Aanchal Mar-17

ذرا سوچئے

ثناءناز

بے شک عورت کو اللہ نے عزت کے اعلیٰ درجے پر فائز کیا ہے۔ عوت کا ہر روپ ہی قابل فخر ہے۔ عورت بیٹی کے روپ میں رحمت‘ بہن کے روپ میں بھائی کی سب سے بڑی خیرخواہ‘ بیوی کے روپ میں گھر بھر کا سکون‘ جب کہ ماں کے روپ میں جنت ہے۔ اگر عورت یہ جان لے کہ آج وہ اپنے گھر کی رحمت ہے اور پھر ایک دن اس کے قدموں تلے جنت لکھ دی جائے گی تو میرا نہیں خیال کبھی کوئی عورت خود کو کم ظرف یا کمزور سمجھے گی۔ جب تک عورت گھر کی چار دیواری میں رہتی ہے وہ ہر طرح کی بری نظر سے ڈھکی رہتی ہے‘ بے شک ایسی عورتیں ہی اللہ کی پسندیدہ ہیں۔ جنہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ ان کے باپ‘ بھائی اور شوہر کی عزت جڑی ہے اور وہ کبھی ان کی عزت پر حرف نہیں آنے دیتی۔ بے شک وہی کامیاب ہوتی ہیں جو عورت کے مقام کو‘ سب کی نظروں میں فخر سے بلند رکھتی ہیں۔ جب گھر سے باہر نکلتی ہیں تو خود کو حیاء کی چادر میں چھپائے رکھتی ہیں۔ عورت کا زیور اس کی عزت اور حیاء ہے‘ جب تک اس کا سر حیاء کی چادر سے ڈھکا رہتا ہے تب تک وہ سیپ میں بند موتی کی طرح پاکیزہ اور انمول ہوتی ہیں۔ پر اگر کوئی عورت بھولے سے بھی چوک جاتی ہے وہیں سب ملیامیٹ ہوجاتا ہے۔ وہیں معاشرے کی نظر میں عورت ذات کا رتبہ کم ہوجاتا ہے۔ عورت ایک پھول ہے اور اس کی عزت خوش بو کی مانند‘ جب تک پھول خوش بو میں بسا رہتا ہے تب تک وہ سب کا پسندیدہ رہتا ہے اور جیسے ہی اس کی خوش بو ماند پڑتی ہے وہ اپنی قدر کھو دیتا ہے۔ کبھی لوگوں کے ہاتھوں مسلا جاتا ہے تو کبھی پیروں تلے کچل دیا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح عورت کی عزت بھی خوش بو کی مانند ہے جو ایک بار اڑ جائے تو کبھی لوٹ کر نہیں آتی‘ عورت کی فطرت میں نزاکت ہوتی ہے اور بے شک اللہ نے عورت کو تخلیق کے لیے پیدا کیا ہے۔ اللہ نے عورت کو گھر کی چار دیواری کے اندر کے کام سونپے ہیں جبکہ فطرتاً گھر سے باہر کے کام کا ذمہ مرد کے سر ہے۔ ہم سب جانتے ہیں آج کل ہم جس زمانے میں رہ رہے ہیں وہ               Gender equality (صنفی مساوات) کا  زمانہ ہے‘ بے شک اللہ نے مرد اور عورت کے حقوق کو برابری کا درجہ عطا کیا ہے‘ لیکن اس کے ساتھ ہی اللہ نے مرد کو عورت کا محافظ قرار دیا ہے۔ (Gender equality) کے اس بھیانک دور میں عورت مرد کو نیچا دکھانے کے چکر میں سب کچھ بھول چکی ہے۔ ایک عورت کی لاکھ محنت کے بعد بھی وہ ایک اچھی ورکر تب ہی بن سکتی ہے جب وہ اپنے باس کی ہر خواہش کا احترام کرتی ہے۔ اچھے گریڈز اور ڈگری ہونے کے باوجود بھی کسی آفس میں کام کرنے والی عورت تب ہی ترقی پاسکتی ہے جب وہ اپنے افسران کا ہر حکم سر آنکھوں پر رکھتی ہو‘ یہ کوئی نہیں سمجھتا۔ گھر سے باہر کام کرنے والی ان عورتوں کے درد میں چھپے چہروں کی مجبوریاں کیا ہیں‘ میک اپ کی آڑ میں اور ہنسی لبوں پر سجائے جس اعتماد سے یہ عورتیں گھر سے باہر نکلتی ہیں‘ کوئی انہیں مجبور سمجھ بھی کیسے سکتا ہے‘ آج کل کی عورتوں نے آزادی حاصل کرنے کے لیے خود کو اتنا نیلام کر رکھا ہے‘ کوئی اور تو کیا اگر یہ خود اپنے آپ کو پہچان لیں تو خود پر افسوس کرنے کے قابل نہیں رہیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ مجبوری کے تحت کام کرتی ان عورتوں کو بھی آزاد خیال عورتوں کے جیسا سمجھا جانے لگا ہے‘ جہاں ویسٹرن کلچر کو اپنا کر خود کو آزاد کہلوانے والی یہ عورتیں (Gender equality) کا پورا حق وصول کررہی ہیں۔ وہیں مرد حضرات نے عورت کو پائوں کی جوتی سمجھنا چھوڑ کر ٹشو پیر سمجھنے کا سفر بڑی تیزی سے طے کیا ہے۔ اگر عورتیں خود کو ویسٹرن کلچر میں ڈھال سکتی ہیں تو ہمارے مرد حضرات بھلا کیسے پیچھے رہ سکتے ہیں۔ پہلے مرد عورت کو پائوں کی جوتی سمجھتا تھا‘ جسے جب چاہا اپنا لیا۔ آج کل آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد میں گم یہ لڑکیاں شاید آزادی تو حاصل کرچکی ہیں پر یہ بھول گئی ہیں کہ ان کی اہمیت ایک ٹشو پیپر کی ہوکر رہ گئی ہے۔ جسے مرد حضرات پہلے تو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں پھر مسل کر کوڑا کرکٹ کے ڈبے میں پھینک دیتے ہیں۔ جسے اٹھانا تو دور کی بات کوئی دیکھنا تک بھی پسند نہیں کرتا۔ بلکہ پیروں تلے آکر مزید کچلا جاتا ہے۔ آج کل کی عورت کی اہمیت مرد کی نظر میں بس ایک ٹشو پیپر کی سی ہے۔ جسے مرد کبھی اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے اور کبھی اپنے کام نکلوانے کے لیے استعمال کرتا ہے پھر پھینک دیتا ہے۔ عجیب بات ہے نہ آزادی حاصل کرنے کے لیے گھروں کی چار دیواری سے نکل کر ویسٹرن ملبوسات پہن کر (Gender equality) پر یقین رکھتے ہوئے خود کو آزاد خیال سمجھنے والی یہ لڑکیاں کسی نہ کسی مرد کے زیر تحت نوکری کررہی ہوتی ہیں۔ جو عورتیں ایسا سوچتی ہیں وہ مردوں سے آگے نکل سکتی ہیں‘ ان کا اٹھنا بیٹھنا مردوں میں ہوتا ہے وہ عورتیں مردوں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں۔ ایسی خواتین اکثر کسی نہ کسی کی ہوس کا سامان بن جاتی ہیں۔ باقی جنہیں اللہ رکھے اسے کون چکھے‘ ایسی خواتین اپنے آفیسرز کی مسکراہٹ اور بے جامہربان لہجوں کے پیچھے چھپے مکروہ ارادوں اور بھیانک روپ سے بے خبر ہوتی ہیں۔ مردوں سے آگے نکلنے کی کوشش میں یہ اتنا ڈوبی ہوئی ہیں کہ اکثر اپنے اور مرد کے درمیان… فاصلہ نہیں رکھ پاتیں۔ فاصلہ ایک ایسی ٹیبلٹ کا نام ہے جو مرد اور عورت کے درمیان فرق کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ اگر کوئی عورت مرد کے ساتھ کام کرتی بھی ہے تو اسے لازماً اس ٹیبلٹ کا استعمال سب سے زیادہ کرنا چاہیے‘ آپ نہ تو ساری دنیا کے منہ بند کرواسکتے ہیں نہ کسی کے غلط ارادوں کو پہچان سکتے ہیں۔ اگر آپ کو کانٹوں سے بھری اس دنیا سے بچنا ہے تو بجائے ساری دنیا میں ریڈ کارپٹ بچھانے کے آپ خود اپنے پائوں میں چپل پہن لیں تو غنیمت ہے اور اگر آپ خود کو ٹھیک کرلینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو میرا خیال ہے‘ یہی اصل جیت ہے بے شک کامیابی اسی کے قدم چومے گی جو عورت یہ جان لے گی کہ کتنا فاصلہ رکھنا ضروری ہے جو اسے رسوائی سے بچاسکے۔ افسوس ہے ہم پر… ہم اس معاشرے میں رہ رہے ہیں جسے ہمارے نبیﷺ نے سخت ناپسند کیا تھا۔ ہم ویسا ہی معاشرہ بنا رہے ہیں وہی طرز زندگی اپنا رہے ہیں جس سے ہمارے نبیﷺ نے ہمیں منع کیا تھا‘ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے ہمیں اسی معاشرے میں جینا ہے‘ اسی فضا میں سانس لینا ہے جو گناہوں سے آلودہ ہے‘ بحیثیت ایک مسلمان ہم اس معاشرے کو کیسے پسند کرسکتے ہیں جو ہمیں آزادی تو دیتا ہے پر عزت نہیں۔ ہماری آزادی کی آڑ میں چھپے مرد ہماری ہی مجبوریوں کا فائدہ اٹھا کر ہمیں ہی نیلام کرنے میں لگے ہوئے ہیں‘ ہم اس چیز کو کیسے پسند کرسکتے ہیں جو معاشرے میں رہنے کے لیے تو ضروری ہے پر جسے ہمارے نبیﷺ نے ناپسند قرار دیا ہو‘ افسوس‘ پر یہی سچ ہے ہم اس معاشرے میں جیتے ہیں جہاں ہمارے اردگرد زانی گھومتے ہیں‘ ہم اس معاشرے پر فخر کرتے ہیں جہاں اپنے ہی خونی رشتے اپنی ہی بہن بیٹیوں کی عزتوں کی دھجیاں اڑاتے پھرتے ہیں‘ ہم اس معاشرے کو پسند کرتے ہیں جس کی بیشتر نوجوان نسل نشے میں ڈوبی رہتی ہے‘ ہم اس معاشرے میں سانس لیتے ہیں جہاں شب وروز درندگی کا تماشا ہوتا ہے‘ عزت وحیاء کی دھجیاں اڑ رہی ہوتی ہیں۔ اس معاشرے میں جہاں ہم وفا ڈھونڈنے نکلیں تو شاید ہماری زندگی تمام ہوجائے۔ اس زمانے میں جہاں ہم اعتبار ڈھونڈنے نکلیں تو شاید سارے راستے ہی ختم ہوجائیں۔ افسوس ہم اسی معاشرے کو پروان چڑھا رہے ہیں جہاں آزادی کے لیے کہیں سرِ بازار‘ تو کہیں چھپ چھپ کر ہماری عصمتوں کی بولی لگ رہی ہے۔ عورت کا رہا سہا فخر میڈیا نے اور گرا دیا اور پورے جوش وخروش سے عورت کا بھیانک چہرہ سب کے سامنے لانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ کہاں اللہ نے عورت کو گھر سے باہر بے جا نکلنے سے منع کیا تھا‘ کہاں اللہ نے عصمت کو حیاء کے پردے کا نام دیا ہے۔ تیز خوش بو لگانے سے منع کیا‘ اونچا بولنے سے روکا ہے تاکہ اس کی آواز کسی غیر کے کانوں تک نہ جائے۔ بال کھول کر غیر مرد کے سامنے جانے اور بنائو سنگھار کرنے سے منع کیا‘ ایک حدیث کا مفہوم ہے۔ وہ عورتیں جو اپنے گھروں سے بنائو سنگھار کرکے نکلتی ہیں اپنے بالوں کی زینت سے مردوں کو بہکاتی ہیں اور وہ خود بھی بہکی ہوئی ہوتی ہیں۔ وہ سب جہنم میں جائیں گی‘ مرد کی تو فطرت میں آوارگی ہے‘ اسے تو کوئی فرق نہیں پڑتا‘ پر عورت جس کو اللہ نے پردے میں پیدا کیا جسے اللہ نے اس عظیم انسان کی پسلی سے پیدا کیا جسے ساری کائنات نے سجدہ کیا‘ پھر حیاء ڈالی اس میں‘ اللہ نے عورت کو حیاء کا مکمل پیکر بنایا اور اگر اس میں سے حیاء ہی نکل جائے تو عورت عورت نہیں رہتی‘ عیش وعشرت کا سامان بن جاتی ہے۔

ہم ایسے معاشرے کا ساتھ کیسے دیں‘ ایسی آزادی کو لے کر کیا کریں جو رسوائی بن کر ہمیں اور ہم سے جڑے ہر رشتے کی عزت کو کھا رہی ہے‘ سوچیے گا ضرور ہم بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں‘ ہمیں خود اپنے آپ کو اور اپنے معاشرے کو بدلنا ہوگا‘ ورنہ عین ممکن ہے حالات اس سے بھی بدتر ہوتے چلیں جائیں اور ہمیں خبر تک نہ ہو۔ ہم اور ہماری بہنیں اسی معاشرے میں سے ہیں۔ ہماری بہو بھی اسی معاشرے سے تعلق رکھتی ہوگی اور کہیں نہ کہیں ہماری بیٹیاں بھی اسی معاشرے سے چھپتی پھریں گی‘ کیا ہم یہ برداشت کرسکتے ہیں کہ آزادی کے نام پر رسوائی کا درندہ ہماری آنے والی نسلوں اور ان سے جڑی عزتوں کو بھی نگل جائے۔ ہمیں خود کو بدلنا ہے اور عورت کے کھوئے ہوئے وقار کو واپس لانا ہوگا‘ کیونکہ عورت حیاء کا پیکر ہے اور کئی خاندانوں کا فخر و مان بھی ہمیں یہ مان اب مزید ٹوٹنے سے بچانا ہے۔ سوچیے گا ضرور۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
error: Content is protected !!
Close