Aanchal Mar-17

روشن راہ

نظیر فاطمہ

منزلیں ان کا مقدر کہ طلب ہو جن کو
بے طلب لوگ تو منزل سے گزر جاتے ہیں
جن کی آنکھوں میں ہوں آنسو انہیں زندہ سمجھو
پانی مرتا ہے تو دریا بھی اتر جاتے ہیں

’’امّاں! میں نے تجھے کتنی دفعہ کہا ہے کہ میں اپنی دھی رانی کو چھوڑ کر کہیں نہیں جائوں گی۔ تو میری بات سمجھ کیوں نہیں لیتی۔‘‘ آسیہ نے دوپٹے سے اپنی آنکھیں صاف کرکے امّاں کی طرف دیکھا جو ڈبڈبائی آنکھوں سے اُسے ہی دیکھ رہی تھی۔

’’دھیے! تو میری مجبوری نوں سمجھتی کیوں نہیں۔ میں تجھ جوان جہان کو کب تک ایسے بٹھا کر رکھ سکتی ہوں؟‘‘ امّاں نے لاچاری سے کہا۔

’’امّاں تو میری فکر نہ کیا کر۔ میرا اور میری دھی کا اللہ وارث ہے۔‘‘ آسیہ نے آنسوئوں کے درمیان بات مکمل کی۔

’’پتر تو اللہ کا نام لے کر ایک واری ہاں تو کر۔ رابعہ کا بھی وہ کوئی وسیلہ بنا دے گا۔ اختر کے بچوں کے ساتھ ساتھ یہ نمانی بھی پَل ہی جائے گی۔‘‘ امّاں نے نواسی کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا۔ بچی نانی کی محبت پر کھلکھلانے لگی۔

’’اختر کے بچوں کے ساتھ پَلنے کا مطلب ہے رُلنا۔ تو کیا زرینہ بھابی کی عادت کو جانتی نہیں؟ وہ تو تجھے برداشت نہیں کرتی تو اس معصوم کو کیسے کرے گی۔ ویسے بھی ہر کوئی جانتا ہے کہ وہ ہم دونوں ماں بیٹی سے کیسے خار کھاتی ہے۔ بس اگر کسی کو مجھ سے شادی کرنی ہے تو اُسے میری دھی کو بھی ساتھ لے جانا ہو گا۔‘‘ وہ بضد تھی۔ امّاں اس کی ضد سے ہار کر اُٹھ گئی اور آسیہ روتے روتے اپنی دھی کا سر چومنے لگی۔ 

…٭…٭…

تقریباً تین سال پہلے آسیہ بیاہ کر گئی اور ٹھیک ایک سال تین ماہ بعد بیوگی کی چادر اُوڑھ کر تین مہینے کی بچی کو گود میں لیے دوبارہ ماں باپ کے دروازے پر آبیٹھی۔ اس کا شوہر غلام رسول دل کا دورہ پڑنے سے خالقِ حقیقی سے جاملا اور آسیہ کی دنیا صحیح معنوں میں لُٹ گئی۔ اُس کے سسرال والوں نے اُسے چالیسویں تک بمشکل برداشت کیا اور چالیسویں کے بعد اُس کے ماں باپ کو بلا کر اُسے اس کی بیٹی سمیت واپس لے جانے کا حکم صادر کردیا۔ کٹھور دل لوگوں نے اُس گھر میں اُسے عدت بھی پوری نہ کرنے دی۔ کسی نے بچی کی ذمہ داری اُٹھانے کی حامی نہ بھری کہ مفت کا بوجھ کون اُٹھائے‘ ہاں بیٹا ہوتا تو چلو کوئی رکھ بھی لیتا کہ بڑے ہوکر چار پیسے کما کر دینے والا تو ہوتا۔

’’بھئی ہم آج ہیں کل نہیں۔ کیسے اس کی ذمہ داری اُٹھائیں۔‘‘ دادا دادی نے صاف دامن بچایا۔

آسیہ کے امّاں ابّا اپنی سہمی ہوئی بیٹی کو اس کی بیٹی سمیت اپنے ساتھ لے آئے۔ یوں پچھلے دو سالوں سے آسیہ اپنی بیٹی رابعہ کے ساتھ اپنے ماں باپ کے گھر پر تھی۔ آسیہ کو واپس آئے ایک سال ہوا تھا کہ اس کا ابّا اپنی بیٹی کی بربادی کا غم سینے سے لگائے چل بسا۔ اُس کے ابّے کی تھوڑی سی زمین تھی جس پر پورے خاندان کی گزر بسر تھی۔ تنگی تُرشی سے گزارا ہوہی جاتا تھا۔ آسیہ کا بھائی اختر چار بچوں کا باپ تھا۔ باپ کے مرنے کے بعد ساری ذمہ داری اس کے کندھوں پر آگئی جبکہ اس سے پہلے کام اور حساب کتاب کی ساری ذمہ داری ابّے کے پاس تھی۔ اختر بس اُن کے کہنے کے مطابق کام کرکے بے فکر رہتا۔ اب بڑھتے ہوئے اخرجات، اختر کی ناتجربہ کاری اور اختر کی بیوی زرینہ کی جھگڑالو فطرت، گھر میں ہر وقت چخ چخ رہنے لگی۔ اپنی ساس کو تو وہ جیسے تیسے برداشت کرلیتی تھی مگر اپنی نند اور اس کی بیٹی اس سے برداشت نہیں ہوتی تھیں۔ سسر کے مرنے کے بعد تو وہ اس معاملے میں اور بھی کُھل گئی تھی۔ اُٹھتے بیٹھتے آسیہ کو مفت خوری کے طعنے دیتی۔ آسیہ اور رابعہ کو بوجھ کہتے اور ہر آئے گئے کے سامنے اپنے دکھڑے اتنی اُونچی آواز میں روتی کہ آسیہ تو ضرور ہی سُن لے۔ گھر کے حالات کو سامنے رکھ کر امّاں اپنی بیٹی کے ساتھ ہونے والی ہر زیادتی پر خاموش ہوجاتی۔ آسیہ یہ سب کچھ چُپ چاپ برداشت کرنے پر مجبور تھی کہ اس کے سوا کوئی اور چارہ بھی تو نہ تھا۔

…٭…٭…

ان حالات کو سامنے رکھتے ہوئے امّاں نے آسیہ کی دوسری شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ جہاں بھی اس کی بات چلی، ہر کسی نے بچی کو ساتھ لے جانے سے انکار کردیا۔ ابھی پچھلے دنوں چار بچوں کے باپ کا رشتہ آیا۔ اس شخص کی بیوی کچھ عرصہ بیمار رہ کر مر گئی تھی۔ وہ لوگ آسیہ کو پسند کر گئے تو آسیہ نے امّاں کے سامنے اپنی شرط رکھ دی۔

’’امّاں! جب میں اس کے چار بچوں کو پال سکتی ہوں تو وہ میری ایک دھی کی ذمہ داری نہیں اُٹھا سکتا؟ بس تو انھیں صاف صاف بتا دے کہ میری رابعہ میرے ساتھ جائے گی۔‘‘ امّاں اس کی شرط سن کر خاموش ہوگئی۔

’’دیکھ آسیہ… زمانے کا دستور سمجھ پُتر، پرائی اُولاد کو کون سینے سے لگاتا ہے۔ خاص طور پر عورت کے پہلے شوہر کی اولاد کو کوئی برداشت نہیں کرتا۔‘‘ امّاں سمجھا سمجھا کر تھک گئی تھیں۔

’’کیوں امّاں…؟ لوگ صرف عورت کو ہی کیوں قربانی اور محبت کا دریا سمجھتے ہیں۔ کبھی تو آدمیوں کو بھی تھوڑی قربانی دینی چاہیے۔‘‘ آسیہ رابعہ کو چھوڑ کر کسی طور دوسری شادی کے لیے تیار نہیں تھی۔

اس کی ضد امّاں کے کندھوں کا بوجھ بن گئی تھی۔ مجبور ہوکر امّاں نے اُدھر بات کی تو اُنھوں نے صاف کہہ دیا کہ اُنھیں صرف آسیہ چاہیے، بچی نہیں۔ آسیہ نے اس رشتے سے انکار کردیا۔ کئی روز تک گھر میں فساد مچا رہا۔ زرینہ منہ بھر بھر کر آسیہ اور اس کی بچی کو کوسنے دیتی۔ کسی وقت آسیہ کی برداشت جواب دے جاتی اور وہ پلٹ کر جواب دے دیتی تو پھر وہ میدان گرم ہوتا کہ امّاں اور اختر سر پکڑ کر بیٹھ جاتے۔

…٭…٭…

اسی طرح لڑتے جھگڑتے کِل کِل کرتے وقت گزرتا رہا۔ رابعہ اب چار سال کی ہورہی تھی۔ ایک روز دروازے پر دستک ہوئی۔ امّاں کی رشتے کی خالہ زاد صابرہ بی بی آئی تھی۔ صابرہ بی بی فطرتاً بہت نرم دل اور مہربان عورت تھی۔ سالوں بعد کبھی کبھار امّاں سے ملنے آجاتی تھی مگر آج تو وہ کسی خاص مقصد سے آئی تھی۔ سال بھر پہلے صابرہ کی بہو زچگی کے دوران فوت ہوگئی تھی۔ بچہ بھی چند روز زندہ رہنے کے بعد ماں کے پیچھے ہی چلا گیا تھا۔

’’کبریٰ! میں تیرے پاس آسیہ کو اپنے ندیم کے لیے مانگنے آئی ہوں۔‘‘ صابرہ کا سوال سن کر امّاں خاموش ہوگئی۔

’’کبریٰ کن سوچوں میں گم ہوگئی اے… کچھ تے بول۔‘‘ صابرہ نے امّاں کا ہاتھ ہلایا۔

’’صابرہ! وہ آسیہ کہتی ہے کہ وہ اس شرط پر دوسری شادی کرے گی کہ اس کی رابعہ کو بھی اس کے ساتھ قبول کیا جائے۔ اب تو ہی بتا بھلا ایسا کہیں ہوتا ہے۔‘‘ امّاں بے بسی سے بولیں۔

’’ہاں تو آسیہ بالکل ٹھیک کہتی ہے۔ لے دس بھلا رابعہ نوں کس جرم وچ ماں سے الگ کیتا جائے۔‘‘ صابرہ نے آسیہ کی طرف داری کی۔ امّاں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا دی۔

’’میں اینی ظالم نہیں آں کہ ماں نوں بچی سے جدا کردوں۔ میں آسیہ نوں بہو تے رابعہ نوں اپنی پوتی بنا کے لے جائوں گی تو فکر نہ کر۔‘‘ صابرہ نے امّاں کو حوصلہ دیا۔

صابرہ نے آسیہ کو اپنی بہو بنانے اور رابعہ کو ساتھ لے جانے کا عندیہ کیا دیا کہ سارے گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اس کا گھرانہ کافی خوش حال تھا۔ پانچوں بچے الگ الگ سیٹ تھے۔ انکار کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی پھر بھی امّاں نے رسماً سوچنے کا وقت مانگ لیا۔ آسیہ اپنے رب کی اس عطا پر سجدہ ریز ہوگئی جس نے اس کی بچی کو رلنے سے بچا لیا تھا۔ امّاں اپنی بیٹی کے دوبارہ بس جانے کے خیال سے پھر سے جی اُٹھی تھی۔ جب سے صابرہ ہوکر گئی تھی زرینہ کے رویے میں بھی بہت بہتری آگئی تھی۔

…٭…٭…

’’ندیم پتر… اج میں ساتھ والے پنڈ میں تیری کبریٰ خالہ کے گھر گئی تھی۔‘‘ ندیم زمینوں سے واپس آیا تو ماں نے اس کے سامنے کھانا رکھا اور خود بھی پاس بیٹھ گئی۔

’’اچھا بے بے، پھر؟‘‘ اُس نے روٹی کا نوالہ منہ میں رکھا۔

’’پتر… میں نے آسیہ کے ساتھ تیرے رشتے کی بات کی ہے۔ کبریٰ بڑی خوش تھی۔ ابھی اُس نے کوئی جواب تو نہیں دیا پر مینوں یقین ہے کہ وہ لوگ مان جائیں گے۔‘‘ ندیم نے روٹی کھاتے ہوئے سر ہلایا۔

دو مہینے بعد آسیہ کی رخصتی کا وقت آیا تو امّاں نے رابعہ کو ایک دو روز کے لیے اپنے پاس روک لیا۔ آسیہ اس بات پر راضی نہیں تھی پر امّاں کے سمجھانے پر چپ کر گئی۔

’’کبریٰ… تو کل دوپہر کو رابعہ کو آسیہ کے پاس چھوڑ دینا۔ سادگی سے نکاح کیا ہے میں نے۔ گھر میں کوئی خاص مہمان نہیں ہیں۔ جو اکا دکا ہوں گے وہ بھی کل سویرے چلے جائیں گے۔‘‘ صابرہ نے جاتے جاتے امّاں کو تاکید کی۔

اگلے روز دوپہر کو امّاں رابعہ کو لے کر آگئی۔ ندیم کسی کام سے گیا ہوا تھا۔ آسیہ رابعہ کو گود میں لے کر دیوانہ وار چومنے لگی۔ خوشی اس کے انگ انگ سے جھلک رہی تھی۔ صابرہ دونوں ماں بیٹی کو دیکھ کر مسکرا دی۔

’’آجا کبریٰ… اندر چل کے بیٹھ۔‘‘ وہ امّاں کو لیے اندر چلی گئی۔

’’آسیہ… اب بس کر۔ رابعہ اب تیرے کول ہی ہے جاجا کے اپنی ماں واسطے کوئی چاہ پانی کا بندوبست کر… چل شاباش‘‘ صابرہ جاتے جاتے پلٹی۔

’’صابرہ بہن… مینوں سمجھ نئیں آرہی کہ میں تیرا شکریہ کس طرح ادا کروں۔ رب تجھے اس نیکی کا بڑا اجر دے گا۔‘‘ واپس جاتے وقت امّاں نے صابرہ بی بی کا ہاتھ دبا کر تشکر کا اظہار کیا۔

’’اب بس کر تو… جا کے آرام نال زندگی گزار۔ اج توں یہ دونوں میری ذمہ داری ہیں۔‘‘ صابرہ نے تسلی دی۔

شام کو ندیم واپس آیا۔ آسیہ رابعہ کو لے کر بے بے کے پاس بیٹھی تھی۔ وہ بھی وہیں چلا آیا۔

’’بے بے… یہ…؟‘‘ اس نے رابعہ کی طرف اشارہ کیا۔

’’پتر… یہ آسیہ کی دھی ہے اور آج سے تیری بھی۔‘‘ بے بے نے ندیم کے چہرے پر نظر آتی ناگواری نظر انداز کرکے کہا۔

’’بے بے… تو میری بات سن لے غور نال کہ یہ لڑکی میری کچھ نہیں لگتی اور نہ ہی یہ اس گھر میں رہے گی۔‘‘ ندیم غصے سے کہہ کر چلا گیا۔ آسیہ نے ڈبڈبائی آنکھوں سے بے بے کی طرف دیکھا جو اپنے پتر کے ایسے ردعمل پر ساکت ہوگئی تھی۔ چند لمحوں بعد صابرہ نے خود کو سنبھالا اور دونوں ماں بیٹی کو اپنے ساتھ لگالیا۔

’’دھی… تو پریشان نہ ہو تھوڑا ویلا گزرنے کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ بے بے کے ساتھ لگی آسیہ کا دل چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ اب کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا۔ وہ ہار گئی تھی۔

…٭…٭…

ہر گزرتے دن کے ساتھ آسیہ کے خدشات مجسم ہوکر سامنے آنے لگے۔ بے بے نے رابعہ کو واپس تو نہ جانے دیا مگر ندیم رابعہ کو ذرا دیر برداشت نہیں کرتا تھا۔ رابعہ کی وجہ سے اس کے کسی کام میں دیر ہو جاتی تو وہ چیخنے چلانے لگتا۔ آسیہ اور رابعہ کو بُرا بھلا کہتا۔ رابعہ اس کے رویے سے الگ سہمی رہتی۔ آسیہ رابعہ کو ندیم سے چھپائے پھرتی اور اپنی بے بسی پر آنسو بہاتی۔ البتہ صابرہ کا رویہ دونوں کے ساتھ بہت اچھا تھا۔ وہ رابعہ کو اپنے ساتھ لگائے رکھتی اور اس سے بہت پیار کرتی تھی۔ رابعہ اتنے سے دنوں میں صابرہ سے بہت مانوس ہوگئی تھی۔ مگر ندیم کو وہ دور سے بھی دیکھ لیتی تو سہم کر رہ جاتی۔

’’یتیم بچی ہے پتر… اس کا خیال رکھا کر۔ اللہ سوہنا راضی ہوتا ہے۔‘‘ صابرہ بیٹے کو سمجھاتی رہتی۔

’’بے بے… مجھے بتا ذرا کہ سارے جہان کے یتیموں کا ٹھیکہ کیا میں نے ہی لے رکھا ہے۔‘‘ وہ تکبر سے بولا۔

’’نا پتر… اینا تکبر نہ کر، اللہ کو تکبر پسند نئیں ہے۔ سوہنا رب ان درختوں کے سائے گھنے اور لمبے کردیتا ہے جو یتیموں کو اپنی پناہ میں لے لیتے ہیں۔ تو یتیم کو ٹھوکر نہ مار میرا پتر… اس کو اپنی پناہ میں لے لے۔ رب کرم کرے گا۔‘‘ صابرہ بیٹے کے انداز پر کانپ کر اسے سمجھانے لگتی۔

ماں کے سمجھانے اور آسیہ کی ہر ممکن احتیاط کے باوجود ہفتے میں ایک بار رابعہ کو لے کر ہنگامہ ہوجاتا۔ اب صابرہ بھی پریشان ہونے لگی تھی کہ یتیم بچی کے ساتھ ایسا سلوک، اُسے اللہ کے قہر سے ڈر لگنے لگا تھا۔

’’پتر… چل تو اس کو دھی نہ سمجھ پر اسے یہاں رہن تو دے، نمانی تجھے کیا کہتی ہے بھلا۔‘‘ صابرہ پھر میدان میں اُتری۔

’’بے بے… مینوں کجھ نئیں پتہ۔ بس میں اس کو برداشت نہیں کر سکدا، تو آسیہ سے کہہ اسے اپنی ماں کے گھر چھوڑ آئے۔‘‘ بے بے کے سمجھانے کا بھی کوئی اثر نہ ہوا۔

…٭…٭…

پھر اُس روز تو حد ہی ہوگئی۔ پچھلے کچھ دنوں سے رابعہ کو بخار تھا۔ اب بخار تو اُتر گیا تھا لیکن وہ بہت چڑچڑی ہورہی تھی۔ ماں کو تو چھوڑتی ہی نہ تھی۔ آسیہ اُسے گود میں لیے بیٹھی تھی جب ندیم نے آکر کھانا مانگا۔ آسیہ رابعہ کو گود سے اُتارنے لگی مگر وہ گود سے اُترنے پر کسی طور راضی نہ ہوئی تو وہ اُسے اُٹھا کر باورچی خانے میں چلی گئی۔ بے بے نہا رہی تھی ورنہ وہ رابعہ کو پکڑ لیتی۔ ندیم کو اتنا غصہ آیا کہ سامنے رکھی چوکی کو زور دار ٹھوکر مار کر برآمدے میں بچھی چارپائی پر جا بیٹھا۔

کھانا گرم کرنے کے دوران آسیہ نے کسی طرح رابعہ کو بہلا کر گود سے اُتار دیا اور اُس کے ہاتھ میں پلاسٹک کی گیند دے کر باورچی خانے سے باہر بھیج دیا۔ وہ صحن میں آکر گیند سے کھیلنے لگی۔ آسیہ نے ندیم کے سامنے کھانا رکھا۔ وہ بہت ہی بُرے موڈ کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا۔ اُسے صحن میں کھیلتی ہوئی رابعہ زہر سے بھی بُری لگ رہی تھی۔

رابعہ نے کھیلتے کھیلتے گیند اُچھالی تو وہ اڑتی ہوئی سیدھی ندیم کی سالن والی پلیٹ میں جا گری۔ آسیہ اُس کے پاس ہی بیٹھی تھی۔ ندیم کے تیور دیکھ کر وہ ڈر کر فوراً اُٹھ کھڑی ہوئی۔ پھر تو جیسے ندیم پر جنون سوار ہوگیا۔ وہ چیل کی طرح رابعہ کے سر پر جاپہنچا اور اُسے بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے چیخنے چلانے لگا۔

’’دفعہ کیوں نہیں ہو جاتی تو اِدھر سے، کیوں ہمارا چین برباد کرتی ہے، خود تو تیرا باپ مر گیا اور تجھے میرے سر منڈھ گیا۔ چل شکل گم کر اپنی یہاں سے۔‘‘ اس سے پہلے کہ آسیہ رابعہ کو اس کی گرفت سے چھڑاتی ندیم نے رابعہ کو اتنی زور سے دھکا دیا کہ وہ سیدھی برآمدے کے ستون سے جا ٹکڑائی۔ اُس کا ماتھا پھٹ گیا اور خون بہنے لگا۔ آسیہ اور رابعہ کی چیخ سن کر صابرہ جلدی جلدی غسل خانے سے باہر آئی۔ رابعہ کے ماتھے سے بہتا خون دیکھ کر اس کا دل دہل گیا۔ اُس نے بیٹے کو بُرا بھلا کہا تو وہ دروازہ زور سے بند کرکے گھر سے باہر چلا گیا۔ آسیہ کے تو ویسے ہی ہاتھ پائوں پھول گئے تھے۔ چھوٹا سا گائوں تھا۔ قریب کہیں کوئی ڈاکٹر بھی نہیں تھا۔ صابرہ نے جلدی جلدی صاف سوتی کپڑے کا ٹکڑا جلایا اور اُس کی راکھ رابعہ کے زخم میں بھر دی جس سے خون رُک گیا۔ شام کو صابرہ نے بیٹے کو سخت لہجے میں سمجھایا تو وہ جیسے ماں کا لحاظ بھی بھول گیا۔

’’بے بے… میں اس روز روز کے تماشے سے تنگ آگیا ہوں تو مجھ پر مہربانی کر یا تو اس منحوس بچی کو واپس چھوڑ کے آ یا فیر، میں آسیہ کو چھوڑ دیتا ہوں۔ مجھ سے کسی دوسرے کے بچے نہیں پالے جاتے۔ تجھے آرام نال میری گل سمجھ نہیں آئی میں کتنی بار تجھ سے کہہ چکا ہوں کہ میں اس کو اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا۔‘‘ اس نے تنفر سے ایک نظر آسیہ پر ڈالی جو سوئی ہوئی رابعہ کو گود میں لیے اُس کے سر پر ٹھوڑی ٹکائے روئے چلی جارہی تھی۔ صابرہ بیٹے کے انداز پر بے دم سی ہوکر چارپائی پر گر گئی۔

’’میں تو ساری حیاتی یہی سمجھتی رہی کہ ماں مر جائے تو دوجی واری ماں نئیں ملتی‘ پر آج اپنے پتر کو دیکھ کر مینوں یقین ہوگیا کہ دوجی واری باپ بھی نئیں ملتا۔‘‘ صابرہ ساری رات بے چینی سے کروٹیں بدلتی رہی۔

پھر بہت سوچ بچار کے بعد صابرہ نے اپنا مسئلہ مولوی صاحب سے بیان کرنے کا فیصلہ کیا۔ مولوی صاحب اس گائوں کی چھوٹی سی مسجد کے امام تھے۔ اس کے علاوہ وہ لوگوں کی فلاح وبہبود کے کام بھی کرتے تھے۔ ان کی شہرت آس پڑوس کے دیہاتوں تک تھی۔ لوگ اپنے دینی مسائل کے ساتھ ساتھ اپنے گھریلو مسائل بھی ان سے بیان کرتے تھے اور مولوی صاحب بہت طریقے سے وہ مسلہ حل کردیتے تھے، خود حل نہ کرسکتے تو رہنمائی کردیا کرتے تھے۔ اس طرح خلق خدا کا بھلا ہوجاتا۔ مولوی صاحب کی باتوں اور نصیحتوں میں بہت اثر تھا۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ دوسروں کو جو نصیحت کرتے تھے خود پہلے سے اُس پر عمل پیرا ہوتے تھے۔

…٭…٭…

’’مولوی صاحب… میں نے یہ فیصلہ اس واسطے کیا تھا کہ میرے پُتر دا گھر بھی وس جائے گا تے نالے یتیم بچی کو پالن کا ثواب بھی ملے گا۔ مینوں کیا پتہ تھا کہ میرا پُتر اتنا تھوڑ دلا (کم ظرف) ہے۔ میں نے تو دونوں ماں دھی کا دردی (ہمدرد) بننے کا سوچا تھا مگر میرا پتر تو وڈا بے دردی ہوگیا ہے۔ مولوی صاحب تُسی اُس کو کچھ سمجھائو۔‘‘ صابرہ نے ساری صورتِ حال مولوی صاحب کے سامنے رکھ دی۔ اُنھوں نے صابرہ کی ہر بات بہت غور سے سنی تھی۔

’’صابرہ بہن… اگر میں نے تیرے کہنے پر ندیم کو بلا کر سمجھایا تو وہ اور چڑ کھائے گا۔ تم بے فکر ہوکر گھر جائو میں اس مسئلے کے بارے میں غور کرتا ہوں ان شاء اللہ اس کا کوئی نہ کوئی حل ضرور نکل آئے گا۔‘‘ مولوی صاحب نے تسلی دی۔

…٭…٭…

ندیم غصے کا تیز تھا، کم ظرف تھا مگر وہ نماز کی پابندی کرتا تھا۔ باقی نمازیں وہ کام کے سلسلے میں جہاں بھی ہوتا وہیں پر ادا کرلیتا تھا مگر فجر کی نماز ہمیشہ جماعت کے ساتھ مسجد میں ادا کرتا تھا اور جمعے کی نماز کا بھی بہت اہتمام کرتا تھا۔ آج جمعہ تھا۔ ندیم صبح سویرے اُٹھا اور فجر کی نماز کے لیے وضو کرنے لگا۔ وضو کرکے پلٹا تو اس کی نظر باورچی خانے کی طرف گئی جہاں آسیہ چھاچھ میں سے مکھن نکال کر مٹی کے بڑے سارے پیالے میں رکھتی جارہی تھی۔ اُسے یہاں کھڑے کھڑے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ رو رہی ہے۔ ندیم نے اپنا پٹکا زور سے جھاڑا اور بڑبڑاتا ہوا مسجد کی طرف چل دیا۔ دوپہر کو وہ کھیتوں سے واپس آیا تو آسیہ نے اُس کے کپڑے استری کرکے رکھے ہوئے تھے۔ وہ نہا دھو کر صاف ستھرے کپڑے پہن کر جمعہ کی نماز پڑھنے چلا گیا۔

…٭…٭…

مولوی صاحب نے جمعہ کی نمازکا خطبہ شروع کیا۔ اللہ کی حمد و ثنا کے بعد اُنھوں نے بولنا شروع کیا۔

’’جو چھوٹے بچے اپنے باپ کے سائے سے محروم ہوجاتے ہیں، ان کے متعلق ہم سب مسلمانوں پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ ہم ان یتیموں کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آئیں، ان کی ضروریات کا خیال رکھیں، ان کی مناسب تعلیم و تربیت کا انتظام کریں۔ یتیم بچیوں کی تربیت اور شادی بیاہ کا خاص طور پر اہتمام کریں۔ مومنو… اسلام میں یتیموں کے حقوق کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ اللہ سبحان و تعالیٰ نے یتیم کے ساتھ بدسلوکی کرنے، ان کو دھکے دینے اور ان پر قہر و ستم سے روکا ہے۔ ’پس یہی وہ (بدنصیب) ہے جو یتیم (بے کس کی ہمدردی کرنے کی بجائے اس) کو دکھے دیتا ہے (اپنی بداخلاقی اور بے رحمی کا مظاہرہ کرتا ہے)۔ سورۃ الماعون: آیت نمبر:۲۔‘‘

ندیم معمول کے مطابق خطبہ غور سے سن رہا تھا۔ مولوی صاحب کی باتوں نے اسے جیسے نیند سے جھنجھوڑ کر جگایا تھا۔ یک دم اس کی آنکھوں کے سامنے رابعہ کا معصوم چہرہ آگیا اور پھر اُسے دھکا دینا یاد آیا۔

’’اُف… میں نے اللہ کے حکم کی اتنی خلاف ورزی کی۔‘‘ اس کے اندر سے آواز آئی۔ وہ بے چین ہوگیا۔ خطبہ جاری تھا۔

’’مومنو… میرے پیارے رسول حبیبِ کبریاء محمدِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یتیم کی کفالت کرنے والے کو جنت میں اپنے قرب کی خوش خبری دی ہے۔ میرے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق مسلمانوں کا وہ گھر سب سے اچھا ہے جس میں کسی یتیم کے ساتھ بھلائی کی جارہی ہو اور سب سے بُرا گھر وہ ہے جہاں کسی یتیم کے ساتھ بدسلوکی ہوتی ہو۔‘‘ ندیم کو جیسے کسی نے کوڑا دے مارا۔

’’ہائے میری بدنصیبی مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ ٖوسلم کی قربت کا موقع دیا گیا اور میں نے یتیم سے بدسلوکی کرکے اپنے گھر کو بدترین بنالیا۔‘‘ آنسو اس کے گالوں پر بہنے لگے اور وہ دھیرے دھیرے کانپنے لگا۔ مولوی صاحب بولتے جارہے تھے اور ندیم کی آنکھوں کے سامنے رابعہ سے بدسلوکی کے واقعات آرہے تھے۔

’’میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ لوگ خوش قسمت ہیں جن کے گھر میں اللہ خود کسی یتیم کو بھیج دے کہ لو اس کی پرورش کرکے اللہ کی رضا حاصل کرلو۔ مگر ہم کم عقل اور کم ظرف لوگ ایسی صورت میں ان یتیموں کو دھکے مار کر نکال باہر کرتے ہیں کہ ہم پرائی اولاد کو کیوں پالیں۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اللہ کے اس اشارے کو سمجھ کر اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہیں۔ کامیاب انسان وہ ہے جو اللہ کے دیے اس موقع سے فائدہ اُٹھا کر اپنی عاقبت سنوار لے ناکہ وہ جو دنیاوی فائدے کے لیے ان موقعوں سے نظر چرا کر گزر جائے۔ جائو مومنو… جائو… جاکر اللہ کے ان موقعوں کو تلاش کرو اور اللہ کو خوش کرلو۔‘‘

خطبہ ختم ہوا تو ندیم آنسوئوں سے رو رہا تھا اور دل ہی دل میں اللہ سے معافی مانگ رہا تھا۔ نماز کے دوران ہر لمحے اس نے اللہ سے اپنے کیے کی معافی مانگی اور یہ عہد کیا کہ وہ رابعہ کی اچھی پرورش کرکے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خوش کرے گا۔

نماز پڑھ کر ندیم مسجد میں بیٹھ کر اپنے رب سے عہد وپیمان کرتا رہا حتیٰ کہ ساری مسجد نمازیوں سے خالی ہوگئی۔ اسے اکیلے بیٹھے دیکھ کر مولوی صاحب اس تک آئے اور اس کا کندھا تھپتھپایا۔ ندیم اُن کا ہاتھ آنکھوں سے لگا کر پھر رونے لگا۔

’’بس ندیم پتر… بس کر۔‘‘ اُنھوں نے دلاسا دیا۔

’’نئیں مولوی صاحب… میں نے بڑا ظلم کیا ہے۔ پر اب میں اس دا ازالہ کروں گا۔ آسیہ سے معافی مانگوں گا اور رابعہ سے محبت کروں گا۔‘‘ اس نے آستین سے آنسو صاف کرتے ہوئے عزم سے کہا۔

’’ندیم پتر… تو واقعی خوش قسمت ہے کہ اللہ نے تجھے پلٹنے کا موقع دیا ہے۔ جا… جاکر اس موقع کو سنبھال لے اور اُس روشن راہ کا مسافر بن جا جو فلاح کی طرف جاتا ہے۔ جا میرا پتر گھر جا۔‘‘ ندیم ان کے ہاتھوں کو چوم کر ایک عزم لیے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
error: Content is protected !!
Close