ یک لخت سب کی نظروں کا مرکز بن گئی ہو۔ وہ ٹوٹے دل سے واپس چلی آئی تھی۔
اگلے دن اس نے شادی پر جانے سے انکار کردیا تھا۔ اماں نے بڑی کوشش کی۔ اصل میں ہر ماں کی طرح ان کے اندر بھی یہ خواہش دبی تھی کہ کوئی ان کی بیٹی کو پسند کرے‘ اس لیے وہ فنکشنز میں ضرور رومی کو ساتھ رکھتی تھیں۔ لیکن رومینہ کے دل پر تو بوجھ آپڑا تھا۔ وہ جی بھر کے رونا چاہتی تھی۔ اماں‘ پھوپو اور سبیکا کے ساتھ چلی گئیں۔ معیز بھی ہمراہ تھا۔ وہ تنہا رہ گئی تھی۔ اس نے اسے سرعام موضوع بنایا تھا۔ اس کی محبت کو مذاق سمجھتا تھا۔ تھا ناں ڈرائیور‘ محبت کو سڑکوں پر رول دینے والا۔ وہ وہیں گھٹنوں میں سر دیئے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
گیٹ زور زور سے بج رہا تھا۔ ساتھ ساتھ دروازے کی گھنٹی بھی بج رہی تھی۔ اس نے آنسو پونچھے‘ سر پر دوپٹا اوڑھا۔ پھوپو‘ فائز کے آنے کا کہہ گئی تھیں۔ بنا پوچھے گیٹ کھول دیا اور بنا دیکھے مڑگئی۔
’’واہ… اور جو کوئی پیچھے سے آکر تمہیں دبوچ لے تو؟‘‘ کوئی اس کے بے حد قریب آکر بولا تو وہ دہل کر پیچھے ہٹی تھی اور اسے یہاں دیکھ کر گویا اس کا دل بند ہونے والا ہوگیا تھا۔
’’ساری شادی بے رونق سی لگ رہی تھی۔ میں تمہیں لینے چلا آیا۔‘‘ اس نے کہا تھا۔ اس نے چند لمحوں میں خود کو سمیٹ لیا تھا۔
’’کیوں‘ رونق یا بے رونقی کا مجھ سے کیا تعلق؟‘‘ بہت مضبوطی سے اس نے پوچھا تھا۔
’’تو پھر کس سے ہوگا‘ آنے سے اس کے آئے بہار‘ جانے سے اس کے جائے بہار… بڑی مستانی ہے میری محبوبہ…‘‘ وہ گانے لگا تھا۔
’’اس دوسری کا نام سب کو بتاؤ اور مزے لو۔ آئندہ میرا نام مت لینا۔ مجھے تم میں کوئی انٹرسٹ نہیں۔ ڈرائیو ہو یا ملازم‘ جو بھی…‘‘ وہ اطمینان سے کہتی سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی تھی اور وہ حیران سا اسے دیکھ رہا تھا۔ اسے توقع ہی نہیں تھی کہ وہ اس طرح پیش آئے گی۔
’’اور ہاں…‘‘ جاتے جاتے اس نے مڑ کر دیکھا تھا۔
’’گیٹ اچھی طرح بند کر جانا۔ اچھی طرح۔‘‘ اس نے ’’اچھی طرح‘‘ پر خاص زور دیا اور سیڑھیاں چڑھ گئی۔ وہ تب تک کھڑا رہا‘ جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہوئی۔ گیٹ اس نے اچھی طرح ہی بند کیا تھا‘ پھر بھی اس کی ایک جھری بیچ میں رہ ہی گئی تھی۔
ء…/…ء
فائز اونچا اونچا بول رہا تھا۔ جانے اسے کیا ہوگیا تھا۔ ہر وقت غصے میں ہی رہتا تھا۔ پھوپو بے چاری الگ پریشان۔ سہمی ہوئی عینا البتہ اب سمجھدار ہونے لگی تھی تو باپ کے رویے کی بنا پر پاس بھی نہیں پھٹکتی تھی۔ سارا دن وہ دادی اور سبیکا کے ساتھ رہتی اور رات کو دادا سے لاڈ اٹھواتی۔ وہ ان دنوں فرسٹ سیمسٹر کی تیاری کررہی تھی‘ جب آمنہ کی امی اپنے بھائی کا رشتہ لے کر چلی آئی تھیں۔
اسے آمنہ پر بے پناہ غصہ آیا۔ جب اس نے منع کردیا تھا تو پھر کیوں آئیں۔ رومینہ کی امی نے آمنہ کی امی سے سوچنے کے لیے وقت مانگ لیا تھا۔ رشتہ اچھا تھا۔ اکیلا‘ کھاتا پیتا لڑکا (مرد) تھا۔ سارے پلس پوائنٹس‘ نہ سسرال کا جھنجھٹ‘ اپنا گھر‘ گاڑی‘ امی تو ننانوے فیصد اس رشتے پر راضی ہو ہی چلی تھیں‘ جب پھوپو نے ٹانگ اڑائی۔
’’تم اس کی دولت پر مر مٹی ہو‘ لوگ کیا کہیں گے کہ رومینہ کا آنا جانا تھا‘ خود ہی پسند کرلیا‘ بن باپ کی بچی ہے‘ سوچ سمجھ کر چلنا۔‘‘ امی کی سوچوں کو بریک لگی‘ لیکن وہ دل میں پھوپو کی باتوں سے متفق نہیں تھیں۔ ایک ایسی بات کو بنیا دبنا کر رشتہ مسترد نہیں کیا جاسکتا تھا۔ حالانکہ ایک مسئلہ اس کی عُمر بھی تھی۔ پورے دس سال بڑا تھا وہ لیکن امی کا اس مقولے پر جی جان سے اعتقاد تھا کہ مرد کی عمر نہیں دیکھی جاتی اور یہی جواب جب انہوں نے پھوپو کو دیا تو جو کچھ انہوں نے کہا‘ امی کی تو بولتی ہی بند ہوگئی تھی۔ رومینہ نے سنا تو اچھل پڑی۔
’’یہ کہا پھوپو نے…؟‘‘ وہ تن فن کرتی پھوپو کے پاس جاپہنچی۔ امی روکتی رہ گئیں۔
’’آپ نے سوچا بھی کیسے پھوپو یہ؟‘‘ اس نے کڑے تیوروں سے پوچھا۔ پھوپو کو امید نہیں تھی اتنی ’’خود سری‘‘ کی۔ وہ اس کا منہ دیکھتی رہ گئیں۔
’’بتائیں ناں مجھے‘ آپ کے ذہن میں یہ بات ڈالی کس نے ہے؟‘‘ اس کی آواز بلند ہوئی‘ سبیکا کچن کے دروازے میں ہکابکا کھڑی تھی۔
’’جس نے بھی ڈالی ہو‘ برائی کیا ہے؟‘‘ فائز نے پیچھے سے آکر کہا تو وہ تلملا کر مڑی۔
اسے یہ ساری خرافات پھوپو کے دماغ کی پیداوار لگی تھیں لیکن فائز کو یوں بولتے دیکھ کر سراسر اس کا منصوبہ لگا۔ وہ حیران ہوئی۔
’’فائز بھائی… آپ جانتے ہیں آپ نے کیا کہا ہے؟‘‘ اسے یقین نہیں آیا‘ فائز نے کندھے پر پڑا تولیہ ہاتھ میں پکڑا۔
’’ہاں‘ سو فیصد پروپوز کیا ہے تمہیں اور میں اس میں کوئی برائی نہیں سمجھتا۔‘‘ وہ اس کے تلملاتے چہرے پر نظریں گاڑے کھڑا تھا اور اس ڈھٹائی کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
کچن میں کچھ ٹوٹا تھا۔ شاید سبیکا کا دل‘ کرچیاں دُور دُور بکھری تھیں۔ رومینہ بھاگ کر کچن میں آئی لیکن وہ وہاں نہیں تھی۔ اس نے خونخوار نظروں سے فائز کو دیکھا تھا۔
پھوپو پھر سے سبزی کاٹنے میں مصروف ہوگئی تھیں۔ وہ دھپ دھپ کرتی اوپر چڑھ آئی۔ دونوں رشتوں نے اس کا دماغ منتشر کردیا تھا اور وہ ساری رات ٹھیک سے سو نہیں سکی تھی۔ اس کا یونیورسٹی جانے کا موڈ نہیں تھا لیکن اسائنمنٹ جمع کروانے کے لیے اسے جانا ہی تھا۔ اسے تیار ہوتے دیکھ کر امی ناشتہ بنانے لگیں تو اس نے منع کردیا۔ چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے اس نے امی کی طرف دیکھا۔ وہ اس پر نظریں جمائے ہوئے تھیں۔ اس نے چائے کا خالی کپ رکھا اور ان کی طرف دیکھے بغیر خاموشی سے سیڑھیاں اُتر گئی۔
اسائنمنٹ جمع کروا کر نکلی تو فروا نظر آگئی۔ دونوں کینٹین میں آگئیں اور جب وہ سموسے اور جوس لے کر آئی تو علینہ کے ساتھ طیب بھی تھا۔
’’ارے تم نے بتایا نہیں‘ سر طیب تمہارے کزن ہیں؟‘‘ وہ بہت پُرجوش ہورہی تھی۔
’’اچھا…!‘‘ اس نے ٹرے ٹیبل پر رکھی اور ایک نظر طیب پر ڈال کر ہنس کر بولی۔
’’مجھے بھی ابھی ابھی پتا چلا ہے کہ یہ میرے کزن ہیں‘ بائی دا وے تمہیں کس نے بتایا؟‘‘
’’رومی…‘‘ علینہ نے تنبیہی نظروں سے اسے گھورا جبکہ طیب نہایت اطمینان سے ہتھیلی پر چہرہ ٹکائے اسے دیکھ رہا تھا۔
’’اچھا سنو‘ تمہیں بریکنگ نیوز تو دی نہیں میں نے۔‘‘ وہ جوس کا گھونٹ بھرتی ہوئے بولی۔ وہ طیب کو مکمل اگنور کررہی تھی جبکہ علینہ اس وقت سر کے سامنے بڑی مہذب بنی بیٹھی تھی۔
’’فائز بھائی نے مجھے پروپوز کیا ہے اور ساتھ میں آمنہ کے ماموں نے بھی‘ میں تو حیران ہی رہ گئی‘ فائز بھائی کو کیا ہوا؟‘‘ اب وہ ہنس ہنس کر بتا رہی تھی۔ طیب اس کو گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا جبکہ علینہ کے لیے یہ واقعی بریکنگ نیوز ہی تھی۔
’’ارے واہ… پھر تم نے کیا کہا؟‘‘ اس نے دلچسپی سے پوچھا۔
’’میں نے کیا کہنا تھا۔‘‘ اس نے سموسے کو دانتوں سے کاٹتے ہوئے بے نیازی دکھائی۔ ’’امی جو کریں گی‘ بیسٹ ہی کریں گی اور ویسے بھی میرا کون سا کسی کے ساتھ چکر چل رہا ہے جو میں انکار کروں گی۔‘‘ سموسوں میں آج بہت تیز مرچیں تھیں۔ اس کی آنکھوں میں پانی آگیا۔ طیب تب سے اب تک ایک لفظ نہیں بولا تھا۔ خاموشی سے بیٹھا تھا علینہ نے پلیٹ اس کے آگے کی۔
’’سر لیں ناں آپ بھی؟‘‘ اخلاقیات بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔
’’نو تھینکس۔‘‘ اس نے سر ہلا کر انکار کیا۔
’’اور مس رومینہ حسن‘ اس لسٹ میں ایک اور نام کا اضافہ بھی کرلیجیے… طیب ہمدانی۔‘‘ وہ کہہ کر رکا نہیں اٹھا اور چل دیا۔ رومینہ اور علینہ دونوں ساکت رہ گئیں۔ یہ وہ کیا کہہ گیا تھا۔ رومینہ کو غصہ آنے لگا۔ یہ ذرا بھی نہیں بدلا۔ اسی طرح لوگوں میں سر عام اپنے احساسات بیان کرنے والا۔
’’رومی‘ بات یہاں تک پہنچ چکی؟‘‘ علینہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔ ’’آج تو شاکس پہ شاکس لگ رہے ہیں۔‘‘
’’تم پلیز اپنا منہ بند رکھنا‘ ان مردوں کی عادت ہوتی ہے ہر جگہ اپنی محبت کا بگل بجانے کی۔ ایسا کچھ نہیں۔‘‘ رومینہ نے اسے منع کیا اور جواباً اس نے صرف آنکھیں ہی گھمائی تھیں۔
ء…/…ء
نیلم کی ہٹ دھرمی کا انہیں آج بھی دُکھ تھا۔ وہ ان کی چاہت تھی‘ بہت ارمانوں سے بیاہ کر لائے تھے اسے اور اس نے ایک چھت کے لیے انہیں دھتکار دیا تھا۔ اس نے ان کی مردانگی کو ٹھیس پہنچائی تھی۔ ان کے زوربازو پر بھروسہ نہیں کیا تھا۔ وہ اسے ایک چھت بھی دے سکتے تھے اور ایک اچھی زندگی بھی۔ وہ ایک بار بھروسہ تو کرتی لیکن اس کے اندر کے خوف نے اسے ان سے دُور کردیا تھا اور جواباً انہوں نے اسے زچ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔
فاخرہ سے نکاح اور جھوٹی محبت کے مظاہرے نباہتے آج کتنے برس بیت گئے تھے۔ نہ اس نے دوبارہ ان کی طرف دیکھا اور نہ حرفِ شکایت زبان پر لائی تھی۔ جو عہد اس نے بابا صاحب سے کیا تھا‘ تمام عمر نبھایا تھا۔ بابا صاحب اب نہ رہے تھے‘ پھر بھی اس نے سر نہیں اٹھایا تھا۔ سر جھکائے جوانی بتادی تھی اور وہ بھی ایسے کٹھور بنے تھے کہ دوبارہ پلٹ کر اس کی طرف دیکھا ہی نہ تھا اور حویلی میں بھی اب ایسا کوئی بندہ رہ نہیں گیا تھا جو ان کے نیلم سے ملنے پر اعتراض کرتا‘ لیکن پھر بھی انہوں نے کبھی نیلم کی طرف توجہ نہیں دی تھی۔ وہ اس سے بھرپور بدلہ لے رہے تھے اور شاید حویلی کے باقی لوگوں کی یادداشت سے بھی نیلم اور وقار کا رشتہ محو ہوگیا تھا۔ وہ ایک کاغذی رشتہ کہیں کاغذوں میں ہی پڑا رہ گیا تھا اور وہ جو نیلم کو سکھ دینے کا سوچ کر اپنا کر اس حویلی میں لائے تھے‘ پلٹ کر دیکھا ہی نہیں تھاکہ اس نے کن کانٹوں پر چلتے چلتے زندگی گزار دی ہے۔
’’کیا دیکھ رہے ہیں وقار؟‘‘ فاخرہ جانے کب ان کے پیچھے آکھڑی ہوئی تھی۔
’’زندگی کیسے مٹتی ہے… دیکھ رہا ہوں۔‘‘ وہ ہولے سے بڑبڑائے۔ نیلم ایک دَم ہی اُٹھ کر اندر چلی گئی تھی۔ فاخرہ نے وقار کے کھوئے ہوئے لہجے پر ان کی نظروں کے تعاقب میں باہر جھانکا۔ چمکتی دھوپ کے سوا وہاں کچھ نہیں تھا۔ وقار پلٹ آئے۔ فاخرہ سے ان کی اچھی نبھ گئی تھی۔ ان کے مزاج میں تجسس نہیں تھا۔ سو کیا‘ کیوں اور کیسے کے چکروں میں کبھی پڑی ہی نہیں تھیں۔
’’نیلم‘ لبنیٰ کی شادی کرنا چاہ رہی ہے۔‘‘ فاخرہ نے بیڈ کے کنارے پر ٹکتے ہوئے کہا۔ ایزی چیئر پر دراز وقار نے ایک دَم سے آنکھیں کھول کر بیوی کو دیکھا۔ وہ اپنے دھیان میں کہہ رہی تھیں۔
’’بی جان نے سب سے کہا ہے کہ لبنیٰ کے لیے کوئی مناسب رشتہ تلاش کیا جائے تاکہ وہ جلداز جلد اپنے فرض سے فارغ ہوسکے۔‘‘
’’اور طیب… طیب کی شادی نہیں کرے گی وہ؟‘‘ بے ارادہ ہی ان کی زبان سے پھسلا۔
’’کرے گی پر… لبنیٰ لڑکی ہے تو ظاہر ہے، پہلے اسی کا سوچے گی‘ چائے پئیں گے آپ؟ لبنیٰ سے کہہ دوں؟‘‘ فاخرہ نے اُٹھتے ہوئے پوچھا۔ وقار نے اثبات میں سر ہلایا اور اس سے پہلے کہ وہ باہر نکلتی‘ دروازے پر دستک ہوئی۔
’’آجاؤ لبنیٰ… میں ابھی تمہارے پاس ہی آرہی تھی۔‘‘ فاخرہ نے وہیں سے آواز لگائی۔ چند ساعت کے وقفے سے نیلم ٹرے تھامے اندر داخل ہوئی۔
’’لبنیٰ کی طبیعت ٹھیک نہیں بیگم صاحبہ‘ اس لیے چائے میں لے آئی۔‘‘ نیلم نے ٹرے تپائی پر رکھی اور جانے لگی کہ نظر سامنے ایزی چیئر پر جا ٹھہری۔ وہ بے خبر تھی کہ وقار کمرے میں موجود تھے۔ ٹرے میں چائے کا ایک ہی کپ تھا‘ فاخرہ کے لیے۔ وقار نے نیلم کو دیکھا‘ بڑے دنوں بعد اس نظر سے‘ جس پر برسوں پہلے پابندی لگ گئی تھی۔
’’مجھے پتا نہیں تھا صاحب جی بھی ہیں‘ میں ابھی اور چائے لاتی ہوں۔‘‘ وہ دوپٹے سے ہاتھ پونچھتی تیزی سے باہر نکل گئی۔ آنکھوں کی نمی وقار سے چھپی نہیں رہی تھی۔
ء…/…ء
’’وہ تمہارا باپ ہے طیب۔‘‘ نیلم کے لہجے میں صدیوں کی تھکن تھی۔
’’وہ باپ جس نے ہمیں سڑک پر رُلنے کے لیے چھوڑ دیا تھا؟‘‘ وہ زہرخند ہوا۔
’’حقیقت سے فرار ممکن نہیں۔ یہ رشتہ کبھی نہیں ٹوٹتا۔‘‘
’’اور آپ کا اور ان کا رشتہ؟‘‘ و ہ تڑخ کر گویا ہوا۔ ’’جس رشتے کی وجہ سے اولاد کا مضبوط رشتہ وجود میں آتا ہے‘ وہ رشتہ خود اتنا کمزور کیوں امی کہ ایک جھٹکے سے ٹوٹ جائے۔‘‘ نیلم چپ رہی۔ اس کے پاس کہنے کو بہت کچھ تھا لیکن وہ ہمت کھوچکی تھی۔ حالات کے تھپیڑوں نے اس کی ساری حسیات منجمد کردی تھیں۔ اسے اب کچھ محسوس ہوتا ہی نہ تھا۔
’’میں نہیں جانتا امی کہ اس حویلی میں ہم کیسے پہنچے لیکن اس حویلی سے پہلے کی زندگی کی جھلک میری یادداشت میں اب بھی محفوظ ہے۔ وہ رات جو ہم نے سڑک پر گزاری‘ وہ دھکے جو ہم نے کھائے‘ کیا امیر ہمدانی اتنے سالوں کے دُکھوں کا مداوا کرسکتا ہے؟ اب تو ہم اپنے پیروں پر کھڑے ہوچکے۔ ایک امیر باپ کے ہوتے ہوئے میں نے اور میری بہن نے نوکروں والی زندگی گزار دی۔ ماتھے پر لگا ڈرائیور کا یہ ٹھپہ‘ نیلم کام والی آپا‘ لبنیٰ خادمہ… بابا صاحب کی نظروں کی تحقیر‘ ہم بچا کھچا کھانے والے… کسی امیر باپ کے خاندان میں سروائیو کیسے کرپائیں گے؟ دھتکارے ہوئے لوگ جھونپڑیوں میں ہی اچھے لگتے ہیں میری ماں۔ آج امیر ہمدانی کو میری یاد آگئی۔ اتنے برس کہاں تھا وہ؟ اور آپ کیوں فیور کررہی ہیں اس کی؟ جو شخص اپنی بیوی بچوں کی حفاظت نہ کرسکے‘ اسے کوئی حق نہیں شادی کرنے کا۔ اولاد کو دُنیا میں لانے کا۔‘‘ نیلم چپ چاپ اس آگ بگولہ لڑکے کو دیکھتی رہی۔ اس کی ساری باتیں سچ تھیں لیکن ابھی وہ مصلحت آشنا نہیں تھا۔
وہ چاہتی تھی کہ قسمت اگر اسے اس زندگی سے نکلنے کا موقع دے رہی ہے تو اسے گنوانا نہیںچاہیے ۔ باپ کے پاس چلے جانا چاہیے۔ دیر سے سہی‘ اس کے دل میں اولاد کی محبت جاگی تو تھی۔
’’اور انہیں میرے کالج کا ایڈریس کس نے دیا؟ وہاں پہنچ گئے دندناتے ہوئے اور یوں پیار جتا رہے تھے جیسے ہم کبھی جدا ہوئے ہی نہ ہوں۔‘‘ وہ کلس رہا تھا۔ اسے امیر ہمدانی کا اپنی زندگی میں لوٹ کر آنا اچھا نہیں لگا تھا۔ نیلم خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔
’’چلو بس کردو۔ ہاتھ منہ دھولو‘ میں کھانا گرم کرکے لاتی ہوں بلکہ لبنیٰ آتی ہی ہوگی لے کر۔ چلو شاباش‘ غصہ نہ کرو۔‘‘ نیلم نے اسے پچکارا۔ وہ باہر نکل گیا۔
نیلم آج پھر اُدھڑے زخموں کو سینے کی کوشش میں تھی۔ امیر ہمدانی کا لوٹ آنا اتنا حیران کن نہیں تھا‘ جتنا اپنے دل کا بے سکون ہونا۔ جانے کیوں برسوں پہلے کا جمود ٹوٹنے لگا تھا۔ ایک حسرت‘ ایک پچھتاوا دروازہ کھول کر اندر گھس آیا تھا۔
ہم کہ اِک عمر رہے
جس سے گریزاں‘ وہ دل!
آج چونکا ہے تو اِک شور مچا رکھا ہے
نہ سہی وعدہ وصل‘ ہجر کا صحرا ہی سہی!
ہاں مگر
اِک نظر دیدۂ تر کافی ہے
کہ میں ہوں پیاس کا دریا کوئی
اور تُو ہے وہی
ابرِ نیساں جاناں!
اس نے سر جھکائے عمر بتادی تھی۔ اسے اپنے فیصلے پر کوئی ندامت بھی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ وہ اپنی اوقات میں رہی۔ اس نے سہاگ کی قربانی دے کر بچوں کے سر کی چھت بچالی تھی۔ بابا صاحب سے کیا گیا وعدہ اس نے کبھی توڑنے کی کوشش ہی نہیں کی تھی۔ وہ جانتی تھی اس کے پاس سر چھپانے کو کوئی دوسرا ٹھکانہ نہیں۔ اسے اپنی عمر یونہی سر جھکائے بتانا تھی اور وہ بتا رہی تھی مگر امیر ہمدانی کے بچوں کی واپسی کے مطالبے نے اسے یک دَم تہی دست ہونے کا احساس اس قدر شدت سے دلایا تھا کہ برسوں پرانے آبلے پھوٹ پڑے تھے اور وہ درد کی شدت سے بے حال ہونے لگی تھی۔
ء…/…ء
سبیکا نے کئی سال ایک پتھر سے محبت کرتے گزار دیے تھے اور اس کی ہلکی سی آنچ بھی اس تک نہیں پہنچی تھی۔ اس پتھر نے کبھی کوشش ہی نہیں کی تھی کہ اس کی محبت کو سمجھے‘ اس کی طرف دیکھے بلکہ وہ تو کسی کی طرف دیکھتا ہی نہیں تھا سوائے اپنے آپ کے۔ اسے تو اپنی بیٹی سے بھی محبت نہیں تھی۔ نرگسیت کا شکار وہ پتھر دل انسان اس کے سینے میں دل کی طرح دھڑکتا تھا۔ اس کی ہر بے اعتنائی کو وہ ہنس کر جھیلتی تھی اور ہر نماز میں اس پتھر کے موم ہونے کی دعا کرتی تھی لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا تھا‘ وہ ایک سخت اور تکلیف دینے والا بنتا جارہا تھا۔ اس نے کبھی اس کے لیے برا نہیں سوچا تھا۔ جب اس نے اپنی مرضی سے شادی کی‘ دونوں کی نہ بنی‘ علیحدگی ہوگئی پھر بھی سبیکا کی آنکھیں اس کے دُکھ پر اشکبار ہوئیں۔ اس نے ہمیشہ اس کے سکون کے لیے دعائیں مانگیں‘ اس کے سارے کام پہلے بھی اس کے ذمے تھے‘ اب بھی لیکن اس پتھر نے کبھی اسے درخور اعتنا نہ جانا تھا بلکہ اس پر اگر کبھی نادانستگی میں نظر پڑجاتی تو چلانے لگتا۔ وہ کوشش کرتی اس کے سامنے کم سے کم جائے لیکن دل مجبوراً اسے لے ہی جاتا تھا۔
مگر رومینہ کو جانے کیسے خبر تھی اس کے دل کی اس راز کی اور آج… آج جب فائز نے رومینہ کو پروپوز کیا تو اس کی ساری اُمیدیں دَم توڑ گئی تھیں‘ کچھ خوشیاں کبھی ہاتھ نہیں آتیں۔ کچھ زخم کبھی نہیں بھرتے۔ اس کے کمرے میں ٹوٹی چیزوں کا ایک ڈھیر تھا‘ جنہیں وہ جوڑتی آئی تھی۔ دراڑوں سے بھرے ڈیکوریشن پیسز‘ برتن اور وہیں کہیں مینٹل پیس پر پڑی اس کی لہو لہو آنکھیں اور کونے میں دھرا اس کا ٹکڑے ٹکڑے دل۔ اس نے سب کچھ اٹھایا اور کوڑے دان میں ڈال آئی۔ اسے اب ان سے وحشت ہورہی تھی۔ اس کے ہاتھ زخمی تھے اور روح تکلیف میں۔ رومینہ نے ٹیرس سے اسے دیکھا اور اس کا درد جان گئی تھی۔
وہ جانتی تھی سبیکا بھلے سب کچھ پھینک دے‘ مگر وہ اس محبت کو ہرگز دل سے نہیں نکال سکتی تھی جو اس نے فائز سے کئی سال چپکے چپکے کی تھی۔ غصہ اسے فائز پر بھی تھا اور اس سے کہیں زیادہ پھوپو پر جو روز امی کے پاس بیٹھ کر انہیں منانے کی کوشش میں لگی رہتی تھیں اور رومینہ جانتی تھی امی بالآخر مان ہی جائیں گی کیونکہ وہ زیادہ دیر پھوپو کے آگے ٹھہر ہی نہیں سکتی تھیں۔ آگے کیا ہونے والا تھا‘ اس کا دماغ اس نہج پر سوچنے سے قاصر تھا۔ اس نے سوچ لیا تھا خود انکار کردے گی۔ فائز جیسے جنگلی انسان کے ساتھ شادی کرنے سے بہتر تھا کہ وہ کنوئیں میں کود جاتی۔ وہ یونیورسٹی جانے کے لیے نیچے اُتری تو خلافِ توقع فائز کو اپنا منتظر پایا۔
’’آئو میں چھوڑ دوں۔‘‘ رسٹ واچ باندھتے ہوئے اس نے یوں کہا جیسے ان کے درمیان بہت اچھے تعلقات رہ چکے ہوں اور وہ اکثرو بیشتر اسے یہ شرف بخشتی رہی ہو۔
’’شکریہ فائز بھائی… میں پوائنٹ سے چلی جاؤں گی۔‘‘ وہ آگے بڑھنے کو تھی کہ فائز سامنے آگیا۔ اس کا جی چاہا ہاتھ میں پکڑی فائل اس مجنوں کے سر پر دے مارے کہ پھوپو پر نظر پڑگئی۔ پیچھے سبیکا بھی تھی۔ بظاہر نظریں جھکائے انجان لیکن ہمہ تن گوش۔
’’پھوپو ‘ فائز بھائی سے کہیں میں اکیلی جانے کی عادی ہوں اور اکیلی ہی جاؤں گی خوامخواہ تردد نہ کریں۔‘‘ اس نے پھوپو کو سنایا۔
فائز نے گھور کر اسے دیکھا اور پاؤں پٹختا باہر نکل گیا۔ سبیکا اب ہاتھ میں پکڑا کچرا پھینکنے سیڑھیوں کے پاس آگئی تھی۔ وہ مکمل شکست خوردہ لگ رہی تھی۔ رومینہ دو قدم پیچھے پلٹی‘ اب وہ سبیکا کے برابر تھی۔
’’اس بار فائز کہیں نہیں جائے گا۔ بھروسہ رکھو‘ اسے تمہاری محبت کو اپنانا ہی ہوگا۔ ورنہ تم اس کی عینا اس کے منہ پر مار دینا۔‘‘ اگلی بات اس نے شرارتاً کہی اور تیزی سے آگے بڑھ گئی۔ سبیکا کتنی دیر وہیں کھڑی اس کی بازگشت میں کھوئی رہی تھی۔
ء…/…ء
’’میں طیب ہمدانی سے محبت کرتی ہوں۔‘‘ بے حد آہستگی سے کہا تھا۔ شائستہ نے آگے بڑھ کر تیزی سے بیٹی کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا تھا‘ جسے اس نے اسی طرح جھٹک دیا۔
’’میرا منہ بند کرنے سے کچھ نہیں ہوگا امی۔‘‘ بغاوت سے بھرپور لہجے میں اس نے کہا۔ ’’میں سچ کہہ رہی ہوں۔ میں اس سے محبت کرتی ہوں اور شادی بھی…‘‘ اب کے شائستہ کا اُٹھا ہاتھ اسے چپ کرا گیا۔
’’تمہیں کچھ شرم حیا ہے کہ نہیں۔ تم ماں کے سامنے کھڑی ہوکر کس بے حیائی سے اس کا نام لے رہی ہو‘ جانتی ہو کون ہے وہ؟ وہ ہمارا ہم پلہ ہو بھی تو بھی تمہیں یوں برملا اس کا نام لینے کی اجازت نہیں‘ کجا تم ایک کمی کمین کے لیے یہ جذبات رکھتی ہو۔‘‘ وہ کوشش کے باوجود اپنی آواز دھیمی نہیں رکھ پارہی تھیں۔
’’کس نے بنایا اسے کمی کمین‘ وہ اس خاندان‘ اونچے خاندان کے ہر لڑکے سے زیادہ پڑھا لکھا اور باشعور ہے‘ یہیں پلا بڑھا ہے‘ نیک ہونے کے لیے کیا ضروری ہے آپ کے لیے؟‘‘ دل آرأ مکمل دلیلوں کے ساتھ اپنا مقدمہ لڑ رہی تھی۔ محبت بے خوف کردیتی ہے۔
’’تم اپنی آنکھوں سے اس کی محبت کی پٹی اُتار کر دیکھو‘ خود میں اور اس میں فرق معلوم ہوجائے گا۔‘‘ شائستہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس کے سینے سے دل ہی کھینچ لیں‘ جس میں ایک کم رتبہ‘ نیچ خاندان کے لڑکے کی محبت سما گئی تھی۔
’’امی آپ کچھ بھی کہہ لیں‘ میں طیب سے محبت کرتی ہوں اور یہ بات سب کے سامنے کہنے کو تیار ہوں۔‘‘ دل آرأ نے ماں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تو اندر داخل ہوتے مجاہد میاں تو جیسے سناٹے میں رہ گئے۔ بیٹی کے منہ سے اقرار اور وہ بھی اس نوعیت کا۔ انہوں نے کہا کچھ نہیں‘ واپس پلٹے۔ شائستہ پیچھے بھاگیں۔ وہ ان کا ارادہ بھانپ گئی تھیں۔ مجاہد کا رُخ سرونٹ کوارٹر کی طرف تھا۔
’’رک جائیں مجاہد‘ کیا کرنے جارہے ہیں‘ کیوں تماشا لگوا رہے ہیں خود ہی تحمل سے معاملہ نمٹائیں۔‘‘ شائستہ نے ان کے ہم قدم ہوتے ہوئے سمجھانا چاہا لیکن وہ کچھ بھی سننے کے موڈ میں نہیں تھے۔ وہ سرونٹ کوارٹر کے دروازے پر پہنچ کر رک گئے۔ شائستہ نے منت بھری نظروں سے انہیں دیکھا۔
’’واپس چلیں پلیز۔‘‘ مجاہد نے بیوی کے جڑے ہاتھ دیکھے اور پھر بند دروازہ اور اگلے ہی لمحے وہ دروازہ پیٹ رہے تھے۔
نیلم سو چکی تھی جبکہ لبنیٰ برتن سمیٹ رہی تھی۔ طیب ابھی ابھی بستر پر لیٹا ہی تھا کہ دروازہ پیٹے جانے پر ہڑبڑا کر اُٹھا۔
’’اللہ خیر…‘‘ وہ دروازہ کھولنے چلا آیا۔ جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا‘ مجاہد نے اسے گریبان سے پکڑ کر باہر گھسیٹ لیا۔ وہ اس اچانک افتاد کے لیے قطعی تیار نہیں تھا۔ بوکھلا گیا۔
مجاہد نے طیب پر تھپڑوں کی بارش کردی اور منہ میں جو آیا‘ کہہ ڈالا۔ طیب خاموشی سے پٹتا رہا۔ اپنا بچاؤ نہیں کیا۔ شور کی آواز سن کر لبنیٰ اور اس کی ماں باہر آگئی تھیں اور دونوں گنگ کھڑی اسے پٹتے دیکھ رہی تھیں۔
’’کیا کررہے ہیں مجاہد بھائی؟‘‘ پیچھے سے وقار کی آواز آئی‘ شائستہ بھاگ کر وقار کے پاس آئیں۔
’’اللہ کے لیے روکیں انہیں‘ مار ڈالیں گے یہ اسے۔‘‘ وقار نے آگے بڑھ کر بھائی کا ہاتھ تھاما۔
’’بس کریں بھائی صاحب۔‘‘ مجاہد کا غصہ قابو میں ہی نہ آرہا تھا۔
’’اسے کہو نکلے یہاں سے‘ ابھی… اسی وقت… پھینکو اس کا سامان باہر۔ جلدی کرو۔‘‘ انہوں نے طیب کو ٹھوکر رسید کرتے ہوئے دروازے میں کھڑی نیلم پر قہر آلود نظر ڈالی۔ وہ کھلے دروازے کے پٹ تھامے تھر تھر کانپ رہی تھی۔ اس کے بیٹے سے کیا گناہ سرزد ہوا تھا کہ اسے گھر سے نکل جانے کا حکم ملا تھا۔
’’چلو نکلو…‘‘ وہ چلایا۔ طیب نے ہونٹوں سے رستے خون کو صاف کیا‘ لڑکھڑاتا ہوا اُٹھا اور اندر چلا گیا۔ لبنیٰ پیچھے گئی اور نیلم وہیں بُت بنی کھڑی رہی۔ وقار نے ایک بار بھی اس درماندہ پر نظر نہیں ڈالی تھی۔ مجاہد کا ہاتھ پکڑا اور اندر کی طرف کھینچ لے گیا۔
’’کیا کیا ہے؟‘‘ نیلم اس کے زخموں کو صاف کرتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔ وہ خاموش تھا‘ نہیں جانتا تھا کہ یہ عزت افزائی کیوں ہوئی۔ وہ رات تینوں نے آنکھوں میں کاٹی‘ صبح ہوتے ہی بی جان نے نیلم اور طیب کو اندر بلایا۔ وہ دونوں اب بھی اپنے جرم سے ناواقف تھے۔ سب ہی موجود تھے‘ جیسے عدالت لگی ہو۔ وہ دونوں سر جھکائے کھڑے تھے۔
’’تم لوگ ابھی اور اسی وقت یہ گھر خالی کردو۔‘‘ بی جان کی آواز گونجی۔ نیلم نے چونک کر سر اُٹھایا تھا۔
ء…/…ء
پتا نہیں کیا ہوا، ایک دَم سے پھوپو کو دل کا دورہ پڑا اور ہاسپٹل جاتے جاتے راستے میں ہی دَم توڑ دیا۔ آناً فاناً گھر ماتم کدہ بن گیا۔ سارا گھر ہی بکھر گیا تھا۔ فائز تو صدمے میں تھا ہی‘ سبیکا کو بھی چپ لگ گئی تھی۔ پھوپو اس کی غمگسار تھیں۔ اس کے سر پر سایہ تھیں۔ ان ہی کی وجہ سے یہ پناہ میسر تھی۔ وہ نہیں رہی تھیں تو اس گھر میں اس کا رہنا مشکل تھا۔ دوسروں کے ساتھ وہ اکیلی رہ ہی نہ سکتی تھی کہ ان سے اس کا خون کا رشتہ نہ تھا۔ کچھ دن تک تو گھر میں آنا جانا لگا رہا‘ پھر رفتہ رفتہ آمدورفت کم ہوتے ہوتے ختم ہوگئی۔
رومینہ زیادہ وقت نیچے گزارنے لگی کہ فائز تو صبح کا گیا رات گئے لوٹتا تھا یا پھر آتا ہی نہیں تھا۔ پھوپا سر شام آکر کھانا کھا کر سو جاتے۔ رات کو وہ سبیکا کو لے کر اوپر آجاتی۔ عینا اور وہ دونوں اس کے ساتھ کمرے میں سونے لگی تھیں۔ ساری ترتیب اُلٹ پلٹ ہوگئی تھی۔ حویلی سے کوئی بھی نہیں آیا تھا۔ لاشعوری طور پر وہ ہمیشہ کی طرح خوشی غمی میں شریک ہونے والے ڈرائیور کی منتظر رہی تھی لیکن وہ نہیں آیا۔ آیا تو بس بی جان کا تعزیتی فون اور معذرت کہ دل آرأ کی شادی کی مصروفیت کی وجہ سے وہ گھر سے نکل نہیں سکتی تھیں۔
ء…/…ء
وہ کافی دنوں بعد یونیورسٹی آئی تھی۔ ہسٹری کے پروفیسر اس دن بھی غائب تھے۔ شاید شادی کی مصروفیت میں لگے ہوں گے۔ اس نے خود کو دلاسا دیا۔ وہ گھر واپس آئی تو فائز کو اماں کے پاس بیٹھا پایا۔ وہ سلام کرکے اندر جانے کو تھی کہ فائز نے روک لیا۔
’’اِدھر آؤ رومی‘ بات کرنی ہے تم سے۔‘‘
’’سبیکا کہاں ہے اماں؟‘‘ اس نے رکتے ہوئے ماں سے استفسار کیا۔
’’کچن میں۔ عینا نوڈلز کھانے کی ضد کررہی تھی، اسی کی فرمائش پوری کررہی ہے‘ تم کھانا کھاؤ گے فائز؟‘‘ انہوں نے اُٹھتے ہوئے پوچھا۔ وہ جان گئی‘ امی دانستہ اُٹھ کر جارہی تھیں۔
’’نہیں مامی… آفس سے کھا کر آیا ہوں۔‘‘ اس نے انکار کیا پھر رومینہ پر نظریں جمادیں‘ جو اس کے سامنے مونڈھے پر آکر بیٹھ گئی تھی۔
’’فائز بھائی۔‘‘ اس نے اُکتا کر کہا تو وہ چونکا۔
’’امی کی جو خواہش تھی تمہیں پتا ہے ناں…‘‘ اس نے بلا تمہید کہنا شروع کیا۔ ’’میں اور ابا جی چاہتے ہیں کہ…‘‘ وہ رُکا۔ پیچھے سبیکا آکھڑی ہوئی تھی ہاتھ میں نوڈلز کا پیالہ تھامے‘ عینا اس کے پیچھے تھی۔
’’ایک منٹ فائز بھائی… مجھے بھی آپ سے کچھ کہنا ہے۔‘‘ اس نے اس کے توقف کا فائدہ اُٹھایا اور شروع ہوگئی۔
’’ایک لڑکی جو عرصے سے آپ کے گھر میں رہ رہی ہے‘ اس کے بارے میں آپ لوگوں نے کیا سوچا ہے؟‘‘
’’کیا مطلب… ہم… ہم نے کیا سوچنا ہے؟‘‘ فائز سے کوئی بات نہیں بن پائی۔
’’میں آپ سے شادی کرلیتی ہوں۔‘‘ اس نے سکون سے کہا۔ سبیکا رُکی نہیں‘ عینا کو لیے کمرے میں چلی گئی۔ فائز کی آنکھوں میں تشکر اُمڈ آیا۔
’’لیکن… سبیکا کا کیا ہوگا‘ کیا وہ اسی گھر میں رہے گی؟‘‘ اس نے پتا پھینکا۔ فائز نے جواب دینے میں جلدی کی۔
’’ہاں تو پڑی رہے گی‘ اسے تو عادت ہے ایسے ہی رہنے کی‘ بے ضرر سی ہے‘ دو وقت کا کھانا اور چند کپڑے۔ بدلے میں وہ عینا کو بھی سنبھال لے گی اور گھر بھی۔‘‘ وہ سمجھا شاید اسے سبیکا کے اس گھر میں رہنے پر اعتراض ہے۔
’’بہت خوب فائز بھائی۔‘‘ اس کے لہجے میں تاسف بھر آیا۔ ’’ایک لڑکی جو پچھلے کئی سالوں سے آپ کی خدمت کررہی ہے‘ بغیر کسی لالچ کے‘ اس کے لیے آپ کی نیک خواہشات جان کر مجھے خوشی ہوئی۔ آپ نے کبھی بحیثیت انسان‘ اس کے بارے میں سوچا؟ کبھی اس کی آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش کی؟ کبھی اس کے لرزتے‘ کانپتے ہاتھوں کی وجہ جاننے کی ضرورت سمجھی؟ کبھی اس محبت کو سمجھنے کی کوشش کی جو پچھلے کئی سالوں سے وہ آپ جیسے بے حس انسان سے کرتی آرہی ہے اور صلہ تک نہیں چاہ رہی؟‘‘ آج اس نے فیصلہ کرلیا تھا اس لڑکی کے لیے لڑنے کا‘ جو اپنے حق کے لیے کبھی آواز نہیں اُٹھا سکتی تھی۔
’’کیسی عجیب باتیں کررہی ہو تم۔‘‘ فائز نظریں چرا گیا۔ رومی مسکرادی۔ اسے اس کے سوالوں کا جواب مل گیا تھا۔ وہ سبیکا کی خاموش محبت سے بے خبر نہیں تھا لیکن انجان بن رہا تھا۔ لوہا گرم تھا‘ اس نے اگلی ضرب کے لیے الفاظ مجتمع کیے۔ اندر سے چھناکے کی آواز آئی تھی۔ شاید عینا نے پھر کچھ توڑ دیا تھا۔ فائز نے دروازے کی سمت دیکھا اور شرمندگی سے بولا۔
’’بہت نقصان کرتی ہے یہ لڑکی‘ ہر وقت کچھ نہ کچھ توڑتی رہتی ہے۔‘‘
’’باپ پر گئی ہے۔‘‘ وہ ترنت بولی۔
’’اب ایسا بھی نہیں۔ میں تو چیزوں کا بھرپور خیال رکھتا ہوں۔ آخر کو پیسے خرچ کیے ہوتے ہیں۔‘‘ رومینہ ہنس دی۔
’’کچھ چیزوں پر پیسے خرچ نہیں ہوتے لیکن وہ بہت قیمتی ہوتی ہیں اور آپ نے ہمیشہ چیزوں کی پروا کی‘ انسانوں کی نہیں۔ بہرحال میں آپ کو صاف صاف بتا دینا چاہتی ہوں اول تو ایک بچی کے باپ کے ساتھ میں شادی نہیں کروں گی اور جب کہ مجھے پتا بھی ہو کہ آپ اپنی پہلی بیوی سے کس قدر محبت کرتے تھے‘ آپ کا کوئی پلس پوائنٹ نہیں ہے میری نظر میں۔‘‘ وہ بولتے ہوئے رُکی‘ فائز اس بدتمیزی اور صاف گوئی پر تلملا ہی تو گیا۔
’’ایک منٹ میری بات مکمل ہونے دیجیے فائز بھائی۔‘‘ رومینہ نے ہاتھ اُٹھا کر اسے کچھ بولنے سے روکا۔ ’’میں نے کہا میرے لیے پلس پوائنٹ نہیں‘ لیکن ہوسکتا ہے کوئی اور آپ سے بہت محبت کرتا ہو اور اس کے لیے یہ سب مائنس ہو۔‘‘ اس نے فائز پر نظریں جمائیں۔
سبیکا دوبارہ دروازے کے بیچ آکھڑی ہوئی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ٹوٹے گلاس کے ٹکڑے تھے لیکن چہرہ پر جو تکلیف تھی‘ محسوس ہوتا تھا وہ اپنے ٹکڑے اُٹھائے کھڑی ہے۔
’’ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔‘‘ فائز سختی سے کہتا نیچے کی طرف بڑھ گیا۔ رومینہ نے سبیکا کی طرف دیکھا۔
’’ہاں ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔‘‘ اس نے مٹھی بھینچ لی اور اس کی ہتھیلی سے گرتا خون فرش لہولہان کرنے لگا تھا۔ رومینہ نے خود کو بے بسی کی انتہا پر محسوس کیا تھا۔
ء…/…ء
’’لیکن کیوں… ہمارا جرم کیا ہے بی جان؟‘‘ نیلم نے برسوں بعد زبان کھولی تھی۔ بی جان کو یہ بات ہضم نہیں ہوئی‘ اس لیے تڑخ کر بولیں۔
’’تم نہیں جانتی ہو کیا؟ تمہارے بیٹے نے جس تھالی میں کھایا‘ اسی میں چھید کیا‘ میں نے برسوں گزار دیئے تم لوگوں پر اعتماد کرتے اور تم لوگوں نے میری ہی پیٹھ پر چھرا گھونپ دیا۔‘‘ وہ غیض و غضب کی تصویر بنی بیٹھی تھیں۔
’’ہم نے ایسا کچھ نہیں کیا بی جان۔‘‘ طیب نے اپنی زخمی کہنی سہلاتے ہوئے کہا۔ ’’ہم آج بھی آپ کے وفادار ہیں۔‘‘
’’تمہیں شرم نہیں آئی‘ اس گھر کی بیٹی کو ورغلاتے ہوئے۔‘‘ وہ غرائیں۔ بات تو سر عام کرنے والی نہیں تھی مگر کرنا ضروری تھی۔ وہ ان نمک حراموں کو ذلیل کرکے یہاں سے نکالنا چاہتی تھیں۔ برسوں پہلے کی خواہش پوری ہونے کا موقع قدرت نے انہیں آج فراہم کردیا تھا۔
’’اللہ گواہ ہے بی جان‘ میں نے اس گھر کی بیٹیوں پر نہ تو کبھی غلط نظر ڈالی اور نہ ہی کوئی برا خیال دل میں لایا۔‘‘ اس سے اب کھڑے ہونا محال تھا لیکن وہ بیٹھنے کی جرأت نہیں رکھتا تھا۔
’’بی جان‘ آپ کو ضرور کسی نے غلط بتایا ہے۔‘‘ نیلم ان کے قدموں میں جھکی۔
’’تم اپنا بوریا بستر سمیٹو اور نکلو یہاں سے۔‘‘ انہوں نے حکم صادر کیا‘ نیلم کانپ رہی تھی۔ طیب سر جھکائے کھڑا تھا۔ سب لوگوں کی نظریں اس پر جمی تھیں۔
اس نے آگے بڑھ کر فرش پر دوزانو بیٹھی ماں کو اُٹھایا اور باہر نکل آیا۔ آخری سیڑھی پر قدم رکھتے ہی رُک جانا پڑا۔ وہ چاقو لیے کھڑی تھی۔
’’اگر تم نے میری محبت سے انکار کیا تو میں خود کو ختم کرلوں گی۔‘‘ دل آرأ بے خوف لہجے میں بولی، نیلم لرزنے لگی اور طیب نے پیچھے مڑ کر مجاہد اور وقار کو باہر آتے دیکھا۔ اس پر سب کچھ واضح ہوگیا تھا۔ اس نے نیلم کا ہاتھ پکڑا اور کوارٹر کی طرف بڑھا۔ مجاہد نے اسے قابو کرلیا تھا اور اب گھسیٹتے ہوئے اندر لے جارہا تھا۔ وہ اپنے کوارٹر میں آئے اور اپنا سامان سمیٹنے لگے‘ استعمال کے کپڑے اور کتابوں کا ٹرنک‘ یہی کل اثاثہ تھا۔
’’ہم جائیں گے کہاں؟‘‘ لبنیٰ نے بالآخر زبان کھولی۔
’’چلے جائیں گے کہیں نہ کہیں۔‘‘ طیب خود خالی الذہن تھا۔
اس نے ایک دو پراپرٹی ڈیلرز سے بات کی اور بالآخر شام تک انہیں ایک دو کمروں والا کوارٹر مل گیا‘ جو رہنے کے قابل تو نہیں تھا لیکن فوری طور پر سر چھپانے کے لیے کافی تھا۔
ء…/…ء
فائز‘ عینا کو لے کر کہیں چلا گیا تھا بنا بتائے۔ نیچے پھوپا اکیلے رہ گئے اور اوپر سبیکا۔ رومینہ کے امتحانات شروع ہوگئے تھے اور وہ ادھر مصروف۔ اردگرد کیا ہورہا تھا‘ وہ بے خبر تھی۔
وہ آخری پیپر دے کر آئی تو ڈرائنگ روم میں کسی مہمان کو بیٹھا پایا۔ وہ حیران ہوئی۔ ان کے گھر آج تک کوئی مرد رشتہ دار نہیں آیا تھا۔ معیز باہر سے آیا تو کھانے پینے کے سامان سے لدا پھندا تھا۔
’’کون آگیا؟‘‘ اس نے معیز سے پوچھا تو اس نے کندھے اُچکائے۔ وہ تھکی ہوئی تھی‘ سیدھی کمرے میں چلی گئی۔ سبیکا شاید کچن میں تھی۔ وہ کپڑے تبدیل کیے بغیر ہی لیٹی اور سوگئی۔
عصر کے وقت اماں نے جگایا اور جیسے ہی وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئی‘ اماں نے بم پھوڑا۔ یہ کہہ کر کہ انہوں نے رشتہ پکا کردیا ہے۔ (سبیکا سر جھکائے بیٹھی تھی‘ اس نے دھیان ہی نہ دیا)
اور نہ صرف پکا بلکہ اگلے جمعہ کو نکاح کی تاریخ بھی دے دی ہے۔ وہ حیران پریشان دیکھتی رہ گئی۔ کہاں‘ کیوں‘ اسے کچھ کہنے سننے کا موقع ہی نہیں دیا کیونکہ اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر انہوں نے جو آدھے گھنٹے کی تقریر کی تھی‘ اس نے سارے حوصلے پست کردیے تھے۔
’’کہیں آمنہ کے ماموں…‘‘ خیال روح فرسا تھا۔ اماں سے پوچھنے کی ہمت تو رہی نہیں تھی، لیکن وہ آمنہ سے تو پتا کرسکتی تھی۔
اگلے دن اماں اور سبیکا جیسے ہی بازار کے لیے نکلیں‘ وہ معیز کو بتاکر سیدھی آمنہ کے گھر جاپہنچی۔ وہ بیڈ پر زرق برق کپڑے پھیلائے بیٹھی تھی۔ اسے دیکھ کر خوش ہوگئی۔
’’تم کیسے آگئیں ادھر؟‘‘ اس نے کپڑوں کا ڈھیر اُٹھا کر صوفے پر منتقل کرتے ہوئے اس کے بیٹھنے کی جگہ بنائی۔
وہ کپڑوں کو دیکھ کر فکرمند ہوئی مگر آمنہ اس کی حالت سے بے خبر خوب چہک رہی تھی اور اپنے خدشے کے تحت وہ اس سے پوچھ بھی نہیں پارہی تھی۔ اس کی طبیعت میں عجیب بے چینی در آئی تھی۔ وہ زیادہ دیر نہ بیٹھ سکی۔
واپس آئی تو ادھر بھی ایسا ہی ماحول تھا۔ اماں بھی کچھ زرق برق سامان خرید کر آئی تھیں۔ اس پر بے زاریت کا شدید ترین حملہ ہوا۔ وہ بنا کچھ دیکھے کمرے میں بند ہوگئی۔ اب ایسا بھی کیا کہ ایک باشعور لڑکی سے پوچھنا بھی گوارہ نہ کیا جائے۔ وہ بری طرح سے خفا ہوگئی تھی۔
ء…/…ء
دل آرأ کو تو مجاہد نے فاخرہ کے بھانجے کے ساتھ رخصت کردیا لیکن وقار نے برسوں پرانی کہانی کو ورق ورق پلٹ ڈالا۔ نیلم کا یوں بے گھر کردیا جانا انہیں گہرے دُکھ میں مبتلا کر گیا تھا اور وہ اس بات کو برداشت نہیں کر پا رہے تھے اور شاید زندگی میں پہلی بار وہ ماں کے سامنے کھڑے ہوئے اور نیلم کے لیے لڑ رہے تھے اور بی جان کی آنکھوں میں حیرتیں سمٹ آئی تھیں۔
’’تم اس عورت کے لیے آج ماں سے زبان درازی کررہے ہو‘ جس نے تمہارے بدلے اس چھت کو ترجیح دی تھی۔‘‘
’’اسی لیے بول رہا ہوں بی جان کہ جس چھت کے لیے اس نے میرے اور اپنے رشتے کی قربانی دی‘ آپ نے وہ چھت چھیننے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگایا‘ اس کی بیس سال کی قربانی کو آپ نے لمحوں میں ملیا میٹ کردیا… کیا فائدہ ہوا اسے؟‘‘
’’بیٹا جوان ہے، ماں کو چھت نہیں دے سکتا؟‘‘ بی جان کے لہجے میں ذرا لچک نہیں تھی۔ ’’اور تم آج کیوں بول رہے ہو؟‘‘
’’جس وجہ سے یہ خاموشی تھی‘ آپ نے وہ عہد توڑ دیا اور بی جان‘ بیٹا ماں کو چھت دے سکے گا یا نہیں‘ لیکن اب کی بار ایک شوہر ضرور بیوی کو چھت کا تحفظ دینے کا حوصلہ رکھتا ہے اور اب کی بار میں رکوں گا نہیں‘ نیلم اس گھر میں واپس میری بیوی کی حیثیت سے آئے گی اور اسی حیثیت میں رہے گی اور اگر نہیں تو پھر میں اس گھر سے چلا جاؤں گا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے… فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔‘‘ وہ کہہ کر رُکے نہیں اور بی جان کو لگ رہا تھا کہ اس عمر میں بیٹا کھونا ان کے لیے ممکن نہ ہوگا۔
ساری رات انہوں نے سوچتے، نفع نقصان کا حساب کرتے گزار دی تھی۔ ایک ایسی عورت‘ جو کسی طرح بھی ان کے ہم پلہ نہیں تھی‘ سالہا سال اس نے ایک ملازمہ کے طور پر اس گھر میں گزار دی تھی‘ اس کو اپنے برابر بٹھانا مشکل سے بھی مشکل تھا لیکن مصیبت یہ تھی کہ اب ان کا بیٹا ڈٹ گیا تھا۔ نیلم گنگ تھی اور طیب اور لبنیٰ خفا۔ وقار جو کچھ کہہ رہے تھے‘ نیلم کے لیے نیا نہیں تھا مگر طیب اور لبنیٰ کے لیے صدمے کا باعث ضرور تھا۔
’’میں تمہیں کیسے بے امان ہونے دے سکتا ہوں نیلم… تم نے میرا بھروسہ نہیں کیا ورنہ آج سے بیس سال پہلے تم وہ جگہ حاصل کرلیتیں جو تمہاری اس گھر میں تھی۔ جس چھت کے لیے تم نے میرے ساتھ بندھے رشتے سے منکر ہوجانا گوارہ کرلیا‘ یہ کیسے ممکن ہے کہ تم سے وہ چھت چھین لی جائے۔‘‘ وقار کا لہجہ ہمیشہ کی طرح مضبوط تھا۔ بس نیلم سمجھ نہیں پائی تھی۔
اس کے اندر خوف کے اتنے سانپ پھن پھیلائے بیٹھے تھے کہ ان کے ڈس لینے کے ڈر نے اسے کبھی خوش ہونے ہی نہیں دیا تھا۔
’’میں نے منا لیا بی جان کو‘ وہ تمہیں اس گھر میں بہو کا رُتبہ بھی دیں گی اور عزت بھی۔‘‘
’’اب تو عمر گزر گئی صاحب۔‘‘ نیلم نے ہتھیلیوں سے آنکھیں رگڑیں۔ ’’اب کیا فرق پڑتا ہے‘ میں کہیں بھی رہوں اور کسی بھی حیثیت میں۔‘‘ طیب کمرہ چھوڑ گیا تھا۔
وقار احمد سے اس کا کیا رشتہ تھا‘ یہ اس پر آج آشکار ہوا تھا لیکن وہ آج اس درد کو شدت سے محسوس کررہا تھا جو ایک ہی گھر میں رہ کر نیلم نے وقار سے لاتعلقی کی صورت میں برداشت کیا تھا۔ محض اس لیے کہ ان کے سر پر چھت قائم رہے‘ خود کو بے سائبان کرکے اس نے اپنے بچوں کی چھت خرید لی تھی۔ سودا برا نہیں تھا لیکن ایک بار پھر بے آسرا ہوتے ہوئے نیلم کو بیس سالوں کا بوجھ بہت بری طرح محسوس ہوا تھا۔
’’فرق پڑتا ہے‘ تم نے بھلے ان بیس سالوں میں مجھ سے کوئی رشتہ نہیں رکھا لیکن تم میری آنکھوں کے سامنے تو رہی ہو ناں… میں مانتا ہوں شروع کے چند دنوں میں‘ میں نے تمہیں جلانے کے لیے کئی ہتھکنڈے اپنائے مگر وہ اس لیے تھے کہ تم میری طرف پلٹ آؤ لیکن… میں ایک پل بھی تمہاری طرف سے غافل نہیں رہا۔ ہاں گزرتے برسوں میں‘ میں کمزور ضرور ہوگیا۔ فاخرہ اور بچوں کی وجہ سے لیکن… اب ایسا بھی نہیں کہ تمہیں اس عمر میں‘ بے سائبان ہونے دوں۔ میں تمہیں لینے آیا ہوں اور تمہیں میرے ساتھ جانا ہی ہوگا۔‘‘ وقار نے دو ٹوک انداز میں کہا لیکن نیلم نظریں جھکا گئی تھی۔
اس راز کا آشکار ہوجانا ہی اسے شرمندگی میں مبتلا کررہا تھا‘ کجا وہ وقار کے ساتھ چلی جائے۔ جہاں اتنی زندگی گزر گئی‘ باقی کی بھی گزر جانی تھی۔ اس نے وقار کا شکریہ ادا کیا اور معذرت کرنے ہی والی تھی کہ طیب اندر آگیا۔
’’انکل… آپ امی کو لے جاسکتے ہیں۔‘‘ اس کا کہنا اتنا غیر متوقع تھا کہ لبنیٰ اور نیلم نے بیک وقت چونک کر اسے دیکھا۔
’’کیا کہہ رہے ہو طیب؟‘‘ نیلم لپک کر اس کے پاس آئی۔
’’ہمیشہ والدین بچوں کے لیے فیصلے کرتے ہیں امی‘ لیکن کبھی کبھار اولاد کو بھی والدین کے لیے فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔‘‘
’’میں اور لبنیٰ تو ویسے بھی ابا کے پاس جارہے ہیں (یہ فیصلہ اس نے ابھی ابھی کیا تھا) تو لازمی طور پر آپ کو بھی اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہیے۔‘‘ وہ بہت مضبوط لہجے میں فیصلہ سنا رہا تھا۔
’’طیب…!‘‘ نیلم نے اس کا بازو پکڑا لیکن اس نے ماں کی طرف نہیں دیکھا۔ وہ اس لمحے کسی کمزوری کو پھر سے ماں کا مقدر نہیں بنا سکتا تھا۔
’’لبنیٰ‘ تم بھی تیار ہوجاؤ۔ ابا آتے ہوں گے۔‘‘ سب کچھ آناً فاناً ہوا تھا۔
’’شکریہ طیب بیٹا۔‘‘ وقار نے طیب کے ہاتھ تھامے۔ ’’اس دن مجاہد نے جو کچھ تمہارے ساتھ کیا‘ میں شرمندہ ہوں۔‘‘ طیب خاموش رہا۔ کبھی کبھار الفاظ گونگے ہوجاتے ہیں۔ وقار نے نیلم کا ہاتھ تھاما تو اس بار وہ خاموشی سے اس کے ساتھ چل پڑی تھی۔
ء…/…ء
دو دن رہ گئے تھے اور ابھی تک کسی نے اسے بتانا گوارہ نہیں کیا تھا کہ آخر اس کو جس کنویں میں دھکیلا جارہا ہے‘ اس کا نام کیا ہے۔ سبیکا ہر وقت سر جھکائے کپڑوں کی سلائی میں مصروف رہتی۔ آمنہ دو بار آئی اور امی کے پاس بیٹھ کر چلی گئی۔ اسے یقین ہوگیا تھا کہ اس کی شادی یقینا اس گنجو ماموں کے ساتھ ہی ہورہی تھی۔ امی نے یقینا اس کے ساتھ اچھا نہیں کیا تھا اور وہ ’’ڈرائیور‘‘… اتنے دنوں میں پہلی بار اس کے دل میں ڈرائیور کا خیال آیا تھا۔
بندہ اپنی انا رکھنے کو انکار کر ہی دیتا ہے۔ کیسے مجنوں ہوا جارہا تھا اس وقت اور اب ایسے غائب ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ وہ جھنجھلا رہی تھی۔
’’ذرا یہ پہن کر دیکھو۔‘‘ سبیکا ایک فینسی سوٹ لے کر اندر آئی۔ اس نے دیکھا تک نہیں۔ آج کل سبیکا کچھ بدلی بدلی سی معلوم ہوتی تھی یا شاید ہر چیز ہی بدل گئی تھی۔
’’دیکھ لو ناں اگر فٹنگ میں کوئی مسئلہ ہے تو میں ٹھیک کردیتی ہوں۔‘‘ اسے ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھ کر وہ قمیص کو پھیلا کر دیکھنے لگی۔
’’مجھے نہیں دیکھنا کچھ۔‘‘ اس نے کروٹ بدل لی۔
’’میں تو سمجھی تھی کہ شاید اس دُنیا میں واحد تم ہو جو میری خوشی کو دھوم دھام سے منائو گی۔‘‘ سبیکا نے اداسی سے کہا۔
’’کون سی خوشی؟ فائز محترم کے ٹھکرانے کو تم خوشی سمجھ کر منا رہی ہو؟‘‘ وہ بھنا اُٹھی۔
’’تمہیں کس نے کہا خوشی صرف فائز کے نام سے جڑی ہے۔‘‘ وہ دھیرے سے مسکرائی۔ (اب فلسفہ شروع ہوگا‘ رومینہ بدمزہ ہوئی تھی)
’’تو آپ نے دل سے فائز محترم کا نام کھرچ ڈالا؟‘‘ وہ طنزیہ بولی۔
’’ہاں اسی فیصد۔‘‘ وہ بلامقصد ہاتھ میں پکڑی قمیص کو تہہ کرنے لگی۔ ’’کبھی کبھی ہماری لاکھ کوشش‘ لاکھ منت کے باوجود ہمیں ہمارا من چاہا نہیں ملتا اور وہ مل جاتا ہے جس کی ہم نے تمنا نہیں کی ہوتی۔ تم یہ پہن کر دیکھ لو۔ شاید مامی بلا رہی ہیں مجھے۔‘‘ وہ سوٹ اس کے پاس رکھ کر باہر نکل گئی۔ سبیکا کی مبہم باتوں نے اس کے اُلجھے ذہن کو مزید اُلجھا دیا تھا۔
ء…/…ء
اور یہ نکاح سے ایک دن پہلے کی بات تھی‘ ساتھ والوں کی حمیرا کون مہندی تھامے اندر داخل ہوئی۔
’’لائیں سبیکا باجی ہاتھ‘ بہت خوب صورت مہندی لگاؤں گی آپ کے۔‘‘ چائے پیتی رومینہ نے حیرت سے دیکھا کہ سبیکا نے فوراً ہتھیلی اس کے آگے پھیلادی تھی۔ حمیرا کو یقینا امی بلا کر لائی ہوں گی اس کے لیے۔ اسے ماں پر غصہ آرہا تھا اور اس غصے کے اظہار کے لیے وہ ان سے بات بھی نہیں کررہی تھی پھر بھی اسے قابل توجہ نہیں سمجھا جارہا تھا۔
’’میں تو نہیں لگاؤں گی۔‘‘ وہ احتجاجاً اُٹھ کر چل دی اور کسی نے اسے روکا بھی نہیں اور دوسرے کمرے میں جاتے ہوئے اس نے یونہی پلٹ کر دیکھا اور اس کے قدم من من بھر کے ہوگئے تھے۔
ء…/…ء
اس کی ایک عادت تھی کوئی بھی بات سن لیتی تو سوچ سوچ کر پاگل ہوجاتی‘ خود ہی منصف بن جاتی اور خود ہی فیصلہ بھی سنا کر مظلوم بھی بن جاتی اور اسی عادت کے ہاتھوں اس نے بڑے نقصان اُٹھائے تھے۔ نکاح والے روز جب بڑی دیر تک اس نے خود کو احتجاجاً کمرے میں بند رکھا اور کوئی اسے بلانے نہیں آیا تو کسی معجزے کی آس میں وہ خود ہی باہر چلی آئی تھی۔ سارے گھر کی خاموشی ڈرائنگ روم میں ایک خوشگوار سی رونق بن کر سمٹی ہوئی تھی۔ وہ سیڑھیاں اُتر آئی۔ سبیکا‘ معیز اور امی‘ تینوں یقینا وہیں تھے۔ کل رات ’’ڈرائیور‘‘ کو دیکھ کر ایک لمحے کے لیے اس کے دل میں کسی معجزے کا یقین جاگا تھا لیکن ڈرائنگ روم کی رونق نے اس یقین کو ملیامیٹ کردیا تھا۔ اس نے اَدھ کھلے دروازے کی جھری سے اندر جھانکنے کی کوشش کی۔ سامنے ہی ’’گنجو ماما‘‘ دولہا بنے طمطراق سے براجمان نظر آئے تھے۔ ’’بارات آگئی۔‘‘ وہ بدبدائی۔
’’مبارک۔ سلامت۔‘‘ ہلکی ہلکی آوازیں گونجیں۔
’’ہیں…!‘‘ اس کے دماغ کی کھڑکی پٹ سے کھلی تھی۔ وہ تو ادھر تھی‘ پھر مبارک بادیوں کا شور؟ اس نے بے اختیار دھاڑ سے دروازہ کھولا تھا۔ سامنے ہی پھوپا کے ساتھ سبیکا۔
’’سبیکا…!‘‘ اس نے آنکھیں ملیں۔ ’’دُلہن…‘‘ امی مٹھائی کا ڈبہ تھامے سبیکا اور گنجو ماما کا منہ میٹھا کروا رہی تھیں۔ پھوپا کے چند دوست اور پچھلے صوفے پر براجمان مسٹر ڈرائیور اور ڈرائیور سے غیر معمولی مشابہت رکھتا ایک ادھیڑ عمر آدمی۔ اس کے کانوں میں سبیکا سے ہونے والی گفتگو کی بازگشت گونجنے لگی۔
’’تو…!‘‘ اس نے ایک سکون بھری سانس لی۔ ’’یہ نکاح سبیکا کا تھا۔‘‘ اس سے سننے میں غلطی ہوئی تھی اور وہ پچھلے دس دن سے سولی پر لٹک رہی تھی۔ اسے اپنا آپ ایک دَم ہلکا پھلکا محسوس ہوا تھا۔
’’بہن… ہمارے لیے کیا حکم؟‘‘ ڈرائیور کے ساتھ بیٹھے شخص نے مٹھائی کا ٹکڑا منہ میں رکھتے ہوئے احتراماً پوچھا۔ امی کی مسکراتی نظریں اس پر اُٹھ گئیں۔
’’آپ بسم اللہ کریں‘ رسم کریں۔‘‘ امی نے عندیہ دیا۔
’’ہیں…!‘‘ وہ وہیں کی وہیں کھڑی رہ گئی۔ معیز نے جلدی سے اسے پکڑ کر صوفے پر لابٹھایا اور امیر ہمدانی نے ایک لمحے کی تاخیر کیے بنا اس کے بائیں ہاتھ کی انگلی میں انگوٹھی پہنا دی۔
’’ڈرائیور…‘‘ اس کے ساتھ آبیٹھا تھا۔ وہ مہر بہ لب تھی۔
’’کچھ منہ زور انسانوں کو ایسے ہی قابو کیا جاتا ہے‘ جو دل کی آواز پر کان نہ دھریں۔‘‘ وہ سر جھکائے بہت آہستگی سے کہہ رہا تھا۔
’’تو بہن… اگلے ہفتے ہم ہم اپنی بہو کو نکاح کرکے لے جائیں گے‘ تب تک طیب کی والدہ بھی واپس آجائیں گی عمرے سے۔‘‘ امیر ہمدانی نے کہا۔
’’اتنی جلدی بھائی… ایک ہفتہ بہت کم ہے۔‘‘ امی معترض ہوئی تھیں‘ کن اکھیوں سے نندوئی کی طرف دیکھا۔
’’جیسا آپ مناسب سمجھیں بھائی صاحب… ہماری طرف سے کوئی دیر نہیں۔‘‘ پھوپا نے ان کی پریشانی بھانپ لی تھی‘ اس لیے تسلی آمیز لہجے میں کہا۔ طیب کے چہرے پر طمانیت پھیل گئی تھی۔ وہ اس ’’منہ زور‘‘ کو زیادہ دیر ’’کھلا‘‘ نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ کیا پتا یہ بدک کر اسے دولتّی جھاڑ دے۔
خوشیاں ڈرائنگ روم میں اتر آئی تھیں۔ اس نے طیب کی طرف دیکھا‘ وہ سیلفی لے کر اب ماں کو بھیج رہا تھا اور وہ سوچ رہی تھی۔ دل کی آواز پر کان دھرلینا چاہیے ورنہ… اس ورنہ سے آگے اس سے سوچا نہ گیا تھا۔

Show More

Check Also

Close
error: Content is protected !!
Close