Hijaab Apr-17

ذکر اس پری وش کا

زینب احمد

فائزہ بلال اقرأ
کیوٹسٹ اینڈ سوئٹسٹ فائزہ بلال اقرأ کی طرف سے قارئین اور آنچل اسٹاف کو ایک بھرپور سلام ۔ جی تو میں ہوں فائزہ بلال میرا نک نیم اقرأ آفرین ہے‘ بہت کم لوگ میرا نام فائزہ جانتے ہیں‘ میں ڈی جی خان کی ایک تحصیل جام پور میں 17 سال پہلے 4 جون کو تپتی ہوئی دوپہر میں پورے دو بجے وارد ہوئی تب سے سب کہتے ہیںکہ دھرتی کے بوجھ میں اضافہ ہوا (حالانکہ میں 40 کلو وزن اور 5.2 ہائٹ کے ساتھ کافی اسمارٹ ہوں) اگر بات ہوجائے پسند نہ پسند کی تومجھے بلیک‘ پنک اور سی گرین کلرز بہت پسند ہیں۔ ڈریسز میں لانگ شرٹ‘ ٹرائوزر‘ ٹاپ اور جینز پسند ہیں (کبھی تو جینز پہنے پر بینڈ بھی لگ جاتا ہے) لیکن ہم بھی اپنے نام کی ایک ہی ضدی جو ہیں اپنی من مانی کرنی ہے۔ جیولری اور مہندی لگوانا مجھے پسند نہیں‘ لڑکیوں والی خصوصیات بہت کم ہیں‘ ہاہاہا۔ سات بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہوں اس لیے چاہتی ہوں کہ صرف میں اور میں۔ہئیر اسٹائل کا کیا بتائوں اب‘ لمبے بال پسند نہیں‘ چھوٹے بال ہیں گردن اور ماتھے پر پڑے رہتے ہیں۔ پھوپو کی ڈانٹ سن کے ہئیر بینڈ یا پنز لگالیتی ہوں۔ مضامین میں انگلش‘ بائیو اور میتھس پسند ہیں۔ پسندیدہ ٹیچرز میں میم کنیز سعدیہ‘ میم روشی‘ میم طاہرہ‘ سر طفیل کاکڑ اور سر محسن شامل ہیں۔ فرینڈز میں میم روشی‘ اقرأ اصغر‘‘ اسما اختر‘ شزا اور عائشہ خاص الخاص فرینڈز ہیں (شزا کے خیال میں دل پھینک ہر پسند آنے والی لڑکی کو دوست بنالیتی ہوں ۔ کھانے میں چاول کی کوئی ڈش روٹی پسند نہیں اور فاسٹ فوڈ پسند ہے‘ گھر کا پکا کھانا بے دلی سے کھاتی ہوں۔ پھل سب پسند ہیں سوائے چیکو اور جاپانی پھل کے۔ ایڈونچر ہوں‘ مشکل کام پسند ہیں اور خواہشات رکھتی ہوں سارا صحرا اور افریقہ کے جنگلوں میں گھومنا‘ گھر کے کام پسند نہیں‘ دودھ ابال لیتی ہوں سب کے بستر لگادیتی ہوں۔ چائے بہت اچھی پکاتی ہوں (کبھی چینی زیادہ ہوجاتی ہے تو کبھی چائے کی پتی‘ ہاہاہا)۔ پسندیدہ مصنفین میں نمرہ احمد‘ نایاب جیلانی‘ راحت جبیں‘ نسیم حجازی اور نازیہ کنول نازی اور موسٹ فیورٹ راحت وفا ہیں۔ بابا جان رسالے نہیں پڑھنے دیتے‘ چھپ کے پڑھتی ہوں جونہی ان کے آنے کا کھٹکا ہوا تا ہے رسالہ گدھے کے سر کے سینگ کی طرح غائب کردیا جاتا ہے۔ پسندیدہ ناول ’’مصحف‘‘ اور ’’سچ کی سولی‘‘ ہے اور جی اب بات آجائے میری خوبیوں اور خامیوں پر‘ بڑی بے وفا اور طوطا چشم ہیں دوستیں کدی وی دل خوش نہیں کردیں۔ میم روشی‘ اسما‘ اقرأ اور شزا کا مشترکہ خیال ہے کہ مجھ میں کوئی خوبی ہے ہی نہیں۔ سب کے خیال میں بے حس ہوں‘ خود غرض ہو، سر پھری اور ضدی ہوں‘ من مانی کرتی ہوں‘ غصیلی ہوں‘ تنگ کرنے والی‘زچ کرنے والی اور باباکے خیال میں‘میں صرف خود سے پیار کرتی ہوں۔ کافر ہوں دوسروں کو اچھوت سمجھتی ہوں‘ جھوٹا پسند نہیں کھانا پینا۔ امی کہتی ہیںعذاب ہو‘ بوا جانی اور ان کے بیٹے کہتے ہیں بہن بھائیوں کے حق چھیننے والی ہو‘ غاصب ہو بس چھوڑو یار! اداس کردیا نا مجھے‘ اگر خوبیوں کی بات ہو تو ابھی فرینڈز کے خیال میں حساس ہوں‘ ذہین ہوں‘ ماشاء اللہ۔ ہئیر کافی سلکی اور شائنی ہیں‘ آنکھیں پیاری ہیں شائنی ہیں کافی۔ رومانٹک ہوں بہت (اوں ہوں) انگلش مووی وہ بھی ہارر بہت پسند ہیں۔ سونگز سلو اور غزلیں پسند ہیں‘ فاسٹ میوزک بھی سن لیتی ہوں‘ پسندیدہ سنگرز شریا گھوشال‘ حدیقہ کیانی‘ سونو نگم اور نصرت فتح علی خان ہیں۔ اچھا جی بہت ٹائم لے لیا آپ لوگوں کا لیکن آپ دنیا کی ایک بہت اچھی ہستی سے متعارف تو ہوگئے ہیں نا‘ ٹھہریں ٹھہریں میری خوبیاں یہ بھی ہیں جھوٹ‘ چغلی اور غیبت سے نفرت ہے‘ اچھا جی بس کرو گھورنا‘ دیکھو قلم رکھ دیا ہے ‘آپ سب سے دوستی کرنے کی خواہاں ہوں‘ اب اجازت‘ اللہ سب کو خوش رکھے اور آنچل کو دن دگنی رات چوگنی ترقی دے‘ آمین۔
آفیہ انور
ہیلو گرلز کیا حال چال ہیں؟ مجھے پتا ہے سب خیریت سے ہیں‘ وہ کہتے ہیں نا پھر بھی حال پوچھنا چاہیے تو جی جناب آپ سوچ رہی ہوں گی یہ کون نازل ہوگئی ہے تو میں ہوں آفیہ انور‘ ضلع چکوال گائوں خان پور کی حسین وادیاں دل دلبرا سے تعلق رکھتی ہوں۔ 20 جولائی 1996ء میں پیدا ہوئی‘ ہائے جب ہم پیدا ہوئے تو اتنی بارش ہوئی کہ کیابتائیں آپ کو اس لیے جب کسی پر بھی غصہ آجائے تو خوب برستے ہیں۔ اپنے بارے میں گفتگو بعد میں کرتے ہیں پہلے چلتے ہیں گھرکی طرف‘ ماشاء اللہ سے ہم نو بہن بھائی ہیں‘ سات بہنیں اور دو بھائی‘ میںچھٹے نمبر پر ہوں۔ آپ کو مزے کی بات بتائی ہوں ‘ میں بالکل بھی پڑھی لکھی نہیں ہوں اور سب کچھ پڑھ لکھ لیتی ہوں‘ خاص طور پر آنچل تو جی جناب آپ حیران تو ضرور ہوںگی ہم ہیں ہی حیران کرنے والے۔ اب پسند کی طرف آتے ہیں کھانے میں جو بھی مل جائے کھالیتی ہوں‘ کبھی نخرہ نہیں کیا۔ رنگوں میں سفید‘ گلابی پسند ہے اور اب آتے ہیں خامی کی طرف تو خامی یہ ہے کہ غصہ بہت آتا ہے اور چھوٹے بہن بھائیوں کی بھی خوب پٹائی کرتی ہوں اور جب میں کسی سے بھی ناراض ہوجائوں تو میں دوبارہ کبھی نہیں بولتی‘ چاہے سال ہا سال ہی کیوں نہ گزر جائیں اور ہاں میں نے کبھی کسی پر آنکھیں بند کرکے اعتبار نہیں کیا اور ہاں اگر کوئی جھوٹ بولے تو مجھے بہت غصہ آتا ہے اور اس سے حد سے زیادہ نفرت ہوجاتی ہے۔ میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اگر کبھی مذاق میں بھی جھوٹ بول دوں تو فوراً بتادیتی ہوں‘ زندگی میں صرف ایک بار دوستی کی تھی اور کی ہے میری اس ننھی سی دوست کا نام مقدس ارباب ہے وہ میری کزن بھی ہے اور وہ مجھے اچھی لگتی ہے‘ اس بے حد محبت کرتی ہوں‘ اللہ تعالیٰ میری دوستی ہمیشہ قائم رکھے‘ آمین ۔ رائٹرز میں نازیہ کنول نازی‘ سمیرا شریف طور‘ ام مریم‘ اقراء صغیر احمد، راحت وفا، حرا قریشی، نزہت جبین ضیاء، طلعت نظامی، سحرش فاطمہ، فاخرہ گل، سیدہ غزل زیدی، رفاقت جاوید، صدف آصف، نادیہ فاطمہ یہ سب مجھے اچھے لگتے ہیں اور میں ان کی بہت عزت کرتی ہوں اور آپ مجھے ضرور بتایئے کہ میرا تعارف آپ کو کیسا لگا‘ اللہ حافظ۔
فرحانہ
السلام علیکم سویٹ قارئین اور آنچل اسٹاف کیسے ہیں آپ؟ ارے کیا ہوا سوچ میں پڑ گئے ہو کہ میں کون ہوں جو بن بادل برسات کی طرح آنچل پر نازل ہوگئی‘ آپ لوگوں کو زیادہ دماغ کھپانے کی ضرورت نہیں میں بتاتی ہوں کہ میں کون ہوںمیرا نام فرحانہ ہے اور گھر والے بلکہ پورا خاندان پری کہتا ہے حالانکہ مجھے اپنا یہ نام بالکل بھی پسند نہیں۔ میرا تعلق جنوبی وزیرستان آف ٹانک سے ہے‘ 17 اگست کو جنوبی وزیرستان کے ایک خوب صورت علاقے مکین میں پیدا ہوئی جب ہلکی ہلکی پھوار اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ۔ ماشاء اللہ ہم تین بہنیں اور تین بھائی ہیں‘ میرا نمبرا تیسرا ہے۔ بی اے کی اسٹوڈنٹ ہوں اور ان شاء اللہ بی اے کے بعد ایم اے اردو کا ارادہ ہے۔ تنہائی پسند ہوں زیادہ کسی سے بات نہیں کرتی‘ ذرا کم گو ہوں۔کھانے میں بریانی‘ مچھلی کباب‘ دہی بھلے اور سویٹ ڈش میں میٹھے چاول‘ گلاب جامن اور آئس کریم پسند ہے۔ کلر میں بلیک کلر‘ پرپل ‘ اورنج اور ریڈ کلر پسند ہے۔ لباس میں شلوار قمیص اور بڑا دوپٹہ پسند ہے۔ ہاتھوں پر مہندی لگانا اور چوڑیاں پہننا اچھا لگتا ہے۔ خامیوں کے حوالے سے بقول میری بہن ساریہ کے منہ پھٹ ہوں‘ بحث بہت کرتی ہوں اور رات کو جلدی سوجاتی ہوں یہ میری خوبی ہونی چاہیے لیکن میری بڑی بہن کو یہ میری سب سے بڑی خامی لگتی ہے بقول سعدیہ کہ مجھ میں بوڑھی روح ہے۔ خوبیاں یہ ہیں کہ پانچ وقت کی نمازی ہوں‘ قرآن شریف کی تلاوت کرتی ہوں‘ اسلامی کتابوں کا مطالعہ کرتی ہوں ‘ بہت ہمدرد ہوں۔ خود بہت سادہ ہوں اور سیدھے سادھے لوگ پسند ہیں‘ خود غرض‘ جھوٹ‘ فساد کرنے والوں سے سخت نفرت ہے۔ اموشنل بہت ہوں اگر ڈراموں یا فلموں میں کوئی غمگین سین ہو تو میرے آنسو نکل آتے ہیں اور میرے سب بہن بھائی میرا بہت مذاق اڑاتے ہیں۔ خاص طور پر میرا چھوٹا بھائی عمران مجھے بہت تنگ کرتا ہے ۔ دوستوں کی فہرست زیادہ لمبی نہیں ہے لیکن جو ہیں وہ بہت زیادہ کیوٹ ہیں انیلا طالب‘ راحیلہ‘ نازیہ احمد اور ابھی جو کالج میں ہیں ان میں مالا‘ آسیہ اصغر‘ رخسانہ‘ سلمی فہیم‘ ناہید حیدر‘ سمیرا اور میری بیسٹ فرینڈ لیلیٰ اور سعیدہ ہیں۔ لیلیٰ میری کزن بھی ہے اور میری بچپن کی دوست بھی‘ ابھی اس کی شادی ہوئی ہے‘ آئی رئیلی لو یو سعیدہ۔ اور یہ غزل میری سب دوستوں کے نام۔
کچھ یادیں ہیں ان لمحوں کی
جن لمحوں میں ہم ساتھ رہے
خوشیوں سے بھرے جذبات رہے
اک عمر گزاری ہے ہم نے
جہاں روتے ہوئے بھی ہنستے تھے
کچھ کہتے تھے کچھ سنتے تھے
ہم روز صبح جب ملتے تھے
تو سب کے چہرے کھلتے تھے
پُر لطف وہ منظر ہوتے تھے
جب مل کر باتیں کرتے تھے
ہم سوچ کر کتنا ہنستے تھے
وہ گونج ہمارے ہنسنے کی
اب ایک پرانی یاد بنی
یہ باتیں ہیں ان لمحوں کی
جن لمحوں میں ہم ساتھ رہے
میں سب سے زیادہ محبت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اپنے والدین سے کرتی ہوں جنہوں نے ہمیشہ میری ہر جائز خواہش پوری کی‘ ہمیں کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی‘ اللہ ہمارے والدین کا سایہ ہمیشہ ہمارے سروں پر قائم رکھے‘ آمین۔ اپنا ملک پاکستان پسند ہے‘ کوکنگ کرنے کا بھی کریز ہے‘ کچن میں مجھے اور کوئی کام پسند نہیں سوائے کوکنگ کرنے کے اور کرتی بھی ہوں۔ میرے ہاتھ کی بریانی اور دہی بھلے تو سب اتنے شوق سے کھاتے ہیں کہ کبھی کبھی تو اپنے ہاتھ کی انگلی بھی کھالیتے ہیں (ہاہاہا بڑی خوش فہمی ہے مجھے)۔ ارے اتنا گھور گھور کر کیوں دیکھ رہی ہو تم لوگوں کے نام بھی لیتی ہوں اس سے پہلے میری کزنیں غصہ میں اپنی شکلوںکا جغرافیہ بگاڑیں‘ میں ان کے نام بتادیتی ہوں جوشینہ‘ نبیلہ راجا‘ شمشاد‘ اختر‘ پلوشہ‘ شاہین‘ شہنیلا‘ سونیا‘ نورزادہ‘ صائمہ‘ شکیلا (بس اب خوش ہو میری پیاری کزنوں)۔ لگتا ہے کہ میں نے آپ لوگوں کا کافی وقت لے لیا ہے‘ بس جارہی ہوں زیادہ غصہ نہ کریں‘ غصہ صحت کے لیے ٹھیک نہیں ہوتا۔ آخرمیں اتنا کہنا چاہوں گی کہ پلیز اپنے ماں باپ کی عزت کریں کیونکہ اگر آج آپ اپنے والدین کی عزت کرو گے تو کل آپ کے بچے آپ کی عزت کریں گی، اللہ حافظ۔
انیلا طالب
السلام علیکم! تمام آنچل رائٹرز اینڈ ریڈرز کو میرا سلام قبول ہو۔ آتے ہیں جناب اپنے تعارف کی جانب‘ میرا نام انیلا طالب ہے 14 دسمبر کو گوجرانوالہ کے شہر کی تحصیل نوشہرہ ورکاں کے ایک گائوں بھدے شریف میں پیدا ہوئی۔ہم تین بہنیں اور تین بھائی ہیں‘ میرا نمبر سب سے پہلا ہے‘ میرے بعد چھوٹا بھائی علی رضا 17 سال کا ہے‘ اس کے بعد بہن ردا زینب بخاری 14 سال کی پھر ایک بہن عائشہ طالب 11 سال کی ہے۔ اس کے بعد دو چھوٹے بھائی محمد رضا 10 سال کا اور علی احمد صابر 6 سال کا ہے‘ سبھی کے شوق نرالے ہیں‘ بہنوں ردا زینب کو اور عائشہ کو پینٹنگ کا بہت شوق ہے‘ علی رضا کو ٹیکنالوجی سے اور کرکٹ سے تو بہت ہی گہری دلچسپی ہے جب میچ لگا ہوتا ہے تو وہ کھانا پینا چھوڑ کے رات کے گیارہ بجے تک دیکھتا رہتا ہے۔ اب دوبارہ اپنی طرف آتی ہوں میرا نام میرے تایا پروفیسر سید عابد حسین شاہ نے رکھا‘ ہماری کاسٹ سید ہے۔ مجھے بچپن سے کچھ نہ کچھ کرنے کا جذبہ ہے جو ماشاء اللہ دن بدن بڑھ رہا ہے۔ ریڈنگ‘ ڈیکوریشن پیس بنانا‘ ہوم ڈیکوریشن‘ کوکنگ یہ سب میرے فیورٹ ہابیز ہیں۔ کتابیں پڑھنے کا جنون ہے ہمارے گھر میںمیرے والد کی لائبریری ہے جسے میں نے تقریباً دس بارہ برس کی عمر میں پڑھ ڈالا تھا۔ میرے والد کو مجھ سے بہت زیادہ پیار ہے‘ مجھے بھی اپنے والدین سے بہت پیار ہے‘ اللہ ان کا سایہ ہمارے سروں پر تاقیامت قائم رکھے‘ آمین۔ میری خواہش ہے میں دنیا میں اپنی خاص پہچان بنائوں کچھ ایسا کرجائوں مرکے بھی نہ مرسکوں جب دنیا سے جائوں تو پاک فوج کا دستہ مجھے سلامی دے۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کروں اور پاکستان کے لیے کچھ کروں۔ شخصیات میں اعلیٰ حضرت شاہ امام احمد رضا خان بریلویؒ، ارفع کریم‘ ابراہم لنکن‘ بل گیٹس اور محترمہ بے نظیر بھٹو‘ پروین شاکر وغیرہ پسند ہیں۔ شلوار قمیص‘ فراکس‘ پنک‘ وائٹ بلو اور خاص کر بلیک کلر میں لباس بہت پسند ہیں۔ کھانے میں چائنیز ڈشز خاص طور پر رشین سیلڈ‘ چائنیز بریانی بہت پسند ہے ۔ چٹ پٹے کھانوں میں خصوصاً شوارما‘ پزا‘ زنگر بر کیچپ سے کریز کھانے کی بے حد شوقین ہوں۔ فیورٹ شاعروں میں بابا بلھے شاہ سرکار سرفہرست ہیں۔ فلمیں بالکل بھی پسند نہیں ڈاکیومینٹریزمیں ’’میں زندہ ہوں‘ جناح سے قائد اعظم‘ لانگ واک ٹو فریڈم‘‘ وغیرہ پسندیدگی ہیں۔ پسندیدہ ترین ملک سوئٹزرلینڈ ہے‘ بابا کی رانی ہوں‘ عارفانہ کلام شوق سے سنتی ہوں‘ عارفانہ کلام اگر خواجہ غلام فریدؒ یا بلھے شاہؒ کا ہو تو کیا ہی بات ہے۔ پسندیدہ رائٹرز میں عمیرہ احمد‘ راحت وفا، حمیرا قریشی، سویرا فلک، ہاشم ندیم‘ مسٹر ڈیل کارنیگی شامل ہیں۔ پسندیدہ سواری بحری جہاز‘ کشتی‘ اسپورٹس کار‘ فراری جہاز ہے۔ پیر کامل‘ موم کی محبت، پتھروں کی پلکوں پر، ٹوٹا ہوا تارا، مجھے ہے حکم اذاں، کروں سجدہ ایک خدا کو، بچپن کا دسمبر‘ عبداللہ، سیلف ہیلپ سیریز کے تحت شائع ہونے والا ایک ایک لفظ میرا فیورٹ ہے۔ جھیل سیف الملوک‘ وادی کاغان‘ لندن‘ امریکہ‘ پیرس کو ایک بار دیکھنے کی تمنا ہے۔ انعم ناصر میری بہت اچھی کزن ہے‘ کزنز میں سے میرے ماموں حیدر علی شاہ کے ننھے منے بیٹے غازی اور ایان علی میرے پسندیدہ ہیں۔ سعیدہ آنٹی مجھ سے بہت پیار کرتی ہوں‘ آئیہ آنٹی۔ میرے دادا دادی اور نانی سیدہ شمیم اختر بخاری جو کہ تینوں ہی انتقال کرچکے ہیں‘ وہ بھی بڑی محبت کرتے تھے‘ اللہ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے۔ فلموں میں رضیہ سلطانہ‘ غازی علم دین شہید‘ عاطف اسلم کی آواز میں تاجدار حرم‘ علی عباس کے پڑھے قومی ترانے‘ ملی نغمے اور کلام اقبال‘ شخصیات کی ذاتی زندگی کے بارے میں معلومات یہ سب مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ سفید گھوڑا‘ چوہدویں کا چاند‘ 12 ربیع الاول کا وقت ہرن‘ مچھلیاں نت نئی کتابیں میگزین اخباریں رسائل اور خرگوش میرے بے حد قریب ہیں ۔ خوبیاں چند ایک یہ ہیں کہ نرم دل ہوں‘ فرض شناس‘ محب وطن گھر کا خیال رکھنے والی ہوں۔ خامیاں بھی بہت ہوں گی میرے مطابق تو کچھ جذباتی اور غصے کی تیز ہوں‘ تنہائی پسند ہوں ۔ عمدہ رائٹر بننا دنیا کی ہر کتاب پڑھنا‘ اچھی شاعرہ مقررہ بننا میرا خواب ہے۔ تعارف بہت لمبا ہوگیا‘ او کے ڈئیر فرینڈز سب کو تہہ دل سے دعائیں‘ اللہ حافظ۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
Close