Aanchal Dec-18

دھوپ چھاوٖؑں

سیما بنت عاصم

جو جھیل گئے ہنس کر کڑی دھوپ کے تیور
تاروں کی خنک چھاؤں میں وہ لوگ جلے ہیں
اِک شمع بجھائی تو کئی اور جلا لیں
ہم گرداشِ دوراں سے بڑی چال سے چلے ہیں

’’اوئی اللہ…‘‘ اچھی آپا کی آنکھیں پہلے چوپٹ کھلیں‘ پھر حیرت سے پھیلتی چلی گئیں۔ بجلی کا بل تھا کہ کوئی ایٹم بم۔ ان کے آس پاس دھواں پھیلتا چلا گیا۔ ایک نہ دو‘ پورے پانچ ہزار کا بل۔ انہوں نے موٹے عدسہ کی عینک لگا کر بار بار ہندسے گنے لیکن صفر تین تھے اور تین ہی رہے۔ پورے چار ہندسے۔
اب اچھی آپا کو کون سمجھائے‘ خیر سے تین منزلہ مکان تھا۔ مکان کی اوپری اور نچلی منزل کرائے پر دے رکھی تھیں۔ درمیانی میں وہ خود تھیں‘ جو ٹکے ٹکے پر جان دیتیں۔ پائی پائی کا حساب رکھتیں۔ اسی گھر سے دو دکانیں سڑک کی جانب مکان کی داہنی طرف کھلتیں‘ تیسری گلی کے رخ پر داخلی دروازے کے ساتھ۔ اسی مکان کے کرایوں سے تو ان کی دال روٹی چلتی تھی اور یہ بات سب ہی جانتے تھے۔
اللہ کا غضب… وہ گھر بھر کا کرایہ بلوں میں پھونک دیتیں تو انہیں کتنی نفلوں کا ثواب تھا؟ گیس کے ہزار‘ بارہ سو تو خیر غنیمت تھے مگر یہ پورے پانچ ہزار کا بل… وہ جتنا بڑبڑاتیں‘ ہولتیں‘ کم تھا۔
’’اے نوج‘ ایسی کوئی موئی فیکٹریاں‘ کمپنیاں تو نہیں چل پڑی ہیں۔ ایک ذرا سا گھر ہی تو کرائے پر اُٹھا رکھا ہے۔‘‘ مگر اچھی آپا کا مکان کسی کمپنی یا فیکٹری سے کم بھی نہ تھا۔ گھر کے چاروں طرف سے ہن برس رہا تھا تو یہ ان کی سالوں کی جمع جوڑ کھینچ تان اور پیسے سے پیسہ بنانے والی ہنر مندی کا کمال تھا۔
دُنیا کو تین منزلہ مکان‘ دکانیں تو نظر آتیں مگر ان کی بنیادوں میں اچھی آپا کی سالوں کی ریاضتوں کا لہو تھا‘ یہ کم ہی لوگ جانتے تھے۔ ایک نہ دو‘ تیس سال پرانا محلہ تھا مگر اب پرانے جاننے والے کم ہی رہ گئے تھے۔ کچھ مر کھپ گئے‘ کچھ آگے بڑھ گئے اور جو رہ گئے‘ ان پر بھی کب اچھی آپا نے اپنی بیتی زندگی کے راز کھولے تھے۔
خ…خ…خ
یہ سالوں پرانی بات تھی‘ ابا اسٹیٹ بروکر تھے۔ ہوائی آمدنی تھی اور امی سمیت ان سب کی زندگی اسی ہوائی آمدنی کے آزار سمیٹے گزر رہی تھی۔ بچوں کی تعداد پانچ اور تنگ دستی اس گھر کا نصیب تھا۔ سنا تھا کہ ابا ’’شوقین مزاج‘‘ تھے اور یہی شوق انہیں لے ڈوبا۔ ایک روز جو سوئے تو سوتے ہی رہ گئے۔ خیر… گھر کے لیے انہوں نے کچھ کیا نہ کیا مگر بھلے وقتوں میں جیسے تیسے سر چھپانے کا ٹھکانہ تو بنا ہی دیا تھا۔
حق ہاہ… کیا وقت تھا‘ وہ سب دنوں اچھے کھانے کو ترستے۔ امی رات کو بچی روٹی کے ٹکڑے صبح ناشتہ کے لیے دودھ میں بھگو دیتیں۔ کنچے برابر آلو کی بھجیا‘ سبزی شام پڑے لے کر آتیں کہ روپے کی چیز ٹکے کے بھاؤ چڑھتی۔ کریانے کی دکان سے بوریوں کا چھان‘ کوڑیوں کے مول پڑتا۔ امی گیہوں‘ دالیں‘ چاول‘ دلیہ پھٹک پھٹک کر الگ برتنوں میں بھر دیتیں‘ جو کئی کئی دن چلتا۔ محلہ کے درزی سے بچے کھچے ٹکڑے اٹھا لاتیں تو بچوں کے موسم کے کپڑے سل جاتے اور کیا خوب سلائی کرتیں۔ کئی کئی ٹکڑے جوڑ کر ڈیزائن ڈالتیں۔ جتنا بڑا ٹکڑا ہوتا‘ اسی ناپ کا سوٹ سل جاتا۔ جو بچ رہتے‘ وہ ریڈی میڈ بچوں کی شاپ پر ہاتھوں ہاتھ بکتے۔ اگرچہ خوب جانتیں… دس بیس کا سلا سوٹ دکاندار سو میں بھگتاتا ہے۔
ہائے ہائے… وہ وقت بھی آخر گزر ہی گیا۔ مکان کے داخلی دروازے تک کے احاطے کی سہ طرفہ دیواروں کے ساتھ ساتھ آم‘ بادام‘ جامن‘ امرود اور شہتوت کے درختوں کی قطار تھی‘ جن پر خوب پھل آتا تھا۔ آنگن میں ڈھیر ساری مرغیوں کا تین منزلہ پنجرہ‘ دن بھر کٹا کٹ چلتی اور گھر کا سارا بچا کھچا وہیں ٹھکانے لگتا۔ اللہ جنت نصیب کرے‘ کیا بڑھیا‘ بڑیاں توڑتی تھیں۔ پاپڑ‘ چاول کی پٹیاں… اگرچہ اب نمکو‘ نوڈلز کا زمانہ تھا مگر اچھی آپا نے یہ تمام ہنر ان ہی سے سیکھے تھے جو ان کے کڑے وقتوں میں کام آتے رہے تھے۔ اگرچہ ان دنوں بھی ان چیزوں کی مانگ کم تھی مگر جتنی مانگ تھی‘ وہ اتنی ہی بناتیں کچھ نہ ملتا تو روپے روز پر پنساری کی دکان کی چھالیہ کترتیں۔
تب یہ اچھی آپا ہی تھیں جو درست معنوں میں امی کا… دایاں بازو بن کر کھڑی ہوئی تھیں۔ ہفتہ دس دن میں درختوں سے پھل اترتا‘ مرغیوں کے انڈوں کی ٹوکری سمیت وہ دکان دکان پھرتیں‘ ٹھیلے‘ چھابڑی والوں سے امرود‘ جامن‘ آم پر بھاؤ تاؤ کرتیں‘ سلے سلائے جوڑوں کی دکان سے واپس لوٹتیں تو ان کے ہاتھ میں سرخ و سبز نوٹ ہوتے۔
خیر… گرمی کے بہانے گلی میں چارپائی ڈال کر وقت کھوٹا کرنے والی نہ تھیں۔ نگوڑیوں میں سے تو امی بھی نہ تھیں۔ اسی کھینچ تان میں بھی پائی پائی جوڑ کر وہ کمیٹیاں بھگتاتیں اور یہ ان ہی وقتوں کی بات ہے‘ کونے کا مکان تھا۔ امی چھت پر دھلے کپڑے سکھانے یا کسی کام کے لیے چھت پر چڑھتیں‘ دن میں چلتی سڑک کا سامنا ہوتا۔ چار دیواری بن جاتی تو گرمیوں کی طویل لوڈشیڈنگ میں چھت پر رات گزارنے کا ٹھکانہ بھی بن جاتا۔ امی کی کمیٹی کھلی تو چھت کے اطراف اتنا احاطہ کھینچ دیا کہ سڑک سے چھت پر کھڑا آدمی دکھائی نہ دے اور اللہ بھلا کرے… یہ بھی کسی بھلی مانس کا ہی مشورہ تھا۔
’’اے بی بی… جب یہ لمبی ساری دیوار کھنچوا ہی دی ہے تو دو چار اینٹیں اور رکھ کر چھت بھی لگادو تو تمہارے رہنے کو ایک کمرہ بہت۔ نچلی منزل کو کرائے پر اٹھا دو‘ خیر سے دو کمرے ہیں۔ ہزار‘ بارہ سو سے تو کیا ہی کم کرایہ آئے گا۔ کچھ تو سہارا ہوگا۔ پائی پائی کے لیے جان مارتی ہو۔‘‘
مشورہ بھلا تھا۔ امی کے دل کو لگا۔ کچھ وقت تو لگا مگر اگلی کمیٹی پر دیوار بڑھا کر چھت بھی لگا دی۔ ایک سائیڈ میں کچن‘ باتھ روم بھی بن گیا۔ لو جی‘ چار پیسے تو لگ گئے مگر چیز اچھی بن گئی۔ دو پیسے کا آسرا بھی بنا۔ خود وہ پانچ بچوں سمیت اسی چھت والے کمرے میں اٹھ آئیں اور واہ ری دُنیا کی دربدری‘ بیرونی دیوار سیاہ کرنے کی دیر تھی‘ مانو سارا شہر اُمڈ آیا۔
ایک مہینے کا کرایہ‘ ایک مہینے کا ایڈوانس، ایک ہی ماہ میں آدھا خسارہ وصول ہوگیا۔ لگی بندھی آمدنی کا رستہ نکلا تو کچھ ہاتھ کھلا۔ گھر کے کنستر میں ماہوار راشن پڑنے لگا اور یہ وہ وقت تھا جب امی نے چھوٹے اور بڑے کو کام سیکھنے کے لیے میکینک اور ٹیلر ماسٹر کی دکان پر بٹھا رکھا تھا۔ وہ دس روپے روز لاتے‘ اسکول سے لوٹتے تو دکانوں پر چلے جاتے۔ بڑا دکان بھگتا کر سبزی والے کا اسباب سمیٹتا تو اسے بچی کھچی سبزی‘ ہرا مسالا اور بیس روپے ملتے۔ رات کی ہانڈی اس کے لوٹنے پر ہی چڑھتی۔ سو کھینچ تان کر سہی‘ گھر کی گاڑی تو گھسٹ ہی رہی تھی… مگر بات کرایہ پر آئی تو ایک سے ایک افلاطون سے پالا پڑا۔ ذرا جو کوئی تنگی پڑتی‘ وہ سر پر سوار ہوجاتے۔
’’کیا بات ہے… کیا کرایہ نہیں دیتے ہیں؟ گھر کا گٹر کیوں ابل رہا ہے؟‘‘ امی بے چاری کبھی سیوریج سسٹم‘ کبھی پانی کی ٹنکی اور کبھی گھر کی مرمت کے لیے ہلکان ہوتی پھرتیں۔
اب چھوٹے علاقوں میں سیوریج سسٹم کی خرابی‘ پانی کی ٹنکی‘ بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ تو سدا سے تھی۔ اکثر کرایہ دار منہ کو آتے۔ مانو‘ مالک مکان ان سب کا ذمہ دار ہو۔ ذرا جو تنگی پڑتی‘ کرایہ دار دم دبا کر بھاگتا نظر آتا مگر مالک مکان کہاں جائے؟ اور جب مکان کرایہ پر دینا ہی ٹھہرا تو کچھ سمجھوتے ہی میں عافیت تھی۔ سو امی دو چار کھری کھوٹی بھی سن ہی لیا کرتی تھیں۔
اب آئے دن کی جھک جھک‘ چخ چخ بھی تو اچھی نہیں۔ لوگ سالہا سال ایک جگہ رہتے ہیں کہ لوگ انہیں مالک مکان ہی سمجھ بیٹھتے ہیں۔ پھر بھی کرایہ دار پر کرایہ دار بدلتے رہے۔ کچھ وقت گزرا اور اللاہ کا کرنا ایسا ہوا کہ ایک کاروباری آدمی کو ان کا مکان گودام کے لیے بھا گیا۔ واہ جی واہ… کیا کہنے‘ آم کے آم گٹھلیوں کے دام… گیس‘ پانی‘ بجلی کا خرچ نہ رہتا، کرایہ بھی لگا بندھا ملتا۔ امی نے پل بھر نہ سوچا‘ کچھ روز تو گاڑی چلی مگر اس بار محلہ والوں کو تنگی پڑگئی۔ گودام میں بوریوں کے ٹرک کے ٹرک بھر کر آتے اور لد کر ٹنوں کے حساب سے اناج ذخیرہ کیا جاتا۔ محلہ کی بہن بیٹیوں کا سامنا پڑتا۔ امی بے چاری کس کس سے جھگڑتیں۔
پھر یہ اسی آدمی کی تجویز تھی کہ سڑک کی جانب مکان کی داہنی دیوار سے اندرونی احاطے میں ایک دیوار کھینچ کر بیرونی رخ پر شٹر لگادیے جائیں تو دو دکانیں مزے سے نکل جائیں۔ ٹرک کا گلی میں آنا یوں بھی مشکل ہوتا ہے۔ محلہ کا سامنا بھی نہ ہوگا‘ کچھ امی کا دو چار سو مزید کا آسرا بھی بنے گا۔ تجویز معقول تھی مگر امی اتنا کہاں سے لاتیں کہ دو دکانیں بنوا دیتیں مگر آدمی مال دار تھا‘ تین مہینے کا کرایہ ایڈوانس دے دیا۔ سو سڑک کی جانب والی دکان کی داہنی دیوار میں دو شٹر فٹ کروا کے مکان کی داخلی احاطہ میں دیوار کھینچ دی گئی تو دو دکانیں نکل آئیں۔ اب سامان بالا ہی بالا لدتا‘ اُترتا۔ اللہ اللہ خیر صلا۔
اور اچھی آپا کو خوب یاد تھا کہ اس وقت ایک دکان کا کرایہ تین سو روپے پڑتا۔ امی ان پیسوں سے گھر کے بل بھگتاتیں۔ سو کیا حرج رہا… سوائے اس کے کہ گھر کی داہنی دیوار سے لگے آم‘ جامن اور شہتوت کے درخت سے مکان کا ایک حصہ محروم ہوگیا۔ نچلی منزل کے دو کمروں میں نئے کرائے دار آگئے۔ مکان کا کرایہ الگ‘ دکانوں کا کرایہ الگ‘ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا۔ پانچ بچوں کا ساتھ تھا۔
اچھی آپا تو میٹرک کرکے گھر بیٹھ رہیں کہ اس سے بڑھ کر امی کی بساط تھی‘ نہ اچھی آپا کو خواہش۔ واللہ کیا غضب کی اٹھان تھی اچھی آپا کی اور کیا حوروں کو شرماتا رنگ و روپ کہ اندھیرے میں بٹھادو تو اُجالا پھیل جائے۔ گھٹنوں کو چھوتے‘ دراز بالوں کو امی سیروں تیل تھوپ لپیٹ لپاٹ کر رکھتیں کہ کہیں کسی بدنظر کی نظر نہ لگ جائے۔ سو رشتوں کے بھی ٹھٹ کے ٹھٹ لگ گئے مگر امی اور اچھی آپا خود ابھی شادی کے نام پر کانوں کو ہاتھ لگاتیں۔ شادی کے لیے وہ اتنا پیسہ کہاں سے لاتیں۔ یہاں تو وہ عالم تھا کہ سر چھپاؤ تو پائوں ننگے ہوتے… ابھی اس کی عمر ہی کیا تھی۔ پھر ان کے گھر کا شیرازہ نہ بکھر کے رہ جاتا۔ ان کے گھر کا سارا نظام اچھی آپا کے دَم قدم سے چلتا۔ وہ خود دو پیسے کا دھندہ‘ پائی پائی کی جمع جوڑ نہ کرتیں تو گھر کا دال دلیہ کیسے چلتا۔
نچلی منزل اور گودام کا کرایہ تو ماہوار راشن اور کمیٹیوں میں پھنک جاتا اور یہ گیس‘ بجلی کے بل تو خون چوس کر بھی جان نہ چھوڑیں۔ پھر بچوں کی پڑھائی اور روزمرہ کے اخراجات… اچھی آپا کو البتہ اپنے ہنر میں طاق ضرور کردیا تھا۔ ایسی عمدہ و نفیس سلائی کیا کرتیں‘ ٹکڑے نوالے جوڑ کر بھی کیا خوب ڈیزائن لگاتیں کہ دیکھنے والا اش اش کر اٹھے۔ کڑھائی کی چادریں‘ کروشیے کی بیلیں‘ ہاتھ سے بنے سوئٹر‘ اشعار کڑھے تکیے‘ اب یہ سب کہاں چلتا ہے مگر ہائے ہائے اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا… وہ ابھی تک ان ہی وقتوں میں جیتیں‘ جب اپنے جہیز میں یہی سب کچھ اپنے ہاتھوں سے بنا کر لائی تھیں۔
اچھی آپا کے پیدا ہوتے ہی اپنے جہیز کے سارے اسٹیل کے برتن‘ سینت کر جوں کے توں رکھ دیے تھے۔ ٹی سیٹ‘ واٹر سیٹ‘ سینیاں‘ رکابیاں‘ ایک نہ دو‘ تین بچیوں کا ساتھ تھا اور اچھی آپا کا نمبر پہلا تھا۔
خ…خ…خ
وقت آنے پر رشتے بہت‘ ان کا یہی گمان انہیں لے ڈوبا مگر وہ جو کہتے ہیں کہ رب اپنے پیارے بندوں کا امتحان لیتا ہے۔ اچھی آپا کا دس کلاسیں پاس کرنا تھا کہ امی بستر سے جالگیں۔ وہ زینے سے رپٹ گئی تھیں اور ضرب شدید تھی‘ ان کی کمر کا مہرہ سرک گیا تھا۔ بساط بھر ان کے علاج پر پیسہ بھی خرچ کیا گیا‘ پھر کھوٹے مقدر پر رو پیٹ کر بیٹھ رہے۔ چارپائی امی کا نصیب بن گئی اور بہن بھائیوں سمیت گھر داری کے کل آزار‘ اچھی آپا کے بخت میں جا پڑے۔ اچھی آپا کے بعد ایک بڑا بھائی تھا‘ پھر بڑی بہن، چھوٹی بہن اور پھر ایک چھوٹا بھائی‘ جن کے تمام دلدر بھگتانے کو اچھی آپا ہلکان رہتیں۔
اچھی آپا سب کو ناشتے‘ کھانے دے کر ہی سب سے آخر میں نوالہ حلق سے اتارتیں۔ چھوٹے اور بڑے کو خیر سے ہفتہ ملنے لگا تھا۔ بڑی گھر کے کاموں میں کوری تھی مگر ہنر مند بلا کی نکلی۔ اللہ جھوٹ نہ بلوائے تو سیکڑوں کے حساب سے ڈپلومے اکٹھے کرلیے تھے۔ ہر شام صحن بھر کے‘ گلی محلہ کے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی۔ اچھی آپا نے اس کی محنت و ہنر کے پیسے اسی کے لیے وقف رکھے۔ کبھی گھر میں ٹکا نہ خرچ کیا۔ اسی کی آمدنی اسی کے کام آتی رہی۔
ہینڈ میکنگ‘ فلاور میکنگ‘ پردہ‘ ان کے ہزار نمونے۔ موم پگھلا کر مومی گڑیاں تیار کرتی۔ اخبار کیمیکل اور ٹشو کے پھول اور نہ جانے کیا کیا۔
چھوٹی ہر معاملے میں بڑی کے برعکس تھی۔ نرمی کھلنڈری‘ امی نے اس پر لتھ توڑ دیے۔ پر اس نے پڑھ کے نہ دیا۔ بڑی کو تو خیر ہزار دھندے تھے۔ چھوٹی نے کیا مجال جو کبھی گھر کے کسی کام دھندے کو ہاتھ لگایا ہو یا امی کے حلق میں پانی کا گھونٹ بھی ٹپکایا ہو۔ ایک اچھی آپا تھیں جو گھر بھر کے دھندے نمٹانے میں پھرکی کی طرح پھرتیں۔ سب سے بڑھ کر امی کی خدمت گزاری‘ جو کل وقت جاب تھی اور صرف اچھی آپا کے نام رہی۔
علاقہ بھر میں ان کی سلائی کی دھوم تھی اور وہ دام ہلکے ہی رکھتیں۔ بڑے کو دو سو روپے ہفتہ ملتا‘ چھوٹے کو اس سے بھی کم۔ اچھی آپا خود چار پیسے کماتیں‘ امی کے سارے ہنر اچھی آپا میں آگئے وہ گھر کے اخراجات گھسیٹنے میں ہلکان رہتیں۔ آمدنی چونی‘ خرچا روپیا۔ کھینچ تان ہمیشہ ان کا نصیب رہی اور تنگ دستی میں گھر کی گاڑی گھسیٹنے کا ہنر اب بھی ان کا چلن تھا۔
اچھی آپا دو روپے کی چھاچھ منگا کر دیگچہ بھر کر کڑھی چڑھاتیں تو دو وقت سے تو کیا ہی کم چلتی۔ یہ اچھی آپا کی ہنر مندی اور صبرو حوصلہ نہ تھا تو کیا تھا؟ امی کبھی کبھی تو سچ مچ رونے بیٹھ جاتیں۔ معذوری کا عذاب بیوگی سے بڑھ کر تھا۔ اچھی آپا نہ ہوتیں تو کیا بنتا اس گھر کا اور ان کی اولاد کا… مگر شاباش تھی اچھی آپا کے صبر و حوصلے کو کیا مجال جو لبوں سے ذرا سی اف بھی نکل جائے مگر یہ سب رب کے فیصلے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے پسندیدہ بندوں کو ہی دوسروں کے لیے وسیلہ چنتا ہے اور یہ بات بہت آگے جاکر پتا چلی تھی۔
خ…خ…خ
اچھی آپا نے اسی کھینچ تان کے چلن پر چل کر اور پائی پائی کی جمع جوڑ سے تنکا تنکا آشیانہ بنایا۔ مکان کے اندرونی احاطہ کی دیواروں سے لگے درختوں سے پھل اب بھی اُترتا‘ مگر اب ٹھیلے اور چھابڑی والے خود آکر لے جاتے۔ ریڈی میڈ کی شاپ پر اب اچھی آپا کے ہاتھ کی سلائی جاتی۔ کمیٹی کھلی تو اوپری منزل کے پورشن کی درستگی میں کھپائی کہ اب تک بغیر پلستر کی دیواروں پر گزارا نا تھا۔ ایک کمرہ تنگ پڑتا‘ پھر جوان لڑکیوں کا گھر تھا۔ لڑکیوں کا رکھ رکھاؤ‘ طور طریقہ گھر کی حالت سے ہی پتا چلتا ہے۔ اچھی آپا نے اپنی جمع جوڑ اور مشقت سے بہنوں کا جہیز جوڑا۔ گھر کے خرچ بھگتائے۔ بھائیوں کی شادیاں نمٹائیں۔ اب اچھی آپا کی ٹکر پر گھر داری کا جگر بھلا کون لاتا اور اس گھر داری کے جھمیلے… الامان الحفیظ۔
کبھی کبھی وہ سوچتیں اگر اچھی آپا نہ ہوتیں تو اس گھر کا اور خود ان کا کیا بنتا۔ چھوٹی کا تو خیر ذکر ہی کیا۔ اللہ جھوٹ نہ بلوائے تو ڈیڑھ بالشت کی لڑکی میں باون گز کی زبان تھی۔ لوٹھا کی لوٹھا ہوگئی مگر عقل نام کو نہ تھی۔ چھوٹی تو چھوٹی‘ بڑی بھی ابھی اتنی بڑی نہ ہوئی تھی کہ وہ اچھی آپا کو بھگتا دیتیں۔
اچھی آپا نے ان کے گھر بار کے لیے اپنی جان ایک کر رکھی تھی اور یہ سب کو نظر آتا تھا۔ ان کے نام کے بیشتر رشتے بالا ہی بالا مڑگئے۔ سو ان کی کچھ دیر سے سہی مگر وہ جو کہتے ہیں کہ رب ایک در بند کرتا ہے تو سو در کھولتا ہے‘ تو وہی معاملہ رہا۔
لوگ بڑی کے لیے لگے‘ خیر سے صورت لاکھوں میں ایک پائی تھی۔ آخرکار امی نے ایک رشتہ چھانٹ کے عندیہ دے ہی دیا۔ چھوٹے نے اپنی میکینک کی دکان کھول لی تھی۔ اس کی آمدنی سے ایک بڑی کمیٹی پھنسا تو رکھی تھی‘ باقی کا اللہ مالک ہے مگر ہوا یوں کہ بڑی کے لیے آنے والے چھوٹی پہ دل ہار بیٹھے اور اس کا بھی تو آخر کرنا ہی تھا۔ اب وہ زمانہ کہاں کہ بڑی کے آسرے میں چھوٹی بٹھائے رکھو۔ پھر رشتہ ایسا کہ ہاتھ سے چھوڑتے جان جاتی تھی۔
ذرا موئی کی عقل کے کس بل کھلیں گے‘ کدکڑے باز کہیں کی۔ دن بھر میں ٹنوں کے حساب سے امی اور اچھی آپا کا خون کھولاتی مگر قسمت کی دھنی نکلی۔ سولہ کا سن بھی پورا نہ کیا تھا کہ ٹھکانے لگی۔ لڑکا دماغ کا ٹیڑھا نکلا تو یہ اچھا ہی رہا۔ چھوٹی کو تو کس ہی لیا ورنہ وہ کہاں ہاتھ آنے والی تھی۔ ذرا جو ڈھیل ملتی تو سب کو تگنی کا ناچ نچا کے رکھتی۔ دیکھنے والوں نے کیا کیا نہ کہا۔
’’اے لڑکا کیا ہے‘ پورا مرد ہے مرد… یوں کہو کہ پیسہ دیکھا ہے بس۔‘‘
مگر پیسے کی قدر و قیمت ان سے بڑھ کر کون جانتا۔ انہوں نے ایک وقت ٹکے ٹکے کے لیے ترستے‘ جان مارتے گزارا تھا۔ اس لیے یہ خوبی سو میں ایک رہی کہ گھرانا کھاتا پیتا تھا‘ مالی فراغت تھی۔ سب سے بڑھ کر مختصر گھرانہ۔ اچھی آپا اور خود امی‘ بڑی فیملی کے نام پر بھی کانوں کو ہاتھ لگاتی تھیں۔ انہیں اور کیا درکار تھا‘ جھٹ ہامی بھر کر رشتہ پکا کیا اور مانو چٹ منگنی پٹ بیاہ والا معاملہ رہا اور جیسے سناٹے گھر کے آس پاس کو کاٹنے لگے تھے۔
چھوٹی تھی تو زندگی کا احساس تھا۔ یہاں وہاں سے پکار پڑتی ہی رہتی۔ وہ گھر کے کاموں میں نری کوری سہی‘ اوپر کے ہزار کام اس سے کروالو‘ بازار کے لیے دوڑ لگانی ہو یا کھٹی میٹھی ٹافیاں لے کر آنی ہوں‘ چھوٹی سو معاملات کا ایک حل تھی۔ بڑی خاموش طبع‘ حساس مگر اپنی دُنیا میں مگن رہنے والی۔ اپنی آمدنی کی ایک ایک پائی اچھی آپا کی ہتھیلی پر دھر دیتی۔ اچھی آپا نے اس کا سارا جہیز جوڑا‘ گھر کی آمدنی سے اسی تنگی ترشی اور کھینچ تان کے ساتھ گزارا کیا۔
مکان اور دکانوں کا کرایہ ہر سال بڑھتا مگر مہنگائی اس سے بڑھ کر چابکدست تھی۔ چھوٹے اور بڑے نے گزارے لائق ہی تعلیم حاصل کی تھی کہ تنگ دستی کا عفریت کسی اور جانب بڑھنے ہی نہ دیتا۔ کچھ وقت گزرا‘ دکانیں خالی ہوتیں‘ پھر بھر جاتیں۔ اس بار ایک دودھ والا‘ دوسرا پرچون فروش‘ جن کی آمدنی‘ بلوں‘ کمیٹیوں میں پھنکتی اور گلی کے رخ نکلتی دکان کی کہانی بھی خوب تھی۔
نچلی منزل کے کرایہ دار‘ فیملی تو کم ہی تھی‘ دو بیٹیاں‘ دو میاں بیوی… مگر ذرا جو کسی مد میں تنگی پڑتی۔ تو وہ آنکھیں پھیرنے میں طوطے کو مات دیتے۔ مگر وہ اچھی آپا تھیں‘ بھولی بھالی امی نہ تھیں‘ جو ایک للکار پر ہڑبڑا اٹھتیں۔ وہ رکھ کے کھری کھری سناتیں‘ آڑے ہاتھوں لیتیں۔ سو کھٹ پٹ تو چلتی۔ اچھی آپا جھلا کر مکان خالی کرنے کو کہتیں۔ خاتون خانہ آنسوؤں سے روتی، اوپر چلی آتیں۔
’’اپنے گھر میں اثرات ہیں۔ سیوریج سسٹم خراب‘ چھتیں نیچی ہیں‘ جوان لڑکیوں کا ساتھ ہے۔ ایک بھگتا دی تو دوسری کو کیسے تنہا چھوڑ کے جائیں گے۔‘‘
خیر اچھی آپا کو ان سے کوئی شکایت تو تھی نہیں‘ بے چارے کرایہ دینے میں تو کھرے ہی تھے۔ خیر سے ماں بیٹی کمانے جاتیں۔ ایک نکمے پھرتے تو ابا میاں… کہ کسی کام میں دل ہی نہ لگتا۔ بھلے بدھو لوٹ کے گھر کو آئیں تو دروازے پر منہ چڑاتا تالا ملے۔ سو وہ ادھر ادھر ہی بیٹھے نظر آتے۔ پھر یہ اچھی آپا کی ہی صلح تھی۔
’’اپنے نکمے میاں کو ایک کھوکا کھلوا دیں۔ بچوں کی چیز کی دکان خوب چلتی ہے‘ ان کا بھی دل لگا رہے گا۔‘‘
مگر وہ سب تجربات کئے بیٹھی تھیں۔ کئی بار دکانیں کھوکے کھلوائے‘ سب بیچ کھائے۔ وہ بیٹی کو لے کر کمانے نہ جاتیں تو گھر کیسے چلتا۔
مرے پہ سو دُرّے… وہ بھری برسات میں میاں کے ساتھ اسکوٹر پر بیٹھ کر کسی کام سے نکلیں تو رپٹ گئیں۔ پیر پر پلستر چڑھوا بیٹھیں‘ نوکری بھی ہاتھ سے گئی۔ بیٹی کی شادی سر پر کھڑی تھی۔ بیٹا کوئی تھا نہیں۔ ان کے علاج پر پیسہ پانی کی طرح لگ رہا تھا۔ اس پر بے کاری… پھر یہ اچھی آپا کی ہی صلاح تھی۔
’’میری مانیے تو اپنے میاں کو ایک فرائی مشین‘ ٹیبل پر رکھ کر گلی میں بٹھا۔ بیٹھے بیٹھے چپس‘ رول‘ سموسے آپ تیار کرکے دیتی رہیے گا۔ دیکھنا شام میں ٹھٹھ لگ جائے گا۔‘‘
اب چونی اٹھنی کے زمانے گئے۔ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتیں‘ بچے شام میں درجنوں کے حساب سے رول‘ سموسے خریدتے۔ شام میں گھروں کو بھی جاتے‘ شام کی چائے کے لیے ۔
’’کچھ روز میں کام چل جائے تو بچوں کی چیزوں کے ڈبے‘ کچھ راشن کا سامان رکھ لیجیے گا۔ میں داخلی دروازے کے ساتھ ایک دکان کھلوا دیتی ہوں۔‘‘ تجویز معقول تھی۔ کھٹ سے ان کے دماغ کو لگی۔
وہ در در نوکری کے لیے خاک چھانتے پھرتے۔ نوکری مل بھی جاتی تو دو چار روز بعد گھر بیٹھے نظر آتے۔ ایک بیٹی بیاہی تو دوسری سر پر لٹکتی تلوار… وہ اسے تنہا کس پر چھوڑ کے جائیں۔ اب ہر گھر اچھی آپا کے گھر جیسا کہاں ہوتا ہے۔ اچھی آپا کی تجویز میں سب مسائل کا حل تھا۔ ان کی بے کاری ٹھکانے لگتی‘ میاں کے سر پر سوار رہتیں تو کام سے لگتے۔ بچی کو بھی دُسراہٹ مل جاتی۔ بات فائدے کی تھی۔ ان کے من میں سمائی تو یہی کیا اور کام کھٹا کھٹ چل پڑا۔
’’آپ کچھ رقم ایڈوانس دے دیں تو میں وہیں ایک دکان کھلوا دوں۔ جب تک رقم پوری نہ ہو‘ دکان کا کرایہ مت دیجیے گا۔‘‘
اور سال بھر رہنے سے اتنا اعتماد تو اچھی آپا حاصل کرہی چکی تھیں۔ پھر یہ تو سراسر اپنے فائدے کی بات تھی۔ انہوں نے کھٹ سے کھیسہ ڈھیلا کیا۔ داخلی دروازے کے ساتھ گھر کے اندرونی احاطے میں دیوار اٹھوا کر ایک شٹر باہر کھلوا دیا گیا۔ کچھ روز میں دکان چل پڑی۔
راشن کے ڈبے‘ ناشتے کا سامان‘ گرمیاں آئیں تو فریج بھی رکھ لیا‘ بچوں کی آئس کریم‘ دھڑا دھڑ چلتیں یا تو سب کچھ ٹھکانے پر لگا‘ اب بیگم کا ڈنڈا سر پر بجا تو ایک جگہ ٹک کر کام کرنا نصیب ہوا اور اچھی آپا کے لیے مزید کچھ آسرا بنا مگر بھرے کنبے کے اخراجات بھگتانے کو ہاتھ روک کر ہی چلتیں۔ امی بھی ہمت کھو رہی تھیں۔ اچھی آپا کا سوچتیں تو اچھی آپا کو گھر بھر کی فکر مارے ڈالتی۔ وہ بڑی کے لیے ہلکان تھیں‘ پہلے اسے بھگتا دیں۔ پھر دیکھتے ہیں مگر امی کی سوئی اچھی آپا پر اٹکتی۔ سوچا تھا بڑی کے ساتھ وہ بڑے کو بھگتادیں گی۔ خیر سے اب ڈھنگ سے کمانے لگے تھے۔ گھر میں بہو آئے گی تو کچھ گھر گرہستی کا بار بانٹ لے گی۔ اچھی آپا کو خلاصی نصیب ہوگی مگر کہاں… انسان جو سوچتا ہے‘ وہ ہوتا نہیں ہے۔ ہوتا وہی ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے۔
سو ہوا یوں کہ چھوٹے پر عشق کا بھوت سوار ہوا اور بھوت بھی ایسا کہ الامان الحفیظ… اچھی آپا سناتیں۔ چھوٹے کے لیے تو ابھی دُور دُور تک ارادہ نہیں تھا۔ ابھی تو بڑی کا ارادہ تھا۔ خیر سے بیس کی ہونے کو آئی۔ رشتے بھی آتے رہتے مگر… چھوٹے میاں تو مرنے مارنے پر تل گئے تو اچھی آپا کو قدم بڑھانے ہی پڑے۔ یہ اور بات کہ جن امیدوں سمیت قدم اٹھائے تھے‘ وہ سب ایک ایک کرکے ٹوٹ گئیں۔ تنگ ماتھا‘ چھوٹی آنکھیں‘ سوکھی چمڑخ‘ موئی امچور کی پھانک‘ البتہ رنگت خوب سفید تھی۔ شاید اسی کا کمال تھا کہ کسی کو خاطر میں نہ لاتی سو بے نیازی سے ٹی وی کے سامنے بیٹھی اسٹار پلس کے ڈرامے دیکھتی رہیں۔ وہ جو کہتے ہیں کہ دل گدھی پر آئے تو پری کیا بیچتی ہے۔ وہی بات تھی۔
خیر… یہاں تک بھی خیر تھی مگر اخلاق نام کی چڑیا سے بھی تو واسطہ لازمی ہوتا ہے کہ نہیں… مگر عشق کا جادو چھوٹے میاں کے سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ سو ان کی کون سنتا‘ کان دھرتا۔ اب اگر وہ کسی کو بیاہ کر لانے کی ٹھان ہی لیتیں تو کسوٹی پر پرکھتیں۔ یوں ہی تو نہیں کسی کو اٹھا لاتیں اور اس گنوں کے پورے گھرانے کی چھپن چھری تو تب بھی نہیں مگر اب بات کچھ اور تھی۔ سب معاملات طے تھے۔ انہیں تو بس ٹھپہ لگانا تھا۔ سو‘ دال موٹھ پھانک کر سوکھی سڑی چائے کے ساتھ نکاح کی تاریخ پکڑا دی۔ انہیں ماننا ہی پڑی۔
چار لوگ اکٹھے کرکے نکاح کے لیے جاپہنچیں اور وہی اخلاق کی کمی‘ اسٹیل کی پلیٹوں میں فقیروں کی طرح کھانا کھلایا‘ مہمان کھڑے رہے‘ میزبان کھاتے رہے‘ کسی نے ان سب کو منہ نہ لگایا‘ سارے خاندان میں تھو تھو ہوئی۔
’’میاں… آتے جاتے رہنا۔ خیر سے نکاح ہوگیا ہے۔‘‘ سسر صاحب نے نکاح کے بعد گلے ملتے ہوئے کیا خوب چھوٹے میاں کو اجازت نامہ پکڑایا تھا۔
سو اگلے روز سے دربار پر حاضری سے کس مائی کے لال میں دَم تھا کہ روکتا۔ چھوٹے میاں سج بن کر نکلے تو اچھی آپا کا ماتھا ٹھنکا۔ ہانپی کانپتی پیچھے پیچھے جاپہنچیں اور اوئی اللہ… یہ کیا؟ دلہن بیگم‘ بے شرمی و ڈھٹائی کے اگلے پچھلے ریکارڈ توڑتے ہوئے، چھوٹے میاں سے چپکی بیٹھی تھیں۔ چھوٹے میاں تو پھر بھی انہیں پاکر سٹ پٹا اُٹھے۔ وہ اسی ڈھٹائی سے ان کے کندھے سے لگی مسکراتی رہیں۔ اچھی آپا توبہ تلا کرتی لوٹی تھیں۔
خ…خ…خ
پھر ہر شام چھوٹے میاں کی چوکسی بھی لازم ٹھہری۔ وہ ساتھ لگ کر جاتیں تو رخصتی کے لیے اصرار۔ دلہن بیگم کی بے حجابی دیکھ کر اچھی آپا کسی اونچ نیچ سے ڈرتیں تو بڑے صاحب طوطے کی طرح آنکھیں پھیرتے۔
’’کیسی گڑبڑ‘ کاہے کی گڑبڑ… آپ بھول رہی ہیں نکاح ہوا ہے نکاح… اجی میں تو کہتا ہوں سنبھالیے اپنی امانت تاکہ ہم بے فکر ہوکر کسی بھی اپنے کے گھر جا رہیں۔‘‘ صاف ظاہر تھا کہ چھوٹے کو جال ڈال کر پہلے گھیرا اور اب پھنسایا جارہا تھا مگر اسے کہاں نظر آتا تھا۔ محبت کو یوں ہی تو نہیں اندھا کہا گیا۔
کبھی زمانے بھر کے خبیث بڑے میاں اچھی آپا سے نظریں سینکتے‘ کبھی نوٹوں کی گڈی لہرا کر انہیں للچاتے۔
’’اجی اب تو آپ کی فیملی میں شامل ہے۔ یہ روز روز کی چوکسی چھوڑیئے‘ فرنیچر کے دس ہزار پکڑیے اور اپنی امانت اپنے ساتھ ہی لے جائیے۔‘‘
اور اچھی آپا کی بیاہتی تھی جوتی۔ بڑی کے لیے رشتے کی بات چل جائے تو چھوٹے میاں کو ان ہی کے ساتھ بیاہنا تھا۔ پھر ان سے کون پوچھتا کہ شادی کے اسباب دس ہزار میں بھلا کس بازار میں بکتے ہیں۔ آخر زمانے بھر میں ان کی ایک ساکھ‘ میل جول‘ لین دین تھا کہ نہیں۔ وہ دس کو بلاتیں‘ طریقہ سے شادی بھگتاتیں‘ ارادہ تو یہی تھا مگر وقت آنے پر یہ دس ہزار بھی ہاتھ سے گئے۔ مگر وہاں تو جان چھڑانے والی بات تھی۔ ان کے پاس ہزار پینترے تھے۔
’’سوچ لیجیے‘ کہیں ایسا نہ ہو ہم اسی کو گھر داماد رکھ لیں۔‘‘
’’واہ جی واہ… یہ بھی خوب رہی۔‘‘ وہ دل بھر کے تاؤ کھاتیں۔ ایک رشتہ داری کیا جوڑ لی‘ موصوف جان کو ہی آگئے۔
اور یہ بھی ایک گیدڑ بھبھکی ہی تھی۔ اتنا تو اچھی آپا بھی جانتیں۔ انہیں گھر نصیب ہوتا تو گھر داماد رکھتے۔ اپنے سر چھپانے کا ٹھکانہ… بیچ اپنا کھیسہ گرم کرلیا کہ چار بیاہے بیٹے دانت گاڑے بیٹھے تھے۔ اب وہ منہ بھر کے کہتی کیا بھلی لگتیں کہ لڑکے پر جال ڈال کے نکاح کرنا کہاں کی شرافت ہے اور پھر گھر دامادی میں کسر بھی کیا رہ گئی تھی۔
چھوٹے کی جیب ہزار بہانوں سے وہیں ہلکی کروائی جارہی تھی اور مزے کی بات یہ کہ وہ کر بھی رہے تھے۔ شاید انہیں اسی وقت چھوٹے پر اس کی آمدنی سمیت فاتحہ پڑھ لینی چاہیے تھی مگر… وہ یوں ہی تو نہیں کہا گیا کہ دُکھ انسان کہاں دیتے ہیں‘ دُکھ تو انسان سے وابستہ اُمیدیں دیا کرتی ہیں۔ انہوں نے گھرداری کے لیے اب دلہن سے امیدیں باندھ لی تھیں اور یہ امید باندھتے ہوئے وہ بھول گئیں کہ جن لڑکیوں نے اپنی اماں کو دوڑا دوڑا کر آدھا کر رکھا تھا‘ وہ سسرال کو اس کے ہزار جھمیلوں سمیت کیا خاک بھگتیں گی۔ جب دیکھو بے چاری دھان پان سی اماں چار منزلیں اتر کر کبھی جوتی کی مرمت کے لیے بھاگتیں‘ کبھی تندوری نان کے لیے قطار میں کھڑی نظر آتیں اور ان کی سب اُمیدیں اُس روز ٹوٹ گئیں۔
بڑے میاں ان سے مایوس ہوئے تو ایک روز سیدھا سیدھا چھوٹے میاں کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا کہ لو میاں‘ سنبھالو اپنی امانت۔ ہمیں تو مکان خالی کرنے کا پروانہ مل گیا‘ اب بیٹے کے گھر جاپڑیں گے۔ دو‘ دو روز ایک گھر بھگتائیں گے تو وقت گزر ہی جائے گا۔ اسے کہاں لیے لیے پھریں گے کہ مطلقہ بیٹی نے بھی اپنا ٹھکانہ الگ کرلیا ہے۔ سو چھوٹے میاں ایک روز بیگم کا ہاتھ تھامے چلے آئے۔ اب کون سی رخصتی اور کاہے کی رخصتی۔ لیجیے جناب ہوگئی رخصتی… اچھی آپا ہک دک رہ گئیں۔ یہ آپ ہیں تو آپ پر قربان جایے۔
خیر اب تو اپنے کھوٹے مقدر پر رو پیٹ کر بری بھلی بھگتنی ہی تھی۔ خیر یہاں تک بھی خیر تھی مگر اس چھپن چھری کے وتیرے اللہ دے اور بندہ لے۔ گھر کے دھندے تو رہے ایک طرف‘ پیر پسارے سونے سے ہی فرصت نہ تھی۔ نیند پوری ہوتی تو کھانے کی ٹرے سامنے آجاتی۔ وہ کھا پی پیر پسار لیتیں۔ موبائل کان سے لگتا تو کئی کئی گھنٹوں کی نشریات چلتیں۔ اللہ کی پناہ۔ ماں بیٹی کا ایسا نادرو نایاب عشق دیکھا نہ سنا۔ اس پر ہر روز میکہ یاترا بھی۔
اچھی آپا کو خار چڑھتی تو بے نقط سناتیں اور ادھر پروا کرتی تھی دلہن بیگم کی جوتی۔ وہ سر منہ لپیٹ ایک بار پھر لمبی تان کر پڑ جاتی۔ ہر شام چھوٹے میاں کی اسکوٹر پر سوار ادائیں دکھاتی ان کی کمر میں ہاتھ ڈال یہ جا وہ جا۔ گھر اور گھر کے کام دھندے… وہ کیا جانیں‘ سسرال ہے کس چڑیا کا نام۔ کچھ آتا تو کرتیں ناں… اب تک کی زندگی میں دوسروں کے بل بوتے پر عیش کیے تھے۔ ذرا قد نکالا تو کاٹھ کا الو چھانٹ کر اپنا الو سیدھا کیا اور وہ بھی جوتی کی نوک پر۔ یہ انہیں دلہن بیگم کو بھگت کر پتا چلا۔ یہی تو لچھن تھے جو بڑی بہن بھی دو بچوں سمیت اجڑ کر میکے آبیٹھی تھی۔ وہ فیکٹری سدھارتیں‘ ان کے بچے اماں نے پالے۔ سو اماں ان دونوں کے لیے لازم و ملزوم تھیں۔
اور یہ سارا ناز نخرہ گوری چمڑی کی بدولت تھا۔ چھوٹے میاں کے کان بھر کر چھوٹے کو گھر سے گمراہ کرنے کی کوشش‘ وہ ڈنڈا سنبھالتے تو کس بل نکل ہی جاتے مگر اس کی نوبت ہی نہ آئی۔ چھوٹے میاں بیگم کی بلائیں لیتے نہ تھکتے۔ اسی کے کانوں سے سننے بھی لگے۔ واہ جی واہ… کیا کہنے۔ یہ اگر زن مریدی تھی تو خوب تھی اور یہ اس سو چلتر کی ایک چلتر کی ہی کارستانی رہی کہ چھوٹے میاں ایک روز سیدھے سبھاؤ بوریا بستر سمیٹ سسرال میں جا پڑے… لو جی چھٹی ہوئی۔
پھر وہی کنج قفس‘ پھر وہی صیاد کا گھر
بڑے کی باری چھوٹے کے بعد آئی اور کیا خوب آئی۔ مانو نہلے پہ دہلا پڑا۔ اس بار اچھی آپا قدم اٹھانے کی گناہ گار ضرور تھیں۔ جب چھوٹے کی ہوگئی تو بڑے کی بھی ہو ہی جانی چاہیے کہ خیر سے وہ بھی ڈھنگ سے کمانے لگے تھے۔ امی کو اب سچ مچ اچھی آپا کی فکر ستانے لگی تھی۔ اب وہ اپنی خدمت‘ گھر کے دلدر بھگتنے کو ساری عمر تو انہیں نہیں بٹھا سکتی تھیں اور اچھی آپا بڑی کے لیے ہلکان رہتیں۔ امی کو اچھی آپا کی فکر کھائے جاتی۔ اچھی آپا کے لیے آئے رشتے اس کی جانب مڑنے لگے تھے۔ اچھی آپا کی عمر ڈھل رہی تھی۔ صرف رنگ روپ ہی تو سب کچھ نہیں ہوتا۔ ان کا جسم پھیل رہا تھا‘ اب کوئی آتا تو ناک بھوں چڑھاتا لوٹتا۔ وہ عمر سے زیادہ کی دکھائی پڑتیں۔ رشتے یا تو پلٹ کے نہ آتے یا بڑی کے لیے مڑ جاتے تو وہ اچھی آپ کو بھگتاتیں مگر اچھی آپا کے کھوٹے نصیب ایسے کہاں۔
ایک بار پھر اچھی آپا کے لیے آیا رشتہ بڑی کے کھاتے میں جا پڑا تو ساتھ بڑے کے لیے تلاش شروع۔ ان کی خطا یہ رہی کہ چھانٹ کر بھوکے ننگے گھر سے لڑکی اٹھا لائیں۔ تنگی ترشی کی عادی ہوگی تو پیسے کی قدرو قیمت اور گھر داری کے چلن سے آشنا… مگر نہیں‘ زمانے بھر کی بھوکی ننگی‘ سو چلتر کی ایک چلتر… دنوں وہ منتظر رہیں۔ وہ گھر کے بکھیڑے سنبھالے۔ وہاں پروا کس کافر کو تھی۔ اس کا دلہناپا ہی نہ نمٹتا۔ اب اچھی آپا کہاں تک اس کے سامنے ناشتے کھانے سجاتیں‘ مگر کیا مجال جو اس کی غیرت پر پانی پڑ جائے۔ اب اسے تقدیر کی ستم ظریفی نہیں تو اور کیا کہتے ہیں۔
خ…خ…خ
اچھی آپا تھیں جو دن بھر گھر کے ٹنٹنے بھگتنے کو پھدکنی کی طرح پھرتیں۔ کیا مجال جو ایک گھڑی کا سکون نصیب ہو مگر بڑا اب بیوی کے کانوں سے سننے اور اسی کی بولنے لگا تھا۔ سو گھر بھر سے ہاتھ اٹھا بیٹھا۔ اس پر اپنی خدمتوں کی امید۔ اچھی آپا ہائے اوئی کرتی اس کے سامنے ناشتے‘ کھانے سجاتیں اور وہ مزے سے ڈکارلے کر‘ پھر پیر پسار لیتی۔
گھر کے کام دھندے تو رہے ایک طرف… وہ الٹا ان ہی سے اپنی خاطر خدمت کی امید رکھتی۔ انہیں بے طرح تاؤ چڑھتا۔ ایسے نرالے رنگ کہیں دیکھے نہ سنے۔ برتنوں پر مکھیاں بھنبھناتی رہتیں۔ کبھی جو وہ اسے شرم دلانے کو طنز کرتیں۔
’’کھالیا… اٹھا لوں؟‘‘ تو اسی کمال ڈھٹائی و بے شرمی سے سننے کو ملتا۔
’’ہاں جی اٹھا لو۔‘‘ وہ اسے گھر کے دھندوں میں کھپانا چاہتیں اور ادھر وہی ایک شان بے نیازی کا عالم۔
’’ہمارے ہاں ساس، بہو کے آگے روٹی رکھتی ہے۔‘‘ لو جی گل ای مک گئی۔ اب اس سے کون کہتا اگر ان کے ہاں کا باوا آدم نرالا تو یہیں کے طور طریقے اپناکر اپنے وتیرہ بدل ڈالے مگر نا جی… وہ بڑے کی منہ چڑھی تھی اور اسی کی شہ پر سب کے سروں پر چڑھی رقص فرما رہی تھی۔ اب اس کا کیا کیا جائے کہ وہ سدا سے ایسا ہی تھا جو ملا کھا لیا‘ جو کمایا لا کے ہاتھ پر دھر دیا مگر بیوی کے معاملے میں کاٹھ کا الو ثابت ہوا۔ زن مریدی میں چھوٹے سے چار ہاتھ آگے رہا۔
بہت کم وقت میں اسی کے کانوں سے سننے اور اس کی من مرضی کا بولنے لگا۔ بیوی اس کے کان بھرتی تو اس کی آنکھیں ماتھے سے جالگتیں۔
’’میری بیوی کو کسی کام کے لیے مت کہا کرو۔‘‘ اچھی آپا دنگ ہی تو رہ گئیں‘ یہ وہ بڑا تھا۔ اچھی آپا کے سامنے جس نے کبھی سر نہ اٹھایا تھا۔
’’ارے تو اسے کیا شکل چاٹنے کو لائے ہیں…؟‘‘ امی چارپائی پر پڑے پڑے کراہتیں۔ اب اچھی آپا کی ٹکر پر گھر داری کا جگر کون لاتا اور اس گھر داری کے جھمیلے۔
اور یہ سب بیوی کی پڑھائی پٹیاں تھیں۔ شکل چڑیلوں کی‘ مزاج پریوں کے۔ شاید اسی لیے دو کوڑی کی اوقات تھی۔ اس پر ناز نخرہ… اللہ کی پناہ۔ وہ کیا جانیں خدمت گزاری‘ وفا شعاری کس کو کہتے ہیں۔ اخلاق و کردار ہے کس چڑیا کا نام۔ ایک پکار پر لبیک کہہ اٹھنے والوں کا رتبہ کیا ہے… امی کڑھتیں۔ اب وہ کہاں تک بھرے کنبے کے جنجال میں جان پھنسائے بیٹھی رہیں۔ نئیں تو نہ سہی… مگر بہو ہی نہ ٹکیں۔ کرایہ دار بدلتے رہیں۔ اس سے گھر کی ساکھ خراب ہوتی ہے۔ اچھی آپا کو ایک زمانہ سلام کرتا تھا تو یہ سالوں کی بنائی عزت تھی۔ یہ ان کی زندگی کا فخر تھا کہ کبھی ان کے وجود کو کسی غیر کی میلی نظر نے نہ چھوا تھا۔
خود انہوں نے بالکونی سے جھانک کر کبھی کسی چھابڑی والے سے سودا تک نہ خریدا تھا تو اس گھر کے بیرونی بکھیڑے کون بھگتاتا۔ بڑے ہی کی خاطر گھر کی اوپری منزل پر ایک کمرہ‘ جیسے تیسے بنوایا۔ چھوٹا ان سے دور تھا۔ ان کے نہ ہونے سے امی کے دل پر کیا گزرتی‘ کوئی ان کے دل سے پوچھے… اور اب یہ بڑا… اڑنے کو پر تول رہا تھا۔ وہ لاکھ برا سہی‘ امی کا کلیجہ تو ٹھنڈا رہے گا ناں۔
مگر اچھی آپا کی سمجھ بوجھ کے تحت کئے گئے فیصلوں کی گہرائی تک پہنچنے کو جتنی عقل درکار تھی‘ وہ ان میں نہیں تھی۔ اب گھرداری سر پر پڑی تو پڑی۔ بوریا بستر سنبھال اوپر بڑے مگر کھانے ناشتے کی سینیاں کہاں سے آتیں؟
امی نے ان کا چولہا چوکی الگ کیا تو ایک نیا تماشا دیکھنے کو ملا۔ گھر کا چولہا اوندھا پڑا ملتا اور دلہن بیگم گھر سے گم۔ وہ در در پھرتی‘ دکھڑے روتی اور مانگ مانگ کر کھاتی نظر آتی۔
میاں اپنے ہاتھوں سے فل سائز ڈبل روٹی پر مکھن لگا کر جوس یا دودھ کے گلاس کے ساتھ انہیں کھلا کر جاتے‘ یہ آنکھوں دیکھی تھی۔ خود انہوں نے تو آس پڑوس کے کسی گھر میں کبھی نوالہ تک نہ اٹھایا تھا‘ نہ کسی کا احسان لیتیں… ہاں مگر کردیتی تھیں… اور وہ ان کی نیک نامی و ساکھ پر پانی پھیرنے کو تلی تھی تو یہ بھی خطرے کا ایک الارم ہی تھا۔ سو امی نے انہیں صاف‘ سیدھا باہر کا راستہ دکھا دیا تھا۔
ایک تیر میرے سینے پر مارا کہ ہائے ہائے
مگر بڑے اینٹھ گئے۔ ابھی تک تو مفت کی روٹیاں نصیب تھیں‘ کمائی تو بیوی کے بٹوے میں جاتی تھی۔ اب اگر چھت کا آسرا نہ رہتا تو آدھی آمدنی اسی میں پھنک جاتی مگر نا… امی کو اپنی آن، رکھ رکھاؤ ان سے بڑھ کر عزیز تھا۔ سات سلام ایسی بہو بیٹیوں کو‘ موئی نکمی… زمانے بھر کی ناکارہ۔ وہ بوریا بستر سمیت سدھارے تو اچھی آپا نے بھی خیر کا کلمہ پڑھا۔ اب یہ ان کا نصیب کہ بیویوں کے معاملے میں بھی کھوٹے ہی رہے۔ یہاں آکر اچھی آپا نے دوبار مات کھائی۔ خیر جان چھوٹی سو لاکھوں پائے۔
اوپری منزل کا کمرہ خالی ہوگیا اور ان کے لیے بے مصرف ہی تھا۔ ان کے جاتے ہی اچھی آپا نے اوپری منزل پر بھی ایک کمرہ بڑھایا بغیر پلستر کی دیواروں پر پلستر چڑھا دیا۔ مکان کی چھتیں ختم ہورہی تھیں۔ نئے سرے سے چھتیں ڈلوائی گئیں اور لیجیے جناب اوپری پورشن تیار۔ اوپری منزل پر‘ اب دو کمرے ہوگئے‘ نچلی منزل پر دو کمرے‘ آٹھ ہزار کے پڑتے تھے۔ دکان کا کرایہ الگ اور مکان کے داہنی جانب سڑک پر کھلتی دکانیں الگ۔ اوپری منزل کے مکینوں کو آزار بھگتنے پڑتے ہیں‘ سو انہوں نے دو کمروں کا بھی کرایہ ہلکا ہی رکھا۔ کیا وقت تھا جب امی نے نچلی منزل کے دو کمرے صرف بارہ سو پر اٹھائے تھے۔
مکان کے اندرونی احاطہ میں دو رخ پر دیوار کے ساتھ لگے درخت اب بھی پھلوں سے لدے ہوئی تھے۔ سہ منزلہ مرغیوں کا پنجرہ‘ ٹوکری بھر انڈے وہ صبح و شام سمیٹتیں مگر اب پیسے کی چخ چخ دور ہوگئی تھی۔
خ…خ…خ
اچھی آپا کی عمر ڈھل رہی تھی۔ امی بھی ہمت کھو رہی تھیں۔ اب رشتے تو نہ آتے اور جو آتے وہ اچھی آپا کے دل کو نہ لگتے۔ ایک سے ایک نامعقول۔ کسی کو بچے پلوانے کے لیے ماسی درکار تھی‘ کوئی مسجد کا مولوی۔ اللہ جھوٹ نہ بلوائے تو زمانے بھر کے نگوڑے… اچھی آپا کی جان امی میں ہی اٹکی رہتی۔ زندگی کسی کے نام کردینا اتنا آسان کہاں… دل گردے کی بات تھی۔
خیر… یوں بھی نہ تھا کہ محبت کا جذبہ کبھی اچھی آپا کو چھو کر بھی نہ گزرا ہو۔ محبت کے خواب تو اچھی آپا نے بھی دیکھے تھے۔ یہ اور بات کہ ان خوابوں پر مجبوریوں کی اوس پڑ گئی تھی۔
یہ ان وقتوں کی بات تھی جب سڑک کے رخ کھلتی دکانیں‘ گودام کا مالک خالی کر گیا تھا۔ امی کی کسی چچیری کا سسرالی کسی دور افتادہ گاؤں سے آیا تو ہاتھ میں ایک سفارشی رقعہ تھا۔ اس نے ٹیکسٹائل ڈیزائننگ میں ڈپلومہ کیا تھا اور کسی اچھی کمپنی میں ملازمت بھی مل گئی تھی۔ مسئلہ رہائش کا تھا۔ امی سوچ میں پڑگئیں۔ بندہ معقول و شریف نظر آتا تھا۔ نک سک سے تیار‘ کسی فلم کا ہیرو دکھائی دیتا تھا۔ سفارش تگڑی تھی۔ انکار کا سوال ہی نہ تھا۔ گودام والی دکان خالی پڑی تھی۔ ایک پلنگ ہی تو ڈالنا تھا‘ بقیہ کی درد سری اس کی اپنی رہی۔ جوان بیٹیوں والا گھر تھا۔ گھر میں داخلے کا سوال ہی نہ تھا۔ ناشتے‘ کھانے کی ٹرے بڑا پہنچاتا رہا یا پھر استری‘ جس کے لیے چھوٹی کو پکار پڑتی مگر جب چھوٹی اسکول ہوتی تو اچھی آپا کے سوا کون تھا جو نچلی منزل میں اندرونی رخ پر دکانوں کی کھڑکی کھڑکنے پر لپکتا۔ ان ہی ناشتے‘ کھانوں کے تبادلے میں ایک آدھ اضافی فقرہ بھی کہہ سن ہی لیا جاتا۔
’’خالہ کیسی ہیں؟‘‘
’’جی ویسی کی ویسی۔‘‘ اچھی آپا کا وہ نپا تلا سا جواب۔
’’اوہ… میرا سلام کہیے گا۔‘‘
’’جی بہتر۔‘‘ یا پھر اُڑتی پڑتی سی فرمائش۔
’’بڑے دنوں سے ہری مونگ کی کھچڑی نہیں پکائی۔‘‘
’’جی… آج ہی پک جائے گی۔‘‘
’’سچ… بڑا ذائقہ ہے آپ کے ہاتھ میں۔‘‘ وہ گم سا ہوجاتا تھا۔
ٹرے پکڑتے‘ چھوڑتے‘ اچھی آپا کے سفید‘ نرم و گداز ہاتھ… اچھی آپا نے اسی روز ہری مونگ کی کھچڑی چٹنی کے ساتھ بڑے دل سے بھیجی تھی۔
رفتہ رفتہ ایک نیا جذبہ پھوٹ پڑا تھا۔ بات ہاتھ کے ذائقے سے ہاتھوں کی تعریف پر آگئی۔ اچھی آپا کے لو دیتے حسن کے لشکارے‘ پردے کی اوٹ سے بھی نظریں خیرہ کئے دیتے اور پھر… ایک روز وہ ان کی جھلک پا گیا۔اس روز اس نے کہا۔
’’تم آتی ہو تو میرے آس پاس پھولوں جیسی مہک پھیل جاتی ہے۔‘‘ جانے کیسے وہ کہہ بیٹھیں۔
’’ارے کہاں… پھول تو اتنے خوب صورت ہوتے ہیں۔‘‘
’’تم بھی تو خوب صورت ہو۔‘‘ ان کے کانوں میں جلترنگ سے بج اٹھے۔ اچھی آپا کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ یہاں وہاں کھٹ پٹ ہوئی تو کھڑکی بند ہوگئی مگر اچھی آپا کے آس پاس ایک ہی جملہ چکراتا رہا۔ ’’تم بھی خوب صورت ہو۔‘‘ جانے کتنے عرصے بعد انہوں نے بغور خود کو آئینہ میں دیکھا تھا مگر یہ تب کی بات ہے جب آتش جوان تھا۔
وہ گاؤں گیا تو ڈھیروں ڈھیر سوغاتیں لے کر آیا۔ اصلی گھی‘ میوؤں والا گڑ‘ امی کے لیے کشمیری کڑھائی والی چادر اور اچھی آپا کے لیے جگر جگر کرتی ڈھیروں کانچ کی چوڑیاں… لچکتا چمکتا ریشمی پراندہ۔ امی چونکیں ضرور مگر ان کی رشتہ داری بنتی تھی۔ اچھی آپا اس کے لیے کیا کم جان مارتیں۔ ہر وقت کان نچلی منزل کی گھر میں کھلتی کھڑکی پر ہی لگے رہتے۔ ایک ذرا کنڈی کھڑکتی اور وہ لپکی جاتیں۔ اتنا تو وہ بھی سمجھتیں کہ اچھی آپا کی یہ ’’پھرتیاں‘‘ بے سبب نہ تھیں۔
وہ جو کہتے ہیں کہ انسان کی اپنی دو اور دُنیا کی ہزاروں آنکھیں ہوتی ہیں… سرفراز کی نوکری پکی تھی۔ گھر کے لیے ایک گھر والی کی تلاش… سو اس کی اماں پیغام لیے چلی آئیں اور یہ وہ وقت تھا جب اچھی آپا کے پاس خود اپنے لیے بھی فرصت نہ تھی۔ چھوٹی کا تو ذکر ہی کیا‘ بڑی بھی ابھی اتنی بڑی کہاں ہوئی تھی کہ گھر گرہستی کے جھمیلے‘ کم آمدنی کے بکھیڑوں کو قابو کرنے سمیت بھگت لیتی۔ سو‘ اچھی آپا نے گھر دامادی کی شرط رکھ دی۔ مگر اچھی آپا کے لیے کوئی اور بھلا کاہے کو دل پر پتھر رکھتا۔ سرفراز ماں کا اکلوتا سپوت تھا۔ ان کی امیدوں، آرزوؤں کا محور و مرکز۔ یہ تو طے تھا کہ اچھی آپا کو ہی بیاہ کر گاؤں سدھارنا تھا۔
اگرچہ امی نے لاکھ سر پٹخا‘ ایسا بڑھیا رشتہ قسمت سے ہی ملا کرتا ہے۔ پھر اچھی آپا سرفراز کے لیے جتنی جان مارتیں‘ وہ صرف کرائے کے عوض نہ تھا‘ اتنا تو انہیں بھی دکھائی دیتا تھا۔ اچھی آپا نے بھی تو نو عمری سے گھر بار سنبھالا تھا۔
سر پر پڑنے پر شاید بڑی کچھ کرلے ورنہ بڑا ڈھنگ سے کچھ کرنے لگے تو اسے بیاہ دیں گی مگر… ان تلوں میں تیل ہی نہیں تھا اور یہ وہ جانتی تھیں۔
اچھی آپا جس طرح گھر داری کے جھمیلے بھگتاتیں‘ یہ ان ہی کا دل گردہ تھا اور اس روز تو وہ آنسوؤں سے رو پڑی تھیں‘ جب وہ بنا کچھ کہے ایک روز خاموشی سے اپنا بوریا بستر سمیٹ سدھار گیا۔ محبت کا خواب ادھورا رہ گیا تھا۔ اور دل کو مارنے کا ہنر تو کوئی اچھی آپا سے سیکھے۔
اچھی آپا کے سہرے کے پھول نہ کھلنے تھے‘ نہ کھلے۔ وہ اچھی آپا تھیں اور اچھی آپا ہی رہیں۔ نہ وہ کسی غریب کی جورو بن سکیں نہ بھابی۔ اچھی آپا کے چاندنی جیسے رنگ و روپ کو سچ مچ کسی بدنظر کی نظر کھا گئی۔ اب رشتے اول تو آتے نہیں اور جو آتے‘ وہ سہ منزلہ مکان پر رال ٹپکاتے اور یہ انہیں کہاں منظور تھا۔ اچھی آپا کی قسمت کہ بساط کے سارے مہرے بے ٹھکانہ چلتے بنے مگر اچھی آپا نے اپنی سمجھ بوجھ سے کسی معاملے کو ہاتھ سے نہ جانے دیا۔
مات کھائی تو بس اپنی منہ چڑاتی قسمت سے۔
خ…خ…خ
وقت کا سیل رواں اپنے ساتھ سب کچھ بہا کر لے گیا… شاید قدرت نے انہیں ان ہی کاموں کے لیے چنا تھا مگر دُنیا کہاں سمجھتی ہے اور دُنیا کی زبان کے نشتر الامان الحفیظ۔ اب تو سیدھے سبھاؤ امی کو سننے کو ملتا کہ انہوں نے اپنا کنبہ بھگتانے کو اچھی آپا کی عمر نکال دی۔ لو کرلو گل۔
بڑے سدھارے تو امی کا ایک اور بازو کٹ گیا۔ مانو ایک در بند ہوا مگر بات وہیں آکے ٹھہرتی ہے کہ رب ایک در بند کرتا ہے تو سو در کھولتا ہے۔ بڑے کے بوریا بستر لپٹنے کی دیر تھی کہ اچھی آپا کے رشتے کے ایک چچا میاں چلے آئے۔ زندگی میں مکان بیٹوں کے نام کرکے اپنے ہاتھ کٹوا بیٹھے تھے۔ اب ان کے لیے اپنے ہی گھر میں ان کے لیے عزت تھی نہ پناہ۔ کیا کہنے اس دربدری کے کہ بیٹھوں کہاں کہ سایہ دیوار بھی نہیں۔ تیسری منزل کا زینہ‘ مکان کے داخلی دروازے تک جاتے۔ احاطے سے دوسری منزل کی درمیانی چھت پر رکھا گیا۔ سو دُوسری منزل ساری کی ساری ڈھک گئی۔ چھت تو کشادہ ہوگئی مگر درمیانی حصہ ایک روشن دان تک سے محروم ہوگیا۔ خیر یہ اچھی آپا کے لیے اچھا ہی رہا۔ انہوں نے بقیہ حصے کو جالیوں سے ڈھک کر نیچے کو جانے والے زینے پر جالی کا دروازہ لگا کر درمیانی منزل ساری کی ساری محفوظ کر ڈالی۔
مکان کے بیرونی احاطہ میں دوسری منزل کو جاتے زینہ تلے چچا میاں کا تخت سج گیا۔ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا۔ چچا میاں پانچ وقت مسجد کو جاتے‘ رات اسی تخت پر پڑ کر سو جاتے۔ مکان کے بیرونی احاطہ میں امی کی کٹاکٹ کرتی مرغیوں کے ڈربے اب تک سجے تھے۔ دو طرفہ دیوار کے ساتھ درختوں کی قطار‘ گملے اور ان درختوں کی آب یاری‘ مرغیوں کی خبر گیری‘ پودوں کی کاٹ چھانٹ‘ راشن‘ سودا سلف‘ امی کی دوائیاں مانو… چچا میاں نے اپنی پناہ کی قیمت ادا کردی ہو اور اچھی آپا کو تین وقت ایک سینی ہی تو سجا کر بھیجنی تھی۔ سودا مہنگا نہیں رہا۔
شہر بھر میں پانی کا کال تھا تو اچھی آپا کے مکان کی تین منزلوں کو کون پانی دیتا۔ وہ کہاں تک ٹینکر ڈلواتیں۔ انہیں اپنی جمع جوڑ کو ہوا دکھا کر زمینی بورنگ کرواتے ہی بنی اور تین منزلوں پر پانی کی فٹنگ‘ لاکھ کا خرچ‘ ڈیڑھ لاکھ پر بیٹھا مگر پانی سے فراغت نصیب ہوئی۔ ادھر پانی کی ٹنگی کا وہ عالم کہ الامان… مانو سارا شہر ٹوٹ پڑا۔ اب پانی کے لیے کون کافر انکار کرتا۔
علی الصباح مکان کی بیرونی دیوار سے لگے چبوترے پر گیلنوں کی قطار سج جاتی۔ ڈول‘ ڈبے‘ بالٹیاں‘ صبح شام پانی کی تقسیم فی سبیل اللہ چلتی۔ اچھی آپا‘ چچا میاں کے دم کو دعا دیتی نہ تھکتیں۔ ان کا لولا لنگڑا سہارا نہ ہوتا تو دُنیا کو کون گیلنوں کے گیلن بھر کے پانی دیتا۔ نچلی منزل کی دو طرفہ دیوار سے لگے درختوں کی آبیاری‘ بازار کے پھیرے‘ گھر کے باہر کے جھمیلے اب اچھی آپا کے بس کے نہیں رہے تھے۔ درختوں کی کاٹ چھانٹ‘ کٹاکٹ کرتی مرغیوں کی دیکھ بھال‘ نچلی منزل اور بیرونی بکھیڑے… وہ نہ ہوتے تو کون ہوتا۔ مانو دونوں نے ایک دوسرے کو سہارا دیا تھا۔
امی کی زندگی تو مانو ایک ٹمٹماتا دیا تھی‘ جو ایک بے رحم تھپیڑے سے آخرکار بجھ ہی گیا مگر اچھی آپا نے آخری سانس تک امی کا ساتھ نہ چھوڑا۔ ان کی اپنی اولاد تو سوئم بھگتا کر یوں پھری‘ مانو کعبے سے کافر۔ امی کے نصیب میں اچھی آپا کی خوشیاں دیکھنی درج ہی نہ تھیں اور امی کے بعد کون تھا جو ان کی فکر پالتا۔ اچھی آپا نے ذہن سے اس خیال کو ہی جھٹک دیا۔ کچھ گزر گئی‘ کچھ گزر جائے گی مگر وہ دُنیا سے کترانے لگی تھیں۔ کبھی جو گلی محلہ میں قطرے پلانے والیاں گھر گھر دروازہ بجاتیں اور اچھی آپا درمیانی منزل کی بالکونی سے جھانکتی نظر آتیں تو وہ کمال بے نیازی سے دریافت کرتیں۔
’’آنٹی کتنے بچے ہیں آپ کے؟‘‘ وہ شرم سے گڑ کر رہ جاتیں۔ انہوں نے گلی میں جھانکنا ہی چھوڑ دیا تھا۔
خ…خ…خ
ان ہی وقتوں کی بات ہے۔ ایک روز ایک نو عمر‘ طرح دار سی عورت چلی آئی۔ مطلقہ تھی بے چاری‘ بے سہارا‘ بے آسرا۔ ایک کمرے کا مکان ڈھونڈتی پھر رہی تھی۔ کوئی آگے پیچھے تھا نہیں۔ بس ایک پلنگ ڈالنے کا ٹھکانہ مل جائے۔ اچھی آپا کا موم جیسا دل پگھل گیا۔
’’بیوٹیشن ہوں۔ اگر پارلر کے لیے جگہ مل جائے تو دو پیسے کا آسرا بھی بن جائے۔‘‘
’’بیوٹیشن۔‘‘ اچھی آپا کے دماغ میں برقی قمقمے جلنے بجھنے لگے۔
تیسری منزل کا زینہ‘ درمیانی منزل پر رکھنے کے لیے درمیانی خلا بھر دیا گیا۔ چھت خاصی کشادہ ہوگئی تھی۔ انہوں نے چار دیواری کھنچوا دی۔ سوچا تھا گرمیوں میں بجلی کے طویل بریک ڈاؤن پر رات پڑاؤ ڈال لیا کریں گی کہ درمیانی منزل تو ساری کی ساری ڈھک گئی تھی۔ ہوا کا آسرا رہا نہ روشنی کا۔ وہ ایک آدھ بار سو بھی گئیں مگر ان کے دل کو دھڑکا ہی لگا رہا۔ اوپری منزل کی دیواروں پر ٹین کی چھتیں ٹکی تھیں۔ انسان کی نیت کا کیا بھروسا۔ اوپر والا کرایہ دار چھت اٹھا کر نیچے کود گیا تو… زندگی بھر کی نیک نامی و ساکھ پر پانی پھر جائے گا۔
اوپری منزل کے کرایہ دار معقول ہی تھے۔ خیر… آدمی کا دماغ ٹیڑھا مگر بھلا ہی تھا۔ اپنے کام سے کام رکھتا۔ اچھی آپا کی شخصیت اتنی دبنگ تھی کسی کی کیا مجال جو کوئی ان کے گھر یا ان کی طرف ٹیڑھی نظر سے دیکھ سکے مگر وہ لاکھ دبنگ و دلیر سہی‘ مگر تھیں تو عورت۔ سو ایک آدھ بار میں بھی ان کا دل ہولتا ہی رہا لہٰذا اگلی بار کے لیے کان پکڑے۔
سو اتنی جگہ بے مصرف ہی پڑی تھی۔ سہ طرفہ دیوار بھی تھی اور نیچے کی جانب پانی اور گٹر کی لائن بھی گزرتی تھی۔ انہیں اس احاطے میں سامنے کے رخ پر دیوار کھڑی کرکے چھت ہی تو ڈالنی تھی اور ایک طرف اٹیچ باتھ مگر وہ بھاؤ تاؤ پر اتر آئیں۔
’’اگر آپ روزانہ کی آمدنی میں ساجھا کریں تو میرا اور آپ کا نصیب۔ مگر پارلر کا سامان آپ کا ہوگا اور اگر لگی بندھی پر ڈیل کریں تو سب میرا۔ آپ کو جو آپ کہیں‘ کرایہ دے دیا کروں گی۔‘‘ یہی مناسب تھا۔ اب کون روز روز حساب کتاب کرتا پھرے۔ انہوں نے دو ہزار کہہ دیا کہ کھینچ تان کے ایک کمرے کی جگہ بنتی تھی۔ پھر عورت مجبور تھی۔
’’اگر میں تین ہزار دے دوں تو کھانا بھی آپ کے ساتھ کھا لوں؟ اب اکیلی جان کہاں کھانے پکانے کے لیے ہلکان ہوتی پھروں گی۔ وقت بھی ضائع ہوگا۔ اوپری خرچ کے لیے صرف ایک بیڈ میرے لیے کافی ہوگا۔‘‘ یہ بھی ٹھیک ہی تھا۔
دو روٹیاں چچا میاں کے لیے اضافی پکتیں‘ دو اور سہی۔ ایک آدمی کا کھانا تو بچ کے بھی چلا جاتا ہے مگر انہوں نے تین ہزار سے انکار کردیا۔ انسانیت بھی کسی چڑیا کا نام ہے کہ نہیں مگر انہوں نے سختی سے تاکید کردی کوئی مرد ان کی دہلیز پار نہ کرے۔ عمر گزری تھی اپنی نیک نامی‘ ساکھ کو سنبھالتے۔ امی گئیں تو سمجھو دُنیا ختم۔ بہن بھائیوں کا لولا لنگڑا آسرا تھا۔ ان کے اپنے گھر بار‘ سو آزار۔ موبائل فون پر سب کی خبر گیری رکھتیں۔ خوشی‘ غمی‘ نکل ہی آتی۔ اپنی اسی جمع جوڑ کے سبب ہزاروں کی مالک تھیں۔ حسب توفیق نوازتیں۔
اگرچہ ان سب نے بہت چاہا اچھی آپا سارا گھر کرائے پر اٹھا کر ان کے ساتھ چل کر رہیں مگر بات تو ایک ہی تھی۔ خربوزہ چھری پر گرے یا چھری خربوزے پر۔ آج کل کی بہو بیٹیوں کے نرالے رنگ ڈھنگ ان کے طور طریقے سے کہاں میل کھاتے۔ سب کے اپنے اپنے دکھ تھے۔ سب کے اپنے اپنے چاند۔
چھوٹی کو سسرال بڑی دبنگ نصیب ہوئی تھی۔ اس پر میاں کا ٹیڑھا مزاج۔ چھوٹی بے چاری ہزار جگہ دل کو مارتی مگر وہی معاملہ تھا۔ کھلاؤ سونے کا نوالہ‘ دیکھو شیر کی نظر سے۔ بڑی بھی دل مار کے سسرال بھگت ہی رہی تھی۔ گرہستی سنبھال ہی لی تھی۔ چھپن چھری بہوؤں کے بھی کس بل اولاد نے نکال ہی دیے۔ اب تو بھانجی‘ بھتیجیاں تک ہنکارنے لگیں۔ اچھی آپا کا وہی معاملہ رہا۔
ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا
ہر سال عید تہوار پر اچھی آپا سب کی مشترکہ دعوت کرتیں۔ یہ لمبا سارا دسترخوان لگتا۔ چولہے پر بڑا سا دیگچہ چڑھتا۔ مٹھائی کے ڈبوں کی قطار لگ جاتی۔ عیدی کے نام پر کوئی ہزار‘ کوئی پانچ سو دے کر یہ جا وہ جا اور اچھی آپا اسی سہ منزلہ مکان میں تن تنہا… ان کا آج بھی وہی چلن تھا۔ نچلی منزل کے کرائے سے گھر کا راشن آتا۔ بل بھگتاتیں۔ اوپری منزل کا کرایہ اکاؤنٹ میں جاتا اور دکانوں کے کرائے سے روزمرہ کا سودا سلف‘ دودھ اور اوپری خرچ۔ پارلر کی آمدنی سے کل آمدنی کا دس فیصد خیرات کرتیں۔
کمیٹیاں وہ آج بھی ڈالتیں۔ مہینہ بھر میں دو چار ہزار نکلتے کیا پتا لگتے۔ پھر مٹھی بھر رقم سال دو سال میں ہاتھ آہی جاتی تھی۔ کرائے کے طفیل لاکھوں کی مالک تھیں۔ یہ ان کی قسمت تھی کہ لوگ انہیں ہمیشہ بھلے ہی نصیب ہوئے۔ کھٹ پٹ تو اکثر ہو ہی جاتی‘ کوئی اپنی ڈگر بھولتا‘ تو وہ بھی لتاڑ کے رکھ دیتیں۔
’’آپ کو کوئی تنگی ہے تو اپنا راستہ ناپیے۔ کرایہ دار بہت۔‘‘
خیر یہ تو ٹھیک ہی تھا۔ کوئی دن نہ جاتا کہ گلی محلہ میں کوئی کرائے کے لیے مکان ڈھونڈتا نہ آنکلے۔ پھر اچھی آپا جیسا روشن ہوا دار گھر کرایہ معقول‘ پھر کوئی چخ چخ نہیں‘ نہ نکتہ چینی۔ اچھی آپا اپنے کام سے کام رکھتیں۔ سب کے راستے جدا تھے۔ منزلیں الگ۔ کس کے کون آیا‘ کون گیا‘ ان کا لینا دینا نہ تھا۔ مگر گندگی‘ بے ترتیبی‘ شور شرابا انہیں نامنظور تھا۔ وہ اگر بگڑتیں تو بس اسی سبب۔
سب چھان پھٹک کرکے ہی کرائے پر مکان اٹھاتیں۔ فیملی بڑی نہ ہو‘ کام دھندہ پکا ہو کہ کرایہ وقت پر ملے۔ بجلی کا استعمال زیادہ نہ ہو اور جب سارے معاملات سیدھے ہوتے تو وہ کچھ چھوٹ بھی دے دیتیں۔ کہیں کرائے‘ کہیں ایڈوانس میں نرمی کردیتیں مگر تان آکے ٹوٹی تو بلوں پر۔ خیر… گیس پانی کے بل تک تو غنیمت تھا۔ دن تو خیر گزر ہی جاتا۔ صرف رات میں دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ پر جنریٹر چلتا۔ سب منزلوں کے لیے ایک پنکھا‘ ایک بلب۔ سو ہزار بارہ سو غنیمت تھے۔
خود ان کا اپنا تو خرچ کچھ بنتا ہی نہ تھا کہ سدا سے ہر چیز سینت سنبھال کر خرچ کرنے کے چلن پر اب بھی چلتیں۔ رات بھر میں‘ اللہ جھوٹ نہ بلوائے تو درمیانی صحن میں ایک زیرو کا بلب جلتا۔ گرمیوں میں ایک پنکھا یا پھر فریج۔ کپڑے وہ ہاتھ کے ہاتھ دھو کر ڈالتیں۔ کھانا ہفتہ میں ایک بار پک جاتا تو پک جاتا۔ ایک سبزی‘ ایک دال اور ایک سالن ہفتہ بھر چلتا۔ چپاتی تازی پڑتی یا پھر چاول۔ لیجیے جناب‘ چھٹی ہوئی۔ کبھی جو ذرا دل للچاتا‘ منہ کا مزہ بدلنے کو ایک آدھ میٹھا بن ہی جاتا جو کئی کئی دن چلتا۔ آئے گئے کے آگے بھی رکھا جاتا۔ پانی کی ٹنکی البتہ تین منزلوں کے لیے الگ تھی جسے وہ بس ایک بار صبح میں بھرتیں اور جو پانی فی سبیل اللہ چلتا‘ اس کا کچھ حساب نہ تھا۔
گھر بھر میں ان کا سلیقہ جگمگاتا‘ جہاں چیز دھر دیتیں‘ پھر خود ہی اٹھاتیں۔ ہر چیز ترتیب و سلیقہ سے مدت سے ایک ہی ٹھکانے پر تھی۔ اس بار کرائے دار ٹیڑھے ملے۔ ایک نہ دو‘ خیر سے آٹھ افراد تھے۔ خیر یہ تو ایک بہلاوا یا بہانہ ہی تھا کہ نچلے پورشن کے کرائے دار۔ سب ایک ایک کرکے کمپنی‘ فیکٹری سدھارتے۔ دن بھر مکان پر تالا منہ چڑاتا۔ فیکٹری‘ کمپنی کا تو ایک نام ہی تھا‘ سب لوگ نہا دھو ناشتہ کرکے کھانا باندھ کر اور استری شدہ کپڑے پہن کر ہی تو سدھارتے۔ بچت کہاں سے نکل آئی۔ دن بھر میں اللہ ماری بجلی ٹکتی کتنی دیر ہے۔
اوپری منزل سے بل وصول کرنا ناانصافی تھی۔ بے چاری بھلی مانس عورت تھی۔ استری بھی ان سے مانگ کر کرتی۔ کوئی دن نہ جاتا کہ اپنے گھر کے دھندے بھگتا کر اپنی بستر پر پڑی ماں کی خبر گیری کو جاتی۔ پھر رات گئے میاں کی واپسی پر اس کے ساتھ ہی لوٹتی۔ اب سوال یہ تھا کہ کمر توڑتے بجلی کے ان بلوں کو ساجھا کیسے ہو؟
یہ بل تو سر پر لٹکتی کسی تلوار سے کم نہ تھا۔ انہیں بھرتے ہی بن پڑی۔ مگر آئندہ کے لیے انہوں نے نئے میٹر کے فارم بھردیے ۔ ہر منزل کے لیے الگ میٹر اور مکان کی بیرونی دیوار‘ پچھلی جانب دکانوں کی سمت‘ نت نئے میٹر سج گئے۔ دو میٹر کمرشل دکانوں کی سمت‘ نچلی منزل کے کرایہ دار کا‘ بیرونی رخ پر کھلتی دکان سے ساجھا تھا۔ خیر سے درزی کی دکان تھی۔ دن بھر کھٹاکھٹ مشین چلتی۔ البتہ تیسری منزل اور پارلر کا ساجھا اپنے ساتھ رکھا کہ ان کا اپنا ساجھا بن گیا تھا۔
خ…خ…خ
گرمیوں کا موسم تھا۔ انہوں نے شیفون کے دوپٹے والے درجنوں‘ نت نئے لان کے جوڑے پارلر میں رکھوا دیے۔ سلائی کے لیے ایک اشتہار بھی وہیں چپکا دیا‘ جو ہر آنے والی کی نظر سے گزرتا اور لیجے جناب‘ دھڑا دھڑ سلائی کے آرڈر ملنے لگے۔ یوں ہی تو نہیں کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ بندے کی نیت کے ساتھ ہے۔ کر بھلا تو ہو بھلا… ان کا وقت اچھا کٹنے لگا۔ چار پیسے کا آسرا بھی بنا مگر اب ان کی ہمت جواب دینے لگی تھی۔
آنگن کے درخت اب بوڑھے ہوئے۔ ان کے وجود کی عمارت شکستہ تھی۔ جوڑوں کا درد چین نہ لینے دیتا۔ وہ ادھر ادھر کی مصروفیت نہ ڈھونڈتیں تو پہاڑ سا دن کیسے کٹتا۔ نہ ہوتا چچا میاں کا سہارا تو وہ کہاں گھر سے باہر کے کھڑاگ سمیٹنے کو ہلکان پھرتیں کون گلی محلے والوں کو موٹر چلا کر پانی کے گیلنوں پر گیلن بھرکے دیتا۔ پیسے کی فراغت تھی‘ خیر سے لاکھوں کی مالک تھیں مگر تین منزلہ گھر ایک جنجال پورہ بن کے رہ گیا تھا۔ کوئی ایک آزار تھا‘ کوئی بے سکونی سی بے سکونی تھی۔
فجر ہوتے ہی دودھ والا دروازہ کھڑکا دیتا۔ اسے دودھ کے برتن مانجھنے ہوتے۔ علی الصباح وہ صحن میں لٹکتی سکوریوں میں چڑیوں کے لیے دانہ پانی رکھ رہی ہوتیں تو نچلی منزل سے پکار پڑتی۔ فیکٹریوں میں آٹھ بجے حاضری تھی۔ رات کے بند والز‘ نوزلز کھولنی ہوتیں۔ گیس‘ پانی‘ سارے والز انہوں نے اپنے ہاتھ میں رکھے تھے۔ ان ہی کے پورشن میں سارے سسٹم تھے۔ کرایہ داروں کا کیا بھروسا کبھی جو کچھ کھلا چھوڑ جائیں تو ایندھن ضائع نہ ہو۔
اوپری منزل اور نچلی منزل والوں کی ذرا نہ بنتی۔ اوپر والے کی اسکوٹر نچلی منزل کے احاطہ میں کھڑی ہوتی۔ وہ سب سدھارتے ہوئے گھر مقفل کرجاتے۔ بیرونی احاطہ کی چابی چچا میاں کے پاس ہوتی۔ نچلی منزل والے فیکٹری سے تھکے ہارے لوٹتے تو جلد سو جاتے تھے۔ اوپر والے کو لوٹنے میں تاخیر ہوجاتی۔ اس کی اسکوٹر شور مچاتی‘ ان کی نیند میں خلل پڑتا۔ نچلی منزل والے تاؤ کھاتے۔
اچھی آپا کا اپنا پورشن سامنے کے رخ سے جالیوں سے ڈھکا تھا۔ ہوا بھی آتی اور آوازیں بھی۔ وہ کبھی جائے نماز‘ کبھی ہانڈی‘ آنچ دھیمی کرکے لپکی جاتیں۔ آنے بہانے پکاریں پڑتی ہی رہتی۔ دن بھر پارلر میں آنے جانے والوں کا تانتا بندھا رہتا۔ پارلر کا زینہ ان کے اپنے صحن سے ہوکر گزرتا تھا۔ وہ پل بھر کی جھپکی تک نہ لے پاتیں دن بھر۔ یوں ہی افراتفری کا سماں چلتا تھا۔
اچھی آپا کو رات گئے کنڈی تالے ٹھونک کر گیس پانی کی نوزلز بند کرکے ہی سونا نصیب ہوتا۔ کبھی جو دل للچاتا‘ رات نو بجے کا خبرنامہ سن کر سو رہیں۔ مگر… تیسری منزل کا کرایہ دار بیوی بچوں سمیت دیر سے لوٹتا تھا۔ عشاء کے بعد کا وقت‘ وہ تسبیح پھیرتیں‘ سوئی جاگی کیفیت میں منتظر رہتیں۔ کبھی ایک اونگھ سے آنکھیں بند ہونے لگتیں‘ وہ ایک فکر سے جاگ پڑتیں۔ کبھی کبھی پولیس آکر کھڑی ہوجاتی۔ دکانوں‘ مکان کے کرائے نکالیے۔
اچھی آپا کے پاس پوری فائل تھی۔ ٹکے ٹکے کا حساب اور ان خوش بختو کو تو اللہ ہی ہدایت دے تو دے‘ وہ کچھ لے کر ہی ٹلتے تھے۔
سیوریج سسٹم کی ماہانہ درستگی‘ موٹر کی مرمت‘ بلوں کے کھاتے‘ مکان کی مرمت‘ درستگی کی مد میں کوئی نہ کوئی کام نکل ہی آتا۔ کوئی بے سکونی سی بے سکونی تھی۔ رفتہ رفتہ اچھا بھلا گھر چوں چوں کا مربا بن کے رہ گیا۔ کوئی ایک جنجال تھا۔ پورے کا پورا جنجال پورہ۔ نہ رات بے فکر‘ نہ دن۔ ہر وقت ہاہاکار… وہ اپنی بے سکونی کے دکھڑے لے کر کہاں جاتیں‘ کس کو سناتیں۔
اس مکان کی صورت ایسی ہڈی گلے میں اٹک گئی تھی جو نہ نگلتے بنتی نہ اگلتے۔ وہی بات تھی‘ لب ہلے اور شکایات نے دَم توڑ دیا۔ کوئی ایک آزاد تھا۔ نفسانفسی ہی نفسانفسی تھی۔ گھر بھر میں اللہ جھوٹ نہ بلوائے تو پھرکی کی طرح پھرتیں اور یہ کسی بھلی مانس کا ہی مشورہ تھا۔
’’اجی یہ کس جنجال میں جان پھنسائے۔ آپ کی عمر ہے کہ چکراتی پھریں گھر بھر میں۔ ایک کونا پکڑ کے مصلیٰ سنبھالیے اور اللہ اللہ کریں۔ میری مانیں تو کسی پوش علاقہ میں گھر لیجیے۔ وہاں اتنے کھڑاگ کہاں… بلکہ تنہائی بھی نہیں اور سیکورٹی سسٹم بھی ہے۔‘‘
’’ہائیں… تو اس گھر کا کیا بنے گا؟‘‘ اچھی آپا سٹپٹا اٹھیں۔
’’اجی بیچ ڈالیے۔ خیر سے چار طرف سے ہن برستا ہے۔ آپ کے پاس پیسے کی کمی ہے کوئی۔ ایک گزارے لائق فلیٹ خریدیں۔ ایک دو کمرے کا فلیٹ آپ کو بہت۔‘‘
یہ سن کر اچھی آپا سٹپٹائیں۔ یہ مکان ان کے والدین کی نشانی تھا۔ پھر دوسرے بھی اس کے حصہ دار تھے۔ کبھی منہ پہ نہ لائے تو ان کی بڑائی تھی۔ وہ ایسے کیسے اس کے دام کھرے کرلیتیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ بیٹھے بٹھائے کماؤ پوت کی طرح پیسہ دے رہا تھا۔ خیر سے تین منزلہ مکان دکانوں سمیت‘ لاکھوں میں جاتا۔ ادھر دوسرا مشورہ۔
’’باقی کا پیسہ بینک میں ڈال کے مزے سے منافع پر گزارا کریں۔ رقم اپنی جگہ رہے گی اور آمدنی الگ۔ یا پہلے کرائے پر جاکر دیکھیے۔‘‘
’’پھر اس گھر کا کیا بننے گا؟ ایک ہڑبونگ مچ جائے گی۔ کرایہ دار ایک دوسرے کے سر پھوڑتے نظر آئیں گے۔‘‘
’’تو پھوڑا کریں۔ آپ کا کیا جاتا ہے۔ اپنے مسئلے کرایہ دار خود بھگتیں گے۔ کوئی ایک جھنجھٹ ہے یہاں… اسٹاپ تک کا راستہ طے کرنے میں۔ میرے منہ میں خاک۔ بندے کا دم ہی نکل جائے۔ سیکڑوں مکان کرائے پر چلتے ہیں۔ سب کے مالک مکان سر پر سوار تھوڑی ہوتے ہیں۔‘‘
بات ان کے بھیجے میں سما گئی۔ اس مکان کے کرائے داروں کو بھگتنے میں انہوں نے کاہے کو اپنی جان ہلکان کر رکھی تھی۔ فی الوقت ایک پوش علاقے میں گزارے لائق فلیٹ کرایہ پر لیا‘ جیسے تیسے مکان خالی کیا اور کچھ دن میں فلیٹ سجا بھی لیا۔ ٹرنک بھر جہیز کا سارا سامان‘ مدت سے ان کے گھر میں سجا تھا‘ جو سنبھال کے رکھنے پر اب بھی نیا نکور دکھائی دیتا تھا۔
چند ہی دن میں ان کا دل اوب کر رہ گیا۔ وہاں کسی کو کسی سے سروکار ہی نہ تھا۔ اچھی آپا کے گھر کے دھندے ہی کتنے تھے۔ وہ گھر کے دھندے بھگتاتیں۔ تنہائی سے ہولاتیں تو بالکونی میں پناہ لیتیں مگر آس پاس سنانے کو کتنے تھے۔ نہ چہل پہل تھی نہ رونق۔ شام میں فلیٹس کا اندرونی احاطہ بچوں سے بھر جاتا۔ انہیں اپنے محلہ کی ہاہاکار یاد آتی اور شاید زندگی میں پہلی بار انہیں لگا کہ وہ زندگی میں یک و تنہا ہیں۔ کوئی تو ہوتا جو اپنا ہوتا۔
اس پر مہنگائی… الامان۔ پانچ دس کی چیز کا تو سوال ہی نہ تھا۔ نہ کسی ریڑھے‘ چھابڑی والے کا گزر ہوتا۔ ہر کام کے لیے رکشہ پکڑ کر دوڑ لگانے ہی میں ان کے کس بل نکل گئے۔ ٹی وی خراب ہو تو مرمت ہزار میں پڑی۔ جوڑوں کے درد نے ستایا تو ڈاکٹر نے پانچ سو روپے اینٹھ کر معمولی سی پین کلر پکڑا دی۔ مہینہ بھر میں اچھا خاصا سرمایہ پھنک کر رہ گیا۔ وہ کانوں کو ہاتھ لگاتی بھاگتی نظر آئیں۔ بھاری بھرکم ایڈوانس ڈوب گیا۔ انہیں ذرہ برابر نہ پروا تھی۔ اور لیجیے جناب‘ جیتھے دی کھوتی‘ اُتھے آن کھلوتی۔
اب انہیں معلوم ہوا کرایہ دار ان کی کھری کھوٹی سن کر بھی کیوں نہ جان چھوڑتے۔ مکانوں‘ دکانوں کے کرائے آسمان سے باتیں کررہے تھے۔ اس پر بھاری بھرکم ایڈوانس… پھر ان کے گھر جیسی ساری سہولتیں کہاں ملتی ہیں۔ کہیں سیوریج سسٹم خراب تو کہیں ہوا‘ روشنی کا گزر نہیں۔ کہیں پانی کی تنگی ہے تو کہیں ہزاروں کے بل۔ جانے کتنے دن گزرے تھے۔
ایک روز اچھی آپا کی ایک واقف کار چلی آئیں۔ اس کا بچہ بیمار تھا مگر کلینک بند تھا۔ اچھی آپا عصر کی اداگئی کے بعد مصلیٰ پر بیٹھی تھیں۔ ایک ذرا سا دَم کیا اور پھونک دیا‘ وہ اگلے روز بھی چلی آئی۔ اس کے بچے نے کئی روز بعد آنکھیں کھولی تھیں۔ اس نے اچھی آپا کے ہاتھ چوم لیے۔ نیتوں میں اخلاص وراستی ہو تو لفظوں میں تاثیر آہی جاتی ہے۔
یہی ہوا تھا… اچھی آپا کی زندگی کھلی کتاب تھی۔ صبر‘ شکر‘ قناعت… یوں ہی تو نہیں کہا گیا کہ ایک قدم نفس پر رکھو‘ اگلے قدم پر رب ہے۔ سو ان کے گھر آنا جانا بڑھ گیا۔ ان کی تنہائی مٹنے لگی۔ کبھی جو کسی نے نذرانے کی مد میں کچھ دینا چاہا‘ انہوں نے ہاتھ جھٹک دیا۔ یہ صرف انسانیت کی سبب تھا ورنہ وہ لاکھوں کی مالک تھیں اور یہ سب ہی جانتے تھے۔
البتہ نذرو نیاز کی تھالیاں نہ لوٹا سکیں۔ رزق کو دہلیز سے لوٹانا وہ گناہ سمجھتیں تھیں۔ سو ان کا چولہا بس برائے نام ہی جلنے لگا اور زندگی… ایک نئی ڈگر پر چل نکلی۔
کچھ لوگ اپنی ذات میں انجمن ہوتے ہیں اور کچھ کو پروردگار دوسروں کے لیے وسیلہ چن لیتا ہے۔ دوسروں کی امیدوں کا تم سے وابستہ ہونا تم پر اللہ کی خاص رحمت کی دلیل ہے۔
اچھی آپا بھی ان ہی لوگوں میں سے تھیں۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close