Aanchal Mar-17

ذرا مسکرا میرے گمشدہ

فاخرہ گل

اب عمر نہ وہ رستے نہ وہ موسم کہ پلٹے
اس دل کی مگر خام خیالی نہیں جاتی
ہم جان سے جائیں گے تب ہی بات بنے گی
تم سے تو کوئی راہ نکالی نہیں جاتی

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)

اربش کو سکندر صاحب کا رویہ شدید الجھن میں مبتلا کردیتا ہے جب ہی اجیہ سے بات کرکے اصل صورت حال جاننا چاہتا ہے لیکن اجیہ اس کی کال ریسیو نہیں کرتی حنین اس سے سخت ناراض ہوتی ہے اسے یہی لگتا ہے کہ یہ سب اجیہ کی وجہ سے ہی ہوا ہے وہ اجیہ کی وضاحتوں کو سنے اور سمجھے بغیر بدگمانی کی انتہا کردیتی ہے، سکندر صاحب سب پر اپنا فیصلہ مسلط کرنے کے بعد ایک بار پھر سے اپنے خول میں بند ہوجاتے ہیں اور اجیہ سے ان کی لاتعلقی برقرار رہتی ہے۔ اجیہ اپنی دلی کیفیات کا اظہار اربش سے کردیتی ہے اور دوسری طرف اربش بھی اس کے رشتے کے متعلق جان کر دنگ رہ جاتا ہے جب ہی وہ غزنیٰ کے متعلق اس کی پسندیدگی جاننا چاہتا ہے جس پر اجیہ اس رشتے کو صرف ایک سمجھوتہ قرار دیتی ہے ایسے میں اربش اجیہ کی مدد کرنے کا وعدہ کرتا ہے اور اسے وقتی ٹینشن سے نکالنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ دوسری طرف غزنیٰ کے لیے اجیہ کی سرد مہری بے حد تکلیف دہ ہوتی ہے جب ہی وہ اجیہ کو بار بار اپنی منگیتر ہونے کا احساس دلاتا ہے غزنیٰ کی یہ شک والی عادت اجیہ کو شدید مشتعل کردیتی ہے غزنیٰ اپنے رویے کی بدصورتی پر معذرت کرتا ہے مگر اجیہ اس سے بیزار ہوجاتی ہے۔ شرمین بوا اور اربش کی والدہ شرمین کے حسن اخلاق سے بے حد متاثر نظر آتے ہیں ایسے میں وہ شرمین کے گھرانے سے رابطہ بڑھانے کی خاطر اپنے گھر قرآن خوانی کا اہتمام کرتی ہیں اور بطور خاص شرمین اور دیگر گھر والوں کو مدعو کرتی ہیں شرمین کے لیے یہ بلاوا بہت خوش آئندہ ہوتا ہے جب ہی وہ اپنے سابقہ رویوں کو بھلا کر بھابی کے ساتھ وہاں جانے کی تیاریاں کرتی ہے اور وقت سے پہلے وہاں پہنچ کر گھریلو امور میں بوا کا ہاتھ بھی بٹاتی ہے۔ اربش حنین کے نمبر پر رابطہ کرکے اجیہ سے اپنی پسندیدگی کا ذکر کرتا ہے اور جلد اپنے رشتہ لانے کا بھی تذکرہ کرتا ہے دوسری طرف حنین کے دل سے یہ بدگمانی بھی دور کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے کہ اس رشتے میں اجیہ کی خوشی شامل نہیں ہے حنین یہ سب جان کر شاکڈ رہ جاتی ہے۔ اجیہ بھی اربش کے گھر قرآن خوانی میں جاتی ہے اور وہیں اس کی ملاقات شرمین سے ہوتی ہے شرمین کو دیکھ کر اربش کے گھر میں اجیہ دنگ رہ جاتی ہے۔ 

(اب آگے پڑھیے)

بھری پری میری دنیا میں ایک مدت سے

کسی کی اتنی کمی ہے کہ کچھ نہ پوچھو تم

تمہاری یاد سے پہلو بچانے والوں کی

کچھ ایسی جاں پر بنی ہے کہ کچھ نہ پوچھو تم

اربش کی فون کال اور اس کے بعد امی کی بیان کردہ صورت حال کے بعد حنین جیسے درمیان میں معلق سی ہوکر رہ گئی تھی۔ اسے لگا جیسے اس نے اجیہ کے سامنے ردعمل بہت جلدی میں اور بہت شدید دیا کم از کم پہلے اسے سنتی اس کی طرف سے کوئی وضاحت، دلیل یا کم از کم اسے صفائی پیش کرنے کا موقع تو دیتی امی کی طرف سے بیان کردہ معاملہ شاید اس کے نزدیک اس حد تک قابل یقین نہ ہوتا اور وہ سمجھتی کہ ہوسکتا ہے امی صرف اجیہ کی سائیڈ لیتے ہوئے ایسا کہہ رہی ہیں لیکن اربش کی فون کال اس کے نزدیک ایک ٹھوس دلیل تھی جس پر یقین کرنے میں اسے لمحہ نہیں لگا اور وہ یہ بات بھی تسلیم کررہی تھی کہ یقینی طور پر اربش اور اجیہ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اسی بنیاد پر وہ رشتہ لانے کی بات کررہا تھا اور ظاہر ہے کہ اجیہ کی بھی مکمل رائے اور مرضی شامل ہوگی اور اس صورت حال میں تو اجیہ کبھی بھی غزنیٰ کے ساتھ شادی کرنا تو دور اس میں دلچسپی تک نہیں لے گی۔ حنین کے لیے یہ امر قابل تسکین تھا کہ اس صورت میں وہ اپنی محبت پاسکتی ہے لیکن پھر یہ سوچ اسے بوجھل کردیتی کہ غزنیٰ نے خود اس کی طرف نگاہ الفت کیوں نہ کی؟ وہ اب تک اس کی محبت کو محسوس کیوں نہ کر پایا؟

یہ سب باتیں ذہن میں آتے ہی جیسے سر میں ٹیسیں اٹھنے لگی تھیں ایک غبار سا تھا جو دل و دماغ میں بھرتا چلا جا رہا تھا کس سے کہے کہ وہ اس وقت جذبات کی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ہر مشکل پریشانی یا ٹینشن میں سب سے پہلے جو نام ذہن میں آتا تھا وہ اجیہ کا ہی تو تھا وہی تو تھی جس سے وہ اپنی ہر خوشی پریشانی شیئر کرتی تھی اجیہ کی اس کے علاوہ اور اس کی اجیہ کے علاوہ کوئی دوست ہی نہیں گھر کے ماحول نے انہیں کسی کے اس حد تک قریب آنے ہی نہیں دیا تھا کہ اسے اپنا گہرا دوست مان سکیں ایسا دوست جس کے سامنے بندہ اپنا دل کھول کر رکھ دے۔ ان دونوں بہنوں کا ایک دوسرے کے علاوہ کسی کے ساتھ بھی ایسا رشتہ اور ایسا تعلق نہیں بنا تھا جہاں پڑھا لکھا وہاں کی سب دوستیاں گھر کے دروازے سے باہر اور کالج و اسکول کے گیٹ تک چھوڑنے کی ہدایت تھی سو سر جھکا کر عمل ہوتا رہا

’’میرا اتنا دل چاہتا ہے کہ میرے گھر پر سہیلیاں آئیں میں ان کے گھر جائوں ہم سب مل کر کھیلیں، اسکول کا کام کریں، اسکول کے بعد اسکول کی باتیں کیا کریں لیکن بابا جانی کہتے ہیں بس اسکول کی باتیں اسکول تک اور گھر کی گھر تک۔‘‘ نانا ابو کے پاس دائیں اور بائیں حنین اور اجیہ بیٹھی تھیں جب حنین نے منہ بسورتے ہوئے کہا حنین کے سامنے ان کا تعارف پرنسپل صاحب کے دوست کا تھا ورنہ سکندر صاحب کے سامنے راز افشا کرکے وہ اپنی بیٹی کے لیے کسی مصیبت کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔

’’تو آپ کے بابا جانی ٹھیک ہی تو کہتے ہیں ناں، اس میں غلط کیا ہے؟‘‘ نانا ابو نے حنین کو بولنے کا موقع دیا تھا۔

’’غلط تو نہیں لیکن دل چاہتا ہے ناں کہ بہت سارے لوگ ہوں کیونکہ ہمارے گھر میں کبھی کوئی آتا ہی نہیں ہے ناں ہم کسی کے گھر جاتے ہیں، بس بالکل تھوڑی سی دیر کے لیے کبھی گلی میں کھیل لیتے ہیں اور وہ صرف تب جب غزنیٰ آتا ہے اور پتا ہے اسی لیے ناں میں اسے روز روز بلا لیتی ہوں۔‘‘ اپنی دانست میں کی گئی اس چالاکی پر حنین نے اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے خود کو ذہین تصور کیا۔

’’ہممم…!‘‘ نانا ابو نے گہرا سانس لیا۔

’’بات تو آپ کی بھی ٹھیک ہے اور آپ کے بابا جانی کی بھی لیکن خیر گھر میں آپ ہو، اجیہ اور آپ کی امی ہیں آپ تینوں بھی تو بہت ساری باتیں کرسکتے ہیں ناں اور پھر اجیہ تو اسکول میں بھی ساتھ ہوتی ہے آپ کی دوستوں اور اساتذہ کو جانتی ہے اس کے ساتھ تو اسکول کی بہت ساری باتیں بھی ہوسکتی ہیں اور کھیل کود بھی۔‘‘

’’ہاں یہ تو ٹھیک ہے اور ہم دونوں کرتی بھی ہیں، ہے ناں اجیہ؟‘‘ حنین نے ذرا سا آگے کی طرف ہوکر براہ راست اجیہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔ اجیہ نے بھی ہاں میں گردن ہلائی تھی۔

’’تو بس پھر اجیہ اور آپ آپس میں ہر چھوٹی بڑی بات کیا کرو، دکھ کی بھی یعنی اگر اسکول میں یا پھر دوستوں سے کوئی مسئلہ ہوجائے تو بھی اور سکھ کی بھی کیونکہ پتا ہے جن لڑکیوں کی اپنی امی اور بہنوں سے بہت اچھی بلکہ پکی والی دوستی ہوجائے ناں تو انہیں باہر کسی اور کی ضرورت ہی نہیں رہتی کہ وہ کسی اور کو اپنا دوست بنانے کی حسرت کریں۔‘‘ نانا ابو نے ہمیشہ کی طرح ان دونوں کی ذہنی سطح پر جا کر بات کی تھی اسی لیے وہ فوراً سمجھ بھی گئی تھیں۔

’’امی آپ کہتی ہیں ناں کہ گھر سے بندہ پیٹ بھر کر کھانا کھا کر نکلے تو کسی کے پاس کھانے کی اشیاء دیکھ کر دل نہیں مچلتا ہے ناں امی، آپ کہتی ہیں ناں؟‘‘ پچھلی بات بھول کر حنین نیا قصہ چھیڑنے کو تھی امی نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا۔

’’میں بھی آج صبح چینی والا پراٹھا ناشتے میں کھا کر آئی تھی تو دوسروں کا لنچ دیکھ کر مجھے بھوک ہی نہیں لگی۔‘‘

’’بالکل یہی بات اس طرح بھی سوچ سکتے ہیں ناں کہ اگر گھر میں اپنی والدہ اور بہنوں کے ساتھ ہی گہری دوستی ہوجائے تو پھر باہر کسی دوست کی تلاش نہیں رہتی۔‘‘ نانا ابو نے بڑی عمدگی سے اس کی ہی بات کو اس کے کیے گئے سوال کے جواب کے طور پر پیش کیا تو وہ مزید سمجھ گئی۔

یہی وجہ تھی کہ دنیا کی کوئی ایسی بات ایسا موضوع نہ تھا جس پر وہ دونوں آپس میں بات نہ کرتی ہوں کسی بھی اور دوست کی پھر ان کی زندگیوں میں کوئی گنجائش رہی تھی نہ طلب لیکن اب وہ اس موڑ پر تھی کہ اجیہ کے سامنے سر اٹھا کر بات کرنا بھی مشکل لگ رہا تھا غصے کا پردہ دماغ سے ہٹا تو اجیہ کی محبت اور کیئر نے ایک مرتبہ پھر اس کے دل میں اپنا احساس جگایا تھا اور غزنیٰ…

اس معاملے میں وہ بے بس تھی کہ چاہ کر بھی اس سے ناراض نہیں ہو پا رہی تھی وہ اس پر غصہ بھی نہیں تھی بس افسوس تھا اور اسی افسوس کا اظہار اس نے اپنی ڈائری میں کیا۔

ڈیئر غزنیٰ!

آج سے پہلے تو میں یہی سمجھتی رہی تھی کہ محبت اپنا آپ منوا ہی لیتی ہے مجھے لگتا تھا کہ شاید محبت اتنی طاقت ور ہوتی ہے کہ بغیر کہے ہی اپنے ہونے کا احساس دلاسکتی ہے دلوں پر کسی الہام کی طرح نازل ہوسکتی ہے ایک خوش بو کی طرح الفاظ کے بغیر اپنا وجود ظاہر کردیتی ہے لیکن… لیکن شاید میں غلط تھی ایسا نہیں ہے مجھے اب سمجھ آئی ہے کہ اظہار کے بغیر محبت کا شاید کوئی وجود نہیں ہے اب مجھے لگتا ہے کہ اظہار کے بغیر تو محبت میں تالے رکھے ان جواہرات کی مانند ہے جو تالے میں ہونے کے باعث دنیا والوں سے مخفی ہیں جو سراہے جانے کے لیے بھی اس چابی کے منتظر ہیں جس سے تجوری کھولی جائے تاکہ ان کی موجودگی آشکار ہو۔ اور ہاں یہ بھی سچ ہے کہ زندگی کی تجوری میں رکھی محبت بھی الفاظ کی چابی کی محتاج ہے اور اظہار کے بغیر شاید اسی جذبے کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔

لیکن اب میں نے سبق سیکھ لیا ہے غزنیٰ!

اور اب میں تمہیں حاصل کرنے میں بالکل بھی تاخیر نہیں کروں گی کیونکہ تمہارے بغیر میری زندگی بے رنگ بھی رہے گی اور بے نور بھی اور ایسا میں ہونے نہیں دوں گی تم میرے ہی تھے ہمیشہ سے اور میں تمہیں اپنا بنائوں گی کسی بھی قیمت پر۔‘‘

پین ڈائری میں رکھ کر ڈائری بند کرتے ہوئے اس نے ساتھ ہی آنکھیں بھی بند کرلی تھیں دل اس قدر بوجھل تھا کہ لگتا سانس لینا بھی شاید مشکل ہوجائے عجیب سی گھٹن تھی جس میں لگتا جیسے دم نکل جائے گا لیکن پھر اچانک اندھیرے گھپ میں روشنی کی کرن کی طرح یہ خیال ذہن میںاترتا کہ اجیہ، غزنیٰ کو پسند نہیں کرتی بلکہ اربش کے لیے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتی ہے اور اس کے لیے غزنیٰ کا عمر بھر کا ساتھ خارج از امکان ہرگز نہیں۔ یہی سوچ ذہن میں آتے ہی اس نے ہاتھ اٹھا کر دعا میں غزنیٰ کی محبت ایک بار پھر مانگ لی تھی۔

ؤ …/…ؤ

کروں گا کیا جو محبت میں ہوگیا ناکام

مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

اربش پرسکون تھا کہ اپنے حصے کا کام اس نے کردیا تھا اور اسے مکمل یقین تھا کہ حنین یہ سب کچھ جاننے کے بعد اجیہ سے اپنے رویے پر ضرور معافی مانگے گی اور شرمندہ ہوگی جس سے اجیہ کی کم از کم وہ پریشانی تو ختم ہوگی جو اسے حنین کے رویے کی طرف سے ہوئی تھی اور اس کے بعد وہ حنین ہی کی مدد سے اجیہ کے گھر جانے اور اس کے والدین سے بات چیت کرنے اور پھر ممی کو لے جانے کا سوچ رہا تھا لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ جس کام کو وہ اتنا آسان سمجھ رہا ہے وہ انتہائی مشکل ہے لیکن اسے یہ کام کرنا تھا تو کرنا تھا۔

آج ممی نے گھر میں قرآن خوانی کا اہتمام کر رکھا تھا ورنہ وہ چاہتا تھا کہ ممی اور بوا کے سامنے تمام صورت حال رکھے اور انہیں بتاتے کہ وہ اجیہ کو کس قدر پسند کرتا ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہے لہٰذا اب فی الحال اسے انتظار کرنا تھا اسی دوران حسن کا فون آیا وہ بھی آج کل بیرون ملک جانے کی تیاریوں میں تھا اور چاہتا تھا کہ وہاں جا کر قسمت آزمائی کرے۔

’’اربش یار کہاں ہو؟‘‘ اس کی آواز سے ظاہر ہوتا کہ شاید عجلت میں ہے۔

’’کیوں کیا ہوا، خیر تو ہے نا؟‘‘

’’ہاں… ہاں خیر ہے‘ سب خیر ہے بس ایک کام تھا۔‘‘

’’حکم۔‘‘ وہ دوستوں کا دوست اور بڑے دل کا مالک تھا اس لیے فوراً کہا۔ 

’’یارے میرے ڈاکو منٹس پورے کرنے کے لیے اسٹیٹمنٹ چاہیے میں سوچ رہا تھا کہ اگر تم کچھ کرسکو تو…!‘‘

’’میری بینک اسٹیٹمنٹ چاہیے یا پھر پیسے ٹرانسفر کردوں۔‘‘ بغیر کسی اگر مگر اور لیکن کے اربش نے پوچھا۔

’’میرا خیال ہے تم مجھے کیش دو اور وہ میں اپنے اکائونٹ میں خود سے جمع کرا دیتا ہوں کیونکہ ایسا نہ ہوناں کہ کوئی اعتراض ہوجائے ایمبیسی والوں کو یہ پیسے صرف اور صرف شو کرنے کے لیے کسی اور اکاؤنٹ سے ٹرانسفر کرائے گئے ہیں۔‘‘

’’ہمم، چلو پھر تو ٹھیک ہے میں ابھی فارغ ہی تھا تم ایسا کرو بینک میں ہی آجائو، وہیں سے پیسے نکلوا کر تمہارے اکائونٹ میں جمع بھی کرا آئیں گے اور پھر مل کر کھانا بھی کھائیں گے۔‘‘ اس نے فوراً سے پروگرام ترتیب دے ڈالا۔

’’اکٹھے کھانا، خیر تو ہے ناں یہ ریکارڈ کیوں ٹوٹ رہا ہے آج۔‘‘ حسن کا حیران ہونا لازمی تھا کیونکہ آج سے پہلے کبھی بھی ایسا نہ ہوا تھا کہ اربش نے اپنی ممی کے بغیر کھانا کھایا ہو یہ شاید اس کے لیے دنیا کے چند ناممکنات میں سے تھا اگر کبھی کسی تقریب میں یا دوستوں کے ساتھ باہر کھانا بھی پڑتا تو وہ بھی انتہائی معمولی مقدار میں تھوڑا چکھنے کے برابر کھا کر دوسروں کا ساتھ دیتا کیونکہ ممی کے بغیر اس کے حلق سے نوالہ اترنے کا نام ہی نہ لیتا، یوں تو ماں بیٹوں کی محبت انوکھی ہوتی ہی ہے لیکن ان کا رشتہ اور تعلق مثالی تھا اور دونوں ایک دوسرے کے بغیر کوئی کام انجوائے نہیں کرتے تھے۔

’’ارے نہیں کچھ ایسی خاص بات نہیں، بس ایک ساتھ وقت گزارنے کا بہانہ ہے اور پھر ویسے بھی جب تم بیرون ملک چلے جائو گے پھر کہاں یہ ملاقاتیں اور باتیں۔‘‘

’’ہاں یہ تو ہے۔‘‘ وہ دونوں ساتھ ساتھ اپنی گاڑیاں ڈرائیو کرتے ہوئے مقررہ جگہ کی طرف سفر میں تھے اور ساتھ ہی باتیں بھی جاری تھیں۔

’’اور دوسری بات یہ ہے کہ آج ممی نے گھر میں قرآن خوانی کا اہتمام کر رکھا ہے ممی کے اسکول اسٹاف کے ساتھ ساتھ باقی خواتین بھی مدعو ہیں اور وہ سب لائونج میں بیٹھ کر ہی قرآن پاک پڑھیں گے اس لیے مجھے لگا کہ شاید اتنی خواتین کی موجودگی میں وہاں سے گزر کر دوسرے کمرے میں جانا یا اوپر والے پورشن میں جانا شاید انہیں عجیب لگے چاہے اوپر جانے کی سیڑھیاں بالکل ایک طرف ہیں پھر بھی۔‘‘

وہ خواتین کے معاملے میں ہمیشہ سے محتاط رہتا تھا اور بس یہی سوچ کر آج اس کا خیال تھا کہ قرآن خوانی مکمل ہونے تک اسے گھر نہیں جانا چاہیے اور پھر کچھ دیر بعد وہ دونوں بینک منیجر کے سامنے بیٹھے تھے۔

اسی بینک میں ممی کے اسکول کے اکائونٹ تھا جس میں بچے اپنی فیس جمع کرایا کرتے تھے بصورت دیگر اربش کا اپنا کوئی بھی ذاتی اکائونٹ تھا نہ ممی کا اور پھر چونکہ یہ ان دونوں کا جوائنٹ اکائونٹ تھا اس لیے کسی بھی خاص ضرورت کے تحت اگر پیسوں کی ضرورت پڑتی تو یہی اکائونٹ استعمال میں لایا جاتا۔ حسن کو کم از کم آٹھ لاکھ روپے کی ضرورت تھی باقی اس کے پاس موجود تھے لیکن بینک کی طرف سے بھی آٹھ لاکھ روپے کی فوری طور پر فراہمی سے معذوری ظاہر کی گئی تھی۔

’’دراصل دو تین لاکھ روپے تک کا فوری کیش ہوتا تو وہ بخوشی ادا کردیتے لیکن آٹھ لاکھ روپے کی یکمشت ادائیگی ہمارے لیے اس لیے بھی مشکل ہے کہ ہم پہلے سے اس کے بارے میں مطلع نہیں تھے اگر آپ آنے سے پہلے ہم سے بات کرلیتے تو ذرا آسانی ہو جاتی۔‘‘ بینک منیجر نے اپنی مجبوری سے آگاہ کیا۔

’’کم از کم تین چار دن تک بھی مل جائیں تو ٹھیک ہے۔‘‘ حسن نے اربش سے کہا تو وہ بینک منیجر سے مخاطب ہوا۔

’’چلیں ٹھیک ہے ایسا کرتے ہیں کہ آپ تین لاکھ آج ہمیں دے دیں اور باقی کا پانچ لاکھ ہم کل یا پرسوں تک لے جائیں گے۔‘‘ بات کرتے ہوئے اس نے حسن کی طرف دیکھا جس نے تائید میں سر ہلا دیا اور جب تک باضابطہ طریقہ اپنایا جاتا بینک منیجر نے ان کے لیے کولڈرنکس منگوالیں۔

ؤ …/…ؤ

مجھ کو فرشتہ ہونے کا دعویٰ نہیں مگر

جتنا برا سمجھتے ہو اتنا نہیں ہوں میں

شرمین اور اجیہ دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھ کر گنگ رہ گئی تھیں کیونکہ ان دونوں کے ہی وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان کی آپس میں دوبارہ ملاقات ہوگی اور اگر ہوگی تو یوں اور اس جگہ پر لہٰذا اپنی اپنی جگہ دونوں کا ٹھٹک جانا لازمی تھا۔

’’تم… یہاں؟‘‘ شرمین نے اسے دیکھا تو اپنی جگہ پر ہی رک گئی جبکہ اجیہ کے لیے حیرت دگنی اس لیے بھی تھی کہ اربش کا گھر، قرآن خوانی میں شرمین کی موجودگی اور اس کا بے تکلفانہ انداز۔

’’ہاں… میں یہاں تم یہاں کیا کررہی ہو؟‘‘ اجیہ نے اس کے سامنے اپنی حیرت کا اظہار کرنے کے بجائے بڑے اعتماد سے جواب دیا تو وہ بھی سنبھل گئی۔

’’میں وہی کررہی ہوں جو کوئی بھی لڑکی اپنے گھر میں کرتی ہے۔‘‘ وہ مسکرائی، دل جلا دینے والی مسکراہٹ کے ساتھ اب وہ بھی اپنی حیرت کو چھپاچکی تھی۔

’’دراصل ممی نے اچانک ہی قرآن خوانی کا پروگرام بنالیا ناں، کل پرسوں تک نہ تو ان کا ایسا کوئی ارادہ تھا نہ مجھ سے اس بارے میں کوئی بات کی تو بس اسی لیے آج انتظامات میں میرے ہاتھ پائوں پھول رہے ہیں پہلے جلدی جلدی لائونج ارینج کیا پھر کچن میں کھانا پکانے میں لگ گئی ابھی اچانک خیال آیا کہ اربش پتا نہیں آج کھانا کھانے آئیں گے بس یہی پوچھنے کے لیے ممی کے پاس جارہی تھی کہ تم پر نظر پڑ گئی۔‘‘ کچھ سچ میں زیادہ جھوٹ کی آمیزش کرتی شرمین کے لہجے میں اتراہٹ نمایاں تھی، وہ جان بوجھ کر جھوٹ بول رہی تھی یہ بات ثابت کرنا چاہتی تھی کہ اس کا اس گھر میں ایک اہم مقام اور حیثیت ہے اور اس میں وہ کامیاب بھی رہی تھی لیکن اجیہ نے پھر بھی اپنے تاثرات سنبھالے رکھے وہ کسی طور پر اس کی باتوں پر اس کے سامنے حیران نہیں ہونا چاہتی تھی۔

’’کیا تم ممی کے اسکول میں جاب کررہی ہو آج کل؟‘‘ شرمین اجیہ کا اس گھر میں مقام طے کرنا چاہتی تھی اس لیے اندازے کی بنیاد پر بات کی جسے اجیہ نے جھٹلائے بغیر بڑے آرام سے مسکراتے ہوئے تسلیم کیا۔

’’ہاں میں وہیں جاب کررہی ہوں اور اسٹاف کے ساتھ قرآن خوانی میں آئی تھی۔‘‘ بات کرنے کے بعد اجیہ مزید اس کے سامنے نہیں رکی بلکہ ظاہراً مسکراتے ہوئے ایک نظر اربش کی تصویر کو دیکھ کر آگے بڑھ گئی اس کے مطمئن انداز نے شرمین کو جلا کر راکھ کردیا تھا۔

اتنے بڑے گھر میں اتنی مالدار خاتون کو بے تکلفی سے ممی کہنے اور اس کے جواں سال بیٹے کے کھانے کے لیے فکرمند ہونا بھی اجیہ کو اگر اس سے جیلس نہیں کرپایا تھا تو اس سے بڑھ کر اس کے لیے تکلیف کی کیا بات تھی وہ تو سوچ رہی تھی کہ اس کے یوں اترا کر ساری واقفیت بیان کرنے سے اجیہ کے چہرے پر حیرت اور دل میں حسد کے تاثرات ابھریں گے لیکن اس کی توقعات کے برعکس اجیہ پرسکون اور مسکراتے ہوئے اس کے سامنے سے گزر گئی تھی اور اس نے یہ بتانے میں بھی کوئی شرم محسوس نہیں کی تھی کہ وہ اس کے ہی اسکول میں ملازمت کررہی ہے جبکہ دوسری طرف اجیہ کے لیے شرمین کا یہاں اس قدر بے تکلفانہ انداز یقینی طور پر حیرت کا باعث تھا۔

کہیں شرمین اور اربش آپس میں…

مجھ سے محبت کا اظہار کرکے کہیں اربش مجھے بے وقوف تو نہیں بنا رہا؟

اگر شرمین سامنے نہ آتی تو وہ اس وقت خود کو دنیا کی خوش قسمت ترین لڑکی سمجھ رہی ہوتی جسے اس کے معاشرتی اسٹیٹس کو نظر انداز کرکے چاہا گیا اور چاہنے والا بھی جس کی مالی حالت اس سے سو گنا بڑھ کر تھی۔

اس کے بعد وہ جب تک وہاں موجود رہی خیالات کی جنگ اور کشمکش کا شکار رہی کس وقت قرآن خوانی مکمل ہوئی کھانا کھایا گیا اسے مکمل طور پر یاد نہ تھا ہاں مگر وہ دیکھ رہی تھی تو صرف یہ کہ شرمین واقعی اس گھر میں اپنے ہی گھر جیسا برتائو کررہی تھی۔ ممی اور بوا کے ساتھ بات چیت کا انداز بھی ایسا ہی تھا جیسے ان کے بہت قریب ہو اور پھر کھانا کھلانے کے وقت جس طرح وہ سب کو ایک ایک کرکے توجہ دیتی رہی فرداً فرداً سب کو اچھی طرح کھانے کا کہتی رہی وہ یقینا کوئی گھر کا فرد ہی کرسکتا تھا۔

شرمین نے ممی کو سہولت سے یہ کہہ کر بٹھادیا کہ ’’ممی میں ہوں نا اور جب گھر میں سب کام کرنے کے لیے بیٹیاں موجود ہوں تو مائیں سکون سے بیٹھ کر صرف انہیں پیار سے دیکھتی ہیں اور سراہتی ہیں۔‘‘

قرآن خوانی کے بعد شرمین نے اشارے سے اپنی بھابی کو بھی وہاں سے اٹھا کر کھانا دینے میں اپنے ساتھ لگا لیا تھا اور بوا کو بھی سب کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے کو کہا۔ بھابی تو کچن تک آتے آتے کبھی در و دیوار کو دیکھتیں اور کبھی شرمین کو، اتنے خوب صورت سجے سجائے اور محل نما گھر تو انہوں نے ٹی وی ڈراموں میں دیکھے تھے ورنہ حقیقت میں تو وہ کبھی اتنے نفیس اور عالیشان گھروں کے سامنے سے بھی نہیں گزری تھی لہٰذا جھٹ سے اپنا موبائل نکال کر شرمین کی طرف بڑھایا۔

’’میری دو تین فوٹوز تو بنائو پیچھے والا گھر کا بیک گرائونڈ ضرور نظر آئے فریم کروا کر گھر میں لگائوں گی۔‘‘ وہ اتائولی ہورہی تھی۔

’’ارے بھابی یہ سب چھوڑیں اور دعا کریں کہ ایسا وقت آئے جب صرف آپ نہیں ہمارے سب رشتے دار اس گھر میں موبائل اور کیمرے لیے حسرت سے گھوم رہے ہوں۔‘‘ شرمین کی آنکھوں میں مستقبل کے خواب تھے۔

’’ہائے اللہ شرمین ایسا ہوجائے ناں تو قسم سے محلے کے بچوں میں موتی چور کے لڈو بانٹوں گی۔‘‘ بھابی کے منہ میں پانی آرہا تھا اور اگر ان کا بس چلتا تو جادوئی چھڑی سے وقت کو نہ صرف یہ کہ آگے لے جاتیں بلکہ اپنی مرضی کے حالات بھی پیدا کرلیتیں۔

’’وہ بھی ہوجائے گا آپ فکر ہی نہ کریں بس فی الحال تو میرے ساتھ کچن میں آئیں تاکہ کھانا لگایا جائے یہ گھر اب آپ اپنا ہی سمجھیں۔‘‘ شرمین مسکرائی۔

’’کھانا تو چلو میں لگواتی ہوں لیکن دیکھو تم ناں بعد میں سب سے پہلے ایک دو ملازم رکھنا یہ کیا کہ اتنے بڑے گھر میں بھی بندہ خود ہی کام کرے کچن سے لائونج تک آتے ہی بندہ تھک جائے۔‘‘ بھابی نے شرمین کو دیکھا جو تین منزلہ ٹرالی پر سب سے اوپر سالن اور رائتے کا ڈونگا، چاول اور سلاد کے ساتھ کباب کی ٹرے اور ہاٹ پاٹ رکھ رہی تھی دوسری منزل میں دہی، کیچپ اور چٹنیوں کے ساتھ تازہ فروٹ اور ٹشو باکس جبکہ سب سے نیچے پانی کی بوتلیں گلاس پلیٹیں چمچ اور نیپکن رکھے تھے میٹھے میں بنائی ہوئی ڈشز اور چائے وغیرہ بعد میں سرو کی جانی تھی۔

بھابی نے بھی اس کی تقلید میں دوسری ٹرالی سجائی اور لائونج میں سب کے آگے کھانا چن دیا، ممی اور بوا ان دونوں کے خلوص اور محبت کے سامنے خود کو مقروض تصور کررہی تھیں سب نے کھانا اچھی طرح کھایا اور کھانے کے لذیذ ہونے کی تعریف بھی کی تھی۔

ممی نے شرمین کا تعارف کرانے کی فی الحال ضرورت محسوس نہیں کی تھی لیکن سبھی جانتے تھے کہ اس کا یقینی طور پر اس گھر میں کوئی خاص مقام ہے ورنہ باہر سے آنے والوں اور گھر میں رہنے والوں کے طریقہ کار بہت مختلف ہوتے ہیں۔ اجیہ بہت گہری مگر نامحسوس نظروں سے اس کا جائزہ لے رہی تھی اسے کبھی لگتا کہ اربش کے حوالے سے وہ جو کچھ سوچ رہی تھی وہ شاید غلط ہے لیکن پھر اس کا دل گواہی دیتا کہ اربش عام لڑکوں کی طرح دل پھینک یا ہر ایک کے ساتھ اظہار محبت کرنے والوں کی طرح نہیں ہے۔

’’بیٹا آئو تم بھی کھائو ناں۔‘‘ ممی نے شرمین کو کہا جو سب سے اچھی طرح کھانا کھانے کا کہہ رہی تھی بھابی سب کو کھانا دینے کے بعد خود بھی کھانے کے لیے نیچے قالین پر بیٹھ چکی تھیں لیکن وہ صرف انتظام پر دھیان دے رہی تھی۔

’’ارے نہیں ممی… میں بعد میں آپ کے ساتھ کھالوں گی فی الحال یہ سب کھالیں۔‘‘ وہ مسکرائی۔

’’ٹھیک ہے لیکن پھر جانے کی جلدی نہ کرنا۔‘‘ بوا نے کہا۔

’’نہیں… نہیں بالکل بھی نہیں بھابی چلی جائیں گی کیونکہ بھائی کو ٹائم دیا ہوا ہے میں بعد میں آرام سے یہ تمام کام نمٹا کر ہی جائوں گی۔‘‘ شرمین کے اس قدر خیال کرنے پر ممی کا دل چاہا اسے لپٹا کر پیار کریں انہیں لگ رہا تھا کہ ان کی زندگی میں موجود بیٹی کی کمی شاید اب پوری ہونے والی ہے۔

’’چلو ٹھیک ہے میں اربش سے کہوں گی بعد میں تمہیں چھوڑ آئے گا۔‘‘ ممی نے کہا تو شرمین کا دل خوشی سے اچھلنے لگا منزل قریب بلکہ بہت ہی قریب محسوس ہونے لگی تھی۔

اسی دوران اجیہ کا فون بجا کھانا کھانے کے دوران سب آپس میں بات چیت کررہی تھیں لیکن اس کا دھیان شرمین کی طرف تھا اسی دوران جب اچانک فون پر گھنٹی بجی تو سب اس کی طرف متوجہ ہوئیں ویسے بھی سب کھانا تو کھا ہی چکی تھیں اور اب الوداعی کلمات کہے جارہے تھے۔ اجیہ نے دیکھا اسکرین پر غزنیٰ کا نمبر اس کے نام کے ساتھ موجود تھا۔

اکیلی ہوتی تو یقینی طور پر اس وقت اس کا فون نہ اٹھاتی لیکن سب کی موجودگی میں اسے فون ریسیو کرنا ہی پڑا۔

’’کیسی ہو اجیہ، تم ابھی تک گھر نہیں آئیں۔‘‘

’’آج ہماری پرنسپل کے گھر قرآن خوانی تھی میں باقی تمام ٹیچرز کے ساتھ ان کے گھر آئی ہوئی ہوں۔‘‘ اجیہ لائونج سے اٹھ کر ذرا سائیڈ پر ہوکر بات کررہی تھی۔

’’ہاں پتا چلا تھا مجھے کہ آج تم اسکول بس میں ان کے گھر چلی گئی تھیں سب کے ساتھ۔‘‘ غزنیٰ کی اس اطلاع پر وہ چونکی تھی۔

’’کیا مطلب تمہیں کیسے پتا چلا تھا۔‘‘

’’دراصل ابھی میں تمہارے گھر گیا تھا لیکن پھر یہ سوچ کر رستے سے ہی پلٹ آیا کہ کیوں ناں تمہیں تمہارے اسکول گیٹ پر نظر آکر سرپرائز دوں اور پھر ہم دونوں اکٹھے گھر آئیں بس اسی لیے میں نے سڑک سے ہی موٹر سائیکل واپس موڑی اور تمہارے اسکول جا پہنچا وہیں پر چوکیدار نے بتایا کہ آج سب ٹیچرز پرنسپل کے گھر قرآن خوانی پر گئی ہیں اور اسکول بس ہی سب کو ان کے گھر پر چھوڑنے آئے گی اجیہ آج تو ٹھیک لیکن آئندہ کہیں جانا ہو تو مجھ سے پوچھ لیا کرو پہلے۔‘‘ وہ بولا۔

’’لیکن آخر تمہیں کیا ضرورت تھی اسکول جانے کی؟‘‘ اسے بالکل اچھا نہیں لگا تھا یہ سب۔

’’نہیں جانا چاہیے تھا کیا مجھے؟‘‘ وہ سمجھ رہا تھا شاید یہ دیا جانے والا سرپرائز اجیہ کو حیران کردے گا لیکن ایسا نہیں ہوا تھا بلکہ اسے اجیہ کی آواز میں ناراضگی محسوس ہوئی تھی شاید یہی وجہ تھی کہ وہ تو شاید ابھی اسے مزید کچھ کہتا لیکن اس نے فون ہی بند کردیا تب تک تمام ٹیچرز ممی کے ساتھ ہی اٹھ کھڑی ہوئی تھیں کھانے کی تعریف، قرآن کریم کی تلاوت کی قبولیت کے ساتھ ساتھ اللہ حافظ کہا جارہا تھا شرمین بھی ممی اور بوا کے ساتھ میزبانی کے فرائض سر انجام دے رہی تھی۔

اجیہ تو ویسے بھی ابھی اسکول میں نئی تھی اور ممی کے ساتھ اس کا انفرادی رابطہ بھی بہت زیادہ نہیں رہا تھا اس لیے وہ بس دور سے ہی ان کو اللہ حافظ کہنے اور پھر سب کے ملنے کے ساتھ آخر میں ہاتھ ہلاتے ہوئے دیواروں پر لگی اربش کی تصاویر دیکھتی باہر نکل آئی تصاویر اتنی بہترین اور اربش کے تاثرات اس قدر جاندار تھے کہ لگتا ابھی اگلے ہی پل وہ تصویر سے باہر نکل آئے گا بات کرنے لگے گا اور پھر اربش کے حوالے سے اسے ممی میں بھی ایک الگ ہی کشش محسوس ہوئی تھی آج سے نہیں بلکہ پہلے ہی دن ان سے ملنے کے وقت سے۔ اور وہ سمجھ نہیں پائی تھی کہ کیوں اس کا دل ان کی طرف کھنچتا ہے جبکہ آج حقیقت سے پردہ ہٹا تو وہ سمجھی کہ ان کی ذات میں کشش اربش سے تعلق کی وجہ سے تھی اور اگر شرمین موجود نہ ہوتی تو یقینا وہ ان سے الوداع ہوتے وقت گرم جوشی کا مظاہرہ کرتی لیکن شرمین کی موجودگی نے اسے الجھا دیا تھا اور وہ اس کے سامنے ہلکا ہونے کا کوئی رسک لینا نہیں چاہتی تھی اس صورت میں کہ ممی کی طرف سے اسی گرم جوشی کا اظہار نہ ہوتا۔

اور جب تمام ٹیچرز ممی کے خود کار گیٹ کے کھلنے کے بعد باہر نکلیں تو بس کے عین سامنے غزنیٰ کا موٹر سائیکل دیکھ کر اسے جیسے آگ لگ گئی غزنی اس وقت بس ڈرائیور کے ساتھ کھڑا باتیں کرتے ہوئے ٹائم پاس کررہا تھا جیسے ہی ٹیچرز باہر نکلیں بس ڈرائیور نے برق رفتاری سے اپنی سیٹ سنبھالی اور وہ بھی موٹر سائیکل اسٹارٹ کرنے لگا۔ تمام ٹیچرز ایک ایک کر کے بس میں بیٹھ رہی تھیں وہ غزنیٰ کے ساتھ اس کے موٹر سائیکل پر نہیں بیٹھنا چاہتی تھی لیکن سب کے سامنے منع کرکے خود اپنا تماشا بنانے والی بات تھی لہٰذا چپ چاپ بڑی خاموشی سے اس کے پیچھے جابیٹھی اور اس سے پہلے کہ بس چلتی وہ موٹر سائیکل چلاتا وہاں سے نکل آیا۔

’’مجھے چچا جان نے کہا تھا کہ تمہیں بے شک اسکول لینے چلا جائوں ان سے پوچھ کر گیا تھا میں۔‘‘ اجیہ کے تیور دیکھ کر غزنیٰ نے بغیر کچھ پوچھنے کے خود ہی وضاحت دینا شروع کردی تھی۔

’’کیا تمہیں میرا اسکول جانا برا لگا؟‘‘ غزنی نے گردن موڑ کر پوچھا۔

’’نہیں مجھے تمہارا اسکول جانا برا نہیں لگا بلکہ بہت برا لگا ہے۔‘‘ اجیہ اس وقت سخت غصے میں تھی اور پھر موٹر سائیکل پر غزنیٰ کے ساتھ اس کے اس قدر قریب بیٹھنا گو کہ اس نے اپنے اور اس کے درمیان اپنا پرس رکھا ہوا تھا لیکن پھر بھی آخر تھا تو وہ محض ایک پرس ناں اس کے اور غزنیٰ کے درمیان کتنا فاصلہ برقرار رکھ سکتا تھا۔

غزنیٰ کے لگائے گئے پرفیوم کی خوش بو ہَوا کے دوش پر اجیہ کی سانسوں میں اتر رہی تھی اور وہ سکندر صاحب کی اس دوغلی عادت پر حیران تھی کہ کہاں تو ان کی سہیلیوں کو بھی گھر آنے کی اجازت نہ تھی اور نہ ہی وہ اور حنین کسی کے گھر جاسکتی تھی اور کہاں تو بخوشی غزنیٰ کو اسے موٹر سائیکل پر اپنے پیچھے بٹھا کر گھر لانے کی اجازت دے دی۔ اس کی تلملاہٹ اپنے عروج پر تھی۔

’’میں جانتا ہوں اجیہ تم رشتوں اور تعلقات میں انتہائی محتاط رہنا چاہتی ہوں اور یقین کرو میں تمہارے اس عمل کو دل سے سراہتا ہوں اور مجھے فخر ہے کہ میری بیوی یونیورسٹی تک لڑکوں کے ساتھ بھی پڑھتی رہی لیکن اس کی آنکھوں میں سجنے والے خواب میرے سوا اور کسی کے نہیں تھے۔‘‘ اسی دوران اچانک اسپیڈ بریکر پر سے گزرنے کے باعث موٹر سائیکل کی رفتار متوازن نہ رہ سکی اور بے اختیاری طور پر نیچے گرنے سے بچنے کے لیے اجیہ نے غزنیٰ کے کندھے کو مضبوطی سے تھام لیا اور وہی وقت تھا جب غزنیٰ نے اپنے کندھے پر موجود اجیہ کے نرم و نازک ہاتھ کو تھام لیا۔

’’تم فکر مت کرو اجیہ، میں تمہیں کبھی بھی گرنے نہیں دوں گا۔‘‘ قریب سے گزرتی گاڑی میں اربش نے غزنیٰ کے کندھے پر ہاتھ رکھی اجیہ اور اس کا ہاتھ تھام کر دوسرے ہاتھ سے موٹر سائیکل چلاتے غزنیٰ کو دیکھا اور دیکھتا ہی رہ گیا۔ وہ اس وقت گھر کی طرف روانہ تھا۔

اجیہ کا لمس محسوس کرنا غزنیٰ کے لیے جیسے ایک خواب تھا جو آج پورا ہوا تھا اس کا بس چلتا تو ابھی اور اسی وقت اپنی موٹر سائیکل اجیہ کے بجائے اپنے گھر کی طرف موڑ کر اسے گھر لے جاتا اجیہ نے کسمسا کر ہاتھ چھڑانا چاہا لیکن اس کی گرفت مضبوط تھی۔

’’غزنیٰ چھوڑو میرا ہاتھ لوگ دیکھ لیں گے تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے۔‘‘

’’دیکھ لیں گے ناں تو کوئی بات نہیں یہی سوچیں گے کہ میاں بیوی میں اس قدر پیار ہے کہ موٹر سائیکل چلاتے ہوئے بھی ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے رکھتے ہیں۔‘‘ غزنیٰ نے جان بوجھ کر موٹر سائیکل کی رفتار سست کردی تھی وہ چاہتا تھا کہ اجیہ کے ساتھ گزرنے والا یہ خوب صورت وقت اور حسین پل اگر رک نہیں سکتے تو کم ا زکم ست روی سے تو گزریں۔

’’میں کہتی ہوں چھوڑو میرا ہاتھ ورنہ دوسرا ہاتھ میں تمہارے منہ پر دے ماروں گی۔‘‘ غصے سے بات کرتی ہوئی اجیہ بات کرتے ہوئے موٹر سائیکل کی سست رفتاری کا فائدہ اٹھا کر ایک دم نیچے اتر گئی تھی اس کے اس قدر جارحانہ رویے نے خود غزنیٰ کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا۔

’’یہ کیا ہوا ہے تمہیں ایک دم، ٹھیک تو ہو ناں؟‘‘ غزنیٰ نے موٹر سائیکل کی بریک لگا کر خود نیچے اترتے ہوئے پوچھا۔

’’میری کوئی بات بری لگی تمہیں؟‘‘ غزنیٰ کی بات کے جواب میں اجیہ نے نفرت سے منہ پھیر لیا تھا۔

’’ہوا کیا ہے مجھے بتائو تو سہی آئو گھر جا کے آرام سے بات کرتے ہیں۔‘‘ آگے بڑھ کر اس نے ایک مرتبہ پھر اجیہ کا ہاتھ پکڑ کر موٹر سائیکل پر بٹھانا چاہا لیکن اجیہ نے اس کا ہاتھ بری طرح جھٹک دیا۔ اس مرتبہ اس کے رویے نے غزنیٰ کو چونکایا تھا اسے لگا تھا کہ جس عمل کو وہ محتاط ہونا سمجھ رہا تھا وہاں معاملہ کچھ اور تھا اور یقینا سنجیدہ بھی جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تھا۔ 

’’نہیں جانا مجھے تمہارے ساتھ کہیں بھی اور نہ ہی میں تمہارے ساتھ تمہاری اس موٹر سائیکل پر بیٹھنا چاہتی ہوں سمجھے تم۔‘‘ اجیہ کا ضبط جواب دے گیا تھا سو بالآخر پھٹ پڑی۔

’’کیا مطلب ہے… کیا ہوا ہے تمہیں ابھی کچھ دیر پہلے تک تو ٹھیک تھیں تم۔‘‘ اجیہ کا رویہ اس کے لیے انتہائی غیر متوقع تھا جبھی حیران پریشان کھڑا تھا۔

’’کچھ دیر پہلے تک میرا دماغ خراب تھا اب ٹھیک ہوئی ہوں اور اسی لیے تمہیں بتا دینا چاہتی ہوں کہ میں نہیں جانا چاہتی تمہارے ساتھ۔‘‘

’’آخر کیوں میرا قصور تو بتائو میں نے ایسا کیا‘ کیا جو تمہیں برا لگا میں تم سے معافی مانگنے کو تیار ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ ایسا کچھ نہیں کروں گا جو تمہیں ناپسند ہو۔‘‘ اجیہ نے سامنے سڑک پر آتی جاتی ٹریفک کو بے بسی سے دیکھا۔

وہ مجبور تھی لیکن جانتی تھی کہ وہ غزنیٰ کے ساتھ کبھی خوش نہیں رہ پائے گی اور نہ ہی اس کے دل میں غزنیٰ کے لیے کسی قسم کے جذبات تھے۔

’’میں تمہاری خاطر کچھ بھی کرسکتا ہوں اجیہ۔‘‘ وہ دونوں اس وقت آمنے سامنے کھڑے تھے جب غزنیٰ نے اجیہ کو دیکھتے ہوئے اسے اپنی محبت کا یقین دلانا چاہا۔ اجیہ نے لمحہ بھر کے لیے اسے دیکھا ہاتھ میں پکڑا پرس اپنے کندھے پر ڈالا اور خود کو مطمئن ظاہر کرتے ہوئے اسے دیکھ کر بولی۔

’’اگر تم میری خاطر کچھ بھی کرسکتے ہو تو… اس رشتے سے انکار کردو۔‘‘ ایک سل تھی شاید جو اجیہ نے ہٹائی تھی جبھی جملہ پورا کرتے ہی گہرا سانس لے کر اس کے جواب کا انتظار کرنے لگی۔

’’انکار کردوں، اپنے اور تمہارے اس نئے بننے والے رشتے سے؟‘‘ غزنیٰ پر تو حیرتوں کے کئی پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے وہ اپنی سماعتوں کے فعال ہونے پر بھی یقین نہیں کررہا تھا۔

’’ہاں اسی رشتے سے۔‘‘

’’لیکن کیوں، آخر وجہ کیا ہے؟‘‘

’’اس لیے کہ میں تم سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔‘‘ اجیہ نے لب بھینچ لیے۔

’’وہاٹ…! تم مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تو پھر میرے ہاتھ سے اپنی انگلی میں انگوٹھی کیوں پہنی۔‘‘ وہ ضبط کی آخری حد پر تھا ایسا لگتا جیسے جسم کا سارا خون اس کے چہرے پر سمٹ آیا ہے جبکہ اس کے برعکس اجیہ کو دیکھ کر لگتا جیسے اس کے جسم کا سارا خون ہی نچوڑ لیا گیا ہو۔

اپنے کہے ہوئے الفاظ کے ردعمل کے طور پر سکندر صاحب کچھ بھی کرسکتے تھے یہ سوچ کر اس کا چہرہ زرد ہورہا تھا لیکن اسے احساس تھا کہ سکندر صاحب کی بات کو اس وقت مان کر اس نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی تھی نہ اس کا دل مطمئن تھا اور نہ ہی بہن خوش اور سکندر صاحب کے نزدیک بھی اس کی قربانی کی کوئی اہمیت نہ تھی تو بھلا وہ کیوں گھٹ گھٹ کر جئے اپنی خواہشات کو مارے، احساسات کا گلا گھونٹے کیا اسے اپنی زندگی میں خوشیوں کی خواہش اور کوشش کا کوئی حق نہیں؟

یہ سبھی باتیں وہ آج ممی کے گھر میں سوچتی رہی تھی اور بالآخر اس نے ہی فیصلہ کیا تھا کہ وہ غزنیٰ کو بتا دے گی کہ وہ اس کے ساتھ زندگی گزارنے کی خواہش نہیں رکھتی لیکن اپنی سوچ پر اتنی جلدی عمل کرے گی یہ خود اس کے بھی وہم و گمان میں نہیں تھا۔

’’وہ سب میں نے صرف بابا کی خواہش پر کیا ورنہ میری کبھی بھی ایسی خواہش نہیں رہی… اس لیے میں چاہوں گی کہ تم خود اس رشتے سے انکار کردو۔‘‘

’’کیا تم خود انکار نہیں کرسکتیں؟‘‘ غزنیٰ کی آنکھوں میں خون اتر رہا تھا اپنی اور اپنے جذبات کی توہین اسے سلگا کر رکھ گئی تھی اس کی مردانگی پر اجیہ کی ناپسندیدگی نے گہری ضرب لگائی تھی۔

’’شاید نہیں… لیکن تم چاہو تو یہ رشتہ ختم کرسکتے ہو تاکہ…‘‘

’’ہونہہ… تم نے کیا سوچا تھا کہ تم کہو گی اور میں اسی وقت اس رشتے سے انکار کردوں گا۔‘‘ انتہائی سرد لہجے میں اس نے اجیہ سے کہا تو اس کے لہجے کی سردی اجیہ کو اپنی نس نس میں دوڑتی محسوس ہوئی اب تک اسے سرسری سا دیکھنے والی اجیہ نے بغور اس کو دیکھا تو غزنیٰ کے چہرے کے تاثرات میں اسے ایک ایسے خونخوار شیر کی جھلک نظر آئی جس سے سخت بھوک میں اس کا شکار چھین لیا گیا ہو کوئی مسکراہٹ، محبت، رشتے داری یا لحاظ نام کا کوئی احساس یا کوئی جذبہ ایسا نہ تھا جو اس کے چہرے پر نظر آنے والے تاثرات سے جوڑا جاسکتا کیونکہ اس وقت اس کے چہرے پر وحشت رقصاں تھی گھمنڈ تھا انتقام تھا۔

خود کو ٹھکرائے جانے کا احساس اسے اپنی ہی نظروں میں بے وقعت کر گیا تھا اب جبکہ وہ اجیہ کے سامنے اپنے تمام تر جذبات کا اظہار کرچکا تھا‘ اسے بتاچکا تھا کہ وہ اسے دنیا کی کسی بھی چیز سے زیادہ محبت کرتا ہے سکندر صاحب کے گھر جانے کی واحد وجہ ان در ودیوار میں محسوس ہونے والی اکلوتی کشش صرف اور صرف وہ تھی تو اس نے کتنے آرام سے بتایا تھا کہ وہ تو اسے پسند ہی نہیں کرتی۔

’’یعنی کیا میں سیل میں سے لیا گیا لان کا جوڑا ہوں جو ابا اماں کے کہنے پر لے تو لیا لیکن چونکہ پسند نہیں تھا اس لیے گھر لاتے ہی ڈسٹ بن کی نذر کردیا؟‘‘ غزنیٰ نے خود ہی سے سوال کیا اور پھر بولا۔

’’اگر تم چاہتی ہو کہ میں اس رشتے سے انکار کردوں تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے کیونکہ میں جس بھی چیز کو پسند کرتا ہوں ناں اسے حاصل کرکے رہتا ہوں اور آسانی سے ہاتھ نہ آئے تو پھر یہ تو تم جانتی ہو کہ چھیننا میرے لیے کوئی بڑی بات نہیں ہے کسی سے بھی اور کچھ بھی…‘‘ مسکرا کر اس نے اپنے اندر کے طوفان کو کم کرنے کی کوشش کی۔

’’اور ہاں لیکن تمہاری بات سے اتنا ضرور ہوا ہے کہ تمہیں حاصل کرنے اور دلہن بنا کر اپنے گھر لانے کا جو خواب میں نے دیکھا تھا اس کی تعبیر کا وقت مزید نزدیک آگیا ہے پہلے خیال تھا کہ تمہاری یونیورسٹی لائف ختم ہو تو اپنی پرسنل لائف شروع کریں لیکن اب میرا ارادہ بدل گیا ہے یونیورسٹی چاہے مہینوں میں ختم ہو لیکن پرسنل لائف اب دنوں میں شروع ہوگی سمجھیں تم؟‘‘ غزنیٰ نے اجیہ کی توقعات سے بڑھ کر جارحانہ رویہ دکھایا تھا اور اس سے پہلے کہ اجیہ مزید کچھ بھی کہتی اس نے ہاتھ بڑھا کر سامنے سے آتا رکشہ روکا اسے پتا بتا کرایہ ادا کیا اور اجیہ کو مخاطب کیے بغیر موٹر سائیکل اسٹارٹ کیا۔ تب تک اجیہ اپنی جگہ پر ہی کھڑی رہی۔

’’رکشے میں بیٹھ کر گھر چلی جائو تم میری ذمہ داری ہو اور تمہیں گھر پہنچانا میرا فرض۔‘‘ اجیہ نے کچھ بھی مزید کہنے کے بجائے رکشے میں بیٹھنا مناسب خیال کیا۔

’’او… بھائی رکشے کا نمبر بھی میں نے نوٹ کرلیا ہے اور تمہاری فوٹو بھی کھینچ لی ہے اس لیے دھیان سے گھر پہنچانا سمجھے کہ نہیں؟‘‘ غزنیٰ نے ہاتھ میں پکڑا موبائل جیب میں ڈالتے ہوئے کہا اور رکشہ سڑک کی ٹریفک میں گم ہوتے ہی خود بھی موٹر سائیکل پر گھر روانہ ہوا۔

ؤ …/…ؤ

دل کعبہ

دل مسجد مندر

دل دربار فقیراں

دل دنیا

دل اڑن کھٹولا

دل زندان اسیراں

شرمین کی بھابی، گھر جاچکی تھیں جبکہ شرمین دانستہ طور پر وہیں رک گئی تھی‘ مہمان خواتین کے جانے کے بعد اس نے تمام برتن سمیٹ کر ڈش واشر میں ڈال کر اسے آن کیا خود لائونج میں آکر دستر خوان اٹھایا جو کہ کھانا سرو کرنے سے پہلے اس نے بچھایا تھا پھر سفید چادروں کو تہہ کرکے رکھا چاروں طرف جلائی گئی موم بتیاں، درمیان میں رکھی اگربتیاں اور پھولوں کی پتیوں والی پلیٹیں سمیٹیں اس دوران اس کے ہزار منع کرنے کے باوجود بوا اور ممی بھی اس کے ساتھ ہاتھ بٹاتی رہی تھیں۔ اور اب اربش کے آنے تک لائونج اسی طرح معمول کی حالت میں تھا محسوس ہی نہ ہوتا کہ ابھی کچھ دیر پہلے تک یہاں اتنی ساری خواتین آئی ہوں گی اربش گھر آیا تو انتہائی تھکا ہوا معلوم ہوتا تھا۔

اترا ہوا چہرہ اور کسی خیال میں گم فکر مند آنکھیں… اسے یقین تھا کہ موٹر سائیکل پر بیٹھا ہوا وہ لڑکا غزنیٰ کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا اور چونکہ گھر والوں کی رضا مندی اور موجودگی میں ان دونوں کی منگنی ہوئی تھی لہٰذا کوئی بھی ان دونوں کے یوں اکھٹا آنے جانے پر کسی قسم کا کوئی اعتراض اٹھا ہی نہیں سکتا تھا لیکن کیا وہ غزنی سے اس کا اجیہ پر اس قسم کا استحقاق ختم کروا پائے گا کیا اجیہ اس کی بن پائے گی اجیہ کے گھر والے یہ رشتہ توڑ کر اس کا رشتہ قبول کرلیں گے اپنی ممی کی طرف سے تو اسے کوئی شکوک و شبہات نہیں تھے۔ وہ جانتا تھا کہ جیسے وہ کہے گا ممی اس کی بات مان جائیں گی لیکن اجیہ کے گھر والے۔ یہ سوچ اس وقت اس کے ذہن میں گھوم رہی تھی اور وہ آج ہی ممی سے اس معاملے کو ڈسکس کرنا چاہتا تھا۔

’’کیا بات ہے اربش بہت تھکے ہوئے لگ رہے ہو؟‘‘ لائونج میں داخل ہوتے ہی وہ صوفے پر ڈھے گیا تھا ہمیشہ کے خوش مزاج اور تازہ دم اربش کو یوں تھکاوٹ کا شکار جان کر ممی اور بوا کا پریشان ہونا ایک لازمی امر تھا اسی لیے دونوں اس کی طرف لپکی تھیں۔

’’ممی آج میں آپ سے ایک بہت اہم بات کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ سیدھا بیٹھتے ہوئے اس نے وقت ضائع کیے بغیر بات شروع کی وہ فوراً ممی کے علم میں تمام واقعہ لانا چاہتا تھا لیکن اس کی کوئی نوبت آنے سے پہلے ہی شرمین لائونج میں داخل ہوئی۔

’’ممی… کھانا لگ گیا ہے اور اربش بھی آگئے ہیں تو مل کر کھانا کھالیتے ہیں پھر مجھے جانا بھی ہے۔‘‘ اچانک شرمین کی آمد نے اربش کو چونکا دیا تھا اس سے پہلے وہ شرمین کی موجودگی سے قطعی طور پر لاعلم تھا لہٰذا اس کے اچانک سامنے آنے پر فوراً اپنی پھیلی ہوئی ٹانگیں سمیٹ کر مہذب طریقے سے بیٹھا لیکن اس کے اس گھریلو اور بے تکلفانہ انداز کے ساتھ ممی کو مخاطب کرنا اسے اچھا نہیں لگا تھا۔

’’ہاں… ہاں کیوں نہیں، تم بھی کب سے کاموں میں لگی ہوئی ہو، تھک بھی گئی ہوگی۔‘‘ ممی نے پیار لٹاتی نظروں سے اسے دیکھا پھر اربش کے بالوں میں انگلیاں پھیرتی ہوئی مسکرائیں۔

’’اٹھو ہاتھ منہ دھو کر پہلے کھانا کھا لو، باقی باتیں پھر آرام سے بیٹھ کر کرتے ہیں۔‘‘ کھانا کھانے کے دوران میزبانوں کی طرح شرمین کا ان تینوں کا مختلف ڈشز دینا اور اچھی طرح کھانا کھانے پر اصرار کرنا بھی اربش کو کچھ عجیب لگ رہا تھا۔ کھانا کھا چکے تو شرمین کے ہزار منع کرنے کے باوجود ممی نے بھائی کے لیے کھانا پیک کروایا اس کا شکریہ ادا کیا اور پھر اربش سے درخواست کی کہ وہ اسے گھر چھوڑ آئے۔

’’ممی… میں انہیں گھر چھوڑ آئوں میں نے تو ان کا گھر دیکھا تک نہیں ہے۔‘‘ وہ کسی طور اس وقت کہیں جانے کے موڈ میں نہیں تھا اور پھر شرمین کو چھوڑنے تو بالکل بھی نہیں کہ جس کے ساتھ نہ اس کی جان نہ پہچان لیکن پھر بھی اگر ممی دوبارہ کہتیں تو انکار کرنے کا تو اس کا نزدیک سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔

’’تمہیں شرمین کے گھر کا نہیں پتا تو کیا ہوا اسے تو اپنے گھر کا پتا ہے ناں، وہ سمجھا دے گی تمہیں سارا ایڈریس۔‘‘ ممی نے مسکراتے ہوئے کہا۔

’’اور پھر اچھا ہے ناں کہ شرمین کے گھر کا پتا معلوم ہو اگلے چند روز میں ہوسکتا ہے ہمیں ان کے گھر جانا پڑے تو کم از کم کسی سے پوچھنا تو نہیں پڑے گا ناں۔‘‘ بوا نے بھی ممی کی بات کی تائید کرتے ہوئے بات آگے بڑھائی لہٰذا چارو ناچار اسے اٹھنا ہی تھا لیکن اتفاق سے اسی وقت شرمین کے بھائی اسے لینے آپہنچے اور اربش کی گلوخلاصی تو ہوئی لیکن بھائی کے آنے پر شرمین بڑی بدمزہ ہوئی تھی وہ جو یہ سوچ رہی تھی کہ جان بوجھ کر اربش کو لمبے والے رستے سے گھر لے کر جائے گی تاکہ اس کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے اور اسے اپنی طرف متوجہ کرنے کا موقع مل سکے تو وہ اپنی اس سوچ میں ناکام رہی تھی۔

لہٰذا بادل ناخواستہ ان تینوں سے اجازت لے کر اور جلد دوبارہ ملنے کا کہہ کر بھائی کی گاڑی میں آبیٹھی۔

ؤ …/…ؤ

جانے کیوں روٹھ گیا مجھ سے وہ کم فہم ندیم

میں تو مخلص تھا کسی ماں کی دعائوں کی طرح

اجیہ گھر پہنچی تو حنین نے ہی گیٹ کھولا تھا لیکن شرمندگی اس قدر تھی کہ وہ چاہنے کے باوجود بھی اجیہ سے بات نہیں کر پائی تھی بس گیٹ کھولا اور ایک طرف ہوگئی اجیہ نے اسے لمحہ بھر کے لیے رک کر دیکھا ضرور لیکن ذہنی طور پر وہ اتنی الجھی ہوئی تھی کہ حنین سے بات کرنے کا کوئی خیال بھی اس کے ذہن میں نہیں آیا تھا اور یوں بھی وہ گیٹ پر بات کرکے کوئی تماشا نہیں لگانا چاہتی تھی کہ اجیہ اور حنین دونوں کے بات کرتے وقت آواز کی تیزی متوقع تھی۔ اجیہ کی آواز اس کے اختیار میں اور مدہم تھی جبکہ حنین کی آواز قدرتی طور پر بلند تھی یہی وجہ تھی کہ نہ تو سردیوں میں دھوپ سینکنے کے لیے وہ دونوں صحن میں بیٹھتیں اور نہ ہی گرمیوں کی شاموں میں مزا لینے کے لیے کیونکہ حنین کی صحن میں بیٹھ کر کی گئی تمام باتوں کی آواز گلی سے گزرتے تمام لوگوں کو بغیر کسی مشقت کے ملتیں اور یہ بات سکندر صاحب کو پسند نہیں تھی اور یہی وجہ تھی کہ اجیہ نہیں چاہتی تھی کہ گیٹ کے قریب یا صحن میں ہی کھڑے ہوکر حنین کچھ ایسا بولنے لگے جس سے گلی اور محلے کے تمام لوگوں کو ان کے گھر کے معاملات کی خبر ہو اور تماشا بنے۔

’’کہیں ایسا تو نہیں کہ میری زندگی بس تماشا بننے سے بچنے کے لیے ہی گزرے گی۔‘‘ اجیہ نے گیٹ سے گزر کر صحن کراس کرتے ہوئے گھر کے اندرونی حصے میں قدم رکھتے ہوئے سوچا۔

’’چھوٹی سی تھی تو بابا کے روکھے پھیکے رویے کے باعث کبھی جب رونے لگتی تو امی کیا کرتیں چب کر جائو اجیہ بیٹا برداشت کر جایا کرو کیا ضرورت ہے دنیا کے سامنے رو رو کر تماشا بنوانے کی۔‘‘ بچپن میں کبھی نانا ابو سے شکایت کرتی تو وہ کہتے۔

’’اپنے مسائل اپنے تک رکھنے کی عادت ڈالو میری جان، کل کو اگر میں نہیں رہا تو اپنے دکھ کس سے کہوگی کس کا کندھا ڈھونڈوں گی کیونکہ لوگ ہمارے دکھ درد جان کر ہمارا تماشا دیکھتے ہیں۔‘‘ اور وہ سوچتی کہ بھلا وہ کوئی تفریح کا سامان تھوڑی ہے جو لوگ اس کا تماشہ دیکھیں اور وہ کبھی ایسا وقت نہیں آنے دے گی جب دنیا اس کا تماشا مزے لے لے کر دیکھے پھر اس گھر میں کتنے ہی اتار چڑھائو آئے لیکن گھر کے باہر کسی کو خبر تک نہ ہوپائی۔

منگنی والے دن بھی اسی ممکنہ تماشے سے بچنے کے لیے اس نے سکندر صاحب کی درخواست پر خاموشی سے سر جھکا دیا تھا اور خود اپنی ذات کو تمام عمر کے لیے اپنے ہی ضمیر کے آگے تماشہ بننے کے لیے لاکھڑا کیا تھا لیکن پھر آخر کب تک اور آج جب غزنیٰ کو رشتے سے انکار کرنے کے بعد وہ اس کے روکے ہوئے رکشے میں گھر کے گیٹ کے سامنے اتری تھی تو محض اسی لیے کہ وہ وہاں سڑک پر اپنا تماشا دنیا والوں کو نہیں دکھانا چاہتی تھی۔ لیکن اسے اس بات کا بھی اعتراف تھا کہ جس چیز کا خوف اسے عمر بھر رہا وہی اب ہونے والا تھا اور صرف گھر نہیں بلکہ شاید اب دنیا بھر میں اس کا تماشا بننا تھا۔

امی نماز پڑھ رہی تھیں لہٰذا وہ سیدھی اپنے کمرے میں چلی آئی تھی پرس ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا جوتے اتارے اور پائوں نیچے لٹکائے بیڈ کی ٹیک کے ساتھ ٹیک لگا کر آنکھیں بند کیے بیٹھ گئی۔

’’غزنیٰ اب یقینی طور پر بابا سے میرے رویوں اور باتوں کی شکایات کرے گا یہ بھی بتائے گا کہ میں نے رشتے سے انکار کردیا ہے اس کے بعد اب کیا ہونے والا ہے۔‘‘ وہ آئندہ آنے والے دنوں کے تمام متوقع معاملات کے بارے میں سوچ رہی تھی اسے یقین تھا کہ غزنیٰ اس کی طرف سے کیے گئے انکار کو اپنی انا کا مسئلہ بناتے ہوئے منگنی توڑ کر انگوٹھی اس کے منہ پر مار دے گا اور پھر؟ ابھی وہ اپنی گھتیوں کو سلجھانے میں لگی تھی کہ اسے اپنے پائوں پر کسی کے چھونے کا احساس ہوا اس نے ایک جھٹکے سے اپنے پائوں اپنی طرف سمیٹتے ہوئے آنکھیں کھولیں۔ سامنے حنین سر جھکائے ہوئے فرش پر بیٹھی تھی۔ اجیہ نے فوری ردعمل کے طور پر اپنے پائوں تو کھینچے تھے لیکن حنین نے دوبارہ اس کے پائوں پکڑ لیے تھے وہ خود تو خاموش تھی لیکن آنکھوں سے متواتر آنسو بہہ رہے تھے اجیہ حیران پریشان اس کے انداز کو سمجھنے سے قاصر تھی حنین کی آنکھوں کے آنسو اس کے پائوں پر گرے تو اجیہ نے فوراً سے آگے بڑھ کر اسے کندھوں سے پکڑ کر اوپر اپنے پاس بٹھایا۔

’’کیا ہوا ہنی… سب ٹھیک تو ہے ناں، کیا ہوا ہے تمہیں؟‘‘ اجیہ کے اتنا کہنے کی دیر تھی کہ بغیر آواز کے روتی حنین کے آنسوئوں میں شدت آگئی اور اب وہ آواز سے رو رہی تھی اور روتے روتے اجیہ کے گلے لگ گئی تھی۔

’’اوہو… کیوں رو رہی ہو، کچھ بتائو بھی تو سہی ناں۔‘‘ اجیہ واقعی اس کے رونے کی وجہ سمجھنے سے قاصر تھی بلکہ اس وقت تو چند لمحوں کے لیے وہ ان چند روز میں پیش آئے تمام حالات و واقعات بھول کر صرف حنین کے لیے پریشان تھی۔

’’مجھے معاف کردو اجیہ… میں نے تمہیں غلط سمجھا مجھے تمہیں وہ سب کچھ نہیں کہنا چاہیے تھا جو میں نے کہا تم بہت اچھی ہو… پلیز مجھے معاف کردو۔‘‘ روتی ہوئی حنین نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ لیے تھے اجیہ حیران اس بات پر بھی تھی کہ یہ ایک دم اس کا ذہن بدل کیسے گیا رات تک اس سے اتنی بدظن کہ دیکھنا تک گوارا نہیں کررہی تھی اور اب اتنی ڈائون کہ اس سے ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے معافیاں مانگ رہی ہے اسی دوران امی کمرے میں داخل ہوئی وہ زیرلب کچھ پڑھ رہی تھیں قریب آکر پہلے اجیہ اور پھر حنین پر پھونک ماری اور پھر شفقت بھرا ہاتھ دونوں کے سر پر رکھتے ہوئے بولیں۔

’’جو کچھ بھی تم دونوں بہنوں کے بیچ ہوا وہ صرف اور ایک غلط فہمی کا نتیجہ تھا اور بس اس لیے دونوں اچھی بیٹیوں کی طرح ایک دوسرے کے لیے دل صاف کرلو۔‘‘

’’امی میں حنین کے لیے اپنے دل میں کبھی بھی کچھ نہیں رکھتی مجھے اس سے کل جتنا پیار تھا اتنا ہی آج بھی ہے بلکہ اس کی روتی شکل اور بہتی ناک دیکھ کر تو اور بھی پیار ہوگیا ہے۔‘‘ مسکراتی ہوئی اجیہ نے جان بوجھ کر حنین کو چھیڑا۔

گو کہ وہ ابھی تک ورطہ حیرت سے نہیں نکل پائی تھی لیکن تفصیل سننے اور پوچھنے کے لیے بہت وقت باقی تھا فی الحال تو اسے اس چیز کی خوشی تھی کہ اسے اپنی دوست اپنی بہن اور اپنی پارٹنر واپس مل گئی تھی جون جولائی کے حبس زدہ دنوں میں بادل گھر آنے اور ٹھنڈی نرم اور سبک ہَوا کے چلنے کا احساس کیا ہوتا ہے ابھی محسوس ہوا تھا۔

اجیہ کو ایسا ہی لگ رہا تھا جیسے اجنبیوں کی اس بھیڑ میں کوئی اپنا قریبی کوئی شناسا نظر آگیا ہو پچھلے کچھ دنوں سے جاری اعصاب اور خیالات کی اس مسلسل جنگ میں عین اس وقت جب وہ تھک کر گرنے ہی والی تھی کہ اللہ نے اسے ساتھ چلنے کے لیے حنین جیسی پیاری بہن اور دوست لوٹا دی تھی جو اسے سمجھتی تھی اور اس سے بے حد پیار بھی کرتی تھی۔

’’میں بہت بری ہوں ناں اجیہ؟‘‘ آنسو پونچھتے ہوئے اس نے نم آلود آواز میں پوچھا آنسوئوں کی شدت سے اس کا چہرہ اب تک سرخ ہورہا تھا۔

’’ہاں اس میں تو خیر کوئی شک نہیں ہے کہ تم بہت نہیں بلکہ بہت ہی زیادہ بری ہو، لیکن چلو خیر ہے کوئی بات نہیں، چلے گا اب تم جیسے ڈیفیکٹڈ پیس کو ہم برداشت نہیں کریں گے تو کون کرے گا۔‘‘ اجیہ نے شرارت سے امی کو دیکھتے ہوئے کہا تو بس یہ الفاظ حنین کے کانوں سے ٹکرانے کی دیر تھی کہ وہی پرانی حنین چنگھاڑتی ہوئی لوٹ آئی۔

’’توبہ… توبہ، اپنے آپ کو دیکھا ہے کبھی اتنا مرجھایا ہوا ہے منہ دیکھ کر لگتا ہے کسی نے کیلے کا چھلکا کھا کر پھینکا ہوا ہے‘ ہاں یہ الگ بات ہے کہ اس چھلکے کا رنگ سفید ہے۔‘‘ اسے خود ہی محسوس ہوا تھا کہ بات سنی نہیں ہے اس لیے ناک چڑھا کر بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی۔

’’چلو خیر ہے ہنی تم پیار سے کہو تو مجھے کچھ بھی منظور ہے۔‘‘ اجیہ نے محبت سے اسے دیکھتے ہوئے کہا تو حنین ایک بار پھر اس کے گلے لگ گئی۔

’’تم جیسا کوئی نہیں ہے اجیہ… میں نے تمہارا اتنا دل دکھایا برا بھلا کہا لیکن پھر بھی تمہارے پیار اور محبت میں کوئی کمی نہیں آئی۔‘‘

’’بس اب چھوڑ ہی دو یہ جذباتی اور رونے دھونے والے دن تھے یوں سمجھو کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔‘‘ امی نے مسکراتے ہوئے کہا۔

’’اور یہ بتائو کہ کھانا کھا کر آئی ہو یا کھائو گی ابھی؟‘‘

’’امی کھانا تو قرآن خوانی کے بعد کھا لیا تھا اب بھوک نہیں ہے۔‘‘ اجیہ بولی۔

’’چلو ٹھیک ہے میں تمہارے بابا کے آنے تک تھوڑی دیر لیٹ رہی ہوں سونے کا ٹائم تو نہیں ہے اس وقت لیکن بس ذرا آرام کرنا چاہتی ہوں۔‘‘

’’امی آپ تو ٹھیک تو ہیں ناں، طبیعت تو بہتر ہے ناں آپ کی؟‘‘ اجیہ لمحہ بھر میں پریشان ہوئی اور اسے مزید پریشان نہ کرنے کا سوچ کر ہی وہ مسکرا کر بات ٹالتے ہوئے باہر نکل آئیں تھیں جبکہ حقیقت تو یہی تھی کہ پچھلے ایک دو دن میں ہونے والے ان غیر متوقع اور اعصاب شکن واقعات کے باعث ان میں جسمانی توانائی کی بہت کمی محسوس ہورہی تھی اور دماغ اس حد تک کمزوری کا شکار ہوگیا تھا کہ وہ خود اپنی ہی حالت سے پریشان تھیں لیکن جانتی تھیں کہ اجیہ ذہنی طور پر بہت بکھری ہوئی ہے لہٰذا چاہتی تھیں کہ اگر وہ اس کی خوشی لوٹانے انتظام نہیں کرسکتی تو اس کی پریشانیوں میں اضافے کا سبب بھی نہ بنیں، بس اسی سوچ نے انہیں اجیہ کے سامنے اپنی کیفیت بیان کرنے سے روکے رکھا۔ اور اب دونوں بہنوں کا ایک بار پھر پیار دیکھ کر وہ شکر گزار تھیں کہ گھر میں موجود ایک بڑی ٹینشن کا کچھ حصہ تو کسی قدر زائل ہوتا نظر آنے لگا تھا۔

ؤ …/…ؤ

مجھے معجزوں پہ یقین نہیں

مگر آرزو ہے کہ جب فقط

مجھے بزم دہر سے لے چلے

تو پھر ایک بار یہ اذن دے 

کہ لحد سے لوٹ کر آسکوں

تیرے در پر آ کر صدا کروں

تجھے غمگسار کی ہو طلب

تو تیرے حضور میں آ رہوں

یہ نہ ہو تو سوئے رہ عدم

میں پھر ایک بار روانہ ہوں

اجیہ، غزنیٰ کا پہلا پیار تھی اور پہلا پیار بھی وہ جو لڑکپن کی عمر میں اس پر آشکار ہوا تھا اور پھر اسکول کالج کی ہر لڑکی میں اسے اجیہ ہی نظر آتی، بہانے بہانے سے سکندر صاحب کے گھر جانا بھی اس کا معمول تھا اور سکندر صاحب جسے سخت گیر انسان جنہیں گھر میں محلے کی خواتین کے آنے پر اعتراض ہوتا کبھی بھی غزنی کے آنے پر برا محسوس نہ کرتے بلکہ اس کے برعکس اس کے آنے پر خوشی کا اظہار کرتے اسے پروٹوکول دیتے اور دوبارہ آنے کی بھی تاکید کیا کرتے۔ 

یہی وجہ تھی کہ غزنیٰ اکثر وہیں پایا جاتا اجیہ لفٹ نہ کراتی تو ہر وقت حنین کے ساتھ باتوں اور ان ڈور گیمز میں مصروف رہتا کبھی کبھی حنین زبردستی اجیہ کو بھی کھیل میں شریک کرلیتی لیکن ایسا کبھی کبھار یہی ہوتا تھا ورنہ اجیہ زیادہ تر پڑھتے ہوئے یا پھر اپنی امی کے ساتھ ہی نظر آتی لیکن غزنیٰ کے لیے اجیہ کا صرف نظر آتے رہنا بھی غنیمت تھا۔ پھر جیسے جیسے وہ میچور ہوتا گیا جان بوجھ کر ان کے گھر آنا جانا پہلے کی نسبت کم کردیا۔

پڑھنے لکھنے میں اس کی کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی اور پڑھائی سے اس کی دلچسپی محض اتنی ہی تھی کہ ایک کلاس سے پاس ہوکر دوسری میں چلا جائے اکلوتا تھا لہٰذا یہ فکر نہیں تھی کہ مستقبل میں پڑھائی کے بغیر کیا کرے گا کیونکہ ظاہر ہے کہ جو تھا وہ سب اسی کا ہی تو تھا جیسے تیسے یونیورسٹی مکمل کی ڈگری حاصل کی اور اپنی ٹریول ایجنسی کھول لی وقت بدل گیا تھا لیکن اس کا دل نہیں بدلا تھا اجیہ کے لیے اس کے جذبات اب بھی وہی تھے جو لڑکپن میں تھے لیکن ہاں اتنا ضرور تھا کہ اب ان میں پختگی آگئی تھی۔ اسی لیے اجیہ کی انگلی میں اپنے نام کی انگوٹھی پہنانے کے بعد وہ خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین فرد ہی تو سمجھنے لگا تھا۔ لیکن سمجھنے اور ہونے میں بہت فرق ہوتا ہے اور یہی فرق آج اجیہ نے اس پر واضح کیا تو اسے ایسا لگا تھا جیسے کسی نے اسے آسمان سے زمین پر لا پٹخا ہو اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ اجیہ نے کسی دبائو میں آکر انگوٹھی پہنی تھی اور اگر ایسا ہوا بھی تھا تو اسے اس کے جذبات کے ساتھ کھیلنے بلکہ انہیں روندنے کی اجازت کسی نے دی تھی کیونکہ وہ کسی کو بھی اپنے خواب چھیننے کی اجازت نہیں دے سکتا تھا اپنے خواب آنکھوں میں سجانے اور انہیں سنبھالنے کی طاقت تھی اس میں یہی وجہ تھی کہ اس وقت اس کی حالت کسی زخمی سانپ سے کم نہیں تھی کہ بہرحال تازیانہ اس کی انا اور اس کی مردانگی پر لگا تھا۔

’’ارے بیٹا… خیر تو ہے آج تم اتنی جلدی کیسے آگئے سب ٹھیک تو ہے ناں؟‘‘ غزنیٰ اجیہ کو رکشے میں بٹھا کر اپنی ٹریول ایجنسی جانے کے بجائے سیدھا گھر چلا آیا تھا ورنہ عام طور پر وہ رات کو ہی گھر واپس آتا تھا آج سر شام لوٹا تو اماں کی تشویش لازم تھی۔

’’ہاں اماں سب ٹھیک ہے ابا نہیں آئے کیا ابھی تک؟‘‘ موٹر سائیکل کیاریوں کی طرف کھڑی کرکے اس نے اماں سے پوچھے۔

’’ہاں ابھی تک تو نہیں آئے۔‘‘

’’پتا نہیں آج اتنی دیر کیوں ہوگئی؟‘‘ آہستہ آواز میں اماں سے بات کرتے ہوئے اس نے فکرمندی سے سوچا اس دوران اماں اس کے چہرے کے تاثرات کا بغور جائزہ لیتی رہی تھیں۔

’’کیا ہوا ہے بیٹا، کوئی مسئلہ ہوگیا ہے باہر؟‘‘ اس کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے اندر ڈرائنگ روم میں داخل ہوکر اماں نے غزنیٰ کے چہرے کو کھوجتے ہوئے پوچھا۔

’’ہوا تو کچھ بھی نہیں ہے لیکن آپ کیوں پوچھ رہی ہیں؟‘‘ صوفے پر بیٹھ کر اس نے جوتے اتارتے ہوئے چونک کر پوچھا۔

’’میں اس لیے پوچھ رہی ہوں کہ آج سے پہلے نہ تو تم خود کبھی اس وقت گھر آئے ہو اور نہ کبھی تمہارے ابا اس وقت گھر آئے ہیں اور یہ بات تم اچھی طرح جانتے بھی ہو، اس کے باوجود تمہارے پوچھنے کا اندازہ ایسا ہے جیسے کہ وہ معمول میں اس وقت گھر پر ہی موجود ہوتے ہیں۔‘‘ اماں کی بات پر وہ واقعی شرمندہ ہوگیا تھا کیونکہ وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہی تھیں۔

’’اسی لیے میرا خیال ہے کہ ضرور آج باہر کوئی مسئلہ ہوا ہے جس کی وجہ سے تم مجھے پریشان لگ رہے ہو۔‘‘

’’ارے نہیں اماں، پریشان تو خیر میں نہیں ہوں اور اگر ایسا ہوا بھی تو آپ جانتی ہیں ناں کہ بچپن سے لے کر اب تک کبھی گھر پر کسی کی شکایت لے کر یا روتا ہوا نہیں آیا اپنے بدلے خود لینا آتے ہیں مجھے۔‘‘ غزنیٰ نے الفاظ چباتے ہوئے آنکھیں سیکڑتے ہوئے کہا۔ ’’اس لیے میری پیاری اماں، آپ یہ فکر ہرگز نہ کریں کہ ایسا کوئی پرابلم ہے۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے اماں کے پریشان چہرے کو دکھا تو وہ بھی مدہم سے انداز میں مسکرانے تو لگیں لیکن الجھن اب تک ان کے ذہن میں تھی اور وہ کسی طور مطمئن نہیں ہوپائی تھیں یہ بات غزنیٰ نے محسوس کرلی تھی لہٰذا اس نے اصل بات کرنے کا فیصلہ کیا۔

’’ہمم… لگتا ہے اب آپ پریشان ہوگئی ہیں، ہے ناں؟‘‘

’’سچ کہوں تو ہاں مجھے لگتا ہے کہ تم مجھ سے کوئی بات چھپا رہے ہو۔‘‘ انہوں نے سادگی سے اعتراف کیا تو وہ مسکراتے ہوئے اٹھ کر ان کے قریب جا بیٹھا اور ان کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے بولا۔

’’ماں کو خوامخواہ تو اتنا رتبہ نہیں ملا ہے ناں۔‘‘ وہ مسکرایا۔ ’’اولاد کا چہرہ پڑھ کر پتا لگا لیتی ہے کہ دل میں خوشی کا تناسب کتنا ہے اور پریشانی کا کتنا۔‘‘

’’تو بس اب جبکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہاری ممکنہ پریشانی کی وجہ سے پریشان ہوں پھر ساری بات تفصیل سے بتا کیوں نہیں دیتے۔‘‘ لاڈ سے اس کے بال بناتے ہوئے انہوں نے کہا۔

’’ارے اماں دراصل مسئلہ یہ ہے کہ بات پریشانی والی ہے ہی نہیں بلکہ بات تو خوشی والی ہے جسے سوچ سوچ کر میں پریشان ہورہا ہوں۔‘‘

’’کیا مطلب ایسی کون سی خوشی کی بات ہے جس پر تم خوش ہونے کے بجائے پریشان ہورہے ہو؟‘‘

’’دراصل اماں… میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ غزنیٰ نے بہت سوچ سمجھ کر یہ الفاظ ادا کیے۔

’’ہاں تو بھئی شادی کرنے کی طرف پہلا قدم اٹھاتے ہوئے ہی تو تمہاری اجیہ کے ساتھ منگنی کی ہے ناں۔‘‘ اماں بے ساختہ ہنسیں تھیں اور ہنستے ہنستے انہوں نے سامنے بیٹھے غزنیٰ کے سر پر چپت بھی لگا دی تھی مگر وہ سنجیدہ رہا۔

’’نہیں اماں، ایک ایک قدم چلتے تو بہت دیر ہوجائے گی میں بس ایک جست میں ہی اپنی زندگی کو ایک نئے ڈھب سے شروع کرنا چاہتا ہوں۔‘‘

’’اتنی جلد بازی کس بات کی ہے؟‘‘ وہ بھی سنجیدہ ہوگئیں۔

’’بس اماں میں جلد از جلد اجیہ سے شادی کرکے اسے اس گھر میں لانا چاہتا ہوں پتا نہیں میری زندگی کتنی ہے بس اب میں ہر پل اجیہ کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں۔‘‘ اماں کے ساتھ بڑی بے تکلفی سے بات کرتے ہوئے انہیں ذرا جذباتی کرنے کی بھی کوشش کی تھی لیکن اب کی بار انہوں نے غصے سے اس کی کمر پر دھموکا جڑ دیا۔

’’دماغ ٹھیک ہے تمہارا، میرا پتا ہے تمہیں کہ میں نے کب مرنا ہے نہیں ناں، حالانکہ اتنی عمر جی چکی ہوں میں لیکن پھر بھی کبھی ایسی بات نہیں کی اور تم ابھی اس عمر میں ہی مجھے زندگی کے بے اعتبار ہونے کی اطلاع دے رہے ہو میں جو ہر نماز میں چلتے پھر ہر وقت تمہاری درازی عمر کی دعا کرتی ہوں کیسے آسانی سے تم نے کہہ دیا کہ پتا نہیںکتنی زندگی ہے میری۔ جانتے ہو تمہاری اس بات سے کیسے اس وقت میری دھڑکن تھم گئی تھی کیا اس طرح بات کیے بغیر تم بات نہیں کرسکتے۔‘‘ اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کے منہ سے نکلا ہوا ایک چھوٹا سا جملہ انہیں اس قدر ہرٹ کردے گا کہ وہ اتنی پریشان نظر آئیں گی اور پھر اس نے تو صرف مذاق میں کہا تھا لیکن وہ آخر ماں تھیں اور ماں کے دل کو کون سمجھاتا آخر۔ وہ پچھتاوے کا شکار تھا اور شرمندہ بھی۔

’’سوری اماں میں نے تو مذاق کیا تھا آج کے بعد کبھی میرے منہ سے ایسی بات سنی تو جو چور کی سزا وہ میری۔‘‘ اس نے سر جھکا کر اپنے کان پکڑ لیے تھے تب اماں کو اس پر بہت پیار آیا تھا۔

’’باقی باتیں تو چلو ٹھیک لیکن شادی کی اتنی جلدی… پوچھ سکتی ہوں کیوں؟‘‘

’’ارے اماں، نہیں بتا سکتا ناں آپ کو پتا ہونا چاہیے ناں اماں کہ ہوتی ہیں کچھ باتیں جو میں آپ کے سامنے بھی نہیں کہہ سکتا۔‘‘ اس نے شرمانے کی اداکاری کی تو اماں کے اپنے رخسار سرخ ہوگئے لاکھ پچھتائیں کہ بھلا یہ کوئی پوچھنے کی بات تھی جو انہوں نے جوان بیٹے سے اتنا فضول سوال کیا۔

’’نہیں بیٹا میرا مطلب تو یہ تھا کہ ابھی منگنی کو دو دن نہیں گزرے اور شادی کا سوچ بھی لیا دراصل اگر پہلے ارادہ ہوتا کہ اتنی جلدی شادی کرنی ہے تو ہم منگنی پر ہی ان سے بات کر آتے۔‘‘ اماں نے اپنی بات سنبھالی۔

’’تو کوئی بات نہیں اماں… آپ اور ابا پھر چلے جائیں اور بلکہ جا کر تاریخ لے آئیں شادی کی۔‘‘

’’بیٹا یہ کوئی گڑیا گڈے کی شادی نہیں ہے کہ بیٹھے بٹھائے دل چاہا تو شادی کرلی بلکہ سچ پوچھو تو گڑیا گڈے کی شادی بھی یوں نہیں ہوتی اور پھر یہ تو ہمارے گھر کے اکلوتے بیٹے اور ان کی بڑی بیٹی کی شادی ہے لاکھ انتظامات کرنے ہوتے ہیں پھر رسم و رواج بھی اگر ہم بہت جلدی بھی کرنا چاہیں تو میرا خیال ہے چھ ماہ سال تو لگ ہی جائے گا تب تک اجیہ کی یونیورسٹی کی کلاسز بھی ختم ہو جائیں گی اب کہاں شادی کے فوراً بعد کلاسز لینے جائے گی۔‘‘ انہوں نے بڑی تفصیل سے غزنیٰ کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ سمجھنا نہیں چاہتا تھا لہٰذا بات کو دوبارہ وہیں سے شروع کردیا۔

’’آپ کی سب باتیں ٹھیک ہے اماں لیکن چٹ منگنی پٹ بیاہ والی مثالیں بھی تو ہمارے سامنے ہیں اور پھر زیادہ دور کیوں جائیں یہ ہمارے ہی محلے میں صفیہ خالہ نے بیٹے کی منگنی کی اور پانچویں دن بہو بھی گھر لے آئیں۔‘‘ وہ اپنی بات پر مصر تھا۔

’’اور رہ گئے رسم و رواج دھوم دھڑکا اور ہلہ گلا تو کیا ضرورت ہے ان کاموں کی بس رشتہ داروں کو دعوت دیں اور سادگی سے نکاح کرکے گھر لے آئیں۔‘‘ اس نے فوراً حل پیش کیا۔

’’لیکن تمہیں تو خود بہت شوق ہے اس طرح کی رسمیں کرنے کا آج سے پہلے تو ہمیشہ تم یہی کہا کرتے تھے ناں کہ اپنی مہندی پر خوب دھوم دھڑکا کرو گے اور اپنے ابا سے تم نے کہا تھا کہ میری بارات پر آپ نے خاص فوجی بینڈ منگوانا ہے یہ اور اس طرح کے کتنے پروگرام بنائے تھے پھر اب اچانک تم نے سارے ارادے کیوں توڑ دیے۔‘‘

’’ہاں تھا تو سہی یہ سارا پروگرام… لیکن…‘‘ اماں کی بات پر وہ گڑ بڑا گیا تھا۔ 

’’لیکن؟‘‘ اماں اس کے جواب کی منتظر تھیں۔

’’لیکن دراصل اب میں پہلے کے مقابلے میں میچور ہوں اور میرا خیال ہے تھوڑا بہت سمجھدار بھی ہوگیا ہوں اور اب میرا یہ سوچنا ہے کہ جتنے پیسے میں اپنی شادی میں ضائع کروں گا تو کیا یہ بہتر نہیں کہ سادگی سے اسلامی طرز پر شادی کروں اور وہ پیسے کسی غریب کو دے دوں جس کی بیٹی صرف جہیز کے لیے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے اب تک باپ کی دہلیز پر بیٹھی ہے۔‘‘ غزنی نے اماں کو مطمئن کرنے کے لیے ایک ایسی توجیہ پیش کی تھی جس سے وہ انکار تو کیا کرتیں البتہ حیران ضرور رہ گئی تھیں۔

’’مجھے تو یقین نہیں آرہا کہ یہ تم کہہ رہے ہو۔‘‘ ان کے لہجے میں حیرت ضرور تھی مگر چہرے کے تاثرات ظاہر کرتے تھے کہ انہیں غزنیٰ کی سوچ پر فخر ہے۔

’’اور واقعی مجھے تو پتا بھی نہیں چلا کہ میرا بیٹا کب ماشاء اللہ اتنا بڑا ہوا کہ اتنی سمجھداری کی باتیں کرنے لگا اور اتنا حساس دل کہ دوسروں کے لیے بھی فکرمند اللہ تمہیں ہر بری نظر سے بچائے‘ آمین۔‘‘ فرط جذبات سے انہوں نے دونوں ہاتھوں میں اس کا چہرہ لے کر اس کی پیشانی چوم لی تھی۔ ’’تمہارے ابا آجائیں تو میں آج ہی ان سے بات کرکے دیکھتی ہوں کہ وہ اس معاملے میں کیا کہتے ہیں اور جہاں تک میری رائے کی بات ہے تو وہ تم جانتے ہی ہوں کہ میں تو چاہتی ہوں کہ اگر کل شادی ہونی ہے تو ابھی ہوجائے اس طرح میرے بیٹے کو تو خوشی ملے گی ہی لیکن خود مجھے بھی سارے دن لیے اس کا ساتھ مل جائے گا۔‘‘ اماں بہت خوش تھیں۔

اجیہ کو اس گھر میں بہو کی صورت میں دیکھنا تو خود ان کی بھی دیرینہ خواہش تھی اور جب یہی خواہش انہوں نے عزنی کے منہ سے بھی سنی تو خوشی سے جھوم گئی تھیں اور اسی وقت انہوں نے شکرانے کے نوافل ادا کیے تھے کیونکہ شادی زندگی کا ایک اہم ترین فیصلہ ہوتا ہے اور اسی فیصلے پر آنے والی زندگی کے جنت اور جہنم بننے کا دار و مدار ہوتا ہے اور خوش قسمتی اسی زندگی میں داخل ہوتی ہے جہاں شادی بیاہ کے معاملات میں والدین اور اولاد دونوں خوش ہوں رضامند ہوں اور اپنے کیے جانے والے فیصلے پر دل سے مطمئن بھی ہوں۔

کیونکہ شادی شدہ زندگی کا جو سفر والدین کی دعائوں کے بغیر شروع ہوتا ہے اس کے ہر موڑ پر کئی مشکلات منتظر رہتی ہیں اور ان کے حل کے لیے والدین کا مشورہ ان کا ساتھ اور سب سے بڑھ کر ان کی دعائیں ساتھ نہ ہوں تو اس سے بڑھ کر بدقسمتی بھلا اور کیا ہوگی۔

ؤ …/…ؤ

’’بوا کیا آپ بھی وہی سوچ رہی ہیں جو میں سوچ رہی ہوں۔‘‘ اربش اپنے کمرے میں ڈریس چینج کرنے گیا تو ممی نے چائے لاتی بوا کو مخاطب کیا۔ میز پر اپنا اور ممی کا کپ رکھ کر وہ ان کے قریب ہی بیٹھ گئی تھیں۔

’’اگر تم شرمین کی بات کررہی ہو تو ہاں یہ سچ ہے کہ چائے لانے کے ساتھ ساتھ اس کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی۔‘‘

’’اگر ہم اربش کے لیے اس کا رشتہ مانگ لیں تو آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہوگی؟‘‘

’’بھئی سچ پوچھو تو مجھے تو شرمین بہت پسند آئی ہے بااخلاق اور ملنسار تو ہے ہی لیکن ساتھ ہی سلیقہ مند اور سگھڑ بھی ہے جس طرح آج اتنے سارے لوگوں کا کھانا بغیر کسی بوکھلاہٹ یا بدنظمی کے اس نے پکایا پھر سب کو کھلایا بھی واقعی ایک بہترین کردار کی عکاسی کرتا ہے یہ سب… ورنہ تم خود دیکھو فی زمانہ کہاں ایسی لڑکیاں ملتی ہیں۔‘‘ بوا نے بغیر کسی لگی لپٹی کے اپنا تجزیہ پیش کیا۔

’’نہ غرور‘ نہ نخرہ اور پھر بڑوں کا ادب کیسے کرتی ہے جیسے خون کا رشتہ ہو۔‘‘

’’بات تو آپ کی ٹھیک ہے لیکن بعض اوقات تعلق رشتوں سے آگے نکل جاتے ہیں ناں اور پھر مجھے جو بات سب سے اچھی لگی کہ اس کی اپنی بھابی اس کے بہترین اخلاق اور رویے کی تعریف کررہی تھی ورنہ یہی رشتہ سب سے زیادہ خرابیاں پیدا کرتا ہے کبھی کبھی۔‘‘ ممی ہنسیں اسی دوران ٹرائوزر اور ٹی شرٹ پہنے اربش بھی ان کے ساتھ شامل گفتگو ہوا، اس کے ہاتھ میں موبائل تھا اور وقتاً فوقتاً اس کی نظر فون کی اسکرین پر پڑتی تھی کہ ہوسکتا ہے اجیہ اس کی فون کالز کو دیکھ کر جوابی فون کرے۔

’’کون اور کس کے لیے خرابیاں کررہا ہے۔‘‘

’’بس یونہی اِدھر اُدھر کے لوگوں کی باتیں کررہے تھے۔‘‘ بوا نے مسکرا کر کہا اور ممی کو بات کرنے کا اشارہ دیا لیکن ان سے پہلے اربش بولنے لگا۔

’’ممی مجھے آپ سے ایک بات کرنا تھی۔‘‘

’’ارے واہ بھئی اتفاق ہے کہ میں نے بھی تم سے ایک ضروری بات کرنا تھی۔‘‘ ممی نے چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے کہا۔

’’جی کہیے ممی آپ مجھ سے کون سی بات کرنا چاہ رہی تھیں۔‘‘

’’میری بات تو شاید طویل ہوجائے اس لیے بہتر ہے کہ تم کہو، کیا کہنا چاہتے ہو؟‘‘

’’وہ ممی دراصل میں آپ سے اپنے بارے میں بات کرنا چاہتا تھا۔‘‘

’’ہاں… ہاں تم بات کرو بیٹا میں اور تمہاری بوا دونوں سن رہے ہیں تم مکمل اعتماد کے ساتھ بولو۔‘‘

’’میں اپنی یونیورسٹی فیلو اجیہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں یہ تو آپ کو پتا ہی ہے ناں لیکن اتفاق سے اس دن ہم ان کے گھر نہیں جاسکے تھے اب مسئلہ یہ ہے کہ اس کے ابا نے اس کی منگنی اس کے تایا زاد سے کردی ہے۔‘‘

’’لیکن اب تو اس کی منگنی ہوچکی ناں بیٹا اب کیا ہوسکتا ہے۔‘‘ ممی نے فی الحال اسے کول ڈائون کرنے کا سوچتے ہوئے بات کی۔

’’بہت کچھ ہوسکتا ہے ممی کیونکہ وہ بھی اس رشتے پر خوش نہیں ہے وہ شادی نہیں کرنا چاہتی اس کے ساتھ۔‘‘

’’تو بیٹا یہ سب تو اسے منگنی کی انگوٹھی پہننے سے پہلے سوچنا چاہے تھا ناں، اب تو ظاہر ہے کہ اسے اسی کے ساتھ شادی کرنی پڑے گی جس کے ساتھ اس کی منگنی ہوئی ہے۔‘‘

’’لیکن منگنی ٹوٹ بھی تو سکتی ہے ناں میں اسی وجہ سے کچھ الجھا ہوا بھی ہوں اور آپ دونوں سے یہ مسئلہ سلجھانے کے لیے مشورہ چاہتا ہوں۔‘‘ اربش نے ہمیشہ کی طرح اپنی پرابلم ان دنوں خواتین کے سامنے رکھ دی تھی تاکہ وہ دونوں اسے بہترین حل بتا کر ایک اچھا اور قابل عمل مشورہ دیں اور یہی اس کی بچپن سے عادت تھی۔

ممی اور بوا نے ایک دوسرے کو دیکھا، ممی نے آنکھ کے اشارے سے بوا کو بولنے کا کہا لیکن انہوں نے نفی میں گردن ہلا کر خاموشی اختیار کی کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ اس معاملے پر ان کے منہ سے کچھ ایسی بات نکلے جو اربش یا ممی کو بری لگے یا ان کے درمیان شکایت کا باعث بنے۔

’’تم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اس دن اگر ہم ان کے گھر نہیں گئے اور اس کی منگنی ہوگئی تو اس میں ضرور ہمارے لیے کوئی بہتری ہوگی۔‘‘

’’بہتری؟‘‘ وہ حیران ہوا کہ بھلا اس میں کیا بہتری بلکہ اس دن وہاں جانے سے صرف نقصان ہی نقصان تو ہوا تھا۔

’’ہاں بیٹا بہتری… ٹھنڈے دماغ سے سوچو، اسی دن ہماری ملاقات حادثاتی طور پر ہی سہی لیکن شرمین اور اس کے گھر والوں سے ہوگئی اور سچ پوچھو تو شرمین میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو میں اپنے ہونے والی بہو میں دیکھنا چاہتی ہوں۔‘‘ ممی کی بات پر اربش بری طرح چونکا۔

’’لیکن ممی یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟‘‘ وہ انتہائی حیران ہوا تھا کہ باوجود اس کے کہ ممی جانتی ہیں کہ وہ اجیہ کو پسند کرتا ہے پھر بھی وہ اجیہ کے بجائے شرمین کو بہو بنانے کا سوچ رہی ہیں۔

’’میں ٹھیک کہہ رہی ہوں بیٹا اجیہ کو اگر تم پسند کررہے ہو تو وہ شاید کل کو تمہارا جذباتی پن ثابت ہو، لیکن شرمین حقیقتاً بہت اچھی اور محبت کرنے والی لڑکی ہے جو تمہیں بہت خوش رکھے گی۔‘‘

’’لیکن کیسے خوش رکھے گی مجھے جبکہ میری خوشی صرف اور صرف اجیہ کے ساتھ رہنے میں ہے۔‘‘ وہ ممی سے اس طرح کی بات سننے کی ہرگز توقع نہیں کررہا تھا اس لیے ان کے جواب اسے مزید پریشانی کی طرف دھکیل رہے تھے۔

’’لیکن اجیہ کی منگنی ہوچکی ہے ابھی تم نے خود مجھے بتایا ہے ناں۔‘‘

’’لیکن منگنی ٹوٹ بھی تو سکتی ہے یہ بات بھی تو میں نے ہی کہی ہے ناں۔‘‘

’’اگر اس لڑکی میں منگنی توڑنے کی جرأت ہوتی تو بھلا وہ پہلے زبردستی منگنی کرتی؟‘‘

’’ممی، وہ سب اچانک ہوا تھا اور پھر اس کے بابا نے اس کے سامنے درخواست کرکے زبردستی اپنی بات منوائی آپ پلیز میری بات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔‘‘ اربش ممی کے سوالات کے سامنے خود کو بے بس محسوس کررہا تھا اور خود اس کے لیے بھی یہ سب کچھ غیر متوقع ہی تو تھا کیونکہ اس نے بھلا کب سوچا تھا کہ ممی اس سے اجیہ کے معاملے میں اتنے سوال کریں گی وہ تو یہ ہی سمجھا تھا کہ وہ کہے گا کہ میں اجیہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں اور ممی بوا کو ساتھ لے کر فوراً سے پہلے اجیہ کے گھر پہنچ جائیں گی اس کی خوشی حاصل کرنے کی خاطر اجیہ کے والدین کی منت سماجت کریں گی اجیہ کو ہر ممکن سکھ اور خوشیاں فراہم کیے جانے کی گارنٹی دیں گی اور بالآخر ان سے ہاں کروا کر ہی اٹھیں گی۔ لیکن یہاں تو پہلا قدم ہی اس قدر مشکل اور پیچیدہ ہوگیا تھا کہ اسے منزل کی طرف پہلا فاصلہ کئی گنا بڑھتا ہوا محسوس ہوا۔

’’میں تمہاری بات مکمل طور پر سمجھ چکی ہوں اربش بیٹا لیکن مجھے ایک بات یہ سمجھ نہیں آرہی کہ اگر تب اس کے بابا نے زبردستی منگنی کرائی تھی تو کیا تمہارا خیال ہے کہ تمہارے جانے پر وہ فوراً منگنی توڑ کر تمہارے گلے میں پھولوں کے ہار پہنا دیں گئے اور یقین کرو کہ اگر تم ایسا سوچ رہے ہو تو انتہائی غلط ہے۔‘‘

’’ممی غلط ہے یا صحیح لیکن میں نے کرنا یہی کچھ ہے۔‘‘ اس نے سر جھکا لیا تھا پھر ایک دم بوا کی طرف متوجہ ہوا جو خاموشی سے دونوں کا مکالمہ سن رہی تھیں اور ان کا آج نہیں بلکہ شروع سے ہی یہ طریقہ کار تھا کہ ماں اور بیٹے کے معاملات میں کبھی کوئی بھی بات یا کسی بھی قسم کا مشورہ دینے کی عادت نہیں رکھتی تھیں اور یہ عقل مندی کی علامت بھی ہے۔

’’بوا اجیہ سے بہتر لڑکی اور کوئی بھی نہیں ہے۔‘‘ اور اس سے پہلے کہ بوا کچھ کہتیں ممی فوراً بولیں۔

’’صرف اجیہ ہی نہیں ہے اس دنیا میں شرمین ہر لحاظ سے اس سے بہتر ہے اور میں تم سے اسی معاملے میں بات بھی کرنا چاہتی تھی۔‘‘ ممی کی بات پر اربش نے چونک کر انہیں دیکھا۔ اس کے انداز میں شکایت بھی تھی اور بے یقینی بھی۔

’’دیکھو بیٹا تم اس وقت جذباتی ہورہے ہو، ٹھنڈے دماغ سے سوچو گے تو مجھے یقین ہے کہ تم بھی میری تائید کرو گے۔‘‘

’’ممی یہ آپ کیسے کہہ سکتی ہیں۔‘‘

’’میں نے اجیہ کو دیکھا تو نہیں لیکن پھر بھی مجھے یقین ہے کہ وہ شرمین سے بڑھ کر خوب صورت نہیں ہوگی اور پھر سب سے بہترین بات کہ بڑے سکون سے تمام معاملات طے پاجائیں گے جبکہ اجیہ کے معاملے میں ہزار پیچیدگیاں پہلے ہی نظر آرہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ میں نے تمہارے لیے شرمین کا انتخاب کرلیا ہے اور میری خواہش ہے کہ ہم کچھ ہی دنوں میں ان کے گھر جا کر باضابطہ رشتہ مانگ لیں اور تمہارے یونیورسٹی سے فارغ ہوتے ہی شادی بھی ہوجائے۔‘‘ انہوں نے بڑے پرسکون انداز میں اپنا فیصلہ سنایا لیکن اربش کا سرخ ہوتا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ ان کے اس فیصلے کی ہرگز تائید نہیں کرے گا۔

’’کیوں بوا کیسی لگی آپ کو شرمین، کیا میرا فیصلہ غلط ہے۔‘‘ ممی نے پوچھا۔

’’شرمین اچھی ہے اور اس میں تو کوئی دو رائے نہیں… پہننے اوڑھنے کا بھی سلیقہ ہے اور بات کرنے کا بھی بہترین ڈھنگ رکھتی ہے اور اربش بیٹا میرا خیال ہے کہ وہ تمہارے معیار پر بھی پوری اترے گی۔‘‘ بوا نے انتہائی محتاط الفاظ کا چنائو کرتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کیا۔

’’بوا یہ آپ کا خیال تو ہوسکتا ہے لیکن پلیز آپ دونوں میری بات کو بھی اہمیت دیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ میں اجیہ ہی کو پسند کرتا ہوں اور کوئی لڑکی کتنی ہی بہترین کیوں نہ ہو، لیکن وہ اجیہ کے مقابلے کی ہرگز نہیں ہوسکتی اور اسی لیے میری آپ سے بھی درخواست ہے ممی کہ شرمین کے گھر رشتہ لے کر جانے کا خیال دل سے نکال دیں اور پلیز اجیہ کے معاملے میں میری مدد کریں کیونکہ میں اسے کسی بھی قیمت پر کھونا نہیں چاہتا۔‘‘ اس کے چہرے پر لجاجت تھی اور روشن آنکھوں میں بے بسی۔

’’جس لڑکی کے لیے آج تم زندگی میں پہلی مرتبہ مجھ سے اختلاف کررہے ہو میرے مقابل اور متضاد بات کررہے ہو وہ ابھی تمہاری زندگی میں نہیں آئی تو یہ حال ہے اور اگر تم اس سے شادی کرلو گے پھر تو ویسے ہی تم اسی کے گن گایا کرو گے ناں؟‘‘ ممی نے سرد لہجے میں کہا۔

’’جو لڑکی شادی سے پہلے ہی ماں اور بیٹے کے تعلقات میں دراڑ ڈال رہی ہے تو وہ شادی کے بعد تو بالکل ہی الگ کردے گی ہمیں۔‘‘ ممی کو حیرت تھی کہ ہر بات میں جی ممی جی کہنے والا اربش آج زندگی کے اتنے بڑے اور اہم موقع پر فیصلہ کرتے ہوئے صرف اور صرف اجیہ کی خاطر انہیں کوئی اہمیت دینے پر تیار نہیں ہے۔ بغیر دیکھے ہی انہیں اجیہ سے نفرت ہونے لگی تھی۔

’’وہ ایسا کچھ بھی نہیں کرے گی ممی آپ غلط سوچ رہی ہیں وہ تو اتنی اچھی نیچر کی ہے کہ پہلی ملاقات میں ہی آپ اس کے گن گانے لگیں گی اس کی زندگی میں شروع سے ہی محبتوں کی کمی رہی ہے اس لیے وہ اپنی اس کمی کو آپ کے ساتھ پورا کرے گی۔‘‘

’’ہونہہ، ابھی نہ اجیہ گھر میں آئی نہ اس سے کوئی رشتہ جوڑا گیا لیکن اس سے پہلے ہی اس کی وجہ سے اربش نے مجھے میری سوچ کو غلط کہنا شروع کردیا تو اس کے آنے کے بعد کیا ہوگا۔‘‘ ممی نے اربش کے چہرے پر اجیہ کا نام لیتے ہی بکھرنے والی روشنی محسوس کرتے ہوئے سوچا۔

’’ممی پلیز مان جائیں، آپ نے آج تک ہر چیز میں میری پسند کا خیال رکھا جو میں نے چاہا وہ لاکر دیا ہر خواہش پوری کی پلیز میری زندگی اس سب سے بڑی خواہش کو پورا کرنے میں میری مدد کردیں مجھے آپ کا ساتھ چاہیے اور آپ کی ہیلپ بھی۔‘‘ بے قراری سے اس نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرے وہ حقیقتاً بہت بے چین لگ رہا تھا۔

’’ہر چیز میں تمہاری پسند کا خیال رکھا جو تم نے چاہا وہ لا کر دیا ہر خواہش پوری کی تو اب باری تمہاری ہے ناں اربش کہ تم میری پسند کا خیال رکھو۔‘‘ ممی نے کہا تو وہ تڑپ ہی گیا۔

یہ آخر کیا کررہی ہیں ممی اور کیوں کررہی ہیں ایسا وہ بھی اس وقت جب اسے ان کے ساتھ کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔

’’اجیہ تمہاری خواہش ہے اور شرمین میری اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے کہ تم میری خواہش پر اپنی ذات کو ترجیح دیتے ہو یا پھر میری پسند پر سر جھکا لیتے ہو۔‘‘ ممی نے اسے جیسے ہَوا میں ہی معلق کردیا تھا اور وہ کنفیوژ تھا سمجھ ہی نہیں پارہا تھا کہ ایسا کون سا سرا تھا جس سے یہ ذات کی بے یقینی ختم ہوسکے۔

بوا ان دونوں کے درمیان بولنا نہیں چاہتی تھیں ورنہ وہ یہ بات ممی کو سمجھانے کے لیے بے چین ہیں کہ اس عمر میں اولاد کو اتنی بڑی آزمائش سے نہیں گزارنا چاہیے کبھی بھی اپنے اور کسی دوسرے کے درمیان مقابلہ کرکے یہ نہ کہو کہ یا مجھے رکھو یا اسے کیونکہ یہ عمر جذبات کی حکمرانی کی ہوتی ہے اور جب والدین شفقت اور محبت میں کسی ایک کا چنائو کرنے کو کہیں تو اکثر اوقات جیت محبت کی ہی ہوتی ہے۔

اور وہی ہوا بھی۔

’’میں اجیہ کو نہیں چھوڑ سکتا ممی اور خاص طور پر اس صورت میں جبکہ وہ کشیدہ حالات میں زندگی گزارتی آئی ہے اور اپنے والد کی پسند سے شادی کرنے کے بعد آئندہ بھی اسے ویسے ہی حالات کا سامنا رہے گا اس لیے میں اسے ہر قیمت پر ایک بہترین زندگی دینا چاہتا ہوں۔‘‘ اربش نے سر جھکا دیا۔

’’اور میں…؟‘‘ ممی نے خلاف توقع اس کا جواب سنا تو بکھر سی گئی تھیں وہ فوراً اپنی جگہ سے اٹھا اور ان کے قریب آبیٹھا۔

’’آپ کو ناراض کرنے کا تصور تو میرے لیے موت جیسا ہے… آپ نے ہمیشہ میری خوشی چاہی ہے اور مجھے یقین ہے کہ آپ میری بات مان لیں گی اور ناراض تو میں آپ کو ہونے نہیں دوں گا چاہے مجھے کچھ بھی کرنا پڑے۔‘‘ وہ اجیہ کو بھی پانا چاہتا تھا اور ممی کو بھی کھونے کا تصور نہیں کرسکتا تھا اس لیے کوشش تھی کہ دونوں کو ساتھ لے کر چلے اور پھر اس کا خیال تھا کہ اجیہ کے لیے اس کے پاس صرف یہی ایک ہی موقع تھا جسے ضائع کردینے کی صورت میں وہ دوبار کبھی اجیہ کو نہ پاسکتا جبکہ ممی کے بارے میں اس کا یقین تھا کہ اول تو وہ اس سے کبھی بھی ناراض ہوں گی نہیں اور بالفرض اگر اجیہ کے معاملے میں وہ اس سے ناراض ہوتی بھی ہیں تو اسے ان کو منانے کے ہزار ڈھنگ آتے تھے بس یہی بات تھی کہ وہ اجیہ کے بارے میں اسٹینڈ لے کر مطمئن تھا۔

ممی نے جواب میں کچھ بھی نہیں کہا بلکہ خاموشی سے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چلی گئی تھیں اجیہ کے حوالے سے زندگی میں اب تک جو کچھ ہورہا ہے سب کچھ بغیر کسی منصوبہ بندی اور اچانک ہی ہوتا جارہا ہے زندگی میں ٹھہرائو اور سکون کب آئے گا آخر؟ اربش نے سوچا اور صوفے کی ٹیک سے سر لگا کر آنکھیں بند کرلیں۔ تصورات میں اجیہ اور ممی کا چہرہ گڈمڈ ہونے لگا تو جھنجلا کر آنکھیں کھولیں اور ممی کے بیڈ روم کی طرف چلا آیا جہاں اسے ہر قیمت پر انہیں خوش کرنا اور منانا تھا۔

ؤ …/…ؤ

شام کے اجالوں پر

اپنے نرم ہاتھوں سے

کوئی بات اچھی سی

کوئی بات اچھی سی

کوئی خواب سچا سا

کوئی بولتی خوش بو

کوئی سوچتا لمحہ

جب بھی لکھنا چاہو گے

سوچ کے دریچوں سے

یاد کے حوالوں سے

میرا نام چھپ چھپ کر

تم کو یاد آئے گا

ہاتھ کانپ جائیں گے

شام ٹھہر جائے گی

’’اجیہ ایک بات پوچھوں؟‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کی طرف کروٹ لے کر لیٹی ہوئی تھیں حنین نے دائیں کہنی کے سہارے ہاتھ کا پیالہ بنایا اور اس پر ٹھوڑی ٹکا کر بولی۔

’’ایسی کون سی بات ہے جسے پوچھنے کے لیے تمہیں پہلے اجازت لینی پڑی۔‘‘ وہ ابھی امی کے ساتھ کچن میں کام کروا کر آئی تھی انہوں نے ہی اجیہ کو بتایا تھا کہ وہ حنین کو تمام حقیقت بتاچکی ہیں۔

’’یہ اربش کون ہے؟‘‘ مزید کسی بھی تمہید کے بجائے اس نے براہ راست سوال کرکے اجیہ کو حیران کردیا تھا کیونکہ امی کی بتائی گئی تفصیل میں اربش کا کہیں بھی ذکر نہیں تھا اور نہ ہی حنین نے ان کو اربش کے بارے میں کچھ بھی بتایا تھا۔

’’اربش میرا کلاس فیلو تو نہیں لیکن میری یونیورسٹی میں ہی پڑھتا ہے لیکن تم کیوں پوچھ رہی ہو؟‘‘ اور پھر حنین نے اربش کی کی گئی فون کال کے بارے میں من و عن تمام تفصیلات بتائیں تو اجیہ کے دل نے بھرپور طریقے سے اربش کو سراہا جس کی وجہ سے حنین کی غلط فہمی دور ہوئی اور جس کی وجہ سے اسے اپنی بہن دوبارہ ملی۔

’’کیا تم واقعی اربش سے شادی کرنا چاہتی ہو اجیہ؟‘‘ حنین تصدیق چاہی تھی۔

’’ہاں میں اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ اجیہ نے اپنے لفظوں کو محتاط طریقے سے ادا کرتے ہوئے جواب دیا بغیر کسی ہیر پھیر کے اسی کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے۔

’’میں اس معاملے میں تمہاری ہر طرح سے مدد کرنے کو تیار ہوں لیکن… لیکن اب جبکہ تمہاری منگنی غزنی کے ساتھ ہوچکی ہے تو یہ سب کیسے ممکن ہوسکے گا یہ سوچا ہے تم دونوں نے؟‘‘

’’یہی بات تو سمجھ نہیں آرہی ناں کہ آخر یہ سب کیسے ممکن ہوسکے گا۔‘‘

’’ایک ہی صورت ہے۔‘‘ حنین اب اٹھ بیٹھی۔

’’کون سی؟‘‘ اجیہ کے جواب میں بات کرنے کے بجائے حنین اپنے بیڈ سے اٹھ کر اس کے بیڈ پر آگئی اور اب وہ دونوں بیٹھی ہوئی تھیں۔

’’میرا جہاں تک دماغ کام کرتا ہے تو وہ یہی ہے کہ کسی طریقے سے غزنیٰ خود اس شادی سے انکار کردے اور اگر اسے یہ پتا چل جائے کہ تم اس سے شادی نہیں کرنا چاہتیں پھر تو وہ ویسے ہی غصے میں آکر منگنی توڑ دے گا۔‘‘ حنین نے اپنے تئیں پہلا اور آخری حل بتایا۔

’’میں اسے کہہ چکی ہوں یہ سب اب دیکھو وہ منگنی توڑنے کب آتا ہے۔‘‘ اجیہ نے آج کی تمام سچویشن تفصیل سے بتانے کے بعد کہا وہ یہ بھی جانتی تھی کہ جس بچکانہ انداز میں اس نے یہ بات کی تھی یہ بات اس قدر ہلکی نہیں تھی اور پھر منگنی توڑنا بہت بڑی بات تھی اور پھر ان حالات میں جبکہ غزنیٰ اسے چاہتا بھی ہو۔

’’مطلب کیا تم اسے یہ بات آج بتا چکی ہو؟‘‘ حنین اس کی ہمت پر حیران تھی اجیہ نے سر ہلایا اسی وقت سکندر صاحب گھر میں داخل ہونے کی آواز سنائی دی حنین کو معلوم تھا کہ آتے ہی ان کی آنکھیں اسے تلاش کریں گی اس لیے کمرے سے نکل کر ان کی طرف پہنچی یہ ان کی شروع سے عادت تھی کہ گھر آتے سب سے پہلے حنین کو دیکھنا چاہتے کبھی نظر نہ آتی تو ایک ایک کمرہ جھانکتے امی سے پوچھتے اور جب تک وہ ان کے سامنے نہ آجاتی وہ بے چین رہتے اور یہاں سے وہاں بولائے بولائے پھرا کرتے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے آنے کے وقت حنین گھر کے کسی بھی کونے میں ہوتی نکل کر ان کے سامنے آجاتی اور انہیں سکون سا مل جاتا وہ اگر حنین کو اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک کہتے تھے تو وہ کچھ بے جا نہ تھا۔

حنین کے کمرے سے نکلتے ہی اجیہ کے فون کی بیل بجی اس وقت سکندر صاحب لائونج میں ہی موجود تھے اجیہ نے دیکھا کہ غزنیٰ کی کال آرہی تھی اور وہ جانتی تھی کہ وہ اس وقت غصے سے بپھرا ہوا ہوگا اور یقینا گھر میں اجیہ کی آج کی گئی بات چیت کے بارے میں مطلع کرچکا ہوگا لہٰذا اس نے کال اٹینڈ کی امید تھی کہ شاید حسب توقع بات سننے کو ملے لیکن ایسا نہ ہوا۔

’’سوری اجیہ میں شرمندہ ہوں کہ تم سے اس طرح بی ہیو کیا۔‘‘ غزنیٰ جس طرح شرمندگی سے بات کررہا تھا وہ انداز اجیہ کے لیے انتہائی حیران کن تھا بجائے اس کے کہ وہ اجیہ پر غصہ ہوتا باتیں سناتا وہ تو خود اس سے معافیاں مانگ رہا تھا اور شرمندہ تھا تو بھلا کس بات پر حالانکہ منگنی سے انکار تو اجیہ کی طرف تھا۔

’’دراصل تمہاری بات سن کر مجھے بہت حیرت ہوئی میں نے سوچا بھی نہیں کہ کبھی کبھار بندہ کسی پریشانی یا ذہنی دبائو کے باعث بھی اس طرح کی بات کر ہی دیتا ہے لیکن اس کا یہ تو مطلب نہیں کہ ہر وقت کہی گئی ہر بات سچ ہی ہو۔‘‘ یعنی وہ بات جس کے ردعمل تک کے بارے میں اس کا دماغ سوچ چکا تھا وہ بات اس کے لیے ایک معمولی سی بات تھی جس کا اس پر قطعی طور پر کوئی بھی اثر نہیں ہوا تھا۔

’’لیکن میں نے جو کچھ بھی کہا تھا وہ سو فیصد سچ تھا جو میں نے باقاعدہ ہوش و حواس میں بولا تھا اس لیے بہتر یہی ہوگا کہ تم اس رشتے سے انکار کردو۔‘‘ اجیہ نے بات اس قدر واضح کردی تھی کہ اب کسی بھی قسم کے گنجلک پیدا ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔

’’اور اگر میں اس رشتے سے انکار نہ کروں تو…‘‘ اس نے انتہائی سنجیدگی سے پوچھا۔

’’تو تم بہت بڑی غلطی کرو گے غزنیٰ، کیونکہ اس رشتے کے بعد ہم دونوں خوش نہیں رہ پائیں گے تم بات سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کررہے؟‘‘

’’میں دنیا کی ہر چیز چھوڑ سکتا ہوں اجیہ لیکن تمہیں نہیں تم سے دستبردار ہونا میرے لیے ایسے ہی ہے جیسے کوئی مائونٹ ایورسٹ کی چوٹی سے منہ کے بل نیچے زمین پر آگرے تو پھر تم خود سوچو کہ یہ کس مشکل قدر بات ہے منزل پر نہ پہنچنے کا غم اپنی جگہ اور خواب ٹوٹنے کا دکھ الگ۔‘‘

’’میں نے تم سے فلسفہ بگھارنے کا نہیں کہا۔‘‘

’’تو پھر میری طرف سے معذرت، کیونکہ اس رشتے سے مرتے دم تک بھی انکار نہیں کروں گا۔ بلکہ کل اماں اور ابا تمہارے گھر بھی آئیں گے تاکہ چچا جان کو جلدی شادی کردینے پر منایا جاسکے۔‘‘

’’جلدی شادی…!‘‘ وہ حیران تھی کہ کہاں وہ تو منگنی بھی توڑ رہی تھی اور کہاں یہ کہ غزنیٰ شادی کے بھی خواب دیکھ رہا تھا۔

’’اگر تم انکار نہیں کرسکتے تو اپنا مقدمہ بابا کے سامنے میں خود بخوبی لڑلوں گی۔‘‘ وہ درشت ہوگئی تھی اور اس کی ڈھٹائی پر حیران تھی۔ ’’میں خود ان کے سامنے جا کر اس زبردستی کے رشتے سے انکار کرتی ہوں۔‘‘ فون ہاتھ میں لیے اجیہ کا دل چاہا تھا کہ کاش وہ اسے اپنی بات سمجھا سکتی جسے شاید وہ سمجھ کر بھی سمجھنا نہیں چاہ رہا تھا۔

’’اگر چچا خود یہ رشتہ توڑیں تو تمہاری قسمت… ورنہ مجھ سے تم ایسی توقع کبھی بھی نہ رکھنا اور ویسے بھی یہ تو میں بہت پہلے سے نوٹ کررہا تھا کہ یونیورسٹی جا کر تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے اللہ جانے وہاں کس کس کے ساتھ اور کیا کیا کرتی رہتی ہو کہ پھر جاب کا بہانہ بنا کر رات رات بھر باہر، رہنے لگیں اور میں بھی کوئی بچہ نہیں ہوں کہ مجھے سمجھ نہ آئے کہ تم کس لیے اس حلال تعلق سے راہ فرار حاصل کرنے کی کوشش میں ہو اور میں جو تمہاری منتیں کرتا رہتا ہوں تمہارے پیچھے پیچھے آتا ہوں تو صرف اس لیے کہ محبت کرتا ہوں تم سے اور میں نہیں چاہتا کہ کسی کی بھی غلط نظریں تم پڑیں اور تمہیں نوکری کے لیے دربدر کے دھکے کھانے پڑیں۔‘‘ غزنیٰ بولنے پر آیا تو بولتا ہی چلا گیا۔

اس نے وہ سب بھی کہا تھا جو اسے نہیں کہنا چاہیے تھا اور اس کی باتوں نے اجیہ کو ایک مرتبہ پھر اتنا ہرٹ کیا تھا کہ اس نے یعنی کچھ کہے فون رکھ دیا۔

’’نہ کوئی وضاحت، نہ صفائی اور نہ ہی غصہ… وہ کیسی محبت کا دعویدار ہے جس میں اس قدر گھٹیا الزامات لگا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جائے کہ میں اتنا اعلیٰ ظرف ہوں کہ تم جیسی غلیظ حرکتوں والی کو اپنا رہا ہوں دیکھو میری محبت اور دیکھو مجھے کہ میں کتنا عظیم ہوں اور محبت کتنی سچی ہے جس نے کسی بھی بات کی پروا نہیں کی۔‘‘ اجیہ نے سوچا۔

غزنیٰ کے ساتھ زندگی گزارنے کے فیصلے کو تو وہ پہلے ہی تبدیل کرنے کا سوچ ہی چکی تھی لیکن اب اس نے یہ خیال ہی رد کردیا تھا کہ وہ کبھی بھی کسی قیمت پر اس سے منسوب ہوکر اپنا آپ اس کے حوالے کرے گی کیونکہ آئندہ زندگی میں اسے اپنا آپ اپنی ماں سے بڑھ کر نہیں لگ رہا تھا۔ غزنیٰ بھی سکندر صاحب کی طرح جو منہ میں آتا بول دیتا یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اس کی اتنی تلخ باتوں اور درشت لہجے کا سننے والے پر کیا اثر ہوگا اور یہ الفاظ کس طرح برچھی بن کر سامنے والے کی روح کو زخمی کرتے رہیں گے انہیں اس سب سے کبھی غرض نہ ہوئی۔ اور یہی حال غزنیٰ کا بھی تھا لیکن ہاں فرق اتنا تھا کہ غزنیٰ محبت کا دعویدار بنتا تھا جبکہ سکندر صاحب کبھی اس چیز کا دعویٰ نہیں کرتے تھے غزنیٰ سب کچھ کہہ سن کر پھر تھوڑی دیر بعد معافی تلافی کرنے لگتا اور بعض اوقات معافی کے ساتھ ہی دوبارہ کوئی لفظی خنجر پیوست کردیتا جبکہ سکندر صاحب کی ڈکشنری میں گھر والوں کے لیے معذرت کا کوئی لفظ موجود نہ تھا وہ جو کچھ کہتے جو کرتے اس پر مطمئن رہتے اور جن کو کہا کرتے انہیں اسی طرح کی باتوں کا مستحق سجھا کرتے۔

کچھ دیر غزنیٰ کے بے رحمانہ سوال اس کے ذہن میں گھومتے رہے اور وہ مزید دل گرفتہ ہوتی رہی لیکن پھر کچھ سوچ کر اٹھی وہ جانتی تھی کہ اگر غزنیٰ نے جلدی شادی کرنے کی بات کی تھی تو یہ ہوا میں نہیں کی ہوگی بلکہ وہ اس پر عمل بھی کرے گا اور اس سے پہلے کہ ایسا کچھ بھی ہوتا اسے سکندر صاحب کے سامنے اپنی تمام تر ہمت جمع کرکے بات کرنی ہی تھی۔

ؤ …/…ؤ

’’ہائے شرمین قسم سے مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا تھا میں جاگتے ہوئے اتنے عالیشان گھر میں چل پھر رہی ہوں ایمان سے دل تو چاہ رہا تھا کہ ایک ایک چیز کو ہاتھ لگا کر دیکھوں کہ کیا واقعی میں ان سب چیزوں کے درمیان ہوں۔‘‘ بھابی کی آنکھیں بات کرتے ہوئے حیرت سے پھیلی ہوئی تھیں۔

’’اور جس طرح تم وہاں سب کو ٹریٹ کررہی تھیں ناں، ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ گھر تمہارا اپنا ہے۔‘‘

’’بس بھابی آپ کے منہ میں گھی شکر اللہ کرے کہ وہ جلد ہی میرا گھر ہو۔‘‘ بھابی رات کے برتن دھو رہی تھیں شرمین ان کے پاس ہی کرسی پر بیٹھے ٹانگ ہلاتے ہوئے بولی۔

’’ہاں… ہاں کیوں نہیں وہ دونوں جس انداز سے تمہیں دیکھتی ہیں ناں تو قسم لے لو کہ وہ تمہیں اپنی بہو بنانا چاہیں گی ورنہ اتنا تو میں بھی سمجھتی ہوں کہ لوگ اس انداز سے کس کو اور کب دیکھتے ہیں۔‘‘

’’اگر آج بھائی مجھے لینے نہ آتے تو اربش نے ہی مجھے گھر بھی چھوڑنے آنا تھا۔‘‘ شرمین نے منہ بسور کر کہا تو برتنوں کو صابن لگاتی بھابی اپنے صابن لگے ہاتھوں سے اپنی جگہ پر ہی مکمل اس کی طرف گھوم گئی تھیں ان کی حیرت دیدنی تھیں۔

’’قسم سے…‘‘

’’ہاں ناں تو اور کیا اور میں تو سوچ رہی تھی بہانے سے اسے کسی ریسٹورنٹ میں چائے پلانے کا بھی کہوں گی تاکہ اس کے ساتھ کچھ وقت گزار پاتی لیکن بھائی نے آکر سارا کام بگاڑ دیا۔‘‘ بھائی کی بے وقت آمد پر وہ ابھی تک بدمزہ تھی۔

’’ہاں بالکل اور اگر وہ تمہیں چھوڑنے آتا تو میں بھی اسے زبردستی اندر بلا لیتی چلو ایک آدھ گھنٹہ بات چیت ہوجاتی۔‘‘ بھابی نے نل کھول کر برتن دھونا شروع کیے۔

’’ویسے بوا نے مجھے کہا تو تھا کہ وہ بہت جلد ہمارے گھر آئیں گی کہہ رہی تھیں کہ مجھ سے انہیں کوئی کام ہے؟‘‘ بھابی نے مسکراتے ہوئے کہا۔

’’اور ویسے بھی ان سے رابطہ تو رکھنا ہی ہے اب رات گزرنے دو تو میں ان کو صبح ہی فون کرکے قران خوانی کے بہترین انتظامات کی مبارک باد بھی دوں گی۔‘‘ بھابی نے قرآن خوانی کا ذکر کیا تو اسے اجیہ یاد آگئی، سفید سوٹ کے ساتھ سرخ دوپٹے میں سرخ رنگ کی بریسلیٹ پہنے وہ ہمیشہ کی طرح منفرد لگ رہی تھی البتہ جس طرح کال سینٹر میں بنا کسی میک اپ کے سادگی سے آتی تو اب اسکول ٹیچر بن کر بھی وہی انداز اپنا رکھا تھا۔

لیکن اب اتنا ضرور ہوا تھا کہ شرمین نے اسے اس گھر میں اپنے سے کم درجے پر دیکھ کر جو اطمینان اور خوشی محسوس کی تھی تو وہ احساس اب بھی اس کے رگ و پے کو مسرور کر گیا تھا اور اب انتظار تھا تو اس دن کا کہ جب اس گھر کے ساتھ ساتھ گھر والوں کو بھی اپنانے کا وقت آئے اس نے سوچ لیا تھا کہ ممی، اجیہ کو اسکول اسٹاف کے طور پر بلائیں یا نہ بلائیں لیکن شادی پر اجیہ کو ضرور بلائے گی اور اس دن کا اب اسے شدت سے انتظار تھا۔

ؤ …/…ؤ

سکندر صاحب نے جس طرح اجیہ کی منگنی کرائی تھی اس کے بعد کی تفصیلات معلوم ہونے پر حنین کے دل کو ٹھیس تو پہنچی تھی لیکن پھر سکندر صاحب کے لیے اس کے اپنے ہی دل نے کئی صفائیاں دے ڈالیں جن میں سب سے مضبوط دلیل یہ تھی کہ وہ اس کی غزنیٰ کے لیے اس قدر شدید محبت سے لاعلم تھے اگر ایسا ہوتا کہ وہ یہ سب کچھ جاننے کے بعد اجیہ کو منگنی پر مجبور کرتے تو یقینا نہیں قصور وار ٹھہرایا جاسکتا تھا لیکن یہ سب وہ بھلا جانتے بھی کیسے کہ امی کے ساتھ ان کا کوئی دوستانہ تعلق تو تھا نہیں کہ وہ ان سے یہ سب شیئر کرتیں اور پھر امی ہوں یا سکندر صاحب بلکہ خود اجیہ اور حنین بھی آخری وقت تک یہی سمجھتے رہے تھے کہ منگنی حنین کی ہونے والی ہے۔ لہٰذا حنین نے اس تمام معاملے میں انہیں بری الذمہ قرار دے کر اپنا دل صاف کرلیا اور اب پہلے ہی کی طرح کچھ دیر بیٹھ کر ان کے کندھے دبانے کے ساتھ اِدھر اُدھر کی باتیں کرتی رہی پھر ان کے ہاتھوں پر الرجی سے بچائو کی کریم لگانے لگی۔ اسی دوران اجیہ کمرے میں داخل ہوئی امی بھی اس سے کچھ دیر پہلے ہی کمرے میں آئی تھیں اور ہاتھ میں تسبیح لیے بیٹھی تھیں۔

’’السلام علیکم بابا۔‘‘ سکندر صاحب نے اجیہ کے آنے کا کوئی نوٹس لینے کے بجائے سرسری سا دیکھ کر پھر حنین کی طرف متوجہ ہوئے۔

’’بابا مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے۔‘‘ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے وہ ان کے بیڈ کے قریب پہنچ کر ایک کونے پر ٹک گئی تھی۔

’’ابھی تو سونے کا وقت ہے صبح دیکھیں گے۔‘‘ انہوں نے ٹالتے ہوئے سلیپرز اتارے، کریم لگاتی حنین کو ہاتھ کے اشارے سے بس کرنے کا کہہ کر پائوں بیڈ پر رکھ لیے۔

’’نہیں بابا یہ بات بہت ضروری ہے صبح میں اسکول اور آپ دکان پر چلے جائیں گے تو شاید بات نہ ہو پائے میں زیادہ دیر نہیں صرف دو منٹ میں اپنی بات مختصراً ختم کر دوں گی۔‘‘ اس نے حنین اور پھر بابا کو دیکھا جن کے چہرے پر لکھی بیزاری اور ناپسندیدگی اس کے لیے ہرگز نئی نہیں تھی اور ان کے یہی تاثرات تھے جن کے باعث اسے اپنا فیصلہ تبدیل کرتے وقت دکھ یا ملامت کا سامنا نہیں تھا۔

’’بولو اس وقت رات کو کیا مسئلہ ہوگیا ہے؟‘‘ کچھ دیر پہلے حنین کے ساتھ یہاں وہاں کی باتیں کرتے سکندر صاحب کے انداز میں اب اکتاہٹ تھی۔

’’بابا اس دن آپ کے کہنے پر میں نے… غزنیٰ کے ساتھ منگنی کرلی اس کی پہنائی ہوئی انگوٹھی قبول کی لیکن وہ سب اچانک تھا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ میں اور غزنیٰ انتہائی مختلف مزاج اور شخصیت کے مالک ہیں اور ہم دونوں ایک ساتھ نہیں چل پائیں گے۔‘‘ سوچ سمجھ کر لفظوں کا انتخاب کرتے ہوئے اس نے مٹھی میں دبائی ہوئی انگوٹھی پکڑ کر ان کے سامنے بیڈ پر رکھ دی۔

اس فیصلے میں اس نے امی کو شریک نہیں کیا تھا لیکن وہ بھی حیران رہ گئی تھیں اور ان کی تسبیح کے گرتے دانے تھم سے گئے تھے سکندر صاحب کو البتہ اس کی کہی ہوئی بات پر بالکل یقین نہیں آیا تھا۔ اجیہ کبھی ان کے سامنے ان کے کسی فیصلے کے خلاف بولے گی یہ تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا اور شاید وہ نہیں جانتے تھے کہ اولاد پر کی بے جا سختی بھی اسے باغی بنا سکتی ہے۔

’’تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے جانتی بھی ہو تم کیا بکواس کررہی ہو؟‘‘

’’بابا میں نے انتہائی سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں غزنیٰ کے ساتھ کسی بھی قیمت پر شادی نہیں کرسکتی۔‘‘ سر جھکا کر اجیہ نے اپنا دو ٹوک فیصلہ سنایا تو سکندر صاحب نے سامنے بیڈ پر رکھی انگوٹھی اٹھا کر نیچے دے ماری۔

’’یہ سب اس عورت کی پڑھائی ہوئی پٹی ہے۔‘‘ انہوں نے امی کی طرف اشارہ کیا جو خود اس تمام معاملے سے لاعلم تھیں بلکہ وہ حیران تھیں کہ اجیہ نے ان کے علم میں لائے بغیر ان سے مشورہ کیے بغیر اتنا بڑا فیصلہ کیسے کرلیا لیکن انہیں اطمینان ضرور تھا کہ اجیہ نے درست فیصلہ کیا تھا۔

’’یہ میرا اپنا فیصلہ ہے بابا اور میں قرآن پر ہاتھ رکھ کر گواہی دینے کو تیار ہوں کہ امی کو کسی بات کا کچھ نہیں پتا۔‘‘ یہی وجہ تھی کہ اجیہ نے انہیں لاعلم رکھا تھا تاکہ وہ کسی بھی طریقے سے سکندر صاحب کے سامنے ثابت کرے کہ امی اس فیصلے میں شریک نہیں۔

’’منہ بند رکھو تم اپنا تم کیا اور تمہاری گواہی کیا، تم نے تو روز اول سے میرا منہ کالا کروانے کی قسم کھا رکھی ہے اور اس معاملے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تم نے نہ میری عزت کا خیال ہے اور نہ زبان کا پاس، ساری زندگی تم ماں بیٹی نے مجھے پائوں کی جوتی بنانے کی ہی کوشش کی لیکن میں اپنے فیصلے بدلنے والا نہیں ہوں سمجھیں تم؟‘‘ وہ غصے میں کف اڑا رہے تھے۔

’’بابا جانی اگر اجیہ اس رشتے پر خوش نہیں ہے تو پھر یہ رشتہ خوشی کے بجائے ساری عمر دکھ کا ہی باعث بنتا رہے گا۔‘‘ حنین نے ان کے غصے کو دیکھ کر ڈرتے ڈرتے رائے دی۔

’’تم چپ کرو حنین بیٹا مجھے کسی کے مشورے کی ضرورت نہیں… کیا اسے آج تک اس لیے پڑھایا لکھایا تھا کہ میرے ہی سامنے میرے فیصلوں کو ہوا میں اڑا دے۔‘‘

’’شادی جیسے معاملے میں اولاد کی مرضی کا ہونا تو بہت ضروری ہے اگر اجیہ…‘‘ امی نے ان کی کہی ہوئی بات کو ہمیشہ کی طرح نظر انداز کرکے آہستگی سے کہا تو وہ مزید بپھر گئے۔

’’تم منہ بند ہی رکھو تو بہتر ہے سب جانتا ہوں میں کہ یہ تمہاری شہہ پر ہی ہورہا ہے تم ہَوا دیتی ہو میری مخالف باتوں کو… تم ہی چاہتی ہو کہ اولاد کے ذریعے مجھ سے بدلے لو۔‘‘

’’آپ مجھ سے قسم لے لیں کہ میں اس فیصلے سے لاعلم تھی اور مجھے بھی ابھی ہی پتا چلا کہ اجیہ…‘‘

’’قسم تو میں کھاتا ہوں کہ ہر حال میں اجیہ کی شادی غزنی سے ہی ہوگی بلکہ میرے بس میں ہوتا تو ابھی نکاح خواں کو بلا کر اس کا نکاح پڑھواتا اور ان کے حوالے کردیتا۔‘‘ فرش پر گری انگوٹھی اٹھاتے ہوئے حنین ان کے الفاظ کی سختی پر سہم گئی تھی اور اس نے دل سے دعا کی تھی کہ کاش ایسا نہ ہو جس چیز کی خواہش سکندر صاحب کررہے تھے۔

’’بلکہ دیر کس بات کی ہے میں ابھی بھائی صاحب کو فون کرتا ہوں۔‘‘ بات کہتے ہی انہوں نے تکیے کے ساتھ رکھا اپنا موبائل اٹھایا اور نمبر ملایا، وہ تینوں ہونق بنی ان کو دیکھ رہی تھیں۔

’’السلام علیکم بھائی صاحب سنائیں کیا حال احوال ہیں؟‘‘ دوسری طرف نہ صرف وہ بلکہ غزنیٰ اور اماں بھی بیٹھے ہوئے تھے اور اس وقت اجیہ اور غزنیٰ کی ہی شادی زیر بحث تھی۔

’’وعلیکم السلام بھئی کیا ہی لمبی عمر پائی ہے تم نے ابھی میں تمہیں فون کرنے ہی والا تھا۔‘‘ بات کرتے ہوئے انہوں نے غزنیٰ اور اماں کو اشارے سے بتایا کہ وہ بات کرنے والے ہیں جس پر دونوں نے انہیں کیری آن کا اشارہ کیا۔

’’ارے واہ، خیر تو ہے آپ کیوں یاد کررہے تھے۔‘‘

’’وہ دراصل بات یہ ہے کہ غزنیٰ کی ماں سارا دن گھر میں اکیلی ہوتی ہے اسی بنا پر ہم ابھی بیٹھے ہوئے یہی بات ڈسکس کررہے تھے کہ اگر آپ لوگ کچھ مہربانی کریں تو ہم چاہیں گے کہ جتنی جلدی ممکن ہوسکے اجیہ بیٹی کو اپنے گھر لے آئیں۔‘‘ بات کرتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر غزنیٰ اور اماں سے ہاتھ کے اشارے سے پوچھا کہ انہوں نے ٹھیک ہی کہا ہے جس پر ان دونوں نے مسکراتے ہوئے اوکے کا اشارہ دیا تھا۔

سکندر صاحب نے اللہ کا شکر ادا کیا تھا کہ انہیں خود سے اجیہ کو بیاہنے کا نہیں کہنا پڑا تھا اور ان کی عزت رہ گئی تھی۔

’’اسے کہتے ہیں کہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے کیونکہ خود میں بھی اسی معاملے پر بات کرنا چاہتا تھا۔‘‘ انہوں نے کہا۔

’’دراصل اجیہ کی ماں بھی بہت بیمار رہتی ہے ذہنی حالت تو ویسے بھی اس کی ایسی نہیں کہ اپنی بیماری کو شکست دے تو اجیہ کی طرف سے کچھ زیادہ ہی پریشان رہتی ہے اور چاہتی ہے کہ اس کے سامنے ہی اجیہ دلہن بنے کیا پتا ہے بھائی صاحب زندگی کا بس اس لیے میں تو چاہ رہا تھا کہ آپ آج کل ہی میں نکاح کرکے لے جائیں باقی جو رسم و رواج کرنا ہوں تو اپنے گھر پر کرتے رہیں۔‘‘ سکندر صاحب کے بولے گئے اس سفید جھوٹ پر وہ تینوں ہکابکا رہ گئی تھیں ٹیلی فون کے دونوں ہی اطراف اس وقت شادی کی بات ہورہی تھی لیکن فرق یہ تھا کہ غزنیٰ کے گھر میں اس وقت خوشیاں رقصاں تھیں آپس میں ہنسی مذاق ہورہا تھا اور شادی کے تمام معاملات پر بھی بات چیت جاری تھی جبکہ اجیہ کے گھر میں وہ تینوں ہی اس وقت ہراساں تھیں سکندر صاحب کے رویے سے بھی وہ اچھی طرح واقف تھیں اسی لیے سہمی ہوئی خاموش بیٹھی تھیں۔

لیکن آخر کب تک؟

یہ وقت خاموش رہنے کا ہرگز نہیں تھا اور اگر وہ خاموش رہتی تو تمام عمر ضمیر کی قیدی بنی رہتی۔

’’سکندر… تم یہ سب سچ کہہ رہے ہو ناں کوئی مذاق تو نہیں کررہے تم۔‘‘ انہیں تو اپنی سماعت پر یقین نہیں آیا تھا کہ کیا واقعی ان کی درخواست اتنی جلدی اور خوش دلی سے قبول کرلی گئی ہے اماں اور غزنیٰ کی خوشی بھی دیدنی تھی۔

’’یہ کوئی مذاق کا معاملہ نہیں ہے بھائی صاحب دراصل آج میں خود دکان پر بے ہوش ہوگیا تھا اٹھا کر اسپتال لے گئے اور طبیعت بہتر ہونے پر گھر آیا تو یہی سوچا کہ آپ سے جلد از جلد اپنی امانت لے جانے کا کہوں گا، لیکن ایک درخواست میری ہے۔‘‘

’’وہ کیا؟‘‘

’’میں کسی بھی رشتے دار کو اپنے گھر نہیں بلانا چاہتا سوائے چند قریبی رشتے داروں کے۔‘‘

’’بالکل ٹھیک ہے تم جو کہو گے اور جیسا کہو گے ہم ویسے ہی کریں گے بلکہ اگر تم چاہو تو ہم کل ہی آکر اجیہ کو لے آئیں۔‘‘ انہوں نے غزنیٰ اور اماں کو شرارت سے دیکھتے ہوئے ازراہ مذاق کہا لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کے مذاق میں کہے گئے سوال کو سکندر صاحب اتنی سنجیدگی سے لیں گے یوں بھی اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ بس پھر کیا تھا سکندر صاحب نے اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیا۔

’’تو بس پھر ہماری طرف سے ڈن ہی سمجھیں ہم کل آپ سب کا انتظار کریں گے کہ آئیں اور آکر اپنی امانت لے جائیں تاکہ ہم بھی سرخرو ہوسکیں۔‘‘ انہوں نے بات ختم کرکے فون بند کیا تو سب سے پہلے حنین اپنے حواسوں میں لوٹی۔

’’بابا جانی یہ آپ نے کیا کیا، اجیہ، غزنیٰ سے شادی نہیں کرنا چاہتی اس نے یہ بات آپ کو بتائی بھی ہے اور اس کے باوجود آپ نے نہ صرف انہیں شادی جلدی کرنے کے لیے کہہ دیا بلکہ کل ہی نکاح کے لیے بلوا لیا آپ نے ایسا کیوں کررہے ہیں آپ پلیز یہ مت کریں اجیہ کی زندگی برباد ہوجائے گی۔‘‘ اس نے سکندر صاحب کا کندھا پکڑ کر جھنجوڑ ڈالا۔

’’میں تم سے بہتر سمجھتا ہوں حنین بیٹا اور میں کچھ غلط بھی نہیں کروں گا اس کے ساتھ آخر باپ ہوں میں اس کا۔‘‘ حنین کو سمجھاتے ہوئے انہوں نے اسے دائیں بازو میں سمیٹ لیا تھا ان کی آخری بات پر اجیہ تڑپ گئی تھی کہاں تو حنین کو پیار سے ساتھ لگا کر کھڑے ہیں اور کہاں مجھے اس قدر نفرت کا نشانہ بناتے ہیں آخر کو باپ ہیں میرے۔ اجیہ نے تلخی سے سوچا۔

’’آپ کو اللہ کا واسطہ ہے سکندر صاحب اپنا فیصلہ واپس لے لیجیے ذرا نرم دلی سے سوچیں کہ اجیہ نے آپ کو اپنا باپ اپنا سہارا جان کر آپ کے ساتھ اپنے دل کی بات اس لیے کی کہ آپ کوئی حل بھی نکالیں لیکن آپ اسے سزا دے رہے ہیں اس بات کی کہ اس نے آپ کے سامنے اپنے دل کی بات آخر کیوں کی آپ کو قسم ہے پر اس ہستی کی جس کے لیے آپ کے دل میں پیار ہو کہ یہ فیصلہ بدل دیں اجیہ کو اس گھر میں گھٹ گھٹ کر جینے کے لیے نہ بھیجیں۔‘‘ امی نے ان کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے تھے لیکن ان پر کسی بھی چیز کا کوئی اثر نہیں ہورہا تھا۔ غصہ اسی لیے حرام قرار دیا گیا ہے کہ شیطان غالب آکر انسان کے ذہن سے اچھے برے الفاظ اور افعال کی تمیز مٹا دیتا ہے اور اجیہ کو تو دیکھتے ہی ان کے ذہن میں انتقام کی جو آگ جلنے لگتی تھی اس پر وہ کسی طور قابو پانا نہیں چاہتے تھے۔

’’یہ تم ہی تو ہو اجیہ کے ذہن میں اس طرح کے خیالات کے نشوونما کرنے والی تم نے ہی اسے یہ پٹیاں پڑھائی ہیں کہ غزنیٰ سے شادی کے بعد وہ خوش نہیں رہے گی لیکن تم اپنی اوقات میں رہو میرے فیصلے کے آگے رد و بدل کرنے کی نہ میں نے پہلے کسی کو اجازت دی ہے اور نہ ہی کبھی دوں گا سمجھیں تم؟‘‘ وہ غرائے۔

’’بس بابا… بس آپ نے آج تک جو کرنا تھا کرلیا اور میں نے بھی جتنا برداشت کرنا تھا سو کیا لیکن مزید فرماں برداری میرے بھی بس کی بات نہیں ہے میں خود سمجھدار اور بالغ ہوں شروع سے لے کر آج تک آپ نے امی کے ساتھ جو رویہ رکھا بات بات پر جس طرح انہیں بے نقط سنائیں بے عزتی کی اس سب کے بعد انہیں کوئی ضرورت نہیں تھی کہ میرے ذہن میں کچھ ڈالتیں اپنے کردار سے خود آپ نے ہماری نظروں میں وقعت کھوئی ہے اور آپ جیسے باقی مرد بھی اگر بچوں کے سامنے اپنی بیوی کو گالیاں دے کر ان پر ہاتھ اٹھا کر یا بات بات پر ان کی بے عزتی کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی اولاد ان کی عزت کرے گی تو یہ صرف اور صرف ان کی بھول ہوتی ہے۔ ایسے باپ کو اولاد برداشت تو جیسے تیسے کرلیتی ہے لیکن عزت نہیں کرسکتی۔‘‘ اجیہ نے پہلے کافی دیر تک حنین، امی اور سکندر صاحب کی باتیں سنی اور اب فیصلہ کن انداز میں گویا تھی جو سکندر صاحب کے لیے ناقابل برداشت تھا۔

’’تم اپنی بکواس بند کرو گی یا نہیں اور نہیں چاہیے مجھے تم لوگوں سے جھوٹی عزت۔‘‘ سکندر صاحب تلملا رہے تھے۔

’’میں چپ ہوجائوں گی بابا لیکن ایک آخری بات آپ بھی سن لیں کہ میں یہ گھر چھوڑ کر چلی جائوں گی اپنی جان دے دوں گی روز کے مرنے کے بجائے ایک ہی مرتبہ مرنے کو ترجیح دوں گی لیکن غزنی جیسے شکی اور گھٹیا انسان سے کبھی بھی شادی نہیں کروں گی۔‘‘ سکندر صاحب نے اس کی بات پر چونک کر اجیہ کو دیکھا شاید انہیں اجیہ سے اس حد تک سوچنے کی توقع نہیں تھی لیکن وہ ان کا ردعمل دیکھنے یا جواب سننے کے لیے رکی نہیں تھی بلکہ حلق میں پھندا بن کر پھنسنے والے آنسوئوں کو روکتے ہوئے کمرے سے نکلی تو سیدھا واش روم میں جا کر ان آنسوئوں کو بہہ جانے دیا۔

ؤ …/…ؤ

وہ تمام رات ان تینوں ماں بیٹیوں کی جاگتے ہوئے گزری تھی کئی پہلوئوں پر غور کیا گیا کہ اب آخر کرنا کیا چاہیے اربش کے بارے میں بھی امی کو تفصیل سے بتایا اور اجیہ نے ان دونوں پر یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ جس اسکول میں پڑھا رہی ہے وہ بھی اتفاق سے اربش کا ہے اور وہ اربش کا گھر بھی دیکھ چکی ہے۔

گو کہ اربش کے ساتھ بھی اسے کوئی طوفانی عشق یا رومیو جیولیٹ قسم کی محبت نہیں تھی لیکن اربش کے ساتھ اپنے تمام حالات و واقعات شیئر کرنے کے بعد وہ اپنا اپنا ضرور لگنے لگا تھا اور اب بھی اس شادی سے بچنے کے لیے جس کی طرف سب سے پہلے ذہن جاتا تھا وہ اربش ہی تھا۔ اربش ہی اس کے لیے پہلی اور آخری امید نظر آتا تھا جس کے ذریعے وہ اس نکاح سے بچ سکتی تھی اور عین اس وقت جب وہ تینوں آنے والے کل کے خوف سے سر جوڑے ہوئے سوچ بچار کررہی تھیں کہ اربش نے میسج کے ذریعے ایک نظم سینڈ کی۔

گر مجھے اس کا یقین ہو میرے ہمدم میرے دوست

گر مجھے اس کا یقین ہو کہ تیرے دل کی تھکن

تیری آنکھوں کی اداسی تیرے سینے کی جلن

میری دل جوئی میرے پیار سے مٹ جائے گی

گر میرا حرف تسلی وہ دور ہو جس سے

جی اٹھے پھر تیرا اجڑا ہوا ہے نور دماغ

روز و شب شام و سحر میں تجھے بہلاتا رہوں

میں تجھے گیت سناتا رہوں ہلکے شیریں

آبشاروں کے بہاروں کے چمن زاروں کے گیت

آمد صبح کے مہتاب کے مساروں گیت

گر مجھے اس کا یقین ہو میرے ہمدم میرے دوست

گر مجھے اس کا یقیں ہو…

’’امی جہاں تک میرا خیال ہے اربش کو صبح گھر بلا کر آپ خود اس سے بات کریں کہ ہمارے گھر میں یہ حالات چل رہے ہیں تو وہ فوراً اپنی ماں کے ساتھ آئے اور اس مسئلے کا حل نکالا جائے اگر وہ واقعی سیریس ہے تو…‘‘ حنین نے مشورہ دیا تھا جو امی کے لیے بھی تھوڑے سے رد وبدل کے ساتھ قابل قبول تھا یوں بھی اربش کو دیکھ تو وہ پہلے بھی چکی تھیں۔

’’لیکن اب اتنا وقت نہیں ہے کہ پہلے وہ خود آئے اور پھر ماں کو ساتھ لائے بلکہ اجیہ تم اسے یہ میسج کرو کہ وہ صبح تقریباً دس بجے تک نہیں بلکہ نو بجے اپنی ماں کو لے کر ہمارے گھر آجائے باقی باتیں صبح ان دونوں ماں بیٹے کے ساتھ کرلیں گے اور ہاں دیر نہ کریں کیونکہ پتا ہے ناں صبح تمہارے ابو سبزی منڈی سے پھل اور سبزیاں لینے جائیں گے تو ایسا نہ ہو کہ ان کے آنے کے بعد یہ لوگ آئیں۔‘‘ امی نے پروگرام ترتیب دیا۔

’’ایک کوشش ہی کرنی ہے بیٹا آگے جو تمہارا نصیب۔‘‘ انہوں نے اجیہ کو گلے لگا لیا تھا اس کی آنکھیں اب خشک تھیں البتہ حنین رو رہی تھی اسے اس وقت دنیا کی کوئی بات یاد نہیں تھی ذہن میں تھی تو صرف اور صرف ایک دعا کہ اجیہ جو چاہتی ہے وہ اسے مل جائے ادھر اربش ممی کے رویے سے بے حد ڈسٹرب ہوا تھا۔

ؤ …/…ؤ

اس کے گمان میں نہیں تھا کہ کبھی کسی بات پر اس کا ممی سے اختلاف بھی ہوگا۔ لیکن ایسا اجیہ کے معاملے میں ہوگیا تھا جو وہ نہیں چاہتا تھا اور حیرت اسے اس بات پر بھی تھی کہ بچپن سے اب تک ہر چیز میں اربش کی رائے کو اہمیت دینے والی اور ہر چیز اس کی پسند سے لینے والی ممی اس کی زندگی کے اتنے بڑے فیصلے پر زبردستی اپنی رائے مسلط کیوں کرنا چاہ رہی ہیں۔ وہ یہ سب باتیں اجیہ سے شیئر کرکے مستقبل کی حکمت عملی ترتیب دینا چاہتا تھا لیکن اجیہ کی طرف سے اس کے میسجز کا اب تک کوئی رپلائی ہی نہیں آیا تھا اور پھر اچانک اس کا مختصر سا میسج موصول ہوا جس میں اس نے اربش کو ممی کے ساتھ صبح نو بجے گھر بلایا تھا کوئی اور وقت ہوتا تو وہ اس میسج سے بے حد خوش ہوتا لیکن وہ جانتا تھا کہ شاید کچھ وقت کے بعد ممی مان بھی جائیں لیکن صبح اس کے ساتھ اجیہ کے گھر جانے پر وہ کبھی بھی رضامند نہ ہوتیں۔

اور اسے امید تھی کہ ساری صورت حال اجیہ اور اس کی والدہ کو بتانے پر وہ معاملہ سمجھ بھی جائیں گی اسی یقین کے ساتھ وہ مقرر وقت پر اجیہ کے گھر پہنچا لیکن ڈور بیل پر ہاتھ رکھتے ہی وہ ٹھٹک کر رک گیا تھا۔

آہنی گیٹ پر لگا موٹا سا تالا اسے منہ چڑاتا محسوس ہورہا تھا یعنی اس وقت اگر گھر میں کوئی موجود نہیں تو مجھے بلانے کا کیا مقصد تھا؟ سوچتے ہوئے اس نے سرمئی رنگ کے اس تالے پر نظریں جما دیں جو اس کے اندر جانے کی راہ میں رکاوٹ بن گیا تھا۔

(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
error: Content is protected !!
Close