Hijaab Apr-17

رخ سخن

سباس گل

عرفان رامے
اس ماہ ہم آپ کی ملاقات ایک ایسے معروف رائٹر سے کروا رہے ہیں جن کی شخصیت، سحر انگیز گفتگو اورفکر انگیز تخلیقات کسی تعارف کی محتاج نہیں۔
محمد عرفان رامے کا شمار ان رائٹرز میں ہوتا ہے جن کی تحریریں قاری کو پوری طرح اپنے حصار میں جکڑ لیتی ہیںاور وہ خود کو اس کہانی کا کردار تصور کرنے لگتا ہے ۔ آپ ماہنامہ ریشم ڈائجسٹ کے سابق ایڈیٹر ہیں اور آج کل شیف ٹائمز کی ادارت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
عرفان رامے کو خدا نے بہترین تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ انہوںنے ہر موضوع پر لکھا ہے ۔ ناول، ناولٹ، افسانے ، آرٹیکلز، کالم، تاریخ ، مذہب ،تحقیق غرض کوئی موضوع ان کی دسترس سے باہر نہیں۔ عرفان رامے کی بیس کتابیں مارکیٹ میں موجود ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے ۔ ادبی حلقوں میں ان کا اپنا ایک نام اور مقام ہے ۔
آج ہم ان سے کی جانے والی خصوصی گپ شپ قارئین کے لیے پیش کر رہے ہیں۔
سوال:لکھنے کا آغاز کب اور کیسے ہوا؟
جواب:لکھنے کا آ غاز تو دورِ طالب علمی میں ہو گیا تھا ۔ کیسے لکھنا شروع کیا یہ ایک الگ داستان ہے۔ ۔۔ ہوا کچھ یوںکہ میرے بہت عزیز دوست اور بچوںکے معروف ادیب عبدالرشید فاروقیؔ بچوںکے ایک میگزین کی کمپوزنگ کیا کرتے تھے۔ میں ان دنوں فارغ تھا اور اکثر ان کے سر پر سوار رہتا تھا ۔فاروقیؔ صاحب میری ایک عادت سے بہت تنگ تھے کہ جب بھی وہ کسی رائٹر کی تحریر کمپوز کرتے میں کہانی پر تبصرہ شروع کر دیتا۔ ایک روز عاجز آ کر انہوں نے کہا کہ تنقید کرنا آسان ہے اور تخلیق کرنا مشکل ۔اگر ہمت ہے تو اس سے بہتر کہانی لکھ کر لائو۔میںنے ان کا چیلنج بنا سوچے سمجھے قبول کر لیااور اگلے روز اپنی پہلی کہانی لکھ کر لے آیا۔ فاروقیؔنے دو مرتبہ کہانی پڑھی اور پھر حیرت سے میری جانب دیکھتے ہوئے پوچھا: ’’ خود لکھی ہے یا کسی سے لکھوا کر لائے ہو؟‘‘ یہ ادبی دنیا میں میرا پہلا قدم تھا۔ وہ کہانی ہم نے بچوں کے رسالے ذہین میں ارسال کی جسے ظہور الدین بٹ مرحوم نے بہت محبت سے شائع کر کے حوصلہ افزائی کی ۔ اس کے بعد لکھنے کا شوق جنون میں بدل گیا۔
سوال:لکھنے کا مخصوص وقت مقرر ہے یا دن کے کسی بھی حصے میں لکھ لیتے ہیں؟
جواب:سچی بات ہے لکھنے کاکوئی خاص ٹائم ٹیبل نہیں ہے ۔ یہ موڈ پر منحصر ہے ۔ البتہ رات کو دیر تک جاگنا شروع سے معمول رہا ہے ۔ لیکن جب لکھتا ہوں تو اتنا مگن ہو کر کام کرتا ہوں کہ آپ میرے قریب ڈھول پیٹتے رہیں یا مجھ سے گفتگو کرتے رہیں میری انگلیاں کی بورڈ پر لفظوں کے تانے بانے بنتی رہتی ہیں اور کام میں خلل نہیں پڑتا۔
سوال: کوئی خاص موضوع جس پر لکھنے کی خواہش ہو؟
جواب:میرا خیال ہے تقریباََ تمام اہم موضوعات پر کچھ نہ کچھ لکھ چکا ہوں۔
سوال:کبھی ایسا ہوا کہ کہانی کے چند صفحات لکھ کر سائیڈ پر رکھ دیے ہوں اور دوسرا ناول لکھنا شروع کر دیا۔۔۔ یا کسی ناول کا آغاز کر لیا مگر انجام سمجھ نہ آ رہا ہو؟
جواب:ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ میں ایک وقت میں کسی ایک پروجیکٹ پر کام کروں۔ کوئی تحقیقی کتاب ہو یا ناول، عموماََ دو تین کام بیک وقت جاری رہتے ہیں۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر ایک تحریر لکھتے لکھتے موڈ بدل گیا تو دوسری کہانی لکھنا شروع کر دی۔ لیکن الحمدللہ کوئی کام ادھورا نہیں چھوڑتا۔ ۔۔ باقی ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ناول شروع کر لیا اور انجام کی سمجھ نہیں آ رہی۔ جب میں اپنے نئے ناول کی پہلی لائن تحریر کرتا ہوں تو ذہن میں اس کی آخری لائن موجود ہوتی ہے ۔
سوال:بہت سے نئے لکھنے والوں کی طرح آپ کی ابتدائی تحریریں بھی جرائد کی طرف سے مسترد کی گئیں؟
جواب:ابتدائی تحریریں تو مسترد نہیں ہوئیں البتہ کبھی کبھار موضوعات پر اختلاف ضرور ہو جاتا تھا ۔ جس کی وجہ میرا ان موضوعات پر ذاتی نقطہ نظر تھا۔ کہانی مسترد ہو جانے کی وجہ ہمیشہ یہ نہیں ہوتی کہ آپ کی تحریر میںکمی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جس ڈائجسٹ کو آپ وہ تحریر ارسال کر رہے ہیں وہ اس کا مزاج ہی نہ ہو۔ یہ باتیں ہر لکھنے والے کو تجربے کے ساتھ سمجھ آتی ہیں۔
سوال:کیا آپ کی تحریروں پر تنقید ہوتی ہے اگر ہوتی ہے تو آپ کا رد عمل کیا ہوتا ہے؟
جواب:اپنی رائے کا اظہار کرنا قاری کا حق ہے۔ لیکن وہ تنقید برائے تنقید نہیں ہونی چاہیے ۔ اگر لکھنے والے کا موقف درست ہے تو اسے اپنی بات پر ڈٹ جانا چاہیے۔ ہاں اگر اس کی سمت غلط ہے تو مثبت تنقید انسان کے لیے نعمت ثابت ہوتی ہے اور وہ اپنی اصلاح کر لیتا ہے۔
سوال:وہ لمحہ جب آپ کو بہت بے بسی کا احساس ہوا ؟
جواب:زندگی میں خوشیاں محدود اور مسائل لا محدود ہیں۔ ہماری خوشیاں تو انفرادی ہو سکتی ہیں مگر مسائل سانجھے ہیں ۔۔۔ دعا ہے کہ خدا ہم پر رحم فرماکر بے بسی کی زندگی سے بچائے۔
سوال:لکھنا آپ کا شوق ہے یا پروفیشن؟
جواب:کبھی شوق تھا ،مگر اب پروفیشن بن چکا ہے۔
سوال:آپ نے بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے لکھا ۔ کس عمر کے لوگوں کے لیے لکھنا آسان ہے ؟
جواب:بچوں کے لیے لکھنا مشکل ہے۔ آپ کو ان کی عمر کے مطابق زبان کا استعمال کرنا ہوتا ہے۔ چھوٹے بچوں کے لیے لکھنا بالکل ایسے ہے کہ آپ پلے گروپ کے بچوں کو کچھ نیا سکھا رہے ہوں۔
سوال:ادب کی کس صنف پر لکھنا آ سان ہے ؟
جواب:ہر اچھے کام کے لیے محنت درکار ہے ۔ ضرورت اس چیز کی ہے کہ آپ اپنے قلم کا حق ادا کریں اور پڑھنے والوں کو بامقصد تحریر دیں۔
سوال: محبت ، عزت ، شہرت ، دولت ،صحت میں سے اگر تین کا انتخاب کرنا پڑے تو آپ کا انتخاب کیا ہو گا؟
جواب:ان میں سے کچھ بھی غیر اہم نہیں ہے۔ زندگی میں صحت اور دولت کا کوئی نعم البدل نہیں۔ لیکن ضروری ہے کہ دولت کسی کا حق مار کر حاصل نہ کی گئی ہو۔ اگر آپ کے پاس رزق کی فراوانی ہے اور غلط صحیح کی تمیز ہے تو بے شمار نعمتیں خود بہ خود آپ کا مقدر بن جائیں گی۔
سوال:زندگی سے کیا سیکھا؟
جواب:زندگی میں بہت سے خوشگوار اور تلخ تجربات ہوئے۔ مگر ایک بات جس پر یقین وقت کے ساتھ ساتھ پختہ ہوتا چلا گیا یہ کہ انسان کی محنت کبھی رائیگاںنہیں جاتی۔ ممکن ہے وقتی طور پر آپ کو اس کا صلہ نہ ملے لیکن کسی نہ کسی موڑ پر فائدہ ضرور پہنچتا ہے۔ جب کہ شارٹ کٹ سے حاصل ہونے والی کامیابی کبھی مستقل نہیںہوتی۔
سوال:کیا ادب کے ذریعے معاشرے کا بگاڑ دور کر کے نکھار پیدا کیا جا سکتا ہے ؟
جواب:اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے ۔ کم از کم ہمارے معاشرے میں اس کی اُمید بہت کم ہے۔ ہم اچھی تحریر پڑھتے ضرور ہیں، وقتی طور پر متاثر بھی ہوتے ہیں مگر کتاب بند کرتے ہی سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ ۔۔ گناہوں اور غلطیوں سے توبہ کرنا ہمارے ہاں ایسا ہے جیسے کوئی شخص قبرستان میں جا کر مو ت کو یاد کرے اور باہر نکلتے ہی دنیا کی رنگینیوں میں کھو جائے۔
سوال:پاکستان کے بار ے میں کیا سوچتے ہیں؟
جواب:پاکستان ہم سب کی جان ہے ۔ وہ ملک جس میں ہم پیدا ہوئے ، جس نے ہمیں شناخت دی یقینا ہم سب کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے ۔ مگر جن حالات سے وطن عزیز گزر رہا ہے ہر محب وطن کے لیے لمحۂ فکریہ ہے ۔
سوال:معاشرتی بگاڑ کی اہم وجہ آپ کے خیال میں کیا ہے؟
جواب:انصاف کا نہ ملنا۔۔۔ اس ایک برائی نے ہر شعبے کو مفاد پرستوں کی نرسری بنا دیا ہے جہاں مظلوم کو تذلیل کے سوا کچھ نہیں ملتا۔یہاں تک کے لوگ عدالتوں کے سامنے خودسوزی پر مجبور ہیں۔
سوال:شہرت کیسی لگتی ہے ۔۔۔ کبھی کسی فین نے تنگ کیا؟
جواب:شہرت کا نشہ ایک خاص حد تک ہی اچھا لگتا ہے اس کے بعد انسان کی پرائیویسی ختم ہو جاتی ہے۔ ۔۔ باقی جب فین ہیں تو تنگ بھی کریں گے۔ فینز نہ ہوں کوئی بھی انسان اسٹار نہیں بن سکتا۔
سوال:کس موضوع پر لکھنا زیادہ پسند ہے ؟
جواب:ویسے تو ہر موضوع پر لکھا ہے پر تاریخ سے مجھے خاص لگائو ہے ۔ تاریخ بہت سے بھید کھولتی ہے چاہے ہم سبق سیکھیں یا نظر انداز کر دیں۔
سوال:نئے لوگوں کا بڑے شہروں میں آ کر قدم جمانا خاصا کٹھن ہے۔ آپ کا تجربہ کیسا رہا؟
جواب:بڑے شہروں کو چھوٹے علاقوں کے لوگوں نے ہی بڑا بنایا ہے ۔ شاعروں، ادیبوں سمیت ہر شعبے میں کامیاب لوگوں کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے بڑے شہروں میں آ کر اپنی شناخت بنائی۔ شرط صرف یہ ہے کہ ساحل پر اُتر کر کشتیاں جلا دی جائیں اور صرف اپنے ہدف پر نظر رکھی جائے۔
سوال:آپ کے نزدیک زندگی کی حقیقت کیا ہے؟ کوئی ایسا لمحہ جب آپ بہت بے بس ہو گئے ہوں۔ ان حالات میں کس نے آپ کا ساتھ دیا؟
جواب:زندگی ایک امتحان ہے اورجہاں بات امتحان کی ہو وہاں ایسی بہت سی مشکلات پیش آتی ہیںکہ انسان خود کو بے بس محسوس کرنے لگتا ہے ۔ ہم باوجود خواہش کے دوسروںکی مدد نہیں کر پاتے بلکہ بعض اوقات تو خود اپنے لیے بھی کچھ نہیں کر پاتے۔ وہ شخصیت جس نے ہر مشکل وقت میں میرا ساتھ دیاوہ میری وائف ہیں۔ یوں سمجھیںکہ مشکل میں ہم دونوں ہی ایک دوسرے کا سہارا بنے اور وہ وقت گزر گیا۔
سوال:کوئی ایسا لمحہ جب آپ دل برداشتہ ہو کر لکھنے کا ارادہ ترک کرنا چاہتے ہوں؟
جواب:ایسا کوئی لمحہ نہیں آیا۔میں اپنے کام سے ہمیشہ مطمئن رہا ہوں۔
سوال:دُعا کی بھی اپنی اہمیت ہے ۔ آ پ کی کامیابی کے پیچھے کسی کی دعائیںہیں؟
جواب:خدا ہمارے والدین کا سایہ قائم رکھے۔ دعائوں کے بنا ہم سب ادھورے ہیں۔
نہ جانے کون دُعائوں میں یاد رکھتا ہے
میں ڈوبتا ہو ں سمندر اچھال دیتا ہے
سوال:کوئی ایسی خواہش جو پوری نہ ہو سکی؟
جواب:بہت سی ہیں۔ اگر پوری نہیںہوئیں تو یقینا میرے رب کی مصلحت ہو گی۔
سوال:آپ کے ناول’’ خدا دُور نہیں ہے‘‘ میں شاہ ولی کا کردار آپ نے خود تخلیق کیا یا حقیقی زندگی میں بھی اس کردار سے ملنے کااتفاق ہوا؟
جواب:دلچسپ بات یہ کہ اس ناول کا آئیڈیا میں نے اپنے ایک خواب سے لیا۔ شاہ ولی کا کردار اس کہانی کی جان ہے ۔ یہ سارا ناول فکشن نہیں ہے ۔ اس میں حقیقت کا عنصر بھی شامل ہے ۔ یہ ناول لکھنے کے دوران میرا واسطہ ایسے کئی لوگوں سے رہا جن میں حیران کن صلاحیتیں تھیں۔
سوال:اچھی اور بری تحریر میں کیا فرق ہوتا ہے؟
جواب: بری تحریر پڑھ کر فوراََ احساس ہوجاتاہے کہ اپنا وقت ضائع کیا ہے ۔۔۔کہانی کئی اہم چیزوں کا مرکب ہوتی ہے۔ اچھی کہانی لکھنے کے لیے آپ پلاٹ کو نظر انداز نہیں کر سکتے، صرف لفاظی سے کام نہیں لے سکتے،منظر نگاری سے صفحے کالے نہیں کر سکتے۔لہٰذا کہانی لکھنے سے پہلے ہوم ورک مکمل ہونا ضروری ہے ۔یہ معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کیا لکھنا چاہتے ہیں،کیوں لکھنا چاہ رہے ہیں اور کس حد تک معلومات ہیں۔
سوال:آپ کے خیال میں محبت کیا ہے؟
جواب:محبت زندگی ہے۔ روشنی ہے ، جینے کی اُمید ہے ۔ محبت ہمیں خدا سے جوڑتی ہے ، بندوں کے قریب لاتی ہے ۔ پرانے رشتوں کو مضبوط بناتی ہے اور نئے رشتوں کی بنیاد بنتی ہے۔ اگر ہم زندگی سے محبت کو نکال دیں گے تو انسان کے پاس جینے کا کوئی جواز نہیں بچتا۔ ایسے بے شمار واقعات ہمارے سامنے ہیں جب لوگوں نے محبت کھو جانے پر دلبرداشتہ ہو کر جان دے دی۔
سوال:وقت انسان کو بدل دیتاہے۔ آپ کو کس حد تک تبدیل کیا؟
جواب:ہاں وقت انسان کو بدل دیتا ہے۔ مجھے بھی اتنا بدل دیا کہ ہر برائی برائی لگنے لگی اور یقین ہو گیا کہ وقت انصاف تو کرتا ہے ، رحم نہیںکرتا۔
سوال:کس قسم کے لوگ پسند ہیں؟
جواب:روز مرہ زندگی میںہر قسم کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے ۔ سب کا مزا ج الگ ہوتا ہے لیکن ہمیں سب کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے ۔ بہتر یہی ہے کہ اپنی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جائے ۔
سوال:اگر ایک دن کے لیے ملک کا صدر بننے موقع ملے تو پہلاکام کیا کریں گے؟
جواب:کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ملک کا صدر کوئی کام کرتا ہے ؟
سوال:کوئی بلا وجہ رعب جھاڑے تو برداشت کر لیتے ہیں؟
جواب:درویش نہیں ہوں۔
سوال:محبت انسان کو شاعر یا ادیب بنا دیتی ہے ، کس حد تک سچائی ہے اس میں؟
جواب:محبت آ پ کو اعتماد اور ذات کی تکمیل ضرور دیتی ہے مگر یہ شاعر یا ادیب نہیں بناتی ۔ آپ کے خیال میں کتنے لو میرج کرنے والے لوگ شاعر یا ادیب بن جاتے ہیں یا ناکامی پر کتابیں لکھنا شروع کر دیتے ہیں۔
سوال:ادب کی تعریف کن لفظوں میں کریں گے؟
جواب:میرے نزدیک آج کا ادب وہی ہے جو آج کے مسائل کی نشاندہی کرتا ہے ۔ جب کہ یہاں ادیب صرف خواب بیچتے ہیںاور لوگوں کو عملی زندگی سے دور کر دیتے ہیں۔ اکثر کہانیاں کزن افیئرز، کچن، فیشن یاخاندانی سیاست سے باہر نہیں نکل پاتیں۔ ایسے لکھاری کیا ڈلیور کر رہے ہیں اپنے پڑھنے والوں کو ۔ کیا یہی ادب کی خدمت ہے؟
سوال:لکھاری نہ ہوتے تو ؟
جواب:ہر پتھر زمانے کی ٹھوکریںکھا کر اپنی اصل جگہ پہنچ جاتا ہے ۔مجھے رائٹر ہی بننا تھا ، اگر ایسا نہ ہوتا پروفیشن تبدیل نہ کرتا ۔
سوال:ہمارے ہاں یہ تصور موجود ہے کہ جس رائٹر کی کتاب شائع نہ ہوئی ہو اسے رائٹر نہیں مانا جاتا ۔ یہ بات کس حد تک درست ہے ؟
جواب:یہ بات بالکل غلط ہے ۔ میں ایسے بہت سے لوگوں کو رائٹر نہیں مانتا جن کی کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ اگر کوئی قابل لکھاری صاحبِ کتاب نہیںہے تو یہ ہمارے پبلیشنگ سسٹم کی بے حسی ہے، لکھنے والے کی نا اہلی نہیں ۔
سوال:کیا موسم کا اثر رائٹر کی تحریر اور اس کے مزاج پر بھی ہوتا ہے ؟
جواب:موسموں کی شدت کا اثر تو سب پر ہوتا ہے مگر میرا خیال ہے کام پر اتنا اثر نہیں پڑتا ۔ جو لوگ دن رات اپنے کام میں مصروف ر ہیں وہ موسموں کے محتاج نہیں رہتے ۔ ہاں البتہ لوڈ شیڈنگ کے سامنے گھٹنے ضرور ٹیک دیتے ہیں۔
سوال:گھر سے نکلتے وقت کون سی تین چیزیں ساتھ لیتے ہیں؟
جواب:لوٹنے کا پروگرام ہے کیا؟؟؟
سوال:ہر رائٹر پر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب وہ کچھ لکھ نہیں پاتااور جمود طاری ہو جاتا ہے ۔ کیا آپ کے ساتھ بھی کبھی ایسا ہوا؟‘‘
جواب: آپ تسلسل سے کام کر رہے ہوں تو بہت کم ایساہوتا ہے ۔ اگر خود کو ذہنی طور پر فریش رکھا جائے اور دیگر مشاغل کی جانب بھی توجہ دی جائے تو ایسی صورت حال پیدا نہیں ہوتی۔
سوال:آپ نے اپنی پہلی کتاب کا انتساب کس کے نام کیا؟
جواب:امی ،ابو کے نام۔
سوال:نئے لکھاریوں کے لیے کچھ کرنے کا موقع ملے تو کیا کرنا چاہیں گے؟
جواب:ہم ایسا پلا ن کر رہے ہیںکہ آن لائن نئے رائٹرز کی اصلاح کی جائے۔ لکھنے کے بارے میں بنیادی باتیں بتائی جائیں۔زبان کی خامیوں کو بہتر بنایا جائے اور گرائمر پر توجہ دی جائے۔
سوال:اپنی کوئی ایسی کہانی جسے پڑھ کر احساس ہوا ہو کہ کاش میں یہ کہانی نہ لکھتا؟
جواب:کبھی ایسا نہیںہوا۔
سوال:کوئی ایسی شخصیت جس سے ملنے کو دل چاہتا ہو؟
جواب:کوئی خاص شخصیت نہیں ہے۔ البتہ قریبی دوستوں سے ملنے اور گپ شپ کے لیے تیار رہتا ہوں۔ باقی کسی کو آئیڈیل بنا کر پیچھے بھاگنے والی عادت شروع سے نہیں ہے ۔
سوال:بھائی بہنوں کی تعداد اور آپ کا نمبر ؟
جواب:دو بھائی ، تین بہنیں ۔میں سب سے چھوٹا ہوں۔
سوال:شادی ارینج ہوئی یا لو میرج؟
جواب:ارینج۔
سوال:بچوں کی تعداد؟
جواب:ایک بیٹا ہے۔۔۔ عبداللہ عرفان
سوال:کوئی ایسی شرارت جس پر بچپن میں بہت مار پڑی ہو؟
جواب:کبھی یاد گار دھنائی نہیںہوئی ۔ البتہ ہلکی پھلکی مرمت ہو جایا کرتی تھی ۔ وجہ یہ کہ میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا ۔لہٰذا ذرا نرم ہاتھ رکھاجاتا تھا ۔
سوال:کیا شوق سے کھایا کرتے تھے اسکول لائف میں اور پاکٹ منی کتنی ملتی تھی؟
جواب:اس وقت پیسے کی قدر تھی۔ جب میں اسکول میں تھا تو مجھے ایک روپیہ ملتا تھا ۔ جوکسی بچے کی پاکٹ منی کے لیے کافی ہوتا تھا ۔ سموسے ، گچک ،برف کے گولے ، چنے اور وہ زبان کو سرخ کر دینے والا کھٹا میٹھا چورن ۔۔۔ہمارے بچپن میں تو یہی چیزیں ہوا کرتی تھیں جنہیں کھا کر آئے دن گلا خراب کر لیا کرتے تھے۔۔۔ اب صورت حال مختلف ہے ۔ بچوں کو زیادہ پاکٹ منی دی جاتی ہے اور ان کے پا س اسکول کنٹین میں چوائس بھی زیادہ ہے۔
سوال:کوئی ایسی شرارت جسے یاد کر کے ہنسی آتی ہو؟
جواب:بہت سی شرارتیں ہیں جنہیں یاد کیا جائے تو ہنسی آتی ہے مگر ایک شرارت ایسی بھی تھی جسے یاد کر کے جسم میں خوف کی لہر دوڑ جاتی ہے ۔ ایک بار ہم سب بچے کھیلنے کے لیے نہر کے کنارے گئے اور پانی میں اتر گئے ۔ جہاں میں ایک کھائی میں قریباََ ڈوب چکا تھا کہ کسی مہربان نے مجھے پانی سے باہر نکال لیا۔وہ پہلا موقع تھا جب میں نے موت کو بہت قریب سے دیکھا۔
سوال:بچپن میں کیا سوچتے تھے کہ بڑے ہو کر کیا بنیں گے؟
جواب:بچپن کی سوچیں بہت عجیب اور معصومانہ ہوتی ہیں۔ انسان سمجھتا ہے زندگی اس کے تابع رہے گی۔ وہ وقت اور حالات کو اپنا غلام سمجھتا ہے جب کہ ایسا ہوتا نہیں۔ مستقبل کے فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔ مجھے بچپن میں ائیر فورس سے بہت لگائو تھا مگر وقت نے پر کاٹ کر رائٹنگ ٹیبل پر بٹھا دیا ۔ جہاں میں اپنے ربّ کی رضا میں خوش ہوں۔
سوال:خواب دیکھتے ہیں اور کیا خواب پورے ہوتے ہیں؟
جواب:خواب دیکھنا زندگی کی علامت ہے۔ ہر انسان کا خوابوں کے بارے میں تجربہ مختلف ہو تا ہے ۔ آپ کو شاید حیرت ہو کہ مجھے بحیثیت رائٹر خوابوں نے ہمیشہ سپورٹ کیا ہے ۔
سوال:آپ رائٹر بھی ہیں اور شیف ٹائمز کے ایڈیٹر بھی، کیسے مینج کرتے ہیں سب ۔ کیالکھنے کا وقت مل جاتا ہے میگزین کی تیاری کے ساتھ؟
جواب:انسان کو اپنے فن پر عبور ہو تو وقت اس کے لیے سکڑتا نہیں پھیل جاتا ہے ۔ بظاہر سب کو دن رات میں چوبیس گھنٹے ہی ملتے ہیں لیکن کام کرنے کی صلاحیت ہر شخص کی مختلف ہوتی ہے۔
سوال:کس موضو ع پر لکھتے ہوئے لگتا ہے کہ آپ نے قلم کا حق ادا کر دیا؟
جواب: مصنف کے لیے اس کی ہر تحریر اہم ہوتی ہے۔ اگر آپ کو کہانی لکھنے کے بعد خود یہ احساس نہیں ہو گا کہ میں نے قلم کا حق ادا کر دیا تو اندر کا ایڈیٹر فوراََ تحریر کی خامیاں بتا دے گا۔
سوال:زندگی سے کوئی گلہ؟
جواب:کوئی گلہ نہیں ! زندگی تو امانت ہے ، جانے کب واپس طلب کر لی جائے ۔ ہم سب خطا کے پُتلے ہیں اور اس کا حق ادا نہیں کر پاتے۔
سوال:آپ کی کتنی کتابیں مارکیٹ میں آ چکی ہیں اور کون سی کتاب زیادہ پسند ہے ؟
جواب:میری بیس کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ کچھ پر کام ہو رہا ہے ۔ مختلف ڈائجسٹوں میں شائع ہونے والی کہانیوں اور ناولٹ کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے ۔ مجھے مسلسل تین مرتبہ حکومت پاکستان نے نیشنل بک فاونڈیشن ایوارڈ سے نواز۔ وہ کتاب جو وجہ شہرت بنی میرا ناول’’ خدا دور نہیں ہے ۔ ‘‘
اس ناول کو ہر طبقہ فکر نے پسند کیا ۔ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ یہ ناول آکسفورڈ یونیورسٹی کی لائبریری میں بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ Amazon اسے کئی ممالک میں آن لائن سیل کر رہی ہے۔
سوال:آپ کی فیملی میں کسی کو لکھنے کا شوق ہے؟
جواب:بھائی بہنوں میں سے تو کسی کو نہیں تھالیکن مطالعہ سب کرتے تھے۔ البتہ میری وائف شاہانہ عرفان افسانے اور آرٹیکل لکھتی ہیں۔
سوال:کیا واقعی ہمارے ہاں فی میل رائٹرز کو فیملی سپورٹ کم ملتی ہے خاص کر شادی کے بعد ؟
جواب:یہ بات درست ہے۔ بطور ایڈیٹر میںنے بہت سی اچھا لکھنے والی خواتین کو شادی کے بعد قلم سے تعلق توڑتے دیکھا۔ جس کی وجہ ان کی گھریلو مجبوریاں تھیں ۔ اکثریت کا کہنا تھا کہ سسرال والے ان کے کام کو وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ مگر یہ طے ہے کہ رائٹر کے قلم پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ اگر وہ لکھے گا نہیں تو مر جائے گا۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ کئی اچھی فی میل رائٹرز نے شادی کے کئی برس بعد دوبارہ قلم سنبھالا اور لا زوال تحریریں تخلیق کیں ۔
سوال:ایک اچھے لکھاری کو کن باتوں کو مد نظر رکھنا چاہیے؟
جواب:لکھنا خدا داد صلاحیت ہے ۔ آپ یہ صلاحیت کسی میں پیدا نہیں کر سکتے ۔ ہاں اگر کسی میں یہ صلاحیت موجود ہے تو محنت اور ریاضت سے نکھار ضرور پیدا کیا جا سکتا ہے۔
سوال:کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سوشل میڈیا سے ادب کو فروغ ملا ہے ؟
جواب:سوشل میڈیا خصوصاََ فیس بک سے ادب کو کافی فروغ ملا ہے ،اس سے جہاں پبلشر حضرات کو اپنی کتابوں کی تشہیر کا موقع ملا ،وہیں نئے لکھنے والوں کی تخلیقات بھی گروپ مقابلوں کی شکل میں سامنے آئیں۔۔۔ اس سلسلے میں اُجالا آن لائن کے مقابلوں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے ۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں سے لکھنے والوں کو اپنی اصلاح کا موقع ملتا ہے اور نیا ٹیلنٹ سامنے آتا ہے ۔
سوال:آرٹیکل لکھنے کے لیے کیا ضروری ہے ؟
جواب:موضوع کے بارے میں معلومات ہونا بہت ضروری ہیں۔ اس کے بعد آپ کا مشاہدہ اور انداز بیاں اہم ہے ۔
سوال:نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی نصیحت یا مشورہ؟
جواب:نصیحتوں سے تو ساری قوم بھاگتی ہے ۔ مشورہ یہ ہے کہ خوب محنت کریں۔ اگر آپ میں لکھنے کی قابلیت ہے تو کسی سفارش کی ضرورت نہیں ہے ۔اپنی تحریر کی خامیوں کو دور کریں اور بھیڑ چال کا حصہ مت بنیں۔ ورنہ اپنی شناخت کھو دیں گے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close