Hijaab Apr-17

دل کے دریچے(قسط نمبر18)

صدف آصف

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
فائز کی شادی کی خبر سن کر سفینہ کو یقین نہیں آتا وہ اسے کسی غلط فہمی کا نتیجہ قرار دیتی ہے لیکن بہزاد خان اور ریحانہ بیگم کے لہجے کی سچائی اسے اندیشوں میں مبتلا کردیتی ہے وہ فائز سے رابطہ کرنا چاہتی ہے مگر فائز اپنی محبت اس کی عزت پر قربان کرنے کا تہیہ کرلیتا ہے اپنی ماں کی پلاننگ پر عمل کرنا اسے نہایت مشکل لگتا ہے اسی لیے وہ چپ چاپ سفینہ سے علیحدگی اختیار کرتے اپنی شادی کا تذکرہ کردیتا ہے، دلشاد بیگم ایک مرتبہ پھر شرمیلا اور فائز کے رشتے کے لیے سرگرم ہوجاتی ہیں۔ نبیل شادی کے بعد شہر لوٹتا ہے تو شرمیلا سے مل کر سابقہ تعلقات بحال کرنا چاہتا ہے مگر شرمیلا اب اس کی باتوں میں ہر گز آنے والی نہیں ہوتی اور صائمہ کے منہ سے بھی تمام باتیں جان کر نبیل کے اصل روپ سے وہ آگاہی حاصل کرلیتی ہے اسی لیے وہ نبیل سے بات کرنے سے گریز کرتی ہے نبیل اس سے اپنی شادی کا ذکر کر کے اسے خوش کرنا چاہتا ہے مگر وہ شادی شدہ مرد سے تعلقات بڑھانے پر آمادہ نہیں ہوتی دوسری طرف فائز کا التفات بھی اسے خوش گمانی میں مبتلا رکھتا ہے۔ سفینہ سے علیحدگی کے بعد فائز شرمیلا سے نہ صرف دوستی کرلیتا ہے بلکہ اسے اپنے ساتھ کافی شاپ پر بھی لے آتا ہے اسی بنا پر وہ نبیل سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی خاطر اپنی منگنی کا تذکرہ کرتی ہے اور منگیتر کا نام فائز بتاتی ہے جبکہ نبیل اپنی مردانگی کی یہ توہین برداشت نہیں کرپاتا۔ سفینہ فائز سے بات کر کے اسے پارک میں ملنے کا کہتی ہے مگر وہ مصروفیات کا ذکر کرتے ملنے سے انکارکردیتا ہے دوسری طرف اسریٰ اور آفاق جلد تاریخ طے کرنا چاہتے ہیں جبکہ ریحانہ بیگم سفینہ کے رویے کو لے کر فی الحال اس کی بیماری کا بہانہ بنا کر معذرت کرلیتی ہیں۔ آفاق سفینہ کی عیادت کی خاطر گھر آنا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں اس کی ملاقات پارک میں موجود سفینہ سے ہوجاتی ہے۔ دوسری طرف فائز شرمیلا کے ساتھ سفینہ سے ملنے کا ارادہ کرتا ہے اور شرمیلا کو سفینہ سے اپنی محبت کی دستبرداری، ماں کی پلاننگ غرض تمام باتوں سے آگاہ کرتے اسے اپنی مددکے لیے کہتا ہے شرمیلا اپنے یوں استعمال کیے جانے کو بخوبی سمجھ جاتی ہے مگر فائز کے آگے خاموشی اختیار کرلیتی ہے۔ آفاق کے سامنے سفینہ شادی سے معذرت کرلیتی ہے جب ہی آفاق اصل وجہ جاننا چاہتا ہے اور سفینہ اپنی شادی کے انتظامات کے حوالے سے خان ہائوس کو بیچنے کا تذکرہ کرتی ہے جبکہ آفاق اس بات کو لے کر شدید دکھ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
(اب آگے پڑھیے)
’’ اب کیسی طبیعت ہے؟‘‘ بہزاد خان جب شام کی چائے کے لیے ٹیرس پر آئے تو ریحانہ نے محبت اور فکرمندی سے پوچھا۔
’’ٹھیک ہوں۔‘‘ مختصر جواب دے کر وہ چپ چاپ چائے کا گھونٹ بھرنے لگے۔
کل رات کو اچانک ان کے سینے میں ایسا جان لیوا درد اٹھا کہ برداشت کرنا مشکل ہوگیا تھا۔ پسینے میں تربتر ہوگئے تھے۔ وہ تو شکر ہے کہ اپنے کمرے میں اکیلے تھے‘ ماں بیٹی کچن میں مصروف تھیں، اگر ان کے پاس ہوتیں تو بری طرح سے گھبرا جاتیں۔ کافی دیر بعد جب ریحانہ انہیں کھانے کے لیے بلانے آئیں تو سر میں درد کا بہانہ بنا کر آنکھ بند کرکے لیٹ گئے جب تک جاگتے رہے۔ بیٹی کا خیال ان کے ذہن سے چمٹا رہا اور اس کی شادی کے لیے انہوں نے اب سنجیدہ ہوکر عملی قدم اٹھانے کا تہیہ کرلیا تھا۔
’’کس سوچ میں گم ہیں؟‘‘ ریحانہ سے شوہر کی خاموشی برداشت نہ ہوئی تو نرمی سے پوچھا۔
’’آں… ہاں کوئی بات نہیں۔‘‘ وہ ٹال گئے۔
’’ہونہہ۔‘‘ ریحانہ نے سر ہلایا۔ دونوں کے درمیاں لمحے بھر کو خاموشی کی چادر تن گئی۔
’’تو کب آرہے ہیں وہ لوگ تاریخ لینے؟‘‘ ذائقے دار چائے کا گھونٹ بھرنے کے بعد پیالی میں جھانکتے ہوئے بہزاد نے کچھ دیر بعد پوچھا۔
’’بات ہوئی تھی تو اسریٰ بہن جلد ہی چکر لگانے کا کہہ رہی تھیں…‘‘ ریحانہ نے دھیرے سے بتایا۔
’’جلدی سے کیا مطلب؟‘‘
’’انہوں نے آنے کا کوئی دن نہیں بتایا؟‘‘ وہ ناگواری سے بولے۔
’’نہیں اس بارے میں کوئی واضح بات نہیں ہوئی۔‘‘ نفی میں سر ہلاتے ہوئے ان کے ہاتھ میں پکڑے کپ سے چائے چھلک گئی تو بہزاد نے ٹشو بڑھایا اور سوچ میں گم ہوگئے۔
/ ؤ // ؤ /
زمین پیروں کے نیچے سے کیسے نکلتی ہے، یہ احساس فائز جلال کو اس دن ہوا، جب وہ خود میں ہمت پیدا کرکے سفینہ کو بدگمان کرنے پہنچا تھا۔ اس نے پہلے بھی بڑی کی کوشش کی مگر سفینہ کی استقامت کے آگے ناکام ٹھہرا، کچھ اور نہ بن سکا تو تھک ہار کر شرمیلا کے کاندھے کا سہارا بھی لینا پڑا، اب جو سچ مچ اسے دسترس سے دور جاتے دیکھا تو جسم سے جاں کیسے نکلتی ہے اس امر کا اسے باخوبی اندازہ ہونے لگا۔
فائز نے پارک کے سامنے لے جاکر گاڑی پارک کی اور گردن گھما کر سفینہ کو تلاش کرنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد وہ ایک بنچ پر بیٹھی دکھائی دی‘ اس نے شرمیلا کو بیٹھے رہنے کا کہہ کر فرنٹ ڈور کھول کر اترنے کے لیے نیچے قدم رکھے۔
’’فائز ذرا ادھر تو دیکھیں۔‘‘ شرمیلا نے پیچھے سے اس کے کاندھے پر ہاتھ کا دبائو ڈالا اور اشارے سے کچھ دکھایا۔
’’یہ کون ہے؟‘‘ اس کے پیروں سے جیسے زمین سرکتی چلی گئی۔
’’زندگی میں کبھی یہ پل بھی آسکتے ہیں ایسا تو میں نے سوچا ہی نہیں تھا۔‘‘ دکھی لہجے میں بولتے ہوئے شرمیلا کی طرف دیکھا، فائز کی بے قراری دیکھ کر وہ بھی آبدیدہ ہوگئی۔
’’ایسا بھی ہوتا ہے۔ بس حوصلہ رکھیں کیوں کہ آپ جو کرنے جارہے ہیں اس کے بعد تو…‘‘ اس نے تسلی دینے کی کوشش کی مگر فائز کے چہرے کے بدلتے رنگ دیکھ کر بات ادھوری چھوڑ دی۔
’’کیا سفینہ نے بھی مجھ سے دور جانے کا فیصلہ کرلیا ہے؟ دل میں خدشہ کانٹے کی طرح چبھا۔’’ اس نے یہ ہی سب دکھانے کے لیے مجھے یہاں بلایا تھا؟‘‘ وہ سیٹ کی پشت سے ٹیک لگاتا ڈھے سا گیا اور منفی باتوں کے جال میں پھنسنے لگا۔
/ ؤ // ؤ /
’’سفی کہاں غائب ہے؟‘‘ بہزاد کو بیٹی کا خیال آیا تو بیوی سے پوچھا۔
’’وہ پارک تک گئی ہے۔‘‘ ریحانہ کے لہجے میں فکرمندی تھی۔
’’اچھا ٹھیک ہے۔‘‘ وہ سر ہلاتے چلے گئے۔
’’ویسے مجھے آپ سے اس بارے میں بات کرنی تھی۔‘‘ ریحانہ نے الجھے انداز میں کہا۔
’’ہاں تو بات کرنے میں کون سے ہاتھی گھوڑے لگتے ہیں کہہ دیجیے جو کہنا ہے۔‘‘ وہ بیوی کی تمہید پر چڑ سے گئے۔
’’سفینہ دو تین دن سے عجیب سا برتائو کررہی ہے۔ روزانہ شام کو پارک جاکر بیٹھ جاتی ہے، ایک دن تو میں بھی اس کے پیچھے چلی گئی، دیکھا کہ وہ کافی دیر ایک بنچ پر بیٹھ کر واپس چلی آئی مجھے ایسا لگا جیسے اسے کسی کا انتظار ہو۔‘‘ ریحانہ نے اپنی پریشانی بتائی۔
’’اچھا تو یہ بات ہے ہمیں اب جلد ہی اسریٰ بہن کو بلوانا پڑے گا۔‘‘ بہزاد سوچ میں پڑگئے۔
انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ سفینہ روازنہ فائز سے ملنے پارک جاتی ہے، مگر وہ ایک بار بھی وہاں نہیں آیا یعنی اب ہر بات اختتام تک جاپہنچی تھی۔
’’ایسا کریں کہ آپ خود کال کرکے اسریٰ بہن کو رسم کے لیے بلوالیں۔‘‘ وہ فوری طور پر فیصلہ تک جاپہنچے، انہیں بیٹی کو اس اذیت سے نکالنا تھا۔
’’کیا…! لڑکی والے ہوکر ہمارا ایسے بلانا ٹھیک ہوگا۔‘‘ ان کا سوالیہ انداز، شوہر کو تپا گیا تھا۔
’’ لڑکی والے ہونا کوئی جرم تو نہیں ہے آپ کو پتا ہے ناکہ آج کل تو شادی کی تاریخ ہال والے دیتے ہیں، وہ لوگ منہ سے کوئی بات نہیں نکالیں گے تو ہم بکنگ کیسے کروا ئیں گے؟‘‘ ان کے لہجے میں پریشانی سمٹ آئی تھی۔
’’یہ بات تو ٹھیک ہے۔‘‘ ریحانہ نے ماتھے پر ہاتھ مار کر کہا۔
’’ان کو کہیں ڈیٹ فکس کرلیں، ورنہ عین ٹائم پر ہال نہیں ملا تو بڑی پریشانی ہوگی۔‘‘ وہ مزاج کے برخلاف نرمی سے بولے۔
’’ایک بات اور کہوں؟‘‘ وہ تھوڑا ہچکچائیں۔
’’ہاں بولیں۔‘‘ حوصلہ دیتی نگاہوں سے دیکھ کر سر ہلایا۔
’’میری بڑی خواہش ہے کہ سفینہ کا نکاح شہر کے کسی بڑے ہوٹل میں کیا جائے۔‘‘ ریحانہ کی خواہش زبان پر آہی گئی۔
’’سفینہ کی شادی کے حوالے سے میرے من میں بھی بے شمار خواہشات سر اٹھا رہی ہیں مگر کیا کروں سب پوری ہونا ممکن نہیں۔‘‘ وہ حسرت سے بولے۔
’’ہماری ایک ہی بیٹی ہے اس کے لیے اپنا دل کچھ تو بڑا کریں۔‘‘ وہ بچوں کی طرح ضد کرنے لگیں۔
’’بیگم صاحبہ دل تو بہت بڑا ہے مگر کیا کروں جیب چھوٹی پڑ جاتی ہے۔‘‘ اپنی مجبوریوں کو سوچتے ہوئے، ان کا لہجہ نم ہونے لگا۔
’’اس گھر کو بیچ کیوں نہیں دیتے؟‘‘ وہ جل کر بولیں۔
’’کتنے لوگوں کو بول رکھا ہے، مگر ایسے کام چٹکی بجاتے ہی نہیں ہوجاتے، ویسے بھی جن خریداروں کے کان میں یہ بات پڑ جاتی ہے کہ میری بیٹی کی شادی ہونے والی ہے وہ مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اتنے کم دام لگاتے ہیںکہ مجھے غصہ آجاتا ہے اور میں انہیں باہر کا راستہ دکھا دیتا ہوں۔‘‘ بہزاد خان نے سرد آہ بھرتے ہوئے پوری بات بتائی۔
’’دنیا کتنی ظالم ہے۔‘‘ ریحانہ نے دکھی ہوکر کہا۔
’’چلیں تو شام کو اسریٰ بہن کو کال کرکے رسم کا معاملہ طے کرلیں۔‘‘ انہوں نے مشورہ دیا۔
’’وہ تو آجائیں گی مگر آپ کی بیٹی نے ہمیشہ کی طرح اعتراض اٹھایا تو پھر؟‘‘ انہوں نے سوالیہ نگاہوں سے شوہر کی طرف دیکھا۔
’’سفی کی فکر نہ کریں وہ اب کی بار ہماری بات نہیں ٹالے گی۔‘‘ ان کا مضبوط لہجہ ریحانہ کو سکون دے گیا۔
’’بیٹی کی تاریخ رکھنے جارہے ہیں، خاندان سے چند بڑوں کو بھی اس نیک کام میں شامل کرنا پڑے گا۔‘‘ ریحانہ نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔
’’میرے لیے تو خاندان کے سب سے بڑے جلال بھائی ہیں۔‘‘ وہ بڑبڑائے‘ لہجے میں محبتیں ہی محبتیں تھیں۔
’’آپ نے مجھ سے کچھ کہا؟‘‘ ریحانہ نے چونک کر پوچھا۔
’’نہیں بیگم صاحبہ‘ آپ کو اپنے میکے سے جس کو بھی بلانا ہو بلالیں‘ مگر میری طرف سے تو صرف جلال بھائی اور بھابی ہوں گے۔‘‘ بہزاد خان کا موڈ خوش گوار ہو چلا تھا۔
’’کیا؟‘‘ وہ چلا اٹھیں۔ ’’ان لوگوں کو تو میں ہرگز اس رسم میں شریک نہیں کروں گی۔‘‘ وہ تنک اٹھیں۔
’’اس بات سے آپ کا کیا مطلب ہے؟‘‘ بہزاد کے مزاج کی ترشی لہجے میں ابھر آئی۔
’’وہ ہی جو آپ سمجھ رہے ہیں۔‘‘ وہ بے خوفی سے بولیں۔
’’ویسے آپ چاہتے ہیں کیا ہیں کہ بیٹی کا رشتہ ٹوٹ جائے؟‘‘
’’میں ایسا کیوں چاہوں گا؟‘‘
’’شوق سے اپنی بھابی صاحبہ کو بلاوا بھیج دیں پھر تماشہ دیکھیے گا۔‘‘ وہ چبا چبا کر بولیں۔
’’ایسا کچھ نہیں ہوگا۔‘‘ ان کا کمزور لہجہ دفاع کرنے سے قاصر ہوا۔
’’اگر میری بات کا یقین نہیں تو ایک بار پھر تجربہ کرکے دیکھ لیں مگر ذہنی طور پر اس بات کے لیے تیار رہیے گا کہ بھابی نے سفینہ کی خوشیوں میں آگ لگانے کے سوا کچھ نہیں کرنا۔‘‘ شوہر کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ریحانہ شیرنی کی طرح دھاڑیں تو وہ سر جھکا کر خاموش ہوگئے۔
/ ؤ // ؤ /
’’پرنسز ہمارے گھر میں صرف ایک قیمتی چیز کی کمی ہے۔‘‘ آفاق کا بھاری لہجہ اس کی سماعتوں میں اترا۔
’’واہ صاحب اچھا ہے کہ آپ کی فرمائشوں کی پوٹلی اب میرے سامنے کھل جائے۔‘‘ اس نے سوچا اور ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ چھا گئی۔
’’مجھے تو بس آپ لوگوں سے ایک ہی چیز چاہیے۔‘‘ وہ سفینہ کے تاثرات سے اندر کا حال جان گیا، شفاف آنکھوں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے معنی خیز انداز میں مسکرایا۔
’’اس چیز کا کوئی نام بھی ہوگا؟‘‘ سفینہ نے جلتے لہجے میں پوچھا۔
’’اس کا نام ہے سفینہ بہزاد۔‘‘ آفاق کا گہرا لب و لہجہ دل میں اترنے لگا۔
’’مذاق چھوڑیں۔‘‘ وہ گھبرا کر نگاہیں چرانے پر مجبور ہوگئی۔
’’میں مذاق نہیں کررہا… سچ مچ مجھے آپ کے سوا اور کچھ نہیں چاہیے۔‘‘ اس کا انداز دل کو چھونے والا تھا۔ وہ آفاق شاہ کی خوبرو شخصیت کے سحر میں اُلجھ کر کچھ دیر کے لیے خاموش رہ گئی۔
’’یہ بات ممکن نہیں…‘‘ اس نے نگاہیں چرائیں۔
’’پرنسز… میری ڈکشنری میں تو کچھ بھی ناممکن نہیں آپ ایسا کیوں سمجھتی ہیں؟‘‘ اس نے شرارت سے پوچھا۔
’’مجھے پتا ہے کہ جس کے پاس جتنا ہوتا ہے اس کی لالچ اتنی ہی بڑھ جاتی ہے۔‘‘ سفینہ نے روکھے انداز میں کہا۔
’’اس کا مطلب ہے کہ آپ نے شاہ فیملی کے بارے میں کوئی خبر نہیں رکھی۔‘‘ وہ تھوڑا ناراض دکھائی دینے لگا۔
’’میں آپ کی فیملی کی نہیں زمانے کی بات کررہی ہوں۔‘‘ اس کو اپنے الفاظ کی سختی کا اندازہ ہوا تو صفائی دی۔
’’پرنسز ہم زمانے سے نہیں… ہم سے ہے زمانہ‘ اگر یقین نہ ہو تو ایک بار آزما کر دیکھیں۔‘‘
’’میرے ماں باپ تو لوگوں سے ڈرتے ہیں نا۔‘‘ اس کے لہجے کی بیچارگی عروج تک پہنچی۔
’’انہیں کسی سے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ اس نے بھونچکا ہوکر سوال کیا۔
’’کیوں کہ ہم اسی سماج کا حصہ ہیں تو… پھر نام نہاد سماج کے ٹھیکیداروں سے، ان کی نوکیلی زبانوں اور فضول کے رواجوں سے سمجھوتا تو کرنا پڑتا ہے۔‘‘ وہ بے اختیار ہوکر بولتی گئی۔
’’اچھا ٹھیک ہے اگر میں آپ کو یہ گارنٹی دوں کہ ہماری شادی میں ایسا کچھ نہیں ہوگا؟‘‘ اس نے بڑی محبت سے آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سوال کیا۔
’’مجھے کسی طرح کی گارنٹی کی ضرورت نہیں۔‘‘ اس نے نروٹھے پن کی انتہا کردی۔
’’سفینہ سمجھنے کی کوشش کریں میں جہیز جیسی فضول قسم کی رسموں کو نہیں مانتا۔ مجھے تو بس آپ کا ساتھ چاہیے۔‘‘ بیلے سی مہکتی لڑکی کی موجودگی نے اس کے جذبوں کو مہکا دیا تھا۔
’’اب میں کیسے سمجھائوں؟‘‘ سفینہ کے دل و دماغ میں سوچ کے آندھیاں سی چلنے لگیں تھیں۔
’’ان شفاف اور بے غرض رشتوں کی پذیرائی میرے لیے ممکن نہیں۔‘‘ اپنی بے بسی کا احساس آنکھوں میں نمی لے آیا۔ نرم لب سختی سے ایک دوسرے میں پیوست ہوگئے۔
’’تو پھر ڈن۔‘‘ آفاق نے مسکرا کر اپنا ہاتھ پھیلایا۔ اچانک تند ہوائوں نے ان دونوں کو اپنے گھیرے میں لے لیا تھا۔
/ ؤ // ؤ /
شرمیلا کے اشارے پر فائز نے نگاہیں اٹھا کر دیکھا تو سفینہ کو کسی کے ساتھ باتوں میں مگن پایا تھا، گو کہ لڑکے کی فائز کی طرف پشت تھی۔ اس لیے شکل واضح دکھائی نہیں دی مگر لمبی قامت کسرتی جسم کی جھلک اس کی خوبروئی کی گواہ تھی۔ وہ جہاں کا تہاں رہ گیا اسے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہیں آیا۔ دور سے اس لڑکے کا سفینہ کی جانب بڑھا ہوا ہاتھ کوئی اور ہی کہانی سنا رہا تھا۔ وہ سر تھام کر رہ گیا۔ شرمیلا بھی گم صم سی ان دونوں پر نگاہیں جمائے، سمجھنے میں مصروف تھی کہ پارک میں چل کیا رہا ہے؟ اسے فائز کی خاموشی بھی دہلائے جارہی تھی۔ شرمیلا نے اسے تسلی دینے کا سوچا مگر نگاہ بھرکر دیکھنے کی ہمت بھی جواب دے گئی۔ فائز کی سوجی ہوئی سرخ آنکھوں سے کرب ناکی جھانک رہی تھی۔
سفینہ سے علیحدگی کے بارے میں سوچنا آسان لگ رہا تھا‘ عمل کا وقت آیا تو وجود میں بھونچال اٹھنے لگے۔ کسی اور سے باتیں کرتے دیکھنا، اس کی برداشت سے باہر تھا اور وہ تو تا عمر کے لیے اسے چھوڑنے کا فیصلہ کیے بیٹھا تھا۔ یکایک ہوا میں تیزی آگئی درخت‘ پھول پتے تیزی سے ہلنے لگے۔ وہ ساکت بیٹھا ان دونوں کو دیکھنے میں محو تھا‘ گرد و غبار کا طوفان اٹھا۔ شرمیلا نے کھڑکی کا شیشہ اوپر کرتے ہوئے ہوائوں کی تندی کو محسوس کیا۔
/ ؤ // ؤ /
سفینہ کو خود پر ترس آنے لگا۔ ایک دم سسک سسک کر رو دی۔
’’اللہ کے لیے‘ سفینہ میرے سامنے ایسے نہ روئیے۔‘‘ ایک طرف موسم کے بدلتے تیور دوسری جانب سفینہ کی آنکھ میں آنسو۔ آفاق گھبرا اٹھا۔ آنسو تواتر سے اس کے گال پر پھسلتے جارہے تھے۔
’’میں تو کسی کی آنکھ میں آنسو نہیں دیکھ سکتا اور آپ تو میرے لیے بہت اسپیشل ہیں۔‘‘ اسے ٹشو دیتے ہوئے معصومیت سے بولا۔ سفینہ کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی، ٹشو تھام لیا۔
’’پارک اس وقت سنسان ہے، ورنہ ہمیں لینے کے دینے پڑسکتے تھے۔‘‘ اس کا انداز ایسا تھا کہ سفینہ کی ہنسی چھوٹ گئی۔
’’اچھا اگر میں اتنی ہی عزیز ہوں تو پھر آپ مجھ سے ایک پرامس کریں گے؟‘‘
’’ہاں بتائیں میں آپ کی خوشی کے لیے سب کچھ کروں گا۔
’’پرامس کرتے ہیں۔‘‘
’’بولیں تو سہی۔‘‘
’’شادی سے انکار کردیں۔‘‘
’’یہ کیا کہہ رہی ہیں میں ایسا کیسے کرسکتا ہوں؟‘‘ آفاق درختوں کی ہلتی شاخوں کو دیکھتا ہوا اندر سے خود بھی ہل گیا۔
’’ایسا کرنا پڑے گا کیوں کہ اگر ہماری شادی ہوگی تو ابو خان ہائوس کو بیچ کر سارا خرچہ کریں گے۔‘‘ وہ ہوائوں کی تیزی سے گھبراتے ہوئے بولی۔
’’کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم ساری شادی کا خرچہ اٹھالیں۔‘‘ اس نے ڈرتے ہوئے کہا۔
’’جی نہیں کیا سمجھ رکھا ہے ہمیں۔‘‘ وہ بھنا اٹھی۔
’’تو آپ نے ہماری فیملی کو کیا سمجھ رکھا ہے ہاں؟‘‘ بے ساختہ ہنسی اس کے لبوں تک چلی آئی۔
’’ویسے یہ حل مجھے منظور نہیں۔‘‘ سفینہ نے ہوا سے بکھرتے بالوں کو ایک ہاتھ سے سمیٹتے ہوئے صاف گوئی سے جواب دیا۔
’’یہ نہیں وہ نہیں پھر… کریں تو کیا کریں؟‘‘ آفاق نے مسکرا کر پوچھا۔
’’بس شادی کا یہ سلسلہ موقوف کردیا جائے۔‘‘ اس نے ہاتھ جھاڑتے ہوئے بات ختم کرنا چاہی جو بلاوجہ طول پکڑ رہی تھی۔
’’سفینہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ اگر آپ کی کہیں اور شادی ہوئی اور اس وقت گھر بیچنے والا معاملہ دوبارہ اٹھا تو پھر کیا کریں گی۔‘‘ وہ ایک دم سے دکھی ہوکر بولا۔
’’جب وہ وقت آئے گا تو دیکھیں گے مگر اس وقت ہم دونوں کے بیچ کا یہ طبقاتی فرق میرے والدین کو پریشان کیے ہوئے اور وہ آپ کے اسٹینڈرڈ کے مطابق شادی کرنے کے لیے گھر بیچنے پر تلے بیٹھے ہیں اور میں اپنی خوشی کے لیے ان دونوں کو اس عمر میں بے گھر نہیں کرسکتی۔‘‘
’’اس بارے میں اتنی جلد بازی کی ضرورت نہیں۔‘‘ اس نے ہاتھ اٹھا کر اسے مزید کچھ کہنے سے روکا۔
’’میں خود ہی اس مسئلے کا کوئی حل نکال لوں گا۔‘‘ خود کلامی کرتا ہوا وہاں سے چل دیا۔ سفینہ نے ہاتھوں میں تھامے پھول زمین پر پھینک دیئے اور سر تھام لیا۔
/ ؤ // ؤ /
لاعلمی کیسی کیسی اذیتوں کو کم کرنے کی وجہ ہوتی ہے۔ انسان بے خبر ہو تو ایسے راستوں پر سے بھی گزرتا چلا جاتا ہے، جس کی کوئی منزل نہ ہو لیکن کانٹوں بھری راہ گزر کا انتخاب کوئی جان بوجھ کے نہیں کرتا مگر فائز نے ایسا ہی کیا۔ اسے اختیار حاصل تھا کہ وہ اپنی راہ کے سارے کانٹے چن لے مگر اس نے ایک بار جو فیصلہ کیا بس اسی پر ڈٹ گیا۔ اسے پتا چل گیا تھا کہ وہ اپنی اور سفینہ کی نئی زندگی کی بنیاد جس زمین پر رکھنے کا خواہش مند ہے۔ وہ اندر سے بے حد کھوکھلی ہے۔ اس کا ساتھ سفینہ کو خوشیوں کی جگہ مزید پستیوں میں دھکیل سکتا ہے۔ ورنہ سفینہ تو اس کے روم روم میں بسی ہوئی تھی۔ اسی لیے ایک چبھن، ایک گھٹن پورے وجود کو اپنی لپیٹ میں لیتی چلی گئی۔
’’کیا میں سفینہ سے الگ ہوسکتا ہوں؟‘‘ وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلتے ہوئے خود سے پوچھ بیٹھا۔
’’اپنی چاہت کو کسی اور کا ہوتا دیکھ سکتا ہوں مشکل ہے؟‘‘ ایک اور سوال ذہن میں کلبلایا۔
’’اس سے منہ موڑنا آسان نہیں۔‘‘ یہ اعتراف کرتے ہوئے وہ پارک کے قریب پہنچ گیا۔
فائز نے اس سے قبل سفینہ کو خود سے الگ کرنے کی کتنی کوشش کرلی‘ کئی بار سفینہ کو دھتکارا، جھٹلایا اور نظر انداز بھی کیا اس کے باوجود سفینہ کا اس کی طرف لپکنا اسے لاشعوری طور پر شاداں رکھتا تھا مگر اپنی آنکھوں سے اسے کسی اور کے ساتھ یوں گھل مل کر باتیں کرتے دیکھنا‘ ایک عذاب سے کم نہ تھا۔ لمبے لمبے ڈگ بھرتا، جب تک ان دونوں کے نزدیک پہنچتا، وہ لڑکا پارک کے دوسرے دروازے سے نکل کر باہر جاچکا تھا۔
’’کہیں یہ وہ ہی امیر زادہ تو نہیں جس کا رشتہ سفی کے لیے آیا تھا؟‘‘ اس نے کینہ توز نگاہوں سے اس کی چوڑی پشت کو دیکھا اور پھر ہونٹ چباتا ہوا سفینہ کی طرف بڑھا۔
/ ؤ // ؤ /
’’کیا خبر ہے چاچا؟‘‘ مومل نے سامنے کھڑے ملازم سے پوچھا، جو دو گھنٹے قبل ہی شہر سے گائوں آیا تھا۔
’’بی بی جی میری نگاہیں تو نبیل صاحب کے اردگرد رہتی ہیں۔‘‘ اس نے باادب ہوکر جواب دیا۔
’’اچھا تو پھر شہر کے معاملات ٹھیک ٹھاک چل رہے ہیں؟‘‘ مومل نے سکون بھری سانس لیتے ہوئے سر ہلایا۔
’’ہاں جی ویسے تو سب ٹھیک ہے مگر…‘‘ وہ کچھ بولتے بولتے جھجکا۔
’’کیا بات ہے چاچا جو کہنا ہے کھل کر بولو۔‘‘ وہ چونک گئی‘ مضطرب ہوکر فوراً پوچھا۔
’’کبھی… کبھی صاحب اپنے آفس میں یا دوست کے دفتر میں وقت ختم ہونے کے بعد بھی گھنٹوں بیٹھے رہتے ہیں۔‘‘ اس نے نگاہیں جھکا کر بتایا۔
’’اچھا تو اس میں کون سی بڑی بات ہے ہوسکتا صاحب کی توجہ کام پر بڑھ گئی ہو۔‘‘ وہ متفکر انداز میں سوچتے ہوئے بولی۔
’’نہیں بی بی جی ایک بار جب کافی دیر ہوگئی تو میں نے پتا لگانے کے لیے دفتر کے اندر جانا چاہا، اسی وقت اچانک ان کا چپڑاسی دروازے کے سامنے آگیا اور مجھے باتوں میں لگالیا اور بہانے سے دوسری طرف لے گیا۔‘‘ وہ پوری بات بتانے کے بعد سائیڈ میں جاکر کھڑا ہوگیا۔
’’کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ یہ محض ایک اتفاق ہو؟‘‘ اس نے کچھ دیر سوچنے کے بعد سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔
’’اصل میں چپڑاسی کا اپنی ڈیوٹی کے بعد وہاں موجود ہونا حیرانی کا باعث تھا۔‘‘ مالک چاچا نے سنجیدگی سے بتایا۔
’’اس کا مطلب ہے کہ مجھے خود شہر آنا پڑے گا۔‘‘ مومل نے خود کلامی کی اور اندر کی جانب بڑھ گئی۔ وہ کچھ دیر بعد ہی لوٹ آئی۔
’’چاچا یہ پیسے رکھ لو اور اگلی بار آنے کی بجائے ہمیں فون پر ساری رپورٹ دے دینا۔‘‘ مومل نے پیسوں کے ساتھ پرچی پر لکھا ہوا اپنا نمبر بھی چاچا کو پکڑایا۔
سلام… بی بی جی چلتا ہوں۔‘‘ چاچا نے جھک کر ادب سے سلام پیش کیا اور الٹے قدموں لوٹ گیا۔
’’ہونہہ چور چوری سے جائے مگر ہیرا پھیری سے نہیں۔‘‘ وہ بہت دیر تک پریشانی سے ٹہلتے ہوئے ایک ہی بات سوچتی رہی۔
/ ؤ // ؤ /
’’میرے انتظار کا بہانہ بنا کر یہاں کس سے ملاقات کی جارہی تھی۔‘‘ فائز کے لہجے میں جانے کہاں سے چٹانوں کی سی سختی ابھر آئی تھی۔
’’اوہ… آگئے آپ۔‘‘ اس کے خیالوں کی مالا جھٹ سے دانہ دانہ ہوکر بکھر گئی۔
’’میں نے جو پوچھا ہے پہلے اس کا جواب دو۔‘‘ سفینہ کے قدموں میں پڑے گلاب اسے دہکتے انگارے محسوس ہوئے۔
’’آپ نے سوال و جواب کا حق کھو دیا ہے۔‘‘ باوجود خود پر انتہائی ضبط کرنے کے اس کا لہجہ کڑا ہوگیا۔
’’شٹ اپ… سفینہ۔ تم میرے ساتھ کبھی مخلص تھیں ہی نہیں۔ صرف وقت گزاری کررہی تھیں۔‘‘ غصے سے اس کی آواز پھٹ گئی۔
’’سوچ سمجھ کر بات کریں۔‘‘ سفینہ اس کے الزام پہ ہکابکا رہ گئی۔ رنج کی شدید لہر نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
’’کیوں ابھی کچھ دیر پہلے تم یہاں کھڑے اس شخص سے عہدو پیماں میں مصروف نہیں تھی۔‘‘ اس نے جان بوجھ کر اسے مزید بھڑکایا۔
’’افسوس ہورہا ہے مجھے خود پر کہ میرا انتخاب کتنا غلط نکلا۔ جو شخص میری سچی محبت کو نہیں پرکھ سکا‘ میں اسے اپنی پوری زندگی سونپنے چلی تھی۔‘‘ فائز کا شک کرنا اسے طیش میں مبتلا کر گیا۔
’’چلو اچھا ہوا کہ تم نے خود سے سارے بھرم توڑ دئیے۔‘‘ اس کا جلال عروج تک جاپہنچا مگر وہ ذرا بھی متاثر نہ ہوئی۔
’’ہاں تو آپ نے کون سی کسر چھوڑی۔‘‘ جو کچھ کہنا تھا سب کچھ بھول بھال وہ ایک نئی جنگ لڑنے کو تیار کھڑی تھی۔
’’ٹھیک ہے تو ایک آخری بات سن لو سفینہ اگر تم نئی راہوں کی طلب گار ہو تو میں بھی پیچھے مڑ کر دیکھنے والا نہیں۔‘‘ اس نے خود پر جبر کرتے ہوئے منہ سے یہ الفاظ نکالے۔
’’یااللہ… اب مزید کون سی آزمائش باقی ہے؟‘‘ وہ ہکابکا سی اسے دیکھنے لگی‘ اس کی سچی محبت کو ایک ہی پل میں کس بری طرح سے اپنے قدموں تلے روند دیا تھا۔
’’آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟‘‘ یقین نہیں آیا کہ اس کے کانوں نے جو سنا سچ ہے‘ تصدیق چاہی۔
’’آج سے میرا اور تمہارا کا ہر تعلق ختم۔‘‘ اس نے بڑی مشکل سے اعتراف کیا۔
’’فائز دماغ تو ٹھیک ہے؟‘‘ وہ ایک دم طیش سے بولی۔
’’میں نے اس حقیقت کو مان لیا ہے کہ ہمارا ساتھ یہیں تک کا تھا، تم بھی اب واپس پلٹ جائو۔‘‘ نگاہیں چرا کر بولتے ہوئے اس کے غصے کو نظر انداز کیا۔
’’فائز کہیں مذاق تو نہیں کررہے۔‘‘ اس کا دل سوکھے پتے کی طرح لرزنے لگا پھر بھی خود کو جھوٹی تسلی دینا چاہی۔
/ ؤ // ؤ /
’’آپ… واپس جارہے ہو۔‘‘ مومل نے اسے پیکنگ کرتے پاکر سرد آہ بھری۔
’’ہاں… جانا تو ہے۔‘‘ نبیل ٹھٹکا۔ پھر پلٹا اور اسے نرم نگاہوں سے تکتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔
’’اس بار میں بھی ساتھ چلوں؟‘‘ ایک آس لہجے میں چھپی ہوئی تھی۔
’’کچھ دن اور یہاں گزار لو اس کے بعد تو تمہیں میرے ساتھ وہیں رہنا ہی ہے۔‘‘ اس کا انداز دلجوئی والا ہوا۔
’’مجھے کب تک آپ سے دور رہنا پڑے گا؟‘‘ مومل کے چہرے سے واضح بے بسی چھلکی۔
’’ادھر آئو اور یہ بتائو کہ ہم دونوں ایک دوسرے سے دو رہی کب ہیں؟‘‘ نبیل نے اُسے بھرپور توجہ و محبت سے اپنے قریب بٹھایا۔
’’کتابی باتوں سے نہ بہلائیں مجھے سچ مچ میں آپ کا ساتھ چاہیے۔‘‘ وہ خشک لہجے میں بولی۔
’’جان بس کچھ دن کی بات ہے تمہاری اماں کی طبیعت بھی ٹھیک ہوجائے تو میں تمہیں وہاں بلوالوں گا۔‘‘ اس سے کوئی اور بہانہ نہ بن سکا تو اپنی ساس کو بیچ میں لے آیا۔
’’نبیل کسے خبر ہے کہ آنے والا کل اپنے ساتھ کیا لے کر آتا ہے۔‘‘ وہ دکھی ہوگئی، کتنی مشکلوں سے بیماری کا بہانہ بنا کر تو اسے بلوایا تھا، مگر دو دن گزرتے ہی وہ جانے کو پر تولنے لگا۔
’’مومل تم کہنا کیا چاہتی ہو؟‘‘ اس کے اندر بے بسی طاری ہونے لگی۔
’’میں نے سنا ہے شہر میں ایک ساحرہ ہے جس نے تمہیں اپنا اسیر بنایا ہوا ہے۔‘‘ اس نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا تو وہ کھسیانی ہنسی ہنستا چلا گیا۔
/ ؤ // ؤ /
’’جانتے بھی ہیں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘ وہ بھونچکی رہ گئی۔
’’ہاں… میں کوئی بچہ تھوڑی ہوں۔‘‘ وہ مصنوعی غصہ دکھاتے ہوئے اپنی آستین کا کف الٹنے لگا، وجود میں بھانبھڑ سے جلنے لگے تھے۔
’’آپ ایسا کیوں کررہے ہیں؟‘‘ حیرت اس کی آنکھوں میں جم سی گئی۔
’’میں کسی اور سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ اس کے چہرے کے تاثرات پر نگاہیں جما کر بولا۔
’’فائز…‘‘ اس کے نقوش چٹخنے لگے۔
’’سچائی کو ماننے میں ہی ہم سب کی بھلائی ہے۔‘‘ اس نے بظاہر خشک لہجے میں کہا۔
’’بہتر یہ ہی ہے کہ تم بھی، چاچی کی بات مان کر اس امیر زادے کے لیے ہاں بول دو۔‘‘ وہ دوسری جانب دیکھتے ہوئے بڑی مشکل سے بولا۔ سفینہ نے چونک کر ایک نظر فائز کے چہرے پہ ڈالی۔ اس کے پتھریلے تاثرات دیکھ کر وہ ہلدی کی طرح زرد پڑ گئی تھی۔
’’آپ ایسا کیسے کرسکتے ہیں؟‘‘ کچھ دیر بعد اس کے گلابی لب لرزے۔
’’یار میں۔ روز روز کے لڑائی جھگڑوں سے تھک چکا ہوں اور اب زندگی میں سکون چاہتا ہوں۔‘‘ اس نے زچ ہوتے ہوئے سمجھانا چاہا، دل پر بہت کڑی گزر رہی تھی۔ کیسے بتاتا کہ اس کی عزت کی خاطر تو اپنے جذبوں کو آگ میں جھونک دیا۔
’’ان سب باتوں میں بھلا میرا کیا قصور؟‘‘ اس نے روتے ہوئے سوالیہ انداز میں دیکھا۔
’’چھوڑ دو سفینہ اگر ہم ایک دوسرے کے قصور بتانے لگ گئے تو کوئی اپنی غلطی نہیں مانے گا۔‘‘ وہ منہ بناکر ترشی سے بولا اور جانے کو قدم بڑھائے، اسے ڈر ہوا کہ کہیں کمزور نہ پڑجائے۔
’’تائی اماں نے ہمیشہ میری ذات کی دھجیاں بکھیریں‘ میں چپ رہی‘ ہماری بے عزتی کی گئی میں مہر بہ لب رہی۔ صرف اس لیے کہ نہیں چاہتی تھی ہمارا خاندان بکھر جائے لیکن آج تو‘ آپ نے تو مجھے میری نظروں میں ہی گرا دیا۔‘‘ وہ غصے سے بولتی ہی چلی گئی۔
’’اس بات کے لیے تمہارا بہت بہت شکریہ۔‘‘ جان کر طنز کیا گیا۔
’’میرا قصورکیا ہے؟ مجھے رد کرنے کے لیے کوئی تو جواز بناکر پیش کریں۔ بلاوجہ مجھے چھوڑ کر جانا سراسر زیادتی ہوگی۔‘‘ اب وہ مشتعل ہوکر بولی۔
’’میں نے شرمیلا سے شادی کرنے کا اٹل فیصلہ کرلیا ہے، وہ نہ صرف ممی کی پسند ہے بلکہ مجھے بھی بہت اچھے طریقے سے سمجھتی ہے۔ کیا یہ جواز کافی نہیں؟‘‘ فائز نے پل بھر کے لیے آنکھیں بند کی‘ پھر کھولیں اور بولتا گیا۔ وہ سن سی سنتی رہی۔
/ ؤ // ؤ /
’’کیا ہوا؟‘‘ نبیل مسلسل ہنسے جارہا تھا، مومل نے اسے دھکا دے کر بستر پر گرایا تو وہ سنبھلتے ہوئے بولا۔
’’میں سنے کون سی ہنسنے والی بات کی ہے؟‘‘ وہ اسے گھور کر بولی۔
’’تمہاری معصومیت پر ہنسی آرہی ہے یار…‘‘ اس کے قریب ہوکر بیٹھتے ہوئے‘ لفظوں کے کھلاڑی نے جال پھینکنا شروع کیا۔
’’میں کچھ سمجھی نہیں۔‘‘ وہ دور ہوتے ہوئے خفگی سے بولی۔
’’مجھ پر تو صرف تمہاری ان حسین آنکھوں کا جادو چلتا ہے…‘‘ اس نے شرارت آمیز انداز میں اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
’’مجھے باتوں میں مت الجھائو۔‘‘ وہ شرم سے سرخ پڑتے ہوئے تھوڑا پُرسکون ہوئی۔
’’اچھا تو پھر کیا محبت کا عملی مظاہرہ پیش کروں۔‘‘ وہ معنی خیز انداز میں مسکرایا اور خود سے قریب کیا۔
’’کیا مطلب؟‘‘ مومل کی جان نکلتی چلی گئی، وہ بدک کر دور ہوئی۔
’’ارے بھئی تم کیا سمجھ رہی ہو؟ میرا مطلب تھا کہ مجنوں بن کر جنگلوں میں نکل جائوں؟‘‘ لگاوٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے، اس کے نرم ہاتھوں کو چھوا۔
’’کوئی ضرورت نہیں ڈرامے بازی کی۔‘‘ اس کے دوسرے جملے پر وہ پوری بات سمجھی تو بھنویں اچکائی۔
’’یار کسی نے سچ کہا ہے کہ بیوی کو کسی حال میں بھی خوش نہیں رکھا جاسکتا۔‘‘ وہ بڑی دلکشی سے بھاری لہجے میں بولا تو مومل نے اسے نثار ہوتی نظروں سے دیکھا۔
’’نبیل… پلیز کچھ دن اور رک جائیں نا۔‘‘ اس کی قربت کی سرشاری محسوس کرتے ہوئے بڑی آس سے کہا۔
’’جانا تو ضروری ہے جاناں۔‘‘ اس نے بیوی کو پھر باتوں میں الجھایا۔
’’میں آپ کو نہیں جانے دوں گی۔‘‘ اس نے تپ کر سامان والا بیگ الٹ دیا اور سینے پر ہاتھ باندھ کر کھڑی ہوگئی۔ وہ بھنا گیا۔
/ ؤ // ؤ /
’’آپ نے مجھ سے محبت کرنے کا حق ہی چھین لیا؟‘‘ اس نے بے بس نظروں سے دیکھتے ہوئے یوں کہا کہ فائز جلال کے دل پر آرے چلنے لگے۔
’’سفینہ یہ ہی سچ ہے، کیوں کہ میں نے یہ حق اب شرمیلا کو سونپ دیا ہے۔‘‘ لگا تار جھوٹ بولنے کے بعد رکنا مشکل ہوا۔ وہ تیز قدموں سے داخلی گیٹ کی طرف بڑھ گیا‘ جہاں اس نے کار پارک کی تھی، مزید رکتا تو شاید سفینہ کو اپنے سینے میں چھپا کر ساری دنیا سے دور لے جانے کی خواہش کو عملی جامہ پہنا دیتا۔
’’آپ نے مجھ سے الگ ہونے کا سوچ کر میری پہلی چاہت‘ کو بے مایہ کردیا۔‘‘ وہ اذیتوں کے تیز ریلے میں بہتی چلی گئی اور دو زانوں بیٹھی روئے جارہی تھی۔
فائز نے جاتے ہوئے لمحہ بھر کو مڑ کر دیکھا، سنہری آنکھوں سے تواتر گرتے ہوئے اشک دل پر تیزاب کے چھینٹے بن کر داغ چھوڑ گئے۔ وہ جلدی سے کار کا فرنٹ ڈور کھول کر بیٹھا اور تیز تیز سانس لینے لگا، شرمیلا نے اسے نہ سمجھ آنے والی نگاہوں سے دیکھا اور بازو تھام کر تسلی دینے لگی۔ سفینہ نے کار کے نزدیک پہنچ کر جھک کر گاڑی میں جھانکا مگر شرمیلا کو اس طرح سے فائز کے نزدیک پاکر اس کا وجود کرچیو ں میں بکھرتا چلا گیا۔
’’سو میں خاموشی سے اپنی محبت سے دستبردار ہوتی ہوں۔‘‘ اس نے پیچھے ہٹتے ہوئے بات مکمل کی۔ ان دونوں کو اتنے پاس بیٹھا دیکھ کر بالآخر دل کو اس حقیقت کو ماننے کے لیے تیار کرنا ہی پڑا کہ اب فائز اس کا نہیں رہا ان کے درمیاں ہجر کی نہ ختم ہونے والی سیاہ رات طاری ہوچکی ہے۔
’’سفینہ سنو۔‘‘ شرمیلا نے فائز کے ہاتھ پر سے اپنا ہاتھ ہٹایا اور جھجکتے ہوئے اسے پکارا۔
’’نہیں…‘‘ فائز نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے بڑی بے بسی سے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
’’ڈونٹ وری میرا اور ان کا ہر تعلق ختم ہوچکا ہے۔‘‘ اس نے ہاتھ اٹھا کر شرمیلا کو کچھ کہنے سے روکا۔
’’میں تو آپ کی محبت کو ایک برا سپنا سمجھ کر بھول جائوں گی مگر کیا آپ بھول سکیں گے؟‘‘ اس کے لہجے میں اتنا شکوہ و درد تیر رہا تھا کہ فائز کا وجود کپکپا نے لگا۔ وہ اپنی چاہت پر الوداعی نگاہ ڈالنے کی ہمت بھی کھو بیٹھا۔
’’گڈلک… شرمیلا جی امید ہے کہ آپ میری حالت سے سبق حاصل کریں گی۔‘‘ سفینہ نے زہرخند نگاہوں سے فائز کو دیکھتے ہوئے چبا چبا کر کہا اور ایک دم گاڑی سے یوں دور ہوئی، جیسے فائز کی زندگی سے دور چلی گئی ہو۔
فائز کے اندر اس لمحے سے فرار حاصل کرنے کی خواہش اتنی شدت سے جاگی کہ اس نے اگنیشن میں کپکپاتے ہاتھوں سے چابی گھمائی‘ اس سے قبل کے وہ خود پر سے اختیار کھو دیتا، جھٹکے سے گاڑی اسٹارٹ کی اور زن سے بھگا لے گیا‘ شرمیلا نے اس کی تیز رفتاری سے گھبرا کر سیٹ پکڑ کر اپنا توازن برقرار رکھا۔ سفینہ اپنی جگہ جمی کھڑی دھوئیں کے ساتھ اپنا وجود ہوا میں تحلیل ہوتا ہوا محسوس کرنے لگی۔
/ ؤ // ؤ /
’’مائی گاڈ یہ کیا کیا؟‘‘ وہ ہکابکا رہ گیا پھر اس کے اندر کا غصہ ابھر آیا۔
’’تو پھر کیا کرتی آپ مان ہی نہیں رہے تھے۔‘‘ مومل نے بیچارگی سے کہا۔
’’تم… تم جائو یہاں سے۔‘‘ نبیل اس حرکت پر بری طرح سے چیخا۔
’’نبیل آپ میری انسلٹ کررہے ہیں۔‘‘ بیوی کی محبت سوگئی، اندر کی انا بیدار ہوگئی۔
’’شٹ اپ… مجھے میرا کام کرنے دو ورنہ میری فلائیٹ مس ہوجائے گی۔‘‘ اس نے دوبارہ انگلی سے باہر جانے کا اشارہ کیا اور بے اعتنائی سے منہ موڑ کر دوبارہ پیکنگ شروع کردی۔
’’پتا نہیں خود کو کیا سمجھتے ہیں؟‘‘ کچھ دیر وہ کمر پر ہاتھ رکھ کر اسے یونہی غصے سے دیکھتے ہوئے بڑبڑائی۔
’’تم گئی نہیں ابھی تک۔‘‘ نبیل نے تپ کر اس کا بازو تھاما اور دروازے تک چھوڑ آیا۔
’’جاتی ہوں مگر آپ کو ایسی باتیں بہت مہنگی پڑنے والی ہیں۔‘‘ وہ بری طرح سے ناراض ہوئی۔
’’جائو… جائو۔‘‘ اس نے لاپروائی سے کاندھے اچکائے۔
’’ابھی آپ نے مجھے صحیح سے جانا نہیں ہے۔‘‘ شوہر کے اہمیت نہ دینے پر دھمکی دی اور پیر پٹختی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔
نبیل نے گہرا سانس بھرا اور سر جھٹک کر کام میں لگ گیا۔ وہ اِس وقت بیوی کے پیچھے جاکر اسے منانے کا خطرہ مول لینے کے حق میں نہیں تھا، جانتا تھا کہ ذرا سی کمزوری دکھانے کا مطلب گائوں میں مزید ایک ہفتہ قیام کرنا پڑتا۔ ویسے بھی اس کے سینے میں تو شرمیلا کی بے رخی نے آگ دہکادی تھی، جسے بجھانے کے لیے واپس جانا ضروری تھا۔ اسے مومل کی چاہت کہاں دکھائی دے رہی تھی۔
/ ؤ // ؤ /
’’سفینہ تھوڑی دیر بعد تم چائے لے کر ڈرائنگ روم میں آنا۔‘‘ ریحانہ نے کباب تلنے کے لیے رکھے اور بیٹی کو ہدایت دی۔
’’جی امی آپ جائیے‘ میں لے کر آتی ہوں۔‘‘ اس نے سعادت مندی سے سر ہلایا۔ مگر چہرے سے کچھ ظاہر ہونے نہ دیا، یہ بات صرف وہ ہی جانتی تھی کہ اس لمحے کے لیے خود کو کس طرح سے منایا تھا۔ اندر آفاق شاہ اور اسریٰ بیگم آئے بیٹھے تھے۔ ریحانہ کے جانے کے بعد سفینہ نے چائے نکالی ٹرالی میں کیک، نمکو، ڈونٹس اور کباب رکھے اور ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ گئی۔ اندر سے آتی آوازوں نے اس کے قدم باہر ہی روک دئیے تھے۔
’’مسز بہزاد آج مجھے آپ سے بہت اہم بات کرنی ہے۔‘‘ اسریٰ بیگم جوش و خوشی کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ بولیں۔
’’ہاں بہن… بولیے کیا بات ہے؟‘‘ وہ خوشدلی سے مسکرائیں۔
’’آپ لوگوں پلیز برا مت منائیے گا۔‘‘ ان کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیسے کہیں۔
’’خیر تو ہے؟‘‘ ریحانہ کا دل دھڑکا۔ باہر کھڑی سفینہ کے دل کی دھڑکن بھی ایک دم سے تیز ہوگی۔
’’مجھے لگتا ہے کہ آفاق اور اسریٰ آنٹی انکار کرنے آئے ہیں۔‘‘ وہ ماں کو مزید کوئی دکھ دینا نہیں چاہتی تھی مگر اس کی بے وقوفی سے یہ لمحہ آگیا تھا۔ سفینہ کی برداشت جواب دے گئی تو وہ بڑی سرعت سے چائے کی ٹرالی لے کر اندر داخل ہوئی اور زور سے سلام کیا، سب نے مسکرا کر اس کا خیر مقدم کیا۔
’’آپ کچھ کہہ رہی تھیں۔‘‘ سلام دعا کے بعد ریحانہ نے بے قراری سے پوچھا۔ سفینہ چائے پیش کرنے میں لگ گئی مگر اس کے کان، ان کی باتوں پر ہی لگے ہوئے تھے۔ آفاق شاہ اس پر ایک سرسری نظر ڈال کر خالہ کی باتوں کی طرف متوجہ ہوگئے مگر نہ جانے اس اچٹتی نگاہ میں کون سا سحر تھا کہ جس نے سفینہ کے دل کو ایک لطیف سے احساس سے روشناس کرا دیا تھا۔ فائز کی وجہ سے اس نے کبھی آفاق کو قابل اعتناء نہیں جانا‘ نگاہ بھر کر بھی نہیں دیکھا مگر اب جب کہ سب کچھ بدل گیا تھا تو بغور دیکھنے پر احساس ہوا کہ وہ بڑی خوبرو شخصیت کے مالک تھے۔ ان کا بات کرنے کا انداز‘ خود اعتمادی اور شفاف آنکھوں کی گہرائی کچھ دیر بعد اسے اپنی سوچ پر حیا آنے لگی تو توجہ ٹرالی کی طرف مبذول کردی۔ پلیٹ میں کباب نکال کر پیش کرتے ہوئے اس کے ہاتھوں کی لرزش آفاق شاہ نے بخوبی محسوس کی۔ ان کے بھرے بھرے ہونٹوں کی تراش میں پیاری سی مسکراہٹ کھیلنے لگی۔
وہ فائز سے بات کرنا چاہتی تھی، مگر سامنا ہی نہیں ہو پارہا تھا‘ کئی بار نیچے کے چکر بھی لگائے مگر اس دن کے بعد سے وہ جانے کہاں گم ہوگیا کہ آمنا سامنا ہی نہیں ہو پایا۔ شرمیلا ایک کتاب تھام کر بہانے سے سیڑھیوں پر بیٹھ گئی، کافی دیر بعد دروازہ کھلا اور اترا ہوا چہرہ لیے ہوئے فائز جلال اندر داخل ہوا۔ خیالوں میں گم، اس نے کسی طرف نہیں دیکھا بلکہ اندر کی جانب بڑھتا چلا گیا۔
’’فائز…‘‘ جھجکتی ہوئی شرمیلا نے پیچھے سے پکارا تو اس کے قدم تھم گئے، مڑ کر دیکھا۔
’’ہاں۔‘‘ وہ یوں بولا جیسے اپنے ہوش میں نہ ہو۔
’’اب آپ کیسے ہیں؟‘‘ اس نے قریب آکر پوچھا۔
’’مجھے کیا ہونا ہے؟‘‘ وہ خود اذیتی کی انتہائوں کو پہنچ کر ہنس دیا۔
’’وہ بس مجھے آپ کی فکر ہورہی تھی۔‘‘ شرمیلا نے اس کی بند آنکھوں اور پھڑکتی کنپٹی کو بغور دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’میری فکر میں مت رہا کرو۔ بہت بے غیرت ہوں۔ مجھے کچھ نہیں ہوگا۔‘‘ اس نے آنکھیں کھولیں تو وہ غیر معمولی طور پر سرخ دکھائی دیں۔
’’آر یو اوکے؟‘‘ حیرت کا اظہار کرتے ہوئے مزید قریب ہوئی۔
’’یس… آئی ایم اوکے۔‘‘ اس نے بگڑتی حالت پر قابو پاتے ہوئے سر ہلایا۔
’’آپ کو تو بہت تیز بخار ہے۔‘‘ شرمیلا نے جھجکتے ہوئے اس کی کلائی تھامی اور چونک گئی۔
’’نہیں… میں ٹھیک ہوں۔‘‘ اجنبی لہجے میں کہتے ہوئے، وہ بخار کی شدت سے لڑکھڑایا۔
’’خالہ… نانی اماں…‘‘ شرمیلا نے بڑھ کر سہارا دیا اور اندر کی جانب منہ کرکے پکارا۔
’’کیوں شور مچا رہی ہو۔ جائو یہاں سے۔‘‘ فائز نے اسے پیچھے دھکیلا۔
’’آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ میں ایسے چھوڑ کر نہیں جائوں گی۔‘‘ وہ فکرمندی سے بولی۔ سارا جسم بخار کی حدت سے تپ رہا تھا نقاہت سے کھڑا ہونا مشکل لگا تو سیڑھی پر ہی بیٹھ گیا۔
’’فائز… چلیں میں آپ کو ڈاکٹر کے پاس لے چلوں۔‘‘ بگڑتی حالت دیکھ کر وہ ایک دم چیخی۔
’’نہیں جانا کہیں۔‘‘ فائز نے انکار میں سر ہلایا۔
’’کیا ہوا شرمیلا اتنا کیوں چیخ رہی ہو؟‘‘ اتنے میں اندر سے سائرہ بھاگی چلی آئیں اور بگڑنے لگیں۔
’’ان کو دیکھیں۔‘‘ اس نے سیڑھی پر بیٹھے فائز کی طرف اشارے کیا۔
’’ہائے اللہ۔‘‘ بیٹے کی بگڑتی حالت دیکھ کر سائرہ کے ہاتھ پائوں پھول گئے۔
/ ؤ // ؤ /
’’ہاں تو پھر آپ کیا کہہ رہیں تھیں؟‘‘ ریحانہ نے دوبارہ پوچھا۔ اسریٰ بمشکل بولیں۔
’’وہ آفاق نے شادی کے لیے ایک کڑی شرط رکھی ہے۔‘‘ ریحانہ نے گھبرا کر دل پر ہاتھ رکھ کر پوچھا۔
’’شرط… کیسی شرط…؟‘‘
’’جی آنٹی مجھے امید ہے کہ آپ میری چھوٹی سی بات کا مان رکھ لیں گی۔‘‘ آفاق بالوں میں ہاتھ پھیر کر بے فکری سے بولتا بہت اچھا لگ رہا تھا۔
’’مجھے تو یہ بات بڑا دکھ دیتی ہے کہ پہلے ماں باپ اپنی بیٹی کو ناز ونعم سے پالتے ہیں، مشقت اٹھا کر اسے تعلیم دلاتے ہیں اور جب وہ جوان ہوجاتی ہے تو لاڈلی کو خود سے جدا کرکے کسی غیر کے حوالے کردیتے ہیں۔‘‘ اسریٰ نے ہمدردی سے کہا۔
ریحانہ اس تمہید پر عجیب شش وپنج میں مبتلا ہوگئیں‘ انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ لوگ اب کیا چاہتے ہیں۔ سفینہ نے چونک کر اسریٰ کو دیکھا۔
’’جی ہاں مگر یہ تو زمانے کا چلن ہے۔‘‘
’’یہ تو ہے مگر وہ جو شادی کے لیے فکروں کا پہاڑ ان پر لاد دیا جاتا ہے مجھے اس بات سے اختلاف ہے۔ ایک تو اپنی بیٹی بھی دیں اس کے ساتھ جہیز کے نام پر لاکھوں روپے کے قرضے کا بوجھ بھی خود پر لاد لیں… توبہ ہے۔‘‘ وہ بڑی رسانیت سے اپنا موقف کہتی چلی گئیں۔
’’بہن کہتے ہیں کہ دین سے دنیا بھاری‘ ہم لوگ جس معاشرے کا حصہ ہیں ایسی رسموں سے پیچھا چھڑانا مشکل ہے۔‘‘ وہ نگاہیں جھکا کر بولیں۔
’’یہ رسمیں انسانوں کی بنائی ہوئی ہیں اور انسان ہمت کرے تو اس سے پیچھا چھڑایا جاسکتا ہے۔‘‘ اسریٰ نے متانت سے سمجھایا۔
’’یہ بھلا کیسے ممکن ہے؟‘‘ انہوں نے حیرت سے پوچھا۔
سفینہ کی سمجھ میں کچھ کچھ باتیں آنے لگی تو اس نے چونک کر آفاق کو دیکھا، وہ بڑی حسین مسکراہٹ لبوں پر سجائے اس کی جانب ہی متوجہ تھا، نگاہوں کے تصادم پر اس نے گھبرا کر پلیٹ میں کیک نکال کر اسریٰ کو پیش کیا۔
’’تھینک یو بیٹا۔‘‘ اسریٰ نے ہونے والی بہو کو پیار سے دیکھا۔
’’ریحانہ آج کی ملاقات اسی سلسلے میں رکھی گئی ہے۔ آفاق کا کہنا ہے کہ لڑکی والوں پر اس سے زیادہ بوجھ ڈالنا مناسب نہیں۔ اس لیے ہمیں صرف آپ کی بیٹی چاہیے اس کے سوا ایک سوئی بھی اس گھر سے لینا حرام ہوگا۔‘‘ ان کی بات مکمل ہوئی تو ریحانہ کے چہرے پر اطمینان کی جھلک آگئی۔ انہوں نے بڑی محبت سے ہونے والے داماد کو دیکھا، دل میں فخر جاگا۔ سامنے بیٹھی سفینہ کا سانس بھی بحال ہوا۔ آفاق نے یہ بات محسوس کی اور مسکرادیا۔
’’آپ کی بات ٹھیک ہے مگر ہم تو جو بھی دیں گے وہ اپنی بیٹی کو ہی دیں گے نا۔‘‘ ریحانہ نے سمجھانا چاہا۔
’’سب یہ ہی کہہ کر خود پر بوجھ لادتے چلے جاتے ہیں مگر معاف کیجیے گا۔ آفاق نے نکاح کی شرط ہی یہ رکھی ہے ورنہ ہمیں اجازت دیں۔‘‘ اسریٰ بیگم نے بڑی سنجیدگی سے نفی میں سر ہلایا اور آفاق کو اٹھنے کا اشارہ کیا۔
’’ہائے اللہ بہن… آپ ایسے کیسے جاسکتی ہیں…!‘‘ ریحانہ کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔
’’بیٹا پلیز ابھی بیٹھیں نا۔‘‘ آفاق کو بیٹھنے کا اشارہ کیا جو اسریٰ کے اشارہ پر کار کی چابی اٹھاتا ہوا کھڑا ہورہا تھا۔ سفینہ اس کی چالاکی پر من ہی من میں مسکرا اٹھی۔
’’بس آپ جو بھی سمجھیں مگر ہمیں سوائے سفینہ کے اور کچھ نہیں چاہیے، شادی کی تقریب بھی بہت سادگی سے کی جائے گی اس لیے دن تاریخ کی رسم سے پہلے سارے معاملات طے کرلیتے ہیں۔‘‘ اسریٰ نے صوفے پر دوبارہ بیٹھتے ہوئے خوش دلی سے کہا۔
’’اچھا آپ لوگ چاہتے کیا ہیں وہ بتادیں؟‘‘ ریحانہ نے سارے ہتھیار پھینک کر پوچھا۔
’’بس اس اہم فریضے کی ادائیگی کو نمود و نمائش سے بچایا جائے اور سارا کام بڑی سادگی سے کیے جائے باقی جو دھوم دھڑکا ہوگا وہ ہم ولیمے پر کرلیں گے۔‘‘ آفاق شاہ گھر سے ساری باتیں طے کرکے آیا تھا، اسریٰ بس دہراتی چلی گئیں۔
اسری نے بولنا شروع کیا ریحانہ منہ پھاڑے سب کچھ سن رہی تھیں۔ آفاق بھی ان دونوں کو بیچ بیچ میں مشورے دیتے رہے۔ سفینہ کے چہرے پر اطمینان کی جھلک دیکھ کر آفاق کو دلی سکون حاصل ہوا۔
’’اصل میں سفینہ کے ابو کو آفس کے کسی کام سے شہر سے باہر جانا پڑگیا ہے۔ وہ کل واپس آجائیں گے۔ میں ان سے مشورہ کرکے آپ کو جواب دیتی ہوں۔‘‘ ریحانہ کی کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو شوہر پر رکھ کر ٹالا، انہیں یہ بات بہت عجیب لگ رہی تھی کہ بیٹی کو تین کپڑوں میں گھر سے وداع کیا جائے۔
/ ؤ // ؤ /
اکلوتے بیٹے کی حالت دیکھ کر سائرہ کا سارا غرور طنطنہ دور کہیں جا سویا وہ شدید پریشانی کی حالت میں محلے کے نزدیک واقع کلینک کے بینچ پر بیٹھی دعائوں میں مصروف تھیں‘ شرمیلا بھی ان کے برابر میں براجمان تھی۔ وہ رکشہ کرکے فائز کو یہاں لے کر آئی تھی۔ اس کی حالت پر آنکھیں مسلسل اشک بار تھیں۔ بیٹے کو سفید بستر پر آنکھیں بند کیے لیٹا دیکھ کر دل گرفتہ ہوئیں۔ ہاتھ پیر لرزنے لگے، شرمیلا نے انہیں سہارا دیا اور بیڈ کے قریب کرسی پر بٹھادیا۔ خود قریب ہوکر جھک کر فائز کو دیکھنے لگی جو آنکھیں موندے ہلکی ہلکی سانسیں لے رہا تھا۔ لوہے کے اسٹینڈ پر ٹنگی بوتل سے قطرہ قطرہ گلوکوز اس کی رگوں میں سرائیت کررہا تھا۔
’’فائز… بیٹا آنکھیں کھولو…‘‘ سائرہ نے بھیگے لہجے میں اسے پکارا۔
’’مجھے اتنا نہ ستائو۔‘‘ انہوں نے بیٹے کے بازو پر اپنا کپکپاتا ہاتھ رکھ کر پکارا۔
فائز کو لگا‘ جیسے ایک خواب کی سی کیفیت میں سفینہ اس کے پاس آئی ہو‘ اس حسنِ سوگوار کو اپنے سامنے دیکھ کر دل کی حالت عجب ہونے لگی۔ ایک خوشبو سی آس پاس پھیلتی چلی گئی، اس کے نرم و نازک کلی سے لب کپکپا رہے تھے۔ شکوہ کرتی سنہری آنکھوں سے موتیوں کی لڑی گررہی تھی۔ اس نے تھامنے کو ہاتھ بڑھایا مگر وہ اس سے دور چلی گئی۔ وہ اس کے پیچھے لپکا زور سے آواز دی۔
’’سفینہ… سفینہ…‘‘ فائز اسے پکارتا ہوا ہوش میں آگیا۔ سائرہ نے چونک کر بیٹے کو دیکھا، شرمیلا بھی متوجہ ہوئی۔
/ ؤ // ؤ /
’’سفینہ۔‘‘ اسے لگا فائز نے بھاری آواز میں دھیرے سے اسے پکارا ہو۔ سوتے سوتے سفینہ کی آنکھ کھل گئی، پورا وجود پسینے میں ڈوبا ہوا تھا۔ وہ ایک دم بستر پر اٹھ کر بیٹھ گئی اور بالوں کو سمیٹتے ہوئے گہرے گہرے سانس لینے لگی۔
’’مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے جیسے فائز نے پکارا ہو۔‘‘ ذہن میں آوازوں کی بازگشت سی ہونے لگی۔
’’سفی… دیکھو زندگی میںکبھی مجھ سے جدا نہ ہونا…‘‘ ذہن کی سطح پر ابھرتی شبیہہ فائز جلال کی تھی۔
’’میں تمہارے بغیر مر جائوں گا…‘‘ گھمبیر لہجہ اس کی سماعتوں پہ قہر بن کر ٹوٹا۔
’’میری زیست کا حاصل تم ہو اور… میں صرف تمہارا ہوں…‘‘ اس کے کان سائیں سائیں کرنے لگے۔
ماضی کے دریچوں سے جھانکتی یادیں، اس کا سانس یوں پھولنے لگا، جیسے زیست کی مسافت طے کرلی ہو۔ وہ دکھ سے بے حال ہونے لگی۔ فائز کی نام نہاد محبت کے جال میں پھنسے پھنسے کتنے سال بیت گئے، اب تو اسے یاد بھی نہ تھا مگر اس نے آزاد کرنے میں جتنی جلدی مچائی یہ بات بھولنا ذرا مشکل تھا۔
’’تمہاری وہ دیوانگی‘ والہانہ‘ محبت بے تحاشا چاہت… میرے لیے محسوس کی جانے والی شدت کہاں کھو گئی؟ کیا وہ سب نظر کا دھوکا تھا یا میں نے اتنے سال نیند میں چلتے ہوئے گزارے۔ کیا تمہاری فطرت میں ہرجائی پن تھا یا کوئی مجبوری جو مجھے جدائی کی آگ میں جھونک کر تم ایک نئی دنیا آباد کرنے چل دئیے… تمہارے لیے شاید ایک پہ قناعت مشکل ہوگیا تھا۔‘‘ وہ آخری بار فائز کے لیے پھوٹ پھوٹ کر روئی۔ اس کے بعد ہمیشہ کے لیے اسے دل سے نکال پھینکنے کا عہد خود سے کر ڈالا۔
’’خالہ جانی یہ بھائی دے کر گئے تھے۔‘‘ روشنی نے سیف کی چابی اسریٰ کو تھمائی تو وہ آفاق کے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔ عائشہ بیگم جو ڈسٹنگ میں مصروف تھیں، ان کے کان کھڑے ہوگئے۔ صفائی کے بہانے وہ بھی اس طرف چل دیں۔
’’آپ کیا کررہی ہیں میرے ساتھ واک پر چلیں نا؟‘‘ اس نے اسریٰ کو الماری میں سر گھسائے دیکھا تو بیزاری سے پوچھا۔
’’ایک منٹ روشنی بہت ضروری کام ہے پہلے وہ کرلوں پھر چلتے ہیں۔‘‘ وہ پلٹی تو زیورات کے بہت سارے بھاری بھرکم ڈبے ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے تھے۔
عائشہ بیگم کی آنکھیں حیرت سے کھل گئیں۔ وہ کپڑا ہاتھ میں تھامے تھامے جھلملاتے طلائی زیورات کو لالچ سے دیکھنے لگیں۔
’’واہ… یہ جھومر تو بڑ ا پیارا ہے‘ میں لے لوں؟‘‘ روشنی کی نگاہ بھاری بھرکم طلائی جھومر پر پڑی تو اسے اپنے بالوں میں ٹکا کر دیکھا۔
’’اسے ابھی واپس ڈبے میں رکھ دو۔ بھائی کی شادی پر لگانا۔‘‘ انہوں نے تنبیہ کی۔
’’یہ سب کیسا زیور ہے۔‘‘ روشنی نے جڑائو زیورات پر نگاہ ڈال کر پوچھا۔
’’بچے یہ تمہاری مرحومہ ماں کی نشانی ہے جو میں نے آفاق سے کہہ کر بینک کے لاکر سے نکلوائے ہیں اب اس میں سے آدھے تمہاری بھابی کو ملیں گے۔ باقی تمہاری شادی پر تمہیں دیے جائیں گے۔‘‘ اسریٰ نے روشنی کے گال چھوتے ہوئے رسانیت سے سمجھایا۔
’’یہ کیا بات ہوئی میری مما کی جوئیلری ہے تو بھابی کو کیوں ملے گی یہ ساری کی ساری مجھے چاہیے۔‘‘ اس نے ٹھنک کر کہا۔
’’اچھا ایک شرط پر اگر بھائی کی شادی میں تم اس میں سے ایک بھی بھاری سیٹ پہن کر دکھادو۔‘‘ اسریٰ نے اسے چھیڑا اور وزنی گلو بند گلے میں ڈال کر ڈوری کس دی۔
’’اوف خالہ جانی… اتاریں جلدی کریں۔ اس سے تو میرا گلا گھٹ رہا ہے۔‘‘ وہ چیخنے چلانے لگی تو اسریٰ کی ہنسی چھوٹ گئی۔
’’بی بی یہ کیا کررہی ہیں بچی کا سانس رک رہا ہے۔‘‘ عائشہ بیگم نے اتارنے کے بہانے گلو بند چھو کر دیکھا۔
’’تم یہاں کیا کررہی ہو؟‘‘ اسریٰ نے چونک کر عائشہ بیگم کی موجودگی پر ناگواری کا اظہار کیا۔
’’جی وہ میں ڈسٹنگ کرنے آئی تھی۔‘‘ ہکلاتے ہوئے گلو بند انہیں پکڑایا۔
’’اچھا جاکر ایک کپ اچھی سی چائے لاؤ۔‘‘ اسے بہانے سے بھگایا۔
’’ابھی لائی۔‘‘ وہ کپڑا ہاتھ میں تھامے ڈبوں میں جھانکتے ہوئے باہر نکل گئی۔
’’بدنظر کہیں کی۔‘‘ اسریٰ کو عائشہ بیگم کا انداز بہت برا لگا۔ وہ جلدی جلدی ساری جوئیلری سمیٹنے لگیں۔
’’اچھا تو پھر کیا خیال ہے سفینہ کو کچھ دوں یا سارے تمہارے لیے ہی رکھ دوں؟‘‘ روشنی کو منہ پھلائے دیکھا تو سوال کیا۔
’’اللہ معافی سب کے سب بھائی کی دلہن کو دے دیں میں اتنا بھاری بھرکم جڑائو زیور نہیں پہن سکتا۔‘‘ وہ اپنے گلے میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بڑبڑائی تو اسریٰ بڑی جانفشانی سے بری میں رکھنے کے لیے سیٹ الگ کرنے لگیں۔
’’میری بہن کو کتنا شوق تھا۔ اس نے اپنے وقت کے نایاب اور نفیس زیورات کو جمع کر رکھا تھا مگر… افسوس کہ انسان چلا جاتا ہے، اس کی سینت سینت کر رکھی گئی چیزیں دنیا میں رہ جاتی ہیں۔‘‘ اسریٰ کے لہجے میں فخر اور خوشی کے ساتھ دکھ بھی تھا۔
’’کسی نے کتنا سچ کہا ہے کہ پیسہ آدمی کو اوپر لے جاتا مگر آدمی پیسے کو اوپر نہیں لے جاسکتا۔‘‘ سرد آہ بھر کر خود کلامی کرتے ہوئے وہ پرانی یادوں کے ساتھ سفر کرتی چلی گئیں۔
شرمیلانے تھکے ہوئے قدموں سے گھر کی دہلیز پر قدم رکھا اور خود کو ماں کے سوالوں کے جواب دینے کے لیے تیار کرتی اندر آگئی۔ کچن میں کھڑپٹر کی آوازوں سے وہ اماں کی موجودگی سے آگاہ ہوگئی۔ اُس نے صحن میں لگے واش بیسن میں منہ دھونے کے بعد اپنا رکا ہوا سانس بحال کیا۔
’’اسلام علیکم اماں!‘‘ وہ تھکن زدہ لہجے میں زور سے بولی۔
’’آگئی ہو تم؟‘‘ بتول نے کچن سے جھانکا۔
’’جی ابھی پہنچی ہوں۔‘‘ اس کی آواز میں زمانے بھر کی تھکان سمٹ آئی۔
بتول پانی کا گلاس لیے باہر چلی آئیں۔ اس کا پیاس سے برا حال ہورہا تھا۔ ماں کے ہاتھ سے گلاس لے کر اس نے جلدی سے پورا پانی اپنے اندر انڈیل لیا جانے کیسی پیاس وجود میں ابھر آئی تھی جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتی تھی۔
’’آج بھی کچھ کام نہیں بنا۔‘‘ اس کا مایوس کن روہانسا لہجہ سن کر بتول کا چہرہ بھی اتر گیا۔
’’اللہ مالک ہے۔ مگر یہ تمہیں اچانک دوسری جاب تلاش کرنے کی کیا سوجھی؟‘‘ انہوں نے بہت نرمی سے اس کا کاندھا تھپتھپا کر پوچھا۔
’’تو کیا کروں اسی کوچنگ میں چند ہزار پر ٹکی رہوں۔‘‘ وہ چڑ کر بولی۔
’’میں تو کہتی ہوں شادی کرکے گھر بسائو چھوڑو یہ نوکری وکری کے چکر۔‘‘ وہ بڑی محبت سے بولیں۔
’’یہ اچانک میری شادی کا ذکر کہاں سے آگیا؟‘‘ شرمیلا نے تیکھے پن سے پوچھا۔
’’فائز اچھا لڑکا ہے‘ گھرانہ بھی دیکھا بھالا ہے۔ پھر دیر کس بات کی۔‘‘ بتول نے چپکے چپکے اپنی خواہش کا اظہار کر ڈالا۔
’’اماں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ ہم دونوں بس اچھے دوست ہیں۔‘‘ شرمیلا نے بڑی مشکل سے یہ الفاظ ادا کیے اور اندر کی جانب بڑھ گئی۔ بتول کا چہرا اُتر گیا یاس و رنج ان کی آنکھوں میں ہلکورے لینے لگا۔
دونوں جانب شادی کی تیاریاں زور شور سے جاری تھیں گو کہ آفاق نے نکاح کی جو شرط رکھی تھی اس کے بعد کرنے کو کچھ بچا ہی نہ تھا۔ اس کے باوجود شادی کے چھوٹے چھوٹے بہت سارے کام ابھی باقی تھے۔ آفاق نے اس کی ذات کو ایک دم سے اتنا معتبر کردیا کہ سفینہ کا دل اپنے رب کے حضور سر بہ سجود ہوگیا تھا۔ سب سے بڑھ کر اس نے دادا ابا کی نشانی خان ہائوس کو بکنے سے بچا لیا تھا وہ اس بات پر جتنا بھی شکرادا کرتی کم تھا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی بہزاد اور ریحانہ کو اپنی طرف کی تقریب قدرے سادگی سے منعقد کرنا پڑرہی تھی۔ اس میں آفاق کی مرضی شامل تھی۔ اسریٰ نے بارات میں بھی اپنے چند قریبی رشتے داروں کے ساتھ شرکت کا عندیہ دیا تھا۔ دونوں میاں بیوی جزبز ہوکر رہ گئے تھے‘ مگر لڑکے والوں کے اس قدر اصرار پر مانتے ہی بنی۔ بہزاد ہاتھوں میں قلم تھامے کارڈ پر نام لکھنے میں مشغول تھے، پاس بیٹھی ریحانہ انہیں لسٹ میں سے رشتے داروں کے نام بتارہی تھیں۔
’’سب سے پہلے کارڈ میری بہن شاہانہ کو پوسٹ کردیں۔‘‘ ماں جائی کی یاد ستائی تو ریحانہ نے تاکید کی۔
’’ٹھیک ہے مگر اب تو جلال بھائی کی طرف چل کر کارڈ دے دیں یا انہیں شادی میں بھی شریک نہیں کرنا۔‘‘ بہزاد نے عینک میں سے جھانک کر دیکھا۔
’’چلے چلیں گے کسی دن۔‘‘ بے اعتنائی سے جواب دیا، وہ کوئی کرارا سا جواب دینے والے تھے کہ سفینہ کی آمد پر ضبط کرگئے۔
’’ابو… یہ چائے کے ساتھ گرما گرم سموسے کھالیں۔‘‘ اس نے مسکرا کر کہا۔
’’ہماری گڑیا نے اس وقت جی خوش کردیا۔‘‘ کام کی مصروفیت کی وجہ سے بہزاد نے لنچ بھی نہیں کیا تھا لپک کر سموسہ اٹھا لیا۔ اس نے ہاتھ میں تھامی ٹرے ماں کے نزدیک رکھ دی اور خود بھی سموسے کو چٹنی میں ڈبو کر کھانے لگی۔ ریحانہ کپوں میں چائے نکالتے ہوئے سر ہلانے لگیں۔
’’واہ سفی سموسے تو بڑے مزے کے بنائے ہیں۔‘‘ بہزاد خان نے جانتے بوجھتے چھیڑا۔
’’ہائے ابو سموسے تو پاس والی بیکری کے ہیں۔‘‘ وہ ہنس دی۔ ریحانہ نے چائے کا کپ ان کے آگے رکھا۔
’’اچھا تو یہ چائے بھی بہت مزے کی ہے۔‘‘ وہ سپ لینے کے بعد بولے، تو اس نے جھک کر داد وصول کی۔
’’میں نے اپنی سفی کو گھر کے سارے کاموں میں طاق کردیا ہے تاکہ دوسرے گھر جاکر مشکل نہ ہو۔‘‘ ریحانہ نے فخر بھری نگاہوں سے بیٹی کو دیکھا۔ تو وہ شرما گئی۔
’’آہ… بیگم رخصت کی گھڑی کتنی نزدیک آگئی ہے‘ ہمیں اپنی راج دلاری‘ پیاری بیٹی کو خود سے جدا کرنا پڑے گا۔‘‘ بہزاد کا لہجہ ایک دم گلوگیر ہوا تو ماحول بدل کر رہ گیا۔
’’ہاں… سچ کہا آپ نے سفی کے جانے کے بعد ہمارا گھر اس پیڑ کی طرح اداس ہوجائے گا، جس پر بیٹھ کر چہچہانے والی چڑیا نے کہیں دور دیس اپنا ٹھکانا بنا لیا ہو۔‘‘ ریحانہ نے دوپٹے کے پلو سے آنکھیں پونچھتے ہوئے کہا تو سفینہ نے ماں باپ کے گرد اپنی بانہوں کا گھیرا تنگ کردیا۔
’’تو پھر آپ نے کیا کہا؟‘‘ فائز کی آنکھیں سوالیہ تھیں۔
’’میں نے کیا کہنا تھا‘ وہ سنائیں کہ ہوش ٹھکانے لگادئیے۔‘‘ جوش سے سائرہ کا چہرہ سرخ ہوگیا۔
’’ممی آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘‘ وہ لاچاری سے بولا۔
’’ارے ان لوگوں کی بے شرمی تو دیکھو دن تاریخ طے ہوگئی، شادی کے انتظامات ہوگئے اور انہوں نے ہمیں پرایا کردیا دو دن پہلے کارڈ تھامے بلاوہ دینے چلے آئے۔‘‘ سائرہ کا پارہ نیچے نہیں آرہا تھا۔
’’اوہ… تو شادی کے کارڈ بھی بٹ گئے اور مجھے خبر بھی نہ ہوسکی۔ خیر… میرا اب ان باتوں سے بھلا کیا تعلق۔‘‘ فائز نے دل میں سوچا درد کی ایک لہر سی اٹھی۔
’’بہزاد میاں ہاتھ جوڑ کرشادی میں شرکت پر بہت زور دے رہے تھے مگر میں نے تو موت زندگی ہی ختم کر ڈالی۔‘‘ وہ جوش میں اپنی کہے جارہی تھیں۔ فائز خاموش رہا کہ بولنے کے لیے اس کے پاس کچھ بچا بھی تو نہیں تھا۔
’’ان لوگوں کو تو بیمار بھائی کا بھی خیال نہ آیا دو کوڑی کی عزت بھی نہ دی ہمیں۔‘‘ سائرہ رونے لگی۔
’’ممی بھلا رونے کی کیا ضرورت ہے سب کچھ ویسے ہی تو ہوا جیسا آپ چاہتی تھیں‘ اب تو خوشیاں منائیں۔‘‘ اس کی طنزیہ نگاہیں ماں کی جانب اٹھیں۔ سائرہ نے جب بیٹے سے نظریں ملائیں تو احساس ہوا کہ فائز کے ساتھ بہت کچھ غلط ہوگیا ہے۔ وہ بظاہر خاموش تھا، پُرسکون تھا لیکن اس کے اندر کیسے کیسے طوفان چھپے تھے اس بات کا احساس انہیں اس کی بیماری کے دنوں میں ہوچکا تھا، اسی لیے خاموش رہنے میں ہی عافیت جانی۔
ایک طویل مسافت طے کرنے کے بعد ’’شاہ ہائوس‘‘ میں ایک بار پھر روشنیوں اور خوشیوں نے ڈیرہ ڈالا تھا۔ اسریٰ نے سفینہ کے لیے مشہور ڈیزائنر سے شادی اور ولیمے کے لباس ڈیزائن کروائے، اس کے ساتھ جیولری‘ میچنگ سینڈل‘ کلچ وغیرہ کی خریداری میں بھی گھنٹوں صرف کیے۔ آفاق کو تو خواتین کی شاپنگ کی الف ب کا پتا نہ تھا۔
وہ مال میں گھومتے ہوئے سفینہ کی بری کے کپڑوں کی خریداری کے ساتھ ساتھ روشنی کی شاپنگ کررہی تھیں۔ ساری تقریبات کے لیے ایک سے بڑھ کر ایک شاندار ملبوسات ڈیزائن کروائے گئے۔ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ بھانجے اور بھانجی کو ماں کی کمی کا احساس ہو کچھ سوچ کر عائشہ بیگم کے لیے بھی مہنگے ترین شیفون کے سوٹ سلوائے۔ مایوں سے ایک دن قبل مہندی لگانے والی لڑکی کو گھر بلوایا گیا اور روشنی کے نہ نہ کرنے کے باوجود خوب صورت بیل بوٹوں سے اس کے ہاتھ مزین کروا دیئے۔
مہندی کی شام گرین اور یلو کنٹراسٹ کے کرتے چوڑی دار پائجامے پر گیندے کے پھولوں کے زیور خود پر سجائے‘ روشنی واقعی بہت معصوم اور پیاری لگ رہی تھی، اس نے آئینے میں خود کو دیکھا تو حیران رہ گئی۔ مشہور میک اپ آرٹسٹ نے پوری مہارت سے اس کو سنوارا تھا، وہ عام دنوں سے ہٹ کر بڑی اچھوتی نظر آرہی تھی، اس کے باوجود ڈرتے ڈرتے ہال میں داخل ہوئی تو ساری کزنز نے تالیاں بجا کر اس کا استقبال کیا۔
بہزاد بہت خوش تھے ویسے بھی ان کی زندگی کی خوشیاں اکلوتی بیٹی کی مسرتوں سے نتھی تھی اور اب وہ نئی زندگی کی شروعات کرنے جارہی تھی۔ اس کے اچھے نصیب کے لیے پل پل ان کے لبوں سے دعائیں نکلتیں۔ فائز کے معاملے میں بہزاد نے جس حد تک ہوسکتا تھا بیٹی کا ساتھ دیا مگر جہاں بات ان کی ناموس کی آگئی وہ اس سے چشم پوشی نہ کرسکے اور سفینہ کو بٹھا کر فیصلہ کن انداز میں سمجھایا۔ اس نے بھی اچھی بیٹیوں کی طرح ان کا مان رکھا اور آفاق سے شادی کے لیے حامی بھرلی لیکن شاہ خاندان کا مرتبہ اور امارت خود بہزاد کو تذبذب میں مبتلا کررہا تھا۔ اسریٰ کے جہیز نہ لینے والی بات پر انہوں نے رسمی سے انداز میں سوچنے کے لیے وقت مانگا اور کئی دنوں تک شش و پنچ میں گرفتار رہے۔
وہ خوشگوار حیرت میں مبتلا ہوگئے، جب آفاق خود آکر ان کے آفس میں ملا اور اتنی عاجزی اور انکساری سے سفینہ کا ہاتھ مانگتے ہوئے جہیز نہ لینے کی قسم کھائی کہ تھوڑے پس و پیش کے بعد آخر ان کو ہتھیار ڈالنے پڑے اور اس کی تمام شرائط مانتے ہوئے انہوں نے ہاں کہہ دی۔ اب وہ اس فیصلے پر بہت خوش تھے، شاید ان کی کسی نیکی کا صلہ تھا جو سفینہ کو آفاق جیسا نیک اور سمجھدار لڑکا ملا تھا مگر بیٹی کی جدائی کا سوچ کر بارہا آنکھ بھر آتی۔ ایسے وقت میں کسی اپنے کے کاندھے کی اشد ضرورت محسوس ہونے لگی، مگر افسوس صد افسوس بھائی کی بیماری‘ بھابی کی ناراضگی کی وجہ سے جلال بھائی تک ان کی رسائی ممکن نہ رہی تھی۔
’’السلام علیکم‘ فرینڈز آپ سب کیسے ہیں؟‘‘ روشنی سہج سہج کر قدم رکھتے ہوئے رنگ و بو کی محفل میں فرداً فرداً سب سے ملتی ہوئی اسٹیج کی جانب بڑھی جہاں سرخ وزرد پھولوں سے سجے لکڑی کے جھولے پر آفاق اور اسریٰ بیٹھے تھے۔ آفاق شاہ ہلکے زیتونی رنگ کے کرتے اور سفید شلوار میں ملبوس بہت ہی اچھا لگ رہا تھا، جیسے جیسے شادی کی گھڑی نزدیک آرہی تھی اس کی وجاہت میں اضافہ ہوتا جارہا تھا‘ شاید سفینہ سے ملن کی چمک چہرے پر روشنی کی طرح پھیل گئی تھی۔ تاہم آج کی تقریب میں وہ کچھ چپ چپ سا تھا، یہ بات اسریٰ نے محسوس کرلی اور بھانجے کو حوصلہ دینے کے لیے اسٹیج کی طرف چلی آئیں۔
’’کاش مما ڈیڈی بھی اس وقت میرے پاس ہوتے۔‘‘ آفاق نے مڑ کر بہن کو دیکھا اور آنکھوں میں نمی بھر گئی۔
’’خالہ جانی اب تو خوش ہیں؟‘‘ وہ ہائی ہیل میں لڑکھڑاتی ہوئی ان دونوں کے نزدیک پہنچی۔
’’میرے لیے اس سے بڑھ کر اور خوشی کی کیا بات ہوگی کہ میرے بھانجے کے سر پر سہرہ سجنے والا ہے۔‘‘ نثار ہوتی نظروں سے برابر میں بیٹھے آفاق کو دیکھا۔ ’’لو جی میں تو اپنی بات کررہا ہوں۔ ان کپڑوں میں کیسا لگ رہا ہوں؟‘‘ اس نے ناک چڑھا کر شکوہ کیا تو وہ دونوں ہنس دیے۔
’’او… تو تم اس سوٹ کی بات کررہی ہو؟‘‘ اسریٰ نے چھیڑا۔
’’ہاں جی۔‘‘ اس نے اوپر سے نیچے تک اپنا جائزہ لیتے ہوئے سر ہلایا۔
’’اے لو تو کیا بھائی کی مہندی میں بھی جینز اور ٹی شرٹ پہن کر شریک ہونے کا ارادہ تھا؟‘‘ وہ مسکراتے ہوئے اسے گلے لگتے ہوئے بولیں۔
’’میری گڑیا واقعی میں بہت پیاری لگ رہی ہے۔‘‘ آفاق نے بڑھ کر بہن کا ماتھا چومتے ہوئے صدق دل سے تعریف کی۔
’’یہ ہی تو میں بھی کہہ رہی ہوں کہ اب انسان کی بچی لگ رہی ہے۔‘‘ اسریٰ نے بھانجی کو چھیڑا جو لڑکی کے روپ میں ڈھل کر پیاری لگ رہی تھی۔
’’دل تو واقعی شکرانے کے نفل ادا کرنے کا چاہ رہا ہے کہ میری روشنی کو اللہ نے اتنی عقل دے دی۔‘‘ وہ اسے چھیڑتے ہوئے ہنسا۔
’’بھائی بس۔ اب اتنی بھی تعریفیں نہ کریں۔‘‘ روشنی نے دوپٹے کا کونا ہونٹوں میں داب کر مصنوعی انداز میں شرماتے ہوئے جواب دیا۔
’’لو بھئی یہ پہلی لڑکی ہے جو تعریف سے گھبرا رہی ہے۔‘‘ اسریٰ نے بھی شرارت سے ان کا ساتھ دیا۔
’’ویسے میری ساری تیاری۔ کا کریڈٹ میرے ڈیزائنر کو جاتا ہے۔‘‘ وہ شرارت آمیز نگاہوں سے خالہ کو دیکھتے ہوئے بولی۔
’’ہائیں وہ موصوف کون ہیں بھلا؟‘‘ آفاق نے حیرانگی سے پوچھا۔
’’موصوف نہیں موصوفہ… یہ جو آپ کے برابر میں بڑے ٹھسے سے بیٹھی ہیں ہماری خالہ جانی۔‘‘ اس نے آنکھیں مٹکائیں۔
’’واقعی آپ نے تو کمال کردیا۔‘‘ اس نے اعتراف کیا۔
’’آپ دونوں کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ میں نے باقی دنوں کے لیے بھی ایک سے بڑھ کر ایک مشرقی لباس سلوائے ہیں۔‘‘ اسریٰ کے کہنے پر آفاق کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئی۔
’’نہیں… نہیں۔‘‘ روشنی کانوں پر ہاتھ رکھ کر مصنوعی انداز میں چلائی تو ایک زوردار قہقہہ لگایا گیا۔
’’بھئی عشو ذرا ادھر تو آئیں۔‘‘ اسریٰ نے کچھ دیر بعد ایک طرف منہ بنائے بیٹھی عائشہ بیگم کو پکارا۔
’’جی بولیں؟‘‘ وہ روکھے لہجے میں بولیں، اپنے ہاتھوں سے سلطنت کی باگ دوڑ نکلتے دیکھ کر ان کی حالت پتلی ہوئی جارہی تھی۔
’’ذرا میری روشنی کی نظر تو اتار دو۔‘‘ اسریٰ بیگم نے اسے خود سے لگاتے ہوئے پیار سے کہا۔
’’اچھا جی اتارتی ہوں روشنی بیٹا میرے ساتھ آئو۔‘‘ عائشہ بیگم کے ذہن میں جھماکا ہوا۔ فوراً اس کا ہاتھ پکڑ کر اندر کی جانب بڑھیں۔
’’یہ دیکھو اپنی تائی کی حرکت۔ وہ کبھی ہمارا بھلا ہوتا نہیں دیکھ سکتیں۔‘‘ ریحانہ مشعل ہوتی بیٹی کے کمرے میں داخل ہوئی۔
’’اب کیا ہوگیا؟‘‘ وہ مایوں کے زرد لباس میں خود بھی پیلی پڑ گئی۔
’’میں اور تمہارے ابو شادی کا بلاوہ دینے وہاں گئے تھے۔‘‘ دوپٹے سے ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہوئے بولیں۔
’’اچھا تو پھر؟‘‘ اس کا دل دھڑکنے لگا۔
’’وہ کیا کہتے ہیں الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے، بھابی تو بلاوجہ میں ہمارے گلے پڑ گئیں، خوب گرجیں برسیں۔‘‘
’’تائی اماں اس حد تک جاسکتی ہیں؟‘‘
’’ہاں وہ کسی بھی حد تک جاسکتی ہیں۔ انہیں لگا کہ ہمارے پاس بہت سارے پیسے آگئے ہیں جب ہی شادی کررہے ہیں۔‘‘
’’تو اس بات سے ان کو کیا… وہ تھوڑی کچھ کرنے کو آگے آتیں۔‘‘
’’وہ مدد کیا کرتی الٹا اپنے حصے کی رقم کا مطالبہ کردیا۔‘‘
’’ہائیں… یہ کوئی موقع تھا ایسی باتوں کا؟‘‘
’’پہلے تو انہیں وقت کے وقت کارڈ دینے کا شکوہ ہوا اس کے بعد پینترا بدل کر فوری طور پر اپنے حصے کی رقم مانگ لی۔‘‘
’’تائی اماں کبھی نہیں بدل سکتیں۔‘‘
’’میں انہیں کیا بتاتی کہ ہمارے پاس پیسے ہوتے تو تمہاری شادی دھوم دھام سے نہ کرتے یہ تو میرے ہونے والے داماد کی اچھائی ہے کہ اس نے عزت رکھ لی۔‘‘
’’پھر کیا ہوا؟‘‘
’’میں تو ان کے ہوش ٹھکانے لگا دیتی، بس تمہارے ابو نے روک دیا۔‘‘ ریحانہ جوش و غضب میں بولتی چلی گئیں۔
’’تایا ابا نے کچھ نہیں کہا؟‘‘ سفینہ نے بڑی آس سے پوچھا۔
’’وہ ٹھیک ہوتے تو یہ دن کہاں دیکھنے کو ملتے۔ ان سے تو ہمیں ملنے ہی نہیں دیا گیا۔‘‘ ریحانہ نے دکھ بھرے لہجے میں بتایا۔
سفینہ کو اپنی محبت کے ارزاں ہونے سے زیادہ ان باتوں سے تکلیف پہنچی۔ سوچیں اس کے دل کو اندر ہی اندر لہولہان کرتی گئیں۔
’’بھابی کو تو ایک رٹ لگی رہی کہ بیٹی کی شادی کرسکتے ہو تو ہمارا حصہ کیوں نہیں دیتے۔ تمہارے ابو نے کچھ مہلت مانگ کر جان چھڑانا چاہی۔ مگر بھابی نے نہ صرف ہمیشہ کے لیے رشتے داری ختم کردی بلکہ شادی میں شرکت کرنے سے انکار کرتے ہوئے کارڈ کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہمارے ہاتھوں میں تھمادیے۔ میرا تو دل دہل گیا۔‘‘ ریحانہ نے افسوس بھرے انداز میں اس کو کارڈ کے ٹکڑے تھمائے۔
’’او میرے اللہ… تائی اماں کے دل میں ہم لوگوں کے خلاف اتنا بغض۔‘‘ وہ ساکت گم صم سی ان ٹکڑوں کو دیکھتی رہی۔ اس کے احساسات و جذبات تو اسی دن منجمد ہوچکے تھے، جب فائز نے اسے ٹھکرانے کے بعد شرمیلا کا ہاتھ تھاما مگر اذیت کی ایک نئی لہر پورے وجود میں سرائیت کرتی چلی گئی۔
’’معاف کرنا بیٹا۔ دو دن بعد تم اس گھر سے وداع ہونے والی ہو اور میں نے ایک بار پھر تمہارا دل دکھایا لیکن اب تم بہتر طریقے سے آفاق شاہ اور فائز جلال میں موازنہ کرسکتی ہو کہ کون تمہارے لیے بہتر ثابت ہوگا۔‘‘ ریحانہ نے بیٹی کے سپید پڑتے چہرے پر نگاہیں جما کر سوچا۔
سفینہ کی آنکھ سے ایک آنسو ٹپکا اور گال پر سے پھسلتا ہوا ریحانہ کے دل میں جا چبھا۔
’’اللہ ان کا بیڑہ غرق کرے، یہ لوگ ہمیں کبھی بھی خوش نہیں دیکھ سکتے۔‘‘ بیٹی کی حالت پر وہ کوسنے دینے لگیں۔
’’امی بس کردیں۔‘‘ اس کی ہمت جواب دے گئی‘ پھوٹ پھوٹ کر ہچکیوں سے رودی۔ جو بھی تھا وہ اس کے تایا کی فیملی تھی تایا بھی ایسے جنہوں نے باپ سے بڑھ کر خیال رکھا۔ انہیں بدعائیں نہیں دی جاسکتی تھیں۔
’’سفی میری ایک ہی التجا ہے تم ساری تلخ باتوں کے ساتھ فائز کی یادوں کو بھی گھر کی دہلیز پر چھوڑ جانا اور اپنی نئی زندگی کی شروعات خوشی خوشی کرنا۔‘‘ ریحانہ نے تڑپ کر بیٹی کو گلے سے لگا کر تسلی دیتے ہوئے سرگوشی کی۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
Close