Aanchal Jan-17

سنڈریلامیراانتظارکرنا

یاسمین نشاط

مجھے خلاء میں بھٹکنے کی آرزو ہی سہی
کہ تو ملے نہ ملے تیری جستجو ہی سہی
بڑے خلوص سے ملتا ہے، جب بھی ملتا ہے
وہ بے وفا تو نہیں ہے، بہانہ جو ہی سہی

سارا گھر بقعہ نور بنا ہوا تھا۔ آج آئمہ کی مہندی تھی۔ ہر طرف رنگ برنگے لہراتے آنچل‘ ہنسی‘ شوخیاں‘ باہر لان میں بجتے میوزک کا شور‘ ہر بندے کی عجیب سی مصروفیت‘ کپڑے‘ میک اپ‘ جیولری‘ کسی کا ٹیکہ غائب تو کسی کے جھومر کا موتی گم‘ کسی کے میچنگ شوز نہیں آئے اور کسی کے سوٹ کا ہم رنگ دوپٹہ ڈائی ہوکر نہیں آیا تھا۔ کوئی بائیک پر سوار بازار بھاگ رہی تھی اور کوئی آٹو پر سوائے رضی کے کوئی بھی لڑکا کام کا نہیں تھا۔ (یہ ایمن کا خیال تھا) کیونکہ رضی ہی وہ واحد لڑکا تھا جو ہمہ وقت دستیاب ہوجاتا تھا‘ ہر کام کے لیے۔ صبوحی تو اسے غلام اور آپ کا خادم کہہ کر پکارتی تھی۔ ابھی ابھی وہ مہندی کا سارا سامان لے کر پہنچا تھا کہ ربیعہ کو یاد آگیا مہندی کے فنکشن میں منہ میٹھا کروانے والی چاکلیٹس تو منگوائی ہی نہ تھیں‘ سو اسے واپس دوڑا دیا گیا اور ابھی شاید وہ موڑ پر ہی پہنچا تھا کہ کال آگئی کہ واپسی پر آتے ہوئے وہ بی جان کا دوپٹہ مارکیٹ سے لیتا ہوا آئے جو کہ پیکو کروانے کے لیے دیا تھا اور وہ لانا بھول گیا تھا۔ عجیب افراتفری تھی جو پورے گھر میں پھیلی ہوئی تھی۔
فنکشن کمبائن تھا اس لیے سب کو وقت کی پابندی ملحوظ خاطر رکھنے کی تاکید کی تھی۔ اچانک ہی باہر ٹریک چینج ہوا اور جیسے سارے ایک لمحے کو تھم سے گئے تھے۔ وہ آگیا سب نے بے اختیار سوچا۔

کسی اور کی دلہن نہ بن جانا
سنڈریلا میں راستے میں ہوں
میرا انتظار کرنا کسی اور کی دلہن نہ بن جانا

سجاد علی کی آواز اونچی سے اونچی ہوتی چلی گئی۔ تبھی تایا ابا کی دھاڑ اس شور پر حاوی ہوئی اور اس کے تھرکتے قدم رک گئے۔
حد ہوتی ہے شاہ ویز ہر جگہ اپنا جنون دکھانا ضروری ہے کیا؟ اس نے لال ہوتی آنکھوں سے بول دہرائے۔

میں آرہا ہوں میں راستے میں ہوں
کسی اور کی دلہن نہ بن جانا!
سنڈریلا سنڈریلا

بس انہوں نے پلے آف کیا اور اس کو بازو سے پکڑا اور اندر کی طرف گھسیٹنے لگے۔
چھوڑ دیں تایا ابو ابھی ٹھیک ہوجائوں گا۔ اس نے اپنا آپ چھڑانا چاہا لیکن انہوں نے بھی جب تک اسے کمرے میں لے جاکر باہر سے کنڈی نہیں لگادی سکون میں نہیں آئے۔
دو منٹ بعد ٹریک چینج ہوا تو رکی ہوئی چیزوں میں پھر سے ارتعاش پیدا ہوا اور سب کچھ نارمل ہونے لگا لیکن بند کمرے کے اس پار کچھ تھا جو نارمل نہیں تھا۔ وہ اب بھی اسی پوزیشن میں بیڈ سے ٹانگیں لٹکائے‘ سر دھن رہا تھا۔

سنڈریلا میں راستے میں ہوں
میرا انتظار کرنا کسی اور کی دلہن

اسٹیج رنگ برنگی روشنیوں سے سجا تھا۔ ہال حاظرین سے کھچا کھچ بھر ہوا تھا۔ آج اسکول کا اینول اسپورٹس ڈے تھا۔ اس دن کے لیے کئی ہفتوں سے تیاریاں جاری تھیں۔ سہیل صاحب جو کہ ایڈمنسٹریٹر تھے بذات خود اس فنکشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے اور کیوں نہ لیتے یہ ان کے اسکول کا پہلا اینول فنکشن تھا جس میں انٹرٹینمنٹ کے علاوہ بچوں کو سال بھر کی کارکردگی پر انعامات دیے جانے والے تھے۔ بچوں نے بہت زبردست پروگرام تیار کیے تھے جن میں ٹیبلوز‘ مزاحیہ خاکے‘ ہیر رانجھا‘ سنڈریلا اور قومی نغمات شامل تھے۔ ہر ایک نے بھرپور محنت کی تھی۔ پروگرام کی مناسبت سے سیٹ لگائے گئے تھے۔ ٹیچرز نے تو محنت کی ہی تھی‘ بچوں نے بھی اپنے جوہر بھرپور دکھائے تھے۔
ہیر رانجھا آٹھویں کلاس کے بچے کررہے تھے جبکہ سنڈریلا فورتھ کلاس کے بچے۔ دونوں ڈراموں پر ٹیچرز نے خوب محنت کی تھی۔ سنڈریلا کا کردار وجیہہ کررہی تھی۔ وجیہہ بہت معصوم اور پیاری بچی تھی۔ پرنس کا کردار شاہ ویز بابر کررہا تھا۔ وہ بھی بہت پیارا بچہ تھا۔ دونوں نے زبردست ایکٹنگ کی تھی۔ ہال تالیوں سے گونج اٹھا تھا۔ ننھے بچوں نے بھرپور پرفارمنس دی تھی۔

اس نے کھڑکی کے پردے ہٹائے۔ باہر مہندی کی رسم جاری تھی۔ آئمہ کی سسرال والے مہندی لے کر آئے تھے۔ کمبائن فنکشن تھا۔ رسم کے بعد ڈانس پرفارمنسز تھیں جو کہ پچھلے ایک ماہ کی محنت سے تیار کی گئیں تھیں۔ اسٹیج کے سامنے ڈانس کے لیے باقاعدہ فلور لگایا گیا تھا۔ ڈی جے کی کارکردگی لاجواب تھی۔ دائروں کی صورت گرتی روشنیاں ماحول کو پرفسوں بنارہی تھیں۔
پچاس ہزار کا تو خالی یہ فلور لگوایا ہے نعمان صاحب نے۔ چچی کسی مہمان کے سامنے اترا رہی تھیں۔
اور یہ لائٹس اور ڈیکوریشن‘ بس بہن‘ آج کل سادگی سے بھی شادی کرو تو خالی فنکشنز اریجمنٹس کا خرچہ ہی لاکھوں میں آتا ہے۔کھانا اور سلامیاں الگ۔ مہمان خاتون نے ان کی اتراہٹ کے جواب میں ناک چڑھائی گویا جتایا تھا کہ یہ تمام انتظامات سادگی میں شمار ہوتے ہیں۔ رسم مکمل ہوتے ہی تمام لائٹس بجھادی گئیں۔ صرف فلور پر دائروں کی صورت روشنیاں گردش کررہی تھیں۔
مائی نیم از شیلا آواز اونچی ہوئی اور فلور پر پیر تھرکنے لگے۔ کھڑکی زیادہ دور نہیں تھی۔ آواز اور تصویر وہ بخوبی دیکھ سکتا تھا۔ اوہ مائی گاڈ ایسے ایسے اسٹیپس تھے کہ کیا ہیروئن نے کیے ہوں گے اس نے بیزاری سے کھڑکی بند کردی۔ میوزک کے ساتھ اب تالیوں کی آواز بھی آنے لگی تھی۔ اس نے پردے برابر کیے اور اپنا لیپ ٹاپ کھول لیا اور تصویریں دیکھنے لگا۔ سنڈریلا میرا انتظار کرنا۔ وہ زیرلب گنگنانے لگا۔ ایک ایک کرکے وہ تصویریں دیکھتا رہا اور یہ آخری تصویر تھی جس میں وہ اور سنڈریلا ساتھ ساتھ کھڑے تھے۔ پیچھے ان کی کلاس ٹیچر لبنیٰ اور ساتھ آرٹ ٹیچر مس ماریہ تھیں۔ ان دونوں کو بیسٹ پر فارمنس پر ٹرافی ملی تھی۔ وجیہہ تو آل رائونڈر تھی۔ کلاس میں اول آنے کا انعام‘ بیسٹ اسٹوڈنٹ‘ بیسٹ ڈسپلن‘ ریس میں اول‘ اداکاری میں بھی اول۔
شاہ ویز کی نظریں اس کی ٹرافیوں پر تھیں۔ وہ اسے کبھی اپنے سے آگے نہیں نکلنے دیتی تھی اور کبھی کبھی وہ اس پر بہت غصہ بھی کرتا تھا۔ کتنی معصوم ہوتی ہے نا یہ عمر بھی۔ اس نے لیپ ٹاپ پر نظر آتی تصویر پر ہاتھ پھیرا۔
کاش تمہیں معلوم ہو وجیہہ‘ یہ پرنس تمہیں ڈھونڈ رہا ہے‘ پاگلوں کی طرح‘ بچپن کی یہ یاد میرے دل ودماغ پر نقش ہوگئی ہے۔ میں چاہ کر بھی نہیں بھلا سکتا کہ تمہاری چاہت میرے ساتھ ساتھ پروان چڑھی ہے اور اب یہ ایک تناور درخت بن چکی ہے۔ جس کی جڑیں میرے اندر تک پھیل گئی ہیں۔ کاش تم کسی دن اچانک میرے سامنے آجائو۔ میں تمہیں پہچان لوں گا آنکھیں بند کرکے۔ وہ تصور میں بڑی ہوتی وجیہہ کو دیکھ رہا تھا۔
اماں کو جتنا پیار اپنے اکلوتے بیٹے سے تھا۔ اتنی ہی شکایت بھی تھی۔ بچپن سے لے کر اب تک وہ جس عشق میں مبتلا نظر آتا تھا‘ اس کا کوئی سر پیر ان کو تو نظر نہیں آتا تھا۔ اس کی دیوانگی سے تنگ آکر وہ اس لڑکی کے گھر بھی ہو آئی تھیں‘ لیکن وہاں کوئی اور لوگ رہتے تھے اور ان لوگوں کے بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ کدھر چلے گئے۔ ففتھ اسٹینڈرڈ میں بوائز اور گرلز کیمپس الگ الگ کردیے گئے تھے۔ اس لیے شاہ ویز کو وجیہہ سے دوستی ترک کرنا پڑی تھی۔ پوری کلاس میں اس کی دوستی تھی بھی صرف وجیہہ سے۔
وجیہہ کا خیال اس کے دل میں پختہ کرنے میں ایک ہاتھ آئمہ باجی کا بھی تھا‘ وہ بچپن سے اس کو وجیہہ کا نام لے کر چھیڑا کرتی تھیں۔
بھئی ہم تو اپنے پرنس کی شادی سنڈریلا سے ہی کریں گے۔ دیکھو وہ کتنی اچھی لگتی ہے شاہ ویز کے ساتھ۔ اور آئمہ باجی کی اس شرارت میں امی جان بھرپور ساتھ دیتیں۔
ارے ہاں ہاں دیکھنا بڑا ہوکر کیسا ہیرو نکلے گا۔ لڑکیوں کی مائیں ہنس کر رشتہ دیں گی میرے شاہ ویز کو۔ وہ آٹھ سالہ شاہ ویز کا منہ چوم ڈالتیں اور شاہ ویز وہ پرانی البم نکال کر دیکھنے لگ جاتا اور امی اور باجی کی باتوں پر الجھ جاتا پتہ نہیں وہ کیوں اس کے حواسوں پر چھاتی چلی گئی تھی۔ وہ جیسے جیسے شعور کی منزلیں طے کرتا چلا جارہا تھا‘ ویسے ویسے اس لڑکی کے جنون میں مبتلا ہوتا چلا جارہا تھا۔ ہر لڑکی کے چہرے میں اس لڑکی کا چہرہ کھوجنا اس کی عادت بن گئی تھی۔ یہ اور بات کہ کئی بار اسے اس عادت کی وجہ سے سنگین نتائج کا سامنا کرنا بھی پڑا تھا۔ گالیاں‘ گھونسے وغیرہ وغیرہ۔
صبح جب وہ ناشتے کے لیے اٹھا تو سب کزنز کے ساتھ لائونج میں اسے ایک نیا چہرہ بھی نظر آیا۔ اس نے جلدی سے اسے اپنے تصور کے ساتھ میچ کرنا چاہا۔ اس کے ذہن میں بڑی وجیہہ کا ایک مضبوط خاکہ بن گیا تھا۔ اسے لگا شاید اس لڑکی کی ناک اور آنکھیں وجیہہ سے مماثلت رکھتی تھیں۔ فاریہ کی نظر اس پر پڑی تو اس نے ساتھ بیٹھی ثوبیہ کو متوجہ کیا۔
لو بھئی آگیا سنڈریلا میں راستے میں ہوں میرا انتظار کرنا۔ کسی اور کی دلہن نہ بن جانا ہے سنڈریلا اس نے باقاعدہ تالی بجا کر گایا تو سب ہی اس کی طرف متوجہ ہوگئیں۔
آئیں شاہ ویز بھائی آجائیں۔ آپ کی کمی شدت سے محسوس ہورہی تھی۔ ثوبیہ نے ان کو خاموش ہونے کا اشارہ کیا۔
نہیں بس میں ناشتے کے لیے آیا تھا سب لوگ کرچکے کیا؟ وہ کچن کی طرف بڑھتے ہوئے بولا۔
جی سب کرچکے بلکہ سب لڑکے تو ہال روانہ ہوچکے‘ آپ نے جانا ہو تو چلے جائیں‘ چیک کرلیں اور ہاں تایا جان نے آپ کو یاد فرمایا تھا۔ ثوبیہ نے ساتھ ہی پیغام بھی پہنچادیا۔ وہ منہ بگاڑتا ناشتے کا ارادہ ملتوی کرکے تایا جان کے کمرے کی طرف آگیا۔ وہ بھی کہیں جانے کے لیے نکل رہے تھے۔ اسے دیکھ کر رک گئے۔ وہ سلام کرنے کے بعد منتظر نظروں سے انہیں دیکھنے لگا۔
آج بارات میں آرہے ہو یا نہیں؟ ان کا طنزیہ کاٹ دار لہجہ اس کا خون کھولا گیا لیکن اباجی نے اسے صبر کے جو پیالے تھما رکھے تھے وہ ان کو غٹاغٹ پی گیا اور چہرے پر مسکراہٹ سجا کر بولا۔
کیسی باتیں کررہے ہیں تایا جان‘ میں تو تیاری دیکھنے ابھی ہال کی طرف ہی جارہا تھا۔ آپ بھی شاید ادھر ہی جارہے ہیں؟
ہاں اور اب تم جارہے ہو تو اکٹھے چلتے ہیں۔ انہوں نے جھٹ پٹ اپنا پروگرام سیٹ کیا وہ کچھ کہہ بھی نہ سکا۔
اور تھوڑی دیر بعد وہ اس کے پیچھے بائیک پہ بیٹھے اسے اپنی ہمراہی کا شرف بخش رہے تھے اور ساتھ ہی احسان بھی جتا رہے تھے۔
تم شکر کرو (کس بات پہ؟) میں تمہارے ساتھ بائیک پر آبیٹھا ورنہ آج تک میں کبھی اس فضول سی سواری پر نہیں بیٹھا۔ (جی جی دادی اماں بتاچکی ہیں کہ آپ پیدل ہی رہے ساری عمر) وہ دل ہی دل میں ان کی بات کے ساتھ بات ملتا رہا تھا۔ انہوں نے بات پلٹی۔
ویسے ایک بات تو بتائو شاہ ویز یہ تصویر کا کیا چکر ہے؟ تمہارا بچپنا ختم نہیں ہوا ابھی تک۔ یہ لڑکیوں والے کام‘ خفیہ عشق‘ بنا دیکھے کی محبت‘ بچپن کی پسند‘ سب فضول اور بے ہودہ ہیں۔‘(جی میں آپ کے اس دھواں دار عشق سے اچھی طرح واقف ہوں جب آپ نے اپنی محبوبہ کو متاثر کرنے کے لیے کلائی کاٹ لی تھی۔ خالصتاً لڑکیوں والی حرکت) اور ڈھونڈو گے کہاں تم اس لڑکی کو نہ اتا نہ پتا‘ نہ خاندان کی کوئی خبر‘ کیا خبر وہ کون تھی‘ کہاں سے تعلق رکھتی تھی اور اب کیا بن گئی ہوگی۔ (جی جی کیا پتہ را کی ایجنٹ ہو یا پھر کسی اسرائیلی خاندان سے تعلق ہو) اس نے اندر ہی اندر پیچ وتاب کھائے۔
بائیک میرج ہال کے سامنے روکتے ہی اس نے ایک گہری سانس بھری۔ اصل میں سارے بزرگ اپنی عمر‘ بھرپور جوانی گزار چکنے کے بعد نصیحتیں ایک پٹارے میں بند کرتے چلے جاتے ہیں اور پھر بچوں میں زبردستی ٹافی کی مانند بانٹتے رہتے ہیں۔ اس وقت ان بچوں کو بھی یہ باتیں فضول بکواس لگ رہی ہوتی ہیں‘ بالکل ایسے ہی جب اپنے وقت میں ان بزرگوں کو اپنے بڑوں کی لگ رہی ہوتی ہیں لیکن زندگی کا پہیہ اسی طرح چلتا ہے اور چلتا رہے گا۔
وہ تایا جان کی تقلید کرتا ہال میں آیا۔ جہاں ابھی ڈیکوریشن کا کام جاری تھا۔ انٹیریئر کا کام ایک لیڈی انجام دے رہی تھیں۔ ہوں گی یہی کوئی بیس بائیس سال کی۔ شاہ ویز میاں نے فوراً تصویر نکال لی۔ کیا خبر یہی وہ لڑکی ہو۔ وہ اس کے پاس پہنچ گیا۔ وہ ایک تیکھے نقوش والی لڑکی تھی۔ شولڈر کٹ بال تنگ جینز پر کرتا پہنے سن گلاسز کو سر پر ٹکائے وہ بڑی تندہی سے اپنے کام میں مصروف تھی۔
یہاں سفید پھول ہاں اور یہ سرخ گلاب کدھر ہیں؟ اس نے ورکر سے پوچھا تو اس نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ وہ فوراً موبائل پر کسی کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔ چہرے پر جھنجلاہٹ تھی۔
ہاں قیصر دوسری جانب سے آواز آتے ہی وہ بولی اور اتنا بولی تھی کہ شاہ ویز نے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے تھے۔ بات کرتے کرتے اس کی نظر شاہ ویز پر پڑی تھی جو ایک ٹک اسے دیکھے جارہا تھا۔ اس نے رخ موڑ لیا۔ جس دن پاکستان کے مردوں نے لڑکیوں کو تاکنا بند کردیا‘ ترقی کے پہلے زینے پر چڑھ جائیں گے۔ اس نے جل کر سوچا۔ حد ہوگئی دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور یہاں کے مرد ابھی تک عورت پر ہی اٹکے ہیں۔ وہ بنا پیچھے دیکھے ٹک ٹک کرتی آگے بڑھ گئی۔ شاہ ویز نے منہ بسورا اور مزید اس کو تاکنے کا پروگرام کینسل کردیا۔
سنڈریلا ہوتی تو کوئی نشانی چھوڑ کے جاتی۔ وہ واپس پلٹ آیا۔
تمہارے خیال میں وہ اپنا جوتا چھوڑ جاتی وہاں۔ ریحان لنگوٹیا اس کی حالت زار کو انجوائے کررہا تھا۔
یار جوتا نہیں تو سیل نمبر ہی چھوڑ جاتی ایک آدھ میسنگ ڈجٹ کے ساتھ۔ اس نے ٹھنڈی آہ بھری۔
ایک بات بتا شاہ ویز ریحان نے پُرخیال نظروں سے اسے دیکھا جو پھر اپنے موبائل پر تصویریں دیکھ رہا تھا۔
کیا واقعی تو اس لڑکی سے اس حد تک محبت کرتا ہے؟
تجھے کیا لگتا ہے میں مذاق کررہا ہوں؟ یہ جو پاگلوں کی طرح اسے ڈھونڈتا پھر رہا ہوں تو بس ایسے ہی دل لگی کے طور پر یا پھر میں دنیا جہاں کا نکما آدمی ہوں جسے اور کوئی کام نہیں سوائے عشق معشوقی کے۔ تمہیں پتا ہے ریحان جب ہم نے یہ ڈرامہ کیا تھا‘ ہم بالکل معصوم تھے۔ اس ڈرامے کی کیا تھیم تھی‘ اس سے قطعی ناواقف لیکن جب ٹیچر سونیا ہمیں سمجھاتی تھیں‘ بتاتی تھیں کہ اب کیا بولنا ہے‘ کیا رسپانس دینا ہے تو ہم ویسے ویسے بولتے جاتے تھے۔ ایک سین میں جب مجھے سنڈریلا کو پروپوز کرنا تھا تو میں اپنے ڈائیلاگز بھی بھول گیا اور ایکٹنگ بھی۔ سنڈریلا میرا مطلب ہے وجیہہ نے اشاروں سے مجھے بتایا کہ میں نے کیا کہنا ہے اور کیا بولنا ہے اور میں نے جلد ہی سمجھ لیا۔ وہ اتنی چھوٹی سی تھی اور کیسی باکمال تھی۔ مجھے یاد ہے سب نے ہماری خوب تعریف کی تھی۔ ہم دونوں ایک ساتھ بہت جچے تھے۔ وہ بولتے بولتے رکا اور ریحان لنگوٹیا نے دیکھا اس سمے اس کی آنکھیں عجب الوہی جذبے سے چمک رہی تھیں۔
ایسی پاگل محبت‘ اسے اس کی حالت پر دکھ ہونے لگا۔ اگر وہ لڑکی اسے نہ ملی تو کیا کرے گا یہ اس نے سوچا اور لبوں پر لے آیا۔
میں اس بارے میں نہیں سوچتا۔ وہ بلاتکلف بولا۔ وہ مجھے ملے گی اور ہرحال میں ملے گی۔ اس کے چہرے پر عجب طرح کا عزم تھا۔

اس نے بالکونی میں کھڑے ہوکر نیچے جھانکا۔ مہمان رخصت ہورہے تھے۔ آغاحسن الوداعی مصافحہ کررہے تھے۔ شام کا ملگجا اندھیرا درو دیوار پر اتر آیا تھا اور فضا میں خنکی بڑھ گئی تھی۔ اس نے پیچھے مڑ کر کرسی پر رکھی اپنی شال اٹھائی اور شانوں پر پھیلالی اور پھر سے نیچے جھانکنے لگی۔ گاڑی پورچ سے باہر نکل گئی اور چوکیدار اب گیٹ بند کررہا تھا۔ اس نے اپنی نظر سامنے کی پہاڑیوں پر بنے گھروں میں اب روشنیاں جگمگانے لگی تھیں اور دور سے وہ جلتے دیوں کا عکس پیش کرتی تھیں۔ یوں جیسے کسی نے بہت سارے چراغ جلا کر ان پہاڑیوں پر رکھ دیے ہوں۔ یہ گھر بہت خوب صوررت جگہ پر واقع تھا۔ اونچی نیچی پہاڑیوں پر بنا یہ وسیع وعریض گھر جتنا خوب صوررت باہر سے دکھتا تھا اندر سے اس کی خوب صوررت اس سے کہیں بڑھ کر تھی۔ اس پر آغاحسن کا شوق آرائش‘ اس گھر کی ہر شے سے ٹپکتا تھا۔ فانوس سے لے کر کینڈل اسٹینڈ تک ایک ایک چیز مالک کی حیثیت اور شوق کی آئینہ دار تھی۔ آغاحسن دنیا کے ہر کونے سے نوادرات اکٹھے کرکے لائے تھے۔ اسے اس گھر میں رہتے ڈیڑھ ماہ ہوچکا تھا۔ اور اس ڈیڑھ ماہ میں آغاحسن نے جس تفصیل سے ان نوادرات کی ہسٹری اور جائے خرید بتائی تھی وہ آنکھ بند کرکے سب دہرا سکتی تھی۔ یہ ڈیڑھ ماہ اس کے اندر کرب کی لہر اتری۔ انسان بھی کیا سے کیا ہوجاتا ہے وقت اور حالات کے سامنے اس کی آنکھوں میں تین ماہ قبل کی زندگی لہرانے لگی تھی کہ ملازمہ دستک دے کر اندر چلی آئی۔
بی بیآغاحسن آپ کو یاد کررہے ہیں۔ اس نے پیغام پہنچایا اور باہر نکل گئی۔ جواب سننے کی زحمت اس گھر کے ملازم نہیں کرتے تھے یا پھر ان کو صرف بات پہنچانے کا حکم تھا۔
وہ شال کو اپنے گرد اچھی طرح لپیٹتی باہر چلی آئی۔ ٹیرس سے جھانکا‘ آغاحسن ٹی وی لائونج میں براجمان تھے۔ اس کا دل چاہا وہ واپس کمرے میں جاکر دروازہ زور سے بند کرلے لیکن وہ ایسا کر نہیں سکی سو آہستگی سے سیڑھیاں اترتی نیچے آگئی۔
آئیے مس جہاں۔ آغاحسن نے ایک بھرپور نظر اس کے سوگوار حسن پر ڈالی۔ وہ خطرناک حد تک حسین لڑکی تھی‘ کسی کا بھی ایمان ڈانواں ڈول کرسکتی تھی۔ وہ خود بھی حسن ووجاہت کا نمونہ تھے لیکن عمر عزیز کی چالیس بہاریں گزار چکنے کے بعد اب بڑھاپا ان کے بالوں کی سفیدی میں چمکنے لگا تھا۔
کیا لیں گی‘ چائے یا کافی؟ انہوں نے اس پر سے نظریں ہٹاتے ہوئے پوچھا۔ اس نے نفی میں سر ہلایا۔
اوکے جمیل بی بی کے لیے فریش جوس لے آئو۔ آئیں بیٹھیں۔ انہوں نے پہلے ملازم اور پھر اس سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔
وہ صوفے کے ایک طرف ٹک گئی۔ آغاحسن نے ایک بار پھر اس کا جائزہ لیا۔ ان کے ذہن میں کیا چل رہا تھا کوئی نہیں جانتا تھا۔
جمیل جوس لے آیا لیکن اس نے ایک نظر اٹھا کر دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ وہ ہنوز ٹیبل کے کنارے پر نظریں جمائے بیٹھی تھی۔
آپ جانتی ہیں کہ آپ کس قدر خوب صوررت ہیں؟ آغاحسن نے قدرے توقف کے بعد اپنا جملہ پورا کیا۔
وہ اندر تک لرز گئی۔ کاش وہ اتنی خوب صوررت نہ ہوتی۔ ایک عام سی شکل وصورت والی ایک لڑکی ہوتی تو آج حالات یکسر مختلف ہوتے۔
کاش آغاحسن تم مجھ سے کبھی نہ ملے ہوتے میں تمہیں کبھی نظر نہ آئی ہوتی۔ کاش کاش۔ اس کے دل میں کاش بڑھتا ہی جارہا تھا۔
آپ سوچ رہی ہیں مس جہاں کہ کاش آپ اس قدر خوب صوررت نہ ہوتیں ہے ناں؟ آغاحسن نے کس کمال سے اس کی سوچ پڑھی تھی۔ وہ ششدر رہ گئی۔ آغاحسن نے گہری نظروں سے اسے دیکھا۔
آپ اللہ کی دی ہوئی نعمت کو ٹھکرا رہی ہیں۔ کفران نعمت کی مرتکب ہورہی ہیں۔ شکل جیسی بھی ہو‘ قسمت تو وہی رہتی ہے ناں‘ جو اوپر والے نے لکھ دی اور آپ شکر ادا کریں کہ آپ کی قسمت بہت اچھی ہے۔ آخری جملہ بڑے ذومعنی انداز میں کہا گیا اور پریزے نے بڑی کٹیلی نظروں سے اسے دیکھا تھا۔ آغاحسن کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی‘ ایک دلنشین مسکراہٹ۔ بلاشبہ اب بھی وہ ایک مسکراہٹ سے دل چھین لینے کا ہنر رکھتے تھے۔
اب کہیں وہ اس شخص کے سحر میں گرفتار ہو ہی نہ جائے۔ اس نے جل کر سوچا اور خود کو سختی سے تنبیہہ کر ڈالی۔
کل میں شکار پر جارہا ہوں‘ آپ تو ظاہر ہے جانا پسند نہیں کریں گی بس اتنا دھیان رکھیے گا کہ جب تک میں نہ آجائوں‘ اپنے کمرے میں رہیے گا اور ویسے میرے کتے اور محافظ ہمہ وقت باہر گیٹ پر موجود رہیں گے۔ گھر پر ملازم بھی ہیں جو چاہیے ہو وہ انٹرکام کے ذریعے منگا لیجیے گا اور آخری اور سب سے اہم بات بھاگنے کی کوشش مت کیجیے گا‘ نقصان اٹھائیں گی اب آپ جائیں۔ ڈنر کے لیے ٹھیک ساڑھے آٹھ بجے تیار ہوکر نیچے آجائیے گا۔ ٹھیک ساڑھے آٹھ بجے۔ آغاحسن نے بات مکمل کرکے اپنا رخ دیوار پر نصب اسمارٹ ٹی وی کی طرف کرلیا۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی‘ اس لیے فوراً اپنی جگہ سے نہیں اٹھی۔ اپنی ہمت مجتمع کرتی رہی۔
کچھ کہنا چاہتی ہو؟ آغاحسن بھانپ کر بولے۔ دھیان ٹی وی کی طرف ہی رکھا۔
میرے گھر والوں گھر والوں کا کچھ پتا چلا؟ اس نے اٹک اٹک کر پوچھا۔
ہاں۔ آغاحسن نے ٹی وی آف کرکے ریموٹ ٹیبل پر رکھا اور اس کی طرف متوجہ ہوگئے۔ جو آنکھوں میں امید کا جہاں بسائے ان کو تک رہی تھی۔
سب کے سب ملبے تلے دب گئے۔ کچھ نہیں ملا تمہارا گھر بھی باقی سب گھروں کی طرح مسمار ہوگیا تھا اور
وہ کچھ اور بھی کہہ رہے تھے لیکن اس کی سماعتیں مفلوج ہوگئی تھیں اور بصارت پتھر اسے صرف آغاحسن کے ہلتے لب نظر آرہے تھے۔
سب کے سب سب ہی‘ اماں‘ بابا‘ علیزے‘ عینا اور اس کا پیارا اور اکلوتا بھائی شان سب ہی وہ وہیں گھٹنوں کے بل بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اکیلے رہ جانے کا دکھ بہت بڑا ہوتا ہے اور وہ آج اکیلی رہ گئی تھی۔ پچھلے ڈیڑھ ماہ سے وہ ایک آس اور امید پر جی رہی تھی کہ شاید ان سب کا پتہ چل جائے اور وہ ان کے پاس جاسکے لیکن آج یہ آس ختم ہوگئی تھی۔
کاش وہ بھی ان کے ساتھ ہی ختم ہوگئی ہوتی‘ کیا کرنا تھا اسے اکیلے اس دنیا میں رہ کر اور جی کر کیا آغاحسن جیسے لوگوں کے لیے تفریح کا سامان بن کر تف لعنت ہے ایسی زندگی پر۔ وہ رو رہی تھی اور ذہن مختلف سوچوں کی آماجگاہ بنتا جارہا تھا۔
آغاحسن نے اسے چپ کروانے کی کوشش نہیں کی۔ وہیں خاموشی سے بیٹھے اسے دیکھتے رہے جس کے رونے میں شدت آرہی تھی۔ پھر اٹھ کر چلے گئے۔ اسے نہیں پتہ چلا کب وہ اسی طرح روتے روتے ٹی وی لائونج میں ہی سوگئی تھی اور آغاحسن رات بھر اپنے بیڈروم کی کھڑکی سے اسے تکتے رہے تھے۔

مجھے اس سے محبت ہے
محبت بھی کچھ ایسی
جیسے صحرا کوبارش سے
جیسے!

بس بس۔ وہ آنکھیں موندے وجیہہ کے پیکر کو دیکھتا آہستہ آہستہ بول رہا تھا کہ ریحان نے اس کے خیالات کا تسلسل توڑا۔ اس نے ناگواری سے آنکھیں کھولیں۔ وہ ڈھٹائی سے ہنس پڑا۔

مجھے اس سے محبت ہے
جیسے گاڑی کو پیٹرول سے
جیسے دودھ کو اسپغول سے
جیسے نشئی کو خارش سے
جیسے ایوب کو نازش سے
جیسے خالہ کو عداوت سے
مجھے اس سے محبت ہے!

وہ بڑے مزے سے اپنی شاعری کرنے لگا۔ شاہ ویز کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ اس نے اٹھ کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔
میں تمہارا گلا بھی دبا سکتا ہوں۔ اس نے دانت پیسے۔
جانتا ہوں۔ اس نے اپنا آپ چھڑا کر کہا۔
فی الحال میں ایک آئیڈیا لے کر آیا ہوں۔ سو فیصد ہیلپ فل۔
تمہارے سارے آئیڈیاز تمہاری طرح بوگس اور فلاپ ہیں۔ شاہ ویز نے ذرا بھی انٹرسٹ نہیں دکھایا۔
سنے گا تو اچھل پڑے گا۔ وہ راز داری سے گویا ہوا۔
بکو وہ جھنجلایا۔
نیٹ پر ڈال دیتے ہیں ساری فوٹوز۔ ہوسکتا ہے وہ بھی فیس بک پر ہو۔ اس کی نظر سے گزریں تو خود ہی رابطہ کرلے گی۔
ہاں تم ایسا کیوں نہیں کرتے سارے شہر میں اشتہار لگوا دو۔ بلکہ شہر کیوں تلاش گمشدہ کا اشتہار دے دو۔ ساتھ یہ ضرور لکھنا کہ اسے ڈھونڈا کیوں جارہا ہے۔ بے شرم‘ اس سے زیادہ واہیات آئیڈیا نہیں آیا تمہارے دماغ میں میں اس سے محبت کرتا ہوں اور تم اسے بدنام کرنا چاہتے ہو۔ نیٹ پر ڈال دو تاکہ اگر اسے ملنا بھی ہو تو کبھی نہ ملے۔ یار کوئی اور طریقہ نہیں ہے؟ وہ بے بسی سے سر تھام کر بولا۔
ہے ناں۔ وہ کائوچ پر نیم دراز ہوتا بولا۔
تو بتائو ناں۔ وہ بے تابی سے گویا ہوا۔
تو سارا معاملہ اللہ پر چھوڑ دے۔ دیکھ اگر وہ تیری قسمت میں لکھی ہے‘ جہاں کہیں بھی ہوگی مقررہ وقت پر آملے گی اور اگر نہیں ہوگی تو لاکھ کوشش کرلے نہیں ملنے والی۔ اس لیے میرا مخلصانہ مشورہ یہی ہے‘ تم فی الحال اس سب کو اپنے ذہن سے جھٹک دو میں محبت کرنے سے نہیں منع کررہا‘ لیکن دیکھ اپنا مستقبل بنا‘ اپنی اسٹڈیز کمپلیٹ کر‘ انکل آنٹی کے سارے خواب تم سے جڑے ہیں‘ وہ تمہارے ان حالات سے بہت پریشان ہیں۔ ایک ان دیکھی چاہت کے لیے تم اپنی ساری زندگی دائو پر لگا کر بیٹھے ہو۔ اگر کل کو وہ تم سے آن بھی ملی تو تم کیا بن کر اسے ملوگے خالی عاشق؟ وہ تمہیں پہلی فرصت میں ریجکیٹ کردے گی کیونکہ آج کل پہلے پیٹ پھر عشق معشوق جب تم اسے اچھی لائف نہیں دے سکو گے‘ اس کا خرچہ نہیں اٹھا سکوگے تو اسے تمہاری محبت سے کیا لینا دینا۔ اس لیے میرے بھائی عقل سے کام لو انکل جہاں کہہ رہے ہیں وہاں اپلائی کرو‘ آفس جانا شروع کرو‘ ہوسکتا ہے وہ تمہیں ایسی ہی کسی جگہ پر مل جائے۔ ریحان نے اچھا خاصا لیکچر دیا اور وہ ایسا کچھ غلط بھی نہیں کہہ رہا تھا۔ اسے واقعی پریکٹیکل ہوجانا چاہیے تھا۔ اس کے چہرے پر سوچ کے آثار پیدا ہوئے تو ریحان سمجھ گیا کہ تیر ٹھیک نشانے پر لگا ہے۔

جانے آغاحسن نے شکار سے واپس کب آنا تھا‘ وہ پچھلے تین دن سے کمرے میں قید تھی۔ قید ہی تھی‘ حکم جو تھا کمرے سے باہر نہ نکلنے کا۔ اس کمرے میں ہر سہولت میسر تھی لیکن پنجرہ تو پنجرہ ہی ہوتا ہے‘ خواہ سونے کا ہی کیوں نہ ہو؟ وہ کب سے کھڑکی میں کھڑی باہر جھانک رہی تھی۔ شام ہونے کو آئی تھی۔ پہاڑ پراسرار منظر پیش کرنے لگے تھے۔ انہی پہاڑوں کے پیچھے کہیں اس کا بھی ایک چھوٹا سا گھر تھا‘ خوب صوررت اور محبت سے بھرا‘ ابا فارسٹ آفیسر تھے‘ بہت شروع میں ان کی جب نئی نئی جاب ہوئی تھی اور وہ اس علاقے میں آئے تھے‘ تو انہوں نے یہاں کی خوب صورتی سے متاثر ہوکر ہمیشہ کے لیے یہاں بسنے کا پروگرام بنا لیا تھا اور آہستہ آہستہ انہوں نے اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے سرمایہ جمع کرنا شروع کردیا تھا۔ وہ جانتے تھے شہروں میں عمریں گزار دینے والے اماں ابا کبھی ان پہاڑوں پر آبسنے کو تیار نہیں ہوں گے اس لیے انہوں نے بہت چوری چوری یہ سب کیا تھا۔ چلو جوانی میں نہ سہی بڑھاپا ہی سہی انہوں نے ثروت کے ساتھ کے بہت خواب دیکھ رکھے تھے۔ ثروت ان کی پھوپی زاد تھیں‘ خوش شکل اور خوش مزاج‘ اماں ابا کی مشترکہ پسند۔ زندگی میں ان کے لیے کبھی کچھ مشکل نہیں رہا تھا‘ سو بڑے آرام سے ان کی شادی ثروت سے ہوگئی تھی۔ زندگی بہت خوب صوررت ہوئی جب ان کے گھر رحمت اتری۔ پھر یکے بعد دیگرے دو اور رحمتیں اور پھر نعمت زندگی مکمل ہوگئی تھی۔ انہوں نے ثروت اور بچوں کو اماں ابا کے پاس ہی چھوڑا تھا۔ خود مہینے میں ایک بار گھر آتے تھے۔ وہ دبے لفظوں میں اماں ابا کو کئی بار ساتھ چلنے اور مستقل وہیں رہنے کا کہہ چکے تھے لیکن انہوں نے سختی سے منع کردیا تھا۔ دونوں بڑی بچیاں اسکول جانے لگی تھیں۔ دونوں پڑھائی میں بے حد ہوشیار تھیں۔ ابا کو ان پر بے حدفخر تھا۔ وہ مستقبل میں انہیں کسی اونچے عہدے پر دیکھنے کے خواہاں تھے۔ کئی سال گزر گئے تھے پھر جب یکے بعد دیگرے اماں اور ابا چل بسے تو پھر زوار احمد کے لیے کوئی وجہ نہیں تھی اس شہر میں رکنے کی انہوں نے فی الفور سامان سمیٹا‘ مکان بیچا اور بارہ کہو شفٹ ہوگئے۔ عارضی طور پر انہوں نے کرائے کا مکان لیا تھا کیونکہ گھر ابھی زیر تعمیر تھا۔ زوار احمد نے پھرتی دکھائی اور زیادہ لیبر لگا کر چند ہی ماہ میں نہ صرف گھر تعمیر کرلیا‘ بلکہ انٹیریئر بھی کروالیا۔ وہ سب کے سب اس نئے گھر میں آکر بہت خوش تھے۔ سب کے الگ الگ کمرے تھے اور ہر ایک نے اپنی مرضی سے انٹیریئر کروایا تھا۔ زندگی اپنی ڈگر پر رواں دواں تھی۔ ابا کے سر میں سفیدی جھلملانے لگی تو ان سب نے بھی جوانی کی سرحد پر قدم رکھ دیا تھا۔ ابا کی ریٹائرمنٹ اب قریب تھی اور وہ چاہتے تھے کہ ریٹائرمنٹ سے پہلے وہ کم از کم پریزے اور علیزے کے فرض سے سبکدوش ہوجاتے۔
عینا اور شان تو ابھی چھوٹے تھے۔ ایک دو رشتے نظر میں تھے بھی اور وہ ابا نے پریزے کی تعلیم مکمل ہونے تک ملتوی کر رکھے تھے۔ اس روز پریزے اسلام آباد یونیورسٹی میں ایڈمیشن کے لیے گئی تھی۔ اس کی بیسٹ فرینڈ سارہ اس کے ساتھ تھی۔ فارم جمع کروانے کے بعد وہ دونوں کینٹین آکر بیٹھی تھیں۔ دونوں کی باتیں فیوچر پلاننگ پر ہی مبنی تھیں جب ایک دم ہی سب کچھ گھومنے لگا۔
سارہ
پریزے دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر چلائی تھیں۔ پھر کینٹین میں موجود دوسرے لوگوں کی دیکھا دیکھی وہ بھی فرش پر لیٹ گئی تھیں۔ شور وچیخیں اس قدر شدید زلزلہ تھا۔ کئی ثانیے تو وہ سنبھل ہی نہ پائی تھیں۔
دل ہی دل میں آیۃ الکرسی اور قل شریف کا ورد کرتی رہی تھیں۔
جب ذرا سکون ہوا تو وہ باہر کی طرف بھاگی تھیں۔ ہر طرف شور تھا‘ جانے کیا کچھ تباہ ہوگیا تھا۔ کتنے لوگ چھتوں تلے دب کے مر گئے تھے۔ فیکٹریاں‘ کارخانے‘ زمین بوس ہوگئے تھے‘ اللہ نے اپنی ناراضگی کا ایک ہلکا سا اشارہ ہی تو دیا تھا۔ وہ جیسے تیسے ٹیکسی پر بارہ کہو پہنچی تھیں اور اپنے گھر کے سامنے کھڑی وہ پھٹی آنکھوں سے اس ملبے کو دیکھ رہی تھی‘ جس کے نیچے سب کچھ دب گیا تھا۔ اس کی ماں‘ باپ‘ بہن‘ بھائی‘ سب کچھ امدادی کارروائیاں جاری تھیں مگر اس کی آنکھوں تلے اندھیرا چھا رہا تھا۔ ایک زلزلہ اس کے اندر بھی موجزن تھا۔ سب کچھ گنوا دینے کا دکھ اس کی آنکھوں میں اترا اور وہ وہیں گرتی چلی گئی تھی۔
آنکھ کھلی تو وہ کسی انجان جگہ پر تھی۔ ایک بڑے سے بیڈ روم میں وہ جلدی سے اٹھی تھی۔ وہ کہاں تھی اور کس کے گھر میں ایک پل میں اس کے ذہن نے سوچا تھا اور پھر جیسے ساری حسیات ایک دم ہی بیدار ہوئی تھیں۔
اماں‘ ابا‘ علیزے‘ عینا اور شان اس نے ایک ساتھ چاروں کے نام زیرلب دہرائے تھے اور پھر زور زور سے چیخنے لگی تھی۔
اکیلے رہ جانے کے دکھ نے اسے چاروں طرف سے گھیر لیا تھا اور اسے کہیں جائے پناہ نظر نہ آرہی تھی‘ رو رو کر‘ چیخ چیخ کر وہ خود ہی چپ ہوگئی تھی۔ کوئی اسے دلاسا دینے نہیں آیا تھا اور نہ ہی اس کے پاس کوئی مہربان کندھا تھا جس پر سر رکھ کر وہ اپنا دکھ منا سکتی۔
رات اسی طرح چھت کو تکتے گزاری تھی اس نے وہ کتنے دنوں سے یہاں تھی‘ اسے کچھ اندازہ نہ تھا اور اس کے ساتھ کیا کچھ ہوچکا تھا یا کیا ہونے والا تھا‘ اس کے بارے میں بھی اس کا ذہن سوچنے سے قاصر تھا۔ کمرے میں لگے وال کلال کی ٹک ٹک کے علاوہ دوسری کوئی آواز یہاں نہیں تھی۔ کھڑکی کے اس پار چہچہانے والی چڑیوں نے اسے صبح کا پتہ دیا تھا۔ وہ اٹھ کر کھڑکی میں آکھڑی ہوئی دبیز پردوں نے سارے کمرے کا ماحول نیم تاریک سا بنا رکھا تھا۔ اس نے پردے ہٹائے اور کھڑکی کی سلائیڈنگ کھول دی۔ ٹھنڈی ہوا کا ایک مست جھونکا اس کے چہرے سے آن ٹکرایا تھا۔ اس نے بے اختیار اپنے اڑتے بالوں پر ہاتھ رکھا تھا اور جھک کر نیچے جھانکنے لگی تھی اور اسے اندازہ ہوا تھا کہ یہ گھر کافی اونچائی پر واقع تھا اور یہاں سے بھاگ نکلنا مشکل ہی تھا۔ ویسے بھی یہاں سے بھاگ جانے والی کوئی سوچ ابھی تک اس کے دماغ میں آئی نہ تھی۔ وہ یہاں کیوں اور کس مقصد کے تحت لائی گئی تھی ابھی تک تو یہ بھی معلوم نہ تھا۔ وہ قید تھی یا آزاد یہ بھی مبہم ہی تھا۔ اس نے ذرا سا اور آگے ہوکر جھانکا‘ بیرونی گیٹ کھلا تھا اور ایک گاڑی اندر آرہی تھی۔ جیسے ہی گاڑی رکی‘ چوکیدار نے آگے بڑھ کر گیٹ بند کردیا۔ وہ گاڑی کی طرف متجسس نظروں سے دیکھنے لگی۔ فرنٹ ڈور کھلا اور برانڈڈ جوتوں میں قید یکے بعد دیگرے دونوں پائوں گاڑی سے باہر آئے تھے۔ ڈور پہ رکھا سفید مردانہ ہاتھ اور کلائی پہ بندھی قیمتی رسٹ واچ‘ آستینوں سے سوٹ کا کلر ڈارک گرے محسوس ہوتا تھا۔ ایک ملازم لپک کر قریب آیا تھا اور اس کے ہاتھ سے بریف کیس پکڑ لیا تھا۔ وہ ششدر سی اس شخص کو دیکھتی رہ گئی تھی۔ وہ اس شخص کو لاکھوں میں پہچان سکتی تھی۔ یہ اس کی شخصیت کا سحر تھا یا پھر اس کی اچھی یادداشت اسے یہ شخص بھولا نہیں تھا۔ چھ ماہ قبل جب ان کا اینول پرائز ڈسٹری بیوشن تھا اور اسے بیسٹ ڈسپلن‘ بیسٹ اسٹوڈنٹ آف دی ایئر اور بیسٹ پلیئر کے اعزازات ملے تھے تو یہ آغاحسن ہی تھے جنہوں نے اسے پرائز دیتے ہوئے کہا تھا۔
لوگوں سے تو ایک بیسٹ نہیں سنبھلتا آپ اتنے سارے بیسٹ کیسے سنبھالے پھرتی ہیں مس پریزے؟ اور وہ بس مسکرادی تھی مہمان خصوصی کو دیکھ کر۔
اﷲ تعالیٰ کا خاص احسان ہے مجھ پر بچپن سے لے کر آج تک بیسٹ ہونے کا اعزاز مجھے ہی ملا ہے اور میں اپنے پروردگار کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتی ہوں کہ اس نے مجھ ادنیٰ کو اتنا نوازا ہے۔ اس کے چند الفاظ گویا آغاحسن کے دل میں اتر گئے تھے۔ وہ تو تھے ہی اعلیٰ چیزوں کے شیدائی۔ ان کے پاس اس قدر اعلیٰ کلیکشن تھی کہ شاید ہی کسی کے پاس ہو لیکن مدمقابل کھڑی کوئی چیز نہیں تھی ایک جیتا جاگتا شاہکار تھی‘ جسے اس کی مرضی کے بغیر وہ کسی بھی قیمت میں حاصل نہ کرسکتے تھے۔ اسی لیے تو انہوں نے ہال سے باہر نکلتے ہی پریزے کو پروپوز کردیا تھا۔ اتنی آہستگی سے کہ وہ بھی ٹھیک طرح سے سمجھ نہ پائی تھی۔ اس لیے حیرت سے انہیں تکتی رہی تھی اور تبھی انہوں نے قدرے بلند آواز سے اپنی بات دہرائی تھی۔
آپ مجھ سے شادی کریں گی مس پریزے؟
نن نہیں۔ اس نے گھبرا کر فوراً نفی میں سرہلایا تھا۔
میں کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ ہمیشہ امید رکھتا ہوں‘ انتظار کروں گا۔ وہ ہولے سے کہتے آگے بڑھ گئے تھے اور وہ یوں بھاگ کر کالج کے مین گیٹ سے باہر نکلی تھی گویا ایک پل اور رک گئی تو آغاحسن اسے ابھی اٹھا کر لے جائیں گے۔ ان جیسے پاور فل شخص سے کچھ بھی بعید نہ تھا۔
یہ بھی شکر تھا کالج میں چھٹیاں ہوگئی تھیں۔ ایگزامز نزدیک تھے اور وہ تندہی سے اپنی پڑھائی میں جت گئی تھی۔ اسے ہمیشہ کی طرح ٹاپ کرنا تھا اور اپنے بابا کے خوابوں کی تکمیل کے لیے ایک سیڑھی اور چڑھنا تھا۔ سی ایس ایس صرف اس کا ہی نہیں بابا کا بھی خواب تھا۔ اس روز بہت عرصے بعد اس نے کمرے کی کھڑکی سے جھانکا تھا۔ موسم بدل رہا تھا۔ آسمان پر اودے نیلے بادل ایک دوسرے سے اٹھکیلیاں کرتے پھر رہے تھے۔ دور ہر طرف پھیلی ہریالی اور اونچے نیچے گھر بہت خوب صوررت منظر پیش کررہے تھے اس کا جی چاہا پہاڑوں کے بیچوں بیچ گزرتی پگڈنڈی پر واک کر آئے‘ اپنا رین کوٹ پہن کر اس نے امبریلا اٹھائی اور اماں کو بتا کر باہر نکل آئی۔
شکر ہے تم بھی کمرے سے باہر نکلی۔ انہوں نے پیار سے اسے جاتے ہوئے دیکھا تھا۔
بابا ایسے ہی اس وادی پر عاشق نہیں ہوگئے تھے۔ اس نے سوچا۔ دفعتاً اس کے چہرے پر بارش کا پہلا قطرہ آن گرا۔
اوہ اس نے انگلی کی پور سے اس قطرے کو چنا اور آسمان کی طرف نگاہ کی۔ شریر بادل دھواں دھار برسنے کو تیار ہی کھڑے تھے۔ ہر طرف سرمئی اندھیرا چھا گیا تھا اس نے سوچا واپس چلی جائے تیز بارش میں وہ کہاں چھپتی پھرے گی؟ اس نے مڑ کر دیکھا وہ گھر سے کافی دور آچکی تھی۔ بادل زور سے گرجے اور پانی کے موٹے موٹے قطرے اس کے وجود کو بھگونے لگے۔ اس نے اپنی چھتری کھول کر سر پر تان لی۔ بھیگنے کا خدشہ تو نہ تھا۔ البتہ راستہ ایک دم سے سنسان سا لگنے لگا تھا۔ اس نے دائیں طرف نظر دوڑائی کافی اونچائی پر ایک گھر نظر آیا۔ وہاں پناہ لینے کا سوچا نہیں جاسکتا تھا یونہی مڑ کر بائیں طرف بھی دیکھ لیا۔ تھوڑی سی اترائی کے بعد ایک کھلے گرائونڈ کے بیچوں بیچ ایک عالی شان گھر پورے طمطراق سے کھڑا تھا۔ یہ گھر کسی وڈیرے کا لگتا تھا۔ آتے جاتے بہت دفعہ اس پر نظر پڑی تھی لیکن یہاں کون رہتا تھا‘ کبھی نہ سوچا تھا‘ نہ خیال آیا تھا۔
پناہ تو ادھر بھی نہیں لی جاسکتی تھی‘ کیا کرے‘ بارش زور پکڑتی جارہی تھی اور اندھیرا ہر سو قابض ہونے لگا تھا۔ یااللہ گھر سے ہی کوئی ڈھونڈتا ہوا ادھر آجائے۔ اس نے امبریلا سر پر ٹکا کر دونوں ہاتھ آپس میں رگڑے۔ جو کہ ٹھنڈے یخ ہوگئے تھے۔ تبھی اترائی کی طرف سے اسے ایک ٹمٹماتی سی روشنی آتی دکھائی دی۔ شاید کوئی ٹارچ لے کر آرہا تھا۔ جانے کون ہو‘ خوف نے اسے لرزا کر رکھ دیا تھا۔ وہ اس وقت کو کوسنے لگی جب اس نے باہر آنے کا پلان کیا تھا۔ وہ آنکھیں موندے آیۃ الکرسی کا ورد کرنے لگی۔ ٹارچ کی روشنی اب اس کے بہت قریب آنے لگی تھی۔ تین قدم‘ دو قدم اور پھر لائٹ سیدھی اس کے چہرے پر آپڑی تھی۔ وہ جس قدر سر کو جھکا سکتی تھی جھکا لیا۔
چلیے گھر چھوڑ دوں آپ کو؟ بارش کے شور میں ایک ڈوبتی ابھرتی آواز آئی تھی۔ ٹارچ کی روشنی اب پگڈنڈی پر پڑنے لگی تھی۔
اس نے چند لمحے سوچا اور چل پڑی۔ ہوا اس قدر شدید تھی کہ چھتری اڑ اڑ کر پیچھے جارہی تھی اور بارش اس کے چہرے سے ٹکرا رہی تھی۔ آنے والا مزید کوئی بات کیے ٹارچ سے راستہ تلاش کرتا اس سے چند قدم کے فاصلے پر چل رہا تھا اور انہیں چلتے چلتے کافی دیر ہوگئی تھی یا پھر اسے محسوس ہورہا تھا۔
لیجئے آپ بحفاظت اپنے گھر تک پہنچ گئیں۔ آواز پر اس نے سر اٹھایا‘ وہ واقعی اپنے گھر کے سامنے تھی‘ باہر بنے چھجے کے نیچے اماں اور بابا پریشان کھڑے تھے۔ اس نے ہاتھ ہلایا اور چڑھائی چڑھنے لگی۔ شکریہ ادا کرنا تو دور اس نے مڑ کر دیکھا بھی نہیں۔
کس کے ساتھ آئی ہو اتنے خراب موسم میں گھر سے نکلی کیوں؟ بابا غصے اور پریشانی دونوں میں مبتلا تھے۔ اماں اسے پکڑ کر جلدی سے اندر لے گئیں۔
سوری بابا‘ اندازہ نہیں تھا پھر پتہ بھی نہیں چلا کہ کتنی دور پہنچ گئی ہوں۔ اس نے شرمندگی سے کہا۔ اماں فٹ فٹ اس کے لیے کافی کا بھاپ اڑاتا مگ لے آئی تھیں۔
اس نے ایک لمحے کو بھی نہیں سوچا تھا کہ اسے اس طوفان میں گھر پہنچانے والا تھا کون؟ لیکن اگلی صبح جب رین کوٹ کی جیب سے وہ کاغذ نکلا تو اس کا دماغ بھک سے اڑ گیا۔ چٹ پر جو لکھا تھا‘ اس کے نیچے کسی کا نام تحریر نہیں تھا لیکن وہ جان گئی تھی اور اب اس کا رواں رواں کانپ رہا تھا۔
میں اب بھی منتظر ہوں پریزے۔ چٹ اس کی جیب میں اس نے کب اور کیسے ڈالی؟ اور کیا وہ جانتا تھا کہ اس کی ملاقات مجھ سے ہوگی؟ کیا وہ پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت وہاں آیا تھا لیکن وہ کیسے جانتا تھا کہ میں یہاں آنے والی تھی؟ اس کا دماغ بری طرح چکرا رہا تھا۔
یہ شخص کیوں اس کے پیچھے پڑگیا تھا وہ تو کچھ بھی کرسکتا تھا۔ اگر اسے بے ہوش کرکے کہیں گھسیٹ لے جاتا؟ بے ہوش نہ بھی کرتا‘ تو زبردستی ہی کہیں لے جاتا اور ان پہاڑوں اور تیز بارش کے بیچ آواز دب ہی جاتی اس کی۔
وہ یہاں موجود تھا‘ کہیں آس پاس ہی‘ کسی گیسٹ ہائوس میں یا پھر کسی گھر میں‘ کیا اس کی نگرانی کے لیے؟ سوالات اس کے دماغ میں اودھم مچاتے پھر رہے تھے اور اس کے پاس کسی بھی سوال کا واضح جواب موجود نہ تھا۔
اگلے چند دن اس کے بیماری میں کٹے۔ بارش میں بھیگنا رنگ لایا تھا یا پھر آغاحسن کا خوف‘ بہرحال وہ سنبھل کے نہ دے رہی تھی اور اس روز جب وہ اماں کے ساتھ ڈاکٹر فیاض کے کلینک سے چیک اپ کروا کر نکل رہی تھی‘ سامنے کھڑی بلیک پیجارو میں وہ پھر نظر آگیا۔ حرکتوں میں تو اس نے بیس پچیس سال کے نوجوان کو بھی مات دے دی تھی۔ وہ واقعی اس کا پیچھا کررہا تھا۔ شاید اس اینول فنکشن کے بعد سے۔ اس قدر بااثر شخصیت سے اس چھچھور پن کی توقع اسے ہرگز نہ تھی۔ وہ اسے پوری طرح نظر انداز کرکے آگے بڑھ جانے کو تھی مگر عین اسی وقت اماں کو فضیلت بی نظر آگئیں اور وہ ان سے علیک سلیک کرنے کھڑی ہوگئیں۔ وہ لب کاٹتی ان کے فارغ ہونے کا انتظار کرتی رہی اور تبھی جانے کب وہ اس کے بالکل قریب آکھڑا ہوا اس کی ٹانگیں واضح طور پر تھرتھرانے لگی تھیں۔ اس نے چہرہ تو دوسری سمت کرلیا مگر اپنی سماعتوں میں اس کی آواز اترنے سے نہ روک سکی۔

ہم انتظار کریں گے تیرا قیامت تک
خدا کرے کہ قیامت ہو اور تو آئے

دھیمے لہجے میں وہ اپنی آواز کا فسوں بکھیرتا آگے بڑھ گیا تھا۔ کسی کو پتہ بھی نہ چلا۔ کسی نے دھیان ہی نہ دیا اور اس سے پہلے کہ وہ لڑکھڑا کر گرتی‘ اماں نے سنبھال لیا۔
کیا ہوا پری‘ کیا طبیعت زیادہ خراب ہے؟ وہ فکرمندی سے اس کا پیلا پڑتا چہرہ دیکھ رہی تھیں۔
کچھ نہیں اماں‘ شاید چکر آگیا‘ نقاہت کی وجہ سے۔ اس نے خود کو کمپوز کرتے ہوئے اماں کو تسلی دی اور وہ سر ہلاتی اسے سہارا دیے اترائی کی طرف بڑھنے لگی تھیں۔

یزدانی ٹیکسٹائل کے بڑے سے سائن بورڈ کے نیچے کھڑے شاہ ویز نے ایک لمحے کے لیے دل کو ٹٹولا اور پھر اندر قدم رکھ دیا۔
جاب نہیں دیں گے تو کیا گھر بھی نہیں آنے دیں گے۔ اس نے اپنے نروس پن پر قابو پانے کے لیے خود کو تسلی دینی چاہی تھی۔ وہ اس وقت قطعی خالی دماغ تھا ابا اور تایا ابو کے اصرار پر وہ یہاں آتو گیا تھا لیکن دل میں یہ خیال بھی قوی تھا کہ یہ جاب اسے ہرگز نہیں ملنے والی۔ ہر چند کہ اس نے اپنا مجنونانہ حلیہ کافی حد تک ٹھیک کرلیا تھا۔ ویٹنگ روم میں لڑکوں اور لڑکیوں کی لمبی قطار دیکھ کر اسے کچھ اور تسلی ہوئی تھی۔ اب وہ بہت مطمئن انداز سے سائیڈ پر رکھی ایک کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔ اول تو اس کی باری آنے تک آفس ٹائم ہی ختم ہوجائے گا۔ وہ خود کو مطمئن کرنے کے لیے نئے جواز ڈھونڈ رہا تھا اور اس وقت اس کی خوشی دیدنی تھی جب اعلان کیا گیا کہ انٹرویو ختم ہوچکے ہیں۔ باقی ماندہ افراد واپس جاسکتے ہیں۔ تمام ہال میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ انٹرویو ہوئے ہی کتنے تھے‘ بس سفارشی‘ خوامخواہ کا ڈرامہ‘ جبکہ نوکریاں تو پہلے ہی بٹ چکی ہوتی ہیں۔ ہر کوئی بڑبڑاتا باہر نکل گیا تھا‘ شاہ ویز بابر نے بھی اطمینان سے رسٹ واچ پر نگاہ ڈالی اور اٹھنے کو تھا کہ رک گیا۔ اسے اپنی سماعتوں پر شبہ سا ہوا تھا۔ شاید کسی نے اس کا نام پکارا تھا۔
اٹینشن پلیز‘ علیزے احمد اور شاہ ویز بابر کچھ دیر رکیں۔ ان کا انٹرویو لنچ بریک کے بعد ہوگا۔
نہیں۔ وہ ڈھے سا گیا۔ یقینا تایا ابا نے یہاں بھی اپنی پرچی چلا دی تھی اور اس کا یہ خیال حقیقت بن گیا تھا جب چند روز بعد اسے اپائنمنٹ لیٹر ملا تھا۔
شکر منائو میاں تایا ابا کا لیکچر شروع ہوگیا تھا۔
لوگ تو ایسی نوکریوں کے لیے دھکے کھاتے پھرتے ہیں تمہیں تو پلیٹ میں رکھ کر مل گئی۔ اب ذرا من مار کر کرلینا اور کیا ہے وہ تمہاری معشوقہ سنڈریلا‘ اس کا خیال ذرا دل سے نکال دو۔ تب ہی کچھ بن سکو گے ورنہ اس عاشقی کے ہاتھوں تو ذلت اور خواری ہی ہوئی ہے ہمیشہ۔ آیا ذہن شریف میں کچھ اور پھر بہن کی عزت کا بھی کچھ خیال کرلینا‘ کہیں سسرال میں سبکی نہ ہوجائے۔ انہوں نے سمجھانے کا فریضہ ادا کردیا تھا آگے شاہ ویز میاں جانے یا نوکری۔
اوہ تو یہ آئمہ باجی کے سسرال میں ملی ہے نوکری اور چند ہی دنوں میں اسے پتہ چل گیا تھا کہ یزدانی ٹیکسٹائل مشہور انڈسٹریلسٹ حسن یزدانی کی ملکیت تھی جو حماد بھائی اور ابرار بھائی کے سگے چچا تھے (آئمہ کے شوہر) حسن یزدانی کے سگے چچا تھے۔ تبھی تو اسے بہن کی لاج نہ صرف رکھنے بلکہ نبھانے کی بھی تلقین کی جارہی تھی۔
چلو ایسی کوئی بری جاب بھی نہیں تھی۔ اس نے طوعاً وکرہاً اپنی زندگی کے اس فیز سے سمجھوتا کرنا شروع کردیا تھا۔
علیزے کی اپائنمنٹ بھی اس کے ساتھ ہی ہوئی تھی لیکن وہ باہر ریسپشن پر مس ماریہ کے ساتھ بیٹھتی تھی۔ علیزے بہت پیاری اور دھیمے لہجے والی لڑکی تھی اور جلد ہی اس نے آفس کی ہر لڑکی سے دوستی کرلی تھی۔ اس روز اسے کچھ دیر ہوگئی تھی وہ کام ختم کرکے باہر نکلا تو دیکھا علیزے بھی اپنی چیزیں سمیٹ رہی تھی۔
ہیلو مس علیزے! اس نے ہاتھ ہلایا جواباً اس نے بھی مسکرا کر ہاتھ ہلایا۔ جب وہ لفٹ کی طرف بڑھا اور فسٹ فلور پر جانے کے لیے پش کیا تو علیزے بھی بھاگ کر اس کے ساتھ سوار ہوگئی۔
آپ کہاں رہتے ہیں؟ اس نے یونہی پوچھا۔
شاہ ویز بتانے لگا‘ اسی وقت اس کا موبائل بجا۔ وہ فائل دائیں بازو کے نیچے دبائے بیگ کی زپ کھول کر موبائل تلاش کرنے لگی۔ اسی اثنا میں وہ فرسٹ فلور پر پہنچ گئے تھے۔ لفٹ کا دروازہ کھلتے ہی شاہ ویز نے قدم باہر کی طرف بڑھائے اور اسی دم اس کی نظر علیزے کے قدموں میں پڑے اس ادھ کھلے لفافے کی طرف جاپڑی جو موبائل ڈھونڈتے ہوئے شاید بیگ میں سے گر گیا تھا۔ علیزے موبائل پہ مصروف باہر نکل گئی تھی۔ شاہ ویز نے لپک کر وہ لفافہ اٹھایا اور تصویر باہر نکال لی۔ تھی تو غیر اخلاقی حرکت لیکن اسے جوشبہ ہورہا تھا وہ اس کی تصدیق کرنا چاہ رہا تھا‘ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ تصویر اس کے ہاتھ میں تھی اور اس کا پورا وجود دل بن کر آنکھوں میں دھڑکنے لگا تھا۔ یہ وہی تصویر تھی جس نے اب تک اس کی پوری زندگی کا احاطہ کر رکھا تھا۔
سنڈریلا میرا انتظار کرنا‘ میں آرہا ہوں‘ کسی اور اس کا رواں رواں رقص کرنے لگا تھا۔ اس کی تلاش ختم ہوگئی تھی۔
شاید اللہ اسی لیے اسے یہاں لے کر آیا تھا۔ اس سے ملانا لکھ رکھا تھا۔ نوکری تو ایک بہانہ بنی تھی۔ وہ بہت مشکل سے خود پر ضبط کرتا گھر پہنچا تھا۔
آندھی طوفان کی طرح وہ اپنے کمرے میں پہنچ کر لیپ ٹاپ کھول کر بیٹھ گیا۔ بلاشبہ یہ وہی تصویر تھی‘ جب پرنس‘ سنڈریلا کا ہاتھ تھامے اسے پروپوز کررہا تھا۔
پرنس وہی تھا اور سنڈریلا سنڈریلا بھی وہی تھی‘ وجیہہ وجیہہ‘ ایک دم اسے جھٹکا لگا۔ تصویر تو علیزے کے پاس تھی‘ تو وجیہہ کیا علیزے وجیہہ کو جانتی ہے؟ لیکن وجیہہ نے اپنی تصویر علیزے کو کیوں دی؟ دونوں کا آپس میں کیا رشتہ ہے؟ کیا بہن کا دوست کا یا پھر اوہ میرے اللہ اس کا سر پھٹنے لگا۔ باہر کوئی دروازہ ناک کرنے لگا تھا۔ اس نے جلدی سے لیپ ٹاپ بند کیا اور تصویر دوبارہ لفافے میں ڈال دی۔
شاہ ویز بیٹا کیا بات ہے‘ طبیعت تو ٹھیک ہے آتے ہی بند ہوگئے؟ باہر امی تھیں فکرمندی سے پوچھ رہی تھیں۔
جی آرہا ہوں چینج کررہا ہوں۔ اس نے جلدی سے خود کو نارمل کیا اور چینج کرکے نیچے آگیا۔ خوب رونق لگی تھی‘ آئمہ باجی آئی ہوئی تھیں اور خوب چہک رہی تھیں۔ ربیعہ اور صبوحی چپکی بیٹھی تھیں۔ سینٹرل ٹیبل پر دھرے گفٹس پیک یقینا وہی لائی تھیں۔ وہ سلام کرکے ان کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا۔
اور سنائو شاہ ویز تمہاری جاب کیسی چل رہی ہے؟ وہ اس کی طرف متوجہ ہوئیں۔
جی ابھی تک تو ٹھیک چل رہی ہے۔ اس نے کہا اور پھر سے اس تصویر کے بارے میں سوچنے لگا۔
کچھ پتہ چلا تمہاری سنڈریلا کا؟ انہوں نے مسکراتے ہوئے اسے چھیڑا۔ صبوحی اور ربیعہ کی کھی کھی شروع ہوگئی۔ وہ جواب دینا نہیں چاہتا تھا اس لیے خاموش رہا۔
میری مانو تو اب اس قصے پر مٹی ڈال دو۔ آئمہ نے سنجیدگی سے کہا۔ یہ سب بچپنے کی باتیں تھیں۔ لڑکیوں کی کمی ہے بھلا جانے وہ کہاں ہوگی اور کیا پتہ اب تک اس کی شادی بھی ہوگئی ہو۔ تم بھی کوئی اچھی سی لڑکی پسند کرو بلکہ گھر میں تین تین لڑکیاں موجود ہیں تائی اماں کی خواہش بھی ہے کسی ایک کے بارے میں سوچ لو۔ زندگی ایسے فضول کاموں کے پیچھے گنوانے کے لیے نہیں ہوتی۔ وہ بولتے بولتے رکیں۔ وہ عدم توجہی سے سن رہا تھا۔ ربیعہ اور صبوحی چپ چاپ اٹھ کر کچن میں چلی گئی تھیں۔ کیونکہ دل سے تو وہ بھی یہی چاہتی تھیں کہ شاہ ویز ان کا انتخاب کرلے۔
مجھے پتہ ہے تمہیں میری باتیں اچھی نہیں لگ رہیں۔ انہوں نے سلسلہ کلام جوڑا۔ لیکن بچے یہی حقیقت ہے کب تک ایک خیال کے پیچھے بھاگتے رہوگے۔ سب ہنستے ہیں تم پر مذاق اڑاتے ہیں تمہارا۔ میرا دل دکھتا ہے۔ میرا اکلوتا بھائی کیوں ایک ان دیکھی لڑکی کے پیچھے اپنی زندگی خراب کررہا ہے۔ اب ان کے لہجے میں ہلکا سا دکھ کا عنصر بھی آگیا تھا۔
ایسی بات نہیں ہے آئمہ باجی۔ اس نے پہلو بدلا۔ آئمہ باجی کو بتائے یا نہ بتائے۔ وہ سوچ میں پڑ گیا تھا۔
پھر کیسی بات ہے امی‘ اباجی‘ تایا ابو سب تمہارے لیے کس قدر پریشان رہتے ہیں۔ تمہیں کچھ اندازہ نہیں۔ تم کیوں نہیں سوچتے کہ جانے دوسری طرف حالات کیا ہوں اور یہ تمہاری عجیب سی محبت بلکہ دیوانگی کچھ نہیں رکھا اس میں۔ کوئی اتا پتہ‘ نام نشان تک نہیں ہے تمہارے پاس‘ اور پھر تم تو اس کی شکل بھی نہیں پہچانتے۔ زندگی کے کسی موڑ پر وہ کئی بار تم سے ٹکرائی بھی ہوگی اور تمہیں پتہ بھی نہیں چلا ہوگا۔ مت ضائع کرو اپنے آپ کو۔ ان کا لہجہ دکھی سا ہوگیا تھا۔
آئمہ باجی وہ اٹھ کر بالکل ان کے ساتھ آن بیٹھا۔
مجھے اس کے بارے میں کچھ تھوڑا سا پتہ چلا ہے اور امید ہے باقی کا بھی چل جائے گا۔ بس آپ سے مجھے فیور چاہیے۔ آپ میرا ساتھ دیں گی۔ چاہے کچھ ہوجائے۔ اس نے ان کے ہاتھ تھام لیے۔
کیا پتہ چلا ہے مجھے بھی بتائو؟ وہ ایک دم سے ایکسائٹڈ ہوئیں۔
ابھی نہیں کچھ دن رک جائیں۔ بس میں کنفرم کرلوں۔ وہ مسکرایا۔ اسی دم حماد بھائی اندر داخل ہوئے تو ماحول اور موضوع دونوں چینج ہوگئے تھے۔
یہ رات اس کی زندگی کی سب سے طویل رات تھی۔ وہ جلد از جلد علیزہ سے ملنا چاہتا تھا۔ جاننا چاہتا تھا کہ یہ تصویر اس کے پاس کہاں سے آئی۔ وہ کون تھی‘ اس تصویر سے اس کا کیا تعلق؟ صبح ہوتے ہی وہ تیار ہوکر آفس کے لیے نکل گیا تھا۔ بنا کچھ کھائے پیے۔
علیزہ نے آج آنے میں کافی دیر کردی تھی۔ وہ مین گیٹ سے ذرا دور کھڑا اس کا انتظار کررہا تھا۔ وہ باہر ہی سے سب کچھ جان لینا چاہتا تھا۔ اللہ اللہ کرکے اسے علیزے آتی دکھائی دی۔ وہ بائیک سائیڈ پر کھڑی کرکے اس کی طرف لپکا۔
شکر ہے آپ آگئیں۔ اس نے بے تابی سے کہا۔ علیزے نے پہلے حیرانی اور پھر اسے خفگی سے دیکھا۔ ان کے ایسے کون سے تعلقات تھے جو وہ اتنی بے صبری سے بولا تھا۔
میں کافی دیر سے آپ کا انتظار کررہا تھا۔ وہ اس کے تاثرات دیکھے بنا بولا۔ علیزہ نے اس کی طرف ذرا بھی دھیان نہیں دیا اور مین گیٹ کی طرف بڑھ گئی۔ گویا وہ اس کی بات سننا نہیں چاہ رہی تھی۔ اس نے اپنی بائیک کی طرف دیکھا پھر اندر جاتی علیزہ کی طرف۔
چلو اندر چل کر ہی بات کرتا ہوں۔ اس نے اپنی بائیک اسٹینڈ کی طرف لے جاتے ہوئے ارادہ کیا۔
جب وہ اندر داخل ہوا تو علیزہ کائونٹر پر مس مریم کے ساتھ مصروف تھی۔ وہ اس کے پاس آکھڑا ہوا۔علیزہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
اینی پرابلم مسٹر شاہ ویز؟ اس نے ابرو چڑھائے۔
مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔ بہت ضروری تھوڑا سا ٹائم دیں گی؟ اس نے بے حد آہستگی سے کہا علیزہ نے کچھ دیر سوچا پھر عندیہ دے دیا۔
اوکے لنچ ٹائم میں بات کرتے ہیں۔
تھینک یو تھینک یو ویری مچ۔ وہ مشکور ہوا اور لنچ ٹائم میں کینٹین پر ملتے ہی اس نے فوراً تصویر نکال کر اس کے سامنے رکھ دی تھی۔ علیزہ نے پہلے تصویر اور پھر شاہ ویز کو حیرانگی سے دیکھا۔
یہ تصویر آپ کے پاس تھی۔ میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گئی۔ شاید کل آپ کو ملی ہوگی‘ لفٹ میں؟ اس نے تصویر اٹھاتے ہوئے کہا۔ شاہ ویز نے دیکھا اس کا لہجہ اور چہرہ بے تاثر تھا جیسے وہ تصویر اسے نہ بھی ملتی تو ایسی کوئی فکر والی بات نہ ہوتی۔
یہ آپ کی ہے؟ میرا مطلب ہے اس میں جو بچی ہے وہ یا پھر بچہ؟ اسے اپنا مدعا سمجھانے میں دقت پیش آرہی تھی۔
ارے یہ وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔ پھر ایک دم سیریس ہوگئی۔
یہ تصویر میری ایک دوست کی ہے‘ بچپن کی۔ شاید اس نے اسکول میں کوئی پلے کیا تھا۔ اسے تصویر بہت پسند تھی‘ اصل میں ہم ساری فرینڈز مل کر اپنے بچپن سے لے کر آج تک کی تمام اچھی تصویروں کا ایک کولاج بنا رہی تھیں اور تبھی اس نے یہ تصویر مجھے دی تھی لیکن افسوس کچھ عرصہ پہلے آنے والے زلزلہ میں جو تباہی مچی اس کا شکار علیزے کی فیملی بھی ہوگئی۔ وہ پورے کا پورا خاندان اپنے گھر کے ملبے تلے دب گیا۔ ہم دونوں میں بہت محبت تھی‘ ہم دونوں نہ صرف ہم نام تھیں بلکہ ہم مزاج بھی تھیں لیکن آپ آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ علیزہ نے بولتے بولتے چپ بیٹھے شاہ ویز کو دیکھا۔ اس کا چہرہ دھواں دھواں ہورہا تھا اور چہرہ آنسوئوں سے تر تھا۔ وہ ملے بنا ہی اپنی محبت سے محروم ہوگیا تھا۔
کیا ہوا مسٹر شاہ ویز؟ وہ پریشانی سے پوچھ رہی تھی۔
کچھ نہیں کچھ بھی نہیں۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کے پورے وجود پر قیامت گزر رہی تھی۔ ایک لمحہ میں وہ خالی ہوگیا تھا۔ محبت نے اسے خالی ہاتھ‘ خالی دل کردیا تھا۔ اس کے ملنے کی امید نے چند گھنٹوں پہلے اس کے دل میں جو پھول کھلائے تھے انہیں مرجھانے میں زیادہ وقت نہیں لگا تھا۔ اس نے اپنی زندگی کے چھبیس سال اس محبت کی نذر کردیے تھے‘ صرف اس امید پر کہ ایک دن وہ اس کو پالے گا اور پھر وہ ان چھبیس سالوں کی محبت کا احوال اس کو سنائے گا اور پوچھے گا کہ اس کی محبت کی ذرا سی بھی حدت اس تک نہیں پہنچی اور تب شاید وہ اقرار کرلے لیکن یہاں تو سب کچھ فنا ہوگیا تھا۔ وہ رویا جی بھر کر رویا دھاڑیں مار مار کر رویا وہ مر گئی تھی اور اس کی محبت نے اسے خبر تک نہ دی تھی۔ وہ کہاں پھول چڑھاتا؟ وہ کہاں جاکر اس کا آخری دیدار کرتا جو اسے صبر آجاتا وہ پچھلے پانچ دن سے کمرے میں بند تھا‘ اس کے بیڈ پر وہ تصویریں بکھری تھیں جو اس کا سب کچھ تھیں‘ جن تصویروں کو دیکھ دیکھ کر اس نے اپنی زندگی بتادی تھی‘ کاش کاش وہ اس نوکری پر گیا ہی نہ ہوتا وہ علیزہ سے ملا ہی نہ ہوتا یا پھر اسے وہ تصویر نہ ملی ہوتی اور نہ ہی وہ امید کے دیے جلاتا اور نہ ہی علیزہ کی بتائی ہوئی حقیقت اس کی روح تک کو چھید ڈالتی۔ سب لوگ دروازہ کھٹکھٹا کر تھک گئے تھے اس نے صرف اتنا کہا تھا۔
وہ مر گئی ہے ماں مجھے رو لینے دو۔ اور انہوں نے اس کی دیوانگی دیکھتے ہوئے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا تھا۔

اور کتنا وقت لیں گی مس جہاں؟ آغاحسن نے کافی کا سپ لیتے ہوئے نگاہیں اس کے چہرے پر جمائی تھیں (ایک تو جب وہ اسے مس جہاں کہتا تھا اس کا دل چاہتا تھا اس کا سر کسی دیوار میں دے مارے مگر ہائے بے بسی)
مجھے آپ سے محبت نہیں ہے۔ اس نے دھیرے سے کہا۔ آغاحسن کا چہرہ بجھ سا گیا۔ چند لمحے وہ کچھ بول ہی نہ سکے۔ بس اسے دیکھتے رہے۔
میں نے آج تک شادی نہیں کی مس جہاں۔ کافی دیر بعد وہ گویا ہوئے۔ پریزے نے ایک نظر ان کے چہرے پر ڈالی‘ جیسے پوچھ رہی ہو کیا میں نے کہا تھا؟
مجھے اپنے لیے ایک پرفیکٹ لڑکی کی تلاش تھی ’دی بیسٹ‘ جس روز میں نے آپ کو پہلی دفعہ دیکھا اس وقت ہی میں نے فیصلہ کرلیا تھا آپ کو اپنا بنانے کا آپ کو حیرت ہوگی مس پریزے انہوں نے پہلی دفعہ نام لیا اور جانے کیا ہوا تھا اس کا دل یونہی دھڑک اٹھا تھا۔ (ہائے کہیں وہ اس محبت کے جال میں آہی نہ جائے)
عورت‘ لڑکی میرے لیے کچھ مشکل چیز نہیں‘ جس مقام اور اسٹیٹس کا مالک ہوں میں‘ یوں چٹکی بجاتے حسین سے حسین لڑکی میرے بیڈ روم کی زینت بن جائے لیکن پتہ ہے کیا مس پریزے‘ میں نے ساری زندگی ایمان داری سے گزاری ہے‘ اللہ بخشے میرے اباجی مسجد میں امام تھے اور انہوں نے ساری عمر ہمیں حلال رزق کی تلقین کی‘ ہمارے منہ میں کبھی ایک نوالہ بھی حرام کا نہیں گیا اور لاکھ لاکھ شکر ہے اس پروردگار کا‘ میں نے بھی اپنے جسم کو کسی حرام کام میں نہیں لگایا‘ میں نے بھی پوری ایمان داری اور سچائی سے خود کو اس ہستی کے لیے بچا کر رکھا ہے جو میری شریک حیات ہے‘ پاک بازی ووفاداری کی شرط صرف عورت کے لیے ہی کیوں؟ ستر کی حفاظت تو دونوں پر یکساں فرض کی گئی ہے۔ اگر ایک عورت اپنے آپ کو اپنے مجازی خدا کے لیے سینت سینت کر رکھ سکتی ہے تو مرد کیوں نہیں؟ میں نے ارادتاً کبھی کسی عورت پر بری نظر نہیں ڈالی‘ مگر مس جہاں میں آپ کے معاملے میں بے بس ہوگیا تھا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی میں بارہا آپ کے پیچھے آیا مگر کبھی آپ کو خبر نہیں ہونے دی۔ آپ کو روزانہ دیکھنے کے لیے میں نے وہ گھر خریدا صبح سے رات گئے تک میں اس چٹان پر بیٹھا پینٹنگ بناتا رہتا‘ جو آپ کے گھر کے بالکل سامنے ہے اور آپ کے کمرے کی ادھ کھلی کھڑکی صاف نظر آتی ہے۔
اف اﷲ وہ بڑابڑئی۔ تہذیب اس شخص کو چھو کر نہیں گزری تھی اور وہ اپنی پاک بازی کے قصے بیان کرکے اترا بھی رہا تھا۔
اس روز جب آپ موسم انجوائے کرنے نکلی تھیں۔ میں وہیں موجود تھا آپ کے پیچھے پیچھے‘ ایزل اور کینوس اٹھائے لیکن آپ تو اپنے آپ میں ہی اتنی مگن تھیں کہ پتہ ہی نہ چلا آپ کو جب ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہوئی تو میں آپ سے آگے نکل گیا۔ بارش تیز ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگنی تھی اور ایسی صورت میں شاید آپ میرے گھر پناہ لینے آجاتیں۔
’توبہ استغفار پلاننگز دیکھو اس بہروپیے کی۔ اس نے ایک بار پھر تلملا کر اس شخص کو دیکھا۔ آغاحسن نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔
لیکن میری ساری خواہشوں کی طرح یہ خواہش بھی بارش میں بھیگ کر تُرمر ہوگئی (کیسے کیسے الفاظ بولتا ہے یہ؟) خیر میں ایک بار پھر آپ کے سامنے دست سوال دراز کرتا ہوں‘ آپ کا احسان ہوگا مجھ پر اگر اس ناچیز کو شریک حیات ہونے کا شرف بخش دیں تو۔
آپ کتنے شریف ہیں یہ تو گزشتہ ڈھائی ماہ سے میں دیکھ رہی ہوں۔ اس نے زبان کھولی۔ آغاحسن نے بے یقین نظروں سے اسے دیکھا گویا پوچھ رہے ہوں انہوں نے کب دائرہ شرافت کو توڑا؟
ایک بے بس بے سہارا لڑکی کو بے ہوشی کی حالت میں آپ نے اغوا کیا اور اپنے گھر میں قید کرکے رکھا ہوا ہے اور اس پر پریشر ڈال رہے ہیں کہ وہ آپ سے شادی کرلے نہ چاہتے ہوئے بھی۔ یہ سب کچھ منہ بولتا ثبوت ہے آپ کی شرافت کا اور جو اس سے انکار کرے آپ اس کو جہنم واصل کردیں۔ میری طرح نجانے اور کتنی لڑکیوں کو آپ کے کارندے اسی طرح اٹھا کر لائے ہوں گے اور آپ نے اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد پھنکوا دیا ہوگا یہیں کسی کھائی میں۔ آپ جیسے لوگ ایسا ہی تو کرتے ہیں۔ اپنے گناہوں کا ثبوت تک مٹا دیتے ہیں اور ڈھنڈورا پیٹتے پھرتے ہیں اپنی پارسائی کا اونہہ تف ایسی مردانگی اور شرافت وپاکیزگی پر وہ کھری کھری سنا کر اوپر جانے کو پلٹی کہ آغاحسن نے آگے بڑھ کر اس کا بازو پکڑ لیا۔ یہ اس قدر غیر متوقع تھا کہ وہ سناٹے میں رہ گئی۔ اس نے پلٹ کر آغاحسن کو دیکھا ان کی آنکھیں لال انگارہ ہوگئی تھیں اور چہرہ شدت ضبط سے سرخ۔
پریزے نے اپنا بازو چھڑانا چاہا مگر گرفت اس قدر مضبوط تھی کہ وہ ایسا نہ کرسکی۔ کلائی پر ان کی گرفت مضبوط تر ہوتی گئی اور پریزے کو لگا کہ یہ باتیں سنا کر اس نے ایک بھیڑیے کو خود پر حملے کی دعوت دے دی تھی۔ یااللہ مجھے بچانا۔ اس نے آنکھیں میچے رب کو پکارا۔
مم مجھے چھوڑیں اس نے جدوجہد کی۔ اس کا پورا وجود تھرتھرانے لگا تھا۔ آغاحسن نے ایک جھٹکے سے اسے خود کے قریب کیا اتنا قریب کہ ان کی سانسیں اس کے چہرے کو چھونے لگیں۔ اس نے خوف سے آنکھیں اور سختی سے میچ لیں اور قریب تھا کہ وہ چیخنے لگتی۔ آغاحسن نے اسے زوردار دھکا دے دیا۔ وہ لڑھکتی ہوئی دور جاگری۔ اس کا سر سیڑھیوں کی ریلنگ سے جا ٹکرایا۔ آغاحسن تیزی سے باہر نکل گئے تھے۔ اسے اپنے سر پر چوٹ کا احساس ہوا۔ اس نے ہاتھ لگایا تو خون بہہ رہا تھا۔ خون دیکھتے ہی خوف سے اس کی گھگھی بندھ گئی اور اسے چند لمحے ہی لگے تھے بے ہوش ہونے میں۔

زندگی کے معنی اس کے لیے بالکل ہی بدل گئے تھے۔ وہ اس کے بعد آفس گیا ہی نہیں تھا‘ وہ تو اس لمحے کو کوس رہا تھا جب اس نے نوکری کی تھی۔ کم از کم زندگی ایک آس ایک امید کے سہارے گزر تو رہی تھی۔ بیرونی دنیا سے اس کا رابطہ ختم تھا‘ ریحان کئی بار اسے فون کرچکا تھا‘ آئمہ باجی کئی بار آچکی تھیں‘ امی‘ اباجی‘ سب اسے سمجھا سمجھا کر تھک گئے تھے‘ لیکن اس کی حالت میں سرمو فرق نہ آیا تھا۔ وہ زندہ رہنا ہی نہیں چاہتا تھا‘ کوئی اس کی اندرونی کیفیت کو کیوں سمجھ نہ پارہا تھا‘ سب کی اپنی کہانیاں‘ اپنی ضرورتیں‘ ارے کوئی اس کے اندر بھی جھانکتا‘ کیسے اجڑ کر رہ گیا تھا اس کا دل۔
شاہ ویز شاہ ویز دروازہ کھولو تایا ابا نے دروازہ زور سے پیٹا۔ پہلے تو وہ ڈھیٹ بن کر لیٹا رہا۔ جب دروازہ پیٹے جانے میں شدت آنے لگی تو اس نے اٹھ کر لاک کھول دیا۔ وہ آندھی طوفان کی طرح اندر داخل ہوئے تھے۔ ان کی آنکھیں‘ ان کا چہرہ غیض وغضب کا شاہکار لگ رہا تھا۔
کیا سمجھتے ہو تم ہاں‘ کیا چیز ہو تم؟ کسی رومیو‘ مجنوں کی اولاد اور جانشین ہو تم؟ تم میں ذرا بھی حیا نہیں رہی‘ جوان لڑکیوں کا گھر ہے اور تم عشق معشوقی کا پرچار کرتے پھر رہے ہو۔ مر گئی وہ‘ کون سا رشتہ جڑ گیا تھا تمہارا جو تمہارا سوگ ختم ہونے میں نہیں آرہا‘ غضب اللہ کا دو ماہ ہوگئے‘ تم نے سارے گھر والوں کا جینا حرام کردیا آدھی زندگی اس نادیدہ سے عشق کرنے میں گنوا دی اور باقی ماندہ اس کے مر جانے کا سوگ منانے میں گنوا رہے ہو‘ ناہنجار تمہیں اپنے بوڑھے ماں باپ کا بھی خیال نہیں اس دن کے لیے انہوں نے تمہیں پال پوس کر بڑا کیا کہ تم اپنی ساری زندگی عشق میں کھپادو‘ اور وہ دھکے کھاتے پھریں۔ وہ بولتے بولتے رکے شاہ ویز ناگواری سے سر جھکائے خاموش کھڑا رہا۔
کان کھول کر سن لو میری بات‘ دو دن دیتا ہوں میں صرف دو دن‘ انسانوں والی جون میں واپس آجائو‘ دو دن کے بعد چاہے مجھے کسی راہ چلتی بھکارن کی منت کیوں نا کرنی پڑے میں تمہارا نکاح اس سے پڑھوا دوں گا۔ پھر کرتے رہنا بیٹھ کر عشق سمجھ میں آئی بات۔ وہ اسے وارننگ دیتے باہر نکل گئے۔ شاہ ویز نے دوبارہ چٹخنی چڑھا دی۔ جیسے وہ ابھی اسے نکاح کرانے لے جائیں گے۔
اونہہ انہیں تو سراسر اپنی بیٹیوں کی فکر ہے۔ ا س نے کڑھ کر سوچا۔
میری دنیا لٹ جانے کا تو احساس ہی نہیں۔ میں بھی کسی بھکارن سے کرلوں گا شادی‘ لیکن ان کی بیٹیوں سے نہیں۔ اس نے مصمم ارادہ کرلیا۔ یہ تو سدا ہی میرے دشمن رہے ہیں‘ ہمیشہ بددعائیں ہی دی انہوں نے۔ کبھی اچھا لفظ نہیں نکالا‘ اور سنڈریلا تم نے بھی تو اچھا نہیں کیا میرے ساتھ میں تو تمہاری طرف سے کسی کلیو کا متلاشی رہا اور تم نے سب نشان ہی مٹا ڈالے۔ اپنے تک آنے والا ہر راستہ ختم کر ڈالا۔ تم نے اچھا نہیں کیا سنڈریلا بالکل بھی نہیں۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
امی نے اس کی آواز سنی تو اور مضطرب ہوگئیں۔ انہوں نے فوراً عظمیٰ کے گھر کی راہ پکڑی۔ اب عامل بابا کے پاس جانا ضروری ہوگیا تھا۔ انہی کی دعا اور تعویذ سے شاہ ویز زندگی کی طرف لوٹ سکتا تھا۔ عظمیٰ کا تو یہی کہنا تھا اور کوئی راہ نہ پاکر بالآخر انہیں اس راہ پر چلنا پڑا تھا۔

اس کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو ایک اجنبی جگہ پر پایا۔ اس کا دل گھبرا اٹھا پھر کوئی نیا امتحان‘ وہ جلدی سے اٹھ بیٹھی۔ کمرے میں انرجی سیور کی مدھم سی روشنی تھی۔ وہ کتنی دیر سمجھ ہی نہ پائی وہ تھی کہاں آخر؟ اس نے دھیرے سے اپنے اوپر سے لحاف ہٹایا اور چارپائی سے نیچے اتر آئی۔ اس کی چپلیں پاس ہی رکھی تھیں۔ اس نے پائوں میں اڑسیں اور ادھ کھلے دروازے کے پاس آکھڑی ہوئی۔ شاید کچن تھا دوسری جانب۔ ایک عورت دروازے کی طرف پشت کیے روٹی بیل رہی تھی اور دوسری سنک پر برتن دھو رہی تھی۔ اسے قدرے اطمینان ہوا کہ گھر میں کوئی عورت تو موجود تھی۔ اس نے دروازہ کھولا تو دونوں عورتوں نے بے ساختہ مڑ کر اس کی طرف دیکھا۔ روٹی بیلتی عورت بیلن پرے پھینک کر بھاگ کر اس کی طرف آئی۔ وہ ایک دم دیکھ نہیں سکی تھی۔ لیکن جب اس عورت نے پریزے میری وجیہہ کہہ کر اسے بلایا تو وہ چونک اٹھی۔ یہ آواز اس آواز سے تو اس کا کئی سالوں کا رشتہ تھا‘ کانوں میں اذان کے بعد جس آواز نے سب سے پہلے چاشنی گھولی تھی وہ اس کی ماں کی آواز تھی۔
ماں امی وہ تڑپ کر آگے بڑھی اور اگلے ہی پل وہ ان مہربان بانہوں میں سسک سسک کر رو رہی تھی۔ دوسری لڑکی علیزے تھی‘ اس کی بہن‘ وہ اس کو سنبھال رہی تھی۔ اسے پانی پلا رہی تھی اور پریزے پر تو شادی مرگ والی کیفیت طاری تھی۔ اس کی ماں اور بہن زندہ تھیں اور وہ اتنا عرصے لاعلمی میں جیتی رہی اور پھر جیسے ایک دم سے یاد آگیا وہ تو آغاحسن کے محل میں تھی‘ یہاں کیسے آگئی اور یہ امی اور علیزے عینا اور شان بابا جان اس نے امی کا ہاتھ پکڑا۔ سوال ابھی اس کی زبان کی نوک پر تھا کہ امی نے جان لیا۔
جب زلزلے سے گھر منہدم ہوئے تو گھر میں صرف تمہارے ابا عینا اور شان تھے۔ میں علیزے کو لے کر مارکیٹ جارہی تھی۔ جب ایک دم سے زمین ہلنے لگی‘ میں نے علیزے کا ہاتھ پکڑا اور دائیں طرف بنے گھر کے لان میں جابیٹھی۔ سب کچھ ہوتے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ تباہی‘ شور‘ چیخ وپکار‘ وہ گھر بھی ایک طرف سے منہدم ہوگیا۔ جب سکون ہوا میں اور علیزے وہاں پہنچے تو امی کی آواز بھرا گئی۔ کچھ بھی نہیں تھا‘ وہاں‘ تمہارے ابا‘ عینا‘ شان‘ سب ہی‘ میں تو سمجھی شاید تم بھی واپس آگئی ہوگی اور اسی ملبے تلے دب گئی‘ امدادی ٹیمیں آئیں‘ کچھ زخمی نکالے بھی لیکن دو ماہ ہم نے ایک امدادی کیمپ میں گزارے‘ امداد کا اعلان ہوا‘ لیکن وہ صرف اعلان تک محدود رہا‘ پھر ایک دن ایک چوہدری صاحب ہمارے کیمپ میں تشریف لائے‘ انہوں نے تمہارے ابا کا نام لیا اور یہ کہا کہ وہ ان کے بہت پرانے ملنے والے ہیں اور یہ کہ تمہارے ابا کے ان پر بہت احسانات ہیں اور اسی کا بدلہ چکانے کے لیے وہ ہمیں اس گھر میں لے آئے‘ بہت اچھے آدمی ہیں اور بہت خیال رکھ رہے ہیں ہمارا علیزہ کو انہوں نے کہیں جاب بھی دلادی ہے اور آج جب وہ تمہیں یہاں لے کر آئے تو میرا تو رواں رواں ان کے لیے دعاگو ہے۔ وجیہہ میری بیٹی کو مجھ سے ملادیا۔ وہ اس کا منہ چومنے لگیں۔ جبکہ آنکھوں سے بہتے آنسو اس کا بھی چہرہ گیلا کرنے لگے۔ اس نے ایک ہاتھ سر پر بندھی بینڈیج پر رکھا اور چوہدری صاحب اور آغاحسن کے رشتے کے بارے میں سوچنے لگی۔ علیزہ اس کے لیے گرما گرم سوپ لے کر آئی تو امی روٹی ڈالنے اٹھ گئیں۔ آج انہوں نے اس کی پسند کی ساری ڈشز تیار کی تھیں۔
اور عرصہ بعد ماں اور بہن سے ملنے کی خوشی میں اس نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور رات نیند بھی یوں ٹوٹ کر آئی تھی کہ اس کی آنکھ صبح گیارہ بجے کھلی۔ اسے بڑا اچھا محسوس ہورہا تھا۔ بالآخر آغاحسن تنگ آکر اسے چھوڑ ہی گیا تھا لیکن کیوں؟ اور یہ چوہدری صاحب کون سے دوست ہیں بابا کے جو اس طرح ساتھ نبھا رہے ہیں؟ وہ کھلے بالوں میں برش کرتی کھڑکی میں آکھڑی ہوئی۔ ذہن مسلسل سوچوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ وہ اِدھر اُدھر نظر گھما رہی تھی۔ تبھی اس کی نظر سامنے لگے ٹاور پر پڑی۔
یہ مشہور ٹاور تھا ارفع کریم ٹاور اوہ اس کے ذہن میں جھماکا سا ہوا۔ کیا وہ لاہور میں تھی؟ اتنی جلدی وہ اسے کیسے یہاں پہنچایا گیا تھا؟ اسی وقت ثروت اندر داخل ہوئیں۔
اٹھ گیا میرا بچہ؟ ان کے لہجے میں حلاوت ہی حلاوت تھی۔
امی کیا ہم لاہور میں ہیں؟ اس نے بے دھیانی سے پوچھا۔
ہاں اور اپنے پرانے والے گھر میں۔ وہ خوشی سے چہکیں۔
چوہدری صاحب نے ہی یہ گھر خریدا تھا۔ اب انہوں نے واپس کردیا ہے‘ میرا تو رواں رواں ان کا احسان مند ہے‘ کیسے ان کا قرض اتار پائوں گی میں اور تبھی تو میں نے تمہیں تمہارے پرانے نام سے پکارنا شروع کردیا ہے۔ تمہارے دادا ابا کو بہت پسند تھا یہ نام‘ لیکن تمہارے ابا کو ہمیشہ پریزے اچھا لگا۔ تبھی تو دوسرے اسکول میں ایڈمیشن کراتے ہوئے انہوں نے تمہارا نام تبدیل کردیا تھا۔ وہ بستر کی چادر کی شکنیں دور کرتے ہوئے اسے بتارہی تھیں۔
امی مجھے یہاں کون چھوڑ کر گیا؟ اس کی نظریں کسی نادیدہ نقطے پر مرکوز تھیں۔ اسے کیوں لگ رہا تھا کہ چوہدری صاحب اور آغاحسن ایک ہی شخص ہے۔
بتایا تو تھا چوہدری صاحب۔ اب وہ دوسری طرف کھلنے والی کھڑکی کے پردے ہٹا رہی تھیں۔ دھوپ چھن چھن کر اندر آنے لگی تھی۔
میں انہیں ملی کہاں سے؟
تم تھیں کہاں؟ انہوں نے الٹا سوال داغا۔ وہ ایک دم چپ کر گئی۔ کیا بتا دے کہ ایک شخص نے اسے یرغمال بنا رکھا تھا۔ نہیں اس کے کردار پر سو سوال اٹھیں گے۔ اس نے خود کو کچھ بھی کہنے سے روکا۔
کون اس کی پارسائی پر یقین کرے گا اور آغاحسن کی شہرت یقینا اتنی اچھی نہیں تھی ایک طویل عرصہ وہ جس کے ساتھ اکیلی اس کے گھر میں رہ کر آئی تھی کیا اس نے اسے کچھ نہیں کہا ہوگا؟ نہیں وہ اس بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتائے گی۔ وہ کہہ دے گی یہ عرصہ وہ امددای کیمپ میں رہی تھی اور اس نے ایسا ہی کہا اور امی نے یقین بھی کرلیا تھا۔

مائوں کی وہ ساری قسمیں جانے اسی ایک موقع پر ہی کیوں کام آتی ہیں‘ کبھی دودھ نہ بخشنے کا عزم‘ بہنوں کی لاج‘ باپ کی محبتوں کا بھرم‘ عزیز رشتہ داروں کے حقیقت پسندی کے مشورے‘ سب کچھ اس قدر زیادہ ہوگیا تھا کہ شاہ ویز کے لیے کوئی راہ فرار نہ بچی تھی اسے تایا جان کی صبوحی سے شادی کے لیے ہامی بھرنا ہی پڑی تھی۔ اس نے صبوحی کو تمام ممکنہ خطرات سے آگاہ کردیا تھا۔
میں تمہیں کبھی محبت نہیں دے سکوں گا۔ اس نے کہا تھا اور صبوحی جو کہ اسے پالینے کے نشے سے سرشار تھی‘ لاپروائی سے سرہلا دیا تھا۔
جانتی ہوں۔
میرے دل میں تمہارے لیے کبھی جگہ نہیں بن پائے گی۔
چلے گا۔ اس نے اطمینان سے کیوٹکس کھرچی۔
میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ بھی نہیں‘ بے وقوف۔ وہ جھنجلایا۔
میں فیوچر کی ٹینشن نہیں لیتی مسٹر شاہ ویز وہ مسکرائی۔
کل کیا ہوگا‘ دیکھا جائے گا‘ میرے لیے تو آج اہم ہے اور میں نے ہمیشہ آج کی فکر کی ہے‘ تم کس سے محبت کرتے تھے‘ تمہارے دل میں میرے لیے جگہ نہیں‘ یا تم مجھے کچھ نہیں دے سکتے‘ اس کا تعین آنے والا وقت کرے گا‘ ہوں اور ویسے بھی میں نے کبھی بہت زیادہ کی تمنا نہیں کی‘ جتنا مل جائے اس پر شاکر ہوجاتی ہوں اور فی الحال میں اسی بات پر خوش ہوں کہ تمہارا نام میرے نام کے ساتھ جڑ رہا ہے‘ باقی سب کچھ ہم بعد میں طے کرلیں گے‘ ابھی آپ جائیں مجھے شام کے لیے ڈریس تیار کرنا ہے بھئی شام کو ہماری منگنی کے ساتھ شادی کی ڈیٹ فکس ہونا ہے ہوں۔ اس نے اسے بازو سے پکڑ کر کمرے سے باہر کیا اور شاہ ویز کو جس بلا کا غصہ آیا اور جی میں آیا تھا کہ فوراً سے پیشتر یہ گھر چھوڑ کر بھاگ جائے۔ لیکن اماں کے دودھ کا قرض‘ بہن کی لاج اور ابا کی محبت کا بھرم یہ سب کچھ زنجیر بن کر اس کو جکڑ گئے تھے اور یہی وجہ تھی جب اگلے ہفتے جمعہ کے روز شام سات بجے اس کا نکاح رکھا گیا‘ تو اس نے کچھ بھی کہے بنا یہ فیصلہ تسلیم کرلیا اور جمعہ کا دن تو جیسے پر لگا کر اڑا چلا آیا تھا۔ صبوحی جس طمطراق سے دلہن بن کر اس کے کمرے اور زندگی میں داخل ہوئی تھی اسے لگ رہا تھا وہ اپنے دعوئوں پر زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے گا اور اسی خدشے کے پیش نظر اس نے ساری رات صوفے پر سگریٹ پیتے گزار دی تھی اور کم صبوحی بھی نہیں تھی۔ اس نے کپڑے بدل کر ایک نگاہ مصروف شاہ ویز پر ڈالی اور پھر لمبی تان کر سوگئی تھی اور شاہ ویز کو اس کی اس حرکت پر غصہ آیا تھا جانے کیوں؟ شاید اس کی مردانگی کو ٹھیس پہنچی تھی۔ اس نے تو سوچا تھا کہ وہ اپنی محبت کی دیوانگی کی تمام داستان اسے سنائے گا اور اس سے معذرت کرے گا لیکن اس سے پہلے ہی وہ لڑکی اسے جھنڈی دکھا گئی تھی۔
چلو اچھا ہوا اسے سب کچھ دہرانا نہیں پڑا۔ اس نے خود کو طفل تسلی دی اور آخری سگریٹ ایش ٹرے میں مسل کر اٹھ کھڑا ہوا۔ کچھ بھی ہو‘ نیند تو سولی پر بھی آہی جاتی ہے۔ سو نیند کا غلبہ بری طرح ہوا اور اگلے چند سیکنڈ میں وہ بھی گھوڑے گدھے سب بیچ کر محو خواب ہوگیا تھا۔ کچھ اسپیشل قسم کے بندے ہوتے ہیں اور ان کو ٹریٹ بھی اسپیشل طرح سے کیا جاتا ہے اور صبوحی جان گئی تھی شاہ ویز کا اسپیشل ٹریٹ منٹ کیا تھا۔ اس نے ذرا سا کمبل سرکا کر بے خبر سوئے شاہ ویز پر ڈالی تھی اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
مزہ آئے گا اس شخص کے ساتھ زندگی گزارنے میں۔ اس نے اپنے بالوں کو کیچر میں کستے ہوئے سوچا۔

پہلے تو میں ڈر ہی گئی کہ تصویر کہاں گم گئی‘ پھر میں نے ساری لفٹ چھان ماری لیکن تصویر تو یوں غائب ہوئی جیسے گدھے کے سر سے سینگ پھر اگلے دن جب مسٹر شاہ ویز نے تصویر میرے سامنے رکھی تو میں حیران ہی رہ گئی۔ اس آدمی کو بھلا اس تصویر سے کیا دلچسپی تھی‘ لیکن ان کا کیا گیا سوال اس سے بھی حیران کن تھا‘ پری وہ سنڈریلا کو ڈھونڈ رہا تھا‘ یعنی تمہیں اس کی آنکھوں میں اس وقت جو بے چینی تھی جو بے قراری تھی‘ لفظوں میں بیان نہیں ہوسکتی‘ لیکن جب میں نے کہا کہ یہ تصویر میری دوست کی ہے اور وہ زلزلہ کی زد میں آگئی‘ تو یقین مانو‘ اس کا چہرہ‘ آنکھیں سب کچھ بجھ گیا تھا‘ کئی ثانیے تو وہ بول ہی نہ پایا‘ شاید وہ تصویر والا پرنس تھا اور تمہیں ڈھونڈ رہا تھا اب تک پریزے‘ کبھی تم نے بھی سوچا ایسا‘ اس تصویر کے بارے میں۔ علیزے پوچھ رہی تھی اور پریزے سوچ میں پڑ گئی تھی۔
شاید کئی بار۔ اس نے اعتراف کیا۔ شاید تب جب سپنے نئے نئے آنکھوں میں بسیرا کرتے ہیں۔ خواہشوں کی ٹہنیوں پر نئی نئی کونپلیں پھوٹتی ہیں‘ میں نے بھی سوچا تھا اس بارے میں کیسا ہوگیا ہوگا یہ لڑکا؟ اور آج رئیل لائف میں اس ڈرامے کی کیا حیثیت ہوگی؟ لیکن بس پھر یہ سمجھ کر سوچنا چھوڑ دیا کہ جانے وہ کہاں‘ میں کہاں‘ زندگی آگے کیا لے کر آئے گی‘ یہ تو کوئی نہیں جانتا‘ بس یہ سب اس تصویر میں ہی اچھا لگ رہا ہے‘ حقیقی زندگی میں کہاں ہوتا ہے یہ سب؟ اس نے سر جھٹکا۔
لیکن پری مجھے ایسا لگا وہ لڑکا اس تصویر کو لے کر بہت سیریس تھا۔ شاید بچپن سے لے کر اب تک وہ تم سے‘ اس سنڈریلا سے محبت کرتا آرہا ہے اور ڈھونڈ بھی رہا ہے۔ علیزے اس بات کو سیریسلی سوچ رہی تھی۔ پتہ نہیں کیوں اسے احساس ہو رہا تھا کہ اس نے جھوٹ بول کر اچھا نہیں کیا۔ اس کی ایک وجہ شاید یہی تھی کہ اس نے دوبارہ اسے آفس میں نہیں دیکھا تھا۔ اور وہ اپنے آپ کو قصور وار سمجھ رہی تھی۔
اچھا چھوڑو‘ یہ بتائو یہ جو چوہدری انکل ہیں ادھر آتے جاتے بھی ہیں۔ میرا مطلب ہے اتنی نوازشات کے پیچھے ان کا کیا مطلب ہے؟ اس نے بات بدلی۔ علیزے نے ایک نظر اس پر ڈالی اور خفگی سے بولی۔
تم ہر وقت شک میں ہی کیوں مبتلا رہتی ہو۔ وہ اتنے اچھے ہیں‘ سر چھپانے کو آسرا دیا‘ مجھے اپنے آفس میں رکھا اور تو اور یہ گھر بھی انہوں نے ہمیں واپس لوٹا دیا اور کوئی کتنا کرسکتا ہے کسی کے لیے‘ رہی بات ان کے آنے جانے کی تو ٹوٹل دو دفعہ یہاں آئے ہیں وہ ایک بار‘ جب وہ ہمیں یہ گھر سونپنے آئے تھے اور دوسری بار دوسری بار یاد نہیں لیکن دوبار سے زیادہ وہ کبھی یہاں نہیں آئے۔ تم نے نہیں بتایا‘ تم اتنے ماہ کہاں رہیں؟ اس نے بھی بات کا رخ بدلا تھا۔
میں بتایا تو ہے‘ کیمپ میں تھی‘ تمہیں یقین نہیں ہے کیا؟ اس نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔
نہیں اس نے ترنت جواب دیا۔ وہ چونکی۔ کیا علیزے جانتی تھی وہ کہاں رہی اتنے دن؟
ارے وجیہہ علیزے چائے رکھو چوہدری صاحب آئے ہیں۔ ثروت گھبرائی گھبرائی سی اندر داخل ہوئیں۔ علیزے نے بے ساختہ پریزے کو دیکھا اور پریزے نے علیزے کو لیکن دونوں کے دیکھنے میں فرق تھا۔ ایک جاننا چاہتی تھی دوسری چھپانا علیزے جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
پری تم ریسٹ کرو میں چائے تیار کرکے دے آئوں۔ پھر باتیں کرتے ہیں۔ میں تمہیں تمہاری تصویروں کا کولاج دکھاتی ہوں جو تمہاری غیر موجودگی میں میں نے بنایا تھا۔ ٹھیک وہ باہر نکلنے کو تھی کہ پری نے اسے جالیا۔
رکو تو میں بھی ملوں گی چوہدری انکل سے۔ آخر اتنے مہربان شخص سے میری بھی شناسائی ہونی چاہیے۔
نہیں تم رہنے دو۔ وہ اسے ہر ممکن روکنے کی کوشش کررہی تھی۔ لیکن پریزے اسے پرے دھکیلتی باہر نکل گئی وہ اپنے اندر کا وہم ختم کرنا چاہتی تھی‘ ڈرائنگ روم کے ادھ کھلے دروازے کے باہر رک کر اس نے ایک لمحہ کو سوچا وہ اندر جائے کہ نہیں اگر اس کا وہم سچ نکل آیا تو اس تو کے آگے وہ سوچنا نہیں چاہتی تھی۔
آپ شاید مجھ سے ملنے آئی ہیں؟ آواز اتنے قریب سے آئی تھی کہ وہ بری طرح چونکی۔ وہ اس کے بے حد قریب کھڑا تھا۔ آغاحسن اس کا دل یونہی گواہیاں نہیں دیتا پھر رہا تھا۔ یہ نوازشات کسی چوہدری کی مرہون منت نہیں تھیں اور کون کرتا ہے آج کل ایک مرے شخص کے خاندان کے لیے‘ لوگ تو زندوں کی جائیداد کھا کر انہیں دھکے کھانے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں اور یہ آدمی سراسر جھوٹ بول رہا تھا‘ شروع دن سے اس سے جھوٹ بولا کہ اس کا سارا خاندان مر گیا اور ان سب سے جھوٹ بولا کہ وہ ابا کے دوست ہیں امی کو کیا ہوگیا تھا؟ وہ ایک اجنبی پر اس قدر کیوں بھروسہ کرنے لگیں کہ اپنی جوان بیٹی ان کے سپرد کردی اور اس کی نوازشات پر خوش ہوتی رہیں۔ دفعتاً کوئی اس کے بے حد قریب سے بولا۔
شاید آپ کسی اور سے ملنے کی مشتاق تھیں چلیں
؎میں ہوں مشتاق جفا‘ مجھ پہ جفا اور سہی
تم ہو بے داد سے خوش‘ اس سے سوا اور سہی
وہ گنگنائے اور پریزے کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس وقت وہ کیا کرے وہ تو سمجھ رہی تھی اس شخص نے اسے گھر پہنچا کر اس کا پیچھا چھوڑ دیا ہوگا۔ وہ مایوس ہوگیا ہوگا اس سے‘ لیکن یہاں تو بساط ہی اور بچھی تھی‘ اور وہ سارے مہرے اپنی مرضی سے چل رہا تھا‘ وہ الٹے قدموں اندر بھاگی‘ کیوں یہ شخص اس کی راہ میں بار بار آکر کھڑا ہورہا تھا؟ وہ کیوں کھیل رہا تھا اس کے ساتھ؟ جب وہ کچھ نہ کرسکی تو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور مزے کی بات یہ ہوئی کہ اس کو کوئی چپ کرانے آیا اور نہ ہی رونے کی وجہ پوچھی۔ وہ خود ہی رو دھو کر چپ ہوگئی۔ کافی دیر بعد علیزے اس کے لیے کافی کا مگ لے کر آئی‘ حقیقتاً اسے کافی کی طلب شدت سے محسوس ہورہی تھی۔
شکریہ علیزے۔ اس نے مشکور نگاہوں سے بہن کو دیکھا۔
اٹس اوکے۔ اس نے سرہلایا۔ پھر اس کے سامنے آبیٹھی۔ چند ثانیے اس کا رویا رویا چہرہ دیکھتی رہی پھر بولی۔
آغاحسن تم سے محبت کرتے ہیں؟ علیزے کے منہ سے یہ بات اتنی غیر متوقع تھی کہ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھتی رہ گئی۔
میں جانتی ہوں سب؟ اس کی خاموشی پر علیزے نے سلسلہ کلام جاری رکھا۔
جب انہوں نے تمہیں پہلی دفعہ پروپوز کیا۔ تمہاری خاطر ہمارے گھر کے قریب گھر خریدا روز محض تمہیں دیکھنے کے لیے وہ گھنٹوں اس چٹان پر بیٹھنا‘ تمہیں چھوٹی چھوٹی چٹھیاں بھیجنا‘ تمہارے پیچھے پھرنا‘ پل پل کی خبر رکھنا‘ ہیں تو چھچھوری حرکتیں اور جو ان کی عمر ہے اس کے حساب سے واہیات بھی‘ لیکن ایک بات سوچو پریزے دل پر کس کا زور چلا ہے ہاں؟ وہ پوچھ رہی تھی اور پریزے تو شاکڈ رہ گئی تھی۔ یہ ساری باتیں اس کو کس نے بتائی تھیں۔
تمہیں کس نے بتایا؟ وہ کافی دیر بعد بول پائی۔
آغاحسن نے خود جب ہم حادثے کے بعد گھر پہنچے تھے ناں پریزے تو ابا اور شان اس حادثے کی نذر ہوچکے تھے اور ہم نے سمجھا تھا شاید تم بھی لوٹ آئی ہوگی اور تم بھی اس ملبے تلے دب کر ختم ہوچکی ہوگی۔ آغاحسن‘ یعنی چوہدری صاحب ہمیں وہیں ملے تھے‘ وہ شہر سے تمہاری خاطر آئے تھے‘ تمہاری فکر میں‘ پھر وہ ہمیں اپنے گھر لے گئے‘ وہی گھر جہاں تم اتنے دن رہی ہو‘ انہوں نے ہم سے یہی کہا تھا کہ وہ اباجی کے پرانے جاننے والے ہیں‘ اسی لیے امی ان کے ہمراہ آگئیں‘ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں تھا‘ ایک ہفتہ ہم وہاں رہے‘ پھر انہوں نے ہمیں لاہور بھجوادیا‘ ان کے کوئی عزیز تھے یہاں مجھے اپنی فیکٹری میں ملازمت بھی دی اور پچھلے ہفتے یہ گھر بھی ہمیں واپس دلا دیا۔ ان کے بڑھتے ہوئے احسانات کے بدلے میں انہوں نے کچھ نہیں چاہا۔ وہ امی کی عزت کرتے ہیں تو میری طرف بھی کبھی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا۔ کچھ دن قبل ہی انہوں نے تمہارے ساتھ اپنی گہری محبت کا اظہار میرے سامنے کیا اور یہ کہ تمہاری وجہ سے ہی انہوں نے ہمیں یہ سب دے رکھا ہے۔ اب کہ علیزے نے نظریں چرائی تھیں۔
تم لوگوں کو معلوم تھا کہ اس شخص نے مجھے قید کر رکھا ہے اور اس کے باوجود تم لوگوں نے ایک دفعہ بھی میرے لیے کوئی کوشش نہیں کی۔ پریزے کا تو غم وغصے سے دماغ ہی الٹ گیا۔
تم لوگوں نے اپنی آسائشوں کے لیے مجھے بیچ دیا۔ میری قیمت وصول کرلی۔ یہ بھی نہ سوچا کہ میں اس کی قید میں کیسی زندگی گزار رہی ہوں۔ اس سے تو اچھا تھا میں یہاں آتی ہی ناں۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
ایک منٹ پریزے بات ایسے نہیں ہے۔ وہ اسے چپ کرانے کی کوشش کرنے لگی لیکن اس نے اس کو پرے دھکیل دیا۔ اسے اس وقت شدید گھٹن محسوس ہورہی تھی۔ اس کے اپنوں نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا محض خود کو پُرآسائش رکھنے کے لیے انہوں نے آغاحسن سے ایک بار بھی باز پرس نہیں کی تھی۔ گھر‘ تحفظ‘ اور ان کی بیٹی پریزے
اسے سب سے نفرت محسوس ہونے لگی تھی۔ علیزے باہر چلی گئی اور اس نے خود کو کمرے میں قید کرلیا تھا۔ بعض حقیقتیں بہت تلخ ہوتی ہیں۔

صبوحی نے بجتا الارم بند کیا اور کھڑکی کے پردے ہٹانے لگی۔ نرم دھوپ کی کرنیں شیشوں سے چھن کر اندر آنے لگیں۔ شاہ ویز نے چہرے پر سے کمبل ہٹایا اور گھور کر اسے دیکھا‘ جواباً وہ مسکرادی۔
تم کیوں مجھے چین سے سونے نہیں دیتی؟ وہ جھنجلایا۔
سونے کا ٹائم حد صبح آٹھ بجے ہے مسٹر شاہ ویز اور اب گیارہ بج رہے ہیں۔ اٹھ جائیں‘ ناشتہ کریں اور پھر روزگار کی تلاش میں نکلیں۔ فارغ بیٹھ کر گھر نہیں چلتے۔ اس نے کمبل کھینچا‘ شاہ ویز بگڑ گیا۔
کیا سمجھتی ہو تم اپنے آپ کو کیا تکلیف ہے تمہیں‘ میں کیا تمہاری مرضی کا پابند ہوگیا ہوں تم کہوگی اسٹینڈ اپ‘ تم کہو گی سٹ ڈائون اور میں کرنے لگوں گا۔ نکلو میرے کمرے سے اور مت دخل اندازی کیا کرو میرے معاملات میں۔ مجھے تم میں کوئی انٹرسٹ نہیں سمجھیں تم۔ اس نے تکیہ اٹھ کر ہوا میں اچھالا اور پائوں پٹختا باتھ روم میں گھس گیا۔ صبوحی نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور بستر درست کرنے لگی۔ مرد کتنا خود غرض اور بے حس ہوتا ہے صرف اپنی محبت‘ اپنی غرض کے بارے میں سوچتا ہے‘ ذرا مرضی کے خلاف بات ہوئی اور احتجاج پر اتر آئے اور ایک یہ عورت کمپرومائزنگ کے سارے اصول شروع دن سے رٹوا دیے جاتے ہیں۔
اگر اسے تم سے محبت نہیں تو گھبرانا مت‘ تمہاری محبت اور خدمت اس کا دل جیت لے گی اور وہ تم سے ایسے ہی محبت کرنے لگے گا جیسے تم کرتی ہو یا پھر جیسی محبت وہ اس لڑکی سے کرتا ہے۔ اماں نے کیسے اسے دلاسہ دیا تھا اور اس نے پوچھا تھا۔
اور اگر ساری عمر اسے میری محبت کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی تو؟
ایسا کبھی ہوتا نہیں۔ اماں نے کہا تھا۔ بالآخر مرد کو قدر ہوہی جاتی ہے۔ عورت کی وفا شعاری کی‘ کچھ وقت لگتا ہے‘ پھر سب کچھ ٹھیک ہوجاتا ہے۔ اماں کا اپنا تجربہ تھا لیکن حقیقت یہ تھی کہ وہ مطمئن نہ تھی‘ ابا کے فیصلے پر سر جھکاتے ہوئے اس نے سارے نفع نقصانات سوچ لیے تھے اور پھر اس کے سامنے بی بی آکا بھی تھیں‘ جو برسوں سے ان کے ہاں کام کرتی چلی آرہی تھیں‘ ساری عمر انہوں نے شوہر کا سکھ نہ دیکھا تھا‘ ان کی محبت اور وفا شعاری کا صلہ سوکن کی صورت میں انہیں ملا تھا‘ کیا انہوں نے محبت نہیں کی ہوگی کیا خدمت نہیں کی ہوگی؟ یہ دو چیزیں تو مشرقی عورت کو گھٹی میں دی جاتی ہیں اور نکاح کے تین بولوں کے ساتھ صبر کا پیالہ بھی تھما دیا جاتا ہے کہ یہ لو بی بی زندگی کا پیمانہ چاہے بھر جائے صبر کا پیمانہ لبریز مت کرنا‘ ورنہ یہ جو شوہر ہے گھر سے نکال باہر کرے گا اور اس گھر میں پڑی رہنے کے لیے عورت ساری عمر ہر زیادتی ہر دکھ برداشت کرتی ہے‘ بے عزتی سہتی ہے‘ طعنے تشنے سہتی ہے پھر بھی اُف کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ کتنی بار ٹوٹتی تھی وہ شاہ ویز کے رویے سے۔ جتنی حقارت‘ جتنی نفرت اس کے لہجے میں ہوتی تھی کئی بار اس کا دل چاہتا تھا وہ اس پر اور اس کمرے پر لعنت بھیجے لیکن اسے ابا کا خوف تھا تو اماں کی ملتجی نظروں کا پاس بھی‘ ورنہ ایک ایسا شخص جس کی صبح اور شام کسی دوسری عورت کے تصور کے ساتھ گزرے‘ وہ اسی کو سوچے‘ اسی کو پیار کرے اور کسی صورت اپنی اس دنیا سے باہر آنے کو تیار نہ ہو تو ایسے شخص کے ساتھ رہنا انگاروں پر رہنے کے مترادف ہے اور ان انگاروں سے بننے والے آبلے دن رات کسی قدر تکلیف دیتے تھے اسے‘ وہ کس کو بتا نہیں سکتی تھی۔ ہاں صبر کا آئنمنٹ لگا کر وہ کمرے سے ہنستی مسکراتی ہی نکلتی تھی۔ شاہ ویز شاور لے رہا تھا اس نے کمرے کا پھیلاوا سمیٹ کر اس کے کپڑے نکال کر رکھ دیے تھے اور ناشتہ بنانے کے لیے کچن میں آگئی تھی۔ اس کی تمام تر نفرتوں کے باوجود وہ اس کے سارے کام اپنے ہاتھوں سے ہی کرتی تھی۔ وہی خدمت والا فلسفہ‘ کبھی کبھی تو اسے لگتا تھا اس کا فیوچر بھی بی بی آکا سے کچھ مختلف نہیں ہونے والا‘ اگر شاہ ویز کی سنڈریلا مر گئی ہے تو کوئی دوسری آجائے گی اور وہ بھی ساری عمر چپ چاپ اسی گھر کے کسی کونے میں گزار دے گی۔
جب تک شاہ ویز تیار ہوکر باہر نکلا‘ وہ ناشتہ ٹیبل پر لگا کر چچی کو چائے دینے ان کے کمرے میں چلی گئی تھی۔ چچی کے جوڑوں کا درد آج کل عروج پر تھا‘ آئمہ باجی کی ڈلیوری بھی نزدیک ہی تھی سو کچھ اس کی تیاریوں میں لگی رہتی تھی‘ بچھونیاں‘ اون کے بنے ننھے منے سوئیٹر‘ چھوٹے چھوٹے کپڑے‘ کھلونے انہوں نے کتنی چیزوں کا انبار لگا لیا تھا اور دن میں ایک بار تو ضرور نکال کر دیکھتیں۔ خاندان کا پہلا بچہ تھا‘ سب ہی بہت پُرجوش تھے‘ کتنا کچھ تو صبوحی کی امی نے بنا کر دے دیا تھا۔ اس نے سلام کیا اور چائے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی۔
اٹھ گیا شاہ ویز۔ انہوں نے ایک نظر اس پر ڈالی۔
جی نہا رہے ہیں۔ میں ناشتہ رکھ آئی ہوں۔ آپ کو کوئی کام تو نہیں؟ اس نے پردے ہٹاتے ہوئے پوچھا۔ بڑے دنوں بعد سورج نے شکل دکھائی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی شاہ ویز کے جانے کے بعد باہر لان میں بیٹھ کر کینو کھائے گی۔
نہیں بس‘ شاہ ویز چلا جائے تو ذرا میرے سر میں تیل ڈال دینا۔ سو چ رہی ہوں آج نہالوں‘ دھوپ تو نکل ہی آئی ہے۔ انہوں نے ایک نظر کھڑکی کے پار ڈال کر کہا تو صبوحی اثبات میں سر ہلاتی باہر آگئی۔
شاہ ویز جاچکا تھا اور ٹیبل پر ناشتہ جوں کا توں دھرا تھا۔ اس نے کرسی گھسیٹی اور آرام سے بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگی۔ جیسے واقعی میں اسے یقین تھا ایک نہ ایک دن حالات اس کے حق میں ہوہی جائیں گے اور شاہ ویز اسے اپنی سنڈریلا مان ہی لے گا۔ ناشتہ کے بعد اس نے کچن سمیٹا اور چچی جان کو لے کر لان میں آگئی۔
مالش بھی کردیتی ہوں‘ بعد میں کینو اور مونگ پھلیاں کھائیں گے۔ اس نے اوپر سے ربیعہ اور اماں کو بھی آواز دے ڈالی اور پھر شام تک کا سارا وقت بہت اچھا گزر گیا تھا۔ کم از کم ان چار پانچ گھنٹوں میں اس نے شاہ ویز اور اس کے رویے کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔

تم کیا کروگی اس کا نمبر لے کر؟ پریزے کے پانچویں دفعہ کہنے پر علیزہ نے جھنجلا کر پوچھا۔
کچھ نہیں بس دیکھوں گی کتنا دم خم ہے اس کی محبت میں؟ پریزے کا رویہ آج کل بڑ اعجیب سا ہورہا تھا‘ اسے اپنی ماں اور بہن کی خود غرضی ہضم نہیں ہورہی تھی۔ آغاحسن تو غیر تھا‘ اس سے کیا شکوہ لیکن انہوں نے ایک بار بھی نہ کہا کہ وہ پریزے کو اپنے گھر میں لے کر کیوں بیٹھا ہے اور اب کیسے چھوڑ گیا۔ کیسے بے حس تھے یہ لوگ اس کا جی چاہتا تھا اس گھر سے کہیں دور چلی جائے‘ وہ کسی اور سے محبت کرے اور آغاحسن کے سامنے اس سے شادی کرکے کہیں اور چلی جائے۔ کم از کم اس شخص کو اپنی جاہلانہ حرکت پر پشیمانی تو ہو اور شاید اسی لیے وہ علیزہ کے پیچھے پڑی تھی کہ وہ اسے شاہ ویز کا نمبر دے۔
تم ایک غلط کام کو غلط ثابت کرنے کے لیے ایک اور غلط کام کرنے کا سوچ رہی ہو پری۔ علیزہ نے سمجھانا ضروری سمجھا۔
میں آغاحسن سے پیچھا چھڑانا چاہتی ہوں اور بس میں اس کو بتانا چاہتی ہوں کہ کوئی اور بھی ہے جو مجھے بچپن سے چاہ رہا ہے اور آج تک اس نے یہ بات منظر عام پر آنے نہیں دی۔ کبھی گلیوں‘ سڑکوں پر کھڑے ہوکر میرا راستہ نہیں روکا اور نہ ہی اپنا مطلب پورا کرنے کے لیے مجھے اٹھا کر گھر لے گیا یہ دولت واختیار کے نشے میں چور جو آغاحسن ہے ناں‘ مجھے اس سے شدید نفرت اور چڑ ہے۔ علیزے نے دیکھا اس کے چہرے پر تنائو بڑھ گیا تھا۔
ایک بات کہوں پری آغاحسن جیسی محبت تم سے کوئی نہیں کرے گا۔ وہ گلیوں‘ سڑکوں پر تمہارے لیے کھڑا ہوا‘ مگر کبھی تمہاری عزت پر حرف نہیں آنے دیا‘ تمہیں محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ تمہارے لیے کھڑا ہے اور یہ جو تم سمجھ رہی ہو کہ وہ تمہیں اٹھا کر گھر لے گیا اور اس کے پیچھے کوئی اور بات ہے۔ وہ جہاں سے تمہیں نکال کر لایا‘ اگر تمہیں بتادوں تو خیر چھوڑو مجھے کیا ضرورت ہے تمہیں یہ سب بتانے کی۔ تم نمبر مانگ رہی ہو‘ میں تمہیں اس کے گھر کا ایڈریس بھی دینے کو تیار ہوں لیکن صرف اتنا کہوں گی کہ راستے بند مت کرتی جانا‘ کیا خبر تمہیں لوٹنا پڑے تو کچھ نہ کچھ تو ہونا چاہیے نا زاد راہ کے لیے۔ تم میری بڑی بہن ہو اس کے باوجود مجھے تمہاری بے حد فکر ہے۔ میں تمہارے لیے بہت اچھے کی دعا کرتی ہوں۔ باقی کبھی فرصت ملی اور تمہارا دل چاہے تو پھر میں تمہیں سنائوں گی کہ میں اور اماں آغاحسن کے اتنے طرف دار کیوں ہیں اور کیوں ہم نے ان سے باز پرس نہیں کی۔ علیزہ نے شاکی لہجے میں کہتے ہوئے اپنی اس بدگمان بہن کو دیکھا جس کے چہرے کے تنائو میں کمی نہیں آئی تھی۔
اگلے دن اس نے آفس ریکارڈ میں سے شاہ ویز کا نمبر اور ایڈریس نکالا۔ اس کا عرصہ ملازمت گو کہ تھوڑا تھا لیکن مالکان کا رشتہ دار ہونے کی صورت میں اسے اس کے بارے میں کافی معلومات بھی مل گئی تھیں لیکن فی الحال وہ پریزے کو کچھ بھی بتانا نہیں چاہتی تھی وہ یقین ہی نہ کرتی‘ اس نے اسے فی الحال اس کے حال پر چھوڑ دینے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
پریزے نے علیزہ کے سینڈ کیے نمبر کو دیکھا اور پھر اپنے دل اور دماغ دونوں کو ٹٹولا کیا اسے یہ سب کرنا چاہیے تھا‘ شاہ ویز سے رابطہ کرنا اس کے لیے کسی مصیبت کا پیش خیمہ تو نہ بن جاتا‘ لیکن وہ آغاحسن کی محبت بھی کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں تھی۔ ایک بار رابطہ کرنے میں کیا حرج ہے۔ پتا تو چلے بچپن کی محبت اس پر کس حد تک حاوی ہے اور وہ کون سا اس سے بار بار رابطہ کرے گی‘ بس ایک بار پہلی بار اور آخری دفعہ اس نے موبائل میں نمبر سیو کرنے کے بعد ڈائل کرلیا‘ کافی دیر بیل جاتی رہی مگر ادھر سے ریسیو نہ ہوا۔ اس نے وال کلاک پر نگاہ ڈالی‘ شام کے ساڑھے چار بج رہے تھے‘ اس وقت یا تو وہ آفس میں ہوسکتا تھا یا پھر کسی دوست کے ساتھ گھر پر بھی ہوسکتا تھا اور کیا پتا وہ اجنبی نمبرز اٹھاتا ہی نہ ہو۔ اس نے وقفے وقفے سے دوتین بار ٹرائی کیا لیکن جواب ندارد‘ اس نے ٹیکسٹ کرنے کا سوچا لیکن وہ لکھے گی کیا؟ اور کیا شاہ ویز یقین کرلے گا‘ جبکہ علیزہ اسے کچھ اور ہی بتاچکی تھی۔ پھر کافی رات گئے اس نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا۔
ہیلو آئی ایم وجیہ‘ سنڈریلا اور نیند آنے سے قبل اس نے کئی بار اپنا موبائل چیک کیا تھا لیکن کوئی جواب نہ پاکر وہ مایوس سی نیند کی وادیوں میں اتر گئی تھی۔

میں سوچ رہا ہوں کہیں مجھے تم سے محبت نہ ہوجائے۔ شاہ ویز نے بیڈ پر آڑے ترچھے لیٹے ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑی صبوحی کو دیکھ کر ہولے سے کہا۔ وہ اس وقت کسی فنکشن میں جانے کے لیے تیار کررہی تھی۔ بلیک اور ریڈ ساڑھی میں اس کی گوری رنگت دمک رہی تھی۔ اپنے بھرے بھرے ہونٹوں پر سرخ لپ اسٹک لگا کر گویا اس نے انگارے دہکا دیے تھے۔ شربتی آنکھوں پر سایہ فگن گھنی پلکیں اور دراز گیسو جو اس کی کمر کو چھو رہے تھے‘ شاہ ویز کا دل ڈانواں ڈول ہونے لگا تھا۔ یہ دھان پان سی خوب صوررت لڑکی اس کی تایا زاد تھی اور اس نے کبھی نظر بھر کر دیکھا تک نہ تھا اور وہ تو تب کی بات تھی ناں اب تو پچھلے چھ ماہ سے وہ اس کی زوجیت میں تھی اور اس کے کمرے میں تھی تب بھی اس نے کبھی توجہ نہ کی تھی۔ بس جب وہ اس کو نظر آتی تھی اس کا پارہ ساتویں آسمان پر جا پہنچتا۔ اس کا جی چاہتا وہ اس پر چیخے چلائے اتنا کہ وہ کمرے سے باہر چلی جائے۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ تھی کہ اسے لگتا تھا اس نے اس کی سنڈریلا کا تصور بھی اس سے چھین لیا ہے۔ چلتی پھرتی صبوحی اس کو زہر لگا کرتی۔ اس پر اسے اور تائو آنے لگتا جب وہ زبردستی اس پر اپنی مرضی تھوپنے لگتی اٹھ جائو ناشتہ کرلو یہ کپڑے پہن لو نوکری ڈھونڈو کپڑے بدل کر سوئو جیسے وہ کوئی اس کا شوہر نہیں بلکہ دودھ پیتا بچہ ہو اور جیسے اس کے آنے سے پہلے تو وہ بدحال زندگی گزار رہا تھا (حالانکہ تھا تو ایسا ہی)
آپ چلیں گے شاہ ویز؟ صبوحی نے اپنے میک اپ کو فائنل ٹچ دیتے ہوئے پوچھا۔ وہ جو یک ٹک محویت سے اسے تک رہا تھا چونکا۔
کیا کہا؟ وہ انجان بنا۔
ہم لوگ آئمہ باجی کے دیور کی منگنی میں جارہے ہیں‘ اصولاً تو آپ کو بھی چلنا چاہئے اکلوتے بھائی ہیں آپ۔
اف توبہ ایک تو اس کی یہ لیکچر بازیاں۔ اسے پھر غصہ آگیا۔
تمہیں ہر وقت استانی بننے کا شوق کیوں ہے؟ جب دیکھو نصیحتیں‘ نہیں جاتا میں‘ تم جائو‘ اپنے یہ حسن کے جلوے لے کر‘ بتادینا آئمہ باجی کو‘ آج فنکشن میں روشنیاں نہ لگوائیں یہ کام تم آسانی سے کرلوگی۔ صبوحی کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔ چلو اس نے کچھ تو رسپانس دیا۔
ہاں بتادیا‘ لیکن ان کا کہنا تھا اصل روشنی تو ان کے چاند سے بھیا کے آنے سے ہی ہوگی۔ سو اپنی بہن کی خواہش کا پاس کریں اور جلدی سے اٹھ کر تیار ہوجائیں۔ آپ کے پاس پندرہ منٹ ہیں۔ کپڑے الماری میں تیار رکھے ہیں فٹافٹ۔ وہ مسکراتے ہوئے اپنا پرس اٹھا کر باہر نکل گئی۔ وہ تلملا اٹھا پھر وہی ہدایات نہیں جاتا میں‘ اس نے تکیہ اچھالا اور اوندھے منہ لیٹ گیا۔ لیکن یہ صرف چند منٹ کے لیے تھا دس منٹ بعد ہی وہ تیار ہوکر ان سب سے پہلے گیٹ پر موجود تھا اور لائونج کی کھڑکی سے جھانکتی صبوحی کے چہرے پر بڑی دل نشین مسکراہٹ پھیلی تھی۔
مجھے سمجھ نہیں آتی تم اتنی خوب صوررت کیسے ہوگئی ہو؟ جب وہ فرنٹ ڈور کھول کر امی جان کا بیگ رکھ رہی تھی تو اس نے بے حد آہستگی سے کہا تھا۔ صبوحی نے ان سنی کردی تھی گویا پتھر میں جان پڑ رہی تھی اور پھر پورے فنکشن میں اس نے محسوس کیا تھا کہ وہ شاہ ویز کی نظروں کا مرکز بنی رہی ہے۔ اس کے اندر یک گو نہ اطمینان سا اتر آیا تھا اماں جان ٹھیک ہی کہتی ہیں شاید‘ مرد بالآخر عورت کی محبت اور وفاداری کا اسیر ہوہی جاتا ہے بالآخر لیکن گھر آتے ہی شاہ ویز نے اسے جس طرح نظر انداز کیا تھا اور دوسری جانب منہ کرکے سو گیا تھا اس کی ساری خوش فہمیاں پھر سے اپنی موت آپ ہی مر گئی تھیں۔ اس بندے کو جانے کیا چیز متاثر کرے گی ساری رات کروٹیں بدل بدل کر صبح دم بالآخر اس کی آنکھ لگ ہی گئی تھی۔ اسے ٹیکسٹ پڑھنے کی عادت نہیں تھی اور ویسے بھی زیادہ تر ٹیکسٹ سم کمپنی کے ہی ہوتے تھے ہفتہ دس دن بعد وہ آل ڈیلیٹ کی آپشن لگا کر سب کچھ ختم کر ڈالتا تھا۔ ہاں البتہ ایک ہی نمبر سے جو تین چار بار کال آئی تھی وہ اس کو تشویش میں مبتلا کررہی تھی۔ نمبر انجانا تھا‘ اس نے سوچا کال بیک کرکے پتہ کرلے لیکن اسی وقت تایا ابا کو کوئی ضروری کام پڑگیا۔ وہ موبائل کمرے میں رکھ کر اوپر آگیا۔ کچھ بھی تھا تایا ابا کے خلاف ہونے کے باوجود وہ ابھی تک ان کے کسی حکم سے سرتابی نہ کرسکتا تھا۔ ان کے کمرے کا انرجی سیور خراب تھا‘ وہ بدلنا تھا‘ اسٹور میں لگا کپڑے لٹکانے والا پائپ ایک طرف سے لٹک گیا تھا اس کو ٹھیک کرنا تھا۔ دھوبی نے ابھی تک ان کی واسکٹ گھر نہ پہنچائی تھی‘ یہ سارے کام انہیں شاہ ویز سے ہی کراکے مزا آتا تھا۔ وہ چڑتا‘ ان کے کام سر انجام دیتا رہا۔
فارغ ہوا تو تائی اماں نے کھانا آگے رکھا‘ مٹر قیمہ اور آلو کی بھجیا تھی دونوں اس کی پسندیدہ‘ وہ چپ چاپ تناول کرنے بیٹھ گیا۔
اماں نے صبوحی کو آواز بھی لگائی لیکن اس نے مصروفیت کا بہانہ کردیا۔ پیٹ بھر کے کھا چکنے کے بعد گرما گرم کافی کا کپ اور لذیذ گاجر کا حلوہ واہ آج تو تایا ابا کے کام کرنے کا لطف ہی آگیا تھا۔ وہ اسی طرح کافی کا بھاپ اڑاتا مگ اور پلیٹ میں گاجر کا حلوہ لیے نیچے آگیا۔ صبوحی تب تک قیلولہ کرنے لیٹ گئی تھی۔
یہ نوکری کیوں نہیں ڈھونڈ رہا‘ بھائی صاحب نے جو سفارش سے لے کر دی اس پر تو موصوف لات مار کر آگئے۔ اب کرنا کیا چاہتا ہے‘ سو خرچے ہوتے ہیں بیوی کے‘ کل کو بچے ہوں گے‘ کہاں سے کھلائے گا انہیں؟ اماں کے کمرے سے آتی ابا کی آواز نے اسے جیسے جگا سا دیا تھا۔
ارے ہاں بھئی کہہ تو ٹھیک رہے ہیں۔ اس نے دل ہی دل میں تائید کی اور کمرے میں آگیا۔
واہ جی واہ بڑے ریسٹ ہورہے ہیں۔ اس نے صبوحی کو دیکھتے ہی طنزیہ کہا۔ وہ ایک نظر اس پر ڈال کر کروٹ بدل گئی۔ اس کا موڈ نہیں تھا اس کی کڑوی کسیلی باتیں سننے کا۔ سو کانوں پر تکیہ بھی رکھ لیا۔ اس کی اس حرکت پر وہ تلملا گیا۔
اتنا زہر لگتا ہوں میں تمہیں جو میری شکل دیکھ کر منہ موڑ لیا اور میری آواز اتنی بری ہے کہ تم سننا ہی نہیں چاہتی کانوں پر تکیہ رکھ لیا۔ کون سا وقت تھا جو میں نے تایا ابا کے دبائو میں آکر یہ فیصلہ کرلیا۔ چھین لیا تم نے مجھ سے میرا سب کچھ میری یادیں‘ میری محبت‘ سب کچھ۔ حسب عادت وہ پھر سے چیزیں اٹھا کر پھینکنے لگا۔ صبوحی کو بھی غصہ آگیا۔ اس نے تکیہ ہٹایا اور اٹھ بیٹھی۔
کیا مسئلہ ہے آپ کا مسٹر شاہ ویز‘ کیا چاہتے ہیں آپ مجھ سے۔ میں آپ کو نظر آئوں تو مسئلہ ہے‘ آپ کی آنکھوں میں قہر بھر جاتا ہے‘ آپ منہ موڑ کر یا تو موبائل پر مصروف ہوجاتے ہیں یا پھر ٹی وی کی طرف‘ آپ کو میری ہر بات پر اعتراض ہے اور جو میں منہ موڑ لوں‘ آپ سے بات نہ کروں تو بھی مسئلہ ہے‘ آپ کو کیا چھین لیا ہے میں نے آپ سے؟ آپ نے اپنی محبت مجھے تھمائی تھی کیا جو میں نے کہیں گم کردی اور اب اس کا بدلہ آپ مجھ سے لے رہے ہیں؟ ایک خیالی محبت کے پیچھے آپ جیتے جاگتے انسانوں کو بھول چکے ہیں۔ ان کے جذبات‘ احساسات‘ کیا معنی رکھتے ہیں آپ کو تو اس سے بھی کوئی سروکار نہیں اور آپ آپ نے کیا دیا ہے مجھے‘ چھ ماہ میں کبھی آپ کو محسوس ہوا ہو کہ اس کمرے میں آپ کے علاوہ کوئی اور بھی ہے‘ جو آپ کی منکوحہ ہے‘ آپ کی تمام تر توجہ اور محبت کی حق دار لیکن نہیں میں تو جیسے انسان ہوں ہی نہیں‘ ابا کے دبائو میں صرف آپ ہی نہیں آئے‘ مجھ پر اتنا ہی دبائو ڈالا گیا ورنہ مجھے بھی کوئی شوق نہیں تھا ایک ایسے مرد سے شادی کرنے کا جو خالی ہاتھ ہو اور اس کے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں تھا‘ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میں نے آپ سے آپ کی محبت چھینی ہے تو میں بھی یہ کہتی ہوں مجھے بھی آج تک آپ نے کچھ نہیں دیا۔ نہ ایک نگاہ محبت اور نہ ہی کوئی اچھی یاد اور مجھے آپ سے کوئی توقع ہے بھی نہیں۔ وہ بول بال‘ اپنا دوپٹہ اٹھا کر کمرے سے نکل گئی۔ کوئی کب تک پتھر بن کر زندگی گزار سکتا ہے۔ اس نے سوچ لیا تھا آج کے بعد وہ کبھی شاہ ویز کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گی۔ شاہ ویز نے حیرت سے اس کا یہ روپ دیکھا اور پھر خاموشی سے لیٹ گیا تھا۔ کہہ تو وہ صحیح رہی تھی مسٹر شاہ ویز‘ اس نے خود سے کہا اور اس سے پہلے کہ وہ اس کے بارے میں مزید کچھ سوچتا موبائل پر آتی کال نے اسے اپنی طرف متوجہ کرلیا تھا۔
ہیلو! اس نے یس کا بٹن پش کرتے ہوئے کہا اور دوسری جانب سے آتی آواز گویا صحرا میں بارش کی مانند ثابت ہوئی تھی۔
ہیلو میں وجیہہ بات کررہی ہوں‘ کیا آپ مسٹر شاہ ویز ہیں؟
وجیہہ سنڈریلا کسی اور کی دلہن نہ بن جانا میں آرہا ہوں کوئی اونچی اونچی گنگنانے لگا تھا۔
جی میں شاہ ویز کیا آپ سچ مچ وہ بے یقینی سے پوچھ رہا تھا اور پھر اگلے ایک گھنٹے میں جو کچھ پریزے نے اسے بتایا تھا اسے یقین آگیا تھا کہ وہ اس کی کھوئی ہوئی سنڈریلا ہی تھی۔
مجھ سے ملو سنڈریلا میں تمہیں دیکھنا چاہتا ہوں۔ وہ بے تابی سے بولا۔
میں بھی جواباً اس نے دھیرے سے کہا اور وہ ساری رات شاہ ویز نے سپنے بننے میں گزار دی تھی۔ وہ بھول گیا تھا کہ اب وہ ایک شادی شدہ مرد تھا‘ صبوحی بھی ساری رات کمرے میں نہیں آئی تھی اور ویسے بھی اسے اس کی پروا ہی کب تھی اب تو اسے دوسرے دن شام پانچ بجے کا بے چینی سے انتظار تھا۔ جب وہ اپنی کھوئی ہوئی محبت سے ملنے والا تھا۔ وہ دن شاید اس کی زندگی کا طویل ترین دن تھا۔ مایوسی میں ڈوبے ایک شخص کو جیسے اندھیرے میں روشنی کی کرن نظر آئی تھی۔ وہ بڑے اہتمام سے تیار ہوا تھا‘ وہ نہیں چاہتا تھا۔ دی بیسٹ کے سامنے اس کی شخصیت کم تر نظر آئے‘ ویسے تو اس کی محبت ہی بہت قد آور تھی۔ پچیس سالہ محبت کے سامنے تو سب کچھ ہیچ ہی تھا اس نے تو دیوانہ وار محبت کی تھی۔ بنا دیکھے بنا سوچے۔
کسی اور کی دلہن نہ بن جانا‘ ہے سنڈریلا‘ میرا انتظار کرنا‘ میں آرہا ہوں۔ خود پہ پرفیوم اسپرے کرتے ہوئے وہ اونچی آواز میں گنگنا رہا تھا عرصے بعد اس گیت نے لبوں کو چھوا تھا۔
صبوحی نے باہر سے گزرتے ہوئے یہ گیت سنا اور خود کو بی بی آکا کے ساتھ لاکھڑا کیا تھا۔ سنڈریلا کہاں مرتی ہے‘ بلکہ ہر شخص کی اپنی ایک سنڈریلا ہوتی ہے جیسے ہر لڑکی کا اپنا ایک پرنس چارمنگ‘ اب چاہے وہ خوابوں تک ہی محدود کیوں نہ رہے۔ ایک بار تو چاہت کی حدوں کو چھو جاتا ہیں اور یہ بھی سچ ہے سنڈریلا اور پرنس بدلتے رہتے ہیں حالات اور وقت کے ساتھ ساتھ یوں بھی ہوتا ہے ناں کوئی مرگ جاں کے قریب ہوتا ہے‘ اس کے بغیر جینا محال لگتا ہے‘ بچھڑنے کا خیال ہی روح کو لرزا کے رکھ دیتا ہے‘ لیکن پھر یوں بھی ہوتا ہے کہ دل اس سے کنی کتراتا ہے‘ وہ زندگی کے کسی موڑ پر نظر نہ آجائے دل یہ دعا کرتا ہے اور جو کبھی کہیں اچانک مل بھی جائے تو یوں نظر انداز کیا جاتا ہے جیسے کبھی جانتے ہی نہ ہوں۔ اسے شاہ ویز سے کوئی طوفانی قسم کا عشق نہیں تھا کزن ہونے کے ناطے ایک پسندیدگی ضرور تھی دل میں‘ پھر ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے ہر وقت کا سامنا‘ ابا کا تو ویسے بھی ہر کام شاہ ویز کے بنا نامکمل ہی ہوتا تھا‘ حالانکہ شفیقہ خالہ کا رضی ماہر الیکٹریشن ہونے کے ساتھ دیگر امور میں بھی طاق تھا لیکن ابا کو تسلی شاہ ویز سے ہی ہوتی تھی اور پھر جب گھر میں اس کے اور شاہ ویز کے رشتے کے بارے میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں تو اس نے شاہ ویز کو کسی اور نظرسے دیکھا۔ کسی اور دل سے سوچا‘ تو وہ اسے بہت اچھا لگا سنڈریلا‘ نامی کوئی چیز جو اسے شاہ ویز کی باتوں میں دکھائی دیتی تھی اس سے اس کو کئی خطرہ نہ تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے بڑھتے جنون نے سب کو ہی تشویش میں مبتلا کیا تھا اور اب پھر ایک نئی سنڈریلا اس نے الگنی سے اتارے کپڑے تہہ کرنے شروع کیے اور نظریں دور کسی غیر مرئی نقطے پر جمادیں۔ کچھ بھی تھا اس میں شاہ ویز کو کھونے کا حوصلہ بالکل بھی نہ تھا۔

وہ ایک ریسٹورنٹ میں ایک لڑکے کے ساتھ گئی تھی۔ آج کی تازہ رپورٹ آغاحسن کو سنادی گئی تھی اور آغاحسن کا خون بوائلنگ پوائنٹ پر پہنچ گیا تھا۔ اسے علیزے نے سب کچھ بتا دیا تھا محض ان کی ضد میں وہ اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ اس طرح کی حرکتیں کرتی پھر رہی تھی۔ وہ کیا کرتے‘ کر بھی کیا سکتے تھے‘ بے بس تھے۔ وہ زور زبردستی کے قائل ہی نہ تھے‘ انہیں پریزے سے پہلی نظر میں محبت ہوئی تھی اور اس کے بعد انہوں نے خود پر ہر عورت حرام کرلی تھی‘ صرف پریزے اور کوئی نہیں‘ انہوں نے مہر لگادی تھی‘ اگرچہ انہوں نے ہر ممکن کوشش کرلی تھی لیکن اس بے حس لڑکی کی ناں کو ہاں میں نہ بدل سکے اور تبھی اس روز جب وہ لڑکھڑا کر گری تھی اور سر پر چوٹ لگوا لی تھی‘ وہ اسے گاڑی میں ڈال کر گھر چھوڑ گئے تھے‘ اب وہ چاہتے تھے کہ وہ خود ان کے پاس آئے‘ ان کی محبت سے مجبور ہوکر‘ لیکن وہ تو‘ کسی اور راہ پر چل نکلی تھی۔
ان کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ اسے اغوا کرلیں اور کسی دوسرے ملک لے جائیں پھر تو وہ مجبوراً ان سے شادی کرلے گی‘ لیکن نہیں شاید وہ پھر بھی نہیں کرے گی‘ انہوں نے ڈرائیور کو گاڑی نکالنے کا کہا اور خود علیزے کا نمبر ملانے لگے۔ آج دو ٹوک بات کرنا چاہتے تھے‘ جس وقت وہ ان کے گھر پہنچے‘ اسی وقت پریزے شاہ ویز کی گاڑی سے اتر رہی تھی۔ ان کا خون کھول اٹھا‘ پہلی ملاقات میں ہی نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی۔ یہ کس راستے پر چل پڑی تھی وہ شاہ ویز گاڑی آگے بڑھا لے گیا تھا اور اس سے پہلے کہ وہ گیٹ کے اندر داخل ہوتی‘ آغاحسن تیز قدموں سے چلتے اس کے قریب جاپہنچے۔ پریزے نے ایک ناگوار نظر ان پر ڈالی اور کھلے گیٹ سے اندر داخل ہونے کو تھی کہ آغاحسن نے اس کا بازو پکڑلیا‘ وہ دوبارہ ان کی اس جرأت پر دنگ رہ گئی۔
چھوڑیں میرا ہاتھ۔ وہ چلائی۔ لیکن آغاحسن اس وقت مکمل غصے میں تھے۔
تم مجھ سے محبت کرتی ہو یا نہیں؟ انہوں نے غرا کر پوچھا۔ پریزے چند ثانیے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی رہی۔
کیا چاہئے مس آپ کو مجھ سے؟ بے بسی دکھ کیا کچھ نہیں تھا ان کے لہجے میں۔ وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑے تھے‘ اس سے پوچھ رہے تھے‘ اور جانے کیا ہوا تھا پریزے ہمیشہ کی طرح ان سے نظریں نہ چرا سکی تھی۔
آپ کو میرے حال پر رحم نہیں آتا‘ میں پاگلوں کی طرح آپ کے پیچھے پھر رہا ہوں‘ آپ کو مجھ سے محبت نہیں ناسہی‘ میں کبھی اس کی ڈیمانڈ بھی نہیں کروں گا‘ لیکن پلیز مجھے یوں بے موت نہ ماریں‘ میں مر جائوں گا‘ مجھے لگتا ہے اگر آپ نے مجھے قبول نہ کیا تو میں مر جائوں گا۔ ان کا لہجہ ملتجیانہ نہیں تھا لیکن بے بس ضرور تھا۔
میں کوئی خیراتی شے نہیں ہوں‘ آغا صاحب‘ جو اٹھا کر آپ کی جھولی میں ڈال دی جائے۔ مانگنے اور اپنانے میں فرق ہے مسٹر اور یہ فرق آپ نہیں جانتے‘ آپ تو ہر چیز چاہے وہ جیتا جاگتا انسان ہی کیوں نہ ہو؟ یا چھین لیتے ہیں یا پھر ہتھیا لیتے ہیں‘ میں تو یہ دیکھ رہی ہوں‘ آپ مجھے چھین کر حاصل کریں گے یا پھر وہ بات ادھوری چھوڑ کر اپنی کلائی آزاد کرانے لگی۔ آغاحسن نے اس کی کلائی پر گرفت ڈھیلی کی تو وہ دور جاکھڑی ہوئی۔
تم اس لڑکے سے میری ضد میں مل رہی ہو ناں؟ انہوں نے پوچھا۔
کیوں آپ سے میرا رشتہ ہی کیا ہے جو آپ کی ضد میں میں کوئی کام کروں آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ وہ میرے بچپن کی محبت ہے اور ہم پہلی بار ملے ہیں‘ یوں کہیے تقدیر نے ہمیں لاملایا اور میں تقدیر سے کیسے منہ موڑ سکتی ہوں۔ بتائیے بھلا؟ وہ زہرخند مسکراہٹ ان کی طرف اچھالتی اندر کی طرف بڑھ گئی۔ آغاحسن پیچھے ہی آئے تھے‘ وہ اس کی والدہ سے بات کرنا چاہتے تھے۔ باقاعدہ پروپوزل دینا چاہتے تھے‘ وہ تو کمرے میں بند ہوگئی تھی لیکن ثروت جہاں کی سوچ کے کئی در کھل گئے تھے۔ آغاحسن کے پروپزل میں اگر کوئی برائی تھی تو صرف ان کی عمر ورنہ ان کا اسٹیٹس‘ اثرو رسوخ‘ جائیداد سب کچھ ہی اٹریکٹو تھا اور پھر وہ تو احسان بار تھیں اس برے وقت میں جب وہ بے یارو مددگار دھکے کھاتی پھر رہی تھیں تو آغاحسن نے ایک باعزت پناہ کے ساتھ ساتھ ان کے لیے باعزت زندگی گزارنے کا موقع بھی فراہم کیا تھا‘ علیزے کی نامکمل تعلیم کے باوجود باعزت نوکری بھی دی تھی‘ پریزے کو ان غنڈوں کے چنگل سے بچا کر جس طرح وہ لائے تھے وہ تو بے خبر ہی تھی اور انہوں نے کچھ چھپایا بھی تو نہیں تھا‘ پہلے دن ہی بتادیا تھا کہ وہ پریزے کو اپنانے کے خواہش مند ہیں اور وہ یہ سب پریزے کے لیے کررہے ہیں۔ لیکن یہ کہ پریزے کو اس بات کا پتہ نہ چلے۔ چوہدری صاحب والی کہانی من گھڑت تھی۔ وہ تو خود جی جان سے چاہتی تھیں کہ انہیں کوئی مضبوط سہارا مل جائے۔ ورنہ دو جوان اور خوب صوررت بچیوں کے ساتھ اس معاشرے میں رہنا کس قدر مشکل امر تھا۔ انہوں نے وعدہ کرلیا تھا کہ وہ پریزے کو منانے کی کوشش کریں گی‘ حالانکہ پریزے کے تیور دیکھ کر وہ کچھ زیادہ پُرامید نہیں تھیں۔
پریزے تو ویسے ہی آج کل اور ہی ہوائوں میں تھی۔ آغاحسن کی محبت ٹھہرا ہوا پانی تھی جبکہ شاہ ویز کی محبت شوریدہ سر لہریں‘ جو ٹکرا ٹکرا کر حد سے باہر نکل آئی ہیں۔ شاہ ویز کی باتوں میں امنگ تھی‘ جوش تھا‘ ولولہ تھا‘ جبکہ آغاحسن کا زیادہ وقت خاموشی سے اسے گھورنے میں لگ جاتا تھا۔ کوئی بھی بات کہنے سے قبل شاید سو بار تولتے تھے‘ جبکہ شاہ ویز کے پاس تو محبت ہی اتنی تھی اس کے لیے کہ اس کی آنکھیں‘ ہاتھ‘ اس کی باتیں اس کے جسم کی ایک ایک حرکت سے اس کی محبت‘ ٹپکتی تھی‘ یہ پچیس سال اس نے کیسے اس سے محبت کرتے گزارے تھے‘ وہ ہر بار نئے طریقے سے بیان کرتا اور وہ ہربار اسی دلچسپی اورشوق سے سنتی اور انجوائے کرتی‘ جب جب وہ اس سے اس کے بارے میں دریافت کرتا تو وہ جھوٹ نہ بول پاتی۔ اس نے کبھی اس کے بارے میں ایسا نہ سوچا تھا‘ بچپن کی وہ باتیں بچپن کی طرح ہی وقت کی ڈبیا میں قید ہوگئی تھیں‘ وہ تو علیزے نہ ذکر کرتی اور شاید آغاحسن کا پریشر نہ ہوتا تو شاید وہ کبھی شاہ ویز سے نہ ملتی۔ امی نے علیزے کے ہاتھ آغا حسن کا پیغام بھیجا تھا۔
باقاعدہ پروپوزل دے دیا ہے انہوں نے آج۔ علیزے ہمیشہ کی طرح ان کا مقدمہ لڑنے کو تیار تھی۔
ایک بات بتائو علیزے؟ اس نے ٹیکسٹ کرتے ہوئے سر اٹھا کر پوچھا۔
دنیا کیا آغاحسن سے شروع ہوکر آغاحسن پر ہی ختم ہوتی ہے‘ یا وہ دنیا کا پہلا اور آخری مرد ہے؟
نہیں۔ وہ اطمینان سے بولی۔ لیکن وہ پہلا اور آخری مرد اس لحاظ سے ضرور ہے کہ اس کے علاوہ تمہیں محبت‘ عزت اور تحفظ کوئی نہیں دے سکتا۔ وہ شاہ ویز بھی نہیں‘ وہ تم سے مخلص ہے‘ وفادار ہے‘ یہ میں تمہیں لکھ کر دے سکتی ہوں۔ اسے یقین تھا پریزے کو غصہ آیا۔
ایک بات تو بتائو علیزے اس کی فیور کرنے کے عوض تمہیں کیا مل رہا ہے‘ یہ گھر‘ یہ جاب‘ یہ آسائشیں‘ یہ سب کچھ ناں‘ اور صرف انہی کے لیے تم یہ سب کررہی ہو‘ اپنی بہن کے مخالف جارہی ہو۔
مس پریزے زوار تم اپنی آنکھوں سے خود ساختہ نفرت کی پٹی اتار کے دیکھو تو زندگی کی تلخ حقیقتیں تم پر آشکار ہوں گی‘ جس مشکل دور سے ہم گزرے اور گزر رہے ہیں ناں اکیلی عورتوں کا سروائیو کرنا کتنا مشکل تھا تم سوچ بھی نہیں سکتی ہو اور ان امدادی کیمپوں کا حال تو میں تمہیں کیا بتائوں‘ تقسیم ہند کی تاریخ دہرائی جاتی ہے وہاں‘ ہم کیسے چھپ چھپ کر رہے اور پھر آغاحسن نے کیسے ہمیں بچایا اور سر چھپانے کو ٹھکانہ دیا‘ چلو مان لیا یہ سب اس نے تمہاری خاطر کیا‘ تمہیں حاصل کرنے کے لیے کیا‘ لیکن ایک منٹ سوچو ذرا کیا اس نے تمہیں پالیا‘ حالانکہ تمہیں حاصل کرلینا اس کے لیے کچھ مشکل نہیں تھا‘ دن رات اس کے بنگلے میں اکیلی گزار کر آئی ہو تم اور مجھے یقین ہے وہ کبھی تمہارے کمرے تک نہیں آیا ہوگا۔ کبھی تم سے دست درازی کی کوشش نہیں کی ہوگی‘ پریزے زوار صرف اس بات کو فوکس کرو‘ تمہیں حاصل کرلینا بہت آسان تھا‘ لیکن اس نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ ابھی بھی تمہارے پیچھے گڑگڑاتا پھرتا ہے۔ بات کمٹ منٹ کی ہے‘ اسے تم سے محبت ہے یا عشق‘ لیکن حقیقت یہی ہے وہ تم سے مخلص ہے‘ بلاوجہ کی ضد بازی میں تم اپنا ہی نقصان کروگی۔ علیزہ جتنا سمجھا سکتی تھی سمجھادیا لیکن جانے پریزے کیوں سمجھنا ہی نہیں چاہتی تھی۔ فی الحال تو اسے شاہ ویز سے بڑھ کر کوئی نظر نہ آتا تھا۔

مبارک ہو نئی سنڈریلا مل گئی؟ صبوحی نے توس پر جیم لگاتے ہوئے بڑی گہری نظروں سے اسے دیکھا تھا۔
نئی نہیں اس نے گرم گرم چائے کا گھونٹ بھرا تو زبان جل گئی۔
پرانی مل گئی‘ میری محبت اتنی کمزور نہیں تھی میڈم‘ میری پچیس سالوں کی ریاضت تھی۔ اس کے لہجے میں فخر‘ غرور‘ مان کیا کچھ نہیں تھا۔ صبوحی کے اندر بہت کچھ ٹوٹا تھا۔ لیکن اس نے ظاہر نہیں ہونے دیا۔ مسکرا کر کہنے لگی‘ ابلیس بھی کئی سو سالوں کی ریاضت وعبادت کے بعد ایک غلطی پر دھتکارا گیا تھا اور شیطان کہلایا۔
ایک بات کہوں مس صبوحی یہ جو تم طنزیہ گفتگو کرتی ہو ناں‘ اس سے پرہیز کیا کرو‘ ایسا نہ ہو‘ یہ دھتکارا تمہارے ہی حصے میں آجائے۔ اس نے غصے سے کپ ساسر میں پٹخا اور کرسی دھکیل کر اٹھ کھڑا ہوا۔ صبوحی اطمینان سے سلائس کا کونا کترتی رہی۔ وہ اس کے ایسے رویوں کی اب عادی ہوچکی تھی۔
اب کہاں کی تیاری ہے؟ اس نے پوچھا۔
جہنم میں جارہا ہوں۔ ہر وقت کی دخل اندازی۔ وہ دھاڑا۔
اوہو وہ زور سے ہنسی۔ نئی پالیسی بن گئی ہے کیا۔ اب جہنم میں انٹری انٹرویو کے بعد ہوا کرے گی لو جی ایتھے وی سفارشاں (یہاں بھی سفارش) چلو اچھی بات ہے‘ اللہ تہانوں کامیاب کرے تے ساڈے غریباں دا وی بھلا ہوجاوے۔ (اللہ آپ کو کامیاب کرے اور کچھ ہم غریبوں کا بھی بھلا ہوجائے) اس نے ہنستے ہنستے دعا دی اور شاہ ویز چیئر کو ٹھوکر مارتا ہوا باہر نکل گیا۔
منحوس کمینی دل ہی دل میں اسے کوسنوں سے نواز گیا۔ آج اس نے انٹرویو کے لیے جانا تھا‘ جب سے اس کی پریزے سے ملاقات ہوئی تھی‘ اس نے زندگی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کردیا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ پریزے کے سوال کرنے سے پہلے وہ ایک مضبوط مقام پر کھڑا ہو اور اسے اپنے بارے میں بتانے پر شرمندگی نہ ہو۔ اسے امید تھی یہ جاب اسے مل جائے گی اور وہ سرخرو ہوجائے گا۔
انٹرویو کے بعد اسے آئمہ باجی کی طرف جانا پڑگیا۔ ان کی کال آگئی تھی۔ اسے انہوں نے کبھی بلایا تو نہیں تھا۔ وہ مختلف اندازے لگاتا ان کے گھر کے دروازے تک آگیا۔ آئمہ کے شوہر نکل رہے تھے‘ اس نے سلام کیا انہوں نے خوشدلی سے جواب دیا‘ اور ساتھ ہی معذرت بھی کرلی‘ انہیں ایک ضروری میٹنگ میں جانا تھا۔ انہوں نے تاکید کی کہ وہ کھانا کھا کر جائے۔ آئمہ باجی لان میں ہی مل گئیں وہ اور ان کی ساس دھوپ میں بیٹھی مٹر چھیل رہی تھیں۔ آئمہ بہت خوش قسمت تھی اسے شوہر کے ساتھ ساتھ بہت اچھا سسرال ملا تھا۔ وہ اسے اور اس کے گھر والوں کو بھرپور عزت اور محبت دیتے تھے اور جواباً آئمہ باجی نے بھی کبھی بہو بن کر نہ دکھایا تھا۔ وہ بھی اس گھر میں ایسے ہی رہتی تھی‘ جیسے حماد کی دونوں بہنیں‘ بہو اور بیٹیوں میں کوئی فرق نہیں تھا۔
آئمہ باجی اسے دیکھ کر خوش ہوئیں۔ وہ سلام کرکے وہیں بیٹھ گیا۔ سب کا حال احوال پوچھ لینے کے بعد آئمہ کی ساس تو نماز پڑھنے کا کہہ کر اٹھ گئیں‘ وہ آئمہ باجی کی طرف منتظر نظروں سے دیکھنے لگا۔ وہ چند لمحے تو فروا کے ساتھ مصروف رہیں شاید تمہید باندھ رہی تھیں۔
وہ حماد بتارہے تھے تم آج کل کسی لڑکی کے ساتھ پھرتے ہو۔ ان کا کہا اتنا غیر متوقع تھا کہ وہ کئی ثانیے جواب نہ دے سکا۔ چوری پکڑی گئی تھی اور وہ بھی ایک ایسے بندے کے ہاتھوں جو اس کی بہن کا شوہر تھا۔
وہ وہی ہے کافی دیر بعد اس سے یہی جواب بن پڑا۔ اب تو وہ سیریسلی سوچ رہا تھا کہ اگر وہ شادی کو پانچ چھ ماہ لیٹ کردیتا تو کیا قیامت آجاتی۔
کوئی بھی ہو۔ انہوں نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔
تم شاید بھول گئے ہو کہ تم ایک شادی شدہ مرد ہو‘ اور دوسری بڑی بات جس لڑکی کے ساتھ تم پھرتے ہو‘ حماد بتاتے ہیں کہ اس کی رپوٹیشن کچھ اچھی نہیں۔ انہوں نے فروا کے ساتھ کھیلتے ہوئے بات جاری رکھی۔
نہیں آئمہ باجی۔ وہ تڑپ اٹھا۔ وہ بہت اچھی لڑکی ہے اور باکردار بھی۔
ہاں غیر مردوں کے ساتھ گھومنا پھرنا اگر اچھی بات اور باکردار ہونے کی علامت ہے پھر تو واقعی وہ دنیا کی سب سے اچھی لڑکی ہے۔ وہ استہزائیہ ہوئیں۔
ایسی بات نہیں ہے آئمہ باجی۔ وہ ایسی لڑکی ہرگز نہیں ہے۔ حماد بھائی کو یقینا کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی۔ وہ اب بھی اس بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھا۔ پریزے ایسی ہوہی نہیں سکتی تھی۔ اس کا دل اتنا بڑا دھوکہ نہیں کھا سکتا تھا‘ آئمہ باجی صبوحی کی وجہ سے ایسا کہہ رہی ہوں گی۔
شاہ ویز اس لڑکی کے آغاحسن کے ساتھ تعلقات ہیں۔ جانتے ہو آغاحسن کو کون ہیں؟ حماد کے چچا اور اس وقت کے بزنس ٹائیکون۔ یہ لڑکی کئی ماہ ان کے اسلام آباد والے گھر میں رہ چکی ہے۔ حماد نے خُود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے‘ اور اس کی ماں اور بہن کو بھی آغاحسن نے گھر لے کر دے رکھا ہے‘ اس کی بہن علیزے انہی کی ٹیکسٹائل مل میں کام کرتی ہے اور اچھی سیلری لیتی ہے‘ یہ سب کچھ جھوٹ نہیں ہوسکتا۔ آج کل بغیر کسی مطلب کے کون مراعات دیتا ہے‘ لیکن ہمیں ان سب سے کوئی غرض نہیں۔ میں نے تمہیں صرف اس لیے یہاں بلایا ہے کہ تمہیں کہہ سکوں اس لڑکی سے بہت دور رہو‘ کیونکہ حماد کے بقول یہ لڑکی آغاحسن کی منظور نظر ہے‘ اس لیے تمہیں اس سے ہرگز نہیں ملنا چاہیے‘ ورنہ آغاحسن تمہارے ساتھ کچھ بھی کرسکتا ہے۔ انہوں نے بالآخر سچ بات اگل ہی دی تھی۔ اور ہمیں تمہاری زندگی بہت عزیز ہے شاہ ویز۔ کوئی بھی کام کرنے سے پہلے بوڑھے ماں باپ کے بارے میں ضرور سوچ لینا۔ انہوں نے بات ختم کی تھی۔ شاہ ویز تو یوں بیٹھا تھا جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔
ایسا کیسے ممکن تھا‘ وہ اس سے گھنٹوں باتیں کرتا اور کبھی محسوس نہ ہوا تھا‘ وہ لڑکی اسے دھوکہ دے رہی ہے یا اس کی محبت بناوٹی ہے‘ وہ نہیں جانتا تھا کہ آئمہ کے گھر سے اپنے گھر تک وہ کیسے پہنچا۔
صبوحی لان میں بیٹھی شام کی چائے پی رہی تھی۔ پاس دھرے ٹرانسزسٹر پر گانا بج رہا تھا‘ اور وہ دونوں پائوں سامنے ٹیبل پر پسارے دنیا ومافیہا سے بے خبر تھی صبوحی کے شوق سارے کے سارے اولڈ فیشن کے تھے‘ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی تھی اور وہ ابھی تک امی کے ٹرانسزسٹر پر فرمائشی گیتوں والا پروگرام بھی سنا کرتی تھی۔
؎اک آگ غم تنہائی کی جو سارے بدن میں پھیل گئی
جب جسم ہی سارا جلتا ہو پھر دامن دل کو بچائیں کیا
کوئی مہر نہیں کوئی قہر نہیں پھر سچا شعر سنائیں کیا
وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا‘ اب اس کا حال سنائیں کیا
اتنی پرانی آواز میں ایک نئی آواز شامل ہوگئی تھی۔ صبوحی گلوکارہ کی ہم سرائی کررہی تھی اور بلاشبہ وہ بہت اچھا گارہی تھی۔ شاہ ویز تھکے قدموں سے لان میں بنے اسٹیپس پر بیٹھ گیا اور بے دھیانی میں ہی نظریں صبوحی پر جمادیں‘ وہ اب بھی اس کی موجودگی سے بے خبر تھی۔
؎اک ہجر جو ہم کو لاحق ہے‘ تادیر اسے دہرائیں کیا
اک زہر جو دل میں اتار لیا‘ پھر اس کے ناز اٹھائیں کیا
کوئی مہر نہیں‘ کوئی قہر نہیں‘ پھر سچا شعر سنائیں کیا
وہ عشق جو ہم سے!
ہم نغمہ سرا کچھ غزلوں کے‘ ہم صورت گر کچھ خوابوں کے
جذبہ شُوق بتائیں کیا‘ کوئی خواب نہ ہو تو سنائیں کیا
کوئی مہر نہیں‘ کوئی قہر!
باہر سے کوئی گیند ٹھک سے ٹرانزسٹر پر لگی اور وہ زمین بوس ہوگیا تھا اس سے آتی آواز بھی بند ہوگئی تھی۔ صبوحی نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھولی اور ایک دم ہی سامنے بیٹھے شاہ ویز پر نظر پڑی تھی۔ جانے کب سے وہ ٹکٹکی باندھے اسے دیکھ رہا تھا‘ اس نے جلدی سے ٹرانزسٹر اٹھایا‘ خالی کپ ٹرے میں رکھا اور چیزیں لیے اندر جانے کو تھی کہ شاہ ویز کی بات نے روک دیا۔
تم اندر سے اتنی پرانی ہو‘ امی کے زمانے کے گانے کتنے شوق سے سنتی ہو۔
جو مزہ پرانے گانے سننے میں ہے ناں‘ آج کل کے گانوں میں نہیں۔ موسیقی‘ شاعری‘ سب کچھ ملے گا اس میں چائے پئیں گے؟ وہ دوبارہ اندر کی طرف مڑی تھی۔
ہاں کمرے میں لے آئو۔ وہ لمبے لمبے قدم اٹھاتا اس سے پہلے اندر چلا گیا۔ صبوحی نے شانے اچکائے اور کچن میں آگئی۔
وہ عشق جو ہم سے…. اب وہ خود گنگنا رہی تھی۔
چائے لے کر جب وہ کمرے میں آئی تو شاہ ویز آڑا ترچھا بیڈ پر لیٹا تھا۔ اس نے ٹرے سائیڈ ٹیبل پر دھری اور دراز میں سے کچھ تلاش کرنے لگی۔ شاید کمرے میں رکے رہنے کا جواز ڈھونڈ رہی تھی۔ شاہ ویز کا موبائل مسلسل بج رہا تھا لیکن وہ سننے کے موڈ میں نہیں تھا۔
صبوحی نے تھوڑا اچک کر دیکھا‘ اسکرین پر سنڈریلا لکھا آرہا تھا۔ اس نے موبائل اٹھا کر شاہ ویز کے پاس رکھ دیا۔
سنڈریلا ہے وہ کہہ کر باہر نکل گئی اب اس کے یہاں رکے رہنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔
اک ہجر جو ہم کو لاحق ہے وہ دوبارہ گنگنانے لگی تھی۔

آج موسم خطرناک ہورہا تھا۔ کالے بادل امڈے چلے آرہے تھے۔ ماحول نیم تاریک تھا‘ گھروں میں مدھم مدھم سی لائٹیں جگمگا اٹھی تھیں اور ایسے میں جب شاہ ویز نے کہا کہ وہ اس کے گھر آرہا ہے تو اس کی عجیب سی کیفیت ہوگئی تھی۔ اس نے موسم کی مناسبت سے پکوڑوں اور میٹھے پوڑوں کی تیاری کرلی تھی۔ اماں اس کے اتنے ایکسایڈ ہونے سے جان گئی تھیں کہ کیا معاملہ ہے‘ انہوں نے چائے کے ساتھ کچھ اور لوازمات منگوا لیے تھے۔ اگر پریزے خوش ہے تو انہیں کیا آغاحسن ان سے سب کچھ چھینتا ہے تو چھین لے‘ بادل نے زور سے گرج کر اپنے غصے کا اظہار کیا تھا اور تیز موسلا دھار بارش شروع ہوگئی تھی۔ اسے سردیوں کی بارش پسند تھی‘ اس نے دیکھا شاہ ویز اپنی گاڑی کھلے گیٹ سے اندر لارہا تھا‘ اس نے ایک نظر اپنے سراپے پر ڈالی اور پھر کھڑکی پار برستی بارش پہ شاہ ویز نے گاڑی سے نکلتے ہی امبریلا کھول کر سر پر تان لی تھی۔
اکیلا ہی آیا ہے؟ علیزے نے پیچھے سے اچک کر شاہ ویز کو دیکھنا چاہا۔
تم تو کہہ رہی تھیں شاید اس کے گھر والے بھی
میں نے کب کہا‘ وہ تو امی کا اندازہ تھا۔ اچھا جائو ناں ڈرائنگ روم کا دروازہ کھولو۔ اس نے بے حد اتائولے پن سے کہا‘ علیزہ باہر نکل گئی۔ اس نے ایک بار پھر اپنا جائزہ لیا۔ مجنڈا کلر کے ہلکے کام والے سوٹ میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔
مجھے پریزے سے کچھ کام ہے پلیز اسے جلدی بلادیں۔ علیزے کے اسے بٹھاتے ہی اس نے ترنت کہا۔ اس کے تیور کچھ اچھے نہیں لگ رہے تھے۔ وہ جاکر پریزے کو بلا لائی‘ وہ اسے پکوڑے جلد لانے اور امی کو بھیجنے کا کہہ کر ڈرائنگ روم میں داخل ہوگئی۔ اس نے سلام کیا۔ شاہ ویز کے اندر اٹھتے جوار بھاٹے نے اسے جواب دینے ہی نہ دیا‘ اس نے فوراً سوال داغا۔
یہ گھر آغاحسن نے تمہیں کیوں لے کر دیا؟ کوئی اسے فائر دے مارتا تو بھی شاید اتنی تکلیف نہ ہوتی۔ سوال اتنا تکلیف دہ نہیں تھا جتنا کہ اس کا لہجہ۔
تم آغاحسن کے گھر کیا بن کر رہتی رہی ہو؟ تم نے بتایا نہیں؟ اگلا سوال آیا۔ وہ تو اسے سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دے رہا تھا۔ وہ جواب کیسے دیتی۔ مائوف دماغ کے ساتھ وہ ایک ٹک اس کی شکل دیکھے گئی۔ وہ کیا پوچھ رہا تھا اور کیوں؟ پریزے سمجھ ہی نہ پارہی تھی۔ یہ یک بیک اسے آغاحسن کے بارے میں کیسے پتہ چل گیا اور اگر چل بھی گیا تھا تو وہ کیا سوچ کر اس کے گھر میں بیٹھ کر اس کے ساتھ یہ سوال جواب کررہا تھا۔
تم جواب نہیں دے رہیں۔ اس کا مطلب ہے لوگ جو کچھ کہتے ہیں تمہارے بارے میں سچ ہے۔ تم نے ایک وقت میں دو دو لوگوں کو محبت کا جھانسہ دے رکھا ہے۔ ایک کے گھر میں رہ رہی ہو اور دوسرے کے گھر میں گھسنے کے پلان بنا رہی ہو۔ وہ اونچی اونچی آواز میں بول رہا تھا اور پریزے ہولے ہولے نفی میں سر ہلاتے روئے چلی جارہی تھی۔ شاہ ویز کے منہ سے یہ باتیں اس کے لیے کسی شاک سے کم نہیں تھیں۔
ایسا نہیں ہے شاہ ویز اس نے ہلکی سی صدائے احتجاج بلند کی۔
ایسا ہی ہے۔ شکل سے کتنی معصوم اور بھولی لگ رہی ہو تم لیکن تمہارا بیک گرائونڈ یہ ہوگا میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ تم نے میرے چھبیس سال کی محبت داغ دار کردی۔ تم سنڈریلا ہوہی نہیں سکتی میری سنڈریلا اتنی بے حیا نہیں ہوسکتی وہ گرج رہا تھا اور پریزے کانوں پر ہاتھ رکھے نفی میں سر ہلا رہی تھی۔
ایسا کچھ نہیں شاہ ویز تمہیں یقینا غلط فہمی ہوئی ہوگی۔ وہ گڑگڑائی اور محبت بھیک مانگ کر نہیں لی جاتی اس کے کان میں ہلکی سی سرگوشی ہوئی تھی۔ سامنے والا سیخ پا تھا‘ دونوں ہاتھوں سے کیچڑ بھربھر اچھال رہا تھا اور وہ اپنا آپ بچانے کی سعی میں خود کو زخمی کیے جارہی تھی۔ یہ وہی آدمی تھا جب ملتا تو گویا منہ سے پھول جھڑتے تھے۔
تم جیسی عورتیں اخ تھو اس نے فرش پر تھوک دیا۔ قابل نفرت اور قابل
شٹ اپ مسٹر شاہ ویز۔ اس کی بات ادھوری ہی رہ گئی۔ علیزے چلائی۔
کس ناتے سے آپ اتنا کیچڑ اچھال رہے ہیں۔ آپ ہوتے کون ہیں میری بہن سے سوال کرنے والے اور اس کے کردار کی تضحیک کرنے والے‘ پہلے اپنے گریبان میں تو جھانکو شادی شدہ ہو تم‘ ایک کے ساتھ گھر بسایا اور دوسری کو تم اپنی محبت کے جال میں پھنسائے سارا دن شہر میں گھومتے پھرتے ہو یہ ہے تمہاری شرافت‘ میں تھوکتی ہوں تم پر اور تمہاری نام نہاد محبت پر اور آج کے بعد کبھی میری بہن کے راستے میں مت آنا ورنہ بخیے ادھیڑ کر رکھ دوں گی سمجھے تم‘ نکلو یہاں سے۔ علیزے نے سائیڈ پر ہوکر اس کے لیے راستہ بنایا‘ پریزے تو وہیں گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اونچی اونچی آواز سے رونے لگی تھی۔ امی دم بخود یہ ساری کارروائی دیکھ رہی تھیں۔ کیا ہورہا تھا یہ سب‘ یہ الزامات کی بوچھاڑ ایک بارش باہر تھی ایک اندر۔
چار دن ہوئے نہیں تمہارے تعلق کو اور تم ہم سے ہمارے کردار کی وضاحتیں مانگو۔ علیزہ پھر چیخی۔ سنا نہیں تم نے نکلو یہاں سے۔ آئندہ کبھی اس گھر کی دہلیز پار مت کرنا۔ خوامخواہ ایک معصوم لڑکی بیوہ ہوجائے گی۔ علیزہ کا غصہ تو تھمنے میں ہی نہ آرہا تھا۔ شاہ ویز اسے ایک طرف دھکیلتا باہر نکل گیا اور وہ نیچے بیٹھ کر اسے بہلانے لگی۔

کتنے دن گزر گئے تھے اسے یوں بے حس وحرکت پڑے۔ شاہ ویز کے الفاظ کسی انی کی طرح روح میں پیوست ہوکر رہ گئے تھے۔ تکلیف اس قدر زیادہ تھی کہ کوئی بات اس کی شدت کو کم نہیں کرسکی تھی۔ آنسو تھے کہ تھمنے کا نام ہی نہ لیتے تھے۔ اتنی گہری محبت تو نہ تھی اسے شاہ ویز سے‘ پھر اس کے لفظوں نے کیوں اس کی روح تک کو چھید ڈالا تھا۔ وہ آغاحسن کے بنگلے میں خوشی سے تو جاکر نہیں رہی تھی۔ اس نے ایک بار بھی ان ساری باتوں کا بیک گرائونڈ جاننے کی کوشش نہ کی تھی اور مغلظات کا طوفان ان پر برسا کر چلا گیا تھا۔ اپنی پچیس سال کی محبت کو ایک لمحے میں خاکستر کر گیا تھا۔ علیزے اور اماں نے اس کے بعد اس سے ایک لفظ نہ کہا تھا‘ وہ کچھ کہہ ہی نہ سکتی تھیں۔ اسے خود ہی اس فیز سے باہر آنا تھا اور اس کے لیے وہ جتنا ٹائم چاہے لیتی‘ انہیں کوئی مسئلہ نہ تھا۔

اور وہ ایک بے حد چمکیلی صبح تھی‘ اوائل مارچ کے دن تھے‘ ہر طرف بہار نے ڈیرے ڈال لیے تھے۔ فضا میں خوشگوار سی مہک رچ ہوئی تھی اور شاید اس کے حنائی ہاتھوں کی مہک بھی شامل تھی۔ اس نے ذرا سا نیچے جھک کر دیکھا۔ آغاحسن نیچے لان میں کھڑے ملازم سے کچھ کہہ رہے تھے۔ یہ وہی کھڑکی تھی اور وہی کمرہ لیکن آج اسے سب کچھ بہت حسین لگ رہا تھا۔ آج ذہن پر کوئی بوجھ نہیں تھا۔ وہ اسیر محبت ہوکر یہاں آئی تھی۔ اس نے علیزہ کی بات پر یقین کرلیا تھا کہ صرف آغاحسن ہی ہے جو اسے محبت‘ عزت اور تحفظ دے سکتا ہے۔ شاہ ویز کے چند دنوںکے ساتھ کو اس نے ایک برا خواب سمجھ کر بھلا دیا تھا۔ وہ واقعی اس کے قابل نہیں تھا۔
بی بی صاحب ناشتے پر آپ کا انتظار کررہے ہیں۔ ملازمہ نے اندر آکر کہا۔ اس نے آئینے میں اپنے سراپے کا جائزہ لیا۔ فان کلر کے انتہائی نفیس کام والے جوڑے میں بنا میک اپ اور بنا زیورات کے ہی وہ قیامت ڈھا رہی تھی۔ محبت کا اپنا ایک حسن ہوتا ہے اور آغاحسن نے اپنی بے لوث محبت کا سارا حسن اسے سونپ دیا تھا۔ وہ سہج سہج چلتی نیچے آئی تھی۔ آغاحسن اس کے منتظر تھے۔ آنکھوں میں شوق کا جہاں سمیٹے۔ وہ اپنے آپ میں سمٹتی ان کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی۔
نئی زندگی میں خوش آمدید جہاں ان کے لہجے نے اسے نظریں جھکانے پر مجبور کردیا۔ وہ اسے اپنا جہان سمجھتے تھے اور اسی نام سے بلاتے تھے۔ زندگی میں اب سب کچھ اچھا ہی تھا‘ وہ شکر مناتی پھر رہی تھی اور یہ کوئی ڈیڑھ سال بعد کی بات ہے۔ آئمہ کی نند کی شادی کے موقع پر وہ اور شاہ ویز ایک بار پھر روبرو تھے۔ وہ صبوحی کے ناز نخرے اٹھاتا پھر رہا تھا۔ جب ایک دم ہی وہ سامنے آگئی تھی۔ وہ ایک لمحے کو تو گھبرا ہی گیا تھا۔
میرا نام مسز آغاحسن ہے۔ اس نے اپنا تعارف کروایا۔ وہ چپ ہی رہا۔ صبوحی ایک نظر اس پر ڈال کر پھر شاید اٹھانا بھول گئی تھی وہ تھی ہی ایسی۔
تو مسٹر شاہ ویز میں آپ کو یہ بتانے آئی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ہر پرنس کے لیے ایک سنڈریلا اتاری ہے اور سنڈریلا کا ایک پرنس بس ہم پہچان نہیں پاتے‘ غلطی کر جاتے ہیں‘ لیکن اس میں شاید ہمارا قصور نہیں ہوتا‘ اللہ ان غلطیوں سے ہمیں سکھاتا ہے‘ صحیح راستہ دکھاتا ہے‘ اور ہمیں ہمارے پرفیکٹ پارٹنر سے ملواتا ہے۔ وہ جانتا ہے ہمارے لیے بہتر کیا ہے‘ آپ نے پوچھا تھا ناں مسٹر شاہ ویز میں آغاحسن کے گھر کیوں رہی تھی؟ تو مسٹر شاہ ویز‘ آغاحسن نے مجھے ان غنڈوں سے بچایا تھا جو امدادی کیمپ سے مجھے اٹھا کر لے گئے تھے۔ وہ اثرو رسوخ والے لوگ تھے اور انہوں نے اپنے کسی بڑے کے ہاں مجھے پہنچانا تھا اور آغاحسن ان سے بچا کر مجھے اپنے گھر
لے گئے تھے‘ تاکہ میں ان لوگوں سے محفوظ رہ سکوں۔ انہوں نے مجھے چھپا کر رکھا تھا وہاں کیونکہ وہ مجھ سے محبت کرتے تھے‘ مجھے یہ حقیقت بہت بعد میں پتہ چلی اور جس دن پتہ چلی میں نے اسی دن آغاحسن سے شادی کرلی۔ کیونکہ میں جان گئی تھی کہ آغاحسن سے بڑھ کر کوئی اور مجھے چاہ نہیں سکتا اور نہ ہی مجھے عزت اور تحفظ دے سکتا ہے۔ تمہاری چھبیس سالہ محبت سچی تھی یا جھوٹی مجھے اس بارے میں کچھ پتہ نہیں لیکن میں اتنا ضرور جان گئی کہ ہر سنڈریلا ہر کسی کے لیے نہیں ہوتی اور یہ کہ ہر سنڈریلا کو اس کا پرنس اور ہر پرنس کو اس کی سنڈریلا ہی ملتی ہے بس ذرا پہچاننے کی ضرورت ہوتی ہے اور تھوڑا سا صبر کرنا پڑتا ہے اور شکر بھی ہوں وہ اپنی بات مکمل کرکے رکی نہیں تھی۔
شاہ ویز سر جھکائے کھڑا تھا۔ صبوحی شاکی نظروں سے اس کو دیکھ رہی تھی۔ کسی نے ٹریک چینج کیا تھا۔ سجاد علی کی مدھر آواز بکھری تھی۔
کسی اور کی دلہن نہ بن جانا
ہے سنڈریلا میرا انتظار کرنا
میں راستے میں ہوں‘ میرا انتظار کرنا
شاہ ویز نے صبوحی کی طرف دیکھا اور کسی خیال کے تحت مسکرا دیا۔
انتظار کیسا‘ اس کی دلہن اس کے پاس کھڑی تھی‘ اور وہ اس کی سنڈریلا تھی۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر صبوحی کو اپنے قریب کرلیا۔ پریزے صحیح کہہ گئی تھی‘ ہر کسی کو اس کی سنڈریلا مل ہی جاتی ہے‘ بس پہچاننے کی ضرورت ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Check Also

Close
error: Content is protected !!
Close